Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا

    رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا

    رواں سال کا آخری مکمل سورج گرہن آج ہوگا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کےمطابق سورج گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا دوسری جانب سورج گرہن جنوبی افریقا، جنوبی آسٹریلیا، جنوبی امریکا، بحیرہ اوقیانوس، بحرالکاہل، انٹارکٹیکا اور بحیرہ ہند کے علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے…

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    محکمہ موسمیات کے مطابق محکمہ موسمیات کے مطابق سال 2021 کے آخری سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجکر 29 منٹ ہوگا،سورج کو مکمل گرہن 12 بجے لگے گا سورج گرہن کا اختتام دوپہر2 بج کر 37 منٹ پر ہوگا۔

    اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    سورج گرہن اس وقت رونما ہوتا ہے جب زمین اور سورج کے درمیان چاند آجاتا ہے اور اس کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ یہ سورج گرہن اگرچہ پاکستان میں نظر نہیں آئے گا لیکن جنوبی نصف کرے (سدرن ہیمسفیئر) کے کئی ممالک میں نمایاں ہوگا۔ واضح رہے کہ مکمل سورج گرہن صرف انٹارکٹیکا میں ہی دیکھا جاسکے گا۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار کر لیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ زندہ خلیات سے تیار کردہ دنیا کا پہلا روبوٹ “زینوبوٹ” اب افزائش نسل بھی کر سکے گا یہ روبوٹ اہم کام سرانجام دینے کے ساتھ خود کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ کر سکتا ہے۔

    پنجے والے افریقی مینڈک (زینوپس لیوس) کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو بطورخام مال استعمال کیا گیا ہے۔ زینوبوٹ کی چوڑائی ایک ملی میٹر سے تھوڑی کم ہے اگرچہ 2020 میں اسے بنایا گیا تھا جو حرکت کرسکتا تھا، اپنے جیسے روبوٹ سے مل کر کام کرسکتا تھا لیکن اب اس میں ایک بالکل انوکھی خاصیت پیدا ہوگئی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کو ارتقائی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے سپرکمپیوٹر پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ یہ دوا یا کسی اور چیز کو اپنے ہدف تک پہنچا سکتے ہیں یہ روایتی روبوٹ نہیں بلکہ جیتی جاگتی زندہ مشینیں ہیں اور یہ زندہ روبوٹس اپنی مزید نقول تیار کرسکتے ہیں۔

    ورمونٹ، ٹفٹس اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اسی زینوبوٹ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے اس روبوٹ میں مزید تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ اپنی نسل بڑھا سکتا ہے لیکن اس کا انداز بالکل مختلف ہے جو کسی پودے اور جانور جیسی نہیں۔

    ٹفٹس یونیورسٹی کے مائیکل لیون اس کام کے اہم رکن ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نے حیاتیاتی پیدائش (ری پروڈکشن) کا بالکل نیا طریقہ دیکھا ہے جو بہت حیرت انگیز ہے اگر کچھ خلیات کو باقی ماندہ بیضے (ایمبریو) سے الگ کرکے موزوں ماحول میں رکھا جائے تو نہ صرف وہ نئے انداز سے حرکت کرتے ہیں بلکہ نئے انداز سے نسل خیزی بھی کرسکتے ہیں۔

    اس میں حرف C کی شکل کا باپ زینو بوٹ ادھر ادھر بکھرے اسٹیم سیلز جمع کرتا ہے، ڈھیر لگاتا ہے اور وہ اگے چل کر بچے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیاتِ ساق کی اقسام کے خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ زینوبوٹ بنانے کے لیے ماہرین نے انہیں مینڈکوں کے انڈوں سے الگ کیا اور انکیوبیٹ کرایا لیکن اس میں کوئی خاص جین شامل نہ تھا پیٹری ڈش میں سی شکل والے زینوبوٹ نے بہت سارے ننھے منے اسٹیم خلیات کو اپنے منہ میں رکھا اور چند روز بعد ان سے نئے نینو بوٹس وجود میں آئے تاہم یہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن زندہ روبوٹ کے ضمن میں ایک اہم پشرفت ہے۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    واضح رہے کہ امریکی سائنسدانوں نے مینڈک کے جنین کے خلیوں کی مدد سے دنیا کا پہلا زینوبوٹ بنایا تھا جسے اپنی مرضی کے مطابق کام لیا جا سکتا ہے تاہم اب یہ روبوٹ افزائش نسل بھی کر سکے گا۔

    ان زینوبوٹس کو ایک مخصوص محلول میں رکھا جاتا ہے جہاں اگر ان کی کافی تعداد موجود ہو تو ان کی حرکت سے مینڈک کے جنین کوئی ڈھیلا خلیہ ان کے ‘پیک مین’ ویڈیو گیمز کی شکل والے منہ میں جمع ہوجاتا ہے جس کے بعد مزید خلیے جمع ہو کر ایک نیا زینو روبوٹ بنا لیتے ہیں۔

    کچھوے کا زہریلا گوشت کھانے سے بچے سمیت 7 افراد ہلاک

  • سام سنگ کمپنی نےپاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے

    سام سنگ کمپنی نےپاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے

    سام سنگ کمپنی نے بالآخر پاکستان میں موبائل فون تیار کرنا شروع کردیئے ہیں اس سے صنعت اور حکام کو امید ملی ہے کہ آئندہ آنے والے مہینوں میں ملک کا درآمدی بل کم ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق یہ پیش رفت منگل کو کمپنی کے اعلیٰ مینیجرز کی سینیٹرز کے ساتھ ایک اجلاس میں سامنے آئی جنہوں نے پروڈکشن سائٹ کا دورہ کیا تھا اور اس کا مقصد پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے لیے بڑھتے ہوئے نئے شعبے اور آنے والے چیلنجز کے بارے میں بریفنگ حاصل کرنا تھا-

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چیئرمین فیصل سبزواری نے کہا کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ سام سنگ نے باقاعدہ طور پر اپنی پیداوار شروع کردی ہے، یہ جان کر خوشی ہوئی کہ کمپنی نے 4 ماہ کی قلیل مدت میں پیداوار بھی شروع کردی۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    فیصل سبزواری نے سام سنگ پروڈکش یونٹ اور گاڑیوں کے ایک مینوفیکچرنگ پلانٹ کا دورہ کرنے والی سینیٹ کمیٹی کے وفد کی سربراہی کی اور ایکسپورٹ پراسسنگ زون کے ساتھ اجلاس بھی کیا –

    انہوں نے بتایا کہ نے بتایا کہ ہم نے پروڈکشن یونٹ کا دورہ کیا جو جدید خطوط پر استوار ہے اور ظاہر ہے کہ مقامی افرادی قوت، مقامی صنعت کی سپورٹ اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سازگار ماحول اس کامیابی کا سبب بنا لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ ہمیں صرف اسمبلنگ میں ترقی سے آگے بڑھ کر صنعت کو مقامی بنانے تک جانا چاہیے۔

    خیال رہے کہ ملک میں موبائل فونز کی مقامی پیداوار کو بہت فروغ ملا ہے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران مقامی مینوفیکچرنگ پلانٹ سے موبائل فونز کی پیداوار دگنی ہو کر ایک کروڑ 88 لاکھ 70 ہزار کی سطح پر جا پہنچی جبکہ درآمد شدہ فونز کی تعداد 4 کروڑ 50 لاکھ تھی۔

    تاہم موبائل فونز کی مقامی پیداوار میں اضافے کے باوجود درآمدت اس سے بھی بلند سطح پر رہی۔

    پی ٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران 64 کروڑ 46 لاکھ 70 ہزار ڈالرز مالیت کے فونز درآمد کیے گئے جس میں گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 55 کروڑ 79 لاکھ 61 ہزار ڈالر کے مقابلے 15.54 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    بلدیاتی ملازمین کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے، وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ

  • ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے صارفین پر بغیر رضامندی کسی کی تصاویر شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر نے منگل کے روز اعلان کیا کہ کمپنی کی جانب سے عام صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

    کمپنی نے کہا کہ عام افراد کی تصاویر یا ویڈیوز ان کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا پرائیویسی کی خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1465683093436739588?s=20
    رپورٹس کے مطابق نئے قوانین کے تحت وہ لوگ جو عوامی شخصیت(Public Figure) نہیں ہیں، ٹوئٹر سے ان کی تصاویر یا ویڈیوز ہٹانے کے لیے کہہ سکتے ہیں جنھیں ان کی اجازت کے بغیر پوسٹ کیا گیا ہو۔

    بیان کے مطابق اگرچہ ہر فرد میڈیا فائلز کو شیئر کرنے پر متاثر ہوسکتا ہے مگر اس کا اثر خواتین، سماجی کارکنوں اور اقلیتی برادریوں کے افراد پر زیادہ ہوتا ہے۔

    جیک ڈورسے کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان،ٹوئٹر کا نیا سی ای او کون ہوگا؟

    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1465683094581792771?s=20

    کمپنی نے بتایا کہ اگر کوئی صارف کسی تصویر یا ویڈیو کو رپورٹ کرتا ہے جس میں پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ٹوئٹر کی جانب سے میڈیا فائلز کو ہٹا کر مختلف آپشنز کے تحت ایکشن لیا جائے گا ان اقدامات میں صارفین کے مواد کو ریپلائیز اور سرچ رزلٹس میں نیچے لایا جاسکتا ہے یا اس فرد کو ٹوئٹ ڈیلٹ کرنے کا کہا جائے گا۔

    ٹوئٹر کے پاس پالیسی کی خلاف ورزی پر صارفین کو ہمیشہ کے لیے معطل کرنے کا اختیار بھی ہوگا اس پالیسی میں کچھ استثنیٰ بھی ہے جیسے عوامی شخصیات کے پرائیویٹ میڈیا کو اس میں کور نہیں کیا جائے گا یا ایسی تصویر، ویڈیو کو ٹوئٹ میں شیئر کیا جائے گا جو عوامی مفاد میں ہوآسان الفاظ میں اگر وہ میڈیا فائلز اہم ہے تو ٹوئٹر کی جانب سے اسے پلیٹ فارم پر برقرار رکھا جائے گا۔

    مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    کمپنی کی جانب سے مختلف عناصر جیسے ٹی وی یا اخبارات میں تصاویر کی موجودگی کو بھی مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا مگر کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اگر عوامی شخصیات یا دیگر افراد کی نجی تصاویر یا ویڈیوز کو شیئر کرنے کا مقصد ان کو ہراساں کرنا یا چپ کرانا ہوگا تو ٹوئٹر کی جانب سے ان فائلز کو ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔

    ٹوئٹر میں کافی عرصے سے صارفین کی جانب سے دیگر افراد کی نجی تفصیلات جیسے رہائشی پتے، فون نمبر، شناختی دستاویزات یا مالیاتی تفصیلات پر پابندی عائد کررکھی ہےاب لوگوں کی نجی میڈیا فائلز کے حوالے سے پالیسی کا نفاذ 30 نومبر سے ہورہا ہے جس کا مقصد سیفٹی پالیسیوں کو انسانی حقوق کے معیار کے مطابق لانا ہے۔

    خیال رہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے نیٹ ورک پالیسی اور قوانین میں نئی پابندیاں سی ای او کی تبدیلی کے ایک دن بعد سامنےآئی ہیں۔

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

  • ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ایک چھوٹی سی تبدیلی ،تحریر: عفیفہ راؤ

    ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گی

    سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
    سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
    جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
    پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
    اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔
    اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔

    جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
    یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔
    اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

    لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسے
    Dimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگرDimorphosکے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000
    میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔

    ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔
    ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔

  • زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    زیبرا تو آپ نے دیکھا ہوگا مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ سائنس نے اس کا بہت دلچسپ جواب دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : زیبرا کی کھال کے نیچے جلد سیاہ ہوتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پٹیوں کی سیاہ یا سفید رنگت کا اس سے کچھ لینا دینا ہے زیبرا کے زیادہ تر بال سفید ہوتے ہیں بشمول پیٹ اور ٹانگ کے اندرونی حصے میں، جہاں پٹیوں کا اختتام ہوتا نظر آتا ہے۔

    اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کھال کی رنگت سفید ہے جبکہ پٹیاں سیاہ، مگر لائیو سائنس کے مطابق یہ اس سوال کو دیکھنے کا غلط نظریہ ہے اصل جواب میلا نوسائٹس نامی خلیات میں چھپا ہوا ہے یہ خلیات رنگت بنانے والے ہارمون میلانین کو بناتا ہے جو زیبرا اور تمام جانداروں کے بالوں اور جلد کی رنگت کا تعین کرتا ہے۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    جب زیبرا کی کھال اگتی ہے تو میلانوسائٹس جڑوں کو حکم دیتا ہے کہ بالوں کی رنگت ہلکی ہونی چاہیے یا گہری، یہ تعین جسم کے حصوں کی بنیاد پر کرتا ہے یہ خلیات زیادہ میلانین والی سیاہ کھال کو تشکیل دیتا ہے جس سے زیبرا کا مخصوص پیٹرن ہماری آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔

    زیبرا کے سفید بالوں میں میلانین نہیں ہوتا اور میلانوسائٹس سے بنتے ہیں جو ٹرن آف ہوجاتا ہے آسان الفاظ میں زیبرا کے اگنے والے بال قدرتی طور پر سیاہ ہوتے ہیں جو اس جانور کو سیاہ جلد کے ساتھ سفید پٹیاں فراہم کرتے ہیں یہ تو زیبرا کی پٹیوں کے معمے کا ایک جواب ہے، سائنسدان اب تک نہیں جان سکے کہ یہ پٹیاں ہوتی کس لیے ہیں۔

    ایک عام خیال تو یہ ہے کہ اس سے زیبرا کو شکاریوں کو الجھن میں ڈالنے میں مدد ملتی ہےایک تحقیق میں بھی اس خیال کو سپورٹ کیا گیا تھا کہ یہ پٹیاں حشرات الارض کو دور رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، جبکہ اسٹائلش انداز اضافی بونس ہے۔

    بھارتی گونگی بہری شادی شدہ سکھ خاتون کوگونگے بہرے پاکستانی کے ساتھ شادی مہنگی…

    دہائیوں سے کچھ سائنسدان دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دھاریاں اس چرندے کو درندوں سے بچانے کے لیے کیموفلاج کا کام کرتی ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ کیڑوں کو دور رکھتی ہیں ہنگری کے سائنسدانوں نے 2019 میں اس معمے کا حل جاننے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ان کے مطابق یہ سیاہ و سفید دھاریاں نہ صرف زیبرا کو خون چوسنے والی ہارس فلائی (گھڑ مکھی یا خرمگس) سے تحفظ فراہم کرتی ہیں بلکہ مختلف جنگلی قبائل نے بھی اس سے یہ ٹرک سیکھ کر جسم کو رنگ کر خون چوسنے والے کیڑوں کے تکلیف دہ ڈنک سے خود کو بچانا سیکھا۔

    اس خیال کو آزمانے کے لیے محققین نے مختلف پتلوں کو ایسی سفید دھاریوں سے رنگ دیا جو کہ دنیا بھر میں قبائلی افراد اپنے جسم پر بناتے ہیں انہوں نے دریافت کیا کہ ایسا کرنے پر ہارس فلائی پتلوں سے دور رہیں۔

    یہ تجربات ہنگری میں کیے گئے جہاں ہارس فلائی کی متعدد اقسام موسم گرما میں عام ہوتی ہیں اور محققین کے مطابق ان دھاریوں سے روشنی بے ترتیب ہوجاتی ہے جس سے ان کیڑوں کے لیے اپنے ہدف کو دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    رائل سوسائٹی جرنل میں شائع تحقیق کےمطابق انسانی ماڈل ان خون چوسنے والے کیڑوں کے لیے سفید دھاریوں والے ماڈل کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ پرکشش ثابت ہوتے ہیں ایوٹووس یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ممالیہ جانداروں میں سب سے نمایاں دھاریاں زیبرا میں ہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہارس فلائی کی نظر میں ان کی کشش بہت کم ہوجاتی ہے

    امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو رہائی مل گئی

  • موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    موبائل کمپنیز کیلیے خطرے کی گھنٹی بج گئی. تحریر:عفیفہ راؤ

    ایلن مسک جو دنیا کا امیر ترین آدمی ہے وہ خود کوکئی فیلڈز میں منوا چکا ہے اس پر تنقید کرنے والے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایلن مسک میں بچپن سے ہی کاروبار اور نت نئے تجربے کرنے صلاحیت تھی۔ لیکن آج کی اس ویڈیو میں۔۔ میں آپ کو بتاوں گا کہ اب وہ کیا نیا کرنے جا رہا ہے۔ وہ کونسی انڈسٹری ہے جس میں اب ایلن مسک انقلاب لانے والا ہے۔بارہ سال کی عمر میں ایک ویڈیو گیم بنا کر پانچ سو ڈالرز میں فروخت کرنے سے ایلن مسک نے اپنے کاروبار کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پھر سولہ سال کی عمر میں اس نے اپنے بھائی اور کزن کے ساتھ مل کر ایکArcadeبنانے کی کوشش بھی کی۔ پھر کینیڈا میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نےZip 2نامی کمپنی بنائی، پھرPayPalSpace Xوغیرہ وغیرہ۔ یہ کہانی تو آپ سب نے ضرور سن رکھی ہو گی کہ اس نے کیا کیا کارنامے کر ڈالے۔لیکن ایلن مسک کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ جو سوچتا ہے یا جس چیز کو کرنے کی ٹھان لیتا ہے پھر وہ اسے کرکے دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جتنے بھی کاروبار ہیں ان میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے اور وہ اس کی کمپنیوں کے بلند عزائم ہیں وہ روزمرہ کے مسائل کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے خوابوں کو حقیت کا رنگ دینا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ایلن مسک اس وقت جو مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ کوئی معمولی مسائل نہیں ہیں۔ وہ دراصل انسانیت کو لاحق کو تین خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔پہلا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی کا ہے جو انسانوں کی زندگیوں کو آئے روز کم کرتی جا رہی ہے اور اس کا مقابلہ وہ ٹیسلا کی ماحول دوست الیکٹرک کاروں سے کرنا چاہ رہا ہے۔دوسرا مسئلہ انسانیت کی بقا کا ہے اس کے خیال میں اگر ہم صرف اس سیارے تک ہی محدود رہ گئے تو کوئی تباہ کن واقعہ انسانیت کو ختم کر سکتا ہے۔ اسی لیے سپیس ایکس مریخ تک پہنچ کر وہاں نئی آبادیاں بسانے کے لئے کام کر رہی ہے۔تیسرا خطرہ جس کا وہ مقابلہ کر رہا ہے وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت ہے کیونکہ اس کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو کافی سنجیدہ خطرہ ہے۔ اسی لیے اس نے 2015 میں ایک فلاحی تنظیمOpen AIبنائی جو کہ مثبت انداز کی مصنوعی ذہانت کے فروغ کا کام کرتی ہے۔

    لیکن اس دنیا میں کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ ایلن مسک کو اس کے متنازع بیانات کی وجہ سے نا پسند کرتے ہیں مگر آپ اسے پسند کریں یا ناپسند، آپ کو یہ ماننا ضرور پڑے گا کہ وہ دنیا کے ان چند افراد میں سے ایک ہے جس کی نہ صرف نظریں ستاروں کی جانب ہیں بلکہ اس کے قدم بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔اس لئے جب ایلن مسک کسی بھی نئی صنعت میں داخل ہوتا ہے تو سب کو پہلے سے ہی یقین ہوتا ہے کہ اب یہ اس مارکیٹ میں پہلے سے موجود بڑے بڑے Giantsکو ہلانے والا ہے۔ اور اب ایلن مسک جس انڈسٹری میں داخل ہو رہا ہے وہ ہے سمارٹ فون کی انڈسٹری۔ بہت جلد ایلن مسک کی مشہور و معروف ٹیسلا کمپنی اپنا سمارٹ فون لانچ کرنے جا رہی ہے۔ جو کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ ابھی تک یہ تینوں اسمارٹ فون کے بادشاہ ہیں یہ تینوں کمپنیاں ہر تین ماہ بعد لاکھوں فون بناتی ہیں اور بے تحاشا منافع کماتی ہیں۔ ایپل کا آئی فون، لیب ٹاپ اور دیگر پرسنل الیکٹرانکس دنیا بھرمیں ایکStatus symbolبن گئی ہیں اور یہاں تک بھی خبریں رپورٹ ہوتی رہی ہیں کہ ان مہنگے فونز کو حاصل کرنے کے شوق میں کئی لوگوں نے اپنا گردہ تک بیچ ڈالا تاکہ اپنی پسند کا iphone
    خرید سکیں۔Samsungکے فونز کی اپنی خوبیاں ہیں جو لوگ ٹیبلٹ استعمال کرنے کے شوقین ہیں وہ آجکل Samsungخریدتے ہیں تاکہ فون کی جگہ بھی استعمال ہو جائے اور اسی کو ٹیبلیٹ بنا کر بھی استعمال کیا جا سکے۔ ہواوے کے فونز اپنے بہترین کیمروں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اس کا بھی ایکFolding phoneحالانکہ پچھلے کچھ عرصے میں اسےAndroid operating systemکو تبدیل کرکے اپنا سسٹم لگانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن پھر بھی یہ دنیا میں فونز بیچنے والی تیسری بڑی کمپنی ہے۔اور آنے والے دنوں میں ان تینوں کے لئے امتحان یہ ہے کہ کیا یہ اپنے فونز پر ٹیسلا کےنئے سمارٹ فون کا حملہ کیسے برداشت کریں گے۔

    ٹیسلا کے سمارٹ فون کا نام ہے Tesla Model Piاور اس فون کی جو بھی انفارمیشن سامنے آئی ہیں وہ بہت ہی حیران کن ہے۔ اس میں جو ٹیکنالوجی ٹیسلا متعارف کروانے جا رہی ہے وہ اب سے پہلے کسی سمارٹ فون میں استعمال نہیں ہوئی ہیں۔ دیکھنے میں تو اس کی شکل کافی حد تک آئی فون سے ملتی جلتی ہے لیکن اپنے فیچرز کے حساب سے یہ مارکیٹ میں موجود اب تک کے سمارٹ فونز سے کافی مختلف ہو گا۔ اور اس سمارٹ فون کی جو سب سے بڑی کوالٹی ہو گی وہ یہ کہ یہ سٹارلنک کے ساتھ Intigratedہوگا۔ سٹارلنک دراصل ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا ہی ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے۔ جس کا مقصد پوری دنیا کو سستا اور تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ساٹھ فیصد userہر وقت انٹرنیٹ کے ساتھ
    connectہوتے ہیں اور ہر ایک انسان جو انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے انٹرنیٹ کی سپیڈ سب سے تیز ہو۔ ابھی تک تو انٹرنیٹ کی فراہمی کیلئے زیادہ تر کیبل، ٹاور اور وائی فائی سگنل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن سٹار لنک پروجیکٹ کے تحت اسپیس ایکس نےLow Earth Orbitمیں کئی ہزار سیٹلائٹس لانچ کی ہیں۔ جو زمین کے قریب ہونے کی وجہ سےرابطہ کرنے کیلئے کم Latency استعمال کرتی ہیں جو 25 یا 35 ملی سیکنڈ ہونے کی وجہ سے ان کی پرفارمنس کیبل اور فائبر آپٹک کیبل سے کہیں زیادہ ہے- سٹار لنک
    Faster laser transmission کواستعمال کرتے ہوئے ایک سیٹلائیٹ سے 1TBفی سیکنڈ ٹرانسمیشن کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں چالیس ہزار لوگوں کو4Kکوالٹی میں ویڈیو دکھا سکتا ہے- جس کا مطلب ہے کہ سٹار لنک انٹرنیٹ کی سپیڈ تقریبا 1GBفی سیکنڈ ہو گی جو کہ عامUserکی روز مرہ زندگی میں ایک انقلاب سے کم نہیں ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں پہاڑوں پر ہوں ریگستانوں میں ہوں یا سمندر کے بیچ میں ہوں۔ آپ ٹیسلا کے پائی فون سے تیز ترین انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے۔ اور یہ ایک ایسا فیچر ہے جواس فون کو باقی تمام فونز سے منفرد بنا رہا ہے۔اس کے علاوہ جو اس فون کی سب سے Different qualityہو گی وہ نیورالنک ہے۔ ابھی تک ہم فونز کو ٹچ کرکے یا بول کر آپنی آواز کے زریعے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں اگر آپ کو ایسا فون مل جائے جو صرف آپ کی سوچ سے ہی چلنے لگے تو یہ کتنا حیران کن ہے۔ اس فون میں ایک Brain computer interfaceاستعمال کیا جارہا ہے جو کہ آپ کے Mindکو پڑھ کر کام کرنے کے قابل ہوگا۔

    اس کے علاوہ اس فون میں تیسری سب سے منفرد چیز یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ اپنی ٹیسلا کار کو بھی آپریٹ کر سکتے ہیں۔ ابھی لوگ ٹیسلا کاروں کو اپنے فون میں موجود ٹیسلا ایپ سے کنٹرول کرتے ہیں لیکن سوچیں جب آپ کے پاس فون بھی ٹیسلا کا ہوگا اور آپ کی کار اس کے ساتھ Integratedہوگی تو اس کی سروس کا کیا معیار ہو گا۔اور اس میں ایک اور جو حیرت انگیز چیز ہے وہ سولر چارجنگ ہے یعنی آپ اگر اپنے فون کا سولر چارجنگ موڈ آن کرتے ہیں تو وہ خود بخود چارج ہوتا رہے گا آپ کو بیٹری Lowہونے یا ہر جگہ چارجر ڈھونڈنے کی بھی ٹینشن نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ یہ فون آپ کا Source of earning بھی بن سکے گا کیونکہ اس میں کرپٹو کرنسی Mining abilitiesبھی موجود ہوں گی جس سے آپ Mars coinsکی Mining
    کر سکیں گے۔اور یہ ایک ایسا Revolutionry phoneہوگا جس کو آپ زمین کے علاوہ مریخ پر بھی استعمال کر سکیں گے۔ٹیسلا پائی فون کا caseبنانے کے لئے Photo chroming coating
    کا استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی میں مختلف رنگوں کے ساتھ چمکے گا۔اس کی بیک پر چار کیمرے ہوں گے۔ فرنٹ پر بھی کیمرہ ہوگا لیکن وہ نظر نہیں آئے گا کیونکہ یہ اسکرین کے نیچے ہو گا لیکن اس کا رزلٹ ویڈیوز کالز اور سیلفی کے لئے بہترین ہو گا۔ کیمروں کے ساتھ بیک پر ٹیسلا کا لوگو بھی ہوگا۔یعنی یہ ایکTruely revolutionary smart phoneہوگا۔یہ اس فون کے بارے میں اب تک ہونے والی تمام لیکس اور انفارمیشن ہیں جو کہ اس کے ٹریلر سے ملتی ہیں جو ٹیسلا کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ اور یقینا یہ تمام خوبیاں ٹیسلا کے اس پائی فون میں موجود بھی ضرور ہوں گی کیونکہ جب ٹیسلا راکٹس بنا سکتا ہے لوگوں کو خلا کی سیر کروا سکتا ہے مریخ تک پہنچ سکتا ہے تو اس طرح کا فون بنانا ایلن مسک کے لئے کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔اس لئے کہا یہ جا رہا ہے کہ AppleSamsungاورHuaweiکے لئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اگر انھوں نے خود کو اپ گریڈ کرکے مقابلے کے لئے تیار نہ کیا تو ان کا حال بھی وہی ہوگا جوNokiaBlackberryاورمائیکروسافٹ کے فونز کا ہوا ہے

  • چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی ایٹمی بجلی گھر” تیار کر لیا

    چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی ایٹمی بجلی گھر” تیار کر لیا

    بیجنگ: چین نے خلا میں استعمال کےلیے ایٹمی بجلی گھر کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا ہے جس میں ایک میگاواٹ بجلی بنائی جا سکے گی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ اب تک کا طاقتور ترین خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ کے زیرِ تکمیل خلائی ایٹمی بجلی گھر سے بھی 100 گنا زیادہ بجلی پیدا کرسکتا ہے ناسا اپنا نیا ایٹمی بجلی گھر 2030 تک چاند کی سطح پر اُتارنا چاہتا ہے۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    خبر کے مطابق، اس خلائی ایٹمی بجلی گھر کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں کیونکہ چینی حکومت نے اپنے خلائی پروگرام میں ایٹمی بجلی گھروں سے متعلق زیادہ تر معلومات خفیہ رکھی ہوئی ہیں البتہ اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ اس ایٹمی بجلی گھر کا مقصد چاند، مریخ اور دور دراز سیاروں پر بھیجے جانے والے مجوزہ خلائی جہازوں کو لمبے عرصے تک توانائی فراہم کرنا ہے۔

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    اس منصوبے پر چینی حکومت کی فنڈنگ سے 2019 میں کام شروع ہوا تھا جبکہ حالیہ چند دنوں میں اس نے اپنے پہلے پروٹوٹائپ کی شکل میں پہلا سنگِ مِیل (مائل اسٹون) عبور بھی کرلیا ہے یہ خاص طور پر ان حالات اور مقامات کےلیے مفید ہوگا جہاں سورج کی روشنی یا تو زمین کے مقابلے میں بہت مدھم ہوتی ہے یا پھر اس میں بار بار اتنا زیادہ اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے کہ شمسی توانائی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق

    چین کا منصوبہ 2023 سے 2030 تک بالترتیب چاند کے تاریک حصے پر (جو ہمیشہ زمین کے مخالف سمت میں رہتا ہے) اور مریخ تک بڑی تعداد میں خلائی جہاز بھیجنا ہے۔ علاوہ ازیں، وہ پہلے ہی 2030 تک اوّلین انسان بردار پرواز بھی مریخ تک بھیجنے کا اعلان کرچکا ہے۔

    خبر میں ایک چینی ایٹمی سائنسدان کی شناخت ظاہر کیے بغیر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خلائی ایٹمی بجلی گھر کو مختصر جسامت کے ساتھ زیادہ بجلی پیدا کرنے کے قابل بنانے کےلیے ٹیکنالوجی کو غیرمعمولی ترقی دی گئی ہے۔

    ایئربس نے نیا طیارہ A350F لانچ کر دیا

    واضح رہے کہ اب تک خلا میں استعمال کےلیے جتنے بھی ایٹمی بجلی گھر بنائے گئے ہیں وہ صرف چند سو واٹ بجلی بنانے کے قابل رہے ہیں جبکہ 10 کلوواٹ سے 300 کلوواٹ بجلی بنانے کے بیشتر منصوبے اب تک اپنی تکمیل کے مراحل طے کررہے ہیں اس لحاظ سے یہ دنیا کا پہلا خلائی ایٹمی بجلی گھر بھی ہے جو ایک میگاواٹ (1000 کلوواٹ) جتنی بجلی بنائے گا-

    چینی خلائی ایٹمی بجلی گھر کا انکشاف ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ نے اپنے نمائندہ بیجنگ اسٹیفن چین کی ایک تازہ خبر میں کیا ہے-

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

  • ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ

    ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ

    اسلام آباد :ایس سی او اور زونگ کے مابین آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کی ترقی کے لئے معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن اور چائنا موبائل پاکستان(Zong) کے مابین آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ٹیلی کام کے مختلف منصوبوں اور سرگرمیوں کے لئے MOU پر دستخطوں کی تقریب منعقد ہوئی گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر میں ایس سی او سب سے بڑی اور نمایاں ترین ٹیلی کام سروسز مہیا کرنے والی کمپنی ہے۔

    تقریب میں ایس سی او کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شاہد صدیق ،زونگ کے سی ای او وانگ ہوا، زونگ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر لو جیان ہوئی اور ایس سی او اور زونگ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

    نادرا نے ڈیٹا ہیکنگ سے متعلق ریمارکس پر ایف آئی اے عہدیدار سے وضاحت طلب کر لی

    معاہدے کے تحت زونگ اپنی سٹریٹجک سرگرمیوں کے ذریعے ایس سی او کے تعاون سے کام کرے گی کیونکہ SCO آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں پہلے سے ہی بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے ۔ ایسے ہی SCO بھی وسیع البنیادرول آﺅٹ پلان کے لئے زونگ کو بیک ہال کنیکٹوٹی کی فراہمی کرے گی۔

    دونوں اداروں کو پہلے سے ہی مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے جس کا آغاز 2008 میں ہوا تھا 2011میں دونوں اداروں کے درمیان رومنگ کے منصوبے پر بھی عملدرآمد ہوا تھا۔

    حتساب عدالت اسلام آباد کے ایک اور جج نے چیئرمین نیب کو خط لکھ دیا

    اس موقع پر میجر جنرل شاہد صدیق نے کہا کہ آج ہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے اشتراک عمل کو بڑھا رہے ہیں تاکہ ہم مل کر گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو رابطوں کی خوب سے خوب تر سہولتیں فراہم کر سکیں اور ہماری خواہش ہے کہ دوسری سیلولر کمپنیوں کے ساتھ مل کر ہم گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو جدید دور کی وہی سہولتیں فراہم کر سکیں جو پاکستان کے بڑے شہروں کو حاصل ہیں۔

    پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر کمی کا مطالبہ

  • موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    موبائل کا دور بھی جانے والا ہے، تحریر: عفیفہ راؤ

    گزشتہ چند سالوں میں موبائل فونز نے اتنی ترقی کی ہے کہ اب ہر انسان وہ چاہے دنیا کا امیر ترین شخص ہو یا غریب ریڑھی والا، کوئی ملٹی نیشنل فرم میں کام کرنے والی خاتون ہو یا پھر گھروں میں کام کرنے والی ملازمہ، ستر سال سے زائد عمر کا بوڑھا انسان ہو یا کوئی بچہ ہو آپ کو ہر ایک سمارٹ فون استعمال کرتا ضرور نظر آئے گا۔ یہاں تک کہ اب یہ انسانوں کی ضرورت سے زیادہ ایک عادت بن گیا ہے کہ ہر انسان نے اس کو تمام وقت اپنے پاس رکھنا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے آخری کام یہی ہوتا ہے کہ فون پر آئے تمام نوٹیفکیشنز کولازمی چیک کرنا ہے اسی طرح صبح اٹھ کر بھی سب سے پہلے موبائل چیک کرنا ہے کہ کہیں کوئی ضروری میسج تو نہیں آیا۔

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موبائل فون یا سمارٹ فون کی جگہ اب کوئی نیا Gadget ہو جو یہ تمام کام کرے جو سمارٹ فون کرتا ہے۔ اب ایسے Gadget کا ہمیں انتظار نہیں کرنا کہ وہ کب ایجاد ہو گا اور کب ہم تک پہنچے گا بلکہ وہ Gadget بن بھی چکا ہے اور وہ مارکیٹ میں دستیاب بھی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جیسے سمارٹ فون رکھنا اب انسانوں کی مجبوری بن چکا ہے تو کیا یہ نیا Gadgetبھی اسی طرح ہماری زندگیوں میں اپنی جگہ بنا سکے گا یا نہیں۔۔۔سمارٹ فون ایک ایسی ڈیوائس ہے جس کے ساتھ ہم اپنے دن کا زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں اور جس کے ہمارے استعمال میں آنے کے بعد بہت سی ایسی ڈیوائسز ہیں جو کہ ہم نے اب استعمال کرنا چھوڑ دی ہیں۔ جیسے Wrist watches،Cameras،Alarm clock اور چارج لائٹ وغیرہ۔۔۔ اب دنیا بھر میں کروڑوں لوگ الارم کلاک کی بجائے موبائل الارم استعمال کرتے ہیں جو وقت دیکھنے کے لئے گھڑی کا استعمال نہیں کرتے بلکہ فون پر وقت دیکھ لیتے ہیں بلکہ کلینڈر بھی فون پر ہی کھول کر دیکھا جاتا ہے۔ کیمروں کی جگہ بھی موبائل فون کا کیمرہ ہی استعمال ہوتا ہے اب کیمرے صرف پروفیشنل لوگ خریدتے ہیں ورنہ ہر ایک کے ہاتھ میں آپ کو سمارٹ فون کا کیمرہ ہی نظر آئے گا۔ اب کوئی بھی ٹارچ لائٹ الگ سے اپنے پاس نہیں رکھتا بلکہ موبائل میں موجود ٹارچ سے کام چلایا جاتا ہے۔ سٹاپ واچ اور آڈیو ریکارڈر بھی موبائل میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ آج کل کے بچوں نے ہو سکتا ہے کہ کاغذوں پربنے ہوئے نقشے کبھی دیکھے ہی نہ ہوں لیکن ان کو سمارٹ فون میں موجود گوگل میپ کا ضرور پتہ ہے کہ وہ کیسے استعمال کرنا ہے۔ خواتین نے الگ سے اپنے ہینڈ بیگز میں شیشہ رکھنا چھوڑ دیا ہے شیشے کا کام بھی سمارٹ فون کی ڈسپلے سکرین یا پھر فرنٹ کیمرے سے لیا جاتا ہے۔ I-pod اور ریڈیو کا کام بھی سمارٹ فونز نے ہی سنبھال لیا ہے۔ یہاں تک بہت سے ایسے کام جو ہم پہلے صرف کمپیوٹرز پر کرتے تھے ان کے لئے بھی اب ہم سمارٹ فون ہی استعمال کرتے ہیں جیسے ای میلز کے لئے، آن لائن شاپنگ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسمارٹ فونز نے ہمارا تصور ہی بدل دیا ہے کہ فون ہوتا کیا ہے اور اب وہ صرف کال کرنے والی سادہ ڈیوائس نہیں، درحقیقت ایک اسمارٹ فون مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا منی کمپیوٹر ہے جسے ہم اپنی زندگیوں میں بہت سارے کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لیکن اب فیس بک نے ایک ایسی ایجاد کی ہے جو کہ بہت ہی حیران کن ہے۔ جس طرح پہلے بہت سارے Gadgetsکے فنکشنز سمٹ کر ایک سمارٹ فون میں آگئے تھے ویسے ہی اب فیس بک نے گلاسز بنانے والی بہت ہی مشہور کمپنی Ray Banکے ساتھ مل کر ایسے گلاسز تیار کئے ہیں جس میں وہ سب فنکشنز ایڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ ہم اپنے سمارٹ فونز سے کرتے ہیں۔

    فیس بک کے ان اسمارٹ گلاسز کا نام Ray ban storiesہے۔ یہ اسمارٹ گلاسز دیکھنے میں عام چشمے جیسے ہی نظر آتے ہیں مگر ان سے اسمارٹ فونز جیسے کافی کام کیے جاسکتے ہیں۔
    ان اسمارٹ گلاسز میں پانچ پانچ میگا پکسل کے دو کیمرے موجود ہیں جن سے ہاتھ کا اشارہ کرکے تصاویر کھینچی جاسکتی ہیں اور ویڈیو بھی ریکارڈ کی جاسکتی ہیں۔ ساتھ ہی دونوں کیمروں کی مدد سے یوزر 3D effectsکو تصویروں اور ویڈیوز ایپ میں اپ لوڈ کرکے ایڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور ان تصویروں اور ویڈیوز کو فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام پر شیئر بھی کیا جا سکتا ہے۔ لائیو اسٹریم اور فیس بک پاور اے آئی سے اور بھی بہت سے کام کئے جا سکتے ہیں۔ اسمارٹ گلاسز میں کیمرے کے ساتھ ساتھ سپیکر اور مائیکروفون بھی ہے جس سے ہم گلاسز کے ذریعے فون کال بھی سن سکیں گے اور اس پر اپنی پسند کا میوزک بھی سنا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی ان گلاسز کے یہ تمام فنکشنز استعمال کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کو کسی آئی او ایس یا اینڈرائیڈ ڈیوائس سے کنکٹ کیا جائے اور فیس بک کی نئی View appکی مدد سے رے بین گلاسز سے کھینچی جانے والی تصاویر یا ویڈیوز یا میڈیا فائلز کو فونز میں ٹرانسفربھی کیا جاسکتا ہے۔اور استعمال میں یہ سمارٹ گلاسز اتنی ہلکی ہیں کہ ان کا وزن پچاس گرام سے بھی کم ہے اور یہ Leather Hard shell charging caseکے ساتھ ملتے ہیں اور کمپنی کا دعوی ہے کہ سمارٹ گلاسز کی بیٹری پورا دن کام کرتی ہے۔

    گلاسز میں 2 بٹن بھی ہے جن میں سے ایک میڈیا ریکارڈ کرنے کا کام کرتا ہے اور دوسرا آن آف سوئچ ہے۔گلاسز کی رائٹ سائیڈ میں ایک ٹچ پیڈ ہے جس سے مختلف کام جیسے Volume adjustmentیا فون کال ریسیو کی جا سکتی ہے۔گلاسز میں کمیرے کے ساتھ وائٹ ایل ای ڈی لائٹ ہوتی ہے جو ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے آن ہو جاتی ہے جس سے آس پاس موجود لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ویڈیو ریکارڈ کی جارہی ہے۔یہ اسمارٹ گلاسز ابھی واٹر پروف نہیں ہیں توان کو استعمال کے دوران پانی سے بچانا ہوگا۔یہ اسمارٹ گلاسز رے بین کے 3 کلاسیک اسٹائلز میں دستیاب ہیں اور مختلف رنگوں اور lens کے ساتھ خریدے جاسکتے ہیں۔ اور ان گلاسز کو نظر کے چشمے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔2020میں فیس بک کی آمدنی86 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی جس کے بعد کمپنی اپنا زیادہ ترسرمایہVirtual and augmented realityپر لگا رہی ہے۔Virtual realityدراصل ایک ایسا تجربہ ہے جو انسانوں کو ڈیجیٹل چیزوں کو حقیقت سے قریب تر دکھانے کے ساتھ انہیں محسوس بھی کرواتا ہے۔اس کے علاوہ اسمارٹ گلاسز میں Virtual assistantکی خصوصیت بھی ہے جس کے ذریعے ہاتھ کا اشارہ کیے بغیراستعمال کرنے والا صرف اپنی آواز کی مدد سے ہی تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتا ہے۔لیکن ان سمارٹ فونز کی طرح ان گلاسز کو ہم ہر جگہ استعمال نہیں کر سکتے اس کے حوالے سے فیس بک نے ایک مکمل گائیڈ لائن بھی جاری کی ہے جس کے مطابق ان گلاسز کو نجی مقامات مثلا باتھ روم وغیرہ میں استعمال کرنا منع ہے اس کے علاوہ اسے غیر قانونی عمل جیسے ہراساں کرنا یا حساس معلومات یعنی پن کوڈز وغیرہ کے حصول کے لیے استعمال کرنا بھی منع ہے۔بہت سے فنکشنز تو ابھی بھی ان گلاسز میں ایڈ ہیں لیکن آنے والے دنوں میں یہ سپر گلاسز یاداشت کو بڑھانے، غیر ملکی زبانوں کا فوری ترجمہ، ارگرد ہونے والی بات چیت یا آوازوں کو کانوں میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ایک نظر میں انسان کے جسمانی درجہ حرارت کے بارے میں بھی بتانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔Facial recognationکی ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ اسمارٹ گلاسز ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کی بنیاد پر سامنے والے شخص کو نہ صرف پہچان سکیں گے بلکہ اس کی دیگر معلومات تک رسائی بھی حاصل کر سکیں گے۔جس کی وجہ سے ان سمارٹ گلاسز پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کو اختیار مل جائے گا کہ وہ دوسروں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے انھیں تنگ کر سکیں۔ لیکن فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی ایشو سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اور ان کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کے لئے جو ضروری اقدام ہوں گے وہ لازمی کئے جائیں گے۔ان سمارٹ گلاسز کو بنانے والے سائنسدانوں کے مطابق اے آر ٹیکنالوجی پر مبنی یہ گلاسز بہت جلد اسمارٹ فون کی جگہ لے لیں گے اور روزمرہ کی کمپیوٹنگ ڈیوائس بن جائیں گے۔ خاص طور پر دس سے پندرہ سال کے اندر لوگ اب فونز کی جگہ یہ اسٹائلش چشمے ہی پہننا پسند کریں گے۔جس کے بعد ہم کہہ سکیں گے کہ جیسے سمارٹ فون نے دوسرے Gadgetsکو نگل لیا تھا اور ان کی ضرورت ختم کر دی تھی اسی طرح اب آنے والے سالوں میں انسانوں کی صرف سمارٹ فونز پر Dependenceختم ہو جائے گی۔ اور ابھی تو صرف گلاسز ایجاد ہوئے ہیں جبکہ چانسز تو یہ بھی ہیں کہ آنے والے سالوں میں اور بھی Smart gadget ایجاد ہو جائیں جو کہ سمارٹ فون پر ہمارا انحصار بالکل ختم ہی کر دیں۔