Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

    ناسا کا نیا مشن سائیکی نامی سیارچےکی سطح کا جائزہ لےگا یہ سیارچہ ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کی دھاتوں سے بنا ہوا ہے۔ناسا کا مشن 2026 تک اس سیارچے پر لینڈ کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کےمطابق 120 میل چوڑاچٹان کا یہ ٹکڑا مشتری اور مریخ کے درمیان سورج کے گرد چکر لگا رہا ہے ماہرین کےمطابق اس سیارچے کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہے،اس مشن میں مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم نےدرجہ حرارت کا ایک نیا نقشہ بنایا ہے-

    ماہرین نے نہایت طاقتور دوربینوں سے سیارچے کی سطح جائزہ لیا ہے ماہرین اس بات کا تعین کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ سیارچے میں ایک دھاتی سطح ہے جو کم از کم 30 فیصد دھات سے بنی ہے-

    ناسا کے مطابق دیگر پتھریلی یا برفیلی سطحوں کے برعکس ، اس سیارچے کی سطح کے زیادہ تر آئرن اور نکل سے بنے ہونے کا شبہ ہے، ان دھاتوں کی قیمت کئی کواڈریلین ڈالرہوسکتی ہے-

    ماہرین کے مطابق اگر یہ سیارچہ انسانوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو اس کی دھاتوں سے ہر کوئی ارب پتی ہو جائے گا اور یوں دنیا کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔

  • ٹویٹر کی دنیا   تحریر : سید لعل حسین بُخاری

    ٹویٹر کی دنیا تحریر : سید لعل حسین بُخاری

    ٹویٹر میں ایکٹو ہونے کے بعد بہت سے لوگوں سے ٹویٹر ہی کے زریعےملاقات ہوئ۔کئی ریٹویٹ اور ٹرینڈز گروپوں میں بھی رہا۔خود بھی ریٹویٹ گروپ تشکیل دئیے۔جن میں سے ایک ابھی بھی پاکستان فرسٹ کے نام سے ایکٹو ہے۔
    لوگ کہتےہیں کہ ٹویٹر فیس بُک سے کوالٹی کے لحاظ سے بہتر پلیٹ فارم ہے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ فیس بک پہ چلنے والی بدتمیزی،گالی گلوچ اور کاپی پیسٹ ٹویٹر پر بھی موجود ہے،یہاں بھی تقریبا”ہر دوسرا یا تیسرااکاؤنٹ فیک ہے۔زیادہ تر انہیں فیک اکاؤنٹس سے گالی گلوچ اور نامناسب اور قابل شرم کمنٹس کا دھندا کیا جاتا ہے۔
    افسوس ناک امر ہے کہ اس گالم گلوچ بریگیڈ کی سرپرستی بعض سیاسی شخصیات کرتی ہیں۔
    جن میں سر فہرست نام مریم صفدر کا ہے،مریم بی بی نہ صرف مخالفین کو گالیاں دینے والے ان اکاؤنٹس کو فالو کرتی ہیں بلکہ کئی ایسے اکاونٹس بھی محترمہ نے فالو کر رکھے ہیں،جو ملک دشمنی میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔یہ امر انتہائ افسوسناک ہے کہ ہم اس پلیٹ فارم کو ان مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
    سیاسی مخالفت اور تعمیری تنقید ضرور ہونی چاہیے،مگر ریاست اداروں کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے۔ایسا کرنا ہمارے اندر اورباہر کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرناہے۔
    اگر ہم ٹویٹر پر ایکٹو ہیں اور لوگ ہمیں فالو بھی کرتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے ایک دن میں اپنے ملک کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھانے کے لئے کیا کام کیا ہے؟
    کونسا ایسا ٹویٹ ہم نے شیئر کیا ہے کہ جس نے دنیا کو پاکستان کے بارے میں اچھا پیغام دیا ہے؟
    اگر ہم میں سے ہر کوئ یہ سوچ لے کہ اس نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا مونہہ توڑ جواب دینا ہے،تو دشمنوں کا بھونکنا ٹونکنا بند ہو سکتا ہے۔
    مگر باعث شرم بات یہ ہے کہ باہر سے یا اندر سے جب بھی کوئ آواز ریاستی اداروں کے خلاف اٹھتی ہے تو بہت سے لوگ اندر سے ہی ان کا ساتھ دیکر ملک سے غداری کا مرتکب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
    ٹویٹر ایک باثر پلیٹ فارم ہے۔اس پر ٹرینڈز کی صورت اٹھنے والی آواز بین الاقوامی طور پر سنی جاتی ہے۔
    ہم اگر کسی ایک گروپ سے وابستہ نہ بھی ہوں تو ہمیں ان آوازوں کے ساتھ اپنی آواز ملانی چاہیے۔تاکہ ملک اور قوم کا کوئ فائدہ ہو سکے۔
    ہر اچھی چیز کو ریٹویٹ کرنے کی کوشش کریں۔خواہ آپ کسی کو جانتے ہیں یا نہیں ۔
    مگر اچھا پیغام پھیلانے میں مدد ضرور کریں۔
    ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ جس طرح ٹی وی چینلز میں ریٹننگ کی دوڑ لگی ہوتی ہے۔بلکل اسی طرح ٹویٹر پر بھی دوست احباب ریٹویٹ کے معاملے پر جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔
    اور یہ خواہش ایک قدرتی امرہے کہ ہماری لکھی ہوئ چیز کو زیادہ لوگ ریٹویٹ کریں۔
    اسے زیادہ لوگ پسند کریں۔
    مگر اس کے حصول کے لئے بلاوجہ کی سنسنی۔بد تہذیبی اور کاپی پیسٹ سے گریز کرنا چاہیے۔
    کسی دوسرے کا کریڈٹ نقل کر کے لینے سے بہتر ہے کہ بندہ سیکھے اور اپنے آپ کو اس قابل بناۓ کہ لوگ اسے فالو کرنے پر مجبور نہ بھی ہوں تو اسکی خواہش ضرور کریں۔
    فیک اکاونٹس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔اچھا لکھنے والوں کی حوصلہ افزائ کرنی چاہیے اور نئے آنے والوں کو ٹویٹر رولز سے آگاہی میں مدد دینی چاہیے۔
    اگر کبھی کچھ غلط لکھا جاۓ تو اسے ڈیلیٹ کرنے میں تامل نہ کیا جاۓ۔کیونکہ ہم بحر حال انسان ہیں۔انسان خطاؤں کا پُتلا ہے۔اپنی غلطی مان لینے ہی میں عظمت اور بڑائ ہے نا کہ غلط بات پر ڈٹ جانے میں۔
    اگر آپ سمجھیں کہ آپ نے کچھ ایسا لکھ دیا،جس سے کسی کی دل آزاری ہوئ ہے اور اسکا جرم یا قصور بھی نہیں تھا،تو پھر معافی مانگنے میں دیر مت لگائیں۔
    مگر یہ فارمولہ کرپٹ عناصر بشمول سیاستدانوں پر اپلائ نہیں ہوتا۔
    ایسے بد عنوان افراد کے خلاف لکھنا ایک جہاد ہے۔جو بھی کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نظر آۓ اسکے خلاف ضرور لکھیں۔
    مگر یہ سب کچھ لکھتے وقت ایک چیز زہن میں رکھیں کہ آپکا لکھا ہوا آپ کو ثابت بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔اسلئے تمام تر شواہد اور ثبوتوں کا جائزہ لیکر لکھیں تاکہ آپ کو کسی بھی قسم کی قانونی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    مجھ پر کئی دفعہ اخبارات میں لکھنے کی وجہ سے کروڑوں روپے ہر جانے کے عدالتی دعوے کئے گئے مگر الحمدللہ ان میں سے کوئ بھی میرے خلاف سچ ثابت نہ ہو سکا،کیونکہ میں ہمیشہ دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر خبر لگاتا تھا اور خبر لگانے سے پہلے اپنا ہوم ورک ضرور مکمل کرتا تھا۔
    خبر لگاتے وقت ہمیشہ اس شخص یا پارٹی کا موقف بھی ساتھ ہی شائع کریں ،جس کے خلاف آپ خبر لگا رہے ہیں۔
    ایسا کرنے سے آپ آدھی قانونی جنگ تو ویسے ہی جیت جاتے ہیں۔
    ٹویٹر بھی ایک اخبار کی طرح ہی ہوتا ہے۔جس میں لکھے ٹویٹس ان خبروں کی طرح ہوتے ہیں،جو ہم اخبارات میں بطور نامہ نگار شائع کرواتے ہیں۔
    اچھا نامہ نگاروہی ہوتا ہے جو اپنی لگائ گئی خبر کا پہرہ دے سکے۔
    اچھا ٹویٹ بھی وہی ہوتا ہے،جس کی سچائ بوقت ضرورت آپ ثابت کر سکیں-
    اللہ تعالی ہم سب کو زور قلم دے اور زیادہ
    اور اللہ تعالی ہمیں اپنے قلم کی اس طاقت کو اپنے ملک کی بہتری اور عوامی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کی توفیق دے۔آمین #

    @lalbukhari

  • جدید خیالات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔  تحریر: زاہد کبدانی

    جدید خیالات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ تحریر: زاہد کبدانی

    ہم زیادہ تر تمام معاملات کے قابل ذکر باہمی تعلق سے اندھے ہیں۔
    یہ جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک پیچیدہ کائنات میں یہ دیکھنا مشکل ہے کہ آپ کے ساتھ کون سی مجبوریاں کام کرتی ہیں اور قوتیں آپ کے خلاف کام کریں گی۔

    ٹوسٹر حاصل کرنے کے مقابلے میں ، پھر ہم آخری مصنوعات پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہیں اور اس کے ارد گرد چلنے والے مختلف طریقہ کار کو نہیں سمجھتے ہیں۔ تکرار کریں ، پیدا نہ کریں تخلیقی تخلیقات پرانے خیالات کا تازہ مجموعہ ہوتی ہیں۔ اختراعی مومن تخلیق نہیں کرتے ، وہ تعلق رکھتے ہیں۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں

    مزید یہ کہ ، ترقی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ اس سے انچ فیصد ترقی حاصل کرنا ہے جو پہلے ہی پورے طریقہ کار کو پہننے اور شروع کرنے کے برعکس کام کرتا ہے۔ انفرادی پروازوں کے طریقہ کار نے ایک جیسی کورس کی پیروی کی۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔
    ہم عام طور پر اورول اور زین کو چارج کرتے ہیں کیونکہ وہ جدید پرواز کے موجد ہیں۔ ٹوسٹر پروجیکٹ اس کی ایک اچھی مثال ہوسکتی ہے جس طرح ہم اکثر جدید ماحول کی پیچیدگی کا مشاہدہ نہیں کرتے ہیں۔ جب بھی آپ ٹوسٹر خریدتے ہیں ، اس کے بعد آپ کبھی یقین نہیں کریں گے کہ دکان سے دیکھنے سے پہلے کیا ہونا چاہیے۔

    آپ پہاڑ سے لوہے کے پھینکنے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم کو زمین سے اوپر کی طرف کھینچنے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ ترقی کی تمام قوتوں کے دوران ، ترازو چھوٹے نقاد بن گئے ، جو ابتدائی طور پر موصلیت اور گرمی کے لیے مفید رہے ہیں۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    آخر میں ، یہ چھوٹے پھول پرواز میں موثر پنکھوں میں بڑھ گئے۔ جب آپ کے ٹوسٹر کی وجہ سے پلاسٹک کیس بنانے کا وقت آگیا ، تو تھویٹس کو احساس ہوا کہ وہ پلاسٹک کی چادر بنانے کے لیے خام تیل کی خواہش کرے گا۔ اس بار اس نے بی پی کی پیشن گوئی کی اور پوچھا کہ وہ اسے آئل رگ میں کب اڑائیں گے اور پھر اس کو تیل دیں گے۔
    انہوں نے فورا انکار کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ تیل کی تنظیمیں لوہے کی کانوں کی طرح کافی نہیں ہیں۔ تھویٹس کو وینائل بٹس جمع کرنے اور ان کے پگھلنے کو اپنے ٹوسٹر مثال کے طور پر ڈھکنا پڑا۔ یہ اتنا سادہ نہیں جتنا یہ لگتا ہے۔
    گھر میں بنے ٹوسٹر نے کچی گیجٹ کے مقابلے میں پگھلنے والی کوکی کی طرح دکھائی دینا چھوڑ دیا۔ یہ پیٹرن اس ٹوسٹر پروجیکٹ کی مکمل لمبائی تک جاری رہا۔ پہلے کے طریقہ کار کی مدد کے بغیر آگے بڑھنا ناممکن نہیں تھا۔ سب سے زیادہ نکل اجزاء بنانے کے لیے ، مثال کے طور پر ، اسے پرانے سکے پگھلانے کا سہارا لینا پڑا۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس نے بعد میں کہا ، "میں نے محسوس کیا کہ اگر آپ نے شروع سے ہی شروع کیا تو آپ اپنی زندگی آسانی سے ایک ٹوسٹر بنانے میں گزار سکتے ہیں” ہم اکثر جدید تجاویز مانتے ہیں اور بامقصد تبدیلیاں خالی سلیٹ کی ضرورت ہوتی ہیں۔ جب کاروباری کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ، ہم چیزوں کو بیان کرتے ہیں جیسے ، "ہمیں براہ راست ڈرائنگ بورڈ پر واپس جانے دو”

    ایک بار جب ہم ان رواجوں پر یقین کر لیتے ہیں جو ہم قیاس کو تبدیل کرنا پسند کریں گے ، "مجھے صرف ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے۔” لیکن ، تخلیقی ترقی تمام پچھلے خیالات اور ایجادات کو پیش کرنے اور سیارے کو مکمل طور پر دوبارہ تصور کرنے کا نتیجہ ہے۔ مخلوق کی بادشاہی کے بعد کوئی جادوئی لمحہ نہیں تھا۔

    "آئیے شروع سے شروع کرتے ہیں اور ایک ایسا جانور بناتے ہیں جو اڑ سکتا ہے” اڑنے والے پرندوں کی نشوونما کام کرنے والے خیالات کو دہرانے اور وسعت دینے کا ایک سست ذریعہ تھا۔ ٹوسٹر پروجیکٹ 2010 میں واپس آیا ، تھامس تھویٹس نے فیصلہ کیا کہ وہ شروع سے ہی ٹوسٹر بنانا چاہتا ہے۔

    وہ ایک دکان پر گیا ، ٹوسٹر خریدا جس کا اسے پتہ چل سکتا تھا ، اور گھر جا کر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔ اس نے سٹیل کے اجزاء بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس لوہے کی کھوج کا پتہ لگانے کے بعد وہ سٹیل پیدا کرنے کا پابند تھا۔

    تھویٹس نے اس کی جگہ پر لوہے کی کان بلائی اور پوچھا کہ جب وہ اسے چند کاموں کے لیے استعمال کرنے دیں گے۔ شروع سے شروع کرنا عام طور پر ایک خوفناک خیال ہے۔ کامیابی قلیل المدتی رہی ہے۔ شروع سے شروع نہ کریں تھویٹس نے فرض کیا تھا کہ ٹوسٹر ایک نسبتا سیدھا نظام ہے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    اب تک وہ اس کی تعمیر کا کام مکمل کر چکا تھا ، لیکن فرش پر 400 اجزا بچھے ہوئے تھے۔ ٹوسٹر میں 100 سے زیادہ الگ الگ مادے شامل تھے جن میں سے تین نکیل ، پلاسٹک سٹیل ہیں۔ ایک بار جب آپ کسی پیچیدہ مسئلے کو سنبھال لیتے ہیں تو ، عام طور پر اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے کہ کیا کام کرتا ہے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    کوئی بھی تصور جو اب کام کر رہا ہے اس نے بہت سارے آزمائش پاس کیے ہیں۔ پرانے خیالات صرف ایک خفیہ ہتھیار ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی ایک پیچیدہ دنیا میں رہنے کے قابل تھے۔ جدید خیالات پیدا ہوتے ہیں۔

    @Z_Kubdani

  • زمین کو سانس دو. تحریر : زہراء مرزا

    زمین کو سانس دو. تحریر : زہراء مرزا

    تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ایک درخت 30 بچوں کو آکسیجن فراہم کرتا ہے. ایک بچے کو اگر مصنوعی طریقے سے آکسیجن فراہم کرنے پڑے تو یہ 5000 روپے کی آکسیجن یومیہ درکار ہے. پاکستان میں اوسطاً عمر 60 سال ہے.
    مختصر کہیے تو گیارہ کڑوڑ روپے ایک شخص کے زندہ رہنے کے لیے درکار ہوں.

    زاویہ نظر بدلیے….
    سب سے پہلے تو اس بات پر اپنے خالق کا شکر ادا کریں کہ کتنی مہنگی چیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں مفت عطا کر رکھی ہے. اور ہم سے اس چیز کا نہ تو کوئی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور نہ ہی ہماری تمام تر سرکشوں کے باوجود اس نعمت (آکسیجن) کے استعمال سے روکا جاتا ہے.

    خالق دو جہاں کے شکر کے بعد سوچیے…!!
    آپ ارب پتی بھی ہوتے تو کیا پوری زندگی میں تین ارب 30 کڑوڑ روپے صدقہ کر سکتے تھے؟؟
    ہرگز نہیں… لیکن اگر آپ کے پاس کچھ بھی نہیں تو بھی آپ اس سے کئی گناہ زیادہ صدقہ کر سکتے ہیں. آپ سب ارادہ کر لیں کہ ہم اس معاشرے کو ہر سال ایک پودا دیں گے جو بڑا ہوکر ایک درخت بن جائے گا تو آپکی عمر اگر ساٹھ سال ہوئی تو ہر سال 3 ارب 30 لاکھ روپے صدقہ کا ثواب آپکو ملے گا. اپنی زندگی میں 2 کھرب روپے کا صدقہ کرنے والا شخص آپ نے تو شاید تمام عمر سوچا تک نہ ہو.؟؟

    جی اتنا بڑا صدقہ..!
    ایک درخت لگائیے…. اور دنیا کو سانس فراہم کیجیے….
    ابھی تک تو میں نے فقط ایک آکسیجن فراہم کرنے والے درخت کے متعلق بتایا ہے؟
    اگر آپ نے ایسا درخت لگایا جس نے لوگوں کو دھوپ میں سایہ دیا، بھوک میں پھل دیا، پرندو‌ں کو گھر دیا، زمین کو بارش دی تو آپ محسوس کریں کہ آپ معاشرے کے ساتھ کتنی بڑی نیکی کر رہے ہیں؟ آپ اگر ایسا کرتے ہیں تو یقیناً آپکو اپنے انسان ہونے پر ناز ہوگا. کیونکہ پوری کائنات میں آپ واحد مخلوق ہیں جسے اللہ نے یہ شعور دیا ہے کہ وہ درخت لگائیں. دنیا کو اس وقت گلوبل وارمنگ کا جس طرح سامنا ہے یہ میں اور آپ فقط سوچ ہی سکتے ہیں؟ ایمازون کے جنگلات کی آتشزدگی ہو یا افریکہ کے جنگلات میں لگنے والی آگ. کہیں آبادیوں کے بڑھاؤ کی خاطر کٹنے والے جنگلات ہوں. یا جلانے اور آلات بنانے میں ضرورت سے زائد استعمال ہونے والی لکڑی..
    یہ سب ہی گلوبل وارمنگ کی وجوہات میں سے ہیں. فیکٹریوں اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن نے جہاں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور متھین گیس کی مقدار کو بڑھاوا دیا ہے. وہیں جنگلات اور درختوں کی کٹائی نے آکسیجن کو مزید کم کر دیا.

    کیا آپ دیکھتے نہیں کہ میٹرو سٹیز میں رہنے والے افراد میں بیماریوں کا رجحان دیہی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے.
    دمہ، سکن الرجی،ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی بیماریوں میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے.
    گرمیوں میں ہیٹ سٹوک اور سردیوں میں سموگ کا راج یہ تمام کے تمام مضمرات یا تو انڈسٹری کے بے جا پھیلاؤ سے منسلک ہیں یا پھر درختوں کی بے وجہ کٹائی سے. درختوں میں اضافہ نہ صرف گلوبل وارمنگ کو کم کرتا ہے ساتھ ہی ساتھ سموگ اور ہیٹ اسٹوک سے بھی محفوظ رکھتا ہے.

    یاد رکھیے جتنے درخت کم ہونگے اتنی ہی سانسیں کم ہونگی. لہٰذا اگر سانس کو بچانا ہے تو ایک پودا لگانا ہے. درخت لگائیے اور دور جدید میں سب سے مہنگا صدقہ کیجیے…! کیونکہ فرمان پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ انسان کی جان بچانا انسانیت بچانے کے مترادف ہے.

    @zaramiirza

  • سوشل میڈیا ایک رنگین فتنہ تحریر: حیأ انبساط

    سوشل میڈیا ایک رنگین فتنہ تحریر: حیأ انبساط

    ‏کل سوشل میڈیا پہ ایک تصویر نظر سے گزری جس میں لگ بھگ ۱۲ سال کی بچی اپنے ہی ہم عمر بچے کے ساتھ اس کا بازو تھامے اس انداز سے کھڑی تھی جیسے نیأ شادی شدہ جوڑا اپنی شادی کی پہلی دعوت پہ تیار ہوکے واٹس ایپ سٹیٹس اپڈیٹ کرنے کیلئے تصاویر بنواتا ہے

    ‏اس تصویر کو دیکھ کے تعجب ہوا اور شرم بھی آئی کہ اس عمر میں ہمارا کسی شادی کی تقریب میں اگر کبھی جانے کا اتفاق ہو جاتا تو امّی کے ساتھ والی کرسی سے اُٹھنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی اور اگر کبھی کوئی خالہ پھوپھو وغیرہ تعریف کر دیتیں کہ بھئی تم تو بہت پیاری ہوگئی ہو تو شرم کے بجائے شرمندگی سے امی کے پیچھے منہ چھپانے کی کوشش کی جاتی تھی

    ‏آجکل کی نئی نسل کو یہ خوداعتمادی ( یا بےحیائی میں طے نہیں کر پا رہی ہوں ) اسمارٹ فون کے کھلے اور بے دریغ استعمال سے آئی ہے جس پہ چار چاند لاک ڈاؤن کے بعد سے ہونے والے آن لائن تدریسی انتظام نے لگائے ہیں۔ معصوم مائیں تین وقت کے کھانے کی تیاری میں مصروف رہتی ہیں اور فارغ ہونے پر تین ہی مشہور چینلز کے واہیات ڈراموں کی فکروں میں گھلتی دیکھائی دیتی ہیں اس بات سے بےخبر کے انکی اولادیں اپنی ہی فلموں کی تکمیل میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

    ‏لیکچرز کی فراہمی کیلئے اسکول کے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں سے ہی ساتھی طلبات کے نمبر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی معلومات بھی تبدیل کی جاتی ہیں دوستی کے نام پہ جو آجکل کے بچے کرتے دیکھائی دے رہے ہیں اس سے ان کے گھروالوں کے علاوہ باقی ساری دنیا واقف نظر آتی ہے ۔ تصاویر کے تبادلے سے لے کر رات گئے تک فون پہ گفتگو والے کچھ ہفتوں کے عشق کے بعد ان بچوں کا بریک اپ بھی ہوتا ہے اور دکھ بھرے اسٹیٹس بھی لگائے جاتے ہیں اور دو چار دنوں بعد ہی ایک نئی سہیلی انکی فوٹو لائک کرتی دیکھائی دیتی ہیں ۔

    ‏جبکہ تعلیم کا حال ان تمام سرگرمیوں کے برعکس ہے ۰ میں چونکہ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوں اسلیئے قریبی مشاہدہ تحریر کر رہی ہوں حال ہی میں ہونے والے سالانہ امتحانات میں ذہین سے ذہین طلبہ کی کارکردگی قابل افسوس تھی اور اوسط درجے کے طلبأ کا حال قابلِ رحم تھا ، ایک دو کو تو اپنے اسکول کے نام کی ہجّے تک بھول گئی تھی

    ‏اس تمام واقعات و حالات کا تذکرہ کرنے کا مقصد قوم کے معماروں کی اصلاح کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ہمیں نہیں معلوم کے یہ آنلائن تعلیمی نظام کب تک جاری رکھا جائے گا لیکن بحیثیت والدین ہماری اولین ترجیح اپنی اولاد کی اصلاح اور انکی عادات و سکنات سے باخبر رہنا ہے ۔ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف نہیں لیکن اسکے غلط استعمال کے ضرور خلاف ہوں اپنے بچوں کو اسمارٹ فون کے بجائے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹز دلوائیں ، کمپیوٹر گھر میں ایسی جگہ رکھا جائے کہ آتے جاتے گھروالوں کی نظر اسکرین پہ جا سکے اسطرح بچوں کو بھی خوف ہوگا کہ ہماری سرگرمیوں سے گھر کے افراد واقف ہیں اور وہ کسی غلط سمت میں نہیں سوچیں گے ۔اس کے علاوہ ہفتہ کے اختتام پہ چھٹی والے دن والد صاحب صرف ایک گھنٹہ نکال کر پورے ہفتے کیا پڑھایا گیا اور انکے بچے نے کیا سیکھا ، اگر اس بارے میں اپنے بچوں سے بازپرس کر لیا کریں تو یقین کریں وہ پیسے جو آپ اپنے بچوں کی فیس بھرنے میں صرف کر رہے ہیں وہ وصول ہو جائیں گے ۔

    ‏ چیک اینڈ بیلینس کا ہونا ہر معاملے میں بےحد ضروری ہے کیونکہ آجکل جس تیزی سے یہ رنگین فتنہ جسکا نام سوشل میڈیا ہے ہماری نئی نسل کو بےراہروی کا راستہ دیکھا رہا ہے تو ایسے ماحول میں اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرنا انکو صحیح غلط کی واضح تعلیم دینا ماں باپ کی ہی ذمہ دای ہے۔ یاد رکھیئے آپ سے دنیا کے بعد آخرت میں بھی اولاد کی تربیت سے متعلق سوال کیا جائے گا تو کیا خیال ہے اس معاشرے کے ساتھ اللّٰہ کو بھی جواب دینے کی تیاری کیوں نا آج سے ہی شروع کردیں ؟

    @HaayaSays

  • فیفتھ جنریشن وارفیئر میں سوشل میڈیا اور ہمارا کردار  تحریر: سیرت فاطمہ

    فیفتھ جنریشن وارفیئر میں سوشل میڈیا اور ہمارا کردار تحریر: سیرت فاطمہ

    فیفتھ جنریشن وار فئیر بنیادی طور پر وہ غیر اعلانیہ جنگ ہے جس میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ اپنے ہی مُلک اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہو جائیں۔
    بیانیے کی اِس جنگ میں غلط معلومات کا پھیلاؤ ، سائبر حملے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگینڈہ کا فروغ وغیرہ یہ تمام فیفتھ جنریشن وارفئیر کے ٹولز ہیں۔ یعنی اِن کے ذریعے یہ وار لڑی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم اِسی وارفیئر کا شکار ہیں
    جس کی واضع مثال ہے کہ اِسی سال جنوری میں اینڈیں کرونیکلز کے نام سے یورپی یونین ڈیس انفو لیب رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ کس طرح ایک نیٹورک گزشتہ 15 سال سے 116 ممالک میں پانچ سو فیک میڈیا آؤٹلیٹس اور درجنوں فیک این جی اوز کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور پاکستان کے متعلق غلط خبریں پھیلانے کے محاز پر سرگرم تھا۔
    اِس نیٹورک کا مقصد یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان مخالف بیانیہ کا پھیلاؤ اور بھارت نواز بیانیہ کا فروغ تھا۔
    چند دوسری مثالوں میں فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بلوچستان، وزیرستان اور گلگت بلتستان کے متعلق فیک پروپیگنڈہ پھیلانا، CPEC کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پھیلانا اور پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے خلاف فیک احتجاج کی ویڈیوز اور مختلف خبروں کی فیک ایڈیٹڈ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونا شامل ہیں۔
    خوش قسمتی سے پاکستان کے محافظ اور ہر دم وطنِ عزیز کی خدمت میں سرگرمِ عمل رہنے والی سیکیورٹی ایجنسیز کی قربانیوں اور بروقت حکمتِ عملی کے باعث اینڈین کرونیکلز نامی پروپیگنڈہ مشینری پاکستان کو کوئی بڑا نقصان نا پہنچا سکی۔ مگر اِس کے باوجود یہ اور اِس طرح کی دوسری پروپیگنڈہ مشینریز متحرک ہیں اور ہر حد تک پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
    اِس پروپگنڈہ مشینری کا مقصد لوگوں کے نظریات کو یکسر بدل کر اُن میں وطن و اداروں مخالف جذبات پیدا کر کے اُنھیں اُن کے ہی مُلک کے خلاف کر دینا، پاکستان میں ہونے والے ہر اچھے کام میں کیڑے نکال کر پیش کرنا، CPEC جیسے اہم ترین منصوبے کے خلاف لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور لوگوں کی محرومیوں کا فائدہ اٹھا کر قوم پرستی کے جذبات کو منفی ہوا دے کر وطنِ عزیز سے ناراضگی یا نفرت پیدا کرنا شامل ہیں۔
    یعنی اِن تمام مثالوں سے یہ تو واضع ہو گیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا دراصل فیفتھ جنریشن وارفیئر کا میدان جنگ ہے۔ اور یہ باقی تمام میدانوں سے خطرناک ہے کیونکہ باقاعدہ جنگ میں آپ کو دشمن کے ہتھیاروں، تربیت اور طاقت کا اندازہ ہوتا ہے مگر فیفتھ جنریشن وارفیئر سے جڑے سوشل میڈیا کے جنگی میدان پر آپ کو دوست دشمن کا علم نہیں ہوتا۔ جانے انجانے میں لوگ پروپیگینڈہ کا شکار یا حصہ بن کر ایک غلط نظریہ اپنا لیتے ہیں جانے انجانے میں دشمن کی باتوں کو سچ ماننے لگتے ہیں۔ تاہم اب ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پاکستان کی مثبت تصویر دیکھانے، فیک نیوز کی روک تھام کرنے، دشمن کی چالوں کو پلٹنے اور وطنِ عزیز کے حق میں بہترین تجاویز پیش کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اِس سے فائدہ اٹھا کر مثبت کام لینے کی ضرورت ہے۔
    اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر نیوز، پوسٹ اور معلومات بغیر کسی تحقیق کے آگے شیئر کر دی جاتی ہے جِس کی وجہ سے جھوٹ اور غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔ کچھ نادان لوگ دانستہ و غیر دانستہ طور پر اِن غلط فہمیوں کا شکار ہو کر اداروں اور مُلک پر بے جا تنقید کرنے لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی غلط فہمی کو اور طول ملتا ہے۔ اور نتیجتاً ایک من گھڑت غلط افواہ ایک خبر کا روپ دھار لیتی ہے۔
    بلکل اِسی طرح وہ لوگ یا بچے جو سوشل میڈیا نیا نیا استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو جو کچھ بھی اُن کی نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے اُس کو سچ مان لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھی نا چاہتے ہوئے دشمن کے پروپیگنڈہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
    افسوس سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا سے متعلق سخت قوانین کا فقدان ہے مگر یہ وطنِ عزیز ہم سب کا ہے ہم سب اِس کا حصہ ہیں۔ اِس کی حفاظت کی زمہ داری ہم سب پر ہے لہذا قوم، صوبے، فرقے اور سیاسی پسندیدگی سے بالا تر ہو کر ہمیں صرف پاکستان کا مفاد سوچتے ہوئے کسی متنازع خبر، معلومات یا تحریر کو آگے شیئر کرنے سے پہلے تصدیق لازمی کرنی چاہیے۔
    ہم سب کا فرض ہے کہ دشمن کے وطن مخالفت پروپیگنڈہ کے آگے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہو جائیں نا صرف خود کو پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مشینری کا حصّہ بننے سے روکیں بلکہ اپنے بچوں، آس پاس کے لوگوں اور جاننے والوں کو بھی اِس سے آگاہ کریں۔ پاکستان کے محافظ اور ہمارے لیے جان کی بازی لگا دینے والے ہمارے سیکیورٹی اداروں کی سپورٹ کریں اور پاکستانیت کے فروغ کے ذریعے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دیکھائیں۔
    اللّٰہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    @FatimaSPak

  • سوشل میڈیا اور زبان کا شر  تحریر: زبیر احمد

    سوشل میڈیا اور زبان کا شر تحریر: زبیر احمد

    بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جو زبان پہ آئے بغیر سوچے سمجھے اور اس کے نتائج کا احاطہ کئے کہہ دیتے ہیں۔ زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو قابو میں رکھنے کا محتاج ہے۔ قرآن و سنت نبویﷺ مطابق زبان کا معاملہ بڑا سنگین ہے اور اس سے نکلے ہوئے کلمات قابل مواخذہ ہیں اور ہر بات نامہ اعمال میں درج ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کیلئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔” (مریم  79)۔ اللہ کے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کی زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جارہی ہیں تو میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جبرائیل نے جواب دیا کہ حضورﷺ یہ آپ کی امت کے فتنہ پرور خطیب ہیں جو کہا کرتے تھے ان کا اپنا وہ عمل نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کے اندر فتنہ و فساد برپا کرنے والے لوگ جن کی زبان کی تلخیاں معاشروں میں تفریق پیدا کرتی ہیں کہ بھائی بھائی سے لڑ پڑتا ہے، میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کردیتے ہیں۔ ان کی زبان نفرت کی چنگاریاں اگلتی ہے اور ان کے لہجے لوگوں کے اندر تفریق، تشدد، اضطراب اور فرقہ بندیاں پیدا کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی زبان قیامت کے دن لوہے کی قینچیوں سے کاٹ دی جائے گی۔بعض اوقات آپ کوئی ایسا بڑا بول یا بات کردیتے ہیں جس سے فتنہ اور شر پھیلنا شروع ہوجاتا ہے جس سے لوگ آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ بعض اوقات آپ آرام سے زبان سے کوئی جملہ کہہ دیتے ہیں بعد میں اس کو واپس لینا بھی چاہیں تو اس وقت تک شر پھیل چکا ہوتا ہے اس لئے ہمارے بزرگوں نے یہ تاکید کی ہے کہ بولنے سے پہلے اچھی طرح بات کو تولو، غوروفکر کر لو کیونکہ کمان سے تیر نہ نکلا ہوتو آپ کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ جب چاہو اس کو پھینک دو لیکن جب تیر کمان سے نکل جاتا ہے پھر آپ کا اختیار ختم ہوجاتا ہے پھر وہ زخمی کرے کسی کی موت کا سبب بنے یا وہ تیر ضائع چلا جائے پھر آپ کا اختیار نہیں ہوتا۔ بولنے سے پہلے ضرور سوچیں کہ میری زبان سے نکلا ہوا کوئی جملہ میرے آس پاس کے لوگوں اور معاشرے پہ کیا اثر پیدا کرے گا۔ آج کل سوشل میڈیا پہ جو دل میں آیا وہ لکھ دیا اور لوگوں کے اندر وہ چیز وائرل کردی۔ جس طرح کی تصویر چاہا ڈال دی لیکن بعد میں وہ چیز آپ کے اختیار میں نہیں رہتی ہے۔ اب تو اتنی محدود سوچ والے اور نیچ فطرت کے لوگ بھی سوشل میڈیا پہ بیٹھے ہوئے ہیں جیسا کہ گندے مزاج کے لوگ واش روم کی اندر بیٹھ کر چھپ کے جو ان کے من میں غلاظت ہوتی وہ واش روم کی دیواروں پہ لکھ دیتے، پبلک واش رومز کے اندر یہ مناظر ہم میں سے اکثر نے دیکھے ہونگے کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ایسی چھوٹی سوچ کے لوگ وہاں بیٹھ کے لکھ دیا کرتے تھے۔اب ایسے ہی لوگوں کو سوشل میڈیا کا ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے اور یہاں وہ اپنے بند کمرے میں جو چاہیں لکھ کے سوشل میڈیا پہ ڈال دیں اور اس کے شرفساد اور غلاظت کے چھینٹے کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں ان کو اس سے غرض نہیں ہوتی۔ ایک ایک حرف جو زبان سے نکلتا ہے، قلم سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ اس کا قیامت کے دن حساب ہونا ہے۔ ایک ایک چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آج اگر سوشل میڈیا پہ کوئی بات کہہ دیتے ہیں یا کسی مجمع عام یا تنہائی میں کوئی بات کرتے ہیں اور پھر اس سے شر پھیلتا ہے تو وہ شر پھر سفر کرتا رہے گا اگر وہ جملے الفاظ کہنا چھوڑ بھی دیں اکاونٹ بند بھی کردیں تو وہ شر و فساد اور اس غلاظت کے چھینٹے جو اڑے تھے وہ آگے بڑھتے رہیں گے اس کا گناہ نامہ اعمال میں درج ہوتا رہے گا حتی کہ مر بھی گئے تو پھر بھی نامہ اعمال میں سب کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ اس لئے اپنے آپ کو محتاط کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے ایک ایک لمحے کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے وقت کو قیمتی جانیں۔ اپنی زبان کو کھولنے اور ہاتھ سے کچھ لکھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں کہ جو میں لفظ کہہ رہا ہوں کیا وہ مجھے کہنا چاہیے یا نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر کی بات کہے ورنہ چپ رہے اس کا چپ رہنا اس کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ کہنا چاہتا ہے تو خیر کی بات کہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کی زبان کے شر سے حفاظت فرمائے، زبان کو قابو میں رکھنے اور خیر و بھلائی کی بات ہی زبان سے نکالنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین

    (Twitter: ‎@KharnalZ)

  • کالم نام : الیکٹرانک ووٹنگ مشین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ای وی ایم تحریر : سجاد علی

    کالم نام : الیکٹرانک ووٹنگ مشین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ای وی ایم تحریر : سجاد علی

    الیکٹرانک ووٹنگ مشین ایک خودکار اور جدید ووٹنگ کا نظام ہے جو کہ بہت عرصے سے دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔ کچھ ممالک میں اس کا استعمال حال ہی میں شروع ہوا ہے اور کچھ ممالک اسے مستقبل میں استعمال میں لا سکتے ہیں۔

    جن ممالک میں یہ خود کار نظام رائج ہے ان ممالک میں بھارت، ایشیا، یورپ، عرب ممالک، مالدیپ، بیلجیئم، برازیل، فلپائن، مصر، نمیبیا، بھوٹان، یو اے ای، آسٹریلیا، ایسٹونیا، کینیڈا، فِن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئیر لینڈ، اٹلی، کازکستان، لتھوئینیا، ملائیشیا ،نیدرلینڈ، ناروے، رومانیہ، ساؤتھ کوریا، سپین، سوئٹزرلینڈ، تھائی لینڈ، یونائیٹڈ کنگ ڈم ،یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ، ونیزویلا وغیرہ شامل ہیں۔

    دنیا میں سب سے پہلے اٹھارہ سو اکاسی میں انتھونی برینک نے شکاگو یونائیٹڈ سٹیٹ کے جنرل الیکشن میں اس مشین کا استعمال کیا تھا۔

    آئیں اب ذرا دیکھتے ہیں کہ یہ مشین کام کیسے کرتی ہے۔

    اس مشین کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ پولنگ بوتھ میں رکھا جاتا ہے اور اسے بیلٹ یونٹ کہا جاتا ہے اور دوسرا حصہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس پڑا ہوتا ہے اور اسے کنٹرول یونٹ کہتے ہیں۔ اور یہ دونوں یونٹ ایک تار کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی تار یا مشین وغیرہ اس میں نہیں ہوتی۔

