Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر ناسا کی جانب سے بھیجے جانےبوالے جونو خلائی جہازنے مشتری اور نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند جینی میڈ کی آواز ریکارڈ کی ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق جو نو کی جانب سے بھیجی جانے والی یہ آوازیں عجیب و غریب ہیں مشتری ہویا اس کے عجیب و غریب چاند ہوں، انہیں ہمارے نظامِ شمسی کے حیرت انگیز اجسام میں شمار کیا جاتا ہےیہی وجہ ہے کہ ناسا نے 5 اگست 2011 کو جونو خلائی مشین زمین سے روانہ کیا اور وہ مشتری کی قطبی مدار میں جولائی 2016 تک پہنچ گیا تھا۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    اگرچہ اسے بطورِ خاص مشتری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن اس سال 7 جون کو یہ جینی میڈ کے بہت قریب پہنچا اور چاند کی مقناطیسی، برقی اور فضائی (میگنیٹواسفیئر) خصوصیات نوٹ کیں تاہم ایک مقام پر اس کا حساس مائیک کھولا گیا اور اس نے جینی میڈ کی بہت عجیب و غریب آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 7 جون کو 50 سیکنڈ پر مشتمل پراسرار صوتی ڈیٹا اس وقت ملا کہ جب خلائی جہاز(جونو) سیارہ ‘مشتری’ کے سب سے بڑے چاند(گانیمید) کے قریب پرواز کررہا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خلائی جہاز مشتری کی کھوج کے لیے ناسا کی جانب سے بھیجا گیا 34 واں مشن ہے جس نے گانیمید کی سطح سے 645 میل (1038 کلومیٹر ) دوری پر 41 ہزار 600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے پراسرار آوازیں ریکارڈ کی ہیں یہ پُر اسرار آواز ‘بیپس’ گاڑی کے ہارن جیسی آواز لگیں۔

    اسی طرح ‘بلوپس’ آواز کسی برقی آلے سے خارج ہونے والی لو پچ ساؤنڈ کی طرح تھی یہ تمام آوازیں مختلف فریکوئنسی پر مشتمل ہیں۔ گانیمید ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا اور واحد چاند ہے جس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    خلائی جہاز جونو کے پرنسپل انویسٹیگیٹر اسکاٹ بولٹن کا کہنا ہے کہ اگر اس آواز کو دھیان سے سنا جائے تو ریکارڈنگ کے وسط میں آپ کو اچانک بلند فریکوئنسی سنائی دے گی جو کہ گانیمید کے مقناطیسی کرہ میں کسی مختلف ریجن کے داخل ہونے کو ظاہر کرتی ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ ریکارڈنگ سن کر آپ خود کو جونو کے ساتھ سفر کرتا محسوس کریں گے آواز میں اچانک بلند اور کم فریکوئنسی کی آوازیں خارج ہوتی ہے یہ تبدیلی مقناطیسی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے تبدیل ہوتی رہی ہے جو صاف سنی جاسکتی ہے-

    تاہم سائنسدانوں نے کہا ہے ہم نے یہ ڈیٹا محض تفریح کے لیے جاری کیا ہے کیونکہ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ دیگر سیاروں کے چاند اور خود نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند کی اندرونی آواز کیسی سنائی دیتی ہیں۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

  • بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

    پیرس: بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پتنگ کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اگر دیوہیکل بحری جہازوں پر بادبانی کشتیوں کی طرح ہوا میں معلق پتنگ لگائی جائے تو اس سے ایندھن میں بچت ہوسکتی ہے اس طرح بادی قوت کا کچھ حصہ جہاز کو دھکیل کر ایندھن پر انحصار کم کرسکتا ہے ایئرسیز نامی کمپنی نے ایئربس کارگو شپ پر اس کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    پیرافوائل پتنگ کا رقبہ 500 مربع میٹر ہے جو عرشے سے باندھی جائے گی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے سرگرم کرنے والا پورا سسٹم خودکار ہے۔ یعنی یہ بادبان خود کھلتا ہے آگے بڑھتا ہے اورہوا کے دوش پر سطح آب سے 200 میٹر کی بلندی تک جاپہنچتا ہے اس کی جانچ کا پورا نظام بھی خودکار ہے جسے چند روز میں بڑے سے بڑے بحری جہاز پر آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔

    پی آئی اے نے پائلٹس کی تربیت کیلئے پاکستان کا پہلا ائیربس 320 کا سیمولیٹر حاصل کرلیا

    محتاط اندازے کے مطابق اس سے ایندھن کی 20 فیصد بچت کے ساتھ ساتھ مضر گیسوں کا اخراج بھی کم ہوگا اگلے ماہ تین کروڑ امریکی ڈالر والے 150 فٹ بحری جہاز پر اکیسویں صدی کا بادبان لگایا جائے گا یہ جہاز ایئربس طیاروں کے بڑے حصے لے کر مختلف ممالک کے پلانٹس تک پہنچاتا ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ

    رپورٹ کے مطابق فرانسیسی کمپنی کی اس اختراع کو اگلے ماہ ازمایا جائے گا جس میں مختلف ڈیزائن کے چھوٹے بڑے بادبانوں کو مال بردار جہازوں پر نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔

    زوم پر چیک اپ کے بہانے خواتین کی نازیبا ویڈیو بنانے والا گائنا کالوجسٹ گرفتار

  • جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ

    نئی دہلی: جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے اگنی پرائم میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کےمطابق اگنی پرائم میزائل کا تجربہ اڑیسہ میں کیاگیااگنی پرائم میزائل اگنی سیریزکا ایک نئی نسل کاجدید میزائل ہےاگنی پی میزائل1000کلومیڑسے لے کر2000کلومیٹرتک ہدف کونشانہ بنا سکتا ہے۔

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ بھارت کی جانب سے اگنی پرائم میزائل کا دوسرا تجربہ ہے اگنی پرائم میزائل کا وزن اگنی3 میزائل سے50فیصد کم ہے یہ میزائل سطح سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے۔جوہری صلاحیت کے حامل اس میزائل کو ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آرڈی او) نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    اگنی پرائم کو یا تو ٹرین میں لے جایا جا سکتا ہے یا کنستر میں رکھا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں ہندوستان نے اوڈیشہ کے چندی پور سے براہموس سپرسونک کروز میزائل کے ہوائی ورژن کا کامیاب تجربہ کیا تھا اس سے قبل برہموس سپرسونک کروز میزائل کے اینٹی شپ ورژن کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔ میزائل کا تجربہ انڈمان اور نکوبار جزائر سے کیا گیا تھا۔

    مسافر طیارہ تباہ:تین نامورشخصیات کی ہلاکت نے چاہنے والوں کوغمگین کردیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس کے ساتھ ہی، اگلے چند دنوں میں، ڈی آر ڈی او کی جانب سے جدید ترین میزائلوں کی کئی اور بیلسٹک اور کروز سیریز کا تجربہ کرنے کی توقع ہے۔

    جنگی جنون کا شکار بھارت ہتھیاروں کی مسلسل خریداری اورمیزائل تجربات کی وجہ سے خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

  • ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک نے پاکستان بھر میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک اسپیس ایکس سٹار لنک اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام پاکستان نے پاکستان بھر میں سٹار لنک کا سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے-

    ایلون مسک ‘پرسن آف دا ایئر’ قرار

    اس حوالے سے ایلون مسک کی امریکی کمپنی اسٹار لنک کے ایک وفد، جس میں ڈائریکٹر مشرق وسطیٰ اور ایشیا، ریان گڈ نائٹ، اور گلوبل سائٹ ایکوزیشن کے سربراہ، بین میکولیم نے وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام امین الحق سے ملاقات کی اور پالیسی اور آپریشن ماڈل پر تبادلہ خیال کیا۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ترجمان وزیر آئی ٹی کے مطابق اس موقع پر وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا تھا کہ منصوبے سے نہ صرف اُن علاقوں کو فائدہ ہو گا جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے بلکہ براڈ بینڈ سے ملک بھر کے 40 ہزار اسکولوں اور کاروباری اداروں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گا۔

    دوسری جانب کمپنی کے وفد کا کہنا تھا کہ اسٹار لنک پہلے ہی پاکستان میں رجسٹرڈ ہے جبکہ اُس کے دفاتر جلد ہی یہاں کھل جائیں گے۔

    واضح رہے کہ یہ اسٹارلنک کا جنوبی ایشیا میں پہلا منصوبہ ہوگا جو وزارت کے وژن "سب کے لیے براڈ بینڈ” اور وزیر اعظم کے "ڈیجیٹل پاکستان” کے وژن کی صورت میں نکلے گا۔

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

  • فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے جاسوسی اور دیگر غیرقانونی سائبر سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق میٹا نے ہیکنگ میں ملوث گروپس سے منسلک 1500 فیس بک،واٹس ایپ اور انسٹاگرام پیجز کو ہٹا دیا ہے فیس بک نے 50 ہزار سے زائد افراد کو انتباہ جاری کیا ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ 100 سےزائد ممالک میں جاسوسی کی کمپنیوں نے سرگرم افراد،سیاستدانوں، صحافیوں اور دیگر اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے میٹا نے انہیں سائبرمرسنری یا ڈجیٹل غارت گر قرار دیا ہے دلچسپ بات یہ ہےکہ تمام اکاؤنٹس کا سرا سات ایسی کمپنیوں سے جاملتا ہے جن کی اکثریت کا تعلق اسرائیل سے ہے۔

    میٹا کمپنی میں سیکیورٹی سربراہ ناتھیانل گلائشر نے بتایا کہ بھرتی برائے ڈجیٹل جاسوسی‘ کی صنعت تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے وابستہ افراد بلند ترین بولی دینے والے افراد کو بے دریغ نشانہ بناتےہیں بعد میں ہیکنگ بھی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میٹا نے انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے 1500 اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے ہیں۔

    فیس بک پروہ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے گئے ہیں جو کوگنائٹ، بلیک کیوب اور بلیو ہاک وغیرہ جیسی مشکوک کمپنیوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا سربراہ ادارہ کوب ویب ٹیکنالوجی ہے یہ ساری کمپنیاں مختلف لوگوں سے رقم لے کر دوسرے اداروں اور افراد کی جاسوسی کرتی ہیں-

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    اس کے علاوہ چین اور مسیڈونیا کی کمپنیوں سے منسلک مشکوک اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے گئے ہیں میٹا کمپنی کے مطابق اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے سے جاسوس و نگراں کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی-

    دوسری جانب ایک کمپنی کا مؤقف یہ تھا کہ وہ مجرموں اور’دہشتگردوں‘ کی ہی نگرانی کررہی ہے لیکن میٹا کمپنی کے مطابق حکومتی ناقدین، صحافی، اقلیتی افراد، حزبِ اختلاف سے وابستہ لوگ اور اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد اس کے بے دریغ شکار ہیں۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

  • ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا نے ایک اور کامیابی، ناسا کا خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے مطابق تاریخ میں پہلی بار کسی خلائی جہاز نے سورج کو چھوا ہے۔ ناسا کے پارکر سولر پروب نے اب سورج کے اوپری ماحول – کورونا اور وہاں کے ذرات اور مقناطیسی میدانوں کے نمونے لیے ہیں۔

    ناسا ماہرین کے مطابق جس طرح چاند پر اترنے سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ کیسے بنا ہے، اسی طرح سورج جس چیز سے بنا ہے اسے چھونے سے سائنسدانوں کو ہمارے قریب ترین ستارے اور نظام شمسی پر اس کے اثر و رسوخ کے بارے میں اہم معلومات سے پردہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا، "پارکر سولر پروب "سورج کو چھونا” شمسی سائنس کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے اور واقعی ایک قابل ذکر کارنامہ ہے۔ "یہ سنگ میل نہ صرف ہمیں ہمارے سورج کے ارتقاء اور اس کے ہمارے نظام شمسی پر اثرات کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرے گا، بلکہ ہم اپنے ستارے کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھنا چاہتے ہیں وہ ہمیں باقی کائنات میں ستاروں کے بارے میں مزید سکھائے گا۔”

    جیسے جیسے یہ شمسی سطح کے قریب جا رہا ہے، پارکر نئی دریافتیں کر رہا ہے جنہیں دیکھنے کے لیے دوسرے خلائی جہاز بہت دور تھے، بشمول شمسی ہوا کے اندر سے – سورج سے ذرات کا بہاؤ جو زمین پر ہمیں متاثر کر سکتا ہے۔ 2019 میں، پارکر نے دریافت کیا کہ شمسی ہوا میں مقناطیسی زگ زیگ ڈھانچے، جنہیں سوئچ بیک کہتے ہیں، سورج کے قریب بہت زیادہ ہیں۔ لیکن وہ کیسے اور کہاں بنتے ہیں یہ ایک معمہ ہی رہا۔ اس کے بعد سے سورج تک کا فاصلہ آدھا کرنے کے بعد، پارکر سولر پروب اب ایک ایسی جگہ کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی قریب سے گزر چکا ہے جہاں سے وہ نکلتے ہیں-

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ناسا ماہرین کا کہنا ہے کہ پارکر سولر پروب نے انتہائی گرمی اور الٹرا وائلٹ شعاعیں جھیلتے ہوئے ایلفویئن نامی لکیر کو عبور کیا جو سورج کی بیرونی فضا کورونا کی باہری حد ہے۔

    خلائی جہاز نے ایسا اپریل میں کیا تھا مگر ڈیٹا کے تجزیے سے اب جا کر اس کی تصدیق ہوئی ہے، ڈیٹا کے مطابق پروب پانچ گھنٹوں کے دوران تین مرتبہ اس لکیر کے اوپر اور نیچے سے ہو کر گزرا، اس تجربے سے سائنسدانوں کو سورج کے کام کرنے کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں پارکر سولر پروب خلائی ادارے کا اب تک کا بنایا گیا سب سے ‘جانباز’ مشن ہے۔


    برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق اس خلائی جہاز کی رفتار حیران کُن حد تک تیز ہے یہ پانچ لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور حکمت عملی یہ ہے کہ سورج کی فضا میں فوراً داخل ہو کر فوراً باہر آئے اور اس دوران گرمی سے بچانے والی اپنی موٹی ہیٹ شیلڈ کے پیچھے چھپ کر اپنے مختلف آلات کے ذریعے اعدادو شمار اکٹھا کرے-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سورج کی سطح یعنی فوٹو سفئیر پر درجہ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہوتا ہے لیکن کورونا میں دتجہ حرارت 10 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے-

    پارکرنے ایلفوئین نامی لکیر کو عبور کیا جو سورج کی بیرونی فضا کورونا کی باہری حد ہے یہ وہ مقام ہے جہاں عام طور پر سورج کی کشش ثقل سے بندھا رہنے والا مواد اور مقنا طیسی لہریں کشش ثقل سے خود کو چھڑا کر خلا میں باہر نکل جاتی ہیں-

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    سورج سے نکلنے والی بڑی مقناطیسی لہریں ہماری زمین کے مقناطیسی میدان کو ہلا کر رکھ سکتی ہیں۔ ایسا ہونے پر زمینی مواصلات معطل ہو سکتی ہیں، سیٹلائٹس آف لائن ہو سکتی ہیں اور بجلی کے گریڈز میں اچانک وولٹیج تیز ہو سکتا ہے۔

    سائنسدان سورج کے ان مقناطیسی ‘طوفانوں’ کی پیش گوئی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پارکر کے ذریعے اُنھیں ایسا کرنے کے لیے نئی اور گراں قدر معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

