Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ایٹمی پاکستان ۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    ایٹمی پاکستان ۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    14 اگست 1947 دنیا میں ایک ازاد ملک پاکستان کا قیام وجود میں آیا تھا۔ بس کیا تھا اسی دن سے پاکستان کے دشمن کم نہیں ہوئے بڑے ہی ہیں۔ شروع دن سے پاکستان کو اندرونی و بیرونی سازشوں میں گھیرا جا رہا ہے۔

    پہلے کشمیر ہم سے کاٹ دیا گیا پھر بنگال کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا اسی اثنا میں پاکستان کا اصلی و ازلی دشمن بھارت پاکستان مخالفت میں عالمی گٹھ جھوڑ کی مدد سے دنیا میں ایٹمی طاقت بن کے ابھرتا ہے۔ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا عدم توازن پیدا کر دیتا ہے۔ اب پاکستان کو مقابل کھڑے ہونے کی اشد ضرورت تھی تاکہ خطے میں طاقت کا توازن قائم رہ سکے۔

    بھارت اور اس کے حواریوں کے کردار سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ بھارت کبھی پاکستان کا پُر امن ہمسایہ یا دوست بن کر نہیں رہ سکتا۔بھارت سے دوستی اور امن کی بات تو دور بھارت سے امن کی معمولی سی بھی امید رکھنا خوابوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف ہے۔ بھارت کا پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے لیے دریاﺅں پر ڈیم اور بیراج بنانا پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنا دینے کی گہری سازش ہے۔ بھارت سے یہ توقع رکھنا بھی حماقت ہے کہ وہ شرافت اور امن و امان کی سفارت کاری کی زبان کو سمجھتا ہے۔

    بھارت نے 11 مئی 1998ءکو (ایٹم بم) نیوکلیئر (ہائیڈروجن) اور نیوکران بموں کے دھماکوں کے بعد پاکستان کی سلامتی اور آزادی کےلئے خطرات پیدا کر دیے تھے اور علاقہ میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ جسے روکنے کے لیے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دباﺅ ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔

    وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو جوہری صلاحیتوں سے مالا مال کرنے کا خواب 1966 سے سجائے بیٹھے تھے۔ بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے نے اسے مزید مستحکم ارادے میں بدل کر رکھ دیا اور اس دن سے وہ پاکستان کو اس منزل تک پہنچانے کی غرض سے سرگرم ہو گئے تھے۔

    مگر پاکستان کے اس ایٹمی خواب کو امریکہ اور یورپ کی تائید حاصل نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر کلنٹن، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی وزیراعظم موتو نے پاکستان پر دباﺅ ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ دوسری طرف بھارت کی سرگرمیوں کی صورتحال یہ تھی کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کرنا شروع کی جس سے پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ اور سربراہ امور کشمیر ایل کے ایڈوانی نے بھارتی فوج کو حکم دیا کہ وہ مجاہدین کے کیمپ تباہ کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں داخل ہو جائے جبکہ بھارتی وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے تو یہاں تک ہرزہ سرائی کی تھی کہ بھارتی فوج کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر دیا جائے گا۔ یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کی تیاریاں تھیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے اپنے حق کا استعمال کیا مگر یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا واضح مقصد صرف اور صرف پاکستان کو خوفزدہ کرنا تھا اور ایک طاقتور ملک ہونے کا ثبوت دےکر پاکستان سمیت پورے خطے کے ممالک پر اپنی برتری ظاہر کرنا تھا۔

    مگر میرے رب کو اس ارض وطن پر دشمنان اسلام کے عزائم کی کامیابی کسی صورت گوارا نہ تھی جسکا ہر بچہ ہر بوڑھا جوان مرد و عورت کے زبان پر ابھی تک پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

    مسلمانوں کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر دشمن سے مقابلہ کی تیاری کا حکم دے رکھا ہے ۔

    وَاَعِدُّوْا لَـهُـمْ مَّا اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّـٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِـهِـمْۚ لَا تَعْلَمُوْنَـهُـمُ اللّـٰهُ يَعْلَمُهُـمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَىْءٍ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُـمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (60)

    اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کرسکو سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے، اور اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے تمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہوگی۔

    پاکستان نے 28 مئی 1998ءکو چاغی کے پہاڑوں میں پانچ دھماکے کیے۔ جمعرات کا دن تھا اور سہ پہر 3 بجکر 40 منٹ پر یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔ اس کےساتھ ہی پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بن گیا۔

    یہ 28 مئی 1998ءکا مبارک دن تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بن گیا مگر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے جن عناصر نے حب الوطنی اور اسلام پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخی کردار ادا کیا، ان میں
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب، ذولفقار علی بھٹو رحمتہ اللہ علیہ جن کا نعرہ تھا گھاس کھا لیں گے مگر ملک کو ایٹمی قوت ضرور بنائیں گے اور روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی صاحب مرحوم رحمتہ اللہ علیہ سرفہرست ہیں اور برادر اسلامی ملک سعودی عریبیہ ہے۔

    آج الحمدللہ دفاعی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج ہے جس کی تعداد چھ لاکھ بیس ہزار ہے۔ عالمی رینکنگ میں پاکستان کی فوج کو دنیا کی گیارہویں سب سے طاقتور فوج مانا جاتا ہے۔ حالانکہ دفاع پر خرچ کرنے کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 23 ویں نمبر پر ہے۔ پاک فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سےلگائیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کے اندرونی نیٹ ورک کو دس سال سے بھی کم عرصے میں کچل کر رکھ دیا۔ یاد رکھیں کہ یہی چیلنج شام، لیبیا، یمن اور عراق کو بھی در پیش تھا لیکن یہ تمام ممالک ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور ستر ملکوں کا فوجی اتحاد سترہ سال میں بھی مسلح گروہوں کو شکست نہیں دے سکا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان دنیا کے ان طاقتور ممالک میں شامل ہے جو تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے، آبدوزیں، جنگی بحری جہاز اور سیٹیلائٹس بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس ارض پاک کو قائم دائم رکھے۔

  • ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    خبرہےکہ سمندرسےتیل،گیس نہیں نکلا
    دوسری خبرہےکہ پاک فضائیہ اور نیوی نےآفشور ڈرلنگ پوائنٹ کی سکیورٹی سنبھال لی ہے۔ ماجراکیاہے؟
    یہ تو طے ہے کہ اندر کھاتے وہ ہو چکا جو دنیا کے چودہ طبق روشن کر دینے کو کافی ہے
    ہاں البتہ حکومت کی طرف سے حکمت کے تحت دانستہ منفی خبریں دی جا رہی ہیں
    اگر آپ غور کریں تو صاف سمجھ آجاتی ہے کہ جیسے ہی پاکستان نے ڈرلنگ کا عمل شروع کیا اور کچھ حوصلہ افزاء خبریں ملنا شروع ہوئیں تو امریکہ نے ایران کے ساتھ پھڈا ڈال کر اس قدر سرعت کے ساتھ فوج اور بحری بیڑے حرکت میں لائے کہ مورخ حیران و پریشاں رہ گیا، مورخ کا کہنا ہے کہ ٹائمنگ بہت عجیب ہے ایک بار پھر سے ہمیں مرحوم جنرل حمید گل کے الفاظ پر غور کرنا ہوگا کہ افغانستان بہانہ ہے پاکستان نشانہ ہے، بس اب افغانستان کی بجائے ایران لکھ لیں، اب کی بار ایران بہانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے اور امریکی افواج کا حرکت میں آنا دراصل پاکستان کو تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت یا دریافت کے اعلان سے روکنے کی خاطر ہے جبھی تو پاکستان نے دانستہ 14 ارب ڈالر کے ضیاع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ
    *تیل کوئی نئی جے نکلیا*
    ایسا کہہ کر دراصل پاکستان نے ایک نیو کلیئر جنگ کو ٹالا ہے
    جبکہ لنڈے کے دانشوروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے کہ قوم کا پیسہ ضائع کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ
    ایسے لوگوں کو پاکستانی کہلانے کا کوئی حق نہیں دیا جا سکتا کیونکہ دراصل ہائبرڈ وار کے یہی وہ ہراول ہیں جو کسی بھی ملک میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کر کے دشمن کو دعوت طعام دیتے ہیں تاکہ وہ خانہ جنگی کے شکار ملک میں آکر ہر قسم کے وسائل پر قابض ہو سکے
    یقین نہ آئے تو عراق، شام، مصر، لیبیا کی مثالوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جہاں عوام ہی کے ہاتھوں وہاں کی حکومتوں کو گرا دیا گیا
    اور پاکستان میں عوام کو مشتعل کرنے کا فریضہ یہی لنڈے کے دانشور انجام دے رہے ہیں
    بھائی اگر تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہویے تو کیا ہوا
    دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ تیل دریافت کرنے والے ممالک نے 17 سے زائد بار کوششیں کیں تب جا کر یہ ذخائر دریافت ہویے اور پاکستان میں پہلی ناکام کوشش کو لے کر طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا ہے
    لیکن حقیقت تو عیاں ہو چکی ہے کہ امریکی افواج کیوں موو کر رہی ہیں؟ اگر تیل و گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت نہ ہوئے ہوتے تو امریکی افواج بھلا کیوں موو کرتیں، اور پردہ داری کی خاطر سعودی تیل کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اور سعودیہ کو آپس میں الجھا کر کسی ایک کی مدد کی خاطر خطے میں آمد کو جواز فراہم کیا جا سکے
    اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا کہ قوم زیادہ سے زیادہ دعا کریں اور نوافل ادا کریں اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ کس طرف اشارہ ہے؟ یقینا آسمانی مدد کی طلب کی خاطر، کیونکہ پاکستان سے جو خزانہ نکلا ہے وہ دنیا کو ہضم نہیں ہو پا رہا جبھی تو اس قدر شور برپا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، اب پاکستان حقیقتا ڈبل گیم کر رہا ہے پہلے امریکہ کو مارتا تھا مانتا نہیں تھا اب ذخائر دریافت کر چکا ہے اور مان نہیں رہا
    یاد رکھیے گا کہ پاکستان نے دنیا کی دم پر پاوں رکھ دیا ہے جس کی سب سے زیادہ تکلیف امریکہ بہادر کو ہے کیونکہ پاکستان نے دنیا کایا پلٹ کر رکھ دینی ہے اور جب دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہونے کے ناطے تیل و گیس پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے امریکی معیشت دھڑام سے گرے گی کیونکہ جس پاکستان کو امریکہ نے پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دی تھی وہی پاکستان اب گن گن کر بدلہ لینے کی پوزیشن میں آرہا ہے اور جب امریکہ بہادر کا ناطقہ بند کرے گا تو سوچیں کہ امریکہ کتنی جلدی پتھر کے دور میں پہنچے گا
    *لو وائی ہتھ ہو گیا جے*
    امریکی معیشت کیسے گرے گی اس بات کو یوں سمجھئیے کہ سی پیک دنیا کے 70 کے قریب ممالک کو جوڑنے جا رہا ہے جن میں اکثریت یورپی ممالک کی ہے اور امریکی معیشت یورپی منڈیوں کے بل بوتے پر ہی تو کھڑی ہے اور جب یورپی منڈیاں سی پیک سے منسلک ہو جائیں گے تو امریکہ کو کون منہ لگایے گا تو آپ کیا سمجھے کہ امریکہ کیسے دھڑام گرے گا
    لہذا امریکہ بار بار بہانے بہانے سے سی پیک کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان کے اندرونی حالات کبھی ایم کیو ایم سے کبھی پی ٹی ایم سے اور کبھی کسی دوسرے تیسرے گروہ سے خراب کرواتا رہا ہے تاکہ پاکستان کو داخلی محاذ پر غیر یقینی صورتحال کا شکار کر دیا جائے لیکن پاکستان نے جس احسن طریقے سے ان سب کو کاونٹر کیا ہے دنیا اس پر انگشت بدنداں ہے
    انڈیا کی طرف سے جس جنگ کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان نے ابھی نندن کو واپس کر کے جس جنگ کو ٹالا ہے اس کے رازوں سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی پردہ اٹھے گا
    تو صبر رکھئیے اور مورخ کی بات لکھ لیجیے کہ وہ سب ہو چکا جس پر ایک دنیا سانس روکے کھڑی ہے
    جس پاکستان سے لوگ بھاگتے تھے کہ یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے اب وہی ملک دنیا کو لیڈ کرنے جا رہا ہے
    بس اک زرا صبر۔

  • خواتین کو چھیڑ چھاڑ سے بچانے والی فون ایپ آ گئی

    خواتین کو چھیڑ چھاڑ سے بچانے والی فون ایپ آ گئی

    خواتین کو عام طور پر عوامی مقامات پر چھیڑ چھاڑ کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جاپان میں خواتین کو چھیڑ چھاڑ سے تحفظ فراہم کرنے والی ایک موبائل فون ایپلی کیشن نے دھوم مچا دی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ ایپ ٹوکیو پولیس نے متعارف کروائی ہے اور اس ایپ کو دو لاکھ 37 ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔
    ٹوکیو پولیس کے ایک اہلکار کیکو ٹویامینی کا کہنا ہے کہ خواتین کی اتنی بڑی تعداد کا ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کرنا غیر معمولی ہے۔ اس کی مقبولیت کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ماہانہ 10000 نئے صارفین اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں.

    خواتین کو چھیڑ‌چھاڑ‌سے بچانے والی اس ایپ کا نام ’ڈجی پولیس ایپ‘ ہے. یہ ایپ مسافروں سے بھری ٹٰرینوں میں سفر کرنے والی جاپانی خواتین میں زیادہ مقبول ہے جن کو سب سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کا خطرہ ہوتا ہے ۔

    موبائل ایپ کوجب کھولا جاتا ہے تو اس میں سے اونچی آواز میں "سٹاپ اٹ” کی آواز آتی ہے جس پر قریب موجود افراد کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی نے خاتون کو چھیڑا ہے۔ اس طرح چھیڑنے والا شخص گھبرا کر موقع سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔

    اسی طرح‌جب ’سٹاپ اٹ‘ کی آواز آتی ہے تو اس کے ساتھ ہی موبائل فون کی سکرین پر ایک ’ایس او ایس‘ پیغام بھی نمودار ہوتا ہے جو متاثرہ خاتون دیگر مسافروں کو دکھا سکتی ہے۔ پیغام میں لکھا ہوتا ہے کہ ’یہاں پر ایک چھیڑنے والا موجود ہے۔ میری مدد کریں۔

    اس ایپ کی اس وقت سوشل میڈیا پر بھی دھوم مچی ہوئے ہے.

  • پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم اب تک سترہزار جانیں گنوا چکے ہیں ۔ مگر کیا کسی کو معلوم ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں ٹریفک حادثات میں ایک لاکھ سے زائد لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ لاکھوں زندگی بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔ اگر موزانہ کیا جا ئے تو ٹریفک حادثات میں جانی اور مالی نقصان دہشتگردی کے خلاف جنگ سے زیادہ ہے ۔ ان حادثات کا سب سے بڑا موجب گاڑیاں خود ہیں ۔ پاکستان میں ملنے والی گاڑیوں میں کوئی سیفٹی فیچر نہیں ہوتا ہے ۔اسی لیے حادثے کے بعد جانی اور مالی نقصان کا خدشہ سوفیصد بڑھ جاتا ہے ۔

    ۔ پاکستان کی مقبول ترین کار کا سوال پوچھا جائے تو سب کے ذہن میں فوری طور پر سوزوکی مہران کا نام آئے گا۔ گزشتہ تیس سالوں سے پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی سوزوکی موٹرز کی مہران کار ہی ہے۔ مگر پاکستانی سوزوکی مہران کا ریکارڈ سیفٹی کے حوالے سے انتہائی مخدوش ہے۔ اقوام متحدہ نے گاڑیاں چلانے والے افراد کے تحفظ کے لیے کچھ پیمانے مقرر کررکھے ہیں۔ بدقسمتی سے مہران سمیت پاکستان میں ملنے والی کوئی بھی کار معیار پر پورا نہیں اترتی۔بولان کیری ڈبے ، سوزوکی پک اپ دنیا میں کہیں نہیں چلتے مگر ہم اب تک انکو سامان اور بچوں کی سکول وین کے طور پر استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ہزاروں، لاکھوں پاکستانی بچوں سمیت عام عوام ان چلتے پھر تے بموں سے جاں بحق یا معذور ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ اب بھی سٹرکوں پر رواں دواں ہیں ۔

    ۔ آلٹو 660 سی سی بھی پوری دنیا میں discard ہو چکی ہے ۔ حد یہ ہے کہ یہ اب پاکستان میں لانچ کی جا رہی ہے ۔اس کی قیمت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انشورنس ،own وغیر ہ ڈال کر بغیر کسی سیفٹی فیچر کے پندرہ لاکھ میں پاکستانیوں کو ملا کرے گی ۔ جبکہ یہ ہی آلٹو کار دنیا میں تین سے چارلاکھ روپوں میں رلتی پھر رہی ہے ۔

    ۔ یہ سلوک صرف پاکستان کے ساتھ ہی روا رکھا جارہا ہے۔کیونکہ حکومت چاہے تیر کی ہو، شیر کی ہو یا بلے کی ہمارے وزراء اور بیورو کریٹس کو ان مافیاز سے مٹھائی کے ڈبے ٹائم پر پہنچا دیے جاتے ہیں ۔یہی سوزوکی، ہنڈا اور ٹیوٹا جب اپنے ملک یا خطے کے دوسرے ملکوں کے لیے گاڑیاں بناتی ہے تو
    وہاں سارے حفاظتی لوازمات اور شرائط پوری کی جاتی ہیں۔یہ کمپنیاں سالانہ اربوں کھربوں پاکستانیوں کی جیبوں سے اینٹھ رہی ہیں۔ مگر بدلے میں یہ کمپنیاں صرف موت دے رہی ہیں ۔ پاکستانیوں کو یہ لوہے کے ٹین ڈبے بیچے جاتے ہیں ۔جو شاید نیپال میں بھی نہ چلائی جاسکتی ہوں۔

    ۔ پاکستانیوں کے ساتھ المیہ یہ ہے ۔ کہ سب سے پہلے تو ہم اس خطے کیا تمام دنیا کے مقابلے میں سب سے زیادہ کسی بھی گاڑی کی قیمت کیش کی صورت میں ادا کرتے ہیں ۔ پھر اس گاڑی میں نہ کوئی سیفٹی فیچر ہوتا ہے نہ فیول کی millegae بہتر ہو تی ہے نہ ہی یہ گاڑی ماحول دوست ہو تی ہے ۔سیٹ بیلٹس لگی تو ہو تی ہیں ۔ مگر وہ کسی حادثہ سے بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ۔ پاکستان کی گنتی کی گاڑیوں میں صرف ایک ہی ایئر بیگ ہوتا ہے ۔ وہ بھی شاید کبھی کھلتا نہیں جبکہ دنیا میں آٹھ ایئر بیگز لازمی اور اب تو وہ blanket airbag کو بھی لازمی کر رہے ہیں جس میں جب گاڑی collide کرتی ہے تو ہر جگہ سے ایئر بیگز کھلتا ہے۔پاکستان میں ABS بریک بھی کسی کسی گاڑی کے نصیب میں ہے ۔ اور یہ بھی tried & tested نہیں ہے ۔

    ۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں ہم سے زیادہ اچھی اور زیادہ سستی گاڑیاں عوام کو مل رہی ہیں ۔ بھارت میں بھی یہ تمام کمپنیاں کام کر رہی ہیں مگر وہاں تمام سیفٹی فیچرز کو فالو کرتی ہیں ۔ اس وقت جو گاڑی بھارت میں پانچ لاکھ کی ملتی ہے وہ پاکستانیوں کو پندرہ لاکھ میں دستیاب ہے ۔ اب تو بھارت نے گاڑیاں ، موٹر بائیکس ایکسپورٹ کرنا بھی شروع کر دی ہیں ۔ کیونکہ وہ انٹرنیشنل سیفٹی اسٹینڈر فالو کر رہے ہیں ۔

    ۔ پاکستان کی آٹو انڈسٹری پر کئی دہائیوں سے جاپان کی سوزوکی، ٹویوٹا اور ہنڈا کمپنیوں کا راج ہے۔ یہ
    کمپنیاں متحد ہو کر سستے ماڈلز کی گاڑیوں کو مہنگے داموں بیچتی چلی آ رہی ہیں۔ابھی تک گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے موٹر کاروں میں حفاظتی ائیر بیگ، اینٹی لاک بریکنگ یا دھواں کے بہتر اخراج جیسی خصوصیات متعارف نہیں کروائیں ہیں۔
    ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک نئی آٹو پالیسی متعارف کروائے ۔ جس میں ان کمپنیوں کو اجارہ داری کو ختم کیا جا ئے ۔ ساتھ ہی سختی سے تمام سیفٹی اسٹینڈرز کو فالو کروایا جا ئے ۔ گاڑیوں کے collision ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں ۔ اور یہ انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے تین لوگوں کے بس کی بات نہیں کہ اس کار مافیا کو نکیل ڈال سکیں ۔ ایک نیا محکمہ بنانا پڑے گا جو اس تمام انڈسٹری جس میں گاڑیوں ، موٹربائیکس، ہیوی ڈیوٹی ٹرک ، بسوں ، رکشوں ،ٹریکٹر بنانے والوں کو ریگولیٹ کرسکے ۔ تاکہ جب بھی کوئی حادثہ ہو ۔ اور اگر کسی گاڑی کا ایئر بیگ نہ کھلے ۔ یا اس گاڑی کے ABS بریکس کام نہ کریں تو انکوئری بٹھائی جائے ۔ اور پوری کی پوری لاٹ واپس بھجوائی جائے جیسا پوری دنیا اور مہذب معاشروں میں ہوتا ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں