Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    فلوریڈا: امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’فرنٹیئرز اِن میرین سائنس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ماہرین نے لکھا کہ چڑھتی تاریخوں میں جب آسمان پر چاند زیادہ روشن اور بڑا ہوتا ہے، دنیا بھر میں شارک کے حملے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس بارے میں وہ بھی اب تک کچھ نہیں جان سکے ہیں۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    لیوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی اور فلوریڈا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس مشترکہ تحقیق کےلیے ’انٹرنیشنل شارک اٹیک فائلز‘ (ISAF) نامی عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار استعمال کیے جو 1958 سے باقاعدہ طور پر مرتب کیے جارہے ہیں ان اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 1958 سے 2016 کے دوران شارک مچھلیوں نے دنیا بھر میں 2,785 مرتبہ بغیر کسی وجہ کے انسانوں پر حملے کیے ہیں۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    ماہرین نے ان حملوں کے مقامات، مقامی وقت اور آسمان میں چاند کی کیفیت جیسی تفصیلات جمع کرنے کے بعد ان کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے ’بے وجہ‘ حملے واضح طور پر زیادہ تھے اس کے برعکس گھٹتے چاند کی تاریخوں میں ان حملوں کی تعداد بہت دیکھی گئی یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شارک مچھلیاں رات کے وقت چاند کی روشنی سے متاثر ہو کر لوگوں پر بلا وجہ حملے کرتی ہیں۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    البتہ جس بات نے سائنسدانوں کو چکرا دیا، وہ یہ تھی کہ چاند کی بڑھتی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے زیادہ حملے دن کی روشنی میں ہوئے تھے کہ جب آسمان پر چاند ضرور موجود تھا لیکن سورج کے مقابلے میں اس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔

    کیا شارک مچھلیوں پر چاند کی کششِ ثقل اثر انداز ہوتی ہے جو انہیں لوگوں پر حملے کرنے کےلیے مجبور کرتی ہے؟ سائنسدانوں کے مطابق، اس بارے میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا فی الحال ان کے پاس اتنے زیادہ اعداد و شمار نہیں کہ وہ شارک کے زیادہ حملوں کو چڑھتے چاند کا نتیجہ قرار دے سکیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

  • مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    کیلیفورنیا: مائیکروسافٹ نے کینڈی کرش سمیت کئی مشہور گیمز بنانے والی کمپنی ’ایکٹیویژن بلیزارڈ‘ 68.7 ارب ڈالر (12,157 ارب پاکستانی روپے) کی خطیر رقم میں خرید لی ہے۔

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے مائیکروسافٹ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کی گئی جس میں مائیکروسافٹ ایکس باکس اور ایکٹیویژن بلیزارڈ کے لوگوز ایک ساتھ دکھائے گئے ہیں متعلقہ پریس ریلیز میں مائیکروسافٹ کارپوریشن کی جانب سے یہ ارادہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کو خرید لے گی۔


    البتہ گیمنگ کی جدید دنیا سے واقفیت رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعلان خریداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا گیا ہے ورنہ اس میں اتنے واضح طور پر رقم کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    اس خریداری کے ساتھ ہی نہ صرف ایکٹیویژن بلیزارڈ کے گیمز سیمت تمام مصنوعات اور اثاثہ جات مائیکروسافٹ کی ملکیت ہوجائیں گے بلکہ مائیکروسافٹ کو ایکس باکس اور روایتی آن لائن گیمنگ سے آگے بڑھ کر موبائل گیمنگ کی دنیا میں تیزی سے آگے بڑھنے کا موقع بھی ملے گا۔

