Baaghi TV

Category: سیاست

  • انتخابات اور الیکشن کمیشن  تحریر : راجہ ارشد

    انتخابات اور الیکشن کمیشن تحریر : راجہ ارشد

    اسلامی جہموریہ پاکستان میں الیکشن کوئی بھی ہوں عام انتخابات ، ضمنی انتخابات یا پھر سینٹ انتخابات جو بی ہارا اس نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا  اور الیکشن کو متنازعہ بنانے کی پوری کوشش کی ۔

    پاکستان کی تقریبا تمام سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں جو کبھی جیتی ہیں کبھی ہار جاتی ہیں۔
      جیت جاتے ہیں تو جشن یسے مناتے ہیں جیسے 28 فروری کا سرپریز انہوں نے ہی دیا ہو اور ہارنے والے اسے متنازعہ کہہ کے ریاستی اداروں پر الزمات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔
     
    مزے کی بات ہارنے والوں کی جب کبھی حکومت آتی ہے تو وہ کبھی اصلاحات کی کوشش ہی نہیں کرتے۔اور اگر کوئی بندہ اصلاحات کرنے کی بات بھی کرئے تو یہ مخالفت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔

    حکومتی جماعت کو کرپٹ نظام کی وجہ سے فائدہ ہوتا ہے کرپٹ نظام کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو کنٹرول کیا جاتا ہے ہم نے یہ ماضی میں دیکھا ہے کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے ان کے مطالبے پر 4 حلقے 4 سال میں وپن نہیں ہوئے تھے اس لیے عمران خان نے 126 دن کا دھرنا دیا تھا اور عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد پاکستان میں شفاف انتخابات اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔

    سینٹ الیکشن کی ہی بات کر لیتے ہیں اس الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کتنی ہوتی ہے سب سیاسی پارٹیوں کے سربراہ کو پتہ ہے ۔ عمران خان نے حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپنے 20 ارکان کو پارٹی سے نکالا تھا ان ارکان کی ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی اس ویڈیو میں دوسری پارٹیوں کے لوگ بھی تھے لیکن کاروائی صرف اور صرف کپتان نے کی باقی سب خاموش رہے۔

    کپتان حکومت کو قانون سازی میں دشواری کا سامنا ہے وجہ سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اور وہ قانون سازی میں بڑی رکاوٹ ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہو۔
    سینٹ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس بھیجا کہ ووٹنگ وپن ہونی چاہئیے اور ساتھ ہی سپریم کورٹ  سے اس سلسلے میں رائے بھی طلب کی۔
    سپریم کورٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے بھی حکومتی آرڈیننس کی مخالفت کی اور خفیہ طریقہ پر ووٹنگ کی حمایت کی اندازہ کریں کہ ایک حکومتی ادارہ نے حکومت کی مخالفت کی یہی عمران خان کی کامیابی  ہے۔
    سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہا اور بالآخر سپریم کورٹ نے بھی حکومتی آرڈیننس پر اپنی رائے دیں اور حکم دیا کہ ووٹنگ خفیہ ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے مزید تشریح کی اور کہا کہ شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور شفاف الیکشن کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن  کی رائے کے برعکس حکم دیا کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رکھا جاتا، بے شک ووٹ خفیہ ہی ڈالا جائے گا لیکن ہر پارٹی کی سربراہ کی خواہش پر اس کو بتایا جاسکے گا کہ ووٹ کہاں ڈالا گیا ہے۔
    اب جبکہ ووٹ کا پتہ چل سکے گا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا ووٹ قابل شناخت ہوگیا تو یقینا ہارس ٹریڈنگ کاخاتمہ ہوگا اور کرپٹ مافیا اپنے چال نہیں چل سکے گا اور یہی عمران خان حکومت کی جیت ہے۔
    دیکھا جائے تو خفیہ ووٹنگ کا فائدہ حکمران جماعت کو زیادہ ہوتا ہے سارے اختیارات حکومت کے پاس ہوتے ہیں حکومت چاہیے تو خزانے کا منہ کھل دے اور سب ارکان کو پیسوں سے خریدلے جیسے ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں لیکن عمران خان کی نیت صاف ہے وہ چاہتے ہیں کہ ادارے آزاد ہو پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات ہو کرپشن کا خاتمہ ہو۔

    پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ پاکستان کو عظیم ملک کرپشن سے پاک ملک بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے اندر جو کرپٹ مافیا  کے لوگ ہیں ان کا خاتمہ کریں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
    پاکستان زندہ اباد

    @RajaArshad56

  • 18 ترمیم اور مسائل تحریر: مریم صدیقہ

    18 ترمیم اور مسائل تحریر: مریم صدیقہ

    ہر کچھ عرصے بعد ملک میں 18 ترمیم کا شور زوروں پہ سنائی دیتا ہے ۔8 اپریل 2010 پیپلز پارٹی کےدور حکومت میں پاکستان کے آئین کی 102 شقوں میں کچھ نمایاں ردوبدل کر کے ترامیم قومی اسمبلی سے منظور کرا لی گئی۔مگر کوئی سیاسی جماعت اس میں مزید ردوبدل کرنے کا عندیہ دیتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف کسی کو اس میں تبدیلی سے صوبوں کی خودمختاری خطرے میں لگنے لگتی ہے۔آخر یہ 18 ترمیم پاکستان کے حق میں ہے بھی یا نہیں چلیں آئیں آج اس پہ نظر ڈالتے ہیں۔
    18 ترمیم میں دراصل ہے کیا؟
    بظاہر تو یہ ترمیم، صوبائی خودمختاری، پارلیمان کی مضبوطی اور نچلے لیول پر اختیارات کومنتقل کرنے کے لیے کی گئی تھی جس سے میثاق جمہوریت کی مثال، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے، قائم کرنے کی کوشش بھی ہوئی ۔ ان میں سے چند ترامیم یہ ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترامیم کے تحت صدر سے ہنگامی صورتِ حال کے نفاذ کا اختیار لے کر پارلیمان کو دیا گیا۔ آئین کو توڑنے اور معطل کرنے کو بھی سنگین غداری قرار اور اسے ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا۔ صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے آئین کے کئی آرٹیکلز کو بدل دیا گیا۔اور پاکستان کے شمال مغربی صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبر پختونخوا رکھ دیاگیا۔وفاق سےاختیارات لے کے صوبوں کو زیادہ خود مختار بنا یا۔ وزرائے اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے پر جو پابندی تھی اسے ختم کر دیا۔ صوبوں کو تعزیرات اور فوجداری کے قوانین میں ترمیم کا اختیار دیا گیا۔ فوجی سربراہان کی تقرری میں وزیرِ اعظم کی مشاورت لازمی قرار دی گئی۔ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم ضروری اور اس کی مفت فراہمی کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی گئی۔
    کیا 18 ترمیم وفاق کے رستے کا پتھر؟
    دیکھا جائے تو تین سیاسی جماعتیں جن کا اس ترمیم کی منظوری میں اہم کردار تھا ، تینوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کو خاصا ملحوظ خاطر رکھا۔سب سے پیپلز پاڑٹی، جن کا سندھ گڑھ ہے اور ان سے زیادہ کسی کے لیے بھی صوبوں کو اختیارات کی منتقلی اتنی اہم نہیں ہو سکتی۔ پھر آتے ہیں نواز شریف ، ن لیگ کے قائد ، جو کہ تیسری بار وزیراعظم بننے کے خواہش مند تھے انہوں نے اس لیے ترمیم میں اپنا پھر پور کردار ادا کیا۔ اور آخر اے –این –پی نے اپنا ووٹ بنک بچانے کے لیے اپنے وٹرز کے کیا وعدہ وفا کیا اور صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے پختونخوا رکھ دیا گیا۔ پر اس سب میں پاکستان کہاں رہ گیا تینوں میں سے کسی نے دھیان نہ دیا۔یہ ترمیم کہاں کہاں وفاق کو کمزور کررہی ہے اس پر بات کرتے ہیں:
    – اس میں تمام تر کی جانے والی ترامیم وفاق کو سرے سے کمزور کرتی دیکھائی دیتی ہیں۔جیسا کہ صوبوں کے پاس اب مالی وسائل میں 47اشاریہ 5 فیصد کا شیئر ہے جبکہ وفاق کے پاس 42اشاریہ5 فیصد رہ گیا۔وسائل میں سے زیادہ پر حصہ صوبوں کے پاس مگر بیرونی قرضوں کا تمام تر بوجھ وفاق پر۔ ان بگڑتے معاشی حالات کے ساتھ ترمیم میں شامل یہ بات کہ کسی این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا شیئر پچھلے سال کے شیئر سے کم نہیں ہو گا ایک الگ مسئلہ ہے۔ وفاق کہاں سے دے گا یہ؟یہ قرض کیسے اتار پائے گا ؟ اب آپ ہی بتائیں دنیا میں کون سا ملک ایسے چلتا ہے؟کہاں وفاق کو اتنا کمزور کر دیا جاتا ہے؟ صوبوں کے پاس اس طرح کے اختیارات سےکیا کرپشن میں مزید اضافہ نہیں ہوگا؟
    – وفاق کے پاس دیگر اخراجات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قرضوں کی واپسی کا بھی بوجھ ہوتا ہے اور جب تعلیم اور صحت کے بے شمار اختیارات صوبوں کو دے دیے گئے ہیں تو وفاق کے اعتراضات تو بنتے ہیں۔ پھر جس طرح صوبے ان شعبوں میں اپنا فرض نبھا رہے ہیں اس کا اندازہ ہمیں سندھ کے حالات دیکھ کے بخوبی ہوجاتا ہے۔صوبوں کوبراہ راست غیر ملکی قرضے لینے کا اختیا ر بھی ان ترامیم کے ذریعے دے دیا گیا ۔ کیا اس سے ملک کی معیشت اور وفاق مزید کمزور نظر نہیں آتی؟
    – اب جی ایس ٹی کی طرف بھی نظر کر لیتے ۔ پاکستان کا سب سے زیادہ رونیو جینڑیٹ کرنے والا صوبہ سندھ ہے اب جب یہ جی ایس ٹی بھی صوبوں کے پاس جائے گی ملک کے وہ صوبے جہاں اتنا جینڑیٹ نہیں کیا جاتا وہ کہاں جائیں گے؟ کیا وفاق اس معاملے کو زیادہ پہتر انداز میں ڈیل نہیں کر سکتی تھی؟
    – وفاق اور صوبوں کے درمیان موجود کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کر کے مرکز کے دائرۂ کار میں آنے والے کئی قانونی اختیارات صوبوں کو منتقل کیا گئے۔ اس سے صوبوں کے درمیان نئی لڑائی نے جنم لیا کہ آئی جی لگانے کا اختیار آخر ہے کس کے پاس ،وفاق یا صوبوں کے پاس ۔
    یہ تو بہت مختصرا تجزیہ دیا گیا اگر مزید گہرائی میں جائیں تو ناجانے کتنے صفحے بھر جائیں مگرحالات کو بہتر بنانے کے لیے اب ایک ہی حل دیکھائی دیتا ہے کہ اس اٹھارویں ترمیم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہوئی ہر آئینی ترمیم کو بدلا جائےلیکن جہاں مزید ترمیم کی ضرورت ہے اس پہ بحث لازمی ہے کیوں کہ وہ ملک کی ترقی کی راہ میں پتھر کا کردار ادا کررہی ہیں۔مگر جب بھی اس میں بدلاو لانے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے زیادہ شور پیپلز پارٹی کی طرف سے اٹھتا ہے لیکن شاید وہ بھٹوجن کے دورمیں آئین بنا ،ان کی وہ سات ترامیم بھول جاتے ہیں جو خاصی ملک دشمن بھی تھیں خیر بات موضوع سے ہٹ جائے گی مگر آخر میں بس اتنا ہی کہوں گی کہ جب بات ملک کے فائدے یا نقصان کی ہو تو ہر سیاسی فائدہ بھول کر ملک کے فائدے کے لیے کھڑے ہونا چاہیے کیوں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان زندہ باد!

    @MS_14_1

  • سیالکوٹ الیکشن . تحریر : فضل محمود کھوکھر

    سیالکوٹ الیکشن . تحریر : فضل محمود کھوکھر

    سیالکوٹ پی پی 38 میں 28 جولاٸی بروز بدھ ضمنی الیکشن ہوا جو کے 2018 کے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ ن امیدوار چوہدری خوش اختر سبحانی 57636 ووٹ لے کر کامیاب ہوٸے تھے،اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سعید احمد بھلی 40575 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔اگر اس حلقے کے ماضی میں جاٸے تو وریو خاندان اس حلقے میں کٸی دہاٸیوں سے جیت رہی تھی ان سے پہلے کٸی مرتبہ چوہدری اختر علی وریو جن کی سیاست میں ایک پہچان وریو گروپ سے تھی،وریو خاندان میں چوہدری خوش اختر سبحانی پہلے بھی وزیر جیل خانہ جات رہ چکے تھے،ان کے چاچا اختر علی وریو کے بھاٸی چوہدری ارمغان سبحانی کے والد چوہدری عبدلستار وریو مرحوم بھی وفاقی وزیر رہ چکے تھے،اور موجودہ ضمنی الیکشن پی پی 38 کے امیدوار چوہدری احسن بریار پاکستان تحریک انصاف جن کا تعلق تحصیل ڈسکہ کے نواحی قصبہ بھلووالی سے ہے ان کا بریار فیملی سے تعلق ان کا سیاست میں آنے کے لیے کوٸی نٸی بات نہیں تھی کیوں کے بریار کا تعلق پاکستان مسلم ق سے اور احسن سلیم بریار کے والد چوہدری سلیم بریار مسلم لیگ ق کے جنرل سیکرٹری بھی اور سلیم بریار کے بھاٸی ق لیگ دورہ حکومت میں ایم پی اے بھی رہ چکے ہے،اس کے ساتھ ساتھ یونین کونسل لیول پر بھی کٸی دفعہ چیرمین رہ چکے ہیں،بریار فیملی کے احسن سلیم بریار کے چاچا چوہدری قیصر بریار سیالکوٹ چیمبر کے صدر بھی ہے اور پی پی 38 میں ایم پی اے کے لیے تحریک انصاف کو قیصر بریار کو انتخابی عمل میں لانے کے لیے ٹکٹ ملا تھا جس پر اپوزیشن کے عدالت سے رجوع کیا قیصر بریار کے کے پاس یورپی نشیلٹی ہے جو الیکشن کا حصہ نہیں بن سکتے جس پر پھر احسن سلیم بریار میدان عمل میں آٸے،جس پر سابقہ پی پی 38 کے پاکستان تحریک انصاف امیدوار سعید احمد بھلی،اور سابقہ ایم پی اے رہنما پاکستان تحریک انصاف چوہدری طاہر محمود ہندلی نے بھی ٹکٹ کے لیے کاغزات جمع کرواٸے جس پر دونوں امیدوارں نے آزاد حثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا جس پر طاہر ہندلی تو خاموشی اختیار کر لی اور ن لیگ کے طارق سبحانی کے خلاف الیکشن کمپین پی ٹی آٸی بریار فیملی کے ساتھ مل کر شروع کر دی، اب سعید احمد بھلی سابقہ امیدوار پی ٹی آٸی آزاد حثیت سے کھڑے تھے جو احسن بریار اور پی ٹی آٸی کی جیت کے بہت مشکل تھا جس پر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار، عمر ڈار، وزیر اعلی پنجاب معاون اطلاعات ڈاکٹر فرودس عاشق اعوان کی اخلاقی دباؤ کی وجہ سے سعید احمد بھلی سے مزاکرات کیے اور بریار فیملی کے حق میں دستبردار ہوگٸے اور یہ ثابت ہوگیا کے اس الیکشن میں مین آف دی میچ سعید احمد بھلی کو جاتا ہے،اس کے بعد چوہدری احسن سلیم بریار پی ٹی آٸی اور چوہدری طارق سبحانی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ (کالعدم)تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار ملک فہیم اعوان بھی میدان عمل میں تھے جنہوں الیکشن کمپین بہت اچھے طریقے چلاٸی 28 جولاٸی بروز بدھ کو سیالکوٹ ڈی سی اور اور ڈی پی او اور متعلقہ اداروں کی طرف سے الیکشن کمیشن کی ہدایات پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گٸے تھے پی پی 38 میں 165 پولنگ اسیٹشن تھے جس پر سیکورٹی سخت تھی اور بعض یونین کونسل میں معمولی تلخ کلامی لڑاٸی جھگڑا نعرے بازی کی بھی اطلاع موصول ہوٸی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار احسن سلیم بریار62657 ووٹ لے کر پنجاب اسبملی کے سب سے چھوٹی عمر کے ایم پی بن گٸے اور ن لیگ کے طارق سبحانی 56353 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ٹی ایل پی ملک فہیم اعوان 6660 ووٹ سے تیسرے نمبر پر رہے احسن سلیم بریار کی جیت کے بعد حلقہ کی عوام ڈاٸمنڈ سٹی روانہ جشن کا سما.

  • کیا دین اور سیاست جدا جدا ہیں؟ . تحریر : مزمل رتھ

    کیا دین اور سیاست جدا جدا ہیں؟ . تحریر : مزمل رتھ

    موجود دور میں اگر دیکھا جائے تو عموماً دین اور سیاست کو جدا سمجھا جاتا ہے اور یہ تاثر بہت حد تک سرائیت کرچکا ہے کہ مذہب کو ملکی و سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے ۔ یہ نظریہ سب سے پہلے مغرب میں پیدا ہوا اور اس کے بعد ہماری جمہوری پارٹیوں نے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں متعارف کروایا حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دین کا سیاست کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ لیکن موجودہ جمہوری اشرافیہ نے دین کو سیاست سے جدا کرکے پیش کیا تاکہ اسلامی نظریات کے حامل لوگوں کو اقتدار سے دور رکھ سکیں اور اس کے مقابل استعمار اسلامی ممالک پر اپنا قبضہ جما سکے اور ان پر حکومت کر سکیں۔

    سیاست دین کا حصہ ہے اور سیاست دین کے تناظر میں معاشرے کی ضرورت بنتی ہے۔ اگر دین کو سیاست سے جدا کردیا جائے تو اس کی مثال ایسے درخت کی سی ہے جو سوکھ کر اپنی رونق و تازگی کھو چکا ہوتا ہے۔ استعمار کئی سالوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس کے مفادات کے حصول میں بڑی رکاوٹ اسلامی آئین و قوانین ہیں.
    انکی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ دین اور سیاست کو الگ الگ رکھیں اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں اگر دیکھا جائے تو وہ عوام کے ذہن میں یہ بات ڈالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اسلامی نظریات رکھنے والے جماعت ملک میں اسلامی نظام کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اس کو یہ طعنے دیا جاتا ہے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جنونی ہیں اور دین کو سیاست اور مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہیں شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا اسلام میں یہ تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی تعلیمات کو ایک طبقہ سنبھالے گا (ہہاں مراد علماء کرام) جبکہ دیگر سیاسی نظام و نظام حکومت دوسرا طبقہ جیسا کہ آج کل کے جمہوری سیاستدان ۔اس لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد خلفائے راشدین مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور دینی رہنماء بھی ۔ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت و رہنمائی ملی ، مسلمان قوت و سربلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے ۔ اس کے برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قوت قوم پرستون نے تو مسلمان آپسی جنگوں کا شکار ہوکر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے ۔

    موجودہ دور میں جہاں نا صرف دین کو سیاست سے دور کردیا گیا بلکہ اسلامی سوچ کے حامل لوگوں کے نظریات بدلنے کیلئے بہت سے اسلامی ماڈل بھی تشکیل کردیے گئے جیسے روشن خیال اسلام ، رجعت پسند اسلام اور نہ جانے اسلام نے کون کون سے ماڈل ۔ حالانکہ اسلام ایک ہی ہے اور یہ وہ اسلام ہے جو قرآن وسنت میں پایا جاتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام نے اپنے عملی نمونوں سے ہیش کیا ۔ آج کے دور میں معاشرتی برائیوں کے خلاف مزاحمت کرنا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنا کسی بھی شخص کا حق سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام اس کو حق ہی نہیں واجب قرار دیتا ہے ۔
    اسی تناظر میں سیاست اور سیاسی معاملات کو کسی بھی طرح سے دین سے جدا کرنے کا مطلب اس کی اصل روح کو نکالنا ہے ۔ علامہ اقبال نے اس کو یوں بیان کیا
    َجدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    MuzRizvi19

  • مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود

    مسلم لیگ ن آخر کیوں تباہ ہوئی . تحریر : ثاقب محمود

    جی ہاں مسلم لیگ نون اب تباہی کے آخری دہانے پر ہے مسلم لیگ اصل میں ایک ہی تھی لیکن شریف خاندان نے اس کو ٹکڑوں میں بانٹ کر پہلے ق لیگ اس میں سے الگ کی اور اس کے بعد مسلم لیگ آہستہ آہستہ ٹوٹتی ہی گئی۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ مسلم لیگ نواز نے اور شریف خاندان نے ملکر ملک پاکستان کو بہت لوٹا چوریاں کی ۔ منی لانڈرنگ کی بہت سے کیسزز ہوئے ان کے خلاف اور اب تک بھی چل رہے ہیں جن کی تفصیلات میں اگر جائیں تو ان کی چالاکیوں پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ لیکن اصل جرم ان کا جو ہے وہ ملک دشمنی اور غداری ہے ۔ انہوں نے ملک کو لوٹا پیسے کھائے پیسے لے کر باہر بھاگے یہ سب تو ہے ہی لیکن ان کی غداری کی وجہ سے ملک پاکستان بدنام ہوا جو ناقابل معافی ہے ۔

    ویسے تو ان کے ملک دشمنی اور غداری کے جرموں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن چند ایک ایسے ہیں جو میں یہاں پر لکھ رہا ہوں۔ سب سے پہلا جرم جو ہے وہ امریکہ سے پیسے لے کر ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کرنا تھا جو کہ اس وقت کے لوگ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان صاحب بتاتے ہیں کہ شریف برادران نے ایٹمی دھماکوں کی سخت مخالفت کی تھی ۔ اس کے بعد ان کا دوسرا جرم جس کی وجہ سے آج مقبوضہ کشمیر پر انڈیا قبضہ جمائے بیٹھا ہے وہ ہے گارگل سے اپنی فوجیں واپس بلانا اور انڈیا کو موقع دے کر اپنے فوجی مروانا گارگل کی جیتی ہوئی جنگ کو ہار میں تبدیل کروانا کارگل میں جتنے بھی فوجی شہید ہوئے اس کا زمہ دار میاں محمد نواز شریف ہے ۔اس کے علاوہ انڈیا میں جاکر حریت راہنماوں سے ملاقات نہ کرنا اور مودی اور آر ایس ایس کے بیانئے کو تقویت دینا بھی ایک سنگین جرم ہے ۔انڈین جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام تک زباں پر نہ لانا اور اجمل قصاب کو پاکستانی شہری تسلیم کرنا بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔
    انڈین میڈیا پر بیٹھ کر چھرا گھونپنے والی باتیں کر کے پاکستانی فوج کو بدنام کرنا۔

    اس کے علاوہ ماڈل ٹاون میں بیگناہوں کا قتل بھی نواز شریف فیملی کے کبیرا گناہوں میں شامل ہے ۔ معزز قارئین اس کے علاوہ حال ہی میں ایک ایسے بندے سے لندن میں ملاقات کرنا ایک افغانی جو کے پاکستان کے بارے میں مغلظات بک رہا ہو۔ اس سے ملاقات بھی سوالیہ نشان ہے ۔
    پاک آرمی کے خلاف ہرزہ سرائی اور ملک کے اداروں کو متنازعہ بنانا بھی ان کے جرم میں شامل ہے۔ ججز کی ویڈیوز بنانا اور ان کو بدنام کر کے اپنی مرضی کے فیصلے دلوانا بھی ملک کا بہت بڑا نقصان ہے آج اگر پاکستانی عدالتی نظام پر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس کی وجہ شریف خاندان ہے ۔
    قوم اب ان کی تمام حرکتیں دیکھ چکی ہے جو کچھ لوگ لا شعوری طور پر ان کے ساتھ ہیں۔ یا کچھ غدار وطن وہ بھی بہت جلد ان سے سے الگ ہو جائیں گے کیونکہ میری قوم چوری معاف کر سکتی ہے ہر جرم معاف کر سکتی ہے لیکن غداری کی کوئی معافی نہیں ۔
    اللہ ملک پاکستان کو ترقی اور استحکام عطا فرمائے اور شیاطین اور غداروں کے شر سے محفوظ فرمائے آمین ۔

    @Ssatti_

  • شاہ محمود قریشی  تحریر: دانش اقبال

    شاہ محمود قریشی تحریر: دانش اقبال

    آج پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہ لکھنے کا دل کیا

    کچھ سال پہلے تک شاہ جی کو میں اتنا خاص پسند نہیں کرتا تھا اور میرے ذہن میں ان کے بارے میں کچھ منفی خیالات تھے – میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ شاہ جی اپنے کچھ ذاتی مفادات کے حصول کے لۓ عمران خان کے ساتھ ہیں جو کسی کو پارٹی میں اہم حیثیت حاصل کرتے نہیں دیکھ سکتے اور ایک دن یہ خان صاحب کو دھوکہ دیں گے

    سب سے ذیادہ خطرہ 2018 کے الیکشن کے بعد ہوا جب وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی خواہش دل میں رکھنے والے شاہ جی کی خواہش ادھوری رہ گٸ اور مجھے یقین ہو گیا کہ قریشی صاحب اب گۓ کہ گۓ لیکن میرے اندازے غلط ثابت ہوۓ اور آج جب بھی کوٸی مجھ سے خان کے نمبرون اور بااعتماد کھلاڑی کا پوچھتا ہے تو فوراً زبان پہ شاہ جی کا نام آتا ہے

    پی ٹی آٸی جواٸن کرنے کے بعد سے اب تک قریشی صاحب نے پارٹی کے لۓ جان توڑ محنت کی ہے اور ایک اثاثہ ثابت ہوۓ ہیں
    اپوزیشن میں رہ کے خان صاحب کے ساتھ ساتھ جنگ لڑی دھرنے دٸیے ریلیاں نکالی اور اس وقت جب جاوید ہاشمی جیسے لوگ پھسل گۓ انہوں نے پارٹی کو سنبھالنے اور مورال اوپر رکھنے میں اہم کردار ادا گیا
    اور پھر 2018 کے الیکشن میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوۓ جنوبی پنجاب سے پی ٹی آٸی کو بھرپور کامیابی دلواٸی اور ان کے تجویز کردہ تقریباً سب امیدوار جیت گۓ جس کا کریڈٹ بلاشبہ خان کی سحر انگیز شخصیت اور بے انتہأ شہرت کے بعد قریشی صاحب کو ہی جاتا ہے

    سب سے اہم خارجہ کا محاز سنبھالنے کے بعد انہوں نے عملی طور پر وہ کارکردگی دکھاٸی جس کی پاکستان کو اشد ضرورت تھی

    عمران خان نے بہت سے اہم خارجہ محاز ان کے حوالے کۓ اور شاہ جی اب تک خان صاحب کے اعتماد پر پورا اترے ہیں

    آج کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان کے دنیا سے نا صرف پہلے سے بہت بہتر تعلقات ہیں بلکہ پاکستان کی عزت اور وقار بحال ہو چکی جو کہ پچھلے دو ادوار میں ایک مذاق بن چکی تھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے مل کے پاکستان کا جھنڈا پوری دنیا میں گاڑا اور مضبوط موقف کے ساتھ ہر اہم فورم پر بھرپور نماٸندگی کی

    آپ کے سی این این کو دٸیے گۓ انٹرویو نے کچھ "ڈیپ پاکٹس” کو چھوڑ کے باقی ساری عوام کو بہت خوش کیا اور یہودی میڈیا کو ایکسپوز کرنے پر سب نے دل کھول کر تاٸید اور تعریف کی

    پی ٹی آٸی کے بہت سے پرانے ارکان جو پارٹی چھوڑ چکے لیکن انہیں ابھی تک پی ٹی آٸی کے بانی رکن کہہ کے خان صاحب پہ تنقید کی جاتی ہے کہ خان صاحب نے پرانے ساتھیوں کے بجاۓ الیکٹیبلز کو فوقیت دی

    میرے خیال میں جو خود کو بانی رکن کہتے ہیں لیکن خان صاحب کو چھوڑ چکے ہیں ان کی کوٸی حیثیت نہیں کیونکہ قریشی صاحب جیسے ساتھی بے شک بانی رکن نہیں لیکن لاثانی رکن ہیں

    تبدیلی کے سفر میں خان صاحب کا ساتھ دینے والے ہی ہمارے لیڈر ہیں اور سر آنکھوں پر ہیں اور شاہ محمود قریشی صاحب اس فہرست میں سب سے اوپر دکھاٸی دیتے ہیں

    ایک اور بات جو شاہ جی کو سب سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ان کا شفاف اور بے داغ سیاسی کیرٸیر- شاہ جی پہ کبھی کوٸی کرپشن کا الزام نہیں لگا اور ان کے کردار کے سب ہمیشہ معترف رہے

    شاہ محمود قریشی کی مدبرانہ گفتگو اور اس پہ گفتگو کا سٹاٸل سب کو بھاتا ہے
    شاہ جی نے کبھی کسی کی ذات پہ گھٹیا ریمارکس نہیں دٸیے اور ہمیشہ اخلاق کے داٸرے میں رہ کہ اپنا موقف پیش کیا

    میں پی ٹی آٸی کے تمام سپورٹرز کی جانب سے شاہ محمود قریشی صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں

    @ch_danishh

  • آزاد کشمیر و جموں الیکشن2021 تحریر:سکندر ذوالقرنین

    آزاد کشمیر و جموں الیکشن2021 تحریر:سکندر ذوالقرنین

    تعارف
    میرا نام سکندر ذوالقرنین ہے میرا تعلق ضلع سرگودھا پنجاب سے ہے میں اوورسیز پاکستانی بھی ہوں
    باغی ٹی وی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے موقع دیا اپنی رائے دینے کا
    تحریر!
    ‏25 July 2018 سے
    ‏25 July 2021 تک

    25 جولائی 2018 ایک امید کا دن تھا ایک 22 سالہ پارٹی کا تیس سالہ حکمران پارٹی سے مقابلہ تھا ایک طرف نظریہ تو دوسری طرف ووٹ کو عزت دو۔ ہوا یہ کہ نظریہ جیت گیا 2018 کے بعد تین سالوں میں بہت کچھ ہوا اور کچھ لوگ ہر روز رات کو حکومت کو گھر بھیج چکے ہوتے تھے کرو نا اور مہنگائی کے جھروکوں سے ہوتی ہوئی تین سال مکمل ہوئے اب معاشی حالات کافی بہتر ہورہے ہیں
    اور وزیراعظم خان پر کرپشن کا کوئی الزام نہ آ سکا۔تین سال اپوزیشن اسی کا انتظار کرتی رہی ہیں کہ کوئی نہ کوئی کرپشن کا سکینڈل ضرور آئے گا
    25 جولائی 2021 کادن امتحان کا دن تھا ضمنی انتخابات نے حکومت کی کارکردگی کوئی اچھی نہیں تھی حکمران جماعت کو فکر بھی لاحق تھی کہ کہیں کوئی ہوا ہی نہ چل پڑے اور کشمیر میں وہی ہوا جو روایت تھی اور عمران خان جیت گئے حکومت کو کافی حوصلہ ملا اور اپوزیشن کا وہی رونا شروع پریس کانفرنس اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے کشمیر میں حکمران جماعت کی حالت بہت ہی زیادہ پتلی رہی پیپلز پارٹی سے شکست کھائی حکمران جماعت یعنی نون لیگ کی مریم نواز نے کیمپین تو خوب کی لیکن ووٹ نہ لے سکی اب وہاں کسی لوکل لڑائی کو خوب مرچ مصالحے لگا کر حالات خراب ہونے کے دعوے کر رہی ہیں یہ تک احساس نہیں کہ اس وجہ سے ملک کی بدنامی ہوگی آزاد کشمیر ایک حساس علاقہ ہے اور وہاں کے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ کشمیری ابھی بھی غلامی میں ہی ہیں غلام تو آپ میاں نواز شریف کے بھی ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے شاہد خاقان صاحب فرمایا رہے ہیں کہ الیکشن پر ریاست کا قضبہ ہے الیکشن وہی ہیں جو آپ جیت جاؤ اللہ صبر عطا کرے پیپلز پارٹی سے بھی مار کھائی اور اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کیا پیپلز پارٹی نے بھی دھاندلی کی ہے
    دھاندلی کے کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی کوئی تحریری درخواست دی گئی ہے
    تحریک انصاف میں علی امین صاحب اور مراد سعید کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ بھرپور کمپین کی اور الیکشن جیت لیا حالانکہ دوسری طرف پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت تھی پیپلزپارٹی کی جیت حیران کن تھی بلاول کو چھوڑ کر امریکہ بھی چلے گئے تھے پھر بھی گیارہ سیٹوں پر جیت جانا بہت اچھی کار کردگی ہے وہ خود بھی حیران ہوگئے

    انڈین اخبار میں آیا تھا اگر عمران خان کشمیر میں الیکشن جیت گیا تو انڈیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا

    انڈیا سے مدد مانگنے والو ں کو سبق مل چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کو بھی چاہیے اس کو تاحیات الیکشن لڑنے پر پابندی ہونی
    چاہیے
    تحریک انصاف کے 2 کارکن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی فائرنگ سے جان بحق ہوئے ان کے لئے دعائے مغفرت اور پاکستانی فوج کے 4 نوجوان
    شہید ہوئی اللہ پاک ان کی یہ قربانی قبول کرے اور ہمارے ملک کو سلامت رکھے آمین
    عمران خان نے تقریروں میں بہت سارے وعدے کیے ہیں اب وہ وعدے پورے کرنے کا وقت آ چکا ہے اور امید ہے کہ ایک مضبوط وزیراعظم بنایا جائے گا جو کہ کرپشن سے پاک ہوگا
    وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ بھرپور محنت کریں اس کامیابی کو ثابت کریں کہ وہ لوگوں نے ان کو صحیح الیکٹرک کیا ہے اللہّ حکومت کو پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کے لیے آپ کچھ کرنے کی توفیق دے
    @sikander037 #sikander037

  • الیکشن اور اس کے کردار  تحریر:  قاسم ظہیر

    الیکشن اور اس کے کردار تحریر: قاسم ظہیر

    دنیا میں کہیں بھی جب الیکشن ہوتا ہے عوام کی رائے بھٹی بھی نظر آتی ہے کچھ موجودہ حکومت کو دوبارہ سے حکومت میں لانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ اسے گھر جانے کی ترغیب دیتے ہیں مختصر یہ کہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا مختصر کردہ شخص حکومت میں آئے. زمینی حقائق, عوام کی رائے اور کچھ اندرونی طاقتیں سب اپنے اپنے حصے کا کردار نبھاتی ہیں اور آخر پاکستان میں کوئی نہ کوئی حکومت آ جاتی ہے
    تاریخ میں دیکھا جائے تو کبھی بھی عوام کی رائے کو فوقیت نہیں دی گئی.جس کی وجہ سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے .جمہوریت کا مطلب خالصتا عوام کی حکومت ہے جہاں پر اکثریت کی رائے کا احترام ہر شخص پر لازم ہے.اس کے برعکس کرنے سے نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.پاکستان میں آئے روز الیکشن کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والی حکومت کو اپنی مدت کے پہلے دو سال تو صرف اسی بات کی وضاحت میں لگ جاتے ہیں کہ وہ جس گورنمنٹ میں بیٹھے ہیں اس کو لوگوں کی اکثریت حاصل ہے.ہر اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان یہی چیز زیر بحث رہتی ہے کہ وہ جس طرح حکومت میں آئے ہیں وہ قانونی طریقہ نہیں عوام کی اکثریت حاصل نہیں جس سے نہ صرف ٹیکس پیر کے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا. دوسرے ممالک اس حکومت کو ترجیح نہیں دیتے اور نہ ہی اس کو ڈیموکریٹک تسلیم کرتے ہیں.آج کل دنیا میں دیکھا جہاں پر بھی سویلین بالادستی ہے انکو کو لوگ زیادہ عزت اور احترام دیتے ہیں
    ان تمام مشکلات کو دور کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ایک جامعہ اور واضح پالیسی لانا ہے جس پر سب کا اتفاق ہو اور جس سے ہمارے الیکشن میں بہتری آئی ہے جیتنے والا جیت مان جائے اور ہارنے والا اپنی خوشی خوشی ہاں تسلیم کر لے آج کل کے ترقی یافتہ دور میں ایسا کرنا بالکل مشکل نہیں رہا ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اپنے انتخابات کو مکمل صاف شفاف بنا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ایک سنجیدہ اور اعلی ظرف کی ضرورت ہے
    کسی بھی ملک کے بیرونی مضبوط ہونے کا انحصار اس کے اندر مضبوط ہونے میں ہے اور الیکشن کا شفاف نہ ہونا اندرونی خلفشار اور ناچاقی کا باعث بنتا ہے.ہمیں پاکستان میں جلد سے جلد اس مشکل پر قابو پانا ہوگا.کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر زیادہ سے زیادہ لوگ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور جس کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلا رہے گا.ان تمام مصیبت سے چھٹکارا پانے کا حل صرف اور صرف الیکشن ریفارمز میں ہے جو ہمیں جلد سے جلد کرنا ہوں گے.الیکشن فارم سے نہ صرف ایک مضبوط حکومت سامنے آئے گی بلکہ سویلین بالادستی قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اس کو وہاں کی عوام کی اکثریت حاصل ہوگی جس کی وجہ سے کوئی بھی غیر قانونی طاقت اس کو ہٹا نے یا مضموم عزائم رکھنے سے باز رہے گی.
    پاکستان کے ایک شہری ہونے کے ناطے سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی پارٹیاں مل کر ایک جگہ پر بیٹھ کر ان کا حل نکالیں گی اور الیکشن کو سنجیدگی سے لیں گے جس کی وجہ سے ہمارے آنے والے الیکشن کا نظام صاف شفاف ہو گا اور جو شخص بھی وزیراعظم ہاؤس کا خواں ہوگا.وہ قوم کی اکثریت کا رہنما ہوگا.

    @QasimZaheer3

  • مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن  تحریر-سید لعل بُخاری

    مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن تحریر-سید لعل بُخاری

    حکومت کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اپوزیشن تو اپنی موت آپ مر چُکی ہے-
    مگر بُری خبر یہ ہے کہ بڑھتی ہوئ مہنگائ اور اس کے بڑھنے پر مناسب چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا،عوام کی کمر توڑ رہا ہے۔
    جو حکومت کے لئے یقینا” باعث تشویش بات ہے-
    اس حوالے سے کوئ بھی حکومتی موقف لوگوں کو اس وقت تک مطمئن نہیں کر سکتا،جب تک مہنگائ کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے جائیں۔
    مہنگائ کی بات کرتے وقت یہ حقائق ہمارے زہن میں ہونے چاہییں کہ خصوصا” کرونا آنے کے بعد مہنگائ کی لہر
    بین الاقوامی طور پر آئ ہے۔بعض چیزوں مثلا”خوردنی تیل وغیرہ کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بھی دو سو فیصد تک بڑھی ہیں۔
    علاوہ ازیں پاکستان بننے کے بعد سے مہنگائ کبھی ایک جگہ رُکی نہیں۔کبھی کم بڑھی،کم زیادہ لیکن بڑھی ضرور
    مہنگائ بڑھنے کی شرح کے لحاظ سے جنرل ضیاالحق مرحوم کا دور سب سے بہترین تھا،اس وقت فوجی حکومت ہونے کی وجہ سے چیک اینڈ بیلنس بہت اچھا تھا۔
    مافیاز خوف زدہ رہتے تھے کہ اگر بلاوجہ چیزوں کے نرخ بڑھاۓ تو مشکلات پیدا ہونگی۔اسی کے باعث اعداد و شمار کے لحاظ سے وہی گیارہ سالہ دور تھا جب عوام مہنگائ کے ہاتھوں قدرے کم ستاۓگئے ورنہ تو ہمیشہ ہی سے
    بے چارے لوگ مسلسل مہنگائ کی چکی میں پستے آرہے ہیں
    موجودہ مہنگائ کے پیچھے وہ مافیاز بھی کارفرماہیں،جن کی آبیاری نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے بعض کرپٹ راہنماؤں نے کی۔اُن کی جڑیں اب اتنی مضبوط ہو چُکی ہیں کہ وہ جب چاہییں مارکیٹ میں اشیاۓ ضروریات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کروا لیتے ہیں،چینی اسکینڈل اسکی ایک مثال ہے۔
    ان سب حقائق کے باوجود حکومت کو اسکی زمہ داری سے استثنا نہیں دیا جا سکتا۔
    معاشرے میں کوئ بڑے سے بڑا بدمعاش بھی حکومت سے تگڑا نہیں ہو سکتا۔
    ایسے معاشرتی ناسوروں کو کُچلنے کے لئے مزید قانون سازی کریں،کسی بھی قسم کی چور بازاری کا خاتمہ کرنے کے لئے سخت سے سخت سزائیں دیں۔اسسٹنٹ کمشنرز کے اختیارات بڑھائیں۔مختلف چھاپہ مار ٹیمیں بنائیں۔ان ٹیموں میں کام کرنے والے افراد کو ترغیبات دیں
    کچھ بھی کریں۔عوام کو اس مہنگائ کے عفریت سے نجات دلائیں
    اپوزیشن اگرچہ اپنے کرتوتوں اور باہمی خلفشار کے باعث بیک فُٹ پر جا چکی ہے،۔
    ایسے میں حکومت کی اصل اپوزیشن یہی مہنگائ ہے۔جس پر کنٹرول حاصل کر کے حکومت عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے۔
    اللہ تعالی کے فضل و کرم وحکومت کے کچھ اچھے اقدامات سےملکی معاشی صورتحال بھی اب بہتر ہے۔
    سیاسی طور پر بھی
    پُر سکون حالات خصوصا”آزاد کشمیر کا الیکشن جیتنے کے بعد پی ٹی آئ حکومت کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں عوامی فلاوبہبود پر صرف کرے اور پریشان حال عوام کی جائز پریشانیوں کا مداوا کرے#

    تحریر-سید لعل بُخاری
    @lalbukhari

  • ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی

    ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی

    جب نوازشریف کو باہر بھیجا گیا تو قریب سب انصافینز نے اچھا خاصا شور مچایا۔ مجھے کئی دوستوں نے طعنے بھی دیے لیکن میں نے خاموشی اختیار کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس پالیسی کے نتائج چند سال بعد سامنے آئیں گے۔
    پہلے تین صوبے، پھر گلگت بلتستان اور اب کشمیر میں نتائج دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر نوازشریف کو نااہلی کے بعد واقعتاً جیل کے اندر ہی رکھا جاتا تو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد اس بندے نے ایک ایسی بلا بن کر باہر نکلنا تھی جسے اگلے چالیس سال تک اقتدار سے الگ کرنا نا صرف مشکل ہوجاتا بلکہ ناممکنات میں تصور کیا جاتا۔ سات سال کی سزا کا مطلب ہے ساڑھے تین سال۔ ساڑھے تین سال کا مطلب ہے کہ الیکشن 2023 سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے باہر آجانا۔۔۔یعنی شیر کو بھوکا رکھ کر چھوڑنے والی بات تھی۔
    اپنے مفادات کیلئے بھارت، یورپ اور امریکہ کیلئے نوازشریف سے بہتر اب تک بھی کوئی کھلاڑی نہیں رہا۔ کشمیر کے الیکشنز تک نوازشریف کشمیریوں کا بھی کسی حد تک ہیرو رہا ہے لیکن عمران خان نے مسٔلہ کشمیر کو جس طرح عالمی منظر نامے پر زندہ کیا ہے یہ دنیا کیلئے حیران کن تھا کیونکہ دنیا یہ فرض کرکے بیٹھی ہوئی تھی کہ پاکستان کشمیر کے حق سے دستبردار ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کیلئے واشگاف الفاظ میں بولنا، اس کی آزادی اور استصواب رائے پر بابنگِ دہل بیانات دینا ایک اس کمزور ترین خارجہ پالیسی والے حکمران کے منہ سے حیران کن تھا جو پالیسی اسے اسی کے سابق حکمران ورثے میں دے گئے تھے۔
    18 جولائی 2017 میں سہہ پہر کے وقت جب سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اقامہ کیس پر نوازشریف کو نااہل کیا تو موجودہ وزیراعظم عمران خان ‘ڈرٹی گیمز’ کی بُو اسی وقت سونگھ گئے تھے لیکن انہوں نے پوری قوم کے ساتھ مل کر اس نااہلی کا جشن منایا اور انہیں افسوس اس بات کا تھا کہ پاناما کیس ابھی بھی حل طلب تھا۔ جے آئی ٹی کے والیم 10 کو بھی نا کھولنا کسی ایسی گیم کا حصہ تھا یا شاید ابھی بھی ہے، جس کے نتائج کا علم صرف انہیں کو ہی پتا ہے جو قوم کو اس دلاسے پر خوش فہمی میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں کہ اس کے اندر شریف فیملی کے متعلق ایسے ایسے انکشافات ہیں کہ اگر اسے ایک بار کھول دیا گیا تو یہ خاندان کبھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔
    ڈرٹی گیمز کھیلنے والے اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور عمران خان اس سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنی چالیں چال رہے ہیں جن میں سب سے بڑی چال 50 روپے کے اشٹام پر نوازشریف کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت دینا ہے اور یہ اجازت ریاست کی سب سے بڑی عدلیہ نے دی تھی۔ عوام آج بھی اسی غلط فہمی میں ہیں کہ یہ سب انہوں نے کیا جو اس کھیل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی اب عمران خان بن چکا ہے اور اس نے مریم نواز کو ضمانت دلوا کر جہاں ایک طرف اسے عورت ہونے کا فائدہ دیا اور عوام کی ہمدردی حاصل کی وہیں دوسری طرف نوازشریف کو لندن بھجوا کر اسے پاکستانی سیاست سے دور کرنے کیلئے اس سے چند ایسے لوگوں کے ذریعے نوازشریف کے منہ سے ایسی تقریریں کروا دیں جن کی سمجھ شاید نوازشریف کو آج بھی نا آرہی ہو۔ سپریم کورٹ نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف کی قومی میڈیا پر تقریر کو بین کردیا گیا۔ آہستہ آہستہ اس قوم کی یاداشت سے نوازشریف کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا تو دوسری طرف مریم نواز کو ایسے ایجنڈے پر کام کیلئے چنا گیا جس سے صرف اور صرف (ن) لیگ کو ہی نقصان ہوا اور آج (ن) لیگ پورے پاکستان میں اپنی موت نہیں مری بلکہ مریم نواز کے ہاتھوں مروائی گئی ہے۔
    مجھے سلیم صافی کی ایک ٹی وی پروگرام میں کہی گئی بات اکثر ذہن میں آجاتی ہے کہ عمران خان دنیا کا اس وقت ذہین ترین سیاستدان ہے۔ نوازشریف اور زرداری اس کے سامنے معمولی سی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔
    الیکشن 2023 میں پاکستان تحریکِ انصاف الیکشن 1997 والا جھرلو پھیرے گی اور اس بار یہ جھرلو شفاف ترین الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے پھرے گا۔ یہ عوامی جھرلو ہوگا جو انشاءاللّٰہ نئے نظام کیلئے ایسا رستہ ہموار کردے گا جو پچھلے تمام راستوں کو بند کرکے اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازیوں کو بھی بیرکوں تک لے جائے گا۔
    ابھی بھی اگر کوئی یہ کہے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی تو اسے باؤلے کتے کے کاٹے کا ٹیکہ لگوانا بنتا ہے۔