Baaghi TV

Category: سیاست

  • کرونا وائرس،حکومت اور ماہرین تحریر:محمد وقاص شریف

    کرونا وائرس،حکومت اور ماہرین تحریر:محمد وقاص شریف

    زبان زد عام میں کرونا صرف چند ماہ کی بیماری ہے اس کا ثبوت چائنا کی شکل میں موجود ہے جو اس کا پہلا شکار تھا چائنا میں کرونا دسمبر 2019 میں آیا اور مارچ2020 میں دم توڑ گیا جبکہ باقیات کا خاتمہ تیزی سے جاری ہے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس کی عمر تقریبا اتنی ہی ہے جو یہ ٹائم گزارتا جا رہا ہے پابندیاں پہلے نرم پھر ختم کرتا جا رہا ہے پاکستان میں بھی اس کے خاتمے کا وقت آیا چاہتا ہے ماہرین کے مطابق 25 جون سے اس کے خاتمے کی ابتداء ہو چکی ہے اور اللہ نے چاہا تو اگست کے آخری یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں یہ منظر سے غائب ہو جائے گا پاکستان میں اس کے زیادہ قیام کی وجہ ناقص منصوبہ بندی کمزور فیصلے انڈرسٹینڈنگ کا فقدان آپس کی کھینچا تانی سیاست بازی اور عوامی غیر سنجیدگی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو جون میں اس کا خاتمہ یقینی تھا مگر اب بات نہ صرف یہ کرونا کی اگست میں آ گئی ہے بلکہ اس حکومت کے لیے بھی اگست نہایت ہی مشکل نظر آرہا ہے اور ستاروں کی چال یہ بتا رہی ہے کہ اگست کے آ خر میں کرونا کے ساتھ ساتھ حکومت کے دن بھی گنے جا چکے ہیں ماہرین نجوم کے مطابق اگست کے اخر میں حکومت کے لئے مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا ہو جائے گا جس کے بوجھ تلے یہ دب جائے گی غیب کا علم اللہ پاک ہی جانتا ہے لیکن ستاروں کی چال حکومت کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے اس کا اندازہ ابھی سے ہونا شروع ہوگیا ہے بیساکھیوں کے سہارے کھڑی اس حکومت کی لڑکھڑاہٹ صاف نظر آ رہی ہے اتحادی کھسکتے نظر آ رہے ہیں۔ وزرا گتھم گتھا ہیں تھپکی والے ہاتھ بھی کمزور ہو رہے ہیں تحریک انصاف میں توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو چکا ہے پنچھی اپنے پر پھڑپھڑا رہے ہیں عملی طور پر حکومت کی گرفت فالج زدہ ہوچکی ہے کارکردگی کا تصور تک نہیں۔ اتحادی سخت رنجیدہ اور اپنے فیصلے پر شرمسار ہیں لگتا ہے کرونا اور حکومت اب چند دن کے مہمان ہیں۔ پوری دنیا کے تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں۔ کہ تحریک انصاف کی حکومت نے احتساب کے عمل کو غیر ضروری طور پر طوالت دی اپنی پوری انرجی اس عمل پر صرف کی۔ مگر دو سالوں میں احتساب انتقام کے طور پر تو کامیاب رہا مگر حکومت کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ غیر ضروری طور پر احتساب کے عمل کو اوڑھنا بچھونا بنایا گیا سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا وفاقی وزراء سندھ حکومت گرانے کے لیے سلطان راہی سے بھی زیادہ بڑھکیں مارتے رہے۔ اپوزیشن کا جو بندہ بولتا اگلے دن کٹھ پُتلی نیب کی پکڑ میں آ جاتا۔ احتساب کے نام پر پوری حکومتی توانائی صرف کر دی گئی مگر تھوڑے ہی عرصے میں اپوزیشن کے سارے لوگ تو جیلوں سے باہر آ گئے مگر پاکستان کے 22 کروڑ عوام غربت۔ بے روزگاری۔ بھوک ننگ۔ عدم تحفظ اور مہنگائی کی کال کوٹھری میں چلے گئے۔ یہ احساس بڑی تیزی سے ذہنوں کا حصہ بن رہا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں اسی لئے کہا جاتا ہے۔ کسی بھی کام کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے اپوزیشن کو ختم کرنے کی حکومتی کوشش نے خود حکومت کو خاتمے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ تحریک انصاف اپنی ہی ناانصافیوں کا شکار ہو چکی ہے نئے بندے کی تلاش جاری ہے بات چند ہفتوں کی ہے
    @joinwsharif

  • سی پیک ایک گیم چینجر   تحریر: ناہید تبسّم

    سی پیک ایک گیم چینجر تحریر: ناہید تبسّم

    سی پیک چین، پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطوں کا ایک فریم ورک ہے_سی پیک سے پاکستان اور چین کے علاوہ ایران، افغانستان، ہندوستان، وسطی ایشیائی خطے پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہونگے _
    سی پیک پراجیکٹ بحیرہ عرب پر واقع پاکستان کے جنوبی گوادر بندرگاہ کو چین کے مغربی سنکیانگ بندرگاہ سے شاہراہوں، ریلوےاور پائیپ لائنوں کے جال سےجوڑ دے گا_جو بیجنگ اورمشرقی وسطیٰ کے درمیان رابطے کو جوڑ دے گا_
    پاکستان اور چین اس اقتصادی راہداری کی تعمیر کے زریعے دو طرفہ سرمایہ کاری، معاشی اور تجارت، رسد اور لوگوں کے لیے علاقائی رابطوں کو فروغ ملے گا-
    چین، پاکستان اکنامک کوریڈور عالمی سطح پر دنیا میں معاشی ترقی کی طرف سفر ہے _ جو دنیا کے لیے امن، معیشت کی ترقی کے ساتھ مستقبل کے بہتری کا ضامن ہے _
    سی پیک سے جنوبی ایشیاء کو بازاروں اور منڈیوں تک رسائی اور بڑی مالی اعانت کا موقع فراہم کر ے گا جس کی وجہ سے پاکستان اور چین میں صنعتی ترقی اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی قابل ذکر ہےاس سے لوگوں کو ملازمتوں کی فرا ہمی کے لئیے روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے _
    سی پیک کامیابی کے منازل طے کرتا اگے کی جانب رواں دواں ہے اور اسکا پہلا مرحلہ پایہ تکمیل تک پہچ چکا ہے جس میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کواہم معاشی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا-
    سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے جس میں صنعتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے اور عنقریب اس سےہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا اورساتھ ہی معاشرتی ترقی، زرعی تعاون، صحت کے شعبے، پانی کی فراہمی اور سماجی شعبے پر بھی توجہ دی جارہی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے-
    تیسرے مر حلے میں باضابطہ تعلیم اور تکنیکی تربیت کے زریعے انسانی سرمائے کی ترقی کو ہموار کیا جانا ہے خاص کر محروم اضلاع میں چین پاکستان اقتصادی راہداری امن، معیشت کی بہتری اور ترقی کے ساتھ روشن پاکستان کی جانب سفر ہے جس سے خطے کے حالات میں بہتری آیے گی-
    سی پیک کے سابقہ چئیرمین عاصم باجوہ جن کی انتھک محنت اورکاوشوں کی وجہ سے سی پیک تکمیل کے مراحل تیزی سے طے کررہا ہے اور اب خالد منصور نے اس کا بیڑہ اٹھایا ہے جو سی پیک کے موجودہ چیئرمین مقرر ہوئے ہیں ان کی کاوشیں بھی رنگ لائیں گی اور تکمیل کے مراحل طے کرتے ہوئے انشاء اللہ پاکستان کی خوشحالی، استحکام ترقی کے لئے سی پیک نیا باب رقم کرے گا –

    @NahdT5

  • ترقی و خوشحالی کا ضامن بلدیاتی نظام تحریر؛  ثمینہ اخلاق

    ترقی و خوشحالی کا ضامن بلدیاتی نظام تحریر؛ ثمینہ اخلاق

    کسی بھی ریاست کا ریاستی نظام بنیادی طور پر صدارتی یا پارلیمانی ھوتا ھے۔ صدارتی ڈھانچے میں تمام تر اختیارات صدر کے پاس ھوتے ھیں گو کہ سینیٹ کا عمل دخل بھی ھوتا ھے لیکن اخری و خصوصی اختیارات پھر بھی صدر کے پاس ھوتے ھیں جنھیں صدارتی نظام میں سینیٹ ختم نھیں کر سکتی جبکہ سب سے بڑی ریاستی عدالت بھی اسکی وضاحت تو کر سکتی ھے لیکن ختم نھیں۔

    اسی طرح دوسرا ریاستی نظام پارلیمانی ھوتا ھے جس میں ریاست کا سربراہ وزیراعظم ھوتا ھے جبکہ ساتھ پارلیمنٹ لازم حصہ ھوتی ھے۔ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم بطور قائد ایوان پارلیمنٹ میں حکومتی جماعتوں کی نمائندگی کرتا ھے اور ر طرح کا بل پارلیمنٹ سے پاس کروایا جاتا ھے۔ گو کہ اس میں بھی وزیراعظم صوابدیدی اختیارات رکھتا ھے لیکن پارلیمنٹ مکمل اختیار رکھتی ھے کہ وزیراعظم کے خصوصی اختیارات سے بنائے کسی بھی قانون کو کالعدم کر سکتی ھے۔

    صدارتی و پارلیمانی نظام ریاستی امور کے نگران ھوتے ھیں عمومی طور پر داخلہ، خارجہ، قانون و انصاف، پارلیمنٹ و سینیٹ کے ذریعے آئینی تبدیلیاں شامل ھوتی ھیں جبکہ اس سب کے ساتھ ایک اور متوازی نظام حکومت بھی ھوتا ھے جسے بلدیاتی نظام حکومت کہتے ھیں۔ بلدیاتی نظام حکومت ریاستی امور نھیں دیکھتا بلکہ ریاست کے اندر سماج کے بنیادی اور ترقیاتی امور کا جائزہ لیتا ھے۔

    بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ کا نظام صدارتی و پارلیمانی نظام کے ھم پلہ کبھی بھی نھیں ھو سکتا اور نہ ھی صدارتی و پارلیمانی نظام کے تحت چلنے والے بنیادی امور کو سنبھال سکتا ھے لیکن صدارتی و پارلیمانی نظام کے تحت چلنے والے ریاستی ڈھانچے کی ترقی کا سبب ضرور بنتا ھے۔

    بلدیاتی نظام کو لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی اسی لئے کہا جاتا ھے کہ اس نظام کے تحت ترقی کی شرح پسماندہ ترین علاقوں سے لیکر ترقی یافتہ میٹروپولیٹن شہروں میں برابر ھوتی ھے۔

    بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم یونین کونسل لیول سے شروع ھو کر چئیرمین لیول سے ھوتا ھو ضلعی یا ڈسٹرکٹ ناظم پر آ کر مکمل ھو جاتا ھے جس کے تحت حکومتی اختیارات کا بالکل نچلی سطح تک منتقل کرنا ھے جس میں مقامی علاقے کے معززین کو علاقے کی ترقی و بنیادی وسائل کیلئے نامزد کمیٹی میں بطور نگران کام کرتے ھیں جس میں سیاسی سے زیادہ وھاں کے مقامی لوگوں کے ذریعے مقامی لوگوں کیلئے معاشی استحکام کی طرف بڑھنا ھوتا ھے۔

    کسی بھی ریاست کا ترقیاتی ڈھانچہ وھاں کے بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کا مرھون منت ھوتا ھے اس لئے بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ ایکٹ جس قدر مضبوط ھو گا مقامی سطح پر ترقیاتی امور کی شرح اتنی ھی تیز ھو گی جسکی وجہ سے صدارتی و پارلیمانی ڈھانچہ اندرونی طور پر اتنا ھی مضبوط ھو گا۔

    ترقی یافتہ ممالک کو سامنے رکھا جائے تو اس میں کوئی شک نھیں کہ وھاں کے مضبوط بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم نے حکومتی اختیارات عام عوام تک نچلی سطح میں منتقل تو کئے ھی ھیں لیکن ساتھ میں صدارتی و پارلیمانی ڈھانچے کو بھی مضبوط تر کیا ھے۔

    بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم ھی واحد نظام ھے جو سیاستدانوں کی نرسری کہلاتا ھے جس کی وجہ سے صدارتی و پارلیمانی نظام کے مرکزی انور تک پہنچنے والا شخص جھاں بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت مقامی سماج کی خدمت کرتا تھا ویسے ھی اب حکومتی امور میں اسقدر دسترس رکھتا ھے کہ اگے چل کر صدارتی و پارلیمانی نظام میں بھی ریاستی امور کو بخوبی سر انجام دیتا ھے۔

    عوام کی بنیادی ضروریات خوراک، صحت، تعلیم، امن و امان اور بہترین وسائل کے ذرائع ھیں جو صرف اور صرف وھاں پر موجود بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت ھی پورے ھو سکتے ھیں کیونکہ دور دراز کے رھنے والے ریاستی مرکز سے دور علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی ضروریات پوری ھی اسی بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت ھو رھی ھوتی ھیں اور ان علاقوں کے لوگوں کی رسائی بھی اپنے بلدیاتی نمائندوں تک ھی ھوتی ھے۔

    اگر ھم موجودہ بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کا بغور جائزہ لیں تو اس میں ذاتی مفاد کے حصول سے لیکر ذاتی سکون کے حصول تک ھی زور لگایا گیا ھے جسکی وجہ سے وسائل کا درست استعمال نھیں ھو سکا اور مقامی لوگوں کیلئے اپنے بلدیاتی نمائندوں تک رسائی ممکن نھیں رھی اور وہ دور دراز علاقے آج بھی بے بسی کی بھیانک تصویر بنے نظر آتے ھیں جھاں سماج کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وسائل بھی دستیاب نھیں ھوتے جسکی وجہ سے ان علاقوں کی محرومیوں میں اضافہ ھوتا جاتا ھے جو آگے چل کر صدارتی و پارلیمانی ریاستی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیتا ھے جسکا نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ سب سے پہلے ریاست میں داخلی انتشار کے مسائل جنم لیتے ھیں جو بعد میں بڑی عسکری تنظیموں کا روپ دھار کر ریاستی اداروں کو چیلنج کرنا شروع ھو جاتے ھیں۔

    پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن سے قبل جھاں متعدد وعدے کئے تھے ان میں ایک وعدہ بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کی ماندہ خامیوں کو دور کر کے دوبارہ سے نافظ العمل کرنا بھی تھا کیونکہ صدارتی و پارلیمانی ڈھانچے میں بیٹھے منتخب یا سلیکٹ افراد کا کام ریاست کیلئے قانون سازی کرنا ھے جبکہ مقامی سطح تک ترقیاتی امور کو لیکر چلنا بلدیاتی یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کا کام ھے۔

    اس کیلئے پاکستان تحریک انصاف نے پرانے بلدیاتی نظام کو ختم کر کے نئی قانون سازی کے ذریعے نئے بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ کسی مصلحت کے تحت آج تک وفاء نھیں ھو سکا جس کا سب سے زیادہ نقصان مقامی لوگوں کو ھوا کیونکہ پرانے بلدیاتی نظام کو ختم کر کے تمام مقامی منتخب نمائندوں کو معزول کر دیا گیا تھا اور نئے بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کو نافظ بھی نھیں کیا جا سکا۔
    اس حوالے سے ایک حد تک دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی دو رائے نھیں کہ یہ ایک بہت توجہ طلب کام ھے جس میں بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ھے جس میں الیکشن میں حصہ لینے والے افراد کی تعلیمی قابلیت سے لیکر ان کی ذھنی صلاحیت تک کے امور کو جانچنا شامل ھے تا کہ کل کو منتخب ھونے والا شخص اتنی اھلیت تو رکھتا ھو کہ سرکاری دستاویزات سے لیکر عوامی مسائل کو سن کر انھیں قانونی طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ھو۔

    لیکن سوال یہ ھے کہ بلدیاتی نظام یا لوکل گورنمنٹ سسٹم کب تک نافظ ھو گا کب تک اسکی نوک پلک سنوار لی جائے گی کب تک اس نظام سے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچنا شروع ھو گا کب تک دور دراز کے پسماندہ علاقے اس سے استفادہ حاصل کرنا شروع ھوں گے۔
    یہ وہ سوالات ھیں جو آج بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نھیں اور پوری قوم اس چات کی امید رکھتی ھے کہ جلد از جلد بلدیاتی نظام یا پارلیمانی سسٹم کو نافظ کر کے اختیارات مقامی سطح تک منتقل کئے جائیں گے تا کہ دو نھیں ایک پاکستان کے ساتھ ساتھ طبقاتی نھیں بلکہ سب کا یکساں پاکستان کا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔

    @SmPTI31

  • ن ش م اور لیگی ووٹر تحریر : فیصل خالد

    ن ش م اور لیگی ووٹر تحریر : فیصل خالد

    پینتیس برس تک اقتدار کی باریاں سمیٹنے والی ن لیگی قیادت شریف خاندان کو ملک کی ترقی کیلئے ابھی بھی بلا شرکت غیرے اقتدار ملنے کے خواب آتے ہیں۔ تین بار کے وزیراعظم نواز شریف اور پانچ بار کے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف حصول اقتدار کی اس کشمکش میں بظاہر بوکھلائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ برسوں اقتدار میں رہنے والے برادران اپنی اولاد کی خواہشوں کے آگے بھی مجبور نظر آرہے ہیں۔ اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ن لیگ میں شریکے کی کھچڑی پک رہی ہے۔برادران اپنے تئیں اقتدار اپنے سیاسی جانشینوں کو سونپنا چاہتے ہیں۔ اور اسوقت دونوں بھائیوں کی اولاد میں ایک کی بیٹی اور دوسرے کا بیٹا عملی سیاست میں ہے۔ عمومی رائے ہے کہ نواز شریف کو اپنی بیٹی میں ملک کی دوسری خاتون وزیراعظم دکھائی دیتی ہے جبکہ شہباز شریف کا بیٹا خود نواز شریف بننا چاہتا ہے۔ پارٹی کے اندر چل رہے اس کھیل کے بعد برادران کے
    مفاہمت اور مزاحمت کے سیاسی بیانیے ہیں۔ غیر سنجیدہ لوگوں کے نزدیک یہ معاملہ ن لیگ کے بٹوارے پر منتج ہوگا جبکہ سنجیدہ حلقے اسے بھی سیاسی چالبازیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ بات کرتے ہیں برادر اکبر
    میاں نواز شریف کی تو اقتدار سے باہر آنے کے بعد وطن عزیز میں جتنا عرصہ خاموش رہے۔ خاموش رہ کر بیماریوں کا گھر دکھائی دینے لگے۔ ان کے چاہنے والوں کی پریشانی روز بروز بڑھنے لگی کہ ان کے مسیحا کو آخر کیا غم لاحق ہوگیا ہے۔ خدانخواستہ یہ سایہ ان کے سروں سے اٹھ گیا تو ملک کو ، اس قوم کو کون سنبھالا دے گا۔
    ٹی وی سکرینوں پر دکھائے جانے والے میاں جی کی حالت قابل رحم نظر آنے لگی ان کے پلیٹلیٹس کو لیکر میڈیا نے دن رات میاں نواز شریف کی پتلی حالت پر حکومت وقت کو لتاڑنا شروع کردیا۔ ڈاکٹر نے میاں صاحب کی سانسیں گنوانا شروع کردیں۔نوبت یہاں تک آگئی کہ بالآخر وطن واپسی کا 50روپے والا بیان حلفی اسٹامپ پیپر دیکر میاں صاحب اپنی لندن والی آرامگاہ کو سدھار گئے۔ ملکی سیاست میں میاں نواز شریف کی بیٹی مریم بی بی کی دبنگ انٹری ہوئی۔ بیماری کی وجہ سے جو الفاظ ادا کرنے کیلئے والد کی زبان لڑکھڑانے لگی تھی وہ بیٹی مریم زوجہ صفدر کی زبان سے ادا ہونے لگے سیاسی جلسے جلوسوں میں ملکی اداروں اور من پسند شخصیات کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ ادھر پر فضا مقام لندن کی آب و ہوا کے اثر سے میاں نواز شریف دھیرے درمے سخنے صحت یاب ہوتے گئے تو ان کے غصے کا پارہ بھی بتدریج بلند ہونا شروع ہوگیا۔ پاکستان میں لاغر سا نظر آنے والا شیر ٹویٹر کے علاوہ ویڈیو پیغامات کے ذریعے گرجنا برسنا شروع ہوگیا۔ نونہالان وطن اپنے چاہنے والوں کو اداروں سے نفرت ،حقارت، مر مٹنے اور ڈٹ جانے کی تبلیغ کی جانے لگی۔ بیرون ملک اپنی اولاد کیساتھ بیٹھا ہوا شیر مزاحمت کے بیانیے سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو للکارتا اور اسی سے اپنے حامیوں کو جوش دلواتا ہے جبکہ ن لیگ کا مرد آہن جونیئر شریف مفاہمت کے بیانیے سے ڈنگ ٹپاؤ کام نکلواؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو گیا۔اعلی قیادت کے اس سارے کھیل میں آزاد کشمیر کے انتخابات بھی ہوگئے۔ برسر اقتدار جماعت واضح سیٹیں حاصل کر کے کامیاب ٹھہری۔ مگر مفاہمت اور مزاحمت کا تماشہ بدستور لگا ہوا ہے۔
    برادران کے اس سارے سیاسی کھیل تماشہ میں ان کے دیرینہ رفیق اور حامی کچھ ڈانواں ڈول دکھائی دے رہے ہیں جنہیں ہر نئے دن نئی نئی وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔ جوشیلے حامیوں کا حال تو پتلا ہوا جاتا ہے کہ وہ کس چکر میں بلکہ گھن چکر میں پھنس گئے ہیں بیشتر کو تو حلقہ احباب میں منہ چھپانے کیلئے بھی ماسک کی ضرورت درپیش آرہی ہے۔ ن لیگ کے حامی مزاحمت والا بیانیہ لیکر چلتے ہیں تو خود کو شیر گردانتے ہیں دوسری جانب جب مفاہمت کے بیانیے کی باری آتی ہے تو شیر بیمار ہوکر آئیں بائیں شائیں کرنے لگ جاتا ہے۔ مریم بی بی کی مزاحمتی راگنیاں بھی چچا کی مفاہمتی بانسریا میں دبتی جارہی ہیں۔ ن کے ووٹر اور سپورٹر ایسے حالات میں خود پریشان ہیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کے آخر کہاں جائیں؟؟؟ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ ان کے حامی بھی ن میں سے کبھی ش تو کبھی میم بلکہ میم میخ نکالنے کا عمل کرنے لگتے ہیں۔اور ان ووٹروں کی حالت زار دیکھ کر اب یہی اندازہ ہوتا ہے۔
    خدا ہی ملا نہ وصال صنم
    ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔
    ‎Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    گزرتے وقت کے ساتھ ماد روطن میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خواہ وہ چوری ڈکیتی ہو، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی یا پھر لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں فروخت کرنے کا مکروہ دھندہ۔ جنسی زیادتی کے علاوہ منشیات فروشی سے نوجوان نسل کو اس منحوس لت میں مبتلا کروا کر ان کی وڈیوزکے ذریعے قابل اعتراض بنا کر انہیں بلیک میل بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جو نہ صرف گھناؤنہ اقدام ہے بلکہ خوفناک بھی ہے۔ اس لحاظ سے تمام صوبے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ حکومت کا اپنا کردار ہے جو عوام کو سہولیات پہنچانے کی بجائے اپنی پوری توجہ اپوزیشن پر الزام تراشی پر ہی رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ دوسری طرف تمام اپوزیشن جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ سب کے سب اپنا ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کاقیمتی وقت برباد کر کے عوام کو در بدر کرا رہی ہیں۔ ملک نہ ہوا بلکہ جنجال پورہ بن چکا ہے۔ آخر حکومت اور حکمراں کب سنجیدہ ہوں گے اوراپنی مظلوم عوام کو تحفظ فراہم کرائیں گے۔ تین برسوں سے یہی تماشاجاری ہے۔ شہری اس صورت حال سے بہت پریشان اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پالیسی میکر بھی اس اہم باریکیوں کی جانب توجہ دیں جن پر بار بار ایک پیج پر ہونے کا واویلہ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے اس کے اقتدار کے تین برس کم نہیں ہوتے۔ کرنے والوں کے لیے پندرہ دن بھی بہت ہوتے ہیں مگر اس کے لیے قوت ارادی کا فعال ہونا ضروری ہے۔ تحریک انصاف اب اپنے انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ قوم کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ عوام کو مایوس نہ کیا جائے۔!! ٭

  • یوم استحصال کشمیر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال  تحریر:  عمر ہمدانی

    یوم استحصال کشمیر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال تحریر: عمر ہمدانی

    آج وادی کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 732 دن یعنی دو سال مکمل ہونے جارہے ہیں،آج پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے مکار مودی گورنمنٹ نے کشمیریوں کو ایک زندہ لاش کی مانند سمجھ رکھا ہے، مودی سرکار نے آرٹیکل 370 ختم کر کے مظلوم کشمیریوں کے حق خودرادیت پر حملہ کیاآخر کیوں؟کس بنیاد پر مظلوم کشمیریوں کے حق خودرادیت پر حملہ کیا کیا کسی قوم سے اس کے حق چھین لینا ان کو قیدو بند کر دینا اتنا آسان کام ہے؟ہم کب تک خاموش ہاتھ پہ ہاتھ دھرے آنکھوں پر پٹیاں باندھے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے غیرت مند اور بہادر کشمیری قوم نے اپنے حق خودرادیت کیلئے کیا کچھ نہیں کیا؟ لاکھوں ماؤں نے اپنے لال اس آزادی کی تحریک پر قربان کر دیئے،بچوں نے اپنی آنکھوں کی بینائی تک کھو دی،کئی بیویوں نے اپنے سرتاج اس تحریک پر قربان کر دیئے اور آج بھی غیور کشمیری قوم بھارت کے ظلم و بربریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے کھیلی گئی خون کی ہولی پر انسانیت کانپ اٹھی لیکن سلام کشمیر کے ان نوجوانوں پر جنہوں نے پیلٹ گنز اور بکتر بند گاڑیوں کا مقابلہ پتھروں سے کیا تاجروں نے اپنی تجارت اس تحریک آزادی پر قربان کر دی،طالب علموں نے اپنی ڈگریاں اس تحریک آزادی پر قربان کر دی اور سلام کشمیر کی ان ماؤں بہنوں پر جنہوں نے حجاب میں رہ کر بھارت کے ظلم و بربریت کا مقابلہ پتھروں سے کیامسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ان پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا پاکستان بھی تسلسل سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا آرہا ہے سال 2019 میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنایا تھامودی سرکار نے 5 اگست 2019 کو کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر کے ان کی خصوصی حیثیت کو ختم کیابھارت نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کشمیر میں بسانے کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا جس پر پوری دنیا سے کشمیریوں کے حق خودرادیت کیلئے آوازیں اٹھ رہی ہیں،بھارت کے ان ناپاک عزائم سے یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت میں اضافہ ہواہے میری گزارش ہے گورنمنٹ آف پاکستان سے کہ یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں اور اس دن کو قومی سطح پر یوم استحصال کشمیر کے طوپر منایا جائے، سرکاری و نجی سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جائے عوام گھروں سے باہر نکلیں اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اپنا کردار ادا کریں نوجوانان پاکستان اس تحریک کا حصہ بنیں سوشل میڈیا صارفین بھی بھارت کے وادی کشمیر میں ظلم و بربریت کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • کپتان کا پاکستان تحریر:  فرزانہ شریف

    کپتان کا پاکستان تحریر: فرزانہ شریف

    عمران خان کے راستے کے سارے کانٹے دور هورهے هیں لیکن ٹف ٹائم پهر بهی ملے گا
    مرا هاتهی بهی سوا لاکھ کا هوتا هے پی پی پی تقریبا مر چکی نون لیگ آخری دم پر ہے میاں صاحب دوسرے الطاف حسین بن چکے ہیں لندن سے دہائیاں دے رہے ہیں "مجھے کیوں نکالا "اور بیٹی کشمیر الیکشن کی ہار کے بعد قومے میں جاچکی ہے میدان بالکل خالی ہے اب خان صاحب کے پاس سنہری موقع ہے اس قوم کی تقدیر بدلنے کا اور اللہ کے حکم سے اب وہ وقت دور نہیں جب ہم اوورسیز پاکستانی اپنے سبز پاسپورٹ پر فخر کیا کریں گے لوگوں کو فخر سے بتایا کریں گے کہ ہم عمران خان کے پاکستان کے شہری ہیں
    اللہ عمران خان کے ارادوں میں مزید پختگی عطا کرے ، اور ملک کی باگ ڈور اسی طرح اگلے پندرہ سالوں تک سنبھالے رکھنے کی اہلیت پیدا کیے رکھے اس ملک کو اب سچ میں کسی دیانتدار حکمران کی ضرورت تھی ، نوجوان نسل کے نمائندے کو موقع دینے میں کوئی حرج نہیں ،،لیکن سینئیر لوگوں کو ذیادہ موقع دینا چاہئیے ملک کی خدمت کا اس لیے کہ ان کا تجربہ ذیادہ وسیع ہے پیپلز پارٹی نون لیگ کی طرح نہیں کہ جن کے پارٹی ورکرز کو سیاست میں 40۔40 سال ہوچکے اور کل کے بچوں کے پیچھے ہاتھ باندھ کے کھڑے ہیں ۔ایک بات تو اب طے ہے کہ
    خان صاحب نے اس قوم کا جگا دیا ہے کہ تمہارے خون پسنے کی کمائی پر کیسے ڈاکہ ڈالا ہے ان چور کرپٹ سیاستدانوں نے اور الحمدللہ
    قوم.میں اب اتنا شعور آگیا ہے کہ اب کوئی بھی کرپٹ سیاست دان عزت کی زندگی نہیں جی سکے گا
    اس ملک کو تنزلی سے ترقی کی طرف لےجانا "شائد عمران خان ” کے ہاتھوں ہی لکھا ہو ا تھا ،سو اللہ نے خان صاحب کو چن لیا تھا قوم کی خدمت کے لیے خان صاحب کی اپنی قوم سے وفاداری پر کوئی بھی محب وطن کبھی شک کر بھی نہیں سکتاجس طرح ایک باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ میرا بیٹا بڑا آدمی بن جائے، ٹھیک اس طرح عمران خان کی بھی یہی کوشش ہے کہ پاکستانی قوم ایک عظیم قوم بن جائے صرف ایک اور دور حکومت خان صاحب کو مل گیا تو دنیا میں پاکستانی قوم کا ایک نام ہوگا،اورعمران خان پاکستانی قوم کو پوری دنیا کے قوموں کے مقابلے میں کھڑا کردے گا، ” امید پر دنیا قائم ہے ” سو
    ” پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ ”
    اللہ کا ساتھ رہا تو خان صاحب اگلے تین سالوں میں ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کروا کر چھوڑیں گے لوگ سچ میں باہر سے نوکریاں کرنے پاکستان آیا کریں گے ان شاءاللہ
    یہ میرا دعوی ہے۔ ♥️♥️♥️✌️✌️✌️

    @Farzana99587398

  • فیفتھ جنریشن وارفیئر میں سوشل میڈیا اور ہمارا کردار  تحریر: سیرت فاطمہ

    فیفتھ جنریشن وارفیئر میں سوشل میڈیا اور ہمارا کردار تحریر: سیرت فاطمہ

    فیفتھ جنریشن وار فئیر بنیادی طور پر وہ غیر اعلانیہ جنگ ہے جس میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ اپنے ہی مُلک اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہو جائیں۔
    بیانیے کی اِس جنگ میں غلط معلومات کا پھیلاؤ ، سائبر حملے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگینڈہ کا فروغ وغیرہ یہ تمام فیفتھ جنریشن وارفئیر کے ٹولز ہیں۔ یعنی اِن کے ذریعے یہ وار لڑی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم اِسی وارفیئر کا شکار ہیں
    جس کی واضع مثال ہے کہ اِسی سال جنوری میں اینڈیں کرونیکلز کے نام سے یورپی یونین ڈیس انفو لیب رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ کس طرح ایک نیٹورک گزشتہ 15 سال سے 116 ممالک میں پانچ سو فیک میڈیا آؤٹلیٹس اور درجنوں فیک این جی اوز کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور پاکستان کے متعلق غلط خبریں پھیلانے کے محاز پر سرگرم تھا۔
    اِس نیٹورک کا مقصد یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان مخالف بیانیہ کا پھیلاؤ اور بھارت نواز بیانیہ کا فروغ تھا۔
    چند دوسری مثالوں میں فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بلوچستان، وزیرستان اور گلگت بلتستان کے متعلق فیک پروپیگنڈہ پھیلانا، CPEC کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پھیلانا اور پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے خلاف فیک احتجاج کی ویڈیوز اور مختلف خبروں کی فیک ایڈیٹڈ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونا شامل ہیں۔
    خوش قسمتی سے پاکستان کے محافظ اور ہر دم وطنِ عزیز کی خدمت میں سرگرمِ عمل رہنے والی سیکیورٹی ایجنسیز کی قربانیوں اور بروقت حکمتِ عملی کے باعث اینڈین کرونیکلز نامی پروپیگنڈہ مشینری پاکستان کو کوئی بڑا نقصان نا پہنچا سکی۔ مگر اِس کے باوجود یہ اور اِس طرح کی دوسری پروپیگنڈہ مشینریز متحرک ہیں اور ہر حد تک پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
    اِس پروپگنڈہ مشینری کا مقصد لوگوں کے نظریات کو یکسر بدل کر اُن میں وطن و اداروں مخالف جذبات پیدا کر کے اُنھیں اُن کے ہی مُلک کے خلاف کر دینا، پاکستان میں ہونے والے ہر اچھے کام میں کیڑے نکال کر پیش کرنا، CPEC جیسے اہم ترین منصوبے کے خلاف لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور لوگوں کی محرومیوں کا فائدہ اٹھا کر قوم پرستی کے جذبات کو منفی ہوا دے کر وطنِ عزیز سے ناراضگی یا نفرت پیدا کرنا شامل ہیں۔
    یعنی اِن تمام مثالوں سے یہ تو واضع ہو گیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا دراصل فیفتھ جنریشن وارفیئر کا میدان جنگ ہے۔ اور یہ باقی تمام میدانوں سے خطرناک ہے کیونکہ باقاعدہ جنگ میں آپ کو دشمن کے ہتھیاروں، تربیت اور طاقت کا اندازہ ہوتا ہے مگر فیفتھ جنریشن وارفیئر سے جڑے سوشل میڈیا کے جنگی میدان پر آپ کو دوست دشمن کا علم نہیں ہوتا۔ جانے انجانے میں لوگ پروپیگینڈہ کا شکار یا حصہ بن کر ایک غلط نظریہ اپنا لیتے ہیں جانے انجانے میں دشمن کی باتوں کو سچ ماننے لگتے ہیں۔ تاہم اب ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پاکستان کی مثبت تصویر دیکھانے، فیک نیوز کی روک تھام کرنے، دشمن کی چالوں کو پلٹنے اور وطنِ عزیز کے حق میں بہترین تجاویز پیش کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اِس سے فائدہ اٹھا کر مثبت کام لینے کی ضرورت ہے۔
    اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر نیوز، پوسٹ اور معلومات بغیر کسی تحقیق کے آگے شیئر کر دی جاتی ہے جِس کی وجہ سے جھوٹ اور غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔ کچھ نادان لوگ دانستہ و غیر دانستہ طور پر اِن غلط فہمیوں کا شکار ہو کر اداروں اور مُلک پر بے جا تنقید کرنے لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی غلط فہمی کو اور طول ملتا ہے۔ اور نتیجتاً ایک من گھڑت غلط افواہ ایک خبر کا روپ دھار لیتی ہے۔
    بلکل اِسی طرح وہ لوگ یا بچے جو سوشل میڈیا نیا نیا استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو جو کچھ بھی اُن کی نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے اُس کو سچ مان لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھی نا چاہتے ہوئے دشمن کے پروپیگنڈہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
    افسوس سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا سے متعلق سخت قوانین کا فقدان ہے مگر یہ وطنِ عزیز ہم سب کا ہے ہم سب اِس کا حصہ ہیں۔ اِس کی حفاظت کی زمہ داری ہم سب پر ہے لہذا قوم، صوبے، فرقے اور سیاسی پسندیدگی سے بالا تر ہو کر ہمیں صرف پاکستان کا مفاد سوچتے ہوئے کسی متنازع خبر، معلومات یا تحریر کو آگے شیئر کرنے سے پہلے تصدیق لازمی کرنی چاہیے۔
    ہم سب کا فرض ہے کہ دشمن کے وطن مخالفت پروپیگنڈہ کے آگے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہو جائیں نا صرف خود کو پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مشینری کا حصّہ بننے سے روکیں بلکہ اپنے بچوں، آس پاس کے لوگوں اور جاننے والوں کو بھی اِس سے آگاہ کریں۔ پاکستان کے محافظ اور ہمارے لیے جان کی بازی لگا دینے والے ہمارے سیکیورٹی اداروں کی سپورٹ کریں اور پاکستانیت کے فروغ کے ذریعے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دیکھائیں۔
    اللّٰہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    @FatimaSPak

  • طاقت کا غرور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے تحریر: شمسہ بتول

    کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ جہاں طاقت کا جاٸز استعمال معاشرے میں امن و سکوں اور عدل و انصاف کی فضا قاٸم کرتا وہیں طاقت کا ناجاٸز استعمال معاشرے کی بنیادوں کو کھوکلا کر دیتا اور معاشے کو تباہی ی طرف دھکیل دیتا اور بہت سی سماجی اور معاشرتی براٸیوں کا باعث بنتا۔ اگر طاقت کا نشہ سر چڑھ جاۓ تو انسان حیوان بن جاتا بے جا ظلم اور زیادتی حد سے بڑھنے لگتی اور یوں ظلم اور نا انصافی کا آغاز ہوتا اور اس طرح آمریت جنم لیتی جس میں تمام تر فیصلے ایک ہی شخص کرتا کسی دوسرے کو آزادی راۓ کا حق حاصل نہیں ہوتا
    اور باقی تمام لوگ اس کے تابع ہوتے اس کے ظلم اور طاقت سے ڈر کر کسی کو بھی اس سے سوال کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں جب کسی کو اقتدار ملتا ہے تو اقتدار پر قابض ہوتے ہی وہ خود کو خدا تصور کرنے لگتا وہ یہ بھول جاتا کہ اس نے عوام سے کیا کیا وعدے کیے تھے وہ صرف اپنی طاقت کے نشے میں دھت ہو جاتا نہ صرف اپنے فراٸض اور ذمہداریاں بھول جاتا بلکہ اخلاقیات کو بھی بالاۓ تک رکھ دیتا
    : طاقت کے غرور میں ڈوبا ہوا شخص کرپشن اوربدعنوانی اور دیگر جراٸم بڑے فخر سے سرانجام دیتا جیسے یہ اس کا حق ہو
    : اگر کوٸی وڈیرا ہے تو اپنے ملازموں پہ اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتا ہے ۔ غرض جس کے پاس بھی کوٸی منصب یا مقام آ جاۓ تو وہ دوسروں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے ۔ یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں طاقتور کو سراہا جاتا چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جرم کہلاتا ہے اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے سے ڈرایا جاتا دھمکایا جاتا ہے
    طاقت کی بنیاد پر انصاف بیچ دیا جاتا اور مظلوم خاموشی سے برداشت کرتا۔ اسے اپنے حق کی خاطر آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی اور مظلوم کی دادرسی کرنا طاقتور کی توہین سمجھی جاتی۔طاقت کے اس معیار نے ہمارے معاشرے کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ابھ بھی پہنچایا جا را رہا ہے۔
    تکبر کا حق صرف اللہ تعالی کا ہے ہم جیسے خاک کے پتلوں کو نہیں ہمارے پاس جو بھی ہے یہ سب اللہ کی عطا اور کرم ہے ہمارا کمال نہیں اس لیے اس عارضی طاقت کے نشے سے باہر نکلیں کیونکہ جو دینے پر قادر ہے وہ لینے پر بھی قادر ہے ۔ ایک دوسرے کو انسان سمجھ کر ایک دوسرے کے ساتھ احسن سلوک کریں
    اللہ کو عاجزی پسند ہے نہ کہ تکبر اور اکڑ۔ ہم مٹی کے بندے ہیں اور ایک دن مٹی ہی ہو جاٸیں گے اس لیے عاجزی اختیار کریں کسی کو حقیر یا کمتر نہ سمجھنا محض اس لیے کہ آپ کے پاس منصب یا دولت کی طاقت ہے۔
    ہم انسان جو کہ خاک کے پتلے ہیں اور ایک دن خاک ہو جاٸیں گے۔ لیکن پھر پتہ نہیں انسان میں اکڑ اور غرور کس چیز کا ہے۔ نہ تو انسان اپنی مرضی سے اس دنیا میں آیا نہ ہی ہمیشہ یہاں رہے گا مختصر یہ کہ نہ زندگی کا اعتبار اور نہ موت کا خبر اور اس دنیا میں آنے پہ بھی دوسرے غسل دیتے اور جانے پہ بھی دوسروں نے غسل دینا مگر پھر بھی طاقت کا یہ خطرناک نشہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا کیونکہ ہم نے خود طاقتور کو اسکی طاقت کے ناجاٸز استعمال کی شے دی اس کے ظلم پر خاموش رہ کر اور مظلوم کے ساتھ نہ کھڑے ہو کر۔ ہمارے اس دنیا میں آنے اور یہاں سے جانے میں صرف ایک ازان اور نماز کا فاصلہ ہے۔
    پھر پتہ نہیں انسان کس طاقت پہ تکبر کر کے انسانی اور اخلاقی اقدار سے خود کو گرا دیتا ہے?

    @b786_s

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 01) تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 01) تحریر: محمداحمد

    ہمارے معاشرے میں لوگ صرف حکمرانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اپنے اندر کے شیطان کو نہیں دیکھتے اپنے اقدامات اور اعمال کو نہیں دیکھتے ہر وقت ہیرا پھیری انسان کا وطیرہ بن گیا ہے ٹھگی کرنا دھوکہ دے کر پیسہ کمانا ہم اچھا عمل سمجھتے ہیں یاد رکھیں جیسے ہم اور ہمارے اعمال ہوتے ہیں ویسے ہی ہم پر ہمارے حکمران ہوتے ہیں جیسے کہ

    دودھ میں پانی ملانا:
    لوگ دودھ میں پانی ملا دیتے ہیں کتنی ملاوٹ کرتے ہیں آپ سب جانتے ہیں کتنی مارکیٹیں بند ہوئی ہیں کتنے دفاتر آۓ روز بند ہوتے ہیں لیکن ملاوٹ کا سلسلہ نہیں رُک رہا اس ملاوٹ پہ کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی جہاں دودھ میں ملاوٹ پکڑی گئی ہے وہاں سے دودھ تلف کر دیتے ہیں اور انہیں جرمانہ کر دیتے ہیں یہ دَھندہ پھر شروع ہو جاتا ہے بعض جگہوں پر دودھ میں کیمکل کا استعمال بہت کیا جارہا یے جس میں ڈیٹرجنٹ ، صابن، یوریا، سوڈا وغیرہ استعمال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دل کے مرض اور کینسر جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں دودھ کو جانچنے کیلئے بہت سے طریقے ہیں جس کے بارے میں ہم سب کو پتہ ہونا ضروری ہے کہ جو دودھ ہم استعمال کر رہے ہیں کیا وہ بیماریوں سے پاک ہے کہ نہیں
    دودھ میں اگر کیمکل کا استعمال کیا ہوا ہے تو اس کو جانچنا بہت آسان ہے دودھ کو سونگھ کر بھی دودھ کی بُو سے پتہ لگ جاتا ہے اس کے علاوہ دودھ میں انگلیاں ڈبو کر چکناہٹ سے بھی پتہ لگ جاتا ہے اس میں کیمکل کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں خالص دودھ کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اگر خالص دودھ کو فریج میں رکھ دیں تو اگر ذائقہ بدل جاۓ اس کا مطلب اس میں ضرور ملاوٹ کی گئی ہے اس کے علاوہ دودھ کو چیک کرنے کیلئے ایک چمچ کھانے کا نمک اگر پانچ ملی لیٹر دودھ میں ملائیں اگر دودھ نہیں نیلا رنگ کر دیا تو اس کا مطلب ان میں ملاوٹ ہے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا کام ہر گاوں میں کیا جاتا ہے پھر بھی لوگ دھوکے بازی سے باز نہیں آتے اور ہمیشہ حکمرانوں کو کوستے نظر آتے ہیں اسی طرح شہد میں شیرے کا استعمال ہے

    شہد میں شیرے کا استعمال:
    شہد کے بہت سارے فوائد ہیں جس کے بارے میں قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اس میں شفا ہے انسانوں کیلئے”
    آج کل بازاروں میں بہت سے لوگ گھومتے نظر آتے ہیں کہ شہد لے لیں ایسے چال بازوں سے ہوشیار رہیں وہ ملاوٹ والا شہد بیچ رہے ہوتے ہیں ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ایک واقع ہوا ایک بوتل شہد لی وہ بھی ملاوٹ والی ۔ اس کے بعد مجھے شہد جانچنے کا شوق ہوا کہ کیسے چیک کر سکتے ہیں شہد اصل ہے یا ملاوٹ والا پتہ لگ جاتا ہے
    اگر کبھی بھی کو چھوٹ لگ جاۓ یا زخم ہوجاۓ تو شہد لگا کر دیکھیں اگر خون رک گیا تو شہد اصلی ہے ملاوٹ والا شہد ایک جگہ رُکے گا ہی نہیں (گاؤں میں اس طریقے کو عام استعمال کرتے ہیں)
    شہد کی اپنی خاص خوشبو ہوتی ہے جس کو سونگھ کہ بھی پتا لگا سکتا ہے اگر آپ شہد میں ایک ڈیلی نمک رگڑیں تو اصل شہد کی پہچان یہی ہے کہ اس شہد میں سے نمک کا ذائقہ نہیں آۓ گا شہد کا اپنا خاص ذائقہ ہوتا ہے قبض کی حالت میں بھی ہم لوگ رات کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں 2 چمچ اگر خالص شہد کے حل کر کے پی لیں تو پیٹ ٹھیک ہو جائے گا

    اب سوچیں اور بتائیں ملک میں اصل گڑ بڑ تو ہم کر رہے ہیں پھر ہم کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایسا کر رہے ہیں ویسا کر رہے ہیں لیکن انسان کو یاد رکھنا چاہیے جیسی عوام ویسے حکمران ۔ ہم سب اپنے کردار کو نہیں دیکھتے اپنے مفادات کی خاطر لوگوں کا گلا کاٹنے تک چلے جاتے ہیں
    اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح گھی کو کیمیکل سے لوگ تیار کر رہے ہیں اور اُس کے ساتھ مرغیوں کی انتڑیوں سے کیسے تیل تیار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انسانی زندگی متاثر ہو رہی ہے اسی وجہ سے اصل ملک میں اصل گڑ بڑ تو ہم کر رہے ہیں

    @JingoAlpha