Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    روس کا خلا میں میزائل سے سیٹلائٹ تباہ کرنے کا تجربہ،امریکا کی شدید مذمت

    روس نے خلا میں اپنے سیٹلائٹ کو میزائل سے تباہ کرنے کا تجربہ کیا ہے جس پر امریکا کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے اسے لاپرواہی اور خطرناک عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس رویے کو “برداشت نہیں کرے گا”۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ نے پیر کے روز روس کے اینٹی سیٹلائٹ ٹیسٹ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی مفادات کو خطرے میں ڈالنا قرار دیا ہے یو ایس اسپیس کمانڈ کے مطابق تجربے کے باعث بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود عملے کے ارکان کو حفاظت کے لیے خلائی جہاز میں گھسنا پڑا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے روسی اقدام کو غیرذمہ دارانہ اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے سے سیٹلائٹ کے پندرہ سو سے زائد بڑے اور لاکھوں چھوٹے ٹکڑے خلا میں بکھر گئے ہیں جو تمام ملکوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔

    امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ زمین سے کئے گئے اس میزائل حملے سے متعلق امریکا کو پیشگی اطلاعات نہیں دی گئی تھیں جس پر اتحادیوں سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے –

    دوسری جانب ترجمان پینٹاگون نے کہا کہ روس جو صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    دوسری جانب روس نے بھارت کو ایس-400 ایئرڈیفنس میزائل سسٹم کی فراہمی شروع کردی جبکہ امریکا کی جانب سے بھارت پر پابندی کے خطرات موجود ہیں۔

    ذرائع کے مطابق روس کی ملیٹری کوآپریشن ایجنسی کے سربراہ دیمتری شوگایوف نے بتایا کہ روس نے بھارت کے لیے میزائل سسٹم کی فراہمی شروع کردی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکا کے 2017 کے قانون کے تحت بھارت پر روس سے میزائل نظام خریدنے پر پابندی کے خطرات اور تحفظات ہیں کیونکہ مذکورہ قانون کا مقصد ممالک کو روسی ملیٹری ہتھیاروں کی خریداری سے روکنا ہے۔

    اس حوالے سے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ انٹرفیکس نے دبئی میں ایرواسپیس ٹریڈ شو میں موجود دیمتری شگایوف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پہلی کھیپ شروع کی گئی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ایس-400 نظام کا پہلا یونٹ بھارت میں رواں برس کے آخر میں پہنچے گا بھارت اور روس کے درمیان 5.5 ارب ڈالر مالیٹ کے ایئرمیزائل نظام کا معاہدہ 2018 میں طے پاگیا تھا، جس کے حوالے سے بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کو چین سےخطرات ہیں اور دفاع کی ضرورت ہے۔

    بھارت کو امریکا کی جانب سے کاؤنٹرنگ امریکاز ایڈورسیریز تھرو سینگشنز ایکٹ (کاسٹا) کے تحت پابندیوں کا سامنا ہے، جس کے تحت روس کو جنوبی کوریا اور ایران کے ساتھ مخالف قرار دیا گیا۔روس کو یوکرین کے خلاف کارروائی، 2016 میں امریکی انتخابات میں مداخلت اور شام کی مدد کرنے پر اس قانون کے تحت مخالف ملک میں شامل کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھارت کا کہنا تھا کہ اس کا امریکا اور روس دونوں کے اسٹریٹجک شراکت داری ہے جبکہ واشنگٹن نے نئی دہلی کو باور کرایا تھا کہ کاسٹا سے استثنیٰ ملنا ممکن نہیں ہے-

  • ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

    کیلیفورنیا: کئی دہائیوں قبل پیشگوئی کیا گیا معدن کی اب زمین کی 660 کلومیٹر گہرائی سے دریافت ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایک ہیرے کے اندر اس معدن کے آثار ملے ہیں جو اس سے قبل پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے اس معدن کو ’ڈیوموآئٹ‘ کا نام دیا گیا ہے اگرچہ اس کی ملتی جلتی قسم دنیا میں ملتی ہے لیکن ڈیوموآئٹ زمین کی گہرائی میں بلند درجہ حرارت اور دباؤ کے تحت تشکیل پاتی ہے۔

    افریقی ملک بوٹسوانہ سے ملنے والے اس ہیرے کے اندر سیاہ معدن کے چھوٹے ٹکڑے پھنسے ہیں اور ایک عرصے سے ان کی تلاش جاری تھی تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور جامعہ نواڈا میں ارضیاتی کیمیا کے سربراہ اولیور شونر نے اسے ڈیوموآئٹ کا نام دیا ہے یہ کیلشیئم سیلیکیٹ CaSiO3 پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس میں یورینیئم، تھوریئم اور پوٹاشیئم کے تابکار ہم جا (آئسوٹوپس) موجود ہوسکتے ہیں۔

    نظری طور پر 1967 میں اس معدن (منرل) کی پیشگوئی کی گئی تھی ماہرین نے اس کا مقام زمین کی گہرائی یعنی مینٹل کو قرار دیا گیا جہاں درجہ حرارت بلند اور دباؤ غیرمعمولی ہوتا ہے مینٹل زمینی قشر(کرسٹ) اورقلب (کور) کے درمیان پایا جاتا ہے اس طرح ڈیوموآئٹ کو سمجھ کر خود ہم زمینی ساخت، پلیٹ ٹیکٹونکس اور ارضیات کو جان سکتے ہیں۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معدن خاص حالات کے تحت 660 سے 2700 کلومیٹر گہرائی میں تشکیل پاتی ہے جہاں حرارت اور دباؤ کا راج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ہیرے کے اندر دیکھا گیا ہے جو بلند درجہ حرارت پراپنا وجود برقرار رکھتا ہے اگرچہ کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے لیکن قدرتی طور پر پہلی مرتبہ اسے دیکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 1987 میں اس ہیرے کو بوٹسوانہ کی ایک کان سے برآمد کیا گیا تھا لیکن وہ مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہواں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پہنچا جہاں کئی برس تک اس پر تحقیق کی گئی اور 11 نومبر کو اس کا اعلان ایک تحقیقی مقالے کی صورت میں کیا گیا ہے۔

    پہلے اسے لیزر سے چھیدا گیا تو اندر کیلشیئم کے آثار ملے پھر معلوم ہوا کہ یہ کیلشیئم سلیکیٹ ہے اور آخرکار معلوم ہوا کہ یہ کرسٹل حقیقت میں کیلشیئم سلیکیٹ پیرووسکائٹ ہے زمینی مینٹل کا پانچ سے سات فیصد حصہ اسی معدن پر مشتمل ہوسکتا ہے یہ دریافت سیکڑوں میل کی گہرائی میں نہیں ہوئی ہے بلکہ ہیرے کی ایک کان سے ملی ہے اورماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی عمل کی بدولت اوپر تک پہنچا ہوگا۔

  • ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    ڈائنو سار کے اصلی دانت سے بنا آئی فون کیس

    مشہور کمپنی کیویئر نے آئی فون 13 کی کیسنگ میں ٹی ریکس ڈائنوسار کے اصلی دانت کا ایک ٹکڑا لگایا ہے۔

    فون کیسنگ کی تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے کیویئر کمپنی نے کہا ہے کہ کیسنگ کا ڈیزائن ان ک بہترین فنکاروں نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کے اندر 24 قیراط سونے کی چادر لگائی گئی ہے جس کی چمک آسمانی بجلی کو ظاہر کرتی ہے جبکہ سیاہ رنگ میں ڈائنوسار کا ابھرا ہوا سر دیکھا اور ہاتھ لگا کر محسوس کیا جاسکتا ہےسر پر ٹائٹانیئم کا ورق لگایا گیا ہے

    ڈائنوسار کی آنکھ اصلی عنبر پر مشتمل ہے جو خود لاکھوں کروڑوں سال پرانا ہے ۔ دوسری جانب آٹھ کروڑ سال قدیم ڈائنوسار ٹی ریکس کے دانت کا ایک ٹکڑا لگایا گیا ہے۔

    اگرچہ دانت چھوٹا سا ہے لیکن اس کی قیمت 8 ہزار ڈالر سے زائد ہے اسے ٹائرانوفون کا خوبصورت نام دیتے ہوئے اس کی بعض تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ کمپنی نے آئی فون 13 اور آئی فون 13 پرو اور میکس ماڈلوں کی کیسنگ پر خوبصورت نقش کاڑھے ہیں جو فون کو ایک بالکل نیا روپ دیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ ایک محدود ایڈیشن ہے جسے سات کی تعداد میں بنایا گیا ہے آئی فون 13 کیس کی قیمت 15 لاکھ روپے اور آئی فون 13 پرو کیس کی قیمت 16 لاکھ روپے کے برابر ہے۔

  • ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے لوگوں کے لئے انتہائی خوشی کی خبر

    ملکوال کے شہریوں کے لئے خوشخبری
    رپورٹ (کاشف تنویر) تفصیلات کے مطابق تحصیل ملکوال کے سب سے نامور اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں مشہور ڈاکٹر قمر عباس مرزا صاحب نے ملکوال میں پہلی بار ایمرجنسی نوزائیدہ بچوں کے لئے بےبی وارمر، فوٹو تھراپی اور شیشہ انکیوبیٹر کی سہولت شروع کی ہے جو القمر ہیلتھ کلینک کا عوام دوست شاندار منصوبہ ہے.
    زیرِ نگرانی. القمر ہیلتھ کلینک. ڈاکٹر قمر عباس مرزا اور لیڈی ڈاکٹر منزہ قمر
    نزد ٹیلی نار آفس پرانی غلہ منڈی جناح روڈ ملکوال

  • خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں پائے جانے والے ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین کی مقدار سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ 19 سال پہلے ہی لگایا جاسکتا ہے، چاہے تب اس بیماری کا معمولی خطرہ بھی نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین و 1980ء کے عشرے میں دریافت کیا گیا تھا ویسے تو یہ تقریباً تمام جسمانی بافتوں (ٹشوز) سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کی زیادہ مقدار جگر (لیور) سے خارج ہوتی ہے Follistatin پٹھوں کے ریشوں کی تشکیل اور نشوونما کے لیے ضروری ہے-

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    تحقیق کے مطابق اب تک تولید اور استحالہ (میٹابولزم) کے حوالے سے اس پروٹین پر خاصی تحقیق ہوچکی ہے جبکہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کے خون میں بھی اس پروٹین کی زیادہ مقدار دیکھی جاچکی ہے علاوہ ازیں، کچھ سال پہلے جانوروں پر مطالعات سے معلوم ہوا کہ انسولین کی کارکردگی متاثر کرنے میں بھی یہی پروٹین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    تازہ تحقیق میں ماہرین نے سویڈن میں برسوں سے جاری ایک مطالعے ’’مالمو ڈائٹ اینڈ کینسر کارڈیوویسکیولر کوہورٹ‘‘ میں شریک 5000 افراد کے خون میں فولسٹیٹن پروٹین کی مقدار کا مطالعہ کیا جس میں انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار اوسط سے زیادہ رہی، وہ کئی سال بعد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہوئے۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    ایسے لوگوں میں ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے کا زیادہ سے زیادہ وقفہ 19 سال نوٹ کیا گیا، یعنی ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے 19 سال پہلے ہی ان کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معمول سے بڑھ چکی تھی۔

