Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    ورجینیا: دفاعی تحقیق کے امریکی ادارے ’ڈارپا‘ کی نگرانی میں سمندری گہرائی میں خودکار انداز سے سفر کرنے والے جاسوس ڈرونز آبدوز کا 2020 میں شروع ہونے والا منصوبہ ’مینٹا رے ڈرون پروگرام‘ اپنے دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈارپا کے مطابق یہ کوشش جدید ٹیکنالوجیز کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کے تحت پے لوڈ کے قابل خود مختار بغیر پائلٹ کے زیر آب گاڑیاں (UUVs) سمندر کے ماحول میں طویل مدتی، طویل فاصلے کے مشنوں پر کام کریں گی اس زیرِ آب ڈرون کے بڑے اور پھیلے ہوئے پر ہوں گے جن کی وجہ سے یہ ’مینٹا رے‘ مچھلی کی طرح دکھائی دے گا۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    ’مینٹا رے انڈر واٹر ڈرونز‘ کی جسامت بہت بڑی ہوگی لیکن اب تک ان کی حتمی جسامت کا تعین نہیں کیا گیا ہے نئے مرحلے کےلیے دو امریکی دفاعی اداروں، نارتھروپ گرومین اور مارٹن ڈیفنس گروپ کو منتخب کیا گیا ہے جو اپنے اپنے طور پر اصل جسامت والے مینٹا رے ڈرونز تیار کریں گےان میں سے جو ڈیزائن بھی امریکی محکمہ دفاع (پنٹاگون) کو زیادہ مناسب لگے گا، اسی کو آخری اور پیداواری مرحلے کےلیے منتخب کیا جائے گا۔

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    ’ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹ ایجنسی‘ (ڈارپا) کے مطابق، ایسے کسی بھی ڈرون کو سمندر میں لمبے فاصلے تک پہنچنے کے علاوہ نمکین سمندری پانی کے اندر طویل مدت تک محفوظ اور کارآمد حالت میں رہنے کے قابل بھی ہونا چاہیے علاوہ ازیں، ڈارپا کا یہ تقاضا بھی ہے کہ اس ڈرون کو مرمت اور دیکھ بھال کےلیے انسانی مداخلت کی بھی کم سے کم ضرورت پڑے جبکہ اس کی بیٹریاں بھی طاقتور ہوں جو سمندری پانی کے بہاؤ سے خود کو دوبارہ چارج بھی کرسکیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    ان تمام خصوصیات کے ساتھ ساتھ ’مینٹا رے‘ ڈرونز کا حساس آلات سے لیس ہونا بھی لازمی ہے تاکہ وہ سمندر کی گہرائی میں رہتے ہوئے دور دراز مقامات پر نظر رکھ سکیں اور امریکی افواج کو دشمن آبدوزوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے بروقت آگاہ کرتے رہیں اس منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی امریکی فوج کو خلا، فضا اور زمین کے علاوہ سمندر کی گہرائی میں بھی جاسوسی کی صلاحیت حاصل ہوجائے گی۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

  • ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    واشنگٹن: سائنسدانوں نے سمندر کے اوپر منڈلانے والے ایک بالکل نئے قسم کے طوفان کو ’فضائی جھیل‘ کا نام دیا ہے اسے مغربی بحرِہند سے افریقی سمندروں تک جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ طوفان ہوائی بگولوں کی وجہ سے بنتا ہے جس کی رفتار بہت مدھم ہوتی ہے اور پانی کے وسیع ذخائر پر مشتمل یہ نظام بارش برسانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اس کی تفصیلات امریکن جیوفزیکل یونین کی موسمِ خزاں کی حالیہ کانفرنس میں بیان کی گئی ہیں۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    رپورٹ کے مطابق سمندری ماحول کے عین اوپر اس سے قبل تنگ اور طویل فضائی کیفیات نوٹ کی گئیں جن میں پانی کی وسیع مقدار بھری ہوتی ہے جنہیں سائنسدانوں نے فضائی دریا کا نام دیا تھا عین نمی سے بھرپور یہ گول دائرے ہوتے ہیں جنہیں فضائی جھیل یا ایٹماسفیئرک لیک کہا گیا ہے فضائی جھیل پورے فضائی موسم سے الگ تھلگ کٹ کر رہتی ہے-

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    تحقیق کے مطابق نمی سے بھرے چھوٹے چھوٹے نظاموں کو افریقی ساحلوں تک جاتے ہوئےدیکھا گیا ہےجہاں یہ نیم بنجر علاقوں اور ساحلوں پربارش برسارہے ہیں ماہرین نے مسلسل 5 سال تک فضائی جھیلوں پر غور کیا ہے جو سست روی سے آگے بڑھتے ہیں اور طویل ترین طوفانی جھیل 27 روز تک برقرار رہی تھی۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    5 سال میں مجموعی طور پر 17 جھیلوں کو دریافت کیا گیا ہے جو خطِ استوا کے اردگرد 10 ڈگری پر دکھائی دی ہیں۔ خیال ہے کہ دیگر علاقوں میں یہ فضائی کیفیات پیدا ہوسکتی ہیں جہاں وہ بڑے سائیکلون کی شکل اختیار کرلیتی ہیں سائنسدانوں نے فضائی جھیلوں کی تشکیل اور دیگر موسمیاتی کیفیات سے الگ ہونے کے سوالات پر بہت غور کیا ہے پہلا مفروضہ تو یہ ہے کہ شاید اندر کی جانب تیز ہوا سے یہ سب کچھ بنتا ہے اور دوم مجموعی فضائی اور موسمیاتی کیفیات اسے جنم دے رہی ہے۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    سائنسدانوں کے مطابق کلائمٹ چینج کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور وہ اندرونی قوت کے تحت ایک جگہ سے دوسرے ملک جاتے رہتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے مشرقی افریقا کے ساحلی علاقوں میں بارشیں ہونے لگی ہیں لیکن بارشوں کی یہ مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ ایک مصنوعی جھیل پورے سال ایک کلومیٹر وسیع سوئمنگ پول کو چند سینٹی میٹر تک ہی بھر سکتی ہے۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

  • لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    سائنسدانوں نے لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی برین کمپیوٹر انٹرفیس کمپنی سنکرون نے دماغی عارضے میں مبتلا شخص کے خیالات کو براہ راست ٹویٹس میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس میں انہوں نے ۔۔ ہیلو دنیا ۔۔ کی ٹوئٹ کی، اس کے لیے 62 سالہ شہری کے دماغ میں ایک خاص چپ ڈالی گئی۔

    یہ بی سی آئی ٹیکنالوجی کا علامتی طور پر ایک اہم لمحہ ہے جو فالج کے شکار لوگوں کے لیے دنیا کے ساتھ رابطے میں رہنے کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

    ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    دوسری جانب دنیا بھر میں مقبول ایپ ٹک ٹاک اب صارفین کو اپنی سائٹ پر کھانے بھی ڈیلیور کرے گی ٹک ٹاک اب صرف کھانوں کی عالمی شہرت یافتہ ایپ ورچوئل ڈائننگ کانسیپٹس اور گرب ہب کے ساتھ اشتراک کر رہی ہے جس کے بعد سائٹ پر مقبول کھانوں کی ڈیلیوری کی جائے گی۔

    ٹک ٹاک کچن کا مینیو ایپ کی مقبول ڈشز پر مبنی ہوگا اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ مینیو میں فیٹا پاستا بھی شامل ہے جس کو گوگل نے 2021 کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی ڈش قرار دیا تھا ابتدائی طور پر مینیو میں پاستا، چپس، سمیش برگرز اور کارن ربز شامل ہوں گے-

    مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کچن کو 300 مقامات پر لانچ کیا جائے گا جو مارچ میں ڈشز کی ڈیلیوری کا آغاز کرے گے جبکہ آئندہ سال کے اختتام تک ٹک ٹاک کچن کے ایک ہزار سے زائد ریسٹورنٹس کھولنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے مینیو میں ہر تین ماہ بعد تبدیلی کی جائے گی منافع میں سے کچھ رقم ان افراد کو بھی دی جائے گی جن کے کھانوں کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر مقبول ہوئی ہوں لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ منافع کس شرح سے دیا جائے گا۔]

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

  • ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    امریکی سائنسدانوں نے نیواڈا کے پہاڑوں میں ایک ایسے دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ” سائنس ” کے تازہ شمارے میں شائع کردہ ریسرچ کے مطابق اس کے رکازات تقریباً 24 کروڑ سال قدیم ہیں اس کی کھوپڑی چھ فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ سمندری جانور کم از کم 56 فٹ لمبا رہا ہوگا۔

    تحقیق کے مطابق اس قدیم و معدوم جانور کا تعلق سمندری جانوروں کے’اکتھیوسار‘(Ichthyosaur) قبیلے سے ہے جسے ’سمندری ڈائنوسار‘ بھی کہا جاتا ہےتاہم اب تک اکتھیوسارز کے رکازات بہت کم ملے ہیں جو اگرچہ 25 کروڑ سال پرانے ہیں لیکن جسامت میں خاصے کم ہیں۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    نو دریافتہ اکتھیوسار، جسے ’سمبوشپونڈائلس ینگورم‘ (Cymbospondylus youngorum) کا نام دیا گیا ہے، ان سب سے جسامت میں بڑا ہونے کے علاوہ ڈائنوساروں سے زیادہ قدیم بھی ہے دیوقامت ڈائنوسار کے سب سے پرانے رکاز 21 کروڑ 50 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن یہ اکتھیوسار ان کے مقابلے میں بھی ڈھائی کروڑ سال قدیم ہے۔

    ’ینگورم‘ کے رکازات 2011 میں دریافت ہوئے تھے جو خاصی حد تک مکمل کھوپڑی کے علاوہ کندھوں اور ریڑھ کی ادھوری ہڈیوں پر مشتمل تھےانہیں نیواڈا کے آگسٹا پہاڑ میں رکازات کے حوالے سے خصوصی شہرت رکھنے والی ایک وسیع چٹان کی کھدائی میں برآمد کیا گیا تھا۔

    طویل عرصے کی محتاط چھان بین اور تجزیئے کے بعد، آخرکار ماہرین یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ ’ینگورم‘ کا ارتقاء خشکی پر چلنے والے کسی جانور سے ہوا تھا لیکن یہ ڈائنوسار سے بہت مختلف تھا یہ 24 کروڑ 70 لاکھ سال سے 23 کروڑ 70 لاکھ سال تک قدیم ہے جس کی لمبائی تقریباً 56 فٹ رہی ہوگی اب تک اتنی بڑی جسامت والا اتنا قدیم جانور کوئی اور دریافت نہیں ہوا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    اس کا تعلق جس زمانے سے ہے، اس دور میں ڈائنوسار بھی بہت چھوٹے چھوٹے ہوا کرتے تھے جنہوں نے بہت بعد میں جا کر زیادہ جسامت حاصل کی اس کی لمبی تھوتھنی جیسی کھوپڑی اور اس میں باریک دانتوں کی باقیات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ سمندر میں تیرتے دوران چھوٹے آبی جانوروں کا شکار کیا کرتا تھا۔

    البتہ، اس کی کھوپڑی پر ناک کے نتھنوں والے نشانات بھی بہت واضح ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مچھلی جیسا حقیقی آبی جانور نہیں تھا بلکہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد سطح سمندر پر آکر ہوا میں سانس لیا کرتا تھا اور واپس غوطہ لگا کر گہرائی میں چلا جاتا تھا ’ینگورم‘ کی جسامت موجودہ زمانے کی دیوقامت ’اسپرم وہیل‘ جتنی رہی ہوگی۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

  • مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مواد کی خلاف ورزی کرنے پر روس نے گوگل کو 98 ملین ڈالر جرمانہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق روسی عدالت نے ملک کے ضوابط کی خلاف ورزی پر گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے،روسی عدالت نے مواد کو حذف کرنے میں بار بار ناکامی پر جرمانہ کیا۔

    روسی حکام کی جانب سے اس سال ٹیکنالوجی فرموں پر دباؤ بڑھایا ہے، ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ مواد کو درست طریقے سے استعمال نہیں کرتے ، اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    گوگل کے فیصلے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسی طرح کے مواد سے متعلق جرائم کے لیے فیس بک کی بنیادی کمپنی میٹا کو 2 بلین روبل جرمانہ کیا گیا۔

    مواد کے قوانین پر روسی حکام کے ساتھ گوگل کا یہ پہلا مسئلہ نہیں ہے، مئی میں روس کے میڈیا واچ ڈاگ نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ غیر قانونی مواد کے 26 ہزار واقعات کو حذف کرنے میں ناکام رہا تو گوگل کی رفتار کم کر دے گا، جن کا تعلق منشیات، تشدد اور انتہا پسندی سے ہے۔

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    جبکہ گوگل کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے مواد کی وضاحت نہیں کی گئی تھی، عدالتی دستاویزات کو دیکھ کر آئندہ اقدامات کا فیصلہ کریں گے تاہم ناقدین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور آن لائن اختلاف کو روکنے کے لیے مہم کا استعمال کر رہا ہے۔

    اس سے قبل اٹلی نے ایمیزون اور ایپل پرغیرمسابقتی رویہ اپنانے کے الزام میں 225 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا اٹلی کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی واچ ڈاگ نے امریکی ٹیک کمپنیوں ایپل اورایمیزون کو ایپل اور بیٹس کی مصنوعات کی فروخت میں مسابقتی مخالف تعاون کے الزام میں مجموعی طور پر 200 ملین یورو($ 225 ملین) سے زیادہ کا جرمانہ کیا تھا-

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

  • انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    ماہرین نے چین میں ڈائنوسار کا ایسا فوسل دریافت کیا ہے جس میں ڈائنوسار انڈے سے نکلنے کےلیے تیارتھا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق، سائنسدانوں نے چین کے شہر گینژو میں ڈائنوسار کا ایسا ایمبریو دریافت کیا ہے جس میں سے ڈائنوسار مرغی کے چوزے کی طرح انڈے سے نکلنے کو تیار تھا۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والا یہ ایمبریو اندازاً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قدیم ہے اندازہ ہے کہ یہ بغیر دانتوں والا ایک ’تھیروپوڈ یا اوویریپٹرسار‘ ہے جبکہ اس کا نام ’بے بی ینگلیانگ‘ رکھا گیا ہے ینگلیانگ سر سے دُم تک 10.6 انچ لمبا ہے اور یہ 6.7 انچ لمبے انڈے کے اندر موجود ہے۔ نودریافتہ فوسل کو چین کے ’ینگلیانگ اسٹون نیچرل ہسٹری میوزیم‘ میں رکھا گیا ہے۔

    ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    اوویریپٹرسارز یعنی ’انڈہ چور چھپکلیاں‘ درحقیقت پروں والے ڈائنوسار تھے جو کریٹیشیئس دور کے اواخر، یعنی 10 کروڑ سال قبل سے چھ کروڑ 60 لاکھ سال کے درمیان، موجودہ ایشیا اور برِاعظم شمالی امریکا میں پائے جاتے تھے۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اس دریافت نے ارتقائی ماہرین کو ڈائنوسار اور آج کے پرندوں میں تعلق کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی ہیں فوسل کی صورت میں موجود ایمبریو خم دار صورت میں ہے جسے ’ٹکنگ‘ کہا جاتا ہے پرند وں میں ایسا انڈے سے نکلنے سے عین پہلے دیکھا جاتا ہے۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    اس سے قبل اٹلی میں ایک ہی مقام سے لگ بھگ 11 ڈائنوسار کےفوسلز ملے تھے ٹرائسٹے شہر کےقریب پہاڑی سلسلے سے ڈائنوسار کے فاسل ملے ہیں جن میں ایک ڈھانچہ بڑے ڈائنوسار کا بھی ہے اس ڈائنوسار کو ’برونو‘ کا نام دیا گیا ہے جو ملک سے ملنے والے ڈائنوسار کا سب سے مکمل ترین ڈھانچہ بھی ہے۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    اگرچہ 1990 کے عشرے سے اٹلی میں ڈائنوسار کی باقیات ملتی رہی ہیں لیکن یہ بہت سے ڈائنوسار کا ایک ریوڑ ہے جو دریافت ہوا ہے ٹرائسٹے شہر کے قریب چونے کے پتھر پر مشتمل پہاڑی سلسلے سے یہ اہم دریافت ہوئی ہے ان میں سے ایک کا نام ٹیتھی شیڈروس انسیولیرس بھی ہےجو آٹھ کروڑ سال پہلے یہاں موجود تھا اور پانچ میٹر لمبا بھی تھا۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

  • ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    لندن: ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے ہیں اور صرف چند دہائیوں میں ان کے رقبے میں 8,400 مربع کلومیٹر کی کمی ہوچکی ہے-

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف لیڈز برطانیہ کے سائنسدانوں کے تجزیئے سے پتا چلا کہ تقریباً 400 سال پہلے تک ہمالیائی گلیشیئرز کا مجموعی رقبہ 28,000 مربع کلومیٹر تھا جو پچھلی دو صدیوں میں بتدریج 40 فیصد تک کم ہو کر 19,600 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

    آن لائن ریسرچ جرنل ’سائنٹفک رپورٹس‘ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ ایک تحقیق میں ڈاکٹر جوناتھن کیری وِک اور ان کے ساتھیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ہمالیائی برفانی تودے (گلیشیئرز) اسی تیزی سے پگھلتے رہے تو شاید یہ ہمارے اندازوں سے بہت پہلے ختم ہوجائیں گے اور جنوبی ایشیا کے کروڑوں افراد کو بدترین آبی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے 14,798 ہمالیائی گلیشیئروں کے بارے میں مختلف ذرائع سے تصاویر اور دیگر تفصیلی معلومات جمع کیں، جو اُن کی تاریخ و جغرافیہ کا احاطہ کرتی ہیں۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

    ہمالیائی برفانی تودے پگھلنے کی رفتار پچھلے سو سال میں زیادہ ہوئی جبکہ گزشتہ چند دہائیوں میں یہ پگھلاؤ تشویشناک حد تک تیز رفتار ہوچکا ہے جس کی واحد ممکنہ وجہ انسان کی صنعتی سرگرمیاں اور ان کے باعث آلودگی میں غیرمعمولی اضافے ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ہمالیائی گلیشیئروں کی جسامت مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر جوناتھن اور ان کے ساتھیوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پچھلے تیس چالیس سال میں ان گلیشیئروں کی 390 مکعب کلومیٹر سے 586 مکعب کلومیٹر تک برف کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے سطح سمندر بھی تقریباً ایک ملی میٹر اونچی ہوگئی ہے۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    واضح رہے کہ جنوبی ایشیاء کی شمالی پٹی پر پھیلے ہوئے وسیع گلیشیئروں میں اتنی زیادہ برف ہے کہ انہیں مجموعی طور پر ’’تھرڈ پول‘‘ (تیسرا قطب) بھی کہا جاتا ہے۔دریائے سندھ، گنگا اور براہماپترا سمیت، جنوبی ایشیاء کے بیشتر بڑے دریاؤں میں پانی کا انحصار ان ہی گلیشیئروں کے موسمی پگھلاؤ پر ہے،اگر یہ گلیشیئر ختم ہوگئے تو برصغیر میں بدترین آبی بحران کے علاوہ اتنی بھیانک تباہی آسکتی ہے جس کا تصور بھی شاید آج ہمارے لیے ناممکن ہے۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

  • ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    ٹک ٹاک ایپ کانیا فیچر:کھانے بھی کھائیں اور منافع بھی کمائیں

    واشنگٹن: دنیا بھر میں مقبول ایپ ٹک ٹاک اب صارفین کو اپنی سائٹ پر کھانے بھی ڈیلیور کرے گی۔

    باغی ٹی وی :عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا کی مشہور سائٹ ٹک ٹاک اب صرف کھانوں کی عالمی شہرت یافتہ ایپ ورچوئل ڈائننگ کانسیپٹس اور گرب ہب کے ساتھ اشتراک کر رہی ہے جس کے بعد سائٹ پر مقبول کھانوں کی ڈیلیوری کی جائے گی۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    عرب نیوز نےبلوم برگ کے حوالے سے بتایا کہ ٹک ٹاک کچن کا مینیو ایپ کی مقبول ڈشز پر مبنی ہوگا اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ مینیو میں فیٹا پاستا بھی شامل ہے جس کو گوگل نے 2021 کی سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی ڈش قرار دیا تھا ابتدائی طور پر مینیو میں پاستا، چپس، سمیش برگرز اور کارن ربز شامل ہوں گے۔

    رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کچن کو 300 مقامات پر لانچ کیا جائے گا جو مارچ میں ڈشز کی ڈیلیوری کا آغاز کرے گے جبکہ آئندہ سال کے اختتام تک ٹک ٹاک کچن کے ایک ہزار سے زائد ریسٹورنٹس کھولنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ…

    ورچوئل ڈائننگ کانسیپٹس کے شریک بانی نے بلوم برگ کو اس حوالے سے بتایا ہے کہ مینیو میں ہر تین ماہ بعد تبدیلی کی جائے گی۔

    ٹک ٹاک نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ منافع میں سے کچھ رقم ان افراد کو بھی دی جائے گی جن کے کھانوں کی ویڈیوز ٹک ٹاک پر مقبول ہوئی ہوں لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ منافع کس شرح سے دیا جائے گا۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

  • بھارت کا اگنی پرائم  کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    بھارت کا اگنی پرائم کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    نئی دہلی: جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :کچھ روز قبل بھارتی میڈیا نے بتایا تھا کہ اگلے چند دنوں میں، ڈی آر ڈی او کی جانب سے جدید ترین میزائلوں کی کئی اور بیلسٹک اور کروز سیریز کا تجربہ کرنے کی توقع ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) نے بدھ کو ملک میں بنائے گئے سطح سے سطح پر مار کرنے والے ‘پرالے ‘ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے-


    رپورٹ کے مطابق پرالے کو اڈیشہ کے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جزیرے پر صبح 10:30 بجے کے قریب لانچ کیا گیا اور اس نے اپنے تمام اہداف کو پورا کیا تجربے کے دوران میزائل کے تمام سسٹمز نے کامیابی سے کام کیا اور بالکل درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنایا۔


    نئی ٹیکنالوجی سے لیس اس میزائل کو موبائل لانچر سے لانچ کیا جا سکتا ہے اور یہ 150 سے 500 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


    اے این آئی کے مطابق جدید میزائل کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ انٹرسیپٹر میزائلوں کو شکست دے سکے۔


    اس سے قبل رواں ماہ 18 دسمبر کو بھی بھارت نے اگنی پرائم میزائل کا تجربہ کیا تھا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ اڑیسہ میں کیاگیااگنی پرائم میزائل اگنی سیریزکا ایک نئی نسل کاجدید میزائل ہےاگنی پی میزائل1000کلومیڑسے لے کر2000کلومیٹرتک ہدف کونشانہ بنا سکتا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ بھارت کی جانب سے اگنی پرائم میزائل کا دوسرا تجربہ تھا اگنی پرائم میزائل کا وزن اگنی3 میزائل سے50فیصد کم ہے یہ میزائل سطح سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے۔جوہری صلاحیت کے حامل اس میزائل کو ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آرڈی او) نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔

    خیال رہے کہ جنگی جنون کا شکار بھارت ہتھیاروں کی مسلسل خریداری اورمیزائل تجربات کی وجہ سے خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ

  • پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    سائنسدانوں نے پرانے اور گہرے زخموں کی جانچ کے لئے ایک اسمارٹ پٹی بنائی ہے جو صرف پندرہ منٹ میں اس کا مکمل احوال پیش کرسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : بعض زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ پٹی لگنے کے باوجود بار بار ان کی خبرگیری کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ وہ ناسور بن سکتے ہیں۔ اب اس کے لیے سائنسدانوں نے ایک سمارٹ پٹی بنائی ہے جسے ” وی کئیر” کا نام دیا گیا ہے سنگاپورنیشنل یونیورسٹی نے اسمارٹ بینڈیج کو زخم کا سینسر بھی کہا ہے جسے ایک ایپ کے ذریعے حقیقی وقت مین اس کا ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ…

    اس پٹی کی بدولت نہ بھرنے والے زخموں اور ناسور کی بحالی کو نوٹ کیا جاسکتا ہے صرف 15 منٹ میں یہ زخم میں موجود بیکٹیریا اورجراثیم کی اقسام،درجہ حرارت، پی ایچ، اور اندر سوزش (انفلیمیشن) کے عناصر کو بھی نوٹ کرسکتی ہے۔ اس کی ساری تفصیلات ایپ تک حقیقی وقت میں پہنچتی رہتی ہے۔

    وی کیئرنامی یہ پٹی ڈاکٹروں کو فوری طور پر مفید معلومات دیتی ہے جس کی بنا پر وہ ناسور کے علاج کا درست فیصلہ کرسکتے ہیں زخم ٹھیک نہ ہونے سے خود مریض پریشان، تکلیف میں گرفتار اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے پھر ذیابیطس کے زخم سے خود ہاتھ یا پیر کاٹنے کی نوبت بھی آجاتی ہے-

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    جدید ترین بینڈیج میں نصب حساس سینسر زخم کے مائع کو اپنے اندر سموکر زخم کی تیزابیت اور درجہ حرارت کے علاوہ دیگر بایومارکرز بھی نوٹ کرتے ہیں یہ زخم کی جسامت نوٹ کرکے فوری طور پر ایپ کو آگاہ کرتا ہے۔ اس کے اندر موجود بیٹری کو بار بار ریچارج کیا جاسکتا ہے اس پٹی کی مدد سے مریض خود بھی اپنے ناسور کا جائزہ خود لے کر مزید تکالیف سے بچ سکتا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت