Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    برسلز: ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد شہابیے یا آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں جتنے شہابیے ہیں ان کی 66 فیصد تعداد انٹارکٹیکا سے ہی اٹھائی گئی ہے سفید برف میں دبے گہرے رنگ کے پتھر آسانی سے شناخت کئے جاسکتے ہیں اب مصنوعی ذہانت سے پتا چلا ہے کہ شہابی پتھر کہیں بھی گریں ان پر مزید برف پڑتی رہتی ہے اور وہ خود برف کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن اس پر وہ رکتے نہیں اور کھسک کر براعظم کے کناروں تک پہنچتے رہتے ہیں اور وہاں جمع ہوجاتے ہیں اب انہیں تلاش کرنا قدرے آسان ہوگا-

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    اس مقام کو ’نیلی برف‘ کہا گیا ہے کیونکہ ہوا کے دوش پر برف ہلکی ہوتی ہے اور اس میں نیلی رنگت نمایاں ہوتی ہے اس سے پہلے بھی نیلی برف سے ہی شہابی پتھرملتے رہے ہیں۔

    جامعہ برسلز میں گلیشیئر کی ماہر ڈاکٹر ویرونیکا ٹولے نار اور ان کے ساتھیوں نے سیٹلائٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت سے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں شہابی پتھر موجود ہوسکتے ہیں سافٹ ویئر نے 83 فیصد درستگی سے 600 ایسے مقامات کی نشاندہی کی جہاں شہابئے موجود ہوسکتے ہیں ڈرون اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے وہاں شہابیوں کی شناخت کرکے انہیں با ہرنکالا جاسکتا ہے اس پورے نقشے کو خزانے کا نقشہ کہا گیا ہے۔

    پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    شہابی پتھر ہمارے نظامِ شمسی میں گھوم رہے ہیں اور ان کے ٹکڑے زمین کے پاس سے گزرتے ہوئےثقلی قوت سے زمین کی جانب لپکتے ہیں یہ اکثر فضا سے رگڑ کھاکر بھڑک اٹھتے ہیں اور روشنی کی ایک لکیر کی شکل میں بھسم ہوجاتے ہیں لیکن بعض پتھر زمین پر آگرتے ہیں ان کے مطالعے سے نظامِ شمسی کے ماضی اور خود اس کی تشکیل کی معلومات مل سکتی ہیں۔

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

  • ایمیزون نے جھوٹی تعریف کرنے والی ٹوئٹر فوج ختم کر دی

    ایمیزون نے جھوٹی تعریف کرنے والی ٹوئٹر فوج ختم کر دی

    سان فرانسسكو: ایمیزون نے اجرتی ملازموں سے ٹویٹ کرانے والی منظم مہم کو بند کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : مذکورہ مہم میں ایمیزون کے ملازم اپنے کام کے مقام کی جھوٹی سچی تعریفیں کرتے تھے اس کے لیے باقاعدہ ٹویٹر گروہ بھرتی کیا گیا تھا جو ایمیزون کے دفاتر کے انتہائی برے ماحول کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    فائنانشیل ٹائمز کے مطابق ایمیزون کے گوداموں (فل فلمنٹ سینٹر) اور دیگر مقامات پر افرادی قوت کے حقوق سلب کرنے اور کام کے دباؤ پر بہت کچھ شائع ہوچکا ہے بسا اوقات ملازم رفع حاجت کے لیے نہیں جاسکتے اور مجبوراً بوتلوں کا استعمال کرتے ہیں۔

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    2021 میں دی انٹرسیپٹ کے اشتراک کردہ اندرونی دستاویزات کے مطابق یہ باقاعدہ مہم 2018 میں شروع کی گئی اور 2021 میں اس کی خفیہ رپورٹ افشا ہوئی اس میں حسِ مزاح رکھنے والے ذہین کارکنوں کا انتخاب کرکے ان سے نرم لیکن کاٹ دار لہجےمیں سیاستدانوں، میڈیا اورمنصوبہ سازوں کی تنقید کا جواب دینے کو کہا جاتا ہے۔

    ایلون مسک دماغی چپ کی انسانی جانچ کے قریب،کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کی بھرتیاں شروع

    لیکن یہ افراد زیادہ تر ٹویٹر پر ہی جواب دیتے ہیں اور مختلف وضاحتیں پیش کرتے ہیں محتاط اندازے کے مطابق ٹویٹر کی تعریف کرنے والے 53 اکاؤنٹس بہت سرگرم دیکھے گئے جو سب ایمیزون کی ایما پر بھرتی کئے گئے تھے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف اکاؤنٹس سے یکساں الفاظ، تصاویر اور ٹویٹس بھی کی گئی تھیں تمام افراد خود کو’ایمیزون ایف سی ایمبیسیڈر‘ کہلاتے تھے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    لیکن ایمیزون نے محسوس کیا کہ تعریفی ٹویٹس کا مذاق اڑایا گیا اور مخالفین نے ان پر اپنے جوابات کی بوچھاڑ کردی اس کے علاوہ اعلیٰ افسران نے بھی اسے غیرمؤثر قرار دیا اور اسی لیے اب اس مہم کو ختم کردیا گیا ہے۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

  • واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    سان فرانسسكو: دنیا بھر میں پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی موبائل ایپلیکیشن "واٹس ایپ” نیا فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے جس گروپس ایڈمنز کی بڑی مشکل آسان ہو جائے گی-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی اپڈیٹ اور فیچرز پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ‘ڈبلیو اے بیٹا انفو’ کے مطابق واٹس ایپ گروپس میں ایڈمن کو کسی بھی ممبر کا چیٹ ڈیلیٹ کرنے کا اختیار بہت جلد فراہم کردیا جائے گا فیچر اپ ڈیٹ اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے لئے واٹس ایپ بیٹا کے لئے بہت جلد دستیاب ہوجائے گی


    ڈبلیو اے بیٹا انفو نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ اگر آپ گروپ ایڈمن ہیں تو آپ اینڈرائیڈ کے لیے واٹس ایپ بیٹا کی مستقبل کی اپ ڈیٹ میں اپنے گروپ میں موجود ہر شخص کے لیے کوئی بھی پیغام ڈیلیٹ کر سکیں گے –

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    پیغام رسانی کی اس ایپ میں ممکنہ نئے فیچر کا مقصد گروپ ایڈمن کے اختیارات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ اس فیچر کی مدد سے گروپس ایڈمن چیٹ کو معتدل انداز میں چلا سکیں گے اور غیر مناسب پیغامات کو فوری حدف کر دیں گے۔

    واٹس ایپ پر چیٹ ڈیلیٹ کرنے کا آپشن کب تک فراہم کیا جائے گا اس کی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    قبل ازیں بیٹا انفو نے بتایا تھا کہ واٹس ایپ نئے فچیر پر کام کرر ہی ہے مزکورہ فیچر کے تحت صارفین کو طویل پیغامات سننے کے لیے ایپ کھلی رکھنے یا اس کا انٹرفیس سامنے رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور یوں بیک گراؤنڈ میں بھی آڈیو پیغامات چلتے رہیں گے واٹس ایپ کے اندرونی حلقوں کے مطابق لوگوں کی اکثریت نے اس آپشن پر زور دیا تھا اس سے قبل واٹس ایپ نے وائس میسج کی رفتار کنٹرول کرنے اور انہیں بھیجنے سے قبل خود سننے کا آپشن بھی پیش کیا تھا جو بہت مقبول ہوا ہے-

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

  • شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    پیونگ یونگ: شمالی کوریا نے ایک اور میزائل تجربہ کرلیا-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک ماہ میں کیا جانے والا یہ چھٹا میزائل تجربہ ہے عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں 2 کم فاصلے تک مارکرنے والے میزائل فائرکئے جبکہ دوروزقبل کروزمیزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکا نے نئے میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا پرمزید پابندیاں عائد کی ہیں عالمی قوانین کے تحت شمالی کوریا پربیلسٹک میزائل اورجوہری ہتھیاربنانے پرپابندی عائد ہے۔

    شمالی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت مضبوط بنانے پرکام کرتے رہیں گے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے حال ہی میں حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش…

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ رواں ماہ 5 اور11 جنوری میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید…

  • مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال  پرانےدو مجسمے دریافت

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    قاہرہ: مصری اور جرمن ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے ’الاقصر‘ کے مقام سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت کرلیے ہیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے مطابق، یہ مجسمے فرعون توتنخ آمون (توتن خامن) کے دادا، فرعون آمنہوتپ سوم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کےلیے بنائے گئے تھے ان میں سے ہر مجسمہ اپنی تعمیر کے وقت 26 فٹ اونچا رہا ہوگا لیکن 1200 قبلِ مسیح میں مصر کے بھیانک زلزلے اور بعد ازاں ریگستان کی خشک ہواؤں اور گرد و غبار کے طوفانوں نے انہیں تباہ کردیا ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    فرعون آمنہوتپ کا دورِ حکومت 1390 قبلِ مسیح سے 1353 قبلِ مسیح تک رہا اسے قدیم مصر میں امن و خوشحالی کا زمانہ بھی سمجھا جاتا تھا اور یہ مجسمے بھی شاید اسی بناء پر آمنہوتپ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کےلیے بنائے گئے تھے موجودہ ’الاقصر‘ جسے انگریزی میں ’لکسر‘ بھی کہا جاتا ہے، فرعونوں کے زمانے میں مصر کا دارالحکومت تھا جسے مخطوطات میں ’طيبة‘ (Thebes) لکھا گیا ہےاس قدیم شہر کی کھدائی پچھلے کئی عشروں سے جاری ہے جبکہ یہاں سے فرعونوں کے زمانے کے نوادرات آج بھی گاہے گاہے برآمد ہو رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ ان آثارِ قدیمہ کو عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت سے محفوظ کرنے کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    الاقصر سے حال ہی میں برآمد ہونے والے یہ دونوں مجسمے ابوالہول کی طرز پر تعمیر کیے گئے تھے جن کے سروں پر بنائی گئی فراعنہ مصر کی مخصوص ٹوپیاں، چہروں پر ’شاہی ڈاڑھیاں‘ اور سینوں پر فرعونی ہار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں ان میں سے ایک مجسمے کے سینے پر ’آمون رے کا پیارا‘ کی عبارت کندہ ہے جو واضح طور پر فرعون آمنہوتپ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    فرعون آمنہوتپ کی دیگر یادگاروں میں قدیم مصر کی دیوی ’سخمت‘ کے تین مجسمے بھی شامل ہیں جو خاصی بہتر حالت میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ’سخمت‘ دیوی کا سر شیرنی کا اور دھڑ عورت کا تھا یہ تینوں مجسمےالاقصر میں ایک دربار کےدروازے پر نصب تھے انہیں آمنہوتپ پر ’سخمت‘ دیوی کی خصوصی مہربانی کا اظہار بھی قرار دیا جارہا ہے۔

    ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ الاقصر میں یہ سارا اہتمام شاید اس وقت کیا گیا تھا کہ جب مصر پر آمنہوتپ کی حکمرانی کے 30 سال مکمل ہونے پر ملک گیر تقریبات جاری تھیں اس موقع پر الاقصر میں خصوصی میلوں اور تقریبات کے علاوہ یادگاری مجسمے بھی تعمیر کیے گئے تھے ابوالہول جیسے یہ دونوں مجسمے بھی شاید اسی موقعے کی یادگار ہیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    قبل ازیں آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی تھیں یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    دیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

  • یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    سان فرانسسكو:یوٹیوب بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق یوٹیوب کی سی ای او سوسن ووچسکی نے ایک خط میں کہا ہے ہم نے یوٹیوب ایکوسسٹم میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تخلیق کار ابھرتی ٹیکنالوجی سے مالی فوائد حاصل کریں جن میں این ایف ٹی جیسی چیزیں بھی شامل ہیں اس لیے ویڈیو بنانے والوں اور مداحوں کے لیے ان تجربات کو جاری رکھا جائے گا-

    اسی خط میں گیمنگ اور شاپنگ کے لیے بھی یوٹیوب کا دائرہ وسیع کرنے کا کہا گیا ہے لیکن خط میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ وہ ’ویب تھری‘ سے متاثر ہیں جن میں کرپٹو، ڈی سینٹرلائزڈ آٹونومس آرگنائزیشن (ڈے اے او) اور این ایف ٹی شامل ہیں۔

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    اس سے قبل ٹویٹر نے صارفین کو سہولت فراہم کی تھی کہ وہ پروفائل تصویر میں این ایف ٹی بطور نقل لگاسکیں اب سے چنددن پہلے میٹا نے بھی کہا تھا کہ وہ بالخصوص میٹاورس اور انسٹاگرام کے لیے این ایف ٹی کی تجارت پر غور کررہی ہے پہلے مرحلے میں لوگ ٹوکن کو بطور ڈسپلے رکھ سکیں گے۔

    واضح رہے کہ تخلیق کار پہلے ہی اپنی مشہور ہوجانے والی ویڈیو کو بطور این ایف ٹی فروخت کررہے ہیں ان میں سے ایک ویڈیو گزشتہ برس این ایف ٹی کے طور پر فروخت ہوئی تھی۔ اس ویڈیو کا نام ’چارلی بٹ می‘ تھا جس میں ایک چھوٹے بچی اپنے بھائی کی انگلی پر کاٹ رہی ہے یہ ویڈیو 7 لاکھ 61 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی پھر ڈیوڈ آفٹر ڈینٹسٹ نامی ایک ویڈیو این ایف ٹی کے طور پر 11 ہزار ڈالر میں بکی تھی-

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    این ایف ٹی کیا ہے؟
    این ایف ٹی سے مراد نان فنجیبل ٹوکن ہے یہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے معاشیات کی زبان میں فنجیبل اثاثے سے مراد کوئی ایسی چیز ہے جس کا فوری تبادلہ ممکن ہے، جیسے روپے پیسے۔ اگر کوئی آپ کو 100 روپے کا نوٹ دیتا ہے تو آپ اس کا تبادلہ دو 50 روپے کے نوٹوں سے کرسکتے ہیں۔

    مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    این ایف ٹی ڈیجیٹل دنیا میں ‘اپنی نوعیت کے واحد’ اثاثے ہیں جن کی خرید و فروخت کسی دوسرے اثاثے کی طرح ممکن ہے۔ لیکن یہ مواد آن لائن موجود ہوتا ہے، ہمارے ہاتھوں میں کسی ٹھوس شکل میں نہیں این ایف ٹی میں جاری ہونے والے ڈیجیٹل ٹوکن یا سرٹیفیکیٹ کے ذریعے یہ پتا چل سکتا ہے کہ کسی آن لائن اثاثے کا اصل مالک کون ہے اسی طرح ہم ٹھوس حالت میں پائے جانے والے اثاثوں کے لیے بھی این ایف ٹی جاری کر سکتے ہیں جو اس کے اصل ہونے کی دلیل دیتا ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    ہانگ کانگ میں پرائیویٹ ایکویٹی فرم اوسیرس گروپ میں پارٹنر سردار احمد درانی کا خیال ہے کہ این ایف ٹی کا اصل مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل آرٹ (تصاویر، ویڈیوز یا دیگر آن لائن مواد) کی نقل تیار نہ ہوسکے اور اس میں تحریف نہ ہوسکے۔ یہ ایک قسم کی ڈیجیٹل آئی پی (انٹیلیکچوئل پراپرٹی) ہے وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں بھی کھیلوں کی مختلف لیگز نے اپنے کولیکٹیبلز (کھیلوں کے سامان یا کارڈز) کو این ایف ٹیز میں تبدیل کیا اور اب وہ لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوتے ہیں۔

    سردار درانی کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں اور آن لائن مواد کو این ایف ٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ اصل مالکان یا فنکار اپنا کام اور اس کے جملۂ حقوق محفوظ رکھ سکیں۔

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

  • ایلون مسک دماغی چپ کی انسانی جانچ کے قریب،کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کی بھرتیاں شروع

    ایلون مسک دماغی چپ کی انسانی جانچ کے قریب،کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کی بھرتیاں شروع

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے تعاون سے قائم امریکی نیورو ٹیکنالوجی فرم نیورا لنک نے کلینکل ٹرائلز کے لیے کلیدی ملازمین کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سلیکون ویلی کمپنی، جس نے پہلے ہی پیجر نامی مکاک بندر اور گرٹروڈ نامی سور کے دماغ میں مصنوعی ذہانت کے مائیکرو چِپس کو کامیابی کے ساتھ لگا دیا ہے، اب انسانوں میں ٹیکنالوجی کے ٹیسٹ چلانے کے لیے "کلینیکل ٹرائل ڈائریکٹر” کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔

    کمپنی نے کلینیکل ٹرائل ڈائریکٹر اور کلینیکل ٹرائل کوآرڈینیٹر کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اشتہارات بھی شائع کروا دیئے ہیں اشتہارات میں لکھا گیا ہے کہ عملہ کچھ جدید ترین ڈاکٹروں اور اعلیٰ انجینئرز کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور ساتھ ہی نیورالنک کےپہلےکلینیکل ٹرائل کے شرکاء کے ساتھ کام کریں گے۔

    ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    ایلون مسک نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ 2022 میں کسی بھی وقت نیورالنک دماغی چپس انسانوں میں لگائے جانے کی توقع رکھتے ہیں تاہم امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے دماغی چپ کی جانچ کے ان منصوبوں کی منظوری باقی ہے۔

    مسک اور ان کے نیورالنک پارٹنرز نے 2016 میں دماغی چپس تیار کرنے کے لیے کمپنی کی بنیاد رکھی تھی جو انسانوں کو کمپیوٹر سے جوڑتی ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امپلانٹس مفلوج افراد کو اپنے دماغ سے اسمارٹ فون جیسے آلات کو کنٹرول کرنے کے قابل بنائیں گے –

    انہیں توقع ہے کہ ایک بار جب انسانی جانچ کا آغاز ہو گا تو مزید پیشرفت سے نیوران کے درمیان سگنلز کو پل کر کے کئی جسمانی معذوریوں کا حل بھی شامل ہے-

    ایلون مسک ‘پرسن آف دا ایئر’ قرار

    ایلون مسک نے گزشتہ ماہ وال سٹریٹ جرنل کے سی ای او کونسل سربراہی اجلاس میں کہا تھا کہ پہلے انسانی ٹیسٹ ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹوں والے لوگوں پر ہوں گے ہمارے پاس نیورالنک کے ساتھ ایک موقع ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کی وجہ سے پورے مفلوج جسم کو فعال کر لیں نیورالنک بندروں میں اچھی طرح سے کام کر رہا ہے، اور ہم اصل میں بہت زیادہ ٹیسٹ کر رہے ہیں اور صرف اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ بہت محفوظ اور قابل اعتماد ہے اور نیورالنک ڈیوائس کو محفوظ طریقے سے ہٹایا جا سکتا ہے

    واضح رہے کہ نیورالنک پہلے ہی ایک مکاک بندر اور سور کے دماغ میں اپنی چپس کا تجربہ کر چکا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ برس اپریل میں ایک بندر کو اپنے دماغ کے ساتھ ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے دکھایا تھا۔

    ایلون مسک نے1 گھنٹہ میں 1.4 ارب ڈالرز کما کے ریکارڈ قائم کر دیا

  • مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    نئی دہلی: بھارتی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق جمہوریت کی دعوےدار بھارتی حکومت نے مسلم دشمن پالیسیوں اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والے مظالم بے نقاب کرنے والے 35 پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بھارت میں بلاک کردیا اطلاعات کے مطابق پابندی کی زد میں آنے والے یوٹیوب چینلز کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد ویڈیو ہیں جن میں ملیحہ ہاشمی عمر دراز گوندل سلمان حیدر اور مخدوم شہاب کا چینل (میرا پاکستان) جیسے بڑے اکاؤنٹس شامل ہیں ، بھارت ففتھ جنریش وار جیت رہا ہے ، پاکستان نے اب بھی کچھ نہ کیا تو بڑی دیر ہو جائے گی-

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ گئے

    بھارتی میڈیا کے مطابق اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر کی وارننگ کے ایک دن بعد حکومت نے 35 یوٹیوب چینلز، 2 ٹویٹر اکاؤنٹس، انسٹاگرام اکاؤنٹس، 2 ویب سائٹس اور ایک فیس بک اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا ہے یہ کارروائی آئی ٹی قوانین کے تحت کی گئی ہے یہ تمام اکاؤنٹس پاکستان سے چل رہے تھے۔

    اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سکریٹری اپوروا چندرا اور جوائنٹ سکریٹری وکرم سہائے نے جمعہ کو کہا کہ 20 جنوری کو وزارت کو ملی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہم نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کارروائی کی ہے جبکہ اپوروا چندرا نے کہا کہ بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کے 12 ملین سبسکرائبرز اور 130 ملین سے زیادہ ویوز تھے۔

    بھارتی وزیراعظم مودی کی جان کو خطرہ:نئے حفاظتی انتظامات نے حیران کردیا

    واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں وزارت اطلاعات و نشریات نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر 20 یوٹیوب چینلز اور دو ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کی فہرست میں پنچ لائن،بین الاقوامی ویب نیوز،خالصہ ٹی وی،ننگا سچ، نیوز24، 48 نیوز،خیالی تاریخی
    حقائق پنجاب،وائرل نیا پاکستان،گلوبل کور اسٹوری،گلوبل ای کامرس،جنید حلیم آفیشل، طیب حنیف، زین علی،فیشل محسن،راجپوت آفیشل،کنیز فاطمہ،صدف درانی
    ،میاں عمران احمد، نجم الحسن باجوہ شامل ہیں-

    مودی یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا نہ کسی کو اٹھایا،چین کی جانب سے لڑکے کے اغوا پر…

  • پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    دماغی ماہرین کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے۔

    باغی ٹی وی : ’نیچر ریویوز نیورو سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع کئے گئے آئرلینڈ کے ڈاکٹر ٹوماس ریان اور کینیڈا کے ڈاکٹر پال فرینکلینڈ کے نئے نظریے کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے دونوں دماغی ماہرین نے انسانی یادداشت اور سیکھنے کے عمل کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    تحقیق میں دونوں ماہرین ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ یہ بھی سیکھتا ہے کہ مختلف حالات کے تحت کون کونسی معلومات اہم ہیں اور کونسی نظرانداز کرنے کے قابل ہیں بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ ’ضروری‘ یا ’اہم‘ معلومات کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور ہمارا دماغ ایسی پرانی معلومات پر توجہ نہیں دیتا جو موجودہ حالات سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ نیوروسائنس میں کسی خاص علم یا مہارت سے متعلق یادداشت محفوظ کرنے والے دماغی خلیوں کے مجموعے ’اینگرامز‘ (engrams) کہلاتے ہیں جب ہم اس بارے میں کوئی بات یا واقعہ یاد کرتے ہیں تو اس سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا ہوتی ہے اور یوں وہ یادداشت ہمارے ذہن میں تازہ ہوجاتی ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ تاہم، ہم تجویز کرتے ہیں کہ بھولنے کی تمام شکلوں میں سرکٹ کو دوبارہ تیار کرنا شامل ہے جو اینگرام سیلز کو قابل رسائی حالت (جہاں انہیں قدرتی یاد کرنے کے اشارے کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے) سے ناقابل رسائی حالت میں تبدیل کرتا ہے (جہاں وہ نہیں کر سکتے)۔ بہت سے معاملات میں، بھولنے کی شرح ماحولیاتی حالات کے مطابق وضع کی جاتی ہے اور اس لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ بھول جانا نیوروپلاسٹیٹی کی ایک شکل ہے جو اینگرام سیل کی رسائی کو اس انداز میں تبدیل کرتی ہے جو توقعات اور ماحول کے درمیان مماثلت کے لیے حساس ہے۔ مزید برآں، ہم یہ قیاس کرتے ہیں کہ بھولنے سے وابستہ بیماری کی حالتیں بھولنے کے قدرتی طریقہ کار کو ہائی جیک کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں اینگرام سیل کی رسائی کم ہو جاتی ہے اور یادداشت کی کمی ہوتی ہے۔

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یاد ہمارے ذہن سے غائب ہوجائے، بلکہ ہم ضرورت پڑنے پر اس یاد سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا نہیں کر پاتے بظاہر یہ ایک خرابی ہے درحقیقت اس کا بہت فائدہ ہے کیونکہ جیسے جیسے ہمارے سیکھنے کا عمل آگے بڑھتا ہے، ویسے ویسے پرانی باتوں کا زیادہ تعداد میں یاد رہ جانا ہمارے اکتساب کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے-

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    لہذا، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں یعنی صحت مند انسانی دماغ باقاعدہ طور پر یہ بھی سیکھتا ہے کہ ’بھلایا‘ کیسے جائے، تاکہ وہ بدلتے ہوئے ماحول اور حالات سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کےلیے تیار کرتا رہے اس دوران دماغ کے خلیے تو ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں مگر اِن میں سرگرمی/ تحریک میں تبدیلی آجاتی ہے جسے ہم ’بھول جانا‘ قرار دیتے ہیں۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    غرض کہ نیا سیکھتے دوران ہمارا دماغ مختلف اینگرامز کو تحریک دینا اور مختلف یادوں کو تازہ کرنا سیکھتا ہے وہ یادیں جو اس کے کام کی ہوتی ہیں غیر متعلقہ یادوں کو وہ نظرانداز کردیتا ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ ہم انہیں بھول جاتے ہیں وہ یادیں ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں لیکن بے حس و حرکت رہتی ہیں۔

  • سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    ریاض: آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’ہیلوسین‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی۔

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ان مقبروں کی ترتیب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کیونکہ بعض مقامات پر کم تعداد میں مقبرے ہیں جبکہ کچھ اور جگہوں پر مقبروں کی تعداد زیادہ بھی ہے اور وہ جسامت میں بھی قدرے بڑے ہیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل نخلستانوں اور بڑے کنووں والے علاقوں کے گرد زیادہ مقبرے بنائے گئے تھے جبکہ کم آبی وسائل (چھوٹے نخلستانوں اور کنووں) والے مقامات کے آس پاس مقبرے کم تھے۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس کے علاوہ، ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے ان مقبروں میں زنجیر کی کڑیوں جیسی ترتیب ان آبی ذخائر سے بھی قریب ہے جو قدیم جزیرہ نما عرب میں ایک تسلسل سے واقع تھے اور وہاں رہنے والوں کےلیے خصوصی اہمیت بھی رکھتے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر وہ راستے بھی تھے جنہیں مقامی لوگ ایک سے دوسرے علاقے تک سفر میں استعمال کیا کرتے تھے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ان علاقوں سے ملنے والی قدیم انسانی ہڈیوں اور جانوروں کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کے آس پاس چراگاہیں بھی رہی ہوں گی جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے کےلیے جاتے ہوں گے۔

    یہ مقبرے آج پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ مقبرے گنبد جیسی شکلوں میں تعمیر کیے گئے ہوں گے ڈاکٹر ڈالٹن نے کہا کہ قدیم سعودی عرب کے باشندے ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب اور سماج دوست تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر یہ مقبرے مذہبی رسوم و رواج کا حصہ تھے یا پھر انہیں علامتی طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…