    تحقیق مین ماہرین کو ایک اور حیرت انگیز بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان افراد کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا مکمل دارومدار، ان کے خون میں فولسٹیٹن کی اضافی مقدار پر تھا چاہے وہ جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معلوم کرنے کےلیے سادہ بلڈ ٹیسٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے جس سے کسی صحت مند شخص کے بارے میں بھی پتا چل سکے گا کہ کئی سال بعد وہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا واضح امکان رکھتا ہے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ انسولین ہی وہ ہارمون ہے جو شکر (گلوکوز) سے توانائی حاصل کرنے میں خلیوں کے کام آتا ہے۔ انسولین کی کارکردگی متاثر ہونے کی وجہ سے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس ہوتی ہے جو مرتے دم تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

  • چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی      آسٹریلوی سائنسدان

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

    نیو ساﺅتھ ویلز: ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر موجود آکسیجن دنیا کے انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہو گی-

    باغی ٹی وی : نیو ساؤتھ ویلز کی سدرن کراس یونیورسٹی میں سوائل سائنس کے ماہر، جان گرانٹ کا مضمون ’’دی کنورسیشن‘‘ ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع ہوا ہے جس میں آسٹریلوی سائنسدان نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ چاند پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں پر اتنی آکسیجن موجود ہے کہ وہ دنیا کے آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک بھی کم نہیں ہو گی –

    مضمون میں کہا گیا کہ اگر سائنسدان چاند کی مٹی اور چٹانوں سے آکسیجن لے کر انسانوں کے لیے قابل استعمال بنانے کا طریقہ وضع کر لیں تو چاند پر انسانوں کی بستیاں بسائی جا سکتی ہیں۔

    خلائی تحقیق میں پیشرفت کے ساتھ ساتھ، ہم نے حال ہی میں ایسی ٹیکنالوجیز میں بہت زیادہ وقت اور پیسہ لگایا ہے جو خلائی وسائل کے مؤثر استعمال کی اجازت دے سکتی ہیں اور ان کوششوں میں سب سے آگے چاند پر آکسیجن پیدا کرنے کا بہترین طریقہ تلاش کرنے پر لیزر کی تیز توجہ رہی ہے۔

    اکتوبر میں، آسٹریلوی خلائی ایجنسی اور ناسا نے آرٹیمس پروگرام کے تحت چاند پر آسٹریلوی ساختہ روور بھیجنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد چاند کی چٹانوں کو جمع کرنا ہے جو بالآخر چاند پر سانس لینے کے قابل آکسیجن فراہم کر سکیں۔

    ماہرین کے مطابق چاند پر ہوا کا تناسب نہ ہونے کا برابر ہے۔ ہوامیں زیادہ مقدار ہیلیم ، نیون اور ہائیڈروجن کی ہے۔ چاند کی سطح پر موجود مٹی، پتھروں اور چٹانوں میں آکسیجن پائی جاتی ہے لیکن یہ آکسیجن مرکبات کی شکل میں موجود ہے۔

    انہوں نے کہا، حقیقت میں چاند پر آکسیجن کی کافی مقدار موجود ہے یہ صرف گیسی شکل میں نہیں ہے اس کے بجائے یہ ریگولتھ کے اندر موجود ہے چٹان اور باریک دھول کی تہہ جو چاند کی سطح کو ڈھانپتی ہے۔ اگر ہم ریگولتھ سے آکسیجن نکال سکتے ہیں تو کیا یہ چاند پر انسانی زندگی کو سہارا دینے کے لیے کافی ہوگا؟

    آکسیجن ہمارے ارد گرد زمین میں موجود بہت سے معدنیات میں پائی جاتی ہے۔ اور چاند زیادہ تر انہی چٹانوں سے بنا ہے جو آپ کو زمین پر ملیں گے (حالانکہ اس سے قدرے زیادہ مواد جو الکا سے آیا ہے)۔

    معدنیات جیسے سیلیکا، ایلومینیم، اور آئرن اور میگنیشیم آکسائیڈز چاند کی زمین کی تزئین پر حاوی ہیں۔ یہ تمام معدنیات آکسیجن پر مشتمل ہوتی ہیں، لیکن اس شکل میں نہیں جس تک ہمارے پھیپھڑے رسائی حاصل کر سکیں چا ند کی چٹانوں میں 45فیصد تک آکسیجن موجود ہے لیکن ان مرکبات کو توڑ کرآکسیجن کوخالص شکل میں لانے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں توانائی صرف کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

    تاہم چاند پر توانائی کا انتظام کر کے اگر آکسیجن حاصل کرلی جائے یا کوئی ایسا طریقہ ایجاد کر لیا جائے جس سے کم توانائی کا استعمال کر کے آکسیجن کو مرکبات سے الگ کیاجاسکے تو چاند پر انسانی زندگی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

    مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر چاند کی سطح پر صرف 10 کلومیٹر تک کھدائی کر کے چٹانیں نکالی جائیں تو اس سے حاصل ہونے والی آکسیجن آٹھ ارب انسانوں کے لیے ایک لاکھ سال تک کافی ہوگی۔

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • ہائینز مارز ایڈیشن: کیا یہ کیچپ”مریخی ٹماٹروں” سے بنایا گیا ہے؟

    ہائینز مارز ایڈیشن: کیا یہ کیچپ”مریخی ٹماٹروں” سے بنایا گیا ہے؟

    فلوریڈا: تھوڑی زیادہ قیمت میں مریخی ماحول میں کاشت کردہ ٹماٹروں کا کیچپ جلد ہی فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : اگرچہ انسان ابھی تک مریخ پر قدم نہ رکھ سکا لیکن اتنا ضرور ہے کہ کیچپ بنانے والی مشہور کمپنی ہائینز نے ’مارز‘ کےنام سے کیچپ تیار کیا ہے جس کی آزمائشی فروخت شروع ہوچکی ہے-

    "بزنس وائر” کے مطابق سرخ ٹماٹروں کو سرخ سیارے کے عین ماحول میں کاشت کیا گیا ہے اور بہترین ٹماٹروں سے انہیں تیار کیا گیا ہے۔ ہائینز کمپنی کے مطابق اس عمل میں بہت سی ناکامیاں بھی ہوئی ہیں اور دو سال تک شبانہ روز محنت کی گئی ہے۔

    فلوریڈا ٹیک کے ایلڈرین اسپیس انسٹی ٹیوٹ میں نو مہینوں کے دوران 14 افراد پر مشتمل آسٹروبائیولوجی ٹیم کے ساتھ تعاون کے ذریعے،ہائینز نے مریخ پر اگنے والے ٹماٹروں کی نقل تیار کی۔ ٹیم نے کامیابی کے ساتھ برانڈ کے ملکیتی ٹماٹر کے بیجوں سے ہائینز ٹماٹروں کی فصل حاصل کی، جو کہ اس کا مشہور کیچپ بننے کے لیے سخت کوالٹی اور ذائقہ کے معیارات کو پورا کرتی ہے۔

    اس ضمن میں فلوریڈا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں واقع آلڈرن اسپیس انسٹی ٹیوٹ کے فلکی ماہرینِ حیاتیات نے دوسال تک تحقیق کی ہے۔ سائنسدانوں نے ہائینز کمپنی کی رہنمائی کی کہ مریخ کی مٹی کیسی ہوتی ہے؟ اس کے بعد وہاں ٹماٹر کی کاشت کئی گئی اور ان میں سے کیچپ کشید کیا گیا۔

    ہائینز کے مطابق یہ دنیا کی پہلی خوردنی شے ہے جسے دوسرے سیارے کے حالات میں زمین کے لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ہائینز کمپنی نے اس کا نام ’مارز ایڈیشن‘ رکھا ہے۔ اگرچہ اس کی فروخت ابھی شروع نہیں کی گئ ہے لیکن چند اولین بوتلیں کمپنی کے ہیڈکوارٹر میں پیش کی گئی ہیں جو پٹس برگ میں واقع ہے۔

    ماہرین کی 14 رکنی ٹیم نے ڈاکٹر اینڈریو پامر کی نگرانی میں کام کیا ہے اور اس پر تین تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے ہیں۔ تمام ماہرین آلڈرِن انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ادارے کو 2015 میں مریخ پر انسانی مشن کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    خود سائنسداں بھی ہائینزکی اس کاوش سے خوش ہیں کیونکہ وہ مریخی ماحول میں کسی ایک پھل یا سبزی کی کامیاب کاشت کرنا چاہتے تھے۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ عمل انسانوں کی دیگر سیاروں پر رہائش کے لیے بہت ضروری ہے۔

    ان ٹماٹروں کو عین وہی نمی، حرارت اور روشنی دی گئی ہے جو مریخ پر موجود ہوتی ہے جبکہ اس تجربے سے خود دنیا میں نامساعد حالات میں فصلیں کاشت کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    کرفٹ ہائینز انٹرنیشنل زون کی چیف گروتھ آفیسر کرسٹینا کینز کہتی ہیں کہ”ہم بہت پرجوش ہیں کہ ہمارے ماہرین کی ٹیم دوسرے سیارے پر پائے جانے والے حالات میں ٹماٹر اگانے اور اپنی تخلیق کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ دو سال پہلے مریخ کے حالات سے لے کر اب تک کی فصل کا تجزیہ کرنے تک، یہ ایک ایسا سفر ہے جس نے ثابت کیا ہے کہ ہم جہاں بھی جائیں،ہائینز ٹماٹو کیچپ اب بھی آنے والی نسلوں کے لیے لطف اندوز ہوں گے۔

    ڈاکٹر اینڈریو پامر، ایلڈرین اسپیس انسٹی ٹیوٹ کہتے ہیں کہ "ابھی سے پہلے، مریخ کی نقلی حالات میں نشوونما کے طریقے دریافت کرنے کی زیادہ تر کوششیں پودوں کی نشوونما کا مختصر مدتی مطالعہ ہیں۔ اس منصوبے نے کیا کیا ہے طویل مدتی خوراک کی کٹائی پر نظر ڈالنا ہے۔ ایک ایسی فصل حاصل کرنا جو ہائینزٹماٹو کیچپ بننے کے لیے معیار کی ہو خواب کا نتیجہ تھا اور ہم نے اسے حاصل کر لیا۔ اورہائینز کے ساتھ کام کرنے سے ہمیں یہ دیکھنے کی اجازت ملی ہے کہ زمین سے باہر طویل مدتی خوراک کی پیداوار کے کیا امکانات ہیں-

    ہائینز ٹماٹو کیچپ پہلے ہی اسے زمین سے آگے ہمارے نظام شمسی میں بنا چکا ہے اور کئی سالوں سے بین الاقوامی خلائی سٹیشن (ISS) پر موجود خلانوردوں نے اس کا لطف اٹھایا ہے جن میں سے ایک ناسا کے سابق خلاباز اور مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر مائیک ماسیمینو ہیں، جو کہ ایک تجربہ کار ہیں۔ دو خلائی پروازیں، چار اسپیس واک، اور خلا سے ٹویٹ کرنے والا پہلا خلاباز۔ Massimino HEINZ Tomato Ketchup Marz Edition کے سفیر کے طور پر کام کرتا ہے اور ایک خود اعتراف ہائینز ٹماٹو کیچپ کا سپر فین ہے۔

    ناسا کے سابق خلاباز مائیک میسیمینو نے کہا کہ”خلا میں ہمارے پاس ایک کہاوت ہے، ‘یہ کھانے کے بارے میں نہیں ہے یہ چٹنی کے بارے میں ہے’ – ہم یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ ہم وہاں کون سا کھانا کھانا چاہتے ہیں لیکن بہت سے پکوان پانی کی کمی سے دوچار ہو گئے اور تھوڑا سا ملاوٹ ہو گیا، لہذا چٹنی کا ایک اچھا گڑیا آپ کے کھانے کو ہمیشہ لذیذ بنایا، جس سے ہائنز ٹماٹو کیچپ سے میری محبت کا آغاز ہوا،”۔

    مریخ جیسے حالات میں ٹماٹر کیسے اگائے جائیں اس کا مطالعہ کرنے کے علاوہ، Kraft Heinz کمپنی ماحولیاتی سماجی نظم و نسق (ESG) کے اہداف کے لیے اپنے وعدوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے جس میں 2025 تک 100% پائیدار طریقے سے حاصل کیے جانے والے ہینز کیچپ ٹماٹر کا استعمال شامل ہے۔

  • مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    مختلف ممالک میں "ٹوئٹر” کی سروس میں تعطل، صارفین پریشان

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ کی سروسز میں تعطل کے سبب صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹوئٹر کی سروسز میں تعطل مختلف ممالک میں آیا ہے ٹوئٹر کی سروسز میں تعطل پاکستانی وقت کے مطابق شب گیارہ بجے آیا ٹوئٹر سروسز برطانیہ، سوئزر لینڈ، واشنگٹن اور نیویارک میں زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

    امریکہ میں ٹوئٹر صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم ’ٹوئٹر‘ کی جانب سے تاحال اس ضمن میں مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

    دوسری جانب گوگل، فیس بُک اور انسٹاگرام کی طرز پر ٹوئٹر نے بھی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کےلیے پیسہ کمانے کے مواقع متعارف کروا دیئے ہیں مطلب یہ کہ اب آپ بھی دنیا کے سب سے بڑے مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم سے پیسہ کما سکتے ہیں، بشرطیکہ ٹوئٹر پر آپ کے چاہنے والوں یعنی ’’فالوورز‘‘ کی تعداد زیادہ ہو۔
    https://twitter.com/SuperFollows/status/1433128787210739717?s=20
    فی الحال ٹوئٹر پر پیسہ کمانے یا ’’مونیٹائزیشن‘‘ کےلیے چند ایک پروگرام ہی موجود ہیں جو حالیہ چند مہینوں کے دوران آزمائشی طور پر شروع کیے گئے ہیں۔
    اگرچہ ان کا دائرہ کار ابھی صرف امریکا تک محدود ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دوسرے ملکوں میں رہنے والے بھی ان سے مستفید ہوسکیں گے ٹوئٹر سے پیسہ کمانے کےلیے ایسا ہی ایک پروگرام ’’سپر فالوز‘‘ کہلاتا ہے جو اس سال یکم ستمبر سے شروع کیا گیا ہے۔

    اگر کسی ٹوئٹر صارف کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو، اس کا ٹوئٹر اکاؤنٹ تین ماہ یا اس سے پرانا ہو، اس کے فالوورز کی تعداد کم از کم دس ہزار ہو اور وہ پورے مہینے میں 25 یا زیادہ ٹویٹس کرتا ہو تو وہ اس پروگرام سے پیسہ کما سکتا ہے۔

    اس کے تحت آپ اپنی کچھ ٹویٹس کو دیکھنے کا معاوضہ وصول کرتے ہیں، یعنی آپ کے فالوورز میں سے صرف وہی فرد ان ٹویٹس کو دیکھ سکے گا جو آپ کو ماہانہ فیس دے گا یہ فیس 2.99 ڈالر، 4.99 ڈالر، یا 9.99 ڈالر ماہانہ ہوسکتی ہے۔

    ٹوئٹر بلاگ کے مطابق، اگر اس پروگرام کے ذریعے آپ کی آمدنی 50 ہزار ڈالر سے کم ہے تو ٹوئٹر اس میں سے صرف 3 فیصد حصہ رکھے گا، لیکن اگر یہ 50 ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ ہے تو پھر ٹوئٹر کا حصہ 20 فیصد ہوجائے گا۔

    البتہ یہ پروگرام فی الحال صرف آئی او ایس (آئی فون) صارفین کےلیے ہے جو امریکی شہری ہوں۔ لہذا انہیں ’’سپر فالوز‘‘ پروگرام سے ہونے والی آمدنی میں ایپل کے ’’ایپ اسٹور‘‘ کو بھی حصہ دینا پڑے گا جو 33 فیصد تک ہوسکتا ہے یعنی اس پروگرام سے پیسہ کمانے والوں کو عملاً اپنی کمائی ہوئی رقم کا صرف 65 فیصد حصہ ہی ملے گا۔

    اگر یہ ’’سپر فالوز‘‘ پروگرام اپنے اس ابتدائی اور آزمائشی مرحلے میں کامیاب رہا تو اسے اینڈروئیڈ کے علاوہ دوسرے ملکوں کےلیے بھی شروع کردیا جائے گا۔

  • اب صارفین اسمارٹ فون کے بغیر بھی واٹس ایپ استعمال کرسکیں گے

    اب صارفین اسمارٹ فون کے بغیر بھی واٹس ایپ استعمال کرسکیں گے

    واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں، جنہیں کمپنی نت نئے فیچرز کی سہولت فراہم کرتی رہتی ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ برس واٹس ایپ کو پرائیویسی پالیسی کی وجہ سے دنیا بھر میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد کروڑوں صارفین نے متبادل کے طور پر ٹیلی گرام، بپ، سگنلز پر اکاؤنٹ بنائے۔ صارفین کی تنقید اور دباؤ کے بعد واٹس ایپ نے اس پالیسی کو واپس لیا اور پھر صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نت نئے فیچرز متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کیا۔

    موبائل فونز جن پر یکم نومبر سے واٹس ایپ نہیں چلے گا

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لئے اب ایک ایسا حیران کن فیچر دیا ہے جس کے بعد آپ اسمارٹ فون کے بغیر بھی آپ واٹس ایپ استعمال کرسکتے ہیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے رواں سال ملٹی ڈیوائس نامی فیچر متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے صارفین اپنا واٹس ایپ بیک وقت چار ڈیوائسز ویب، موبائل، ٹیب اور کمپیوٹر پر چلا سکتا ہےآپ اس سہولت کی مدد سے ہی اسمارٹ فون کے بغیر واٹس ایپ استعمال کرسکتے ہیں، جس کے لیے آپ کو صرف ایک بار موبائل اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت ہوگی۔

    اس کے لئے واٹس ایپ صارف سیٹنگز میں جاکر جب لنک ٹو ڈیوائس پر کلک کرے گا تو اُس کے سامنے اکاؤنٹ جوڑنے کا آپشن آئے گا، جس پر کلک کرنے کے بعد کم از کم ایک بار بار کوڈ اسکین کرنا ضروری ہے۔

    فیس بک نے چہرے کی شناخت کا فیچر ختم کردیا

    اس کو صارف اپنی مرضی سے لاگ آؤٹ کرے گا، ایسی صورت میں اختیار ہوگا کہ وہ تمام ڈیوائسز یا مرضی کی ڈیوائس سے اکاؤنٹ کا تعلق ختم کردے۔ دوبارہ لاگ ان کرنے کے لیے بار کوڈ استعمال کرنا ہوگا۔

    ابھی یہ سہولت فی الوقت صرف واٹس ایپ بیٹا ورژن صارفین ہی استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ لنک ڈیوائس فیچر ابھی آزمائشی مراحل میں ہے، جس کی سہولت مخصوص صارفین کو ہی دستیاب ہے۔

    فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا استعمال، والدین کی اجازت ضروری