    اب اس کے خود کار طریقہ کو سمجھتے ہیں کہ یہ کام کیسے کرتی ہے۔

    جب ووٹر ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے حلقہ کے پولنگ اسٹیشن جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جا کر کنٹرول یونٹ پر اپنا انگوٹھا لگائے گا۔ اس سے تصدیق ہو جائے گی کہ اس شخص کا شناختی کارڈ نمبر یہ ہے، اور تمام معلومات، رہائش، شناختی علامت وغیرہ سب ڈیٹا کنٹرول یونٹ میں موجود ہے یعنی اس کا اندراج اس مشین میں ہے۔

    یعنی جو مشین جس پولنگ اسٹیشن کی ہو گی وہاں کے تمام ووٹرز کے ریکارڈ کا اندراج اس مشین میں کر دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک پولنگ اسٹیشن پر دو ہزار ووٹر ہے تو ان دو ہزار افراد کی مکمل معلومات اس مشین میں ڈال دی جائیں گی. جس میں ان کے شناختی کارڈز کی تمام تفصیلات، انگوٹھے کا نشان، چہرے کی شناخت سب اس یونٹ میں موجود ہو گا۔

    انگوٹھا لگانے سے اس شخص کے بارے میں تصدیق ہو جائے گی کہ وہ اس ووٹر لسٹ میں موجود ہے یا نہیں۔
    تصدیق ہونے کی صورت میں اس کی تمام تفصیلات، شناختی کارڈ وغیرہ چیک کرنے اور مکمل مطمئن ہونے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر اسے پولنگ بوتھ کے اندر بھیج دے گا۔

    پولنگ بوتھ، پولنگ اسٹیشن میں موجود وہ خفیہ جگہ ہوتی ہے جہاں ووٹر اپنا ووٹ ڈالتا ہے۔

    پولنگ بوتھ میں اس خود کار مشین کا دوسرا حصہ رکھا ہو گا جسے بیلٹ یونٹ کہتے ہیں۔ یہ ایک کی بورڈ سے مشابہت رکھنے والا یونٹ ہوتا ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے نام، انتخابی نشان وغیرہ کا اندراج ہوتا ہے۔

    پولنگ بوتھ میں داخل ہونے کے بعد پولنگ بوتھ میں موجود بیلٹ یونٹ کو پریزائیڈنگ آفیسر آن کرے گا اور ایک بیپ سنائی دے گی اس کے بعد جس کو بھی آپ نے ووٹ ڈالنا ہو اس کے انتخابی نشان پر آپ نے اپنا انگوٹھا لگا کر دبانا ہے اور پھر نیچے موجود اوکے بٹن کو دبا کر تصدیق کرنی ہے اور آپ کا ووٹ ڈل جائے گا۔ اور پھر ایک بیپ بجے گی جس کا مطلب کہ آپ کا عمل مکمل ہو گیا۔ پھر آپ پولنگ بوتھ سے باہر آجائیں گے اور اگلا ووٹر اندر چلا جائے گا۔

    ایک ووٹر کی ویریفیکیشن کے بعد مشین صرف ایک دفعہ ہی آن ہو گی، یعنی ایک شناختی کارڈ پر ایک ہی دفعہ آن ہو گی، اور ایک دفعہ انگوٹھا لگانے پر بھی ایک ہی دفعہ آن ہو گی، دوبارہ انگوٹھا لگانے پر مشین آن نہیں ہو گی۔ یعنی دوبارہ انگوٹھا لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یعنی وہ شخص ایک ہی دفعہ ووٹ ڈال سکتا ہے دوبارہ ووٹ نہیں ڈال سکے گا۔

    اس لیے بہت آرام، احتیاط کے ساتھ ووٹ ڈالیں تاکہ آپ کا ووٹ ضائع نہ ہو۔

    یہ تھا الیکٹرانک ووٹنگ مشین یعنی "ای وی ایم” کا طریقہ کار۔ اب اس کی ایک جدید طرز بھی ہے جسے "وی وی پی اے ٹی” یعنی "ووٹر ویریفائیڈ پیپر آڈٹ ٹریل” کہتے ہیں۔ اور یہ نظام پاکستان میں رائج کرنے کے لیے حکومتِ وقت کوشاں ہے۔
    اس کا طریقہ کار بلکل وہی ہے بس جب ووٹر اپنا ووٹ ڈالے گا تو ساتھ ہی اس کا ایک پرنٹ بھی نکل آئے گا۔ یعنی آپ کو بیلٹ پیپر بھی مل جائے گا اور اسے آپ وہاں موجود بیلٹ باکس میں ڈال دیں گے۔

    اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ریکارڈ دو جگہوں پر آجائے گا ایک الیکٹرانک شکل میں مشین میں موجود اور دوسرا بیلٹ باکس میں بیلٹ پیپرز کی صورت۔ جب بھی ضرورت ہو یہ ریکارڈ چیک کیے جا سکتے ہیں۔

    ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد صرف ایک بٹن دبانے پر سیکنڈوں میں متعلقہ حلقے کا نتیجہ آپ کے ہاتھ میں ہو گا۔

    اس میں درج ہو گا کہ کس کس امیدوار کو کتنے ووٹ حاصل ہوئے۔

    اس کے بعد بیلٹ باکس میں موجود بیلٹ پیپرز کی گنتی بھی کی جائے گی لیکن نتیجہ پہلے ہی مرتب کر کے بھجوایا جا چکا ہو گا اور گنتی مکمل ہونے کے بعد نتیجہ بلکل وہی نکلے گا جو الیکٹرانک مشین پہلے ہی دے چکی ہے۔ نتیجہ مختلف ہو ہی نہیں سکتا اور فرق آنے کی صورت میں یہ ظاہر ہے کہ بیلٹ باکس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے کیونکہ مشین کا رزلٹ تو پہلے ہی بھجوایا جا چکا ہے۔

    کام مکمل ہونے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر اس مشین کو سیل کر دے گا اور اسے لے جا کر آر او کے حوالے کر دے گا اور اسی طرح بیلٹ باکس بھی آر او کو دے دیے جائیں گے۔
    آر او ان ووٹوں کی تصدیق کر لے گا اور کبھی بھی کسی شکایت کے نتیجے میں آر او مشین اور بیلٹ باکس کا نتیجہ نکال کر دکھا دے گا کہ یہ مشین کا رزلٹ ہے اور یہ بیلٹ پیپرز آپ کے سامنے پڑے ہیں، دوبارہ گنتی کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں۔

    اس خود کار الیکٹرانک مشین سے الیکشن کے سارے عمل میں تیزی بھی آئے گی اور الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہو جائے گا۔ غیر ملکی پاکستانیوں کو بھی اس کی وجہ سے ووٹ کا حق ملے گا جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ اور جو سب سے بڑا فائدہ اس نظام کا ہو گا وہ یہ کہ اس میں دھاندلی کی گنجائش نِشتہ۔

    حکومتِ وقت کو سر توڑ کوشش کر کے اس نظام کو پاکستان میں رائج کرنا چاہیے تاکہ ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں ہم بھی پیچھے نہ رہیں۔

    ٹویٹر ہینڈل : @SajjadAli_1

  • سوشل میڈیا پر عدم برداشت  تحریر  :  سید محمد مدنی

    سوشل میڈیا پر عدم برداشت تحریر : سید محمد مدنی

    ہمارے سوشل میڈیا پر برداشت کی کمی ختم ہو چکی ہے ہم معمولی سی بات کو بھی گالی اور بدتمیزی سے جوڑتے ہیں کوئی بھی بات ہو ہم سب سے پہلے گالی کا سہارا لیتے ہیں اور گالی دے کر ہم یہ سمجھتے ہیں کے جیسے ہم سامنے والے سے جیت گئے ہیں لیکن حقیقتاً ہم اپنی تربیت کا مظاہرہ دکھا اور ہار رہے ہوتے ہیں اور پستی کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جب ہمارے پاس دلیل نہیں رہتی تو ہی ہم گالی کا سہارا لیتے ہیں جبکہ جو گالی دیتا ہے وہ اسی کو آ کر لگتی ہے

    آپ نے دیکھا ہوگا کے ہم آپس میں مذاق کرتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو گالی دے جاتے ہیں اور یہی اگر لڑائی ہو جائے تو بہت برا لگتا ہے آخر کیوں بھئی جب مذاق میں آپ گالی دیتے ہیں تو سنجیدگی یا غصے کے وقت آپ کو وہی گالی بُری کیوں لگتی ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کے اگر آپ بے ہودہ یا نا مناسب زبان استعمال کریں گے تو اسے کچھ لوگ باقاعدہ انجوائے کرتے ہیں ہنستے ہیں قہقہے لگاتے ہیں کیا آپ نے کبھی تھوڑی سی دیر کے لئے یہ سوچا ہے کے آپ کر کیا رہے ہیں ہم دوسروں کو تو تلقین کرتے ہیں کے گالی مت دو لیکن ہم خود وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے ہم معمولی بات چیت میں گالی بے ہودہ گفتگو کو سرِ فہرست رکھتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں یہ فخر کی بات نہیں بلکہ بے غیرتی کی بات ہے ایک چیز یہ بھی دیکھی گئی ہے کے اگر کوئی ماں بہن تک پہنچ کر گالی دیتا ہے تو جواب میں دوسرا بھی وہی کچھ کرتا ہے اور اگر کوئی جواباً گالی نا دے تو اسے بزدل سمجھا جاتا ہے جناب یہ بزدلی نہیں شرافت ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے بزدلی کہا جاتا ہے ایک تو گالی نا دیں اور نا ہی اس پر فخر محسوس کریں

    میں نے مشاہدہ کیا ہے اگر اپ اپنی بات سنجیدگی سے لکھتے ہیں کہتے ہیں تو لوگ اس پر اتنی بات نہیں کرتے جلدی ری ایکٹ نہیں کرتے جبکہ یہی بات کسی بھی گالی کے تناظر میں یا عجیب بے ڈھنگی زبان میں لکھ دیں تو مشہور زیادہ ہوتی ہے جیسے کے ایک گروہ نے ایک

    پ یہ ن د ی س ر ی

    (معذرت چاہوں گا الفاظ ملا کر نہیں لکھ سکتا)

    جملہ کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر آدمی وہی جملہ دھہرانے لگا میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کے کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بات میں عجیب فنگ ڈھنگ نا سلیقہ نا آداب کے عنصر کو شامل کیا جائے، ہو سکتا ہے میری یہ بات بری لگے بہت لوگوں کو لیکن میرے نزدیک یہ کوئی اچھی بات نہیں کسی محفل میں آپ بیٹھے ہوں اور کوئی عجیب سی بات کہہ ڈالیں یا پھر فلاں کی سری یا فلاں کا کچھ کہیں تو دیگر افراد آپ کو دل میں برا ہی جانیں گے اس لئے ہمیشہ اچھی گفتگو کریں اور بات وزن دار کریں کیونکہ زبان سے ادا ہؤا لفظ اور کمان سے نکلا ہؤا تیر واپس ہرگز نہیں آتے

    آئیے اپنے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ مثالیں قائم کریں اور گندی اور بے ہودہ گفتگو سے اجتناب کریں تاکہ ہمارا نام اچھے الفاظ میں لیا جائے اور لوگ ہمیں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں

    @M1Pak

  • پاکستانی  سرکاری ملازم  کی میم 84 لاکھ میں نیلام

    پاکستانی سرکاری ملازم کی میم 84 لاکھ میں نیلام

    "فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثر” انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والے ان کئی مزاحیہ میمز میں سے ایک ہے جو پاکستانیوں نے بنائے، لیکن یہ پہلی میم ہے جو آن لائن 84 لاکھ روپوں میں نیلام ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : 2015 میں گوجرانوالہ کے ایک سرکاری ملازم محمد آصف رضا نے فیس بک پر ایک تصویر شئیر کر کے اپنے دوست کے ساتھ چھوٹا سا مذاق کیا، جس میں انہوں نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کا دوست مدثر اب خود غرض ہوگیا ہے اور وہ اس سے اپنی دوستی توڑ رہے ہیں اور کسی اورکو اپنا بیسٹ فرینڈ بنا رہے ہیں۔

    غیر ملکی صحافیوں کی پاکستان آنے کی پابندی ،”سب سے بڑی جمہوریت“ بھارت کا نام نہاد دعوٰی ایک بار پھر…

    اس میم کو سوشل میڈیا پر فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثرکا نام دیا گیااس میم کے مشہور ہونے کے بعد جہاں مدثر سے ان کی دوستی بحال ہوئی وہیں انٹرنیٹ پر انھیں عالمی شہرت حاصل ہوئی۔

    یہ معمولی سا مذاق اتنا وائرل ہوا کہ اس پر 47 ہزار لوگوں نے ری ایکٹ کیا، 56 ہزار لوگوں نے اسے شیئر کیا اور فیس بک پر 27 ہزار لوگوں نے اس پوسٹ پر تبصرے کئے-

    تاہم اب 6 سال بعد آصف نے اسے فاؤنڈیشن نامی این ایف ٹی پلیٹ فارم پر نیلامی کے لیے پیش کیا، جسے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی کمپنی میکینزم کیپیٹل کے شریک بانی اینڈریو کینگ نے 20 ایتھر میں خریدا ہےایتھر کی موجودہ ویلیو کے تحت پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 84 لاکھ روپے اور52 ہزار امریکی ڈالربنتی ہے۔

    یا د رہے کہ این ایف ٹی نامی نان فنجیبل ٹوکن ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی مزاحیہ میم، تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے-

    غیر ملکی سیاح بھی پاکستان اور پاک فوج کے مداح نکلے