Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ٹوئٹر کا ایسوسی ایٹڈ پریس  اور رائٹرز کے ساتھ اشتراک

    ٹوئٹر کا ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کے ساتھ اشتراک

    سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے پلیٹ فارم پر قابل اعتبار خبروں اور تفصیلات تک صارفین کی رسائی یقینی بنانے کے لیے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) اور رائٹرز کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس نئے معاہدے کے تحت نہ صرف ٹوئٹرکو خبروں کے تناظر اور ٹرینڈز کو درست رکھنے میں مدد مل سکے گی بلکہ مخصوص سرچ رزلٹس کی درجہ بندی کرنے میں بھی مدد حاصل ہو گی۔
    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1422288755197726731?s=20
    ٹوئٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹائم لائن کی ایکسپلور ٹیب اہم ایونٹس جیسے ہیلتھ ایمرجنسیز، انتخابات اور عالمی وبا کو نمایاں کرنے پر بھی کام کیا جائے گا۔ اور گمراہ کن مواد کے لیبل میں مستند ذرائع سے تفصیلات کا بھی اضافہ کیا جائے گا۔

    ساتھ ہی ٹوئٹر نے وضاحت کی کہ ٹوئٹرکی ٹرسٹ اور سیفٹی ٹیم ایک علیحدہ اور خودمختار ادارہ ہے، جو اس بات کا تعین کرتی ہے کہ صارفین کی ٹوئٹس کب ٹوئٹر کی ہدایات کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور سزا دینے والی کارروائی، جیسے ٹوئٹ ہٹانے یا مکمل پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔

    ٹوئٹر نے صارفین کو یقین دہانی کراتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ نہ تو اے پی اور نہ ہی رائٹرز ایسے فیصلوں کے نفاذ کے فیصلوں میں کوئی کردار ادا کریں گے۔

    ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے اسپیڈ اور پیمانے کو بڑھانے میں بھی مدد حاصل ہوگی، جس سے وہ اضافی معلومات کو ٹوئٹس اور اپنے پلیٹ فارم پر کہیں اور شامل کر سکیں گے۔

    اس کا مطلب ہے کہ ایسے وقت میں جب کوئی اہم خبر بریک ہو رہی ہو گی تو حقائق جاننے کے لیے ٹویٹر کی اپنی ٹیم تیزی سے رائٹرز اور اے پی جیسے قابل اعتماد ذرائع سے رجوع کر سکے گی ایسے گمراہ کن ٹویٹس کے بعد اصل خبر کا انتطار کرنے سے پہلے ٹوئٹر خود ہی غلط معلومات کو وائرل ہونے سے روکنے میں بھی مفید ثابت ہوسکے گا-

    واضح رہے کہ اے پی اور رائٹرز اس سے پہلے فیکٹ چیک پراجیکٹ کے تحت فیس بک کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں-

    علاوہ ازیں ٹوئٹر نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس صارفین کے لیے ایپلیکیشن تک رسائی مزید آسان کردی ہے ٹوئٹر سپورٹ کی جانب سے صارفین کو مطلع کیا گیا ہے کہ اب ٹوئٹر اکاؤنٹ لاگ اِن کرنے کے لیے ایپل اور گوگل اکاؤنٹ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ ای میل ایڈریس ایک جیسا ہی ہوگا۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1422229834089082882?s=20
    یہ فیچر ٹوئٹر بیٹا ورژن صارفین کے لیے گزشتہ ماہ متعارف کروایا گیا تھا تاہم اب کمپنی کی جانب سے اسے تمام صارفین کے لیے پیش کردیا گیا ہے حالیہ اپ ڈیٹ کے تحت صارف کو پہلے سے موجودہ تفصیلات کے ذریعے نیا اکاؤنٹ یا لاگ اِن کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    صارف کو پہلے کی طرح اپنی بنیادی معلومات (نام اور ای میل ایڈریس وغیرہ) درج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

  • فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت: "کے الیکٹرک” مہنگی ترین بجلی پیدا کررہی ہے      چیئرمین نیپرا

    فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت: "کے الیکٹرک” مہنگی ترین بجلی پیدا کررہی ہے چیئرمین نیپرا

    چیئرمین نیپراکا کہنا ہےکہ”کے الیکٹرک” مہنگی ترین بجلی پیدا کررہی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نیپرا میں گزشتہ روز کے الیکٹر ک کی ماہانہ اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹس کی مد میں سماعت ہوئی ،کے الیکٹرک نے اوسط 55 پیسے فی ماہ اصافہ کی درخواست کی تھی –

    سماعت میں چئیرمین نیپرا نے کے الیکٹرک کے حکام سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ جون میں بجلی کی پیداوری لاگت میں اضافہ کیوں ہوا ؟ اپریل سے جون 2021 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بجلی کیوں پیدا کی گئی، ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے سے قبل نیپرا سے اجازت کیوں نہیں لی گئ ؟-

    پاکستان ٹیم میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت ہے شعیب اختر

    جس پر کے الیکٹرک حکام نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ فرنس آئل اور گیس کی کمی کی وجہ سے ڈیزل سے بجلی پیدا کی گئی ہے، پہلے دستیاب ذرائع کو استعمال کیا پھر ڈیزل سے بجلی پیدا کی ہے۔

    نیپرا اتھارٹی نے کہا کہ گیس پریشر کم تھا یا نہیں ،تفصیلی رپورٹ فراہم کریں، گیس کی کمی کے حوالے سے ایس ایس جی سی کو جو شکایات کے الیکٹرک نے بھیجی ہیں اس کی تفصیل فراہم کریں، گیس سپلائی معاہدہ نہ ہونے سے کب تک کراچی والے مہنگی بجلی خریدیں گے۔

    پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.22 فیصد ہو گئی

    کے الیکٹرک حکام نے جواب میں کہا کہ کوئی بھی کمپنی گیس معاہدہ کرنے کو تیار ہے ، پی ایل ایل کے ساتھ 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس معاہدے پر جلد دستخظ کرلیں گے-

    چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ڈیزل کو بیک اپ فیول کے طور پر استعمال کرنے کی نیپرا سے اجازت کیوں نہیں لی گئی ، مشروط اجازت دی تھی ،کے الیکٹرک نے بجلی باہر سے کیوں لی جس پر کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ ہم پہلے سی پی پی اے سے سستی بجلی لیتے ہیں-

