Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی-

    باغی ٹی وی :بی بی سی کے مطابق فیس بک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی قانون کے تحت طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ہم نے امریکہ کی خطرناک تنظیموں سے متعلق پالیسی کے پیش نظر طالبان کو اپنی خدمات کو فراہم کرنا بند کردیا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ماہر ٹیم ہے۔

    طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔


    طالبان کی جانب سے افغانستان پر تیزی سے کنٹرول کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول فیس بک کو اس گروپ سے متعلق مواد سے نمٹنے کے لیے نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اس حوالے سے فیس بک کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے طالبان کی جانب سے یا ان کی حمایت میں بنائے گئے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے اور تمام پلیٹ فارمز پر طالبان کی تعریف، حمایت اور نمائندگی کرنے پر پابندی لگادی ہے۔

    فیس بک نے مزید کہا کہ اس گروپ سے منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغانستان کے دری اور پشتو بولنے والے ماہرین کی ایک ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو پلیٹ فارم پر ابھرتے ہوئے مسائل کی شناخت اور آگاہ کرنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔

    سوشل میڈیا دیو نے کہا کہ وہ قومی حکومتوں کی پہچان کے بارے میں فیصلے نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے "عالمی برادری کے اختیار” کی پیروی کرتا ہے۔

    فیس بک نے روشنی ڈالی کہ یہ پالیسی اپنے تمام پلیٹ فارمز بشمول اس کے فلیگ شپ سوشل میڈیا نیٹ ورک ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر لاگو ہوتی ہے۔

    فیس بک نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اس کے اکاؤنٹ کو گروپ سے منسلک پایا گیا تو وہ کارروائی کرے گا حریف سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی اس بات کی جانچ پڑتال میں ہیں کہ وہ طالبان سے متعلقہ مواد کو کس طرح سنبھالتے ہیں-

  • یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    یوم آزادی کے موقع پر ایف بی آر کی ویب سائٹ ہیک

    فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) پر ہیکرز کے حملے کے نتیجے میں ایف بی آر کی طرف سے آپریٹ کی جانے والے تمام سرکاری ویب سائٹس بند ہوگئیں ایف بی آر کے ڈیٹا بیس میں کھربوں روپے کی ٹرانزیکشنز اور شہریوں کے اثاثوں، آمدنی و اخراجات کی حساس تفصیلات موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے ایکسپریس ٹربیون نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ہیکرز نے ایف بی آر کے ڈیٹا سینٹر پر حملہ کیا اور وہ مائیکروسافٹ کے ہائپر وی سافٹ ویئر کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے، قومی بحران جیسی یہ صورتحال ہفتہ کو رات گئے دو بجے پیدا ہوئی اورآخری اطلاعات تک ویب سائٹس کو بحال نہیں کیا جا سکا۔

    ایکسپریس کے مطابق ایف بی آر کی ویب سائٹس اور ڈیٹا سینٹر بند ہونے سے ملک کی شپمنٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔ سائبر حملے کے نتیجے میں کسٹمز پر بھی دباؤ آیا ہے بارڈر سٹیشنز پر تازہ سبزیوں کی کنسائنمنٹس پھنس کر رہ گئی ہیں صارفین ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے مستفید ہونے سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔

    ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ یوم آزادی کے موقع پر سائبر دہشت گردی ہوئی ہے لیکن ہیکرز کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی تاہم ایف بی آر نے اس حوالے سے کوئی سرکاری موقف جاری نہیں کیا۔

    مذکورہ افسر نے بتایا کہ ہیکرز نے ڈیٹا سینٹر کی ورچوئل انوائرمنٹ اور ہائپر وی سافٹ ویئر کو نقصان پہنچایا ، پاکستان نے سسٹم کی بحالی کیلئے ادارہ مائیکروسافٹ سے رابطہ کیا ہے۔اگر مالیاتی ادارے کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کریں تو آخری اطلاعات تک صارفین رسائی حاصل نہیں کرپارہے۔

    رپورٹ کے مطابق بورڈکے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے بتایا کہ ہم نئی ورچوئل انوائرنمنٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں دو دن لگ سکتے ہیں، ہم ویب سائٹس اور ضروری ڈیٹا سینٹر کی کل تک بحالی کیلئے کوشاں ہیں تاہم ہم ڈیٹا کی منتقلی میں جلد بازی نہیں چاہتے تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔

    ہیکرز گزشتہ چند دنوں سے ڈیٹا رومز میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے اور سیریس سائبر اٹیک کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی تاہم ایف بی آر نے وارننگ کو نظر انداز کیا ، آخر کار ہیکرز اپنی کوشش میں کامیاب ہوگئے ایف بی آر کے ڈیٹا سینٹر پر گزشتہ سال 23 مارچ کو بھی حملہ ہوا تھا جو ناکام رہا تھا۔

    دوسری جانب ایف بی آر حکام کا ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ یہ ہیک نہیں ہوا ہے۔سی آئی او ایف بی آر نے ایک دوسرے گروپ پر تصدیق کی ہے کہ یہ ایک مائیگریشن سرگرمی ہے – "مائگریشن کی مشق جاری ہے جس میں کچھ خرابیاں آ گئی ہیں جو بہت پرانے ورژن سے نئے ورژن میں منتقل ہو رہی ہیں-

  • پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ  کس ملک کو برآمد کی؟

    پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ کس ملک کو برآمد کی؟

    اسلام آباد:پاکستان نے فور جی ٹیکنالوجی کے پاکستان میڈ موبائل فونز برآمد کرنا شروع کردئیے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے امور تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات میں پاکستان کے لیے آج بڑا دن ہے پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ہوگیا، میڈ اِن پاکستان فورجی موبائل کی پہلی کھیپ یو اے ای برآمد کردی گئی پہلی کھیپ میں 5500 موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں ہمیں امید ہے کہ یہ پاکستان سے زیادہ ویلیو ایڈڈ برآمدات کے دور کا آغاز ہوگا۔


    عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ یہ ہماری روایتی اشیا سے ہٹ کر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات کی شروعات ہے پاکستان میں موبائل مینوفیکچررز کو کہوں گا کہ وہ اس مثال کی تقلید کریں اوراپنی مصنوعات برآمد کریں۔

    واضح رہے کہ وزیرخزانہ شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کی تجاویز پر آئی ٹی انڈسٹری سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں جس میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں کو نقد انعامات دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ آئی ٹی برآمدات کا ایک فیصد سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے لیے مختص کیا جائے گا اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ فنڈز کو اسکل و بزنس ڈویلپمنٹ، ٹیکنالوجی پارکس کے قیام پر خرچ کرے گا۔

    آئی ٹی کمپنیوں کے ٹیکس مسائل سے متعلق وزارت خزانہ نےاختیاراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا اور ایف بی آر نظر ثانی شدہ ٹیکس تشریحات تشکیل دے گا۔

    شوکت ترین نے وفاقی وزیر آئی ٹی کو معاملات کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرا ئی جبکہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کا کہنا تھا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے وزیر خزانہ کے مشکور ہیں۔

    جبکہ اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ ملکی معاشی اور سائنسی ترقی کے لیے آئی ٹی شعبے میں ترقی کیلئے فعال اقدامات اٹھائے جائیں عالمی سطح پر ترقیاتی پالیسیوں کا فوکس ترقیاتی منصوبوں سے انسانی وسائل کی فکری ترقی کی سمت جارہا ہے۔ پاکستان کو انسانی وسائل کی سائنسی اور فکری ترقی کے لئے جدید حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

  • ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ٹک ٹاک چین کی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے اور یہ دنیا میں مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک ہے دنیا کے 150 ممالک میں ٹک ٹاک کے ایک ارب سے زیادہ صارفین موجود ہیں امریکہ میں اب تک 200 ملین سے زائد باراس ایپلیکیشن کو ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے بچہ بڑے نوجوان سب ہی اس ایپ کے فین ہیں جہاں اس ایپ کو مقبولیت ملی وہیں آئے دن یہ مختلف تنازعوں کا شکار رہتی ہے پاکستان میں اس ایپ پر کئی دفعہ پابندیاں لگ چکی ہیں-

    تاہم یہ ایپ صارفین کی شکایات دور کرنے اور نت نئی سہولتیں دینے کے لئے اپنے نئے نئے فیچر متعارف کراتی رہتی ہے تاہم اب بھی ٹاک ٹاک نے اپنے نو عمر صارفین کی فلاح و بہبود کی حفاظت کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کے نئے فیچر میں 13 سے 15 سال کے صارفین کو رات 9 بجے اور 16 سے 17 سال کے صارفین کو رات 10 بجے کے بعد کوئی نوٹیفیکیشن نہیں ملے گا۔

    ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کا نیا فیچر نو عمر صارفین کے کام ، مطالعہ اور آرام کو زیر نظر رکھ کر بنایا گیا ہے ٹک ٹاک کے نئے فیچر کا مقصد نوجواں نسل کو مثبت ڈیجیٹل عادات کے آغاز میں مدد فراہم کرنا ہے۔

    نیشنل سوسائٹی برائے آن لائن چائلڈ سیفٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک انڈسٹری لیڈر شپ دکھا رہا ہے جو نوجواں نسل کے لیے فائدے مند ثابت ہو گی۔

    اس سے قبل ٹک ٹاک نے اسنیپ چیٹ اسٹوریز کی طرز پر 24 گھنٹے میں اسٹوری غائب ہونے والے فیچر محدود پیمانے پر متعارف کروایا تھا۔ اس فیچر سے ٹک ٹاک کی اسٹوری میں لگایا گیا مواد 24 گھنٹے بعد خود غائب ہوجاتا ہے۔

  • جشن آزادی کے موقع پر گوگل نے اپنا ڈوڈل پاکستان کے نام کر دیا

    جشن آزادی کے موقع پر گوگل نے اپنا ڈوڈل پاکستان کے نام کر دیا

    پاکستان کی 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر گوگل نے اپنے ڈوڈل میں صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور شہر سے تقریباً 80 کلو میٹرکے فاصلے پر صحرائے چولستان میں قلعہ ڈیراور کی تصویر آویزاں کی ہے۔

    باغی ٹی وی :دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر اس خاص دن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے اپنے لوگو کو جسے کمپنی ڈوڈل کا نام دیتی ہے اسے پاکستان کے جشن آزادی کی مناسبت سے تبدیل کردیا۔

    گوگل نے اپنے ڈوڈل میں صوبہ پنجاب کے صحرائے چولستان میں قلعہ ڈیراور کی تصویر آویزاں کی ہے جیسے ہی گول سرچ انجن میں جائیں تو سامنے جو پیج کھلے گا اس پریہ تصویر نمایاں نظرآئے گی ایسا پہلی بار نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی متعدد بار گوگل اپنا ڈوڈل پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے تبدیل کرچکا ہے۔

    عباسی خاندان کی ملکیت یہ قلعہ عرف عام میں قلعہ دراوڑ کی نام سے بھی جانا جاتا ہے مگر آزاد ریاستِ بہاولپور کے آخری حاکم نواب سر صادق محمد عباسی کے نواسے صاحبزادہ قمر الزماں عباسی، جو اب اس قلعے کے نگہبان بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کا اصل نام قلعہ ڈیراور ہے اور اپنی کتاب میں انہوں نے یہی نام استعمال کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ہر سال یوم آزادی کے علاوہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات جیسے فاطمہ ثریا بجیا، صادقین اور نصرت فتح علی خان کے یوم پیدائش کے موقع پر بھی گوگل اپنا ڈوڈل اس دن کی مناسبت سے تبدیل کرچکا ہے۔

  • سائنس و ٹیکنالوجی اور ہم !  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    سائنس و ٹیکنالوجی اور ہم ! تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    اکیسویں صدی چل رہی ہے دُنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے آئے روز نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس دور میں اب مشینوں کی حکومت ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ وہ شاعر نے بھی خوب کہا ہے کہ
    احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتِ جراحی
    ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
    مشینوں کے اس دور میں جہاں ہمارے لیے بہت سے آسانیاں ہیں وہاں ان مشینوں نے انسانوں کو کسی حد تک ناکارہ بھی بنا دیا ہے۔ مگر اگر دیکھا جائے تو یہی مشینیں انسان کو چاند پر قدم رکھنے کے قابل کر پائی ہیں۔ دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک ٹیکنالوجی میں کافی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سائنس میں اتنی جدت آگئی ہے کہ اب ماں کے پیٹ میں ہی بچے کا معائنہ کر لیا جاتا ہے کہ آیا بچے میں کونسی بیماری ہے اور خالی بیماری ہی نہیں بلکہ ماں کے پیٹ میں ہی اس بیماری کا علاج کر لیا جاتا ہے۔ جی ہاں یہ کوئی تصوراتی دُنیا نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت ہے اور دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ سب ہو رہا ہے۔ اب سائنس و ٹیکنالوجی اس قدر عروج پر ہے کہ اس نے ہر ایک میدان میں اپنے پنچے گاڑھ دیے ہیں۔ اب نئے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے خوراک کی پیداوار کو بڑھایا جا رہا ہے بہت سے جانداروں کے دودھ سے ادویات تیار کی جا رہی ہیں بلکہ اب تو جانداروں میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں کی جاتی ہیں کہ جو مصنوعات چائیے ہوتی ہیں وہ اُنکے دودھ سے حاصل ہو جاتی ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہمارا سفر آسان ہوگیا مہینوں کا سفر دنوں اور گھنٹوں میں ہونے لگا ہے۔ اب پاکستان بیٹھ کر دُنیا کے کسی دوسرے کونے میں بات کی جا سکتی ہے۔ یہ سب سائنس کا ہی تو کمال ہے۔ اب ہم اپنے ملک پاکستان کی طرف آتے ہیں اللہ نے یہ ملک بہت حسین بنایا ہے اور ہر ایک نعمت سے اسکو نوازا ہے۔ اکیسویں صدی میں جہاں دوسری قومیں کائنات کے رازوں کو جاننے کے کوشش کر رہی ہیں وہاں ہم اب بھی کہیں صدیاں پیچھے ہیں۔ اسکی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ہمارا کوئی نام ہی نہیں ہم اب بھی دوسروں کے انحصار کرتے ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم آئن اسٹائن ، اسٹیفن ہاکنگ، نیوٹن پیدا کرنے میں کیوں ناکام ہے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے جسکا جواب ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس قوم میں کوئی صلاحیت ہی نہیں بلکہ یہ قوم تو اتنی ذہین ہے کہ اس کے مقابل آنے والا بھی پست ہو جاتا ہے۔ ہمارے طالب علم باہر جاتے ہیں تو ایسی ایسی ایجادات کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے مگر کیا وجہ ہے کہ اس ملک میں ہم کام کرنے سے قاصر ہیں ؟ ہمارا نظام عملی تجربات کے بجاے محض رٹہ کو ترویج دیتا ہے جس سے ہم سند یافتہ تو ہو جاتے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں ہو پاتے۔ اور اصل تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں آگے نہیں بڑھ پاتے۔ جب تک ہم اداروں میں اصلاحات نہیں لاتے تب تک ہم بہتری کی طرف نہیں جا سکتے۔

    TA: @AhtzazGillani

  • ٹوئٹر اور انتہا پسند مودی سرکار کے درمیان تناؤ: ٹوئٹر نے ہتھیار ڈال دیئے

    ٹوئٹر اور انتہا پسند مودی سرکار کے درمیان تناؤ: ٹوئٹر نے ہتھیار ڈال دیئے

    ٹوئٹر نے اپوزیشن جماعت کانگریس سے منسلک 23 ٹوئٹر ہینڈل اور 7 اکاؤنٹس معطل کردئیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق راہول گاندھی کی جانب سے دہلی میں مبینہ زیادتی اور قتل کیس کی 9سالہ متاثرہ بچی کے والدین سے ملاقات کی تصویر شیئر کی گئی تھی، ٹویٹر کی جانب سے یہ تصویر ہٹا کر راہول گاندھی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا تھا۔

    جس پر کانگریس جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے ٹوئٹر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کانگریس لیڈروں کے اکاؤنٹس معطل کرکے ٹویٹر بی جے پی حکومت کے ساتھ مل کر جمہوریت کو دبانا چاہا رہی ہے۔

    پریانکا گاندھی نے مزید کہا کہ کیا ٹوئٹر کانگریس رہنماؤں کے اکاؤنٹس معطلی کے لیے اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے یا مودی حکومت کی؟

    گزشتہ کئی ماہ سے ٹوئٹر اور بھارتی حکومت کے تعلقات تناؤ کا شکار تھے اور مودی انتظامیہ کی جانب سےبھارتی وزیراعظم کے خلاف تنقید سمیت کورونا وائرس کے بحران سے متعلق کچھ مواد ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

    مودی سرکار کی جانب سے ٹوئٹر کو نوٹس بھیجا گیا تھا نوٹس میں بھارتی حکومت نے کہا کہ ٹوئٹر انتظامیہ جلدازجلد ملکی سوشل میڈیا قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائے تاکہ حکومت مخالف کو روکا جاسکے، اگر ٹوئٹر نے نوٹس کو نظرانداز کردیا تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے، یہ نوٹس آخری تنبیہ ہے۔

    نوٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ٹوئٹر کو کس طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا بھارتی حکومت سوشل میڈیا قوانین پر جبری عملدرآمد کرواکر وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف تنقید کو روکنا چاہتی ہے۔

    علاوہ ازیں رواں سال بھارتی پولیس کی بھاری نفری نے نئی دلی میں قائم ٹوئٹر کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا تاہم کورونا کی وجہ سے گھروں سے کام کرنے کے باعث کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

    ٹوئٹر انتظامیہ نے بھارتی پولیس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور اسے آزادی اظہار رائے کے خلاف حملہ قرار دیا۔ بعدازاں پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹوئٹرانتظامیہ کو نوٹس دینے کے لیے دفتر پر چھاپہ مارا گیا تھا۔

    جس پر ٹوئٹرنے مودی سرکار کی پولیس کی جانب سے دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے کے خلاف حملہ قرار دیا تھا تاہم اب ٹوئٹر نے انتہا پسند مودی سرکار کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں-

    مودی سرکار کے بنائے گئے نئے قواعد میں تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں کلیدی تعمیل کے لیے بھارتی شہریوں کو تعینات کریں، قانونی حکم نامے کے 36 گھنٹوں کے اندر اندر مواد کو ہٹایا جائے اور شکایات کا جواب دینے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جائے۔

  • ففتھ جنریشن وار فیئر تحریر: آصف گوہر

    ففتھ جنریشن وار فیئر تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے ۔۔۔
    "اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ.”
    موجود دور کو اگر معلومات کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ہمیں ہروقت اور ہر ذرائع سے مختلف اقسام کی معلومات حاصل ہوتی رہتی ہے بہت ساری معلومات غیر متعلقہ اور بے معنی ہوتیں ہیں ہمارا ذہن مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر فوری ردعمل اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کرتا ہے اور پھر اس پر ڈت جاتا ہے ۔
    معلومات کے اس سیلاب میں پروپیگنڈے کا بہت عمل دخل ہے حتی کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی مصنوعات کے بارے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مدد سے اتنا واویلا کرتا ہے کہ ہم ان کے دعوی پر یقین پختہ کرلیتے ہیں اور حسب ضرورت اسی کمپنی کی مصنوعات کا انتخاب کرتے ہیں ۔
    معلومات کے ذریعے لوگوں کے اذہان کو تبدیل کرنا نئے تصورات بارے پبلک کی رائے بنانا یہ پروپیگنڈا ہے اور اس کو ماہرین نے ففتھ جنریشن وار فیئر کا نام دیا ہے ۔
    اور میڈیا اس جنگ کا سب سے بڑا اور اہم ہتھیار ہے۔
    ماضی قریب میں امریکہ نے ففتھ جنریشن وار فیئر کا استعمال عراق اور افغانستان کے خلاف بڑے منظم انداز میں کیا۔ایک دعوی کیا گیا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں ذخیرہ ہے جس سے دنیا کو خطرہ لاحق ہے ۔اس دعوے کو تقویت بخشنے کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بھرپور استعمال کیا گیا دنیا کی ہر زبان میں لکھنے والوں کو خریدا گیا امریکی پروپیگنڈے پر کالم لکھوائے گئے ٹی وی اینکرز کی خدمات لی گئ پروگرام اور مباحثوں کا اہتمام کیا گیا اور ساری دنیا کی رائے بنا دی گئ کہ واقعی صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیار ہیں جو دنیا کے لئے خطرہ ہیں جس کے لئے عراق پر حملہ ناگزیر ہوچکا ہے اور یوں اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق پر حملہ کرنے کا امریکہ کو اجازت نامہ دے دیا۔
    یہی ففتھ جنریشن وار فیئر کا ہتھیار سی آئی اے نے افغانستان میں ملاعمر کی حکومت کے خلاف استعمال کیا ایران اور لبیا کے ایٹمی پروگرامز کے بارے میں بھی کیا گیا ۔
    یہ ففتھ جنریشن وار ہی تھی جس کی مدد سے مصر تیونس شام سوڈان اور یمن میں عرب سپرنگ لہر کے نام پر حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا گیا۔ پاکستان کے خلاف گزشتہ چند دہائیوں اس پروپیگینڈے کے ہتھیار کو کثیر الجہتی محاذوں پر استعمال کیا گیا اور کیا جا رہا ہے جس میں بھارت امریکہ اور دیگر ممالک کھلے طور پر ملوث رہے ہیں ۔
    بھارت نے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں شدت پسندوں کو کرائے پر لیا انکی فنڈنگ کی ان سے تخریبی کارروائیوں کے ذریعے ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کروایا گیا ان کی پروجیکشن کی گئ سوات میں خاتون کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو بنوا کر وائرل کروائی گئ اور یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ سوات کے شدت پسند اسلام آباد پر قبضہ کرنے والے ہیں پھر جب پاکستانی فوج نے سوات میں آپریشن کیا تو بھارت نے اپنے انہیں وظیفہ خوروں کو افغانستان میں پناہ دی
    جب عوام اور افواج پاکستان نے بےپناہ قربانیوں کے بعد دھشت گردوں اور شدت پسندوں کا خاتمہ کیا تو ساتھ ہی پشتون تحفظ تحریک کے نام سے ایک نیا پیڈ گروہ میدان میں اتارا گیا سیاسی جماعتوں اور میڈیا میں اپنے راتب خوروں کے ذریعے ان کے حق میں رائے ہموار کی گئ۔
    پاکستانی افواج اور عوام میں دوری پیدا کرنے کے لیے پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے لوگوں کا استعمال کیا گیا فوج کے خلاف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر کالم پروگرام اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کرکے پبلک کی رائے سازی کی گئ جس سے خونی لبرلز کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جو نہ صرف دفاعی اداروں پر کھلے عام تنقید کرتا ہے بلکہ اسلام نظریہ پاکستان اور پاکستانی خاندانی اور سماجی نظام کے خلاف بھی علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں ۔
    خواتین کی آزادی اور حقوق کے نام پر میرا جسم میری مرضی والوں کو تھپکی دے کر پاکستانی مضبوط خاندانی اور سماجی نظام پر وار کیا گیا ۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی جیسے گھناونے اور سنگین جرم کی ایک خبر کے ذریعے پورے پاکستان میں چند گھنٹوں کے اندر اندر خانہ جنگی جیسی صورتحال میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس شدید پروپیگنڈے کے بارے ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟ ہمیں کسی بھی خبر اور تجزیہ کو سن اور پڑھ کر فوری رائے قائم کرنے کی بجائے قرآنی حکم کے مطابق طرز عمل اختیار کرنا چاہیے خبر اور معلومات کی تحقیق کریں بیان کرنے والے کی شخصیت اور معلوماتی مواد کے سیاق و سباق کا جائزہ لیں ففتھ جنریشن وار فیئر
    اور بیانیہ کی اس جنگ میں محتاط رویہ اختیار کریں۔ @Educarepak

  • ہیکر نے 260 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی واپس کردی

    ہیکر نے 260 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی واپس کردی

    پولی نیٹ ورک کے مطابق ہیکر نے کرپٹو کرنسی چرانے کے ٹھیک 24 گھٹنے بعد تقریباً آدھی مالیت کی ڈیجیٹل رقم واپس کردی ہے پولی نیٹ ورک میں ایک کمزوری نے ہیکرز کو پلیٹ فارم میں داخل ہونے اور کافی رقم نکالنے کی اجازت دی-

    باغی ٹی وی : پولی نیٹ ورک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں بتایا کہ گزشتہ روز ہیکر نے بلاک چین پلیٹ فارم “پولی نیٹ ورک” کے سسٹم سے 600 ملین ڈالر مالیت کی ایتھیریم اور دیگر کرنسی کے ٹوکن چرائے تھے۔


    ایسی صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے ، پولی نیٹ ورک نے رقم کی وصولی کے لیے ایک دلچسپ حکمت عملی استعمال کی ہے: براہ راست ہیکرز سے اس کی درخواست کی ایک عوامی خط میں اور ٹویٹر پر، پولی نیٹ ورک نے ہیکرز سے پیسے واپس مانگے۔ انہوں نے پیغام میں کہا ، "آپ نے جو رقم چوری کی ہے وہ کرپٹو کمیونٹی کے ہزاروں ممبروں کی ہے۔”

    پچھلے چند گھنٹوں میں ہیکرز نے چوری شدہ کرنسی میں سے کچھ واپس کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے پولی نیٹ ورک کو پیغام بھیجا اور کہا کہ وہ فنڈز واپس کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہیکر اورمتاثرہ نیٹ ورک کے درمیان رابطے قائم ہونے کے بعد ، پولی نیٹ ورک نے درخواست کی کہ اسے تین مختلف والٹس میں منتقل کیا جائے-


    بلاک چین پلیٹ فارم پولی نیٹ ورک نے تازہ ترین ٹوئٹس میں کہا کہ کرپٹو کرنسی چوری میں ملوث ہیکر نے 260 ملین ڈالرز (جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 42 ارب 43 کروڑ سے زائد بنتی ہے) کے ڈیجیٹل ٹوکن واپس کردیئے ہیں۔


    پولی نیٹ ورک نے ٹوئٹر پر مزید کہا کہ ہیکر نے تین کرپٹو کرنسیوں سے متعلق ڈیجیٹل ٹوکن واپس بھیجے ہیں جن میں 3.3 ملین ڈالرز ایتھیریم، 256 ملین ڈالرز بائننس سمارٹ چین (بی ایس سی) اور 1 ملین ڈالرز مالیت کے پولیگون شامل ہے۔

    پولی نیٹ ورک نے کہا کہ کہ ہیکر کو باقی ماندہ رقم کی واپسی اور اس کا “حل نکالنے کے لیے” رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے ویب سائٹ نے کہا ہے کہ چوری کی گئی کرنسی ڈی سینٹرالائزڈ فنانس انڈسٹری میں اب تک کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

    پولی نیٹ ورک ایک فنانسنگ پلیٹ فارم ہے۔ اس کا بنیادی مشن مختلف کریپٹو کرنسیوں کے بلاک چینز کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے میں مدد کرنا ہے۔”

  • اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی

    اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی

    جرمن کار کمپنی اوڈی نے مستقبل میں لگژری خودکار گاڑیوں کی جھلک دکھا دی کمپنی نے اسکائی سیفیر (Sky sphere) کو پرائیویٹ اسکریننگ میں متعارف کرایا ہے، مگر جلد باضابطہ طور پر بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : اوڈی نے اپنی آنے والی 3 کانسیپٹ گاڑیوں میں سے ایک متعارف کرا دی جس کی عام لوگوں کو دستیابی ممکن نہیں تاہم عوام کے لیے اسے مختلف موٹر شوز میں ضرور رکھا جائے گا تاکہ وہ مستقبل کی اس گاڑی کو دیکھ سکیں۔

    اوڈی “اسکائی سیفیر” ایسی حیران کن گاڑی ہے جس کی لمبائی کو بڑھایا یا گھٹایا جاسکتا ہے۔ گاڑی کے فرنٹ وہیلز کا بیس بھی 9.8 کم کیا جا سکتا ہے وہ بھی صرف ایک بٹن کی مدد سے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ 4 ہزار پونڈ وزنی یہ گاڑی محض 4 سیکنڈ میں 62 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سنگل چارج پر 310 میل کا سفر آسانی سے طے کرسکتی ہےالیکٹرک گاڑی میں موجود بیٹری پیک 80 کلو واٹ سے زیادہ کی گنجائش رکھتی ہے جبکہ سنگل الیکٹرک موٹر 624 ہارس پاور فراہم کرتی ہے۔
    https://youtu.be/0McQmw0h5mQ
    گاڑی میں مکمل طور پر ڈیجیٹل ڈیش بورڈ ہے جس میں 141 سینٹی میٹر چوڑی/18 سینٹی میٹر ہائی ٹچ اسکرین نصب ہے۔ جی ٹی موڈ پر یہ گاڑی خودکار طور پر ڈرائیو کرے گی اور اگر آپ اسے خود ڈرائیو کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اسپورٹ موڈ پر جانا ہوگا۔

    یہ 2 ڈور گاڑی ‘ اسپورٹ ‘ نامی بٹن کو دبانے سے اپنی شکل بدل لیتی ہے اور ڈیش بورڈ کے نیچے پیڈلز ابھرتے ہیں اور 2 سیکشنز میں تبدیل ہوکر کاک پٹ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

    اس کا ہائپر بولیکیلی لانگ ہڈ درمیان سے تقسیم ہوجاتا ہے اور ایک ایسی جگہ بن جاتی ہے، جس میں کچھ سامان رکھا جاسکتا ہےاس کی چھت کپڑے سے بنی ہے جس کو آسانی سے ہٹایا جاسکتا ہے جبکہ فرنٹ سیٹس کے پیچھے 2 ہلکے کمبل موجود ہیں جس کا مقصد مسافروں کو سرد موسم سے بچانا ہے۔

    اوڈی اے جے کے سربراہ ہنرک وانڈرز نے بتایا کہ یہ ہمارے مستقبل کے ویژن کا پہلا حصہ ہے تین مستقل کی تصوراتی گاڑی میں سے اسکائی سیفیر کے بعد ‘گرینڈ اسپیئر’ اور ‘اربن اسپیئر’ لانچ کیے جائیں گے۔