Baaghi TV

Category: سیاست

  • کیا چین نے امریکہ سے سپر پاور کا نمبر چھین لیا ہے؟ تحریر حمیداللہ شاہین

    کیا چین نے امریکہ سے سپر پاور کا نمبر چھین لیا ہے؟ تحریر حمیداللہ شاہین

    ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ کمزور پالیسیوں اور جوبائیڈن کی موجودہ امریکی حکومت کی صورتحال اور چین کی طرف سے دوسرے ممالک کے ساتھ روابط کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ اگلے چند سالوں میں چین دنیا کا سپر پاور ملک ہوگا
    یا تو ہم کہتے ہیں کہ سفارتی شکست یا امریکہ کی کمزور پالیسیاں چین کو مستقبل میں ایک طویل کھیل کھیلنے کے لیے ایک واضح راستہ دے سکتی ہیں۔ چین کوئی غلطی نہیں کر رہا ہے اور اپنے حریف امریکہ کے خلاف اپنے سفارتی رویے کے ذریعے ان ممالک کے ساتھ بات چیت کرنے میں ہچکچاہٹ کے بغیر زبردست ہٹ دھرمی کھیل رہا ہے جن کا امریکہ کے ساتھ تھوڑا سا اختلاف ہے۔
    یہ ایک طویل عرصے سے ایک عام سوچ تھی کہ ایک سپر پاور ہونے کے ناطے امریکہ ہمیشہ اگلے بیس سے چالیس سالوں کے لیے نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری دنیا کے لیے اپنی پالیسیاں بناتا ہے۔ جب بھی پسماندہ ممالک میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں وہ ہمیشہ بہتر حل کے لیے امریکہ سے مدد لیتے ہیں اور امریکہ دنیا کی سپر پاور کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن امریکہ کے "ڈونلڈ ٹرمپ” کی آخری حکومت اور "جو بائیڈن” کے موجودہ دور نے حیرت انگیز طور پر اپنی میراث کھو دی جبکہ چین نے امریکہ کے خلاف سفارتی پالیسیوں میں ترمیم کے ذریعے اپنی بہترین کوشش کی۔
    روس اور چین کے درمیان ایک حالیہ ویڈیو کانفرنس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ دو طاقتوں میں ایک بڑا معاہدہ ہو رہا ہے اور امریکہ کو اپنی سفارتی پالیسیوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق تبدیل کرنا چاہیے۔ یہ خبر مختلف عالمی میڈیا فورمز پر نشر ہوئی کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے 20 سال پرانے معاہدے میں توسیع کی جس کا مقصد ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدوں کو ختم کرنا ہے۔ دنیا میں امن اور دیگر متضاد حالات
    چین نے پاکستان اور افغانستان کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ جب کہ چند دن پہلے میڈیا گفتگو کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین افغانستان میں امن کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
    چین ان ممالک کے ساتھ اپنی ہم آہنگی اور تعلقات کو بڑھا رہا ہے جنہیں امریکہ نے کھودا ہے یہ قابل ذکر ہے کہ چین اور ایران کے درمیان 400 ارب ڈالر کے بڑے معاہدے سے چین کو گرم پانیوں تک آسان رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ چابہار بھارت کے لیے ایک خواب تھا جو چین کی شمولیت کے بعد ڈوب گیا ہے۔ ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ ظریف نے کہا "ہم نے اپنے ہندوستانی اور چینی دوستوں پر بہت واضح کر دیا ہے کہ چابہار ہر ایک کے لیے تعاون کے لیے کھلا ہے۔ چابہار چین کے خلاف نہیں ہے… گوادر کے خلاف نہیں ہے۔ چابہار ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم سب مل کر افغانستان کی مدد کر سکتے ہیں خطے میں ترقی اور خوشحالی میں مدد کر سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ معاہدے کی شکل میں چین کے داخلے کے بعد گوادر کی قدر کم کرنے کے مقصد سے ایران کی چابہار بندرگاہ سے منسلک ہندوستانی امیدیں ختم ہوگئیں۔ اب کھیل چین کے ہاتھ میں ہے چاہے وہ کھیلے یا نہ کھیلے۔
    چین اور خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان تمام معاہدوں کے علاوہ حالیہ جی 7 سمٹ میں جو بائیڈن نے اپنے اتحادیوں کو چین کی معاشی طاقت کے خلاف متحد محاذ بنانے پر قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مشرقی اور مغربی حصوں میں چین کا گڑھ امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک سیشن کے دوران میڈیا رپورٹس کے مطابق جو بائیڈن نے شرکاء کی توجہ چین میں جبری مشقت کے طریقوں کی طرف مبذول کرائی جس کے ذریعے وہ اس کے خلاف دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ لیکن صرف کینیڈا ، برطانیہ اور فرانس نے چین کے خلاف بائیڈن کے نقطہ نظر کی تائید کی جبکہ جرمنی ، اٹلی اور یورپی یونین تھوڑا ہچکچاتے نظر آئے اور کوئی مثبت علامت ظاہر نہیں کی۔
    امریکہ کی نئی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ چین کی جبری مشقت اس کا اندرونی مسئلہ ہے اور وہ کبھی بھی کسی دوسری طاقت کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ جو بائیڈن کی حکومت میں بہت سے داخلی مسائل ہیں جنہیں اولین ترجیح پر حل کرنے کی ضرورت ہے لیکن اب تک نظر انداز کیا گیا ہے۔
    روس ، پاکستان ، ایران کے ساتھ چین کے تعلقات اور اب ایک مستحکم افغانستان میں اس کی گہری تشویش دراصل مضبوط سفارتکاری ہے جو کہ امریکہ کے اقتصادی طور پر بڑھتے ہوئے چین اور ایران ، پاکستان اور افغانستان جیسے پسماندہ ممالک کے لیے اس کی پالیسیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں جیسے بھارت۔ امریکہ ان ممالک پر اپنی کمان کھو رہا ہے جبکہ چین ان کی ہر طرح سے مدد کر رہا ہے۔
    چین کی ایران، پاکستان اور افغانستان اور دیگر ممالک سے تعلقات میں بہتری کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ اگلے کچھ ہی سالوں میں چین دنیا کے سارے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرے گا اور ایک نئی تاریخ رقم کر کے امریکہ کو سپر پاور کے تخت سے اتار دے گا اور خود تخت نشین ہو کر ایک نئی عالمی طاقتور ترین ملک کے طور پر سامنے آئے گا۔
    @iHUSB

  • سابقہ حکومتوں اور عمران خان کی حکومت میں فرق  تحریر : اسامہ خان

    سابقہ حکومتوں اور عمران خان کی حکومت میں فرق تحریر : اسامہ خان

    پاکستان 1947 میں بنا اور پاکستان کا پہلا وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب تھے ان کے بعد بہت سے وزیراعظم آئے اور 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام ہوا اور اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو صاحب تھے انہوں نے پاکستان کی خدمت کے لیے کافی اچھے کام کیے اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ قادیانیوں کو کافر قرار دینا تھا اور اس پارٹی میں سے نظیر بھٹو صاحبہ بھی وزیراعظم بنیں 1988-1990 اور دوسری بار 1993-1996 تک وزیراعظم رہیں اور یہاں سے وقت شروع ہوتا ہے پاکستان مسلم لیگ نون کا، پاکستان مسلم لیگ نون 1993 میں نواز شریف کی صدارت میں بنی نواز شریف صاحب سب سے پہلے وزیراعلی پنجاب بننے، اور آہستہ آہستہ نواز شریف صاحب وزیراعظم اور ان کا بھائی شہباز شریف وزیراعلی پنجاب بننے، ان کی پارٹی کا صرف ایک ہی مقصد تھا خود بھی کھاؤ اور اپنے دوست احباب کو بھی کھلاؤ بے شک ملک ڈوبتا ہے ڈوبتا رہے ان دونوں بھائیوں نے مل کر جتنی کرپشن ہو سکتی تھی کی تاکہ آنے والے وقتوں میں یہ خاندان بیٹھ کر کھا سکے انہوں نے کوئی ایک ادارہ نہیں چھوڑا جس میں انہوں نے کرپشن نہ کی ہو اور اس کے ساتھ ہی ساتھ عمران خان صاحب جو کہ موجودہ وزیراعظم ہیں پاکستان کے شریف فیملی کے دور میں جدوجہد کرتے رہے اور پوری عوام کو آگاہ کرتے رہے کہ یہ پورا خاندان چور ہے جیسے جیسے عوام میں شعور آتا گیا تو انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کو ووٹ دینا چھوڑ دیا سب سے پہلے عمران خان صاحب کی حکومت خیبر پختونخوا میں بنی عمران خان صاحب نے وہاں پولیس اور دیگر اداروں کا نظام ٹھیک کیا اور کرپشن فری خیبر پختونخوا بنانے کی جدوجہد شروع کردی یہ جدوجہد خیبرپختونخوا میں جاری تھی کہ پانامہ کا کیس سامنے آگیا جس میں مسلم لیگ نون کی آج تک کی 30 سال کی کرپشن سامنے آگئی جس کی وجہ سے پانچ رکنی بینچ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا اور وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ابھی الیکشن میں کچھ دیر باقی تھی تو نون لیگ نے حقان عباسی کو کچھ دنوں کے لیے وزیر اعظم مقرر کیا حقان عباسی صاحب کی شان دیکھئے جب انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تو ایئرپورٹ پر شرٹ کے ساتھ ساتھ پینٹ بھی اتار کر چیک کروا آئے اپنی، کتنے افسوس کی بات ہے اور اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں اگر ان کو کوئی صرف ہاتھ لگا دے تو ان کی توہین ہو جاتی ہے، 2018 میں جنرل الیکشن آئے اور پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں اپنی حکومت بنائیں اور ملک پاکستان کے عمران خان صاحب بائیسویں وزیراعظم بنے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب جہاں انکی کرپشن کو عوام کے سامنے لا رہے ہیں وہی بہت سے ترقیاتی کام کروا رہے ہیں جیسے کہ ماحولیات میں اور درخت لگانے میں پاکستان سب سے پہلے نمبر پر جارہا ہے نہ کہ صرف پہلے نمبر پر جارہا ہے ان ایونٹس کی میزبانی بھی کر رہا ہے وزیراعظم کی ہدایت پر احساس پروگرام شروع کیا گیا جس میں غریب طبقے کو اور طالب علموں کو سپورٹ دی جا رہی ہے، وزیر اعظم پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ صحت کارڈ کا ہے ہر ایک خاندان کو ایک صحت کارڈ دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ خاندان سلانہ 7 سے 8 لاکھ تک فری علاج کروا سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب واحد لیڈر ہیں جو صرف ملک پاکستان کے لیے اپنی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب اب تک دنیا میں سب سے مقبول ترین لیڈر بن چکے ہیں خان صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ جب امریکہ کی طرف سے ڈرون حملوں اور فوجی انڈوں کے لیے اجازت مانگی گئی عمران خان صاحب نے تاریخ رقم کر دینے والے الفاظ بولے اور امریکہ کو منھ توڑ جواب دے کر نہ کیا۔ خان صاحب نے کہا میں اپنی قوم پر ظلم کیسے کر سکتا ہوں جیسے پچھلی حکومتوں نے کیا وہ خود اجازت دے کر بعد میں حملوں کی تعزیت کرتے تھے۔ خان صاحب کا بہت بڑا کارنامہ جو آج تک کسی حکومت نے نہیں کیا، اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر براہ راست اپنی عوام کی کال سننا اور ان کے مسلے حل کرنے کے لئے فل فور ہدایات جاری کرنا۔ خان صاحب جیسا لیڈر نہ آج تک پاکستان کو ملا ہے اور نہ ہی کبھی ملے گا خان صاحب کے اور بھی بہت بڑی بڑی خدمات ہیں جو کہ ہر باشعور انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اور ان بڑے کارناموں میں سے ایک شوکت خانم میموریل ہاسپٹل ہے۔ سب عمران خان صاحب کا ساتھ دیں
    @usamajahnzaib

  • وزیراعظم عمران خان کا عوام سے ٹیلیفونک رابطہ   تحریر: محمد وسیم

    وزیراعظم عمران خان کا عوام سے ٹیلیفونک رابطہ تحریر: محمد وسیم

    ماضی میں بہت سے وزیراعظم گزرے ہے لیکن ہر ایک وزیراعظم جب اپنا عہدہ سنبھالتا ہے تو وہ عوام سے اس طرح دور ہوجاتے ہے کہ ان کا شکل کیا ان کی آواز بھی کوئ نہیں سنتا۔ جب سے عمران خان وزیراعظم بنا ہے تو ان کی یہی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو عوامی وزیراعظم بناۓ۔
    پاکستان میں چونکہ ہر وزیراعظم، صدر، اور یہاں تک کے عام وزیر کو بھی سیکورٹی کا مسلۂ ہوتا ہے اور اس وجہ سے ادارے انہیں اس طرح کلھم کھلا انہیں اجازت نہیں دیتی۔ عمران خان چاہتا ہے کہ پاکستان میں بھی باہر کے ممالک جیسا سسٹم ہو لیکن وہ فلحال مشکل ہے ۔
    پاکستانی عوام کے مسائل کی اگر بات کی جاۓ۔ تو وہ ایک ٹیلیفون کال کیا ایک لاکھ ٹیلیفونک کال سے بھی نہیں حل ہوسکتے۔ ہر کسی کے ہزار مسلۓ ہے ایک گھنٹے کی کال پر 8 10 بندو‌ں سے بات ہوسکتی ہے ۔ اگر چہ یہ ایک اچھی کوشش ہے لیکن اس طرح عوام کے مسائل حل کرنا بہت مشکل ہے ۔
    اگر عمران خان عوام کیلۓ اچھا دل رکھتا ہے تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے لیکن ٹیلیفونک کال سے عوام کے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ اقتدار کے پانچ سال ہوتے ہے اگر اسی پانچ سالوں میں اداروں کو ٹھیک کیا جاۓ تو انہیں کالز کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
    ہر وزیراعظم الیکشن سے پہلے وعدے بہت کرتے ہے اور بہت نعرے مارتے ہے لیکن اقتدار میں آتے ہی سارے دعوے اور نعرے بھول جاتے ہے اور عوام کو ایسے ہی چھوڑ جاتے ہے ۔ عوام کو اس وقت ٹیلیفون کالز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں ادارے ٹھیک کر کے دینے ہے جہاں پر عوام جا کے بغیر سفارش کے اپنا کام کرسکے۔ اس وقت اس ملک میں ہر جگہ رشوت اور سفارش سے کام چل رہا ہے جس کو ختم کرنا ہوگا۔ہمارے ملک میں چونکہ غربت زیادہ ہے تو اس وقت عوام کا ایک ہی مسلۂ ہے اور وہ مہنگائ ہے ۔
    پارلیمان میں بیٹھے لوگ مفت میں تنخوا لے رہے ہے اور عوام کے پیسوں سے مفت سرکاری وسائل کا استعمال کررہے ہے۔ عوامی نمائندوں کو چاہئیے کہ وہ عوام کے مسلۓ سنے اور اسے حل کریں۔ اگر ایم این ایز اور ایم پی ایز عوام کے مسائل نہیں سن سکتے تو وہ عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرکے الیکشن کیوں لڑتے ہے ؟
    میں نے ممالک دیکھے ہے جہاں صدارتی نظام ہے اور کئ ممالک دیکھے ہے کہ جہاں جمہوری نظام ہے اور دونوں کا موازنہ کرکے میں اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ جس ملک میں صدارتی نظام ہے وہاں کے عوام بہت خوش ہے۔ یہاں ہمارے ملک میں تو دھاندلی کرکے بدمعاش اور عیاش لوگ ہمارے حکمران بن جاتے ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب ایسے حکمران آتے ہے تو عوام کی چینخے نکل جاتی ہے۔ یہاں ہر کسی کے ہزار مسلۓ ہے ہر کوئ بےایمانی، کرپشن، بےروزگاری، اور مہنگائ سے تنگ ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے تب سے لے کر اب تک انہوں نے چار دفعہ ٹیلی تھون کیا ہر بار میں عوام انہیں مسائل کے انبار لگادیتے ہے جس کا عمران خان بہت اچھے طریقے سے جواب دیتا ہے اور انہیں حوصلہ بھی دیتے ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ عوام کے مسائل سننے اور حل کرنے کا کیا یہی طریقہ ہے ؟کیا اب وزیراعظم ہی یہی کام کریگا؟ مجھے غیرت ہوتی ہے کہ میرے ملک کے عوام ابھی تک کیوں سو رہے ؟ کیوں وہ ایک سہی بندے کو ووٹ نہیں دیتے اوو جا کے اپنا ووٹ پیسوں پر دے کے آتے ہے اور بڑی فخر سے کہتے ہے کہ ہم نے بھی اپنا ووٹ ڈال دیا۔
    ہمارے وزیراعظم عمران خان کی سوچ بہت اچھی ہے اور وہ بہت اچھا سوچ رکھتے ہے اس ملک کیلۓ۔ ہم اللہ س دعاگو ہے کہ وزیراعظم خان کو ہمارے لئیے اچھا لیڈر بناۓ اور اگر وہ اپنے عوام کا سوچتے ہے تو انہیں ہمت عطا کریں کہ وہ اس عوام کیلۓ کچھ اچھا کرسکے۔

    Waseem khan
    Twitter id: Waseemk370

  • بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وسائل تحریر  : راجہ حشام صادق

    بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وسائل تحریر : راجہ حشام صادق

    موجودہ دور میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان نہ ہو۔ ویسے بتاتا چلوں مہنگائی ایک بین الاقوامی مسلہ ہے۔ اس وقت پوری دنیا کے سبھی ممالک میں ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک بڑی حد تک یہ ایک فطری امر بھی ہے کیونکہ دنیا کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس رفتار سے چیزوں کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوا۔ یہ بات تو ہم باخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کے خواہشمند زیادہ ہو جائیں تو اس کی قیمت زیادہ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

    دنیا میں پٹرول، کوئلے، لوہے وغیرہ کے ذخیرے صنعتی ترقی کے پیش نظر جس تیزی سے استعمال ہوئے اس تیزی سے نئے ذخیرے اور وسائل کی دریافت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہ چند عام سے حقائق ہیں جو پوری دنیا کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی۔

    مہنگائی کا طوفانے بدتمیزی برپا کرنے والو سنو زرہ

    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا اس وقت صحت انصاف کارڈ تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا احساس پروگرام تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا آمن تھا ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا دنیا میں آپ کی کوئی عزت تھی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا کسی نے قومی قرضے واپس کرنے کا سوچا بھی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    کیا کسی نے یہ جمہوری لباس میں ملبوس لٹیروں سے ریکوری کی ؟
    مہنگائی تو پہلے بھی تھی
    ملک کی یہ حالت کرنے والوں پر اس طرح کبھی زمین تنگ تھی ؟

    مہنگائی پہلے تو بھی تھی
    مگر اس وقت صرف غریب روتے تھے آج غریبوں کو لوٹنے والے رو رہے ہیں اس مہنگائی پر مگرمچھ کے آنسووں بہانے والوں اللہ تعالٰی کا خوف کرو غریب اور مہنگائی کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا بند کرو۔
    اس سے پہلے ملک کے بدترین حالات تھے الحمدللہ اب بہترین کی طرف گامزن ہیں قارئین کسی کے پروپیگنڈے کرنے سے یہ حالات کو نہیں جھٹلا سکتے کہ
    الحمدللہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس وقت دنیا کے نقشے پر ابھر رہا ہے۔

    بس عوام نے کھبرانہ نہیں ہے الحمدللہ بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔
    پہلے ہمارا ٹیکس لادین حکمرانوں کے بچوں اور بچیوں کی عیاشی پر خرچ ہوتا تھا
    اب مہنگائی تو ہے پھر بھی سہولیات کسی نا کسی طریقے سے غریب تک پہنچ رہی ہے ۔

    اللہ پاک آپ کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • ہم اور ہمارا سیاسی کلچر    تحریر : محمد جواد یوسفزئی

    ہم اور ہمارا سیاسی کلچر تحریر : محمد جواد یوسفزئی

    جمہوری نظام آئین کی بنیاد پر چلتا ہے۔ آئین میں حکومت کے انتخاب اور اس کو چلانے کے لیے مفصل ضابطے دیے گئے ہوتے ہیں۔ مزید قوانین اور ضابطے بنانے کے لیے طریقہ کار بھی آئیں طے کرتا ہے۔ آئین اور دیگر قوانین تحریری شکل میں محفوط ہوتے ہیں۔
    لیکن ملک کے سیاسی نظام کو چلانے کے لیے آئین اور قوانین کی کتابیں کافی نہیں ہوتیں۔ ہر ملک میں سیاسی روایات جنم لیتی رہتی ہیں اور وقت کے ساتھ پختہ ہوتی جاتی ہیں۔ عوام اور سیاستدان ان رویات کی اسی طرح پیروی کرتے ہیں جس طرح تحریری قوانین کے۔ یہ پیروی رضاکارانہ ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ روایات اتنی مستحکم ہوجاتی ہیں کہ ان کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان روایات کے مجموعے کو ملک کا سیاسی کلچر کہا جاتا ہے۔
    مستحکم جمہوری معاشروں سیاسی کلچر کو تحریری قوانین سے کم اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ برطانیہ میں دستور کا بڑا حصہ غیر تحریری یعنی انہی روایات پر مشتمل ہے۔
    کسی معاشرے کا سیاسی کلچر اس کے مجموعی کلچر کا ائینہ دار ہوتا ہے۔ جیسی معاشرے کی مجموعی سوچ ہوتی ہے، ویسا ہی اس کا سیاسی کلچر پروان چڑھتا ہے۔ مثلاً ہمارے معاشرے میں مذہبی فرقہ واریت، شخصیت پرستی، قبائلی اور خاندانی عصبیت، نمود و نمائش، سخاوت وغیرہ کلچر کے اجزاء ہیں۔ ان کا اثر سیاسی کلچر میں نظر آنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ سیاسی نظام معاشرے کے مجموعی ڈھانچے کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اس سے ہم آہنگ۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہم برطانیہ کا سیاسی کلچر لا کر اپنے معاشرے میں فٹ کردیں۔
    تو کیا ہم اپنے سیاسی نظام کی برائیوں جیسے فرقہ واریت، شخصیت پرستی، قبائلیت وغیرہ کو تسلیم کرکے بیٹھ جائیں؟
    ہر گز نہیں۔ یہ چیزیں جب تک ہمارے سیاسی کلچر میں ہیں، جمہوریت جڑ نہیں پکڑ سکتی۔ لیکن کلچر کو کسی انقلاب یا پارلیمنٹ کے ایکٹ یا ایکزیکیٹیو آرڈر کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
    اس کی ایک مثال ہمارے ہاں پارلیمنٹ کے ارکان کو ترقیاتی فنڈ دینے کی ہے۔ قانونی طور پر ان ارکان کا ترقیاتی کاموں اور فنڈ کی تقسیم سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ عملی طور پر بھی یہ کام بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس عمل کو یکسر ختم کردینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ لیکن تجربے نے ثابت کیا کہ ایسا کرنا فوری طور پر ممکن نہیں، کیونکہ یہ سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ یہی صورت حال بیوروکریسی کے سیاسی تبادلوں، ٹکٹوں کی تقسیم میں قبیلے اور براددریوں کا خیال رکھنے، سیاسی جماعت کی قیادت خاندان میں رکھنے وغیرہ کی ہے۔
    ان سب چیزوں سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں تعلیم کے فروع، جاگیرداریت کے خاتمے جیسی بنیادی ضرورتوں پر توجہ دینی ہوگی۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • قائدِ پاکستان عمران خان کی کہانی ارم کی زبانی تحریر: ارم سنبل

    قائدِ پاکستان عمران خان کی کہانی ارم کی زبانی تحریر: ارم سنبل

    آج کل ہر خاص وعام کی زبان پر ایک ہی نام ہے اور وہ ہے عمران خان، عمران خان نے ہمیشہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے چاہے وہ کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست کا ، عمران خان ماضی سے لے کر آج تک عوام کے دِلوں پر راج کر رہے ہیں۔

    نوجوان نسل نے عمران خان کے کرکٹ دور کو بذات خود تو نہیں دیکھا مگر اپنے بڑوں سے اسکی قائدانہ صلاحیت کے بارے میں سنا ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت 1992 کا ورلڈکپ ہے۔

    اگر سیاست کی بات کی جائے تو عمران خان کا یہ دور بھی بہترین اور تاریخی ہے۔ جہاں پاکستانی عوام گہری نیند سو رہی تھی وہاں عمران خان کی محنت اور کوششوں نے عوام کو بیدار کیا ہے۔

    عمران خان کی والدہ متحرمہ کینسر جیسے موضی مرض سےانتقال کرگئی۔ عمران خان کی عوام سے فکرو محبت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے غریب عوام کے لیے یہ سوچ کر کینسر ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا کہ جو تکلیف میری والدہ نے برداشت کی ہے وہ کسی اور کی ماں کو نہ سہنی پڑے۔

    پھر عمران خان نے عوام کی مشکلات اور تکالیف کو سامنے رکھ کر کینسر ہسپتال بنوایا۔ مختلف شعبوں سے وابسطہ افراد نے عمران خان کو منع کیا کہ اس ہسپتال کی تعمیر ممکن نہیں لیکن اس کے باوجود عمران خان کی انتھک محنت کے بعد شوکت خانم ہسپتال تعمیر ہوگیا۔

    ہسپتال نہ صرف تعمیر ہوا بلکہ کافی مریض یہاں علاج کروا کر صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ آج الحمدللہ پاکستان میں ایک کے بجائے دو کینسر ہسپتال ہیں اور تیسرے پر کام جاری ہے جو انشاء اللہ بہت جلد مکمل ہوجائے گا۔

    اسی طرح عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اور 1996 میں پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا گیا۔ سیاست میں آنے کے بعد عمران خان کا مزاق اڑایا گیا مگر عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور اپنی محنت کو جاری رکھا۔

    اس طرح عمران خان کی بائیس سال کی انتھک محنت 2018 کے انتخابات میں رنگ لے آئی اور عمران خان ملک کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ عمران خان نے بہت ہی کم عرصے میں دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، آزاد اور خود مختار ریاست ہے۔

    عمران خان کی کوششوں کے نتیجے میں عالمی دنیا پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اپوزیشن نے بہت کوششیں کیں کہ عوام کا عمران خان پر محبت و اعتماد کو کسی طریقے سے ختم کیا جائے، مگر اپوزیشن کو ہمیشہ کی طرح منہ کی کھانی پڑی۔

    عوام مکمل طور پر عمران خان پر اعتماد کرتی ہے اور ہر فورم پر دفاع کرتی ہے کیونکہ پاکستانی عوام کو عمران خان کی صورت میں ایک عظیم رہنما ملا ہے۔

    میری دعا ہے کہ اللہ پاک میرے عظیم لیڈر کی حفاظت فرمائے اور نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے آمین۔

    @Chem_786

  • کماۓ کراچی ہاۓ کراچی ہاۓ کراچی!!!  تحریر: سلمان احمد صدیقی

    کماۓ کراچی ہاۓ کراچی ہاۓ کراچی!!! تحریر: سلمان احمد صدیقی

    دورِ حاضر میں کراچی ملک کو تقریباً 65 سے 70 فیصد ریونيو اور سندھ کو 90 فیصد کما کر دینے والا ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اگر یہ بات کہی جاۓ کے ملک کی معیشت چلانے میں کراچی شہر کا بہت بڑا ہاتھ ہے تو یہ کسی صورت غلط نہ ہوگا۔ لیکن جب ہماری نظر اس شہر کے مسائل پر پڑتی ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کے اتنا ریونيو دینے والے شہر کے شہری ذندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ملک کے تقریبا تمام قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد کراچی میں رہائش پزیر بھی ہیں اور برسرِ روزگار بھی ہیں۔ اگر ہم آج سے گیارہ سال پیچھے چلے جاٸیں تو کراچی ایسا نہ تھا بلکے کراچی دنیا کے دس تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں کی فہرست میں شامل تھا۔ شہر میں عوام کی تفریح کےلیے خوبصورت پارک موجود تھے۔ فلاٸ اوورس اور بہترین سڑکوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ نکاسی آب کا نظام بھی آج کے دور سے بہت بہتر تھا۔اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی قدرے بہتر تھی۔آج وہ ہی کراچی دنیا کے پانچ اُن شہروں میں شامل ہے جو کے انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہے غرض یہ کے آج کراچی تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ اس تباہی اور بربادی کے زمیداروں کا تعين کرنا کسی سوال سے کم نہیں۔ عقل سمجھنے سے قاصر ہے کے اس بربادی کا زمیدار کس کو ٹہرإیا جاۓ۔ کیا وہ تمام سرکاری ادارے اس کے زمیدار ہیں یا وہ سیاسی پارٹیاں جو اس شہر کا مینڈیت لے کے اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں یا عوام جو کے اتنی پریشانیاں اٹھانے کے باوجود بھی خاموش تماشائی بن کے صبر کیے ہوۓ ہیں۔ یہ فیصلہ تو میں پڑھنے والے تمام معززین پے چھوڑتا ہوں۔ ملک کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کبھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھیگ مانگ رہا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں اور فنڈز دینے کے اعلانات اور دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن عملی طورپر کارکردگی صفر ہے۔ جتنا ٹیکس کراچی سے جمع کیا جاتا ہے اگر اس میں سے چند فیصد بھی ایمانداری کے ساتھ اس شہر کی تعمير و ترقی کے لیے خرچ کیا جاتا تو آج اس شہر کا یہ حال نہ ہوتا۔ یہ بات اس شہر کی بدقسمتی سے کم نہیں ہے۔ پاکستان الله کی طرف سے ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے اور کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ریاست اور اربابِ اختیار کی یہ ذمیداری ہے کے کراچی کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پے حل کریں تاکہ یہاں معاشی سرگرمياں میں بھی استحکام پیدا ہوسکے۔ پاکستان کی ترقی کراچی کی ترقی سے جوڑی ہوٸ ہے اور کراچی کا تباہ ہونا پاکستان کا تباہ ہونا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ حکمرانوں کو ہدایت دے اور اس تباہ حال شہر کو مسائل سے پاک کردے۔آمین

  • کرپشن ،بدعنوانی اور رشوت ستانی ایک دیمک ہے      تحریر: شمسہ بتول

    کرپشن ،بدعنوانی اور رشوت ستانی ایک دیمک ہے تحریر: شمسہ بتول

    کرپشن اور رشوت ستانی ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نیچے سے لے کر بڑے تک سب ہی کہیں نہ کہیں اس میں شامل ہیں غرض یہ کہ کلرک سے لے کر افسر تک سب اس میں اپنا اپنا حصہ ڈال رے ہوتے۔ کرپشن ،رشوت یہ وہ بیماریاں ہیں جو دیمک کے طرح ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھا رہی ہیں اور انہیں کھوکھلا کر رہی ہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اب بھی ایمانداری سے اپنے فراٸض ادا کر رہے ہیں جنہوں نے اس لعنت کو نہیں اپنا اور ملک پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں یہ لوگ قابل تحسین ہیں مگر وہ لوگ جنہوں نےکرپشن کی رشوت لی بدعنوانیاں اور بے ضابط گیاں کیں ان کے لیے سخت سے سخت قانون بنایا جاۓ تا کہ کرپشن اور رشوت جیسے ناسور کو ہمارے معاشرے سے ختم کیا جا سکے ۔پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے اس اقدام کی بہت ضرورت ہے
    رشوت لینے کے کٸی طور طریقے ہیں کبھی تو چاۓ پانی کے نام پر اور کبھی یہ کہہ کر کہ جی کام کروانے میں توڑا بہت تو خرچہ کرنا پڑتا ۔
    وہ لوگ جو اداروں میں بیٹھے ہی قوم کی خدمت کے لیے ہیں اور اس کام کی وہ تنخواہ لے رہے ہوتے مگر پھر بھی لوگوں سے رشوت کا مطالبہ کرتے یا تو کہتے کہ کوٸی جان پہچان والا ہے تو سفارش کروا لو اس طرح تمہارا کام جلدی ہو جاۓ گا ورنہ پیسے دو گے تو ہم یہ کریں گےورنہ یونہی تمہارا کام لٹکا رہے گا اور ہر روز دفتر کے چکر لگانے پڑیں گے وغیرہ وغیرہ ۔
    اگر ہم میں سے ہر پاکستان ایمانداری سے اپنا کام سر انجام دے تو میرے خیال سے ہر کام وقت پر ہو گا کوٸی مسٸلہ نہیں ہو گا مگر خود کو افسر کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا کام قوم کی خدمت ہے بروقت اپنے فراٸض سر انجام دینا ہے نہ کہ رشوت اور سفارش کی وجہ سے لٹکا دینا اور دوسروں کو ذہنی ازیت دینا
    صرف سفارش کی بناء پر کسی دوسرے کا جاٸز حق کسی اور کو دے دیا جاتا ہے اور اس طرح میرٹ کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں اور لوگوں کا محنت پر سے یقین اٹھ جاتا ہےاور ایک نااہل دوسرے کے جاٸز حق پر قابض ہو جاتا ہے
    اس طرح معاشرے میں ایک بے یقینی کی فضاء پیدا ہوتی ہے اور مختلف سماجی اور معاشرتی براٸیاں جنم لیتی ہیں۔
    غرض یہ کہ کرپشن، سفارش اور بدعنوانی اب ہمارے معاشرے کا کلچر بن چکی ہے کوٸی اس پر شرمندگی محسوس ہی نہیں کرتا بلکہ دلاٸل دیے جاتے ہیں کہ آج کہ دورمیں تو صرف سفارش ہی چلتی ہے اور اس کے بغیر کوٸی کام نہیں ہو سکتا اور اگر تمہارے پاس کوٸی سفارش نہیں تو تم خالی ہاتھ ملتے ہی رہ جاٶ گے یعنی ایک تو چوری اور اوپر سے سینہ زوری ۔کرپشن نے ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ طاقت کا غیر قانونی استعمال اور قومی خزانے میں غبن کرنا اور ترقیاتی فنڈز کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا ان سب سے ہمارے ملک کی ساکھ اور قومی خزانے کو بہت نقصان پہنچا ہے
    اگر دیکھا جاۓ تو کرپشن اوررشوت بہت سی براٸیوں کی جڑ ہے ۔ ہمیں ان براٸیوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے اور اپنے ملک کی ساکھ کو قومی اور بین الاقومی سطح پر دوبارہ بحال کرنا ہے اور اس کے لیے ہم ب کو مشرکہ کوشش کرنا ہو گی ۔
    کرپشن اور سفارش کی وجہ سے نٸی نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے ان کا اس سسٹم پر سے اور محنت پر سے اعتبار اٹھ رہا ہے جو کہ ایک بہت سنجیدہ مسٸلہ ہے ۔ نوجوان نسل تو قوم کا اثاثہ اور امید ہوتی اگر وہی مایوس ہو کر غلط راستے پر چل پڑی اور اس سسٹم کا شکار ہو گٸی تو یہ بہت نقصان دہ ہو گا۔ اس لیے ہمیں سیاسی ، سماجی طور پر ان براٸیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی تا کہ اس قوم کا مستقبل روشن ہو ✨
    @b786_s

  • لفظوں کی حکومت تحریر : مدثر حسن

    لفظ، الفاظ ہمارے خیالات ،سوچ ضرورت کے اظہار کا ذریعہ ہیں ان کے ذریعے انسان دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اور اپنی ضرورت کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے

    کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے منہ سے ادا ہوئے لفظ بھی اپنی تائثر رکھتے ہیں اور یہ الفاظ ہی دوسرے انسان کے دل ودماغ پر حکومت کرتے ہیں

    اب آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟
    جب ہم کسی سے اچھے الفاظ میں بات کرتے ہیں یا اس کے لیے اچھے اچھے الفاظ بولتے ہیں تو وہ اس انسان کو خوشی دیتے ہیں اسی طرح جب ہم برے یا کھردرے لفظ سے بات کرتے ہیں تو وہ انسان کو دکھی کر دیتے ہیں
    لفظ انسان کی پہچان کرواتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا پر جہاں ہم ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن ان کی وجہ سے ہم اپنے خاندان کا اپنی تربیت کا بتاتے ہیں
    آج کل کے لوگ بنا سوچے سمجھے کسی کو بھی کچھ کہہ دیتے ہیں یا سوچے بغیر کہ ان کے کہے الفاظ سے کسی کی شخصیت ،کسی کی زندگی ،کسی ک کیریئر ،کسی کا کردار مشکوک ہوسکتا ہے کہنے والا تو کہہ کر چلا جاتا ہے جو ان الفاظ کو اور ان کی وجہ سے بھگتاتا ہے یہ وہ جانتا ہے کہ اس پر کیا گزری ۔۔۔۔

    انسان کے الفاظ اس کی وہ طاقت ہیں جس سے وہ کسی کو بھی زندگی بخش سکتا ہے کوئی کتنا بھی دکھی کیوں نہ ہو آپ اس کو اچھے الفاظ میں تسلی دیں گے تو اس کی آدھی پریشانی وہیں ختم ہو جائے گی
    برے لفظ بہت کھردرے اور نوکدار ہوتے ہیں جو اگلے انسان کے دل و دماغ کی دنیا کو تہہ وبالا کر دیتے ہیں

    اگر آپ مالی طور پر اتنے مظبوط نہیں ہیں تو ذہنی طور پر اتنے مظبوط اور امیر ضرور ہوں کہ کسی کو اپنے بہترین الفاظ سے اس کی تکلیف کم کرسکیں
    آج کے اس دور میں جب سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دکھی کرنے میں مصروف ہیں تو کوشش کریں آپ مسیحا بنیں جواپنے الفاظ سے دوسرے کی تکلیف پر مرہم رکھتاہے
    خوش کلامی زبان کا صدقہ ہے
    خوش کلامی انسان کو صراط مستقیم کی طرف لے جاتی ہے
    خوش کلامی انسان کی طاقت ہے
    خوش کلامی تقاضائے ایمان ہے
    اور بطور مسلمان ہمارا یقین ہونا چاہیے کہ

    "قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری نہ ہوگی”

    (حدیث مبارکہ )

    @MudasirWrittes

  • غریب عوام اور امیرسیاستدان   تحریر : وقاص رضوی جٹ

    غریب عوام اور امیرسیاستدان تحریر : وقاص رضوی جٹ

    پاکستان کی تاریخ کاالمیہ رہاہے کہ قیام پاکستان کےبعد جیسےہی بانیان پاکستان اس دنیاسےرخصت ہوۓتو ملک کی باگ ڈور چندامیرزادوں کےہاتھوں میں چلی گٸ۔ پنجاب کےبڑےبڑےجاگیردار ٗ سندھ کے وڈیرے ٗ بلوچستان کے سردار اور خیبرپختونخواہ کے قباٸلی سردار سیاست پر مکمل قابض ہوگۓ۔ ملک میں سیاست کو اس انداز میں مروج کیاگیاکہ کوٸی غریب اور مڈل کلاس سیاست میں آنےکاسوچ بھی نا سکے۔1970 کی دہاٸی میں جو سیاسی جماعتیں وجود میں آٸیں ان کےسربراہ انہیں جاگیرداروں میں سےتھے۔ بعدازاں موروثی سیاست نےایسی جڑیں مضبوط کیں کہ باپ کےبعد بیٹا پھر پوتااور یہ سلسلہ چل نکلا۔اس کی واضح مثال پیپلزپارٹی کی ہے جس کی بنیاد سندھ کے زمیندار ذولفقار بھٹو نے رکھی۔اسکےبعد پارٹی کی باگ ڈور اسکی بیکم نصرت بھٹو کےہاتھ میں چلی گٸ ۔ بعدازاں انکی بیٹی بینظیر بھٹو نے پارٹی پہ قبضہ کیا۔ بینظیر کی وفات کےبعد اس کےشوہرآصف زرداری چٸیرمین بنے۔اب انکے بیٹے بلاول بھٹو چٸیرمین ہیں۔ اور جب کبھی بلاول کسی جلسےمیں شرکت نہ کرسکیں تو اس موقع پہ آصفہ بھٹو کو بھیج دیاجاتاہے۔ اور یہی حال ملک کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کا ہے جس کا صدر پہلےنوازشریف تھاجب وہ جلاوطن ہواتواسکی بیگم مرحومہ کلثوم نوازٗ پھر اب جب نوازشریف جلاوطن ہےتواسکی بیٹی مریم نواز پارٹی چلارہی ہیں۔ایسا کرنا دراصل پاکستان اور اسکے انتہاٸی قابل اور پڑھےلکھےنوجوانوں کی توہین ہے۔ کیا پاکستان کی 22کروڑ آبادی میں سےکوٸی اس قابل نہیں جو شریف اور زرداری خاندان کی جگہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی چلاسکے؟یہ امیر زادے باقی عوام کو کیڑےمکوڑےسمجھتےہیں۔عوام کےٹیکس کےپیسےسےعیاشیاں کرتےہیں۔ پھر پارٹی ٹکٹ بھی ایسےلوگوں کودیتےہیں جو انکو کروڑوں روپےٹکٹ کےعوض دیتےہیں۔ پارٹی ٹکٹ ایسےلوگوں کی دی جاتیں جو بڑےبڑےتاجر ٗ ٗ جاگیردار ٗ وڈیرے ٗ سردار اور ریٹاٸرڈ اور بیوروکریٹس ہوتےہیں۔ جن کےہاتھ کرپشن سےرنگےہوتےہیں۔انہیں غریب کےمساٸل کا زرہ برابر بھی ادراک نہیں ہوتا۔
    ساری زندگی ایٸرکنڈیشنڈ گھر اور مہنگی مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والے بلاول بھٹو کو کیاپتہ کہ تھر کے بچے بھوک پیاس سے مررہےہیں ۔ راٸونڈ کے محلات میں رہنے والی اور کروڑوں کی سرجری مریم نواز کو کیا پتہ کہ ایک غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونےسے شادی کےانتظار میں بوڑھی ہورہی ہے۔
    تین سو کنال کے گھر میں رہنے والے عمران خان کو ان بےگھر افراد کے دکھ کاکیاپتہ جن کےگھر تجاوزات کے نام پر مسمار کردیےگۓاور وہ سر چھپانےکیلیےدر بدر کی ٹھوکریں کھارہےہیں۔ اربوں روپے کے بینک بیلنس رکھنے والے اسد عمر کو ا باپ کےدکھ کاکیا پتہ کہ لاک ڈون کی وجہ جس کی دہاڑی نہ لگنےسےاسکےبچےبھوکے سوتےرہےہوں۔سرکاری خرچ پر حج کرنےوالے پیرنورالحق قادری کو اس 70 سالہ بوڑھی کےدکھ کاکیااحساس نے حج کرنےکیلیے پاٸی پاٸی جمع کرکے 3لاکھ جوڑےتھےکہ حج مہنگا ہوکر 8لاکھ تک پہنچ گیا۔
    ان امیر سیاستدانوں کوغریبوں کا نہ احساس پہلےکبھی تھانہ اب ہے۔اس لیےغریبوں کو اب خود اپنےلیےاوراپنی آٸندہ آنیوالی نسلوں کیلیے آگےبڑھناچاہیےاور سٹیٹس کاخاتمہ کرناچاہیے۔