Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پی ٹی اے نے پی ٹی سی ایل کو مزید 25 سال کام کرنے کا لائسنس جاری کر ديا گیا

    پی ٹی اے نے پی ٹی سی ایل کو مزید 25 سال کام کرنے کا لائسنس جاری کر ديا گیا

    اسلام آباد:پاکستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام سروسز کا آغاز کرنے سرکاری کمپنی پی ٹی سی ایل کا لائسنس مزید 25 سال کے لیے جاری کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پی ٹی سی ایل کے لائسنس کی تجدید کر دی لائسنس کی تجدید کے تحت پی ٹی سی ایل کو پاکستان میں مزید 25 سال کام کرنے کا لائسنس جاری کر ديا گیا۔

    پی ٹی سی ایل کا 25 سالہ لائسنس31 دسمبر 2020 کو ختم ہوگیا تھا۔ لائسنس کی تجدید کے بارے میں اسٹاک ایکسچینج اور شیئر ہولڈرز کو آگاہ کر دیا ہے نئے لائسنس کا اطلاق یکم جنوری 2021 سے ہوگیا ہے۔

    پی ٹی سی ایل کے ترجمان نے بتایا کہ پی ٹی اے کو 2018 میں لائسنس میں توسیع کی درخواست بھیجی گئی تھی لیکن اتھارٹی نے جواب دیا تھا کہ جب لائسنس کی میعاد ختم ہو جائے گی تب اس وقت حکومت کی پالیسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

    تاہم اب آئی ٹی اور ٹیلی کام سروسز کا آغاز کرنے کے لئے سرکاری کمپنی پی ٹی سی ایل کا لائسنس مزید 25 سال کے لیے جاری کردیا گیا ہے-ٹیلی کام اور آئی ٹ یسروسز کا فروغ کے لیے پاکستان میں سروس فراہم کر سکے گی

    نئے لائسنس کا اطلاق یکم جنوری 2021 سے ہوگیا ہے-

    اس سے نوٹس میں کہا گیا کہ پی ٹی سی ایل ، ملک کے باہمی رابطوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، پاکستان کے عوام کو بلا تعطل اور بہتر معیار کی خدمات فراہم کرنے میں اہم پیش رفت ہے۔

    کہا گیا کہ پی ٹی سی ایل کے ذریعہ فراہم کردہ ہموار اور قابل اعتماد رابطہ ملک میں معاشی اور معاشرتی بہتری لانے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ ایک ڈیجیٹل پاکستان کے لئے وزیر اعظم کے ساتھ مل کر پورے پاکستان میں فائبر نیٹ ورک کو فروغ دینے کے لئے ایک اسٹریٹجک اپ گریڈ کر رہا ہے . یہ نہ صرف کاروباری برادری کی حمایت کرے گا بلکہ لامحدود تیز رفتار انٹرنیٹ کے ذریعے صارفین کے لئے آسانی کو بھی یقینی بنائے گا۔

  • ترک مسابقتی اتھارٹی کا فیس بک اور واٹس ایپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز

    ترک مسابقتی اتھارٹی کا فیس بک اور واٹس ایپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز

    واٹس ایپ کی جانب سے پرائیوسی پالیسی میں تبدیلی کے بعد دنیا بھر میں صارفین تشویش کا شکار ہیں اسی حوالے سے ترکی نے واٹس ایپ اور اس ہی کی پیرنٹ کمپنی فیس بک کے نئے ڈیٹا شیئرنگ رولز کو معطل کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ترک خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک مسابقتی اتھارٹی نے فیس بک اور واٹس ایپ کے خلاف تحقیقات کا بھی آغاز کردیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے واٹس ایپ نے اپنے پرائیوسی رولز میں تبدیلی کی تھی کہ صارفین جب تک اس نئے رول کو قبول نہیں کرتے وہ واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے جس کے تحت اب واٹس ایپ صارفین کی معلومات فیس بک اور اس کے دیگر کمپنیوں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

    اب ترک مسابقتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر صارف نئے قواعد کو قبول کر بھی لیں تو ان کی جانب سے ڈیٹا شیئرنگ معطل کردی گئی ہے۔ اتھارٹی نے فیس بک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی ڈیٹا شیئرنگ کو معطل کرے۔

    اس سے قبل واٹس ایپ کی جانب سے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان کے میڈیا آفس نے واٹس ایپ کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی، ترک صدر پھر مسلم حکمرانوں پر بازی لے گئے

    ترکی کا کہناہے کہ ڈیٹا پرائیویسی کے معاملے میں یورپی یونین کے ممالک اور دیگر ممالک میں تفریق ناقابل قبول ہے۔

    واٹس ایپ کے جاری کردہ وضاحتی بیانات کے بعد ترک صدارتی دفتر نے کہا کہ ان کا میڈیا آفس آج سے صحافیوں کو بی آئی پی ایپ کے ذریعے بریفنگ دے گا، جو ترکش کمیونیکیشن کمپنی ترک سیل کا یونٹ ہے۔

    ترک ریاستی میڈیا نے ترک سیل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف 24 گھنٹے میں بی آئی پی کے صارفین میں 11 لاکھ 20 ہزار صارفین کا اضافہ ہوا جبکہ دنیا بھر میں اس کے 5 کروڑ 30 لاکھ صارفین ہیں۔

    واضح رہےکہ واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی کے بعد دنیا بھر میں لوگوں کا واٹس ایپ پر اعتماد اٹھ رہا ہے.

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

  • ‏واٹس ایپ پالیسی میں تبدیلی: ترکی نے موبائل مسیجنگ کی اپنی ایپ تیار کر لی

    ‏واٹس ایپ پالیسی میں تبدیلی: ترکی نے موبائل مسیجنگ کی اپنی ایپ تیار کر لی

    پیغام رسانی، ویڈیو اور وائس کالنگ کی مقبول ترین ایپ واٹس ایپ نے حال ہی میں اپنی پرائیوسی پالیسی میں نئی تبدیلیاں کی ہیں جسے صارفین اگر قبول نہیں کریں گے تو ان کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: جیسے ہی واٹس ایپ نے نئی پرائیوسی پالیسی متعارف کرائی ویسے ہی صارفین کی جانب سے ایپ کی اس پالیسی پر تنقید کی جانے لگی۔جب کہ صارفین گہری تشویش میں مبتلا ہیں کہ کیا اب یہ ایپ پیغامات اور رابطے کے لیے محفوظ ہے بھی یا نہیں؟

    واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے مطابق صارف اپنا نام، موبائل نمبر، تصویر، اسٹیٹس، فون ماڈل، آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیوائس کی انفارمیشن، آئی پی ایڈریس، موبائل نیٹ ورک اور لوکیشن بھی واٹس ایپ اور اس سے منسلک دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مہیا کرے گا۔

    واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی کو اگر پڑھیں تو پیغامات کی ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن’ کو ختم کرنے کی بات موجود نہیں ہے اور یہ درج ہے کہ دو افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو واٹس ایپ سمیت کوئی تیسرا فرد یاادارہ نہیں دیکھ سکتا۔

    پالیسی کے مطابق واٹس ایپ پر بھیجے جانے والے پیغامات ، ویڈیو یا تصاویر انکرپٹڈ ہونے کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کے سروسز پر محفوظ نہیں رہتی ہیں اور جیسے ہی یہ دوسرے صارف کو موصول ہوتی ہیں تو وہ واٹس ایپ کے سرور سے ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں۔تاہم اب واٹس ایپ صارفین ٹرانزیکشن اور پیمنٹ کے اپنے نئے فیچر کی انفارمیشن بھی اپنے پاس رکھےگا۔

    اس والے سے واٹس ایپ کاکہنا ہے کہ جب صارفین ان سے منسلک تھرڈ پارٹی کی خدمات یا فیس بک کمپنی کی دوسری پراڈکٹس پر انحصارکرتے ہیں، تو تھرڈ پارٹی وہ معلومات حاصل کر سکتی ہے، جو آپ یا دوسرے لوگ ان کے ساتھ شیئرکرتے ہیں۔

    واٹس ایپ کی نئی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ کاروباری ادارے کس طرح فیس بک کی سروسز کو استعمال کر کے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور مینج کر سکتے ہیں۔

    واٹس ایپ کے مطابق صارفین کا ڈیٹا اسٹور کرنے کے لیے فیس بک کا عالمی انفراسٹرکچر استعمال کیا جارہا ہے۔

    صارفین کی جانب سے واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی پر خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اور واٹس ایپ کے علاوہ دیگر کالنگ اور میسجنگ سروسز کو ڈاؤن لوڈ کرنے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    تاہم اب ترکی کی موبائل نیٹ ورک کمپنی "ترک سیل” نے بِپ (BiP) کے نام سے ایک مسیجنگ ایپ بنا لی-

    اس ایپ کو صرف ایک دن میں ترکی میں ایپ کے صارفین کی تعداد 11 لاکھ جبکہ دنیا بھر میں اس کے سبسکرائبرز 5 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر گئے-

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

  • پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی:واٹس ایپ کی دو بہترین متبادل ایپس دستیاب

    صارفین جو واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی کی وجہ سے پریشان ہیں انہیں اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ واٹس ایپ کے دو بہترین متبادل ایپس بھی موجود ہیں-

    باغی ٹی وی : پیغام رسانی، ویڈیو اور وائس کالنگ کی مقبول ترین ایپ واٹس ایپ نے حال ہی میں اپنی پرائیوسی پالیسی میں نئی تبدیلیاں کی ہیں جسے صارفین اگر قبول نہیں کریں گے تو ان کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ جیسے ہی واٹس ایپ نے نئی پرائیوسی پالیسی متعارف کرائی ویسے ہی صارفین کی جانب سے ایپ کی اس پالیسی پر تنقید کی جانے لگی۔

    صارفین واٹس ایپ کی اس نئے پالیس پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ اس پالیسی کے تحت واٹس ایپ صارفین کا ڈیٹا نہ صرف استعمال کرے گا بلکہ اسے تھرڈ پارٹی بالخصوص فیس بک کے ساتھ شیئر بھی کرے گا۔

    ایسے صارفین جو واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی کی وجہ سے پریشان ہیں انہیں اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ واٹس ایپ کے دو بہترین متبادل ایپس بھی موجود ہیں-

    1۔ سگنل:
    ‘انکرپٹڈ کمیونیکیشن’ کی وجہ سے سگنل ایپ کے استعمال میں گزشتہ چند سالوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں واٹس ایپ جیسی تمام تر خصوصیات موجود ہیں اور یہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

    ٹیکنالوجی ویب سائٹ 9 تو 5 میک کے مطابق سگنل ایپ اپنی پرائیوسی پالیسی کے حوالے سے بلکل واضح ہے، اس ایپ پر کی جانے والی چیٹ کے صارفین اسکرین شاٹ بھی نہیں لے سکتے جبکہ یہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع نہیں کرتی۔

    2۔ ٹیلی گرام:
    واٹس ایپ کے بہترین دوسری متبادل ایپ کی جو کہ ٹیلی گرام ہے، یہ ایپ بھی صارفین کو واٹس ایپ کی ہی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے ساتھ ہی فیچرز فراہم کرتی ہےٹیلی گرام صارفین اس ایپ کے ذریعہ انکرپٹڈ ڈیٹا، تصاویر، ویڈیوز، سیلف ڈسٹرکٹنگ پیغامات اور ہر طرح کی دستاویزوں کا تبادلہ کر سکتے ہیں پلیٹ فارم کا دعوی ہے کہ یہ واٹس ایپ سے زیادہ محفوظ ہے کیونکہ یہ ‘ایم ٹی پیروٹو’ پروٹوکول پر انحصار کرتا ہے۔

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

  • واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    واٹس ایپ کے سربراہ کا نئی پرائیویسی پا لیسی پر وضاحتی بیان

    واٹس ایپ کےسربراہ وِل کیتھکارٹ نے میسجنگ ایپ کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی پر ہونے والی تنقید پر کہا ہے کہ واٹس ایپ میں پیغامات اور کالز اب بھی "اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ” ہیں اور اس فیچر کو تبدیل نہیں کیا جا رہا۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ نے نئی پرائیویسی پالیسی کا اعلان کیا جس کے مطابق واٹس ایپ صارفین کی معلومات تھرڈ پارٹی بشمول فیس بک کے ساتھ شیئر کر سکے گا۔

    نئی پالیسی کی وجہ سے واٹس ایپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ صارفین گہری تشویش میں مبتلا ہیں کہ کیا اب یہ ایپ پیغامات اور رابطے کے لیے محفوظ ہے بھی یا نہیں؟

    واٹس ایپ کےسربراہ وِل کیتھکارٹ نئی پالیسی کے بعد بھی واٹس ایپ کو صارفین کے لیے محفوظ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فیس بک گفتگو کو نہیں پڑھ سکتا۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک طویل وضاحت میں انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی پر ہونے والی گفتگو پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔


    وِل کیتھکارٹ کے مطابق واٹس ایپ تقریباً 2 ارب افراد کو دنیا بھر میں پرائیویٹ رابطوں کی سہولت فراہم کر رہا ہے اور اس میں پیغامات اور کالز اب بھی "اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہیں اور اس فیچر کو تبدیل نہیں کیا جا رہا۔


    یاد رہے کہ اینڈ یو اینڈ انکرپشن کا مطلب ہے کہ واٹس ایپ سمیت کوئی بھی تیسرا فرد یا ادارہ واٹس ایپ پر دو افراد کے درمیان ہونے کے پیغامات یا کالز کو دیکھ یا سن نہیں سکتا۔

    اپنی وضاحت میں انہوں نے لکھا ہے کہ واٹس ایپ میں ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن’ تبدیل نہیں کیا جا رہا۔


    وِل کیتھکارٹ کے مطابق نئی پالیسی لانے کا مقصد صارفین کے ساتھ مزید شفاف ہونا اور پیپل ٹو بزنس فیچرز کو مزید بہتر طریقے سے واضح کرنا ہے۔


    انہوں نے کہا کہ یہ اہم اس لیے کہ کیونکہ واٹس ایپ پر روزانہ ساڑھے 17 کروڑ کے لگ بھگ افراد بزنس اکاؤنٹس کو پیغامات بھیجتے ہیں اور مزید لوگ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔


    وِل کیتھکارٹ کا کہنا ہے کہ پرائیویسی کے حوالے سے ہمارا دیگر کے ساتھ مقابلہ ہے، جو کہ دنیا کے لیے بہت اچھا ہے، لوگوں کے پاس انتخاب ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح رابطہ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اعتماد ہونا چاہیے کہ ان کے پیغامات کوئی اور نہیں دیکھ سکتا، لیکن کچھ لوگ بشمول بعض حکومتوں کےاس سےاتفاق نہیں کرتے۔


    انہوں نے مزید لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم اینڈ تو اینڈ انکرپشن قائم رکھنے کے حوالے سے پرعزم ہیں، اسی لیے ہم واٹس ایپ کی پرائیویسی کو بہتر کر رہے ہیں جیسا کہ نومبر میں ہم نے خود بخودختم ہونے والے پیغامات کا آپشن فراہم کیا۔ ہماری پرائیویسی کے حوالے سے تخلیق جاری رہے گی۔

    یاد رہے کہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے مطابق صارف اپنا نام، موبائل نمبر، تصویر، اسٹیٹس، فون ماڈل، آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ ڈیوائس کی انفارمیشن، آئی پی ایڈریس، موبائل نیٹ ورک اور لوکیشن بھی واٹس ایپ اور اس سے منسلک دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو مہیا کرے گا۔

    واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی کو اگر پڑھیں تو پیغامات کی ‘اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن’ کو ختم کرنے کی بات موجود نہیں ہے اور یہ درج ہے کہ دو افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو واٹس ایپ سمیت کوئی تیسرا فرد یاادارہ نہیں دیکھ سکتا۔

    پالیسی کے مطابق واٹس ایپ پر بھیجے جانے والے پیغامات ، ویڈیو یا تصاویر انکرپٹڈ ہونے کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کے سروسز پر محفوظ نہیں رہتی ہیں اور جیسے ہی یہ دوسرے صارف کو موصول ہوتی ہیں تو وہ واٹس ایپ کے سرور سے ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں۔تاہم اب واٹس ایپ صارفین ٹرانزیکشن اور پیمنٹ کے اپنے نئے فیچر کی انفارمیشن بھی اپنے پاس رکھےگا۔

    اس والے سے واٹس ایپ کاکہنا ہے کہ جب صارفین ان سے منسلک تھرڈ پارٹی کی خدمات یا فیس بک کمپنی کی دوسری پراڈکٹس پر انحصارکرتے ہیں، تو تھرڈ پارٹی وہ معلومات حاصل کر سکتی ہے، جو آپ یا دوسرے لوگ ان کے ساتھ شیئرکرتے ہیں۔

    واٹس ایپ کی نئی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ کاروباری ادارے کس طرح فیس بک کی سروسز کو استعمال کر کے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور مینج کر سکتے ہیں۔

    واٹس ایپ کے مطابق صارفین کا ڈیٹا اسٹور کرنے کے لیے فیس بک کا عالمی انفراسٹرکچر استعمال کیا جارہا ہے۔

    صارفین کی جانب سے واٹس ایپ پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی پر خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اور واٹس ایپ کے علاوہ دیگر کالنگ اور میسجنگ سروسز کو ڈاؤن لوڈ کرنے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  • WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    واٹس ایپ کمپنی نے 5 جنوری کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس کا حصہ نہ بننے والے افراد کے لیے اس ایپلیکشن تک رسائی بلاک کردی جائے گی۔

    باغی ٹی وی :واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ نئے ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کا نفاذ 8 فروری 2021 سے ہوگا اور صارفین کو انہیں لازمی قبول کرنا ہوگا، دوسری صورت میں ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے جائیں گے۔

    کمپنی کی جانب سے بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن میں لکھا تھا کہ واٹس ایپ اپنے شرائط و ضوابط اور پرائیوسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کررہی ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں اہم اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا جارہا ہے جیسے صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور منیج کرسکیں گے۔

    فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا۔

    واٹس ایپ کی جانب سے ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کرکے وہاں پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے تمام تر تفصیلات دی گئی ہیں۔

    ان تبدیلیوں میں سے ایک زیادہ نمایاں ہے جس کے تحت کمپنی جمع شدہ صارفین کی تفصیلات کو منظم کرسکے گی۔

    کمپنی نے لکھا تھا کہ جب کوئی صارف میڈیا فائل کسی میسج میں فارورڈ کرے گا، تو ہم اس فائل کو عارضی طور پر انکرپٹڈ فارم میں اپنے سرور پر محفوظ کرلیں گے تاکہ فارورڈز ڈیلیوری کو زیادہ موثر بنانے میں مدد مل سکے’۔کمپنی کی جانب سے صارف کے کنکشنز کی تفصیلات کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

    کمپنی کی جانب سے ٹرانزیکشن اینڈ پیمنٹس ڈیٹا کے الگ سیکشن کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔

    واٹس ایپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ کس طرح ڈیوائس ، کنکشن اور لوکیشن انفارمیشن کو پراسیس کرتی ہے۔

    کمپنی کے مطبق ہم ڈیوائس اور کنکشن سے متعلق تفصیلات اس وقت جمع کرتے ہیں جب آپ ہماری سروسز کو انسٹال، رسائی یا استعمال کرتے ہیں، ان تفصیلات میں ہارڈویئر ماڈل، آپریٹنگ سسٹم انفارمیشن، بیٹری لیول، سگنل کی مضبوط، ایپ ورژن، براؤزر انفارمیشن، موبائل نیٹ ورک کنکشن انفارمیشن، لینگوئج و ٹائم زون، آئی پی ایڈریس، ڈیوائس آپریٹنگ آپریشنز آپریشن کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں’۔

    اسی طرح کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈیوائس کی لوکیشن کو بھی آپ کی اجازت کے ساتھ اس وقت اکٹھا کرتے ہیں، جب آپ ہمارے لوکیشن سے متعلق فیچرز کو استعمال کرتے ہیں-جس کے بعد سے صارفین نے واٹس ایپ کی اس نئی پالیسیز پر رد عمل دیتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے- مزاحیہ تبصرے اور میمز چئیر کیں-یہاں تک کہ WhatsAppPrivacyPolicy ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی-
    https://twitter.com/teasersixer/status/1347911724649877504?s=20
    ایک صارف نے اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اب ، گندے پیغامات بھیجنے والے اکاؤنٹس کو معطل کردیا جائے گا-


    https://twitter.com/Ahmadism12/status/1347909323209510916?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ میں نے جو پہلے ہی اس پالیسی کو پڑھے بغیر بھی قبول کرلیا تھا-


    ایک صارف نے مزاحیہ فوٹو شئیر کرتے ہوئےلکھا کہ واٹس ایپ نے رازداری کے بغیر رازداری کی پالیسی کو اپ ڈیٹ کردیا

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

  • امریکا میں شئیرایٹ اور علی پے سمیت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد

    امریکا میں شئیرایٹ اور علی پے سمیت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز چین کے آٹھ سافٹ ویئر ایپلی کیشنز کے ساتھ ٹرانزیکشن پر پابندی عائد کرنے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ، جس میں علی پے، سمیت 7 اور دیگر ایپس شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے-ایگزیکٹیو آرڈر کا مقصد چینی حکومت کو امریکی صارفین کے ڈیٹا اکٹھا کرنے سے روکنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے وضاحت کی کہ اس ایگزیکٹیو آرڈر کا مقصد چینی حکومت کو امریکی صارفین کے ڈیٹا اکٹھا کرنے سے روکنا ہے۔

    اس دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے چینی سافٹ ویئر اپلیکشنز سے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جارحانہ اقدامات کیے جائیں اب یہ محکمہ تجارت کی جانب سے تعین کیا جائے گا کہ اس حکم نامے کے تحت 45 دن کے اندر کونسی ٹرانزیکشنز پر پابندی عائد ہوتی ہے۔

    چینی کمپنیوں علی پے، وی چیٹ پے، کیم اسکینر، شیئر ایٹ، ٹینسینٹ کیو کیو، وی میٹ اور ڈبلیو پی ایس آفیس ایپس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    دستاویز میں لکھا ہے ‘اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کرکے چینی اپلیکیشنز کو صارفین کے بہت زیادہ ڈیٹا تک رسائی مل جاتی ہے جس میں حساس معلومات بھی ہوتی ہے’۔

    دستاویز میں مزید کہا گیا کہ اس طرح ڈیٹا کو جمع کرنے سے چین کو امریکی وفاقی ملازمین اور کنٹریکٹرز کو ٹریک کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور ان کی ذاتی تفصیلات کے دستاویزات بنائے جاسکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ حکم نامہ ان کی صدارت کی مدت کے ختم ہونے 14 دن پہلے جاری کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بدھ کو معمول کی بریفننگ کے دوران کہا کہ چین کی جانب سے کمپنیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

    ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا جارہا ہے اور بلاوجہ غیرملکی کمپنیوں کو دبایا جارہا ہے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ اس سے چینی کمپنیوں اور ان کے صارفین کے مفادات کو بھی نقصان پہنچا ہے ، جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے ، جنہوں نے وبائی امراض کے دوران ایپلی کیشن کو بغیر رابطے کی ادائیگی کے اختیارات کے طور پر "وسیع پیمانے پر استعمال” کیا تھا۔

    کنگسافٹ نے چینی سرکاری میڈیا کے ذریعہ شائع کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ توقع نہیں کرتا کہ مختصر مدت میں ٹرمپ کے اس کمپنی کے کاروبار پر خاطر خواہ اثر انداز ہوں گے۔ جیو بائیڈن کی ٹرانزیکشن ٹیم اور SHAREit نے اس پر کوئی تبصرہ دہنے سے انکار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ علی پے علی بابا کی ذیلی کمپنی ہے اور اس کی جانب سے پابندی پر فی الحال کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

     

    فیس بک کا نیا فیچر متعارف

    ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

  • واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین غیر محفوظ

    واٹس ایپ میں 5 جنوری سے بہت بڑی تبدیلی کا آغاز-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ میں 5 جنوری سے بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے جس کا حصہ نہ بننے والے افراد کے لیے اس ایپلیکشن تک رسائی بلاک کردی جائے گی۔

    واٹس ایپ نے ایپلیکشن کے استعمال کے لیے شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیاں لاتے ہوئے ایپ کے اندر نوٹیفکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

    واٹس ایپ کے نئے ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کا نفاذ 8 فروری 2021 سے ہوگا اور صارفین کو انہیں لازمی قبول کرنا ہوگا، دوسری صورت میں ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے جائیں گے۔

    کمپنی کی جانب سے بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن میں لکھا ہے کہ واٹس ایپ اپنے شرائط و ضوابط اور پرائیوسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کررہی ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں اہم اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا جارہا ہے جیسے صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور منیج کرسکیں گے۔

    فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا۔

    واٹس ایپ کی جانب سے ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کرکے وہاں پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے تمام تر تفصیلات دی گی ہیں۔

    ان تبدیلیوں میں سے ایک زیادہ نمایاں ہے جس کے تحت کمپنی جمع شدہ صارفین کی تفصیلات کو منظم کرسکے گی۔

    کمپنی نے لکھا جب کوئی صارف میڈیا فائل کسی میسج میں فارورڈ کرے گا، تو ہم اس فائل کو عارضی طور پر انکرپٹڈ فارم میں اپنے سرور پر محفوظ کرلیں گے تاکہ فارورڈز ڈیلیوری کو زیادہ موثر بنانے میں مدد مل سکے’۔کمپنی کی جانب سے صارف کے کنکشنز کی تفصیلات کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

    کمپنی کی جانب سے ٹرانزیکشن اینڈ پیمنٹس ڈیٹا کے الگ سیکشن کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔

    واٹس ایپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کس طرح ڈیوائس ، کنکشن اور لوکیشن انفارمیشن کو پراسیس کرتی ہے۔

    کمپنی کے مطبق ہم ڈیوائس اور کنکشن سے متعلق تفصیلات اس وقت جمع کرتے ہیں جب آپ ہماری سروسز کو انسٹال، رسائی یا استعمال کرتے ہیں، ان تفصیلات میں ہارڈویئر ماڈل، آپریٹنگ سسٹم انفارمیشن، بیٹری لیول، سگنل کی مضبوط، ایپ ورژن، براؤزر انفارمیشن، موبائل نیٹ ورک کنکشن انفارمیشن، لینگوئج و ٹائم زون، آئی پی ایڈریس، ڈیوائس آپریٹنگ آپریشنز آپریشن کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں’۔

    اسی طرح کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈیوائس کی لوکیشن کو بھی آپ کی اجازت کے ساتھ اس وقت اکٹھا کرتے ہیں، جب آپ ہمارے لوکیشن سے متعلق فیچرز کو استعمال کرتے ہیں-

    تاہم دوسری جانب ماہرین کی جانب سے کپمنی کی اس نئی پالیسی کو ڈیجیٹل ڈکیتی کہا جا رہا ہے سائبر ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں آپ اپنی فیس بک سے واٹس ایپ اور واٹس سے فیس بک پر میسجز وغیرہ کر پائیں یہ تو ایک طرح کا ہینڈ ٹو ہینڈ فیچر ہے-

    جب کہ اب یہاں یہ کہا جارہا ہے جو فیس بک واٹس پر آپ کا آئی پی ایڈیرس آپ کی ڈیوائس ڈیٹیل آپ کے نیٹ ورک کی تفصیل آپ کے سگنلز ،فرینڈز اور بہت سی تفصیلات جو کہ بتائی نہیں جا رہیں ان تک رسائی حاصل کرسکیں گے اور اس کو فیس بک ور اس ے منسلک کمپنیوں کے ساتھ شئیر کیا جائے گا-

    فیس بک کی ساری ڈیٹا پالیسی لاء انفورسمنٹ کو مدد کرنے کی وہ اب واٹس ایپ کے ڈیٹا پر بھی لاگو ہوں گی اگر صارف کسی بھی قسم کا ڈیٹا شئیر کرتے ہیں تو فیس بک کے پاس اس کو ریپبلش کرنے کے حقوق ہوں گے اس کا مطلب کہیں نہ کہیں ڈیٹا سٹور کیا جائے گا ڈیٹا سٹور کیا جائے گا اور جس طرح فیس بک ڈیٹا کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کو مونیٹائز کرنا ایجنسیز کو اور ایڈ وغیرہ کے لیا دینا یہ اب واٹس ایپ ڈیٹا کے ساتھ بھی ہو گا –

    واٹس ایپ کو چھوڑنے کے باوجود بھی آپ کا ڈیٹا کمپنی کے پاس چلا جائے گا کیونکہ آپ واٹس ایپ گروپ کا حصہ بن چکے ہیں انسٹاگرام ، فیس بک اور واٹس ایپ پر اڑھائی ارب سے زیادہ یوزرز ہیں اور پورے سسٹم کو انہوں نے شکنجے میں لے لیا ہے یہ سوال صرف یوزرز کا نہیں بلکہ سارے سسٹم کا ہے سرکاری سسٹم کا ہے پبلک سیکٹرز اور بینک کا ہے –

  • فیس بک کا نیا فیچر متعارف

    فیس بک کا نیا فیچر متعارف

    معروف سوشل میڈیا ایپ فیس بک نے معروف و عوامی شخصیات اور برانڈز کے پیجز کو ’لائیک‘ کرنے کا آپشن ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز بدھ کو شائع ہونے والی کمپنی کی بلاگ پوسٹ کے مطابق فن کاروں ، عوامی سطح پر مقبول شخصیات اور برانڈز وغیرہ کے فیس بُک صفحات پر سے ’لائیک‘ کرنے کا آپشن ختم کیا جارہا ہے۔

    اس حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ پبلک پیجز کے نئے ڈیزائن کے مطابق اب یہ پیجز صرف فالوورز کو نظر آئیں گے اور مستقل نیوز فیڈ کے ذریعے صارفین ان پیجز پر دو طرفہ رابطہ کرسکیں گے اور اسی طرح شخصیات بھی اپنے فینز اور فالوورز سے رابطہ رکھ سکیں گی۔

    فیس بک نے اپنی بلاگ پوسٹ میں پیجز کے نئے ڈیزائن سے متعلق کہا ہے کہ ہم پبلک پیجز سے لائکس کا آپشن ختم کررہے ہیں اور فالوورز پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

  • آئی ٹی کے ذریعے پائیدار ترقی کو یقینی بنانا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے،وفاقی وزیر

    آئی ٹی کے ذریعے پائیدار ترقی کو یقینی بنانا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے،وفاقی وزیر

    ‎وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹکنالوجی اور ٹیلی مواصلات سید امین الحق نے آواری ہوٹل لاہور میں مقامی آئی ٹی انڈسٹری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی کے ذریعے پائیدار ترقی کو یقینی بنانا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کے تحت آئی ٹی وزارت ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے ، معیار زندگی اور مقامی برآمدات میں بہتری ، ہونہار نوجوانوں کی تربیت اور آئی ٹی سیکٹر پالیسی پر عمل درآمد کے لئے اقدامات کررہی ہے۔

    ‎وفاقی وزیر نے شرکاء کو بتایا کہ وزارت نے سندھ ، بلوچستان ، کے پی اور گلگت بلتستان کے پسیماندہ علاقوں میں 3 اور 4 جی کنکشن اور براڈ بینڈ سہولت جیسی آئی ٹی سہولیات کی بہتری اور فراہمی کے لئے بجٹ میں 5.1 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

    ‎وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت آئی ٹی نے آئی ٹی برآمدات میں 24 فیصد اضافہ کیا ہے- 2018 میں 9.95 ملین امریکی ڈالر سے جون 2020 میں 1.23 بلین امریکی ڈالر تک اضافہ کیا ہے۔

    ‎وزیر نے گلگت بلتستان کے معاملے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ وزارت گلگت بلتستان میں آئی ٹی کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف آف آرمی اسٹاف نے جی بی میں آئی ٹی پارک کا افتتاح کیا تھا جس کی پوری مالی اعانت آئی ٹی وزارت نے کی تھی۔ مزید یہ کہ ، جی بی میں 2 جی کے 62 ٹاورز کو 3 جی اور 4 جی کے 92 ٹاورز میں اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بھی زیر تعمیر ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف سیاحت کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ یہ مقامی لوگوں کے لئے بھی مددگار ثابت ہوگی۔
    ‎وفاقی وزیرنے پاکستان میں آئی ٹی کے نصاب کو اپ گریڈ کرنےاور اسے جدید دور کی آئی ٹی ضروریات کے مطابق مرتب کرنے پر زور دیا۔

    ‎انہوں نے بتایا کہ وزارت آئی ٹی سیکٹر میں ٹیکس اصلاحات لانے کے معاملات پر وزیر اعظم کی ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔ ایک سوال کے جواب کے دوران وزیر نے واضح کیا کہ آئی ٹی وزارت کسی بھی پابندی کے خلاف ہے جو ترقی کے عمل میں رکاوٹ ہے