Baaghi TV

Category: سیاست

  • الطاف حسین ثانی نہ بنیں . تحریر : آصف گوہر

    الطاف حسین ثانی نہ بنیں . تحریر : آصف گوہر

    جس انسان کو اس کا اپنا وطن دھتکار دے اور وہ مفرورہوکر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلے اس کے ہاں پھر دشمنوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ماضی قریب میں کراچی کو یرغمال بنانے والے الطاف حسین کا معاملہ ہمارے سامنے ہے قتل و غارت گری اغوا بھتہ خوری کے مقدمات میں مطلوب سفاک مجرم جس سے خوفزدہ پوری میڈیا انڈسٹری کی جرات نہیں تھی کہ اس کی لائیو تقریر میں خلل بھی پڑ جائے جس کی بھتہ خوری سے تنگ کراچی حیدرآباد کے سرمایہ کار اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے جس کی وجہ سے شہر میں روزانہ درجنوں افراد ٹارگٹ کلنگ میں مارے جاتے تھے ۔ بوری بند لاشوں کا ملنا معمول کی بات تھی ۔جب اس الطاف حسین نے لندن پناہ لی تو کراچی سے بھتہ منی لانڈرنگ کے ذریعے لندن ٹرانسفر ہونا شروع ہوگیا اور اس نے لندن میں اپنا نیٹ ورک قائم کرلیا اس کی ایک کال پر کراچی کا شہر بند ہوجایا کرتا تھا لندن میں پاکستان دشمن قوتیں الطاف حسین کے پاس جایا کرتی تھیں اوراسکو اپنے مذموم مقاصد کے لئے خوب استعمال کیا گیا۔الطاف حسین نے لندن سے کراچی میں ہونے والے جلسوں سے گھنٹوں خطاب کرنا اور پاکستانی اداروں اور افراد کے خلاف بکواس کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا پھر اسکی بدزبانی اتنی بڑھ گئ کہ مادر وطن پاکستان مخالف نعرے لگوادیئے اس سے قبل الطاف حسین قانون نافذ کرنے والے اداروں پر انکی قیادت کے خلاف مسلسل بکواس کرتا رہا لیکن ملک کے تجارتی مرکز شہر قائد کے امن و امان کے لئے سب برداشت کیا جاتا رہا لیکن جب بات پاکستان کے خلاف نعرہ کی آئی جو اس کے زوال کی وجہ بنی پھر چشم فلک بے دیکھا چند باوردی جوان نائن زیرو داخل ہوئے اور 30 منٹ میں الطاف حسین کی لنکا ڈھا دی۔

    اب آئیں بات کرتے ہیں نوازشریف کی پانامہ پیپرزمیں نام آیا کرپشن کیسزعدالتوں میں چلے ایک سوال سامنے رکھا گیا لندن فلیٹس کہاں سے خریدے رقم کی ادائیگی کیسے کی رسیدیں مانگی گئیں کوئی جواب نہ دے سکے نااہل ہوئے 7 سال قید ہوئی جیل گئے بیماری کا ایسا ڈھونگ رچایا کہ اسلام آباد کی بڑی عدالت کو کہنا پڑا کہ وزیراعظم ضمانت دیں کے منگل تک ملزم کو کچھ نہ ہوگا ۔ حکومت نے عدالت کے تحفظات دیکھتے ہوئے علاج کی غرض سے 7 ہفتوں کے لئے لندن جانے کی اجازت دے دی ۔ موصوف نے جہازمیں بیٹھتے ہی تیور دیکھائے اوربیماری والی سستی غائب ہوگئ پھر جناب لندن کی برگر اور کافی شاپس پر نظر آنے لگے عدالت نے مسلسل غیر حاضری پر مفرور اور اشتہاری قرار دیا اور جائیداد ضبطگی اور نیلامی کا حکم دیا ملک بوٹا نے شیخوپورہ میں مجرم کی زمین نیلامی میں خریدی ۔
    نوازشریف نے فضل الرحمان کے ذریعے پی ڈی ایم بنوائی اور آہستہ آہستہ الطاف حسین کی طرح قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں کے خلاف خطاب شروع کردیئے اور میڈیا ہاوسز نے نشر کرنے شروع کر دئیے جب بدکلامی حد سے بڑی حکومت نے نواز شریف کی تقریر نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ۔

    عالمی اسٹبلشمنٹ کو الطاف حسین ثانی میسر آگیا اورپاکستان مخالف ممالک کے نمائندوں نے ملاقاتیں شروع کردیں اسی دوران امریکا افغانستان سے بستر لپیٹ گیا افغان کٹھ پتلی انتظامیہ کو اپنے لالے پڑ گئے اور وہ پاکستان کو اپنی یتیمی کا سبب سمجھنے لگے۔ افغانستان کے سیکورٹی ادارے کے سربراہ محب نے بکواس کرتے ہوئے پاکستان کو چکلہ کہ دیا پاکستان کے وزیرخارجہ نے بروقت جواب دیا اور کہا کہ اب کوئی غیرت مند پاکستانی اس سے ملاقات کرے گا نہ ہاتھ ملائےگا۔ اسی افغان نے لندن میں نوازا شریف کی رہائش گاہ پرملاقات کی اور خوش گپیوں کی تصاویر جاری کیں گئیں جو تمام محب وطن پاکستانیوں کے لئے شدید اذیت اور غصے کا باعث بنیں۔ اور اس غصہ کا اظہار آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے کیا اورمسلم لیگ ن کو مسترد کردیا.

    ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ نواز شریف نے لندن کے نواح میں بھارتی وفد سے بھی ملاقاتیں کیں ہیں ۔ نوازشریف الطاف حسین کا انجام یاد رکھیں اس کی مقبولیت بھی کم نہیں تھی لیکن پاکستانیوں نے دل سے اتار دیا اب نہ وہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا ۔
    "‏جس فرد کو اس کا اپنا وطن دھتکار دے اور وہ مفرور ہوکر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلے اس کے ہاں پھر دشمنوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔”

    @EducarePak

  • کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت  تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی کی جیت تحریر: یاسمین ارشد

    کشمیر کا الیکشن پی ٹی آئی نے بھاری اکثریت سے جیت لیا الحمداللہ؟ کشمیر کے الیکشن میں انڈین بیانے کی ہار ہوئی ہے انڈین میڈیا چیخ رہا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اور نون لیگ کے ایک امیدوار اسماعیل گجر نے بیان دیا ہم انڈیا سے مدد مانگے اس انڈیا سے جو ہمارے مظلوم کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے اس انڈیا سے جو بلوچستان میں دن رات دہشت گردی کرنے کی پلاننگ کر رہا ہے اس انڈیا سے مدد مانگیں گے جو دنیا میں ہمارے پاکستان کو نیچا دکھانا چاہتا ہے یہ لوگ کیوں ہمدرد ہے انڈیا کے نون لیگ انڈیا سے کیا مدد مانگے گی کیا ان سے کہے گی اپنی فوج آزاد کشمیر میں بھیج دیں چیف الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کو چاہیے اس کو نااہل کر دیں ان لوگوں نے قومی سلامتی کا مذاق بنایا ہوا ہے اسماعیل گجر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا انڈیا میں ایسا نہیں ہوتا یہ سچ کہا وہاں ایک لاکھ کشمیری ہمارے بہن بھائیوں کو شہید کر دیا گیا اور ہزاروں کشمیر ی انڈیا کی قید میں ہے جموں کشمیر میں ہماری کشمیری بہنوں کی عزت کو پامال کیا گیا اور ہزاروں کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی چھین لی لیکن نون لیگ انڈیا سے مدد مانگے گی افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں کو ہم نے چالیس سال تک ووٹ دیے اپنے ملک کا حکمران سمجھا لیکن یہ ہمارے دشمن ملک انڈیا سے مدد مانگے گے اور نون لیگ کا لیڈر نواز شریف ایسے لوگوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے جن لوگوں نے ہمارے ملک کے خلاف زہر اگلا افغان سیکیورٹی ایڈوائزر حمداللہ سے نواز شریف کی خفیہ ملاقات ہوئی لندن میں جس کو حمداللہ نے اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے ایکسپوز کر دیا یہ ملاقات انڈیا کی خواہش پر سی آئی اے نے ایک عرب ممالک کی مدد سے یہ ملاقات کروائی حمداللہ محب اجیت ڈاوول کا قریبی دوست ہے اور اجیت ڈاوول سے کشمیری سخت نفرت کرتے ہیں اب نون لیگ کو سمجھ نہیں آرہی جو حمد اللہ محب سے ملاقات ہوئی اس کی کیا توجیج پیش کریں نون لیگ نے پہلے کہا باہمی دلچسپی کے امور پر ملاقات ہوئی ان دونوں کی باہمی دلچسپی کا امر ایک ہی ہے وہ ہے افواج پاکستان جس ٹائم اس ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی تو پاکستانیوں کا ردعمل دیکھ کے مریم نواز نے دو تصویریں شیئر کی وہ بھی دو سال پرانی حمد اللہ محب پاکستان دورے پر آئے ہوئے تھے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی جنرنل قمر جاوید باجوا کی تصویر شیئر کرکے مریم نواز نے پاکستانی عوام کو بیوقوف بنا رہی تھی میڈم مریم صاحبہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرکاری حیثیت سے ملاقات کی تھی وہ بھی تب حمداللہ محب نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور پاکستان نے بھی اس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا دوسری تصویر عمران خان کی شیر کی جب وہ افغانستان گئے اور قطار میں کھڑے لوگوں کا اشرف غنی تعارف کروا رہا تھا اس قطار میں حمداللہ بھی کھڑا تھا توعمران خان کیا کہتا؟ کہ اس بندے کو قطار سے نکال دو تب بھی حمداللہ نے پاکستان کے خلاف زہر نہیں اگلا تھا اور نہ ہی بائکاٹ ہوا تھا ورنہ عمران خان انڈین وزیر خارجہ کی طرح شائد ہاتھ بھی نہ ملاتا اس سے؟ اور مریم نواز نے ایک اور تصویر شئیر کی پرائیویٹ گاڑی میں جوان ڈیوٹی پر جا رہے تھے اس گاڑی پر پی ٹی آئی کا جھنڈا بڑا لگا ہوا تھا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو مینشن کر کے پوچھ رہی تھی یہ کیا ہے دوسرے دن پاک فوج کے جوان ڈیوٹی پر جاتے ہوئے گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور 4 جوان شہید ہوگئے تین زخمی ہوئے پاک فوج سے ن لیگ کی نفرت اور اس حادثے نے بھی کشمریوں کے دلوں میں آگ لگائی۔ پاک فوج ستر سال سے ایل او سی پر کھڑی آزاد کشمیر کا دفاع کر رہی ہے اور ایل او سی کی دوسری جانب کھڑی 10 لاکھ انڈین فوج کو روکے ہوئے ہے اور روزانہ ہمارے جوان شہید ہوتے ہیں پاک فوج کے خلاف کشمیری کچھ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ دوسری جانب عمران خان نے اپنی تقریر میں انڈیا اور مودی پر زبردست تنقید کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے لیے ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا۔ کسانوں کو سود کے بغیر قرضہ دیں گے بے روزگاروں کو بھی سود کے بغیر قرضے دیں گے اور کشمیریوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے جس سے کشمیری دس لاکھ تک اپنا علاج مفت کرا سکیں گے اور عمران خان نے اپنے تقریر میں یہ بھی کہا کہ کشمیریوں کو ریفرنڈم کے ذریعے موقعہ دیں گے کہ وہ خود مختیار رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا گیا عمران خان کا آخری جلسہ اتنا بڑا تھا شاید کشمیر میں کبھی ایسا جلسہ نہیں ہوا بیرون ملک دشمنوں اور نون لیگیوں کے تمام پروپیگنڈے کے باوجود کشمیری انڈیا سے نفرت اور پاکستان سے الحمد اللہ محبت کرتے ہیں اسی وجہ سے کشمیر کا الیکشن عمران خان نے جیتا کشمیریوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا اور آخر میں اپنے سب کشمیری بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں پاکستان زندہ باد. پاک فوج زندہ باد

    @IamYasminArshad

  • آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا پرانا راگ     تحریر سید لعل بُخاری

    آزاد کشمیر میں شکست پر دھاندلی کا پرانا راگ تحریر سید لعل بُخاری

    آزاد کشمیر میں شکست فاش کے بعد ن لیگ ایک بار پھردھاندلی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔حالانکہ یہ تو مقابلہ ہی یک طرفہ تھا۔باغی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئ نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں 45میں سے 26نشستیں حاصل کر کے دو تہائ اکثریت حاصل کر لی ہے۔جبکہ پی ٹی آئ کی اتحادی مسلم کانفرنس کی ایک سیٹ ملا کر اس کے پاس کُل 27سیٹیں ہو جاتی ہیں۔
    ان انتخابات میں پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی جبکہ نواز لیگ جو آزاد کشمیر کی سب سے بڑی جماعت سمجھی جاتی تھی،وہ تیسرے درجے کی پارٹی بن کے رہ گئی۔
    ن لیگ کی طرف سے یہاں انتخابی مہم مریم صفدر کی نگرانی میں چلائ گئی،جو مخالفین پر زاتی حملوں اور کیچڑ اُچھالے جانے کی وجہ سے مکمل طور پر بیک فائر کر گئی۔خاص طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ اور اسکے بچوں کو یہودی کے نواسے کہنے والی بات کو اکثر لوگوں نے پسند نہیں کیا۔مریم کی بدتمیزیوں کا جواب بھی اسی طرح آیا۔پی ٹی آئ کے علی امین گنڈا پور کی زبان بھی قدرے سخت تھی مگر اُس نے جو کچھ کہا وہ مفہوم کے لحاظ سے قطعا” غلط نہ تھا۔
    مریم صفدر جسے کراوڈ پُلر کہا جا رہا تھا،اُس کے اکا دُکا جلسوں میں لوگ شائد تماشہ دیکھنے تو آۓ مگر انہوں نے ووٹ نہیں دیا۔
    دوسری طرف عمران خان کے چند جلسوں نے ہی بازی پلٹ دی۔
    آزاد کشمیر میں کئے جانے والوں سرویز میں یہ بات پہلے ہی دیوار پر لکھی نظر آرہی تھی کہ تحریک انصاف کشمیر کا میدان مارنے جا رہی ہے۔
    عمران خان اس وقت نہ صرف بلا شرکت غیرے آزاد کشمیر کا مقبول ترین لیڈر ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی لوگ اسے بہت زیادہ پسند کرتے ہیں،نہتے مظلوم کشمیریوں کی تمام تر اُمیدیں اب عمران خان سے بندھی ہیں۔اب عمران خان اور اُس کی حکومت کا بھی فریضہ ہے کہ وہ ہمارے کشمیری بھائیوں کو بھارت کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد سے آزاد کروانے کے لئے کوئ دقیقہ فرگزاشت نہ کرے۔
    گلگت بلتستان میں عبرت ناک شکست کے بعد آزاد کشمیر میں بھی شرمناک شکست ملنے کے بعد نواز لیگ کے پاس دھاندلی کے شور شرابے کے پیچھے چھپنے کے سوا کوئ دوسرا راستہ نہیں۔
    اس انتخاب میں نواز لیگ کوجہاں مریم کی سطحی قسم کی تقریروں نے نقصان پہچایا،وہیں نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب سے پاکستان دشمن شخص سے ملاقات ن لیگ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئ جبکہ آزاد کشمیر میں فاروق حیدر کی کارکردگی بھی صفر تھی۔
    اسکے باوجود نواز لیگ کا دھاندلی کا راگ جاری ہے،مگر دھاندلی کا یہ چورن بکنے والا نہیں ہے۔پڑھے لکھے کشمیریوں نے اپنے مسقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کے کیا ہے۔
    روایتی طور پر بھی آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان میں برسر اقتدار جماعت ہی جیتتی ہے،جیسا کہ ماضی میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی جیتتی رہی ہیں تو اس بار پاکستان تحریک انصاف کا جیتنا کیوں اچنبھے کی بات ہے؟
    کیوں مریم صفدر کہہ رہی ہے کہ میں ان انتخابات کے نتائج بلکل ایسے ہی تسلیم نہیں کرتی جیسا کہ 2018کے عام انتخابات کو نہیں کیا تھا؟
    کیوں مریم اورنگ زیب آزاد کشمیر کے انتخابات کو 2018کے انتخابات کا ری پلے کہہ رہی ہے؟
    یہ صرف شرمندگی چھپانے کی کوشش ہے۔
    اگر شکست تسلیم کر لی جاتی تو شائد ان کی کچھ عزت رہ جاتی۔لوگ اب جان چکے ہیں کہ نواز لیگ صرف ان انتخابات کو شفاف تسلیم کرتی ہے،جن میں اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جماعتیں ہر انتخاب کے بعد دھاندلی دھاندلی کا واویلہ تو کرتی ہیں مگر حکومت اور عمران خان کی بارہا کی جانے والی درخواست پر الیکشن اصلاحات کے لئے راضی نہیں ہوتیں،
    جو واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ جماعتیں کسی ایجنڈے پر چل رہی ہیں۔
    اس ایجنڈے کے زریعے تمام منفی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں،جو ملک کے لئے ناقابل تلافی نقصان کے حامل ہیں۔
    اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ارض پاک کو ہر قسم کے فتنوں اور
    شر انگیزیوں سے محفوظ رکھے۔آمین
    @lalbukhari

  • نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟  تحریر  :  ملک علی رضا

    نواز شریف کی ملک دشمنوں سے ملاقات کیوں ؟؟ تحریر : ملک علی رضا

    پاکستان اور افغانستان سیمت موجودہ خطے کے حالات کس طرف جا رہے ہیں یہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے سابق تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور پاکستان کی عدالتوں سے مفرور پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک بڑی جماعت کے تا حیات نا اہل سربراہ میاں نواز شرف جو اس وقت لندن میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں انہوں نے افغانستان کے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر حمد اللہ محب اور وزیر برائے امن و امان سید سعادت منصور نادر نے وفد کے ہمراہ لندن میں ملاقات کی ،یہاں یہ بات یاد رہے کہ افغانستان کے سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ محب جو کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے جب سے پاکستان نے امریکہ کو آنکھیں دیکھانا شروع کیں کہ ہم کسی قسم کی سرزمین نہیں دیں گے کو دوسرے ممالک کیخلاف استعمال ہو، تب سے اس شخص نے پاکستان نے گالیاں اور نازیبا الفاظ استعمال کیے جا رہاہے ۔ کابل انتظامیہ بھی اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے وہ بھِی بار بار پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اورالزام تراشیاں کر ر رہے ہیں۔
    حمد اللہ محب نے پاکستان کو "چکلا” جیسے القابات سے بھی مخاطب کیا یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تمام فورمز پر افغانستان کے مشیر قومی سلامتی سے ہر قسم کی تعلق کو ختم کر دیا اور افغانستا میں موجود اپنے عملے کو بھی احکامات جار کر دیے تھے کہ اس شخص سے کسی قسم کی ملاقات نہ کی جائے اور نہ ہی اس سے کوئی بات شئیر کی جائے، پھرحمد اللہ محب نے بیرون ممالک میں پاکستان کیخلاف احتجاجی مظاہرے بھی کروائے جن میں پاکستان مخالف نعرے درج تھے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔جب یہ ملاقات ہو رہی تھی تو دوسری جانب لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی باہر سینکڑوں کی تعداد میں افغانی پاکستان مخالف احتجاجی مظاہر ہ بھیِ کر رہے تھےوہاں پر موجود عملے ہو حراساں کیا ، پاکستانی شہریوں پر تشدد کیا، مظاہرے میں پاکستان مخالف نعرے لگائے گئے اور نجانے کیا کچھ نہیں کہا گیا۔
    یہ بات جو سب سے اہم ہے یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کروا کون رہا ہے تو جان لیجے حمد اللہ محب امریکہ کا پالتو ہے اور بھارتی نواز ایجنڈے پر مکمل عمل پیرا ہے اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔اور اس وقت وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہاں تک کہ افغان حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ سب امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی باہمی رضا مندی سے کر رہی ہے جو آرڈر ان کو دیا جاتا ہے یہ اس پر من وعن عمل کرتے ہیں۔
    باتیں بہت سی ہیں مگر فلحال آپ لوگوں کو بتانا یہ ہے کہ یہ ملاقات کیوں ہوئی ہے اور کس لیے کروائی گئی ہے ۔۔۔؟؟؟
    اس وقت پاکستان کے اندر بھارت کے تمام منصوبے پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نےبُرے طرح ناکام بنا دیے ہیں ، جنکے ثبوت پوری دنیا سے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔بھارتی وفد کی افغانی وفد سے اہم ملاقات ایک تیسرے ملک میں ہوئی جہاں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اپنے مقاصد کو حل کرنے کے لیے سب سے اہم شخصیت کا استعمال کیا جائے کیونکہ وہ شخصیت اس وقت پاکستان کی حکومت، اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کیخلاف برسر پیکار ہے۔اور وہ شخصیت ہے لند ن میں بیٹھے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف ، اس کام کے لیے مکمل ایجنڈا دے کر حمد اللہ محب کو بھیجا گیا ۔افغان عملے نے وہاں پہنچے سے پہلے لندن میں نواز شریف سےرابطہ کیا کہ ہمیں ملاقات کا شرف بخشا جائے تو نواز شریف انکے سامنے لیٹ گئے اور کہا حضور جب آپکا دل چاہے آپ آیں ہم ملاقات کے لیے حاضر ہیں۔
    یہاں کچھ سوالات ہیں جن کا جواب یا تو ن لیگ دے سکتی ہے یا پھر نواز شریف، سوال یہ ہے کہ
    پاکستان کو گالیاں دینے والے سے نواز شریف نے ملاقات کیوں کی ؟
    نواز شریف پاکستان کی عدالتوں میں مفرور ہیں پھر ان سے ملنے کا مقصد ؟
    نواز شریف نے اس ملاقات سے پہلے ن لیگ یا حکومت کو اعتماد میں لیا ؟
    نجانے اور کتنے ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا نواز شریف کا کام بنتا ہے مگر وہ جواب کیا دیتے جب انکی بیٹی نے اس ملاقات کو کوئی اور ہی رنگ دے دیا کہ جواب مانگنے کی ضرورت نہ پڑے بہرحال یہ سوالات ہر پاکستانی کے دماغ میں ضرور ہیں۔
    اس ملاقات کی اندر کی کہانی کچھ یوں ہے کہ نواز شریف کو اب آنے والے دنو ں میں کچھ ایسے بیانات دلوانے جا سکتے ہیں جو کہ پاکستان کے وقار کو مجروع کیا جا سکتا ہے۔ ان میں نواز شریف کو بھاری پیشکش بھی کی گئی ہوگی کہ اگر وہ مکمل طور پر انکے ایجنڈے پر من و عن عمل کریں گے تو امریکہ انکو ریلیف دلوانے کے اقدامات کر سکتا ہےجس سے وہ بچ سکتے ہیں۔اب ان میں سرکاری راز بھی شئیر کیے جا سکتے ہیں جو کہ پہلے بھی نواز شریف اور مریم نواز دھمکا چکے ہیں کہ اگر یہ ہوا تو ہم وہ کردیں گے اور وہ کریںگے یہ بھی ممکنات میں سے ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی طور پر بدنام کرنے کے لیے ایک منظم پروپیگنڈہ کیا جائے گا جس سے پاکستان ایف اے ٹی ایف میں گرے لسٹ سے نکلنے میں مزید دشواریاں ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ اور سکیورٹی اداروں کو پیغام دیا گیا ہے کہ اب خیر منا لو آپکا تین بار کا وزیر اعظم رہنے والا نواز شریف اب ہمارے ہاتھ میں ہے ہم جو چاہیں گے اس سے کروایں گے اور اس میں کوئی دوسری آپشن نہیں کہ نواز شریف ایسا نہ کریں ۔
    پاکستان کے اہم راز وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں اس لیے جو الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے کہ پاکستان طالبان کو سپورٹ کر رہا ہے اس الزام کو سچ بنانے کے لیے نواز شریف سے بیانات دلوائے جاسکتے ہیں۔
    پاکستان نے ہمیشہ سے افغانستان میں امن و امان کے لیے اپنی مصالحانہ کوشش کو سپورٹ کیا مگر کابل انتظامیہ کو ڈر یہ ہے کہ اگر کابل پر بھی افغان طالبان قبضہ کر لینگے تو انکی حکومت ختم ہوجائے گی اور اس طرح بھار کی اربوں ڈالر کی انوسٹمنٹ ڈوب جائے گیاور جو کچھ وہ کرتے ہیں پاکستان کیخلاف افغانستان کے ذریعے وہ سب عیاں ہوجائے گا اس لیے بھارت ہر وہ کوشش کرے گا جس سے پاکستان پر دباو پڑے اور لوگوں کا دھیان افغانستا ن سے ہٹے اور پاکستان کی جان ہوجائے۔
    نواز شریف کی اس ملاقات کیوجہ سے مسلم لیگ ن شدید تنقید کا سامنہ کر رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے نواز شریف کو ملک دشمن قرار دےدیا ۔

  • عمران خان اور ان کی سیاست تحریر: ذیشان علی

    عمران خان اور ان کی سیاست تحریر: ذیشان علی

    وہ اپنی ہر تقریر سے پہلے قرآن مجید کی سب سے پہلی سورہ،
    سوره فاتحہ کی اس آیات کی تلاوت کرتا ہے،
    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5)
    جس کا ترجمہ ہے,!
    ” تیری (اللّٰہ)عبادت کرتے ہیں اور تم سے ہی مدد مانگتے ”

    عمران خان نے لگ بھگ کوئی 1966ء میں اپنی ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور اس جماعت کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا گیا اور وہ اس کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے آج بھی وہ اس کے چیئرمین ہیں،
    انسانیت خودداری اور انصاف اس جماعت کا نعرہ ہے، 1996 سے 2018 تک یعنی 22 سالہ طویل جدوجہد کے بعد اس جماعت کو عوام نے منتخب کیا اور یہ جماعت آج پاکستان کی حکمران جماعت ہے،
    2021 چل رہا ہے اور اس 25 جولائی کو اس جماعت نے اپنی حکومت کے تین سال پورے کر لیے،
    عمران خان اپنی قوم اپنے ملک کے وقار کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہا ہے عمران خان بلا شبہ ایک عظیم رہنما ہے لیکن سیاست تو پھر سیاست ہے بہت سے سیاسی حریف بھی ہیں جو ہر وقت اس کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہتے ہیں،
    لیکن عمران خان بھی ان پر تنقید کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے عمران خان ایک پڑھا لکھا اور باشعور اور منصوبہ ساز ہے،
    پاکستان اور اپنی قوم کو اوپر اٹھانے کے لئے اس کے کئی منصوبے ہیں،
    عمران خان اپنے تمام منصوبوں پر کام کر رہا ہے اس کی سیاست پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اور اپنی قوم کا وقار ہے،
    اس کی خاص توجہ پاکستان کے نوجوان طبقے پر ہے وہ انہیں ہنر مند دیکھنا چاہتا ہے وہ انہیں دوسری اقوام کے مقابلے میں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے پاکستان کو ایک عظیم ریاست بنانا چاہتا ہے،
    اور وہ بار بار اپنی قوم سے اس کا ذکر بھی کرتا ہے کہ وہ کرپشن نانصافی بدعنوانی چوری اور قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے سخت خلاف ہے،
    عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ جب ملک کا سربراہ کرپشن کرتا ہے تو اس کے نیچے جتنے بھی ادارے ہیں وہ بھی یہ کام کرتے ہیں اس طرح ملک کا دیوالیہ نکل جاتا اور ملک نہیں چل سکتا،
    وہ تھانے کچہریوں کے انتظامات کو بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور کافی حد تک کامیاب ہوچکا ہے،
    عمران خان دیانت داری اور ایمانداری کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے،
    اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایمانداری اور دیانتداری کو پسند وہی کرتا ہے جو خود دیانت دار ہو،
    وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے کئی ممالک کے دورے کیے اور وہ اپنے ہر دورے میں دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کےاچھے تعلقات قائم کرنے ترقی اور خوشحالی و تجارت کے ساتھ امن کی تجویز پیش کرتے ہیں،
    وہ تمام ممالک سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں وہ اپنے ملک کے وقار کو اپنی قوم کو کسی کا غلام نہیں دیکھنا چاہتے،
    اس نے غریبوں مسکینوں اور بےگھر افراد کے لیے قیام گاہیں قائم کروائیں اور ان میں انہیں تین وقت کا کھانا بھی میسر ہوگا اس بات کو یقینی بنایا،
    عمران خان کی والدہ ماجدہ کی وفات کینسر مرض سے ہوئی ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں تھا جہاں ان کی والدہ کا علاج ہوسکتا۔
    والدہ کی وفات کے بعد انہوں نے یہ جانا کہ ان کی والدہ تو اس مرض سے چل بسی لیکن میرے ملک کی کوئی اور ماں بہن بیٹی یا بھائی اس مرض سے یوں نکھوں کے سامنے دنیا سے چلا ،،
    انہوں نے لاہور میں اپنی والدہ کے نام پر ایک کینسر اسپتال بنانے کے لیے جدوجہد کی سو اپنی اس جدوجہد میں کامیاب ہوئے لاہور شوکت خانم میموریل ہسپتال عمران خان کا پاکستانی قوم کو دیا ایک انمول تحفہ ہے، گویا انسانیت کی خدمت اور احساس اس شخص کے اندر کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے،
    عمران خان نے ملک میں صحت انصاف کارڈ متعارف کروائے اس کے ذریعے مستحق افراد کا علاج فری ہوتا ہے، اور اس کے علاوہ احساس پروگرام متعارف کروایا جس کے ذریعے بیوہ خواتین اور مستحق لوگوں کا ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ تمام مستحق افراد تک ہی پہنچے گا،
    عمران خان کے نزدیک سب سے قیمتی چیز ملکی وقار ہے،
    اس زمرے میں حال ہی میں عمران خان نے ایک امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی امریکہ کو اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے جس طرح وہ ماضی میں ہمارے ملک میں ڈرون اٹیک کرتا رہا اور ہماری سرزمین افغانستان کے خلاف بھی استعمال کرتا رہا،
    اور انہوں نے انگلش کے یہ دو الفاظ کہے absolutely not جو بہت زیادہ مقبول ہوئے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان الفاظ کے ٹرینڈ بھی چلے،
    عوام نے عمران خان کو غیر ملکی صحافی کو ایسا جواب دینے پر خوشی کا اظہار کیا اور دل کھول کر عمران خان کو داد دی اور ان کی تعریف کی،
    اس کے بعد انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا وہ کسی بھی صورت ملک کے وقار کا سودا نہیں کر سکتے،
    ہم خود مختار ہیں اور خودمختار رہیں گے،
    وہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح بالکل نہیں ہیں وہ اس بات کی کبھی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،
    کہ کوئی ہماری سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرے اور ہمارے لوگوں پر ڈرون اٹیک کرے،
    الغرض عمران خان ملک کی ترقی اور خوشحالی انصاف رواداری نظام کو بہتر کرنے کے لیے حکومت میں آیا اور وہ اپنے اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں،
    سوشل میڈیا اور اس کے علاوہ ملک کی بہت بڑی تعداد عمران خان کی فین فارورز ہے،
    یہ وہی لوگ ہیں جو ملک کو خوشحال وہ ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں،
    وہ اپنے وعدے اور دعوے سے پیچھے نہیں ہٹے گا سیاست میں آنے سے پہلے وہ کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بھی رہ چکا ہے،
    سن 1992 کا ورلڈ کپ کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ عمران خان اور اسکی ٹیم کامیاب ہوگی اور یہ ورلڈ کپ پاکستان جیت سکتا ہے،
    لیکن پھر عمران خان کا جذبے اور ہمت نے تمام کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کیے اور پاکستان 1992 کا ورلڈ کپ جیت گیا،
    دعا ہے کہ عمران خان کی سیاسی ٹیم بھی اپنے حوصلوں کی پختگی کے ساتھ اس کا ساتھ دے پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرے،
    پاکستان زندہ باد

    @zsh_ali

  • ‏آزاد کشمیر بھی کپتان کا .تحریر : فضیلت اجالہ

    ‏آزاد کشمیر بھی کپتان کا .تحریر : فضیلت اجالہ

    25 جولائ کا دن آزاد کشمیر میں الیکشن کے روائتی جوش و جزبے اور جیت کی امید کے ساتھ طلوع ہوا
    ہر طرف الیکش کی روائتی گہما گہمی کے ساتھ ساتھ کچھ شر پسند عناصر کی سرگرمیاں بھی عروج پر رہیں ۔کشمیر سے پرانا تعلق ہونے کی دعوے دار نون لیگ کے کیمپوں کی ویرانی بتا رہی تھی کہ ایک دفعہ پھر سے دھاندلی ہو گئ کا شور اٹھنے والہ ہے ۔
    تحریک انصاف کے خیموں میں عوام کا سیلاب اور کارکنان کا اطمینان دیکھ کر اپوزیشن نمائندے گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار رہے ۔نون لیگی امیدوار اسماعیل گجر نے ہرزہ سرائ کی تماحدیں عبور کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو بھارت کی دھمکیاں دیتے رہے اور اپنے بھگوڑے لیڈر نواز شریف کے یار مودی کو مدد کیلیے پکارنے کا اعلان کر کے کشمیری عوام کو ایک مرتبہ پھر سے بتا دیا کہ کس طرح نون لیگی کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے رہے ہیں ۔

    پولنگ کے بعد نتائج آنا شروع ہوئے تو آزاد کشمیر کی نڈر عوام نے ثابت کردیا کہ انکی آخری امید عمران خان ہے
    25 جولائ کے سورج کے ساتھ ساتھ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا سورج بھی ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا ۔
    مریم نواز کی فوٹو شاپ اور اوچھے ہتھکنڈے بھی کسی کام نا آسکے وہیں سندھ کی تباہ حالی پیپلز پارٹی کی راہ کی دیوار بنی اور کشمیری عوام نے بلے پر مہر لگا کر عمران خان کو اپنا سفیر مانا۔خان کی جیت سے پہلے اور بعد میں بھی ہمسایہ ملک بھارت سے اٹھتی چینخوں نے عوام کو واضح کر دیا ہے کہ کشمیر فروش اور مودی کا یار کون ہے ۔
    کشمیری عوام کا تحریک انصاف پر اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ عمران خان ہی کشمیر کے حقیقی سفیر ہیں ۔کشمیر کی عوام نا کسی شیر کی دہشت میں آئ اور نا ہی نوٹوں کی خوشبو ں انہیں اپنی طرف راغب کر سکی ۔

    جہاں ایک طرف کشمیر میں تیر چلے گا کے دعوے داروں کے ارمانوں پہ تیر چلا وہیں شیر ایک واری فیر،ڈھیر ہوا ۔
    اب تک کہ غیر حتمی بتائج کے مطابق عمران خان 26 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنانے جا رہے ہیں ۔شیروانی کا بٹن نہ دینے والوں کی ازیت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں، اپوزیشن کا رونا تو بنتا ہی ہے کہ وہ عمران خان جسے نواز شریف چار حلقے نہی کھولنے دے رہا تھا وہ چار صوبوں ،میں حکومت بنا چکا ہے بے شک اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ۔
    گزشتہ حکومتوں نے ہمشہ کشمیری عوام کے حق پہ ڈاکہ ڈالہ اور زاتی مفادات کو اولین رکھا آج کشمیری عوام نے اپوزیشن کا بیانیہ مکمل طور پر دفن کردیا ہے ۔
    عمران خان کو سلیکٹیڈ کہنے والے دیکھ لیں آج کشمیری عوام نے بھی عمران خان کو سلیکٹ کیا ہے ۔

    مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کا بھی عمران خان پر اعتماد عمران خا کی بڑی کامیابی اور ان لوگوں کہ منہ تھپڑ ہے جو کہتے تھے خان کو سیاست نہی آتی ،ہاں خان کو منافقت کی کرپشن کی،پیسو کی ،دھاندلی کی سیاست واقع نہی آتی ۔امید ہے کہ عمران خان کشمیری عوام کی مرحومیوں کا ازالہ کریں گے ،
    2023 کے الیکشن میں تحریک انصاف انشاء اللہ سندھ میں بھی حکومت بنائے گی اور پھر آگے بڑھے گا پاکستان ،نیا ،روشن،کپتان کا پاکستان ۔

    ‎@_Ujala_R

  • عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان   تحریر : فجر علی

    عمران خان کی شہرت کی لازوال داستان تحریر : فجر علی

    کہتے ہیں ہر عروج کو زوال ہے ۔پر میرے خیال سے نہیں جنہیں اللہ چن لیتا ہے انہیں صرف عروج ہی عروج حاصل ہے ۔ان کی زندگی میں زوال کا ز تک نہیں آتا ۔وہ اس لئے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں ۔حاکمیت،محبت،دانشمندی،صادقت نرم دل شجاعت حوصلہ ثابت قدم، نڈر،دلیر ایمان کی طاقت خود پر یقین انا پرست مددگار خدمت خلق ۔حسن اخلاق خوبصورتی شہرت تعلیم محبت کرنے والے چاہنے والے لوگ یہ سب خصوصیات کا حامل ایک شخص کیسے ہو سکتا ہے؟
    بیٹا تھا تو ماں سے محبت کی انتہا کردی۔۔
    طالب علم تھا تو اپنے استاد کا پیارا قابل لائق جب اپنی تخلیقی قابلیت پر یقین ہوا تو ملک کا نام روشن کیا کہ اس کے بعد ایسی ہمت کوئی نہ کرسکا ۔اللہ کسی ایک ہی انسان کو اتنی خوبیاں کیسے نواز سکتا ہے
    ۔وہ اپنے حسن سے بہت سے لوگوں کو گرویدہ کرچکا ہے ۔اس کے حسن سے جوان کیا بوڑھی کیا ہر عمر کی خاتون متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں ۔
    حسن یوسف سنا تھا لیکن اللہ نے حسن یوسف کی ایک تجلی ہمیں عمران خان کے روپ میں عطا کی ۔
    یہ شخص ایک جادو گر ہے کہ جب وہ بولتا ہے تو انسان سنتے سنتے تھکتا نہیں ۔اس کا بات کرتے شرمانا نظریں جھکا کر بات سننا ۔کیا اتنے اخلاق والا انسان کوئی ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ۔
    وہ اس قدر ہمددر انسان پایا ہے کہ اپنی ماں کو کینسر جیسے مہلک مرض میں کھونے کے بعد اس نے اپنی ماں کے نام کا ہسپتال بنا دیا ۔محبت کی ایسی مثال آج تک انگریزوں میں یا مغل بادشاہ کی دیکھی ہے جس نے اپنے محبوب کی خاطر تاج محل بنوایا ۔لیکن یہاں محبت کی ایک لازوال داستان رقم کی تو ایک ایسے نواجون نے جس کی ساری زندگی بے مروت عیاش پسند لوگوں میں گزری جس نے دنیا کی سب رنگینیاں دیکھیں ۔جس نے اپنے حسن اور سحر سے لوگوں کو دیوانہ بنایا ۔

    ماں کی محبت اس کے دل سے کبھی ختم نہ ہوئی اسی لیے اس نے اپنے ملک پاکستان میں کینسر ہسپتال بنائے اور اپنی تمام تو جمع پونجی اس کی تعمیر و ترقی پر لگا دی ۔تاکہ دوسرے بچوں کی ماوں کی زندگی بچ سکے ۔اتنا ہمدرد انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔

    وہ شوہر بنا تو اپنی بیوی کا محبوب ۔
    اللہ کو شاید اس سے مزیدکوئی کام لینا تھا اسی لیے اس کی شادی ایک غیر مسلمان خاتون سے ہوئی جس نے اسکی خاطر خود کو بدلا اپنا مذہب بدلا لیکن معاشرے کے ایسے لوگ جو دوسروں کو کافر اور مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ تھماتے تھے وہ ان کی جدائی اور پاکستان سے نکلنے کا باعث بنا یوں ایک خوبصورت محبت کرنے والے میاں بیوی الگ ہوگئے ۔یہ وقت اس کڑیل جوان کے لیے شاید بہت سخت امتحان والا تھا جہاں اپنی محبوب بیوی سے ہمیشہ کہ واسطے علیحدگی اختیار کرنا پڑی ۔۔

    اپنے خوبصورت معصوم بچوں کی جدائی برداشت کرنا کسی کے لیے آسان کام نہیں ۔۔اس نے اپنی زندگی میں جس چیز کا ارادہ کیا اسے اللہ کی مدد اور اس کے حکم سے حاصل کرلیا ۔۔ میں نے اسےاپنے ارادوں میں مربوت پایا ۔۔پاکستان کے لیے ورلڈ کپ حاصل کیا پھر کینسر ہسپتال بنایا اور یہاں غربا کا مفت علاج کا ذمہ اٹھایا ۔
    اس ہسپتال کا عملا انتہائی حسن اخلاق والا وہ نہیں دیکھتے کہ یہ مریض پیسے والا ہے تو اس سے ادب سے پیش آنا ہے یا یہ غریب ہے تو اس کے ساتھ سخت رویہ رکھنا ہے ۔ایسے اصول وضوابط لاگو کئے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے ۔۔
    اس مرد مجاہد نے نہ صرف اپنے غریب لوگوں کی صحت کا خیال کیا بلکہ اپنے ملک کے بچوں کے لیے ایک ایسی یونیورسٹی بنائی جو دنیا کی یونیورسٹیز میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔اس شخص سے نفرت کرنا بھی چاہیں تو نہیں ہوتی ۔۔کیونکہ میرے سامنے اس کی زندگی کے تمام واقعات موجود ہیں ۔
    میرا بچپن اس بےباک نڈر سپاہی کو دیکھتے گزرا ۔لوگوں کی زبانوں سے اس کے لیے محبت و عزت کے الفاظ سنے اخبارات اور میگزین اس کی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھکتے تھے ۔اور آج بھی یہ شخص ہر اخبار اور میگزین کی ہر خبر میں موجود ہے ۔۔
    اس کا ماضی اور حال ایک سا ہے ۔وہ اپنے ملک پاکستان کی خستہ حالت پر رنجیدہ رہتا اور اپنے ملک کی بگڑی صورت کو ٹھیک کرنے کا جب اس نے ارداہ کیا تو اللہ کی مرضی سے اس کے انتخاب کرنے پر وہ اس اسلامی دولت پاکستان کا وزیراعظم بن گیا ۔۔اس کی زندگی کے تمام ادوار میں مجھے اس سے نفرت نہیں ہوسکی ۔دل چاہے بھی تو اسے برا کہنے کو دل نہیں مانتا ۔دل اس کی بات پر یقین کئے چلے جاتا ہے ۔۔
    کیونکہ یہ وہ شخص ہے جسے میرے اللہ نے تحفہ کے طور پر ہم نازل کیا ۔اس کی ہمدردیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔۔ وہ تمام تر دشمنوں خواہ وہ ملک کے اندر ہو یا باہر تن تنہا لڑ رہا اور تھکتا نہیں ساتھ ہمیں بھی تلقین کرتا کہ ہارنہیں ماننا مشکل سے مشکل وقت میں اسکا ڈٹ کے مقابلہ کرنا ۔جھکنا نہیں کسی کے سامنے ۔
    اور اللہ اس مہربان عمران احمد خان نیازی میرے کپتان کو ہمشیہ سرسبز شاداب و وادیوں کی طرح سلامت رکھے ۔آمین

    @FA_aLLi_

  • کشمیر کا سلطان عمران خان  تحریر فرزانہ شریف

    کشمیر کا سلطان عمران خان تحریر فرزانہ شریف

    جیسا کہ سب کو پتہ ہے تحریک انصاف آزاد کشمیرکا الیکشن جیت چکی ہے سب محب وطن کو مبارکباد دیتی ہوں ۔۔ تمام حلقوں کے مکمل نتائج آچکے ہیں جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 26 نشستیں جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کرلی ہے ،انتخابات کے اب تک کے تمام حلقوں کے نتائج آچکے ہیں پاکستان تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کرسامنے آٸی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم کانفرنس بھی ایک سیٹ جیت چکی ہے یوں پی ٹی آئی کی اب تک 27 سیٹیں ہوچکی ہیں آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی ہے اور11 حلقوں سے انتخاب جیت چکی ہے جبکہ ن لیگ جو کہ آزادکشمیرکی سب سے بڑی جماعت کے طورپرجانی جاتی تھی اور جس طرح مریم صاحبہ نے صرف عمران عمران کا رٹا لگایا ہوا تھا اپنی تقریروں میں تو کشمیر نےبھی پھر خوب کھچڑی کھلائی ہے 🤣 اب آزاد کشمیر کی تیسرے درجے کی جماعت کے طور سامنے آئی ہے۔ ن لیگ نے 6 نشستیں جیتی ہیں۔مسلم کانفرنس ویسے بھی پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہےان کی ایک سیٹ ملا کرپی ٹی آئی ایوان میں 27 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے اور اگر جے کےیو ایم کی ایک نشست وہ بھی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں تو یوں پی ٹی آئی کی 28 سیٹیں ہوجائیں گی۔
    پی پی کے پاس اس وقت چوہدری یٰسین کی جیتی ہوئی دو نشستیں ہیں ، ان میں سے ایک چھوڑنی پڑے گی اس پر ضمنی الیکشن ہوگا
    یہ بھی ہوسکتا ہے اس ضمنی الیکشن میں ایک مزید سیٹ پی ٹی آئی کو مل جائے انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد پی ٹی آئی اپنی 26 اوردواتحادیوں‌کی ملا کر28 سیٹیں لے کراسمبلی میں سب سے طاقتورپارٹی کے طورپرحکومت کرے گی مظفرآباد میں حکومت سازی کے لیے ابھی سے مشاورت شروع ہوچکی ہے۔اس کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں کا انتخاب نتائج آنے کے بعد کیا جائے گا ان 8مخصوص نشت میں سے بھی پاکستان تحریک انصاف اتحادیوں کو ملا کر5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مزید جوڑ توڑ سے پی ٹی آئی کو6 نشستیں بھی حاصل ہوجائیں، یوں کشمیرکی قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اب کشمیر پر راج ہوگا کپتان کا اور ترقی کے کام تیزی سے شروع ہوجائیں گے چور لٹیرے کشمیر پر بوجھ گندے سیاستدانوں سے آج کشمیر آزاد ہوگیا ہےشکرآ یااللہ الرحمٰن

    @Farzana99587398

  • سیاسی بحث اور عمران خان  تحریر: محمد وقاص شریف

    سیاسی بحث اور عمران خان تحریر: محمد وقاص شریف

    جب سے عمران احمد خان نیازی کی حکومت آئی ہے اس وقت سے مسلسل لوگوں کے درمیان سیاسی بحث اور معیشت کی باتیں زور پکڑ چکی ہیں
    آج کل آپ کسی گلی محلے یہ کسی بازار میں یا پھر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم حتی کہ کسی واٹس ایپ کے گروپ میں چلیں جائیں
    وہاں آپکو زیادہ تر لوگوں سیاسی بحث کرنے میں مصروف نظر آئیں گے
    ہر بندے کے منہ میں یہی الفاظ ہوتے ہیں کہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا
    حالانکہ غربت اور بے روزگاری گزشتہ ہر حکومت میں دیکھی گی ہے
    دوسری جانب عمران خان کی بات کی جائے تو پاکستان کی تاریخ میں پہلے پاور فل وزیراعظم ثابت ہوا ہے جو دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے
    اور سچ تو ہے کہ عمران خان کی اس حکومت میں پاکستان عالمی سطح بہت تیزی سے مضبوط ہورہا ہے
    اس دورے حکومت میں سیاسی بحث غلیظ گفتگو اور معیشت تباہ کی باتوں کے ساتھ وہی پھدک رہے ہیں جن کا اس دورے حکومت میں پھدو نہیں لگ رہا
    دس روپے والی چیز میں کوشش کرتا ہے پندرہ روپے منافع مل جائے
    ایک موچی سے لے کر فیکٹریوں تک ایمانداری کا نام نظر نہیں آرہا
    چھوٹے سے چھوٹا دوکان کسٹمر کو کوشش کرتا ہے دونو ہاتھوں سے لوٹ لوں
    سبزی والا صبح سویرے کوشش کرتا ہے کمزور سبزی پہلے بیچ لوں کوئی مرتا ہے تو مر جائے میری بکنی چاہیے
    کریانہ والا اول کے پیسے لے کر دوم چیز بیچھتا ہے
    اگر اسی بات پر انتظامیہ ایکشن لے اور کریانہ والے کو جرمانہ کردے تودوکاندار کی جانب سے انتظامیہ کو گلیاں دی جاتی ہیں ہر چھوٹا بڑا کاروباری دوکاندار چاہے وہ لوہے کا کاروبار کرتا ہے یا مٹھائی والا سبز ی والا کپڑے والا جوتی والا کریانہ والا فروٹ والا منیاری والا اور دیگر تمام میں سے جس کا جتنا پھدو لگتا ہے وہ عوام کو لگا دیتا ہے اور کہتا ہے حکومت کرپٹ ہے
    اور باتیں سب معیشت تباہ ہوگئی کہتے ہیں
    عمران خان یا موجودہ حکومت پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور چھانک لیں
    کیا آپ اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہیں، نہیں ، ہرگز نہیں
    عمران خان کی قیادت میں دن رات پاکستان ترقی کر رہا ہے ، عمران خان ایک ایماندار لیڈر ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے @joinwsharif

  • افغانستان کے حالات کشیدہ کیوں؟ تحریر : ارشد محمود

    افغانستان کے حالات کشیدہ کیوں؟ تحریر : ارشد محمود

    افغانستان میں حالات کشیدہ سے کشیدہ ہوتے جارہے ہیں ۔ طالبان کا کنٹرول مضبوط سے مضبوط ہورہا ہے ۔ افغان حکومت امریکا و دیگر ریاستوں کی مدد و حمایت حاصل ہونے کے باوجود بےبس دکھائی دے رہی ہے ۔ طالبان اپنے پاؤں جماتے آگے بڑھ رہے ہیں اور افغان صدر بیانات داغ کر اپنا پلو جاڑ رہے ہیں۔ طالبان کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ انھوں نے عین عیدالاضحٰی کی نماز کے وقت صدارتی محل ہے قریب راکٹ فائر کردئیے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان افغان حکومتی کارندوں کے کس قدر قریب ہیں ۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی حکومت اس وقت تک کام یاب نہیں ہوسکتی جب تک طالبان اسے کام یاب نہ کریں۔ جب راکٹ حملے ہوئے اس وقت افغان صدر اشرف غنی، نائب صدر امراللہ صالح اور افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت کئی اہم عہدیدار صدارتی محل میں نماز عید ادا کررہے تھے۔ راکٹ حملے کے بعد خوف و ہراس کا پھیلنا لازمی بات تھی ۔ افغان صدر نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ طالبان نے ظاہر کردیا ہے کہ وہ امن کی خواہش نہیں رکھتے ۔ اب اسی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔ ملک میں ملیشیا بنانے اور آمریت کی کوئی جگہ نہیں۔

    افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ افغان عوام کو ابھی سکون میسر ہونے میں شاید مزید 10 سال کا عرصہ لگ جائے ۔ افغان حکومت طالبان کے آگے بے بس ہوکر جو اندرون خانہ دوسرے ممالک کے ساتھ ساز باز کررہی ہے وہ طالبان کو مزید اشتعال دلا رہی ہے ۔ بھارت سے سازباز کرنے میں جہاں افغان حکومت کافی حد تک آگے جانے کی کوشش میں ہے وہی پر بھارت طالبان سے ڈر کر محتاط ہوچکا ہے ۔ پاکستان کو گھیرنے کی بھارتی خواہش مٹی تلے دفن ہوچکی ہے کیوں کہ افغانستان میں طالبان کا مستحکم ہونا بھارتی خوابوں کو ملیامیٹ کرنے کے لیے نہ صرف کافی ہے بلکہ وہ بھارت کے لیے سردرد بھی ہے ۔ بھارتی اربوں روپے کی سرمایہ کاری طالبان کے قبضے میں جارہی ہے اور بھارت کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے ۔ طالبان کی نظر شاید اب بھارتی مقبوضہ علاقہ جات کی طرف بھی مبذول ہوجائے کہ بھارت نے ایک طرح سے طالبان سے ٹکر لینے کی کوشش کی ہے ۔ پاکستان اس وقت اپنے بہ ترین خارجہ پالیسی پتے کھیل رہا ہے ۔ موجودہ حکومت اگر ایک اور بار اپنی حکومت بنانے میں کام یاب ہوجاتی ہے تو شاید پاکستان صحیح معنوں میں ایشین ٹائیگر بن کر ابھرے