    مائیکروسافٹ کی پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کی مہارت استعمال کرتے ہوئے، آنے والے برسوں میں ’میٹاورس‘ کےلیے بھی نئے گیمز تیار کیے جائیں گے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ مائیکروسافٹ Tencent اور Sony کے پیچھے، آمدنی کے لحاظ سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی گیمنگ کمپنی بن جائے گی۔ منصوبہ بند حصول میں میجر لیگ گیمنگ کے ذریعے عالمی ای اسپورٹس سرگرمیوں کے علاوہ ایکٹیویژن، بلیزارڈ اور کنگ اسٹوڈیوز جیسے "وار کرافٹ،” "ڈیابلو،” "اوور واچ،” "کال آف ڈیوٹی” اور "کینڈی کرش” کی مشہور فرنچائزز شامل ہیں۔ کمپنی کے تقریباً 10,000 ملازمین کے ساتھ دنیا بھر میں اسٹوڈیوز ہیں۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    مائیکروسافٹ کے چیئرمین اور سی ای او ستیہ ناڈیلا نے کہا کہ”آج تمام پلیٹ فارمز پر گیمنگ تفریح ​​کا سب سے متحرک اور دلچسپ زمرہ ہے اور میٹاورس پلیٹ فارمز کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔” "ہم گیمنگ کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے عالمی معیار کے مواد، کمیونٹی اور کلاؤڈ میں گہری سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو کھلاڑیوں اور تخلیق کاروں کو پہلے رکھتا ہے اور گیمنگ کو محفوظ، جامع اور سب کے لیے قابل رسائی بناتا ہے۔”

    مائیکروسافٹ گیمنگ کے سی ای او فل اسپینسر نے کہا، "ہر جگہ کھلاڑی ایکٹیویژن بلیزارڈ گیمز کو پسند کرتے ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ تخلیقی ٹیموں کے سامنے ان کا بہترین کام ہے۔” "ہم مل کر ایک ایسا مستقبل بنائیں گے جہاں لوگ اپنی مرضی کے کھیل کھیل سکیں، عملی طور پر کہیں بھی وہ چاہیں۔”

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    واضح رہے کہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کی ذیلی کمپنی ’کنگ اسٹوڈیو‘ کا تیار کردہ ’کینڈی کرش‘ اب تک تقریباً تین ارب سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور یہ دنیا کے مشہور ترین گیمز میں شمار ہوتا ہے جسے اسمارٹ فون کے علاوہ فیس بُک میں بھی براہِ راست کھیلا جاسکتا ہے۔

  • دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    دبئی: دنیا کا سب سے بڑا اور انتہائی نایاب سیاہ ہیرا "دی اینگما” دبئی میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ خلا سے زمین پر آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مشہور برطانوی نیلام گھر ’سودبیز‘ نے دبئی میں 555.55 قیراط کا ایک سیاہ ہیرا پیش کیا ہے ہیرے کو دبئی اور امریکہ میں نمائش کے بعد لندن لے جایا جائے گا، جہاں 3 سے 9 فروری کے دوران سیاہ ہیرے کی آن لائن نیلامی کی جائے گی۔

    انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتا سے منتقل کرنے کا بل منظور

    ہیرے کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریدا جا سکے گا۔ہیرے کو گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کا سب سے بڑا ہیرا قرار دے رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیاہ ہیرا

    یہ ہیرا جسامت میں خاصا بڑا ہے اور اس کے 55 پہلو ہیں جو اسے اور بھی زیادہ منفرد بناتے ہیں اس ہیرے کو ’’اینگما‘‘ (معما) کا نام دیا گیا ہے جبکہ اسے دنیا کے نایاب ترین ہیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہیرا کہاں سے آیا ہے لیکن ایک مفروضے کے مطابق، یہ تین ارب اسی کروڑ سال قبل زمین پر سیارچہ ٹکرانے سے وجود میں آیا تھا اور زمین سے ٹکرانے والے کسی شہابِ ثاقب کا حصہ رہا ہوگا جو کسی طرح سے محفوظ رہ گیا۔

    ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    بتاتے چلیں کہ سیاہ ہیروں کو ’کاربونیڈو‘ بھی کہا جاتا ہے جو اب تک صرف برازیل اور وسطی افریقہ ہی سے ملے ہیں۔

    سودبیز دبئی میں ہیروں کی ماہر سوفی اسٹیونز کا کہنا ہے کہ پانچ (5) کی تکرار اس ہیرے کےلیے بہت خاص ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ 555.55 قیراط وزنی ہے تو دوسری جانب اس کے 55 پہلو بھی ہیں شاید اسی بناء پر سودبیز کو امید ہے کہ یہ کم از کم 50 لاکھ برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 120 کروڑ پاکستانی روپے) میں نیلام ہوگا۔

