Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ‏اپنے وائی فائی Wi-Fi کو ہیک ہونے سے کیسے بچائیں   تحریر :- مدثر حسین

    ‏اپنے وائی فائی Wi-Fi کو ہیک ہونے سے کیسے بچائیں تحریر :- مدثر حسین

    باغی ٹی وی پہ لکھے گئے میرے گزشتہ کالم میں اکاؤنٹ کو محفوظ بنانے کے طریقوں اور ہیکرز کے طریقہ وادرات سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی تھیں. آج آپ جانیں گے کہ آپ اپنے وائی فائی Wi-Fi کے پاسورڈ کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں
    جب اپ اپنے موبائل فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ کو کسی وایی فایی Wi-Fi کنکشن سے جوڑتے ہیں تو وہ آپ سے پاسورڈ کا تقاضا کرتا ہے اور درست پاسورڈ لکھنے پہ آپ کا کنکشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو جاتا ہے. جب آپ پاسورڈ لکھ کر اپنے موبائل فون کو راؤٹر یا موڈیم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو راؤٹر آپ کے لکھے گئے پاسورڈ کو authentication packets میں تبدیل کر کے چیک کرتا ہے اور اس راؤٹر میں ترتیب دیے گئے پاسورڈ کو پرکھتا ہے اور پاسورڈ درستگی کی تصدیق ہونے پہ راؤٹر دوبارہ Authentication packets اپ کے موبائل فون کو بھجتا یے جس میں وائی فائی تک رسائی کا اجازت نامہ ہوتا ہے.
    ہیکرز ان packets تک رسائی حاصل کر کے، راؤٹر میں ترتیب دیا گیا پاسورڈ معلوم کر لیتے ہیں، نہ صرف معلوم کر لیتے ہیں بلکہ تبدیل بھی کر لیتے ہیں.
    پیکٹس کے وصول ہونے پہ ان کو اعداد اور الفابیٹس میں تبدیل کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل ترین کام ہے. ہیکرز اس سلسلے میں خاص قسم کا اوپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے ہیں جو ان پیکٹس کو نمبروں اور الفابیٹس میں ظاہر کر دیتا یے. Decoding /in coding…
    اگر اپ کا پاسورڈ صرف نمبروں میں ہے تو بہت ہی کم وقت میں آپ کا پاسورڈ پیکٹس سے تبدیل ہو کر نمبروں میں ظاہر ہو جائے گا. اور اگر اپ کا پاسورڈ صرف الفابیٹس میں ہے تو پھر بھی بہت ہی کم وقت میں آپ کا پاسورڈ ہیکرز کی سکرین پہ نمودار ہو جائے گا. اگر اپ اپنے پاسورڈ میں الفابیٹس کے ساتھ ساتھ نمبرز بھی لکھتے ہیں تو اپ کا پاسورڈ معلوم کرنے کے لیے ہیکر کچھ وقت درکار ہو گا، آدھا گھنٹہ سے ڈیڈھ گھنٹہ تقریبا.
    وایی فائی Wi-Fi ہیکنگ کے دوسرے طریقے میں packets تک رسائی حاصل کر کے انہیں ایک خاص قسم کے اوپریٹنگ سسٹم میں عارضی طور پہ محفوظ کیا جاتا یے اور پھر ایک طویل فہرست پہ مشتمل ڈکشنری کو اس اوپریٹنگ سسٹم میں چلایا جاتا ہے جو یکے بعد دیگرے اس ڈکشنری میں موجود تمام الفاظ کو ان پیکٹس کے ساتھ جوڑ کر چیک کرتی جاتی ہے. جتنا اچھا سسٹم ہوگا اتنی ہی اس عمل کی رفتار بھی تیز ہو گی. عام طور پہ ان ڈکشنریز میں دنیا بھر کے لوگوں کے نام، شہروں اور ملکوں کے ناموں سے لیکر ہماری روز مرہ استعمال کی تمام چھوٹی سے چھوٹی اشیاء تک کے نام درج ہوتے ہیں اور ہر ایک نام بہت سارے مختلف طریقوں سے الفابیٹس کی ترتیب کو بدل کر لکھا گیا ہوتا ہے. مثلا islamabad123 کی جگہ اس کے الفابیٹس درست لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ الٹے بھی ہو سکتے ہیں اور یہ شارٹ بھی لکھا ہوا ہو سکتا ہے. یہ طریقہ سسٹم کی رفتار پہ منحصر ہے اس اوپریٹنگ سسٹم میں آپ کے پاسورڈ کے الفابیٹس کو ترتیب سے جوڑ کر چیک کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جلد یا بدیر اپ کا پاسورڈ ہیکر کو معلوم ہو ہی جاتا ہے اگرچہ وہ نمبروں اور انگریزی الفابیٹس پہ ہی مشتمل کیوں نہ ہو.
    ایسی صورت میں اپنے پاسورڈ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے اپنے پاسورڈ میں الفابیٹس، نمبرز اور علامات بھی درج کریں کیوں کہ ڈکشنری علامات کو پرکھنے اور ترتیب دینے کے عمل سے عاری ہوتی یے (کسی حد تک). مثلا اگر آپ کا پاورڈ islamabad$%124 یے تو عین ممکن یے کہ ڈکشنری میں یہ علامات اسی ترتیب کے ساتھ موجود نہ ہوں اور آپ کا پاسورڈ میچ ہونے سے بچ جائے اور ہیکرز کو اپ کا سکرین پہ نظر نہ آئے.
    تا ہم اچھے راؤٹرز پیکٹس محفوظ رکھنے کے حوالے سے بہت مفید کام کرتے ہیں وہ ہیکرز تک ہیکٹس ہی نہیں پہنچنے دیتے. اور ایک نمبروں، الفابیٹس اور علامات پہ مشتمل پاسورڈ ڈکشنریز میں مماثلت رکھنے یعنی میچ ہونے سے بچ جاتا ہے.

