کرپشن اور رشوت ستانی ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نیچے سے لے کر بڑے تک سب ہی کہیں نہ کہیں اس میں شامل ہیں غرض یہ کہ کلرک سے لے کر افسر تک سب اس میں اپنا اپنا حصہ ڈال رے ہوتے۔ کرپشن ،رشوت یہ وہ بیماریاں ہیں جو دیمک کے طرح ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھا رہی ہیں اور انہیں کھوکھلا کر رہی ہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اب بھی ایمانداری سے اپنے فراٸض ادا کر رہے ہیں جنہوں نے اس لعنت کو نہیں اپنا اور ملک پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں یہ لوگ قابل تحسین ہیں مگر وہ لوگ جنہوں نےکرپشن کی رشوت لی بدعنوانیاں اور بے ضابط گیاں کیں ان کے لیے سخت سے سخت قانون بنایا جاۓ تا کہ کرپشن اور رشوت جیسے ناسور کو ہمارے معاشرے سے ختم کیا جا سکے ۔پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے اس اقدام کی بہت ضرورت ہے
رشوت لینے کے کٸی طور طریقے ہیں کبھی تو چاۓ پانی کے نام پر اور کبھی یہ کہہ کر کہ جی کام کروانے میں توڑا بہت تو خرچہ کرنا پڑتا ۔
وہ لوگ جو اداروں میں بیٹھے ہی قوم کی خدمت کے لیے ہیں اور اس کام کی وہ تنخواہ لے رہے ہوتے مگر پھر بھی لوگوں سے رشوت کا مطالبہ کرتے یا تو کہتے کہ کوٸی جان پہچان والا ہے تو سفارش کروا لو اس طرح تمہارا کام جلدی ہو جاۓ گا ورنہ پیسے دو گے تو ہم یہ کریں گےورنہ یونہی تمہارا کام لٹکا رہے گا اور ہر روز دفتر کے چکر لگانے پڑیں گے وغیرہ وغیرہ ۔
اگر ہم میں سے ہر پاکستان ایمانداری سے اپنا کام سر انجام دے تو میرے خیال سے ہر کام وقت پر ہو گا کوٸی مسٸلہ نہیں ہو گا مگر خود کو افسر کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا کام قوم کی خدمت ہے بروقت اپنے فراٸض سر انجام دینا ہے نہ کہ رشوت اور سفارش کی وجہ سے لٹکا دینا اور دوسروں کو ذہنی ازیت دینا
صرف سفارش کی بناء پر کسی دوسرے کا جاٸز حق کسی اور کو دے دیا جاتا ہے اور اس طرح میرٹ کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں اور لوگوں کا محنت پر سے یقین اٹھ جاتا ہےاور ایک نااہل دوسرے کے جاٸز حق پر قابض ہو جاتا ہے
اس طرح معاشرے میں ایک بے یقینی کی فضاء پیدا ہوتی ہے اور مختلف سماجی اور معاشرتی براٸیاں جنم لیتی ہیں۔
غرض یہ کہ کرپشن، سفارش اور بدعنوانی اب ہمارے معاشرے کا کلچر بن چکی ہے کوٸی اس پر شرمندگی محسوس ہی نہیں کرتا بلکہ دلاٸل دیے جاتے ہیں کہ آج کہ دورمیں تو صرف سفارش ہی چلتی ہے اور اس کے بغیر کوٸی کام نہیں ہو سکتا اور اگر تمہارے پاس کوٸی سفارش نہیں تو تم خالی ہاتھ ملتے ہی رہ جاٶ گے یعنی ایک تو چوری اور اوپر سے سینہ زوری ۔کرپشن نے ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ طاقت کا غیر قانونی استعمال اور قومی خزانے میں غبن کرنا اور ترقیاتی فنڈز کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا ان سب سے ہمارے ملک کی ساکھ اور قومی خزانے کو بہت نقصان پہنچا ہے
اگر دیکھا جاۓ تو کرپشن اوررشوت بہت سی براٸیوں کی جڑ ہے ۔ ہمیں ان براٸیوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے اور اپنے ملک کی ساکھ کو قومی اور بین الاقومی سطح پر دوبارہ بحال کرنا ہے اور اس کے لیے ہم ب کو مشرکہ کوشش کرنا ہو گی ۔
کرپشن اور سفارش کی وجہ سے نٸی نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے ان کا اس سسٹم پر سے اور محنت پر سے اعتبار اٹھ رہا ہے جو کہ ایک بہت سنجیدہ مسٸلہ ہے ۔ نوجوان نسل تو قوم کا اثاثہ اور امید ہوتی اگر وہی مایوس ہو کر غلط راستے پر چل پڑی اور اس سسٹم کا شکار ہو گٸی تو یہ بہت نقصان دہ ہو گا۔ اس لیے ہمیں سیاسی ، سماجی طور پر ان براٸیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی تا کہ اس قوم کا مستقبل روشن ہو ✨
@b786_s
Category: سیاست
-

کرپشن ،بدعنوانی اور رشوت ستانی ایک دیمک ہے تحریر: شمسہ بتول
-
لفظوں کی حکومت تحریر : مدثر حسن
لفظ، الفاظ ہمارے خیالات ،سوچ ضرورت کے اظہار کا ذریعہ ہیں ان کے ذریعے انسان دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اور اپنی ضرورت کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے منہ سے ادا ہوئے لفظ بھی اپنی تائثر رکھتے ہیں اور یہ الفاظ ہی دوسرے انسان کے دل ودماغ پر حکومت کرتے ہیں
اب آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟
جب ہم کسی سے اچھے الفاظ میں بات کرتے ہیں یا اس کے لیے اچھے اچھے الفاظ بولتے ہیں تو وہ اس انسان کو خوشی دیتے ہیں اسی طرح جب ہم برے یا کھردرے لفظ سے بات کرتے ہیں تو وہ انسان کو دکھی کر دیتے ہیں
لفظ انسان کی پہچان کرواتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا پر جہاں ہم ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن ان کی وجہ سے ہم اپنے خاندان کا اپنی تربیت کا بتاتے ہیں
آج کل کے لوگ بنا سوچے سمجھے کسی کو بھی کچھ کہہ دیتے ہیں یا سوچے بغیر کہ ان کے کہے الفاظ سے کسی کی شخصیت ،کسی کی زندگی ،کسی ک کیریئر ،کسی کا کردار مشکوک ہوسکتا ہے کہنے والا تو کہہ کر چلا جاتا ہے جو ان الفاظ کو اور ان کی وجہ سے بھگتاتا ہے یہ وہ جانتا ہے کہ اس پر کیا گزری ۔۔۔۔انسان کے الفاظ اس کی وہ طاقت ہیں جس سے وہ کسی کو بھی زندگی بخش سکتا ہے کوئی کتنا بھی دکھی کیوں نہ ہو آپ اس کو اچھے الفاظ میں تسلی دیں گے تو اس کی آدھی پریشانی وہیں ختم ہو جائے گی
برے لفظ بہت کھردرے اور نوکدار ہوتے ہیں جو اگلے انسان کے دل و دماغ کی دنیا کو تہہ وبالا کر دیتے ہیںاگر آپ مالی طور پر اتنے مظبوط نہیں ہیں تو ذہنی طور پر اتنے مظبوط اور امیر ضرور ہوں کہ کسی کو اپنے بہترین الفاظ سے اس کی تکلیف کم کرسکیں
آج کے اس دور میں جب سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دکھی کرنے میں مصروف ہیں تو کوشش کریں آپ مسیحا بنیں جواپنے الفاظ سے دوسرے کی تکلیف پر مرہم رکھتاہے
خوش کلامی زبان کا صدقہ ہے
خوش کلامی انسان کو صراط مستقیم کی طرف لے جاتی ہے
خوش کلامی انسان کی طاقت ہے
خوش کلامی تقاضائے ایمان ہے
اور بطور مسلمان ہمارا یقین ہونا چاہیے کہ"قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری نہ ہوگی”
(حدیث مبارکہ )
@MudasirWrittes
-

غریب عوام اور امیرسیاستدان تحریر : وقاص رضوی جٹ
پاکستان کی تاریخ کاالمیہ رہاہے کہ قیام پاکستان کےبعد جیسےہی بانیان پاکستان اس دنیاسےرخصت ہوۓتو ملک کی باگ ڈور چندامیرزادوں کےہاتھوں میں چلی گٸ۔ پنجاب کےبڑےبڑےجاگیردار ٗ سندھ کے وڈیرے ٗ بلوچستان کے سردار اور خیبرپختونخواہ کے قباٸلی سردار سیاست پر مکمل قابض ہوگۓ۔ ملک میں سیاست کو اس انداز میں مروج کیاگیاکہ کوٸی غریب اور مڈل کلاس سیاست میں آنےکاسوچ بھی نا سکے۔1970 کی دہاٸی میں جو سیاسی جماعتیں وجود میں آٸیں ان کےسربراہ انہیں جاگیرداروں میں سےتھے۔ بعدازاں موروثی سیاست نےایسی جڑیں مضبوط کیں کہ باپ کےبعد بیٹا پھر پوتااور یہ سلسلہ چل نکلا۔اس کی واضح مثال پیپلزپارٹی کی ہے جس کی بنیاد سندھ کے زمیندار ذولفقار بھٹو نے رکھی۔اسکےبعد پارٹی کی باگ ڈور اسکی بیکم نصرت بھٹو کےہاتھ میں چلی گٸ ۔ بعدازاں انکی بیٹی بینظیر بھٹو نے پارٹی پہ قبضہ کیا۔ بینظیر کی وفات کےبعد اس کےشوہرآصف زرداری چٸیرمین بنے۔اب انکے بیٹے بلاول بھٹو چٸیرمین ہیں۔ اور جب کبھی بلاول کسی جلسےمیں شرکت نہ کرسکیں تو اس موقع پہ آصفہ بھٹو کو بھیج دیاجاتاہے۔ اور یہی حال ملک کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کا ہے جس کا صدر پہلےنوازشریف تھاجب وہ جلاوطن ہواتواسکی بیگم مرحومہ کلثوم نوازٗ پھر اب جب نوازشریف جلاوطن ہےتواسکی بیٹی مریم نواز پارٹی چلارہی ہیں۔ایسا کرنا دراصل پاکستان اور اسکے انتہاٸی قابل اور پڑھےلکھےنوجوانوں کی توہین ہے۔ کیا پاکستان کی 22کروڑ آبادی میں سےکوٸی اس قابل نہیں جو شریف اور زرداری خاندان کی جگہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی چلاسکے؟یہ امیر زادے باقی عوام کو کیڑےمکوڑےسمجھتےہیں۔عوام کےٹیکس کےپیسےسےعیاشیاں کرتےہیں۔ پھر پارٹی ٹکٹ بھی ایسےلوگوں کودیتےہیں جو انکو کروڑوں روپےٹکٹ کےعوض دیتےہیں۔ پارٹی ٹکٹ ایسےلوگوں کی دی جاتیں جو بڑےبڑےتاجر ٗ ٗ جاگیردار ٗ وڈیرے ٗ سردار اور ریٹاٸرڈ اور بیوروکریٹس ہوتےہیں۔ جن کےہاتھ کرپشن سےرنگےہوتےہیں۔انہیں غریب کےمساٸل کا زرہ برابر بھی ادراک نہیں ہوتا۔
ساری زندگی ایٸرکنڈیشنڈ گھر اور مہنگی مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والے بلاول بھٹو کو کیاپتہ کہ تھر کے بچے بھوک پیاس سے مررہےہیں ۔ راٸونڈ کے محلات میں رہنے والی اور کروڑوں کی سرجری مریم نواز کو کیا پتہ کہ ایک غریب کی بیٹی جہیز نہ ہونےسے شادی کےانتظار میں بوڑھی ہورہی ہے۔
تین سو کنال کے گھر میں رہنے والے عمران خان کو ان بےگھر افراد کے دکھ کاکیاپتہ جن کےگھر تجاوزات کے نام پر مسمار کردیےگۓاور وہ سر چھپانےکیلیےدر بدر کی ٹھوکریں کھارہےہیں۔ اربوں روپے کے بینک بیلنس رکھنے والے اسد عمر کو ا باپ کےدکھ کاکیا پتہ کہ لاک ڈون کی وجہ جس کی دہاڑی نہ لگنےسےاسکےبچےبھوکے سوتےرہےہوں۔سرکاری خرچ پر حج کرنےوالے پیرنورالحق قادری کو اس 70 سالہ بوڑھی کےدکھ کاکیااحساس نے حج کرنےکیلیے پاٸی پاٸی جمع کرکے 3لاکھ جوڑےتھےکہ حج مہنگا ہوکر 8لاکھ تک پہنچ گیا۔
ان امیر سیاستدانوں کوغریبوں کا نہ احساس پہلےکبھی تھانہ اب ہے۔اس لیےغریبوں کو اب خود اپنےلیےاوراپنی آٸندہ آنیوالی نسلوں کیلیے آگےبڑھناچاہیےاور سٹیٹس کاخاتمہ کرناچاہیے۔ -

حکمران اورعدل و انصاف تحریر: مطاہر مشتاق
محترم قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ
پاکستان کا نظام انصاف روزِ اول سے ہی بازارِ حُسن میں کھڑکی کھولے بیٹھی کسی بِکاؤ حسینہ کا سا ہے اور اسکے بعض سربراہان عین نائقہ کی سی عکاسی کرتے ہوئے اپنی آخری آرام گاہوں کو جہنم بنا کر اسمیں غریق ہو چکے ہیں،
اس نظام نے محمد علی جناح کے بعد آج تک کوئی ایسا انسان حکمران نہیں بننے دیا جو کہ صرف غریبوں کو اوپر اٹھانے،قوم کو یکجاء کرکے ملک کو مستحکم کرنے میں سنجیدہ ہو،
اس ملک کا المیہ یہ ہے ایسے قاضی جنہوں نے آئین و قانون پر سختی سے عمل کیا اور کروایا وہ تعداد میں اتنے کم ہیں کہ انکو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر ہی گِنا جا سکتا ہے،
کیونکہ جہاں اشرافیہ اقتدار کی مالک ہو وہاں انصاف ہونا ناممکن ہے جہاں امیر کو غریب پر فوقیت ہو،طاقتور کے لیے انصاف کا ترازو جھول کھائے، غریب اور بے سہارا کو کوئی سہارا دینے والا انصاف دینے والا نا ہو،اس ملک میں جینا محال ہو جاتا ہے،
جیسا کہ ماضی میں اس ملک کو ایسے ایسے نگینے بھی میسر آئے ہیں کہ جنکا نام لیتے وقت باضابطہ چہروں پر کوفت لانی پڑتی ہے،
کہنے کو تو سربراہ ایسے بھی گزرے ہیں کہ جنہوں نے زیارت میں موجود اپنی آخری سانسیں پوری کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کو چالاک بڈھے جیسے القابات سے نوازا،
مادرِ ملت فاطمہ جناح تک کو تادمِ مرگ ازیت پہنچائی،
اس ُملک کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کیوجہ سے دو لخت کردیا،
سرعام منشیات اور اسلحہ کلچر کی بھرمار کو پھلنے پھولنے کے لیے سازگار ماحول دیا،
پھر ایسے کرپٹ وطن فروش بھی اس مُلک نے جھیلے جنہوں نے روئے زمین پر شائد ہی کوئی جگہ ہو جہاں اس ملک کو لوٹ کھسوٹ کر اپنی دولتوں کے انبار نا لگائے ہوں،
شاید وہ وقت اب دوبارہ نا آئے جیسا کہ ایک آمر کو اللہ نے موقع دیا تھا اس مُلک کی تقدیر سنوار کر ایسے عناصر سے ملک و قوم کی مستقل جان چھڑا دے مگر اس نے بھی اپنے اقتدار کی حوس کو پورا کرنے کی خاطر این آر او جیسے مکروہ حربے کے زریعے انکو مزید اس ملک کو لوٹنے کے سنہری موقع دئیے،
جسکا خمیازہ اس ُملک و قوم نے اربوں ڈالر کے قرضے،دہشت گردی،انسانی حقوق کی خلاف ورزی،معصوم بچوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے کیسز،مہنگائی،بے روزگاری،کرپشن،و دیگر معاشرتی جرائم کی صورت بُھگتا،اور آج بھی بھگت رہے ہیں،
موجودوہ حکومت اپنے تبدیلی کے نعرے کو لیکر تین سال سے تگ و دو میں ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی گندگی اور غلاظت قرضے کو سمیٹ کر ختم کر سکے،مگر اس دوران بھی مہنگائی کا ایسا طوفان آیا ہے کہ جس نے غریب کا سانس لینا محال کر رکھاہے،
اس میں بعید نہیں کہ اس میں ساٹھ فیصد پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ بھی ہے،مگر اس حکومت سے بیورو کریسی آجتک مکمل کنٹرول میں نہیں آئی،جو کہ آج بھی ماضی کی حکومتوں سے ہمدردی اور اپنی کرپشن کا مان رکھتے ہوئے عہدو و پیماں نبھانے میں مصروف ہے،
اگر حکومت کرپٹ لوگوں کو این آر او دینے سے گریزاں ہے تو وہ عدالتوں سے ریلف لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،
یہاں آکر پھر نظام انصاف میں ایسے سقم مجرم کے لیے تازہ ہوا کے جھونکے ثابت ہوتے ہیں جنکی بنا پر وہ دندناتے ہوئے پھر باھر نکل آتے ہیں،
ناجانے کب اس ملک کو ایسے قاضی اور ایسے حکمران میسر ہونگے جنکا مقصد اس ُملک سے وفاداری ہوگا،
ہماری یہ دُعا ہے کہ اللہ اس ملک کو اس کے اداروں کو ہمیشہ امان میں رکھے،@iamMutahir4
-

خرابیوں کی اصل جڑ حکومت کی خرابی تحریر: محمد معوّذ
دنیا میں آپ جتنی خرابیاں دیکھتے ہیں ان سب کی جڑ دراصل حکومت کی خرابی ہے ۔ طاقت اور دولت حکومت کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ قانون حکومت بناتی ہے ۔ انتظام کے سارے اختیارات حکومت کے قبضے میں ہوتے ہیں ۔ پولیس اور فوج کا زور حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ لہذا جو خرابی بھی لوگوں کی زندگی میں پھیلتی ہے وہ یاتو و حکومت کی پھیلائی ہوئی ہوتی ہے ، یا اس کی مدد سے پھیلتی ہے ، کیونکہ کسی چیز کو کھیلنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ حکومت ہی کے پاس ہے ۔
مثال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ زنا دھڑلے سے ہو رہا ہے۔اور علانیہ کوٹھوں پر بیکاروبار جاری ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکومت کے اختیارات جن لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ، ان کی نگاہ میں زنا کوئی جرم نہیں ہے ۔ وہ خود اس کام کو کرتے ہیں اور دوسروں کو کرنے دیتے ہیں ، ورنہ وہ اسے بند کرنا چاہیں تو یہ کام اس دھرلّے سے نہیں چل سکتا ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سود خواری کا بازار خوب گرم ہو رہا ہے اور مال دار لوگ غریبوں کا خون چوستے چلے جاتے ہیں ۔ یہ کیوں ؟ صرف اس لیے کہ حکومت خودسود کھاتی ہے اور کھانے والوں کو مدد دیتی ہے ۔ اس کی عدالتیں سودخواروں کو ڈگریاں دیتی ہیں اور اس کی حمایت ہی کے بل پر یہ بڑے بڑے ساہوکارے اور بینک چل رہے ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں بے حیائی اور بداخلاقی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ یہ کس لیے ؟ محض اس لیے کہ حکومت نے لوگوں کی تعلیم وتربیت کا ایسا ہی انتظام کیا ہے اور اس کو اخلاق اور انسانیت کے وہی نمونے پسند ہیں جو آپ کو نظر آرہے ہیں کسی دوسرے طرز کی تعلیم وتربیت سے آپ کسی اورنمونے کے انسان تیار کرنا چاہیں تو ذرائع کہاں سے لائیں گے ؟ اور تھوڑے بہت تیار کر بھی دیں تو وہ کھپیں گے کہاں ؟ رزق کے دروازے اور کھپت کے میدان تو سارے کے سارے بگڑی ہوئی حکومت کے قبضے میں ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بے حدوحساب خون ریزی ہورہی ہے ۔ انسان کا علم اس کی تباہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ انسان کی محنت کے پھل آگ کی نذر کیے جارہے ہیں اور بیش قیمت جانیں مٹی کے ٹھیکروں سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ ضائع کی جارہی ہیں ۔ یہ کس وجہ سے ؟ صرف اس وجہ سے کہ آدم کی اولاد میں جولوگ سب سے زیادہ شریر اور بد نفس تھے وہ دنیا کی قوموں کے رہنما اور اقتدار کی باگوں کے مالک ہیں۔ قوت ان کے ہاتھ میں ہے ، اس لیے وہ دنیا و جدھر چلارہے ہیں اسی طرف دنیا چل رہی ہے ۔ علم دولت محنت ، جان ، ہر چیز کا جو مَصرف انھوں نے تجویز کیا ہے اس میں ہر چیز صَرف ہورہی ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر طرف ظلم ہورہا ہے ، کمزور کے لیے کہیں انصاف نہیں غریب کی زندگی دشوار ہے ۔ عدالتیں بنئے کی دوکان بنی ہوئی ہیں جہاں سے صرف روپے کے عوض ہی انصاف خریدا جاسکتا ہے ۔ لوگوں سے بے حساب ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور افسروں کی مہانہ تنخواہوں پر، بڑی بڑی عمارتوں پر، لڑائی کے گولہ بارود پر اور ایسی ہی دوسری فضول خرچیوں پراڑا دیے جاتے ہیں ۔ ساہوکار زمین دار ، راجہ اور رئیس خطاب یافتہ اور خطاب کے امیدوار عمائدین ، گدی نشین پیر اور مہنت ، سینما کمپنیوں کے مالک شراب کے تاجر، فحش کتابیں اور رسالے شائع کرنے والے ، جوئے کا کاروبار چلانے والے اور ایسے ہی بہت سے لوگ خلق خدا کی جان ، مال ، عزت ، اخلاق ، ہر چیز کو تباہ کر رہے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ۔ یہ سب کیوں ہورہا ہے ؟ صرف اس لیے کہ حکومت کی کل بگڑی ہوئی ہے ۔ طاقت جن ہاتھوں میں ہے ، وہ خراب ہیں ۔ وہ خود بھی ظلم کرتے ہیں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیتے ہیں ، اور جو ظلم بھی ہوتا ہے اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اس کے ہونے کے خواہش مند یا کم از کم روادار ہیں ۔
ان مثالوں سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔ لوگوں کے خیالات کا گمراہ ہونا ، اخلاق کا بگڑنا ، انسانی قوتوں اور قابلیتوں کا غلط راستوں میں صَرف ہونا ، کاروبار اور معاملات کی غلط صورتوں اور زندگی کے بُرے طور طریقوں کا رواج پانا ظلم و ستم اور بد افعالیوں کا پھیلنا اور خلقِ خدا کا تباہ ہونا ، یہ سب کچھ نتیجہ ہے اس ایک بات کا کہ اختیارات اور اقتدار کی کنجیاں غلط ہاتھوں میں ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب طاقت بگڑے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی اور جب خلقِ خدا کا رزق انھی کے تصّرف میں ہوگا تو وہ نہ صرف خود بگاڑ کو پھیلائیں گے ، بلکہ بگاڑ کی ہر صورت ان کی مدد اور حمایت سے کھیلے گی اور جب تک اختیارات ان کے قبضے میں رہیں گے کسی چیز کی اصلاح نہ ہو سکے گی ۔
@muhammadmoawaz_
-

ہماری جیت جمہوریت آپ کی جیت سازش تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر
پاکستان کی تاریخ میں آمریت اور جمہوریت دونوں دور اس قوم نے دیکھے ہیں
بے شک بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے لیکن اس آمریت اور جمہوریت کے درمیان میں ہمارے ملک میں بادشاہت کا دور بھی دیکھا گیا جسے جمہوریت کا لبادہ پہنایا گیا
جمہوری دور وہی کہلائے گا جو عوامی طاقت سے اقتدار میں آئے اور عوامی رائے کا احترام کیا جائے ،ایک جمہوریت پسند انسان کبھی عوامی رائے کے خلاف نہیں جاسکتا
ہمارے ملک میں وہ سیاسی جماعتیں جو خود کو جمہوریت کی علمبردار سمجھتی ہیں خود ان کے اندر بھی جمہوریت کہیں نظر نہیں آتی کہیں پارٹی نانا سے نواسے کو منتقل ہوتی ہے تو کہیں باپ سے بیٹی کو ان کی پارٹی کا سربراہ ایک عام ورکر کبھی نہیں بن سکتا چاہے اس نے اپنی پوری زندگی اس پارٹی کے نام ہی کیوں نا کردی ہو
پھر بھی اسے وہ مقام نہیں ملتا جو پارٹی سربراہ کے اپنے بچوں کو ملتا ہے پھر چاہے ان بچوں نے سیاست میں وقت گزارا کوئ سیاسی جدوجہد کی ہو یا نہیں
جب اس ملک میں دو جماعتیں باری باری اس ملک پر حکمرانی کرتی آئ تب تک ان دونوں جماعتوں کے نزدیک سب اچھا ہے ہمارے ادارے ،اسٹیبلشمینٹ بھی اچھی ،عدالتی نظام بھی بہتر اور ملک میں خالص جمہوریت تھی
لیکن پھر جیسے ہی تیسری پارٹی میدان میں اتری ان دو پارٹی سسٹم کو چیلنج کیا ،عوامی حمایت حاصل کی تو ان دونوں باریاں لینے والی جماعتوں کے نزدیک اب ادارے بھی خراب ہوگئے ،اسٹیبلشمینٹ بھی خراب اور جمہوریت کے خلاف سازش بھی نظر آنے لگ گئ
تین تین بار سے بھی ذیادہ باریاں لینے والوں سے عدالت نے حساب مانگا تو وہاں بھی بجائے حساب دینے کے ان کو سازش کی بو آنے لگ گئ ،عوام نے تیسری پارٹی کو ووٹ دیئے تو وہاں بھی سازش نظر آنے لگی ان کو
حالانکہ جمہوری روایات کے مطابق تو ان دو جماعتوں کو تیسری جماعت کے ووٹوں اور عوامی انتخاب کو کھلے دل سے تسلیم کرکے اپنے اندر کی وہ غلطیاں اور خامیاں درست کرنی چاہیے تھی جن کی وجہ سے عوام نے ان کو مسترد کیا
لیکن اس ملک میں باری باری حکومت کرنے والی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ جب تک ہم جیت نا جائیں ،ہماری حکومت نا آجائے تب تک ہر الیکشن دھاندلی زدہ سمجھا جائے گا آنے والے حکومت یا ملکی اداروں سب میں جمہوریت کے خلاف کوئ سازش نظر آنی ہے
باریاں لینے والی جماعتوں کا اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد کے حالات دیکھیں تو ان کی مالی حالت کس طرح بہتر ہوئ یہ اندازہ ایک عام پاکستانی بھی اچھی طرح لگاسکتا ہے ،جس جمہوریت میں ان لوگوں کو عوام کی خدمت کرنی چاہیے تھی ،ملک کی معاشی حالات بہتر کرنے تھے یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا نا عوام کے حالات بدلے اور نا ہی اس ملک نے کوئ خاص ترقی کی البتہ ملک قرضوں کی دلدل میں ضرور دھنستا چلا گیا ،صحت کا نظام اتنا برباد ہوا کہ تین تین بار حکمرانی کرنے والوں کو اپنا علاج باہر سے کروانا پڑ رہا ہے ،اپنا علاج باہر سے کروانے والوں نے کبھی سوچا کہ میرا غریب ووٹر خدانخواستہ اسی بیماری میں مبتلا ہوا جس میں وہ خود ہے تو کیسے وہ پاکستان میں علاج کروا پائے گا کون سا ایسا اسپتال ہم نے بنوایا ہے جس میں عام ووٹر اور ہمارا اپنا علاج ہوسکے
حکمرانی پاکستان میں اور اپنی جائیدادیں ،کاروبار سب ملک سے باہر ،ملک کا وزیراعظم اور وزیر خارجہ کسی دوسرے ملک میں اقامے پر کوئ عام سی نوکری کررہے ہوں ،جائیدادیں اتنی بنالی لیکن رسیدیں نہیں ،بچے ان کے پاکستانی نہیں ،حکومت ختم ہوتے ہی ملک سے فرار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ جمہوریت کا نعرہ لگائیں ،ووٹ کی عزت کا نعرہ لگاتے لگاتے اپنی لوگوں کو مک مکا کرنے کے لئے اسٹیبلشمینٹ کے پاس بھی بھیجتے رہیں ،عمران خان کی حکومت گرادو تو اسٹیبلشمینٹ سے بات بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ایسا سب کچھ کس جمہوریت میں ہوتا ہے ،کیا عوام آپ کی غلام تھی جو تاحیات صرف آپ کو ووٹ دیں بے شک آپ کرپشن کریں ،ملک کو معاشی لحاظ سے تباہ کردیں ،قرضے لے کر اپنی جائیدادیں بنائیں اور ملک مقروض ہوکر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے ،عوام کے لئے صحت ،تعلیم ،خوارک جیسی بنیادی ضروریات بھی نا ہوں اور خود دن بدن اربوں ،کھربوں کی جائیدادوں کے مالک بن جائیں لیکن پھر بھی آپ یہ امید رکھیں کہ عوام ہمیں ووٹ دیں ،پی ٹی آئ کو ووٹ دیا تو اسے ہم جمہوریت کے خلاف سازش سمجھیں گے ،عدالتیں ہم سے حساب نا مانگیں ،بس تاقیامت ہمیں ہماری اولادوں کو عوام ووٹ دیں اور ہم جمہوریت کے نام پر اس ملک پر بادشاہت کریں
اصل بات تو یہ ہے کہ ان دونوں باریاں لینی والی جماعتوں پپلزپارٹی اور ن لیگ کو اب اپنا رویہ جمہوریت پسندانہ بنانا پڑے گا ،عوامی رائے کا احترام کرنا پڑے گا ،اپنی ماضی کی حکومتوں میں کی گئ کرپشن ،لوٹ مار اور بادشاہت کا حساب دینا چاہیے
پاکستان کے وہ تمام ادارے جن پر اس وقت آپ کو اعتماد نہیں یہی ادارے آپ کے دور میں بھی تھے تب آپ نے ان کو ٹھیک کرنے کے لئے کیوں کچھ نہیں کیا ،الیکشن میں دھاندلی کا رونا رونے سے بہتر تھا اپنے دور میں الیکشن کا نظام بہتر بناتے یا اس وقت پی ٹی آئ حکومت آپ کو الیکشن ریفارمز کے لئے مل بیٹھنے کی بات کررہی ہے تو یہ اچھا موقعہ ہے بیٹھیں اپنی تجاویز دیں الیکشن کا نظام بہتر بنائیں اور پھر ہمت پیدا کرکے ہار ہو یا جیت کھلے دل سے تسلیم کریں
پاکستان میں دھاندلی کا رونا تو ہمیشہ سے رویا گیا لیکن کیونکہ اس وقت کی دھاندلی سے آپ جیت کر حکومت بنالیتے تھے تو سب کچھ اچھا تھا اب آپ ہارنے لگے تو الیکشن میں دھاندلی اور جمہوریت کے خلاف سازش نظر آنے لگ گئ
اب ایسا نہیں چلے گا بڑے ہوجائیں اور کھلے دل سے جمہوری حکومت کو تسلیم کرنا سیکھیں
-

سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی جیت – تحریر: یاسر اقبال
سیالکوٹ پاکستان کا ایک اہم شہر ہے جو پاکستان کے صنعت میں ایک کا بڑا حصہ رکھتا ہے یہاں کافی مقدار میں برآمدی اشیا جیسا کہ سرجیکل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور کپڑا پیدا کرتا ہے سیالکوٹ کو شہر اقبال بھی کہا جاتا ہے، عظیم شاعر، قانون دان اور مفکر علامہ محمد اقبال 9 نومبر1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اس کے ساتھ اکثر سیالکوٹ میں سیاسی پارہ بھی گرم رہتا ہے اور بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کا مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے جیسا کہ پی پی 38 کے ضمنی انتخاب میں دیکھنے کو ملا پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 38 کا ضمنی انتخاب 28 جولائی 2021 کو ہوا جس میں پی ٹی آئی اور ن لیگ سمیت کئی سیاسی حریفوں کے درمیان 165 پولنگ اسٹیشنوں پر مقابلہ ہوا سیالکوٹ میں بارش کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے ہر پولنگ اسٹیشن پر آئی، اس دوران سیاسی کارکنوں میں تلخ کلامی کے کچھ واقعات بھی رونما ہوئے۔ پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان آمنے سامنے آگئے، رینجرز کے جوانوں نے مشتعل کارکنان میں بیچ بچاؤ کرایا۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 233،422 تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان امیدوار احسن سلیم بریار اور مسلم لیگ ن کے امید وار چوہدری سجانی نے اپنی اپنی جماعت کی نمائندگی کی۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف فتح حاصل کر پائی اور مسلم لیگ ن کو شکشت ہوئی۔ غیر حتمی غیر سركاری کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امید وار احسن سلیم بریار نے 60 ہزار 588 ووٹوں کے ساتھ اگے رہے اور حلقہ پی پی 38 کے ضمنی انتخاب میں کامیابی سمیٹ لی جبکہ مسلم لیگ ن کے امید وار 53 ہزار 471 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے اور مسلم لیگ ن کو 7 ہزار 117 ووٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھوں شکشت ہوئی۔ پیپلز پارٹی جو کہ پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن اس کے باوجود پیپلزپارٹی کے ووٹرز نہ ہونے کے برابر تھے۔ پیپلز پارٹی کا امیدوار محمّد قدیر کا ساتواں نمبر رہا اور اس کے حصے میں صرف 597 ووٹ آئے۔ جبکہ آزاد امیدوار طاہر محمود ھندلی 12 ہزار 488 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے سات ہزار 117 ووٹوں کی لیڈ سے فتح حاصل کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی کارکنوں نے خوب جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا جبکہ خوشی سے آپس میں مٹھائیاں بھی بانٹی گئیں۔ یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ حلقہ 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے رہنما اختر سبحانی کے نام رہا تھا اور ان کی وفات کے باعث خالی ہوا تھا۔
تحریک انصاف کے پی پی 38 ضمنی انتخابات میں کامیابی پر وزیر اعظم عمران خان بھی کافی خوش نظر آئے اور اس نے وزیر اعلی پنجاب کے معاون خصوصی (ایس اے سی ایم) فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی اور انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس کے اپنے شہر سیالکوٹ میں اس کے خدمات نے پارٹی کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ سیالکوٹ کی پی پی 38 نشست جیتنے پر معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عوام نے قومی خزانہ لوٹنے والوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انتخابات میں سیالکوٹ کے عوام نے مسلم لیگ ن کا بیانیہ مسترد کردیا۔ پی پی 38 کے اس جیت پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اپنے سیاسی حریفوں کو خوب نشانے پر رکھا اور اس کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں حق اور سچ کی فتح ہوئی نتائج نے ثابت کردیا پاکستانی سیاست میں اب چوروں اور لٹیروں کی کوئی گنجائش نہیں عوام ریاست مخالف بیانیے سے متنفر ہوچکے ہیں پے در پے شکست کے بعد انہیں منفی سیاست سے توبہ کر لینی چاہئے
پاکستان تحریک انصاف کے اقبال کے شہر میں جیت پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کے اظہار پر سیالکوٹ کے عوام خصوصاً پی پی 38 کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستان تحریک انصاف نے مخالف جماعت کی نشست جیت کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں صرف دیانتداری کی ہی سیاست چلے گی۔ ثابت ہو گیا ہے کہ عوام شفاف اور عوام کی خدمت کرنے والی مخلص قیادت کے ساتھ ہیں۔ وزیراعلیٰ کا اپنی حکومتی کا بھی تذکرہ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی اب تک کی شاندار کارکردگی کی بدولت سیالکوٹ کے عوام نے ان کو اس ضمنی الیکشن میں سرخرو کیا ہے۔ کامیابی نئے پاکستان اور تبدیلی کے ایجنڈے کی جیت ہے۔ امید ہے کہ احسن سلیم بریار حلقے کے عوام کی نمائندگی کا بھرپور حق ادا کریں گے۔ سیالکوٹ الیکشن میں شفافیت کا بول بالا ہوا ہے۔
یہ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا ضمنی الیکشن تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت ہوئی اس سے پہلے باقی 2018 کے انتخابات کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے اس میں پاکستان تحریک انصاف کو شکست ہوئی۔ اقبال کے شہر سیالکوٹ کے عوام اپنے نوجوان نمائندہ احسن علیم بریار سے تبدیلی کے امید پر ہے کہ وہ شہر اقبال کی ترقی میں اپنا پورا حصہ ڈالیں گے اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرینگے۔ وسلام
Twitter:
@RealYasir__Khan -

بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی تحریر: ڈاکٹر ذکاءاللہ
عمران خان نے جب1971 میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تو وہ پہلے میچ میں بری طرح ناکام ھوگیا لیکن ہمت نہیں ھاری محنت جاری رکھی
جب 4سال بعد دوبارہ ٹیم میں آے تو ایک نیے ولولے اور جوش سے کھیلے
جاوید میانداد جیسے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ھوے اپنے آپ کو ایک بہترین کھلاڑی اور لیڈر منوایا
ویسٹ انڈیز کے خلاف 1979میں کھیلی جانی سیریز تاریج کا حصہ ھے
جب پوری دنیا کے بیٹسمین کالی آندھی سے مشہور باولنگ اٹیک کا نام سنتے تو ضرور انہیں جھٹکا لگتا ھوگا کیونکہ جس ٹیم کی باولنگ لاین اپ میں مایکل ھولڈنگ اور میلکم مارشل جیسے تیز باولر ھوں وھاں پریشانی اورخوف معمولی بات ھے اور دوسری طرف اس دور کے خطرناک سر ویون رچرڈ جیسے بلے باز جو کسی باولر کو خاطر میں نہ لاتے ان کے خلاف کھیلی جانی ٹیسٹ سیریز میں عمران خان نے اپنی بہترین پرفارمنس سے دنیا کو حیران کردیا تھا
وھی کالی آندھی جس کے خلاف ساری ٹیمیں کھلینے سے گھبراتی تھی بھارت جیسی ٹیم کے ایک اننگز میں چھ کھلاڑی بیٹنگ کے دوران زخمی ھوکر پویلین واپس آے اور بھارت کی ٹیم بہت بری شکست سے ٹیم دوچار ھویی تھی
وھاں عمران خان کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت نہ صرف پاکستان نے ٹیسٹ سیریز برابر کھیلی بلکہ پوری دنیا میں اپنی دھاک بھی بٹھایی
اپنی کرکٹ کیریر کے اختتامی دور میں پاکستان کو عالمی کپ جیسا تحفہ بھی دیا
سیمی فاینل اور فاینل میچ میں جلد وکٹ گر جانے سے بیٹنگ میں نمبر تین پر کھیلتے ھوے بہترین اننگز کھیلیں اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا
فاینل میں کندھے میں درد کے باوجود پین کلر ٹیکہ لگوا کر نہ صرف کھیلے اور کپتانی کی بلکہ درد کے باوجود باولنگ بھی کرایی اور آخری وکٹ بھی حاصل کی
شوکت خانم جیسے ناممکن نظر آنے والے پروجیکٹ کو اپنے زور بازو سے بنوایا
پہلے الیکشن میں صفر سیٹ سے ناکام رہنے والے کپتان نے اب تک 7 اکاییوں میں سے 6 اکاییوں پر حکمران ہیں صرف سندھ کو فتخ کرنا ھے گلگت بلتستان اور کشمیر الیکشن کے بعد اب سندھ الیکشن جیتنا نہایت آسان دکھایی دے رھا ھے مقابلہ کویی بھی ھو کپتان ہمیشہ چیلنج قبول کرتے ہیں
یہی وجہ ھے کہ عمران خان کو بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی کہا جاتا ھے@KHANKASPAHI1
-

حب آف منی لانڈرنگ تحریر: محمد اسعد لعل
پیسہ ہاتھ کی میل سمجھا جاتا ہے اگر یہ پیسہ ناجائز طریقہ سے کمایا جائے تو ہاتھ کے ساتھ ساتھ نصیب بھی میلا کر دیتا ہے۔منی لانڈرنگ ایک کالا دھندا ہے جس میں غیر قانونی طریقوں سے کمائے گئے کالے پیسے کو سفید میں بدلا جاتا ہے۔جب کوئی مجرمانہ کاروائی سے پیسے کماتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس پیسے کی غیر قانونی حیثیت عیاں نہ ہو۔پیسے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے اس کی ابتداء کو چھپایا جاتاہے۔
پاکستان کا پیسہ، انڈیا کا پیسہ، افغانستان کا پیسہ اور دنیا کے غریب ممالک یا ترقی پزیرممالک کا پیسہ کون اور کیسے کھا جاتاہے؟آخر منی لانڈنگ ہو کہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟
اس کے اوپر عالمی سطح پر کام شروع ہوا ہے، پاکستان نے اس معاملے کو اُٹھایا ۔اس سے پہلے کو ئی اور اس بارے میں بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔دنیا کے حکمران اس پر بات کیوں نہیں کرتے یہ ایک اہم سوال ہے۔
برطانیہ کو منی لانڈرنگ کا حب سمجھا جاتا ہے۔برطانیہ کیسے دنیا بھر کا پیسہ اکٹھا کرتا ہے اس پر ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کا جو گندا پیسہ ہےوہ کچھ مددگار کمپنیوں کے ذریعے سے "یو کے” میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔اور پھر دو نمبر طریقے سے "یو کے” کے آف شور سنٹرز تک یہ پیسہ پہنچتا ہے۔ اس پیسہ کوپھر برطانیہ کی لگژری قسم کی پراپرٹیز میں انویسٹ کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے یہ پیسہ ان ممالک سےجہاں پر کرپشن کی گئی ہو، برطانیہ پہنچایا جاتا ہے۔برطانیہ میں اس پیسے کو آف شور کمپنیز میں چھپایا جاتا ہے پھر اس پیسے سے آف شور کمپنیز کے ذریعے پراپرٹیز خریدی جاتی ہیں ، لیکن یہ پتا نہیں چلتا کہ پراپرٹیز کس کی ہیں۔ مثال کے طور پہ برطانیہ میں ایک آدمی کے پاس دس ارب کی پراپرٹی ہے مگر وہ اس کے اپنے نام پر نہیں لی ہوئی۔اس نے پاکستان یا کسی دوسرے ملک سے پیسہ منی لانڈنگ کر کے برطانیہ پہنچایا ، برطانیہ میں وہ پیسہ آف شور کمپنی میں ڈالا گیا ۔اب آف شور کمپنی کا مالک کون ہے یہ کسی کو نہیں پتا۔ وہ کمپنی پراپرٹیز خرید لیتی ہے۔ اب مالک اور پراپرٹیز کے درمیان ایک آف شور کمپنی آ جاتی ہے لحاظہ اصل مالک کا کسی کو پتا ہی نہیں چلتا۔یہ وہ طریقہ واردات ہے۔
برطانیہ میں داخل ہونے والی دو نمبر رقم کا پیمانہ سالانہ اربوں پاؤنڈ سے کہیں زیادہ ہے۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ برطانیہ حکومت ان منی لانڈرز کا دفاع کیسے کرتی ہے۔
برطانیہ کی گولڈن ویزہ کی ایک پولیسی ہے۔جو بدعنوانی کے اور کرپشن کے پیسوں کو ملک کے اند خوش آمدید کہتی ہے۔اس پولیسی کے تحت اگرآپ کے پاس دو ملین پونڈز ہیں تو آپ برطانیہ کا گولڈن ویزہ لے کر وہاں جا کر کاروبار کر سکتے ہیں ۔اپنا پیسہ وہاں لگائیں کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔تین چیزیں جو برطانیہ کے قانون کے اندر موجود ہیں جن کی وجہ سے منی لانڈرنگ کا پیسہ پکڑا نہیں جاتا۔
نمبر 1: برطانیہ کا قانون کمپنی مالکان کا نام چھپانےکی اجازت دیتا ہے۔مثال کے طور پر میں برطانیہ میں کوئی اربوں روپے کی پراپرٹی میں رہتا ہوں ۔یہ تو سب کو پتا چل جائے گا کہ اس پراپرٹی میں رہتاکون ہے پر وہ اس پراپرٹی کا مالک نہیں ہے اب مالک کون ہے؟ وہ کوئی آف شور کمپنی ہے اور آف شور کمپنی کا مالک کون ہے اس کا پتا برطانوی قانون نہیں لگنے دیتا۔
نمبر2: پولیس اس چیز کو ڈیٹیکٹ نہیں کر سکتی کہ ان کمپنیوں کی ناجائز دولت کی ابتداء کیسے ہوئی۔
نمبر3اور آخری چیز جو برطانیہ کے قانون میں اس غیرقانونی پیسے کو سپورٹ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی کمپنیوں کا رازداری کا نظام عالمی سطح پر معاشی جرائم کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ جو 2017 میں شائع ہوئی جسکے مطا بق پاکستان سے ہر سال دس ارب امریکی ڈالرمنی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے باہر پہنچ جاتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے 2020 میں اقوامِ متحدہ کے ایک پینل سے کچھ مطالبات کیے تھے ان میں سے 4 مطالبات بہت مقبول ہوئے۔
انہوں نے پہلا مطالبہ یہ کیا کہ ایسے مالی ادارے جو اس طرح کی رقوم حاصل کرتے ہیں ان کو بھی قانون کے دائرے میں لانا چاہیے۔
دوسرا ،ترقی پزیر ممالک سے لوٹا گیا پیسہ انہیں واپس ہونا چاہیے۔
تیسرا ،بین الاقوامی برادری کو غیر قانونی دولت کے بہاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اُٹھانے کے لیے نئے قوانین بھی بنانے چاہیں۔
چوتھا، اگر کسی بھی متاثرہ ملک کی غیر ملکی آف شورکمپنی کی تحقیقات ہو رہی ہےتو پھر برطانیہ یا وہ ملک جہاں یہ کمپنی موجود ہے،اس آف شور کمپنی کی اونر شپ کو ظاہر کر دے۔
اب بین الاقوامی ادارے بھی اس پر بات کر رہے ہیں ۔برطانیہ نے کچھ نئے قوانیں بنائے ہیں کچھ اور ملک اس بارے میں سوچ رہے ہیں پر ابھی بھی وہ ان پیسوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دباؤ بڑھتا جائے ، کمزور اور غریب ملک مل کر آواز اُٹھائیں کے ہمارا پیسہ واپس کرو تو شائد اُن کا پیسہ واپس آ جائے۔لیکن اس کے لیے ہم آواز ہونے اور بین الاقوامی انصاف کی ضرورت ہے۔
ہمیں اب اس مسلہ کے حل کی طرف آنا چاہیے۔سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ برطانیہ کرپٹ سیاستدانوں کی دولت کی حفاظت کرتا ہےاور بدلے میں ان ممالک کے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔دوسرا برطانیہ غریب ملک کے پیسے پر موج کر رہا ہےاگر تمام غریب ملک اپنا پیسہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں تو برطانیہ دھرم سے نیچے آجائے گا۔
برطانیہ پاکستان سے لوٹا گیا پیسہ اپنے بنکوں میں ڈال رہا ہے اور جس کی قیمت پاکستانی عوام ترقی میں رکاوٹ کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔برطانیہ اور امریکہ اب اس بات کو سمجھیں غریب ملک کی عوام اپنی غربت،پریشانیاں اور پسماندگی کے لیےنہ صرف اپنے نااہل اور کراپٹ حکمرانوں کو ذمےدار سمجھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان ممالک کو بھی ذمے دار سمجھنے لگ گے ہیں جہاں پر یہ پیسہ لے جا کر چھپایا جا رہا ہے۔ جتنا جلدی یہ ممالک اس بات کو سمجھیں گے یہ ان کے لیے بھی اچھا ہو گا اور غریب ممالک کے لیے بھی بہتر ہو گا ورنہ غربت بڑھتی چلی جائے گی اور دنیا نئی لڑائیوں کی طرف دھکیلی جائے گی۔
@iamAsadLal
twitter.com/iamAsadLal -

گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست تحریر: سید لعل حسین بُخاری
پاکستانی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے مشہور ہے۔حالانکہ یہ دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی ہوتا ہے۔مگر جس طرح کی بے اصولی اور مفادات ہماری سیاست میں نظر آتے ہیں۔وہ شائد ہی کہیں اور ہوں۔
ان بے اصولیوں کا تاریخی مظاہرہ کرنے والی ،دہائیوں سے ایک دوسرے کی حریف سمجھی جانے والی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سر فہرست ہیں۔
وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ یہ اندر سے ایک ہیں،انہوں نے لوٹ مار کے لئے باریاں مقرر کر رکھی تھیں۔
مل بانٹ کے کھانا ان کی سیاست کا بنیادی اصول تھا۔
ایک دوسرے کو غدار کہا گیا،
ایک دوسرے کی خواتین کی عزتوں کو سر بازار رسوا کیا گیا۔
مگر جب اپنے مفادات کو بچانے کی نوبت آئ تو ایک دوسرے کے حق میں نعرے بلند کر دئیے گئے۔مزاروں پر جا کر سجدہ ریز ہو کر منافقت کو شرمندہ کیا گیا۔
جب ایک دوسرے سے مفادات ٹکراۓ تو پھر سے ایک دوسرے کے لتے لینے شروع کر دئیے گئے۔
ان سب لڑائیوں کے دوران اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ معرکہ مسلم لیگ کے اندر -ن اور ش -میں چل رہا ہے
یہ کشمکش چچا اور بھتیجی کے مختلف نظریات کی نفسیاتی جنگ ہے-
شہباز شریف نواز شریف کے ریاست مخالف بیانیے سے ہینڈز اپ کر چکے ہیں،مگر ن لیگ پر ابھی تک نواز شریف کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ وقتی طور پر نواز شریف اور مریم کی کھل کر مخالفت نہیں کر پا رہے،تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی عبرتناک شکست سے اتنا پی ٹی آئ والے خوش نہیں،جتنا شہباز شریف کیمپ ۔
پاکستانی سیاست میں ن لیگ کے گھر کی اس لڑائ میں فضل الرحمن کو کون بھول سکتا ہے۔
جو اپنے مفادات کی خاطر شائد بی جے پی سے بھی اتحاد کرنے کو تیار ہو جاۓ۔
آجکل انہیں کہیں سے بھی گھاس نہیں ڈالی جا رہی،جس کی وجہ سے وہ دم سادھے ہوۓ ہیں۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایکبار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ضرور ہیں،مگر ان دو جماعتوں کی منافقت بھری تاریخ کو دیکھتے ہوۓ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ کب تک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں گے اور کب کسی میثاق کی آڑ میں باہم شیر وشکر ہوجائیں گے۔
ان لوگوں کی مطلب پرستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے عام آدمی سیاست سے اس قدر متنفر ہو چکا ہے کہ اب تو صدارتی نظام کی بازگشت سُنائ دینا شروع ہو چکی ہے-
اس دو پارٹی سیاسی نظام کی تباہ کاریوں کے سامنے بند باندھنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔
اگر ہماری سیاست میں عمران خان کی انٹری نہ ہوتی تو پتہ نہیں کب تک عوام ان دو پارٹیوں کی لوٹ مار کا شکار رہتے۔
آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی شکست اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ لوگ اب ان کی مکاریوں کو سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔
لوگ ان کے جھوٹے بیانیوں کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں۔
پہلے ان کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ مسترد ہوا اب دھاندلی کا واویلہ بھی لوگوں کو متاثر نہیں کر پا رہا۔
عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کے ہر بیانیے کے پیچھے ریاست دشمنی چھپی ہوتی ہے۔
ان آخری دو بڑی شکستوں کے بعد پارٹی کے اندر سے مریم صفدر کے بیانیے کو مسترد کیا جانا خاص اہمیت کا حامل ہے
مریم نے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شکست کو دھاندلی سے تعبیر کیا تو مصدق ملک،نوشین افتخار اور محمد زبیر نے مریم کے دعوے کی نفی کرتے ہوۓ کہا کہ دھاندلی نہیں ہوی بلکہ انہوں نے تو پی ٹی آئ کو سیالکوٹ کی جیت پر مبارکباد بھی دے ڈالی۔
اب آہستہ آہستہ
مریم کیمپ کے صحافی بھی مریم کے خود ساختہ بیانیوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں
جس کی تازہ ترین مثال سلیم صافی کا نواز شریف کی حمد اللہ محب سے ملاقات کو غلط قرار دینا ہے
سلیم صافی نے کہا کہ حمداللہ نے کسی ایک شخص یا ایک ادارے کو گالی نہیں دی بلکہ ریاست پاکستان کو گالی دی،لہذا نواز شریف کو ایسے شخص سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔
موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کے ان بیانیوں کی تدفین سے پی ٹی آئ کا الیکشن 2023 جیتنا آسان ہو گیا ہے بشرطیکہ پی ٹی آئ عوام سے اپنا میثاق کرتے ہوۓ انکی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ان کو کچھ ضروری سہولیات دے سکے،جن میں سر فہرست مہنگائ کے خلاف جنگی بنیادوں پر برسر پیکار ہونا ہے #@lalbukhari