Baaghi TV

Category: سیاست

  • اگلے دو سال بھی مشکل ، آپ نے گھبرانا نہیں. تحریر: محمد شعیب

    اگلے دو سال بھی مشکل ، آپ نے گھبرانا نہیں. تحریر: محمد شعیب

    چیئرمین نیب کے حوالے سے بات کی جائے تو وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم تو تردید کرتے ہیں کہ جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آرڈیننس کاکوئی مسودہ تیار نہیں کیا۔۔ پر سماء ٹی وی دعوی کر رہا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ہو چکاہے ۔ جس کی منظوری منگل کے روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں دیئے جانے کا امکان ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مسودے کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پاس بھیجا جائے اور ان کی منظوری کے بعد اس کا نفاذہو جائے گا۔ لگتا بھی یوں ہی ہے کہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا مل بیٹھنا موجودہ حالات میں تو دور دور تک نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ بیٹھ بھی جائیں تو نہیں لگتا کہ کسی ایک نام پر ان دونوں کو کم ازکم اتفاق ہوگا ۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ عمران خان بضد ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں قانون جو بھی ہو ۔ وہ شہباز شریف کو گھاس نہیں ڈالیں گے ۔ یوں یہ معاملہ بھی کھٹائی میں دیکھائی دیتا ہے ۔ اور صرف ایکسٹینشن ہی آپشن باقی بچتی ہے ۔ پر ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض حکومتی شخصیات میں مدت میں توسیع کے دورانیے سے متعلق اختلاف تھا جسے دور کرنے کیلئے مسودے میں یہ بات شامل کی گئی ہے کہ جب تک نئے چیئرمین کی تقرری نہیں ہوگی تب تک موجودہ چیئرمین ہی عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔

    ۔ پر ایسا تھوڑی ہے کہ اپوزیشن حکومتی پلاننگ سے بالکل ہی بے خبر ہو ۔ انھوں نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ہونے کی صورت میں عدالت جائیں گے ۔ یوں آنے والے دنوں میں چیئرمین نیب کی تقرری والا معاملہ میڈیا اور عوام کا اچھا خاصا entertain کرنے والا ہے ۔ پھر سائیں بزدار سرکار کی بات جائے تو اب عمران خاں بھی مان چکے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں مقابلہ پنجاب میں سخت ہوگا۔ ویسے میں تو اس کو وسیم اکرام پلس کی سخت بری کارکردگی سے تعبیر کرتا ہوں ۔ کیونکہ جتنی تبدیلیاں ان تین سالوں میں پنجاب میں ہوئی ہیں اتنی تبدیلیاں شاید گزشتہ ستر سالوں میں پنجاب میں نہیں ہوئی ہیں ۔ ابھی آج کی سن لیں کہ ایک دفعہ پھر پنجاب حکومت نے سیکرٹریز سمیت اعلی عہدے کے چودہ افسران کے تقرر تبادلے کردئیے ہیں۔ میں تو یہ ہی دعا کروں گا کہ اللہ کرے یہ نئی ٹیم مطلوبہ نتائج دے دے ورنہ ابھی اس حکومت کے دوسال باقی ہیں پتہ نہیں پنجاب کا یہ کیا حال کریں گے ۔ اگر آپکو یاد ہو تو یہی پنجاب تھا جس نے تحریک انصاف کو گزشتہ انتخابات میں مرکز اور پنجاب کی حکمرانی دلائی تھی اور اب یہی پنجاب ہے جس میں تحریک انصاف کو انتخابی دنگلوں میں چاروں شانے چت گرنا پڑا ہے۔ دراصل یہ عثمان بزدار کی حکومت کی کارکردگی پر طمانچہ ہے جو عوام نے رسید کر دیا ہے ۔

    ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ الیکڑانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کی اجازت دینے کے معاملات ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن کر غبار کی طرح ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اگلے انتخابات کو ہر صورت میں“ فتح“ کرنا سب سے بڑا مشن ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان صرف مالی مشکلات کا شکار ہی نہیں۔ داخلی اور خارجی محاذوں پر بھی مسائل ہی مسائل ہیں۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود حکومت کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ اگلے عام انتخابات کو کیسے اڑانا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں چیف جسٹس کی سرابرہی میں سپریم کورٹ کا فل بنچ کب کا بلدیاتی ادارے بحال کرچکا ہے۔ ادھر حکومت اسے ماننے سے صاف انکاری ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حالانکہ یہ ہی حکومت عوام کو نچلی سطح تک حقوق مہیا کرنے کی سب سے بڑی داعی تھی ۔ پھر عمران خان نے عوام کو یہ خبر تو دیدی ہے اگلے دو سال بھی مشکل ہیں تاہم ساتھ یہ نہیں کہا آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ عمران خان کی باتوں سے لگتا ہے ابھی اچھے دن نہیں آئے اور نہ ہی اگلے دو برسوں میں آنے والے ہیں عوام کا تو اب ایک ایک دن مشکل سے گزر رہا ہے۔ اس پر اگر کپتان نے یہ خبر بھی سنا دی ہے اگلے دو برس بھی مشکل ہیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے عوام پر کیا گزری ہو گی۔ لیکن وزیر اعظم کے وزیر و ترجمان ان کی اس بات کو بھی گوٹہ کناری اور سرخی پاوڈر لگا کے بیان کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دیکھو ملک کا وزیر اعظم کتنا سچا ہے جو حقیقت ہے بیان کر دیتا ہے۔ویسے ایسا سچا اور کھرا وزیراعظم پہلے کبھی عوام نے دیکھا ہی نہیں جو مشکل حالات کی خبر بھی ایسے دیتا ہے جیسے خوشخبری سنا رہا ہو۔ پانچ سال کے لئے حکومت منتخب ہوئی ہے، اس کے پانچوں برس اگر مشکلات میں گزر جاتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں وہ عوام کو اپنی آئینی مدت کے دوران کوئی ریلیف نہیں دے سکتی تو ایسی حکومت کو کامیاب کہا جائے گا یا ناکام۔ فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ ویسے کپتان نے تو ہار نہیں مانی ان کی حکومت تو چل رہی ہے اور اب چوتھے برس میں داخل ہو گئی ہے تاہم عوام اب ہار گئے ہیں، ان کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ انہیں زندگی کی دوڑ برقرار رکھنے کے لئے جان کے لالے پڑ گئے ہیں وہ ایک امید کے سہارے زندہ تھے کہ حکومت اپنی باقی ماندہ دو سال کی مدت کے دوران ریلیف نہیں دیتی تو کم از کم مہنگائی کو موجودہ سطح پر ہی منجمد کر دے گی، مگر کپتان نے اگلے دو برسوں میں بھی مشکلات کی گھنٹی بجا کر انہیں مایوس کر دیا ہے۔

    ۔ اس وقت کوئی چیز نیچے آنے کا نام نہیں لے رہی ہے ہر چیز اوپر ہی اوپر جائے جا رہی ہے ۔ ڈالر ہو ، پیڑول ہو ، بجلی ہو ، گیس ہو ، آٹا ہو ، چینی ہو ، حکومتی دعوے ہوں یا پھر عوام ہوں ۔ کیونکہ ان حالات میں زندہ رہنا کسی جہاد سے کم نہیں ۔ کیونکہ جس حساب سے موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات مان رہی ہے۔ بہتری دیوانے کا خواب ہے ۔ ڈالر آج پھر بلندیوں پر پہنچ چکا ہے ۔ آپ دیکھیں پچھلے تین ماہ میں ڈالر کواپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کے لیے حکومت تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالرز مارکیٹ میں ڈال چکی ہے۔ تحریک انصاف سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پالیسیوں کی ناقد رہی ہے لیکن موجودہ حکومت اب خود بھی اسی طریقہ کار سے نظام چلاتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری طرف وزیر اور مشیر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات کی بھرمار ہے جس سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سرکار کو عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس کا سارا زور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹے سچے اعدادوشمار پیش کرنے پر ہے۔ وزرا جب عوام اور میڈیا کو قائل نہیں کر پاتے تو انہیں کنفیوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ آج کل کئی وزرا یہ دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ پاکستان میں تیل کی قیمت برطانیہ اور یورپ کی نسبت بلکہ پورے خطے میں سب سے کم ہے۔ برطانیہ میں ایک لیٹر پٹرول ایک پاؤنڈ تیس پینس کا ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریباً تین سو روپے بنتا ہے جبکہ پاکستان میں صرف 123 روپے 80 پیسے فی لیٹر میں پٹرول دستیاب ہے۔ ایسے افراد سے گزارش ہے کہ وہ عوام کو یہ بھی بتائیں کہ برطانیہ میں ایک گھنٹہ کام کرنے کی کم سے کم اجرت تقریباً سات پاؤنڈ ہے۔ اگر دن میں آٹھ گھنٹے کام کیا جائے تو 56 پاؤنڈز کمائے جا سکتے ہیں جو پاکستانی کرنسی میں 12936 روپے بنتے ہیں۔ اس سے تقریباً 43 لیٹر پٹرول خریدا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان میں ایک دن کی کم از کم اجرت تقریباً چھ سو روپے ہے جس سے ساڑھے چار لیٹر پٹرول ہی خریدا جا سکتا ہے۔اس طرح یہ مانگے تانگے کے وفاقی وزیر سوشل میڈیا پر تشہیری مہم تو چلا سکتے ہیں ۔ لیکن انفارمیشن کے اس دور میں عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔

    ۔ پر کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ عمران خان ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ آئندہ انتخابات اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے۔ اب کوئی اندازہ لگانے لگے کہ وہ کس کارکردگی کی بات کر رہے ہیں تو سرپکڑ کر بیٹھ جائے۔ کیا مشکلات برقرار رکھنے کی کارکردگی، کیا مہنگائی کو آسمان تک پہنچانے کی کارکردگی، یا پھر گڈ گورننس میں عروج حاصل کرنے کی کارکردگی، کون سی کارکردگی ؟؟؟ کہاں کی کارکردگی ؟؟؟ کہنے کو عمران خان اپنے خوشنما نعرے نیا پاکستان کی وجہ سے اقتدار میں آ گئے، مگر وہ اشرافیہ کے چنگل سے آزاد ہو سکے اور نہ عوام کو آزاد کرا سکے، ان کی حکومت میں پرانے پاکستان کے وہ تمام استحصالی چہرے موجود ہیں، جو اس ملک کے عوام کو روپ بدل بدل کر بے وقوف بناتے رہے ہیں۔ ۔ اسی لیے ان چہروں نے جلد ہی عمران خان کے نئے پاکستان کی ہیئت بدل کر پرانے سے بھی زیادہ استحصالی پاکستان بنا دیا۔ یوں ایک بار پھر وہ نظریہ جیت گیا جو عوام دشمنی پر مبنی ہے اور وہ ہار گیا جو عوام دوستی کا مظہر ہے۔ اقتدار میں چاہے مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلزپارٹی یا پھر ان دونوں کو ہرا کر تحریک انصاف حکومت بنا لے عوام کے ہاتھوں میں کچھ نہیں آتا۔ ان کے لئے محرومیوں کے سوا اس سارے نظام میں کچھ بھی نہیں، بلکہ حالات پہلے سے بدتر ہو جاتے ہیں اور تبدیلی کے ہر غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ آج کل پھر سیاسی جماعتیں عوام کے دکھ درد بانٹنے کے درد میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) بھی کہہ رہی ہے ایک موقع اور دیں، پھر دیکھیں ہماری عوام دوستی اور پیپلزپارٹی بھی عوام کو نئے خواب دکھانے کی پوری کوشش کر رہی ہے، جبکہ عوام دریا کے کنارے کھڑے یہ سب تماشا دیکھ رہے ہیں۔

  • پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

    پاکستان اور سیاحت تحریر: تعمیر حسین

    سیاحت کسی بھی ملک کا مثبت پہلو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ھے۔  تمام ممالک کی یہ کوشش ھوتی ھے کہ زیادہ سے زیادہ سیاح ان کے ملک جائیں۔ جس سے نہ صرف اس ملک کا اچھا امیج پیدا ھوتا ھے بلکہ معیشت کو بھی سہارا ملتا ھے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ھوتے ھیں۔ کیونکہ سیاح جس علاقے میں بھی جائیں وھاں کی روایتی اشیاء کو خریدتے ھیں اور اپنے دوستوں اور فیملی کے لیے تحائف کے طور پر لے کر جاتے ھیں ۔

    بعض ممالک کی معیشت کا تو انحصار ہی سیاحت پر ھے۔

     

    پاکستان بھی سیاحت کے شعبے میں دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور پاکستان کے شمالی علاقوں کی مہم جُو سیاحت،ثقافتی ورثہ اور آثار قدیمہ کے نوادرات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ شمالی علاقہ جات نہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بے حد مشہور ھیں۔ شمالی علاقہ جات ، کشمیر کے بلند پہاڑ، گلگت کی برف پوش پہاڑی چوٹیاں اور وادی کیلاش یہ صرف چند مشہور تفریحی مقامات کے نام ھیں۔ الحمدللہ پاکستان کا چپہ چپہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ھے۔

    پاکستان ان ممالک میں سے ایک ھے جہاں چاروں موسم پاے جاتے ہیں۔

    پاکستان کے شہری علاقے سیاحوں کے لئے توجہ کا ساماں رکھتے ہیں جبکہ ملک کے دیہی علاقے آرٹ،دستکاری اور دلکش ثقافت کا شاندار نمونہ ہیں۔

    دیہات اب بھی ثقافت کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ھوے ھیں۔

     آپ کسی جگہ گھوم رہے ہوں اور اچانک بادلوں کی ٹکڑیاں آپ کو چھولیں بلکہ آپ سے لپٹ جائیں تو کیسا محسوس کریں گے؟

    یہ ناممکن نہیں بلکہ حقیقت ھے،  اگر آپ پاکستان کے پہاڑی مقامات کی سیر کے لیے جائیں تو ایسا تجربہ آپ کو  اچانک ہوسکتا ہے۔

    سمجھ نہیں آتا کہ کن الفاظ میں اس احساس کو بیان کریں، مگر ہمارے وطن کے رنگ ایسے ہی سدا بہار ہیں جو دل کو جیت لیتے ہیں۔ 

    گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ خزاں کا ذکر بھی زیادہ تر ہوتا ہے کیونکہ اس موسم میں اس وادی کے رنگ دیکھنے والے ہوتے ہیں یعنی نارنجی، زرد، سرخ اور دیگر رنگ ہر جگہ پھیلے ہوتے ہیں۔

    وادی سوات اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش چوٹیوں، ان گِنت جھرنوں ، چراگاہوں، نہروں اور ندیوں، قدرتی پارکوں، جھیلوں اور گھنے و تاریک جنگلوں کی وجہ سے مشہور ہے.

    بلوچستان کے ریگستانوں سے لے کر پنجاب کے سرسبز میدانوں تک پاکستان بے شمار سیاحتی مقامات رکھتا ھے 

    لاھور شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات رکھتا ھے تو سر زمین ملتان اولیاء اللہ کی سر زمین مشہور ھے اور وھاں جلیل القدر اولیا کے مزارات ھیں جن میں بہاوالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی شامل ھے۔

     لاھور کی فوڈ سٹریٹ کی تو شان ہی نرالی ھے۔ وھاں کے چٹ پٹے مزیدار روایتی پکوان لاھور کی پہچان ھیں۔  سیاحوں کے لیے خصوصی انتظامات موجود ھیں۔

     آپ روایتی ٹانگہ پر پرانہ لاھور بھی گھوم سکتے ھیں۔ اندرون لاھور اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ھوے ھے۔ 

    مری ، اسلام آباد، کلر کہار، چکوال، خوشاب ، چترال، وادی کیلاش، سوات ، وزیرستان غرض کون کون سی جگہ کا نام لوں جو تاریخی اور سیاحتی مقامات نہ رکھتی ھو ؟  ہر شہر ، ہر علاقہ انفرادیت کا حامل ھے اور اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ھے۔  

     یہاں ضرورت اس بات کی ھے کہ حکومت پاکستان ان سیاحتی مراکز کو سہولیات فراہم کرے اور انٹرنیشنلی طور پر اس کو پروموٹ کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ سیاح پاکستان کا رخ کریں ۔ اس سلسلے میں حکومت نے کے پی کے کے علاقوں میں خاصہ کام کیا ھے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ھے۔

    اوورسیز پاکستانیوں کو چاھیے کہ جس ملک بھی جائیں پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کریں۔ وھاں پاکستان کے سیاحتی مقامات کے متعلق آگاہی پھیلائیں تا کہ وھاں کہ لوگوں میں پاکستان کے متعلق تجسس ھو اور پاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری عروج کی بلندیوں کو چھوئے۔

    جس طرح اس سال لاکھوں کی تعداد میں مقامی سیاح عید کے موقع پر سیاحتی مقامات کی طرف امڈے ھمیں  امید ھے کہ مستقبل قریب میں پاکستان غیر ملکی سیاحوں کا بھی مرکز ھو گا۔ 

    پاکستان پائندہ باد

    Official Twitter Account @J_Tameer  

  • حکومت کا ٹارگٹ غریب یا غربت  تحریر:   حافظ طلحہ ابوبکر

    حکومت کا ٹارگٹ غریب یا غربت تحریر:  حافظ طلحہ ابوبکر

    جب سے ہوش سنمبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں 

    مہنگائی نے جینا حرام کردیا 

    ہر نئی حکومت سے نئی اُمیدیں وابستہ کی جاتی ہیں 

    لیکن آنے والے حکمران عام آدمی تک انصاف اور عوامی سہولیات کا محض نعرہ ہی لگاتے ہیں عمل نہیں کیا جاتا پھر بھی غربت اور مہنگائی میں پسی ہوئی عوام کسی ایک کو منتخب کرتے ہیں کہ شاید ان کی مشکلات میں آسانی ہو مگر ایسا ہوا کبھی نہیں

    گزشتہ 32 سالوں کے دوران سیاستدانوں نے 

    کبھی روٹی کپڑا مکان اور کبھی ووٹ کو عزت دو کے کھوکھلے نعروں سے عوام کو بیوقوف ہی بنایا لیکن جس طرح سے موجودہ حکومت نے اپنے نعروں سے لے کر اقتدار میں آنے تک کے دوران عوامی مسائل کو حل کرنے کی امید جگائی اور وعدے کیے تھے تو محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید پاکستان کی غریب عوام کی قسمت بدل جائے گی حالات و نظام کے ستائے ہوئے لوگوں کو کچھ تو ریلیف ملے گا انصاف کی فراہمی ممکن ہو گی لیکن ایسا ابھی تک کچھ نہیں ہوا بلکہ موجودہ حکومت نے غربت ختم کرنے بجائے غریب کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ناں غریب رہے گا اور ناں ملکی ترقی میں مشکل در پیش ہو گی

    لیکن سوال یہ ہے کہ اگر غریب کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی مؤثر حکمتِ عملی نہیں تو غریب کے ووٹ کی خاطر یہی حکمران اس کی دہلیز تک کیوں جاتے ہیں 

    کسی غریب کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ملکی معیشت کہاں پر جا رہی ہے اور ڈالر کا عالمی منڈی میں کیا اتار چڑھاؤ ہے اسے فکر ہے تو گھر کا چولہا کیسے جلے گا 

