Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    امریکی کمپنی ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرز تنقید کے بعد مؤخر کردیئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی کمپنی ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکورٹی فیچرز متعارف کرایا تھا جس کے تحت فون پرنازیبا تصاویر بھیجنے یا آنے پر بچوں کے والدین کو اطلاع دی جائے گی۔

    نئے فیچر کے تحت کسی بھی آئی فون میں بچوں کی نازیبا تصاویر ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کو بھی خودکار طریقے سے آگاہ کردیا جائے گا۔ آئی فون کے نئے سیفٹی ٹولز متعارف کرادیئے گئے ہیں۔ یہ فیچرز ابتدائی طورپر امریکہ، پھر دنیا بھر میں دستیاب ہوں گے۔

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    ایپل کا کہنا تھا کہ نئے فیچرز نازیبا تصاویر بھیجنے یا وصول کرنے والے بچوں کی نگرانی اور ان کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے متعارف کرایا جائے گا لیکن صارفین کی جانب سے نئے فیچر پر تنقید کرنے کی وجہ سے کمپنی نے اپنے نئے فیچر کو مؤخر کردیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق گزشتہ روز کمپنی نے اپنے متنازع نئے اینٹی چائلڈ پورنوگرافی فیچر کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہےکمپنی نے یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے نئے فیچر پر تنقید کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی ایپل کے نئے فیچر کو تنقید کا نشانہ بناتے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ فیچر مستقبل میں جاسوسی کرنے کا زریعہ بن سکتا ہے۔

    ڈیجیٹل رائٹس آرگنائزیشنز کا کہنا ہے کہ ایپل فون کے آپریٹنگ سسٹمز میں تبدیلی موبائل میں ممکنہ بیک ڈور بناتا ہے جس سے حکام اور مختلف گروہ صارفین کی جاسوسی کرسکتے ہیں۔

    پاکستان میں بنے اسمارٹ فونز کی برآمدات کا آغاز ،موبائل کی پہلی کھیپ کس ملک کو…

  • سوشل میڈیا اور قومی ذمہ داری تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سوشل میڈیا اور قومی ذمہ داری تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

     
    یہ بات ایک حقیقت بن چکی ہے کہ دور جدید میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ اب سوشل میڈیابعض مقامات پر کسی بھی خبر سے متعلق پہلا ذریعہ تصور کیا جانے لگا ہے۔یہاں تک کہ مین اسٹریم میڈیا اور نیوز چینلز بھی سوشل میڈیا کو بطور پرایمری سورس استعمال کرر ہے ہیں۔ زمانہ کی تبدیلیوں اور گلوبل ولیج کے تصور کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے معاشروں پر اپنے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس بات میں کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ عالمی استعمار کی ایک کوشش یہ بھی رہی ہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق سافٹ وئیرز اور نت نئی ایپلیکیشنز کی ایجاد کے پس پردہ مقاصد میں دنیا کی قوموں اور اذہان کو کنٹرول کرناہے۔حقیقت یہی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عالمی استعماری نظام اور قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ دنیا کی دیگر قومیں ان کے سامنے محکوم رہیں۔عالمی استعمار کا سب سے بڑا ہدف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو بطور آلہ یا ہتھیار استعمال کر کے یہ جاننا چاہتا ہے کہ دنیا کی دیگر اقوام کے سوچنے کا طرز کیا ہے؟ یا یہ کہ اقوام کا طرز تفکر کیا ہے اور اسے استعماری قوتیں اپنے مفادات کے لئے کس طرح تبدیل کر سکتی ہیں۔اس مقالہ میں نہ تو سوشل میڈیا کے فوائد کی لسٹ بیان کی جا سکتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے استعمال کے نقصانات کی فہرست بیان کرنا مقصود ہے۔
    موجودہ حالات کے تناظر میں کہ جب پاکستان ایک ایسے حساس دور سے گزر رہا ہے کہ جب اندرونی اور بیرونی دشمن ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی موقع بھی ہاتھ سے خالی نہ جانے دیا جائے۔ ایک طرف عالمی استعمار بالخصوص امریکی نظام حکومت ہے کہ جس کا مقصد ہمیشہ سے پاکستان جیسے ممالک کو کمزور کرنا ہی رہا ہے تا کہ اس بہانے سے ہی پاکستان اور ایسے دیگر ممالک پر براہ راست فوجی تسلط یا بالواسطہ تسلط حاصل رہے۔لہذا امریکہ پاکستان کا ایک ایسادشمن ہے کہ جس نے دوست کا لباس پہن رکھا ہے۔امریکہ کے ساتھ ساتھ اس کی ناجائز اولاد اسرائیل ہے کہ جس کا نظریاتی دشمن ہی پاکستان ہے۔ اب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ اہداف کا جائزہ لیا جائے تو دونوں کے لئے ہی پاکستان مہم ہے۔ دونوں ہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ان کا اثر ونفوذ بڑھ جائے۔ ویسے تو امریکہ اور اسرائیل کے پاکستان کے خلاف کئی ایک مذموم عزائم ہیں لیکن ایک سب سے بڑا ناپاک منصوبہ جس کے لئے ہمیشہ دونوں ہی سرگرم عمل رہتے ہیں وہ مسلم دنیا میں پاکستان کی طاقتور اور باصلاحیت افواج کو کمزور کرنا ہے۔ ماضی میں لکھے گئے کئی ایک مقالہ جات میں اس کی تفصیلات بھی بیان کی جا چکی ہیں۔ امریکہ سمیت اسرائیل اور دیگر دشمن طاقتیں یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ کسی بھی مسلم دنیا کے مضبوط ملک کو اگر کمزور کرنا ہے یا اس کے خلاف سازش کرنا ہے تو پہلے اس کے سب سے مضبوط اور آہنی ستون یعنی فوج پرحملہ کیا جائے۔ موجودہ دور میں حملہ سے مراد کوئی فوجی اور عسکری حملہ نہیں ہے بلکہ ایسا حملہ ہے کہ جس کے ذریعہ لوگوں کے اذہان کو تبدیل کیا جائے۔لوگوں کے دلوں میں اپنے ہی وطن کی افواج اور رکھوالوں کے خلاف زہر گھول دیا جائے تا کہ جب دشمن کاری ضرب لگانے کے لئے تیاری کرے تو اس ضرب کو روکنے والی فرنٹ لائن قوت ہی ناکارہ ہو چکی ہو۔ یہی کام امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کی حواریوں نے مسلم دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص شام، عراق، لیبیا اور مصر سمیت دیگر ممالک میں انجام دیا اوربعد ازاں اپنے من پسند عزائم کی تکمیل کو پروان چڑھایا۔
    حالیہ دور میں دشمن اپنے اسی منصوبہ کی تکمیل کے لئے سب سے زیادہ جس ہتھیار کا استعمال کر رہاہے وہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔سوشل میڈیا پر نوجوانوں ک اذہان کو خراب کرنے اور انہیں اپنے ہی ملک و قوم اور افواج کے مقابلہ پر لا کھڑا کرنے کے لئے جو ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے وہ سوشل میڈیا ہی ہے۔اسی سوشل میڈیا پر بھارت، یورپی ممالک اور کچھ عرب ممالک سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ یہ منفی پراپیگنڈا ایسے اوقات میں شدت اختیار کر لیتا ہے جب ملک ک ی اندرونی سیکورٹی سے متعلق حالات تبدییل ہو رہے ہوتے ہیں۔یا اس طرح کہہ لیجئے کہ جب سیکورٹی فورسز غیر ملکی ایماء پر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کے خلاف کاری ضرب لگانا شروع کرتے ہیں تو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے، لسانی اختالافات کو ہوادینے سمیت افواج پاکستان کے خلاف منفی اور غلیظ زبان کا استعمال کرنے میں یورپی ممالک سمیت بھارت، دبئی اور کچھ عرب ممالک سے نیٹ ورکنگ کے تانے بانے ملتے ہیں۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی ماضی کی حکومت ہو یا موجودہ حکومت ہو ابھی تک ملک کے اندر سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جب بھی سوشل میڈیا کے بارے میں کنٹرول کرنے کی بات کی جاتی ہے تو سوشل میڈیا کے موجد مغربی ممالک سب سے پہلے پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر حملہ جیسے نعروں کا واویلا شروع کرتے ہیں۔حالانکہ خود ان مغربی ممالک کی حالت دیکھی جائے تو وہاں سی این این جیسے خود کے نیوز چینل کو بھی بند کر دیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی آزادی اظہار پر قد غن کا نعرہ بلند کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔
    دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جن ممالک سے پاکستان میں آگ بھڑکانے کی سرگرمیاں نظر آتی ہیں خود ان ممالک کی حکومتوں نے اپنے ملک کی اندرونی سیکورٹی صورتحال کو بہتر رکھنے کے لئے کئی ایک رکاوٹی نظام متعارف کروا رکھے ہیں۔ خود بھارت کی بات کریں تو بھارت میں کسی بھی سوشل میڈیا کے سافٹ وئیر اور ایپلیکیشن کے ادارے کو اس وقت تک بھارت میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ جب تک اس کمپنی کا آفس بھارت کے اندر سے کام نہ کرے اور اس کمپنی کا ایک نمائندہ بھارت میں موجود نہ ہو۔ اسی طرح عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دیگر چند عرب ممالک میں سوشل میڈیا کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد ہیں۔باہر سے جانے والے مسافر یا عارضی طور پر رہائش رکھنے والے باقاعدگی سے کسی بھی طرح کا سافٹ وئیر آزادانہ استعمال نہیں کر سکتے۔
    ان تمام باتوں کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ معاشرہ کو جدید طرز فکر س ے دور کر دیا جائے یا سوشل میڈیا کا استعمال نہ کیا جائے۔البتہ ان باتوں کو بیان کرنے کے اہم مقاصد میں سب سے پہلا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان او ر ذی شعور طبقہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کو عاقلانہ انداز میں استعمال کرے اور نیچے دوسروں لوگوں تک اس کی ترغیب دے۔ اسی طرح ان باتوں کو بیان کرنے کا دوسرا اور سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ سوشل میڈیا کو مادر پدر آزاد رکھنے کی بجائے اپنے قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ضروری پابندیاں یا کچھ روک تھام کی ضرورت ہو تو ایسے اقدامات سے ہر گز گریز نہ کیا جائے۔دور جدید کے سیاسی نظام کا یہ تقاضہ ہے کہ ہر ملک اور ریاست اپنے قومی اور مشترکہ مفاد کے لئے ایسی پالیسیوں کو ترتیب دیتے ہیں کہ جو ریاست کے مفاد اور عوامی مفاد میں ہو۔ اس کام کے لئے اگر وقتی طور پر قانون سازی کی ضرورت بھی ہو تو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کی جائے۔ان اقدامات سے جہاں معاشرے میں بڑھتے ہوئے بگاڑ کو روکنے میں مدد حاصل ہو گی وہاں ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی مدد بھی ہو گی کہ جو فرنٹ لائن پر نہ صرف عسکری جہاد میں مصروف عمل ہیں بلکہ سرحدوں کے اندر بھی دشمن کی گھناؤنی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے دن رات چوکس رہتے ہوئے خدمات انجام دیتے ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور عوام الناس کو با شعور کرنا ہر ذی شعور پاکستانی شہری کی قومی ذمہ داری ہے اور ہم سب کو مل کر اس قومی ذمہ داری کو انجام دینا ہو گا اور وطن عزیز کے لئے ایک روشن مستقبل کی بنیاد ڈالنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ 

  • سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے   سائنسدانوں کا دعویٰ

    سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    نئی تحقیق میں برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اب سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سکائی نیوز کے مطابق برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وائپر سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کے بچاؤ کی دوا کی تیاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے سانپ کے زہر میں موجود مالیکیول نے بندروں کے خلیوں میں کورونا وائرس کی افزائش کو روکا ہے اور یہ وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ممکنہ پہلا قدم ہے۔

    سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق وائپر سانپ کے زہر میں پایا جانے والا مالیکیول بندروں کو لگایا گیا جس سے کورونا وائرس کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت میں 75 فیصد کمی آئی یہ دریافت اس وائرس سے لڑنے کے لیے ایک دوا کی تخلیق کی طرف ممکنہ پہلا قدم ہو سکتا ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔

    کورونا کیسز کی تعداد میں بدستور اضافہ ، پشاور کے 5 مختلف علاقوں میں اسمارٹ لاک…

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وائپر سانپ کے زہر میں پائے جانے والے مالیکیولز پہلے ہی انسداد بیکٹریا خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں یہ لمبے سفر میں پہلا قدم ہے یہ عمل بہت لمبا ہے۔

    سائنسی جریدے ، مالیکیولس میں شائع ہونے والی تحقیق میں پایا گیا کہ یہ ٹکڑا ایک پیپٹائڈ ہے ، یا امینو ایسڈ کی زنجیر ہے ، جو PLPro نامی کورونا وائرس کے انزائم سے منسلک ہوسکتی ہےPLPro دوسرے خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر وائرس کی تولید کے لیے بہت ضروری ہے۔

    جاراکوسو 2 میٹر (6 فٹ) لمبا تک بڑھ سکتا ہے اور برازیل ، ساحلی بحر اوقیانوس کے جنگل ، بولیویا ، پیراگوئے اور ارجنٹائن میں پایا جاتا ہے مسٹر گائڈو نے مزید کہا کہ سائنس دان خوفزدہ ہیں کہ لوگ پورے برازیل میں جاراکوسو کے شکار پر جائیں گے ، یہ سوچ کر کہ یہ دنیا کو بچائے گا یا خود کو ، ان کے خاندان کو۔

    انہوں نے کہا: "ایسا نہیں ہے۔ کیا یہ ایک اہم دریافت ہے؟ بلا شبہ یہ ہے ، لیکن جانور کا پیچھا کرنا یہ نہیں ہے کہ اسے کیسے حل کیا جائے گا "جو جزو دریافت ہوا وہ زہر کے اندر سے صرف ایک حصہ ہے ، یہ خود زہر نہیں ہے جو اس وقت کورونا وائرس کا علاج کرے گا۔”

    اسٹیٹ یونیورسٹی آف ساؤ پالو (یونیسپ) کے ایک بیان کے مطابق ، محققین اگلا انو کی مختلف خوراکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور کیا یہ وائرس کو خلیوں میں داخل ہونے سے روک سکتا ہے۔

    وہ انسانی خلیوں میں مادہ کی جانچ کی امید رکھتے ہیں لیکن کوئی ٹائم لائن نہیں دی-

    18سال سے کم عمر افراد کے لیے کورونا ویکسی نیشن کی نظرثانی گائیڈ لائنز جاری

    جاراکوسو ایک انتہائی زہریلا گڑھا وائپر ہے اور برازیل کے سب سے بڑے سانپوں میں سے ایک ہے۔ یہ ساحلی بحر اوقیانوس کے جنگل میں رہتا ہے اور بولیویا ، پیراگوئے اور ارجنٹائن میں بھی پایا جاتا ہے –

  • ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت   تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی پر اس تحریک میں ، ہم اس بات پر بات کرنے جا رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کیا ہے ، اس کے استعمال کیا ہیں ، اور یہ بھی کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے؟ سب سے پہلے ، ٹیکنالوجی سے مراد مشینری بنانے ، مانیٹر کرنے اور ڈیزائن کرنے کے لیے تکنیکی اور سائنسی علم کا استعمال ہے۔ نیز ، ٹیکنالوجی انسانوں کی مدد کرنے والے دوسرے سامان بنانے میں مدد دیتی ہے۔

    ٹیکنالوجی پر مضمون – ایک فائدہ یا فائدہ؟

    ماہرین برسوں سے اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ، ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایک طویل راستہ طے کیا لیکن اس کے منفی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کئی سالوں میں تکنیکی ترقی نے آلودگی میں شدید اضافہ کیا ہے۔ نیز ، آلودگی صحت کے بہت سے مسائل کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، اس نے لوگوں کو جوڑنے کے بجائے معاشرے سے کاٹ دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر ، اس نے مزدور طبقے سے بہت سی نوکریاں چھین لی ہیں۔

    چونکہ وہ مکمل طور پر مختلف شعبے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ نیز ، یہ سائنس کی شراکت کی وجہ سے ہے ہم نئی جدت پیدا کر سکتے ہیں اور نئے تکنیکی اوزار بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، لیبارٹریوں میں کی جانے والی تحقیق ٹیکنالوجیز کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری طرف ، ٹیکنالوجی سائنس کے ایجنڈے کو بڑھا دیتی ہے۔

    ہماری زندگی کا اہم حصہ۔

    باقاعدگی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ نیز ، نئی ٹیکنالوجیز مارکیٹ میں طوفان برپا کر رہی ہیں اور لوگ وقت کے ساتھ ان کی عادت ڈال رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ، تکنیکی ترقی قوموں کی ترقی اور ترقی کا باعث بنی ہے۔

    ٹیکنالوجی کا منفی پہلو۔

    اگرچہ ٹیکنالوجی ایک اچھی چیز ہے ، ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بھی دو پہلو ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ یہاں ٹیکنالوجی کے کچھ منفی پہلو ہیں جن پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں۔

    آلودگی۔

    نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ صنعت کاری بڑھتی ہے جو ہوا ، پانی ، مٹی اور شور جیسے بہت سے آلودگیوں کو جنم دیتی ہے۔ نیز ، وہ جانوروں ، پرندوں اور انسانوں میں صحت سے متعلق کئی مسائل پیدا کرتے ہیں۔

    قدرتی وسائل کا ختم ہونا۔

    نئی ٹیکنالوجی کے لیے نئے وسائل درکار ہوتے ہیں جس کے لیے توازن بگڑ جاتا ہے۔ بالآخر ، یہ قدرتی وسائل کے زیادہ استحصال کا باعث بنے گا جو بالآخر فطرت کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

    بے روزگاری۔

    ایک مشین بہت سے کارکنوں کی جگہ لے سکتی ہے۔ نیز ، مشینیں بغیر کسی رکے کئی گھنٹوں یا دنوں تک مسلسل رفتار سے کام کر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے ، بہت سے مزدوروں نے اپنی نوکری کھو دی جو بالآخر بے روزگاری میں اضافہ کرتی ہے۔

    ٹیکنالوجی کی اقسام۔

    عام طور پر ، ہم ٹیکنالوجی کا ایک ہی پیمانے پر فیصلہ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ، ٹیکنالوجی مختلف اقسام میں تقسیم ہے۔ اس میں انفارمیشن ، تخلیقی ، صنعتی، تخلیقی  اور بھی بہت کچھ شامل ہے۔ آئیے ان ٹیکنالوجیز پر مختصر بحث کریں۔

    صنعتی ٹیکنالوجی۔

    یہ ٹیکنالوجی مشینوں کی تیاری کے لیے انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کو منظم کرتی ہے۔ نیز ، یہ پیداواری عمل کو آسان اور آسان بنا دیتا ہے۔

    تخلیقی ٹیکنالوجی۔

    اس عمل میں آرٹ ، اشتہارات اور پروڈکٹ ڈیزائن شامل ہیں جو سافٹ وئیر کی مدد سے بنائے جاتے ہیں۔ نیز ، اس میں تھری ڈی پرنٹرز ، ورچوئل رئیلٹی ، کمپیوٹر گرافکس اور دیگر پہننے کے قابل ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

    انفارمیشن ٹیکنالوجی

    اس ٹیکنالوجی میں معلومات بھیجنے ، وصول کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر کا استعمال شامل ہے۔ انٹرنیٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بہترین مثال ہے۔

    آج ہر وہ چیز جو ہم اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں وہ ٹیکنالوجی کا تحفہ ہے اور جس کے بغیر ہم اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نیز ، ہم ان حقائق سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس سے ہمارے اردگرد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ٹیکنالوجی پر مضمون پر عمومی سوالات

    Q.1 انفارمیشن ٹیکنالوجی کیا ہے؟

     یہ ٹیکنالوجی کی ایک شکل ہے جو مطالعے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر سسٹم استعمال کرتی ہے۔ نیز ، وہ ڈیٹا بھیجتے ، بازیافت کرتے اور محفوظ کرتے ہیں۔

    Q.2 کیا ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے؟

     نہیں ، ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں جب تک کہ اس کا صحیح استعمال نہ ہو۔ لیکن ، ٹیکنالوجی کا 

    غلط استعمال نقصان دہ اور مہلک ہو سکتا ہے۔

    @Z_Kubdani

  • پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے     اسلام آباد ہائیکورٹ

    پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے اسلام آباد ہائیکورٹ

    معروف چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کر لی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا، 4 صفحات پرمشتمل تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے ٹک ٹاک پر پابندی کا کوئی مناسب جواز پیش نہیں کر سکا، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت کی استدعا کی ہے۔

    ٹک ٹاک کا اپنے نو عمر صارفین کی حفاظت کےلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے وکیل نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ ٹک ٹاک پابندی کا معاملہ کابینہ کے سامنے نہیں رکھا ٹک ٹاک پر ٹیکنالوجی کے دوسرے ذرائع سے رسائی ممکن ہے، ٹاک ٹاک پر پابندی اس لیے بھی غیر موثر ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع سے رسائی ہو سکتی ہے۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ جب یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک فیصد افراد ٹک ٹاک کاغلط استعمال کررہے ہیں تو سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی حل نہیں، سوسائٹی میں تنزلی کی علامت کو سوشل میڈیا سائٹس پر موجود مواد سے نہیں ملایا جا سکتا، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقی نے سوسائٹی میں بہت سے چیلنج سامنے لائے۔

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    حکمنامے کے مطابق عدالت نے استفسار کیا ہے کہ کہ ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق حکومتی پالیسی کیا ہے، پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ پی ٹی اے 20 ستمبر کو وفاقی حکومت کی پالیسی سے متعلق رپورٹ پیش کرے۔

    ایئر لنک کمیونیکیشن کا پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او بنانے کا منصوبہ

  • گوگل کی  اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنے صارفین کیلئے ہنگامی وارننگ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : گوگل کا مقصد عام صارفین کو انٹرنیٹ پر کسی بھی موضوع پر درکار مواد تلاش کرنے کے لیے سرچ انجن مہیا کرنا تھا۔ اسی وجہ سے گوگل کو مقبولیت حاصل ہوئی اور آج بھی یہ دنیا کا سب سے ذیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے تاہم اس نے اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ جاری کی ہے-

    رپورٹ کے مطابق گوگل کی اپنے 2 ارب صارفین کے لیے 2 ماہ میں چوتھی وارننگ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز سے محفوظ رہنا ہے تو اپنا براؤزر فوری اپ گریڈ کریں-

    گوگل کے علاوہ مائیکروسافٹ کے سرچ انجن ‘ ایج’ نے بھی چوتھی ہنگامی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے صارفین کو کہا ہے کہ ہیکرز سے محفوظ رہنا ہے تو اپنا براؤز فوری اپ گریڈ کرلیں۔

    براؤزر کو اپ گریڈ کرنے کا طریقہ:

    براؤزر اپ گریڈ کرنے کے لئے آپ کو سیٹنگز میں جانا ہو گا اور پھر ہیلپ میں جاکر اباؤٹ گوگل کروم کھولنا ہو گا اپنے براؤزر کا ورژن چیک کریں، اگر Linux ، macOS یا Windows پر آپ کا براؤزر 92.0.4515.159 یا اس سے آگے کا version ہے تو آپ محفوظ ہیں۔

    گوگل فی الحال ان مسائل کے بارے میں بہت کم معلومات دے رہا ہے تاہم یہ ایک یہ معیاری عمل ہے جو کمپنی معلومات کو محدود کرنے کی کوشش میں کرتی ہے تاکہ صارفین کی پرائیوسی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہیکرز کو روکا جائے۔

  • معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا سلسلہ جاری ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : چین میں کریک ڈاؤن اور ایلون مسک کے ٹیسلا کی جانب سے اسے مزید ادائیگی کے طور پر قبول نہ کرنے کے فیصلے کے بعد مئی میں کرنسی کی قیمت تیزی سے گر گئی تھی لیکن اب تین ماہ بعد سرمایہ کاروں کے رجحان میں بہتری نظر آرہی ہے اور زیادہ مرکزی کمپنیاں ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال شروع کر رہی ہیں۔

    جنوری سے اب تک بٹ کوائن کی قدر میں 81 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جنوری میں بٹ کوائن صرف 27ہزار ڈالر میں ٹریڈ کر رہا تھا میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ٹریڈنگ کے دوران کرپٹو مارکیٹ میں ایک بِٹ کوائن کی قدر 3.2 فیصد اضافے کے بعد 50 ہزار 298 ڈالر ہوگئی ہے جو پاکستانی روپوں میں 82 لاکھ سے زائد بنتی ہے جب کہ رواں سال مئی کے بعد یہ بِٹ کوائن کی ریکارڈ قیمت ہے-

    اس کے علاوہ دیگر ورچوئل کرنسیز بشمول کارڈانو، اتیھریم اور ڈوج کوائن کی قیمتوں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    کرپٹو کرنسی کی قدر میں اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی کمپنی پے پال نے کہا کہ وہ برطانیہ میں صارفین کو بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو خریدنے ، بیچنے اور رکھنے کی اجازت دے گا ۔ یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ سے باہر اپنی کرپٹو خدمات کو بڑھایا جا رہا ہے۔

    خیال رہےکہ رواں برس کے اپریل میں بِٹ کوائن کی قیمت 65 ہزار ڈالر تک جا پہنچی تھی جس کے بعد اس کی قدر میں کمی واقع ہورہی تھی۔

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: صائمہ رحمان

    اکیسوی صدی میں دنیا نے تیزی سے کی ترقی پہلے فاصلے طے کرنے کے لئے پہلے دنوں اور مہینوں کا سفر کرتے تھے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی نے یہ فاصلے سکینڈ کے کر دئیے ہیں پہلے رابطوں کا سلسلہ خط و کتابت سے ہوتا تھا پھر اس کی جگہ ٹیلی فون نے لے لی مواصلاتی سروس کا آغاز کیا گیا جس میں چند لفظوں پر مشتمل مختصر پیغام بھیجا جا سکتا ہے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے اپنی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ کیا پہلے حساب کتاب تحریری طور پر رکھا جاتا تھا پھر اس کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی جس میں تمام ڈیٹا محفوظ کیا جانے لگا۔
    انٹرنیٹ کے آغاز سے دنیا سمٹ گئی فاصلے مٹ گئے اور اب انٹرنیٹ کے ذریعے ہم مختلف ایپلیکشنز کے ذریعے ویڈیو کالز سے ہم اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔
    گذشتہ پچاس سال ٹیکنالوجی کے عروج کے سال مانے جاتے ہیں ہماری نسل اس دور سے تعلق رکھتی جس نے جدید ٹیکنالوجی کا ہر دور اور اس میں آنے والااتار چڑھاﺅ بڑے قریب سے دیکھا ۔
    ٹیلی ٹیکس نیٹ ورک ایک ٹیلیفون نیٹ ورک کی طرح ٹیلی پرنٹ کرنے والا عوامی سوئچ شدہ نیٹ ورک تھا ، جو متن پر مبنی پیغامات بھیجنے کے مقاصد کے لئے تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے دور میں کاروبار کے مابین الیکٹرانک طور پر تحریری پیغامات بھیجنے کا ایک بڑا طریقہ ٹیلی کام تھا۔ اس کا استعمال زوال پذیر ہوا کیونکہ 1980 کی دہائی میں فیکس مشین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
    ٹیلی پرنٹر سے G 5 تک کا سفر کوئی بہت طویل نہیں یہ صرف گذشتہ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے اخبارات میں ٹیلی پرنٹر پر نیوز ایجنسیوں کی خبریں اور ٹیلیکس پر پیغامات اس کے بعد فیکس مشین کی آمد کو جدید ترین تصور کیا گیا لیکن 2 G سے 3 G کی سیریز نے دنیا کو یکسر تبدیل کر کے رکھا دیا ہے اب سماجی رابطوں ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔
    سوشل میڈیا وہ ڈیجیٹل ٹول ہے سوشل میڈیا سستا اور آسان رابطے کا ذریعہ ہے جو صارفین کو عوام کے ساتھ جلدی سے مواد تیار کرنے اور ان کا اشتراک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپس کی ایک وسیع رینج رکھتا ہے کچھ ، جیسے ٹویٹر ، روابط اور مختصر تحریری پیغامات کو بانٹنے میں مہارت رکھتے اس وقت دنیا میں بے شمار سائٹس موجود ہیں جن کے ذریعہ سوشل میڈیا یا نیٹورکنگ کا حصول ممکن ہے۔تاہم چند ایک سوشل میڈیا کمپنیاں ہیں جن کو اس سلسلہ میں خاص مقام حاصل ہے مثلا فیس بک، ٹویٹر، سنیپ چیٹ، انسٹا گرام، پن ٹرسٹ وغیرہ۔ یہ تقریبا ناممکن ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لوگوں کو ان سے واقفیت نہ ہو۔ اب ہم ان کے مقاصد پر مختصر بات کرے گے تاکہ صارفین کو ان سے متعلق آگائی میںآسانی ہو کہ وہ کس سائٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    فیس بک سوشل نیٹورکنگ کے حوالے سے سرفہرست ہے بنیادی طور پر اس کا مقصد آپ کو اپنے دوست احباب سے رابطے میں مدد دینا ہے آپ اپنے روز مرہ کے معمولات یا خاص مواقع ان کے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں چونکہ اس کے صارفین کی تعداد بہت بڑی ہے اور اس کے ذریعہ خبر بہت جلدی پھیلتی ہے لہذا اس میں آپ کسی قسم کے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتے ہیں۔ چند بنیادی فیچرز میں ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیوز، ٹیگ، آڈیو/ویڈیو چیٹ، گروپ چیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
    اگرچہ کوئی بھی فرد سوشل میڈیا کے لئے سائن اپ ہوسکتا ہے ، لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہر قسم کے کاروبار کے مارکیٹنگ کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔ کامیاب سوشل میڈیا ورکزبنے کی کلید یہ ہے کہ اس کو کسی اضافی ضمیمہ کی طرح نہ سمجھا جائے بلکہ اس کی خاص خیال احترام اور توجہ کے ساتھ استعمال کیا جائےجس کی آپ اپنی ساری مارکیٹنگ کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ کاروباری اداروں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنا چاہئے۔
    ٹویٹر فیس بک سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ایک تو اس میں پیغام کی ایک حد مقرر ہے جو کہ تقریبا 165 حروف پر مشتمل ہے دوسرا اس میں آپ کاسوشل سرکل فرینڈس تک محدود نہیں ہوتا بلکہ آپ کسی کو بھی فالو کر سکتے ہیں۔ آپ مختصر پیغام ،تصاویر، متحرک تصاویر اور ویڈیوز شامل کر کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا استعمال ہمارے سب نیوز چینلز سیاست دانوں اور مشہورشخصیات میں ہونے لگا ہے یہ ابلاغ کا مو ¿ثر و مقبول ذریعہ بن چکا ہے۔ آپ کسی بھی شخصیت کو فالو کر کے اس کے پیغامات کی اپ ڈیٹ حاصل کر سکتے ہیں اور ری-ٹویٹ کے ذریعہ آگے پہنچا سکتے ہیں۔ ٹویٹر کو کسی حد تک خبروں کا آفیشل ذریعہ مانا جاتا ہے۔انسٹا گرام تصاویر اور ویڈیوز کا تیز ترین سوشل نیٹورک ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ استعمال میں سہولت، فوٹو فلٹرز مہیا کرنا اور دیگر سوشل نیٹورکس پر آسان شئیرنگ ہے۔
    ایک سروے رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا سے براہ راست ا?ن لائن کاروبار کی نمائش سے آمدنی میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ ممکن ہے کیونکہ بذریعہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ایک محدود پیمانے پر اشیاءکو پیش کیا جا سکتا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پروڈکٹ متعارف ہو جاتی ہے۔ گوگل کی پیش کردہ اشتہاری مہم نے ان لائن کمائی اوراشتہارات کا کافی فروغ دیا ہے۔
    انٹرنیٹ انقلاب کا ایسا دور ہے جس نے سوچ اوراظہار ران کا عالمی منظر نامہ بدل دیا۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی 56.1 فیصد انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا کے صارفین کی تعداد 37تقریباملین ہے جو کل آبادی کا تقریبا اٹھارہ فیصد ہے۔
    ترقی یافتہ اور ترقی پذیر مما لک میں انٹرنیٹ کے صارفین کی شرح میں کافی فرق ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں انٹرنیٹ صارفین کی شرح 81فیصد ہے۔ دو ہزار ا ٹھا رہ کے اعدادو شمار کی مطابق دنیا میں 100ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریبا اکیس فیصد موبائل انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔موبائل سبسکرپشن 150 ملین سے زائد ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار انیس تک موبائل سبسکرپشن میں آٹھ ملین کا اضافہ ہوا۔دنیا میں کتنے لوگ آن لائن ہیں ؟ کیا مرد اور عورتیں یکساں تناسب سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں ؟۔ خواتین انٹرنیٹ صارفین کی تعداد مردوں کی نسبت تقریبا250ملین کم ہے۔خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی کمائی کے ذرائع بھی بڑھا رہی ہیں۔ بالخصوص فیس بک پیجز اور انسٹا گرام کے ذریعے مختلف بزنس کر رہی ہیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر خواتین کی موجودگی معاشرے میں خواتین کی حیثیت میں مثبت تبدیلی کے لئے بہت اہم ہے۔
    خواتین آرٹ کلچر سے لے کر سرمایہ کاری اور انجینرنگ جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ادارے جو خواتین کی معاشرے میں حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر خواتین کی براہ راست شمولیت کو بڑھانے پر توجہ دینی ہو گی سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تحقیق سے پہلے ہی خبر پوری دنیا میں پہنچ جاتی ہے جالی اکاونٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے لیکن جہاں سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کا غیر ضروری استعمال بھی کیا جا رہا ہے سنسنی خیزی بھی پھلانے کی بھی کوشش کی جاری ہے بے معنی عام اظہار ،ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے بہت سے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے خبر دار رکھنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر فساد،بدعمنی،لڑائی جھگڑے اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ہمیشہ سماجی و یب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی خبریں شیئر کریں جو آپ کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکانٹس رکھنے والوں کو کڑی سزا دے، لہذا ہمیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کرنے چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پروان چڑھ سکے۔
    وفاقی حکومت نے ٹوئٹر، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی ہے پاکستان کے سائبر قوانین کے مطابق عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر انہیں بلاک کر دیا جائے گا اور تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتاکہ فیس بک یا یوٹیوب جیسی بڑی کمپنیاں پاکستانی قانون کی وجسے یہاں اپنے دفاتر کھولیں اور سٹاف رکھیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورک پر پابندی لگاتی رہی ہیں۔نئے رولز کا مقصد ’سکیورٹی ادروں اور ملکی سلامتی کے خلاف اور مذہبی منافرت پھیلانے والے مواد کو بھی کنٹرول کرنا ہے۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ہجوم کی بد تمیزی سے ہم پر بطور معاشرہ کئی سوالات اُٹھ گئے ہیں۔
    اس عائشہ نامی لڑکی اور نور مقدم کیس میں کئی مماثلات ہیں۔
    دونوں لڑکیاں متنازعہ بیک گراونڈ کی تھیں۔
    دونوں مشرقی اور اسلامی روایات کی پاسداری نہ کرنے والی آزاد خیال خواتین تھیں۔
    نور مقدم تو دنیا سے چلی گئی،اُس پر زیادہ بات کرنا بھی ہماری روایات کے خلاف ہو گا۔
    نور مقدم کیس میں ملوث درندے ،مجرم اور قاتل کو عبرتناک سزا کادیا جانا بہت ضروری ہے۔
    جس وحشیانہ طریقے اور بر بریت سے اس خاتون کو قتل کر کے اسکا سر تن سے جدا کیا گیا۔
    اسکی مہذب معاشروں تو کیا جنگل کی دنیا میں بھی کوئ مثال نہیں ملتی۔
    مینار پاکستان والے کیس میں لڑکی کے متنازعہ کردار پر بہت سے سوالات اُٹھاۓ جا رہے ہیں۔
    ایک تو یہ کہ وہ وہاں رش اور بھیڑ والے دن ٹک ٹاک وڈیو بنانے کیوں آئ؟
    دوسرا یہ کہ اس نے بھارتی جھنڈا اُٹھا رکھا تھا،تاہم اس بات کی تصدیق پاکستان میں آزاد زرائع سے تو نہیں ہو سکی مگر ہمارے کچھ اندرونی دشمنوں کی وساطت سے بھارت تک جا پہچی ،
    جسے بھارتی میڈیا نے مرچ مصالحہ لگا کر خوب اُچھالا۔
    لڑکی پر تیسرا اعتراض یہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ اس نے نامناسب لباس پہن رکھا تھا۔
    لڑکی پر لگاۓ گئے اعتراضات پر متفق ہونے کے بعد بھی کیا ان لوگوں کے گھناؤنے کام کو معاف کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح وہ ایک لڑکی پر جھپٹ پڑے۔
    کیا ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ لڑکی کو لوٹ مار کا مال سمجھ کر اس پر کتوں کی طرح ٹوٹ پڑیں
    انہیں اس بر بریت کی معافی کبھی بھی نہیں دی جا سکتی۔
    کون کس طرح کا لباس پہنتا ہے۔کون کس طرح کا کام کرتا ہے۔
    اس کو دیکھنا لوگوں کا کام نہیں تھا۔
    اگر ان سب کو لڑکی کا وڈیو بنانا برا لگا تھا تو اسے لعن طعن کرتے۔
    اسے اس جگہ سے دفع دور ہونے کا کہہ دیتے۔
    مگر اُن کے لئے تو لڑکی کو دبوچنا ضروری تھا،جو انہوں نے کیا۔
    اگر اس قسم کے فیصلوں کی اجازت لوگوں کو دے دی گئی تو معاشرے میں پھیلےجاہل لوگ عام آدمی کا جینا دشوار کر دیں گے۔
    عورتوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو جاۓ گا۔
    اس واقعہ کو اقرار سید اور شامی نامی لڑکے نے سستی شہرت کے لئے استعمال کیا،جبکہ اقرار نے تو ہمیشہ کی طرح سارا ملبہ پاکستان پر بطور ملک ڈال دیا،
    تاکہ بھارت جسے وہ پاکستان سے بہتر سمجھتا ہے،
    خوش ہو اور بھارت خوش ہوا بھی۔
    بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے،وہ تو موقع کی تاک میں رہتا ہے۔
    اور اسے ایسے مواقع اقرار جیسے بندے اور ڈان جیسے اخبار گاہے بگاہے فراہم کرتے رہتے ہیں۔
    ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہر پہلو کو دیکھنا ہو گا۔ہمیں ہر زاویے سے پرکھنا ہو گا کہ کون کہاں پر غلط تھا۔
    اسی واقعہ میں جس طرح ہجوم نے لڑکی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا،اُسکی جان بھی جا سکتی تھی۔
    آپ سوچیں کہ اگر اس واقعے میں خدانخواستہ اس لڑکی کی جان چلی جاتی تو کیا ہوتا؟
    ایک تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہوتا
    دوسرا بین الاقوامی میڈیا اسے جس بری طرح ہمارے ملک کے خلاف استعمال کرتا،
    وہ سوچنا بھی محال ہے-
    ہم تو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔
    کوئ ایسا وقت نہیں،جب ہمارے خلاف سازشوں کے تانے بانے نہ بُنے جا رہے ہوں۔
    ایسے میں ہم اس طرح کے بے مقصد واقعات کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں؟
    اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہچے بغیر کوئ نتیجہ اخذ مت کریں۔
    کڑی سے کڑی ملنے کا انتظار کریں تاکہ بعد میں اپنے لکھے گئے الفاظ اور کہی گئی بات پر شرمندگی نہ ہو۔
    اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
    شروع میں ہی کچھ لوگوں نے صرف ہجوم میں شامل ملزمان کو اپنا نشانہ بنایا۔بعد میں لڑکی کا کردار بھی کچھ مشکوک نظر آنے لگا،
    جس سے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہ سب کچھ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا،
    جس کا مقصد شہرت اور فالوورز کا حصول تھا۔
    آجکل فالوورز اور ریٹننگ کے حصول کے لئے بھی ایسےایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
    لہذا فیصلہ کرنے میں کبھی بھی جلد بازی نہ کریں۔اور جب بھی کوئ فیصلہ کریں تو اس میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہم جانے انجانے میں کہیں پاکستان کے مفادات کو نقصان تو نہیں پہچا رہے؟
    کہیں ہم کسی شازشی گھن چکر میں آکر کہیں کوئ اپنا نقصان تو نہیں کر رہے-
    اس قسم کے واقعات ہمیں بعض دفعہ اتنا جذباتی کر دیتے ہیں کہ ہم بغیر سوچے سمجھے دشمنوں کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں،
    جسے ففتھ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے۔
    ہم نادانی میں اس ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ اسی کا ایندھن بن جاتے ہیں،
    جو ہمارے لئے بطور معاشرہ اور بطور ایک ملک کے سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔
    ہمیں اپنی کردار سازی کی ضرورت ہے۔معاشرے میں وہ چیزیں لیکر آئیں،جن کی اجازت دین اسلام بھی دیتا ہو۔ان چیزوں پر قانون سازی ہونی چاہیے،جو حکومت کی زمہ داری ہے۔لوگوں کو جج اور منصف کا حق نہیں دیا جا سکتا،ورنہ ہم جنگل کا معاشرہ بن جائیں گے،
    لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے معتدل رویہ اختیار کریں۔
    جھپٹ نہ پڑیں،اپنے اندر کے شیطان کی تسکین کے لئے۔
    پاکستان میں ہم اپنی اُن روایات کے باغی نہیں ہو سکتے،
    جن میں گھر کے بڑے چھوٹوں کو نصیحت کرتے ہیں۔
    جہاں باہر جانے کے لئےباپ ،بھائ اور خاوند کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
    جہاں شام کے بعد گھر کے نوجوانوں کو گھر سے باہر جانے سے روکا جاتا ہے۔
    جہاں مائیں اور گھر کی بڑی بوڑھیاں ہر وقت اپنے بچوں کو سمجھاتی رہتی ہیں کہ یہ پہنو،اس طرح بیٹھو،اس طرح بات کرو۔
    یہیں سے ہمیں وہ تربیت ملتی ہے،جو ہماری سوسائٹی کا خاصہ ہے۔انہیں طور طریقوں میں یہ خاصیت اور انفرادیت بھی ہوتی ہے،
    جہاں والد کسی بھی وقت اپنے بچوں کے موبائیل دیکھ سکتا ہے کہ بچے کونسی ویب سائیٹ یا مواد دیکھ رہے ہیں ؟
    ان چیزوں کے بڑے فائدے ہیں،مگر خونی لبرلز کے نزدیک یہ سب دقیانوسی سوچ اور آؤٹ آف فیشن چیزیں ہیں۔

    کسی بھی معاملے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیاز جیسے فتنوں کے جھانسے میں نہ آئیں،
    کیونکہ ان لوگوں کو تو ہڈی ہی اسی مقصد کے لئے ڈالی جاتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس معاشرے اور ہماری مذہبی درخشندہ روایات کو نقصان پہنچایا جاۓ۔
    لوگوں کو خوبصورت مشرقی روایات اور بے مثال اسلامی اقدار سے دور کیا جا سکے۔
    یہی ففتھ جنریشن وار ہے،جس کا مقابلہ ہم نے ایک اچھے مسلمان کے طور پہ
    ایک اچھے پاکستانی کے طور پہ
    اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان کے طور پر کرنا ہے۔
    کیونکہ ایک اچھا انسان بنے بغیر ہم نہ تو اچھے پاکستانی بن سکتے ہیں اور نہ ہی اچھے مسلمان #

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    فیس بک نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے تاہم اب طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بھی بلاک کرنے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ کمپنی کو پابندیوں کی امریکی پالیسی پر عمل کرنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب فیس بک ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی قوانین کے تحت طالبان پر پابندی عائد ہے جس پر ان کے اکاؤنٹس بلاک کردیئے ہیں۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ لوٹ مار اور تشدد کی شکایات کے لیے بنائی گئی طالبان کی واٹس ایپ ہاٹ لائن کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ طالبان کےنام سے بنائے گئے آفیشل اکاونٹس بھی بلاک کیے گئے ہیں۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر طالبان سے متعلق تمام مواد پر پابندی عائد کی تھی فیس بک کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ ایپلی کیشن نے اپنے پلیٹ فارمز سے طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ وہ طالبان کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں اس لیے اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ٹیم مخصوص کی گئی ہے طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