Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ گئے

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ گئے

    نئی دہلی: اطلاعات و نشریات کی مرکزی وزارت نے منگل کو 20 یوٹیوب چینلز اور دو نیوز ویب سائٹس کو’’بھارت مخالف پروپیگنڈہ اور جعلی خبریں‘‘ پھیلا نے کے الزام میں بلاک کرنے کا حکم دیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارت ہر وقت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کرنے میں مصروف رہتا ہے اور پاکستان کے خلاف بیان بازی جھوٹ پر مبنی خبریں پھیلانے جھوٹی الزام تراشیاں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور دنیا کے سامنے اپنے جھوٹ بے نقاب ہو جا نے کے باوجود وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتا اور پاکستان مخلاف پرپیگنڈوں اور پاکستان کو دنیا کے نظر میں نیچا دکھانے کے لئے ہر وقت اوچھے طریقے استعمال کرتا ہے-

    تاہم اب پھر بھارت نے پاکستان پر بھارت مخالف پروپیگنڈہ اور جعلی خبریں‘‘ پھیلا نے کی الزام تراشی کرتے ہوئے مختلف ویب سائٹس اور یو ٹیوب چینلز کو بلاک کر دیا ہے یہ کہنا کہ بھارت اپنی اس حرکت پر مشہور محاورے ” الٹا چو کوتوال کو ڈانٹے” پر پورا اترتا ہے تو بےجا نہ ہو گا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق پیر کو، وزارت نے دو احکامات جاری کئے، ایک ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب کو 20 چینلز کو بلاک کرنے اور دوسرا نیوز ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی ہدایت۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت نے ٹیلی کام محکمے سے کہا ہے کہ وہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو ان چینلز اور ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی ہدایت کرے۔ یہ کارروائی نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے رول 16 کی دفعات کے تحت کی گئی ہے جو حکام کو ’’ہنگامی صورت حال میں‘‘ مواد کو بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    وزارت نے منگل کو ایک ریلیز میں کہا ’’چینل اور ویب سائٹس کا تعلق ایک مربوط ڈس انفارمیشن نیٹ ورک سے ہے جو پاکستان سے چل رہا ہے اور ہندوستان سے متعلق مختلف حساس موضوعات کے بارے میں جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔

    اس میں کہا گیا کہ ان چینلز کو کشمیر، ہندوستانی فوج، ہندوستان میں اقلیتی برادریوں، رام مندر، جنرل بپن راوت وغیرہ جیسے موضوعات پر مربوط انداز میں تفرقہ انگیز مواد پوسٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔‘‘

    کہا گیا کہ "انٹیلی جنس ایجنسیوں اور اطلاعات و نشریات کی وزارت کے درمیان قریبی مربوط کوششوں میں، وزارت نے پیر کو یوٹیوب پر 20 چینلز اور انٹرنیٹ پر بھارت مخالف پروپیگنڈہ اور جعلی خبریں پھیلانے والی دو ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا-

    وزارت نے دعویٰ کیا کہ جن 20 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کے لیے کہا گیا ہے ان میں سے 15 ’’نیا پاکستان گروپ‘‘ نامی ادارے کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ یہ گروپ پاکستان سے چلایا جاتا ہے اور اس کے کچھ چینلز پاکستانی نیوز چینلز کے اینکرز چلا رہے تھے۔

    وزارت نے کہا کہ ان چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 35 لاکھ سے زیادہ تھی اور ان کے ویڈیوز کو 55 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے ’’ان یوٹیوب چینلز نے کسانوں کے احتجاج، شہریت (ترمیمی) قانون سے متعلق مظاہروں اور اقلیتوں کو حکومت ہند کے خلاف اکسانے کی کوشش جیسے مسائل پر مواد بھی پوسٹ کیا تھا۔ یہ خدشہ بھی تھا کہ ان یوٹیوب چینلز کو پانچ ریاستوں میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے مواد پوسٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پاکستان نے بھی میڈیا اتھارٹی بنا کرفیک نیوز،جھوٹے تبصروں اورپیڈ تجزیوں کے خاتمے کا فیصلہ کیا لیکن پاکستان میں حکومت ریاست کو فیک نیوز ،جھوٹوں تبصروں اور پیڈ تجزیوں سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے لیکن پاکستان میں اظہاررائے کی آزادی کے نام پر حکومت کو بلیک میل کرنا شروع کردیا ۔جبکہ ایسے ہی حالات کے پیش نظر بھارت نے کسی کی پرواہ کیئے بغیرملک کے مفاد میں پابندی لگا کردکھا دی-

  • برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    کیمبرج: برطانیہ سے ایک ایسے قدیمی کنکھجورے کی باقیات دریافت ہوئی ہیں جو تقریباً 9 فٹ لمبا تھا لیکن اس میں ریڑھ کی ہڈی بالکل بھی نہیں تھی-

    باغی ٹی وی : یہ دیوقامت کنکھجورا جسے ’’آرتھروپلیورا‘‘ کا نام دیا گیا ہے آرتھروپلیورا دیوہیکل میراپوڈس کی ایک نسل ہے جو ابتدائی کاربونیفیرس سے لے کر ابتدائی پرمین تک ہوتی ہے آج سے 32 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے جہاں رہتا تھا وہ جگہ موجودہ برطانیہ میں نارتھمبرلینڈ کے ساحل پر، اور نیوکیسل سے 64 کلومیٹر دور واقع ہے اس عجیب و غریب اور معدوم کنکھجورے کی تفصیلات ’’جرنل آف دی جیولوجیکل سوسائٹی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

    اسکا رکاز 2018 میں ایک چٹان کے ٹوٹنے سے اتفاقاً دریافت ہوا تھا، جس پر برطانوی اور جرمن ماہرین نے تقریباً دو سال تک تحقیق کرنے کے بعد کئی اہم معلومات حاصل کیں پہلی بات تو یہی معلوم ہوئی کہ یہ رکاز لگ بھگ 32 کروڑ 60 لاکھ قدیم ہے، جو ڈائنوسار کے زمانے سے بھی 10 کروڑ سال پہلے کا ہے۔

    یہ رکاز نامکمل اور مختلف جسمانی قطعات (segments) پر مشتمل ہے جن کی مجموعی لمبائی 75 سینٹی میٹر ہے انہیں دیکھ کر سائنسدانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ زندہ حالت میں یہ کنکھجورا 2.7 میٹر (8.85 فٹ) لمبا رہا ہوگا جبکہ ممکنہ طور پر یہ 50 کلوگرام وزنی تھا۔

    ان تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کا یہ علاقہ تقریباً 33 کروڑ سال پہلے کے زمانے میں خطِ استوا کے قریب تھا جہاں نہ صرف گرمی زیادہ پڑتی تھی بلکہ بارش بھی خوب ہوا کرتی تھی اسی گرم اور مرطوب ماحول کی بناء پر شاید یہاں گھنے جنگلات بھی رہے ہوں گے جہاں یہ کنکھجورا اور اس جیسے دوسرے جانوروں کا ارتقاء ہوا ہوگا-

  • ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر ناسا کی جانب سے بھیجے جانےبوالے جونو خلائی جہازنے مشتری اور نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند جینی میڈ کی آواز ریکارڈ کی ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق جو نو کی جانب سے بھیجی جانے والی یہ آوازیں عجیب و غریب ہیں مشتری ہویا اس کے عجیب و غریب چاند ہوں، انہیں ہمارے نظامِ شمسی کے حیرت انگیز اجسام میں شمار کیا جاتا ہےیہی وجہ ہے کہ ناسا نے 5 اگست 2011 کو جونو خلائی مشین زمین سے روانہ کیا اور وہ مشتری کی قطبی مدار میں جولائی 2016 تک پہنچ گیا تھا۔

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    اگرچہ اسے بطورِ خاص مشتری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن اس سال 7 جون کو یہ جینی میڈ کے بہت قریب پہنچا اور چاند کی مقناطیسی، برقی اور فضائی (میگنیٹواسفیئر) خصوصیات نوٹ کیں تاہم ایک مقام پر اس کا حساس مائیک کھولا گیا اور اس نے جینی میڈ کی بہت عجیب و غریب آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 7 جون کو 50 سیکنڈ پر مشتمل پراسرار صوتی ڈیٹا اس وقت ملا کہ جب خلائی جہاز(جونو) سیارہ ‘مشتری’ کے سب سے بڑے چاند(گانیمید) کے قریب پرواز کررہا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خلائی جہاز مشتری کی کھوج کے لیے ناسا کی جانب سے بھیجا گیا 34 واں مشن ہے جس نے گانیمید کی سطح سے 645 میل (1038 کلومیٹر ) دوری پر 41 ہزار 600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے پراسرار آوازیں ریکارڈ کی ہیں یہ پُر اسرار آواز ‘بیپس’ گاڑی کے ہارن جیسی آواز لگیں۔