  • 20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    بیجنگ: چین کے جدید ترین ہائپرسونک لڑاکا طیارہ جس کا ڈیزائن 20 سال پہلے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے مسترد کردیا تھا لیکن اب چین اسی ڈیزائن پر بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ ڈیزائن 1990 کے عشرے میں ’ناسا‘ سے وابستہ چینی نژاد چیف انجینئر منگ ہانگ تانگ نے بنایا تھا جسے امریکی حکام نے مسترد کردیا لیکن چین میں اس ڈیزائن نے بڑھتی ہوئی توجہ مبذول کرائی ہےکچھ چینی خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں چینی محققین کا خاتمہ چین کے ہائپرسونک ہتھیاروں کے پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سال 2000 میں امریکا اور چین میں تناؤ بڑھنے کے بعد منگ ہانگ تانگ سمیت درجنوں چینی ماہرین اپنے وطن واپس آگئے؛ اور تقریباً اسی زمانے میں چین نے بھی ہائپرسونک طیارے کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا اس طیارے کے پروٹوٹائپ انجن کی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں البتہ یہ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    یہ ’ناسا‘ کے متروک ’ایکس 47 سی‘ (X-47C) منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر تانگ جو کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ناسا کے ہائپرسونک پروگرام کے چیف انجینئر تھے نے دو مرحلوں والا طیارہ ڈیزائن کیا تھا پہلے مرحلے میں اس کے انجن،عام ٹربا ئن جیٹ انجن کی طرح کام کرتے ہوئے اسے مناسب بلندی پر پہنچا تے پھر تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے لیے یہ ’ہائپر سونک موڈ‘ میں چلے جاتے اور طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا زیادہ ہوجاتی۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس پر بوئنگ کارپوریشن میں ’مینٹا ایکس 47 سی‘ پروگرام کے عنوان سے ابتدائی کام ہوا تھا لیکن بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہ کی بناء پر ناسا نے یہ منصوبہ منسوخ کرد یا اب تک چینی ہائپرسونک طیا رے کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کے انجنوں کو جیا نگسو، چین میں واقع ’نا نجنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس‘ کی جدید ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے یہ ہوائی سرنگ، طیاروں اور میزائلوں کے پروٹوٹائپس کو آواز سے 4 تا 8 گنا رفتار پر آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے توقع ہے کہ اس کامیابی کے بعد چینی ہائپرسونک طیارے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرسکے، اسے تکنیکی زبان میں ’ہائپرسونک‘ کہا جاتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

  • میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی

    میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی

    میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابقہ فیس بک اور حالیہ میٹا کمپنی نے امریکا اور کینیڈا کے صارفین کے لیے تھری ڈی ورچول ’ہورائزن ورلڈ‘ نامی ایپ جاری کردی ہے۔

    ہورائزن ورلڈ نامی وی آر سوشل گیم ایپ کو ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے18 سال سے زائد عمر کے افراد کوئیسٹ ایپ کی بدولت اس مجازی دنیا میں شامل ہوسکتےہیں یہ ایک مہنگا پلیٹ فارم ہے کیونکہ اس کے لیے آنکھوں پر پہنا جانے والا ہیڈسیٹ درکارہوگا تاہم ایپ کو استعمال کرنے کے لیے میٹا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ ہونا لازمی ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    ہورائزن ورلڈز کو بی ٹا ایپ کے طور پر 2019 میں پیش کیا گیا تھا اس کے بعد ہزاروں بی ٹا آزمائش کرنے والوں نے اس کی خامیاں دور کیں اور اسے ٹیسٹ کیا گیا۔ پھر مجازی ماحول کے اندر کئی اہم منظرنامے بنائے گئے جو اب ہورائزن میں دیکھے جاسکتے ہیں اویسس وی آر اور آکیولس ہیڈ سیٹ مشہور ہیں یہاں آپ ایک وقت میں 20 افراد سے رابطہ کرسکتے ہیں جن کے نمائندہ تھری ڈی ہیولے یا اوتار آپ کے سامنے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہورائزن میں آپ اپنی دنیا خود بناسکتے ہیں اور لوگوں کو یہاں مدعو کرسکتے ہیں اس طرح یہ مستقبل کا ایسا فیس بک ہوگا جس میں آپ دوستوں سے بہت ہی حقیقی انداز میں گفتگو اور رابطہ کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    ہورائزن ورلڈز میں آپ اپنے کوڈ بھی لکھ سکتے ہیں ان سادہ کوڈز کو لکھنا عین اسی طرح آسان ہے جس طرح فوٹوشاپ میں آپ لیئرزپرکام کرتے ہیں اور آپس میں ان کو جوڑکر ایک نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔ یوں مختلف اشیا سے خاص کیفیات اور سرگرمیوں کا اظہار بہت ضروری ہےہورائزن ورلڈز کوڈ کے لاتعداد اسکرپٹ بلاکس لکھ کر انہیں ایک مفت لائبریری میں رکھنے کا اعلان کیا ہےاسے وی آر کے ماحول میں اور اسی ماحول کےلیے تیار کیا گیا ہے اگلے مرحلے میں اسے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے لیے تیار کیا جائے گا تاکہ مہنگے ہیڈسیٹ نہ خریدنے والے بھی ہورائزن استعمال کرسکیں۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    لیکن اختلافات، تنازعات اور جنسی سطح پر ہراساں کرنے کا عمل چونکہ انٹرنیٹ پر عام ہے عین اسی طرح تھری ڈی ماحول میں بھی یہ ہوتا رہے گا ایک خاتون ٹیسٹر نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے کہ بی ٹا ٹیسٹنگ میں انہیں اس طرح کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    اس پر میٹا نے کہا ہے کہ وہ ہورائزن کے لیے پہلے ہی کئی ایک حفاظتی تدابیر پر کام کررہے ہیں۔ لیکن عجیب خبر یہ ہے کہ ہورائزن پر لوگ پیسے نہیں بناسکیں گے خواہ وہ تخلیق کار ہوں، فنکار ہوں، یا محض شریک ہی کیوں نہ ہوں۔

