Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اسمارٹ فون میں ٹرانسلیشن کا حیرت انگیز ٹول

    اسمارٹ فون میں ٹرانسلیشن کا حیرت انگیز ٹول

    سلیکان ویلی: اسمارٹ فون میں ٹرانسلیشن کا ایسا بہترین ٹول جو بہت ہی آسانی سے مختلف زبانوں میں آنے والے پیغام کا مطلوبہ زبان میں ترجمہ کر دیتا ہے۔

    باغی ٹی وی : بیرون ملک کاروباری بات چیت کرنے والے یا فری لانسرزکو سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسلیشن کا پیش آتا ہےلیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے اسمارٹ فون میں ٹرانسلیشن کا ایسا بہترین ٹول موجود ہے جوبہت ہی آسانی سے مختلف زبانوں میں آنے والے پیغام کا مطلوبہ زبان میں ترجمہ کر دیتا ہے۔

    اینڈرائیڈ اور ایپل آئی فون صارفین کی بڑی تعداد کی بورڈ گوگل کا ’جی بورڈ‘ یا پھر مائیکروسافٹ کا ’سوئفٹ کی‘ استعمال کرتی ہے۔

    جی بورڈ ٹرانسلیشن فنکشن اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں ڈیوائسز پر یکساں کام کرتا ہے اگرچہ سوئفٹ کی اینڈرائیڈ اور ایپل آئی فون دونوں آپریٹنگ سسٹمز پر کام کرتا ہے لیکن اس کا ٹرانسلیشن کا فیچر صرف اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

    اینڈرائیڈ فون پر پیغامات کا ترجمہ کرنے کاطریقہ

    1۔ اگر آپ کے پاس پہلے سے جی بورڈ نہیں تو گوگل پلے اسٹور سے اسے انسٹال کرلیں۔

    2۔ سیٹنگ کو اوپن کریں، ’ Keyboard & input method‘ یا ’ Languages & input‘ سرچ کریں۔

    3۔ مینیج کی بورڈز پر کلک کرکے جی بورڈ کو ڈیفالٹ کی بورڈ بنائیں۔

    4۔ اب اپنا میسج باکس کھولیں، جب آپ جی بورڈ پر ٹائپ کریں گےتو کیز کے اوپر آپ کو ٹرانسلیشن کا آئیکون نظر آئے گا۔

    5۔ اس آئیکون پر کلک کرکے ٹرانسلیشن موڈ آن کردیں-

    6۔ اپنی مطلوبہ ان پُٹ اور آؤٹ پُٹ زبانوں کو منتخب کریں، جو پیغام بھیجنا ہے اُسے ٹائپ کریں اور ٹرانسلیٹ میسج پر کلک کردیں۔

    7۔ ترجمہ شدہ پیغام میسج کے خانے میں نظر آئے گا آپ چاہیں تو اسے آگے بھیج دیں یا اس میں ترمیم کرلیں۔

    8۔ اسی طرح جب آپ کو کسی دوسری زبان میں پیغام موصول ہو تو مطلوبہ پیغام کو کاپی کرکے ٹرانسلیشن باکس میں پیسٹ کرنا ہوگا۔

  • عام پودا جیٹروفاکرکاس میں دریافت مرکب کینسر کیخلاف لڑائی میں نیا ہتھیار

    عام پودا جیٹروفاکرکاس میں دریافت مرکب کینسر کیخلاف لڑائی میں نیا ہتھیار

    نیویارک: پوردوا یونیورسٹی اور اسکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے بہتات میں اگنے والے عام شرب جیٹروفا کرکاس سے ایک نیا مرکب نکالا ہے جو ایسے کینسر پروٹین پر اثر انداز ہوتا جو اس سے قبل کسی بھی دوا سے قابو نہیں آرہا تھا۔

    باغی ٹی وی: کینسر کے مرض میں خلیات مرتے نہیں بلکہ گچھے اور رسولی کی صورت میں جمع ہوجاتے ہیں اس کے بعد وہ بدن کے دوسرے حصے میں پھیلتے جاتے ہیں اپنی تعداد بڑھانے کے لیے کینسر کے خلیات دیگر صحت مند خلیات کے ڈی این اے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

    بعض اقسام، مثلاً دماغ، چھاتی، آنت، پھیپھڑے اور جگر کے کینسر میں بی آر اے ٹی ون (BRAT1 ) نامی پروٹین ہی ڈی این اے کے تباہی اور مرمت کے تمام معاملات کو کنٹرول کرتا ہے اس پروٹین کا علاج کرکے ان اقسام کے کینسر کو بڑی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی کہ اب تک اس پروٹین پر اثرکرنے والی کوئی دوا نہیں بنائی جاسکی ہے۔

    اس دریافت کے اہم سائنسدان پروفیسر منگجائی ڈائی نے کہا کہ جہاں تک کینسر خلیات کو مارنے اور انہیں دوسرے مقام تک روکنے کے لیے ہمارے پاس بہت سے مرکبات ہیں لیکن بی آر اے ٹی ون کو روکنے والا کوئی ادویاتی مرکب ہمارے پاس نہ تھا-

    سائنسدانوں نے کرکیوسون اے، بی، سی اور ڈی کو تجربہ گاہ میں بریسٹ کینسر کے خلیات پرآزمایا اس میں کرکیوسون ڈی بہت مؤثر دیکھا گیا جس نے سرطانی رسولی کو چھوٹا کردیا جب اسے ایک دوا ایٹوپوسائڈ کے ساتھ ملاکر استعمال کیا گیا تو مزید اچھا نتیجہ نکلا۔ واضح رہے کہ یہ دوا بریسٹ کینسر میں عام استعمال ہوتی ہے اور ایف ڈی اے سے منظورشدہ بھی ہے۔

    لیکن فی الحال ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ جیٹروفا کی جڑوں سے کرکیوسون ڈی کو نکالنا بہت مشکل ہے کیونکہ بہت ساری جڑوں سے اس کی معمولی مقدار ہی نکل پاتی ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے تجربہ گاہ میں تالیف کرنے کی کوشش کی جائے گی سائنسدان پرامید ہیں کہ اس طرح مرکب کی قدرے خاص حالت مل سکے گی –

    یاد رہے کہ جیٹروفا کرکاس امریکا بھر میں عام پایا جاتا ہے جو اس سے قبل بایوفیول کی تیاری میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اس پیڑ سے ’کرکیوسونس‘ نامی کئی مرکبات حاصل ہوئے ہیں۔ اپنی ساخت کی بنا پر یہ دیگر مرکبات سے بہت مختلف ہیں اور ان میں کئی طرح کی حیاتیاتی سرگرمیاں بھی دیکھی گئی ہیں توقع ہے کینسر کے خلاف لڑائی میں نئے ہتھیار اسی پیڑ سے حاصل ہوسکیں گے۔

  • ایک کروڑ80 لاکھ مربع کلومیٹرسمندری علاقےکومحفوظ بنانےکیلئےعالمی منصوبہ

    ایک کروڑ80 لاکھ مربع کلومیٹرسمندری علاقےکومحفوظ بنانےکیلئےعالمی منصوبہ

    ورجینیا: ہمارے سمندروں کو کئی عارضے لاحق ہوچکے ہیں تاہم اب ان سمندروں کو محفوظ کرنےا کا ایک عالمی منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے

    باغی ٹی وی : تحقیقی ہفت روزہ جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 80 لاکھ مربع کلومیٹر سمندری علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی منصوبہ شروع کیا گیا ہے جسے ’بلیو نیچر الائنس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    بلیو نیچر الائنس میں کئی ادارے اور فلاحی تنظیمیں ہیں جو مل کر پانچ برس تک اس منصوبے پر کام کریں گی۔ ابتدا میں اہم نوعیت کے تین بحری مقامات یعنی فجی کے قریب واقع لاؤ سی اسکیپ، انٹارکٹیکا میں سدرن اوشن اور جنوبی بحرِ اٹلانٹک میں ٹرسٹان ڈی کنہا کے تحفظ اور بحالی پر کام کیا جائے گا۔
    https://twitter.com/nature/status/1383061640451604483?s=20
    بلیو نیچر الائنس میں شامل اوشن یونائٹ نامی تنظیم کی سربراہ کیرن سیک کہتی ہیں کہ ہمارے سمندر بحران کے شکار ہیں اور ان کی نوعیت بہت پیچیدہ ہے۔ عالمی منصوبے کے تحت بحری نوعیت کے اہم علاقوں کے تحفظ اور فطری مقامات کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس دوران مقامی آبادیوں کو منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔

    سائنسداں متفق ہیں کہ اگر ہمارے سمندر تندرست اور صاف رہتے ہیں تو انسان کی بقا بھی انہی سے وابستہ ہے۔ آلودگی اور پلاسٹک کا کچرا تیزی سے سمندر میں پھیل رہا ہے اور اب جانوروں کی بڑی تعداد کو ہلاک کررہا ہے۔

    ہم انسان ہر سال640,000 ٹن کچرا اور پلاسٹک سمندر میں ڈال رہے ہیں۔ ان میں ماہی گیری کے پرانے جال بھی ہیں جن میں وہیل سے لے کر کچھوے تک پھنس کر مر رہے ہیں۔

    سمندر ہمیں غذا اور دنیا کی نصف آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ پھرعالمی حدت اور کلائمٹ چینج سے سمندروں کی تپش بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب کورل ریف اور مرجانی چٹانیں تباہ ہورہی ہیں جو اکثر سمندری حیات کی نرسریاں اور گھر ہوتی ہیں۔ پھر پوری دنیا میں بحری سطح بلند ہورہی ہے اور سمندر کی لہریں ساحلوں کو کاٹ رہی ہیں۔

    معاہدے کے تحت فوری طور پر سمندری اور ساحلی علاقوں کا اہم ترین 30 فیصد حصہ بچایا جائے گا اور اس میں اقوامِ متحدہ کی تائید ومدد بھی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ بحری تحفظ والے علاقوں (مرین پروٹیکٹڈ ایریاز) یا ایم پی اے میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور مناسب وسائل خرچ کیے جائیں گے۔

    اگرچہ 2020ء تک دس فیصد عالمی سمندر کو محفوظ کرنا تھا لیکن یہ ہدف 7.65 ہی حاصل ہوسکا ۔ تاہم 1985ء سے تحفظ شدہ بحری علاقوں کی تعداد 430 سے بڑھ کر اب 18500 ہوچکی ہے جو ایک اچھا قدم ہے۔

    لیکن اب بھی بہت بڑے ایم پی ایز علاقوں میں ماہی گیری، کان کنی اور ڈرلنگ وغیرہ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے اس مشقت کے باوجود سمندری علاقوں کو تحفظ شدہ علاقے قرار دینے کی اسکیم پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان علاقوں میں مرجانی چٹانیں تیزابیت اور تباہی کی شکار ہورہی ہیں۔

    دوسری جانب اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ سمندری مسکن اور علاقوں کو بچانے سے نازک بحری حیات کا بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور وہاں نایاب جانوروں کی نسل خیزی کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے تاہم بلیو نیچر الائنس کے اس اقدام کو دنیا بھر کے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات نے مجموعی طور پرسراہا ہے۔

  • پاکستانی انڈر گریجویٹ طلبا کا کارنامہ :ملک کا پہلا مائیکرو پراسیسر ڈیزائن کر لیا

    پاکستانی انڈر گریجویٹ طلبا کا کارنامہ :ملک کا پہلا مائیکرو پراسیسر ڈیزائن کر لیا

    کراچی : آئی ٹی انجینئرنگ کے تدریسی ادارے عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے انڈر گریجویٹ طلبا نے پاکستان کا پہلا مائیکرو پراسیسر ڈیزائن کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی :مائیکروپراسیسرز کی 500ارب ڈالر سے زائد کی گلوبل مارکیٹ میں اپنا مقام بنانے کے لیے پاکستان کا پہلا قدم ہے تفصیلات کے مطابق گوگل کے اشتراک سے اوپن سورس ٹیکنالوجیز کو بروئے کارلاتے ہوئے 2 سسٹم آن چپ مائکرو پراسیسرز سوئیٹزرلینڈ میں واقع عالمی ادارے کے تشکیل کردہ اوپن اسٹینڈرڈ انسٹرکشن سیٹ آرکیٹکٹ RISC-V پر مشتمل ہے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں پاکستان کی خود انحصاری کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ مائیکروپراسیسر پاکستان کی آئی ٹی انجینئرنگ کے تدریسی ادارے عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پاکستان کی پہلی مائیکرو الیکٹرانکس ریسرچ لیبارٹری میں سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز پر ہونے والی تحقیق کا نتیجہ ہے اور پی ایچ ڈی ماہر ڈاکٹر علی احمد انصاری کی نگرانی میں انڈر گریجویٹ طلبہ نے ڈیزائن کیے ہیں۔

    پاکستان میں ڈیزائن کیے گئے یہ مائیکرو پراسیسرز گوگل کے ایک فنڈڈ پروگرام کے تحت ڈیزائن کیے گئے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں ڈیزائن ہونے والے 40 اوپن سروس پراسیسرز میں منتخب کیے گئے جو آئندہ ماہ تک چپ کی شکل میں تیار ہوکر پاکستان آجائیں گے اور پاکستان کے پہلے RISC-V مائیکرو پراسیسر ہوں گے۔

    اس پراسیسر کو براق کا نام دیا گیا ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے ایک کو ابتداء اور دوسرے کو غازی کا نام دیا گیا ہے یہ پراسیسرز انٹرنیٹ آف تھنگز پر مشتمل سلوشنز کے لیے کار آمد ہوں گے اور مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے طریقوں سے انسانی زندگی آسان بنانے والی برقی مصنوعات، گاڑیوں اور مشینوں میں نصب کیے جاسکیں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں پہلے مائیکروپراسیسرز کی تیاری کا سہرا کراچی کے نوجوان آئی ٹی ماہر ڈاکٹر علی احمد انصاری کے سر ہے جنہوں نے دنیا کے کسی بھی ملک میں سکونت اختیار کرنے کے مواقع ٹھکراتے ہوئے پاکستان آکر اپنی صلاحیتیں ملک و قوم کے لیے بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا۔

    ڈاکٹر علی احمد انصاری نے سندھ ٹیکنیکل بورڈ سے ریڈیو الیکٹرانکس میں صوبہ بھر میں میٹرک میں پہلی پوزیشن حاصل کی، ڈی جے سائنس کالج سے پری انجینئنرنگ کرکے این ای ڈی کا رخ کیا جہاں الیکٹرانکس ڈپارٹمنٹ میں داخلہ لیا اور یہاں سے بی ای الیکٹرانکس کرنے کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اسکالرشپ پر جنوبی کوریا سے الیکٹرانکس اور کمیونی کیشن انجینئرنگ میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی مکمل کیا۔

    ڈاکٹر علی احمد انصاری ہیلتھ کیئر ایڈوانس سائنس پر تحقیق کے عالمی ادارے Elsevier کے ایڈوائزری پینل کا حصہ ہیں، انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران دو ایجادات اپنے نام کیں اور ٹی وی ایل ایس آئی اور ٹی سی اے ایس جیسی فیلڈز میں ان کے تحقیقی مقابلے عالمی جریدوں کا حصہ بنے۔

    علاوہ ازیں انہیں یورپ کے بہترین ٹیلنٹ انویسٹمنٹ کمپنی انٹرپرنیورز فرسٹ کے کو ہورٹ ممبر کے طور پر منتخب کیا گیا اور برطانیہ نے انہیں گلوبل ٹیلنٹ قرار دیتے ہوئے برطانیہ کا ویزا جاری کیا۔

    پاکستانی طلبہ نے نابینا افراد کے لئے دنیا کی سستی ترین ڈیجیٹل اسٹک تیار کر لی

  • واٹس ایپ نے اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کے نوٹیفیکشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا

    واٹس ایپ نے اپنی نئی پرائیویسی پالیسی کے نوٹیفیکشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا

    فیس بک کی زیرملکیت کمپنی واٹس ایپ کی جانب سے ایک بار پھر پالیسی کے حوالے سے نوٹیفکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ نے 4 جنوری 2021 کو دنیا بھر میں صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی اور اصول و ضوابط میں تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کے لیے نوٹیفکیشنز بھیجنا شروع کیے تھے کہ نئی پالیسی کا نفاذ 8 فروری سے ہوگا ورنہ ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے جائیں گے تاہم لوگوں کے شدید ردعمل پر پرائیویسی پالیسی کا اطلاق 15 مئی تک ملتوی کردیا گیا تھا۔


    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی سائٹ ویب بیٹا انفو WABetaInfo نے بتایا کہ میسجنگ ایپ میں صارفین کو نئی پالیسی کے حوالے سے آگاہ کرنے کے لیے الرٹس بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

    تاہم اس بار کمپنی کی جانب سے یہ نوٹیفکیشنز ان صارفین کو بھیجے جارہے ہیں جن کی جانب سے اب تک نئی پالیسی کو قبول نہیں کیا گیا۔

    یعنی اگر جنوری میں آپ اس طرح کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرنے کی بجائے اسے قبول کرچکے ہیں تو آپ کو دوبارہ پالیسی کے بارے میں رائے نہیں لی جائے گی۔


    فوٹوز بشکریہ ویب بیٹا انفو

    نئے نوٹیفکیشن کے اسکرین شاٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی کی جانب سے صارفین کو بتایا جارہا ہے کہ نئی پالیسی اور اصول و ضوابط کا اطلاق 15 مئی سے ہوگا۔

    کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تبدیلی کے باوجود واٹس ای میں تمام چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوں گی، جبکہ کاروباری اداروں سے چیٹ کو آسان بنایا جارہا ہے، جس کا کچھ حصہ فیس بک سے شیئر کیا جاسکتا ہے، مگر یہ آپشنل ہوگا یعنی صارف کو ہی اس کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    مزید براں صارفین کو یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کاروباری ادارے ان سے کی گئی چیٹس کا انتظام کس طرح کرتی ہے۔

    رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نئی پالیسی کو قبول نہ کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوگا مگر اس حوالے سے فروری میں ایک رپورٹ میں تفصیلات سامنے آئی تھیں۔

    معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کو اپنی مرضی اور اپنے ٹائم فریم کے تحت پالیسی کا جائزہ لینے کی سہولت فراہم کریں گے اور یاد دہانی کے لیے ایک بینر بھی ایپ پر نظر آتا رہے گا۔

    واٹس ایپ نے پرائیویسی سے متعلق یہ وضاحت ایک ای میل کے جواب میں دی جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ سہولت 15 مئی تک دستیاب رہے گی اور اس کے بعد شرائط تسلیم نہ کرنے والوں کو راضی کرنے کے لیے بتدریج مطالبہ کیا جائے گا۔

    ای میل میں مزید کہا گیا ہے کہ 15 مئی کے بعد شرائط تسلیم نہ کرنے والے ایپ پر آنے والے میسیجز نہیں پڑھ سکیں گے تاہم انہیں مختصر وقت کے لئے نوٹیفکیشن اور کالز موصول کرنے کی سہولت میسر رہے گی۔

    ای میل کے مطابق یہ ‘مختصر وقت’ کئی ہفتوں کا ہوگا جبکہ ایف اے کیو کا نیا پیج کا لنک بھی دیا گیا جس میں ایسے صارفین کے حوالے سے اقدامات کی تفصیلات دی گئی ہے۔

    کمپنی کی جانب سے غیرمتحرک کیے جانے والے صارفین کو 15 مئی کے بعد بھی نئی پالیسی یا اپ ڈیٹس کو قبول کرنے کی سہولت دی جائے گی اور ان کے میسجز بحال کردیئے جائیں گے۔

    ایسے غیرمتحرک صارفین کے حوالے سے واٹس ایپ کی پالیسی میں واضح کیا گیا کہ اکاؤنٹس عام طور پر غیرمتحرک ہونے کے 120 دن بعد ڈیلیٹ کیے جاتے ہیں۔

    واٹس ایپ کا صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی پر نظر ثانی کا موقع

    واٹس ایپ چیٹ کو محفوظ بنانے کے چار طریقے

  • اسوس کمپنی منفرد کیمرے کیساتھ نئے فلیگ شپ فون متعارف کرانے کیلئے تیار

    اسوس کمپنی منفرد کیمرے کیساتھ نئے فلیگ شپ فون متعارف کرانے کیلئے تیار

    تائیوان کی کمپنی اسوس اپنے نئے فلیگ شپ فون متعارف کرائے گی-

    باغی ٹی وی : کمپنی نے اگست 2020 میں اپنے فلیگ شب زین فون 7 اور 7 پرو متعارف کرائے تھے جن میں کیمرا سسٹم پر خاص طور پر توجہ دی گئی تھی کمپنی نے زین فون 7 سیریز میں اپنے پرانے فونز میں دیئے گئے فلپ اپ کیمرے کو پہلے سے بہتر بناکر نئی ڈیوائسز کا حصہ بنایا۔

    دونوں میں سیلفی کیمرا نہیں تھا بلکہ بیک فلپ کیمرا سسٹم ہی سیلفی لینے میں مدد دیتایہ بیک فلپ کیمرا سسٹم 3 کیمروں پر مشتمل تھا-

    تاہم اب یہ کمپنی اپنے نئے فلیگ شپ فون متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

    جی ایس ایم ارینا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسوس کمپنی 12 مئی کو ایک ایونٹ میں نئے فونز متعارف کرائے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے کمپنی نے ایک خصوصی ویب سائٹ بھی تیار کی ہے۔

    کمپنی کے مطابق اس بار صارفین کو زیادہ بہترین کارکردگی اور کامپیکٹ سائز کی توقع رکھنی چاہیے۔

    فوٹو بشکریہ جی ایس ایم ارینا

    فون کے بارے میں زیادہ تو علم نہیں مگر اسنیپ ڈراگون 888 پراسیسر دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ اس بار زین فون 8 اور 8 پرو کے ساتھ 8 منی بھی یش کیا جاسکتا ہے۔

    جی سی ایم ارینا کے مطابق اس سیریز میں 8 سے 16 جی بی ریم دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ اینڈرائیڈ 11 آپریٹنگ سسٹم موجود ہوگا۔

    ڈیوائسز میں 120 ہرٹز ریفریش ریٹ موجود ہوگا جبکہ پی ٹی زی کیمرا سسٹم اس بار بھی کیمرا سسٹم منفرد ہوگا یا کم از کم تصویر پر 8 کے ہندسے یہی عندیہ ملتا ہے۔

  • فیس بک نیوز فیڈ کو بہتر بنانے کے لئے صارفین کی مدد کی خواہاں

    فیس بک نیوز فیڈ کو بہتر بنانے کے لئے صارفین کی مدد کی خواہاں

    فیس بک نے نیوز فیڈ میں صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے صارفین سے مدد چاہتی ہے۔

    باغی ٹی وی :فیس بک نیوز روم کے مطابق آئندہ چند ماہ کے دوران کمپنی کی جانب سے لوگوں سے ان کو نظر آنے والی پوسٹس پر فیڈبیک اکٹھا کیا جائے گا لوگوں کی رائے کو نیوز فیڈ میں مواد دکھانے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    اس مقصد کے لیے فیس بک کی جانب سے عالمی سطح پر لوگوں سے سروے کرکے سمجھا جائے گا کہ کونسی پوسٹس متاثر کن ہوتی ہیں، جو کمپنی کے بقول لوگ اپنی نیوزفیڈ پر زیادہ دیکھنا چاہتے ہیں۔


    اس کے بعد کمپنی کی جانب سے اس طرح کا مواد نیوزفیڈ پر اوپر دکھانے پر کام کیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ فیس بک کی جانب سے لوگوں سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ کونسے مخصوص موضوعات کی پوسٹس اپنی فیڈ پر زیادہ یا کم دیکھنا چاہتے ہیں۔

    بلاگ میں بتایا گیا کہ اگرچہ نیوزفیڈ کی پوسٹس صارف کے فرینڈز، گروپس اور پیجز (جن کو وہ فالو کرتا ہے) کی ہوتی ہیں، مگر ہم جانتے ہیں کہ قریبی دوست اور گھروالے بھی ایسی پوسٹس شیئر کرتے ہیں جن میں آپ کو دلچسپی نہیں ہوتی، یا آپ ان کو دیکھنا نہیں چاہتے۔

    فیس بک نے یہ بھی بتایا کہ وہ لوگوں کی جانب سے نیوزفیڈ پر سیاسی مواد کے حوالے سے بھی رائے حاصل کرے گی۔

    کمپنی کے مطابق یہ ایک حساس شعبہ ہے تو آئندہ چند ماہ کے دوران ہماری جانب سے یہ سمجھنے ہر کام کیا جائے گا کس طرح کا مواد منفی تجربات سے منسلک ہے، مثال کے طور پر ایسی پوسٹس کو دیکھا جائے گا جن پر اینگری ری ایکشنز بہت زیادہ تعداد میں ہو اور پوچھا جائے گا کہ کس طرح کی پوسٹس لوگ کم دیکھنا چاہتے ہیں۔

    کمپنی کی جانب سے ایک نئے ڈیزائن کی آزمائش کی جائے گی جس میں صارفین اوپر دائیں کونے میں ایکس پر کلک کرکے کسی پوسٹ کو نیوز فیڈ سے ہائیڈ کرسکیں گے۔

    فیس بک نے نیوز فیڈ سے متعلق نئے فیچرز متعارف کرا دیئے

    فیس بک پوڈ کاسٹ پر مشتمل نیا فیچر متعارف کرائے گی

    فیس بک نے رمضان المبارک سے متعلق نیا فیچر متعارف کرا دیا

    فیس بک کی مختلف گروپس کیلئے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے فیچر کی آزمائش

    فیس بک نے نفرت اور نسل کی بنا پر نازیبا جملوں کو روکنے کا ایک اہم ٹول پیش کردیا

  • یوٹیوب اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس میں اہم تبدیلی متعارف

    یوٹیوب اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس میں اہم تبدیلی متعارف

    ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس میں ایک اہم تبدیلی کو متعارف کرایا ہے-

    باغی ٹی وی :یوٹیوب پر کسی ویڈیو کو پلے کرنے پر ریزولوشنز کی ایک فہرست دی جاتی ہے جس میں آٹو آپشن کے ساتھ مختلف ریزولوشنز کے آپشن ہوتے ہیں آٹو آپشن ویڈیو کوالٹی کو انٹرنیٹ کنکشن کی رفتار کے مطابق ایڈجسٹ کرتا ہے۔

    مگر اب نئی تبدیلی کے تحت ویڈیو کے کوالٹی مینیو میں 4 آپشنز موجود ہوں گے آٹو، ہائر پکچر کوالٹی، ڈیٹا سیور اور ایڈوانسڈ۔

    فوٹو بشکریہ یو ٹیوب
    آٹو آپشن تو پہلے کی طرح ہی کام کرے گا جبکہ ہائر پکچر کوالٹی سیٹنگ بہتر معیار کے لیے زیادہ ڈیٹا استعمال کرے گی جبکہ سیٹنگ میں تیزرفتار وائی فائی کنکشن پر بھی ویڈیو 720 پی پر اسٹریم ہوگی۔

    ڈیٹا سیور موڈ میں کم ڈیٹا خرچ ہوگا اور پکچر کوالٹی 480 پی تک محدود ہوجائے گی تاہم تیزرفتار کنکشن پر 720 پی ریزویوشن بھی ویڈیو کا حصہ بنے گی۔

    ایڈوانسڈ مینیو میں ویڈیو ریزولوشنزن کی مکمل فہرست دیکھی جاسکے گی مگر اس کا اطلاق صرف اوپن ویڈیو پر ہی ہوگا تاہم ڈیفالٹ ویڈیو کوالٹی سیٹ کرنے کے لیے سیٹنگز میں جاکر ویڈیو کوالٹی اور پھر پریفرنس مینیو میں جاکر موبائل نیٹ ورکس اور وائی فائی ہر ڈیفالٹس سیٹنگز کو سیٹ کرنا ممکن ہے۔

    یہ فیچر اب صارفین کے لیے متعارف کرادیا گیا ہے مگر ہر ایک تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے گااس نئی تبدیلی سے صارفین موبائل ڈیٹا کو یادہ بہتر طریقے سے بچاسکیں گے۔

  • واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار    دبئی پولیس

    واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار دبئی پولیس

    دبئی: بھکاریوں کے خلاف تازہ کارروائی میں دبئی پولیس نے واٹس ایپ کے ذریعے اپنی دکھ بھری داستان سنا کر بھیک مانگنے والا بھکاری گرفتار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :د بئی پولیس کے مطابق انہوں نے ایک عرب ’سائبر بھکاری‘ گرفتار کیا ہے جو مقامی واٹس ایپ صارفین کے نمبر حاصل کرکے انہیں اپنی دکھ بھری داستان لکھ بھیجتا تھا اور ’اللہ کے نام پر‘ مالی امداد مانگتا تھا۔


    اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں دبئی پولیس نے عوام کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ درد بھری کہانیاں سنانے والے بھکاریوں کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ یہ جعلساز ہوتے ہیں اور ان کا واحد مقصد عام لوگوں کو بے وقوف بنا کر رقم اینٹھنا ہوتا ہے۔

    ٹویٹ میں ’سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بھکاریوں‘ سے متعلق بتایا گیا کہ جو رمضان کے مقدس مہینے میں زکوۃ، صدقات و خیرات سمیٹنے کےلیے سرگرم ہوگئے ہیں اور منظم گروہوں کی شکل میں کام کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق، وہاں بھیک مانگنے والوں، بھیک منگوانے والوں اور بھیک منگوانے کی غرض سے مقامی یا غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے والوں کےلیے سخت سزا کے علاوہ ان پر ایک لاکھ درہم جرمانہ بھی کیا جا رہا ہے۔

  • فلوباٹ: اینڈروئڈ موبائلز کا انتظام سنبھالنے والا خطرناک سافٹ وئیر

    فلوباٹ: اینڈروئڈ موبائلز کا انتظام سنبھالنے والا خطرناک سافٹ وئیر

    لندن : ماہرین اینڈروئڈ فونز کو نقصان پہنچانے والے ایک ٹیکسٹ میسج کی شکل میں بھیجے گئے پیغام سے خبردار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق پیکج ڈیلیوری کمپنی کی جانب سے بھیجنے کا دعویٰ کرنے والے اس پیغام میں صارفین کو ایک ٹریکنگ ایپ انسٹال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے لیکن اصل میں یہ ایک خطرناک قسم کا ‘سپائی ویئر’ ہوتا ہے یہ پورے برطانیہ میں پھیل گیا ہے –

    اسے ‘فلو باٹ’ کا نام دیا جا رہا ہے اور یہ جس فون میں داخل ہوتا ہے اس کا انتظام سنبھالنے کے بعد اس سے خفیہ معلومات اکھٹی کرتا ہے جیسے بینک سے متعلق معلومات وغیرہ۔


    نیٹ ورک آپریٹر ووڈا فون کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے آگاہی کے لیے لاکھوں ٹیکسٹ میسیجز پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں۔

    ووڈا فون کے ایک ترجمان کے مطابق ہمارے اندازے کے مطابق فلوبوٹ کی یہ موجودہ لہر کو بہت جلد بہت زیادہ پذیرائی ملے گی اور یہ ایک ایسی چیز ہے جسے روکنے کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے۔


    انھوں نے کہا کہ صارفین کو اس مخصوص خطرناک سافٹ ویئر سے ہوشیار رہنا ہو گا اور ٹیکسٹ میسیجز پر موصول ہونے والے کسی بھی پیغام میں دیے گئے لنک پر کلک کرنے سے قبل احتیاط برتنی ہو گی۔

    دیگر برطانوی نیٹ ورکس جیسے ‘ای ای’ اور ‘تھری’ نے بھی اس حوالے سے صارفین کو متنبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    برطانیہ کے قومی سائبر سکیورٹی مرکز (این سی ایس سی) نے اس حوالے سے موجود خطرے کے بارے میں ہدایات جاری کی ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر آپ نے حملہ کرنے والی ایپلیکیشن غلطی سے ڈاؤن لوڈ کر دی ہے تو آپ نے کیا کرنا ہے۔

    این سی ایس سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر صارفین نے غلطی سے لنک پر کلک کر دیا ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ ایسے متعدد طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے اکاؤنٹس اور ڈیوائسز کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    اس میل ویئر کی یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ متاثرہ صارف کے جاننے والوں کے نمبروں پر بھی یہ پیغام بھیج سکتا ہے۔

    اس حوالے سے ایک واضح خطرہ موجود ہے کہ ایک خطرناک ایپلی کیشن صارف کے سمارٹ فون پر انسٹال کی جا سکتی ہے جو لا تعداد ٹیکسٹ میسیجز بھیجنا شروع کر دے۔

    صارفین کے لیے جو بڑا خطرہ موجود ہے وہ ان کے انتہائی ذاتی ڈیٹا کے لیے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

    جہاں اس ٹیکسٹ میسیج سکیم میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ پیکج ڈلیوری کمپنی کی جانب سے بھیجے گئے ہیں ان کی جانب سے فی الحال فشنگ یعنی ذاتی مالی معلومات اور دیگر معلومات کے بارے میں فارم بھروائے جاتے ہیں۔

    یہ نئی لہر اس طرح مختلف ہے کہ یہ خطرناک سافٹ ویئر موبائل میں خود ہی انسٹال ہو جاتا ہے اور کیونکہ اس کے پھیلاؤ کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔

    اگر کوئی اینڈروئڈ فون کا استعمال کرتے ہوئے اس لنک پر کلک کرتا ہے تو انھیں ایک ایسے پیج پر لے جایا جائے گا جو یہ ‘وضاحت’ کرتا ہے کہ آپ پارسل ٹریکنگ ایپ انسٹال کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے اور ایسا اے پی کے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    اے پی کے فائلز دراصل اینڈروئڈ ایپس کو محفوظ گوگل پلے سٹور کے بغیر انسٹال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ عام طور پر ایسی ایپلی کیشنز کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بلاک کر دیا جاتا ہے لیکن اس سلسلے میں یہ پیج دراصل ایسی ہدایات دیتا ہے جس کے ذریعے انسٹالیشن کی جا سکتی ہے۔

    ایپل آئی فون صارفین اس مسئلے سے فی الحال دوچار نہیں ہیں کیونکہ وہ اینڈرائڈ کی اے پی کے فائلز انسٹال نہیں کر سکتے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ‘اس حملے کے کامیاب ہونے کے شرح بہت کم ہو گی’ کیونکہ اس حوالے سے خاصی مشکلات آڑے آ سکتی ہیں۔

    موبائل یو کے نامی ادارے نے کہا ہے کہ صارفین جنھیں یہ خطرناک پیغام موصول ہوتا ہے وہ اسے 7726 پر فارورڈ کر سکتے ہیں تاکہ اس کے حوالے سے مزید تحقیق کی جا سکے، بعد میں بےشک اسے ڈیلیٹ کر دیں۔