    ‎#mudassiradlaka

  • آنلائن شاپنگ فراڈ  تحریر : عقیل احمد راجپوت

    آنلائن شاپنگ فراڈ تحریر : عقیل احمد راجپوت


    پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں روپے روز کی آنلائن شاپنگ کی جاتی ہیں لیکن دنیا بھر میں کسٹمرز کے ساتھ ہونے والے دھوکوں نے عوام کا آنلائن شاپنگ کمپنیوں سے اعتبار ختم کردیا ہے کیونکہ بہت سی آنلائن کمپنیوں نے عوام کے ساتھ کئے جانے والے دھوکوں میں شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا موبائل کے ڈبے سے موبائل کی جگہ پتھر نکالتا ہوا کسٹمر زندگی بھر آنلائن شاپنگ نہیں کرے گا پاکستان میں سب سے بڑی آنلائن کمپنی دراز پر بھی فراڈ ہوئے جس کے بعد اس نے اپنی ساکھ کو نقصان سے بچانے کے لئے ان سلیبریٹیز اور کچھ عام لوگوں تک ان کی مطلوبہ اشیاء پہنچا کر اپنا معیار بچانے کی کوشش کی مگر ہزاروں لوگوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر یہ فراڈ ہورہےہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں
    پاکستان میں کنزیومر کورٹ کے بارے میں لوگوں کو بہت کم آگاہی ہے جس کا فائدہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اٹھاتی ہے اس پر باقاعدہ ایک آرٹیکل لکھ رہا ہو جو بہت جلد دستیاب ہوگا آنلائن خریداروں سے گزارش ہے کہ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے ڈیلر کی ریٹنگ اور پروڈکٹ کے بارےمیں عوام کی رائے کا بخوبی جائزہ لینے کے بعد ہی اس چیز کی حقیقت کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے بہت سی اچھی کمپنی بھی ان دھوکے باز لوگوں کی وجہ سے اپنے کاروبار کو فروغ نہیں دے پاتی جس سے پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچتا ہے مگر کون ہے جس کو اس جانب توجہ ہو ہر ایک بس اپنی مستی میں مگن ہیں آنلائن کمپنیوں کے بارے میں ایک باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے جو آسان اور ہر انسان کی دسترس میں ہو آنلائن کام کرنے کے خواہشمند لوگوں کو حکومتی سطح پر رجسٹرڈ کیا جائے تاکہ دھوکہ دینے والوں کے خلاف کاروائی ہوسکے مگر فلحال تو کوئی بھی کسی بھی برانڈ کی انٹرنیشنل تصویر لگا کر فیس پک پر بکنگ شروع کر دیتا ہے اور سادہ لوح عوام اس کے دھوکوں میں پھنس کر اپنے سینکڑوں ہزاروں روپے گوا بیٹھتے ہیں حکومت سے اس جانب توجہ دینے کے لئے میں اور بہت سے لوگوں کی جانب سے لکھا اور کہا جاچکاہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس چور بازاری کی گرفت کے لئے کب تک قانون سازی کی جائے گی اور عوام کی جیبوں سے نکلنے والے ان کے حلال کے پیسوں کو لوٹنے سے بچایا جاسکے گا آپ لوگوں سے بھی درخواست ہے اپنے پیسوں کو لوٹنے سے بچانے کے لئے کچھ ہدایات جو لکھی گئی ہیں ان پر عمل کرے اور دوسروں تک بھی پہنچائیں
    شکریہ

  • ایئر لنک کمیونیکیشن کا پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او بنانے کا منصوبہ

    ایئر لنک کمیونیکیشن کا پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او بنانے کا منصوبہ

    ایئر لنک کمیونیکیشن پاکستان کا سب سے بڑا نجی شعبہ آئی پی او کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : بلوم برگ کے مطابق ایئر لنک اس ماہ 5.85 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتا ہےبک بلڈنگ کا عمل 30 اور 31 اگست میں شیڈول ہے ایئر لنک کمیونیکیشن لمیٹڈ اس ماہ کی ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے کم از کم 5.85 ارب روپے (36 ملین ڈالر) اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، جو کہ پاکستان میں کسی غیر ریاستی فرم کی طرف سے سب سے بڑی رقم ہوگی۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر مظفر حیات پراچہ نے جمعہ کو کہا کہ لاہور میں قائم کمپنی 65 اور 91 روپے کے درمیان نئے اور موجودہ حصص فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یہ اگست 30 اور 31 کو سرمایہ کاروں کے احکامات لے گا۔

    ٹوئٹر کا ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کے ساتھ اشتراک

    پاکستان نے اس سال آئی پی اوز کی ریکارڈ تسلسل دیکھی ہے ایئر لنک ، جس نے تقریبا a ایک دہائی قبل کام شروع کیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں فونز کے سب سے بڑے ڈسٹری بیوٹرز میں سے ایک بن چکا ہے ، جون میں ختم ہونے والے سال میں فروخت 50 فیصد بڑھ کر 3.6 ملین یونٹس تک پہنچ گئی۔

    جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ کے سی ای او کامران ناصر نے کہا کہ کمپنی 60 ملین نئے شیئرز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور پیراچا اپنی ہولڈنگز سے 30 ملین فروخت کرے گی آئی پی او انٹرلوپ لمیٹڈ کے بعد سب سے بڑا ہوگا 2019 میں تقریبا 5 5 ارب روپے اکٹھے کیے۔

    ایئر لنک نے حال ہی میں موبائل اسمبلنگ میں بھی توسیع کی ہے ، اپنے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیے فنڈز استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ناصر نے کہا کہ اس کا مقصد 2026 تک 150 آؤٹ لیٹس ہیں جو کہ اسمبلی کے کاروبار کے ساتھ ساتھ مارجن کو بڑھا دے گا۔

    کمپنی کو توقع ہے کہ اس کی آمدنی 2020 سے تین گنا بڑھ کر 129 ارب روپے ہو جائے گی اور مالی سال 2025 تک خالص آمدنی 500 فیصد سے بڑھ کر 9.2 ارب روپے ہو جائے گی-

    پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب امیدوار قبول کریں گے وزیر اعظم عمران خان

  • موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بین الحکومتی پینل کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا ہے انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    بی بی سی کے مطابق پیر کو بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہےیہ رپورٹوں کی اس سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی اور یہ 2013 کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے جسے گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26 سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام :آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا "شرمندہ”، کئی عملہ معطل

    خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام :آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا "شرمندہ”، کئی عملہ معطل

    خاتون ورکر سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے منیجر کو برطرفی کا سامنا ہے آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کمپنی کی خاتون کارکن کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزام کی تحقیقات کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق علی بابا نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’کمپنی نے پالیسیز اور اقدار کی خلاف ورزی کرنے والے متعلقہ فریقین کو معطل کر دیا ہے اور ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کی جنسی بدسلوکی کے خلاف ’قطعی ناقابل قبول‘ کی پالیسی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق متاثرہ خاتون نے کہا ہے 27 جولائی کو منیجر نے اسے ایک کلائنٹ سے ملاقات کرانے کیلے علی بابا ہیڈکوارٹرز سے نو سو کلومیٹر دور جنان شہر اپنے ساتھ جانے پر مجبور کیا۔

    متاثرہ خاتون نے کمپنی کے اعلیٰ افسران پر الزام عائد کیا ہے کہ اسے رات کے کھانے کے دوران ساتھی کارکنوں کے ساتھ شراب پینے پر بھی مجبور کیا گیا 27 جولائی کی رات کھانے کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی اور اگلے دن صبح ہوٹل کے کمرے میں خود کو بغیر کپڑوں کے پایا۔

    خاتون نے بتایا کہ اس نے نگرانی کے لیے نصب کیمرے کی فوٹیج حاصل کرلی جس میں منیجر کو رات کے وقت چار بار اس کے کمرے میں آتے جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر اس الزام ک

    چینی نژاد کینیڈین پاپ اسٹار اور ہالی ووڈ اداکار کرس وو جنسی زیادتی کے الزام میں…

    ے حوالے سے ہیش ٹیگ نمایاں رہا۔ سنہ 2018 میں چین میں ’می ٹو‘ مہم کے بعد سے جنسی بدسلوکی کے معاملے نے توجہ حاصل کی ہے۔

    چین کے سرکاری میڈیا نے علی بابا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈینیل ژانگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ اس معاملے پر ’شرمندہ، غصے اور صدمے‘ میں ہیں۔

    دوسری جانب علی بابا کے چیف ایگزیکٹو ڈینیل ژانگ نے کمپنی کے ملازمین کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کمپنی کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے دو سینئر اہلکار اس الزام پر تحقیقات میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دے چکے ہیں علی بابا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے کہا کہ ریپ کے الزام کا سامنا کرنے والے منیجر نے خاتون ورکر سے نشے کی حالت میں جنسی تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔

    پولیس نے راج کندرا کے لیپ ٹاپ سے درجنوں فحش ویڈیوز اور دیگر مواد برآمد کر لیا

    خط میں مزید کہا گیا کہ اس منیجر کو نوکری سے نکال دیا جائے گا اور اسے دوبارہ نوکری پر کھبی نہیں رکھا جائے گا کمپنی متاثرہ عورت کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری پورا کرے گی اس کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

    جبکہ ویبو پر جاری ایک بیان میں جنان پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک مبینہ جنسی زیادتی کے کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں-

  • سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ  تحریر:خدیجہ نقوی

    سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ تحریر:خدیجہ نقوی

    چند دنوں پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا کی زینت بنی ایک ویڈیو ہر عام و خاص کی زباں پہ محو گفتگو تھی۔ جی ہاں میں لاھور میں ایک نجی یونیورسٹی میں پرپوزل کی وائرل ویڈیو کی ہی بات کر رہی ہوں۔
    اس ویڈیو نے اپنے ہر طبقہ فکر کو اپنے اندر سمو لیا تھا کچھ لوگ لڑکی لڑکے کہ محبت کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے تو وہیں ایک طبقہ ایسا تو جو اسلامی نقطئہ نظر سے تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔۔۔۔ جب بات عورت کی آۓ اور اس طرح آۓ تو میرا جسم میری مرضی والی سوچ سے ہم آہنگی رکھنے والے کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام میں سے صرف اپنے مطلب کو justify کرتا حصہ اٹھایا اور اس عمل کی حمایت میں اس جواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ کہ اسلام میں لڑکی کو اسکی مرضی کا پورا اختیار دیا ھے۔
    بات رسد و طلب کے خط کی طرح اپنی اونچائی کو چھو کہ آہستہ آہستہ گرنے لگی اور لوگ اس واقعے کو بھولنے لگے۔اس کے کچھ عرصے بعد سننے میں آیا کہ دونوں کی شادی ہو گئ ھے۔اور چ
    پھر یہ خبر آئ کہ شادی نہیں ہوئ بات پکی ہو گئ ھے تعلیم مکمل ہونے کے بعد شادی ہو جاۓ گی جس سے ایک تسلی ہوئ کہ چلو آخر کو جو ہوا س ہوا مگر یہ ایک اچھا انجام ہو گا۔ایک دن ہونہی فیس بک سکرولنگ کے دوران ایک ویب چینل پہ لاہور یونیورسٹی کی طالبہ کا انٹرویو نظروں سے گزرا کہ جسے دیکھ کہ میں سر پکڑ کہ رہ گئ کہ ایک لڑکی جو اپنی اپنے ماں باپ کی عزت کو پس پشت رکھ کہ سرعام شہریار کو پرپوز کرتی ھے اور وہ اس لئے کہ لوگوں کو پتہ چل جاۓ کہ یہ دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں اور جس کا جواب شہریار بھی مثبت انداز میں دیتا دیکھائی دیتا ہے لیکن کچھ عرصے میں وہ لڑکا اپنے وعدوں کو وفا نہ کرتے ہوۓ فیملی پریشر میں رشتہ ختم کئے اگلی زندگی کی جانب رواں دواں ہوتا ھے۔
    یہاں سوال میرا ان لنڈے کے لبرلز سے ھے کہ کل تک جو محبت کے قصیدے پڑھتے تھکتے ہیں اب اس بے وفائی پہ کچھ تو شرم کر لیں۔
    سوشل میڈیا کی آزادی ڈراموں اور فلموں میں کالج یونیورسٹی کی عشق محبت کی لازوال داستانیں آپ کے بچوں کو یونیورسٹی میں آئنسٹائن یا نیوٹن نہیں بلکہ ہیر رانجھا۔۔۔ لیلیٰ مجنوں کا پیروکار بنا رہی ھے۔
    حد تو اس وقت ہوتی ھے جب یونیورسٹی کے انتظامیہ اس پہ کوئ سخت ایکشن نہیں لیتی جب تک ان پہ معاشرتی دباؤ نہ آۓ۔۔۔ شہریار اور حدیقہ کے کیس میں بھی یہی ہوا ان سے پہلے اس یونیورسٹی میں دو طلبہ کہ طرف سے دو بار یہ ڈرامہ ہو چکا ھے مگر وہ ایکسپیل ہونے سے بس اس لے بچے کہ انکی ویڈیوز وائرل نہیں ہوئ۔ اور یونیورسٹی پہ کوئی معاشرتی اور اخلاقی دباؤ نہ تھا۔
    یہاں ایک سوال ان تعلیمی اداروں سے بھی ھے کہ مدرسے تو صرف درس و تدریس کا مسکن تھے تو کیوں آج انڈین گانوں پہ کالج یونیورسٹی کی فنکشنوں میں نوجوان اساتذہ کے سامنے تھرکتے پھرتے ہیں۔
    کیوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی ادراے مغربی ثکافت کی پرچھائ بن گۓ ہیں۔۔۔
    یہاں سوال اس باپ سے ھے کہ جس نے اچھا کمانے کے لیے دن رات ایک کردیا اولاد کو خود سے دور اور زندگی کے نازک ترین دور میں اکیلا چھوڑ دیا کہ جہاں باپ کی نظر میں یہ تک نہ آیا کہ میرا بیٹا یا بیٹی کس سے بات کرتا ھے کس طرح کی بات کرتا ھے۔
    یہاں سوال ھے ایک ماں سے آج کی۔ماں جس کی زندگی میں گھر کے کام اور سوشل میڈیا رچ بس گیا ھے اپنا فارغ وقت اپنے پہ لگانے کی غرض سے یو ٹیوب فیس بک پہ وقت گزارنے والی خواتین اپنی بچیوں کی پرسنل زندگی میں اب کیوں دخل اندازی نہیں کرتی۔ بچوں کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں انکے حال پہ چھوڑ دیا جاۓ بلکہ آزادی تو یہ ھے کہ لڑکیاں جب کیپٹن مریم بن کے شہید ہوتی ھیں بے نظیر بن کے سیاست میں قدم رکھتی ہیں تو والدین کے ساتھ قوموں کا فخر بن جاتی ھیں۔

    Twitter ID ‎@KhadijaNaqvi01

  • جدید موبائل فونز کے فوائد (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    جدید موبائل فونز کے فوائد (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    آئے روز اس دنیا میں نئی سے نئی ایجادات اور جدید سے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائے جانے کی اس دوڑ میں جہاں اِس اشرف المخلوقات نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بہت ساری کامیاب ایجادات کی ہیں۔ اُنہی ایجادات میں سے ایک بہت بڑی اور حیران کُن ایجاد آج کے دور میں تقریباً ہر ایک انسان کے استعمال میں رہنے والے سمارٹ سسٹم موبائل فونز بھی ہیں۔

    جیساکہ اِس سے پہلے بھی اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے منفی اور بُرے اثرات پر میرے تین کالمز شائع ہو چکے ہیں تو آج میں اپنی اِس تحریر کے زریعے اِن موبائل فونز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے اچھے اور مثبت اثرات بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ اگر ہم اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے فوائد کو دیکھیں تو یہ اَن گنت ہیں جن کا شمار کیا جانا بھی بہت مشکل ہے، لیکن میں اپنے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک زیادہ سے زیادہ فوائد کا تفصیلاً ذکر کر سکوں۔

    ~ تیز ترین پیغام رسانی، ڈیجیٹل کتابت کا بہترین زریعہ اور قرآن و حدیث تک کا موبائل کے زریعے مطالعہ بھی ایک بڑی سہولیات میں سے ایک ہے۔

    اس موجودہ اکیسویں صدی میں اس جدید سے جدید ٹیکنالوجی کے زریعے اب ہر کام آسان و سہل ہونے کے ساتھ ساتھ تیز ترین بھی ہوتا جا رہا ہے۔ پرانے وقتوں میں ہمیں جہاں اپنے کسی جاننے والے کو اپنا ایک پیغام پہنچانے کیلئے کئی کئی ہفتوں اور مہینوں تک انتظار کرنا پڑتا تھا، اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز نے ہمارا یہ کام اتنا آسان کر دیا ہے کہ اب اگر ہمیں پوری دنیا میں کہیں بھی کسی کو اپنا کوئی پیغام بھجوانا ہو یا پھر اُن سے بات کرنی ہو تو اِن موبائل فونز کے زریعے پلک جھپکتے ہی ہمارا پیغام اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ جاتا ہے۔

    پوری دنیا میں کہیں بھی اب آپ کا کسی سے بات کرنے کے لیے بس اُس کا رابطہ نمبر ہونا ضروری ہے جس کے زریعے سے آپ اُن سے کسی بھی وقت خواہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، آپ اپنا پیغام لکھ کر، اپنی آواز ریکارڈ کر کے یا پھر آپ براہ راست آپس میں بات کر کے بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    اور پھر آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا کے نام سے پکاری جانے والی لا تعداد ایپلیکیشنز بھی ایجاد ہو چکی ہیں، جنہیں ہم اپنے اِن جدید سسٹم موبائل فونز میں انسٹال کرنے کے بعد اُن کے زریعے سے بھی ہم آپس میں بات کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو کال کے زریعے ہم آپس میں باتیں بھی کر سکتے ہیں۔ جو کہ ایک انتہاء درجے کی ترقی، سہولت اور فوائد میں سے ایک ہے۔

    اسی طرح پہلے ادوار میں اگر ہمیں اپنی کوئی من پسند کتاب پڑھنے کا جی چاہتا تھا تو اُسے ڈھونڈنے کے لیے کئی کئی دن صَرف کرنے پڑتے تھے، بعض اوقات تو ہفتے اور مہینے بھی لگ جایا کرتے تھے۔ لیکن جب سے یہ جدید سسٹم موبائل فونز عام ہوئے ہیں تب سے آپ کو صرف انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے زریعے سے آپ کسی بھی مصنف کی کوئی بھی کتاب چند منٹوں میں انٹرنیٹ کے زریعے ڈھونڈ کر ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے پاس محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں اور اسے اپنے موبائل پہ ہی پڑھ بھی سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ پھر آپ اخبارات، رسائل، تدریسی و ادبی اور تاریخی کتب، شعر و شاعری، اقبالیات، فنونِ لطیفہ اور ہر وہ اقسام کی کتابیں جو آپ کو پسند ہوں اور آپ پڑھنا چاہتے ہوں، چند منٹوں میں انہیں بھی انٹرنیٹ کے زریعے سے ڈھونڈ کر پڑھ سکتے ہیں۔ جو کہ اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز کی وجہ سے ہی ہمارے بہت سارے وقت کی بچت بھی ممکن ہوئی ہے اور یہ ایک بہت ہی بہترین اور آسان سہولتوں میں سے بھی ایک ہے۔

    اس کے بعد اگر ہم اسلامی لحاظ سے بھی دیکھیں تو پہلے جہاں ہمیں قرآن مجید کے علاوہ باقی جتنی بھی کتب تھیں (کیونکہ قرآن مجید تو الحمد للہ ہر گھر میں بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں) جن میں قرآن مجید کا مختلف علماء کا کیا ہو ترجمہ، قرآن مجید کی تفسیر، احادیث کی کتب اور اِن کے علاوہ جتنی بھی اسلامی کتب تھیں، اُن کو پڑھنے کی غرض سے حاصل کرنے کے لیے ہمیں دور دراز شہروں میں موجود لائبریریوں اور کتابوں کی دوکانوں پہ جانا پڑتا تھا اور بعض اوقات تو ہمیں اپنی مطلوبہ کتب عدم دستیابی کی وجہ سے وہاں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں، جس کا پھر کافی دنوں یا ہفتوں اور بعض دفعہ تو مہینوں تک کا انتظار کرنے کے بعد، وہ بھی سپیشل آرڈر کی صورت میں منگوانے پر بامشکل ملا کرتی تھیں۔

    تو اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد ہمیں قرآن مجید کی بھی بہت ساری ایسی ایپلیکشنز مل جاتی ہیں، جن کو ہم انٹرنیٹ کے زریعے سے اپنے اِن موبائل فونز میں ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں اور پھر جب چاہیں اسے انٹرنیٹ کے بغیر ہی تلاوت بھی کر سکتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ آپ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر، احادیث قدسیہ، فقہاہ اور تقریباً ہر طبقہ فِکر سے تعلق رکھنے والے علماء کی لکھی گئی کتابیں، پھر ان کی تقاریر اور دینوی و دنیاوی مسائل پہ اُنکی کی گئی جراح کو بھی اپنے اِن جدید سسٹم موبائل فونز پہ ہی پڑھ، سُن اور دیکھ بھی سکتے ہیں۔ جِس سے ہمارے وقت کی بھی بہت ساری بچت ہو جاتی ہے اور ہم ایک ہی موضوع پہ مختلف علماء کی لکھی ہوئی کتابوں سے حوالے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک انتہائی اعلٰی درجے کی سہولت اور بڑے فوائد میں سے ایک بھی ہے۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ ہم پہ بطور مسلمان اور ایک اچھے محبِ وطن پاکستانی ہونے کے ناطے سے بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس جدید سے جدید ٹیکنالوجی اور اِن جدید سسٹم موبائل فونز کو ایک غنیمت اور نعمت جانتے ہوئے جہاں تک ہو سکے نیکی اور اچھائی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اِن موبائل فونز کے زریعے سے ہی پھیلائی جانے والی لا تعداد برائیوں، ان کے بُرے اسباب، استعمال اور اثرات سے بھی دوسروں کو بچانے کی جتنی ممکن ہو سکے، کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے۔ تاکہ ہم اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • نوجوانوں میں بڑھتا ہو ٹک ٹاک کا جنون تحریر : علی حیدر

    نوجوانوں میں بڑھتا ہو ٹک ٹاک کا جنون تحریر : علی حیدر

    دور حاضر میں ٹیکنالوجی نے جہاں ایک طرف بنی نوع انسان کو آسانیاں اور آسائشیں فراہم کی ہیں وہاں اس کی وجہ سے ان گنت سماجی و معاشی مسائل بھی درپیش ہیں۔
    سوشئیل میڈیا ایپلیکیشنز کے حوالے سے اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایپلیکیشن رابطے کا آسان ذریعہ ہیں لیکن شہرت اور تفریح کے لئیے ایسی ایپلیکیشنز کا بے جا استعمال نہ صرف وقت کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے بلکہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کی بھی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔
    مشرقی تہذیب و کلچر اسلامی تعلیمات کی بہترین عکاس ہے اور یورپ کی تہذیب سے قطعی مختلف ہے لیکن ٹیکنالوجی نے دنیا کے فاصلوں کو مٹاتے ہوئے تمام تہذیبوں اور معاشروں کو ایک ہی مقام پہ لا کھڑا کیا ہے ۔
    ٹک ٹاک ایک سوشیل میڈیا ایپلیکیشن ہے دنیا بھر میں جس کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔
    ٹک ٹاک نامی ایپلیکیشن چائنہ کے ژانگ یمنگ نامی ایپ ڈویلپر نے 2016 میں بنائی۔ یہ لوگوں میں اتنی مقبول ہوئی کہ چند سالوں میں اس نے یوٹیوب اور فیس بک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔
    2018 میں ٹک ٹاک نے ایک اور شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن میوزیلکی کو 2 ارب ڈالر میں خرید لیا ۔
    ٹک ٹاک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس ایپلیکیشن کو پلے سٹور سے اب تک تقریباً ڈیڑھ بلین مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے ۔
    پاکستان میں ٹک ٹاک کے صارفین کی تعداد 3 کروڑ کے لگ بھگ ہے جبکہ بھارت میں ٹک ٹاک کے 13 کروڑ صارفین موجود ہیں۔
    ٹک ٹاک ایک شارٹ ویڈیو ایپلیکیشن ہے ۔ جس کے صارفین نے 15 سیکنڈز پر محیط ویڈیو بنا کر اس پر اپلوڈ کرنا ہوتی ہے ۔
    نوجوانوں میں ٹک ٹاک کا بڑھتا ہوا جنون معاشرے میں نہ صرف بے راہ روی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ کچھ صارفین ٹک ٹاک کے ذرئعیے شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لئبے بے ہودہ اور فحش حرکات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
    ان نام و نہاد سوشئیل ایپلیکیشنز نے لوگوں کی سماجی ذندگیوں کو محدود کر دیا ہے۔ رشتے داروں اور عزیز و اقارب سے میل جول اور ان کے ساتھ تعلق داری مسدود ہو چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں قطع تعلقی اور معاشرتی نفرتیں اور کدورتیں عام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
    ٹک ٹاک کے صارفین میں مردوں سے ذیادہ تعداد عورتوں کی ہے ۔
    معاشرے میں ٹک ٹاک سے پھیلتی بے حیائی اور بے راہ روی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے متعدد بار اس ایپلیکیشن پر پابندی لگانی چاہی لیکن ہر بار سیکولر طبقہ آڑے آ گیا۔
    سیکولر طبقہ ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کو آزادی اظہار رائے پر پابندی لگائے جانے کے مترادف سمجھتا ہے۔
    ٹک ٹاک لوگوں کو اسلام سے متنفر کر رہی ہے چناچہ ہماری نوجوان نسل اسلامی تعلیمات میں عدم دلچسپی کا اظہار کر رہی ہے جس کے واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں۔
    ٹک ٹاک سے پھیلتی بے حیائی کو روکنے کے لئیے کسی مؤثر لاحئہ عمل کی شدید ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کی فحش حرکات کو محدود کیا جا سکے ۔
    ہمارے تعلیمی ادارے جن کو تحقیق و تصنیف کا مرکز و منبع ہونا چاہئبے تھا وہ بھی ٹک ٹاک کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے ۔ چناچہ تعلیمی اداروں میں ذیر تعلیم طلبہ ٹک ٹاک بنانے میں مصروف عمل ہیں۔
    کسی بھی انسان کی جوانی اس کی ذندگی کے اداور میں سب سے قیمتی وقت ہوتا ہے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے لئیے بہتر مستقبل کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان اپنے مستقبل سے بے فکر ایسی لغویات میں الجھے دکھائی دیتے ہیں جو قابل فکر اور باعث تشویش ہے۔
    قابل غور امر یہ بھی ہے کہ بے راہ روی کے ساتھ ساتھ ہمارے نوجوان بے ادب اور ذیادہ پر اعتماد ہو چکے ہیں جس میں ایسی ایپلیکیشنز کے استعمال کا بہت ہاتھ ہے۔

    اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور نشو نما , شہرت اور دولت کے حصول کے لئیے ٹک ٹاک کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز موجود ہیں جو ٹک ٹاک سے ذیادہ بہتر ہیں کیونکہ 15 سیکنڈز کی ویڈیو میں کیونکر کسی کی صلاحیتیں اجاگر ہو سکتی ہیں۔
    یوٹیوب اور فائیور جیسے پیشہ ورانہ پلیٹ فارمز پہ اپنی صلاحیتوں کو پیشے کے طور اپنا کر معاشرے کا کوئی بھی فرد نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا بہتر طور پہ اظہار کر سکتا ہے بلکہ ایک باعزت روزگار بھی حاصل کر سکتا ہے۔
    لیکن ہمارے نوجوان بغیر محنت کئیے اور کسی بھی ڈیجیٹل ہنر میں مہارت حاصل کئیے بغیر صرف 15 سیکنڈز کی ویڈیو کے ذرئعیے شہرت اور دولت حاصل کرنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔
    مغربی ممالک ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر چکے ہیں چناچہ ان کی تیار کردہ ایسی ایپلیکیشنز کو استعمال کرنے والے ہم ہی ہیں ۔ ہمیں چاہئیے کہ اپنے نوجوانوں میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کریں کہ صرف ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال شہرت , عزت اور دولت عطا نہیں کر سکتا بلکہ ہمیں ٹیکنالوجی میں خود مہارت حاصل کرنا ہو گی کیونکہ آخر وہ بھی تو ایک نوجوان تھا جس نے ایسی ایپلیکشن کو بنا کر دولت , عزت اور شہرت حاصل کی ۔
    دنیا میں اپنے وقار اور معیار کو بلند رکھنے کے لئیے اس امر کی ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے جدید پہلوؤں کے متعلق آگاہی دی جائے تاکہ ہمارے نوجوان اس ڈیحیٹل شعبہ ذندگی سے وابستہ ہو کر معاشرے کے باعزت اور باوقار شہری بن سکیں اور خرافات و بے ہودہ حرکات سے باز آ سکیں۔

    @alihaiderrr5

  • پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب امیدوار قبول کریں گے     وزیر اعظم عمران خان

    پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب امیدوار قبول کریں گے وزیر اعظم عمران خان

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آخر کار پاکستان میں ایسے انتخابات ہوں گے جس کو سب فریق قبول کریں گے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنے ٹوئٹ میں ووٹنگ مشین چیک کرنے کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ ہماری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سےپاکستان میں تیارکردہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینزکامعائنہ کیا-

    بھارت خود ساختہ جھوٹ گھڑنے اور حیلے بہانے تراشنے سے باز رہے ترجمان دفتر خارجہ

    وزیر اعظم نے لکھا کہ لیکٹرانک ووٹنگ مشینزکامعائنہ کرتے ہوئے بالآخریہ دکھائی دینے لگاہےکہ پاکستان میں ہمیں ایسےانتخابات میسر آئیں گےجن میں حصہ لینےوالےتمام امیدوار نتائج تسلیم کریں گے-


    وزیر اعظم نے اپنی ٹوئٹ میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز اور ان کی ٹیم کو مبارکباد بھی دی-

    یو اے ای حکومت سے ضروری ریپڈ ٹیسٹ کی بجائے اینٹیجن ٹیسٹ قبول کرنے کی درخواست کریں…

    این سی او سی کی تشکیل کے 500 دن مکمل ہونے پراسد عمر کی خصوصی ٹوئٹ

  • سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    ناسا نے سورج کے قریب سورج جیسا ہی 60 کروڑ سال پرانا ستارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی تی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ناسا کے ماہرین فلکیات نے ستارے کی تصدیق کی ہے جو دیکھنے میں سورج کی طرح لگتا ہے تاہم حجم میں اس سے چھوٹا ہے، کاپا 1 سیٹی نامی ستارے میں سورج کی طرح کا ہی درجہ حرارت اور روشنی پائی جاتی ہے۔

    ناسا کے ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ستارہ سورج سے 600 سے 750 ملین سال چھوٹا ہے اس کا مطلب ہے کہ ماہرین اسے ایک نوجوان شمسی نظام کے تناسب کے طور پر استعمال کرکے نئی تحقیقات کر سکتے ہیں۔

    پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    ناسا کا کہنا ہے کہ ابتدائی نظام شمسی میں اربوں سال پیچھے جانا اور یہ دیکھنا ناممکن ہے کہ سورج کیسا تھا اور کب زمین پر پہلی بار زندگی کے آثار پیدا ہوئے۔ تاہم اس دریافت سے سائنسدانوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا کہ کیسے سورج سیاروں کے ماحول اور زمین پر زندگی کی نشوونما کا سبب بنتا ہے۔

    دوسری جانب محققین کا کہنا ہے کہ سائنس دان اس بات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ ہمارا سورج جب جوان تھا تو کیسا رہا ہوگا، اور اس نے کس طرح ہمارے سیارے کے ماحول اور زمین پر زندگی کی تشکیل کی ہوگی۔

    تحقیق میں ستارے سے نکلتی ہوئی کورونل ماس ایجیکشنز اور ہواؤں کا مطالعہ شامل ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ سورج کے اخراج سے زمین پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

    ملکی وے کہکشاں کے اندر 100 بلین سے زیادہ ستارے ہیں، جن میں سے دس میں سے ایک ہمارے اپنے ستارے کے سائز اور چمک کے برابر ہیں۔ان میں سے بہت سے ستارے ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی چھوٹے بچوں کی طرح، نوجوان ستارے بھی عمر کے حساب سے نشونما پاتے ہیں اوران کی خصوصیات میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں-

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا