Baaghi TV

Category: سیاست

  • حکمران اورعدل و انصاف تحریر: مطاہر مشتاق

    حکمران اورعدل و انصاف تحریر: مطاہر مشتاق

    محترم قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ
    پاکستان کا نظام انصاف روزِ اول سے ہی بازارِ حُسن میں کھڑکی کھولے بیٹھی کسی بِکاؤ حسینہ کا سا ہے اور اسکے بعض سربراہان عین نائقہ کی سی عکاسی کرتے ہوئے اپنی آخری آرام گاہوں کو جہنم بنا کر اسمیں غریق ہو چکے ہیں،
    اس نظام نے محمد علی جناح کے بعد آج تک کوئی ایسا انسان حکمران نہیں بننے دیا جو کہ صرف غریبوں کو اوپر اٹھانے،قوم کو یکجاء کرکے ملک کو مستحکم کرنے میں سنجیدہ ہو،
    اس ملک کا المیہ یہ ہے ایسے قاضی جنہوں نے آئین و قانون پر سختی سے عمل کیا اور کروایا وہ تعداد میں اتنے کم ہیں کہ انکو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر ہی گِنا جا سکتا ہے،
    کیونکہ جہاں اشرافیہ اقتدار کی مالک ہو وہاں انصاف ہونا ناممکن ہے جہاں امیر کو غریب پر فوقیت ہو،طاقتور کے لیے انصاف کا ترازو جھول کھائے، غریب اور بے سہارا کو کوئی سہارا دینے والا انصاف دینے والا نا ہو،اس ملک میں جینا محال ہو جاتا ہے،
    جیسا کہ ماضی میں اس ملک کو ایسے ایسے نگینے بھی میسر آئے ہیں کہ جنکا نام لیتے وقت باضابطہ چہروں پر کوفت لانی پڑتی ہے،
    کہنے کو تو سربراہ ایسے بھی گزرے ہیں کہ جنہوں نے زیارت میں موجود اپنی آخری سانسیں پوری کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کو چالاک بڈھے جیسے القابات سے نوازا،
    مادرِ ملت فاطمہ جناح تک کو تادمِ مرگ ازیت پہنچائی،
    اس ُملک کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کیوجہ سے دو لخت کردیا،
    سرعام منشیات اور اسلحہ کلچر کی بھرمار کو پھلنے پھولنے کے لیے سازگار ماحول دیا،
    پھر ایسے کرپٹ وطن فروش بھی اس مُلک نے جھیلے جنہوں نے روئے زمین پر شائد ہی کوئی جگہ ہو جہاں اس ملک کو لوٹ کھسوٹ کر اپنی دولتوں کے انبار نا لگائے ہوں،
    شاید وہ وقت اب دوبارہ نا آئے جیسا کہ ایک آمر کو اللہ نے موقع دیا تھا اس مُلک کی تقدیر سنوار کر ایسے عناصر سے ملک و قوم کی مستقل جان چھڑا دے مگر اس نے بھی اپنے اقتدار کی حوس کو پورا کرنے کی خاطر این آر او جیسے مکروہ حربے کے زریعے انکو مزید اس ملک کو لوٹنے کے سنہری موقع دئیے،
    جسکا خمیازہ اس ُملک و قوم نے اربوں ڈالر کے قرضے،دہشت گردی،انسانی حقوق کی خلاف ورزی،معصوم بچوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے کیسز،مہنگائی،بے روزگاری،کرپشن،و دیگر معاشرتی جرائم کی صورت بُھگتا،اور آج بھی بھگت رہے ہیں،
    موجودوہ حکومت اپنے تبدیلی کے نعرے کو لیکر تین سال سے تگ و دو میں ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی گندگی اور غلاظت قرضے کو سمیٹ کر ختم کر سکے،مگر اس دوران بھی مہنگائی کا ایسا طوفان آیا ہے کہ جس نے غریب کا سانس لینا محال کر رکھاہے،
    اس میں بعید نہیں کہ اس میں ساٹھ فیصد پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ بھی ہے،مگر اس حکومت سے بیورو کریسی آجتک مکمل کنٹرول میں نہیں آئی،جو کہ آج بھی ماضی کی حکومتوں سے ہمدردی اور اپنی کرپشن کا مان رکھتے ہوئے عہدو و پیماں نبھانے میں مصروف ہے،
    اگر حکومت کرپٹ لوگوں کو این آر او دینے سے گریزاں ہے تو وہ عدالتوں سے ریلف لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،
    یہاں آکر پھر نظام انصاف میں ایسے سقم مجرم کے لیے تازہ ہوا کے جھونکے ثابت ہوتے ہیں جنکی بنا پر وہ دندناتے ہوئے پھر باھر نکل آتے ہیں،
    ناجانے کب اس ملک کو ایسے قاضی اور ایسے حکمران میسر ہونگے جنکا مقصد اس ُملک سے وفاداری ہوگا،
    ہماری یہ دُعا ہے کہ اللہ اس ملک کو اس کے اداروں کو ہمیشہ امان میں رکھے،

    @iamMutahir4

  • خرابیوں کی اصل جڑ حکومت کی خرابی تحریر: محمد معوّذ

    خرابیوں کی اصل جڑ حکومت کی خرابی تحریر: محمد معوّذ

     

    دنیا میں آپ جتنی خرابیاں دیکھتے ہیں ان سب کی جڑ دراصل حکومت کی خرابی ہے ۔ طاقت اور دولت حکومت کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ قانون حکومت بناتی ہے ۔ انتظام کے سارے اختیارات حکومت کے قبضے میں ہوتے ہیں ۔ پولیس اور فوج کا زور حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ لہذا جو خرابی بھی لوگوں کی زندگی میں پھیلتی ہے وہ یاتو و حکومت کی پھیلائی ہوئی ہوتی ہے ، یا اس کی مدد سے پھیلتی ہے ، کیونکہ کسی چیز کو کھیلنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ حکومت ہی کے پاس ہے ۔

    مثال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ زنا دھڑلے سے ہو رہا ہے۔اور علانیہ کوٹھوں پر بیکاروبار جاری ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکومت کے اختیارات جن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ، ان کی نگاہ میں زنا کوئی جرم نہیں ہے ۔ وہ خود اس کام کو کرتے ہیں اور دوسروں کو کرنے دیتے ہیں ، ورنہ وہ اسے بند کرنا چاہیں تو یہ کام اس دھرلّے سے نہیں چل سکتا ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سود خواری کا بازار خوب گرم ہو رہا ہے اور مال دار لوگ غریبوں کا خون چوستے چلے جاتے ہیں ۔ یہ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ حکومت خودسود کھاتی ہے اور کھانے والوں کو مدد دیتی ہے ۔ اس کی عدالتیں سودخواروں کو ڈگریاں دیتی ہیں اور اس کی حمایت ہی کے بل پر یہ بڑے بڑے ساہوکارے اور بینک چل رہے ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں بے حیائی اور بداخلاقی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ یہ کس لیے ؟ محض اس لیے کہ حکومت نے لوگوں کی تعلیم وتربیت کا ایسا ہی انتظام کیا ہے اور اس کو اخلاق اور انسانیت کے وہی نمونے پسند ہیں جو آپ کو نظر آرہے ہیں کسی دوسرے طرز کی تعلیم وتربیت سے آپ کسی اورنمونے کے انسان تیار کرنا چاہیں تو ذرائع کہاں سے لائیں گے ؟ اور تھوڑے بہت تیار کر بھی دیں تو وہ کھپیں گے کہاں ؟ رزق کے دروازے اور کھپت کے میدان تو سارے کے سارے بگڑی ہوئی حکومت کے قبضے میں ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بے حدوحساب خون ریزی ہورہی ہے ۔ انسان کا علم اس کی تباہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انسان کی محنت کے پھل آگ کی نذر کیے جارہے ہیں اور بیش قیمت جانیں مٹی کے ٹھیکروں سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ ضائع کی جارہی ہیں ۔ یہ کس وجہ سے ؟ صرف اس وجہ سے کہ آدم کی اولاد میں جولوگ سب سے زیادہ شریر اور بد نفس تھے وہ دنیا کی قوموں کے رہنما اور اقتدار کی باگوں کے مالک ہیں۔ قوت ان کے ہاتھ میں ہے ، اس لیے وہ دنیا و جدھر چلارہے ہیں اسی طرف دنیا چل رہی ہے ۔ علم دولت محنت ، جان ، ہر چیز کا جو مَصرف انھوں نے تجویز کیا ہے اس میں ہر چیز صَرف ہورہی ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف ظلم ہورہا ہے ، کمزور کے لیے کہیں انصاف نہیں غریب کی زندگی دشوار ہے ۔ عدالتیں بنئے کی دوکان بنی ہوئی ہیں جہاں سے صرف روپے کے عوض ہی انصاف خریدا جاسکتا ہے ۔ لوگوں سے بے حساب ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور افسروں کی مہانہ تنخواہوں پر، بڑی بڑی عمارتوں پر، لڑائی کے گولہ بارود پر اور ایسی ہی دوسری فضول خرچیوں پراڑا دیے جاتے ہیں ۔ ساہوکار زمین دار ، راجہ اور رئیس خطاب یافتہ اور خطاب کے امیدوار عمائدین ، گدی نشین پیر اور مہنت ، سینما کمپنیوں کے مالک شراب کے تاجر، فحش کتابیں اور رسالے شائع کرنے والے ، جوئے کا کاروبار چلانے والے اور ایسے ہی بہت سے لوگ خلق خدا کی جان ، مال ، عزت ، اخلاق ، ہر چیز کو تباہ کر رہے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے ؟ صرف اس لیے کہ حکومت کی کل بگڑی ہوئی ہے ۔ طاقت جن ہاتھوں میں ہے ، وہ خراب ہیں ۔ وہ خود بھی ظلم کرتے ہیں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیتے ہیں ، اور جو ظلم بھی ہوتا ہے اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اس کے ہونے کے خواہش مند یا کم از کم روادار ہیں ۔

    ان مثالوں سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔ لوگوں کے خیالات کا گمراہ ہونا ، اخلاق کا بگڑنا ، انسانی قوتوں اور قابلیتوں کا غلط راستوں میں صَرف ہونا ، کاروبار اور معاملات کی غلط صورتوں اور زندگی کے بُرے طور طریقوں کا رواج پانا ظلم و ستم اور بد افعالیوں کا پھیلنا اور خلقِ خدا کا تباہ ہونا ، یہ سب کچھ نتیجہ ہے اس ایک بات کا کہ اختیارات اور اقتدار کی کنجیاں غلط ہاتھوں میں ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب طاقت بگڑے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی اور جب خلقِ خدا کا رزق انھی کے تصّرف میں ہوگا تو وہ نہ صرف خود بگاڑ کو پھیلائیں گے ، بلکہ بگاڑ کی ہر صورت ان کی مدد اور حمایت سے کھیلے گی اور جب تک اختیارات ان کے قبضے میں رہیں گے کسی چیز کی اصلاح نہ ہو سکے گی ۔

     

    @muhammadmoawaz_

  • ہماری جیت جمہوریت آپ کی جیت سازش تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ہماری جیت جمہوریت آپ کی جیت سازش تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    پاکستان کی تاریخ میں آمریت اور جمہوریت دونوں دور اس قوم نے دیکھے ہیں 

    بے شک بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے لیکن اس آمریت اور جمہوریت کے درمیان میں ہمارے ملک میں بادشاہت کا دور بھی دیکھا گیا جسے جمہوریت کا لبادہ پہنایا گیا 

    جمہوری دور وہی کہلائے گا جو عوامی طاقت سے اقتدار میں آئے اور عوامی رائے کا احترام کیا جائے ،ایک جمہوریت پسند انسان کبھی عوامی رائے کے خلاف نہیں جاسکتا 

    ہمارے ملک میں وہ سیاسی جماعتیں جو خود کو جمہوریت کی علمبردار سمجھتی ہیں خود ان کے اندر بھی جمہوریت کہیں نظر نہیں آتی کہیں پارٹی نانا سے نواسے کو منتقل ہوتی ہے تو کہیں باپ سے بیٹی کو ان کی پارٹی کا سربراہ  ایک عام ورکر کبھی نہیں بن سکتا چاہے اس نے اپنی پوری زندگی اس پارٹی کے نام ہی کیوں نا کردی ہو 

    پھر بھی اسے وہ مقام نہیں ملتا جو پارٹی سربراہ کے اپنے بچوں کو ملتا ہے پھر چاہے ان بچوں نے سیاست میں وقت گزارا کوئ سیاسی جدوجہد کی ہو یا نہیں 

    جب اس ملک میں دو جماعتیں باری باری اس ملک پر حکمرانی کرتی آئ تب تک ان دونوں جماعتوں کے نزدیک سب اچھا ہے ہمارے ادارے ،اسٹیبلشمینٹ بھی اچھی ،عدالتی نظام بھی بہتر اور ملک میں خالص جمہوریت تھی 

    لیکن پھر جیسے ہی تیسری پارٹی میدان میں اتری ان دو پارٹی سسٹم کو چیلنج کیا ،عوامی حمایت حاصل کی تو ان دونوں باریاں لینے والی جماعتوں کے نزدیک اب ادارے بھی خراب ہوگئے ،اسٹیبلشمینٹ بھی خراب اور جمہوریت کے خلاف سازش بھی نظر آنے لگ گئ 

    تین تین بار سے بھی ذیادہ باریاں لینے والوں سے عدالت نے حساب مانگا تو وہاں بھی بجائے حساب دینے کے ان کو سازش کی بو آنے لگ گئ ،عوام نے تیسری پارٹی کو ووٹ دیئے تو وہاں بھی سازش نظر آنے لگی ان کو 

    حالانکہ جمہوری روایات کے مطابق تو ان دو جماعتوں کو تیسری جماعت کے ووٹوں اور عوامی انتخاب کو کھلے دل سے تسلیم کرکے اپنے اندر کی وہ غلطیاں اور خامیاں درست کرنی چاہیے تھی جن کی وجہ سے عوام نے ان کو مسترد کیا 

    لیکن اس ملک میں باری باری حکومت کرنے والی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ جب تک ہم جیت نا جائیں ،ہماری حکومت نا آجائے تب تک ہر الیکشن دھاندلی زدہ سمجھا جائے گا آنے والے حکومت یا ملکی اداروں سب میں جمہوریت کے خلاف کوئ سازش نظر آنی ہے 

    باریاں لینے والی جماعتوں کا اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد کے حالات دیکھیں تو ان کی مالی حالت کس طرح بہتر ہوئ یہ اندازہ ایک عام پاکستانی بھی اچھی طرح لگاسکتا ہے ،جس جمہوریت میں ان لوگوں کو عوام کی خدمت کرنی چاہیے تھی ،ملک کی معاشی حالات بہتر کرنے تھے یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا نا عوام کے حالات بدلے اور نا ہی اس ملک نے کوئ خاص ترقی کی البتہ ملک قرضوں کی دلدل میں ضرور دھنستا چلا گیا ،صحت کا نظام اتنا برباد ہوا کہ تین تین بار حکمرانی کرنے والوں کو اپنا علاج باہر سے کروانا پڑ رہا ہے ،اپنا علاج باہر سے کروانے والوں نے کبھی سوچا کہ میرا غریب ووٹر خدانخواستہ اسی بیماری میں مبتلا ہوا جس میں وہ خود ہے تو کیسے وہ پاکستان میں علاج کروا پائے گا کون سا ایسا اسپتال ہم نے بنوایا ہے جس میں عام ووٹر اور ہمارا اپنا علاج ہوسکے 

    حکمرانی پاکستان میں اور اپنی جائیدادیں ،کاروبار سب ملک سے باہر ،ملک کا وزیراعظم اور وزیر خارجہ کسی دوسرے ملک میں اقامے پر کوئ عام سی  نوکری کررہے ہوں ،جائیدادیں اتنی بنالی لیکن رسیدیں نہیں ،بچے ان کے پاکستانی نہیں ،حکومت ختم ہوتے ہی ملک سے فرار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ جمہوریت کا نعرہ لگائیں ،ووٹ کی عزت کا نعرہ لگاتے لگاتے اپنی لوگوں کو مک مکا کرنے کے لئے اسٹیبلشمینٹ کے پاس بھی بھیجتے رہیں ،عمران خان کی حکومت گرادو تو اسٹیبلشمینٹ سے بات بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ایسا سب کچھ کس جمہوریت میں ہوتا ہے ،کیا عوام آپ کی غلام تھی جو تاحیات صرف آپ کو ووٹ دیں بے شک آپ کرپشن کریں ،ملک کو معاشی لحاظ سے تباہ کردیں ،قرضے لے کر اپنی جائیدادیں بنائیں اور ملک مقروض ہوکر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے ،عوام کے لئے صحت ،تعلیم ،خوارک جیسی بنیادی ضروریات بھی نا ہوں اور خود دن بدن اربوں ،کھربوں کی جائیدادوں کے مالک بن جائیں لیکن پھر بھی آپ یہ امید رکھیں کہ عوام ہمیں ووٹ دیں ،پی ٹی آئ کو ووٹ دیا تو اسے ہم جمہوریت کے خلاف سازش سمجھیں گے ،عدالتیں ہم سے حساب نا مانگیں ،بس تاقیامت ہمیں ہماری اولادوں کو عوام ووٹ دیں اور ہم جمہوریت کے نام پر اس ملک پر بادشاہت کریں 

    اصل بات تو یہ ہے کہ ان دونوں باریاں لینی والی جماعتوں پپلزپارٹی اور ن لیگ کو اب اپنا رویہ جمہوریت پسندانہ بنانا پڑے گا ،عوامی رائے کا احترام کرنا پڑے گا ،اپنی ماضی کی حکومتوں میں کی گئ کرپشن ،لوٹ مار اور بادشاہت کا حساب دینا چاہیے 

    پاکستان کے وہ تمام ادارے جن پر اس وقت آپ کو اعتماد نہیں یہی ادارے آپ کے دور میں بھی تھے تب آپ نے ان کو ٹھیک کرنے کے لئے کیوں کچھ نہیں کیا ،الیکشن میں دھاندلی کا رونا رونے سے بہتر تھا اپنے دور میں الیکشن کا نظام بہتر بناتے یا اس وقت پی ٹی آئ حکومت آپ کو الیکشن ریفارمز کے لئے مل بیٹھنے کی بات کررہی ہے تو یہ اچھا موقعہ ہے بیٹھیں اپنی تجاویز دیں الیکشن کا نظام بہتر بنائیں اور پھر ہمت پیدا کرکے ہار ہو یا جیت کھلے دل سے تسلیم کریں 

    پاکستان میں دھاندلی کا رونا تو ہمیشہ سے رویا گیا لیکن کیونکہ اس وقت کی دھاندلی سے آپ جیت کر حکومت بنالیتے تھے تو سب کچھ اچھا تھا اب آپ ہارنے لگے تو الیکشن میں دھاندلی اور جمہوریت کے خلاف سازش نظر آنے لگ گئ 

    اب ایسا نہیں چلے گا بڑے ہوجائیں  اور کھلے دل سے جمہوری حکومت کو تسلیم کرنا سیکھیں 

  • سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی جیت – تحریر: یاسر اقبال

    سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی جیت – تحریر: یاسر اقبال

    سیالکوٹ پاکستان کا ایک اہم شہر ہے جو پاکستان کے صنعت میں ایک کا بڑا حصہ رکھتا ہے یہاں کافی مقدار میں برآمدی اشیا جیسا کہ سرجیکل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور کپڑا پیدا کرتا ہے سیالکوٹ کو شہر اقبال بھی کہا جاتا ہے، عظیم شاعر، قانون دان اور مفکر علامہ محمد اقبال 9 نومبر1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اس کے ساتھ اکثر سیالکوٹ میں سیاسی پارہ بھی گرم رہتا ہے اور بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کا مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے جیسا کہ پی پی 38 کے ضمنی انتخاب میں دیکھنے کو ملا پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 38 کا ضمنی انتخاب 28 جولائی 2021 کو ہوا جس میں پی ٹی آئی اور ن لیگ سمیت کئی سیاسی حریفوں کے درمیان 165 پولنگ اسٹیشنوں پر مقابلہ ہوا سیالکوٹ میں بارش کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے ہر پولنگ اسٹیشن پر آئی، اس دوران سیاسی کارکنوں میں تلخ کلامی کے کچھ واقعات بھی رونما ہوئے۔ پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان آمنے سامنے آگئے، رینجرز کے جوانوں نے مشتعل کارکنان میں بیچ بچاؤ کرایا۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 233،422 تھی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان امیدوار احسن سلیم بریار اور مسلم لیگ ن کے امید وار چوہدری سجانی نے اپنی اپنی جماعت کی نمائندگی کی۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف فتح حاصل کر پائی اور مسلم لیگ ن کو شکشت ہوئی۔ غیر حتمی غیر سركاری کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امید وار احسن سلیم بریار نے 60 ہزار 588 ووٹوں کے ساتھ اگے رہے اور حلقہ پی پی 38 کے ضمنی انتخاب میں کامیابی سمیٹ لی جبکہ مسلم لیگ ن کے امید وار 53 ہزار 471 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے اور مسلم لیگ ن کو 7 ہزار 117 ووٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھوں شکشت ہوئی۔ پیپلز پارٹی جو کہ پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن اس کے باوجود پیپلزپارٹی کے ووٹرز نہ ہونے کے برابر تھے۔ پیپلز پارٹی کا امیدوار محمّد قدیر کا ساتواں نمبر رہا اور اس کے حصے میں صرف 597 ووٹ آئے۔ جبکہ آزاد امیدوار طاہر محمود ھندلی 12 ہزار 488 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے سات ہزار 117 ووٹوں کی لیڈ سے فتح حاصل کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی کارکنوں نے خوب جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا جبکہ خوشی سے آپس میں مٹھائیاں بھی بانٹی گئیں۔ یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ حلقہ 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے رہنما اختر سبحانی کے نام رہا تھا اور ان کی وفات کے باعث خالی ہوا تھا۔

    تحریک انصاف کے پی پی 38 ضمنی انتخابات میں کامیابی پر وزیر اعظم عمران خان بھی کافی خوش نظر آئے اور اس نے وزیر اعلی پنجاب کے معاون خصوصی (ایس اے سی ایم) فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی اور انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس کے اپنے شہر سیالکوٹ میں اس کے خدمات نے پارٹی کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ سیالکوٹ کی پی پی 38 نشست جیتنے پر معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عوام نے قومی خزانہ لوٹنے والوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انتخابات میں سیالکوٹ کے عوام نے مسلم لیگ ن کا بیانیہ مسترد کردیا۔ پی پی 38 کے اس جیت پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اپنے سیاسی حریفوں کو خوب نشانے پر رکھا اور اس کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں حق اور سچ کی فتح ہوئی نتائج نے ثابت کردیا پاکستانی سیاست میں اب چوروں اور لٹیروں کی کوئی گنجائش نہیں عوام ریاست مخالف بیانیے سے متنفر ہوچکے ہیں پے در پے شکست کے بعد انہیں منفی سیاست سے توبہ کر لینی چاہئے

    پاکستان تحریک انصاف کے اقبال کے شہر میں جیت پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کے اظہار پر سیالکوٹ کے عوام خصوصاً پی پی 38 کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستان تحریک انصاف نے مخالف جماعت کی نشست جیت کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں صرف دیانتداری کی ہی سیاست چلے گی۔ ثابت ہو گیا ہے کہ عوام شفاف اور عوام کی خدمت کرنے والی مخلص قیادت کے ساتھ ہیں۔ وزیراعلیٰ کا اپنی حکومتی کا بھی تذکرہ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی اب تک کی شاندار کارکردگی کی بدولت سیالکوٹ کے عوام نے ان کو اس ضمنی الیکشن میں سرخرو کیا ہے۔ کامیابی نئے پاکستان اور تبدیلی کے ایجنڈے کی جیت ہے۔ امید ہے کہ احسن سلیم بریار حلقے کے عوام کی نمائندگی کا بھرپور حق ادا کریں گے۔ سیالکوٹ الیکشن میں شفافیت کا بول بالا ہوا ہے۔

    یہ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا ضمنی الیکشن تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت ہوئی اس سے پہلے باقی 2018 کے انتخابات کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے اس میں پاکستان تحریک انصاف کو شکست ہوئی۔ اقبال کے شہر سیالکوٹ کے عوام اپنے نوجوان نمائندہ احسن علیم بریار سے تبدیلی کے امید پر ہے کہ وہ شہر اقبال کی ترقی میں اپنا پورا حصہ ڈالیں گے اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرینگے۔ وسلام

    Twitter:
    ‎@RealYasir__Khan

  • بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی تحریر: ڈاکٹر ذکاءاللہ

    بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی تحریر: ڈاکٹر ذکاءاللہ

    عمران خان نے جب1971 میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تو وہ پہلے میچ میں بری طرح ناکام ھوگیا لیکن ہمت نہیں ھاری محنت جاری رکھی
    جب 4سال بعد دوبارہ ٹیم میں آے تو ایک نیے ولولے اور جوش سے کھیلے
    جاوید میانداد جیسے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ھوے اپنے آپ کو ایک بہترین کھلاڑی اور لیڈر منوایا
    ویسٹ انڈیز کے خلاف 1979میں کھیلی جانی سیریز تاریج کا حصہ ھے
    جب پوری دنیا کے بیٹسمین کالی آندھی سے مشہور باولنگ اٹیک کا نام سنتے تو ضرور انہیں جھٹکا لگتا ھوگا کیونکہ جس ٹیم کی باولنگ لاین اپ میں مایکل ھولڈنگ اور میلکم مارشل جیسے تیز باولر ھوں وھاں پریشانی اورخوف معمولی بات ھے  اور دوسری طرف اس دور کے خطرناک سر ویون رچرڈ جیسے بلے باز جو کسی باولر کو خاطر میں نہ لاتے ان کے خلاف کھیلی جانی ٹیسٹ سیریز میں عمران خان نے اپنی بہترین پرفارمنس سے دنیا کو حیران کردیا تھا
    وھی کالی آندھی جس کے خلاف ساری ٹیمیں کھلینے سے گھبراتی تھی بھارت جیسی ٹیم کے ایک اننگز میں چھ کھلاڑی بیٹنگ کے دوران زخمی ھوکر پویلین واپس آے اور بھارت کی ٹیم بہت بری شکست سے ٹیم دوچار ھویی تھی
    وھاں عمران خان کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت نہ صرف پاکستان نے ٹیسٹ سیریز برابر کھیلی بلکہ پوری دنیا میں اپنی دھاک بھی بٹھایی
    اپنی کرکٹ کیریر کے اختتامی دور  میں پاکستان کو عالمی کپ جیسا تحفہ بھی دیا
    سیمی فاینل اور فاینل میچ میں جلد وکٹ گر جانے سے بیٹنگ میں نمبر تین پر کھیلتے ھوے بہترین اننگز کھیلیں اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا
    فاینل میں  کندھے میں درد کے باوجود پین کلر ٹیکہ لگوا کر نہ صرف کھیلے اور کپتانی کی بلکہ درد کے باوجود باولنگ بھی کرایی اور آخری وکٹ بھی حاصل کی
    شوکت خانم جیسے ناممکن نظر آنے والے پروجیکٹ کو اپنے زور بازو سے بنوایا
    پہلے الیکشن میں صفر سیٹ سے ناکام رہنے والے کپتان نے اب تک 7 اکاییوں میں سے 6 اکاییوں پر حکمران ہیں صرف سندھ کو فتخ کرنا ھے گلگت بلتستان اور کشمیر الیکشن کے بعد  اب سندھ الیکشن جیتنا نہایت آسان دکھایی دے رھا ھے مقابلہ کویی بھی ھو کپتان ہمیشہ چیلنج قبول کرتے ہیں
    یہی  وجہ ھے کہ  عمران خان کو بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی کہا جاتا ھے

    @KHANKASPAHI1

  • حب آف منی لانڈرنگ  تحریر: محمد اسعد لعل

    حب آف منی لانڈرنگ تحریر: محمد اسعد لعل

    پیسہ ہاتھ کی میل سمجھا جاتا ہے اگر یہ پیسہ ناجائز طریقہ سے کمایا جائے تو ہاتھ کے ساتھ ساتھ نصیب بھی میلا کر دیتا ہے۔منی لانڈرنگ ایک کالا دھندا ہے جس میں غیر قانونی طریقوں سے کمائے گئے کالے پیسے کو سفید میں بدلا جاتا ہے۔جب کوئی مجرمانہ کاروائی سے پیسے کماتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس پیسے کی غیر قانونی حیثیت عیاں نہ ہو۔پیسے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے اس کی ابتداء کو چھپایا جاتاہے۔
    پاکستان کا پیسہ، انڈیا کا پیسہ، افغانستان کا پیسہ اور دنیا کے غریب ممالک یا ترقی پزیرممالک کا پیسہ کون اور کیسے کھا جاتاہے؟آخر منی لانڈنگ ہو کہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟
    اس کے اوپر عالمی سطح پر کام شروع ہوا ہے، پاکستان نے اس معاملے کو اُٹھایا ۔اس سے پہلے کو ئی اور اس بارے میں بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔دنیا کے حکمران اس پر بات کیوں نہیں کرتے یہ ایک اہم سوال ہے۔
    برطانیہ کو منی لانڈرنگ کا حب سمجھا جاتا ہے۔برطانیہ کیسے دنیا بھر کا پیسہ اکٹھا کرتا ہے اس پر ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کا جو گندا پیسہ ہےوہ کچھ مددگار کمپنیوں کے ذریعے سے "یو کے” میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔اور پھر دو نمبر طریقے سے "یو کے” کے آف شور سنٹرز تک یہ پیسہ پہنچتا ہے۔ اس پیسہ کوپھر برطانیہ کی لگژری قسم کی پراپرٹیز میں انویسٹ کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے یہ پیسہ ان ممالک سےجہاں پر کرپشن کی گئی ہو، برطانیہ پہنچایا جاتا ہے۔برطانیہ میں اس پیسے کو آف شور کمپنیز میں چھپایا جاتا ہے پھر اس پیسے سے آف شور کمپنیز کے ذریعے پراپرٹیز خریدی جاتی ہیں ، لیکن یہ پتا نہیں چلتا کہ پراپرٹیز کس کی ہیں۔ مثال کے طور پہ برطانیہ میں ایک آدمی کے پاس دس ارب کی پراپرٹی ہے مگر وہ اس کے اپنے نام پر نہیں لی ہوئی۔اس نے پاکستان یا کسی دوسرے ملک سے پیسہ منی لانڈنگ کر کے برطانیہ پہنچایا ، برطانیہ میں وہ پیسہ آف شور کمپنی میں ڈالا گیا ۔اب آف شور کمپنی کا مالک کون ہے یہ کسی کو نہیں پتا۔ وہ کمپنی پراپرٹیز خرید لیتی ہے۔ اب مالک اور پراپرٹیز کے درمیان ایک آف شور کمپنی آ جاتی ہے لحاظہ اصل مالک کا کسی کو پتا ہی نہیں چلتا۔یہ وہ طریقہ واردات ہے۔
    برطانیہ میں داخل ہونے والی دو نمبر رقم کا پیمانہ سالانہ اربوں پاؤنڈ سے کہیں زیادہ ہے۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ برطانیہ حکومت ان منی لانڈرز کا دفاع کیسے کرتی ہے۔
    برطانیہ کی گولڈن ویزہ کی ایک پولیسی ہے۔جو بدعنوانی کے اور کرپشن کے پیسوں کو ملک کے اند خوش آمدید کہتی ہے۔اس پولیسی کے تحت اگرآپ کے پاس دو ملین پونڈز ہیں تو آپ برطانیہ کا گولڈن ویزہ لے کر وہاں جا کر کاروبار کر سکتے ہیں ۔اپنا پیسہ وہاں لگائیں کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔تین چیزیں جو برطانیہ کے قانون کے اندر موجود ہیں جن کی وجہ سے منی لانڈرنگ کا پیسہ پکڑا نہیں جاتا۔
    نمبر 1: برطانیہ کا قانون کمپنی مالکان کا نام چھپانےکی اجازت دیتا ہے۔مثال کے طور پر میں برطانیہ میں کوئی اربوں روپے کی پراپرٹی میں رہتا ہوں ۔یہ تو سب کو پتا چل جائے گا کہ اس پراپرٹی میں رہتاکون ہے پر وہ اس پراپرٹی کا مالک نہیں ہے اب مالک کون ہے؟ وہ کوئی آف شور کمپنی ہے اور آف شور کمپنی کا مالک کون ہے اس کا پتا برطانوی قانون نہیں لگنے دیتا۔
    نمبر2: پولیس اس چیز کو ڈیٹیکٹ نہیں کر سکتی کہ ان کمپنیوں کی ناجائز دولت کی ابتداء کیسے ہوئی۔
    نمبر3اور آخری چیز جو برطانیہ کے قانون میں اس غیرقانونی پیسے کو سپورٹ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی کمپنیوں کا رازداری کا نظام عالمی سطح پر معاشی جرائم کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
    امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ جو 2017 میں شائع ہوئی جسکے مطا بق پاکستان سے ہر سال دس ارب امریکی ڈالرمنی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے باہر پہنچ جاتے ہیں۔
    وزیراعظم عمران خان نے 2020 میں اقوامِ متحدہ کے ایک پینل سے کچھ مطالبات کیے تھے ان میں سے 4 مطالبات بہت مقبول ہوئے۔
    انہوں نے پہلا مطالبہ یہ کیا کہ ایسے مالی ادارے جو اس طرح کی رقوم حاصل کرتے ہیں ان کو بھی قانون کے دائرے میں لانا چاہیے۔
    دوسرا ،ترقی پزیر ممالک سے لوٹا گیا پیسہ انہیں واپس ہونا چاہیے۔
    تیسرا ،بین الاقوامی برادری کو غیر قانونی دولت کے بہاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اُٹھانے کے لیے نئے قوانین بھی بنانے چاہیں۔
    چوتھا، اگر کسی بھی متاثرہ ملک کی غیر ملکی آف شورکمپنی کی تحقیقات ہو رہی ہےتو پھر برطانیہ یا وہ ملک جہاں یہ کمپنی موجود ہے،اس آف شور کمپنی کی اونر شپ کو ظاہر کر دے۔
    اب بین الاقوامی ادارے بھی اس پر بات کر رہے ہیں ۔برطانیہ نے کچھ نئے قوانیں بنائے ہیں کچھ اور ملک اس بارے میں سوچ رہے ہیں پر ابھی بھی وہ ان پیسوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دباؤ بڑھتا جائے ، کمزور اور غریب ملک مل کر آواز اُٹھائیں کے ہمارا پیسہ واپس کرو تو شائد اُن کا پیسہ واپس آ جائے۔لیکن اس کے لیے ہم آواز ہونے اور بین الاقوامی انصاف کی ضرورت ہے۔
    ہمیں اب اس مسلہ کے حل کی طرف آنا چاہیے۔سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ برطانیہ کرپٹ سیاستدانوں کی دولت کی حفاظت کرتا ہےاور بدلے میں ان ممالک کے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔دوسرا برطانیہ غریب ملک کے پیسے پر موج کر رہا ہےاگر تمام غریب ملک اپنا پیسہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں تو برطانیہ دھرم سے نیچے آجائے گا۔
    برطانیہ پاکستان سے لوٹا گیا پیسہ اپنے بنکوں میں ڈال رہا ہے اور جس کی قیمت پاکستانی عوام ترقی میں رکاوٹ کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔برطانیہ اور امریکہ اب اس بات کو سمجھیں غریب ملک کی عوام اپنی غربت،پریشانیاں اور پسماندگی کے لیےنہ صرف اپنے نااہل اور کراپٹ حکمرانوں کو ذمےدار سمجھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان ممالک کو بھی ذمے دار سمجھنے لگ گے ہیں جہاں پر یہ پیسہ لے جا کر چھپایا جا رہا ہے۔ جتنا جلدی یہ ممالک اس بات کو سمجھیں گے یہ ان کے لیے بھی اچھا ہو گا اور غریب ممالک کے لیے بھی بہتر ہو گا ورنہ غربت بڑھتی چلی جائے گی اور دنیا نئی لڑائیوں کی طرف دھکیلی جائے گی۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست  تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    پاکستانی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے مشہور ہے۔حالانکہ یہ دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی ہوتا ہے۔مگر جس طرح کی بے اصولی اور مفادات ہماری سیاست میں نظر آتے ہیں۔وہ شائد ہی کہیں اور ہوں۔
    ان بے اصولیوں کا تاریخی مظاہرہ کرنے والی ،دہائیوں سے ایک دوسرے کی حریف سمجھی جانے والی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سر فہرست ہیں۔
    وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ یہ اندر سے ایک ہیں،انہوں نے لوٹ مار کے لئے باریاں مقرر کر رکھی تھیں۔
    مل بانٹ کے کھانا ان کی سیاست کا بنیادی اصول تھا۔
    ایک دوسرے کو غدار کہا گیا،
    ایک دوسرے کی خواتین کی عزتوں کو سر بازار رسوا کیا گیا۔
    مگر جب اپنے مفادات کو بچانے کی نوبت آئ تو ایک دوسرے کے حق میں نعرے بلند کر دئیے گئے۔مزاروں پر جا کر سجدہ ریز ہو کر منافقت کو شرمندہ کیا گیا۔
    جب ایک دوسرے سے مفادات ٹکراۓ تو پھر سے ایک دوسرے کے لتے لینے شروع کر دئیے گئے۔
    ان سب لڑائیوں کے دوران اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ معرکہ مسلم لیگ کے اندر -ن اور ش -میں چل رہا ہے
    یہ کشمکش چچا اور بھتیجی کے مختلف نظریات کی نفسیاتی جنگ ہے-
    شہباز شریف نواز شریف کے ریاست مخالف بیانیے سے ہینڈز اپ کر چکے ہیں،مگر ن لیگ پر ابھی تک نواز شریف کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ وقتی طور پر نواز شریف اور مریم کی کھل کر مخالفت نہیں کر پا رہے،تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی عبرتناک شکست سے اتنا پی ٹی آئ والے خوش نہیں،جتنا شہباز شریف کیمپ ۔
    پاکستانی سیاست میں ن لیگ کے گھر کی اس لڑائ میں فضل الرحمن کو کون بھول سکتا ہے۔
    جو اپنے مفادات کی خاطر شائد بی جے پی سے بھی اتحاد کرنے کو تیار ہو جاۓ۔
    آجکل انہیں کہیں سے بھی گھاس نہیں ڈالی جا رہی،جس کی وجہ سے وہ دم سادھے ہوۓ ہیں۔
    ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایکبار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ضرور ہیں،مگر ان دو جماعتوں کی منافقت بھری تاریخ کو دیکھتے ہوۓ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ کب تک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں گے اور کب کسی میثاق کی آڑ میں باہم شیر وشکر ہوجائیں گے۔
    ان لوگوں کی مطلب پرستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے عام آدمی سیاست سے اس قدر متنفر ہو چکا ہے کہ اب تو صدارتی نظام کی بازگشت سُنائ دینا شروع ہو چکی ہے-
    اس دو پارٹی سیاسی نظام کی تباہ کاریوں کے سامنے بند باندھنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔
    اگر ہماری سیاست میں عمران خان کی انٹری نہ ہوتی تو پتہ نہیں کب تک عوام ان دو پارٹیوں کی لوٹ مار کا شکار رہتے۔
    آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی شکست اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ لوگ اب ان کی مکاریوں کو سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔
    لوگ ان کے جھوٹے بیانیوں کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں۔
    پہلے ان کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ مسترد ہوا اب دھاندلی کا واویلہ بھی لوگوں کو متاثر نہیں کر پا رہا۔
    عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کے ہر بیانیے کے پیچھے ریاست دشمنی چھپی ہوتی ہے۔
    ان آخری دو بڑی شکستوں کے بعد پارٹی کے اندر سے مریم صفدر کے بیانیے کو مسترد کیا جانا خاص اہمیت کا حامل ہے
    مریم نے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شکست کو دھاندلی سے تعبیر کیا تو مصدق ملک،نوشین افتخار اور محمد زبیر نے مریم کے دعوے کی نفی کرتے ہوۓ کہا کہ دھاندلی نہیں ہوی بلکہ انہوں نے تو پی ٹی آئ کو سیالکوٹ کی جیت پر مبارکباد بھی دے ڈالی۔
    اب آہستہ آہستہ
    مریم کیمپ کے صحافی بھی مریم کے خود ساختہ بیانیوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں
    جس کی تازہ ترین مثال سلیم صافی کا نواز شریف کی حمد اللہ محب سے ملاقات کو غلط قرار دینا ہے
    سلیم صافی نے کہا کہ حمداللہ نے کسی ایک شخص یا ایک ادارے کو گالی نہیں دی بلکہ ریاست پاکستان کو گالی دی،لہذا نواز شریف کو ایسے شخص سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔
    موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کے ان بیانیوں کی تدفین سے پی ٹی آئ کا الیکشن 2023 جیتنا آسان ہو گیا ہے بشرطیکہ پی ٹی آئ عوام سے اپنا میثاق کرتے ہوۓ انکی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ان کو کچھ ضروری سہولیات دے سکے،جن میں سر فہرست مہنگائ کے خلاف جنگی بنیادوں پر برسر پیکار ہونا ہے #

    @lalbukhari

  • نظام عدل اور عوام تحریر  : راجہ حشام صادق

    نظام عدل اور عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    دنیا کے نقشے پر ہمارا پیارا وطن پاکستان، اور اس ملک بسنے والی عوام کو سمجھنا ہو گا کہ کچھ ذمہ داریاں ہماری بھی تو ہوتی ہیں تمام معاملات طاقتور طبقے اور حکمرانوں پر چھوڑ دیئے جائیں تو پھر انصاف کا نظام تو بالکل ہی ختم ہو جائے گا وطن عزیز بھی نظام عدل ختم ہو چکا طاقتور خریدار ہو تو ہمارا کرپٹ نظام عدل فیصلوں کی قیمت وصول کرتا بے۔

    اس نظام میں چھوٹے موٹے مجرم کو تو سالوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا جاتا ہے مگر کبھی طاقتور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

    اس نظام سے مایوس عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اس ظلم کے خاتمے کیلئے اپنی آواز بلند کرنی ہو گی۔

    یاد رکھیں اس ملک کا یہ اشرافیہ مٹھی بھر ہے یہ پیسے کے پجاری طاقتور لوگ کوئی قانون یا کوئی ادارہ تو نہیں
    ہمہیں اجتماعی کوشش کر کے اس سارے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا ایک صاف شفاف نظام کے لیے سولی پر چڑھنا بھی قبول ہے قربانیاں بھی دینا ہوں گی اپنی آنے والی نسلوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے اپنے تمام فیصلے صرف اللہ پاک کی ذات اور روز محشر پر چھوڑ کر۔
    یاد رکھیں اللہ پاک بھی ان کی مدد کرتے ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت منزل کے حصول کے لئے سفر جاری رکھتے ہیں ۔

    اس ظالم اور کرپٹ نظام عدل سامنے ڈٹ جائیں تاریخ ایسے ہی چند کرداروں کو یاد رکھتی ہے جو سولی تو چڑھ مگر کسی فرعون کے سامنے سر نہیں جھکائے آج ہمارے اوپر انصاف کے لئے منصفوں کا ایک ایسا گروہ مسلط ہو چکا ہے جن کے کردار جن کے فیصلے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ہوتے ہیں جو اس ملک کا سب سے بڑا مافیا بن جکے ہیں ان کے فیصلوں سے چوروں ڈاکوؤں اور قاتلوں کو تحفظ ملتا ہے یاد رکھیں اگر آج ہم مایوس ہو کر بیٹھ گئے تو اللہ پاک کی عدالت میں ہم بھی مجرم ہوں گے اس گندے نظام کے خاتمے کے لئے اٹھیں اور اپنا کردار ادا کریں انشاءاللہ ظلم کی یہ کالی رات ختم ہو کر رہے گی۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @No1Hasham

  • انتخابات اور الیکشن کمیشن  تحریر : راجہ ارشد

    انتخابات اور الیکشن کمیشن تحریر : راجہ ارشد

    اسلامی جہموریہ پاکستان میں الیکشن کوئی بھی ہوں عام انتخابات ، ضمنی انتخابات یا پھر سینٹ انتخابات جو بی ہارا اس نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا  اور الیکشن کو متنازعہ بنانے کی پوری کوشش کی ۔

    پاکستان کی تقریبا تمام سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں جو کبھی جیتی ہیں کبھی ہار جاتی ہیں۔
      جیت جاتے ہیں تو جشن یسے مناتے ہیں جیسے 28 فروری کا سرپریز انہوں نے ہی دیا ہو اور ہارنے والے اسے متنازعہ کہہ کے ریاستی اداروں پر الزمات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔
     
    مزے کی بات ہارنے والوں کی جب کبھی حکومت آتی ہے تو وہ کبھی اصلاحات کی کوشش ہی نہیں کرتے۔اور اگر کوئی بندہ اصلاحات کرنے کی بات بھی کرئے تو یہ مخالفت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔

    حکومتی جماعت کو کرپٹ نظام کی وجہ سے فائدہ ہوتا ہے کرپٹ نظام کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو کنٹرول کیا جاتا ہے ہم نے یہ ماضی میں دیکھا ہے کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے ان کے مطالبے پر 4 حلقے 4 سال میں وپن نہیں ہوئے تھے اس لیے عمران خان نے 126 دن کا دھرنا دیا تھا اور عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد پاکستان میں شفاف انتخابات اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔

    سینٹ الیکشن کی ہی بات کر لیتے ہیں اس الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کتنی ہوتی ہے سب سیاسی پارٹیوں کے سربراہ کو پتہ ہے ۔ عمران خان نے حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپنے 20 ارکان کو پارٹی سے نکالا تھا ان ارکان کی ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی اس ویڈیو میں دوسری پارٹیوں کے لوگ بھی تھے لیکن کاروائی صرف اور صرف کپتان نے کی باقی سب خاموش رہے۔

    کپتان حکومت کو قانون سازی میں دشواری کا سامنا ہے وجہ سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اور وہ قانون سازی میں بڑی رکاوٹ ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہو۔
    سینٹ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس بھیجا کہ ووٹنگ وپن ہونی چاہئیے اور ساتھ ہی سپریم کورٹ  سے اس سلسلے میں رائے بھی طلب کی۔
    سپریم کورٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے بھی حکومتی آرڈیننس کی مخالفت کی اور خفیہ طریقہ پر ووٹنگ کی حمایت کی اندازہ کریں کہ ایک حکومتی ادارہ نے حکومت کی مخالفت کی یہی عمران خان کی کامیابی  ہے۔
    سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہا اور بالآخر سپریم کورٹ نے بھی حکومتی آرڈیننس پر اپنی رائے دیں اور حکم دیا کہ ووٹنگ خفیہ ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے مزید تشریح کی اور کہا کہ شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور شفاف الیکشن کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن  کی رائے کے برعکس حکم دیا کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رکھا جاتا، بے شک ووٹ خفیہ ہی ڈالا جائے گا لیکن ہر پارٹی کی سربراہ کی خواہش پر اس کو بتایا جاسکے گا کہ ووٹ کہاں ڈالا گیا ہے۔
    اب جبکہ ووٹ کا پتہ چل سکے گا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا ووٹ قابل شناخت ہوگیا تو یقینا ہارس ٹریڈنگ کاخاتمہ ہوگا اور کرپٹ مافیا اپنے چال نہیں چل سکے گا اور یہی عمران خان حکومت کی جیت ہے۔
    دیکھا جائے تو خفیہ ووٹنگ کا فائدہ حکمران جماعت کو زیادہ ہوتا ہے سارے اختیارات حکومت کے پاس ہوتے ہیں حکومت چاہیے تو خزانے کا منہ کھل دے اور سب ارکان کو پیسوں سے خریدلے جیسے ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں لیکن عمران خان کی نیت صاف ہے وہ چاہتے ہیں کہ ادارے آزاد ہو پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات ہو کرپشن کا خاتمہ ہو۔

    پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ پاکستان کو عظیم ملک کرپشن سے پاک ملک بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے اندر جو کرپٹ مافیا  کے لوگ ہیں ان کا خاتمہ کریں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
    پاکستان زندہ اباد

    @RajaArshad56

  • 18 ترمیم اور مسائل تحریر: مریم صدیقہ

    18 ترمیم اور مسائل تحریر: مریم صدیقہ

    ہر کچھ عرصے بعد ملک میں 18 ترمیم کا شور زوروں پہ سنائی دیتا ہے ۔8 اپریل 2010 پیپلز پارٹی کےدور حکومت میں پاکستان کے آئین کی 102 شقوں میں کچھ نمایاں ردوبدل کر کے ترامیم قومی اسمبلی سے منظور کرا لی گئی۔مگر کوئی سیاسی جماعت اس میں مزید ردوبدل کرنے کا عندیہ دیتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف کسی کو اس میں تبدیلی سے صوبوں کی خودمختاری خطرے میں لگنے لگتی ہے۔آخر یہ 18 ترمیم پاکستان کے حق میں ہے بھی یا نہیں چلیں آئیں آج اس پہ نظر ڈالتے ہیں۔
    18 ترمیم میں دراصل ہے کیا؟
    بظاہر تو یہ ترمیم، صوبائی خودمختاری، پارلیمان کی مضبوطی اور نچلے لیول پر اختیارات کومنتقل کرنے کے لیے کی گئی تھی جس سے میثاق جمہوریت کی مثال، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے، قائم کرنے کی کوشش بھی ہوئی ۔ ان میں سے چند ترامیم یہ ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترامیم کے تحت صدر سے ہنگامی صورتِ حال کے نفاذ کا اختیار لے کر پارلیمان کو دیا گیا۔ آئین کو توڑنے اور معطل کرنے کو بھی سنگین غداری قرار اور اسے ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا۔ صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے آئین کے کئی آرٹیکلز کو بدل دیا گیا۔اور پاکستان کے شمال مغربی صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبر پختونخوا رکھ دیاگیا۔وفاق سےاختیارات لے کے صوبوں کو زیادہ خود مختار بنا یا۔ وزرائے اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے پر جو پابندی تھی اسے ختم کر دیا۔ صوبوں کو تعزیرات اور فوجداری کے قوانین میں ترمیم کا اختیار دیا گیا۔ فوجی سربراہان کی تقرری میں وزیرِ اعظم کی مشاورت لازمی قرار دی گئی۔ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم ضروری اور اس کی مفت فراہمی کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی گئی۔
    کیا 18 ترمیم وفاق کے رستے کا پتھر؟
    دیکھا جائے تو تین سیاسی جماعتیں جن کا اس ترمیم کی منظوری میں اہم کردار تھا ، تینوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کو خاصا ملحوظ خاطر رکھا۔سب سے پیپلز پاڑٹی، جن کا سندھ گڑھ ہے اور ان سے زیادہ کسی کے لیے بھی صوبوں کو اختیارات کی منتقلی اتنی اہم نہیں ہو سکتی۔ پھر آتے ہیں نواز شریف ، ن لیگ کے قائد ، جو کہ تیسری بار وزیراعظم بننے کے خواہش مند تھے انہوں نے اس لیے ترمیم میں اپنا پھر پور کردار ادا کیا۔ اور آخر اے –این –پی نے اپنا ووٹ بنک بچانے کے لیے اپنے وٹرز کے کیا وعدہ وفا کیا اور صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے پختونخوا رکھ دیا گیا۔ پر اس سب میں پاکستان کہاں رہ گیا تینوں میں سے کسی نے دھیان نہ دیا۔یہ ترمیم کہاں کہاں وفاق کو کمزور کررہی ہے اس پر بات کرتے ہیں:
    – اس میں تمام تر کی جانے والی ترامیم وفاق کو سرے سے کمزور کرتی دیکھائی دیتی ہیں۔جیسا کہ صوبوں کے پاس اب مالی وسائل میں 47اشاریہ 5 فیصد کا شیئر ہے جبکہ وفاق کے پاس 42اشاریہ5 فیصد رہ گیا۔وسائل میں سے زیادہ پر حصہ صوبوں کے پاس مگر بیرونی قرضوں کا تمام تر بوجھ وفاق پر۔ ان بگڑتے معاشی حالات کے ساتھ ترمیم میں شامل یہ بات کہ کسی این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا شیئر پچھلے سال کے شیئر سے کم نہیں ہو گا ایک الگ مسئلہ ہے۔ وفاق کہاں سے دے گا یہ؟یہ قرض کیسے اتار پائے گا ؟ اب آپ ہی بتائیں دنیا میں کون سا ملک ایسے چلتا ہے؟کہاں وفاق کو اتنا کمزور کر دیا جاتا ہے؟ صوبوں کے پاس اس طرح کے اختیارات سےکیا کرپشن میں مزید اضافہ نہیں ہوگا؟
    – وفاق کے پاس دیگر اخراجات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قرضوں کی واپسی کا بھی بوجھ ہوتا ہے اور جب تعلیم اور صحت کے بے شمار اختیارات صوبوں کو دے دیے گئے ہیں تو وفاق کے اعتراضات تو بنتے ہیں۔ پھر جس طرح صوبے ان شعبوں میں اپنا فرض نبھا رہے ہیں اس کا اندازہ ہمیں سندھ کے حالات دیکھ کے بخوبی ہوجاتا ہے۔صوبوں کوبراہ راست غیر ملکی قرضے لینے کا اختیا ر بھی ان ترامیم کے ذریعے دے دیا گیا ۔ کیا اس سے ملک کی معیشت اور وفاق مزید کمزور نظر نہیں آتی؟
    – اب جی ایس ٹی کی طرف بھی نظر کر لیتے ۔ پاکستان کا سب سے زیادہ رونیو جینڑیٹ کرنے والا صوبہ سندھ ہے اب جب یہ جی ایس ٹی بھی صوبوں کے پاس جائے گی ملک کے وہ صوبے جہاں اتنا جینڑیٹ نہیں کیا جاتا وہ کہاں جائیں گے؟ کیا وفاق اس معاملے کو زیادہ پہتر انداز میں ڈیل نہیں کر سکتی تھی؟
    – وفاق اور صوبوں کے درمیان موجود کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کر کے مرکز کے دائرۂ کار میں آنے والے کئی قانونی اختیارات صوبوں کو منتقل کیا گئے۔ اس سے صوبوں کے درمیان نئی لڑائی نے جنم لیا کہ آئی جی لگانے کا اختیار آخر ہے کس کے پاس ،وفاق یا صوبوں کے پاس ۔
    یہ تو بہت مختصرا تجزیہ دیا گیا اگر مزید گہرائی میں جائیں تو ناجانے کتنے صفحے بھر جائیں مگرحالات کو بہتر بنانے کے لیے اب ایک ہی حل دیکھائی دیتا ہے کہ اس اٹھارویں ترمیم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہوئی ہر آئینی ترمیم کو بدلا جائےلیکن جہاں مزید ترمیم کی ضرورت ہے اس پہ بحث لازمی ہے کیوں کہ وہ ملک کی ترقی کی راہ میں پتھر کا کردار ادا کررہی ہیں۔مگر جب بھی اس میں بدلاو لانے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے زیادہ شور پیپلز پارٹی کی طرف سے اٹھتا ہے لیکن شاید وہ بھٹوجن کے دورمیں آئین بنا ،ان کی وہ سات ترامیم بھول جاتے ہیں جو خاصی ملک دشمن بھی تھیں خیر بات موضوع سے ہٹ جائے گی مگر آخر میں بس اتنا ہی کہوں گی کہ جب بات ملک کے فائدے یا نقصان کی ہو تو ہر سیاسی فائدہ بھول کر ملک کے فائدے کے لیے کھڑے ہونا چاہیے کیوں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان زندہ باد!

    @MS_14_1