Baaghi TV

Category: سیاست

  • سودی نظام اور ہماری معیشت ( حصہ اول )۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

    وہ شخص کندھے جھکائے آنکھوں میں ندامت کے آنسو لئے زمیں میں نظریں گاڑھے بیٹھا تھا ۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ شاید کبھی یہ نظریں اٹھ نہ پائیں گی ۔ کیونکہ اس نے اللہ سے جنگ کی تھی ۔ اس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال ، اپنی صلاحیتیں ، اپنی توانائی ایک ایسے مغربی نظام پہ خرچ کی تھی ۔ جسکی اسکے مذہب میں کوئی جگہ نہ تھی مگر اسے واپسی کا کوئی راستہ بھی نظر نہ آ رہا تھا ۔ اور مسلسل اس کی زبان پہ یہی الفاظ تھے ۔ کہ میں نے سود والا رزق چن کر اللہ کی حد توڑ دی ۔ وہ رو رہا تھا وہ اعتراف جو اسکا ضمیر کئی سال سے کر رہا تھا آج پہلی بار وہ یہ اعتراف کسی انسان کے سامنے دہرا رہا تھا۔ اور اسے محسوس ہورہا تھا کہ یہ اعتراف اسے اندر ہی اندر کوڑے مار مار کر شاید نگل جائے گا ۔ یہ ضمیر کا کوڑا ہر اس شخص کو ضرور ایک دن لگتا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ سود کے کاروبار سے منسک ہے۔

    مغربی مالیاتی نظام یہودیوں نے قائم کیا ۔ اور مالیاتی نظام نے دنیا کی معشیت کو آکٹوپس کی طرح جکڑ لیا ہے ۔ اب اگر کوئی اس جکڑ سے نکلنا بھی چاہے تو یہ کام اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ دنیا میں مغربی مالیاتی نظام کے بانی یہودی ہیں ۔ اور وہ اس نظام کو موثر اور کامیاب بنانے میں قابل رشک حد تک کامیاب ہیں ۔ یہ وہی سود ہے جو بنی اسرائیل کے زوال اور ذلت کا سبب بنا ۔ لیکن وہی یہود آج بھی اس سے نہ صرف چپکے بیٹھے ہیں بلکہ اسے مسلمانوں کے اندر تک اس طرح پھیلا چکے ہیں ۔ کہ اب یہ سودی نظام ہمارے خون میں ویسے ہی دوڑ رہا ہے جیسے غذا ۔ اور یہ سود اب مسلمانوں کے خمیرمیں اتنا رچ بس گیا ہے ۔ کہ امت مسلمہ اس کو صحیح اور جائز قرار دینے کیلئے دلائل پیش کرتی ہے ۔ اور یہ وہ اُمّتِ محمدی تھی جن کے لیے قبلہ بدلا گیا تھا اور جنہیں بنی اسرائیل سے امامت لے کر دی گئی تھی۔

    بظاہر ہم ایک آزاد ریاست ہیں ۔ مگر جن ممالک سے ہم قرضے لے رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مقروض ممالک کو قرضے دے کر اپنی مرضی کی پالیسیاں بنائی جا سکتی ہیں جن سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوگا ۔ جن کا تما م تر منافع قرضے دینے والوں کو پہنچے گا ۔گزشتہ 73 برس میں لیا گیا کھربوں ڈالرز کا قرضہ کہاں جاتا رہا یہ بات ہمارے علم میں نہیں ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں عوام کے لئے منجمند گیارہ ارب ڈالر کا کچھ پتا نہ چل سکا ۔ موجودہ حکومت کے احتساب کے وعوؤں کے بعد اب ہر عمل ہی مشکوک ٹھہرا ۔

    موجودہ حکومت بھی اداروں سے زیادہ غیر ملکی قوتوں کے دباؤ کا شکار نظر آتی ہے ۔ اگر حالات یونہی رہے تو ممکن ہے کہ احتساب کا پورا نظام اپنے اختتام کو پہنچے ۔ یہ قرضے جو بظاہر عوام کی فلاح و بہبود کیلئے لئے گئے ۔ یہی قرضے اب عوام کے گلے کا پھندہ بن چکے ۔ اب انہی قرضوں کا سود سمیت واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے بلکہ پورے کے پورے نظام کو وہ لوگ ان قرضوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں ۔ گیس بجلی اور آٹے کے نرخ آئی ایم ایف طے کر رہی ہے ۔ آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق غریبوں پہ مہنگائی کا ایسا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ انکے لئے زندگی جیسی نعمت کو تنگ کر دیا گیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ کرنسی کی قیمت سے لے کر ذرائع اور وسائل کی تقسیم تک اور پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والی ایٹمی صلاحیت پہ بھی آئی ایم ایف اپنی نظریں گاڑھے بیٹھا ہے ۔

    صرف یہی نہیں ان قرضوں کو جواز بنا کر ہماری شاہ رگ کشمیر تک کے معاملے میں ہمیں پسپائی پہ مجبور کیا جا رہا ہے ۔ اور ہر معاملے میں یہ قرضے جن سے میٹرو اور اورنجن لائن کا تحفہ تو عوام کو مل گیا مگر ہمارے ہاتھ باندھ دئیے گئے ۔ اور انہی قرضوں کو آئی ایم ایف اب ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کر رہا ہے ۔ جبکہ یہاں بھی کچھ اقتصادی دانشوروں کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے قرضے دینے سے انکار کیا تو ہمیں ڈیفالٹ قرار دے کر دنیا میں تنہا کر دیا جائے گا، برآمدات نہیں ہوں گی، ایل سی (Letter of credit) نہیں کھلے گا۔ یہ دانشور بھی مغرب کی پیداوار ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔ جب ہم اپنے ہمسائے ممالک پہ غور کریں جن میں چین ، اففانستان ایران اور دیگر اسلامی ممالک شامل ہیں ۔ برامدات اور تجارت کا سلسلہ ان ممالک سے جاری رکھا جا سکتا ہے جن پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ اس طرح ایک تجارتی بلاک وجود میں آ سکتا ہے۔ ہمارا سب سے زیادہ خرچ تیل پر ہوتا ہے جس کے بدلے ہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کو چاول، گندم اور کپاس برآمد کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف لاطینی امریکا کے سولہ ملک خود کو ڈیفالٹ قرار دے چکے ہیں جس کے بعد ان کی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے۔ جہاں تک تنہائی کا معاملہ ہے تو چین اور روس نے سیاسی طور پر تنہا ہو کر ہی ترقی کی۔ ہمارے اقتصادی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہماری معیشت سنبھل رہی ہے، میری نظر میں یہ سفید جھوٹ ہے۔ عوام معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے ہاتھوں خودکشی کر رہے ہیں، مہنگائی ناقابل برداشت ہو چکی ہے، بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں، یہ کیسی معاشی ترقی ہے؟اور ہمارے وزیراعظم کام سے زیادہ دکھاوے پہ زور دے رہے ہیں جس کی منہ بولتی مثال تبدیلی سرکار کے تین سال مکمل ہونے پہ کی جانے والی تقریب تھی

    جاری……..

  • بیوروکریسی بمقابلہ اللہ کریسی تحریر : حضور بخش کنول اعوان

    بیوروکریسی بمقابلہ اللہ کریسی تحریر : حضور بخش کنول اعوان

    پاکستان میں اس وقت جس تیزی کے ساتھ مہنگاٸ کا جن تھیلے سے باہر آیا ہے کہ خدا پناہ ۔

    ہر طرف ذخیرہ اندوزی ہر طرف لوٹ کھسوٹ ، چیک اینڈ بیلنس سسٹم کے مٶثر نہ ہونے کی وجہ سے عوام اشیا مہنگے داموں خریدے پہ مجبور ہے ۔

    سچ تو یہ ہے کہ اس حکومت کو اگر اندرونی و بیرونی طور پہ چیلنجز کا سامنا ہے تو اس وقت بیوروکریسی حکومت کے سنگ ہوتی کہ حکومت اپنے ریاستی معاملات دیکھے جبکہ بیوروکریسی عوام کو سستی سہولیات فراہم کرنے کو ممکن بنانے کی جدوجہد میں مصروف عمل دکھاٸ دیتی ۔
    مہنگاٸ کا آفریت اس وقت کنٹرول سے باہر ہے عوام ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس گٸ ہے ۔
    اے سی حضرات ڈی سی صاحبان اگر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاٶن کر کے مال مسروقہ ضبط بحق سرکار کر کے عوام کو سستے داموں دے کے ریلیف دیں تو کیا ہی بات ہوگی کہ عوام کسی بھی چیز کی وہی قیمت دے جو بنتی ہو ایسا نہیں کہ مفاد پرست اور یہ ڈیلر حضرات ذخیرہ اندازی کر کے اس چیز کی شارٹیج کر کے من پسند قیمت وصول کریں یہ بات خلاف ریاست ہے ۔

    اس وقت اگر ملک کی عوام کے حالات کا موازنہ کیا جاۓ تو وہ ایک وقت کی روٹی بھی بمشکل کھا پا رہے ہیں ۔
    حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت بیوروکریسی سے دوبارہ حلف لے تاکہ وہ حلف کی پاسداری کرتے ہوۓ عوام کو سستی سہولیات کی فراہمی کو تو ممکن بناٸیں ۔
    نواب آف کالاباغ نواب ملک امیر محمد خان اعوان اکثر کہا کرتے تھے کہ
    ” بیوروکریٹس پاکستان کا وہ طبقہ ہے جو اس وقت تک عام آدمی کے مساٸل سے واقف نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خود ان حالات سے نہ گزرے “
    جبکہ بیوروکریٹ بنتے ہی 90 فیصد امیروں جاگیرداروں یا سیاستدانوں کے بچے ہیں ۔
    تو جنہوں نے غربت دیکھی ہی نہ ہو جن کو علم ہی نہ ہو کہ چینی ، آٹا ، دال ، چاول ، گھی یا دیگر اشیاۓ خوردونوش کی کیا قیمت ہے ۔؟
    کیا ان قیمتوں پہ ایک دیہاڑی دار طبقہ جو پاکستان کے ساٹھ فیصد پہ مشتمل ہے وہ ایک وقت کی بھی روٹی بچوں کو کھلا سکتا ہے ۔؟
    جس شخص کی دیہاڑی دو سو سے پانچ چھ سو تک ہو کیا وہ ایک وقت میں چینی ، گھی ، دال ، چاول ، آٹا نمک مرچیں لے یا وہ سبزی یا گوشت لے ۔
    اس وقت مہنگاٸ کا مسلہ ریاستی مسلہ ہے اگر بیوروکریٹ اس وقت ریاست و ریاستی عوام کے ساتھ مخلص رہیں چیک اینڈ بیلنس سسٹم کو ٹھیک کریں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاٶن کریں تو یقین مانیں پاکستان میں مہنگاٸ کا بے قابو ہوتا جن قابو ہو جاۓ گا ۔
    بیوروکریسی کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جب تک بیوروکریسی ٹھیک ہے تب تک حالات بہتر ہیں ۔
    اس کی ایک واضع مثال یہ ہے کہ جہاں بیوروکریسی اپنے کام سے مخلص ہے اور دیانت دار ہے وہاں کےحالات بہترین ہونگے نہ کوٸ رشوت کا چکر نہ کوٸ کام نہ ہونے کا ڈر نہ لاقانیونیت ۔
    اب یہ بھی نہیں ان کے ماتحت سب ٹھیک ہونگے ہر جگہ کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں ۔
    جہاں بیوروکریسی کرپٹ ہوگی ان کے ماتحت ان کو رول ماڈل بنا لیں گے کہ یہ تو خود کرپٹ ہے ہمیں کیا روکے گا ۔
    جب ان کو ان کی کارستانیوں کے بارے آگاہی دی جاۓ تو اکثر یہ جواب ہوتا ہے کہ
    ” جا صاحب نال گل کر “
    مطلب فری ہینڈ نہ کوٸ ڈر نہ کوٸ خوف ۔
    ایسے میں حالات کو کنٹرول کرنا رشوت کے بازار کو روکنا اور جراٸم کی شرح پہ قابو پانا مشکل ترین ہوتا ہے ۔
    وہاں کے سب کام پیسے سے ہوتے ہیں اور یہی کسی معاشرے کی تنزلی کا باعث ہوتی ہے کسی شہر یا علاقے کی تباہی کا موجب ۔
    کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک وقت ایسا بھی آجاۓ کہ عوام ایک وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو جاۓ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک میں افراتفری پھیل سکتی ہے بھوک سے خودکشیوں کیتعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جراٸم کنٹرول سے باہر ہو جاٸیں گے جو ریاستی ناکامی ہوگی ۔
    نواب آف کالاباغ نواب امیر محمد خان آج کے بنگلہ دیش اور پورے پاکستان کے گورنر ہوا کرتے تھے ان کے زمانے میں اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ کہا کرتے تھے کہ
    ” اللہ کریسی “ اور یوں وہ اللہ کا نام لے کر عوامی مساٸل کے حل کیلۓ ہر ممکن کوشش کرتے اور عوام کو ریلیف دینے کیلۓ کالاباغ سے آسام تک عوام میں موجود رہتے ۔
    اس وقت ہمارے بیروکریٹس کو بھی اللہ کریسی کہہ کے مہنگاٸ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیۓ تاکہ عوام دووقت کی روٹی سکون سے کھا سکے ۔
    اللہ پاکستان کو ہر مصیبت اور دشمن کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    ‎@Gumnam_HBK

  • پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان  تحریر چوہدری عطا محمد

    پنڈورا پیپر کپتان پھر سرخرو نیا پاکستان تحریر چوہدری عطا محمد

    جیسے ہی پینڈورا پیپرز کے شائع ہونے کی خبر منظر عام پر آئی تو پاکستان میں تحریک انصاف کے مخالفین خصوصا ن لیگ اور اس کے حامی صحافیوں نے بغلیں بجانا شروع کر دی یہاں تک کے ن لیگ کے سنئیر رئینماء احسن اقبال نے تو باقاعدہ پیپرز کی اشاعت سے پہلے کہنا شروع کر دیا کہہ کپتان استعفی دیں احسن اقبال نے تو پہلے ہی کہہ دیا کہہ کپتان وزیز اعظم پاکستان کا نام آگیا ہے لہٰذا وہ استعفی دے دیں اصل میں یہ سب کیسے ہوا اس کیوجہ ہے عمر چیمہ اس کے اندر تحقیقات کا حصہ تھے اور لگ ایسے رہا ہے کہہ کپتان کو پینڈورا پیپرز میں فکس کرنے کی بڑی کوشش کی گئ۔ کپتان کو زمان پارک میں ایک دوسرے ایڈریس میں رئینے والے فرید الدین صاحب سے بھی منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی گئ اگر پیپرز پڑھیں تو اس میں کپتان کا نام اس امر میں ہے ہے یہ پیپرز بہت واضح تصدیق کرتے ہیں کہہ کپتان کی کوئی بھی آفشور کمپنی نہیں ہے کئ ن لیگ کے حمایت یافتہ اور سرکردہ لوگوں کے خواب ایک بار پھر ٹوٹ گے مٹھائیاں پھر ہضم نہ ہوئیں غور طلب بات یہ ہے کہہ پینڈورا پیپرز سے دو تین دن پہلے نواز شریف نے لندن میں اور احسن اقبال نے پاکستان میں یہ کیسے کہا کہہ احتساب تو اب عمران خان کا ہوگا۔ اصل میں اسکی بڑی وجہ ان کے کچھ قریبی صحافی اور میڈیا کا ایک ادراہ تھا جس نے ان کو کہا تھا کہہ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کا نام ہے ان پیپرز میں۔ بات تو صیح ہے عمران خان کا نام تو ہے لیکن وہ نام اس لئے ہے کہہ تصدیق کی گئ ہے کہہ کپتان کے نام پر کوئی آفشور کمپنی نہیں ہے
    اصل میں ن لیگ نے حسب روایت جلدی مٹھائی کھا لی ان کو جب کہا گیا کہہ کپتان کانام ہے تو ن لیگ نے سمجھا ایسے ہی نام ہوگا جیسے ہمارا نام آیا تھا
    سچ بات تو یہ ہے کہہ پاکستان میں کوئی بھی سیکنڈل آۓ تو ممکن ہی نہیں اس میں ن لیگ کانام نہ ہو اس بار بھی ان کی اپنی فیملی کے نام موجود ہیں اسحاق ڈار کا بیٹا اور مبینہ طور پر مریم نواز کے داماد کا نام ان پینڈورا پیپر میں موجود ہے شاید

    لیکن کپتان جناب وزیز اعظم عمران خان نے اسپر بھی ہتھوڑا مارا اور پینڈورا پیپیرز کو اپنی ٹوئیٹ کے زریعے ویلکم کیا اس سے اب زیادہ پریشانی ہو گی ن لیگ اور تمام ناجائز آفشور کمپنیاں رکھنے والوں کو۔
    آپ کو یاد ہوگا کہہ جب پانامہ پیپرز آۓ تھے تو اس وقت کی ن لیگ کی حکومت نے اس کو سازش قرار دیا۔ اور کسی نے کہا کہہ یہ غیر ملکی سازش ہے کسی نے کہا کہہ عوام بھول جاۓ گی مولانا فضل رحمان نے کہا کہہ نواز شریف ڈٹ جاؤ

    لیکن اب پاکستان بدل چکا ہے۔ آج کے انٹرنیشل صادق و امین وزیز اعظم نے پیپرز کو سازش نہیں کہہ رہے بلکہ خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اور ان پیپرز کے اندر آنے والے لوگوں سے ان کی آفشور کمپنیوں کی تحقیق کے لئے اپنی سربراہی میں پیپرز آنے کے چوبیس گنٹھے کے اندر ایک سیل قائم کر دیا یہ ہی تو ہے نیا پاکستان
    الحمدللّٰہ کپتان لو اللہ نے ایک بار پھر سرخرو کیا اور کپتان نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہہ پاکستان اب بدل چکا ہے پاکستان کے وزیز اعظم کانام اب کسی انٹرنیشنل کرپشن کیسز میں نہیں آتا بلکہ تمام دنیا میں وزیز اعظم پاکستان کے کاموں کو سراہا جاتا الحمدللّٰہ نیا پاکستان۔

    ‏@ChAttaMuhNatt

  • نواز شریف کے سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی بےنظیر کا حوالہ دے کر انصاف مانگے مریم نواز شریف تحریر:سفینہ

    رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے ساتھ اسلام ہائی کورٹ کے سپیشل بینچ نے بروز بدھ کو مسلم لیگ ن لی نائب صدر مریم نواز صاحبہ کی درخواست پر سماعت کی ہے ۔ اس بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروقی شامل ہیں۔ اس پیٹیشن میں تقریبا وہی سب کچھ شامل کیا گیا ہے جو ان کی مرکزی درخواست میں شامل تھا۔

    اس درخواست میں مریم نواز نے الزام لگایا ہے۔ کہ میں اور میرے شوہر (ر) کیپٹن صفدر اور میرے والد سابق وزیراعظم نواز شریف کی ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں ہر مشتمل درخواست  کو دوبارہ سنا جائے۔

    مریم نواز نے اپنے وکیل عرفان قادر کے ذریعے ہائی کورٹ پر زور دیا کہ وہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں احتساب عدالت کے فیصلے کو سنگین خلاف ورزیوں پر کالعدم قرار دے۔

    مریم نواز اور ان کے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 6 جولائی 2017 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سزا سنائی تھی ، جنہوں نے مریم نواز کو سات سال اور نواز شریف صاحب کو دس سال اور ر کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں آئی ایچ سی نے ان کی سزائیں معطل کر دیں تھیں۔

    اس درخواست میں مریم نواز نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کا بار کونسل میں خطاب کے دوران کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے۔

     کہ ایون فیلڈ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کنڑول کر رہے تھے ۔ اور انھیں سچ بولنے کی پاداش میں برطرف کر دیا گیا تھا۔

    درخواست میں سپریم کورٹ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے کیس کی تفتیش کے ساتھ ساتھ پراسیکیوشن کی نگرانی بھی کی ۔ جس کی کہیں مثال نہی ملتی ۔ کیونکہ آئین میں عدالت کا کام تفتیش کار یا کسی پراسیکیوٹر کا نہی ہے۔

    درخواست میں مزید لکھا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدنی سے زائد اثاثوں میں تین الگ الگ ریفرنس دائر کئے جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اور نیب شفاف طریقے سے کام کرنے میں ناکام رہا۔ جس کے وجہ سے اس ریفرنسز کے نتیجے میں کیا جانے والا ٹرائل ایک زبردستی دھونس کے ذریعے کروائے گئے فیصلے کا نتیجہ ہے۔

    مریم نواز نے اس درخواست میں دوبارہ مرحوم جج ارشد ملک کی ویڈیوز کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ کہ انھیں کیسے پریشرائز کر کے فیصلے ہمارے خلاف کروائے گئے۔

    یہاں ایک اور بات بہت ہی دلچسپ ہے کہ مریم نواز نے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف دئیے گئے فیصلے اور پھر سابق جج جسٹس عبدالقیوم صدیقی کی آڈیو ٹیپ کا حوالہ دیا جس کی وجہ سے مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلوں کو آن ڈو کیا گیا تھا۔

    ان تمام واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے مریم نواز نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر ایون فیلڈ کیس میں دی گئی سزائیں ختم کر دیں جائیں۔آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروقی اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیل کی درخواست کو 13 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

    آج مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس کیس کا تعلق مسلم لیگ ن سے نہی ہے۔ہم کسی ادارے یا شخص کے خلاف نہی بلکہ ایک مائنڈ سیٹ کے خلاف ہیں۔

    کیا ان کے اب معاملات جنرل باجوہ سے سیٹ ہو گئے ہیں ؟ یا جان بوجھ کر جرنل فیض حمید کی افغانستان میں کامیابی اور ان کی انٹرنیشلی مثبت کریڈبلٹی کو ڈیمنج کرنا چاہ رہی ہیں ؟ کیونکہ آج کے دن ہی جنرنل فیض حمید ڈی جی ، آئی ایس آئی کے عہدے پر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد کور کمانڈر پشاور تعینات ہو گئے ہیں۔

    کیونکہ آرمی چیف بننے کیلئے کم از کم ایک کور کی کمانڈ کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اور جنرنل فیض حمید کے مستقبل کے آرمی چیف بننے کی راہ میں یہی ایک راہ میں رکاوٹ تھی۔ جو اب ختم ہو جائے گی، اور اب وہ آنے والے سالوں میں موسٹ فیورٹ بننے والے آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔

    کیا یہ اس خوف کی وجہ سے کور کمانڈر پشاور فیض حمید کو ٹارگٹ بنا رہی ہیں؟اور ان کی شخصیت کو جان بوجھ کر متنازع بنا رہی ہیں ؟

    پھر مریم نواز کہتی ہیں ۔ کہ جسٹس شوکت صدیقی اور جنرنل فیض حمید کو کٹہرے میں کھڑا کریں ان سے حلف لیں کہ وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہیں کہ ان پر لگے الزامات جھوٹ ہیں۔ کیونکہ اگر یہ جھوٹ ہوتے تو آج تک تردید ہو چکی ہوتی۔

    تو مریم نواز صاحبہ کی خدمت میں عرض ہے عدالتیں ثبوتوں پر فیصلے کرتیں ہیں اور اسی کی بنیاد پر جسٹس شوکت صدیقی کے بیانات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔کیونکہ وہ اپنی باتوں کا پروف دینے میں ناکام رہے تھے۔ لہذا ان کی گواہی اب میرے نزدیک کوئی معنے نہی رکھتی۔

    اب بات ہو جائے مرحوم جج ارشد ملک کی جن کا حوالہ بار بار مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف دیتے ہیں۔ پہلی بات تو اب وہ جج اس دنیا میں ہی نہی ہیں اور دوسرا مرحوم جج ارشد ملک مریم نواز کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز کے بارے میں اپنی زندگی میں ہی پریس ریلیز جاری کر چکے ہیں ۔

     جس میں مرحوم لکھتے ہیں کہ مریم صفدر صاحبہ نے جو ویڈیوز اپنی پریس کانفرنس میں دکھائی ہیں وہ ویڈیوز نا صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ ان مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاہ و سابق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذہوم کوشش کی گئی ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بار ہا نا صرف رشوت کی پیش کش کی گئی بلکہ تعاون نا کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں گئیں۔ جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق اور سچ پر قائم رہنے کا عزم کیا اور اپنے جان و مال کو اللہ کے سپرد کر دیا وغیرہ ۔

    مرحوم جج ارشد ملک کی مکمل پریس ریلیز ہر طرف دستیاب ہے ۔ لہذا ایک شخص جب اپنی زندگی میں ہی ان کے الزامات کی تردید کر چکا اب اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کورٹ ان ویڈیوز کو کیسے سچ مان لے گی ؟ اس کے باوجود اگر کورٹ چاہیے تو مریم نواز سے تمام مواد ویڈیو وغیرہ اویجنل فون اور رکارڈینگ گیجٹ بمع اس شخص کے جنہوں نے ریکارڈ کیا ۔ سب کچھ اویجنل ڈیٹا مانگ سکتی ہے۔

    لیکن میری رائے کے مطابق مریم نواز ان ویڈیوز کا اوریجنل ڈیٹا عدالت میں ہیش نہی کریں گی۔ اور نا ہی اس کیس کے اندر جان ہے ۔ یہ کیس زیادہ دور تک نہی جا پائے گا۔

    اب ہم بات کرتے ہیں بہت ہی اہم اور نئے پوائنٹ پر مریم نواز نے سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مرحومہ بےنظیر بھٹو کے خلاف ایک آڈیو آ جانے پر ان کے خلاف کئے گئے فیصلے بھی آن ڈو کر دئیے گئے تھے۔ تو پھر ہمارے کیسیز میں ویڈیو پروف آ جانے کے بعد ہمارے کیس کیوں ختم نہی کئے جا سکتے۔

    مطلب ماضی میں سابقہ وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کی طرف سے مریم نواز کے والد سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے چچا شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے سسر سیف الرحمن کے خلاف لگائے گئے الزامات درست تھے؟

    کہ ماضی میں ان کے والد انکے چچا اور انکے سمدھی نے جسٹس ملک عبدالقیوم کو فون کر کے محترمہ بےنظیر بھٹو کے خلاف فیصلے کرنے کا کہا گیا؟اور ان کی آڈیو لیک ہونے کے بعد محترمہ بےنظیر بھٹو نے ثبوت کے طور پر کورٹ میں پیش کیا اور اپنے خلاف ہوئے فیصلوں کو آن ڈو کروایا۔

    ہمارے پاکستان میں اقتدار کی خاطر ایک دوسرے پر الزامات لگا کر زبردستی گرانے کا گندہ کھیل عرصہ دراز سے جاری ہے۔اور پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہی جو اس گھناونے اور گندے کھیل میں شامل نا ہو۔ 

    آج بھی سب اسی کھیل کا تسلسل کا حصہ ہے۔ ماضی میں نواز شریف صاحب اقتدار کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر کام کرتے رہے۔  بےنظیر کیُ دونوں حکومتوں کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا مرحومہ کو زبردستی سزائیں دلوانے میں شامل رہے اور آج قسمت کا کھیل دیکھیں نواز شریف صاحب کی اپنی صاحبزادی مریم نواز اپنے والد کے ہاتھوں  ظلم ، ناانصافیوں اور سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی پاکستان کی پہلی سابقہ خاتون وزیراعظم مرحومہ بےنظیر بھٹو کے کیس کا حوالہ دے کر انصاف مانگ رہی ہیں

  • پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    پاکستان کی سکیورٹی صورتحال .تحریر: انیحہ انعم چوہدری

    افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد جنوبی ایشیاء کی سکیورٹی صورتحال یکسر مختلف ہوگئی ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد چین نے اپنے پنجے افغانستان میں جمانا شروع کر دیے ہیں اور اس کا ثبوت چائنا کی حکومت کے طالبان کی قیادت کے ساتھ بیچنگ میں کیے گئے مذاکرات ہیں۔ اسی مذاکرات کی خبروں کے نتیجے میں امریکہ نے چین کے خلاف ایک بلاک بنانے کا فیصلہ کیا جس کا اہم رکن بھارت ہوگا۔ بھارت چونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف ہے اور پنجشیر میں احمد مسعود کی خفیہ طور پر مدد بھی کرتا رہا ہے اور لداخ کے بارڈر پر چین اور بھارت کی فوجیں کافی بار ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی رہی ہیں تو ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد امریکہ نے بھارت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

    افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے سرحدی علاقوں اور خصوصاً بلوچستان میں امن وامان کو تباہ کرنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ گوادر میں ایف سی اہلکاروں پر جان لیوا حملے ہوں یا پھر کوئٹہ کا سریاب روڈ ہو، ہر طرف دشمن عناصر پاکستان کو ناتلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گوادر میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بنائے گئے مجسمے کو ایک خودکش دھماکے کی صورت میں تباہ کر دیا گیا، جس کے بعد پاکستانی قوم کے دل میں کافی غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔ اس حملے سے دشمن نے پاکستانی قوم کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ہم کبھی بھی اور کسی وقت بھی بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی حملے کے فوراً بعد اگلے دن دہشتگردوں کی طرف سے ایک دفعہ پھر ایف سی سکیورٹی اہلکاروں کے اوپر حملہ کیا گیا اور اس خودکش حملے کے نتیجے میں متعدد ایف سی جوان اس مٹی کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کر گئے۔ ایف سی سکیورٹی فورسز بلوچستان میں چائنیز حکام کی سکیورٹی پر مامور ہونے کے علاوہ صوبہ بلوچستان کی سرحدوں کی حفاظت پر بھی مامور ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو تقویت دینے کے لیے بھارت اور ایران اپنے ناپاک عزائم کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے کے در پر ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان تمام دہشتگردانہ واقعات کے پیچھے اگر ہم ایران کے سازشی نظریات کو پرکھیں تو بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ ایران ہی وہ ملک ہے جو انڈیا کو پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اپنی سر زمین مہیا کرتا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا کیس ہو یا دہشتگردوں کی نقل و حمل کا مسئلہ ہو، ایران نے ہمیشہ بھارت کو ایک پل کا سہارا دیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں جو سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے ہیں ان میں سے متعدد حملہ آور ایران کے رستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ چند مہینے پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے کوئٹہ میں متعدد سکولوں کو سیل کیا اور وہاں پر پڑھایا جانے والا لٹریچر اپنے قبضے میں لیا، وہ سکول پاکستان مخالف کاروائیوں کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے تھے اور ان کو تمام فنڈنگ ایران سے مل رہی تھی۔

    پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران کی سرحد کو بھی محفوظ بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ دشمن کا وار ہر طرف سے ناکام ہو اور بلوچستان میں ترقی ہوتی ہوئی نظر آئے اور سی پیک کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکے۔ پاکستان زندہ باد!

    @anihachaudhry

  • جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    کیا آپ کو پتا ہے کہ امریکی حکومت کے خزانے کی سیکرٹری Janet Yellen نے کہا ہے کہ امریکی معیشت ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔ معیشت کے بارے میں اس طرح کے فقرے کسی پاکستانی کے لیے سننا ایک عام سی بات ہے، لیکن بحثیت امریکی اگر حکومت کا ایک بڑا عہدے دار یہ کہے کہ اس کی حکومت کے پاس دس دن کے بعد یعنی سولہ یا چودہ اکتوبر کو اپنے فوجیوں کو دینے کے لیے Pay checques. اپنے پچاس لاکھ ریٹائرڈ شہریوں کو دینے کے لیے Social security fund اور اپنے تیس لاکھ فیملیوں کو Monthly child tax credit دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو یہ کتنا بڑا دھماکہ ہے۔یہ دھماکہ صرف امریکیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے جو اپنی تجارت ڈالر میں کر رہے ہیں اور Foreign reserve کی صورت میں کھربوں ڈالر اپنے بینکوں میں رکھے بیٹھے ہیں۔

    دنیا میں یہ تجارت کا اصول ہے کہ اگر ایک سال کے تجارتی اور قرضے کے بل کے لیے پیسے آپ کے اکاونٹ میں موجود نہیں ہیں تو آپ کی کریڈٹ ریٹنگ گر جاتی ہے اور آپ کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ایک تلوار کی طرح سر پر لٹکنے لگتا ہے۔ اس لیے ہر ملک اپنی تجارت اور قرضوں سمیت اپنے خزانے ڈالر سے بھر کر رکھتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ڈالر چھاپنے والا ملک یہ کہے کہ اس کے پاس ایک ہفتے بعد اپنے سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہ نہیں ہے تو سوچیں یہ کتنا بڑا طوفان پیدا کر دے گا۔ کیونکہ امریکی فیڈرل گورنمنٹ کے ملازم ہونے سے زیادہ اور کون سی نوکری محفوظ ہو سکتی ہے، یہاں تو پاکستان کے سرکاری ملازم کا کوئی مان نہیں ہے۔ جو ایک دفعہ حکومت میں بھرتی ہونے کے بعد اس قوم کے داماد بن جاتے ہیں۔ نخرے سے کام کرتے ہیں اور پھر تمام تر سہولتوں کے بعد ساری زندگی قوم کے پیسے سے پینشن ملتی ہے۔ جوانی بھی محفوظ اور بڑھاپا بھی۔ بحرحال واپس آتے ہیں امریکی معیشت کی طرف۔کہ آخر یہ مسئلہ ہے کیا اور کیا امریکہ اس سے نکل جائے گا۔ اس وقت امریکہ اور پاکستان کی معیشت میں ایک بیماری مشترک ہے، اور وہ قرض کے پیسے سے حکموت چلانے کا فن۔ امریکہ نے دنیا پر اپنی بالادشتی قائم رکھنے کے لیے اپنے اخراجات کو بہت زیادہ بڑھا لیا ہے۔ جہاں امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے وہیں دنیا میں سب سے زیادہ قرضہ بھی امریکہ نے ہی لیا ہوا ہے جو
    28.3 trillion dollerبنتا ہے۔ چاہے کوئی عام سا شخص ہو یا بڑا ملک، معیشت کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ اگر آپ کے اخراجات آپ کی آمدنی سے زیادہ ہیں تو اسے پورا کرنے کے لیے آپ کو قرضہ لینا پڑے گا، اور اس قرض پر سود آپ کے اخراجات میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اور اسطرح قرض کی واپسی کے لیے مزید قرض
    Debt Trap میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اس وقت امریکہ اپنی GDP کا اٹھانوے فیصد لے چکا ہے اور اگر سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو اگلی دو دہائیوں میں اس کا قرضہ اس کی
    GDP کے 195% ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں کنگال پارٹی کو قرض دینے والوں میں بھی کمی آ جاتی ہے اورتباہی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ بحثیت انسان تو ہم نے دیکھا ہے کہ بہت دے لوگ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن ممالک Desprate ہو کر ایسے کام کر بیٹھتے ہیں کہ تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

    اس وقت امریکہ کے آمدنی اور کمائی میں تین ٹریلین ڈالر کا فرق ہے حکومت چلانے کے لیے اسے ہر سال تین ہزار ارب ڈالر قرض لینا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنے ملازمیں کو وقت پر تنخوا دے دے سکیں اور حکومتی مشینری چلتی ہے۔گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر کی معیشتیں تاریخ کے بد ترین بحران سے گزری تھیں جس کے دوران ترقی یافتہ معیشتوں نے ہزاروں ارب ڈالر کے نوٹ چھاپ کر عوام کو گھر بیٹھے تقسیم کیے تھے تاکہ ممکنہ عوامی بغاوت کو ابھرنے سے روکا جا سکے۔ لیکن اب معیشتوں کی بحالی کے آغاز کا واویلا کیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ اب سرمایہ دارانہ نظام ریکوری کی جانب گامزن ہے۔ لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے واقعات نے اس ریکوری کے کھوکھلے پن کو عیاں کر دیا ہے اور یہ عندیہ دے دیا ہے کہ آنے والے عرصے میں ماضی کی نسبت کہیں گہرا اور وسیع عالمی مالیاتی بحران ممکن ہے جو پوری دنیا کی معیشتوں کو ڈبونے کا باعث بن سکتا ہے۔ دنیا بھر کے حکمران طبقات اس صورتحال میں شدید خوفزدہ ہیں اور اپنے نظام کو بچانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن ایک بوسیدہ اور انہدام کے قریب پہنچی عمارت کی طرح اس نظام پر جتنا مرضی رنگ و روغن کر لیا جائے اس کی بنیادوں میں موجود خرابی کودرست نہیں کیا جا سکتا۔اس وقت امریکہ میں لڑائی یہ ہے کہ ہر ملک میں ایک Debt limit ہوتی ہے جس میں حکومت کو ایک حد تک قرض لینے کی لمٹ دی جاتی ہے اور حکومت کو بے مہار نہیں چھوڑا جاتا کہ وہ جتنے مرضی قرضے لے کر شہہ خرچیاں کرے۔ اس طرح امریکہ میں بھی ایک Debt limitہے اور امریکہ اپنی لمٹ سے کہیں زیادہ قرض پہلے ہی لے چکا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کی کانگریس قانون سازی کے زریعے یہ فیصلہ کرے گی کہ حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے مزیدDebt limitبڑھانی چاہیے یا نہیں، اس وقت کانگریس میں Republican اور Democrat کی تعداد برابر ہے۔ اور اس کے لیے مخالف پارٹی Republican کی سپورٹ کی ضرورت ہے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ جس طرح بائیڈن نے2 trillionڈالر کے
    Infrastructure planاناونس کیئے ہوئے ہیں اس کے لیے وہ کسی صورت Debt limitبڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بحرحال اس صورتحال کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا امریکہ میں یہ صورتحال 2011میں بھی پیش آگئی تھی ۔ لیکن اس وقت اس بحران کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے، امریکہ کی ایک بیمار گھوڑے جیسی صورتحال پوری دنیا کی ذہن سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے لوگ اب سونے سمیت دیگر کرنسیوں میں تجارت سمیت بہت سے آپشنز کو بڑا سیریس لینا شروع ہو گئے ہیں۔ جو امریکہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ کیسے اس کے لیے آپ کو یہ چھوٹی سے کہانی سننی پڑے گی۔

    اب ذرا یہ سوچیے کہ امریکی وزارت خزانہ محض ایک سال کی مدت میں کہاں سے تین ہزار پانچ سو ارب ڈالر کا خسارہ پورا کرنے کا اہتمام کرسکتی ہے؟ آخر ایسا کیا ہوگیا تھا کہ امریکہ مختصر میعاد کے قرضوں کی دلدل میں پھنس گیا؟ امریکی حکومت نے بھی وہی کیا جو بہت سے پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں کیا کرتی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے قرض اتارنے کے لیے قرض لینے کی روایت پر عمل کیا۔ اندرونی قرضوں پر سود کا بوجھ کم کرنے کے لیے قرضے لیے جاتے رہے۔ بہت سے پرائیویٹ ادارے اسی روش کو اپناکر تباہی کی منزل تک پہنچے۔ امریکا سمیت دنیا بھر میں بہت سے بڑے ادارے اور حکومتیں قرضوں کو ادا کرنے کے بجائے ادائیگی ٹالنے کے جتن کرتی رہتی ہیں۔ جب تک خرابی مکمل طور پر واقع نہیں ہو جاتی! یہ طریق کار انسان، اداروں اور حکومتوں کو قرضوں پر قرضے لیتے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ قرض دینے والے جلد یا بدیر بیدار ہوکر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ قرض کی واپسی کا امکان کس حد تک ہے؟ اور جب ایسا ہوتا ہے تب خرابی تیزی سےپھیلنے لگتی ہے اور سود کی شرح بھی ہوش ربا رفتار سے بلند ہوتی جاتی ہے۔ پھر محفل اجڑنے لگتی ہے اور دیوالیہ قرار دیے جانے کی منزل آجاتی ہے۔ جب حکومتیں دیوالیہ ہوتی ہیں تو اسے ڈیفالٹ کہا جاتا ہے۔ کرنسی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے اور اس مارکیٹ میں سٹے بازی کرنے والے اندازے لگاتے رہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت کب ڈیفالٹ کر جائے گی۔اگر کوئی ملک اپنے قلیل المیعاد قرضوں کو ایک سال میں ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اسے غیر معمولی سیکورٹی رسک سے تعبیر کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں بازار زر کے سٹے باز آپ کے بونڈ، سیکورٹی اور کرنسی کو نشانہ بنانے لگتے ہیں اور ڈیفالٹ کی راہ واقعی ہموار ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرین اسپین اور گوئیڈوٹی کے طے کردہ معیار کے مطابق امریکا کہاں کھڑا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کسی بھی شخص یا ملک کو قرض دینے سے پہلے اس کے اثاثے یا جائیداد دیکھی جاتی ہے، اگر اس کے قرض اس کی جائیداد یا اثاثوں سے بڑھ جائیں تو وہ مقام اس کی تباہی کا مقام ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کی کرنسی کا طاقت کا اندازہ اس کے پاس سونے کے ذخائر سے ہوتا ہے، امریکہ کے پاس دنیا کا سب سے زیادہ سونا ہے۔ جو8133 tonبنتا ہے جس کی مالیت تقریبا پانچ سو بلین ڈالر بنتی ہے۔ جس کے مقابلے میں کہیں زیادہ وہ قرضہ لے چکا ہے۔ بھارت کے پاس 704 ton جبکہ پاکستان کے پاس یہ64 Tonہے۔ امریکا کے قلیل المیعاد بیرونی قرضے اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ امریکا پر قرضوں کا بوجھ اس قدر ہے کہ اب معیشت کی حقیقی بحالی کے بارے میں سوچنے والے احمق دکھائی دیں گے۔ قومی خزانے پر بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب اترتا دکھائی نہیں دیتا۔اب اگر امریکہ مزید ڈالر چھاپتا ہے جو کہ وہ پہلے ہی بہت چھاپ چکا ہے، سات بلین ڈالر سے زاہد کے چین، جاپان اور دیگر ممال نے امریکہ کے Treasury bill خریدے ہوئے ہیں۔اگر وہ اس صورتحال سے ڈالر کو چھوڑ کر سونا خریدنے پر لگ گئے تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔

    @shoaibsb1

  • بے روزگاری اور پاکستانی معیشت تحریر: تنزیلہ اشرف

    پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔۔یہ ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل سے ماال مال ہے۔۔لیکن اس کے پاس خوش”،
    قسمتی سے انسانی وسائل کی بھی کمی نہیں ۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی زیادہ تر آبادی نوجوان نسل پر مشتمل
    ہے۔۔نوجوان کسی بھی قوم کا عظیم ترین سرمایہ ہوتے ہیں”۔۔
    جن کو اگر بہترین سہولیات ،بہترین تربیت فراہم کی جائے ،تو ہی یہ سرمایہ ملک و قوم کے لیے صحیح معنوں میں بہتر ثابت ہو”
    سکتا ہے۔۔بدقسمتی سے ہم اس مقام پر کھڑے ہیں !جہاں ہمارے تعلیم یافتہ بچے اپنی ڈگریوں کو صرف حاصل کر سکتے ہیں ان
    ی تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی یہ تعلیم صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا بن جاتی
    ڈگریوں کو استعمال میں نہیں ال سکتے ۔۔وہ اعل
    ہے”۔۔
    کبھی معاشرا انہیں یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنا علم،اپنا تجربہ اپنے لوگوں کے لیے استعمال کر سکیں،کبھی حکومت ان کی راہ کی”
    بڑی رکاوٹ بنتی ہیں”۔۔
    اس وقت پاکستان میں الکھوں بچے اپنی ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے ،خود کو منوانے کے کیے تیار بیٹھے ہیں لیکن ان کو وہ مواقع”
    نہیں مل رہے جو ان کے لیے علم کی راہ کھول دیں ۔۔وہ اپنا علم،اپنے تجربات سے ملک کو فائدہ پہنچا سکیں”۔۔
    جیسے جیسے لوگوں کی ڈگریوں کی تعڈاد بڑھتی ہے ۔۔ڈپریشن بھی لوگوں پر حاوی ہونے لگتا ہے "۔۔ "کیونکہ جب علم کو عمل میں”
    نہ الیا جائے تو وہ بوجھ بن جاتا ہے "۔۔
    اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلے حکومت کو چاہیئے وہ ایسی حکمت عملی اپنائے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ”
    ہنر بھی سکھایا جائے ایسا ہنر جو ان کی دلچسپی سے متعلق ہو جس سے نہ صرف ان کے علم میں اضافہ ہو بلکہ وہ اپنے علم کو
    تجربات میں ڈھال سکیں۔۔صرف ڈگریوں میں اضافے سے قوم ترقی نہیں کرتی ،سوچ بدلنی پڑتی ہے،علم کے خزانے کو تجربات میں
    پگھالنے سے ہی انسان کندن بنتا ہے اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں "۔۔۔
    اس وقت سب سے بڑی ضرورت سوچ بدلنے کی ہے۔۔ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے کچھ سوچنا ہے ،کچھ ایسا منصوبہ جو انھیں”
    نکھار کر سونا بنا دے۔۔حکومت قرضے فراہم کر رہی ہے لیکن یہ کافی نہیں ۔میرے خیال میں کالجز ،یونیورسٹیز میں بچوں کے لیے
    وقتا فوقتا ایسے سیمینار منعقد کرنا وقت کی ضرورت ہے جس کے تحت انھیں کاروبار کرنے کی طرف مائل کی جائے ان کے اندر
    کچھ نیا دریافت کرنے کی جستجو پیدا کی جائے۔۔۔وہ تالش کریں اپنی منزل کو،ان میں کچھ منفرد پیدا کرنے کا جذبہ بیدار کرنا
    چاہیئے "۔۔۔
    نہ کہ وہ اپنی ڈگریاں لے کر کسی موقع کی تالش میں گھر بیٹھ جائیں بلکہ انھیں خود موقع پیدا کرنے کی تربیت دی جائے۔انھیں یہ”
    سکھانا ہے کہ وہ اپنے علم پر چلتے ہوئے منزل تک کیسے پہنچ سکتے ہیں ،خود کو کیسے منوا سکتے ہیں”۔۔۔
    کہ اٹھو،جاگو،وسیع آسمان ،کھلی سر سبز و شاداب زمین مسخر ہونے کو بے تاب ہے ،جاؤ کچھ نیا تالش کرو ،اپنی جستجو سے”
    اپنی لگن سے کھو جاؤ کچھ نیا تالش کرنے میں،وقت تمہارا منتظر ہے اور گھڑی کی آگے بڑھتی ہوئی سوئیاں تمہارے ہم قدم ہو کر،
    تمہیں پہنچا دیں گی !اس منزل پر جہاں صرف مضبوط ارادہ اور قوی دل رکھنے والے پہنچ سکتے ہیں کہ علم کے دروازے بزدل
    اور ڈگمگاتے قدم رکھنے والوں پر نہیں کھال کرتے۔اس دروازے کو کھولنے کے لیے تمہیں خود کو مضبوط بنا کر شفاف علم سیکھنا
    ہے ۔۔یہی تمہاری کامیابی کی منزل ہے، جو تمہیں ضرور ایک نئے جہان میں پہنچا دے گی۔۔۔آگے بڑھو اور کچھ نیا کر جاؤ”

  • کیا واقعی مہنگائی ہے؟ تحریر: محمد آصف گوہر 

    ارشاد باری تعالٰی ہے 

    وَلَقَدۡ مَكَّنَّٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُون° 

    "اور بے شک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا، تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔”

    سورة الأعراف 10

    موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سنبھالے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ ملک کے چھوٹے بڑے کاروباری تاجر حضراتئ حتی کہ گلی محلے کے پرچون فروشوں نے ناجائز منافع خوری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر چیز کو مہنگا بیچنے کے لئے یہ تکیہ کلام بنا لیا کہ ” جی کیا کریں تبدیلی ہے ” اور اسے ساتھ ہی 10 روپے مہنگی چیز گاہک کے ہاتھ میں تھما دی اور گاہک نے بھی آگے سے دو گالیاں حکومت کو دے کر بخوشی مہنگے داموں خریدرای کر لی۔

    دکانداروں کے ساتھ ہی اپوزیشن نے بھی اپنے سیاسی مقاصد و عزائم کے لئے بہت مہنگائی ہے کی گردان شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی سیاسی اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا کا بھرپور استعمال کیا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے ہیڈلائنز اور شہ سرخیوں میں اشیاء خوردو نوش کی قیمتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیا پراپیگنڈا اتنے منظم انداز سے کیا گیا کہ رائے عامہ پختہ ہوگئ کہ اس حکومت نے بہت مہنگائی کر دی ہے۔

    اگر ہم پاکستان کی آٹو موبائل انڈرپاسز کی مالی سال 2020-21 کے لئے پروڈکشن و فروخت کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ 1 لاکھ 51 ہزار کاریں، 4 ہزار 3 سو ٹرک اور بسیں، 11 ہزار 3سو لینڈ کروزر اور دیگر لگژری جیپیں، 18 ہزار 9سو لوڈر پک اپس ، 50 ہزار 9 سو ٹریکٹرز اور موٹر سائیکل انڈسٹریز نے 19 لاکھ 39 ہزار موٹرسائیکلیں فروخت کیں۔

    موبائل فون کی بات کریں تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے 186 ملین افراد موبائل فونز استعمال کر رہے ہیں جن میں سے 103 ملین افراد کے پاس سمارٹ فونز ہیں اور وہ 3 جی اور 4 جی سروسز استعمال کر رہے ہیں۔

    اب اگر اشیاء خوردو نوش کی بات کریں تو ان اشیاء کی قیمتوں کا تعلق ڈیمانڈ سپلائی اور سیزن سے ہوتا ہے۔ مرغی کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب زیادہ ڈیمانڈ اور سپلائی کم ہونے کے ساتھ جڑا ہے جیسے ہی محرم الحرام رمضان المبارک اور شادی بیاہ کا سیزن عروج پر ہوتا ہے مرغی کی قیمت آسمان سے بات کرتی ہے      اور جیسے ہی سیزن ختم ہوتا ہے مرغی 160 سے لے کر 190 تک فروخت ہو رہی ہوتی ہے یہی حال پھلوں اور سبزیوں کا ہے شروع سیزن میں مہنگی اور درمیان میں سستی ہوجاتیں ہیں جیسا کہ آجکل اچھا کیلا 60 روپے درجن انار 200 اور سیب 150 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے ایسے ہی سال میں کبھی ٹماٹر 400 روپے اور کبھی گدھا گاڑیوں ریڑھیوں پر 40 روپے کلو فروخت ہو رہا ہوتا ہے۔

    ہمارے ہاں چینی کی قیمت پر اتنی گفتگو کی جاتی ہے جیسے کہ ہر شخص دن میں 3 اوقات صرف چینی کے ہی پھکے مارتا ہے ۔جبکہ ایک اوسط گھر کی ضرورت صرف 6 سے 8 کلو چینی ماہانہ ہوتی ہے ۔چینی کو بطور سیاسی ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا ہے اور مصنوعی قلت سے بحرانی صورتحال پیدا کرکے حکومت کو ٹف ٹائم دیا جاتا ہے۔

    حکومت نے لوگوں کےگوداموں سے لاکھوں بوریاں چینی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں سے برآمد بھی کی گئی ہیں ۔

    اب آجائیں آٹا کی قیمتوں پر موجودہ حکومت نے کسان کے مسائل کو دیکھتے ہوئے گندم کی سرکاری خریدرای قیمت میں اضافہ کیا جس سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہونا ہی تھا اس پر شور کیوں کیا سارا سیزن گندم کی فصل کی آبیاری کرنے والے کسان سے مفت ہی گندم لے لی جائے کیا کھیت سے گندم مفت ہی منڈیوں تک آ جاتی ہے کیا فلور ملز اور چکیوں پر کام کرنے والے مزدور اور مالکان بلا معاوضہ کام کرتے ہیں نہیں تو پھر اسی آٹے کی فی کلو قیمت  سے ہی ان تمام طبقات کا رزق وابستہ ہے اس لئے آٹے کی قیمت میں اضافہ فطری سی بات ہے ان سب کے باوجود حکومت سبسٹڈی دے کر قیمتوں کو عام صارفین کے لئے مناسب رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

    پٹرول کی قیمتیں اس وقت عالمی منڈی میں بلند ترین سطح پر ہیں  دنیا کے تمام ممالک میں پٹرول اوسطا 20۔1 ڈالر فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے ۔جبکہ پاکستان میں صرف 127 روپے فی لیٹر پر فروخت کیاجارہا ہے جو کہ دیگر تمام (سوائے تیل پیداکرنے والے) ممالک کی نسبت کم ترین قیمت ہے۔ 

    سیاسی اپوزیشن جماعتوں رہنما جب ہاتھوں میں مہنگا ترین موبائل لگثری برانڈ کے کپڑے اور جوتے پہن کر مہنگائی مہنگائی کرتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ منافقت ہو رہی ہے۔

    زیادہ مہنگائی صرف لوئر کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے لئے تو کہی جاسکتی ہے جن کے ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان طبقات کے لئے موجودہ حکومت نے احساس پروگرام کی چھتری تلے درجنوں پروگرام جاری کر رکھ ہیں جن سے لاکھوں خاندان فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور جگہ جگہ وزیر اعظم عمران خان کے کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کے تحت لنگر خانے اور پناہ گاہیں قائم ہیں جہاں پر روزانہ ہزاروں افراد کھانا کھاتے اور رات بسر کرتے ہیں۔  باقی کچھ مہنگائی اگر ہے بھی تو وہ اس وقت دنیا بھر کے لئے ہے مسلسل کرونا وبا نے ساری دنیا کو متاثر کیا ہے اور تمام ممالک میں مہنگائی عروج پر ہے لیکن اس سب کے باوجود دنیا کے معتبر ادارے پاکستانی معیشت مستحکم اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئی قرار دے چکے ہیں۔ اور پاکستان کو رہنے اور زندگی بسر کرنے کے لیے سستا اور موضوع ترین ملک کا درجہ حاصل ہے۔ اللہ سبحان و تعالی نے ہمیں اور ہمارے ملک کو بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے ہمیں کسی بھی پراپیگنڈا سے متاثر ہوکر کفران نعمت کی بجائے شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اللہ سبحان و تعالی کا فرمان ہے کہ شکر کرنے والے کو مزید عطا کیا جاتا ہے اور ناشکری کرنے سے نعمتیں چھن بھی جاتی ہیں۔                      @EducarePak

  • اتنی مہنگائی۔۔زرا رحم سرکار تحریر:سیدہ ذکیہ بتول۔

    اتنی مہنگائی۔۔زرا رحم سرکار تحریر:سیدہ ذکیہ بتول۔

    وقت وہ آگیا ہے کہ کچھ بھی خریدنے جائیں اور صرف یہ بول دیں "بھائی اتنی مہنگا کیوں دے رہے ہو” اگلا پوری بتیسی دکھا کر کہتا ہے” نیا پاکستان ہے سرکار” جیسے نئے پاکستان کی تعمیر میں اینٹ رکھ کر ساری غلطی صرف خریدار نے کی۔ مہنگائی بھی تو بریک پر پاؤں ہی نہیں رکھ رہی اب پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ہیں ایک لیٹر پٹرول تقریباً ایک سو اٹھائیس روپے میں ملے گا یہ خبر سنتے ہی عوام کے تو پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی کیونکہ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کی شرح بھی تیزی سے اوپر جاتی ہے اور پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پستی عوام کی دہائیاں نئے پاکستان کے درو دیوار سے ٹکرا رہی ہیں ڈالر کی اونچی اُڑان بھی جاری ہے مگر قیمتیں ہر بار بڑھا کر وزیروں کو دفاعی مورچوں پر بٹھا کر رٹا رٹایا سبق دہروایاجاتا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھی ہیں اسلیے پاکستان بھی مجبور ہے جبکہ کچھ تو دھڑلے سے یہ بھی فرما جاتے ہیں کہ ابھی بھی گراف میں ہماری قیمتیں دوسرے ممالک کی نسبت کم ہیں حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ موازنہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی معیشت میں شرح نمو مستحکم نہیں تو دوسری جانب پاکستان میں آمدنی کے ذریعے بھی ختم ہوتے جارہے ہیں۔جبکہ موازنہ کرتے وقت قوت خرید کتنی ہے اس بات کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

    نئے پاکستان میں پرانے وزیر سارے ہی اتنے ایکسپرٹ ہوچکے ہیں کہ نہ وہ چبھتے سوالوں پر کچھ سوچتے ہیں نہ عوام کی چیخوں سے ان کی روزی روٹی ہر اثر پڑتا ہے بلکہ مکمل اعتماد کے ساتھ ٹوئٹر کا سہارا لیکر مہنگائی پر اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں عوام کو الجھا کر سمجھتے ہیں کہ اس بار تو بلا ٹلی۔وزیر خزانہ کا ایک بیان نظر سے گزرا جسمیں وہ قیمتوں میں پاکستان اور برطانیہ کا موازنہ فرماتے ہیں کہ وہاں مہنگائی یہاں کے مقابلے میں اکتیس فی صد زیادہ ہے یعنی ہم قیمتوں میں ابھی برطانیہ سے بہت پیچھے ہیں مگر کیا ہی اچھا ہوتا اگر وزیر صاحب فہرست میں وہ شعبے بھی گنوا دیتے جس میں ہم واقعی میں برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے ہیں۔۔اگر وہاں مہنگائی ہے تو عام آدمی کو سہولیات بھی میسر ہیں وہاں ٹیکس کے بدلے باسیوں کو دھکے نہیں ملتے وہاں صحت تعلیم جیسی سہولیات کے حصول لیے لوگوں کو اپنے زیور اور گھر گروی نہیں رکھنے پڑتے برطانیہ میں اگر پٹرول مہنگا ہوا تو وہاں نعم البدل بہترین اور سستی ٹرانسپورٹ موجود ہے وہاں کا انفرا اسٹرکچر عوام کو ذہنی کوفت میں مبتلا نہیں کرتا اُدھر یوٹیلیٹی بِلوں میں دنیا جہان کے سمجھ سے عاری ٹیکسز لگا کر نہیں بھیجے جاتے وہاں گرمیوں میں بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی اُدھر  نلکوں میں پانی آتا ہے نہ کہ لوگوں کو پانی جیسی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے مہنگے ٹینکرز خریدنے پڑتے ہیں وہاں سردی میں عوام کو گیس میسر ہوتی ہے ۔۔

    اب اپنے ملک پر نظر دہرائیں بد قسمتی سے  اکیسویں صدی میں بھی ہماری عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے تعلیمی نظام دیکھیے جہاں دنیا ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے جدید تعلیم کے حصول کو طلبا تک پہنچانے میں مصروفِ عمل ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کی نئی سے نئی منازل طے کرنے کی طرف گامزن ہے وہیں ہم منافقانہ طرزِ سیاست کو تعلیمی میدان میں بھی گسیڑ لائے ہیں یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ لگا کر عجیب و غریب اور مبہم نظام کو فروغ دے رہے ہیں اگر واقعی یکساں تعلیمی نظام کو رائج کرنا تھا تو ابھی بھی میٹرک اور ایف اے کے ساتھ اے لیول اور او لیول کے آپشنز کیوں موجود ہیں سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانے کے بجائے پرائیوٹ اسکول مافیا کو کھلی چھٹی کیوں دے رکھی ہے کون سے یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ لگایا جارہا ہے ہے اب بھی کئی پرائیوٹ اسکولز میں نرسری کی ماہانہ فیس پچاس ہزار ہے پھر کیسا فرق ختم کیا جارہا ہےکیا ہمارے سرکاری اسکولوں کا وہ معیار ہے جہاں بچہ نئی دنیا کے اصولوں کے مطابق تعلیم حاصل کر سکے؟ پھر مجبوراً والدین پرائیوٹ اسکولوں کی بھاری فیسیں ادا کر کے بچے پڑھاتے ہیں۔جبکہ آکسفورڈ اور کیمبرج کا سلیبیس ختم کر کے بچوں کو دنیا کے ساتھ چلنے سے روک دیا گیا ہے۔بنیاد کے ٹیڑھے پن کو ختم کرنے کے بجائے اوپر سے لیپا توپی کرنے سے نظام مزید بگاڑ کی طرف جائے گا جبکہ در حقیقت ابھی بھی دو نظامِ تعلیم موجود ہیں۔ دوسری طرف صحت کارڈز کو صحت کے میدان میں ترقی گردانا جارہا ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں کا کیا حال ہے سب جانتے ہیں جہاں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھی کچھ نہیں بن پاتا تو آخری آپشن پرائیویٹ ہسپتال ہی بچتا ہے ادویات مافیا کو نتھ ڈالنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے آئے دن یہ مافیا دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتا ہے ایک غریب آدمی سرکاری ہسپتال جاتا ہے تو اسے دوائیوں کی پرچی پکڑا دی جاتی ہے پھر وہ ادویات مافیا کے کرتے دھرتوں سےنہ گی دوائیاں خرید کے بیماری سے کرنے کی کوشش کرتا ہے بجلی کے بل دیکھیے جہاں آج بھی آئی پی پیز کے قرضےاتارنے کے لیے بھاری ٹیکسوں سے عوام کا جینا دوبھر کیا جارہا ہے پالیسیاں حکومتوں کی اور بھگتیں عوام پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی کرایوں میں اضافہ آٹا دال چینی سبزی سب کچھ مہنگا کر دیا جاتا ہے جبکہ بجٹ میں عوام کو سبسڈی صرف بجٹ دستاویز تک محدود ہوتی ہے تنخواہوں میں دس فی صد اضافہ جبکہ مہنگائی میں سو گنا بڑھوتی۔۔اب سوال حکومت سے ہے کہ جو بندہ مہینے کے بیس سے پچیس ہزار کماتا ہے وہ گھر کا کرایہ دے بچوں کے اسکولوں کی فیس ادا کرے بجلی کے بھاری بل بھرے دال سبزی پوری کرے سواری کے خرچے پورے کرے؟ کوئی ایک وزیر ایسا سامنے آئے جو پچیس ہزار میں مہینے کا بجٹ بنا دے تو مان جائیں کہ واقعی انہیں ستر سال بعد نیا پاکستان ملا ہے جہاں سانسیں گھُٹتی نہیں چلتی ہیں۔

    پاکستان زرعی ملک ہے مگر ہم آج بھی گندم اور چینی خریدنے پر مجبور ہیں ملک فوڈ سیکورٹی والے حالات کی طرف جارہا ہے مگر بد قسمتی سے ہم اپنے ذرائع کو نہ ہی بہتر طور پر دریافت کر پاتے ہیں اور نہ ہی انکا استعمال ممکن کرنے کے لیے کوئی جامعہ حکمت عملی کی طرف جاتے ہیں۔مہنگی کمپنیوں پر دارو مدار کے بجائے کوئلہ،شمسی توانائی اور کوڑے تک سے بجلی پیدا کرنے کے آپشنز موجود ہیں انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنا کر عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے پورے ملک میں سستی ٹرانسپورٹ کے پراجیکٹس شروع کر کہ مہنگے پٹرول ڈلوانے سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے زرعی شعبے میں اصلاحات لاکر گندم چینی اور دوسری فصلوں میں خود کفیل ہوا جاسکتا ہے۔۔کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی سے کسان خوشحال ہوگا تب پیداوار میں اضافہ ممکن ہے  پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی تشکیل ضروری امر ہے مختلف چھوٹے بڑے شہروں کی انتظامیہ پر نگرانی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ وہ کس حد تک مستعدی سے ذخیرہ اندوزوں کی بیخ کنی میں پیش پیش ہے وہ لوگ جو من مانی قیمتوں کا تقاضہ کرتے ہیں ان سے کیسے نمٹا جارہا ہے کیونکہ کوئی ایک پروڈکٹ دس قدم پر واقع دکان میں کسی اور قیمت پر بک رہی ہوتی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں موجودہ حکومت بھی پچھلے حکمرانوں کی طرح بنیادی ڈھانچے کی از سر نو تشکیل کے بجائے بگاڑ پر مبنی پالیسیز کو آگے بڑھائی چلی جارہی ہے ایسے نیا پاکستان بنے نہ بنے نئے مسائل میں عوام ضرور دھنستی چلی جائے گی۔۔

    ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے بھیک پیشہ ور مانگتے تھے اب اچھے خاصے معزز لوگ ہاتھ پھیلانے ہر مجبور ہیں کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں ریلیف عوام کو دیا جارہا ہو۔ پچھلی حکومتوں سے چھٹکارا حاصل کر کہ پاکستان تحریک انصاف کو اکثریتی ووٹ اسلیے پڑا تھا کہ واقعی عوام تبدیلی چاہتی تھی ایسی تبدیلی جہاں کرپشن سے پاک پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں ہو جہاں پرانی اور بے کار حکومتی پالیسیوں کو جڑ سے اُکھاڑ کر ایسی بنیادیں ڈالی جائیں جسکی ہر اینٹ عوام کو ریلیف دے جہاں غربت کا خاتمہ ممکن ہو جہاں معیارِزندگی بہتر ہوسکے  جہاں روزگار کی فراہمی ہو اپنی چھت ہو نہ کہ یہ سہولیات صرف انتخابی منشور تک محدود ہوں۔ابھی بھی وقت ہے دو سال کا عرصہ موجود ہے اور کچھ نہیں تو عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے مہنگائی کی عفریت کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکتا ہے ورنہ مہنگائی اور غربت کے تانے بانوں میں الجھی عوام کم از کم  اگلا موقع پاکستان تحریک انصاف کو  نہیں دے گی۔

  • ترقی کا راز۔ تحریر: سریر عباس

    کسی بھی ملک کی ترقی کا راز خاص طور پہ تین چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    پہلےنمبر پہ بجلی

    دوسرے پہ پانی

    اور تیسری چیز سڑک ہوتی ہے

    جس ملک میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی اس ملک میں تمام انڈسٹریز کام کرتی ہیں اور برابر کرتی ہیں

    کیونکہ انڈسٹریل جتنی بھی چیزیں یا انڈسٹریل ایریا ہوتا ہے وہاں پہ ہر قسم کی فیکٹریاں لگائی جاتی ہیں ان فیکٹریوں میں مزدور لگائے جاتے ہیں 

    اس سے بے روزگاری ختم ہوتی ہے اور ہنر مند افراد جنم لیتے ہیں جو کسی بھی معاملے میں کامیابی سے پیچھے نہیں رہتے

    موجودہ دور چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے تو انٹرنیٹ کا تعلق بھی براہ راست بجلی کے ساتھ ہے

    انٹرنیٹ کے زریعے اگر کوئی انسان ترقی کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے تعلیم کا ہونا انتہائی اہم ہے 

    ورنہ وہ ہنر مند تو ہوسکتا ہے لیکن انٹرنیٹ میں آگے بڑھنے کیلئے کسی کا سہارا لے گا۔

    موجودہ دور میں تعلیم بھی جدید طریقہ کار سے دی جارہی ہے یعنی اس میں بھی مکمل انٹرنیٹ کا استعمال ہوتا ہے اور انٹرنیٹ کا براہ راست تعلق بجلی سے وابستہ ہے۔

    اس کے علاوہ سینکڑوں ایسی چیزیں  ہیں جنکا تعلق بجلی کے ساتھ ہے۔

    پاکستان پچھلے دس بارہ سال سے انتہائی بہران کا شکار ہے جسکی اصل وجہ بجلی کی فراہمی کا نہ ہونا اور انڈسٹریوں کا بند ہوجانا ہے

    موجودہ حکومت یقیناً اس معاملے میں سنجیدگی دکھا رہی ہے جس کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ میں کمی (گزشتہ دو ماہ چھوڑ کے) اور انڈسٹریز بھی 60فیصد تک چل پڑی ہیں۔

    دوسرے نمبر پہ ہے "پانی”

    پانی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک خاص نعمت ہے

    پانی انسانی زندگی کیلئے انتہائی اہم ہے

    یعنی اگر زندہ رہنا ہے تو پانی کے ساتھ ہی رہ سکتے ہیں

    صرف پینے کیلئے روزانہ ہر شخص اوسطاً دو سے تین لیٹر پانی کا استعمال کرتا ہے

    اسکے علاوہ وضو، غسل اور دیگر معاملات میں ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق پانی کو استعمال کرتا ہے

    اگر کسی شخص کو چند گھنٹوں کیلئے پانی میسر نہ ہو تو اسکی زندگی اجیرن بن جاتی ہے

    انسانی زندگی میں بجلی اور پانی کا اتنا فرق  ضرور ہیکہ بجلی کے بغیر زندگی ہے جبکہ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔۔

    پانی ازل سے ہے اور بجلی بعد کی ایجاد ہے جو انسانی زندگی میں آسانی لائی ہے۔

    پانی کی ضروریات یا اسلامی رو سے پانی کو ایک نعمت کے طورپہ ذکر کرنا تو شائد نا ممکن ہی ہیکہ اللہ کی اس نعمت کے فضائل کتنے ہیں۔

    پانی کی قدر و قیمت پاکستان میں سب سے زیادہ "تھر” کے لوگ جانتے ہیں جو ایک ایک بوند کو ترس جاتے ہیں

    حکومت پاکستان کو اس پر سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا چاہئے اور انسانی زندگیوں کو پروان چڑھانا چاہئے۔

    موجودہ دور میں ترقی یافتہ ممالک کیلئے تیسری بڑی اور اہم چیز "سڑک” ہے 

    سڑک فاصلے کو تو کم کرتی ہے یا نہیں لیکن فاصلے کو طے کرنے میں دنوں کا سفر گھنٹوں اور گھنٹوں کا سفر منٹوں میں ممکن ہوجاتا ہے۔

    مثال کے طورپہ

    میں پچھلے چند سالوں میں بیرون ممالک قیام پذیر ہوں حصول رزق کی خاطر تو 

    یہاں میرا پیشہ ایک ڈرائیور کی حیثیت سے ہے 

    اب یہاں کے روڈز کا موازنہ اگر پاکستان کے روڈز کے ساتھ کیا جائے تو کافی فرق دکھائی دیتا ہے

    یعنی جو سفر پاکستان میں دو سے تین گھنٹوں میں طے ہوتا ہے وہ یہاں پہ چالیس پچاس منٹوں میں طے ہوجاتا ہے

    وجہ یہ ہے کہ یہاں روڈز بڑے اور کھلے ہیں

    جیسا کہ پاکستان میں موٹروے اور عام روڈ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

    موجودہ حکومت اور اس سے پچھلی حکومت نے جس قدر روڈز کی طرف توجہ دی یقینی طورپہ آنے والے کچھ سالوں میں یہ منصوبہ جات ملک کی ترقی کیلئے اہم کردار اداء کریں گے

    جن میں بالخصوص پاک چین اقتصادی راہ داری ہے

    @1sareer