    مہنگائی اور غربت نے عوام کا جینا محال کر دیا

    پٹرول کی قیمتوں میں آۓروز اضافہ’ آٹے اور چینی اور گھی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر ہی رہیں اسکے ساتھ ساتھ سبزی اور دالیں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئیں ایسے حالات میں تو یوں لگتا کہ جیسے غریب کو جینے کا کوئی حق ہی نہیں ہے 

    ہر گزرتے دن کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی اور بجلی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی فکر معاش کے ساتھ یہ اضافی بوجھ لادھ کر حکومت کو لگتا ہے کہ ہر ایک خوشحال زندگی بسر کر رہا تو ایسا ہر گز نہیں ہے 

    غربت کی وجہ سے چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا غربت کے ہاتھوں مجبور بے روزگار نوجوانوں کا ہجوم کسی طرح شارٹ کٹ سے زندگی آسان کرنے کے لئے دوسروں کی زندگیوں کو عذاب بنا رہے ہیں اور ہمارے وزراء اور مشیر اعلٰی سب اچھا ہے کی گردان لیے بیٹھے ہیں انکو اندازا ہی نہیں ملک میں غربت کے باعث خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہونے والی ہے آخر کب تک لوگ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے عوام کو ریلیف کی ضرورت ہے 

    اور یہی بات آج سب سے اہم اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے غریب جب اٹھے گا تو اسکو روکنا نا ممکن ہو گا حکومت کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ عام عوام بھی سمجھ گئی ہے اپنے حق کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑے گا تو وہ نکلیں گے 

    اس دیس کے ہراک لیڈ ر پرسوال اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کے ہراک حاکم کوسولی پہ چڑ ھانا واجب ہے

    ‏حکومت اور اپوزیشن کے ہمیشہ کی طرح اختلافات نے عوام کو پاگل بنایا ہوا ہے عوام مہنگائی سے پس رہی چاہے 2 سال بعد کوئی بھی جیتے عوام کو اس سے کیا، عوام کو نا اپوزیشن نے ریلیف دیا نا حکومت نے۔ عوام کا اصل مسلہ الیکشن نہیں مہنگائی ہے جس نے اس وقت کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حکومت کے تین سال گزر جانے کے باوجود عوام کو کوئی خاص ریلیف نا مل سکا۔ اب حکومت کو چاہیے کہ سابقہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کو صرف اجاگر کر کے اپنی سیاست چمکانے کی بجائے ان غلطیوں کو سدھارنے کی اور اصلاحات کی کوشش کرے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔

    الفت بدل گئی، کبھی نیت بدل گئی

    خود غرض جب ہوۓ تو پھر سیرت بدل گئی

    اپنا قصور دوسروں کے سر پر ڈال کر

    کچھ لوگ سوچتے ہیں حقیقت بدل گئی۔

    ‎@talha_abubakar4 

  • چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے  تحریر: علی خان

    چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے تحریر: علی خان

    @hidesidewithak

    جب بھی عوامی مسائل  اور ترقی نہ  ہونے کی بات ہوتی ہے تو کرپشن کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہر دور حکومت میں ماضی کے حکمرانوں ، بیوروکریٹس اور صنعت کاروں اور تاجروں پر بدعنوانی اور فراڈ کے الزامات لگتے ہیں لیکن  صدقے جائیے ہمارے نظام انصاف کے کہ آج تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ الزام ثابت بھی ہوجائے تو  مجرم پوری ڈھیٹائی سے  اس وقت تک اپنے  بے گناہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے  جب  تک کوئی  دوسری حکومت برسراقتدار نہیں آجاتی یا ادارہ احتساب سے ڈیل نہیں ہوجاتی۔  سیاستدانوں کے لیےمعاملہ زیادہ آسان ہوتا ہے کہ انہیں پانچ یا دس سال کے وقفے سے اقتدار دوبارہ مل جاتا ہے اور ان کا لوٹ کا پورا مال ہی بچ جاتا ہے

    آج کل اپنے سنہری دور کے انتظار  کرنے والے سیاستدانوں میں 35 سال اقتدار کے مزے لوٹنے والے 3 بار کے وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب  بھی شامل ہیں۔ میاں صاحب پر پاناما پیپر اسکینڈل کے بعد  کیس چلنا شروع ہواتو انکے وکلاء کی جانب سے بار بار پینترے بدلے گئے۔ میاں صاحب نے دادا سے جائیداد براہ راست بچوں کو منتقل ہونے کا موقف اپنایا تو کہانی میں قطری خط اور کیلبری فونٹ جیسے متعدد جھول واضح ہوئے، میاں نواز شریف کے تمام اہل خانہ کی جانب سے متضاد موقف نے معاملے میں کچھ نہ کچھ کالا ہونے کو پریقین کردیا۔ مریم نواز کی جانب سے جائیداد نہ ہونے کا بیان پھر لندن فلیٹس کی ملکیت کا ثابت ہونا یا پھر حسن اور حسین نواز کی جانب سے کیس کی پیروی سے یہ کہہ کر فرار کہ ہم برطانوی شہری ہیں ہم پر کیس نہیں چل سکتا۔ 

    قوم کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہوسکتا ہے کہ والد 3 بار ایک ملک پر حکمرانی کریں اور مزید کی خواہش رکھتے ہوں لیکن بچوں کی جانب سے اسکے قوانین ماننے سے ہی انکار کیا جائے۔ میاں صاحب خود بھی جب  جیل میں سزا نہ کاٹ سکے تو ایک نامعلوم بیماری میں مبتلا ہوگئے جس میں  انکی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور دن تک گنے جانے لگے۔ پاکستان سے باہر چار ہفتے علاج  کے لیے جانے والے نواز شریف صاحب انہی فلیٹس میں  قریباً ایک سال سے مقیم ہیں جن کے بارے میں انکا پورا خاندان  متضاد بیانات دیتا رہا ۔ انہی فلیٹس کے لیے میاں صاحب کے بچوں نے مادر وطن سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اس مبینہ غبن کے ماسٹر مائنڈ اسحاق ڈار اور میاں صاحب کے  قریبی عزیز بھی مختلف کیسوں میں مطلوب اور لندن میں بیٹھ کر ملک کا درد جتا رہے ہیں

    میاں صاحب پر یہ مثال  "چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے” بالکل صادق آتی ہے۔ نواز شریف صاحب  ان فلیٹس اور لندن میں انکشاف کردہ دیگر جائیدادوں کے لیے اتنی ذلالت جھیل چکے ہیں  لیکن اس بے نامی، مشکوک اور مبینہ طور پر قومی خزانے کی لوٹ سے بنائی جائیداد  کو چھوڑنے پر راضی نہیں۔  میاں صاحب اس  کوشش میں  وطن عزیز کے خلاف واہیات زبان استعمال کرنے والے افغان حمد اللہ محب سے ملتے ہیں تو انکی صاحبزادی ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل بیان بازی میں مصروف ہیں۔ ہر موقعے پر ریاست مخالف بیانیہ اپنانے سے انکے سگے بھائی شہباز شریف بھی ان سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں لیکن میاں صاحب کی سمجھ اور فہم صرف اپنا لوٹ کا مال بچانے تک محدود ہے۔ اپنے کیسوں میں میرٹ کی بجائے طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنا اور دوسرے ملک  میں بیٹھ کر حب الوطنی کے دعوے میل نہیں کھاتے۔ میاں صاحب اس ملک نےآپکو عزت دی اور سب سے بڑی مسند پر فائز کیا۔ دل بڑا کریں اور اس دولت  کو ملک و قوم کے نام کرکہ وطن سے محبت کا حقیقی ثبوت دیں۔ حب الوطنی کے نعرے ایک بات ہے  اور ان کا عملی مظاہرہ دوسری۔ عمل کا وقت قریب ہے ورنہ قوم یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ جو شخص دولت بچانے کے لیے ملک دشمنوں سے میل ملاقات رکھ سکتا ہے تو اسکی حب الوطنی پر یقین بے وقوفی ہے

  • تبدیلی ہی تو مانگی تھی تحریر : سیف الرحمان

    انسان بھی کیا چیز ہے۔ جب کمزور ہوتا ہے تو کمزروں کو بازو بنا کر کمزوں کے حق کی بات کرتا ہے ۔ جب طاقت میں ہوتا ہے طاقتوروں کو ساتھ ملا کر کمزوں کا خون نچوڑنے کی تدبیریں کرتا ہے۔ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ شروع شروع میں مجھے اس بات کی سہی سمجھ نہیں آئی لیکن پھر اﷲ بلا کرے عمران خان کا جنہوں نے ہمیں سیاسی شعور دیا۔  
    خان صاحب نے تبدیلی کے نام پہ نوجوانوں سے ووٹ مانگا۔ نوجوانوں نے خان صاحب کو تبدیلی لانے کیلئے مکمل تعاون کیساتھ ساتھ ووٹ بھی دیا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکلتی چلی گئی۔ نوجوانوں میں آہستہ آہستہ مایوسی کے بادل چھانے لگے۔ اس کی وجہ خان صاحب کے وزیراعظم بننے سے پہلے کے وہ دعوے  اور وعدےہیں جو انہوں نے اپنی قوم کیساتھ کئے۔اب خان صاحب چاہ کر بھی ماضی سے جان نہیں چھڑا سکتے۔
    کیا خوب کہا کسی شاعر نے
    یاد ماضی غذاب ہے یا رب______چھین لے مجھ سے میرا
    خان صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ جب تحریک انصاف پاور میں آئے گی تو لوگ باہر سے نوکریاں چھوڑ کر  پاکستان آئیں گے۔  سبز پاسپوٹ کی دنیا میں عزت کی بات کیا کرتے تھے۔  ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ بھی ابھی تک ادھورا  پڑاہے۔  پچاس ہزار مفت گھر دینے کا وعدہ بھی  وفا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلئے خان صاحب نے کبھی ملائیشیاء ماڈل  بنانے کی بات کی تو کبھی چینی ماڈل کو ترقی کیلئے اہم قرار دیا کبھی ایرانی انقلاب لانے کی باتیں کی تو کبھی ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا کبھی ترکی کی آذاد خیالی سے متاثر ہوئے تو کبھی  یورپ کی مثالیں دیں۔لیکن ان بلنددعوؤں میں  پاکستانی عوام کو کیا ملا؟
    آج جب خان صاحب اقتدار کے تین سال پورے کر چکے اور ماشاءاﷲ چوتھا سال شروع ہے تو کوئی بتا سکتا ہے پاکستان میں اس وقت کونسا ماڈل چل رہا ہے؟ 
     عوام کو تو سوائے مہنگائی اوربیروزگاری  کے کچھ نہیں ملا۔ اگر کچھ ملا ہے تو بتائیں۔  آپ کسی بھی چیز کے ریٹ سابقہ کرپٹ حکمرانوں کے دور سے ملا لیں موجودہ حکومت سے کم ہی  ہوں گے۔پیپلز پارٹی جیسی کرپٹ ترین حکومت کے دور میں بھی اس شرع سے مہنگائی نہیں تھی۔ خان صاحب عوام کوسٹاک ایکسچینج کے اتار چڑاؤ سے کوئی غرض نہیں۔ آپکی درآمدات اور بر آمدات سے بھی کوئی لینا دینا نہیں۔ آپ کی پناہ گاہوں کا بھی فائدہ کچھ افراد کے علاوہ اکثریت کو نہیں۔ عوام کو سستا آٹا چاہئے۔ سستا گھی چاہئے سستی چینی چاہئے ۔ سستی دالیں اور صابن چاہئے۔ وہ آپ کی حکومت ابھی تک دینے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ وقت نکال کر اس بارے لازمی سوچیں۔ کیونکہ اگلے الیکشن میں ان ہی غریب لوگوں نے ووٹ دینا ہے۔ 
    خان صاحب اقتدار سے بہتر تھا آپ اپوزیشن میں رہتے۔ آپ کی تبدیلی کا آسرا تو تھا۔ اگر آپ تبدیلی لانے میں ناکام ہو گئے تو عوام کس کے در پہ دستک دے گی؟  کیا پھر وہی نواز اور ذرداری ہمیں نوچیں گے؟ کیا ہمارے نصیب اتنے ہی برے ہیں کہ بلاول جیسا دودھ پیتا  بچہ ہمارا حکمران بننے کو تیار بیٹھا ہے یا مریم جیسی بدزبان اور بداخلاق عورت ہم پہ حکمرانی کرے گی؟  
    خان صاحب آپ نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف انکی دہلیز پہ ملے گا۔غریب خوشحال ہوگا اور مہنگائی کا جن ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بوتل میں بند کر دیا جائے گا۔  لیکن حالات پہلے سے بھی ذیادہ خراب ہوتے جا رہے ہیں۔  ایسا لگ رہا ہے جیسے  اقتدار میں بیٹھے چہرے بدلے ہیں  کام وہی ہو رہے ہیں جیسا سابقہ حکمران کیا کرتے  تھے۔وہی پرانی رسم ورواج وہی بیان بازی وہی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانا ۔ ہاں کرپش کی حد تک تبدیلی ضرور نظر آئی ہے۔ موجودہ دور میں سابقہ ادوار کی نسبت کرپشن کی شرع بہت کم ہے۔   اس پہ آپ کی حکومت قابل تعریف ہے۔
    تحریک انصاف کے پاس وقت کم  اور مقابلہ سخت ہے۔ اس کم عرصے میں پاکستان شاہد ایشیائی ٹائیگر تو نہ بن سکے لیکن اتنا ضرور ممکن ہے کے سبز پاسپوٹ کو دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھ سکے۔ آپ کی عوام مہنگائی تلےمذید پسنے سےبچ جائے   ۔ آپ گھر اور نوکریاں بیشک نہ دیں  لیکن ایسے حالات تو پیدا کر دیں کہ  لوگ  خود اپنا کاروبار شروع کر کے باقی  بیروزگاروں کو نوکریاں مہیا کر سکیں۔ کامیاب نوجوان پروگرام  سکیم کی بجائے ڈائریکٹ  نوجوانوں کو بغیر سود قرض دیں۔ دیلیز پہ انصاف نہ بھی ملے چلے گا لیکن جسٹس سسٹم میں ریفارمز کر دیں تا کہ ججز سالوں کیس چلانے کی بجائے تین سے چھ ماہ میں فیصلے کرنے کے پابند ہو جائیں۔ پولیس ویشی کی بجائے عوام کی محافظ بن جائے۔ ڈاکٹر مسیحا بن جائیں اور سرکاری افسران نوابوں کی بجائے عوام کی خدمت کرنے لگ جائیں۔
    اس وقت عوام میں تاثر بنا ہوا ہے کہ وزیروں کی فوج اور مشیروں کی موج لگی ہوئی ہے۔خان صاحب ہوش کے ناخن لیں  عوام کیساتھ تبدیلی کے نام پہ دھوکہ ہونے جا رہا ہے۔ مہنگائی کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ پستہ ہی چلا جا رہا ہے۔ خان صاحب ان وزیروں مشیروں کو رکھنے کا فائدہ جب آپ کی عوام مہنگائی کی وجہ سے رو رہی ہے۔  بیشک صحت انصاف کارڈ آپ کا وہ کارنامہ ہے جو اگر کامیاب ہو گیا تو عوام کی تقدیر ہی بدل جائے گی لیکن چند  پرائیویٹ ہسپتال جان بوجھ اسکو ناکام بنانے کی  کوشش کر رہے ہیں۔ آپ اپنی ٹیم کو متحرک کریں۔    ایسے تمام ہسپتالوں کو سیل کر دیں جو صحت انصاف کارڈ پہ علاج سے انکار کریں۔
    خان صاحب ایک بات ذہن نشین کر لیں ۔ آئندہ عام انتخابات میں آپ کا مقابلہ مہنگائی سے ہونے جا رہا ہے۔اگر آئندہ عام انتخاب تک مہنگائی کا پلڑا بھاری رہا تو آپ کی شکست کنفرم  ہےاور اگر آپ نے 2023الیکشن سے پہلے مہنگائی میں %30تک بھی قابو پا لیا تو شاہد آپ دوبارہ اقتدار میں آ جائیں۔ اپوزیشن کی خاموشی مہنگائی کی جیت کی وجہ ہے۔ اپوزیشن نے آپ کو مہنگائی جیسے  مضبوط جن کے آگے پھینک دیا ہے۔اس کی مثال آپ کےتین سالہ دور اقتدار میں چوتھا وزیر خزانہ کی آمد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ بیشک موجودہ وزیر خزانہ  شوکت ترین  صاحب قابل احترام اور بزرگ کاروباری شخصیت ہیں لیکن یاد رکھنا وہ اپنا بینک چلانے میں نا صرف ناکام ہوئے بلکہ فروخت کر کے آئے ہیں۔ ذرا بچ کے کہیں شوکت ترین کا تجربہ آپ کے اقتدار کو بھی نہ لے ڈوبے۔

    @saif__says 

  • ای وی ایم کا استعمال ایک اچھا قدم ہے، لیکن اپوزیشن کے اطمینان کے بغیر نہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ای وی ایم کا استعمال ایک اچھا قدم ہے، لیکن اپوزیشن کے اطمینان کے بغیر نہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں ماضی میں ہونے والے تمام انتخابات کی شفافیت کو ہارنے والی جماعتوں نے متنازعہ بنایا تھا۔ یہاں تک کہ 2018 کے انتخابات ،جنہوں نے پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا، متنازعہ رہے کیونکہ بڑی اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ نتائج میں ہیرا پھیری کی گئی تاکہ عمران خان کے بطور وزیر اعظم راستہ صاف ہو سکے۔

    ایسی صورت حال میں ایک ایسے نظام کو متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے جو قابل اعتماد نتائج دے سکے، جس میں کسی کے لیے اس کی سچائی کو چیلنج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس طرح انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال صحیح قدم ہوگا، بشرطیکہ اپوزیشن کے تحفظات/ خدشات کو ان کے مکمل اطمینان سے حل کیا جائے۔

    دوسرے لفظوں میں، اگر ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہے، تو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کا ازالہ بھی ضروری ہے۔

    اور یہ دونوں فریقوں کے درمیان کھلے ذہن کے مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ اگر اب کوئی اتفاق رائے کا طریقہ کار نہیں بنایا گیا تو 2023 کے انتخابات کے نتائج بھی ماضی کی طرح غیر واضح ہوں گے۔

    پارلیمنٹیرین کا فرض ہے کہ وہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔ ایسے انتخابات کا انعقادہو جس کے نتائج تمام جماعتوں کے لیے قابل قبول ہوں۔

    الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کسی خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ممکنہ ہیرا پھیری کے بارے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو آسانی سے دور نہیں کیا جا سکتا۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ ای سی پی کے اعلیٰ عہدیداروں سے منسوب کیے بغیر ان سب کا جواب دے۔

    محض یہ الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹر بن گیا ہے یا الیکشن کمیشن نے رشوت قبول کی ہے ، یا دھمکی ہے کہ ای سی پی کی عمارتوں کو جلا دیا جائے گا ، اپوزیشن کے خدشات کو کمزور نہیں کر سکتا۔

    اسی طرح، ایک وفاقی وزیر کا یہ مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے، ای وی ایم کے انتظام کے بارے میں خوف کا جواب نہیں ہے۔ اگر حکومت سی ای سی کو ہٹانا چاہتی ہے تو اسے آئینی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

    وزیر سائنس شبلی فراز کی رپورٹ کردہ پیشکش ہے کہ اگر مقامی ای وی ایم قابل اعتماد نہیں ہیں تو انہیں کسی دوسرے ملک سے درآمد کیا جا سکتا ہے، اور یہ ایک معقول دلیل ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ مقامی ای وی ایم کو ہیک نہیں کیا جا سکتا اور جو دعوے کو جھٹلاتا ہے اسے انعام کے طور پر 10 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے تاکہ ان کی وزارت کی تیار کردہ مشینوں کے مخالفین کو چیلنج کیا جا سکے۔

    قوم نے گلیارے کے دونوں اطراف اپنے نمائندوں کو ووٹ دیا تھا تاکہ تمام مسائل حل ہوں۔ اس طرح منتخب نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔ صرف کیچڑ اچھالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گلیارے کے دونوں اطراف کے عوامی نمائندوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل تلاش کرنا ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ کسی ایسے طریقہ کار سے اتفاق کرنے میں ناکام رہے جو مستقبل کے انتخابات کے نتائج کو ناقابل تسخیر بنا سکتا ہے تو وہ ووٹروں کی توقعات پر پورا نہیں اتریں گے۔

    پی ٹی آئی کے وزراء یہ اشارے دے رہے ہیں کہ حکومت ای وی ایم قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران جماعت دونوں ایوانوں میں اپنی عددی طاقت کی وجہ سے ایسا کر سکتی ہے۔ لیکن اس طرح کا اقدام اپوزیشن جماعتوں کے موقف کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

    لہذا، انتخابی نتائج ای وی ایم کے استعمال کے بعد بھی متنازعہ رہیں گے۔ اور ان پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔سمجھداری کا تقاضا ہے کہ دونوں فریق مل بیٹھ کر اپنے چھوٹے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کوئی حل تلاش کریں۔ اور اس مسئلے سے نمٹنے کے دوران، دونوں فریقوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگلے انتخابات میں صرف دو سال باقی ہیں اور اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ اگلے انتخابات نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی نئی حد بندی کی بنیاد پر ہوں گے۔ یہ دونوں وقت لینے والی مشقیں ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ 20 سال کے وقفے کے بعد منعقد ہونے والی 2017 کی مردم شماری کے نتائج ابھی تک کچھ جماعتوں نے قبول نہیں کیے۔

    سندھی رہنماؤں کا الزام ہے کہ سندھ کی آبادی کو کم اور پنجاب کی آبادی کو دس ملین سے زیادہ سمجھا گیا ہے۔ یہ وسائل کی تقسیم میں فیڈریٹنگ یونٹ کے حصہ کو متاثر کرتا ہے۔

    مختلف موضوعات پر مختلف جماعتوں کی پوزیشنوں کے درمیان پھنسے ہوئے فرق کو دیکھتے ہوئے، اگلے انتخابات کے لیے انتظامات کرنا وقت کے خلاف دوڑ ہوگی۔ اور مسئلہ کی سنگینی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کچھ رپورٹوں کے مطابق حکومت اگلے انتخابات شیڈول سے ایک سال قبل جولائی، اگست 2022 میں کرانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

  • مشکل ہے ناممکن نہیں، تحریر:سفینہ خان

    مشکل ہے ناممکن نہیں، تحریر:سفینہ خان

    امریکہ کا افغانستان سے انخلا کے بعد اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ اور طالبان کا بغیر کسی خون خرابے اور بنا کوئی گولی چلائے اپنی حکومت قائم کر لینا جہاں پوری پوری دنیا کے لئے حیران کن تھا۔ وہاں بھارت کی بدترین اور ناقابل یقین شکست بھی ہے۔

    طالبان نے جہاں افغانستان میں امریکی قیادت میں قائم نیٹو افواج کے خلاف 20 سالہ جنگ جیت لی ہے۔ وہاں دوسری طرف افغانستان سے بھارت نے نا صرف اپنا اثر ور سوخ کا خاتمہ کیا ہے بلکہ دہلی نے ایک ہی جھٹکے میں اپنی مضبوط گرفت بھی کھو دی ہے۔جہاں بھارت کو افغانستان میں بہت بڑی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ وہاں پاکستان نے بھارت کے نکل جانے کے بعد اپنی دو بڑی مشرقی اور مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا کر بہت بڑی تاریخی کامیابی سے بھی ہمکنار ہوا ہے۔سونے پر سہاگہ پاکستان کے آئی ایس آئی کے چیف فیض حمید کا کابل پہنچنا اور صحافیوں سے بات چیت کے دوران ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ پوری دنیا کے میڈیا پر متوجہ کا باعث بن گیا۔ گویا ان کے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ بھارتیوں کے زخموں پر نمک چھڑک گیا ۔ بھارتی ایسے تھڑپے جیسے چائے کا کپ نا ہو گیا بمب کا گولہ ہو گیا۔

    افغانستان میں پھنسے فوجیوں کا افغانستان سے بحفاظت انخلا اور ان کی پاکستان میں قیام اور پھر سی آئی اے کے چیف کا پاکستان جانا اور پاکستان کے آرمی چیف جرنل قمر باجوہ سمیت آئی ایس آئی کے چیف فیاض حمید سے مولقات کے دوران ان کے تعاون اور پاکستان کے کردار کی تعریف بحرحال بھارت کے لئے ایک اور شدید ترین صدمہ ہے۔بھارت کے ہاتھ سے صرف افغانستان پر قبضے اور ایشا ممالک پر تھانیدار بن کر بیٹھنے کا خواب ہی چکنا چور نہی ہوا ۔ بلکہ بھارت کی کھربوں کی افغانستان میں انویسٹمنٹ بھی ڈوب گئی ہے۔بھارت کی شکست اور بےبسی کا اندازہ اپ بھارتی میڈیا اور ان کے ریٹائرڈ جرنلز کی چیخ و پکار سے بخوبی لگا سکتے ہیں ۔بھارتی میڈیا کے جذباتی نیشنلسٹ طبقہ تو اتنا اگ بگولہ ہوا بیٹھا ہے ۔کہ کبھی وہ پنجشیر سے متعلق ویڈیو گیمز کے کلپ لگا کرجھوٹی اور من گھڑت کہانیاں پھیلاتا ہے اور دوسری طرف کابل سرینا ہوٹل میں قائم تصوراتی فیفتھ فلور میں ٹھہرے پاکستان کے آئی یس آئی کے جوانوں کے بارے میں پھیلایا جھوٹ بھی سینہ تان کے پوری دنیا کو ثابت کرنا چاہتا ہے کہ سب کچھ پاکستان ہی کروا رہا ہے۔

    بھارت اس وقت زخمی سانپ بنا بیٹھا ہے۔ وہ پاکستان پر بے درپے وار کر کے افغانستان میں اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔پاکستان میں پچھلے ہفتے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کا اچانک سیکورٹی ایشوز اور دہشتگردی کے خطرے کے ڈر سے کر کرکٹ سیریز کھیلے بغیر ہی چلے گئے۔ اور آج انگلینڈ اور ویلز کے کرکٹ بورڈ نے بھی دورہ پاکستان منسوخ کر دیا۔ جو کہ بلاشبہ پاکستان کے لئے ایک دھچکہ ہے ۔ پاکستان کرکٹ شائقین کے لئے یہ ضرور بری خبر ہے لیکن اتنی بھی بری خبر نہی کہ اسے خوشی میں نا بدلہ جا سکے۔ اگر ابھی بھی پاکستان کی حکومت اور ریاستی ادارے چاہیں ۔تو انٹرنیشنل ٹیموں کو نا سہی انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پاکستان بلا کر کرکٹ کے میدان سجا کر پوری دنیا کو پیغام دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان نا صرف سب کے لئے محفوظ ہے ۔ بلکہ کسی ٹیم کے آنے یا نا آنے سے کھیل رک نہی جایا کرتے۔

    بھارت اب آرام سے نہی بیٹھے گا۔ وہ پاکستان کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ۔ اور اس کے لئے پاکستان اور ان کے ان کے ریاستی اداروں کو دشمن کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار رہنا ہو گا ۔کیونکہ جس فیفتھ جنریشن وار کا ذکر ہمارے سابقہ ڈی جی آئی ایس پی آر جرنل غفور کیا کرتے تھے ۔ شائد اب اس وار کی سمجھ ہمارے پاکستانی نوجوانوں کو بھی آنے لگی ہے۔ کہ اب جنگیں صرف گولی ، بندوق سے ہی نہی ٹیکنالوجی کی ذریعے بھی لڑی جائے گی ۔جس میں سب سے زیادہ سامنا فیک نیوز پھیلا کر پاکستان کی ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا شامل ہے۔امریکہ کا پاکستان پر غصہ سمجھ میں آتا ہے ۔امریکی صدر جوبائیڈن کا اپنی ناکامی کا ذمےدار پاکستان کو ٹھہرانا ان کے مفاد میں ہے ۔ کہ وہ کیسے دنیا کو اور اپنی عوام کو کہہ دیں ۔کہ ہم واحد دنیا کی سپر پاور طالبان سے ہار گئے۔اگر ہم اس ساری صورتحال پر فوکس کریں اور ابھی کے حالات کو آنے والے دنوں میں بیگر پیکچر کے طور پر دیکھیں تو شائد ہم سب کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

    امریکہ کے پلان اے کے مطابق ان کے اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بھارت کو افغانستان میں سب کچھ کنڑول کرنا تھا۔ جو کہ اب اس طرح تو ممکن نہیں رہا ہے۔آیندہ آنے والے دنوں میں امریکہ ، بھارت ، آسڑیلیا اور جاپان سیکورٹی ڈائیلاگ پر اجلاس کرنے جا رہے ہیں ۔ اس اجلاس میں فوکس تو ضرور چین ہو گا ۔ لیکن نشانہ پاکستان ضرور ہو سکتا ہے۔اور اس بات پر سوچ بچاو کیا جائے گا کہ چین کو آگے کیسے کنڑول کیا جا سکتا ہے۔ پھر چاہے امریکی ٹیکنالوجی کو پہلی بار آسڑیلیا منتقل کرنا ہو ۔ ایجنڈا چین اور اس خطے کا کنڑول حاصل کرنا ہی ہو گا ۔وزیر اعظم عمران خان جو ہمشہ سے ہی طالبان کے حامی رہے ہیں۔مجھے ایسے لگتا ہے وہ اس ساری سیچویشن کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جہاں پوری دنیا پاکستان اور پاکستان کے دفاعی اور ریاستی اداروں کو سراہا رہی ہے ۔ان کی مدد کے لئے شکریہ کے پیغامات بھیج رہی ہے ۔جہاں پاکستان اور پاکستان کی آرمی کے موثر کردار نے پوری دنیا کو اپنی اہمیت کا احساس دلوایا ہے ۔وہاں امریکہ میں موجود قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کی ناکام پالیسی بھی کھل کر سامنے آئی ہے ۔ کہ وہ اتنی بڑی کامیابی کو پاکستان کی وفاقی حکومت اور وزیراعظم عمران خان اپنے حق میں استعمال کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے طالبان سے متعلق کنفیوز بیانات ویٹ اینڈ واچ کی پالیسی اور دو ٹوک موقف نا لے پانے کی پالیسی نے بحرحال وفاقی حکومت کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔معید یوسف کی ناکام سفارتکاری کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی ۔کہ پاکستان کے مثبت کردار کے باوجود امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک فون کال نا کروا سکے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت کو جلد اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کو جہاں سٹرونگ لابنگ کی ضرورت ہے وہاں فرنٹ فوٹ پر آ کے کھیلنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت وضاحتیں دینے کا نہی ہے ۔ پاکستان کی اہمیت اپنی مثبت اور عملی پالیسی کے ساتھ دنیا کو کچھ کر دکھانے کی ضرورت ہے ۔ایک عرصہ دراز کے بعد پاکستان کی اس خطے میں بہت ہی سٹرونگ پوزیشن بنی ہے ۔ اس کو ہمارے ریاستی اداروں کی محنت کہہ لیں یا اللہ کا کرم لیکن جو پاکستان چاہتا تھا ویسا ہی ہوا ہے۔پوری دنیا جانتی ہے اگر سلک روٹ پراجیکٹ مکمل ہو گیا تو پاکستان کی کیا اہمیت ہو جائے گی۔ یہ وہ پراجیکٹ ہے جو پاکستان کی ہی نہی ہماری آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل کے رکھ دے گا ۔ طالبان کا سی پیک پر چین اور پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی بحرحال پاکستان کے لئے نیک شگون ہی ہے۔پاکستان کو اپنی کامیابیوں کو نا صرف بچا کے رکھنا ہے بلکہ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں پر توجہ دیتے ہوئے بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس خطے کے لئے مثبت عملی اقدامات سے دنیا کو ثابت کرنا ہے۔تاکہ ہمارے ملک کے وزیراعظم کو کسی کے فون کا انتظار نا کرنا پڑے بلکہ دنیا ہمیں چل کر ہمارے پاس انا پڑے۔ مشکل ہے ناممکن نہیں

  • نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نیوزی لینڈ کی ٹیم کی واپسی، سچ سامنے آ ہی گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    جب نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اپنا دورہ کینسل کرکے واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا تو کہا تھا کہ بظاہر جو وجوہات ہمیں بتائی جا رہی ہیں یہ پورا سچ نہیں ہے۔اور اب اس بات کے ثبوت بھی سامنے آ رہے ہیں کہ اس تمام معاملے کے پیچھے ہمارا دیرینہ دشمن اور ہمسایہ بھارت ملوث ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت نے ایسا کیوں کیا ؟کیا پاکستان کو آئی سی سی میں یہ کیس لیکر جانے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟ پہلے بات کر لیتے ہیں کہ ابھی تک وہ کون سے ثبوت ہمارے سامنے آئے ہیں جو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اس تمام کارستانی کے پیچھے بھارت ملوث تھا۔یہ سازش دراصل شروع ہوئی تھی ایک فیس بک پوسٹ سے جو انیس اگست کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے بنے ایک جعلی اکاونٹ سے کی گئی تھی۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا کہ۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ اور حکومت اپنی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجیں کیونکہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ داعش پاکستان میں کارروائی کرنے کی تیاری کر ہی ہے اور وہ ٹارگٹ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی ہو سکتی ہے میں جانتا ہوں کہ داعش مجھ سے ناراض ہو گی اس پوسٹ کے بعد۔ اب یہ نیوزی لینڈ کی حکومت پر ہے کہ وہ غور سے سوچیں۔

    اس کے بعد اکیس اگست کو Abhinandan Mishraجو کہ بھارتی اخبارSunday Guardianکے بیورو چیف ہیں انہوں نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں لکھا گیا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں دہشتگرد حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ آرٹیکل اسی جعلی فیس بک پوسٹ کو بنیاد بنا کر لکھا گیا تھا اور Abhinandan Mishraکے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے امر اللہ صالح کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔اس کے بعد چوبیس اگست کو نیوزی لینڈ کے کھلاڑیMartin Guptill کی بیوی کوایک ای میل ملتی ہے جو کہ tehreeklabaik@protonmail.com
    کی آئی ڈی سے بھیجی گئی تھی۔ اس ای میل میں یہ دھمکی دی گئی کہ مارٹن کو پاکستان میں قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن جب اس ای میل کی تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ یہ ای میل کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک سے جڑی ہوئی نہیں ہوئی تھی۔ اور وہ ای میل اکاﺅنٹ چوبیس اگست کو رات ایک بج کر پانچ منٹ پر بنایا گیا تھا اور بنانے کے چند گھنٹوں کے بعد صبح گیارہ بج کر
    59 منٹ پرMartin Guptillکی بیوی کو اس سے ای میل کی جاتی ہے۔ اور یہ ایک اکلوتی ای میل ہے جو اس اکاونٹ سے کی گئی یعنی اس سے پہلے یا اس کے بعد ابھی تک اس اکاونٹ سے کوئی اور ای میل کی ہی نہیں گئی۔protonmailدراصل ایکSecure serviceہے۔ جس کی تفصیلات آسانی سے مہیا نہیں ہوتیں۔ بہر حال اس کے لئے انٹر پول سے درخواست کی گئی ہے اور وہ ہی ہمیں کچھ مدد کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام دھمکیوں کے باوجود نیوزی لینڈ نے یہ دورہ کینسل نہیں کیا تھا اور گیارہ ستمبر کو نیوزی لینڈ کی ٹیم چارٹرڈ فلائٹ سے پاکستان پہنچ بھی گئی تھی۔ اور T20ٹیم کے ممبرز بارہ ستمبر کو یہاں پہنچے۔ اس کے بعد ان کو یہاں ہائی لیول کی سیکیورٹی دی گئی۔ سرینا ہوٹل میں ان کو الگ ایک پورا ونگ دیا گیا تھا۔ جہاں ٹیم اور سیکیورٹی فورسز کے علاوہ کسی کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ Civil arm forces, police, rangers اور سیکیورٹی ایجنسیز سب مل کر ان کو سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ تقریبا ایک ہزار سے زیادہ لوگ اس ٹیم کو سیکیورٹی مہیا کر رہے تھے۔ دو ہیلی کاپٹرز بھی ان کی سیکیورٹی کے لئے فراہم کیئے گئے۔ آخری بار اتنی سیکیورٹی اس وقت کی گئی تھی جب محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس کے بعد پریکٹس سیشن کا شیڈول بھی جاری ہوا دونوں ٹیموں نے دھمکیوں کے بعد باوجود دو دن پریکٹس بھی کی لیکن کوئی الرٹ رپورٹ نہیں ہوا اس کے بعد ایک دن چھٹی کا بھی گزارا لیکن کوئی سیکیورٹی ایشو سامنے نہیں آیا۔

    لیکن سترہ ستمبر کو میچ سے پہلے صبح ساڑھے دس بجے نیوزی لینڈ کی ٹیم یہ بتاتی ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے تھریٹ الرٹ آیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی حکومت کی ہدایت پر یہ دورہ منسوخ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پی سی بی کے حکام ، وزارت داخلہ کی ٹیم اور ایجنسیوں کے لوگ ان کے پاس بھی گئے اور درخواست کی کہ آپ لوگ ہم سے تھریٹ الرٹ شیئر کریں لیکن انہوں نے ایسا کوئی ثبوت شئیر نہیں کیا۔حالت تو یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان جو اس وقت ایس سی او کے سمٹ میں مصروف تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم Jacinda Ardernسے بات بھی کی کہ اگر وہ اس وقت دورہ کینسل کریں گے تواس سے عوامی سطح پر تلخی پیدا ہو گی لیکنJacinda Ardernنے کہا کہ ان کے پاس سنجیدہ انفارمیشن ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ لیکن وہ سنجیدہ انفارمیشن آج تک ہم سے شئیر نہیں کی گئی۔ اب جب دورہ کینسل ہونے اور ٹیم کے واپس جانے کے بعد ہمارے اداروں نے تحقیقات کیں تو سب کچھ کھل کر سامنے آگیا کہ ان یہ دھمکی آمیز ای میلز کےپیچھے سب کچھ کیا دہرا بھارت کا ہے۔یہ ای میل بھارتی شہر ممبئی سے بھیجی گئیں جس میں وی پی این استعمال کرتے ہوئے سنگا پور کی لوکیشن دکھائی گئی۔ ایک ای میل اٹھارہ ستمبر کو بھی سامنے آئی۔ اس کے بارے میں Interpol Wellingtonنےانٹر پول اسلام آباد کو بتایا کہ ہمیں Hamzaafridi7899@gmail.com کے ای میل اکاﺅنٹ سے ایک ای میل موصول ہوئی ہے۔ جو کہ نیوز ی لینڈ کے وقت کے مطابق 18 ستمبر 6 بج کر 25 منٹ پر کی گئی تھی۔ جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق یہ ای میل 17 ستمبر 11 بج کر 25 منٹ پر بھیجی گئی۔جس میں دھمکی دی گئی کہ۔۔نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم آپ نے پاکستان جا کر غلطی کی اب آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوتا ہے ہوٹل سے فلائٹ کے راستے میں کہیں پر بھی بم لگایا جائے گا میرے لوگ آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ وہ آرہے ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔ اللہ اکبر۔

    یہ ای میل بھی آئی ڈی بنانے کے پندرہ منٹ بعد بھیجی گئی۔ ای میل بھارت سے کی گئی تھی لیکن وی پی این کا استعمال کرتے ہوئے سنگاپور کی لوکیشن شو کی گئی تھی۔ کیونکہ یہ ڈیوائس جس سے ای میل بھیجی گئی تھی اس ڈیوائس پر 13 اور آئی ڈیز بنے ہوئے ہیں اور وہ تمام آئی ڈیز ہندی ناموں پر ہیں۔ زیادہ تر ای میلز ہندی فلم انڈسٹریز اور ڈراموں کے نام پر بنائی گئی ہیں۔ صرف ایک ای میل پر حمزہ کا نام ڈالا گیا ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ یہ ای میل تھریٹ پاکستان سے آیا ہے ۔یہ موبائل ڈیوائس بھارت میں اگست 2019 میں لانچ کی گئی تھی موبائل سم 25 ستمبر 2019 کو انڈیا میں رجسٹرڈ ہوئی اس ای میل کو استعمال کرنے والے شخص کا نام اوم پرکاش مشرا ہے جس کو تعلق ممبئی سے ہے۔ لیکن اس ای میل کے ٹائم پر آپ غور کریں تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ اس ای میل کا دورہ کینسل ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ دورہ کینسل کرنے کے بعد ای میل کی گئی تھی۔ تاکہ اس تمام کام میں پاکستان کو ملوث کیا جا سکے۔اب اس حوالے سے مزید ثبوت حاصل کرنے کے لئے وزارت داخلہ نے ایف آئی آر درج کرکے انٹرپول سے بھی رابطہ کرلیا ہے۔ تاکہ معاملے کو بے نقاب کیا جا سکے۔ کیونکہ نیوزی لینڈ کے بعد ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو بھی اسی طرح کے ایک ای میل اکاونٹ سے ایک ای میل کی گئی ہے۔ جوehshanullahehshan@protonmail.comکے اکاونٹ سے کی گئی ہے اور اس ای میل آئی ڈی میں اگر آپ احسان کے سپیلنگ پر غور کریں تو آپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ یہ کسی ہندی بولنے والے کے Spellings تو ہو سکتے ہیں لیکن اردو بولنے والے احسان کے یہ Spellings
    کبھی استعمال نہیں کرتے۔ویسے بھی ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ چند ماہ پہلے جب آزاد کشمیر میں کے پی ایل کھیلی گئی تھی تو بھارت نے کھلی دھمکی دی کہ اس ٹورنا منٹ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو بھارت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے مقابلوں کو روکنے کے لئے بھارت کس حد تک جا سکتا ہے۔
    لیکن پاکستانیوں کو اس وقت زیادہ افسوس اس لئے ہے کہ جب نیوزی لینڈ پر دہشت گردی کا حملہ ہوا تھا تو اس وقت وہاں موجود ہمارے کرکٹرز اور ہماری قوم نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گی تھی لیکن ان کی ٹیم ان جعلی ای میلز کے ڈر سے ہی واپس چلی گئی۔اب بات آتی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ اور ہماری حکومت کے رد عمل کی۔ رمیز راجہ کا اس بارے میں کافی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپنی ٹوئیٹ کے آخر میں انہوں نے کہا تھا کہ نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے؟ نیوزی لینڈ ہمیں اب آئی سی سی میں سنے گا۔

    اس کے علاوہ ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ۔۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دوروں کی منسوخی سے پاکستان ٹیلی ویژن کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ دونوں بورڈز کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وکلا سے مشورہ کریں گے۔اب سوال یہ آتا ہے کہ کیا ہمیں آئی سی سی میں جانے سے یا پھر بورڈز کے خلاف قانونی کاروائی سے کوئی فائدہ ہو گا؟؟ سب سے پہلے تو ابھی یہ بھی کلئیر نہیں ہے کہ قانونی کاروائی کرے گا کون؟ حکومت کرے گی، پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا یا پھر پی ٹی وی؟اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی ہدایت پر کوئی سیریز کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس میں آئی سی سی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔اس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کا ہمیشہ ایک ہی جواز پیش کرتا ہے کہ اسے اپنی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے ساتھICC future tour programکے تحت ہونے والی چھ سیریز نہ ہونے پرجو آئی سی سی میں اپنا کیس کیا ہوا تھا کہ سیریز کینسل ہونے سے جو ہمارا نقصان ہوا ہے چھ کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کیس میں شکست ہو گئی تھی اور ایک بھی پیسہ ملنے کے بجائے ہمیں وکیلوں کی فیس کے طور پر 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پڑے تھے۔اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ ایسے کسی فراڈ میں آنے سے بچیں اس سے ہمارے سیاستدانوں کو سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوگا بلکہ ہمیں مزید نقصان ہی ہو گا اور ہمارا ٹائم بھی ضائع ہو گا۔ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ابھی صرف ٹیم کی کارکردگی پرتوجہ دیں تاکہ آنے والے ورلڈ کپ میں خود کو ثابت کر سکیں کیونکہ دورہ کینسل ہونے سے جو نقصان ہونا تھا وہ اب ہو چکا ہے۔

  • اسٹیبلمشنٹ کی سازش ،تحریر:  زوہیب خٹک

    اسٹیبلمشنٹ کی سازش ،تحریر: زوہیب خٹک

    ایوب، ضیا اور مشرف، تینوں ڈکٹیٹرز گزرے ہیں اور مجموعی طور پر 30 سال تک برسراقتدار رہے۔ لیکن فوج کا سسٹم ایسا ہے کہ ان کی اولاد میں سے کوئی جنرل تو دور، بریگیڈئیر بھی نہ بن سکا ۔ ضیا کے بیٹے نے کچھ عرصہ سیاست میں حصہ لیا لیکن پھر وہ بھی کھڈے لائین لگ گیا۔

    سابق آئی ایس آئی چیف اور افغان جہاد کے دور کا سب سے طاقتور جنرل اختر عبدالرحمان کے صاحبزادے ہمایوں اختر اور ہارون اختر نے ن لیگ اور ق لیگ کے پلیٹ فارم سے سیاست کی، آج کل یہ دونوں بھائی بھی کھڈے لائین لگے ہیں۔

    راحیل شریف، پرویز کیانی، وحید کاکڑ، جہانگیر کرامت، اسلم بیگ، یحی خان، جنرل موسی ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے بڑے بڑے جرنیل لیکن ان کی اولاد فوج کے سسٹم کے آگے بے بس نظر آئی اور اپنے باپ کے نام کا فائدہ نہ اٹھا سکی۔

    کچھ یہی حال عدلیہ کا بھی ہے۔ اعلی عدالتوں کے جج اپنے بچوں کو وکیل بنوا لیں تو بڑی بات ہے، ملکی تاریخ میں شاید ہی کسی چیف جسٹس کا بیٹا چیف جسٹس بن سکا ہو۔ اسی طرح بیوروکریسی میں بھی دیکھ لیں، طاقتور ترین سیکریٹریز کی اولاد بزنس یا پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کرتی ہیں، شاذ و نادر ہی اپنے باپ کی طرح اعلی سرکاری عہدے پر آسکے۔

    اس کے برعکس آپ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو دیکھ لیں۔ ایک دفعہ باپ سیاست میں آگیا تو پھر اس کا بھائی، بیٹا، بیٹی، بیوی، بہن، داماد، بہنوئی۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے بعد اگلی نسل تک سیاست پر اپنا حق سمجھتے ہوئے دھڑلے سے اقتدار میں اپنا حصہ مانگتی ہے۔

    بھٹو اور شریف خاندان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ نوازشریف کے اس وقت کم از کم 22 رشتے دار پنجاب اور مرکز میں وزارتوں یا اعلی سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔

    فضل الرحمان کا بھائی،بیٹا،بہن، وغیرہ بھی سیاست میں آچکے ہیں۔

    چوہدری برادران، لغاری، مزاری، چٹھے، قریشی، پگاڑا، جتوئی، اچکزئی، اسفندیارولی، الغرض ملک کے چاروں صوبوں کے بڑے بڑے سیاستدانوں کو دیکھ لیں، اپنے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے افراد کو بھی سیاست میں اور اقتدار میں شریک رکھتے ہیں۔
    پرویز خٹک بھی اپنی بیٹیوں اور داماد کو سیاست میں لا کر اعلی عہدے دلوا چکا۔
    ان سیاستدانوں کی اہلیت کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ یہ اپنے علاقے کے بڑے زمیندار اور جاگیردار ہیں، بدمعاش اور قاتل ہیں، رسہ گیر اور اٹھائی گیرے ہیں، دھوکے باز اور قبضہ گروپ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے علاوہ ان کی کوالیفیکیشن کیا ہے؟ کس بنیاد پر یہ اپنے بھائیوں اور بچوں کو اپنے ساتھ سیاست میں لے آتے ہیں اور یوں ملک ان تین درجن خاندانوں کے زیر کنٹرول آجاتا ہے۔

    عوام تو جاہل ہیں، جن کی سوچنے سمجھنے کی حس ہی ختم ہوچکی، کبھی پڑھی لکھی بیوروکریسی یا ملٹری کے آفیسرز سے پوچھ کر دیکھیں کہ ان کے دل پر کیا بیتتی ہوگی جب انہیں کسی بدمعاش سیاستدان اور اس کی اولاد کو اس وجہ سے سلام کرنا پڑتا ہے کہ وہ بزورطاقت اپنے حلقے سے ووٹ لے کر رکن اسمبلی منتخب ہوگیا اور پھر وزیر شذیر بھی منتخب ہوگیا۔

    اسٹیبلشمنٹ کا نام لے کر آپ اپنا رونا جتنا مرضی رو لیں لیکن کم از کم آرمی، عدلیہ اور سول بیوروکریسی میں اقربا پروری تو نہیں، جرنیل کا بیٹا جرنیل نہیں بنتا، جج کا بیٹا جج نہیں لگتا اور محکمہ سیکرٹری کا بیٹا ڈی جی نہیں لگتا۔

    یہ کارنامے صرف ہماری ‘ جمہوریت ‘ میں ہی ممکن ہیں اور ایسا کرنے والے سیاستدان جب اپنے آپ کو جمہوریت پسند کہہ کر سارا ملبہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں

    اور
    ذمہ دار فوج ہے !!!❗

    ذوالفقار بھٹو کو ایوب خان نے وزیرخارجہ بنایا۔لیکن ایوب خان کے بعد اسی بھٹو کو عوام نے 2 بار پاکستان کا سربراہ مملکت بنایا۔ اسکی بیٹی اور داماد کو تین بار پاکستان کی سربراہی سونپی۔ جس کے بدلے میں انہوں نے نہ صرف پاکستان کو دولخت کر دیا بلکہ پاکستان پر بیرونی قرضے چڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کا وہ بیڑا غرق کیا کہ دوبارہ نہیں اٹھ سکی۔

    اسکی ذمہ دار پاک فوج ہے؟

    نواز شریف کو جنرل ضیاءالحق نے صوبائی وزیرخزانہ بنایا۔ لیکن عوام نے اس کو تین بارپاکستان کا وزیراعظم بنایا اور 6 بار پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا سربراہ۔ اسکا نتیجہ پاکستان پر ریکارڈ ساز قرضوں، قومی اداروں کی مکمل تباہی، اونے پونے فروخت اور کشمیر سمیت خارجہ محاذ پر تباہ کن پالیسی کی صورت میں نکلا۔۔

    اسکی ذمہ داری پاک فوج پر ہے؟

    پاکستان میں 8 لاکھ پولیس، کم از کم 2 لاکھ ججز، وکیل اور ان کے معاؤنین ہیں۔ اربوں روپے کا بجٹ رکھنے والی والی ایف آئی اے اور نیب نامی ادارے ان کے علاوہ ہیں۔ لیکن کرپشن کرنے والوں کو سزائیں نہ ملنے کی ذمہ دار پاک فوج ہے؟کل 50 ارب ڈالرز کے قومی بجٹ میں سے 7 ارب ڈالرز پاک فوج کو ملتے ہیں باقی 43 ارب ڈالر کا بجٹ پارلیمنٹ کے پاس جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کی معاشی بدحالی کی ذمہ دار پاک فوج ہے؟

    پاک فوج نے دہشت گردی کی سہولت کار پکڑ کرشہادتوں کے ساتھ عدالتوں کے حوالے کیے۔ جہاں سے ان کو رہائیاں مل گئیں اور باہر آتے ہیں عوام نے ان کو سونے کے تاج پہنا دئیے۔ اور جمھوریت نے انھیں سچے ایمان دار سیاست دان ہونے کے سرٹیفکیٹ دیے۔

    لیکن ذمہ دار پاک فوج ہے ؟

    پاکستان کی کل آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے جن میں سے 6 لاکھ فوج ہے۔ پاک فوج بیک وقت دہشگردوں اورغیر ملکی ایجنسیوں کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی پراکسی جنگ کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ۔ پاکستان میں تمام قدرتی آفات کے موقعے پرسارے چھوٹے بڑے ریلیف آپریشنز کر رہی ہے۔سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے دن رات مصروف ہے۔ چین، روس اور اب خلیج ( اسلامی اتحاد ) کے محاذ پر انڈیا اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مقابلہ کر رہی ہے۔ کلبھوشن جیسے کتنے انڈین ایجنٹ بے نکاب کیے جس پر ان کے سہولت کارجمھوروں کو سانپ سونگھ گیا۔دہشت گردی سے متاثرہ لاکھوں آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ سول عدالتوں سے ملنے والے دہشت گردی کے کیسز سن رہی ہے۔ پولیو کے قطرے پلا رہی ہے۔ مردم شماری کر رہی ہے۔ ہتہ کہ چھوٹو گینگ کو پکڑنے کے لیے بھی فوج کو بلایا جائے۔

    پاک فوج اس وقت دنیا مین سب سے زیادہ جانیں دینے والی فوج بن چکی ہے جس میں آفسیرز کی شہادتوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جو پاک فوج کی شہادت سے خالی گیا ہو۔

    لیکن پاکستان میں ہر خرابی کی ذمہ دار پاک فوج ہے۔ یہ باقی 19 کروڑ 93 لاکھ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ان سب پرکوئی فرض اور ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ؟

    خدارا فوج کو بدنام کرنے والے مکروہ لوگوں کا ساتھ نہ دیں اور اپنا فرض ادا کریں ۔ الیکشن میں اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں ۔ نہ کہ ان کرپٹ اور بے ضمیر، چوروں ڈاکوؤں کو لا کر اپنا مستقبل ان ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں دیں ۔

    تحریر زوہیب خٹک

    Twitter @zohaibofficialk

  • ففتھ کالمسٹ اور پاکستان از قلم محمد عبداللہ

    ففتھ کالمسٹ اور پاکستان از قلم محمد عبداللہ

    "ففتھ کالمسٹ اور پاکستان”
    قوموں کی زندگی میں نظریے، اعصاب، یقین اور وفاداری کی جنگ سب سے مشکل ترین ہوتی ہے. آفات و مصیبت اور ہنگامی حالات کے وقت بےیقینی ہی سب سے بڑا دشمن ثابت ہوتی ہے. ایسے موقع پر اعصاب کو مضبوط رکھنا، نظریے پر مستحکم رہنا اور ملک و ملت سے وفادار رہنا ہی سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے. ایسے کٹھن حالات میں لائق تحسین ہوتے ہیں وہ افراد اپنی قوم کے یقین کو ڈگمگانے نہیں دیتے.
    لیکن ننگ دیں ننگ وطن ایسے بھی ہوتے ہیں جو دشمن کی افواج کے ہتھیار پکڑے سپاہی نہیں ہوتے لیکن وہ ویسے ہی آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں جیسے دشمن افواج ہوتی ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے دشمن بیرونی ہوتا اور آپ کے جغرافیے اور طاقت کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ یہ لوگ اندرونی ہوتے ہیں اور نظریے اور یقین کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں.
    ایسا نہیں ہوتا کہ یہ لوگ دشمن کے تربیت یافتہ جاسوس ہوتے ہیں اور خاص مواقع یا حالات میں ان کو آپ کے اندر چھوڑا جاتا ہے بلکہ یہ انہی معاشروں میں موجود ہوتے ہیں. ان کا تعلق میڈیا اور صحافی برادری سے بھی ہوسکتا ہے، سیاسی جبوں اور دستاروں کے پیچھے بھی اصلیت چھپائے ہوسکتے ہیں، اعلیٰ عہدے پر فائز افسر یا بیوروکریٹ بھی ہوسکتے ہیں، منبر و محراب کی آڑ میں بیٹھے علماء اور مولانا حضرات بھی ہوسکتے ہیں اور قوم کو سبق دیتے استاد و دانشور بھی ہوسکتے ہیں.
    دنیا ان کو ففتھ کالمسٹ کے نام سے جانتی ہے. یہ دشمن کی فوج کا باقاعدہ دستہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ اسی فوج کا پانچواں کالم ہوتے ہیں جو اپنے ہی معاشروں میں رہتے ہوئے ننگ دیں اور ننگ وطن کا کردار ادا کرتے ہیں. یہ انفرادی یا گروہی حیثیت میں افراد کا ایسا مجموعہ ہوتا ہے جو اپنے ہی ملک و معاشرے کی نظریاتی جڑیں کھودنے پر جتا ہوتا ہے. کٹھن اور مشکل حالات میں قوم کو اعصابی طور پر کمزور کرنے اور دشمن کی بالادستی تسلیم کروانے میں اہم کردار انہی کا ہوتا ہے.
    پاکستان کے قیام سے لے کر تاحال جب بھی قوم و ملت میں کوئی کٹھن وقت آیا آپ کو یہ طبقہ نظر آیا ہوگا جو بجائے قوم کو متحد کرکے ان سازگار حالات کو بہتر بنانے کی طرف کوشش کرے بلکہ عین ہنگامی اور جنگی حالات میں یہ طبقہ قوم کے اعتماد و یقین کو ڈگمگاتا نظر آئے گا. دشمن کے "پےرول” پر موجود طبقہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ یہ آپ کے اندر موجود ہوتا ہے اور اندر سے وار کرتا ہے جو خاصا مہلک ثابت ہوتا ہے.
    ایسے لوگوں کو پہچاننا قطعاً بھی مشکل نہیں ہے. مثال کے طور پر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے عین وقت پر دورے سے انکار اور بعد ازاں انگلینڈ کے بھی انکار پر آپ دیکھیں کونسا طبقہ تھا جو بغلیں بجا رہا تھا، وہ کون لوگ تھے جو اس مشکل ترین وقت میں قوم کو مزید مایوس کر رہے تھے، وہ کون تھے جو ریاست پر عوام کے یقین و اعتماد کو کرچی کرچی کر رہے تھے جی یہی لوگ ففتھ کالمسٹ تھے ان کو پہچانیے اور ان کو اپنی صفوں سے نکالیے.
    Muhammad Abdullah