    واضح رہے فیس بک نے رای براڈنگ کے منصوبے کے تحت کمپنی کا نام تبدیل کرکے میٹا رکھ لیا ہے۔

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

  • ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت  تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر اسپیس اور اس کی اہمیت تحریر: علی جويو‎

    ٹویٹر ایک مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ہے 2021 کی دوسری سہ ماہی تک، ٹوئٹر کے دنیا بھر میں 206 ملین منیٹائزیبل روزانہ فعال صارفین تھے۔
    ٹویٹر ایک مقبول سوشل نیٹ ورک سروس ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چونکہ ٹویٹر اشتہاری کمپنیوں کے لیے ایک نئے وسیع میڈیم کے طور پر ایک موثر پلیٹ فارم بن گیا ہے، اس لیے یہ ظاہر ہے کہ بااثر ٹوئٹر صارفین کو تلاش کرنا اور ان کے اثر و رسوخ کی پیمائش ضروری ہے۔ بدیہی طور پر، جن صارفین کے زیادہ پیروکار ہیں ان کے زیادہ بااثر ہونے کا امکان ہے۔
    اگر ہم سیاست اور ٹویٹر کے سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں بات کریں پھر ٹویٹر اس حوالے سے سرفہرست ہے۔ باراک اوباما سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ تک، آپ صرف کسی مشہور شخصیت یا سیاسی و مذہبی رہنما کا نام لیں جو آپ کو ٹوئٹر پر نہیں ملے!

    ٹویٹر نے نومبر 2020 میں محدود تعداد میں صارفین کے ساتھ Spaces کی جانچ شروع کی، لیکن اپریل 2021 میں، اس نے عالمی سطح پر iOS اور Android Twitter صارفین کے لیے اس فیچر کو متعارف کرانا شروع کر دیا جن کے 600 یا اس سے زیادہ فالوورز ہیں۔ 600 سے کم فالورز والے کچھ صارفین کے لیے بھی ٹویٹر اسپیس آپشن استعمال کرنے کے اہل تھے۔
    ٹوئٹر اسپیس حقیقی گیم چینجر ہے، اس سے نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے بھی متاثر ہوں گے۔ اگر ہم پاکستان اور ہندوستان کی بات کریں تو لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اسپیس آپشن کا استعمال کر رہے ہیں۔ جیسے سیاسی پوائنٹ سکورنگ، ڈیٹنگ، نفرت انگیز تقریر، علیحدگی پسند تحریکیں، انڈیا بمقابلہ پاکستان، کرکٹ، سماجی مسائل، آگاہی۔ وغیرہ۔ انتہائی دلچسپ پہلو جس کا ہم انتخابی موسموں میں مشاہدہ کریں گے جب سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے لیے ٹوئٹر اسپیس آپشن استعمال کریں گی۔ میں نے کچھ ٹویٹر اسپیس کا مشاہدہ کیا ہے جس میں ہزار سے زیادہ شرکاء نمایاں سیاسی شخصیات بھی بول رہے تھے۔
    سوئٹزرلینڈ میں کام کرنے والے آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر، میں ایک ساتھ اشتراک اور سیکھنے کے لیے ٹوئٹر اسپیس کی میزبانی بھی کر رہا ہوں۔ میں پاکستان اور باقی دنیا کے دیگر شاندار آئی ٹی پروفیشنلز کی مدد سے پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے زیادہ تر ویک اینڈ پر سپیس کا انعقاد کرتا ہوں۔ اس وقت کے لیے اتنا ہی کافی ہے! لیکن ٹویٹر اسپیس، آئی ٹی اور دیگر مسائل کے بارے میں لکھوں گا۔ پڑھنے کا شکریہ, اور میں آپ کی رائے کا انتظار کروں گا۔

  • نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    ہوائی: سائنسدانوں نے نظام شمسی کا سب سے دور چھوٹا سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اس چھوٹے سیارے (planetoid) کا قطر صرف 400 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے سورج سے اس کا موجودہ فاصلہ تقریباً 20 ارب کلومیٹر، یعنی زمین کے مقابلے میں 132 گنا زیادہ ہے اور اسی وجہ سے سائنسدانوں نے اسے ’’فار فار آؤٹ‘‘ یعنی ’’دور، بہت دُور‘‘ کا نام دیا ہے۔

    اسے 2018 میں یونیورسٹی آف ہوائی کی رصدگاہ سے دریافت کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے ’’2018 اے جی 37‘‘ کا عارضی نام دیا تھا، لیکن تب انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ سورج سے اس کا فاصلہ کتنا ہے کیونکہ آسمان میں اس کی جگہ بہت آہستگی سے تبدیل ہورہی ہے مختلف دوربینوں سے دو سال تک اس کا محتاط مطالعہ کرنے کے بعد سائنسدانوں پر انکشاف ہوا کہ سورج سے اس کا موجودہ فاصلہ 132 فلکیاتی اکائیوں جتنا (تقریباً 20 ارب کلومیٹر) ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    اب تک کی تحقیق سے ’’فار فار آؤٹ‘‘ کے بارے میں مزید یہی معلوم ہوسکا ہے کہ سورج کے گرد اس کا مدار انتہائی بیضوی (کسی لمبوترے انڈے جیسا) ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا سورج سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ 175 فلکیاتی اکائیوں جتنا، جبکہ کم سے کم فاصلہ صرف 27 فلکیاتی اکائیوں جتنا رہ جاتا ہے، جو سیارہ نیپچون اور سورج کے درمیانی فاصلے سے بھی کم ہے۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    اس وقت نظامِ شمسی میں دیگر دور ترین فلکی اجسام میں ’’فار آؤٹ‘‘ کا سورج سے فاصلہ 124 فلکیاتی اکائیوں جتنا اور ’’گوبلن‘‘ کا فاصلہ 80 فلکیاتی اکائیوں کے برابر ہے؛ لیکن سائنسدانوں نے حساب لگایا ہے کہ ان میں ’’گوبلن‘‘ کا مدار سب سے بڑا ہے اور سورج سے اس کا زیادہ سے زیادہ فاصلہ 2300 فلکیاتی اکائیوں تک پہنچ سکتا ہے۔

    فار فار آؤٹ کی خیالی تصویر : فوٹو بشکریہ یونیورسٹی آف ہوائی
    ماہرینِ فلکیات نے اندازہ لگایا ہے کہ ’’فار فار آؤٹ‘‘ اور نیپچون کے مدار ایک دوسرے سے قریب آتے رہتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ فار فار آؤٹ کا مدار اتنا زیادہ لمبوترا اور بیضوی ہوگیا ہے۔

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    فار فار آؤٹ پر مزید تحقیق ابھی جاری ہے، جس کے بعد اس کی مزید خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی جاسکے گی۔ تاہم اس میں مزید کچھ سال لگ جائیں گے اس کے بعد ہی اسے کوئی باقاعدہ نام دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ زمین اور سورج کے اوسط درمیانی فاصلے کو ’’ایک فلکیاتی اکائی‘‘ کہا جاتا ہے جو تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر فاصلہ بنتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار