Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں    پی ٹی اے

    موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے ) کا کہنا ہے کہ موبائل آپریٹر ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنے سے پہلے صارفین کی رضامندی حاصل کریں –

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے نے سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو ویلیو ایڈڈ خدمات (وی اے ایس) فعال کرنے کے لیے لازمی توثیقی پیغامات بھیجیں تاکہ خدمات کے لیے ان کی رضامندی حاصل کی جاسکے۔

    پی ٹی اے کے بیان میں آپریٹرز کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یہ حکم جاری کرنے کے متعلق تین ہفتے میں رپورٹ جمع کرائیں۔


    بیان میں کہا گیا کہ پی ٹی اے کو صارفین کی شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض اوقات موبائل آپریٹرز، صارفین کی پیشگی رضامندی کے بغیر تھرڈ پارٹی مواد/گیمز سمیت دیگر ویلیو ایڈڈ خدمات فعال کر دیتے ہیں۔

    پی ٹی اے نے ان شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا کیونکہ صارفین کی رضامندی کے بغیر کسی ویلیو ایڈڈ خدمات کو فعال کرنا ‘ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشنز، 2009’ کی شق 9 (3) (vii) کی خلاف ورزی ہے۔

    اتھارٹی کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ اس اقدام سے موبائل صارفین کو بڑی آسانی ہوگی۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی اے، پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کے صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

  • سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سال کا پہلا قمری گرہن کل یعنی 26 مئی بروز بدھ کو لگے گا-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس چاند گرہن کا آغاز پاکستانی ٹائم کے مطابق بوقت دوپہر 01:43:39 بجے ہوگا -جزوی گرہن کا آغاز 02:45 منٹ پر اور مکمل قمری گرہن کا آغاز سہ پہر 04:11 منٹس سے لے کر 4:26 منٹس تک ہو گا جبکہ گرہن کا اختتام 06:50 منٹس تک ہو گا گرہن کاکل دورانیہ 5 گھنٹے اور 5 منٹ کے قریب ہو گا-

    کوریا امریکہ فلپائن آسٹریلیا ، سنگاپور ،چین ،میکسیکو، تائیوان، پیرو، چلی ،انڈونیشیا، ہانگ کانگ، گوئٹے مال اور جاپان کے اکثر علاقوں میں مکمل یعنی Full Super Moon کا نظارہ کیا جا سکے گا0

    جبکہ کینیڈا ، برازیل ، کولمبیا، ویزویلا کیوبا ارجنٹائن ، ویت نام تھائی لینڈ ، برما اور بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں جزوی گرہن کا نظارہ کیا جا سکے گا جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں گرہن نظر نہیں آئے گا کیونکہ اس چاند گرہن کے موقع پر پاکستان میں دن کا وقت ہوگا جبکہ پاکستان میں چاند بھی شام سات بجے کے بعد ہی طلوع ہوگا۔

    انڈیا کے کچھ مشرقی ساحلی علاقوں میں گرہن کا جزوی اختتامی حصہ دیکھا جا سکتا ہے –

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نت سال کے شروع میں بتایا تھا کہ سال 2021 میں 2 سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، تاہم پاکستان میں اس سال کے چاند اور سورج گرہن دکھائی نہیں دیں گے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اس سال کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو ہوگا جو مکمل چاند گرہن ہوگا دوسرا چاند گرہن19 نومبر کو ہوگا، جو جنوبی اور مشرقی امریکا ، آسٹریلیا اور یورپ کے مختلف علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا، یہ جزوی سورج گرہن ہوگاجو ایشیا، افریقہ،یورپ،افریقہ اور مغربی امریکا میں دیکھا جاسکے گا سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن4 دسمبر کو ہوگا جو مکمل سورج گرہن ہوگا، جسے امریکا، جنوبی امریکا، پیسیفک، اور انٹارکٹکا میں دیکھا جاسکے گا۔

    گرہن کیا ہوتا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    برطانوی خبررساں ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق گرہن ایک شاندار دلکش فلکیاتی عمل ہے یہی وجہ ہے کہ گرہن کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے سیاحت کی ایک الگ برانچ قائم ہو چکی ہے۔

    اہم گرہن کی متعدد اقسام میں سے یہ ایک ہے۔

    حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’السٹریٹڈ آسٹرونومی‘ کے مصنف یوان کارلوس بیامن جو اٹانومس یونیورسٹی آف چلی کے سائنس کمیونیکیشن سینٹر میں بطور ایسٹروفزسٹ کام کرتے ہیں لکھتے ہیں کہ ’عمومی طور گرہن کی دو اقسام ہیں جن میں چاند اور سورج کے گرہن شامل ہیں۔

    تاہم اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ تکنیکی اعتبار سے دیکھیں تو ایک تیسری قسم بھی ہیں، جس میں دو ستارے شامل ہوتے ہیں۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    سورج گرہن
    چاند کی زمین کے گرد گردش کے دوران ایسے مواقع آتے ہیں جب یہ سورج اور ہمارے سیارے کے درمیان آ جائے تو یہ سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے اور یوں سورج کو گرہن لگ جاتا ہے دوسرے لفظوں میں چاند زمین کی سطح پر اپنا عکس ڈال دیتا ہے۔

    سورج گرہن کی مزید تین اقسام ہیں-

    مکمل سورج گرہن
    مکمل سورج گرہن کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان ایسے رکاوٹ بنتا ہے کہ وہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو روک دیتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    کچھ سیکنڈوں کے لیے (یا متعدد مرتبہ چند منٹ کے لیے) مکمل طور پر اندھیرا ہو جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے رات کا وقت ہو۔

    ناسا کے مطابق: ’مکمل سورج گرہن زمین پر صرف ایک آسمانی یا خلائی اتفاق کے باعث ممکن ہوتے ہیں۔‘ یعنی سورج چاند سے چار سو گنا بڑا ہے لیکن یہ اس سے 400 گنا دور بھی ہے۔

    ناسا کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جیومیٹری کے باعث جب چاند عین سورج اور زمین کے درمیان موجود ہوتا ہے تو یہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔‘

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چلی سے تعلق رکھنے والے آسٹروفزکس کے ماہر لکھتے ہیں کہ سورج گرہن کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ سات منٹ اور 32 سیکنڈ کا ہو سکتا ہے سورج گرہن کتنے دنوں بعد یا کتنی دیر میں ہوتا اس بارے میں شاید آپ کا خیال ہو کہ ایسا کم کم ہی ہوتا ہے لیکن اصل میں ہر اٹھارہ ماہ بعد ایک سورج گرہن ہوتا ہے۔

    لیکن زمین پر ایک ہی جگہ سے مکمل سورج گرہن کا دیکھا جانا، ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے اور ایسا 375 برس بعد ہی میں مکمن ہو سکتا ہے۔

    اس سال بھی مکمل گرہن ہونے والا ہے لیکن اس کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ قطب جنوبی میں ہوں کیونکہ یہ صرف وہیں نظر آئے گا۔

    سالانہ گرہن
    جب چاند اور زمین کے درمیان زیادہ فاصلہ ہوتا ہے تو زمین سے چاند چھوٹا نظر آتا ہے اور اسی لیے یہ مکمل طور پر سورج کو چھپا نہیں پاتا۔ ایسے میں چاند کے گرد سورج ایک ہالے کی طرح نظر آتا ہے اور اس واقع کو سالانہ سورج گرہن کہا جاتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ گریٹی
    اس سال جون کی دس تاریخ کو سالانہ سورج گرہن شمالی عرضالبد کے انتہائی شمالی حصوں جن میں کینیڈا کے کچھ علاقے، گرین لینڈ اور روس میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا جبکہ یورپ، وسطی ایشیا اور چین کے بعض حصوں میں جزوی طور پر سورج گرہن ہو گا۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق یہ سورج گرہن عام طور پر خاصے طویل ہوتے ہیں اور سورج ایک گول دائرہ یا ہالے کے طور پر دس منٹ تک دکھائی دے سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ پانچ سے چھ منٹ تک دکھائی دیتا ہے۔

    ملا جلا گرہن
    بیمن نے وضاحت کی کہ ملا جلا گرہن جسے انگریزی میں ہائبرڈ گرہن کہتے ہیں وہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین سے اتنے فاصلے پر ہوتا ہے کہ یہ سورج کو پوری طور پر چھپا لے، لیکن جب یہ حرکت کرتا ہے تو یہ دنیا سے دور ہوتا جاتا ہے اور پورے سورج نہیں چھپا پاتا۔ یوں مکمل سورج گرہن سالانہ سورج گرہن میں بدل جاتا ہے۔

    اس طرح جب چاند زمین کی جانب حرکت کرتا ہے تو سلانہ سورج گرہن مکمل سورج گرہن میں بدل جاتا ہے۔

    ہائبرڈ یا ملا جلا گرہن کا ہونا شاز و نادر ہی ہوتا ہے ایسے گرہن صرف چار فیصد ہی ہوتے ہیں۔

    ناسا کے مطابق آخری سورج گرہن سنہ 2013 میں ہوا تھا اور ایسے دوسرے سورج گرہن کے لیے ہمیں 20 اپریل سنہ 2023 تک انتظار کرنا ہوگا جو انڈونیشیا، آسٹریلیا اور پاپوا نیو گنی میں دیکھا جائے گا۔

    2: چاند گرہن
    چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا دوسرے لفظوں میں چاند گرہن کے دوران ہمیں زمین کا سایہ چاند پر پڑتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

    چاند گرہن کی تین اقسام ہیں-

    مکمل چاند گرہن
    مکمل چاند گرہن کے دوران، ناسا کے مطابق چاند اور سورج دنیا سے دو مختلف سمتوں میں ہوتے ہیں چاند گرہن کے دوران چاند زمین کے سائے میں آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ روشنی چاند پر پہنچتی رہتی ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    چاند گرہن کے دوران سورج کی روشنی زمین کی فضا سے گزر کر چاند پر پڑتی ہے اس ہی وجہ سے گرہن کے دوران چاند سرخ نظر آتا ہے جسے ’خونی چاند‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    آئی اے سی کے ہدایت نامہ کے مطابق دنیا کا قطر کیونکہ چاند کے قطر سے چار گنا بڑا ہے اس لیے مکمل چاند گرہن کا دورانیہ 104 منٹ تک ہو سکتا ہے اور چاند گرہن کی یہی وہ قسم ہے جو کل یعنی 26 مئی کو دیکھی جا سکے گی –

    جزوی چاند گرہن
    اس گرہن کے دوران چاند پوری طرح نہیں چھپتا ہے اور صرف چاند کا کچھ حصہ ہی زمین کے سائے میں آتا ہے گرہن کی نوعیت کتنے گہرے سرخ رنگ یا خاکی اور زنگ کے رنگ کی طرح ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ زمین کا عکس چاند کی تاریک سطح پر کسی طرح پڑتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    چاند کے تاریک اور روشن حصے کے تضاد کی وجہ سے ہوتا ہے چاند کا روشن حصہ پر تو سائے کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور کی چمک برقرار رہتی ہے لیکن زمین کے سائے میں آنے والا حصہ تاریک ہو جاتا ہے۔

    ناسا کے مطابق مکمل چاند گرہن کبھی کبھار ہی ہوتا ہے لیکن جزوی گرہن سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے اگلا جزوی چاہد گرہن 18 اور 19 نومبر کو متوقع ہے جو شمالی اور جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ اور ایشیا کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا۔

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خفیف سا چاند گرہن
    یہ گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین کے خفیف سے سائے کے نیچے سے گزرتا ہے جو کہ بہت ہلکہ سا سایہ ہوتا ہے یہ گرہن اتنے ہلکے سے ہوتے ہیں کہ ان کا انسانی آنکھ سے دیکھے جانے کا امکان اس بات پر ہوتا کہ چاند کا کتنا حصہ اس عکس کے نیچے آتا ہے۔ جتنا کم حصہ اس سائے میں آتا ہے اتنا ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ یہ زمین پر کسی انسان کو دکھائی دے۔

    یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے گرہن کا کیلینڈر میں ذکر نہیں کیا جاتا خاص طور پر ان کیلینڈروں میں جو سائنسدانوں کے علاوہ عام لوگ کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

    20 سال قبل دریافت کیا گیا رواں سال کا سب سے بڑا سیارچہ 21 مارچ کو زمین کے پاس سے…

    سٹیلر گرہن
    صرف چاند اور سورج ہی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا کائنات کے دور دراز ستارے بھی گرہن میں جا سکتے ہیں بیمن اپنی کتاب ’السٹریٹڈ ایسٹرونومی‘ جو آن لائن پر مفت میں دستیاب ہے اس میں وجہ لکھتے ہیں پچاس فیصد ستارے دو یا دو سے زیادہ کے جھنڈ میں ہوتے ہیں-

    کیونکہ ہماری کہکشاں میں بہت سے ستارے ہیں ان میں بہت سے ستارے اپنے اپنے مداروں میں گردش کرتے ہیں جو ہماری زمین کی لائن میں آتے ہیں لہذا کسی نہ کسی مدار میں کوئی ستارہ کسی اور ستارے کے آگے آ کر اس کو تاریک کرتا رہتا ہے۔

  • واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    سلیکان و یلی: فیس بک کی میسیجنگ ایپ واٹس ایپ صارفین کے اکاؤنٹ کو مزید محفوظ بنانے کے لیے جلد ہی ایک زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ٹیکنالوجی ویب سائٹ WABeta کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) کے نام پر ہونے والی دھوکا دہی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک نئے فیچر پر کام کر رہا ہے جسے ’فلیش کال‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    اس نئے فیچر کی بدولت اب صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے 6 عدد پر مشتمل سیکیورٹی کوڈ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ یہ فیچر خود کار طریقے سے صارف کے فون نمبر کی تصدیق کردے گا تاہم فلیش کال فیچر کے لیے استعمال کنندہ واٹس ایپ کو فون کال کے لاگ تک رسائی دینا ضروری ہوگی جس کے بعد واٹس ایپ خود ہی کال وصول کرکے صارف کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کی تصدیق کردے گا۔


    ویب سائٹ کے مطابق یہ فیچر اینڈرائیڈ ورژن 2.21.11.7 کے واٹس ایپ میں موجود ہے رپورٹ میں شائع ہونے والے اسکرین شاٹ کے مطابق فلیش کالز ایک آپشنل فیچر ہے اور یہ استعمال کنندہ پر منحصر ہے کہ وہ واٹس ایپ کو اپنے کال لاگ تک رسائی دے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کو او ٹی پی کی آڑ میں ہونے والی اس دھوکا دہی سے متعدد بار آگاہ کرچکی ہے جس میں سائبر کرمنلز استعمال کنندہ کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کے لیے عموما گمراہ کن پیغامات بھیجتے تھے-

    کہ آپ کو او ٹی پی کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کرنا ضروری ہے، اور نہ کرنے کی صورت میں آپ کے اکاؤنٹ کو ڈی ایکٹیویٹ کردیا جائے گا صارف جیسے ہی او ٹی پی ہیکر کو بھیجتا ہے وہ اس کا اکاؤنٹ ہیک کرلیتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ویب سائٹ ویب بیٹا انفو نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ واٹس ایپ نے ‘نیو آرکائیو’ نامی فیچر کی آزمائش شروع کردی ہے جو صارفین کو غیر ضروری چیٹ سے دور رکھے گا۔

    پہلے اگر آپ کسی غیر ضروری چیٹ کو آرکائیو کرتے تھے تو وہ مکمل طور پر نظروں سے دور نہیں ہوتی تھی، وہ شخص جس کی چیٹ آرکائیو ہوتی تھی اس کے میسج بھیجنے پر اسکرین کے اوپر اس کا نام شو ہوجاتا تھا اور آرکائیو ہوئی چیٹ خود باخود ختم ہوجاتی تھی۔


    تاہم اب آرکائیو ہونے والی غیر ضروری چیٹ نیا پیغام آنے کی صورت میں بھی اسکرین کے اوپر نہیں دکھائی دے گی۔

    یہ سہولت فی الحال بہت مخصوص بیٹا ورژن استعمال کرنے والوں کی رسائی میں ہے جب کہ عام اینڈرائیڈ ورژن کے صارفین کچھ عرصے بعد اسے استعمال کر سکیں گے۔

    اس آپشن کا انتخاب کرنے کیلئے سب سے پہلے ایپ کی سیٹنگز میں جائیں اور چیٹ کے آپشن کو منتخب کرلیں۔

    وہاں آپ کو ‘کیپ چیٹس آرکائیوڈ ‘کا آپشن نظر آئے گا جسے ان ایبل کردیں، ان ایبل کرنے کے بعد چیٹ سب سے نیچے چلی جائے گی، اس طرح آپ اس فیچر سے مستفید ہو سکیں گے تاہم یہ فیچر واٹس ایپ بیٹا 2.21.11.1 ورژن کیلئے دستیاب ہوگا۔

  • کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    سائنس دانوں نے کائی کوفوڈ سپلیمنٹ میں استعمال کرنے کے بعد اس کا ایک اور ماحولیاتی استعمال تلاش کرلیا ہے جی ہاں اب کئی سے مظبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی :سائنس جریدے ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نیدر لینڈ کی یونیورسٹی آف راکیسٹر کے محقیقین کائی سے مظبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    اس تحقیق میں شامل ریسرچر سری کانتھ بالا سبرا مینیئن کا کہنا ہے کہ کائی سے بنے لباس مستقبل میں فیشن کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ سہہ جہتی پرنٹنگ جاندار فنکشنل مادوں کی بناوٹ کے لیےایک طاقت ور ٹیکنالوجی ہے اور اس جان دار مادے کے ماحولیاتی اور انسانوں کے لیے بننے والی ایپلی کیشنز کے لیے بہت امکانات ہیں۔

    اس مادے سے نہ صرف کپڑے، بلکہ مصنوعی پتے، فوٹو سینتھیسز کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے-

    انہوں نے بتایا کہ ہم نے کائی کو فوٹو سینتھیسز مادے میں پرنٹ کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹر اور نئی بائیو پرنٹنگ تکنیک استعمال کی۔

    فوٹو سینتھیسز مادے کو تخلیق کرنےکے لیے ہم نے بے جان بیکٹریل سیلولوز(پو دوں کے خلیوں کی دیواروں میں موجود نشاستہ) سے آغاز کیا بیکڑیل سیلولوز ایک نامیاتی مادہ ہے جو کہ بیکٹریا کی جانب سے پیدا اور خارج کیا جاتا ہے، بیکٹریل سیلولوز میں لچک، سختی، مظبوطی اور اپنی شکل میں رہنے کی خاصیت پائی جاتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بیکٹریل سیلولوز کو بطور کپڑا اورخرد بینی کائی ( مائیکرو الجی) کو بطور روشنائی استعمال کیا اور پرنٹنگ کے لیے نئی بائیو پرنٹنگ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے جاندار کائی کو بیکٹریل سیلولوز پر پرنٹ کیا۔

    خورد بینی کائی اور بے جان بیکٹیریل سیلولوز کے ملاپ کے نتیجے میں ایک ایسا انوکھا مادہ بنا جو کہ کائی کا فوٹو سینتھیسز معیاراور بیکٹریل سیلولوز کی مظبوطی رکھتا ہے، یہ مادہ سخت، لچک دار ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست، بایو گریڈایبل اور بنانے میں سادہ ہے۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ اس مادے سے نہ صرف کپڑے، بلکہ مصنوعی پتے، فوٹو سینتھیسز کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ کائی سے بننے والے کپڑوں سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے ماحول پر مرتب ہونے والے منفی اثرات میں کمی آئے گی جبکہ اسے عام کپڑوں کی طرح بار بار دھونے کی ضرورت بھی نہیں پیش آئے گی جس سے پانی کی بچت بھی ہوگی۔

    یاد رہے کہ کائی کے کپڑے بنانےکے لیے ماضی میں بھی کئی تجربات کیے جاچکے ہیں تاہم ان کی کپڑوں کی پائیداری کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔

  • دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ  انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    ہزاروں کلومیٹر پر پھیلا دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا-

    باغی ٹی وی :سپین کے جزیرے میجورکا کے سائز سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے منجمد کنارے سے الگ ہو کر ویڈیل کے سمندر میں داخل ہو گیا ہے سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کی ہے کہ انٹارکٹیکا کی وسیع وعریض برفانی چادر سے برف کا اتنا بڑا ٹکڑا الگ ہوا ہے کہ اب اسے دنیا کے سب سے بڑے برفانی تودے (آئس برگ) میں شمار کیا گیا ہے۔

    انگلی کی شکل کے آئس برگ کی لمبائی 4350 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اسے انسانی مداخلت سے رونما ہونے والے آب و ہوا میں تبدیلی کا شاخسانہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپین سپیس ایجنسی نے بدھ کو کہا ہے کہ پانی کی سطح پر تیرنے والا یہ دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ ہے انٹارکٹیکا کے منجمد کنارے سے الگ اس برفانی تودے کو سائنسدانوں کی جانب سے اے 76 کا نام دیا گیا ہے-

    یورپین سپیس ایجنسی کے مطابق کوپرنیکس سینٹیل ون مشن نے اس بڑے برفانی تودے کی تصاویر لی ہیں اس کی سطح کا رقبہ چار ہزار 320 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی لمبائی 175 کلومیٹر جبکہ چوڑائی 25 کلومیٹر ہے۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں سپین کے مشہور سیاحتی جزیرے میجورکا رقبہ تین ہزار 640 مربع کلومیٹر ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ سپین کے جزیرے سے بھی بڑا ہےامریکہ کا رہوڈ آئی لینڈ اس سے بھی چھوٹا ہے جس کا رقبہ دو ہزار 678 مربع کلومیٹر ہے۔

    اے 76 نام کا دنیا کا سب سے بڑا یہ برف کا تودہ انٹارکٹیکا کے رونے آئس شیلف سے الگ ہوا ہے اور یہ کرہ ارض پر موجود سب سے بڑا برفانی تودہ ہے۔

    اس سے قبل بھی ایک تودہ ویڈیل کے سمندر میں تیر رہا ہے جس کا سائز تین ہزار 380 کلومیٹر ہے۔ اس کا نام اے 23 ہے۔

    یورپی خلائی تنظیم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں قدرے گرم پانی داخل ہونے سے گلیشیئر اور تودے پگھل کر الگ ہورہے ہیں۔

    برطانیہ میں گلیشیئر کے ماہر ایلیکس برسبورن نے کہا کہ یہ قدرتی چکر ہے جو جاری رہتا ہے اور اس کا تعلق گلوبل وارمنگ سے نہیں ہے۔

    اے 76 جیسے آئس برگ پر افقی لکیریں اس پر دباؤ کو ظاہر کرتی ہیں جو ٹوٹنے کے عمل پر منتج ہوئی۔ اب یہ برفانی ڈھیر پانی پر تیررہا ہے اور توقع ہے کہ اس سے سمندری سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ان سب کے باوجود یہ انسانی معلومہ تاریخ کا سب سے بڑا آئس برگ ہے۔

    رون آئس شیلف اس وقت مستحکم حالت میں ہے اور وہ اتنی برف کھونے کے بعد مزید پھیلے گا۔ اس سے قبل 1986 میں یہاں سے کل 11 ہزار کلومیٹر کی برف ٹوٹ کر چھوٹے بڑے آئس برگ کی شکل میں الگ ہوئی تھی۔

    سائنسدانوں نے رواں برس کے آغاز میں بتایا تھا کہ انٹارکٹیکا کا ایک اور برفانی تودہ جس نے جنوبی امریکہ کے جنوبی حصے سے دور پنگوئن کے ایک جزیرے کو خطرے سے دوچار کیا تھا، اس کا زیادہ حصہ پگھل گیا ہے اور یہ کئی ٹکڑوں میں ٹوٹ گیا ہے۔

    فوٹو اے ایف پی

  • کتوں سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کا انکشاف

    کتوں سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کا انکشاف

    کتوں سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کا انکشاف کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کلینکل انفیکشیس ڈزیززجرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کتوں سے پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کا انکشاف کیا گیا ہے

    تاہم سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا کی ریاست ساراواک کے اسپتال سے نمونیا کے 301 مریضوں کے نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 8 نمونوں میں کینائن کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ ان میں سے اکثریت پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تھی۔

    اس وائرس میں ساخت تبدیل ہونے والی جینیاتی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے جو اس سے قبل سامنے آنے والے کینائن وائرسوں میں سامنے نہیں آئی تھی۔ یہ قسم 2017 اور 2018 میں اسپتال میں زیر علاج نمونیا کے مریضوں میں سامنے آئی۔ اس نئی قسم کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کورونا وبا کی آٹھویں قسم ہوگی۔

    اس متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کورونا وائرس انسانوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ابھی تک کورونا وائرس کی7 ایسی اقسام سامنے آ چکی ہیں جو انسانوں کو بیمار کرسکتی ہیں۔ جن میں چار بخار اور زکام کی وجہ بنتی ہیں جبکہ تین اقسام جان لیوا ہو سکتی ہیں جن میں سارس، مرس اورکووڈ 19 شامل ہیں۔

    دوسری جانب تاہم امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2020 کے اوائل میں ، عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ COVID-19 نوول کورونا وائرس ایک عالمی وبائی بیماری ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ پر خوف و ہراس میں ، لوگ نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنے کتے ، بلیوں اور دوسرے پالتو جانوروں کی صحت کے بارے میں بھی پریشان ہیں۔

    ہلیتھ مراکز کے مطابق ، "اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ امریکہ میں وائرس پھیلانے میں پالتو جانور کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا ، ساتھی جانوروں کے خلاف اقدامات اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہے جو ان کی فلاح و بہبود پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔

    ہم کئی دہائیوں سے جانتے ہیں کہ کتے کورونوا وائرس کا معاہدہ کرسکتے ہیں ، عام طور پر کینائن کے سانس لینے والے کورونا وائرس (COVID-19 نہیں)۔ خیال نہیں کیا جاتا ہے کہ نوول کورونا وائرس (COVID-19) کتوں کی صحت کے لئے خطرہ ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیاکہ اگرچہ کوویڈ 19 کتوں کے لئے خطرہ نہیں ہے ، لیکن کتے وائرس کے لئے مثبت ٹیسٹ کرسکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ میں دو پالتو کتوں نے کوویڈ 19 کے لئے مثبت جانچ کی ، اور دونوں کتے کوویڈ 19 مثبت مالکان کے ساتھ گھروں میں رہتے تھے۔ مقامی صحت کے عہدیداروں نے ہانگ کانگ میں ان دونوں کتوں کے معاملات کی نشاندہی کی ہے جو "انسان سے جانوروں میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے” اور نہ ہی کسی کتے نے وائرس سے بیماری کے آثار ظاہر کیے ہیں۔

    ہانگ کانگ کے صحت کے عہدیداروں نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ملکیت والے کتوں اور بلیوں کی جانچ جاری رکھی ہے۔ وہاں کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ کتوں میں انفیکشن کے معاملات غیر معمولی دکھائی دیتے ہیں۔ 25 مارچ تک ، ہانگ کانگ کے زراعت ، ماہی گیری ، اور تحفظ محکمہ نے "تصدیق شدہ کوویڈ 19 کیسوں یا تصدیق شدہ مریضوں سے قریبی رابطے رکھنے والے افراد کے گھریلو گھروں کے 17 کتوں اور آٹھ بلیوں پر ٹیسٹ کیے ، اور صرف دو کتوں نےکوویڈ 19 کے لئے مثبت جانچ کی تھی –

    ہانگ کانگ کے عہدیداروں نے زور دیا کہ "ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتے اور بلیوں کو اس وائرس سے آسانی سے انفیکشن نہیں ہوتا ہے ، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔”

  • گوگل سرچ انجن میں مصنوعی ذہانت سے لیس نیا ٹول متعارف

    گوگل سرچ انجن میں مصنوعی ذہانت سے لیس نیا ٹول متعارف

    دنیا بھر میں مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے مصنوعی ذہانت سے لیس جِلد، بالوں اور ناخنوں کی صحت جاننے کیلئے نیا اور جدید ٹول متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل نے جلد، بال، ناخن کے امراض کی تشخیص کے لیے’ ڈرماٹولوجی اسسٹ ٹول‘ بنا لیا ہے۔

    یہ ٹول آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے مریض کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی تصویر کی جانچ کرکے استعمال کنندہ کے جلدی امراض کی تشخیص میں مدد دیتا ہے۔ گوگل کی جانب سے اس ٹول کی آزمائش مکمل کی جاچکی ہے اور اس سال کے آخر میں ہونےوالی سالانہ ڈیولپر کانفرنس میں اسے لانچ کیا جائے گا۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ ’ ڈرماٹولوجی اسسٹ ٹول‘ مصنوعی ذہانت کی بدولت جلد کی 288 کیفیت کی شناخت کرسکتا ہے۔ تاہم اسے طبی شناخت اور علاج کے متبادل کے طور پر ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔ اس ٹول کو ڈویلپ کرنے میں تین سال کا عرصہ لگا اور تجرباتی طور پر جلدی کیفیت کی تتشخیص کے لیے 65 ہزار تصاویر کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ جس میں جلد کی ہرکیفیت، شیڈز اور ٹون والی تصاویر بھی شامل تھی۔

    تصویر اپ لوڈ کرنے کے ساتھ ساتھ مریض کو آن لائن سوالات کے جواب دینے بھی ضروری ہیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے سرچ انجن پر سالانہ تقریبا 10 ارب لوگ جلد، بال اور ناخن کے مسائل کو سرچ کرتے ہیں۔

    گوگل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ صارفین اب باآسانی جان سکیں گے کہ ان کی جلد اور بالوں کو کسی قسم کی کوئی بیماری تو لاحق نہیں ہے۔

    اس کیلئے آپ کو اپنے موبائل کے کیمرے سے انفیکشن والی جگہ کی تین تصاویر لینی ہوں گی، مثال کے طور پر اگر آپ کے بازو پر ریش ہے تو گوگل آپ کو اس کی علامات اور بیماریوں سے متعلق آگاہ کرے گا۔

    جلدی کینسر کے ایک ماہر کا اس ٹول کے بارے میں کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ہونے والی جدت ڈاکٹروں کو مریضوں کے زیادہ بہترعلاج کا اہل بنا رہی ہے۔

    امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اتھارٹی ( ایف ڈی اے) کی جانب سے ڈرماٹولوجی اسسٹ کو تاحال امریکا میں استعمال کی کلیرینس نہیں دی گئی ہے تاہم ایف ڈی اے نے پھیپھڑوں کے کینسر کی شناخت میں مدد دینے والے اسی نوعیت کے برطانوی ٹول کو استعمال کی منظوری دے دی ہے-

    گوگل سالانہ کانفرنس میں صارفین کے لئے نئے حیرت انگیز ٹولز پیش

  • گوگل سالانہ کانفرنس میں صارفین کے لئے نئے حیرت انگیز ٹولز  پیش

    گوگل سالانہ کانفرنس میں صارفین کے لئے نئے حیرت انگیز ٹولز پیش

    گوگل نے رواں برس اپنی سالانہ منعقدہ سادہ کانفرنس میں نصف درجن سے زائد حیرت انگیز اور انقلابی ٹولز کا اعلان کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : گوگل کی جانب سے پیش کردہ اہم ٹیکنالوجیز اور سہولیات کسی بھی وقت سامنے آ سکتی ہیں ان میں سے چند اہم سہولیات اور ٹیکنالوجی درج ذیل ہیں-

    تھری ڈی ورچوئل کانفرنس:
    گوگل نے سالانہ تقریب میں کہا ہے کہ وہ ایک نئے ویڈیو چیٹ سسٹم پر کام کررہا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کو تھری ڈی انداز میں دیکھ سکیں گے اور گفتگو مزید حقیقی بن جائے گی اسے ’اسٹارلائن‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں ویڈیو چیٹ بہت حقیقی دکھائی دے گی لیکن اسٹارلائن کے لیے ایک سے زائد کیمرے درکار ہوں گے۔

    گوگل کا اپنے سرچ انجن کے لیے ایک نئے شارٹ کٹ کا اضافہ

    ریموٹ ورک کے نئے ٹولز:
    کورونا وبا کی وجہ سے گزشتہ 14 ماہ سے ریموٹ ورک اور گھر سے کام کیا گیا اس ضمن میں کئی ٹولز موجود ہیں لیکن اب بھی بہت سی سہولیات درکار ہیں اسی ضرورت کے تحت گوگل نے کئی ایک ٹولز پیش کئے ہیں جو کام کو آسان بناتے ہیں ان میں ایک اسمارٹ کینوس ہے جو ایک طرح کا پروجیکٹ میجنمنٹ پلیٹ فارم ہے اس پر ایک سے زائد افراد منسلک ہوکر ایک پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے اپنا اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

    اسمارٹ کینوس کی مدد سے کسی پروجیکٹ پر کام کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے اور ہاتھوں ہاتھ پیشرفت سے بھی آگہی حاصل کی جاسکتی ہے اس کے علاوہ گوگل میٹ کو جلد ہی گوگل ڈاکیومنٹس سے جوڑا جائے اس طرح گفتگو کے ساتھ ساتھ دستاویز کا تبادلہ بھی کیا جاسکے گا علاوہ ازیں گفتگو کے ٹرانسکرپٹ اور تراجم بھی دیکھے جاسکتے ہیں جس کی سہولت گوگل پر پہلے سے ہی موجود ہے۔

    گوگل کی ویڈیو کانفرنسنگ سروس میں صارفین کے لئے اہم ترین اپ ڈیٹس

    اینڈروئڈ 12:
    گوگل نے اینڈروئڈ 12 آپریٹنگ سسٹم میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں اسے گوگل نے اپنی تاریخ میں سب سے بڑا ڈیزائن چینج کہا ہے اوپر ایک روشنی دی گئی ہے جو بتاتی ہے کہ کونسی ایپ کیمرہ اور مائیک استعمال کررہی ہے یعنی پرائیویسی کو بہت بہتر بنایا گیا ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی سوفیصد درست لوکیشن ظاہر نہ ہو بلکہ اطرافی موجودگی کا اظہار ہو تو اس کا آپشن بھی شامل کیا گیا ہے۔

    ’گوگل وائی فائی‘ ایپ کی وجہ سے اینڈرائیڈ صارفین کا ذاتی ڈیٹا غیرمحفوظ ،کمپنی نے…

    اے آئی اور جلد کا سرطان:
    اب گوگل اے آئی ایپ کی بدولت، ناخن، بالوں اور جلد کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ یہ کاسمیٹکس اور بناؤ سنگھار کے پس منظر میں بنائی گئی ہے۔ تاہم اس نے یورپ میں طبی ایپ کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرلیا ہے۔ یعنی اگر جلد کا سرطان لاحق ہوجائے تو بہت حد تک یہ ایپ اس کی پیشگوئی کرسکتی ہے۔

    اس کے علاوہ گوگل نے اپنے پلیٹ فارم سے مختلف زبانوں کی شمولیت اور بہتری، اے آئی فوٹو البم اور دیگر سہولیات بھی پیش کی ہیں۔

    گوگل کا کوکیز کی جگہ نیا ٹارگیٹڈ ایڈورٹائزمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ

  • ٹوئٹر نے صارفین کی تصدیق کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا

    ٹوئٹر نے صارفین کی تصدیق کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے اپنے صارفین کی تصدیق کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے-

    باغی ٹی وی :ٹوئٹر کی جانب سے اپنے صارفین کی تصدیق کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا گیا ہے اس سےقبل نومبر2017 ء میں اسےتنقید کےباعث بند کردیا گیا تھا۔


    ٹوئٹر ایپلیکشن پرتصدیقی عمل کا دائرہ آئندہ چند ہفتوں میں صارفین تک رفتہ رفتہ پھیلایا جائےگا، اس کےلیےصارف کو اکاؤنٹ سیٹنگ کےٹیب میں ہی سروس مہیا کی جائےگی۔

    ٹوئٹر کےمطابق چیک مارک کےساتھ تصدیق شدہ اکاؤنٹ، اکاؤنٹ کےدرست ہونے کو ظاہر کرے گا۔

    درست تصدیق کےلیےاکاؤنٹ ہولڈر کی پروفائل پکچر اورصحیح ای میل ایڈریس یا فون نمبر درکار ہوگا، ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ صارف اکاؤنٹ پر6 ماہ کے دوران، ایکٹو رہا ہو۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    ٹوئٹر نے 600 سے زائد فالوورز والے اکاؤنٹ پر آڈیو اسپیس کھول دیا

    ٹوئٹر کا کوویڈ 19 ویکسینز فیکٹ باکس کو صارفین کی ٹائم لائن کا حصہ بنانے کا فیصلہ

  • بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

    بیجنگ: دنیا کی سب سے مہنگی سمجھی جانی والی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کرپٹو کرنسی پر چین کی جانب سے عائد کی گئی، چین میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد اس کی قیمت میں تیزی سے کمی کا رجحان جاری ہے نئی پابندیوں کے بعد بٹ کوائن کی قیمت 40 ہزار ڈالر سے بھی نیچے آگئی ہے.

    چین نے کرپٹو کرنسی کی ٹرانزیکشن کی خدمات فراہم کرنے والی مالیاتی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی تھی، جب کہ تین ریاستی اداروں ’ نیشنل انٹرنیٹ فنانس ایسوسی ایشن آف چائنا‘ ، ’چائنا بینکنگ ایسوسی ایشن‘ اور’پیمنٹ اینڈ کلیرنگ ایسوسی ایشن ‘ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وارننگ جاری کی تھی اورکرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو سٹہ قرار دیتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو تنبیہ بھی کی تھی۔

    چینی حکومت کے اس اقدام کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں 13 فیصد، جبکہ دیگر ڈیجیٹل کوائن ایتھریم، ڈوج کوائین کی قیمت میں 18 فیصد کمی ہوئی۔

    جبکہ گزشتہ ہفتے ٹیسلا کی جانب سے بٹ کوائن کووصول نہ کرنے کے اعلان سے اس کی قیمت میں 10 سے زائد کی کمی ہوگئی تھی۔

    یاد رہے کہ چین نےمنی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے 2019 سے بٹ کوائن کی تجارت کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے، لیکن لوگوں کی جانب سے بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسی کی ٹریڈ نے بیجنگ کی مشکلات میں اضافہ کررکھا ہے-

    بٹ کوئن کی قیمت میں کمی کے بعد سے مایئکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرپٹو کریش اور بٹ کوئن کریش ٹوئٹر ٹرینڈ فہرست پر نمبر ون پر ہیں-بٹ کوئن انویسٹرز پر مزاحیہ میمز شئیر کی جارہی ہیں-


    https://twitter.com/Zackrhea/status/1394997346044317699?s=20


    https://twitter.com/ParasharSpeaks/status/1395021102926032896?s=20


    https://twitter.com/Zackrhea/status/1395002362649923590?s=20
    https://twitter.com/NavitaB3/status/1395069916378771456?s=20
    https://twitter.com/readythefool/status/1395179161673637891?s=20

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    ٹیسلا نے ماحولیاتی تحفظات کے تناظرمیں بٹ کوائن لینے سے انکار کر دیا

    وقار ذکاء خیبرپختونخواہ حکومت کیجانب سے کرپٹو کرنسی کے ایکسپرٹ مقرر