    سوفی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرقی مذاہب میں پانچ (5) کا ہندسہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے لہذا یہ ہیرا ان کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مالیت میں بھی نیلام ہوسکتا ہے۔

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کے 8 ڈرونزتباہ کردئیے

    واضح رہے کہ یہ ہیرا اس سے قبل کبھی مارکیٹ میں دیکھا گیا اور نہ ہی کبھی عوامی نمائشی کے لیے رکھا گیا ہے ہیرے کی شکل مشرق وسطیٰ کے ہتھیلی نما خمسہ سے ملتی جلتی ہے جو ’نظر بد‘ سے محفوظ رکھنے والی علامت کے طور پر مشہور ہے خمسہ کا تعلق پانچویں ہندسے سے ہے اور یہ ہیرا نہ صرف 555 اعشاریہ 55 کا سائز رکھتا ہے بلکہ اس کے ٹھیک 55 پہلو بھی ہیں۔

    بھارتی وزیراعظم کی طرح عالمی سطح پر بھارت کو کوئی بدنام نہیں کر سکتا،مودی کی ایسی…

  • ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے بھی ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ اگلے دو دن میں ہماری زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے اس خلائی پتھر کو 7482 یا ’1994 پی سی1‘ کا تکنیکی نام دیا ہے کیونکہ یہ پہلی بار 1994 میں دریافت کیا گیا تھا 3,451 فٹ قطر والا یہ شہابیہ (پاکستانی وقت کے مطابق) 19 جنوری 2022 کی علی الصبح 3 بج کر 51 منٹ پر زمین سے 19 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر دوری پر ہوگا، جو زمین سے اس کا کم ترین فاصلہ بھی ہوگا۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے کی وجہ سے زمین کو اس شہابیے سے کوئی خطرہ بھی نہیں ہوگا اس شہابیے کی رفتار 76,192 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ جتنی تیزی سے زمین کے قریب پہنچے گا، اتنی ہی رفتار کے ساتھ زمین سے دور بھی ہوتا چلا جائےگا یہ ایک الگ مدارمیں گردش کررہا ہے اور ہماری زمین کے حساب سے ایک سال سات مہینوں میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے جبکہ 7482 کی براہِ راست نشریات ’’انورس‘‘ نامی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکیں گی۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    واضح رہے کہ یہ زمین کے ’’قریب‘‘ سے گزرنے والا سب سے بڑا شہابیہ نہیں بلکہ یہ اعزاز اب تک ’’ایسٹرائیڈ 3122 فلورینس‘‘ کے پاس ہے جس کی چوڑائی 8.85 کلومیٹر معلوم کی گئی ہے اور جو ستمبر 2057 میں زمین سے صرف چند لاکھ کلومیٹر دُوری سے گزرے گا۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

  • انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    میٹا کی زیر ملکیت کمپنی ویڈیو اور تصاویر شیئرنگ ایپ انسٹا گرام نے نئے فیچر پر کام شروع کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انسٹا گرام اپنی اسٹوریز کو ایپ میں عمودی اسکرولنگ کے لیے از سر نو ڈیزائن کر رہی ہے اس وقت انسٹا گرام اسٹوریز کو دیکھنے کے لیفٹ سوئپ کرنا پرتا ہے اور ایک اسٹوری سے دوسری پر جانے کے لیے بائیں طرف اور مختلف پوسٹ دیکھنے کے لیے دائیں طرف ٹیپ کرنا پڑتا ہے تاہم کمپنی اب ایک نئے فیچر کی آزمائش کرنے جا رہی ہے جس کی مدد سے صارفین اسٹوریز میں عمودی اسکرولنگ کر سکیں گے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    رپورٹ کے مطابق ترکی اور برازیل میں انسٹا گرام کے کچھ صارفین کو انسٹا گرام پر اسٹوریز کی عمودی اسکرولنگ کرنے والے فیچر کی اپ ڈیٹس مل چکی ہیں۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ انسٹا گرام کی جانب سے اس فیچر کو متعارف کرانے کا مقصد ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا مقابلہ کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے کیوںکہ اس میں پہلے سے ہی عمودی اسکرولنگ کا فیچر موجود ہے اس فیچر کی بدولت انسٹا گرام میں اسٹیٹک کانٹینٹ کی نسبت اسٹوریز میں ویڈیوز پر زیادہ فوکس ہوجائے گا۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ہی انسٹا گرام نے اسٹوریز میں ویڈیوز کا دورانیہ 15 سیکنڈ سے بڑھا کر 60 سیکنڈ کرنے کی آزمائش کی تھی۔ جس کی مدد سے صارفین ایک منٹ کی ویڈیو کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک ہی حصے میں اپ لوڈ کرنے کے اہل ہوسکیں گے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

  • کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    جنوبی کوریا کی سوشل میڈیا انفلوئنسر ’ریح کیم‘ اب موسیقیار بھی بنے گی-

    باغی ٹی وی : ریح کیم کو مشہورِ زمانہ کمپنی ’ایل جی الیکٹرونکس‘ نے جنوبی کوریا کے ایک مقامی سافٹ ویئر ہاؤس سے تخلیق کروایا ہے اور یہ پچھلے ایک سال سے انسٹاگرام کے ذریعے اس کمپنی کی مختلف مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کر رہی ہے۔

    اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    انسٹاگرام پر اس خوبصورت سوشل میڈیا اسٹار کے 15,000سے زیادہ فالوورز ہیں لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں بلکہ اسے کمپیوٹر پر تخلیق کیا گیا ہےاسی بناء پر یہ ’ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز‘ میں شمار ہوتی ہے۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    گزشتہ برس امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقدہ عالمی نمائش ’سی ای ایس 2021‘ کے موقع پر ریح کیم نے ایک خصوصی خطاب بھی کیا تھا جسے سننےوالوں بہت پسند بھی کیا تھاحال ہی میں ایل جی الیکٹرونکس نے سیول کی ایک تفریحی کمپنی ’مسٹک اسٹوری‘ سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ریح کیم کو نئی دھنیں تخلیق کرنے کے قابل بھی بنایا جائے گا۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک میں ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا رجحان بڑھتا جارہا ہے کیونکہ مشہور شخصیات کی خدمات حاصل کرنے کے مقابلے میں یہ بہت کم خرچ رہتے ہیں یہ کمپنی کی کسی بھی تشہیری مہم میں اعتراض کیے بغیر کام کرلیتے ہیںامریکی مارکیٹ ریسرچ کمپنی’انسائیڈر انٹیلی جنس‘ کے مطابق 2019 میں ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی عالمی مارکیٹ کا حجم 8 ارب ڈالر تھا جو 2021 کے اختتام تک بڑھ کر 15 ارب ڈالر تک پہنچ گیا 2020 میں عالمی وبا سے ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور امید ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی یہ رجحان برقرار رہے گا۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

  • 4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک عالمی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ تقریباً 4,500 سال پہلے تیسری صدی قبل مسیح کے اواخر میں میسوپوٹیمیا موجودہ جنوبی عراق اور شمالی شام میں جنگی مقاصد کےلیے پالتو گدھوں اور جنگلی خچروں کے ملاپ سے پیدا کئے گئے جانور استعمال ہوتے تھے جنہیں ’جنگی گدھے‘ کہا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ، کے تازہ شمارے کے مطابق شاید یہ اوّلین مخلوط نسل کے جانور تھے جنہیں انسان نے تیار کیا تھا ان کے بھی 500 سال بعد جنگوں میں گھوڑوں کا استعمال شروع ہوا تھا۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    میسوپوٹیمیا سے ملنے والی قدیم تختیوں پر بنی علامتی تصاویر، جانوروں کے ڈھانچوں اور دوسری دستاویزات پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ انہیں ’کُنگا‘ (Kunga) کہا جاتا تھا اور یہ جنگ میں رتھوں کو کھینچنے میں استعمال کیے جاتے تھے آثارِ قدیمہ کے دوسرے شواہد سے یہ بھی پتا چلا کہ ’کُنگا‘ بہت طاقتور تھے اور تیزی سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    البتہ، جب ماہرین نے ’کنگا‘ کی ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو پریشان ہوگئے کیونکہ یہ جانور جسامت میں قدیم گدھوں اور جنگلی خچروں سے بڑے تھے لیکن گھوڑوں سے چھوٹے تھے اگر یہ گھوڑا، گدھا یا جنگلی خچر نہیں تھا تو پھر ’کُنگا‘ آخر کونسا جانور تھا؟یہ الجھن پچھلے کئی سال سے یونہی چلی آرہی تھی جسےامریکا، فرانس، جرمنی اور چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین ایک ٹیم نے جینیاتی تجزیئے سے حل کرلیا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    تحقیق کی غرض سے انہوں نے آخری شامی خچر کےٹشوز جین کے نمونے حاصل کیے صرف 3 فٹ اونچائی والا یہ خچر آسٹریا کے ایک چڑیا گھر میں رکھاتھا اور 1927 میں یہ مرچکا تھا لیکن اس کا مُردہ جسم پوری احتیاط سے محفوظ کرکے آسٹریا ہی میں رکھ لیا گیا تھا۔

    میسوپوٹیمیا کی قدیم دستاویزات میں ’کُنگا‘ کو بہت قیمتی اور ’انعام میں دیا جانے والا‘ جانور بھی قرار دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش بہت مشکل کام ہوا کرتی تھی اس کےلیے نر جنگلی خچر پکڑے جاتے تھے جن کا ملاپ گدھی سے کروا کر ’کُنگا‘ پیدا کیے جاتے

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اس کے علاوہ انہوں نے جنوب مشرقی ترکی میں گوئبیکلی تیپ نامی علاقے سے ملنے والے، گیارہ ہزار سال قدیم جنگلی خچر کا جین بھی علیحدہ کیا جو خاصی مکمل حالت میں تھا دونوں جانوروں کے جینوم کا موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جنگلی خچروں کا ارتقاء بہت تیزی سے ہوا اور اس کا جسم چھوٹا ہوتا چلا گیا تاہم جب میسوپوٹیمیا کے ’کُنگا‘ سے ان کا موازنہ کیا گیا تو واضح طور پر معلوم ہوا کہ ’کُنگا‘ اِن دونوں کے ساتھ ساتھ گدھے سے بھی مشابہت رکھتے تھے۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    اس تجزیئے کی روشنی میں ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’کُنگا‘ دراصل جنگلی خچروں اور میسوپوٹیمیا کے مقامی گدھوں کے ملاپ سے تیار کیے جاتے تھے وہ جسامت میں عام گدھوں اور جنگلی خچروں سے بڑے ہونے کے علاوہ طاقتور اور تیز رفتار بھی تھے لیکن مخلوط (ہائبرڈ) ہونے کی وجہ سے وہ اپنی نسل آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    میسوپوٹیمیا سے ملنے والے ’کُنگا‘ کے ڈھانچوں میں دانتوں اور ہڈیوں پر کچھ مخصوص نشانات ظاہر کرتے ہیں ان کے پورے جسموں پر زرہ بکتر جیسے خول چڑھائے جاتے تھے جبکہ طاقت اور تیز رفتاری کی غرض سے انہیں مخصوص غذائیں کھلائی جاتی تھیں ان تمام خصوصیات کی بناء پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے انہیں ’جنگی گدھے‘ کا نام دے دیا ہے-

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

  • اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    سائنس فکشن جیسی اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی،اس کار کو دیکھ کر آپ کچھ بھی کہیں لیکن یہ بیٹ مین کی گاڑی لگتی ہے اور اپنے جدید ترین ڈیزائن کی بنیاد پر رن وے کے بغیر سیدھا اوپر اٹھنے والے کار ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق برطانوی کمپنی بیل ویدر نےاسے بنایا ہےاوراس کی نصف جسامت (ہاف اسکیل) ماڈل نے ٹیسٹ فلائٹ میں متوقع نتائج دکھائے ہیں جس کی ویڈیو دیکھ کرآپ خود حیرت میں ڈوب جائیں گے۔ اسے وولر ای وی ٹی او ایل کا نام دیا گیا ہے ماہرین اسے ہائپرکار قرار دے رہے ہیں۔

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    ماحول دوست، برق رفتار اور بے آواز وولر کارمکمل طور پر برقی توانائی سے چلتی اور پرواز کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا اولین نمونہ نومبر 2021 میں تیارہوچکا تھا۔ بس کمپنی بہترموقع کی تلاش میں تھی اور اب اسے دبئی میں اڑا کر اس کی پہلی ویڈیو جاری کی گئی ہے-

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    آٹوموبائل تجزیہ کار ماہرین نے اس کی ڈیزائننگ، افادیت اور کارکردگی کو متاثرکن اور امید افزا قرار دیا ہے ویڈیو میں اسے اوپراٹھتے دیکھا جاسکتا ہے لیکن یہ ہوا میں سیدھی رہنے کی بجائے ادھر ادھر ڈولتی دکھائی دیتی ہے اس خامی کو شاید اگلے مراحل میں دور کیا جائے گا۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    تکنیکی طور پر وولر ملٹی کاپٹر سواری ہے جس کے پنکھے اس کے ڈیزائن کے اندر چھپائے گئے ہیں۔ لیکن اس میں اضافی پروپلشن کا معلوم نہیں ہوسکا ہے تاہم ڈیزائن سے دو دونشستی اڑن کار ہے۔ لیکن کمپنی کے مطاق اگلے ڈیزائن میں چار سے پانچ افراد بیٹھ سکیں گے۔ ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد یہ ڈیڑھ گھنٹے تک پرواز کرسکے گی نظری طور پر یہ 135 (215 کلومیٹر) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لگ بھگ 3000 فٹ کی بلندی پر جاسکتی ہے۔

    کمپنی نے اس کی کوئی قیمت تو نہیں بتائی تاہم تجارتی تیاری 2028 میں شروع ہوجائے گی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

  • چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    چین کے خلائی مشن چینگ نے چاند کی سطح پر پانی کے شواہد کو دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ان مالیکیولز کی زیادہ تر تعداد سولر ونڈ امپلانٹیشن کے دوران جمع ہوئی چینی خلائی مشن نے چاند پر پانی کے مالیکیولز یا ہائیڈروآکسل کو دریافت کیا ہے جو ایچ 2 او جیسا کیمیکل ہےماہرین نے تجزیہ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی فی ملین 120 حصوں سے کم ہے، جس کے مطابق چاند کی سطح زمین کے مقابلے میں بہت زیادہ خشک ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    دہائیوں تک سائنسدانوں کا ماننا تھا کہ چاند مکمل طور پر خشک ہے، اس وجہ سے سورج کی سخت ریڈی ایشن کے باعث پانی کے مالیکیولز کو کسی قسم کا تحفظ نہیں ملتا-

    ناسا نے اپنی تحقیق میں کہا تھا کہ چاند کی سطح پر دریافت کیے جانے والےپانی کی مقدار کا موازنہ صحرائےاعظم صحارا سے کیا جائے تو اس صحرا میں سو گنا زیادہ مقدار میں پانی موجود ہے تاہم کم مقدار کے باوجود اس دریافت سے یہ سوال پیدا ہوتا کہ چاند کی مشکل اور ہوا سے محروم سطح پر پانی کیسے بنا اور برقرار رہا۔

    1969 میں جب پہلی بار خلا باز چاند پر پہنچے تھے تو یہ مانا جاتا تھا کہ وہ مکمل طور پر خشک ہے مگر گزشتہ 20 برسوں کے دوران مختلف مشنز میں چاند کے قطبی علاقوں میں تاریکی میں چھپے گڑھوں میں برف کی تصدیق ہوئی تھی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ چین کی خلائی گاڑی ’یُوٹو 2‘ نے چاند پر ایک پراسرار چیز دور سے دیکھی تھی جو کسی چوکور جھونپڑی کی طرح نظر آتی تھی اب اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہےعالمی میڈیا کےمطابق چینی خلائی ایجنسی کےسائنسدانوں نے اس پراسرار چیز کو مذاقاً ’پراسرار جھونپڑی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیومالائی کہانیوں کا ’جیڈ خرگوش‘ اسی جھونپڑی میں رہتا ہے۔

    اگرچہ یہ سب صرف مذاق تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے اتنی سنجیدگی سے لیا کہ وہ ’چاند پر خلائی مخلوق کا ٹھکانہ دریافت‘ جیسے دعوے بھی کرنے لگےاس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیقت جاننے کےلیے ’یوٹو 2‘ روور کو آہستہ آہستہ اس کی سمت بڑھایا گیا جو روور سے اندازاً 262 فٹ دور تھی۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    چاند گاڑی نے ہر روز صرف چند فٹ فاصلہ طے کیا کیونکہ یہ سفر بہت احتیاط طلب تھا بالآخر تقریباً ایک مہینے بعد یہ ’پراسرار جھونپڑی‘ کے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اب ’یوٹو 2‘ چاند گاڑی نے اس ’پراسرار جھونپڑی‘ کی مزید تصاویر جاری کی ہیں جو خاصی قریب سےکھینچی گئی ہیں ان سے معلوم ہواہے کہ یہ صرف ایک معمولی پتھر ہے جو نہ جانے کب سے وہاں پڑا ہوا ہے اور تو اور، قریب سے دیکھنے پر یہ پتھر کسی بھی زاویئے سے جھونپڑی جیسا دکھائی نہیں دیتا۔

  • صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    کیلیفورنیا: واٹس ایپ نے نئے آفیچر پر کام کا آغاز کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مزکوری فیچر کے تحت صارفین کو طویل پیغامات سننے کے لیے ایپ کھلی رکھنے یا اس کا انٹرفیس سامنے رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور یوں بیک گراؤنڈ میں بھی آڈیو پیغامات چلتے رہیں گے۔

    واٹس ایپ کے اندرونی حلقوں کے مطابق لوگوں کی اکثریت نے اس آپشن پر زور دیا تھا اس سے قبل واٹس ایپ نے وائس میسج کی رفتار کنٹرول کرنے اور انہیں بھیجنے سے قبل خود سننے کا آپشن بھی پیش کیا تھا جو بہت مقبول ہوا ہے-

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    اب عوامی اصرار پر بہت جلد واٹس ایپ پیغامات کو پس منظر میں سننا ممکن ہوسکے گا اس طرح آپ کا وقت بچے گا کیونکہ پیغامات چلتے رہیں گے اور آپ دیگر دوستوں کے پیغامات اور تصاویر کو دیکھ سکیں گے۔ اس طرح واٹس ایپ کے ایک آپشن سے جڑے رہنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔


    واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے ‘گلوبل وائس میسج پلیئر’ کا فیچر متعارف کروادیا ہے جسے ابتدائی طور پر آئی فون کے بیٹا ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کروایا گیا ہے یہ فیچر جلد ہی اینڈرائیڈ کے صارفین کے لیے بھی متعارف کروادیا جائے گا۔

    گلوبل وائس میسج پلیئر :کثر صارفین لمبے وائس میسج سے اکتا جاتے ہیں اور چیٹ بھی نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ چیٹ چھوڑنے کی صورت میں وائس میسج کی آواز بند ہوجاتی ہے گلوبل وائس میسج پلیئر کے تحت آپ وائس میسج سنتے ہوئے مذکورہ چیٹ چھوڑ کر دوسری چیٹ پر جاسکیں گے اور اس صارف کو باآسانی جواب دے سکیں گے، ساتھ ہی آڈیو نوٹ بھی پس منظر میں چلتا رہے گا اسے گلوبل نام بھی اسی لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ آپ کی اسکرین کے بالکل اوپر دکھائی دے گا، آپ جب چاہیں اسے سنتے ہوئے روک سکتے ہیں یا اسکرین سے ہٹا بھی سکتے ہیں۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی