Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • طیش میں آکرکمپنی کا سارا ڈیٹا بیس اڑانے والے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کو سات برس قید کی سزا

    طیش میں آکرکمپنی کا سارا ڈیٹا بیس اڑانے والے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کو سات برس قید کی سزا

    بیجنگ: چین کے ایک آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر نے غصے میں آکر اپنی کمپنی کا سارا ڈیٹا بیس ضائع کر دیا جس پر انہیں سات برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :چینی میڈیا کے مطابق چین کی مشہور ریئل اسٹیٹ کمپنی لیانجا کےسابقہ ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹر، ہین بِنگ نے یہ کام جون 2018 میں کیا تھا کمپنی کے دو ڈیٹابیس اور دو ایپلیکیشن سرورز کے وہ واحد نگراں تھے اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کیا۔

    دبئی میں ناقابل یقین حد تک مہنگی اشیاء

    انہیں ادارے کی جانب سے نوکری سے ہٹایا گیا تھا اور اسی کے پاداش میں ہین نے کمپنی کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا تھااس کام پر نہ صرف کمپنی کے تمام کام ٹھپ ہوگئےبلکہ ہزاروں ملازمین تنخواہوں سےبھی محروم ہوگئےتھےبعد میں لگ بھگ 30 ہزار ڈالر خرچ کرکے کمپنی کا ڈیٹا بیس بحال کیا گیا اس طرح کمپنی کو 6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

    ڈیٹا بیس تباہ کرنے پر پانچ افراد پر الزام عائد کیا گیا اور اس کے بعد ہین بِنگ کا نام اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے تفتیش کے دوران اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ دینے سے انکار کردیا تفتیش کاروں کے مطابق اگر وہ ڈیٹا کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں تو ان کے کچھ آثار لیپ ٹاپ میں مل سکتے ہیں۔

    آخرکار تحقیق کاروں نے الٹا عمل شروع کیا اور ڈیٹا بیس تک آنے والی ہدایات کا سراغ لگایا اس کےعلاوہ سی سی ٹی وی فوٹیج سےبھی مدد لی گئی تحقیقی عملے نے “shred” اور “rm” کی کمانڈز تلاش کی جو بڑے ڈیٹا بیس کو تباہ کرنے کے لیے دی جاسکتی ہیں اس کے بعد ہین بِنگ کو گرفتار کیا گیا اور اب انہیں سات برس کی قید سزا دی گئی ہے۔

    جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

  • رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل ہوگا

    رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن کل ہوگا

    رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن 16 مئی کو ہوگا تاہم اس کو پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا-

    باغی ٹی وی : مکمل چاند گرہن کا مشاہدہ امریکا اور یورپ کے دیگر حصوں میں کیا جائے گا، چاند گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجکر 32 منٹ پر ہوگا –

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    مختلف ممالک میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجکر 13 منٹ پر چاند گرہن عروج پر ہوگا، اختتام دوپہر 11 بجکر 51 منٹ پر ہوگا جبکہ چاند گرہن کا اختتام پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر11بجکر51 منٹ پر ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری چاند گرہن 8 نومبرکو ہوگا،جو پاکستان میں جزوی دکھائی دے گا۔

    زمین کا وہ سایہ جو زمین کی گردش کے باعث کرہ زمین کے چاند اور سورج کے درمیان آ جانے سے چاند کی سطح پر پڑتا ہے اور چاند تاریک نظر آنے لگتا ہے چاند گرہن کبھی جزوی ہوتا ہے اور کبھی پورا یہ اس کی گردش پر منحصر ہے۔

    خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا…

    چاند گرہن کو “خسوف” کہتے ہیں اور چاند گرہن کے وقت دو رکعت نماز دیگر نوافل کی طرح پڑھنا مسنون ہے، اس میں جماعت مسنون نہیں ہے، اس کا طریقہ عام نوافل کی طرح ہے، کسی بھی اعتبار سے فرق نہیں، سوائے اس کے کہ نیت “صلاۃ الخسوف” کی ہوگی-

    اگر ایسی حالت میں سورج غروب ہوجائے یا کسی نماز کا وقت ہوجائے تو دعا ختم کر کے وقتی فرض نماز میں مشغول ہوجانا چاہیے اسی طرح مکروہ اوقات میں سورج گرہن ہوجائے تو یہ نماز نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ صرف دعا کرلی جائے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

  • اب گوگل میپ کےاسٹریٹ ویو میں فضائی مناظر بھی شامل

    اب گوگل میپ کےاسٹریٹ ویو میں فضائی مناظر بھی شامل

    سان فرانسسكو: گوگل 2022 ڈویلپر کانفرنس اسی ہفتے میں منعقد ہورہی ہے جس میں کئی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق گوگل میں پہلی تبدیلی یہ ہے کہ کئی ممالک کے لیے گوگل میپس کےاسٹریٹ ویو میں فضائی (ایئریل ) منظر بھی شامل کیے گئے ہیں –

    گوگل نے اپنے میپس پر روایتی نقشوں کو بہتر بنانے پر توجہ رکھی ہے اور دنیا کا قدرے بہتر اور انٹرایکٹو ماڈل سامنے آسکے گا لیکن یہ سہولت امریکہ اور یورپ کے لیے پیش کی گئی ہے۔

    اس ہفتے ہونے والے گوگل آئی او سمٹ میں ہونے والا ایک اہم اعلان سامنے آگیا ہے جس میں گوگل نقشے میں مختلف مقامات کی مزید تفصیلات، اہم عمارتوں، ریستورانوں، عوامی مقامات کی واضح تصاویر بھی دیکھی جاسکیں گی تاکہ آپ وہاں جانے سے قبل گھر بیٹھے ہی ان کے متعلق بہت کچھ جان سکیں گے-

    یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    گوگل میپس کی یہ تفصیلات صارفین کے ساتھ ساتھ خود تاجروں اور کاروباری حضرات کے لیے بہت مفید ہوگا۔ اس طرح لوگ آن لائن اپنے کاروبار کی بہتر تشہیر کرسکیں گے۔ اسکرین پر کسی جگہ کی مصنوعات کے اشتہارات اور دیگر تفصیلات بھی ازخود سامنے آجائے گی۔ اسی طرح سیاحتی مقامات کے متعلق مزید سہولیات جاننا بھی ممکن ہوگا۔

    یورپ کے سافٹ ویئر ڈویلپر ’اے آر کور جیوسپیشل اے پی آئی‘ نظام کے تحت میپس پر اپنی جانب سے اے آر (آگمینٹڈ ریئلٹی) فیچر بھی شامل کرسکیں گے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گوگل میپس میں اے آر کی شمولیت پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

  • چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کومریخ پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے

    چینی سائنسدانوں کو ایسے نئے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا-

    باغی ٹی وی : "”سائنس ایڈوانسز جریدے ميں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین کے ژو رونگ روبوٹک روور کو ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مریخ پر پانی پہلے کی سوچ سے زیادہ دیر تک موجود ہے۔

    سائنسدان چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریخ کی سطح پر پڑنے والے ایک بڑے آتش فشانی گڑھے میں ’ایمیزونیائی دور‘ کے دوران مائع پانی موجود تھا اور سرخ سیارے پر ہائیڈریٹڈ معدنیات موجود ہیں،جن سے اس سیارے پر مستقبل میں آنے والے انسان بردار مشنز ممکنہ طور پر فائدہ اٹھاسکیں گے۔

    یہ نتائج ان مفروضوں کو تقویت دیتے ہیں کہ مائع پانی کی سرگرمیاں مریخ پر اس سے پہلے پائی جانے والی سوچ سے کہیں زیادہ دیر تک برقرار رہی ہوں گی تحقیق میں اس بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ مریخ کی اس مخصوص جگہ پر اس وقت ہائیڈریٹڈ معدنیات اور ممکنہ طور پر برف کی شکل میں پانی کے کافی ذخائر موجود ہیں۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا طویل عرصے سے یہ خیال رہا ہے کہ اربوں سال پہلے مریخ کی سطح پر ایک گاڑھا، گرم ماحول اور مائع پانی موجود تھا، لیکن یہ سیارہ ٹھنڈا ہوگیا کیونکہ اس نےاپنا حفاظتی مقناطیسی میدان تقریباً 4 ارب سال پہلے کھو دیا موجودہ ارضیاتی دور جسے Amazonian epoch کے نام سےجانا جاتا ہےجس کے بارے میں سوچا جاتا ہے کہ 3.5 سے 1.8 بلین سال پہلے شروع ہوا تھا کو ایک ایسے وقت کے طور پر دیکھا گیا ہے جب مریخ سرد اور خشک تھا، جس میں سطحی پانی نہیں تھا۔

    دوسری جانب سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

    چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

  • آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    جنگ عظیم دوئم کے زمانے سے برمودا ٹرائی اینگل ساری دنیا کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے اور اس کے بارے میں غیر ماورائی معاملات مشہور ہیں برمودا ٹرائی اینگل بحر اوقیانوس کا ایک مخصوص حصہ ہے، اس علاقے کا ایک کونا برمودا، دوسرا پورٹوریکو اور تیسرا میامی سے متصل ہے اور ان تینوں کونوں کے درمیانی حصے کو برمودا تکون یا مثلث کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں جن کے باعث اس کو شیطانی مثلث بھی کہا گیا ہے، ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا جیسے غیر معمولی واقعات شامل ہیں برمودا ٹرائی اینگل سمندر کے اندر ایک ایسا پُراسرار علاقہ ہےجہاں اب تک بہت سے طیارے،کشتیاں اور جہاز غائب ہو چکے ہیں اور ان کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا

    سری لنکا میں پر تشدد جھڑپیں: 5 ہلاک، 190 سے زائد زخمی، مستعفی وزیراعظم کا گھر نذر آتش، کرفیو نافذ

    اس حوالے سے کئی قیاس آرائیاں کی جاتیں ہیں لیکن آج تک کوئی بھی واضح طور پر برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل نہیں کرسکا تاہم اب ایک آسٹریلوی سائنسدان نے برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ‘ کارل کروزیلنکی'(Karl Kruszelnicki) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل میں طیاروں اورکشتیوں کی پراسرار گمشدگی کے پیچھے مافوق الفطرت وجوہات نہیں ہیں۔

    ان کا خیال ہے کہ یہ واقعات ممکنہ طور پر خراب موسم اور انسانی غلطی کا نتیجہ تھے جبکہ انہوں نے ان مقبول نظریات کو بھی رد کیا ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ ان گمشدگیوں کا تعلق مافوق الفطرت اسباب سے ہے۔

    انہوں نے 2017 میں ایک جگہ کہا تھا کہ یہ علاقہ خط استوا کے قریب ہے اس لیے یہاں بہت ٹریفک ہے جبکہ لائیڈز آف لندن اور امریکن کوسٹ گارڈ کے مطابق برمودا ٹرائی نگل میں گمشدگیوں کی تعداد فیصد کی بنیاد پر دنیا میں کہیں گمشدہ ہونے کی تعداد کے برابر ہے اس کے علاوہ کارل نے اپنے نظریے میں اس فلائٹ 19 کا بھی ذکر کیا جو برمودا ٹرائی اینگل کی تمام گمشدگیوں میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔

    یہ پرواز پانچ طیاروں پر مشتمل تھی جس نے 5 دسمبر 1945 کو فلوریڈا کے فورٹ لاؤڈرڈیل سے اڑان بھری تھی اور اس میں عملے کے 14 ارکان سوار تھے لیکن امریکی بحریہ کے بمبار طیاروں کا (جو معمول کے تربیتی مشن پر کام کر رہے تھے) پانچوں طیاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ طیارے غائب ہوگئے اور عملہ یا ملبہ کبھی نہیں ملا جبکہ فلائٹ 19 کی تلاش کے لیے روانہ کیا گیا ایک طیارہ بھی اسی رات غائب ہو گیا تاہم کارل کا خیال ہے کہ فلائٹ 19 اس دن بحر اوقیانوس میں 15 میٹر کی بلند لہروں کی وجہ سے غائب ہوئی پرواز میں واحد تجربہ کار پائلٹ لیفٹیننٹ چارلس ٹیلر تھا جس کی انسانی غلطی اس سانحہ کا سبب بن سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اب تک اس مقام پر 2 ہزار بحری جہاز اور 200 طیارے لاپتہ ہوچکے ہیں ایسی برقی لہریں اور مقناطیسی کشش بھی موجود ہے جو بڑے بڑے جہازوں کو تروڑ مروڑ کر رکھ دیتی ہیں امریکی میڈیا پر ان ہی جگہوں پر خلائی اور دیگر حقائق سامنے لانے والوں کو قتل بھی کیا جا چکا ہے۔

    تاہم اس علاقے میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ ایسا ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، یہ واقعہ ایسا ہے جسے سن کر ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑ جاتی ہے4 دسمبر 1970 کی ایک روشن صبح بروس گارنن نامی ایک پائلٹ نے بہاماس کے جزیرے اینڈروس سے اڑان بھری، اس کے چھوٹے جہاز میں صرف 2 مسافر سوار تھے اور ان کی منزل فلوریڈا کا شہر میامی تھایہ ایک معمول کی پرواز تھی جس پر بروس اس سے پہلے درجنوں بار جاچکا تھا جب طیارہ 1 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچا تو طیارے کے سامنے ایک چھوٹا سا سیاہ بادل آگیا جو دیکھتے ہی دیکھتے ہی اپنا حجم بڑھانے لگا، بروس کو مجبوراً اس بادل کے اندر سے گزرنا پڑا۔

    پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    آگے جا کر جب طیارہ 11 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر پہنچا تو پائلٹ کے سامنے ایک اور پراسرار سیاہ بادل آگیا۔ یہ بادل بہت بڑا تھا اور طیارے کو اس کے اندر سے گزارنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا بروس نے طیارے کو بادل کے اندر داخل کردیا، اندر سیاہ گھپ اندھیرا تھا لیکن یہ طوفانی بادل نہیں تھا تھوڑی دیر بعد اچانک بادل کے اندر سفید روشنی کے جھماکے سے ہونے لگے۔ پائلٹ نے لمحے میں جان لیا کہ یہ روشنی آسمانی بجلی نہیں تھی، کچھ اور تھی بادل کے اندر طیارے کا سفر نصف گھنٹہ جاری رہا، اچانک بروس کو محسوس ہوا کہ یہ وہی بادل تھا جو 10 ہزار فٹ کی بلندی پر اس سے ٹکرایا تھا اور یہ احساس ہوتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

    بادل اب ایک سرنگ کی سی شکل اختیار کرچکا تھا اور یوں لگتا تھا کہ اب یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اچانک پائلٹ کو سامنے روشنی کی ہلکی سی کرن دکھائی دی جس کا مطلب تھا کہ بادل کی سرنگ ختم ہورہی ہے پائلٹ کے جسم میں نئی جان دوڑ گئی، لیکن جیسے جیسے روشنی قریب آنے لگی اچانک طیارے کے آلات ایک کے بعد ایک خرابی کا سگنل دینے لگے تمام انڈیکیٹرز جلنے بجھنے لگے اور کچھ دیر بعد پائلٹ طیارے پر سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھا، لیکن طیارہ تب بھی اڑتا رہا۔

    بروس کا کہنا تھا کہ اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے طیارے کو کوئی اور قوت چلا رہی ہو، یا آسمان میں کوئی کرنٹ ہو جس کے باعث طیارہ خود بخود اڑ رہا ہو کچھ دیر بعد طیارہ بالآخر بادل کی سرنگ سے نکل آیا، اور اس کے ساتھ ہی طیارے کے آلات ایسے کام کرنے لگے جیسے ان میں کبھی کوئی خرابی ہوئی ہی نہیں تھی بادل سے نکلنے کے بعد بھی طیارہ کچھ منٹ مزید گہری سفید دھند میں سفر کرتا رہا۔ اس دوران اس نے گراؤنڈ کنٹرول سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اسے اس کی موجودہ لوکیشن بتائیں۔

    کہاں ہوگی بارش؟ کہاں چلیں گی گرم ہوائیں؟

    گراؤنڈ کنٹرول کی جانب سے جواب ملا کہ طیارہ ریڈار پر دکھائی نہیں دے رہا جس سے بروس پریشان ہوگیا پھر اچانک دبیز دھند ختم ہوگئی اور بروس نے دیکھا کہ وہ عین میامی یعنی اپنی منزل کے اوپر تھا یہ ایک اور حیران کن بات تھی، یہ فاصلہ 217 میل تھا جسے ایک گھنٹہ 15 منٹ میں طے کیا جانا تھا، لیکن طیارے کو اپنا سفر شروع کیے صرف 47 منٹ ہی گزرے تھے بہرحال طیارہ بحفاظت میامی ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔

    لینڈ کرتے ہی بروس نے طیارے کا فیول چیک کیا تو وہ اتنا خرچ نہیں ہوا تھا جتنا طے شدہ فاصلے کے مطابق اسے خرچ ہونا چاہیئے تھا بروس نے سفر سے متعلق تمام دستیاب معلومات چیک کیں تو اس پر انکشاف ہوا کہ اس کا طیارہ سفر کے نصف وقت میں اپنی منزل پر پہنچا اس نے فوری طور پر ایوی ایشن ماہرین نے رابطہ کیا اور انہیں خود پر گزرنے والی صورتحال بتائی، لیکن کوئی بھی اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

    بالآخر بروس نے خود ہی اس بارے میں معلومات جمع کیں اور ان سے ایک نتیجہ نکالا کہ بادل کے اندر روشنی کے سفید جھماکے دراصل الیکٹر ک فوگ تھی کچھ افراد نے ایک ممکنہ خیال پیش کیا کہ بروس ڈارک انرجی کی وجہ سے وقت کو جلدی طے کرنے میں کامیاب ہوا، یہ وہی توانائی ہے جس کی وجہ سے ہماری کائنات پھیلتی ہے۔

    یہ توانائی بلیک ہول کی طرح وقت اور مقام میں خلل (ٹائم ٹریول قسم کے حالات) پیدا کرسکتی ہے، اسی کی وجہ سے بادل کی ایک سرنگ پیدا ہوئی، بروس اتفاق سے اس سرنگ میں جا نکلا اور خوش قسمتی سے زندہ سلامت نکلنے میں کامیاب رہا کچھ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بادل اس علاقے میں عام ہیں اور اکثر پائلٹس کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اس کی وضاحت کوئی نہ دے سکا کہ بروس نے اپنے سفر کا نصف وقت کیسے پار کرلیا، بروس گارنن کی یہ فلائٹ آج بھی ایک راز ہے جو حل طلب ہے۔

    دشمن ممالک کو خوش کرنے کیلئےعمران نیازی ایک خطرناک ایجنڈے پر گامزن ہیں،شرجیل میمن

    کیا دجال برمودا ٹرائی اینگل میں رہتا ہے؟

    رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہی دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے دجال کے رہنے کی جگہ ایک غیرآباد جزیرہ ہے، اس کے کارندے لمحہ با لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں، دجال کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔

    صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں، وہ مشرق میں ہے اب عرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو ’ڈیول سی‘ یا شیطانی سمندر اور بحر اوقیانوس کے ’برمودا ٹرائی اینگل‘ ہی وہ دو جگہیں جنہیں یہودی بھی جہنم کا دروازہ مانتے ہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں جگہوں کا ہی آخری سرا امریکا سے جا کر ملتا ہے۔

    مصری محقق عیسیٰ داؤد نے اپنی کتاب ’مثلث برمودا‘ میں کہا کہ دجال بحر الکاہل کے ان غیرآباد اور ویران جزائر میں تھا، اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا تھا مگر آخری رسول ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، اور وہ آزاد ہوگیا، مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی، لہذا اب وہ ’ڈیول سی‘ سے ’برمودا ٹرائی اینگل تک رابطے میں ہےجس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نقطہ عروج کو پہنچنے والی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کی چارج شیٹ جاری کردی

  • ٹوئٹرکا ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ٹویٹس کرنیوالوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    ٹوئٹر نے ایسے تما م اشتہارات اور پوسٹس پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے جو کلائمیٹ چینج (عالمی ماحولیاتی تبدیلی) کے خلاف بیانیہ رکھتے ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی یومِ ارض پر ٹوئٹر نے کہا کہ وہ ایسے تمام اشتہارات پر پابندی عائد کررہا ہے جو آب و ہوا میں تبدیلی کے خلاف بیانیہ رکھتے ہیں خواہ وہ اس کےلیے سائنس کا سہارا ہی کیوں نہ لیا گیا ہو۔

    ایلون مسک کی ٹوئٹر کے بعد اب کوکا کولا کمپنی پر بھی نظر

    ٹوئٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو رد کرنے والوں کو ٹوئٹر سے رقم بنانے کا حق نہیں ہونا چاہیے ایسے گمراہ کن اشتہارات عوام کو ماحولیاتی اور موسمیاتی بحران کی اصل اور اہم بحث سے دور کرسکتے ہے۔

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے

    بیان میں مزید کہا گیا کہ آئندہ ماہ ہم ٹوئٹر پر آب و ہوا کے متعلق درست معلومات بھی شامل کریں گے لیکن اینٹی کلائمیٹ اشتہارات ہماری پالیسی کے تحت پابندی کے حصار میں رہیں گے دوسری جانب بعض معلومات پر شک کی صورت میں بین الاقوامی پینل برائے آب وہوائی تبدیلی (آئی پی سی سی) کے ماہرین سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ فیس بک، گوگل اور پنٹرسٹ نے بھی کلائمیٹ چینج کی غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف ایکشن لے رکھا ہے-

    اکاونٹ بحال بھی کر دیا جائے تو بھی ٹوئٹرجوائن نہیں کر وں گا،ڈونلڈ ٹرمپ

  • دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے

    نیویارک : ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے ہیں مسک نے ٹوئٹر خریدنے کے لیے 44 ارب ڈالر یعنی 3368 ارب روپے کا معاہدہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق ایلون مسک اورٹوئٹرکے درمیان 44 ارب ڈالرز کا معاہدہ ہوگیا ہے جس کے بعد ٹوئٹرکا کنٹرول اب دنیا کے امیر ترین شخص کومنتقل ہوجائے گا۔

    ٹوئٹر انتظامیہ نے کمپنی ایلون مسک کو بیچنے کا فیصلہ کرلیا

    معاہدے کے مطابق ایلون مسک ٹوئٹر کی خریداری کے لیے 54.20 ڈالر فی شیئر رقم ادا کریں گے معاہدے کے بعد ایلون مسک ٹوئٹر کے واحد شیئر ہولڈر بن گئے ہیں یہ دنیا بھر میں اب تک کی کسی بھی پرائیویٹ کمپنی کو خریدنے کا سب سے بڑا سودا ہے۔

    ٹویٹر کے آزاد بورڈ کے چیئرمین بریٹ ٹیلر نے 12:24 بجے ایک پریس ریلیز میں مسک کے ساتھ معاہدے کے بارے میں معلومات دی تاہم ڈیل کے پبلک ہونے سے پہلے ہی 2 ہفتے قبل مسک نے ٹویٹ کر کے مائیکرو بلاگنگ سائٹ خریدنے کا اشارہ دیا تھا۔ مسک نے لکھا تھا کہ امید ہے میرے سخت ترین ناقدین ٹویٹر پر رہیں گے آزادی اظہار کا اصل مفہوم یہی ہے –

    ایلون مسک نے اس سے قبل ٹوئٹر خریدنے کے لیے 43 ارب ڈالر یعنی تقریباً 3273.44 ارب روپے کی پیشکش کی تھی اس حوالے سے ٹوئٹر کے اندر تنازع کی خبریں سامنے آئی تھیں تاہم اب یہ ڈیل 44 ارب ڈالر میں طے پا گئی ہے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے احتجاج کیا تھا-

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے


    بعد ازاں مسک نے 44 ارب ڈالرز ادا کرنے کی پیشکش کی تھی ابتدا میں ٹوئٹر بورڈ نے مسک کی پیشکش کومسترد کردیا تھا تاہم اب اس کے شئیرہولڈرز سے معاہدے کی منظوری کے لئے ووٹنگ کا کہا جائے گا –

    ایلون مسک کا کہنا تھا کہ نئے فیچرز کے ساتھ ٹوئٹر کومزید بہتربنائیں گے آزادی اظہار ایک فعال جمہوریت کی بنیا د ہے۔ ٹوئٹر ایک ڈیجیٹل اسکوائر ہے جہاں انسانیت کے مستقبل سے متعلق اہم معاملات پربحث ہوتی ہے۔

    ایلون مسک کا ٹوئٹر کو خریدنے کا فیصلہ، کمپنی کو اربوں ڈالرز کی پیشکش بھی کردی

    یہ واضح نہیں ہے کہ نئی کمپنی کی قیادت کون کرے گا۔ فرم کمپنی کی قیادت فی الحال پیراگ اگروال کر رہے ہیں، جنہوں نے گزشتہ نومبر میں شریک بانی اور سابق باس جیک ڈورسی سے عہدہ سنبھالا تھا-

    لیکن اپنی پیشکش کی دستاویز میں، مسک نے ٹویٹر کے بورڈ کو بتایا تھا کہ مجھے انتظامیہ پر اعتماد نہیں ہے۔

    اس معاہدے کے تحت، جو اس سال کے آخر میں ختم ہونے کی امید ہے، ٹویٹر کے حصص کو ڈی لسٹ کر دیا جائے گا اور اسے نجی مان لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص ہیں جن کی دولت کی مجموعی مالیت 237.6 ارب ڈالر ہے وہ الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا اورایرو سپیس کمپنی سپیس ایکس کے مالک ہیں۔

    ایلون مسک کا ٹویٹرکمپنی کے بورڈ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

  • ٹوئٹر انتظامیہ نے کمپنی ایلون مسک کو بیچنے کا فیصلہ کرلیا

    ٹوئٹر انتظامیہ نے کمپنی ایلون مسک کو بیچنے کا فیصلہ کرلیا

    ٹوئٹر انتظامیہ نے کمپنی دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بیچنے کا فیصلہ کرلیا امریکی کاروباری جریدے بلومبرگ کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کی فروخت کا معاہدہ آج ہی فائنل ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹوئٹر بورڈ کے 11 رکنی بورڈ ممبرز نے اتوار کو کمپنی خریدنے کے حوالے سے ایلون مسک کی پیشکش پر میٹنگ ہوئی، جس میں کمپنی کو 46.5 بلین ڈالرز کی پیشکش پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایلون مسک کا ٹویٹرکمپنی کے بورڈ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو بورڈ اراکین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹوئٹر کے شیئر ہولڈرز جلد ایلون مسک سے ملاقات بھی کریں گے، جس میں معاہدے سے متعلق گفتگو کی جائے گی-

    بعد ازاں اس حوالے سے برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ نے بتایا کہ 9 اپریل کو ایلون مسک نے ٹوئٹر کے نو فیصد شیئرز خریدے اور اس کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر بن گئے اس کے بعد 14 اپریل کو ایلون مسک نے 54.20 ڈالر فی شیئر کے ریٹ پر 43 ارب ڈالر میں پوری کمپنی خریدنے کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے اپنی اس پیشکش کو "بیسٹ اینڈ فائنل آفر” کا نام دیا تھا تاہم ٹوئٹر انتظامیہ نے ابتدائی طور پر اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    ٹوئٹر کے پانچ فیصد سے زائد کے حصے دار سعودی شہزادے ولید بن طلال نے بھی ایلون مسک کی آفر قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ان کا کہنا تھا کہ مسک کی ٹوئٹر کے لیے دی گئی پیشکش اس کی گروتھ کی قدر کے مطابق نہیں-

    ایلون مسک ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل

    بلومبرگ کا کہنا ہے ایلون مسک نے جس وقت ٹوئٹر خریدنے کی پیشکش کی تھی اس کے بعد انہوں نے سرمائے کاانتظام بھی مکمل کرلیا ہے گزشتہ ہفتے وہ ٹوئٹر خریدنے کیلئے مطلوبہ رقم جمع کرچکے تھے تاہم ٹوئٹر انتظامیہ یہ دیکھ رہی ہے کہ ایلون مسک کے خلاف کوئی سرکاری تحقیقات تو نہیں چل رہیں بلومبرگ کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کی فروخت کا معاہدہ آج ہی فائنل ہونے کا امکان ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    اس سے قبل امریکی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ سوشل میڈیا سروس سے متعلق ٹوئٹر میں کچھ خامیاں دیکھتے ہیں اور اسے دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے کے پلیٹ فارم میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں واضح رہے کہ ٹوئٹر پر ایلون مسک کے اس وقت 83.3 ملین سے زیادہ فالوورز ہیں۔

    ایلون مسک کا ٹوئٹر کو خریدنے کا فیصلہ، کمپنی کو اربوں ڈالرز کی پیشکش بھی کردی

  • ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی  ویڈیو جاری کردی

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے مریخ پر سورج گرہن کی مختصر ویڈیو جاری کردی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے مریخ پر سورج گرہن کی جاری کی گئی ویڈیو صرف 49 سیکنڈ کی ہے ور یہ مریخ سے دیکھے جانے والے سورج گرہن کی سب سے پہلی ویڈیو بھی ہے۔


    ناسا کے مطابق مریخ پر بھیجے گئے ’’پرسرویرینس روور‘‘ نے یہ ایچ ڈی ویڈیو 2 اپریل 2022 کے روز اپنے طاقتور ’’ماسٹ کیم زی کیمرا سسٹم‘‘ سے بنائی تھی، جس میں مریخ کے چاند ’’فوبوس‘‘ کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ناسا کے مطابق زمین پر سورج گرہن کے دوران چاند تقریباً مکمل طور پر سورج کو چھپا لیتا ہے اور دن میں بھی رات جیسا منظر ہوجاتا ہے اس کے برعکس، ناسا کی ویڈیو میں مریخی چاند فوبوس کو سورج کے سامنے سے گزرتے ہوئے ضرور دیکھا جاسکتا ہے لیکن وہ سورج کا معمولی حصہ اپنے پیچھے چھپا سکا ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ فوبوس، ہماری زمین کے چاند سے 157 گنا چھوٹا، یعنی صرف 22 کلومیٹر چوڑا ہے اتنی کم جسامت کی وجہ سے وہ سورج کا چھوٹا سا حصہ ہی اپنے پیچھے چھپا سکتا ہے جبکہ مریخ کا دوسرا چاند ’’ڈیموس‘‘ اس سے بھی چھوٹا ہے، جس کی چوڑائی محض 13 کلومیٹر ہے یہ دونوں چاند ہی بڑے پتھروں جیسے دکھائی دیتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    زمین کا چاند ان دونوں کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑا ہے جس کا قطر 3475 کلومیٹر ہے۔

    واضح رہے کہ ناسا کا ’’پرسرویرینس روور‘‘ اس وقت مریخ پر ایک وسیع گڑھے ’’جزیرو‘‘ میں ایک ایسے مقام پر موجود ہے جہاں سے ارد گرد کے قریبی اور دور دراز کا نظارہ دیکھا جاسکتا ہے پرسرویرینس نے مریخ پر سورج گرہن کا منظر بھی یہیں سے فلم بند کیا ہے۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

  • خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا خصوصی دورہ

    خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا خصوصی دورہ

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ خلانوردوں کا طبّی معائنہ کرنے کےلیے زمین پر موجود ڈاکٹروں نے اپنے ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا خصوصی دورہ کیا۔

    باغی ٹی وی : اگرچہ ہولوگرام ڈاکٹروں نے خلائی اسٹیشن کا یہ دورہ دسمبر 2021 کے آخری دنوں میں کیا تھا لیکن اس کی تفصیلات چند روز قبل ہی جاری کی گئی ہیں۔

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    باسا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کوویڈ 19 وبائی مرض کے تقریباً دو سالوں کے دوران، ٹیلی میڈیسن کی ترقی اور لوگوں تک پہنچنے کے نئے طریقے بدلے اور تیار ہوئے۔ اکتوبر 2021 میں، ناسا کے فلائٹ سرجن ڈاکٹر جوزف شمڈ، انڈسٹری پارٹنر AEXA ایرو اسپیس کے سی ای او اور ان کی ٹیمیں زمین سے خلا میں "ہولوپورٹ” کرنے والے پہلے انسان تھے۔

    سائنس فکشن فلموں میں کسی شخص کے ہولوگرام کا دور دراز جگہ پہنچ جانا اور وہاں کی سیر کرنا یا کوئی کام انجام دینا ’’ہولوپورٹ‘‘ کہلاتا ہے ہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حقیقی زندگی میں یہ اپنی نوعیت کا اوّلین مظاہرہ بھی تھا جس میں سرجن ڈاکٹر جوزف شمڈ اور دوسرے ڈاکٹروں کو خلائی اسٹیشن تک ہولوپورٹ کیا گیا تھا۔

    ہولوگرام کو طبّی مقاصد میں استعمال کرنے کےلیے یہ ٹیکنالوجی مائیکروسافٹ اور ایکسا (AEXA) ایئرو اسپیس نے مشترکہ طور پر وضع کی ہے جس کی سب سے پہلی آزمائش ’’ناسا‘‘ نے کی ہے۔

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    یہ عام ہولوگرام نہیں بلکہ اس کے ذریعے دو طرفہ رابطہ کرتے ہوئے، دوسری جانب موجود شخص کا معائنہ (ہولوگرام کے ذریعے) ٹھیک اسی طرح کیا جاسکتا ہے کہ جیسے وہ سامنے موجود ہو۔

    شمڈ نے کہا کہ یہ وسیع فاصلے پر انسانی رابطے کا بالکل نیا طریقہ ہے مزید برآں، یہ انسانی تلاش کا ایک بالکل نیا طریقہ ہے، جہاں ہماری انسانی ہستی سیارے سے دور سفر کرنے کے قابل ہے ہمارا جسمانی جسم وہاں نہیں ہے، لیکن ہماری انسانی ہستی بالکل موجود ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خلائی اسٹیشن 17,500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے اور زمین سے 250 میل اوپر مدار میں مسلسل حرکت میں ہے، خلاباز تین منٹ یا تین ہفتے بعد واپس آسکتا ہے اور نظام کے چلنے کے ساتھ، ہم اس جگہ پر ہوں گے، لائیو خلائی اسٹیشن پر۔”

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    ناسا مواصلات کی اس نئی شکل کو مستقبل کے مشنوں پر زیادہ وسیع استعمال کے پیش خیمہ کے طور پر ظاہر کر رہا ہے۔ اس کو دو طرفہ مواصلات کے ساتھ استعمال کرنے کے منصوبے ہیں، جہاں زمین پر موجود لوگوں کو خلا میں منتقل کیا جاتا ہے اور خلابازوں کو زمین پر واپس لایا جاتا ہے۔ "ہم اسے اپنی نجی طبی کانفرنسوں، نجی نفسیاتی کانفرنسوں، نجی خاندانی کانفرنسوں اور خلابازوں کے ساتھ VIPs کو خلائی اسٹیشن پر لانے کے لیے استعمال کریں گے۔

    اس کے بعد اگلا مرحلہ ہولوپورٹیشن کو بڑھا ہوا حقیقت کے ساتھ جوڑنا ہے، تاکہ ٹیلی مینٹرنگ کو حقیقی معنوں میں فعال کیا جا سکے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر 2016 سے مائیکروسافٹ اور ایکسا ایئرو اسپیس کے تعاون سے کام جاری تھا لیکن اسے قابلِ عمل بنانے میں کئی رکاوٹیں بھی موجود تھیں جنہیں کئی برس تک مسلسل کوششوں کے بعد بالآخر دور کرلیا گیا۔

    یہ ٹیکنالوجی خلائی اسٹیشن کے علاوہ چاند اور مریخ پر مستقبل کی انسانی بستیوں میں طبّی سہولیات فراہم کرنے میں بھی استعمال کی جائے گی۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا