سورج کی ایکٹویٹی میں دس سالوں بعد پریشان کن اضافہ، سائنسدانوں کا اہم انکشافات
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دس سال بعد سورج کی ایکٹویٹی میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ زمیں کے لئے مسائل کا باعث ہوسکتا ہے۔ اس حالت میں سورج پر ہونے والے دھماکوں سے زمیں پر جی پی ایس سگنلز اور پاور گرڈ وغیرہ پر اس کے اثرات ہوسکتے ہیں اور اس کا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسا ہر 11 سالوں میں ہوتا ہے۔ ماضی میں اس کے اثرات اتنے زیادہ نہیں ہوئے، تاہم اب ہمارا انحصار بجلی اور جی پی ایس پر بہت زیادہ ہے تو اب کی بار اس کے اثرات زیادہ ہوسکتے ہیں۔

سورج کی مثال ایک پلازمہ سے بھرے گیند کی ہے جس کے وسط میں مسلسل مادہ گرم ہوتا رہتا ہے اور گرم ہونے کے بعد وہ سطح کی طرف جاتا ہے۔ سطح پر پہنچ کر یہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور پھر واپس وسط کی طرف جاتا ہے۔ اس مستقل عمل سے اس کے پولز پر طاقتور قسم کی میگنیٹک فیلڈ بن جاتی ہے۔
سورج کی ایکٹو حالت میں یہ عمل تیزی کے ساتھ ہونے لگتا ہے جس سے اس کا نظام غیر متوازن ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سورج کی سطح پر دھماکے ہونے لگتے ہیں۔ اور وہ خلا میں ان چارگ ہوئے پارٹیکلز کو پھینکنے لگتا ہے۔ جس کے اثرات زمین پر بھی ہوتے ہیں۔

ان پارٹیکلز کی وجہ سے سب سے زیادہ ہوائی سفر متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ یہ مواصلاتی نظام کو درہم برہم کردیتا ہے جس کی وجہ سے جہازوں کا سیٹیلائٹ اور ریڈیو رابطہ استوار نہیں ہوسکتا۔2023 کی ایک تحقیق کے مطابق پچھلے 22 سال کے ریکارڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سورج کی بڑھی ہوئی ایکٹیویٹی کے دوران 21 فیصد فلائٹس متاثر ہوئیں۔

اس کے علاوہ ان پارٹیکلز کی وجہ سے سمندر میں ظغیانی کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے سیلاب بھی آسکتے ہیں۔ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خلا بازوں کے لئے مزید مشکلات کا سبب بنے گا۔ سائینسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سائنسی ترقی نے ہمیں اس قابل بنادیا ہے کہ یم پہلے سے اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار کرسکتے ہیں۔ سائنسدان مستقل سورج کی حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہر طرح کے خدشات سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہیں۔
Category: سائنس و ٹیکنالوجی

سورج کی ایکٹویٹی میں پریشان کن اضافہ، سائنسدانوں کا انکشافات

واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا
واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا۔
دنیا بھر میں موبائل فون استعمال کرنے والے تقریباً تمام افراد ہی واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 3 ارب کے قریب ہے اور یہ لوگ اپنے اسمارٹ فونز بدلتے رہتے ہیں۔ اسمارٹ موبائل فونز بار بار بدلنے کے باعث صارفین کو ایک موبائل سے دوسرے موبائل پر ڈیٹا منتقل کرنے کا مسئلہ رہتا ہے تاہم اب یہ مسئلہ واٹس ایپ نے حل کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے ایک سے دوسرے اینڈرائیڈ فون میں وائی فائی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کرنے کا نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے لیے صارفین کو گوگل ڈرائیو کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہ کام صرف کیو آر کوڈ کے ذریعے ہی ممکن ہو جائے گا۔ یہ نیا فیچر واٹس ایپ کے بیٹا ورژن 2.23.1.26 اور 2.23.1.27 میں چند صارفین کو ہی دستیاب ہے، اس کا استعمال بہت آسان ہے جب بھی آپ کسی نئی اینڈرائیڈ ڈیوائس میں واٹس ایپ انسٹال کریں تو امپورٹ چیٹس کے آپشن کا انتخاب کریں۔ ایسا کرنے سے ڈیوائس کا کیمرا کیو آر کوڈ اسکین کرنے کے لیے اوپن ہوجائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
رمضان شوگر ملز کو این او سی جاری کرنے کے خلاف پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد
آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ
پرانی ڈیوائس میں واٹس ایپ سیٹنگز میں جا کر ایکسپورٹ ڈیٹا کے آپشن کو منتخب کریں جس سے کیو آر کوڈ سامنے آئے گا، پھر نئی ڈیوائس سے کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے سے ڈیٹا منتقل ہوجائے گا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یہ فیچر تمام واٹس ایپ صارفین کو دستیاب ہو گا۔
بنا کام کے پیسے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں ایک ایسی سوسائٹی کا جہاں آپ کوئی کام نہ کریں اور آپکو ہر ماہ ایک کثیر رقم حکومت کی طرف سے ملے؟ مگر ایسا کیسے؟ اور کیوں؟
اٹھارویں صدی میں صنعتی انقلاب اور انجن کی ایجاد کے بعد بہت سے ایسے کام جو ماضی کا انسان کرتا تھا اب مشینوں پر ہونے لگے مگر یہ کافی نہیں تھا۔ مشینیں ذہین نہیں تھیں۔ وہ چند مخصوص کام کر سکتی تھیں۔ باقی کا کام انسان کو کرنا پڑتا۔ پھر آہستہ آہستہ سائنسی ترقی ہوئی، ٹیکنالوجی بہتر ہوئی، کمیونیکیشن کے روابط بڑھے اور دنیا سمٹ کر رہ گئی۔ انسانی معاشروں میں خیالات کے تبادلے بہتر ہوئے، علم میں اضافہ ہوا، سوچ وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔
بیسویں صدی الیکٹرانکس کا دور تھا۔ کمپیوٹر ایجاد ہوا۔ وہ کام جو انسان کرتے تھے، اب کمپیوٹر کرنے لگے۔ آپکو حساب کرنا ہو کمپیوٹر حاضر ہے، پینٹنگ بنانی ہو، کمپیوٹر حاضر ہے، کاغذ قلم کا دور گیا، اب سافٹ وئیرز کی مدد سے ٹائپ کیا جانے لگا۔ گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہونے لگا۔ پھر انٹرنیٹ کا دور آیا، کمپوٹرز آپس میں باتیں کرنے لگے، کمپیوٹر میں لگے پراسسز کی سپیڈ بڑھنے لگے، پراسسرز چھوٹے مگر مزید طاقتور ہوتے گئے کمپیوٹر میزوں سے نکل کر آپکے ہاتھ میں سمارٹ فون میں صورت آ گئے۔ ڈیٹا کا تبادلہ، روزمرہ کی زندگی کے حالات انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کی صورت آنے لگا۔ یہ سب کس قدر جلدی ہوا، ٹیکنالوجی کی چھلانگ کس قدر تیز تھی کہ پتہ بھی نہ چلا۔
پیسے کمانے کے نئے سے نئے ذرائع آن لائن بزنس کی صورت ہونے لگے ۔ اس سب کے ساتھ ساتھ روبوٹس اور پیچیدہ الگورتھمز اور پروگرامز بننے لگے جو ڈیٹا کے اس سمندر کو اپنے اندر سمو سکتے۔ ترقی کا پیہہ انسان کو اس نہج پر لے آیا کہ روبوٹس پیچیدہ سے پیچیدہ انسانی مسائل مصنوعی ذہانت سے حل کرنے لگے۔ اور آج یہ حال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس آپکے ہر طرف ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اُٹھا کر دیکھیں آپکو کہیں نہ کہیں یہ خودکار مصنوعی ذہانت پسِ پردہ اور منظرِ عام دونوں میں نظر آئے گی۔آج روبوٹس ذہین ہیں۔ یہ ہر وہ کام کر سکتے ہیں جن میں ایک تسلسل ، ایک ترتیب ہو۔ مثال کے طور پر ایک مزدور کس ترتیب سے عمارت بنانے کے لیے اینٹیں لگاتا ہے، یہ سب ایک تھری ڈی پرنٹر روبوٹ بھی کر سکتا ہے۔ ایک کسان کیسے ایک خاص ترتیب میں بیچ بوتا ہے، یہ ایک روبوٹ بھی کر سکتا ہے۔ روبٹس انسانوں کو دیکھ کر خود سے سیکھ رہے ہیں، مشین لرننگ کر رہے ہیں۔ ماحول کا ادراک کر کے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو متوقع نتائج تک لے جائیں۔
خودکار گاڑیاں بن رہی ہیں جو انسانی ڈرائیوروں سے وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ محفوظ طریقے سے گاڑی چلاتی ہیں۔ کینسر کی تشخیص ایک ڈاکٹر سے بہتر طور پر ایک آرٹفیشل انٹیلیجنس کا پروگرام کر سکتا ہے۔ حال ہی میں گوگل کے ایک مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے انسانی ڈاکٹروں سے بہتر پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کی۔ روبوٹ معاشرتی رویوں کو نقل کر رہے ہیں انسانوں کی طرح چہرے کے تاثرات دکھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کے پاس ان گنٹ ڈیٹا اور اسے پراسس کرنے کی صلاحیت انسانوں سے بڑھ کر ہے۔ شطرنج جیسے مشکل کھیل کو سمارٹ فون پر محض عام سے ایپ زیادہ بہتر طور پر کھیل سکتی ہے۔
ایسے میں وہ جو مستقبل کو دیکھ رہے ہیں یہ جانتے ہیں کہ جلد مصنوعی ذہانت کم و بیش تمام انسانی پیشوں کو اور نوکریوں کو ختم کر کے خود اُنکی جگہ لے لی گی۔ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کھیتوں سے لیکر فیکٹریوں تک ہر جگہ کام کریں گے۔ تو پھر انسان کیا کریں گے؟ وہ کونسی نوکریاں کریں گے؟ جب نوکریاں ہونگی ہی نہیں
ایسے معاشرے میں انسان ناکارہ ہو جائیں گے۔ تمام پیشوں کے کام مصنوعی ذہانت کے روبوٹس کریں گے۔ اس معاشرے کو پوسٹ ورک سوسائٹی کہتے ہیں جہاں انسانوں کے لیے پیسہ کمانے کے لیے کام ختم ہو جائے گا۔ مگر انسان صارف تو بہرحال رہے گا۔ ایسے میں روبوٹس کی بنائی مصنوعات کو استعمال کرنے کے لیے انسانوں کے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے؟ اسکا جواب ہے یونیورسل بیسک اِنکم یعنی بنیادی تنخواہ جو حکومتیں ہر ایک شہری کو دیں گی تاکہ وہ اسے استعمال کر کے زندہ بھی رہیں اور معیشت کا پہیہ بھی چلائیں۔
اس حوالے سے کئی مغربی ممالک میں کام ہو رہا ہے مثال کے طور پر فن لینڈ اور نیدرلینڈ کے کچھ شہروں میں ابتدائی تجربات کیے گئے ہیں جہاں کچھ شہریوں کو ہر ماہ بنا کسی کام کے ہیسے دیے گئے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس سے معیشت اور معاشرے پر کیا مثبت یا منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق درکار ہے مگر ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ دنیا بھر کی بڑی کاروباری شخصیات جن میں بِل گیٹس، ایلان مسک اور مارک زکربرگ شامل ہیں، پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دنیا آہستہ آہستہ اس ماڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مستقبل کی نسلیں گھر بیٹھے بغیر کچھ کیے پیسے کمائیں گی اسے کچھ لوگ لگثری کامونزم کا نام بھی دیتے ہیں۔ مگر اسکے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ گھر بیٹھے معاشروں کو مصروف کیسے رکھا جائے گا؟ شاید ورچوئل رئیلٹی اور ویڈیو گیمز کے ذریعے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

ذیابیطس اور کریلے کا جوس!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن
ذیابیطس جسے عرفِ عام میں شوگر کہتے ہیں دراصل جسم میں گلوکوز کی مقدار کے توازن کے بگڑنے کا نام ہے۔ انسان کے جسم کے لیے گلوکوز توانائی کا کام کرتا ہے۔ جسم میں جانے والی خوراک میں گلوکوز، پروٹین اور چربی شامل ہوتی ہے۔ بہت سی اجناس جیسے گندم، چاول، مکئی وغیرہ میں کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو ہاضمے کے نظام سے گزر کر گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں جسے انسانی جسم توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ مگر خون میں متواتر گلوکوز بڑھ جانے سے یہ جسم کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے گردے خراب ہو سکتے ہیں، بینائی جا سکتی ہے ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں، دماغ پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، حتی کہ اگر انسانی خون میں گلوکوز کی مقدار بے حد بڑھ جایے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
مگر گلوکوز کی یہ مقدار کم یا زیادہ کیسے ہوتی ہے؟ انسانی جسم میں ایک عضو ہوتا ہے جسے لبلبہ کہا جاتا ہے۔ لبلبے میں کچھ مخصوص خلیے ہوتے ہیں جو ایک خاص طرح کا ہارمومن خارج کرتے ہیں۔ اسے اِنسولین کہا جاتا ہے۔اِنسولین کا کام خون میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے جسم انسانی خلیے انسولین کے خلاف مزاحمت شروع کر دیں یا انسولین مقررہ مقدار میں پیدا نہ ہو تو یہ ذیابیطس کی دوسری قسم کہلائی جائےگی جسے ٹائپ ٹو ڈائبیٹز کہتے ہیں۔
اسی طرح اگر لبلبہ انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کھو دے تو بھی خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے گی۔اسے ذیابیطس کی پہلی قسم یعنی ٹائپ ون ڈائبیٹیز کہیں گے۔ پہلی قسم میں مریض کو انسولین کے ٹیکے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم میں عموماً بہتر خوراک، احتیاطی تدابیر اور مناسب ورزش سے ذیابیطس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
انٹرنیشنل ڈائبیڑز فیڈریشن کے 2021 کےاعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 537 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں اور یہ تعداد 2030 تک دنیا بھر میں تقریباً 7 ملین کے قریب ہو جائے گی۔اسی طرح 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق
ذیابیطس سے ہر سال تقریباً 16 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ذیابیطس کے مریضوں کی زیادہ تعداد تیس سال سے زائد افراد کی ہے مگر یہ مرض کچھ تعداد میں نوجوانوں اور بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔
پاکستان میں ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر چار میں سے ایک آدمی اس بیماری میں مبتلا ہے جن میں سے اکثریت اس بیماری کی علامت لیے اس سے لاعلم ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریض رکھنے والے ممالک میں چین اور بھارت کے بعد پاکستان تیسرے نمبر پر پے۔ جس میں2021 کے اعداو شمار کے مطابق تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد کو تشخیص شدہ ذیابیطس ہے۔
اسی طرح پاکستان میں 60 سال سے کم عمر میں ہونے والی اموات میں 35 فیصد ذیابیطس کی وجہ سے ہیں۔یہ اعداد و شمار ہمارے معاشرے کے سنگین مسائل کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔جن میں بروقت عالج می سہولیات کا فقدان، آگاہی نہ ہونا اور کھانے پینے میں بداحتیاطی، ورزش نہ کرنے اور دیگر غیر صحتمندانہ عادات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
اس رپورٹ کے آنے کے بعد ملک بھر کے طبی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحت کے لیے مختص بجٹ کو بڑھایا جائے۔ تاہم صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال آبادی بڑھنے کی رفتار کے مقابلے میں صحت کا بجٹ کے بڑھنے کی رفتار میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا۔
بین االاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ہر شہری پر صحت کی مد میں حکومت کو کم سے کم 86 ڈالر سالانہ خرچ کرنا ضروری ہے۔جبکہ پاکستان میں اس وقت ہر شہری پر حکومت محض 14 ڈالر خرچ کر رہی ہے باقی 28 ڈالر وہ اپنی جیب سے ادا کر رہا ہے اور 3 ڈالر دوسرے ذرائع سے حاصل ہوتے ہیں۔
صحت کے حوالے سے غیر سنجیدگی اور ذیابیطس کے بڑھتے مرض کے تناظر میں لوگ کریلے کا جوس نہیں پیئیں گے تو اور کیا کریں گے؟

سپائنا بیفیڈا (Spina Bifida) — خطیب احمد
فولک ایسڈ کی گولی کبھی کھائی یا نام تو سنا ہوگا؟ آج ہم دیکھیں گے فولک ایسڈ ہر حاملہ ماں کو کیوں دیا جاتا ہے۔ نہ دیا جائے تو کیا ہو سکتا ہے۔
آپ نے اپنے آس پاس دیکھا یا ایسا سنا ہوگا کہ بچہ پیدا ہوا۔ اسکی کمر میں پھوڑا تھا۔ آپریشن ہوا۔۔اور نیچے والا دھڑ مفلوج ہوگیا۔ پیشاب و پاخانہ پر اب بچے کا کنٹرول نہیں۔ نہ ہی چل سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ کونسی بیماری ہے؟ اسکی وجوہات، بچوں کا لائف سٹائل اور علاج کیا ہے؟
آئیے دیکھتے ہیں یہ کیا ہے ۔
یہ ایک نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہے۔
جسے سپائنا بیفیڈا Spina bifida کہتے ہیں۔جو پیدائشی طور پر بچوں میں ہوتا ہے۔ اس میں بچے کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ٹھیک سے جڑ نہیں پاتے۔ اور حرام مغز ایک پھوڑے یا غبارہ کی شکل میں کمر کے نچلے حصے میں جسم سے باہر نکل آتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم کے نچلے حصے کی حرکات متاثر ہوتی ہیں۔
اس مرض والے بچوں کی دنیا بھر میں ایورج عمر 30 سے 40 سال ہے۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار میں یہ بچے ایک ہزار میں 0.5 سے 2 بچے تک ہو سکتے ہیں۔
ماں حاملہ ہوئی۔ پانی سے خون بنا، خون سے گوشت بنا اور پھر حضرت انسان کی جسمانی نشوونما روح سے پہلے شروع ہوئی۔ جب باری آئی سپائنل کالم میں موجود سپائنل کارڈ کی تو وہ کسی جگہ سے ٹھیک طرح جڑ نہیں سکا۔ ہماری ریڑھ کی ہڈی ایک زپ کی طرح بند ہوتی ہے۔ اور اس بیماری میں کوئی مہرہ Vertebrae ٹھیک سے دوسرے مہرے سے جڑا نہیں ہوتا۔
پوسٹ کے ساتھ لگی فوٹو دیکھیں۔ اور پڑھنے میں جہاں مشکل پیش آئے پھر فوٹو دیکھ لیں۔
ایک ریڈیالوجسٹ دو سے تین ماہ کے حمل میں ہی بتا دیتا ہے کہ یہ مسئلہ ہے۔ خیر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ کمر پر نچلے حصے میں ایک نیلے یا سرخ سرخ رنگ کا جھلی نما غبارہ سا ہوتا ہے۔ جس میں سیری برو سپائنل فلیوڈ ہوتا ہے۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ نسیں Nerves بھی جو سپائنل کارڈ کے ساتھ نیچے جا رہی ہوتی ہیں۔ جسم سے باہر اس غبارے میں آجاتی ہیں۔
ایسا ہو تو۔ آپ دیکھیں گے متاثرہ بچے کی ٹانگوں کی حرکت نہیں ہے۔ یا بہت ہی کم ہے۔ فوراً بچے کو کسی نیورولوجسٹ یا نیورو سرجن کے پاس لے کر جائیں۔ وہ دیکھے گا کہ مسئلہ کس حد تک سنگین ہے۔۔آپریشن فوراً کرنا ہوتا ہے۔ نہیں تو انفیکشن جسم میں داخل ہوکر دماغ تک جا سکتا ہے۔۔جس سے بچے کی اسی دن موت واقع ہو سکتی ہے۔ اس غبارے پر عموماً اسکن نہیں ہوتی۔
آپریشن ہوگیا۔ جو نسیں نیچے والے دھڑ ٹانگوں باؤل اور بلیڈر کو کنٹرول کر رہی تھیں۔ وہ کٹ گئیں یا زخم کو سینے میں دب گئیں۔ اب آپریشن کے بعد بھی ٹانگوں میں حرکت نہیں ہے۔ یہ نارمل ہے۔ آپریشن ہو یا نہ ہو یہ ہونا ہی ہوتا ہے۔ بیماری کی شدت کیسی تھی آپریشن کیسا ہوا یہ تعین کرتا ہے کہ نچلے دھڑ کا نقصان کتنا ہوگا۔
کچھ بچوں میں یہ پھوڑا یا غبارہ نہیں ہوتا۔ بلکہ کمر کے نچلے حصے پر بالوں کا ایک گچھا ہوتا ہے۔۔یا ایک ابھار ہوتا ہے اور اس کے اوپر اسکن ہوتی ہے۔ یہ سپائنا بیفیڈا کی تین اقسام ہیں۔
یوں تو اسکی دو بڑی اقسام ہیں۔ سپائنا بیفیڈا اوکلٹا
Spina bifida occulta
اور دوسری سپائنا بیفیڈا اوپرٹا
Spina bifida opera
اوکلٹا میں کمر پر بالوں کا ایک گچھا سا ہوتا ہے۔ یہ اس بیماری کی معمولی قسم ہے۔۔اس میں کوئی آپریشن نہیں کروانا۔ سپائنل کارڈ نیچے بلکل ٹھیک ہے۔ پوسٹ کے ساتھ لگی فوٹو دیکھیں۔دوسری قسم اوپرٹا میں آگے دو مزید اقسام ہیں ایک ہے می ننگو سیل Meningocele جس میں صرف سپائنل کارڈ میں چلنے والا پانی مہروں سے باہر نکل کر جسم سے باہر ابھار کی شکل میں آجاتا ہے۔۔اس پر اسکن ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی۔۔مگر اس میں نسیں نہیں ہوتیں جو نچلے دھڑ کو کنٹرول کرتی ہیں۔ اگر پھوڑے پر اسکن ہو تو آپریشن نہ کروائیں۔ آپریشن کروا کر مزید خرابی ہوگی۔
اوپرٹا کی دوسری اور اس بیماری کی سب سے شدید قسم ہے مائیلو می ننگو سیل Myelo meningocele۔ اس میں حرام مغز بمع ساری نسیں سارا جسم سے باہر آجاتاہے۔ اور آپریشن سے پہلے ہی نچلا دھڑ تقریباً مفلوج ہوتا ہے۔ آپریشن کے بعد کچھ بہتری کی امید ہوتی ہے۔ جو کئیر کرنے سے آ بھی جاتی ہے۔
اس شدید والی قسم یعنی Myelomeningocele میں تین چیزیں دیکھنے اور سمجھنے کی ہیں۔
پہلی بات: ٹانگوں میں طاقت نہیں ہوتی۔ یا بہت کم طاقت ہوتی ہے۔۔اپریشن کے بعد بھی وہی حالت رہتی ہے۔ کچھ بچوں کی ٹانگوں میں طاقت ہوتی بھی ہے۔ ایسا نہیں کہ سب ہی مفلوج ہوں گے۔ کتنی نسیں دبی اور کٹی ہیں۔ یہ طے کرے گا کہ ٹانگوں میں حرکت کتنی ہوگی۔ بہت سے بچے آپریشن کے بعد سہارے اور بغیر سہارے کے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کئی تو بھاگنا تک شروع کر دیتے۔
دوسری بات یہ کہ آپریشن کے بعد ان کی ٹانگوں اور کولہوں میں کچھ محسوس کرنے Sensation کی صلاحیت کم یا بلکل بھی نہیں ہوتی۔ پیروں ٹانگوں اور کولہوں پر ایک جگہ پڑا رہنے سے زخم بن جاتے ہیں۔ جو ناسور کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ کئی بچوں کو بائیک پر بٹھایا جاتا پاؤں سائیلنسر پر لگتا۔ کیونکہ محسوس تو کچھ ہوتا نہیں پاؤں جل جاتا اور زخم ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ زخم کو ٹھیک کرنے کا حکم تو دماغ نے بھیجنا ہے۔ اور اس سے رابط ہی منقطع ہوتا۔ زخموں سے حتی الامکان ان بچوں کو بچائیں۔
تیسری اور اہم بات یورین کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ کچھ بچوں کا ہوتا بھی ہے۔ کچھ نالی لگا کر یورین پاس کر لیتے۔۔کچھ نالی لگائے ہی رکھتے۔ نالی لگانا ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ کچھ پیمپر لگائے رکھتے۔ آپریشن کے بعد کسی یورالوجسٹ کو ملیں۔۔وہ ایک ٹیسٹ کرے گا جسکا نام ہے
Urine dynamic studies
یہ لازمی کروائیں۔ اس سے گردے مثانہ وغیرہ کی صحت اور فعالیت کا اندازہ ہوگا۔ ایک بات جان لیں یورین کو کنٹرول کرنے کا مسئلہ ساری عمر رہے گا۔ یہ مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتا۔وجوہات کیا ہیں؟
بہت سے کیسز میں اس کی وجوہات نامعلوم ہیں۔ کچھ جنیٹک فیکٹرز ہوتے ہیں۔ اور ایک وجہ وٹامن فولک ایسڈ کی کمی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر فیملی ہسٹری ہے تو زیادہ امکان ہیں خاندان میں کوئی اور بچہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ فیملی ہسٹری ہونے پر کزن میرج بلکل نہ کریں۔
لڑکی شادی کے فوراً بعد ماں بننا چاہتی ہو تو شادی سے تین ماہ قبل 0.4mg فولک ایسڈ کی گولی روز کھانا شروع کر دے۔ یہ کوئی دو تین روپے کی گولی ہے۔ اگر حمل کی طرف جانے والی کنواری یا ایک دو بچوں کی ماں کو ہائی بلڈ پریشر ہے مرگی ہے شوگر ہے ٹی بی ہے تو فولک ایسڈ کی ڈوز ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بڑھا لیں۔ ڈاکٹر سے حمل سے پہلے مشورہ ضرور کریں۔ یہ گولی نو ماہ پورے حمل میں روزانہ کھائیں۔ فولک ایسڈ سبز پتوں والی سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ پالک میتھی ساگ وغیرہ کھائیں۔ مگر گولی ہر لڑکی حمل میں سو فیصد کھائے۔
سپائنا بیفیڈا کے ساتھ دو کنڈیشنز عموماً جڑی ہوتی ہے۔ ایک ہے کلب فٹ Club foot یعنی پاؤں ٹیڑھا ہونا یا ایڑھی زمین پر نہ لگنا۔ اور دوسرا ہائیڈرو سیفلس Hydrocephalus۔ ہائیڈرو سیفلس میں دماغ کے اندر سیری برو سپائنل فلیوڈ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور دماغ کا سائز بہت بڑا ہونا شروع جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایک نالی جسے شنٹ Shunt کہتے ہیں دماغ سے ڈال کر پیٹ میں اس جگہ جوڑ دیتے جہاں اس پانی نے آکر جذب ہونا ہوتا۔ تو مسئلہ کسی حد تک ٹھیک ہوجاتا ہے۔
سپائنا بیفیڈا کے ساتھ یہ دونوں کنڈیشنز یا ان میں سے ایک یا کوئی بھی نہیں ہو سکتی۔
مینجمنٹ کیسے کرنی ہے؟
جن بچوں کی ٹانگوں میں کوئی جان ہے ہی نہیں۔ ان کو چلانے کی کوشش نہ کریں یہ ان پر زیادتی ہوگی۔ میں نے کئی بچے دیکھے نیم حکیم مالش دیتے۔ اور کئی ڈاکٹر تو آپریشن تک کر دیتے کہ بچہ چلنے لگے گا۔ مگر یہ سب غلط ہے۔ ٹانگ کا آپریشن بلکل نہیں کروانا کسی بھی صورت میں یہ انتہائی سنگین غلطی ہوگی۔ مسئلہ ٹانگوں میں نہیں بلکہ انکو ملنے والے سگنلز میں ہے۔ جب انکو حرکت کرنے کا دماغ سے جاری ہونے والا حکم ہی نہیں ملنا تو وہ کیسے حرکت کریں؟
جو بچہ نہیں چل سکتا وہیل چیئر دیں۔ چھوٹے بچوں کو پاور وہیل چیئر دیں موٹر والی۔ واکر دیں کرچز دیں۔ ٹانگ میں کچھ جان ہے تو بریس لگا دیں۔۔ بریس کی کئی اقسام ہیں AFO, AKFO, HKAFO جیسی ٹانگ ویسی بریس لگوائیں۔ اب تو دنیا میں چند بچوں کو ربوٹک ایک یا دو ٹانگیں بھی لگائی گئی ہیں۔ بچہ روبوٹ کی طرح چلتا پھرتا ہے۔ یہ ری ہیبلی ٹیشن کے ایکسپرٹ بتاتے ہیں۔ کہ چلانے کی کوشش کریں یا نہیں۔ ان کی بات مانیں۔ اپنے تجربے پلیز نہ کریں۔
بچے کو جیسا ہے دل سے قبول کریں۔ ٹھیک کرنے کی عقلمندانہ کوشش کریں۔ کسی ان پڑھ جراح و ہڈی جوڑ والے کے پاس جا کر بچے کو تکلیف نہ دیں۔ یہ بچہ ساری عمر ایسے ہی رہنے والا ہے۔ اس کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس کے بدلے خدا کی ذات آپکو بہت نوازنے والی ہے۔ یہ ایک دکھ ہے تو کئی سکھ بھی اس کے ساتھ آئیں گے۔ انشاء اللہ
دنیا میں اب تک اس بیماری والے چار بچوں کے آپریشن پیدائش سے پہلے ہی ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دو سال قبل امریکہ کی ایک ریاست پین سیل وینیا Pennsylvania کے شہر فیلے ڈیلفیا Philadelphia کے مرکزی سرکاری چلڈرن ہسپتال میں ہوا۔ جو لوگ امریکہ میں رہتے وہ جانتے ہونگے یہ ہسپتال یونیورسٹی آف پین سیل وینیا کے کیمپس کی مغربی دیوار کے بلکل ساتھ واقع ہے۔ یہ ہسپتال امریکہ میں بچوں کے ہسپتالوں میں دوسرے نمبر پر اچھا ہسپتال ہے۔ اور پوری دنیا میں اسکا شمار ٹاپ 10 میں ہوتا احمد
دنیا کا سب سے بہترین بچوں کا ہسپتال
Boston Children’s Hospital
ہے۔ جو امریکہ میں ہی ہے۔ اس ہسپتال کے پاس تین ہزار سائنس دانوں کی ٹیم ہے۔۔جو مسلسل ریسرچ کرکے بچوں کی بیماریوں کی وجوہات اور جدید علاج دریافت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اس ہسپتال سے آپ اپنا جین اور ڈی این اے ایڈیٹ کروا سکتے ہیں۔ پورے امریکہ میں جنیٹک ٹیسٹنگ اور جنیٹک انجینئرنگ کی سروسز بھی سب سے اچھی اسی ہسپتال کی ہیں۔۔خیر ایک حاملہ ماں جس کے پیٹ میں سپائنا بیفیڈا اوپرٹا مائلو می ننگو سیل بچہ تھا کو Philadelphia کے ہسپتال لایا گیا۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم جس میں کارڈیالوجی کے سرجن، یورالوجی کے سرجن، گیسٹرالوجسٹ، اسکن سرجری کے پروفیسر سرجن، نیورولوجی کے سرجن اور دیگر بھی تقریباً تمام فیلڈز کے سرجنز کو آپریشن کے لیے تیار کیا گیا۔ ہسپتال کی بہترین اور نیشنل ایوارڈ یافتہ نرسیں مددگار عملے میں شامل ہوئیں۔
یہ حمل کا چوبیسواں 24 ہفتہ تھا۔ آپریشن ہوا۔ بچہ دانی جسم سے باہر نکال کر پیٹ کے نچلے حصے پر رکھ دی گئی۔ مگر بچہ دانی کو جسم سے الگ نہیں کیا گیا۔ وہ ماں کے جسم سے جڑی ہوئی تھی۔ بچے کے گرد موجود جھلی سے لائیکر یعنی پانی ایک انجیکشن کی مدد سے نکالا گیا۔ جھلی کو چھوٹا سا کٹ لگایا گیا۔ بچے کے دل کی دھڑکن کو بڑھ جانے پر ٹھیک کیا گیا۔ پلاسینٹا کو فری رکھا گیا کہ آکسیجن اور خون کی سپلائی کسی لمحے بھی رکنے نہ پائے۔ بچے کو باہر کی آکسیجن نہیں دینی تھی۔ کمر پر موجود غبارے کو انتہائی مہارت سے کاٹ کر سب سے پہلے سپائنل کارڈ کو ٹانکے لگا کر بند کیا گیا۔ پھر مہرے بند کیے گئے۔ پھر اسکن کو سیا گیا۔ پھر جھلی کو جدید ٹیکنالوجی کے تحت بند کر دیا گیا۔ کہ اس میں پانی نیچرل طریقے سے پھر سے بننا شروع ہو جائے۔
بچہ دانی ماں کے پیٹ میں رکھی گئی۔ اور پیٹ پر ٹانکے لگا دیے گئے۔ الحمدللہ آپریشن کے بعد ماں اور بچہ دونوں بلکل ٹھیک تھے۔ ہسپتال میں جشن کا سا سماں تھا۔ حمل کے سینتسویں 37 ہفتے بچے کو ڈیلیور کرنے کا پلان ہوا۔ آپریشن ہی ہونا تھا۔ آپریشن ہوا۔ بچہ کلب فٹ کے ساتھ پیدا ہوا۔ مگر کمر بلکل ٹھیک ہو چکی تھی۔ ٹانگوں میں حرکت بھی تھی۔ بچہ اب دو سال کا ہے اور سہارے کے ساتھ چل رہا ہے۔۔امید ہے ایک سال تک بغیر کسی بھی سہارے کے چل سکے گا۔ والدین اور اس آپریشن میں شامل ڈاکٹروں کی بنائی گئی ویڈیو یوٹیوب پر رکھی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں۔
سائنس ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ فیٹس سرجریز اب عام ہو رہی ہیں۔ میڈیکل کے عالمی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ سپائنا بیفیڈا کی فیٹس سرجری کو دنیا بھر میں پھیلایا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بے شمار ماہر ڈاکٹرز ہیں وہ سٹیپ لیں تو کوئی ایک کیس کرکے مثال بنا سکتے ہیں۔ جس کے بعد راہ کھل جائے گی۔ مگر کوئی اتنا سر درد نہیں لیتا۔ دوسرا اس آپریشن کی کاسٹ کئی ملین ہو سکتی ہے۔
ابھی یہاں پاکستان میں پیدائش کے بعد ہی آپریشن ہوتے ہیں۔ اور اکثریت میں مس ہینڈلنگ سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہوجاتا ہے۔ آپریشن کے بعد انتہائی نگہداشت کی ضرورت کئی سال تک ہوتی ہے۔ جو بچے کو نہیں مل پاتی۔ کہیں مالی مشکلات اور کہیں ماہرین کا نہ ہونا ان بچوں کو سماج کا کارآمد حصہ بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
ایسے بچوں کی شادیاں عموماً نہیں کی جاتیں۔ اکثریت میں انکا ری پرو ڈکٹویو Reproductive سسٹم بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کا ہوتا بھی ہے۔ یہ بچے ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، ٹیچر ، سائنسدان ، رائٹر، بلاگر، کالم نگار، فری لانسر اور جو چاہیں بن سکتے ہیں۔ بس جس میں ان کو زیادہ چلنا پھرنا نہ پڑے۔
ہر حاملہ لڑکی کو فولک ایسڈ ضرور دیں۔ جسے نہیں پتا اسے گائیڈ کریں۔ اور ایک سپائنا بیفیڈا بچے کے بعد دوسرا بچہ پیدا کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ ایک کے بعد دوسرے بچے میں بھی سپائنا بیفیڈا ہونے کا امکان ہوگا۔ میرے پاس ایک بچہ سکول پڑھنے آیا وہ دو بہن بھائی سپائنا بیفیڈا کا شکار تھے۔ دونوں کو ہم نے سکول سے وہیل چیئرز دیں۔ بہت ہی غریب لوگ تھے۔ لڑکے کا ابو پیسے جوڑ جوڑ کر ٹیکسی کرواتا کبھی سلطان باہو کے دربار اور کبھی کسی پیر کے پاس بچوں کو لے کے جاتا۔ میں اسے منع کرتا، سمجھاتا، کہ یہ میڈیکل کنڈیشن ہے۔ مگر وہ نہ مانتا کہ اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ولی کی دعا ضرور سنے گا۔ ایک سال کے بعد وہ لوگ کہیں دوسرے شہر شفٹ ہو گئے۔

مچھروں کی آواز!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن
آپ سونے لگے ہیں، اچانک سے آپکو ایک تیز سی آواز کان کے قریب سنائی دیتی ہے۔ آپ ہڑبڑا اُٹھتے ہیں۔ غصے یا جھنجھناہٹ میں فوراً ہوا میں ہاتھ مارتے ہیں جسیے کسی ان دیکھی آفت سے "کنگ فو” کر رہے ہوں۔ آواز غائب ہو جاتی ہے۔ یا تو آپکا وار ٹھیک نشانے پر لگا یا پھر آواز پیدا کرنے والا یہ ناہنجار آپ سے دور چلا گیا۔ یہ آواز کسی اور کی نہیں ایک عدد مادہ مچھر کی تھی۔
سوال مگر یہ ہے کہ مچھر آواز کیسے نکالتے ہیں؟ کیا ہماری طرح منہ سے؟
نہیں۔۔ مچھروں کی آواز دراصل اُنکے ننھے سے پروں کے تیزی سے ہلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک مچھر ایک سیکنڈ میں تقریباً 1 ہزار مرتبہ اپنے پر ہلاتا ہے(مادہ عموما 600 مرتبہ). جس سے ایسی بھن بھن کرتی آواز پیدا ہوتی ہے۔ مگر پر ہلانے سے آواز؟ جی۔ کبھی آپ نے گانا بجاتے سپیکر کو غور سے دیکھا ہے۔ اس میں سے جب آواز نکل رہی ہوتی ہے تو اسکی اوپری سطح تیزی سے ہل رہی ہوتی ہے۔ ایک سپیکر کے پردے کا یوں ہلنا اسکے اردگرد موجود ہوا میں دباؤ کو بدلتا ہے اور ایک موج یا لہر پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہوا میں موجود ایٹموں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ موج دراصل آواز کہلاتی ہے۔ یہ جب آپکے کان کے پردے پر پڑتی ہے تو کان کا پردہ بھی اسی طرح سے ہلتا ہے جیسے سپیکر کا پردہ ہل رہا ہوتا ہے۔ اس میکانکی موج یا لہر کو کان کے ذریعے برقی سگنل کی صورت دماغ "سنتا” ہے اور یوں آپکو آواز سنائی دیتی ہے۔
مچھر اپنے پر ہلانے کی رفتار کو بدل سکتا ہے جس سے اسکی اُڑان کے ساتھ ساتھ آواز بھی بدلتی ہے۔ ایک نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتا۔ یہ "انسان کا بچہ” پودوں اور پھولوں کا رس چوس کر ان سے خوراک حاصل کرتا ہے۔ جبکہ ایک مادہ مچھر انسانوں اور دیگر جانوروں کا خون اس لئے چوستی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص طرح کا پروٹین ہوتا ہے جو مادہ مچھر میں موجود انڈوں کی افزائش کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مچھر انسانوں کے جسم کی بو اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محسوس کر کے اپنا شکار تلاش کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں۔ وجہ غالباً اُنکے جسم سے نکلنے والی بو مچھروں کو زیادہ محسوس ہوتی ہو۔ مچھر کس طرح کی جسمانی بو پر زیادہ آتے ہیں، یہ ہمیں معلوم نہیں۔
دنیا بھر میں مچھروں کی تین ہزار سے زائد اقسام ہیں۔یہ اور دیگر کئی کیڑے مکوڑے گرم اور مرطوب موسم میں زیادہ افزائش کرتے ہیں۔ ایک مادہ مچھر ایک ہفتے میں تین ہزار انڈے دیتی ہے۔ یہ اپنے انڈے پانی میں دیتی ہیں جن سے لاروے بنتے ہیں اور تیرتے ہیں۔ اس لیے اپنے اردگرد کھڑے پانی کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں مچھر انڈے دیکر بچے پیدا نہ کریں اور ملیریا اور ڈینگی سے بچا جا سکے۔
2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی کروڑ افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں جن سے سوا چھ لاکھ کے قریب اموات واقع ہوتی ہیں۔ اموات کا تناسب ترقی پذیر اور غریب ممالک میں زیادہ ہوتا ہے۔ 2020 میں پاکستان میں پاکستان میں 5 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہویے اور اموات کی تعداد تقریبا 50 ہزار کے قریب رہی۔ ان میں سے 37 فیصد مریضوں کا تعلق پاکستان کی افغانستان اور ایران کے قریب سرحدی علاقوں سے تھا۔ 2019 کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ملیریا کے علاج کے لیے فی کس تقریباً 3 ہزار روپے سے زائد خرچ اُٹھتا ہے۔ یہ رقم شاید کچھ لوگوں کے لیے معمولی ہو مگر پاکستان کی زیادہ تر آبادی گاؤں اور دیہاتوں میں رہتی ہے جنکی فی کس ماہانہ آمدنی 30 ہزار روپے سے بھی کم ہو(2016 پاکستان شماریاتی ادارے کی رپورٹ)۔ اُنکے لیے یہ رقم خرچ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملیریا جیسے قابلِ علاج مرض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

جیمز ویب کے بعد نئی ٹیلی سکوپ!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن
ملیے ناسا کی مستقبل کی جدید خلائی دوربین سے جسکا نام ہے "نینسی گریس رومن ٹیلیسکوپ” جو ایک خاتون سائنسدان ڈاکٹر نینسی گریسی کے نام سے منسوب کی گئی ہے۔ ڈاکٹر نینسی 60 کی دہائی کے اوائل میں ناسا کی چیف آف ایسٹرانومی (فلکیات) تھیں۔ اور وہ پہلی سائنسدان تھیں جنہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ ایک خاص طریقہ کار کے ذریعے جسے کرونوگرافک ماسکنگ کہتے ہیں، ایک خلائی دوربین سے دیگر ستاروں کے گرد گھومتے سیارے جنہیں ہم ایگزوپلینٹس کہتے ہیں، ڈھونڈا یا دیکھا جا سکتا ہے۔ جس طرح آپ تیز سورج میں روشنی میں ماتھے پر ہاتھ کا چبوترہ سا بنا کر آسمان پر کوئی شے دیکھتے ہیں جو اس وجہ سے نظر آتی ہے کہ آپ سورج کی زیادہ روشنی کو ہاتھ سے ایک طرح سے بلاک کر دیتے ہیں سو آپکی انکھ کم روشن شے کو دیکھ سکتی ہے بالکل ویسے ہی ڈاکٹر نینسی نے بتایا کہ ایک کرونوگراف ماسک کو ٹیلیسکوپ سے جوڑ کر ستاروں سے آنے والی روشنی کو بلاک کر کے اسکے گرد ستارے سے کم کم روشن سیارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی آج ہبل اور جیمز ویب ٹیلیسکوپ دونوں میں استعمال ہو رہی ہے۔
جیمز ویب ٹیلسکوپ کی طرح یہ نئی ٹیلیسکوپ جسے مئی 2027 میں خلا میں بھیجا جائے گا، انفراریڈ روشنی میں کائنات کا مشاہدہ کرے گی۔ انفراریڈ وہ روشنی ہے جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ اور اسکے لیے مخصوص ڈیٹیکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ آپ انفراریڈ کیمروں میں دیکھتے ہیں۔
جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی طرح اسے بھی زمین سے کئی لاکھ کلومیٹر دور خلا میں لنگریج پوائنٹ 2 پر مدار میں چھوڑا جائے گا۔ یہ خلا میں وہ جگہ ہے جہاں سورج اور زمین کی کششِ ثقل کے توازن کے باعث اس ٹیلسکوپ کا مدار مستحکم رہے گا۔ اس ٹیلسکوپ کا کائنات کو دیکھنے والا مِرر یعنی آئینہ جیمز ویب کے مِرر سے تقریباً تین گنا چھوٹا یعنی 2.4 میٹر کا ہو گا یعنی کہ اتنا ہی سائز جتنا ہبل ٹیلسکوپ کے مِرر کا ہے۔ مگر یہ ہبل سے زیادہ وسیع علاقے میں ایک وقت میں تصویر کھینچھ سکے گی یعنی اسکا فیلڈ آف ویویو ہبل سے زیادہ ہو گا۔
اس نئی اور جدید ٹیلیسکوپ میں 300.8 میگا پکسل کا کیمرہ نصب ہو گا جو کہکشاؤں اور ستاروں کی نہایت تفصیلی تصاویر کھینچے گا جبکہ اسکے ساتھ ساتھ کرونگرافر بھی جو ستاروں سے آنے والی روشنی کے زیادہ تر حصے کو بلاک کر کے انکے گرد گھومتے زمین جیسے سیاروں کو ڈھونڈے گا۔ اور اس میں موجود سپیکٹرومیٹر یعنی ایسا سائنسی آلہ جو سیاروں کی فضا سے گزرنے والی مدہم روشنیوں کا جائزہ لیکر یہ بتائے گا کہ دریافت کیے گئے سیاروں میں کن پر زندگی ہو سکتی ہے۔
اس ٹیلسکوپ کو 2027 میں ایلان مسک کی کمپنی سپیس ایکس اپنے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجے گی۔ اس ٹیلسکوپ کے دو اہم سائنسی مقاصد میں سے ایک ڈارک انرجی کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے جبکہ دوسرا کائنات میں سیاروں کی تلاش جو زمین جیسے ہوں یا جہاں زندگی کے آثار موجود ہوں۔ یہ ٹیلیسکوپ 2027 سے 2032 یعنی ہانچ سال تک کام کرنے کے لیے بنائی جائے گی۔ اور اس دوران یہ انسانی علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کو کائنات کے کئی اہم راز کھولنے میں مدد دے گی۔

میکسیکو کی خلائی ایجنسی نے سیٹلائٹ لانچ کے لیے بھارت سے مدد مانگ لی
میکسیکو کی خلائی ایجنسی نے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے بھارتی سپیس ریسرچ اورگنائزیشن کی مدد مانگ لی
میکسیکو کی خلائی ایجنسی نے سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے بھارتی سپیس ریسرچ اورگنائزیشن کی مدد مانگ لی ہے میکسیکو کی خلائی ایجنسی Agencia Espacial Mexicana (AEM) نے بھارتی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) سے میکسیکو کے لیے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بنانے اور لانچ کرنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ انڈین ویب 2 کی ایک خبر کے مطابق؛ ایجنسیا اسپیشل میکسیکو یعنی AEM کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سلواڈور لینڈروس آیالا اور اور بھارتی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن یعنی ISRO کے چیئرمین ایس سوماناتھ کے درمیان حال ہی میں ہونے والی ایک ملاقات میں ایجنسیا اسپیشل کے سربراہ نے میکسیکو کے لیے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بنانے اور لانچ کرنے میں ہندوستان سے تعاون کی درخواست کی تھی.
Mexican Space Agency Seeking @ISRO's Help to Launch #Satellite
https://t.co/JMe8UlJumY— IndianWeb2 (@indianweb2) January 2, 2023
انڈین ویب 2 نے مزید لکھا کہ؛ 2010 میں قائم کیا گیا، میکسیکو کا خلائی ایجنسی ابھی تک ابتدائی مرحلے میں ہے جبکہ ان کے پاس ابھی تک مکمل طور پر بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔ لہذا بھارتی خلائی ادارے نے میکسیکو کے خلائی ایجنسی کی تجویز پر وزارت خارجہ کے ساتھ اس معاملہ پر بات چیت کا ارادہ ظاہر کیا تھا. خیال رہے کہ 2015 میں ایجنسیا اسپیشل میکسیکو نے قمری خلائی مشن کے لیے امریکہ میں قائم اسپیس ٹیک نامی کمپنی اسٹروبوٹیک ٹیکنالوجی یعنی Astrobotic Technology کے ساتھ لانچ کے معاہدے پر دستخط کیے تاہم اب ایجنسیا اسپیشل میکسیکو اسے 2023 میں شروع کرے گا۔ISRO might help Agencia Espacial Mexicana(AEM), the national space agency of Mexico to develop and launch an EO remote sensing satellite. Apart from that ISRO also developed and shared an app for monitoring forest fire with Forest dept of Mexico.#ISRO https://t.co/zRGeGiz9HP
— UtpalG (@UtpalGautam5) January 3, 2023
خبر میں مزید لکھا گیا ہے کہ ایجنسیا اسپیشل میکسیکو کی طرف سے اور میکسیکو کی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا پہلا "سیٹیلائٹ” نینو کنیکٹ ایک یعنی Nanoconect-1 تھا، جسے دسمبر 2017 میں لانچ کیا گیا تھا۔ Nanoconect-1 ایک گونڈولا لے جانے والی اسٹراٹاسفیرک غبارے کی پرواز ہے۔ جبکہ میکسیکو کی خلائی ایجنسی نے جنگل میں آگ کی نگرانی کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کرنے اور اسے میکسیکو کے محکمہ جنگلات کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بھارتی ایجنسی کا شکریہ بھی ادا کیا.
مزید یہ بھی پڑھیں؛
ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
انڈین ویب 2 کا کہنا ہے کہ اے ای ایم چیف نے میکسیکو کے لیے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بنانے اور لانچ کرنے میں ہندوستان سے تعاون طلب کرنے کے ساتھ اے ایل سی ای کے ذریعے لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں خلائی تعاون کو بڑھانے میں ہندوستان کی دلچسپی پر گزشتہ ماہ کے آخر میں منعقدہ ایک ورچوئل میٹنگ میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں گزشتہ ہفتے برپا ہونے والا انقلابِ عظیم!!! — عزیزخان بڑیچ
مصنوعی ذھانت کا دیو جاگ چکاھے۔ انسان نے اپنی مادی اور ذھنی ترقی کے تاریخ کے اگلے مرحلے میں داخل ھوجانےکی تیاری اب مکمل کرلی ھے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی تاریخ کی بساط لپیٹ کر اس صدی کو انسان کا بطور انسان آخری صدی ثابت کرنے کیلئے بڑی شدت کے ساتھ اکھاڑے میں داخل ھورھی ھے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی ذھنی صلاحیتوں کا اعلیٰ نشان اور ناقابل تردید ثبوت ھے۔ انسان اپنی محنت کی تخلیق اور ماحصل ھے اور یہ انسانی محنت یا دوسرے لفظوں میں انسانی جسم و ذھن کی فعلیت ھے کہ جو آج انسان کو اپنی ارتقاء کی تاریخ کے اس اگلے مرحلے سے ھم آغوش ھوجانے کی طاقت سے سرفراز کررھی ھے کہ جسکا ایک صدی پہلے تصور کرنا ہی محال تھا۔
جہاں ایک طرف انسان کوانٹم فزکس کی دنیا میں جھانک کر اپنے ہی اصولوں پر استوار کائینات کی تخلیق کے نغمے گنگنارھاھے وھاں جینیٹکس اور مصنوعی ذھانت کے شعبے میں بھی حضرت انسان دنیا کے ایک ایسے مستقبل کا پیش لفظ لکھنے میں مصروف ھے کہ جسکی قد و کاٹ اور چمک دمک کا خیالی خاکہ ہی ذھن کے پردے پر اتارنا محال ھے۔
ایسی ناقابل تصور دنیا کی طرف انسان کس شان و شوکت سے قدم بڑھا چکاھے؟ اسکی مثال حال ہی میں عام پبلک کیلئے لانچ کی گئی مصنوعی ذھانت کا علمبردار انجن یعنی chat GPT ویب سائیٹ ھے۔
ایک ایسی ایپ یا چیٹ ویب کہ جو آپکے ساتھ ھمہ وقت ایک متاثرکن مکالمے کیلئے تیار رھے۔ انسانی زندگی، دنیا اور سماج سے متعلق آپکے پوچھے گئے کسی بھی سوال کو گہرائی سے سمجھنے اور پھر اسکا وسیع تناظر میں جواب آپکے گوش و گزار کردینے والی ویب چیٹ۔۔۔۔۔
چیٹ جی۔پی۔ٹی کو انسان ھاتھوں ھاتھ لینےلگاھے۔ یعنی اسکے لانچ ھوجانے کے پانچ چھ ہی دنوں میں اس چیٹ ویب کو استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کرگئی۔
چیٹ جی۔پی۔ٹی آپکے نہ صرف یہ کہ پوچھے گئے ھر قسم کے سوالوں کا جواب دیتی ھے بلکہ آپکی فرمائش پر یہ آپکے لئیے آپکی ڈیمانڈ کے مطابق آرٹیکلز، کتابیں، درخواستیں بھی فورآ لکھ مارتی ھے۔ یہ آپکو آپکی کاروبار کے حوالے سے مفید مشورے فراھم کرتی ھے۔ یہ آپکی فرمائش پر آپکے لئیے انتہائی عمدہ اور گہرے تخلیقی نظمیں بناتی ہیں جسے اب تک اس چیٹ ویب کے علاؤہ کسی انسان نے نہیں کہےھونگے۔ یہ آپکی فرمائش اور خواھش کے پیش نظر ایسی تصاویر یا پینٹنگز بنانے کی اھلیت رکھتی ہیں جسکو پہلے کسی تخلیق کار یا آرٹسٹ نے نہیں بنائےھونگے۔ یہ آپکی فرمائش اور دی گئی کمانڈ کو سامنے رکھ کر آپکے لئیے ڈرامے اور فلمیں لکھنے اور اسے کارٹون وغیرہ کی شکل میں ویڈیوز میں تبدیل کردینے کا کمال رکھتی ھے۔ اگر آپ سائینس کے طالب علم ھے تو یہ آپکی ڈارک انرجی سے لیکر ھگز بوزون تک بڑے موثر انداز میں راھنمائی کرنے کے گر گہرائی سے جانتی ھے، اگر آپ آرٹ کے طابعلم ھے تو یہ ایک نہ تھکنے والے معزز استاد کی طرح سے قدم قدم پر آپکے ساتھ چلتی ھے اور اگر آپ فلسفے کے طالب علم ھے تو یہ مادیت سے لیکر عینیت تک کے وسیع و عریض خطوں تک بہت ہی موثر طریقوں کو بروئے کار لاکر آپکا ساتھ دیتی ھے۔
آپکی فرمائش پر یہ آپکے کسی بھی پسندیدہ سائینسدانوں کے بیچ علمی مکالمہ تخلیق کرلیتی ھے، مثلا آج میں نے اسے نیوٹن اور آئن اسٹائن کے بیچ مکالمہ تخلیق کرنے کی فرمائش کی تو جو مکالمہ اس نے صرف چند سیکنڈ میں تخلیق کرکے پیش کیا وہ علمی اور سائینسی لحاظ سے حیران کن اور خوش کردینے والا مکالمہ تھا۔ پھر میں نے اسے ایک مکالمہ کانٹ اور ھیگل، ایک ارسطو اور افلاطون کے بیچ اور ایک مکالمہ ھیگل اور مارکس کے بیچ تخلیق کردینے کا کہا تو جو مکالمات اس نے فورآ لکھ مارے وہ فلسفیانہ حوالے سے نہایت عمدہ اور گہرے تھے۔
میں نے اسے غم و خوشی، انسانی درد۔ اور یہاں تک کارل مارکس، ھیگل، شیکسپیئر اور آئن اسٹائن وغیرہ پر نظمیں بنانے کیلئے کہا تو اس نے فورآ بڑی اچھی، گہری اور ان انسانی کیفیات اور شخصیات کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ھوئے تحریر کرڈالی۔
یعنی آج کے بعد آپکے سامنے پیش کیے جانے والے تقریبا ھر ایک موضوع پر تگڑے اور علمی مضامین، مکالمات، ڈرامے اور تقاریر وغیرہ میں شاید آپکے لئیے یہ جج کرنا مشکل

زندگی کی تلاش کیوں؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن
ہم جانتے ہیں کہ زندگی کے لئے پانی کس قدر ضروری ہے۔ زمین پر زندگی کی ابتدا سمندروں میں ہوئی۔ آج سے 3.8 ارب سال قبل، زمین پر پہلے خلیے بنے جو خود کو تقسیم کر سکتے تھے۔ انہی سے آگے چل کر زندگی پھیلی اور ارتقاء سے مختلف انواع کے جاندار نمودار ہوئے جن میں ایک حضرتِ انساں تھا۔
وہ زندگی جسے ہم جانتے ہیں اسکے لئے تین بنیادی شرائط ہونا ضروری ہیں۔1. پانی
2. زندگی کے ضروری اجزا (کاربن، نائیٹروجن ، ہائیڈروجن، آکسیجن وغیرہ)
3. توانائیزمین پر یہ تینوں موجود ہیں۔ سورج کی روشنی کم و بیش تمام زندگی کو توانائی مہیا کرتی ہے۔ سمندر پانی سے بھرے ہیں اور ہوا اور مٹی میں تمام اجزائے زندگی موجود ہیں۔ مگر کیا زندگی محض زمین پر ہے اور کیا یہ محض ایک اتفاق ہے؟
آج ہم دوسرے سیاروں پر زندگی کی تلاش میں ہیں۔ اعتراض کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ اگر دوسرے سیاروں پر زندگی مل بھی گئی تو کیا فرق پڑے گا؟
تو فرق یہ پڑے گا کہ ہم جان جائیں گے کہ کائنات میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔زندگی یہاں عام ہے اور ہم زیادہ بہتر طور پر کائنات میں عقل رکھنے والی دیگر مخلوقات کو ڈھونڈ اور اُن سے رابطہ کر سکیں گے۔ ہم جان سکیں گے کہ ہم زمین کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتے ہیں اور نسلِ انسان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹنے سے بچا سکیں گے۔ سائنس کیا ہماری پوری زندگی لاشعوری طور پر موت کے خلاف مزاحمت کا نام نہیں ہے؟ بقا کی کوشش انسان کی سرشت میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج اتنی ترقی کر رہے ہیں۔
مگر دوسرے سیاروں پر زندگی کیسی ہو گی؟
آج ہم جانتے ہیں کہ نظامِ شمسی کے کسی سیارے یا چاند پر کوئی مخلوق ایسی نہیں بستی جو انسانوں جیسی ہو مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ان سیاروں پر کوئی بنیادی زندگی کی صورتیں جیسے کہ مائکروبس یا بیکٹیریا یا وائرس موجود ہیں؟
مریخ اور مشتری کا چاند یوروپا زندگی کی تلاش کے لیے موضوع جگہ ہیں۔ مریخ اس لیے کہ اسکے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے اربوں سال پہلے یہاں سمندر تھے۔ یہاں کی فضا کثیف تھی، اسکے گرد مقناطیسی حصار تھا اور ممکن ہے یہاں زندگی پنپتی ہو ۔ اگر ایسا ہے تو یہ ممکنات میں سے ہے کہ مریخ پر مائیکروب کی صورت زندگی اب بھی موجود ہو۔
اسی طرح مشتری کا چاند یوروپا جہاں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سطح پر پانی کی برف اور اسکے نیچے بہت بڑے سمندر ہیں۔ یہاں بھی زندگی ممکن ہے اور اسکے لئے ناسا 2024 میں Clipper نامی سپیس کرافٹ بھیجے گا جو کئی دفعہ اسکے قریب سے گزر کر اسکی فضا اور سطح پر مختلف سائنسی آلات می مدد سے زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔
انسان کو خلا میں گئے ایک صدی سے بھی کم عرصہ ہوا ہے اور کائنات بے حد وسیع ہے۔ اس میں اتنے کم عرصے میں محدود زمینی وسائل کے ساتھ زندگی کو ڈھونڈنا ایک مشکل عمل ہے۔ اور اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ شاید ہمیں زمین کے علاوہ زندگی ڈھونڈنے میں کئی سال یا صدیاں لگیں۔ مگر یہ امکان ہر صورت موجود ہے کہ کائنات اور ہماری کہکشاں ملکی وے میں کہیں نہ کہیں زندگی کسی صورت ضرور موجود ہو گی۔۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔









