Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے   سائنسدانوں کا دعویٰ

    سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    نئی تحقیق میں برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اب سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سکائی نیوز کے مطابق برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وائپر سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کے بچاؤ کی دوا کی تیاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے سانپ کے زہر میں موجود مالیکیول نے بندروں کے خلیوں میں کورونا وائرس کی افزائش کو روکا ہے اور یہ وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ممکنہ پہلا قدم ہے۔

    سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق وائپر سانپ کے زہر میں پایا جانے والا مالیکیول بندروں کو لگایا گیا جس سے کورونا وائرس کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت میں 75 فیصد کمی آئی یہ دریافت اس وائرس سے لڑنے کے لیے ایک دوا کی تخلیق کی طرف ممکنہ پہلا قدم ہو سکتا ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔

    کورونا کیسز کی تعداد میں بدستور اضافہ ، پشاور کے 5 مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک…

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وائپر سانپ کے زہر میں پائے جانے والے مالیکیولز پہلے ہی انسداد بیکٹریا خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں یہ لمبے سفر میں پہلا قدم ہے یہ عمل بہت لمبا ہے۔

    سائنسی جریدے ، مالیکیولس میں شائع ہونے والی تحقیق میں پایا گیا کہ یہ ٹکڑا ایک پیپٹائڈ ہے ، یا امینو ایسڈ کی زنجیر ہے ، جو PLPro نامی کورونا وائرس کے انزائم سے منسلک ہوسکتی ہےPLPro دوسرے خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر وائرس کی تولید کے لیے بہت ضروری ہے۔

    جاراکوسو 2 میٹر (6 فٹ) لمبا تک بڑھ سکتا ہے اور برازیل ، ساحلی بحر اوقیانوس کے جنگل ، بولیویا ، پیراگوئے اور ارجنٹائن میں پایا جاتا ہے مسٹر گائڈو نے مزید کہا کہ سائنس دان خوفزدہ ہیں کہ لوگ پورے برازیل میں جاراکوسو کے شکار پر جائیں گے ، یہ سوچ کر کہ یہ دنیا کو بچائے گا یا خود کو ، ان کے خاندان کو۔

    انہوں نے کہا: "ایسا نہیں ہے۔ کیا یہ ایک اہم دریافت ہے؟ بلا شبہ یہ ہے ، لیکن جانور کا پیچھا کرنا یہ نہیں ہے کہ اسے کیسے حل کیا جائے گا "جو جزو دریافت ہوا وہ زہر کے اندر سے صرف ایک حصہ ہے ، یہ خود زہر نہیں ہے جو اس وقت کورونا وائرس کا علاج کرے گا۔”

    اسٹیٹ یونیورسٹی آف ساؤ پالو (یونیسپ) کے ایک بیان کے مطابق ، محققین اگلا انو کی مختلف خوراکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور کیا یہ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روک سکتا ہے۔

    وہ انسانی خلیوں میں مادہ کی جانچ کی امید رکھتے ہیں لیکن کوئی ٹائم لائن نہیں دی-

    18سال سے کم عمر افراد کے لیے کورونا ویکسی نیشن کی نظرثانی گائیڈ لائنز جاری

    جاراکوسو ایک انتہائی زہریلا گڑھا وائپر ہے اور برازیل کے سب سے بڑے سانپوں میں سے ایک ہے۔ یہ ساحلی بحر اوقیانوس کے جنگل میں رہتا ہے اور بولیویا ، پیراگوئے اور ارجنٹائن میں بھی پایا جاتا ہے –

  • ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت   تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی پر اس تحریک میں ، ہم اس بات پر بات کرنے جا رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کیا ہے ، اس کے استعمال کیا ہیں ، اور یہ بھی کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے؟ سب سے پہلے ، ٹیکنالوجی سے مراد مشینری بنانے ، مانیٹر کرنے اور ڈیزائن کرنے کے لیے تکنیکی اور سائنسی علم کا استعمال ہے۔ نیز ، ٹیکنالوجی انسانوں کی مدد کرنے والے دوسرے سامان بنانے میں مدد دیتی ہے۔

    ٹیکنالوجی پر مضمون – ایک فائدہ یا فائدہ؟

    ماہرین برسوں سے اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ، ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایک طویل راستہ طے کیا لیکن اس کے منفی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کئی سالوں میں تکنیکی ترقی نے آلودگی میں شدید اضافہ کیا ہے۔ نیز ، آلودگی صحت کے بہت سے مسائل کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، اس نے لوگوں کو جوڑنے کے بجائے معاشرے سے کاٹ دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر ، اس نے مزدور طبقے سے بہت سی نوکریاں چھین لی ہیں۔

    چونکہ وہ مکمل طور پر مختلف شعبے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ نیز ، یہ سائنس کی شراکت کی وجہ سے ہے ہم نئی جدت پیدا کر سکتے ہیں اور نئے تکنیکی اوزار بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، لیبارٹریوں میں کی جانے والی تحقیق ٹیکنالوجیز کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری طرف ، ٹیکنالوجی سائنس کے ایجنڈے کو بڑھا دیتی ہے۔

    ہماری زندگی کا اہم حصہ۔

    باقاعدگی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ نیز ، نئی ٹیکنالوجیز مارکیٹ میں طوفان برپا کر رہی ہیں اور لوگ وقت کے ساتھ ان کی عادت ڈال رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ، تکنیکی ترقی قوموں کی ترقی اور ترقی کا باعث بنی ہے۔

    ٹیکنالوجی کا منفی پہلو۔

    اگرچہ ٹیکنالوجی ایک اچھی چیز ہے ، ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بھی دو پہلو ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ یہاں ٹیکنالوجی کے کچھ منفی پہلو ہیں جن پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں۔

    آلودگی۔

    نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ صنعت کاری بڑھتی ہے جو ہوا ، پانی ، مٹی اور شور جیسے بہت سے آلودگیوں کو جنم دیتی ہے۔ نیز ، وہ جانوروں ، پرندوں اور انسانوں میں صحت سے متعلق کئی مسائل پیدا کرتے ہیں۔

    قدرتی وسائل کا ختم ہونا۔

    نئی ٹیکنالوجی کے لیے نئے وسائل درکار ہوتے ہیں جس کے لیے توازن بگڑ جاتا ہے۔ بالآخر ، یہ قدرتی وسائل کے زیادہ استحصال کا باعث بنے گا جو بالآخر فطرت کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

    بے روزگاری۔

    ایک مشین بہت سے کارکنوں کی جگہ لے سکتی ہے۔ نیز ، مشینیں بغیر کسی رکے کئی گھنٹوں یا دنوں تک مسلسل رفتار سے کام کر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے ، بہت سے مزدوروں نے اپنی نوکری کھو دی جو بالآخر بے روزگاری میں اضافہ کرتی ہے۔

    ٹیکنالوجی کی اقسام۔

    عام طور پر ، ہم ٹیکنالوجی کا ایک ہی پیمانے پر فیصلہ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ، ٹیکنالوجی مختلف اقسام میں تقسیم ہے۔ اس میں انفارمیشن ، تخلیقی ، صنعتی، تخلیقی  اور بھی بہت کچھ شامل ہے۔ آئیے ان ٹیکنالوجیز پر مختصر بحث کریں۔

    صنعتی ٹیکنالوجی۔

    یہ ٹیکنالوجی مشینوں کی تیاری کے لیے انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کو منظم کرتی ہے۔ نیز ، یہ پیداواری عمل کو آسان اور آسان بنا دیتا ہے۔

    تخلیقی ٹیکنالوجی۔

    اس عمل میں آرٹ ، اشتہارات اور پروڈکٹ ڈیزائن شامل ہیں جو سافٹ وئیر کی مدد سے بنائے جاتے ہیں۔ نیز ، اس میں تھری ڈی پرنٹرز ، ورچوئل رئیلٹی ، کمپیوٹر گرافکس اور دیگر پہننے کے قابل ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

    انفارمیشن ٹیکنالوجی

    اس ٹیکنالوجی میں معلومات بھیجنے ، وصول کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر کا استعمال شامل ہے۔ انٹرنیٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بہترین مثال ہے۔

    آج ہر وہ چیز جو ہم اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں وہ ٹیکنالوجی کا تحفہ ہے اور جس کے بغیر ہم اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نیز ، ہم ان حقائق سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس سے ہمارے اردگرد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ٹیکنالوجی پر مضمون پر عمومی سوالات

    Q.1 انفارمیشن ٹیکنالوجی کیا ہے؟

     یہ ٹیکنالوجی کی ایک شکل ہے جو مطالعے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر سسٹم استعمال کرتی ہے۔ نیز ، وہ ڈیٹا بھیجتے ، بازیافت کرتے اور محفوظ کرتے ہیں۔

    Q.2 کیا ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے؟

     نہیں ، ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں جب تک کہ اس کا صحیح استعمال نہ ہو۔ لیکن ، ٹیکنالوجی کا 

    غلط استعمال نقصان دہ اور مہلک ہو سکتا ہے۔

    @Z_Kubdani

  • پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے     اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے اسلام آباد ہائیکورٹ

    معروف چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کر لی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا، 4 صفحات پرمشتمل تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے ٹک ٹاک پر پابندی کا کوئی مناسب جواز پیش نہیں کر سکا، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے وکیل نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ ٹک ٹاک پابندی کا معاملہ کابینہ کے سامنے نہیں رکھا ٹک ٹاک پر ٹیکنالوجی کے دوسرے ذرائع سے رسائی ممکن ہے، ٹاک ٹاک پر پابندی اس لیے بھی غیر موثر ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع سے رسائی ہو سکتی ہے۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ جب یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک فیصد افراد ٹک ٹاک کاغلط استعمال کررہے ہیں تو سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی حل نہیں، سوسائٹی میں تنزلی کی علامت کو سوشل میڈیا سائٹس پر موجود مواد سے نہیں ملایا جا سکتا، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی نے سوسائٹی میں بہت سے چیلنج سامنے لائے۔

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    حکمنامے کے مطابق عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق حکومتی پالیسی کیا ہے، پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ پی ٹی اے 20 ستمبر کو وفاقی حکومت کی پالیسی سے متعلق رپورٹ پیش کرے۔

    ایئر لنک کمیونیکیشن کا پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او بنانے کا منصوبہ

  • گوگل کی  اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنے صارفین کیلئے ہنگامی وارننگ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : گوگل کا مقصد عام صارفین کو انٹرنیٹ پر کسی بھی موضوع پر درکار مواد تلاش کرنے کے لیے سرچ انجن مہیا کرنا تھا۔ اسی وجہ سے گوگل کو مقبولیت حاصل ہوئی اور آج بھی یہ دنیا کا سب سے ذیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے تاہم اس نے اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ جاری کی ہے-

    رپورٹ کے مطابق گوگل کی اپنے 2 ارب صارفین کے لیے 2 ماہ میں چوتھی وارننگ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز سے محفوظ رہنا ہے تو اپنا براؤزر فوری اپ گریڈ کریں-

    گوگل کے علاوہ مائیکروسافٹ کے سرچ انجن ‘ ایج’ نے بھی چوتھی ہنگامی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے صارفین کو کہا ہے کہ ہیکرز سے محفوظ رہنا ہے تو اپنا براؤز فوری اپ گریڈ کرلیں۔

    براؤزر کو اپ گریڈ کرنے کا طریقہ:

    براؤزر اپ گریڈ کرنے کے لئے آپ کو سیٹنگز میں جانا ہو گا اور پھر ہیلپ میں جاکر اباؤٹ گوگل کروم کھولنا ہو گا اپنے براؤزر کا ورژن چیک کریں، اگر Linux ، macOS یا Windows پر آپ کا براؤزر 92.0.4515.159 یا اس سے آگے کا version ہے تو آپ محفوظ ہیں۔

    گوگل فی الحال ان مسائل کے بارے میں بہت کم معلومات دے رہا ہے تاہم یہ ایک یہ معیاری عمل ہے جو کمپنی معلومات کو محدود کرنے کی کوشش میں کرتی ہے تاکہ صارفین کی پرائیوسی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہیکرز کو روکا جائے۔

  • معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا سلسلہ جاری ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : چین میں کریک ڈاؤن اور ایلون مسک کے ٹیسلا کی جانب سے اسے مزید ادائیگی کے طور پر قبول نہ کرنے کے فیصلے کے بعد مئی میں کرنسی کی قیمت تیزی سے گر گئی تھی لیکن اب تین ماہ بعد سرمایہ کاروں کے رجحان میں بہتری نظر آرہی ہے اور زیادہ مرکزی کمپنیاں ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال شروع کر رہی ہیں۔

    جنوری سے اب تک بٹ کوائن کی قدر میں 81 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جنوری میں بٹ کوائن صرف 27ہزار ڈالر میں ٹریڈ کر رہا تھا میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ٹریڈنگ کے دوران کرپٹو مارکیٹ میں ایک بِٹ کوائن کی قدر 3.2 فیصد اضافے کے بعد 50 ہزار 298 ڈالر ہوگئی ہے جو پاکستانی روپوں میں 82 لاکھ سے زائد بنتی ہے جب کہ رواں سال مئی کے بعد یہ بِٹ کوائن کی ریکارڈ قیمت ہے-

    اس کے علاوہ دیگر ورچوئل کرنسیز بشمول کارڈانو، اتیھریم اور ڈوج کوائن کی قیمتوں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    کرپٹو کرنسی کی قدر میں اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی کمپنی پے پال نے کہا کہ وہ برطانیہ میں صارفین کو بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو خریدنے ، بیچنے اور رکھنے کی اجازت دے گا ۔ یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ سے باہر اپنی کرپٹو خدمات کو بڑھایا جا رہا ہے۔

    خیال رہےکہ رواں برس کے اپریل میں بِٹ کوائن کی قیمت 65 ہزار ڈالر تک جا پہنچی تھی جس کے بعد اس کی قدر میں کمی واقع ہورہی تھی۔

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    اکیسوی صدی میں دنیا نے تیزی سے کی ترقی پہلے فاصلے طے کرنے کے لئے پہلے دنوں اور مہینوں کا سفر کرتے تھے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے یہ فاصلے سکینڈ کے کر دئیے ہیں پہلے رابطوں کا سلسلہ خط و کتابت سے ہوتا تھا پھر اس کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی مواصلاتی سروس کا آغاز کیا گیا جس میں چند لفظوں پر مشتمل مختصر پیغام بھیجا جا سکتا ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے اپنی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا پہلے حساب کتاب تحریری طور پر رکھا جاتا تھا پھر اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی جس میں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جانے لگا۔
    انٹرنیٹ کے آغاز سے دنیا سمٹ گئی فاصلے مٹ گئے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے ہم مختلف ایپلیکشنز کے ذریعے ویڈیو کالز سے ہم اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
    گذشتہ پچاس سال ٹیکنالوجی کے عروج کے سال مانے جاتے ہیں ہماری نسل اس دور سے تعلق رکھتی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا ہر دور اور اس میں آنے والااتار چڑھاﺅ بڑے قریب سے دیکھا ۔
    ٹیلی ٹیکس نیٹ ورک ایک ٹیلیفون نیٹ ورک کی طرح ٹیلی پرنٹ کرنے والا عوامی سوئچ شدہ نیٹ ورک تھا ، جو متن پر مبنی پیغامات بھیجنے کے مقاصد کے لئے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں کاروبار کے مابین الیکٹرانک طور پر تحریری پیغامات بھیجنے کا ایک بڑا طریقہ ٹیلی کام تھا۔ اس کا استعمال زوال پذیر ہوا کیونکہ 1980 کی دہائی میں فیکس مشین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
    ٹیلی پرنٹر سے G 5 تک کا سفر کوئی بہت طویل نہیں یہ صرف گذشتہ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اخبارات میں ٹیلی پرنٹر پر نیوز ایجنسیوں کی خبریں اور ٹیلیکس پر پیغامات اس کے بعد فیکس مشین کی آمد کو جدید ترین تصور کیا گیا لیکن 2 G سے 3 G کی سیریز نے دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھا دیا ہے اب سماجی رابطوں ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔
    سوشل میڈیا وہ ڈیجیٹل ٹول ہے سوشل میڈیا سستا اور آسان رابطے کا ذریعہ ہے جو صارفین کو عوام کے ساتھ جلدی سے مواد تیار کرنے اور ان کا اشتراک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپس کی ایک وسیع رینج رکھتا ہے کچھ ، جیسے ٹویٹر ، روابط اور مختصر تحریری پیغامات کو بانٹنے میں مہارت رکھتے اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹورکنگ کا حصول ممکن ہے۔تاہم چند ایک سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریبا ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ اب ہم ان کے مقاصد پر مختصر بات کرے گے تاکہ صارفین کو ان سے متعلق آگائی میںآسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت بڑی ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو/ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
    اگرچہ کوئی بھی فرد سوشل میڈیا کے لئے سائن اپ ہوسکتا ہے ، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہر قسم کے کاروبار کے مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کامیاب سوشل میڈیا ورکزبنے کی کلید یہ ہے کہ اس کو کسی اضافی ضمیمہ کی طرح نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی خاص خیال احترام اور توجہ کے ساتھ استعمال کیا جائےجس کی آپ اپنی ساری مارکیٹنگ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
    ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ تقریبا 165 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام ،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا استعمال ہمارے سب نیوز چینلز سیاست دانوں اور مشہورشخصیات میں ہونے لگا ہے یہ ابلاغ کا مو ¿ثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری-ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے۔انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔
    ایک سروے رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سے براہ راست ا?ن لائن کاروبار کی نمائش سے آمدنی میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ ممکن ہے کیونکہ بذریعہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایک محدود پیمانے پر اشیاءکو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پروڈکٹ متعارف ہو جاتی ہے۔ گوگل کی پیش کردہ اشتہاری مہم نے ان لائن کمائی اوراشتہارات کا کافی فروغ دیا ہے۔
    انٹرنیٹ انقلاب کا ایسا دور ہے جس نے سوچ اوراظہار ران کا عالمی منظر نامہ بدل دیا۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی 56.1 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد 37تقریباملین ہے جو کل آبادی کا تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔
    ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مما لک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح میں کافی فرق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ صارفین کی شرح 81فیصد ہے۔ دو ہزار ا ٹھا رہ کے اعدادو شمار کی مطابق دنیا میں 100ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریبا اکیس فیصد موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔موبائل سبسکرپشن 150 ملین سے زائد ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک موبائل سبسکرپشن میں آٹھ ملین کا اضافہ ہوا۔دنیا میں کتنے لوگ آن لائن ہیں ؟ کیا مرد اور عورتیں یکساں تناسب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ؟۔ خواتین انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مردوں کی نسبت تقریبا250ملین کم ہے۔خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمائی کے ذرائع بھی بڑھا رہی ہیں۔ بالخصوص فیس بک پیجز اور انسٹا گرام کے ذریعے مختلف بزنس کر رہی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی معاشرے میں خواتین کی حیثیت میں مثبت تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے۔
    خواتین آرٹ کلچر سے لے کر سرمایہ کاری اور انجینرنگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ادارے جو خواتین کی معاشرے میں حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر خواتین کی براہ راست شمولیت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تحقیق سے پہلے ہی خبر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے جالی اکاونٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جا رہا ہے سنسنی خیزی بھی پھلانے کی بھی کوشش کی جاری ہے بے معنی عام اظہار ،ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے خبر دار رکھنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر فساد،بدعمنی،لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ہمیشہ سماجی و یب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی خبریں شیئر کریں جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکانٹس رکھنے والوں کو کڑی سزا دے، لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھ سکے۔
    وفاقی حکومت نے ٹوئٹر، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک کر دیا جائے گا اور تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتاکہ فیس بک یا یوٹیوب جیسی بڑی کمپنیاں پاکستانی قانون کی وجسے یہاں اپنے دفاتر کھولیں اور سٹاف رکھیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پابندی لگاتی رہی ہیں۔نئے رولز کا مقصد ’سکیورٹی ادروں اور ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ہجوم کی بد تمیزی سے ہم پر بطور معاشرہ کئی سوالات اُٹھ گئے ہیں۔
    اس عائشہ نامی لڑکی اور نور مقدم کیس میں کئی مماثلات ہیں۔
    دونوں لڑکیاں متنازعہ بیک گراونڈ کی تھیں۔
    دونوں مشرقی اور اسلامی روایات کی پاسداری نہ کرنے والی آزاد خیال خواتین تھیں۔
    نور مقدم تو دنیا سے چلی گئی،اُس پر زیادہ بات کرنا بھی ہماری روایات کے خلاف ہو گا۔
    نور مقدم کیس میں ملوث درندے ،مجرم اور قاتل کو عبرتناک سزا کادیا جانا بہت ضروری ہے۔
    جس وحشیانہ طریقے اور بر بریت سے اس خاتون کو قتل کر کے اسکا سر تن سے جدا کیا گیا۔
    اسکی مہذب معاشروں تو کیا جنگل کی دنیا میں بھی کوئ مثال نہیں ملتی۔
    مینار پاکستان والے کیس میں لڑکی کے متنازعہ کردار پر بہت سے سوالات اُٹھاۓ جا رہے ہیں۔
    ایک تو یہ کہ وہ وہاں رش اور بھیڑ والے دن ٹک ٹاک وڈیو بنانے کیوں آئ؟
    دوسرا یہ کہ اس نے بھارتی جھنڈا اُٹھا رکھا تھا،تاہم اس بات کی تصدیق پاکستان میں آزاد زرائع سے تو نہیں ہو سکی مگر ہمارے کچھ اندرونی دشمنوں کی وساطت سے بھارت تک جا پہچی ،
    جسے بھارتی میڈیا نے مرچ مصالحہ لگا کر خوب اُچھالا۔
    لڑکی پر تیسرا اعتراض یہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ اس نے نامناسب لباس پہن رکھا تھا۔
    لڑکی پر لگاۓ گئے اعتراضات پر متفق ہونے کے بعد بھی کیا ان لوگوں کے گھناؤنے کام کو معاف کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح وہ ایک لڑکی پر جھپٹ پڑے۔
    کیا ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ لڑکی کو لوٹ مار کا مال سمجھ کر اس پر کتوں کی طرح ٹوٹ پڑیں
    انہیں اس بر بریت کی معافی کبھی بھی نہیں دی جا سکتی۔
    کون کس طرح کا لباس پہنتا ہے۔کون کس طرح کا کام کرتا ہے۔
    اس کو دیکھنا لوگوں کا کام نہیں تھا۔
    اگر ان سب کو لڑکی کا وڈیو بنانا برا لگا تھا تو اسے لعن طعن کرتے۔
    اسے اس جگہ سے دفع دور ہونے کا کہہ دیتے۔
    مگر اُن کے لئے تو لڑکی کو دبوچنا ضروری تھا،جو انہوں نے کیا۔
    اگر اس قسم کے فیصلوں کی اجازت لوگوں کو دے دی گئی تو معاشرے میں پھیلےجاہل لوگ عام آدمی کا جینا دشوار کر دیں گے۔
    عورتوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو جاۓ گا۔
    اس واقعہ کو اقرار سید اور شامی نامی لڑکے نے سستی شہرت کے لئے استعمال کیا،جبکہ اقرار نے تو ہمیشہ کی طرح سارا ملبہ پاکستان پر بطور ملک ڈال دیا،
    تاکہ بھارت جسے وہ پاکستان سے بہتر سمجھتا ہے،
    خوش ہو اور بھارت خوش ہوا بھی۔
    بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے،وہ تو موقع کی تاک میں رہتا ہے۔
    اور اسے ایسے مواقع اقرار جیسے بندے اور ڈان جیسے اخبار گاہے بگاہے فراہم کرتے رہتے ہیں۔
    ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہر پہلو کو دیکھنا ہو گا۔ہمیں ہر زاویے سے پرکھنا ہو گا کہ کون کہاں پر غلط تھا۔
    اسی واقعہ میں جس طرح ہجوم نے لڑکی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا،اُسکی جان بھی جا سکتی تھی۔
    آپ سوچیں کہ اگر اس واقعے میں خدانخواستہ اس لڑکی کی جان چلی جاتی تو کیا ہوتا؟
    ایک تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہوتا
    دوسرا بین الاقوامی میڈیا اسے جس بری طرح ہمارے ملک کے خلاف استعمال کرتا،
    وہ سوچنا بھی محال ہے-
    ہم تو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔
    کوئ ایسا وقت نہیں،جب ہمارے خلاف سازشوں کے تانے بانے نہ بُنے جا رہے ہوں۔
    ایسے میں ہم اس طرح کے بے مقصد واقعات کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں؟
    اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہچے بغیر کوئ نتیجہ اخذ مت کریں۔
    کڑی سے کڑی ملنے کا انتظار کریں تاکہ بعد میں اپنے لکھے گئے الفاظ اور کہی گئی بات پر شرمندگی نہ ہو۔
    اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
    شروع میں ہی کچھ لوگوں نے صرف ہجوم میں شامل ملزمان کو اپنا نشانہ بنایا۔بعد میں لڑکی کا کردار بھی کچھ مشکوک نظر آنے لگا،
    جس سے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہ سب کچھ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا،
    جس کا مقصد شہرت اور فالوورز کا حصول تھا۔
    آجکل فالوورز اور ریٹننگ کے حصول کے لئے بھی ایسےایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
    لہذا فیصلہ کرنے میں کبھی بھی جلد بازی نہ کریں۔اور جب بھی کوئ فیصلہ کریں تو اس میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہم جانے انجانے میں کہیں پاکستان کے مفادات کو نقصان تو نہیں پہچا رہے؟
    کہیں ہم کسی شازشی گھن چکر میں آکر کہیں کوئ اپنا نقصان تو نہیں کر رہے-
    اس قسم کے واقعات ہمیں بعض دفعہ اتنا جذباتی کر دیتے ہیں کہ ہم بغیر سوچے سمجھے دشمنوں کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں،
    جسے ففتھ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے۔
    ہم نادانی میں اس ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ اسی کا ایندھن بن جاتے ہیں،
    جو ہمارے لئے بطور معاشرہ اور بطور ایک ملک کے سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔
    ہمیں اپنی کردار سازی کی ضرورت ہے۔معاشرے میں وہ چیزیں لیکر آئیں،جن کی اجازت دین اسلام بھی دیتا ہو۔ان چیزوں پر قانون سازی ہونی چاہیے،جو حکومت کی زمہ داری ہے۔لوگوں کو جج اور منصف کا حق نہیں دیا جا سکتا،ورنہ ہم جنگل کا معاشرہ بن جائیں گے،
    لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے معتدل رویہ اختیار کریں۔
    جھپٹ نہ پڑیں،اپنے اندر کے شیطان کی تسکین کے لئے۔
    پاکستان میں ہم اپنی اُن روایات کے باغی نہیں ہو سکتے،
    جن میں گھر کے بڑے چھوٹوں کو نصیحت کرتے ہیں۔
    جہاں باہر جانے کے لئےباپ ،بھائ اور خاوند کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
    جہاں شام کے بعد گھر کے نوجوانوں کو گھر سے باہر جانے سے روکا جاتا ہے۔
    جہاں مائیں اور گھر کی بڑی بوڑھیاں ہر وقت اپنے بچوں کو سمجھاتی رہتی ہیں کہ یہ پہنو،اس طرح بیٹھو،اس طرح بات کرو۔
    یہیں سے ہمیں وہ تربیت ملتی ہے،جو ہماری سوسائٹی کا خاصہ ہے۔انہیں طور طریقوں میں یہ خاصیت اور انفرادیت بھی ہوتی ہے،
    جہاں والد کسی بھی وقت اپنے بچوں کے موبائیل دیکھ سکتا ہے کہ بچے کونسی ویب سائیٹ یا مواد دیکھ رہے ہیں ؟
    ان چیزوں کے بڑے فائدے ہیں،مگر خونی لبرلز کے نزدیک یہ سب دقیانوسی سوچ اور آؤٹ آف فیشن چیزیں ہیں۔

    کسی بھی معاملے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیاز جیسے فتنوں کے جھانسے میں نہ آئیں،
    کیونکہ ان لوگوں کو تو ہڈی ہی اسی مقصد کے لئے ڈالی جاتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس معاشرے اور ہماری مذہبی درخشندہ روایات کو نقصان پہنچایا جاۓ۔
    لوگوں کو خوبصورت مشرقی روایات اور بے مثال اسلامی اقدار سے دور کیا جا سکے۔
    یہی ففتھ جنریشن وار ہے،جس کا مقابلہ ہم نے ایک اچھے مسلمان کے طور پہ
    ایک اچھے پاکستانی کے طور پہ
    اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان کے طور پر کرنا ہے۔
    کیونکہ ایک اچھا انسان بنے بغیر ہم نہ تو اچھے پاکستانی بن سکتے ہیں اور نہ ہی اچھے مسلمان #

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    فیس بک نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے تاہم اب طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بھی بلاک کرنے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ کمپنی کو پابندیوں کی امریکی پالیسی پر عمل کرنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب فیس بک ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی قوانین کے تحت طالبان پر پابندی عائد ہے جس پر ان کے اکاؤنٹس بلاک کردیئے ہیں۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ لوٹ مار اور تشدد کی شکایات کے لیے بنائی گئی طالبان کی واٹس ایپ ہاٹ لائن کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ طالبان کےنام سے بنائے گئے آفیشل اکاونٹس بھی بلاک کیے گئے ہیں۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر طالبان سے متعلق تمام مواد پر پابندی عائد کی تھی فیس بک کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ ایپلی کیشن نے اپنے پلیٹ فارمز سے طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ وہ طالبان کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں اس لیے اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ٹیم مخصوص کی گئی ہے طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

  • فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی-

    باغی ٹی وی :بی بی سی کے مطابق فیس بک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی قانون کے تحت طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ہم نے امریکہ کی خطرناک تنظیموں سے متعلق پالیسی کے پیش نظر طالبان کو اپنی خدمات کو فراہم کرنا بند کردیا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ماہر ٹیم ہے۔

    طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔


    طالبان کی جانب سے افغانستان پر تیزی سے کنٹرول کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول فیس بک کو اس گروپ سے متعلق مواد سے نمٹنے کے لیے نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اس حوالے سے فیس بک کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے طالبان کی جانب سے یا ان کی حمایت میں بنائے گئے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے اور تمام پلیٹ فارمز پر طالبان کی تعریف، حمایت اور نمائندگی کرنے پر پابندی لگادی ہے۔

    فیس بک نے مزید کہا کہ اس گروپ سے منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغانستان کے دری اور پشتو بولنے والے ماہرین کی ایک ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو پلیٹ فارم پر ابھرتے ہوئے مسائل کی شناخت اور آگاہ کرنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔

    سوشل میڈیا دیو نے کہا کہ وہ قومی حکومتوں کی پہچان کے بارے میں فیصلے نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے "عالمی برادری کے اختیار” کی پیروی کرتا ہے۔

    فیس بک نے روشنی ڈالی کہ یہ پالیسی اپنے تمام پلیٹ فارمز بشمول اس کے فلیگ شپ سوشل میڈیا نیٹ ورک ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر لاگو ہوتی ہے۔

    فیس بک نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اس کے اکاؤنٹ کو گروپ سے منسلک پایا گیا تو وہ کارروائی کرے گا حریف سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی اس بات کی جانچ پڑتال میں ہیں کہ وہ طالبان سے متعلقہ مواد کو کس طرح سنبھالتے ہیں-

  • یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) پر ہیکرز کے حملے کے نتیجے میں ایف بی آر کی طرف سے آپریٹ کی جانے والے تمام سرکاری ویب سائٹس بند ہوگئیں ایف بی آر کے ڈیٹا بیس میں کھربوں روپے کی ٹرانزیکشنز اور شہریوں کے اثاثوں، آمدنی و اخراجات کی حساس تفصیلات موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے ایکسپریس ٹربیون نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ہیکرز نے ایف بی آر کے ڈیٹا سینٹر پر حملہ کیا اور وہ مائیکروسافٹ کے ہائپر وی سافٹ ویئر کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے، قومی بحران جیسی یہ صورتحال ہفتہ کو رات گئے دو بجے پیدا ہوئی اورآخری اطلاعات تک ویب سائٹس کو بحال نہیں کیا جا سکا۔

    ایکسپریس کے مطابق ایف بی آر کی ویب سائٹس اور ڈیٹا سینٹر بند ہونے سے ملک کی شپمنٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔ سائبر حملے کے نتیجے میں کسٹمز پر بھی دباؤ آیا ہے بارڈر سٹیشنز پر تازہ سبزیوں کی کنسائنمنٹس پھنس کر رہ گئی ہیں صارفین ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے مستفید ہونے سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔

    ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ یوم آزادی کے موقع پر سائبر دہشت گردی ہوئی ہے لیکن ہیکرز کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی تاہم ایف بی آر نے اس حوالے سے کوئی سرکاری موقف جاری نہیں کیا۔

    مذکورہ افسر نے بتایا کہ ہیکرز نے ڈیٹا سینٹر کی ورچوئل انوائرمنٹ اور ہائپر وی سافٹ ویئر کو نقصان پہنچایا ، پاکستان نے سسٹم کی بحالی کیلئے ادارہ مائیکروسافٹ سے رابطہ کیا ہے۔اگر مالیاتی ادارے کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کریں تو آخری اطلاعات تک صارفین رسائی حاصل نہیں کرپارہے۔

    رپورٹ کے مطابق بورڈکے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے بتایا کہ ہم نئی ورچوئل انوائرنمنٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں دو دن لگ سکتے ہیں، ہم ویب سائٹس اور ضروری ڈیٹا سینٹر کی کل تک بحالی کیلئے کوشاں ہیں تاہم ہم ڈیٹا کی منتقلی میں جلد بازی نہیں چاہتے تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔

    ہیکرز گزشتہ چند دنوں سے ڈیٹا رومز میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے اور سیریس سائبر اٹیک کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی تاہم ایف بی آر نے وارننگ کو نظر انداز کیا ، آخر کار ہیکرز اپنی کوشش میں کامیاب ہوگئے ایف بی آر کے ڈیٹا سینٹر پر گزشتہ سال 23 مارچ کو بھی حملہ ہوا تھا جو ناکام رہا تھا۔

    دوسری جانب ایف بی آر حکام کا ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ ہیک نہیں ہوا ہے۔سی آئی او ایف بی آر نے ایک دوسرے گروپ پر تصدیق کی ہے کہ یہ ایک مائیگریشن سرگرمی ہے – "مائگریشن کی مشق جاری ہے جس میں کچھ خرابیاں آ گئی ہیں جو بہت پرانے ورژن سے نئے ورژن میں منتقل ہو رہی ہیں-