    وزیر اعظم ہاؤس کے کمرشل استعمال پر ن لیگ او پی پی رہنماؤں کا رد عمل

    نیپرا حکام نے بتایا جون 2021 میں اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی پر ایک ارب 12 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑا جس پر چیئرمین نیپرا نے کہا کہ میں بھی سمجھتا ہوں کہ کے الیکٹرک مہنگی ترین بجلی پیدا کررہی ہے –

    کے الیکٹر ک کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے عوامی سماعت مکمل ہو گئی تھی اتھارٹی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد اپنا فیصلہ جاری کرے گی-

    نیپرا میں پیسکو اور میپکو کے ڈسٹری بیوشن اور اور سپلائی کے ملٹی ائیر ٹیرٖ ف کے حوالےسے گزشتہ روز بھی سماعت ہوئی، پیسکو کی درخواست کی سماعت 5 اگست تک ملتوی کر دی گئی جبکہ میپکو کی درخواست کی سماعت مکمل ہو گئی ، نیپرا اتھارٹی درخواست کی سماعت پر فیصلہ بعد میں سنایا جائیگا ۔

  • بے لگام سوشل میڈیا  تحریر: محمد آصف شفیق

    بے لگام سوشل میڈیا تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے نہ کوئی ضابطہ اخلاق ہے نہ کوئی اخلاقیات کا تصور الا ماشااللہ کوئی چند افراد آپ کو مل جائیں ، جہاں تک سوشل میڈیا ٹیموں کا تعلق ہے اس میں بھی باجماعت ٹرولنگ کرنا بے ہودہ قسم کے ہیش ٹیگز چلا کر با جماعت لوگوں کو برے برے القابات سے نوازنا اور پھر اس پر اترانا ،
    اگر آپ صرف ٹویٹر کو ہی لے لیں میں نے اگست 2009 میں ٹویٹر پر اکاونٹ بنایا ، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسی تحریر یا ٹویٹ نہ کیا جائے جس سے کسی کا دل دکھے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنی بات تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے گالی کا جواب بھی بھلائی سے دیا ، الحمد اللہ سوشل میڈیا ٹیمیوں کے کئی پرو ایکٹیو افراد ایڈ ہیں ایک دوسرے کو فالو بھی کیا ہوا ہے اور اکثر اوقات کوشش ہوتی ہے اگر کوئی اچھا ہیش ٹیگ ہو تو اس میں اپنا حصہ ڈال دوں
    دوسری سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی کی بھی اپنی سوشل میڈیا ٹیم ہے اور میں الحمد للہ کافی عرصہ سے اس سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہوں محترم شمس الدین امجد بھائی اس ٹیم کو لیڈ کرتے ہیں ، ہر فرد کیلئے رہنمائی اور تربیت کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے گاہے بگاہے اون لائن بھی اور منصورہ لاہور میں بھی تربیتی نشستیں رکھی جاتی ہیں آجکل بھی تین روزہ مرکزی میڈیا ورکشاپ جاری تھی جو کہ آج ہی اختتام پزیر ہوئی جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے شرکاء سے خطاب کیا
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ہوں یا قاضی حسین احمد ؒ یا سید منور حسن ؒ سب نے اپنے سوشل میڈیا ورکرز کو ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے اور اس بات کی گواہی آپ کے کٹر دشمن بھی دیں گے کہ جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم ایک منظم اور باوقار ٹویپرز پر مشتمل ٹیم ہے جو ہمیشہ اخلاقیات کی پابندی کرتی ہے اپنے مخالفین کو بھی جواب اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دیتی ہے
    آج کچھ بہترین افراد کے ٹویٹر سے گالیوں کے ٹویٹ دیکھ کر بہت افسوس ہوا ہمیں ، فالورز زیادہ ہو یا کم اکاونٹ ویری فائی ہو یا نہ ہو مگر ہم اپنا نامہ اعمال اپنے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں بحثیت مسلمان ہمیں علم ہونا چاہئے کہ گالیا ں نکالنا کیسا ہے ، تہمت لگانا کیسا ہے ، الزامات لگانا کیسا ہے ، چھوٹ بولنا کیسا ہے ، کچھ خدا کا خوف ہی نہیں ہے موت یاد ہی نہیں مرنا نہیں ہے کیا ؟نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 47
    رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں مندرجہ ذیل چار عادتیں ہوگی وہ پکا منافق ہوگا جب گفتگو کرے تو جھوٹ کہے جب وعدہ کرے تو پیمان شکنی کرے جب کوئی معاہدہ کرے تو معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غداری کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکنے لگے اور جب کسی میں مندرجہ بالا خصلتوں میں سے کوئی بھی خصلت ہوگی تو اس میں ایک نشانی منافقت کی ہے تاوقتیکہ وہ اس عادت کو ترک نہ کر دے۔
    صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 439
    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آدمی اپنے ماں باپ پر کس طرح لعنت کرسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے کے باپ کو گالی دے تو وہ اس کے ماں اور باپ کو گالی دے گا۔صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 933
    عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
    صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 264
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوة و غیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہو گئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2078
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے وہ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچائیں اورہمیں اپنے دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور اپنے دین پر چلنے والا بنائیں ۔ آمین یا رب العالمین

    جدہ –سعودیہ
    @mmasief

  • سوشل میڈیا اور ہم تحریر:  آمنہ فاطمہ

    سوشل میڈیا اور ہم تحریر: آمنہ فاطمہ

    میڈیا نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے سوشل میڈیا ایسی انسانی ایجاد ہے جس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اسکے فوائد سے ہر انسان مستفید ہو رہا ہے
    سوشل میڈیا کی بدولت میلوں کا سفر انسان کچھ سیکنڈز میں طے کر لیتا ہے جہاں لوگ بیرون ملک مقیم اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے سالوں انتظار کرتے تھے آج وہ واٹس ایپ,سکائپ,فیس بک, سنیپ چیٹ اور ٹیلی گرام جیسی اپلیکیشنز کو استعمال کرتے ہوئے منٹس میں آنلائن ملاقات کر لیتے ہیں آپ گھر بیٹھے دنیا سے رابطے میں رہ رہے ہیں جہاں خبر نامے کا انتظار کیا جاتا تھا آج خبریں جاننے کے لیے کسی نیوز چینل کو لگانے کی تردد نہیں کرنی پڑتی آپ کہیں بھی کسی جگہ پر بھی موجود ہوتے ہوئے سوشل میڈیا سے گلوبل نیوز حاصل کر سکتے ہیں
    اب معلومات حاصل کرنے کے لیے دور دراز کا سفر نہیں کرنا پڑتا او نہ ہی کتابیں چھاننے کی ضرورت پڑتی ہے محض ایک لفظ گوگل پر لکھنے سے کیا کچھ کھل کر سامنے آ جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے اسطرح کم وقت میں زیادہ کام کیا جا سکتا ہے طلباء کو کسی بھی طرح کی انفارمیشن حاصل کرنے کے لیے گھر بیٹھے فری لیکچرز یوٹیوب اور دوسری اپلیکیشنز پر میسر ہوتے ہیں حتیٰ کہ اب تو روزگار بھی آنلائن موجود ہیں نوکری کے حصول کے لیے جگہ جگہ دھکے نہیں کھانے پڑتے غرض کہ زندگی کہ ہر معاملے میں سوشل میڈیا کا کردار کہیں نہ کہیں موجود ہے
    اللّہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور جیسی صفات سے نوازہ ہے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے انسان نے ان صفات کا بہتر استعمال کرتے ہوئے آج چاند پر پہنچنے کی منازل بھی طے کر لیں دنیا میں ایجادات کی بھرمار کر دی ہے
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان کو سوشل میڈیا پر آزادی رائے کا اختیار حاصل ہے مگر اس کا غلط استعمال کب کسی کے لیے دل آزاری کا سبب بن جائے کوئی نہیں جانتا
    جہاں سوشل میڈیا نے انسان کے لئے ترقی کی منازل طے کرنا آسان بنا دیا ہے وہیں انسان کی منفی سوچ اور غلط استعمال کی وجہ سے معاشرہ تباہی کی طرف جا رہا ہے
    کچہری میں ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں دوڑتا ہوا باپ اور بھائی اپنی عزت بچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی دینے کی ویسے انھیں آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے کیونکہ کورٹ میرج کر کے انکی بیٹی نے انہیں دنیا والوں کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے جہاں سوشل میڈیا کا مثبت استعمال ہے وہیں اسکے غیر ضروری استعمال سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں ہمارے بچے اور نوجوان گھنٹوں آنلائن گیمز کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں ساری ساری رات سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال کرنا اور پھر ایسی موویز اور ویڈیوز دیکھنا جو کسی صورت انکو ایک اچھا انسان بننے میں مدد نہیں کر سکتیں, ماں باپ کو بچوں کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی بڑھانے کی ضرورت ہے اورانٹر نیٹ کے صحیح وغلط استعمال کےمتعلق آگاہی دینا ضروری ہے
    ہمیں اس بڑھتی ہوئی برائی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کا سدباب کرنا ہو گا تا کہ آئندہ نسلوں کو برائیوں سے پاک ایک خالص معاشرہ مہیا کیا جا سکے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اور ہمارا معاشرہ سوشل میڈیا کے منفی بہاؤ کی بجائے اس کے مثبت اثرات سے بہرہ ور ہوں آج کل کی جدید ایجادات کے مضر پہلوؤں سے خود بھی بچیں اور اپنی نسل کو بھی بچائیں

  • آئی  ڈی سی کی2021 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری، اسمارٹ فونز کی فروخت میں 13.2 فیصد اضافہ

    آئی ڈی سی کی2021 کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری، اسمارٹ فونز کی فروخت میں 13.2 فیصد اضافہ

    اسمارٹ فون کی تجارت سے متعلق انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) نے 2021 کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ جاری کر دی سام سنگ نے ہمیشہ کی طرح دوسرے اسمارٹ فونز کو مات دے دی اور اپنی جگہ برقرار رکھی-

    باغی ٹی وی : بلوم برگ کے مطابق اپریل سے جون 2021 کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت میں گزشتہ سال سے 13.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں سام سنگ نے اپنی روایت برقرار رکھی اور اپریل سے جون 2021 کے دوران 5 کروڑ 90 لاکھ فونز فروخت کر کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے موبائل میں پہلا نمبر حاصل کیا۔

    رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران چینی کمپنی شیاؤمی کے فونز کی فروخت گزشتہ سال کے کے مقابلے میں 86.6 فیصد زیادہ رہی شیاؤمی نے 5 کروڑ 31 لاکھ سے زیادہ فونز فروخت کئے اور دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز اپنے نام کیا جبکہ ایپل 4 کروڑ 42 کروڑ آئی فونزفروخت کرکے تیسرے نمبر پر رہی۔

    جبکہ آئی ڈی سی کی فہرست میں چوتھی اور 5 ویں پوزیشن بھی چینی کمپنیوں اوپو اور ویوو نے حاصل کر لیں ہیں۔

    ایک اور ابھرتا ہوا ستارہ ائیل می ہے ، جس نے سال بہ سال تیزی سےترقی کی سب سے اوپر 10 میں 149فیصد اور اس کے حجم کے تین چوتھائی سے زیادہ۔

    رپورٹ کے مطابق چین واحد خطہ تھا جہاں اپریل سے جون 2021 کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت کی شرح منفی رہی، اس کی وجہ اس عرصے میں نئے فلیگ شپ فونز متعارف نہ ہونا ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں برس کی پہلی سہ ماہی رپورٹ میں بھی سمارٹ فونز کی دنیا میں سام سنگ نے ایپل کو پیچھے چھوڑ دیا تھا رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں سام سنگ کی فروخت، عالمی سطح پر کی جانے والی موبائل فونز کی مجموعی فروخت کا پانچواں حصہ قرار پائی تھی۔

    سام سنگ نے پہلی سہ ماہی میں 7 کروڑ 65 لاکھ اسمارٹ فونز فروخت کیے تھے اور مارکیٹ میں اس کے حصص میں 22 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ ایپل نے جنوری سے مارچ کے دوران 5 کروڑ 24 لاکھ آئی فونز فروخت کیے، جس کے بعد کمپنی مارکیٹ میں 15 فیصد حصص کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگئی تھی۔

  • کوڈ 19 اور سائبرسیکیوریٹی پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تحریر: شہزاد احمد

    کوڈ 19 اور سائبرسیکیوریٹی پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تحریر: شہزاد احمد

    جب کووڈ- 2019،19میں سر اٹھانے لگا اور اس کے بعد 2020 میں تقریبا تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے۔ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہوگئیں، کمپنیوں کو اپنی پیداوار بند کرنا پڑا اور اسکول بند کردیئے گئے۔
    لیکن اس وسطی وقت میں سائبر سیکیورٹی حملے وہ واحد حقیقت تھی جو پوری دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے بڑ تھی گئ۔
    اس مہلک وبا کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوگئے، اور ان کی سرگرمیاں صرف انٹرنیٹ اور کمپیوٹر تک ہی محدود ہوگئ۔ اس سے سائبر جرائم پیشہ افراد کو رازداری کی خلاف ورزی کرنے اور اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنے کا موقع مل گیا ۔ قرنطین کے دوران، صارفین اپنے موبائل فونز اور کمپیوٹرز میں ایپس ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں اور ایپ کو اپنے موبائل ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ چونکہ آج معلوماتی جنگ کا دور ہے، لہذا کوئی بھی ادارہ یا ریاست غیر اعلانیہ انہیں دیئے گئے ڈیٹا سے فائدہ اٹھاسکتی ہے، یہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، اور لوگوں کے ڈیٹا کو ذاتی اور قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچانے کے لئے غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    حالیہ دنوں میں گوگل نے لاکھوں پشنگ اور میلویئر گھوٹالوں سے متعلق اطلاع دی ہے۔
    چونکہ پاکستان ایک ترقی پذیر
    ملک ہے اور کوویڈ 19 کی غیر یقینی صورتحال میں، سائبرسیکیوریٹی کے خطرات ایک مکمل ڈراؤنہ خواب ہے۔
    تمام تعلیم، کاروبار اور معیشتیں تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجیز پر منحصر ہوتی جارہی ہیں۔ روایتی معیشتوں کے کام کرنے کے طریقے مکمل طور پر تبدیل ہو رہے ہیں۔
    عالمی نیٹ ورکنگ پر کوڈ 19 کے اثرات کی اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں ٹیلی مواصلات کی ایپلی کیشنز (جیسے زوم، اسکائپ، وغیرہ) میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    امریکہ میں گیمنگ میں 400٪ اضافہ ہوا ہے۔
    زوم سے ڈیٹا ٹریفک میں 828٪ اضافہ اور تھائی لینڈ میں اسکائپ ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشنز میں 215٪ اضافے۔
    سیٹیلائٹ آپریٹرز کے مشاہدہ کے مطابق، پورے یورپ اور امریکہ میں خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں ڈیٹا ٹریفک میں 15 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    یہ "ورک فرام ہوم” تنظیموں، طلباء، اور اساتذہ کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا جو جدید مواصلاتی اوزار سے واقف نہیں تھے۔ غیرخفیہ کردہ مواصلات کی وجہ سے بہت سے زوم اکاؤنٹس اس وبائی مرض کے دوران ہیک ہو گئے
    یہ بھی اطلاعات بھی ملتی رہی کہ تعلیمی زوم سیشن کے دوران مشتبہ افراد سیشن میں شامل ہوجاتے ہیں اور بہت سی رکاوٹوں کا باعث بنتے ہیں۔
    ملازمین پر سوشل انجینئرنگ کے حملوں کا زیادہ امکان تھا اور حملے ہوۓ بھی کیونکہ حملہ آور ملازمین کے بڑھتے ہوئے کام کا بوجھ، انکے نیۓ کام کرنے کے طریقوں سے نا شناسی کا غلط فایدہ اٹھا تے تھے۔
    پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں موبائل ٹریفک میں تقریبا 22 فیصد اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں محدود فکسڈ نیٹ ورک ہیں۔
    لوگ روایتی سے او ٹی ٹی سروس (اوور دی ٹاپ میڈیا) میں منتقل ہورہے ہیں۔
    پاکستان میں جب تمام طلباء اور اساتذہ کی نظریں ایچ ای سی (ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان) کی طرف تھیں، کچھ آن لائن کلاسوں کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کچھ نے مشورہ دیا کہ پورے ملک میں انٹرنیٹ کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور پھر آن لائن کلاسیں دوبارہ شروع کریں، اور اسی اثنا میں، ایچ ای سی کی سرکاری ویب سائٹ ہیک ہوگئی-
    پاکستان میں جب ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا تو لوگ بے روزگار ہو گئے تھے اور انہیں پیسوں کی ضرورت تھی ان میں سے کچھ نے آن لائن کام کا رخ کیا۔
    صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسکیمرز نے اپبی منصوبہ بندی کو بڑھاوا دیا، انہوں پاکستانی موبائل نمبروں کا ایک ڈیٹا بیس تیار کیا اور لوگوں پر ایک سوشل انجینئرنگ تکنیک کا استعمال کیا۔ اس وقت حکومت پاکستان نے روزانہ مزدوری کرنے والوں میں 1200 روپے تقسیم کرنے کے لئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا۔
    اسکیمرز نے اسی پلیٹ فارم کا استعمال کیا اور پاکستان کے اندر لاکھوں دھوکے کے پیغامات بھیجے کہ ”آپ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے لیے اہل ہیں اور اپنے پیسے وصول کرنے کے لیے ہم سے رابطہ کرے۔ ان سے ذاتی معلومات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور موبائل لوڈ کی شکل میں پیسے بھی مانگے جا رہے ہیں۔ ہزاروں افراد اس دھوکے کا شکار ہوچکے ہیں
    اسکیمرز نے یہی تکنیک (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام)، جیتو پاکستان (پاکستان میں مشہور ٹی وی شو) کا رکن بنک یا ایزی پیسہ کے ممبر ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے بھی استعمال کیا،
    یہاں تک کہ ایف آئی اے، پی ٹی اے، اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے ملازمین کو بھی اسی طرح کے دھوکے کے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔
    لیکن یہ کھیل اب بھی جاری ہے اور رک نہیں رہا، ہر روز ہزاروں افراد کو یہ دھوکے کے پیغامات موصول ہوتے ہیں اور ان میں سے سیکڑوں افراد اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    نہ صرف کوڈ 19 کی وجہ سے بلکہ ہمارے خطے اور پڑوسی مماللک کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے اب اور مستقبل میں دنیا کی نگاہیں پاکستان کی طرف ہیں۔
    جیسے ہی دنیا ٹیکنالوجی اور سائبرسیکیوریٹی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے پاکستان میں سائبرسیکیوریٹی آگہی کا فقدان ہے
    حکومت پاکستان کو سائبر کرائمینلز کے خلاف مناسب کاروائیاں کرنے اور مقامی زبانوں میں سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر سائبرسیکیوریٹی بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
    سائبر خطرات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے پاس ضروری قانون سازی نہیں ہے۔ پاکستان نے 2016 میں ایک سائبر کرائم قانون کی منظوری دی، جسے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کا عنوان دیا گیا تھا، تاہم سائبر سیکیورٹی کے بہت سے اہم شعبوں پر توجہ نہیں دی گئی ۔ پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے مزید سخت قوانین کی ضرورت ہے جن میں کاروباری اداروں اور تنظیموں کو اپنے کمپیوٹر سسٹم اور حملوں کے خلاف ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہو۔ سرکاری اداروں، توانائی کی صنعت کے ساتھ ساتھ صحت کی دیکھ بھال اور مالی تنظیموں کو بھی قوانین کے تحت اپنے کمپیوٹر سسٹم اور معلومات کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہو۔
    by Shehzad Ahmad
    Follow me on Twitter @Imshehzadahmad

  • ہم ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔  تحریر : صفدر حسین

    ہم ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ تحریر : صفدر حسین

    ہماری ضرورت کے مطابق ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر ایک تیز رفتار کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ میں مشکل ہی سے روزمرہ کی کسی بھی سرگرمی کے بارے میں سوچ سکتا ہوں جس کے لئے ہم ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرتے ہوں۔ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک ہمیشہ کا پہلو بن گیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی سے پاک فضا میں سانس لینا ناممکن ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ اس کام میں ہماری مدد کرتا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت سارے کاموں میں ہماری دلچسپیوں کو فروغ دیتا ہے جو اس کے بغیر بورنگ ثابت ہوسکتا ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کے بارے میں سوچتے ہیں تو پہلی چیز جو ہمارے ذہنوں میں آتی ہے وہ ہے "انٹرٹینمںٹ”۔ ہمیں اسمارٹ فونز ، گیمنگ سسٹمز ، آن لائن ویڈیوز ، ٹی وی اور ان گنت مزید ٹیکنالوجیوں سے اپنی نام نہاد ککس (kicks) مل جاتی ہیں۔ "تعلیم” وہ پہلو ہے جو ہمیں بڑی تعداد میں ٹیکنالوجیز سے ملتا ہے۔ اگرچہ یہ اس فہرست میں سرفہرست ہونا چاہئے لیکن افسوس یہ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ رسائی ہے انٹرنیٹ کنیکشن والا کمپیوٹر ہی آپ کو برمودا کے مثلث کی جانب لے جاسکتا ہے جہاں آپ معلومات کے بہتے ہوئے پانی میں گم ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے لحاظ سے ٹیکنالوجی کی ایک نہ ختم ہونے والی اہمیت ہے۔
    ہم اپنا وقت بچانے ہجوم سے بچنے اور بلا جھجک قیمتوں کا موازنہ کرنے کے لیے (ONLINE) آن لائن خریداری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کبھی کبھی خود کو دکانوں پر جانے کی زحمت دینا پسند نہیں کرتے اور میں ذاتی طور پر اس کو درست مانتا ہوں۔ بعض اوقات یہ خریدار کو بہت بڑے نقصان پہنچاتا ہے۔ ذہن میں رکھیے گا کہ یہ ہی وہ ایک فائدہ نہیں جو ٹیکنالوجی ہمیں دے رہی یے ۔
    "ایک تصویر ایک ہزار الفاظ کے قابل ہے” ، ایک ایسا جملہ جو ہمیں ہر دو دن بعد سننے کو ملتا ہے۔ اور یہ ایسا ہی ہے… ہمارے پیاروں کے ساتھ اپنے لمحات کو گرفت میں لینے کے لئے ہمارے پاس کیمرے ، موبائل فون اور لاتعداد چیزیں ہیں یہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنی زندگی کے ہر سیکنڈ پر تصویروں پر کلک کرنا ضروری بناتے ہیں تو وہی بات پاگل پن تک پہنچ جاتی ہے۔ آج کل ہم "جینے ” کو فراموش کر چکے ہیں اور اسے "کیپچرنگ (CAPTURING)” کے ساتھ تبدیل کر چکے ہیں۔ میں نے اپنے آپ کو کچھ دن پہلے اس میں محسوس کیا اپنے بستر پر بیٹھ کر مطالعہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا بدقسمتی سے میں نے مطالعہ نہیں کیا لیکن میری فہرست میں موجود ہر فرد کو بتایا کہ میں پڑھ رہا ہوں۔ اس نے مجھے اپنے طور پر سوچنے پر مجبور کیا اور مجھے لکھنے پر مجبور کیا۔ ایک اچھی تصویر کیلئے ہم ہزاروں تصاویر کھینچتے ہیں اور ڈیلیٹ کرتے ہیں اور تصاویر دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
    ہمارے طلباء کے بہت ہی جدید کلاس روم ٹیکنالوجی کے نئے آپشن متعارف کرانے کی وجہ سے آگے بڑھے ہیں۔ ٹیکنالوجی ہماری سیکھنے کے عمل کے دوران متحرک رہنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ اس سے اساتذہ اور والدین کے مابین بہتر رابطے کو فروغ ملتا ہے جو طلبا کے لئے ایک بری خبر ہے جو اپنے والدین کو اپنے رپورٹ کارڈ نہیں دکھاتے ہیں جو کہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ٹیکنالوجی صارف دوست بھی ثابت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ چلنا بہترین آپشن ہے۔ یہ ہمیں ہماری مستقبل کی دنیا کیلئے تیار کرتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں کمانڈ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بہت فائدہ مند ہے لیکن دوسری طرف اس کے کچھ نقصانات ہیں۔ طلباء جب بھی وہ پڑھتے ہیں تو ان کا موبائل فون ان کے کنارے پڑے رہنا بھی پریشان کن ہوسکتا ہے۔ مطالعہ سے 20 منٹ کا وقفہ اور ٹیکنالوجی سے منسلک رہنا بالکل ٹھیک لگتا ہے لیکن جب یہ وقفہ لافانی حد تک بڑھ جاتا ہے تو یہ کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہے ۔ جہاں ٹیکنالوجی نے اچھے نمبر لینے میں آسانی پیدا کردی ہے وہیں دھوکہ دہی کرنا بھی آسان بنا دیا ہے ، کیسے؟ آپ اسے خوب جانتے ہیں! ٹیکنالوجی کا ایک نقصان جس سے ہر والدین متفق ہیں وہ ہے ہماری بینائی۔ سب سے عام دقیانوسی تصورات میں سے ایک ہے کہ جو بھی چشمہ پہنتا ہے اس نے ٹی وی کو اتنا قریب دیکھا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کو زیادہ وقت دینے سے تھکاوٹ ، موٹاپا ، بے خوابی وغیرہ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    @itx_safder

  • پاکستان ہائبرڈ وار فئیر کا فاتح ، ممکن کیسے ہو گا۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    پاکستان ہائبرڈ وار فئیر کا فاتح ، ممکن کیسے ہو گا۔۔؟ تحریر: امان الرحمٰن

    میں ایک عرصہ سے آپ کو ففتھ جنریشن وار کے بارے میں بتا رہا ہوں ، اور آئے دن آپ کو خبروں میں سُننے کو بھی ملتا رہتا ہے کے بھارت پاکستان میں اپنی پراکسی وار مضبوط کر نا چاہتاہے۔ اور یہ کام وہ اعلانیہ کرتا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے ففتھ کارمسٹوں کی طرف سے پاکستانی فوج کہ خلاف حضیان بکنا جُھوٹے الزامات گھڑ کر اور بڑا گلیمرائز ڈکر کے پوسٹوں کی شکل میں سوشل میڈیا میں پھیلانا مختلف گروپوں میں اِس کیوشئیر کرنا اور عوام کو یہ تاثر دینا کے فوج خُدانخواستہ اُنہیں لُوٹ کر کھا رہی ہے۔ ایسی گھٹیا حرکات کا تصور آپ کسی مُحبِ وطن پاکستانی سیاستدان سے یا کسی اور سے کر سکتے ہیں۔؟ ہرگز نہیں۔
    آپ یہ بات اچھی طرح سے جان لیں اور سمجھ لیں کے یہ سب دُشمن کا پروپیگنڈہ ہے اور دُشمن یہی چاہتا ہے۔ پاکستان کے مختلف اِداروں کی ویب سائٹس ہائی جیک کرنے کی ہیک کرنے کی خبریں آپ نے اکثر پڑھی ہی ہوں گی اور ایسی ہی ایک تازہ ترین واردات بھارتی خُفیہ ایجنسی "را” نے اِسرئیل کے این ایس او سسٹم کی مدد سے کی ہے جو بڑا ہی جدید ترین سسٹم ہے جس کی مدد سے یہ دنیا بھر کا ڈیٹا چُرا سکتے ہیں۔ پاکستان پر اِس کا سائبر اٹیک کیا گیا اِس پر حکمتِ عملی یہ تھی” را” کی کہ پاکستان کے جتنے بھی آرمرڈ فورسیز کے جتنے بھی آفیسرز ہیں اُن کی فون کالز کا یا واٹس ایپ کا ڈیٹا وہ چُورایا جائے جو یہ گُفتگو کرتے ہیں اُسے ہیک کیا جائے اور پاکستان میں ایک ایسا سسٹم لانچ کیا جائے جس کہ ذریئے سے وہ اِن کی گُفتگو آسانی سے سُن سکیں۔

    دُشمن کی اِس کوشش کو پاکستان کی کاؤنٹرانٹیلیجنس کے سائبر ونگ نے بڑی ہمت سے ناکام بنادیا ہے۔ سوال یہاں یہ ہے کے یہ ہیکنگ سسٹم کیلئے بھی کچھ ایسی معلومات درکار ہوتی ہیں جس سے سسٹم ہیک کیا جاتا ہے اب سوال یہ ہے کہ دُشمن تک یہ معلومات کیسے پہنچتی ہیں۔؟
    یہ معلومات ایسے پہنچتی ہیں جب ہم جُھوٹے الزامات لگاتے ہیں فوجی افسران پر کے فلاں نے جائداد لے لی فلاں نے جزیرہ خرید لیا اور یوں کر دیا یہ کر دیا وہ کر دیا اور اِس جُھوٹے الزامات کو پھیلاتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اور بھارتی خُفیہ ایجنسی را نے اِن الزامات کو پھیلانے کیلئے بہت بڑی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے خاص طور پر اِس مرتبہ سینٹرل پنجاب کو ٹارگٹ کیا ہے اور ہمارے اُن لوگوں کو استعمال کریں گے جو بیچارے اپنے اُن لیڈران کی محبت میں اپنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے یا اپنی عقل استعمال نہیں کرتے کے اپنا اور ملک کا بُرا بھلا سوچ سکیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

    الحمدُللہ ہماری ملٹری انٹیلیجنس کا اپنا کاؤنٹر سسٹم اتنا مظبوط ہے کے اِس میں سُراخ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ لیکن میں آخری بات یہی کروں گا کہ جب تک گھر کا بھیدی لنکا نہ ڈھائے کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور ہم لوگ یہ نہیں سمجھتے کے جو لوگ اِس طرح کی پوسٹس کرتے ہیں بنا سوچے سمجھے بنا تحقیق کئے آگے سے آگے فارورڈ کرتے ہیں ۔ کیا اِن میں سے کسی نے تصدیق بھی کی کہ کیا یہ بات یہ خبر درُست بھی ہے یا نہیں ؟ یا اندھی تقلید میں یہ اپنا ایمان اپنا وطن ایسے ہی ضایا کر دیں گے۔؟ اصل میں ایسے لوگ جو اپنے ذہن سے نہیں سوچتے بس جو لیڈر نے کہہ دیا وہ سو فیصد سچ ہے کیا یہ سوچ یہ ذہن پی ٹی ایم اور ایم کیو ایم والی دانشوری ہے اُس کو بنیاد بنا کر وہ سمجھتے ہیں کے وہ بہت بڑا جہاد کر رہے ہیں یا وہ جمہوریت پرست ہیں لیکن اصل میں وہ ایک کٹ آؤٹ استعمال ہو رہے ہوتے ہیں کٹ آؤٹ اِنٹیلیجنس کی اسطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ کو دُشمن اِنٹیلیجنس اِس طرح استعمال کر رہی ہوتی ہے کے آپ کو پتا ہی نہ ہو اور آپ مجاہد بنے رہیں اور دُشمن کیلئے کام کر رہے ہوں۔
    یاد رکھئے یہ ففتھ جنریشن وار ہے اِس میں یہی کچھ ہوتا ہے پراکسی وارز ہی ہوتی ہیں اب وہ بندوقوں پستولوں کی لڑائی بہت دُور کی بات ہے اب دشمن آپ کی ثقافت، مذہب، اور خاندانی نظام پر ضرب لگاتا ہے جس سے آپ اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ آپ کے اتحاد کو اتفاق کو ختم کرتا ہے جبکہ نبیﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کے اتحاد میں برکت ہے کامیابی ہے ۔ آپ یاد کریں لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب کی پریس کانفرسیز کو بار بار سُنیں دیکھیں اور سمجھیں اور دیکھیں وہ جو کہتے تھے وہ آج آپ کو آجکل ہوتا نظر بھی آئے گا ۔
    ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنا ہے اور دُشمن کو کاؤنٹر کرنا ہے اور یہ کاؤنٹر ہم اپنے اتحاد کو قائم رکھ کر ہی کر سکتے ہیں ۔ سوشل میڈیا جھوٹ اور سچ کی جنگ ہے یہاں آپ نے اپنے جزبات کو ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے اپنے عصاب پر کسی جھوٹ کا حاوی نہیں ہونے دینا یہی کامیابی ہے کہ بنا تصدیق کسی بات پر یقین نہیں کرنا اور سچ کی تلاش میں رہنا اور اپنے دوست احباب کو حقائق سے اگاہ رکھنا ۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد

  • چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے استعمال کے نقصانات میں کینسر، موٹاپا، شوگر، سردرد، توانائی یک دم ختم ھونا اور ھارمون کا عدم توازن سرفہرست ھیں۔ جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں شوگر اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ چینی کے عادی افراد کو جب تک میٹھی چیز نہ ملے وہ ڈر اور ذہنی تناﺅ محسوس کرتے ھیں۔

    مٹھاس کی یومیہ ضرورت۔

    مردوں کے لیے ساڑھے 37 گرام اور عورتوں کے لیئے صرف 25 گرام ھے۔ جو دن بھر کی خوراک سے ھی پوری ھو جاتی ھے۔ جبکہ اوسطاً ہر پاکستانی روزانہ 62 گرام چینی اپنے جسم کا حصہ بناتا ہے ۔

    کولیسٹرول کا باعث۔

    تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں دوسری بیماریوں کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔اور چینی انسانی جسم میں خطرناک چربی کو بھی بڑھاتی ھے۔

    انسولین میں اضافہ

    ایک تحقیق کے دوران ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح استعمال کی گئی،جو انسولین کی مزاحمت اور زیادہ چربی والی غذاؤں سے ھوتی ھے اسے دماغی ذیابیطس بھی کہا جاسکتا ہے۔
    چینی کے زیادہ استعمال سے دوران خون میں انسولین بڑھ جاتی ہے، اور اس کا اثر جسم کے خون کی گردش کے نظام اور شریانوں پر بھی پڑتا ہے، انسولین کی زیادہ مقدار سے شریانوں میں مسلز سیلز کی گردش معمول سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے، جس سے ہائی بلڈپریشر اور اس کے بعد فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

    چینی سے بھوک میں اضافہ :

    چینی انسان کے اندر بھوک کا احساس بڑھا دیتی ہے، زیادہ چینی کھانے سے دماغ میں جو پیٹ بھرنے کے احساس کی صلاحیت ہوتی ہے وہ بری طرح متاثر ھوتی ھے جس کی وجہ سے انسان کو ہر وقت بھوک کا احساس ہوتا رہتا ہے چاہے اس نے جتنا بھی زیادہ کھانا کھایا ہو۔ اس سے انسان بار بار کھانا کھاتا ھے اور موٹاپے کے ساتھ نظام ہضم بھی خراب ھوجاتا ھے۔

     

    چینی سے بڑھاپا:

    زیادہ چینی کھانے سے انسان کے دوران خون میں ایسے خطرناک مالیکیول پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے جو آپ کی جلد کو بہت زیادہ خشک اور ڈھیلی کردیتے ہیں، اور آپ کی جلد پر جھریاں پڑجاتی ہے ۔

    چینی والی اشیاء:

    سفید چینی کھانے پینے کی عام اشیاء جیسے سافٹ ڈرنکس، مٹھائیاں، آئس کریمز،جوسز، ملک شیکس، کیک، اور بیکری کی تمام مصنوعات، چائے، کافی، جام، جیلی،ٹافیوں، چاکلیٹس، مشروبات،اور تمام اقسام کے میٹھے پکوان میں کثرت سے موجود ہوتی ہے۔

    چینی کا متبادل:

    چینی کے متبادل کے طور پر کئی اشیاء استعمال کی جا سکتی ہیں جیسے:
    گنّے کا رس: اگرچہ سفید چینی بھی گنّے ہی کے رس سے تیار کی جاتی ہے، لیکن اس کی تیاری کے دوران تمام غذائی اجزا ضایع ہو جاتے ہیں، جب کہ گنّے کا رس نہ صرف وٹامن بی اور سی کا بہترین ذریعہ ہے،بلکہ جسم کو مٹھاس بھی پہنچاتا ہے۔
    شہد: سفید چینی کا بہترین متبادل ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے، بی اور سی کی وجہ سے جسم کو مٹھاس ہی نہیں، تقویت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں میں پائی جانے والی قدرتی شکر جسم کو مضر اثرات سے بچاۓ رکھتی ہے۔

    @Oye_Sunoo

  • کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز  تحریر: زاہد کبدانی

    کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز تحریر: زاہد کبدانی

    ہر جگہ تعلیمی خلل پیدا کرنا ، کرونا وائرس وبائی بیماری نے طلباء کی زندگیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ شاید ان کی آئندہ کی تعلیمی زندگی پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ نسبتا کسی کا دھیان یہ نہیں رہا ہے کہ اس نے ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں پہلے سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی ، ای لرننگ حل فراہم کرنے والے ، اور مقامی سطح پر تعلیم کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے حکومتی پالیسیاں نیز طالب علموں میں ذاتی وسائل کی کمی تھی۔کرونا وائرس بحران کو بہت سے ممالک سے بہتر طریقے سے نپٹانے میں ، پاکستان نے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت سے گریز کیا اور دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی۔ اس کی سمجھدار پالیسیاں یہاں تک کہ معیشت کو چلتی رہیں۔ ہمسایہ ممالک چین (جہاں پہلا کرونا وائرس انفیکشن پایا گیا تھا) اور بھارت (دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک) سے قربت کے باوجود ، پاکستان حیرت انگیز طور پر محفوظ ہے جب یورپ اور امریکہ کے ساتھ مقابلے میں 98 فیصد بحالی کی شرح ہے۔

    تعلیمی ٹکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے — اسمارٹ فونز ، ٹیبلٹس ، بڑھا ہوا اور ورچوئل ریئلٹی ، اور تیز رفتار انٹرنیٹ ، 4 جی ، اور 5 جی کنیکٹوٹی۔ یہ سب آن لائن تعلیم کو زیادہ پیداواری ، انکولی اور قابل رسائی بناتا ہے۔ در حقیقت ، ای لرننگ انڈسٹری کی فی الحال قیمت 200 بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے اور اس کی توقع ہے کہ 2026 تک اس میں 375 بلین ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، پاکستان کے دنیا کے کچھ بدترین تعلیمی نتائج بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ، اس میں دنیا کی دوسری بڑی تعداد بچوں کی ہے جو اسکول میں نہیں ہیں: 22.8 ملین بچوں کی عمر 5 سے 16 سال ہے ، جو پاکستان کے اسکول جانے والے بچوں کا 40 فیصد ہے۔ بدقسمتی سے ، اس وبائی امراض کا آغاز پاکستان کی تمام صوبوں میں یکساں نصاب کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد سے ہم آہنگ ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس کے کنٹرول کے اقدامات پھیل رہے ہیں ، محکمہ تعلیم اور اعلی سطحی یونیورسٹیوں نے خود کو ناقص سمجھا یا ، زیادہ تر معاملات میں ، آن لائن سیکھنے اور فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ ماضی میں ، پاکستان نے دہشت گردی کے حملوں اور سیاسی خطرات کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کردیئے تھے ، لیکن آن لائن تعلیم کے آس پاس ابھی تک کوئی سرکاری پالیسی موجود نہیں تھی۔ پاکستان میں ابھرتا ہوا موبائل فون استعمال کنندہ مارکیٹ ہے۔ اس وقت آبادی کا 75 فیصد موبائل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ لیکن 220 ملین آبادی میں – جو دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، وہاں صرف 76.38 ملین انٹرنیٹ استعمال کنندہ ہیں۔ یہی آبادی کا صرف 35 فیصد ہے ، جس میں صرف 17 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی ای-لرننگ سسٹم کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آن لائن سیکھنے کی پالیسی کے خلاف مزاحمت میں ٹکنالوجی یا نئی پڑھنے کی تدریسی تعلیم کو اپنانے اور کلاس روم کے ماحول میں استعمال ہونے کی مزاحمت بھی منفی کردار ادا کرتی ہے۔

    وبائی مرض سے سیکھا گیا اسباق پڑھنے کی جگہوں کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور نصاب کی تشکیل نو کے موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ شکل 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اس ملک میں تعلیم کا مستقبل۔ پاکستانی انسٹی ٹیوٹ میں ، تکنیکی طور پر تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی ہے کہ آن لائن کلاس آسانی سے چلائیں۔ ملاوٹ ، فاصلہ ، اور آن لائن تعلیم کو تقویت دینے کے لئے،MOOCs ، Corseera اور EdX کو زیادہ سے زیادہ آگاہی اور رسائ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورچوئل ، بڑھا ہوا ، اور مخلوط حقیقت والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جدید ، عمیق سیکھنے کی ٹکنالوجیوں اور جدید تعلیم کی جگہوں کو بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے استعمال کے ساتھ ، مزید انٹرایکٹو ، شخصی اور نتیجہ خیز سیکھنے کے حل کی تعمیر میں ہماری مدد کرکے سیکھنے کے مستقبل کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ مزید خاص طور پر ، جب ہم اسٹیم میں عملی ، عملی طور پر سیکھنے کے بارے میں بات کرتے ہیں ، جہاں سیکھنے کے مواد کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، تو بڑھتی ہوئی حقیقت نسبتا سیکھنے کے نقطہ نظر کے ساتھ تعلیم دینے میں مجازی مواد فراہم کرسکتی ہے, تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ای لرننگ کے لئے جدید اور جدید نظام موجود ہیں ، جس کی وجہ سے وہ اس تعلیمی سال کے دوران سیکھنے کے بہاؤ کو متحرک رکھیں۔ لیکن پاکستان میں ، آن لائن سیکھنا ایک نوزائیدہ مرحلے پر ہے۔ ایمرجنسی ریموٹ پڑھنے کے طور پر شروع کرنے کے بعد ، اس کو مزید اپنانے اور حدود کو دور کرنے کے لئے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں انٹرنیٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ، تصنیف کے خصوصی اوزار تیار کرنا ، اور آن لائن سیکھنے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے آگاہی

    @Z_Kubdani