سیالکوٹ پی پی 38 میں 28 جولاٸی بروز بدھ ضمنی الیکشن ہوا جو کے 2018 کے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ ن امیدوار چوہدری خوش اختر سبحانی 57636 ووٹ لے کر کامیاب ہوٸے تھے،اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سعید احمد بھلی 40575 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔اگر اس حلقے کے ماضی میں جاٸے تو وریو خاندان اس حلقے میں کٸی دہاٸیوں سے جیت رہی تھی ان سے پہلے کٸی مرتبہ چوہدری اختر علی وریو جن کی سیاست میں ایک پہچان وریو گروپ سے تھی،وریو خاندان میں چوہدری خوش اختر سبحانی پہلے بھی وزیر جیل خانہ جات رہ چکے تھے،ان کے چاچا اختر علی وریو کے بھاٸی چوہدری ارمغان سبحانی کے والد چوہدری عبدلستار وریو مرحوم بھی وفاقی وزیر رہ چکے تھے،اور موجودہ ضمنی الیکشن پی پی 38 کے امیدوار چوہدری احسن بریار پاکستان تحریک انصاف جن کا تعلق تحصیل ڈسکہ کے نواحی قصبہ بھلووالی سے ہے ان کا بریار فیملی سے تعلق ان کا سیاست میں آنے کے لیے کوٸی نٸی بات نہیں تھی کیوں کے بریار کا تعلق پاکستان مسلم ق سے اور احسن سلیم بریار کے والد چوہدری سلیم بریار مسلم لیگ ق کے جنرل سیکرٹری بھی اور سلیم بریار کے بھاٸی ق لیگ دورہ حکومت میں ایم پی اے بھی رہ چکے ہے،اس کے ساتھ ساتھ یونین کونسل لیول پر بھی کٸی دفعہ چیرمین رہ چکے ہیں،بریار فیملی کے احسن سلیم بریار کے چاچا چوہدری قیصر بریار سیالکوٹ چیمبر کے صدر بھی ہے اور پی پی 38 میں ایم پی اے کے لیے تحریک انصاف کو قیصر بریار کو انتخابی عمل میں لانے کے لیے ٹکٹ ملا تھا جس پر اپوزیشن کے عدالت سے رجوع کیا قیصر بریار کے کے پاس یورپی نشیلٹی ہے جو الیکشن کا حصہ نہیں بن سکتے جس پر پھر احسن سلیم بریار میدان عمل میں آٸے،جس پر سابقہ پی پی 38 کے پاکستان تحریک انصاف امیدوار سعید احمد بھلی،اور سابقہ ایم پی اے رہنما پاکستان تحریک انصاف چوہدری طاہر محمود ہندلی نے بھی ٹکٹ کے لیے کاغزات جمع کرواٸے جس پر دونوں امیدوارں نے آزاد حثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا جس پر طاہر ہندلی تو خاموشی اختیار کر لی اور ن لیگ کے طارق سبحانی کے خلاف الیکشن کمپین پی ٹی آٸی بریار فیملی کے ساتھ مل کر شروع کر دی، اب سعید احمد بھلی سابقہ امیدوار پی ٹی آٸی آزاد حثیت سے کھڑے تھے جو احسن بریار اور پی ٹی آٸی کی جیت کے بہت مشکل تھا جس پر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار، عمر ڈار، وزیر اعلی پنجاب معاون اطلاعات ڈاکٹر فرودس عاشق اعوان کی اخلاقی دباؤ کی وجہ سے سعید احمد بھلی سے مزاکرات کیے اور بریار فیملی کے حق میں دستبردار ہوگٸے اور یہ ثابت ہوگیا کے اس الیکشن میں مین آف دی میچ سعید احمد بھلی کو جاتا ہے،اس کے بعد چوہدری احسن سلیم بریار پی ٹی آٸی اور چوہدری طارق سبحانی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ (کالعدم)تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار ملک فہیم اعوان بھی میدان عمل میں تھے جنہوں الیکشن کمپین بہت اچھے طریقے چلاٸی 28 جولاٸی بروز بدھ کو سیالکوٹ ڈی سی اور اور ڈی پی او اور متعلقہ اداروں کی طرف سے الیکشن کمیشن کی ہدایات پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گٸے تھے پی پی 38 میں 165 پولنگ اسیٹشن تھے جس پر سیکورٹی سخت تھی اور بعض یونین کونسل میں معمولی تلخ کلامی لڑاٸی جھگڑا نعرے بازی کی بھی اطلاع موصول ہوٸی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار احسن سلیم بریار62657 ووٹ لے کر پنجاب اسبملی کے سب سے چھوٹی عمر کے ایم پی بن گٸے اور ن لیگ کے طارق سبحانی 56353 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ٹی ایل پی ملک فہیم اعوان 6660 ووٹ سے تیسرے نمبر پر رہے احسن سلیم بریار کی جیت کے بعد حلقہ کی عوام ڈاٸمنڈ سٹی روانہ جشن کا سما.
Category: سیاست

کیا دین اور سیاست جدا جدا ہیں؟ . تحریر : مزمل رتھ
موجود دور میں اگر دیکھا جائے تو عموماً دین اور سیاست کو جدا سمجھا جاتا ہے اور یہ تاثر بہت حد تک سرائیت کرچکا ہے کہ مذہب کو ملکی و سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے ۔ یہ نظریہ سب سے پہلے مغرب میں پیدا ہوا اور اس کے بعد ہماری جمہوری پارٹیوں نے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں متعارف کروایا حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دین کا سیاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ لیکن موجودہ جمہوری اشرافیہ نے دین کو سیاست سے جدا کرکے پیش کیا تاکہ اسلامی نظریات کے حامل لوگوں کو اقتدار سے دور رکھ سکیں اور اس کے مقابل استعمار اسلامی ممالک پر اپنا قبضہ جما سکے اور ان پر حکومت کر سکیں۔
سیاست دین کا حصہ ہے اور سیاست دین کے تناظر میں معاشرے کی ضرورت بنتی ہے۔ اگر دین کو سیاست سے جدا کردیا جائے تو اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے جو سوکھ کر اپنی رونق و تازگی کھو چکا ہوتا ہے۔ استعمار کئی سالوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس کے مفادات کے حصول میں بڑی رکاوٹ اسلامی آئین و قوانین ہیں.
انکی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ دین اور سیاست کو الگ الگ رکھیں اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں اگر دیکھا جائے تو وہ عوام کے ذہن میں یہ بات ڈالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اسلامی نظریات رکھنے والے جماعت ملک میں اسلامی نظام کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اس کو یہ طعنے دیا جاتا ہے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جنونی ہیں اور دین کو سیاست اور مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہیں شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا اسلام میں یہ تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی تعلیمات کو ایک طبقہ سنبھالے گا (ہہاں مراد علماء کرام) جبکہ دیگر سیاسی نظام و نظام حکومت دوسرا طبقہ جیسا کہ آج کل کے جمہوری سیاستدان ۔اس لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد خلفائے راشدین مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور دینی رہنماء بھی ۔ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت و رہنمائی ملی ، مسلمان قوت و سربلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے ۔ اس کے برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قوت قوم پرستون نے تو مسلمان آپسی جنگوں کا شکار ہوکر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے ۔
موجودہ دور میں جہاں نا صرف دین کو سیاست سے دور کردیا گیا بلکہ اسلامی سوچ کے حامل لوگوں کے نظریات بدلنے کیلئے بہت سے اسلامی ماڈل بھی تشکیل کردیے گئے جیسے روشن خیال اسلام ، رجعت پسند اسلام اور نہ جانے اسلام نے کون کون سے ماڈل ۔ حالانکہ اسلام ایک ہی ہے اور یہ وہ اسلام ہے جو قرآن وسنت میں پایا جاتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام نے اپنے عملی نمونوں سے ہیش کیا ۔ آج کے دور میں معاشرتی برائیوں کے خلاف مزاحمت کرنا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا کسی بھی شخص کا حق سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام اس کو حق ہی نہیں واجب قرار دیتا ہے ۔
اسی تناظر میں سیاست اور سیاسی معاملات کو کسی بھی طرح سے دین سے جدا کرنے کا مطلب اس کی اصل روح کو نکالنا ہے ۔ علامہ اقبال نے اس کو یوں بیان کیا
َجدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزیMuzRizvi19

مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود
جی ہاں مسلم لیگ نون اب تباہی کے آخری دہانے پر ہے مسلم لیگ اصل میں ایک ہی تھی لیکن شریف خاندان نے اس کو ٹکڑوں میں بانٹ کر پہلے ق لیگ اس میں سے الگ کی اور اس کے بعد مسلم لیگ آہستہ آہستہ ٹوٹتی ہی گئی۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ مسلم لیگ نواز نے اور شریف خاندان نے ملکر ملک پاکستان کو بہت لوٹا چوریاں کی ۔ منی لانڈرنگ کی بہت سے کیسزز ہوئے ان کے خلاف اور اب تک بھی چل رہے ہیں جن کی تفصیلات میں اگر جائیں تو ان کی چالاکیوں پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن اصل جرم ان کا جو ہے وہ ملک دشمنی اور غداری ہے ۔ انہوں نے ملک کو لوٹا پیسے کھائے پیسے لے کر باہر بھاگے یہ سب تو ہے ہی لیکن ان کی غداری کی وجہ سے ملک پاکستان بدنام ہوا جو ناقابل معافی ہے ۔
ویسے تو ان کے ملک دشمنی اور غداری کے جرموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن چند ایک ایسے ہیں جو میں یہاں پر لکھ رہا ہوں۔ سب سے پہلا جرم جو ہے وہ امریکہ سے پیسے لے کر ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کرنا تھا جو کہ اس وقت کے لوگ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان صاحب بتاتے ہیں کہ شریف برادران نے ایٹمی دھماکوں کی سخت مخالفت کی تھی ۔ اس کے بعد ان کا دوسرا جرم جس کی وجہ سے آج مقبوضہ کشمیر پر انڈیا قبضہ جمائے بیٹھا ہے وہ ہے گارگل سے اپنی فوجیں واپس بلانا اور انڈیا کو موقع دے کر اپنے فوجی مروانا گارگل کی جیتی ہوئی جنگ کو ہار میں تبدیل کروانا کارگل میں جتنے بھی فوجی شہید ہوئے اس کا زمہ دار میاں محمد نواز شریف ہے ۔اس کے علاوہ انڈیا میں جاکر حریت راہنماوں سے ملاقات نہ کرنا اور مودی اور آر ایس ایس کے بیانئے کو تقویت دینا بھی ایک سنگین جرم ہے ۔انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام تک زباں پر نہ لانا اور اجمل قصاب کو پاکستانی شہری تسلیم کرنا بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔
انڈین میڈیا پر بیٹھ کر چھرا گھونپنے والی باتیں کر کے پاکستانی فوج کو بدنام کرنا۔اس کے علاوہ ماڈل ٹاون میں بیگناہوں کا قتل بھی نواز شریف فیملی کے کبیرا گناہوں میں شامل ہے ۔ معزز قارئین اس کے علاوہ حال ہی میں ایک ایسے بندے سے لندن میں ملاقات کرنا ایک افغانی جو کے پاکستان کے بارے میں مغلظات بک رہا ہو۔ اس سے ملاقات بھی سوالیہ نشان ہے ۔
پاک آرمی کے خلاف ہرزہ سرائی اور ملک کے اداروں کو متنازعہ بنانا بھی ان کے جرم میں شامل ہے۔ ججز کی ویڈیوز بنانا اور ان کو بدنام کر کے اپنی مرضی کے فیصلے دلوانا بھی ملک کا بہت بڑا نقصان ہے آج اگر پاکستانی عدالتی نظام پر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس کی وجہ شریف خاندان ہے ۔
قوم اب ان کی تمام حرکتیں دیکھ چکی ہے جو کچھ لوگ لا شعوری طور پر ان کے ساتھ ہیں۔ یا کچھ غدار وطن وہ بھی بہت جلد ان سے سے الگ ہو جائیں گے کیونکہ میری قوم چوری معاف کر سکتی ہے ہر جرم معاف کر سکتی ہے لیکن غداری کی کوئی معافی نہیں ۔
اللہ ملک پاکستان کو ترقی اور استحکام عطا فرمائے اور شیاطین اور غداروں کے شر سے محفوظ فرمائے آمین ۔@Ssatti_

شاہ محمود قریشی تحریر: دانش اقبال
آج پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہ لکھنے کا دل کیا
کچھ سال پہلے تک شاہ جی کو میں اتنا خاص پسند نہیں کرتا تھا اور میرے ذہن میں ان کے بارے میں کچھ منفی خیالات تھے – میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ شاہ جی اپنے کچھ ذاتی مفادات کے حصول کے لۓ عمران خان کے ساتھ ہیں جو کسی کو پارٹی میں اہم حیثیت حاصل کرتے نہیں دیکھ سکتے اور ایک دن یہ خان صاحب کو دھوکہ دیں گے
سب سے ذیادہ خطرہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہوا جب وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی خواہش دل میں رکھنے والے شاہ جی کی خواہش ادھوری رہ گٸ اور مجھے یقین ہو گیا کہ قریشی صاحب اب گۓ کہ گۓ لیکن میرے اندازے غلط ثابت ہوۓ اور آج جب بھی کوٸی مجھ سے خان کے نمبرون اور بااعتماد کھلاڑی کا پوچھتا ہے تو فوراً زبان پہ شاہ جی کا نام آتا ہے
پی ٹی آٸی جواٸن کرنے کے بعد سے اب تک قریشی صاحب نے پارٹی کے لۓ جان توڑ محنت کی ہے اور ایک اثاثہ ثابت ہوۓ ہیں
اپوزیشن میں رہ کے خان صاحب کے ساتھ ساتھ جنگ لڑی دھرنے دٸیے ریلیاں نکالی اور اس وقت جب جاوید ہاشمی جیسے لوگ پھسل گۓ انہوں نے پارٹی کو سنبھالنے اور مورال اوپر رکھنے میں اہم کردار ادا گیا
اور پھر 2018 کے الیکشن میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوۓ جنوبی پنجاب سے پی ٹی آٸی کو بھرپور کامیابی دلواٸی اور ان کے تجویز کردہ تقریباً سب امیدوار جیت گۓ جس کا کریڈٹ بلاشبہ خان کی سحر انگیز شخصیت اور بے انتہأ شہرت کے بعد قریشی صاحب کو ہی جاتا ہےسب سے اہم خارجہ کا محاز سنبھالنے کے بعد انہوں نے عملی طور پر وہ کارکردگی دکھاٸی جس کی پاکستان کو اشد ضرورت تھی
عمران خان نے بہت سے اہم خارجہ محاز ان کے حوالے کۓ اور شاہ جی اب تک خان صاحب کے اعتماد پر پورا اترے ہیں
آج کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان کے دنیا سے نا صرف پہلے سے بہت بہتر تعلقات ہیں بلکہ پاکستان کی عزت اور وقار بحال ہو چکی جو کہ پچھلے دو ادوار میں ایک مذاق بن چکی تھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مل کے پاکستان کا جھنڈا پوری دنیا میں گاڑا اور مضبوط موقف کے ساتھ ہر اہم فورم پر بھرپور نماٸندگی کی
آپ کے سی این این کو دٸیے گۓ انٹرویو نے کچھ "ڈیپ پاکٹس” کو چھوڑ کے باقی ساری عوام کو بہت خوش کیا اور یہودی میڈیا کو ایکسپوز کرنے پر سب نے دل کھول کر تاٸید اور تعریف کی
پی ٹی آٸی کے بہت سے پرانے ارکان جو پارٹی چھوڑ چکے لیکن انہیں ابھی تک پی ٹی آٸی کے بانی رکن کہہ کے خان صاحب پہ تنقید کی جاتی ہے کہ خان صاحب نے پرانے ساتھیوں کے بجاۓ الیکٹیبلز کو فوقیت دی
میرے خیال میں جو خود کو بانی رکن کہتے ہیں لیکن خان صاحب کو چھوڑ چکے ہیں ان کی کوٸی حیثیت نہیں کیونکہ قریشی صاحب جیسے ساتھی بے شک بانی رکن نہیں لیکن لاثانی رکن ہیں
تبدیلی کے سفر میں خان صاحب کا ساتھ دینے والے ہی ہمارے لیڈر ہیں اور سر آنکھوں پر ہیں اور شاہ محمود قریشی صاحب اس فہرست میں سب سے اوپر دکھاٸی دیتے ہیں
ایک اور بات جو شاہ جی کو سب سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ان کا شفاف اور بے داغ سیاسی کیرٸیر- شاہ جی پہ کبھی کوٸی کرپشن کا الزام نہیں لگا اور ان کے کردار کے سب ہمیشہ معترف رہے
شاہ محمود قریشی کی مدبرانہ گفتگو اور اس پہ گفتگو کا سٹاٸل سب کو بھاتا ہے
شاہ جی نے کبھی کسی کی ذات پہ گھٹیا ریمارکس نہیں دٸیے اور ہمیشہ اخلاق کے داٸرے میں رہ کہ اپنا موقف پیش کیامیں پی ٹی آٸی کے تمام سپورٹرز کی جانب سے شاہ محمود قریشی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں
@ch_danishh

آزاد کشمیر و جموں الیکشن2021 تحریر:سکندر ذوالقرنین
تعارف
میرا نام سکندر ذوالقرنین ہے میرا تعلق ضلع سرگودھا پنجاب سے ہے میں اوورسیز پاکستانی بھی ہوں
باغی ٹی وی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے موقع دیا اپنی رائے دینے کا
تحریر!
25 July 2018 سے
25 July 2021 تک25 جولائی 2018 ایک امید کا دن تھا ایک 22 سالہ پارٹی کا تیس سالہ حکمران پارٹی سے مقابلہ تھا ایک طرف نظریہ تو دوسری طرف ووٹ کو عزت دو۔ ہوا یہ کہ نظریہ جیت گیا 2018 کے بعد تین سالوں میں بہت کچھ ہوا اور کچھ لوگ ہر روز رات کو حکومت کو گھر بھیج چکے ہوتے تھے کرو نا اور مہنگائی کے جھروکوں سے ہوتی ہوئی تین سال مکمل ہوئے اب معاشی حالات کافی بہتر ہورہے ہیں
اور وزیراعظم خان پر کرپشن کا کوئی الزام نہ آ سکا۔تین سال اپوزیشن اسی کا انتظار کرتی رہی ہیں کہ کوئی نہ کوئی کرپشن کا سکینڈل ضرور آئے گا
25 جولائی 2021 کادن امتحان کا دن تھا ضمنی انتخابات نے حکومت کی کارکردگی کوئی اچھی نہیں تھی حکمران جماعت کو فکر بھی لاحق تھی کہ کہیں کوئی ہوا ہی نہ چل پڑے اور کشمیر میں وہی ہوا جو روایت تھی اور عمران خان جیت گئے حکومت کو کافی حوصلہ ملا اور اپوزیشن کا وہی رونا شروع پریس کانفرنس اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے کشمیر میں حکمران جماعت کی حالت بہت ہی زیادہ پتلی رہی پیپلز پارٹی سے شکست کھائی حکمران جماعت یعنی نون لیگ کی مریم نواز نے کیمپین تو خوب کی لیکن ووٹ نہ لے سکی اب وہاں کسی لوکل لڑائی کو خوب مرچ مصالحے لگا کر حالات خراب ہونے کے دعوے کر رہی ہیں یہ تک احساس نہیں کہ اس وجہ سے ملک کی بدنامی ہوگی آزاد کشمیر ایک حساس علاقہ ہے اور وہاں کے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ کشمیری ابھی بھی غلامی میں ہی ہیں غلام تو آپ میاں نواز شریف کے بھی ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے شاہد خاقان صاحب فرمایا رہے ہیں کہ الیکشن پر ریاست کا قضبہ ہے الیکشن وہی ہیں جو آپ جیت جاؤ اللہ صبر عطا کرے پیپلز پارٹی سے بھی مار کھائی اور اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کیا پیپلز پارٹی نے بھی دھاندلی کی ہے
دھاندلی کے کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی کوئی تحریری درخواست دی گئی ہے
تحریک انصاف میں علی امین صاحب اور مراد سعید کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ بھرپور کمپین کی اور الیکشن جیت لیا حالانکہ دوسری طرف پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت تھی پیپلزپارٹی کی جیت حیران کن تھی بلاول کو چھوڑ کر امریکہ بھی چلے گئے تھے پھر بھی گیارہ سیٹوں پر جیت جانا بہت اچھی کار کردگی ہے وہ خود بھی حیران ہوگئےانڈین اخبار میں آیا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا
انڈیا سے مدد مانگنے والو ں کو سبق مل چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کو بھی چاہیے اس کو تاحیات الیکشن لڑنے پر پابندی ہونی
چاہیے
تحریک انصاف کے 2 کارکن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی فائرنگ سے جان بحق ہوئے ان کے لئے دعائے مغفرت اور پاکستانی فوج کے 4 نوجوان
شہید ہوئی اللہ پاک ان کی یہ قربانی قبول کرے اور ہمارے ملک کو سلامت رکھے آمین
عمران خان نے تقریروں میں بہت سارے وعدے کیے ہیں اب وہ وعدے پورے کرنے کا وقت آ چکا ہے اور امید ہے کہ ایک مضبوط وزیراعظم بنایا جائے گا جو کہ کرپشن سے پاک ہوگا
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ بھرپور محنت کریں اس کامیابی کو ثابت کریں کہ وہ لوگوں نے ان کو صحیح الیکٹرک کیا ہے اللہّ حکومت کو پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کے لیے آپ کچھ کرنے کی توفیق دے
@sikander037 #sikander037
الیکشن اور اس کے کردار تحریر: قاسم ظہیر
دنیا میں کہیں بھی جب الیکشن ہوتا ہے عوام کی رائے بھٹی بھی نظر آتی ہے کچھ موجودہ حکومت کو دوبارہ سے حکومت میں لانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ اسے گھر جانے کی ترغیب دیتے ہیں مختصر یہ کہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا مختصر کردہ شخص حکومت میں آئے. زمینی حقائق, عوام کی رائے اور کچھ اندرونی طاقتیں سب اپنے اپنے حصے کا کردار نبھاتی ہیں اور آخر پاکستان میں کوئی نہ کوئی حکومت آ جاتی ہے
تاریخ میں دیکھا جائے تو کبھی بھی عوام کی رائے کو فوقیت نہیں دی گئی.جس کی وجہ سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے .جمہوریت کا مطلب خالصتا عوام کی حکومت ہے جہاں پر اکثریت کی رائے کا احترام ہر شخص پر لازم ہے.اس کے برعکس کرنے سے نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.پاکستان میں آئے روز الیکشن کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والی حکومت کو اپنی مدت کے پہلے دو سال تو صرف اسی بات کی وضاحت میں لگ جاتے ہیں کہ وہ جس گورنمنٹ میں بیٹھے ہیں اس کو لوگوں کی اکثریت حاصل ہے.ہر اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان یہی چیز زیر بحث رہتی ہے کہ وہ جس طرح حکومت میں آئے ہیں وہ قانونی طریقہ نہیں عوام کی اکثریت حاصل نہیں جس سے نہ صرف ٹیکس پیر کے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا. دوسرے ممالک اس حکومت کو ترجیح نہیں دیتے اور نہ ہی اس کو ڈیموکریٹک تسلیم کرتے ہیں.آج کل دنیا میں دیکھا جہاں پر بھی سویلین بالادستی ہے انکو کو لوگ زیادہ عزت اور احترام دیتے ہیں
ان تمام مشکلات کو دور کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ایک جامعہ اور واضح پالیسی لانا ہے جس پر سب کا اتفاق ہو اور جس سے ہمارے الیکشن میں بہتری آئی ہے جیتنے والا جیت مان جائے اور ہارنے والا اپنی خوشی خوشی ہاں تسلیم کر لے آج کل کے ترقی یافتہ دور میں ایسا کرنا بالکل مشکل نہیں رہا ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اپنے انتخابات کو مکمل صاف شفاف بنا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ایک سنجیدہ اور اعلی ظرف کی ضرورت ہے
کسی بھی ملک کے بیرونی مضبوط ہونے کا انحصار اس کے اندر مضبوط ہونے میں ہے اور الیکشن کا شفاف نہ ہونا اندرونی خلفشار اور ناچاقی کا باعث بنتا ہے.ہمیں پاکستان میں جلد سے جلد اس مشکل پر قابو پانا ہوگا.کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر زیادہ سے زیادہ لوگ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور جس کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلا رہے گا.ان تمام مصیبت سے چھٹکارا پانے کا حل صرف اور صرف الیکشن ریفارمز میں ہے جو ہمیں جلد سے جلد کرنا ہوں گے.الیکشن فارم سے نہ صرف ایک مضبوط حکومت سامنے آئے گی بلکہ سویلین بالادستی قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اس کو وہاں کی عوام کی اکثریت حاصل ہوگی جس کی وجہ سے کوئی بھی غیر قانونی طاقت اس کو ہٹا نے یا مضموم عزائم رکھنے سے باز رہے گی.
پاکستان کے ایک شہری ہونے کے ناطے سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی پارٹیاں مل کر ایک جگہ پر بیٹھ کر ان کا حل نکالیں گی اور الیکشن کو سنجیدگی سے لیں گے جس کی وجہ سے ہمارے آنے والے الیکشن کا نظام صاف شفاف ہو گا اور جو شخص بھی وزیراعظم ہاؤس کا خواں ہوگا.وہ قوم کی اکثریت کا رہنما ہوگا.@QasimZaheer3

مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن تحریر-سید لعل بُخاری
حکومت کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اپوزیشن تو اپنی موت آپ مر چُکی ہے-
مگر بُری خبر یہ ہے کہ بڑھتی ہوئ مہنگائ اور اس کے بڑھنے پر مناسب چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا،عوام کی کمر توڑ رہا ہے۔
جو حکومت کے لئے یقینا” باعث تشویش بات ہے-
اس حوالے سے کوئ بھی حکومتی موقف لوگوں کو اس وقت تک مطمئن نہیں کر سکتا،جب تک مہنگائ کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے جائیں۔
مہنگائ کی بات کرتے وقت یہ حقائق ہمارے زہن میں ہونے چاہییں کہ خصوصا” کرونا آنے کے بعد مہنگائ کی لہر
بین الاقوامی طور پر آئ ہے۔بعض چیزوں مثلا”خوردنی تیل وغیرہ کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بھی دو سو فیصد تک بڑھی ہیں۔
علاوہ ازیں پاکستان بننے کے بعد سے مہنگائ کبھی ایک جگہ رُکی نہیں۔کبھی کم بڑھی،کم زیادہ لیکن بڑھی ضرور
مہنگائ بڑھنے کی شرح کے لحاظ سے جنرل ضیاالحق مرحوم کا دور سب سے بہترین تھا،اس وقت فوجی حکومت ہونے کی وجہ سے چیک اینڈ بیلنس بہت اچھا تھا۔
مافیاز خوف زدہ رہتے تھے کہ اگر بلاوجہ چیزوں کے نرخ بڑھاۓ تو مشکلات پیدا ہونگی۔اسی کے باعث اعداد و شمار کے لحاظ سے وہی گیارہ سالہ دور تھا جب عوام مہنگائ کے ہاتھوں قدرے کم ستاۓگئے ورنہ تو ہمیشہ ہی سے
بے چارے لوگ مسلسل مہنگائ کی چکی میں پستے آرہے ہیں
موجودہ مہنگائ کے پیچھے وہ مافیاز بھی کارفرماہیں،جن کی آبیاری نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے بعض کرپٹ راہنماؤں نے کی۔اُن کی جڑیں اب اتنی مضبوط ہو چُکی ہیں کہ وہ جب چاہییں مارکیٹ میں اشیاۓ ضروریات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کروا لیتے ہیں،چینی اسکینڈل اسکی ایک مثال ہے۔
ان سب حقائق کے باوجود حکومت کو اسکی زمہ داری سے استثنا نہیں دیا جا سکتا۔
معاشرے میں کوئ بڑے سے بڑا بدمعاش بھی حکومت سے تگڑا نہیں ہو سکتا۔
ایسے معاشرتی ناسوروں کو کُچلنے کے لئے مزید قانون سازی کریں،کسی بھی قسم کی چور بازاری کا خاتمہ کرنے کے لئے سخت سے سخت سزائیں دیں۔اسسٹنٹ کمشنرز کے اختیارات بڑھائیں۔مختلف چھاپہ مار ٹیمیں بنائیں۔ان ٹیموں میں کام کرنے والے افراد کو ترغیبات دیں
کچھ بھی کریں۔عوام کو اس مہنگائ کے عفریت سے نجات دلائیں
اپوزیشن اگرچہ اپنے کرتوتوں اور باہمی خلفشار کے باعث بیک فُٹ پر جا چکی ہے،۔
ایسے میں حکومت کی اصل اپوزیشن یہی مہنگائ ہے۔جس پر کنٹرول حاصل کر کے حکومت عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے۔
اللہ تعالی کے فضل و کرم وحکومت کے کچھ اچھے اقدامات سےملکی معاشی صورتحال بھی اب بہتر ہے۔
سیاسی طور پر بھی
پُر سکون حالات خصوصا”آزاد کشمیر کا الیکشن جیتنے کے بعد پی ٹی آئ حکومت کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں عوامی فلاوبہبود پر صرف کرے اور پریشان حال عوام کی جائز پریشانیوں کا مداوا کرے#تحریر-سید لعل بُخاری
@lalbukhari
ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی
جب نوازشریف کو باہر بھیجا گیا تو قریب سب انصافینز نے اچھا خاصا شور مچایا۔ مجھے کئی دوستوں نے طعنے بھی دیے لیکن میں نے خاموشی اختیار کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس پالیسی کے نتائج چند سال بعد سامنے آئیں گے۔
پہلے تین صوبے، پھر گلگت بلتستان اور اب کشمیر میں نتائج دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر نوازشریف کو نااہلی کے بعد واقعتاً جیل کے اندر ہی رکھا جاتا تو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد اس بندے نے ایک ایسی بلا بن کر باہر نکلنا تھی جسے اگلے چالیس سال تک اقتدار سے الگ کرنا نا صرف مشکل ہوجاتا بلکہ ناممکنات میں تصور کیا جاتا۔ سات سال کی سزا کا مطلب ہے ساڑھے تین سال۔ ساڑھے تین سال کا مطلب ہے کہ الیکشن 2023 سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے باہر آجانا۔۔۔یعنی شیر کو بھوکا رکھ کر چھوڑنے والی بات تھی۔
اپنے مفادات کیلئے بھارت، یورپ اور امریکہ کیلئے نوازشریف سے بہتر اب تک بھی کوئی کھلاڑی نہیں رہا۔ کشمیر کے الیکشنز تک نوازشریف کشمیریوں کا بھی کسی حد تک ہیرو رہا ہے لیکن عمران خان نے مسٔلہ کشمیر کو جس طرح عالمی منظر نامے پر زندہ کیا ہے یہ دنیا کیلئے حیران کن تھا کیونکہ دنیا یہ فرض کرکے بیٹھی ہوئی تھی کہ پاکستان کشمیر کے حق سے دستبردار ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کیلئے واشگاف الفاظ میں بولنا، اس کی آزادی اور استصواب رائے پر بابنگِ دہل بیانات دینا ایک اس کمزور ترین خارجہ پالیسی والے حکمران کے منہ سے حیران کن تھا جو پالیسی اسے اسی کے سابق حکمران ورثے میں دے گئے تھے۔
18 جولائی 2017 میں سہہ پہر کے وقت جب سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اقامہ کیس پر نوازشریف کو نااہل کیا تو موجودہ وزیراعظم عمران خان ‘ڈرٹی گیمز’ کی بُو اسی وقت سونگھ گئے تھے لیکن انہوں نے پوری قوم کے ساتھ مل کر اس نااہلی کا جشن منایا اور انہیں افسوس اس بات کا تھا کہ پاناما کیس ابھی بھی حل طلب تھا۔ جے آئی ٹی کے والیم 10 کو بھی نا کھولنا کسی ایسی گیم کا حصہ تھا یا شاید ابھی بھی ہے، جس کے نتائج کا علم صرف انہیں کو ہی پتا ہے جو قوم کو اس دلاسے پر خوش فہمی میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں کہ اس کے اندر شریف فیملی کے متعلق ایسے ایسے انکشافات ہیں کہ اگر اسے ایک بار کھول دیا گیا تو یہ خاندان کبھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔
ڈرٹی گیمز کھیلنے والے اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور عمران خان اس سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنی چالیں چال رہے ہیں جن میں سب سے بڑی چال 50 روپے کے اشٹام پر نوازشریف کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت دینا ہے اور یہ اجازت ریاست کی سب سے بڑی عدلیہ نے دی تھی۔ عوام آج بھی اسی غلط فہمی میں ہیں کہ یہ سب انہوں نے کیا جو اس کھیل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی اب عمران خان بن چکا ہے اور اس نے مریم نواز کو ضمانت دلوا کر جہاں ایک طرف اسے عورت ہونے کا فائدہ دیا اور عوام کی ہمدردی حاصل کی وہیں دوسری طرف نوازشریف کو لندن بھجوا کر اسے پاکستانی سیاست سے دور کرنے کیلئے اس سے چند ایسے لوگوں کے ذریعے نوازشریف کے منہ سے ایسی تقریریں کروا دیں جن کی سمجھ شاید نوازشریف کو آج بھی نا آرہی ہو۔ سپریم کورٹ نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف کی قومی میڈیا پر تقریر کو بین کردیا گیا۔ آہستہ آہستہ اس قوم کی یاداشت سے نوازشریف کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا تو دوسری طرف مریم نواز کو ایسے ایجنڈے پر کام کیلئے چنا گیا جس سے صرف اور صرف (ن) لیگ کو ہی نقصان ہوا اور آج (ن) لیگ پورے پاکستان میں اپنی موت نہیں مری بلکہ مریم نواز کے ہاتھوں مروائی گئی ہے۔
مجھے سلیم صافی کی ایک ٹی وی پروگرام میں کہی گئی بات اکثر ذہن میں آجاتی ہے کہ عمران خان دنیا کا اس وقت ذہین ترین سیاستدان ہے۔ نوازشریف اور زرداری اس کے سامنے معمولی سی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔
الیکشن 2023 میں پاکستان تحریکِ انصاف الیکشن 1997 والا جھرلو پھیرے گی اور اس بار یہ جھرلو شفاف ترین الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے پھرے گا۔ یہ عوامی جھرلو ہوگا جو انشاءاللّٰہ نئے نظام کیلئے ایسا رستہ ہموار کردے گا جو پچھلے تمام راستوں کو بند کرکے اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازیوں کو بھی بیرکوں تک لے جائے گا۔
ابھی بھی اگر کوئی یہ کہے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی تو اسے باؤلے کتے کے کاٹے کا ٹیکہ لگوانا بنتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین
ملک بھر میں خصوصا کشمیر میں آزاد و جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہونے کے بعد بالآخر 25 جولائی کو انتخابات ہوئے اور اس انتخابات میں کشمیریوں نے اپنے رائے دہی استعمال کرکے نمائندے چن لئے۔
25 جولائی 2021 کو کشمیر انتخابات کے پیش نظر بلوچستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں نے بھی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں خاصی دلچسپی ظاہر کی۔
الیکشن کمیشن نے کوئٹہ ، مستونگ ، سبی ، نصیر آباد ، بارکھان ، قلعہ سیف اللہ اور کیچ اضلاع میں پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے ، لیکن کشمیری ووٹرز نے صرف کوئٹہ اور سبی میں ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
متعلقہ عہدیداروں کے مطابق نصیر آباد ، کیچ ، مستونگ ، بارکھان اور قلعہ سیف اللہ میں پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹر نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اضلاع میں انتخابی عملہ رائے دہندگی کے اختتام تک پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہا۔
کشمیری پناہ گزینوں جن کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں رہتی ہے نے پاک گرلز ہائی اسکول اور گورنمنٹ سینڈیمین ہائی اسکول میں قائم تین پولنگ اسٹیشنوں میں اپنا ووٹ ڈالا۔
پولنگ کے لئے مقرر سات اضلاع میں سے صرف دو ہی ووٹ ڈال رہے ہیں
ایل اے 34 جموں کے لئے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 535 تھی ، لیکن ان میں سے 202 نے اپنے ووٹ ڈالے۔
ریٹرننگ افسر کے اعلان کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ، پاک سرزمین پارٹی کے شاہ عبد اللطیف نے 158 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصرحسین ڈار نے 12 اور پاکستان پیپلز پارٹی کے زاہد اقبال نے 11 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو گئے۔ ایل اے 40 وادی کشمیر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1059 تھی ، لیکن صرف 418 نے اپنا ووٹ کاسٹ ہوئے، جبکہ نو ووٹ مسترد کردیئے گئے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سلیم بٹ نے 199 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون نے 125 اور مسلم لیگ (ن) کے طاہر وانی نے 81 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسرے امیدواروں کو گئے۔
خواتین کی بڑی تعداد اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کر سکی کیونکہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
تحریک انصاف ، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رہنما کوئٹہ میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موجود رہے۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔
سبی میں صرف چار ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں سے ایک ووٹ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون اور دو زاہد اقبال کو ملے ، جبکہ ایک ووٹ مسترد کردیا گیا۔ سبی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے۔
صوبائی انتظامیہ نے پولنگ اسٹیشنوں اور اس کے آس پاس کے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔
بلوچستان میں کافی عرصے سے کشمیری شہری رہ رہے ہیں، انکے یہاں پہ اپنے کاروبار اور سرکاری نوکریاں ہیں، بلوچستان میں بیکری کے کاروبار میں کشمیری شہری خاصی شہرت رکھتے ہیں، خاص طور پر پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ شہر میں کشمیری بھائیوں کے بیکری کا کاروبار مشہور ہے اور انکی مہارت سے پورے بلوچستان کے عوام کے دل کے خاصے قریب ہیں۔ٹویٹر: @iHUSB

عنوان :: چار حلقوں سے چار صوبوں تک تحریر : سیف اللہ عمران
پاکستان انصاف انصاف (پی ٹی آئی) انصاف کیلئے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد پر قائم ہوئی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد زمان پارک ، لاہور میں 25 اپریل 1996 کو ورلڈ کپ کے فاتح ، فلسفی اور سماجی کارکن پاکستانی کرکٹر عمران خان نے رکھی ۔
پی ٹی ائی نے انصاف تحریک کے طور پر کام کرنا شروع کیا اور پاکستان میں صحت ، تعلیم ، شہری ، بہبود اور اظہار رائے کی آزادی ، روزگار، مذہبی اہلیت ، باہمی فرقہ وارانہ نقصان کے بارے میں ریاست کی ذمہ داریوں کے بارے میں شعور بیدار کرنا شروع کیا۔ اس کی توجہ پاکستان میں سماجی اور سیاسی ترقی پر ہے۔ تحریک انصاف قابل اعتماد جمہوریت ، حکومت میں شفافیت اور رہنماؤں کے احتساب کے ذریعے پاکستان میں سیاسی استحکام کے لئے پرعزمپی ٹی آئی نے 1996 میں ابھرتے ہوئے عمران خان کی سربراہی میں 6 رکنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ پی ٹی آئی نے 1997 کے عام انتخابات میں ایک نئ جماعت کی حیثیت سے حصہ لیا ، اگرچہ تحریک انصاف عام انتخابات میں جیتنے میں ناکام رہی۔ لیکن تحریک انصاف نے ثابت کردیا کہ وہ مستقبل میں دوسری جماعتوں کے لئے خطرہ
2002 عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے دو سیٹیں جیتیں ، ایک میانوالی سے ایک عمران خان نے اور دوسری نصیر گل نے
تحریک انصاف نے 18 فروری 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
اس کے بعد عمران خان نے 30 اکتوبر 2011 کو لاہور میں ایک جلسئہ کیا جس میں لاکھوں افراد جمع تھے۔ پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔
2013 میں ، تحریک انصاف نے انتخابات میں حصہ لیا اور وہ ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری۔
لیکن خیبرپختونخوا صرف حکومت بنا سکی اور پنجاب میں مقابلہ کیا لیکن اپوزیشن کے طور پر سامنے آئی
جبکہ خیبر کی صوبائی اسمبلی میں ، پرویز خٹک کی سربراہی میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی کی حیثیت سے مخلوط حکومت تشکیل دی گئی۔2013 ء الیکشن میں ن لیگ دھاندلی کر کے جیتی تھی خان نے ن لیگ کی دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی ۔
پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ چاروں حلقوں این اے 57 ، این اے 110 ، این اے 122 اور این اے 125 میں آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف تحقیقات کروائے۔
پی ٹی آئی ریسرچ ونگ نے یہ ثابت کرنے کے لئے 2100 صفحات پر مشتمل کتابچہ تیار کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔
پی ٹی آئی نے الیکشن کے اختتام کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توجہ مبذول کروانے کے لئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کیے۔ عمران خان کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ کو ملک کی معزول عدلیہ کو اس کے نتیجے کا نوٹس لینا چاہئے۔
تمام قانونی فورموں سے مایوس پاکستان تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر 22 اپریل 2014 کو مستحکم انتخابات کے خلاف اپنی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔
احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اسکے بعد پی ٹی آئی نے چودہ اگست 2014 کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا۔ جو 126 دن تک جاری رہا 💞
2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اور خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی۔ عمران خان نے بطور وزیر اعظم حلف لیا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنی حکومت قائم کی۔
تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک غالب پوزیشن سمیٹی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان کی سربراہی میں اپنی ایک صوبائی حکومت تشکیل دی۔
پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف نے اپنی مخلوط حکومتیں تشکیل دیں۔انتخابات میں 16.8 ملین ووٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔2020 کے گلگت بلتستان انتخابات میں ، گلگت کے غیرت مند لوگوں نے تحریک انصاف کو انتخابات میں جیتوا کر حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا۔
اور اب عمران خان نے 25 جولائی 2021 کشمیر انتخابات میں مخالفین کو کلین بولڈ کردیا ہے۔ پی ٹی آئی 26 سیٹوں کے ساتھ حکومت بنا رہی ہے
کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات میں ، پی ٹی آئی نے سادہ اکثریت حاصل کی ، کپتان کے کھلاڑیوں نے 45 میں سے 26 نشستوں پر اپنے مخالفین کو شکست دی۔اور اور آخر پر اہم بات جہاں سے گیم پلٹی وہ یہ کہ عمران خان نے بات 4 حلقوں سے شروع کی تھی جو پھر وفاق سے شروع ہوئی اور وہاں سے ہوتی ہوئی 4 صوبوں کی حکمرانی تک آگئی ہے✌️وفاق ، پنجاب ، بلوچستان، گلگت کے بعد اب آزاد کشمیر بھی لے لیا✌️🤗
@Patriot_Mani









