Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی  تحریر : چوہدری عطا محمد

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی تحریر : چوہدری عطا محمد

    ارض پاک پاکستان میں تحریک انصاف کی گورنمنٹ کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ ہے مہنگائی کا جن جو کہ حکومت کے قابو سے باہر ہے ویسے اگر مہنگائی کی بات کی جاۓ تو پوری دنیا میں مہنگائی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے حکومت وقت اس پر قابو پانے کے معاملہ میں بلکل بے بس ہے

    حکومتی وزیر مشیر اور درجنوں ترجمانوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب بھی نہی ہے ایک حکومتی وزیر نے بتایا پچھلے دنوں عید کی چھٹیوں میں نادرن ایریا میں سیرو تفریح کرنے والوں نے تین سے پانچ دنوں میں 67ارب روپے خرچ کئے اس کا بتانے کے دو مقاصد تھے ایک تو سیاحت کو فروغ ملا جو بہت اچھی بات ہے دوسرا وہ یہ بتانا چاہ رہے تھے موصوف کہ لوگوں کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہی تبھی تو تین چار دن میں اتنا خرچ کیا یعنی عوام خوشحال ہے

    میں زرا موصوف حکومتی ترجمانوں کے گوش گزار یہ بات کرتا چلا کہہ جناب یہ خرچہ کرنے والوں کی تعداد صرف 12 سے 17 فیصد لوگوں کی ہے آپ اس بات پر بیشک بغلیں نہ بجائیں باقی 80 فیصد لوگ مہنگائی کے ہاتھوں بہت زیادہ تنگ نظر آتے ہیں اگر مہنگائی مافیا کے جن کو حکومت نے قابو نہ کیا تو پھر بہت دیر ہو جاۓ گی

    یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہہ ہمارے سرکاری بابوؤں کا بھی بڑا رول ہے مہنگائی بڑھانے میں حکومت کا کام قانون سازی ہوتا ہے اس پر عمل درآمد انہیں سرکاری بابوؤں نے کروانا ہوتا ہے جو شاید اس حکومت سے خوش نہی ہیں سو وہ اس لئے بھی دلچسبی نہیں لیتے اور مہنگائی مافیا عوام کا خون نچوڑ رہا ہے

    عوام وزیر اعظم پاکستان سے لائیو کالز میں بھی اور سوشل میڈیا پر بھی درخواست کرتی نظر آتی ہے کیوں کہہ تحریک انصاف کے ووٹر سپورٹر بھی مہنگائی والے سوال پر کسی غریب کے سامنے اپنی حکومت اور جناب عمران خان صاحب آپ کو ڈیفنڈ نہی کر پاتے مہنگائی کن چیزوں میں زیادہ ہے اور یہ مافیا کس طرح عوام کو لوٹ رہا ہے اگلی تحریر میں بشرط زندگی اس پر بات کریں گے

    اللہ سبحانہ تعالی ارض پاک کی عوام کی مشکلات آسان فرمائیں آمین ثمہ آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • ‏ن لیگ بنی جھوٹ لیگ  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ‏ن لیگ بنی جھوٹ لیگ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    خواجہ آصف نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ خدا کی قسم اُٹھا کر کہتا ہوں کہ نواز شریف جلد وطن واپس آ جائیں گے،اُنہیں بس علاج کے لئے جانے دیں۔
    اور پھر نواز شریف چلے گئے خواہ جس طرح بھی گئے بحرحال وہ چلے گئے۔
    اب وہی نواز شریف برطانوی حکومت سے دھکے مارے جانے کے باوجود لندن کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پاؤں پڑا ہوا ہے کہ مجھے نہ نکالو۔
    مجھے پاکستان نہیں جانا۔
    یہاں سے فرار ہوتے وقت بیماری کا بہانہ بنایا گیا۔عدالتوں کی مہربانی سے نہ صرف ہر ایک کو چُونا لگایا بلکہ شیریں مزاری جیسے نرم و گداز دل والے حکومتی ارکان کو اپنے ڈرامے سے رونے پر مجبور کر دیا۔
    حالانکہ یہی شیریں مزاری ہے جسے معصوم بچوں کے اغوا،ان کے ساتھ زیادتی،حتی کہ ان کو قتل کر دیے جانے پر بھی رونا نہیں آتا۔
    اس قسم کے حکومتی ارکان کا اس قسم کے گھناونے جرائم پر سخت سزاوں کے معاملے پر نرم رویہ اور انسانی حقوق کے حوالے کسی طور پر لائق تحسین نہیں۔ایسے مجرم کسی انسانی ہمدردی یا حقوق کے لائق نہیں جو معصوم بچوں کو کتوں کی طرح بھنبھوڑ کے رکھ دیتے ہیں۔
    تو بات ہو رہی تھی نواز شریف اور انکے پارٹی قائدین کے سفید جھوٹوں کی،جن کے زریعے یہ لوگ قوم کو 30سال سے بیوقوف بنا رہے ہیں۔
    نواز شریف نے پاکستان میں تو محض بیماری کا ڈرامہ کیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
    مگر لندن میں جونہی ویزے میں مزید توسیع کی درخواست مسترد ہوئ،وہاں پر انسانی ہمدردی کو بھی ڈھال بنا کر پیش کر دیا۔
    یہ پینترا اس لئے بدلا گیا، کیونکہ وہاں بیماری کا ڈرامہ پٹ چکا ہے۔برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے متعدد بار طلب کئے جانے کے باوجود میڈیکل رپورٹس نہیں دی گئیں،کہ جن سے پتہ چلتا کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں اور انکا علاج معالجہ چل رہا ہے۔
    پاکستان میں جن پلیٹ لیٹس کے کم ہونےکو لیکر سارا ٹوپی ڈرامہ کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر لندن جا کر ٹیسٹ کروانے پر وہی پلیٹ لٹس حیران کن طور پر بہت زیادہ نکلیں۔ان رپورٹس کو ہسپتال کے ریکارڈز میں مبینہ طور پر اس لئے کلاسیفائیڈ کروا دیا گیا تاکہ برطانوی قانون کے مطابق انہیں کوئ آدمی دیکھ نہ سکے اور میاں ساب کا مکر و فریب دنیا پر آشکارا نہ ہو سکے۔
    مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کا،ایک دن شاہ کا
    بالاخر برطانوی حکام میںاں ساب کی مکاریوں اور عیاریوں کی تہہ تک پہچ چکے ہیں،جس کے باعث اب نواز شریف کے لندن میں دن گنے جا چکے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ نواز شریف اپیلوں اور حیلوں بہانوں کے زریعے لندن میں کچھ مزید عرصہ گزارنے میں کامیاب ہو جائیں،مگر جو جگ ہنسائ ہونا تھی۔
    وہ تو ہو چُکی۔پاکستان کا تین دفعہ کا وزیر اعظم لندن میں اپنے قیام کو توسیع دینے کے لئے انکے پاؤں پڑ رہا ہے۔یہ نواز شریف اور اسکے حواریوں کے لئے چُلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
    جن کا اپنا نام تو ہے ہی کوئ نہیں۔مگر ملک کا نام ضروربدنام کر رہے ہیں۔
    ویسے تو جھوٹ اور ن لیگ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔مگر پانامہ میں اپنی چوری پکڑے جانے کے بعد تو انہوں نے اگلے پچھلے ریکارڈز توڑ دیے ہیں۔ان سب جھوٹ بولنے والوں اور فیک چیزیں سچ بنا کے پیش کرنے والوں کی قیادت بہت اچھے طریقے سے کرنے والی مریم صفدر ہیں۔جو آۓ روز کوئ نہ کوئ پُھلجڑی چھوڑنے میں خاصی مشہور ہو چکی ہیں۔جو انہیں شائد بہت جلد گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں لے جائیں۔
    ایک جھوٹ پکڑے جانے کے بعد بندہ شرم محسوس کرتا ہے،مگر ن والے ایک جھوٹ پکڑے جانے کے بعد دوسرا جھوٹ بولنے کی تیاری پکڑتے ہیں۔
    کچھ اسی طرح ویزہ مسترد ہونے کے بعد نظر آیا۔
    جونہی ویزہ مسترد ہونے کی خبر آئ۔عطا تارڑ جیسے مستقل بنیادوں پر جھوٹ کا ن لیگی بیانیہ بناۓ رکھنے والے لوگ میدان میں آگئے اورایک بار پھر کہناشروع کر دیاکہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس ایک بار پھر کم ہو گئے ہیں۔
    ان کے مسلسل جھوٹوں سے تنگ آکر ان کے اپنے شاہزیب خانزادہ جیسےخاص صحافیوں نے بھی ان کے ڈراموں پر سوال اُٹھانا شروع کر دیےہیں۔گزشتہ رات اس نے شاہد خاقان عباسی کو کہا کہ اگر نواز شریف کے پاس کچھ مستند دستاویزات ہوتیں تو انکا ویزہ کیوں مسترد ہوتا؟
    اب کیا نواز شریف خود واپس آئیں گے یا برطانیہ زبردستی انہیں وہاں سے نکالا جاۓ گا؟
    شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ نوازشریف اپنا علاج مکمل کروا کے آئیں گے۔
    جی ہاں یہی انکے جھوٹوں کی انتہا اور ڈھٹائ کی آخری حد ہے کہ نواز شریف وہ علاج کروا کے آئیں گے جو وہ کروا ہی نہیں رہے #

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    ‎@lalbukhari

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 02   تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران قسط ۔ 02 تحریر: محمداحمد


    جیسا کہ پچھلی تحریر میں بتایا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ صرف حکمرانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اپنے اندر کے شیطان کو نہیں دیکھتے ہر انسان دوسرے میں کیڑے نکالتا ہے اپنے اندر کے انسان کی طرف کوئی راغب نہیں ہوتا 95٪ لوگ چور بازاری ، ہیرا پھیری میں لگے ہیں جیسے کہ

    گھی میں کیمیکل کا استعمال:
    گھی بیچنے والے گھی کو خالص گھی ضرور لکھتے ہیں ایسی نوبت ہی کیوں آتی ہے اصل گھی کی نشانی یہ ہے کہ گرمیوں میں گھی پگھل جاتا ہے اور سردیوں میں گھی جم جاتا ہے جبکہ ملاوٹ والا گھی سردیوں میں نہیں جمتا ۔ پاکستان میں کچے کیلے اور ایسنس (مصنوعی خوشبو) کی ملاوٹ سے گھی تیار کیا جارہا ہے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا منافع خوروں کا معمول بن گیا ہے اور جو ملاوٹ کا گھی تیار کر رہے ہیں دراصل وہ زہر بیچ رہے ہیں اسی طرح مرغیوں کی انتڑیوں سے تیل کیا جا رہا ہے

    مرغیوں کی انتڑیوں سے تیل:
    مرغیوں کی انتڑیوں کی بہت بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہوتی ہے مرغیوں کی انتڑیوں کو بہت دیر تک پگھلایا جاتا ہے اس سے جو بدبو دار تیل نکلتا ہے اس میں رنگ کاٹ ڈال کر اسے صاف کیا جاتا ہے اور خوشبو دار پرفیوم کا استعمال کرکے پیکنگ کرکے مارکیٹ میں بھیجا جاتا ہے اسی طرح آج کل گاۓ ، بھینس کی ہڈیوں سے بھی گھی تیار کیا جارہا ہے اور مختلف برانڈ کی صورت میں مارکیٹ میں بیچا جارہا ہے آج کل تیل کی قیمت اتنی زیادہ ہوگی ہے کہ غریب طبقہ سستے تیل لینے پر مجبور ہیں اور اس تیل میں ان کے لئے زہر بیچا جارہا ہے یہ وہ نہیں جانتے

    سرخ مرچ میں اینٹوں کا بورا:
    سرخ مرچ میں انٹیوں کے بورا کا استعمال وزن بڑھانے کیلئے کیا جاتا ہے کیونکہ رنگت ایک جیسی ہوتی ہے اس لیے لوگوں کو پتہ نہیں لگتا ہم کیا استعمال کر رہے ہیں اس کو پکڑنا بڑا آسان ہے کہ سرخ مرچوں میں ملاوٹ کی گئ ہے یا نہیں ۔ اس کیلئے ایک گلاس پانی لیں اس میں تھوڑی سے مقدار سرخ مرچ کی شامل کریں اگر پانی کی رنگت بدل گی یا کچھ مقدار نیچے پانی میں بیٹھ گی تو مرچیں ملاوٹ شدہ ہیں اسی طرح مرچوں کو تہہ دار جگہ پر رکھ کر گلاس کو رگڑیں اگر آواز پیدا ہو جسے کرکرا پن کہتے ہیں تو اس کا مطلب مرچیں ملاوٹ شدہ ہے ایک اور طریقہ ہے محلول کے ذریعے سے چیک کرنے کا اگر تھوڑی سے مقدار مرچوں میں آئیوڈین کے چند قطرے ڈالیں اگر مرچیں ملاوٹی ہوں گی تو محلول کی وجہ سے اس کا رنگ نیلا ہوجاۓ گا اس طرح آسانی سے پتہ چل جاتا ہے کہ ہم جو استعمال کر رہے وہ خالص ہیں یا نہیں

    اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح ہلدی میں مصنوعی رنگ اور کالی مرچ میں چنے کے چھلکے کا پیس کر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ جوس میں کس طرح جعلی رنگ استعمال کیا جارہا ہے باہر کے مملک میں ایسا نہیں ہے چائنہ میں ایسی ملاوٹ انسانی زندگی سے کھیلنا سمجھا جاتا ہے اور اس کی سزا سب بہتر جانتے ہیں چائنہ میں زہر کا انجیکشن لگا کر خاموش کر دیتے ہیں ہمارے ملک میں رشوت خوری عام ہے فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں رشوت خور آفیسر کو رقم دےکر خاموش کر دیا جاتا اور محکمہ چیکنگ کیلئے آتا ہی نہیں اسی طرح جعل ساز اپنا کاروبار عروج پہ رکھ کر انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اس سے ثابت ہے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں جیسی عوام ویسے حکمران

    ‎@JingoAlpha

  • وزیر اعظم پاکستان کا خواب اور ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیر اعظم پاکستان کا خواب اور ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    ‎ اسلامی جہموریہ پاکستان کے 21 وزرا اعظم تقریباً گزشتہ سات دہائیوں سے گزرے لیکن آج تک کسی بھی وزیر اعظم نے ریاست مدینہ جیسے طرز کی ریاست بنانے کی بات نہیں کی اور نہ اپنی تقاریر اور انٹرویو میں کبھی اس بات کی خواہش ظاہر کی پاکستان میں گزشتہ کہی دہائیوں سے دو پارٹی سسٹم رائج تھااس سسٹم کو توڑا ایک تیسری جماعت پاکستان تحریک انصاف نے جس کے چئیر میں جناب عمران احمد نیازی ہیں جو ملک کے 22وزیر اعظم بنے اسلامی جہموریہ پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم نے ایک خواب خود دیکھا اور پھر اپنی قوم کو وہ خواب دکھایا کہ ارض پاک پاکستان کو ہم مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے
    یہاں تک تو یہ ایک خواب تھا جو ملک کے وزیر اعظم نے اپنی قوم کو دیکھایا اب ہم بات کرتے ہیں اپنی قوم کی تو جناب پاکستانی قوم پورے اقوام عالم میں اپنی ایک الگ سوچ اور پہچان کے مالک ہیں ہمارے تاریخ میں آنے والوں کے حکمرانوں کے بارے میں اقوام عالم اور اس میں موجود تجزیہ کاروں اور میڈیا کے دماغ میں ایک مختلف سوچ پائی جاتی ہے بدقسمتی سے وہ سوچ ہمارے بارے میں اتنی اچھی نہیں ہے ہمارے ہی بارے میں ایک بیان ایک مغربی ملک کی ایک شخصیت نے دیا کہ پاکستانی پیسے کی خاطر اپنی ماں تک کو بیچ ڈالتے ہیں کسی نے ہمیں کرپٹ کسی نے غدار اور کسی نے ہمیں دہشت گرد کہا اور کہا کہ یہ لوگ پیسے یا زاتی مفادات کی خاطر بڑے سے بڑا جرم کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ملک کے حکمران نے دنیا کی اس سوچ کو غلط ثابت کرنے کی ٹھان لی اور ہمیں ریاست مدینہ کا خواب دیکھایا جس سے عوام الناس میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا لیکن ساتھ ساتھ ہم نے کردار کشی اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری رکھا جیسے ماضی میں ایک حکمران جماعت نے ہماری سابقہ وزیر اعظم بینظیر کی فیک اور جھوٹی فحش تصاویر ہیلی کاپٹر سے مختلف شہروں میں گرائی اور آج وہی پارٹی اور چند اور مفاد پرست چھوٹی پارٹیوں نے مزئیب کا استعمال کرتے ہوۓ ریاست مدینہ کے خواب دیکھانے والے وزیر اعظم کو یہودی ایجنٹ اور اسرائیل کا ایجنٹ کے جھوٹے الزامات سے نواز نا شروع کر دیا یاد رکھیں اس طرح کی سینکڑوں مثالیں آج بھی موجود ہیں حصول اقتدار کے لئے ہم کیا کچھ نہی کر جاتے زرا سوچیئے بدقسمتی سے ہم ایک قوم کم اور ہجوم زیادہ ہیں جس ملک میں ایک چپڑاسی سے لے کر ملک کے حکمرانوں تک سب کو رشوت کی لت لگی ہو پولیس۔ ڈاکٹر انصاف فراہم کرنے والے ہمارے ججز حضرات سب اپنی اپنی حثیت سے اس گنگا بھی ہاتھ دھو رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہہ کوئی دو سو پر راضی ہو جاتا تو کوئی دو ہزار اور کوئی دو لاکھ اور کوئی دو کروڈ ہر بندے کا رشوت کا اپنا ایک معیار ہے ہمارے سرکاری ملازمین کبھی وقت پر دفتر نہیں جاتے ہمارے اساتذہ جو اس قوم کے معمار ہیں انہوں نے کبھی اپنی زمہ داری پوری نہیں کی ہوگی ہمارے مسیحا ڈاکٹر بھی اس فرض سے بری زمہ ہیں ہمارے والدین نے بچوں کی کبھی ریاست مدینہ طرز کی پرورش نہیں کی ہمارے بچے سگریٹ نوشی شراب اور زنا قتل جیسے جرائم کو فخر سے سر انجام دیتے ہوۓ نظر آتے ہیں
    پیارے غیور پاکستانیوں پہلے ہجوم سے ایک قوم بننے کی راہ پر گامزن ہوں ہمارے حکمران نے آج وہ راستہ ہمیں دیکھا دیا ہے ریاست مدینہ کے راستے پر چلیں پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کا مقابلہ نہیں کر پاۓ گی جب آپ نے ریاست مدینہ کے راستے پر چلنا ہے تو وقتی مشکلات تو ضرور آئیں گی اسی لئے ہمارے وزیر اعظم بار ہا کہتے ہیں مشکلات سے گبھرانا نہیں آپ نے یقین مانیں ارض پاکستان کے واسیوں آپ ایک عظیم اور بہادر قوم ہیں اپنے آباؤ اجداد کی طرف ہی دیکھ لیں آپ کی رگہوں میں جن کا خون ہے انہوں نے کتنی مشکلوں اور قربانیوں سے یہ ارض پاکستان آپ کے لئے حاصل کیا پیارے دیس کے واسیوں ہمیں بس اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا جب ہم اپنی سوچ کو ریاست مدینہ کے ماڈل کی طرز پر بدل لیں گے تو پھر آپ کو ترقی کرنے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا
    آخر میں اللہ سبحانہ تعالی سے دعا ہے کہہ ہمیں صیح معنوں میں ریاست مدینہ والی طرز اور سوچ پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین
    اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • نئے لیڈر کی تلاش تحریر: قلم محمد وقاص شریف

    آ صف زرداری اور نواز شریف کی سیاست سے جلے کٹے عوام کو ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو کرپشن اور لوٹ مار سے پاک قیادت فراہم کر سکے 22 سال تک سیاسی جدو جہد کرنے والا عمران خان جب سامنے آ یا تو ایک بات طے ہوگئی کہ یہ شخص ایماندار اور بے باک ہے نہ کھائے گا نہ کھلاے گا ملک سے روائتی اور باریوں والی سیاست ختم ہو گی کرپشن اور لوٹ مار ماضی کا قصہ بن جائیں گے خان صاحب نے 2018 کے انتخابات میں بڑی شاندار کمپین چلائی۔ انہوں نے ہر جلسے میں ہزاروں لاکھوں لوگوں سے خطاب کیا اور ایک ایسے پاکستان کی نقشہ کشی کی جس کی خواہش ہر پاکستانی کر سکتا ہے عمران خان کی زندگی کی چند مثبت چیزوں سے ہر پاکستانی پہلے ہی مطلعِ تھا اوپر سے جب انہوں نے ملک کو ٹھیک کرنے کے بلند وبانگ دعوے کیے تو یہ بات ہر ایک کو ایسے اچھی لگی ہے جیسے صدیوں کے خواب کو تعبیر ملنے جا رہی ہو عمران خان کے سیاسی کیریئر میں 2018سب سے زیادہ کھل کر سامنے آیا جس میں ان کی شہرت کا گراف بہت اونچا تھا اور توقع یہ تھی کہ وہ کلین سویپ کر دیں گے مگر ڈرامائی طور پر انہیں بہت ہی معمولی برتری حاصل ہوئی مگر پھر بھی وہ حکومت بنا گئے۔ معمولی برتری دلانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ لانے والوں کی ضرورت ہر وقت محسوس ہوتی رہے اور کبھی بھی منہ زوری کا وقت نہ آ ئے حکومت تو بن گئی ہے مگر شروع دن سے ڈیلیوری نام کی کوئی چیز سامنے نہیں آئی عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ چکی ہے تیسرا سال لگ چکا ہے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ نواز زرداری دور کا ہر کام ضرب تقسیم کے ساتھ جاری وساری ہے۔ بےروزگاری۔ مہنگائی عروج پر ہیں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے سال حکومت اپنی جگہ بناتی ہے دوسرے سال منصوبے کاغذ پر بنتے ہیں اور تیسرے سال ان پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن لگتا ہے تین سالوں میں حکومت نے صرف جگہ ہی بنائی ہے باقی کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ بہت ہی مایوس کن مرحلہ ہے لانے والے چاہے عوام ہوں یا فرشتے یہ بات طے ہے کہ اب نئے لیڈر کی تلاش زور وشور سے جاری ہے اور سنا ہے الٹی میٹم بھی دیا جا چکا ہے۔ دعا ہے نئی تبدیلی پرانی تبدیلی جیسی نہ ہو
    @joinwsharif7

  • پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کا اصل ذمہ دار تحریر: محمد حارث ملک زادہ۔

    پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کا اصل ذمہ دار تحریر: محمد حارث ملک زادہ۔

    کیونکہ قرض رات کا غم اور دن کی رسوائی ہے ".
    یہ حدیث زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے ، چاہے وہ کوئی انسان ہو یا کاروبار ہو یا کوئی ملک وغیرہ سب کے لیے انتہائی اہم اور فائدہ مند ہے ۔
    قرض کے زیرِ بحث عنوان پر میں صرف ایک ملک یا حکومت پر ہی تفصیلی بات کرو گا جو کہ پاکستان ہے، حکومتی قرض کا مطلب کہ کسی ملک یا حکومت پر واجب الادا قرضہ ہے۔ حکومتی قرضوں کی بات یہ ہوتی ہے کہ قرض لینے والا کوئی اور ہوتا ہے اور قرض ادا کرنے والا کوئی اور۔ پاکستان کو ہی مدنظر رکھا جائے قرضوں کے بوجھ کے ذمہ دار حکومتوں کے قرض لینے والے بد دیانت/کرپٹ لیڈر ہوتے ہیں جبکہ حکومت کا یہ سارا قرضہ آخر کار اس ملک کے ٹیکس دھندگان کو بھرنا پڑتا ہے جس پر سودبھی شامل ہوتا ہے۔ حکومتی قرضوں کے بو جھ نے اُن آنے والی نسلوں کو بھی مقروض بنا دیا ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔ پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کے بارے میں تفصیل میں جانے سے پہلے اصل ذمہ دار وں کا ذکر کردو کہ پاکستان کے قرضوں کا ذمہ دار صرف اور صرف "پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن کے نااہل و چور سیاستدان، کرپٹ بیوروکریٹ، اشرافیہ وغیرہ ” ہیں۔ 70 سال کے اتنے بڑے بوجھ کا خمیازہ اور اثر موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ اعدادوشمار کے اندازہ کے مطابق پاکستان پر 116309ملین امریکی ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے ،اس لحاظ سے ہر پاکستانی شہری پر 1.70 لاکھ کا پاکستانی روپےکے حساب سے قرضہ ہے۔ قرضوں کے اس بوجھ کے علاوہ پاکستان کو ان قرضوں کا سالانہ اربوں کا سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے، شرح سود ذیادہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی سالوں تک ملک سے قرضوں کا انبار ختم نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کے اصل ذمہ داروں کا اعدادوشمار کے ساتھ تعین / ثابت کرتے ہیں۔
    1947 قیام پاکستان کے بعد برطانوی حکومت کی طرف سے خاطر خواہ سرمایہ نہیں دیاگیااور اس کے علاوہ مقامی پیداواری صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے ملک کی کمزور معیشت کو چلانے کے لیے مجبوراَ قرض لینا پڑا جو کہ صدر جنرل ایوب خان کے دور تک 50 3 ملین ڈالر تک تھا، صدر ایوب خان کا دور پاکستان کے سنہری ادوار میں سے تھا جس میں پاکستان نے کافی ترقی کی کیونکہ قرض کااستعمال صحیح ہواتھا جس کے منافع سے 180 ملین ڈالر قرض ادا کر کے 50 3 ملین ڈالر کے قرضے میں 170 ملین ڈالر رہ گیا تھا اسی لیے صدر ایوب خان پاکستان پر قرضے کے انبار کے ذمہ دار نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دور میں قرضہ واپس کیا تھا۔ اس کے علاوہ صدر ایوب خان کا دور وہ تھا جس میں پاکستان بھی دوسرے ملکوں کو قرضہ دینے شروع ہوگیا تھا، جس کی بڑی مثال آج کی دنیا کی چو تھی بڑی معیشت جرمنی کی جس کو پاکستان نے قرضہ دیا تھا۔پھر صدر ایوب خان دور کے بعد شہید ذالفقار علی بھٹو کے دور میں 6320 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ ایک دم لمبی چھلانگ تھی۔ جس کی اہم وجہ سقوط ڈھاکہ ہے جس سے اکستان کو بھارت سے جنگ کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا تھا، اس کے علاوہ اپ خود اندازہ کر سکتے ہیں، پاکستان کی پیداواری زرائع میں کمی کا سامنا ہوگیا۔ شہید ذالفقار علی بھٹو کے دور بعد جنرل ضیاءالحق کے حکومت سنبھالنے کے بعد بھی پاکستانی معیشت میں بہتری نہ ہوسکی جس کے سبب پاکستان کا بیرونی قرضہ ڈبل کو 12913 ملین ڈالر تک ہوگیا۔لیکن اس قرضہ کی اتنی تیز رفتار سے بڑھنے کی وجہ ہے کہ صدر ایوب خان کا دور کی طرح قرضہ کا استعمال ہوتا ہوا نظر بھی آیا جس میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام ، چھوٹے ڈیمز ، جنگی ہتھیار ، صنعتیں وغیرہ نمایا ں ہے لیکن ان قرضوں کی واپسی ممکن نہ ہوسکی جس کی وجہ سے جنرل ضیاءالحق کی شہادت کے بعد بینظر بھٹو کے اقتدار سنبھالنے سے اور پھر نواز شریف کی حکومت کے اختتام پر یہ قرضہ 39000 ملین ڈالر تک جا پہنچا تھا جو کہ جنرل ضیاءالحق کے دور سے تین گنا ذیادہ تھا اس کے برعکس پاکستان معیشت میں بھی خاطر خواہ بہتری نہ ہوئی۔ نواز شریف دور میں زیادہ توجہ موٹرویز کی طرف رہی جس سے معیشت کو کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ ملکی قرضوں میں اضافہ سے سود کی ادائیگی کے لیے انہی موٹرویز کو گروی رکھوا کر اوپر سے اور قرضے لیے گئے۔ پھر جنرل صدر پرویز مشرف کے دور میں صدر ایوب خان کی طرح قرضوں کی واپسی کی گئی جس میں صدر پرویز مشرف نے 5000 ملین ڈالر قرضہ بھی کیا اور ملکی معیشت میں بھی بہتری ہوئی۔ صدر پرویز مشرف کے بعد نااہل پیپلزپارٹی نے ماضی کی طرح ملکی معیشت کا کباڑہ کرکے ایک بار پھر قرضوں میں ریکارڈ اضافہ کردیاجس کے مطابق صدر پرویز مشرف کے دور میں 39000 ملین ڈالر قرضوں میں سے 5000 ملین ڈالر کی ادائیگی سے 34000 ملین ڈالر کے قرضے میں صدر زرداری نے تاریخی 14000 ملین ڈالر کا اضافہ کیا ۔جس سے صاف صاف ثابت ہوتاہے کہ کرپٹ اور نااہل سیایسی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے ملک کو مقروض کیا ہے لیکن اس کے قرضہ کا صحیح استعمال نہ کرکے معیشت میں بہتری نہ ہوئی بلکہ وہ سود کی اادائیگی سے پہلے سے بھی زیادہ تباہ ہوگئی اسی لیے یہ سیایسی حکمرانوں ہی ذمہ دار ہیں ۔ 2013 میں نوازشریف نے دوبارہ حکومت حاصل کرنے کے بعد صدر زرداری کے قرضوں کا ریکارڈ توڑ ڈالا جس میں وزیراعظم نوازشریف نے 35000 ملین ڈالر قرضہ لے کر ملکی قرضے کو 84000ملین ڈالر تک پہنچا دیا حسب روایت نوازشریف موٹرویز و بجلی گھروں کا روگ الاپتے رہے لیکن حقیقت چھپا کر عوام کو بیوقوف بنایا اور اپنا ووٹ بنک اور ذاتی دولت بناتے رہے ۔
    پاکستان پر قرضوں کے انبار کی وجوہات میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ ، نااہل ، کمیشن خور، مفادپرست، چور سیاست دان ہیں جوکہ بڑی بڑی وازتوں پر فائض ہوکر اپنے خاندانوں و نسلوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کرپٹ و کمیشن خور بیوروکریسی کے ساتھ ملی بھگت سے بڑے بڑے قرضے ملکی ترقی کے نام پر لے کر بیشتر حصہ اپنے جیبوں میں ڈالتے رہے ہیں، اس کے برعکس جب بھی کسی ڈیکٹیٹر نے حکومت سنبھالی تو ملکی قرضوں میں کمی ہوئی یا ملکی قرضوں کا صحیح استعمال ہوتا ہوا نظر آیا ہے اسی لیے میرے نزدیک ڈیکٹیٹر ملکی قرضوں کے کسی بھی صورت میں ذمہ دار نہیں ٹھہرتے ہیں ، ذمہ دار صرف سیاست دان ہی ہیں۔
    ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ملکی احتساب کے اداروں سے مطالبہ ہے کہ ان چور سیاست دان کے گرد گھیر تنگ کرکے ان تمام قرضوں کا تفصیلی حساب لینا ضروری ہے کیونکہ موجودہ حالات میں حکومتِ وقت سے خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے ملک چلانا انتہائی ناممکن ہو رہاہے اسی کیے تمام سیاستدانوں و بشمول بیوروکریسی کے احتساب کر کے نشان عبرت بنایا جائے اور تمام تر ملک کی لوٹی گئی دولت کو واپس لیا جائے ۔ اللہ پاک پاکستان کو تمام تر مشکلات سے نکال کر ، عرج عطا فرمائے آمین ۔
    پاکستان زندباد
    پاک فوج زندہ باد

    @HarisMalikzada

  • پاکستان! سستا یا مہنگا؟  تحریر: احسان الحق

    پاکستان! سستا یا مہنگا؟ تحریر: احسان الحق

    کچھ دن پہلے وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان سستا ملک ہے مگر اعدادوشمار کچھ اور بتاتے ہیں. جناب وزیراعظم کے دعوے اور اعدادوشمار میں کافی تضاد ہے. موجودہ حکومت پر عوام اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے سب سے زیادہ مہنگائی کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے. حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے. بلکہ آئے روز حکومتی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے. گھی فی کلو کی قیمت 155 سے 310 سے 320 روپے ہو چکی ہے.

    پاکستان میں ہمیشہ اشیاء کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں. ابھی یہ تحریر لکھتے وقت نیوز چینل کے ٹکر پر میری نظر پڑی کہ گھریلو استعمال کے گیس سیلنڈر کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا ہے. شاید کبھی کسی چیز کی قیمت گری ہو. خصوصاً اشیائے خوردونوش کے نرخ ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں. ایک عام پاکستانی کے لئے اشیائے خوردونوش کی خریداری ایک چیلنج سے کم نہیں. ملک میں اگر پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو تمام بکنے والی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں جن کا دور دور تک پیٹرول سے کوئی تعلق نہیں ہوتا. اگر ڈالر کی قیمت بڑھ جائے تو بھی تمام اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں. پیٹرول اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے سبزیوں، دودھ، ادویات اور تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا کیا تعلق؟

    عالمی بینک کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے. غربت 4.4 فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد ہو گئی ہے. اس سلسلے میں دو ڈالرز یومیہ سے کم قوت خرید کو پیمانہ بنایا گیا ہے. پاکستان میں تقریبا 20 لاکھ سے زائد افراد انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں. پاکستان میں غربت کا تناسب 39.3 فیصد ہے. متوسط طبقے سے نچلے طبقے کی یومیہ آمدنی 3.2 ڈالر ہے. متوسط طبقے کی آمدنی 5.5 ڈالرز یومیہ ہے. یہ تو ہو گئی عالمی بینک کے اعدادوشمار کی بات، اب حکومت کے اپنے اعدادوشمار بھی دیکھ لیں. حکومت کے اپنے سرکاری ادارے کی جانب سے کیے گئے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈ سروے کے مطابق انتہائی کسمپرسی کے شکار گھروں کی تعداد 7.24 فیصد سے بڑھ کر 11.94 فیصد ہو گئی ہے. غذائی قلت کا شکار آبادی کی شرح 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے. معاشی صورتحال میں بہتری والے گھرانوں کی شرح 16.48 فیصد سے کم ہو کر12.7 فیصد تک آ گئی ہے.

    مہنگائی کے علاوہ ٹیکسوں کے ذریعے بھی عوام پر بوجھ اور دباؤ بڑھایا جا رہا ہے. سرکاری آمدنی کا بڑا ذریعہ بل واسطہ محصولات ہیں جس کے اثرات امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر بہت زیادہ پڑ رہے ہیں. رواں مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں 62.5 فیصد ٹیکس وصولی کسٹمز اور فیڈرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس سے حاصل کی جائے گی، جبکہ بقیہ 37.5 فیصد براہ راست محصولات سے وصول کیے جائیں گے. بجٹ دستاویزات کے مطابق پچھلے مالی سال میں بل واسطہ محصولات تقریباً 2.50 فیصد کم تھا.

    سرکاری محصولات کی مد میں آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ پٹرولیم لیوی ہے جو کہ غریب اور دیہاڑی دار طبقے پر سراسر زیادتی ہے. ایک طرف 5 کروڑ روپے والی گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے والا اور دوسری طرف موٹر سائیکل میں ایک لیٹر پیٹرول ڈلوانے والا دیہاڑی دار بندہ برابر کا ٹیکس ادا کر رہے ہوتے ہیں. پیٹرولیم لیوی کا غریبوں پر فوری اور براہ راست اثر پڑتا ہے. پیٹرولیم لیوی میں بھی موجودہ حکومت ہر سال اضافہ کر رہی ہے. 2019-20ء میں 260 ارب روپے سے 73 فیصد اضافہ کر کے اس مد میں 450 ارب روپے حاصل کئے گئے تھے جبکہ موجودہ سال اس میں مزید 160 ارب روپے کا اضافہ کر کے 610 ارب روپے ٹیکس وصولی کا اندازہ لگایا گیا ہے.

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بہتر معیار زندگی گزارنے والے ملکوں میں پاکستان کا نمبر 154واں ہے. یو این ڈی پی کی اپریل 2021ء میں آنے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طاقتور لوگ قانون میں موجود خامیوں کو اپنے فوائد کے لیے استعمال کرتے ہیں. اقوام متحدہ کے تجزیئے کے مطابق پاکستان میں صرف مالی اور معاشی حوالے سے طاقتور لوگ مستفید نہیں ہو رہے بلکہ امیر اور طاقتور کی دنیا اور ہے اور عام پاکستانی اور کمزور کی دنیا اور ہے. طاقتور لوگ کمزور لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں.

    @mian_ihsaan

  • پاکستان امریکہ کی ضرورت   تحریر:رانا عزیر

    پاکستان امریکہ کی ضرورت تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں اسوقت گھمسان کی جنگ ہے، اس پر پاکستان میں یہ بیانیہ بھی پایا جارہا ہے افغانستان سے امریکی فوجوں کا نکلنے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یہاں شکست اور ذلیل ورسوا ہوکر نکلا ہے بلکہ وہ تو افغانستان سے بہت کچھ حاصل کرکے نکلا ہے۔ افغانستان سے امریکہ رات کو خوف کے اندھیروں میں بھاگی، اشرف غنی کو بھی ساتھ ہی اپنی جان کے لالے پڑ گئے، اور اشرف غنی اب یہ الزامات لگارہے ہیں کہ اب جو افغانستان میں اب بدترین خانہ جنگی ہورہی ہے اس کی وجہ امریکی فوجوں کا یہاں سے دم دبا کر بھاگنا ہے۔ لیکن اس کا براہ راست اثر پاکستان، ایران اورچین پر بھی ہے، اور پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہوگا۔ اور امریکہ کا سارا کھیل ہی یہی ہے کہ اب افغانستان خطرناک خانہ جنگی کی لپٹ مین چلا جائے اور لڑائی پاکستان کے بارڈر تک جائے اور پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو کھڑا کردیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ ایسا کرنا ہی کیوں چاہتا ہے؟
    1960 کی دہائی میں بھی داؤد خان کی حکومت میں پاکستان کے چمن بارڈر پر حملے کیے گئے اور 30 میل تک قبائلی پشتون افغان فورسز کے ساتھ ملکر 30 میل تک اندر بھی آچکے تھے۔ امریکہ کو فوجی اڈے دینے کے بعد جو پاکستان میں بربادی ہوئی وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ تو اس سے یہ لگ رہا ہے 30 اگست کے بعد پاکستان کے حالات بھی کروٹ لے سکتے ہیں اور ہمیں مغربی بارڈر سے بہت بڑی دہشتگردی کا خطرہ ہے۔طالبان سقوط کابل کے بہت قریب ہیں اور وہ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کررہے ہیں۔
    اس وقت پاکستان کے خفیہ ایجنسی کےسربراہ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر امریکہ میں بہت اہم مذاکرات کررہے ہیں اور امریکہ نےایک دفہ پھر سے ڈومور کا مطالبہ کیا ہے، وہ مطالبات یہ ہیں کہ پاکستان اپنی سرحد کو سیل نہ کرے، پاکستان غنی حکومت کا ساتھ دے, پاکستان حقانی نیٹورک کو خودختم کرے، پاکستان امریکہ کے مطابق اپنی فارن پالیسی بنائے، پاکستان سی پیک کو روک دے۔یہ وہ مطالبات ہیں اگر پاکستان ان میں سے ایک بھی مانتا ہے تو پاکستان اپنے پاؤں پرخودکلہاڑی مار بیٹھے گا, امریکہ ایک دفعہ پھر پاکستان کو اس کرائے کی جنگ میں اکیلا چھوڑنا چاہتا ہے۔ لیکن پاکستان نے یہ واضح کردیا ہے کہ اب پاکستان مشترکہ مفادات پر بات کرے گا اور امریکہ سے کوئی خفیہ معاہدہ نہیں کرے گا۔
    پاکستان کے اس عمل سے امریکی سفارتی حلقوں میں یلچل مچی ہوئی ہے، اور امریکی انتظامیہ کے مطابق جوبایڈن عمران خان کو کال کریں گے، اور ذرائع کے مطابق جوبایڈن عمران خان کو باضابط طور پر امریکہ دورے کی دعوت بھی دیں گے۔ امریکہ اس وقت پاکستان کی ضرورت محسوس کررہا ہے اور وہ پاکستان جانتا ہے کہ اس خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان کی اہمیت کتنی اہم ہے،دنیا کی کوئی طاقت اسے جھٹلا نہیں سکتی۔ چین بھی پوری طرح سے پاکستان کے سامنےاپنی بازوں کھولے ہوئے ہے اور سی پیک پر توجہ مرکوز کیے ہوئے۔ جبکہ بھارت بھی سی پیک پر حملوں کے لیے دہشتگرد تنظیموں کو فنڈنگ کررہا ہے۔ یہ خطہ خطرناک دوراہے پر ہے۔

    @RanaUzairSpeaks

  • کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    سردار عبدالقیوم نیازی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ کہا کہہ لوگ شیروانی اور واسکٹ سلاتے ہیں مجھے تو وزیز اعظم بننے کی خبر کاغزات نامزدگی والے دن صبح کو ہوئی اور مجھے فون آیا کہہ آپ وزیز اعظم کے لئے کاغزات جمع کروایں اگر بات کی جاۓ اپوزیشن کی تو اس نے تو تنقید کرنی ہی تھی جو بھی نام سامنے آتا اس پر تنقید اپوزیشن تو لازمی سی بات ہے کرے گی اگر تنویر الیاس صاحب کا نام آتا تو کہنا تھا اے ٹی ایم مشین کو وزیز اعظم بنا دیا اگر بیریسٹر سلطان کو بناتے تو کہنا تھا وہی پرانی بوتل میں نہی شراب اپوزیشن کا کام تو تنقید ہے اس نے تو کرنے ہی تھی اچنبے کی بات تو یہ ہے سردار عثمان بزادر کی طرح ہمارے میڈیا کے چند بڑے ناموں نے بھی حلف برادری کی تقریب کے فورا بعد سردار عبدالقیوم پر اپنی تنقید کے نشتر برسا دئیے کسی نے کہا کہہ یہ اولیاء اللہ اور درباروں عقیدت مند ہیں اس لئے ان کانام چنا گیا کسی نے کہا ان کانام ع سے شروع ہوتا ہے کسی نے ان کے حلقہ کے نمبر کا زکر کیا کسی نے پختون اور قبیلہ کا زکر کیا جس کو جو ملا اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی میرے خیال میں جو بلکل ہی زیادتی پر مبنی تنقید ہے ہمارے میڈیا کو معلوم ہونا کہہ سردار عبدالقیوم نے کشمیر کے حلقہ سے الیکشن لڑا اور وہ کامیاب ہوۓ اور پورے کشمیر کے کسی بھی حلقہ سے ایم ایل اے کا کامیاب امیدوار ویز اعظم بننے کا مستحق ہوتا ہے بے جا تنقید سے اس حلقہ کی عوام اور پورے کشمیر کی عوام میں اختلاف پیدا نہیں کرنا چائیے تھا میڈیا کا جو سوال بنتا ہے وہ ہے اگر سردار عبدلقیوم پر کوئی کرپشن کیسز ہے تو اسکو ہائی لائیٹ کرے وگرنہ بے جا تنقید غیر مناسب ہے
    سردار عبدلقیوم صاحب کے لیے بہت سے چیلنج ہوں گے اپوزیشن میں سابقہ وزیز اعظم اور اپنی پارٹی کے اندر بھی سابقہ وزیز اعظم اور بھی بہت سے نامور نام ہیں اب سردار عبدالقیوم کس طرح اپنی پارٹی اور اپوزیشن کو لے کر چلتے ہیں یہ بھی ان کا امتحان ہوگا اگر تو سردار عبدلقیوم کشمیر کے مسائل کو حل کرنے جن میں بلدیاتی نظام نہیں ہے بے روزگاری ہے اور عوام کے صحت و انصاف بچوں کی پڑھائی کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو اپوزیشن اور میڈیا دونوں کے منہ ہی کشمیر کی عوام بند کر دے گی اگر سردار عبدالقیوم اپنے کپتان عمران خان کے ویثرن کو آگے لے کر چلتے ہیں تو پھر اپنے کپتان کی مکمل حمایت ان کو حاصل ہوگی اور وہ اپنی کرسی پر مضبوطی سے کام کر سکیں گے جو بات زبان ذدہ عام ہے ان کے بارے میں وہ تو بہت اچھی ہے کہہ سردار عبدالقیوم انتہائی نفیس اور سادہ طبعیت انسان ہیں وہ اپوزیشن اور پارٹی کو بہت اچھے سے ڈیل کریں گے اگر اس میں بھی کامیابھی ملتی ہے تو آئندہ آنے والے سالوں میں کشمیر میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک بڑھے گا اور حقیقی تبدیلی جس کا تحریک انصاف کے چئیر مین ویز اعظم پاکستان جناب عمران خان نے دیکھا ہے وہ پورا ہوگا ان شاءاللہ
    ہماری دعا ہے سردار عبدالقیوم صاحب کو اللہ پاک حقیقی معنوں میں ہمارے کشمیری عوام کے حقوق کی آواز ملک کے اندر بھی اور بیرون ملک بھی اٹھانے کی توفیق عطا فرماۓ اور ساتھ میں کشمیر کی عوام کے مسائل کو بھی حل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین۔ ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • اولمپکس 2021 ،”شوخا”کون؟، مودی حکومت یا شاہ رخ خان؟۔ تحریر : احمد علی عباسی

    اولمپکس 2021 ،”شوخا”کون؟، مودی حکومت یا شاہ رخ خان؟۔ تحریر : احمد علی عباسی

    بھارت کے ٹویٹر صارفین ہمیشہ سے ہی دو گروہوں میں تقسیم رہے ہیں ، ایک طبقہ وہ ہے جس کا کام بس مودی حکومت کی پالیسیز کا دفاع ہے،چاہے وہ بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہی کیوں نا ہوں ۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جس نے اپنی ذندگی کا مقصد ہندو شرپسندی کے خلاف جد و جہد بنا رکھا ہے ۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل، سرکار کے خلاف بولنے والے ہر انسان کا جینا حرام کیے رکھتے ہیں اور چاہے وہ انسان مودی کی” گستاخی "کرکے خود بھی بھول چکا ہو مگر یہ آئی ٹی سیل والے ہرگز نہیں بھولتے اور نفرت پھیلانے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

    ویسے تو ذندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کے نشانے پر ہوتے ہیں مگر اداکاروں سے تو شاید ان کی پیدائشی دشمنی ہے ۔
    ہوا کچھ یوں کہ شاہ رخ خان نے بھارتی خواتین کی ہاکی ٹیم کی سپورٹ میں کی گئی ان کے کوچ "سجورڈ مرجنے” کے ٹویٹ کا رپلائی اپنی جانب سے چک دے انڈیا میں نبھائے جانے کردار”کبیر خان” کے انداز میں دیا ۔ چک دے انڈیا ہاکی کے بارے بنائی جانے والی فلم تھی جو 2007 میں ریلیز ہوئی ، بھارت سمیت دنیا بھر میں اس کو خوب پذیرائی ملی ،شاہ رخ نے اس فلم میں بھارتی خواتین کی ہاکی ٹیم کے کوچ کا کردار ادا کیا تھا اور ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا تھا ۔

    سارا بھارت اولمپکس میں بھارت کے کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی پر خوش تھا مگر پھر بھی شاید اسی خوشی کا اظہار اگر مودی کا کوئی ناقد یا مسلمان کرے تو بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور ہندتوا کے لوگوں کے مطابق وہ رنگ میں بھنگ ڈال دیتا ہے ۔ شاہ رخ نے تو صرف بھارتی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ہی کیا تھا جب کوچ نے اپنی فیملی کو ٹویٹ میں پیغام دیا کے "میں معذرت خواہ ہوں ، کچھ اور دیر تک آوں گا” ساتھ اپنی ٹیم کے ساتھ اپنی سیلفی بھی پوسٹ کی ۔ شاہ رخ نے رپلائی میں کہا” ہاں ہاں کوئی مسئلہ نہیں بس آتے ہوئے تھوڑا سونا(میڈل) لیتے آئیے گا،ایک ارب کی فیملی کے لیے ،اس دفعہ تو دھنتیرس(ہندو تہوار) بھی دو نومبر کو ہے ۔ ۔ ۔ ۔ منجانب : سابقہ کوچ کبیر خان”.

    اس رپلائی کے بعد تو جیسے ٹویٹر کے”دانشوروں”کو آگ ہی لگ گئی ۔ بھارتی کھلاڑی جتنے بھی میڈلز جیت کر آتے ہیں ،بی جے پی کے سیاست دان انہیں ائیر پورٹ پر ہی "ہائی جیک” کرکے اپنی نمائشی تقریبوں میں لے جاتے ہیں ،اپنی اور مودی کی شان میں قصیدے پڑھواتے ہیں ۔

    اس کے بعد بڑے بڑے پوسٹرز بنائے جاتے ہیں جن پر بیچارے پلئیرز کی تصویر تو کجا ان کا نام بھی اس قدر حقیر لکھا جاتا ہے کے چشمہ لگا کر بھی مشکل سے نظر آئے مگر مودی کی تصویر اس قدر بڑی لگائی جاتی ہے کہ ایسا محسوس ہونا لگتا ہے جیسے اولمپکس میں میڈل اس پلئیر نے نہیں بلکہ مودی نے جیتا ہو ۔ اس پر نا ہی کسی انتہا پسند کو مسئلہ ہوتا ہے اور نا ہی "دیش بھگت” کا ایمان جاگتا ہے ۔ بی جے پی کے طرفدار ڈیجیٹل میڈیا چینل "او پی انڈیا” نے بھی شاہ رخ خان کو "شوخا "قرار دیا،اس منافقت پر صارفین نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور شاہ رخ خان کو بھی خوب سپورٹ کیا ۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آخر کب تک ٹویٹر نفرت انگیز مواد کو اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دے گا کیونکہ یہ صرف بھارتی مسلمانوں کہ لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے مسئلہ ہے ۔