    اسی طرح ‘بلوپس’ آواز کسی برقی آلے سے خارج ہونے والی لو پچ ساؤنڈ کی طرح تھی یہ تمام آوازیں مختلف فریکوئنسی پر مشتمل ہیں۔ گانیمید ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا اور واحد چاند ہے جس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    خلائی جہاز جونو کے پرنسپل انویسٹیگیٹر اسکاٹ بولٹن کا کہنا ہے کہ اگر اس آواز کو دھیان سے سنا جائے تو ریکارڈنگ کے وسط میں آپ کو اچانک بلند فریکوئنسی سنائی دے گی جو کہ گانیمید کے مقناطیسی کرہ میں کسی مختلف ریجن کے داخل ہونے کو ظاہر کرتی ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ ریکارڈنگ سن کر آپ خود کو جونو کے ساتھ سفر کرتا محسوس کریں گے آواز میں اچانک بلند اور کم فریکوئنسی کی آوازیں خارج ہوتی ہے یہ تبدیلی مقناطیسی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے تبدیل ہوتی رہی ہے جو صاف سنی جاسکتی ہے-

    تاہم سائنسدانوں نے کہا ہے ہم نے یہ ڈیٹا محض تفریح کے لیے جاری کیا ہے کیونکہ اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ دیگر سیاروں کے چاند اور خود نظامِ شمسی کے سب سے بڑے چاند کی اندرونی آواز کیسی سنائی دیتی ہیں۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

  • بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

    پیرس: بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پتنگ کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اگر دیوہیکل بحری جہازوں پر بادبانی کشتیوں کی طرح ہوا میں معلق پتنگ لگائی جائے تو اس سے ایندھن میں بچت ہوسکتی ہے اس طرح بادی قوت کا کچھ حصہ جہاز کو دھکیل کر ایندھن پر انحصار کم کرسکتا ہے ایئرسیز نامی کمپنی نے ایئربس کارگو شپ پر اس کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    پیرافوائل پتنگ کا رقبہ 500 مربع میٹر ہے جو عرشے سے باندھی جائے گی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے سرگرم کرنے والا پورا سسٹم خودکار ہے۔ یعنی یہ بادبان خود کھلتا ہے آگے بڑھتا ہے اورہوا کے دوش پر سطح آب سے 200 میٹر کی بلندی تک جاپہنچتا ہے اس کی جانچ کا پورا نظام بھی خودکار ہے جسے چند روز میں بڑے سے بڑے بحری جہاز پر آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔

    پی آئی اے نے پائلٹس کی تربیت کیلئے پاکستان کا پہلا ائیربس 320 کا سیمولیٹر حاصل کرلیا

    محتاط اندازے کے مطابق اس سے ایندھن کی 20 فیصد بچت کے ساتھ ساتھ مضر گیسوں کا اخراج بھی کم ہوگا اگلے ماہ تین کروڑ امریکی ڈالر والے 150 فٹ بحری جہاز پر اکیسویں صدی کا بادبان لگایا جائے گا یہ جہاز ایئربس طیاروں کے بڑے حصے لے کر مختلف ممالک کے پلانٹس تک پہنچاتا ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ

    رپورٹ کے مطابق فرانسیسی کمپنی کی اس اختراع کو اگلے ماہ ازمایا جائے گا جس میں مختلف ڈیزائن کے چھوٹے بڑے بادبانوں کو مال بردار جہازوں پر نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔

    زوم پر چیک اپ کے بہانے خواتین کی نازیبا ویڈیو بنانے والا گائنا کالوجسٹ گرفتار

  • جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کا اگنی پرائم میزائل کا تجربہ

    نئی دہلی: جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے اگنی پرائم میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کےمطابق اگنی پرائم میزائل کا تجربہ اڑیسہ میں کیاگیااگنی پرائم میزائل اگنی سیریزکا ایک نئی نسل کاجدید میزائل ہےاگنی پی میزائل1000کلومیڑسے لے کر2000کلومیٹرتک ہدف کونشانہ بنا سکتا ہے۔

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ بھارت کی جانب سے اگنی پرائم میزائل کا دوسرا تجربہ ہے اگنی پرائم میزائل کا وزن اگنی3 میزائل سے50فیصد کم ہے یہ میزائل سطح سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے۔جوہری صلاحیت کے حامل اس میزائل کو ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آرڈی او) نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    اگنی پرائم کو یا تو ٹرین میں لے جایا جا سکتا ہے یا کنستر میں رکھا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں ہندوستان نے اوڈیشہ کے چندی پور سے براہموس سپرسونک کروز میزائل کے ہوائی ورژن کا کامیاب تجربہ کیا تھا اس سے قبل برہموس سپرسونک کروز میزائل کے اینٹی شپ ورژن کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔ میزائل کا تجربہ انڈمان اور نکوبار جزائر سے کیا گیا تھا۔

    مسافر طیارہ تباہ:تین نامورشخصیات کی ہلاکت نے چاہنے والوں کوغمگین کردیا

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس کے ساتھ ہی، اگلے چند دنوں میں، ڈی آر ڈی او کی جانب سے جدید ترین میزائلوں کی کئی اور بیلسٹک اور کروز سیریز کا تجربہ کرنے کی توقع ہے۔

    جنگی جنون کا شکار بھارت ہتھیاروں کی مسلسل خریداری اورمیزائل تجربات کی وجہ سے خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

  • ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    ایلون مسک کی کمپنی کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا فیصلہ

    ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک نے پاکستان بھر میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک اسپیس ایکس سٹار لنک اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام پاکستان نے پاکستان بھر میں سٹار لنک کا سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے-

    ایلون مسک ‘پرسن آف دا ایئر’ قرار

    اس حوالے سے ایلون مسک کی امریکی کمپنی اسٹار لنک کے ایک وفد، جس میں ڈائریکٹر مشرق وسطیٰ اور ایشیا، ریان گڈ نائٹ، اور گلوبل سائٹ ایکوزیشن کے سربراہ، بین میکولیم نے وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام امین الحق سے ملاقات کی اور پالیسی اور آپریشن ماڈل پر تبادلہ خیال کیا۔

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ترجمان وزیر آئی ٹی کے مطابق اس موقع پر وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا تھا کہ منصوبے سے نہ صرف اُن علاقوں کو فائدہ ہو گا جہاں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے بلکہ براڈ بینڈ سے ملک بھر کے 40 ہزار اسکولوں اور کاروباری اداروں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گا۔

    دوسری جانب کمپنی کے وفد کا کہنا تھا کہ اسٹار لنک پہلے ہی پاکستان میں رجسٹرڈ ہے جبکہ اُس کے دفاتر جلد ہی یہاں کھل جائیں گے۔

    واضح رہے کہ یہ اسٹارلنک کا جنوبی ایشیا میں پہلا منصوبہ ہوگا جو وزارت کے وژن "سب کے لیے براڈ بینڈ” اور وزیر اعظم کے "ڈیجیٹل پاکستان” کے وژن کی صورت میں نکلے گا۔

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

  • فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے جاسوسی اور دیگر غیرقانونی سائبر سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق میٹا نے ہیکنگ میں ملوث گروپس سے منسلک 1500 فیس بک،واٹس ایپ اور انسٹاگرام پیجز کو ہٹا دیا ہے فیس بک نے 50 ہزار سے زائد افراد کو انتباہ جاری کیا ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ 100 سےزائد ممالک میں جاسوسی کی کمپنیوں نے سرگرم افراد،سیاستدانوں، صحافیوں اور دیگر اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے میٹا نے انہیں سائبرمرسنری یا ڈجیٹل غارت گر قرار دیا ہے دلچسپ بات یہ ہےکہ تمام اکاؤنٹس کا سرا سات ایسی کمپنیوں سے جاملتا ہے جن کی اکثریت کا تعلق اسرائیل سے ہے۔

    میٹا کمپنی میں سیکیورٹی سربراہ ناتھیانل گلائشر نے بتایا کہ بھرتی برائے ڈجیٹل جاسوسی‘ کی صنعت تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے وابستہ افراد بلند ترین بولی دینے والے افراد کو بے دریغ نشانہ بناتےہیں بعد میں ہیکنگ بھی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میٹا نے انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کے 1500 اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے ہیں۔

    فیس بک پروہ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے گئے ہیں جو کوگنائٹ، بلیک کیوب اور بلیو ہاک وغیرہ جیسی مشکوک کمپنیوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا سربراہ ادارہ کوب ویب ٹیکنالوجی ہے یہ ساری کمپنیاں مختلف لوگوں سے رقم لے کر دوسرے اداروں اور افراد کی جاسوسی کرتی ہیں-

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    اس کے علاوہ چین اور مسیڈونیا کی کمپنیوں سے منسلک مشکوک اکاؤنٹ ڈیلیٹ کئے گئے ہیں میٹا کمپنی کے مطابق اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے سے جاسوس و نگراں کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی-

    دوسری جانب ایک کمپنی کا مؤقف یہ تھا کہ وہ مجرموں اور’دہشتگردوں‘ کی ہی نگرانی کررہی ہے لیکن میٹا کمپنی کے مطابق حکومتی ناقدین، صحافی، اقلیتی افراد، حزبِ اختلاف سے وابستہ لوگ اور اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد اس کے بے دریغ شکار ہیں۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

  • ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

    ناسا نے ایک اور کامیابی، ناسا کا خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے مطابق تاریخ میں پہلی بار کسی خلائی جہاز نے سورج کو چھوا ہے۔ ناسا کے پارکر سولر پروب نے اب سورج کے اوپری ماحول – کورونا اور وہاں کے ذرات اور مقناطیسی میدانوں کے نمونے لیے ہیں۔

    ناسا ماہرین کے مطابق جس طرح چاند پر اترنے سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ کیسے بنا ہے، اسی طرح سورج جس چیز سے بنا ہے اسے چھونے سے سائنسدانوں کو ہمارے قریب ترین ستارے اور نظام شمسی پر اس کے اثر و رسوخ کے بارے میں اہم معلومات سے پردہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

    واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا، "پارکر سولر پروب "سورج کو چھونا” شمسی سائنس کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے اور واقعی ایک قابل ذکر کارنامہ ہے۔ "یہ سنگ میل نہ صرف ہمیں ہمارے سورج کے ارتقاء اور اس کے ہمارے نظام شمسی پر اثرات کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرے گا، بلکہ ہم اپنے ستارے کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھنا چاہتے ہیں وہ ہمیں باقی کائنات میں ستاروں کے بارے میں مزید سکھائے گا۔”

    جیسے جیسے یہ شمسی سطح کے قریب جا رہا ہے، پارکر نئی دریافتیں کر رہا ہے جنہیں دیکھنے کے لیے دوسرے خلائی جہاز بہت دور تھے، بشمول شمسی ہوا کے اندر سے – سورج سے ذرات کا بہاؤ جو زمین پر ہمیں متاثر کر سکتا ہے۔ 2019 میں، پارکر نے دریافت کیا کہ شمسی ہوا میں مقناطیسی زگ زیگ ڈھانچے، جنہیں سوئچ بیک کہتے ہیں، سورج کے قریب بہت زیادہ ہیں۔ لیکن وہ کیسے اور کہاں بنتے ہیں یہ ایک معمہ ہی رہا۔ اس کے بعد سے سورج تک کا فاصلہ آدھا کرنے کے بعد، پارکر سولر پروب اب ایک ایسی جگہ کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی قریب سے گزر چکا ہے جہاں سے وہ نکلتے ہیں-

    ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

    ناسا ماہرین کا کہنا ہے کہ پارکر سولر پروب نے انتہائی گرمی اور الٹرا وائلٹ شعاعیں جھیلتے ہوئے ایلفویئن نامی لکیر کو عبور کیا جو سورج کی بیرونی فضا کورونا کی باہری حد ہے۔

    خلائی جہاز نے ایسا اپریل میں کیا تھا مگر ڈیٹا کے تجزیے سے اب جا کر اس کی تصدیق ہوئی ہے، ڈیٹا کے مطابق پروب پانچ گھنٹوں کے دوران تین مرتبہ اس لکیر کے اوپر اور نیچے سے ہو کر گزرا، اس تجربے سے سائنسدانوں کو سورج کے کام کرنے کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں پارکر سولر پروب خلائی ادارے کا اب تک کا بنایا گیا سب سے ‘جانباز’ مشن ہے۔


    برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق اس خلائی جہاز کی رفتار حیران کُن حد تک تیز ہے یہ پانچ لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور حکمت عملی یہ ہے کہ سورج کی فضا میں فوراً داخل ہو کر فوراً باہر آئے اور اس دوران گرمی سے بچانے والی اپنی موٹی ہیٹ شیلڈ کے پیچھے چھپ کر اپنے مختلف آلات کے ذریعے اعدادو شمار اکٹھا کرے-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سورج کی سطح یعنی فوٹو سفئیر پر درجہ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہوتا ہے لیکن کورونا میں دتجہ حرارت 10 لاکھ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے-

    پارکرنے ایلفوئین نامی لکیر کو عبور کیا جو سورج کی بیرونی فضا کورونا کی باہری حد ہے یہ وہ مقام ہے جہاں عام طور پر سورج کی کشش ثقل سے بندھا رہنے والا مواد اور مقنا طیسی لہریں کشش ثقل سے خود کو چھڑا کر خلا میں باہر نکل جاتی ہیں-

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    سورج سے نکلنے والی بڑی مقناطیسی لہریں ہماری زمین کے مقناطیسی میدان کو ہلا کر رکھ سکتی ہیں۔ ایسا ہونے پر زمینی مواصلات معطل ہو سکتی ہیں، سیٹلائٹس آف لائن ہو سکتی ہیں اور بجلی کے گریڈز میں اچانک وولٹیج تیز ہو سکتا ہے۔

    سائنسدان سورج کے ان مقناطیسی ‘طوفانوں’ کی پیش گوئی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور پارکر کے ذریعے اُنھیں ایسا کرنے کے لیے نئی اور گراں قدر معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

  • 20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    20 سال قبل امریکا کے مسترد کئے گئے ڈیزائن پر چین کا ہائپر سونک لڑاکا طیارہ

    بیجنگ: چین کے جدید ترین ہائپرسونک لڑاکا طیارہ جس کا ڈیزائن 20 سال پہلے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے مسترد کردیا تھا لیکن اب چین اسی ڈیزائن پر بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ ڈیزائن 1990 کے عشرے میں ’ناسا‘ سے وابستہ چینی نژاد چیف انجینئر منگ ہانگ تانگ نے بنایا تھا جسے امریکی حکام نے مسترد کردیا لیکن چین میں اس ڈیزائن نے بڑھتی ہوئی توجہ مبذول کرائی ہےکچھ چینی خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں چینی محققین کا خاتمہ چین کے ہائپرسونک ہتھیاروں کے پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا-

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

    سال 2000 میں امریکا اور چین میں تناؤ بڑھنے کے بعد منگ ہانگ تانگ سمیت درجنوں چینی ماہرین اپنے وطن واپس آگئے؛ اور تقریباً اسی زمانے میں چین نے بھی ہائپرسونک طیارے کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا اس طیارے کے پروٹوٹائپ انجن کی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں البتہ یہ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    یہ ’ناسا‘ کے متروک ’ایکس 47 سی‘ (X-47C) منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر تانگ جو کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ناسا کے ہائپرسونک پروگرام کے چیف انجینئر تھے نے دو مرحلوں والا طیارہ ڈیزائن کیا تھا پہلے مرحلے میں اس کے انجن،عام ٹربا ئن جیٹ انجن کی طرح کام کرتے ہوئے اسے مناسب بلندی پر پہنچا تے پھر تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے لیے یہ ’ہائپر سونک موڈ‘ میں چلے جاتے اور طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا زیادہ ہوجاتی۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس پر بوئنگ کارپوریشن میں ’مینٹا ایکس 47 سی‘ پروگرام کے عنوان سے ابتدائی کام ہوا تھا لیکن بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہ کی بناء پر ناسا نے یہ منصوبہ منسوخ کرد یا اب تک چینی ہائپرسونک طیا رے کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کے انجنوں کو جیا نگسو، چین میں واقع ’نا نجنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس‘ کی جدید ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے یہ ہوائی سرنگ، طیاروں اور میزائلوں کے پروٹوٹائپس کو آواز سے 4 تا 8 گنا رفتار پر آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے توقع ہے کہ اس کامیابی کے بعد چینی ہائپرسونک طیارے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرسکے، اسے تکنیکی زبان میں ’ہائپرسونک‘ کہا جاتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

  • میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی

    میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی

    میٹا فیس بک نے اپنی پہلی ورچوئل ریئلٹی سوشل گیم ایپ متعارف کرا دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابقہ فیس بک اور حالیہ میٹا کمپنی نے امریکا اور کینیڈا کے صارفین کے لیے تھری ڈی ورچول ’ہورائزن ورلڈ‘ نامی ایپ جاری کردی ہے۔

    ہورائزن ورلڈ نامی وی آر سوشل گیم ایپ کو ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا میں 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے18 سال سے زائد عمر کے افراد کوئیسٹ ایپ کی بدولت اس مجازی دنیا میں شامل ہوسکتےہیں یہ ایک مہنگا پلیٹ فارم ہے کیونکہ اس کے لیے آنکھوں پر پہنا جانے والا ہیڈسیٹ درکارہوگا تاہم ایپ کو استعمال کرنے کے لیے میٹا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ ہونا لازمی ہے۔

    "خودکش مشین” کو استعمال کرنے کی قانونی منظوری مل گئی

    ہورائزن ورلڈز کو بی ٹا ایپ کے طور پر 2019 میں پیش کیا گیا تھا اس کے بعد ہزاروں بی ٹا آزمائش کرنے والوں نے اس کی خامیاں دور کیں اور اسے ٹیسٹ کیا گیا۔ پھر مجازی ماحول کے اندر کئی اہم منظرنامے بنائے گئے جو اب ہورائزن میں دیکھے جاسکتے ہیں اویسس وی آر اور آکیولس ہیڈ سیٹ مشہور ہیں یہاں آپ ایک وقت میں 20 افراد سے رابطہ کرسکتے ہیں جن کے نمائندہ تھری ڈی ہیولے یا اوتار آپ کے سامنے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہورائزن میں آپ اپنی دنیا خود بناسکتے ہیں اور لوگوں کو یہاں مدعو کرسکتے ہیں اس طرح یہ مستقبل کا ایسا فیس بک ہوگا جس میں آپ دوستوں سے بہت ہی حقیقی انداز میں گفتگو اور رابطہ کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے گفتگو کو خفیہ رکھنے کا ایک اور آپشن پیش کر دیا

    ہورائزن ورلڈز میں آپ اپنے کوڈ بھی لکھ سکتے ہیں ان سادہ کوڈز کو لکھنا عین اسی طرح آسان ہے جس طرح فوٹوشاپ میں آپ لیئرزپرکام کرتے ہیں اور آپس میں ان کو جوڑکر ایک نتیجہ حاصل کرتے ہیں۔ یوں مختلف اشیا سے خاص کیفیات اور سرگرمیوں کا اظہار بہت ضروری ہےہورائزن ورلڈز کوڈ کے لاتعداد اسکرپٹ بلاکس لکھ کر انہیں ایک مفت لائبریری میں رکھنے کا اعلان کیا ہےاسے وی آر کے ماحول میں اور اسی ماحول کےلیے تیار کیا گیا ہے اگلے مرحلے میں اسے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے لیے تیار کیا جائے گا تاکہ مہنگے ہیڈسیٹ نہ خریدنے والے بھی ہورائزن استعمال کرسکیں۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    لیکن اختلافات، تنازعات اور جنسی سطح پر ہراساں کرنے کا عمل چونکہ انٹرنیٹ پر عام ہے عین اسی طرح تھری ڈی ماحول میں بھی یہ ہوتا رہے گا ایک خاتون ٹیسٹر نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے کہ بی ٹا ٹیسٹنگ میں انہیں اس طرح کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    اس پر میٹا نے کہا ہے کہ وہ ہورائزن کے لیے پہلے ہی کئی ایک حفاظتی تدابیر پر کام کررہے ہیں۔ لیکن عجیب خبر یہ ہے کہ ہورائزن پر لوگ پیسے نہیں بناسکیں گے خواہ وہ تخلیق کار ہوں، فنکار ہوں، یا محض شریک ہی کیوں نہ ہوں۔

    واضح رہے فیس بک نے رای براڈنگ کے منصوبے کے تحت کمپنی کا نام تبدیل کرکے میٹا رکھ لیا ہے۔

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار