Baaghi TV

Category: سیاست

  • آزاد کشمیر میں پاکستان جیتا  تحریر ۔ مدثر محمود

    آزاد کشمیر میں پاکستان جیتا تحریر ۔ مدثر محمود

    میری نظر میں آزاد کشمیر کا الیکشن اور پھر بھرپور کشمیری بھائیوں کی شرکت کرنا پوری دُنیا کے لیے پیغام ہے کہ ہم پاکستان کی ریاست سے خوش ہے اور اسکے ساتھ چلنے کا عزم رکھتے ہیں اور یہ ہی پاکستان کی جہت ہے ۔

    جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر جو انڈیا نے دھونس طاقت سے قبضہ میں کیا ہوا ہے وہاں کی سیاسی جماعتیں ہر الیکشن بائیکاٹ کردیتی ہے اسکی وجہ کہ وہاں آزادی سے الیکشن نہیں ہوتا وہاں بھارت اپنی کٹپتلی حکومت نامزد کردیتا ہے تاکہ وہ قبضہ جاری رکھ سکے۔

    مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کون الیکشن جیتے گا آزاد کشمیر سے مجھے مریم نوازشریف ، بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کے منعقد جلسوں سے غرض تھی کہ کشمیری عوام گھروں سے باہر نکل کر سنتی ہے تقریر یا پھر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح نریندر مودی کا جس طرح وہ بائیکاٹ کرتے یہ تو نہیں کرتے لیکن پوری دُنیا نے دیکھا کہ آزاد کشمیر کی عوام نے پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں کو ویلکم کیا بلکہ جب میں یہ آرٹیکل لکھ رہا ہو تو نتائج آنے کا سلسلہ چل پڑا ہے جو دیکھتے ہوئے خوش ہوا کہ ووٹ بھی دیے۔

    اب میرا تمام عالمی دُنیا سے مطالبہ ہے کہ کب تک آنکھیں بند کرکے کشمیری مسلمانوں پر ظلم ہوتا دیکھتے رہینگے آگے بڑھے اور جموں کشمیر میں عوام سے استصواب رائے عامہ لیکر اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ ایشیا میں سکون ہوسکے ہم جنگی اشیاء کو اکٹھا کرنا چھوڑ غربت کو ختم کرنے کے بارے سوچیں۔

    @Mudsr_Ch

  • افغانستان  کی  کھچڑی  ۔تحریر: محمد شعیب

    افغانستان کی کھچڑی ۔تحریر: محمد شعیب

    اس وقت افغانستان کے حالات کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ کھچڑی پکی ہوئی ہے اور معاملات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جیسے ایک ڈور کے بڑے گنجل کو سلجھانا۔ہر ملک اپنا کھیل کھیل رہا ہے اور ہر ایک کے مفادات دوسرے سے متصادم ہیں۔
    آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ پوری کوشش کریں گے کہ آپ کے ذہن میں افغانستان کے معاملے سے متعلق کئی سوالات کا جواب دے دیں۔ ہم آپ کو افغانستان کی اپڈیٹ مسلسل دے رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان واقعات کی وجہ کیا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ کیا افغانستان میں امن ممکن ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں معملات کتنے سنگیں ہیں اور کیا ماضی میں ان کے سلجھنے کے کوئی امکانات ہیں۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کیوں افغانستان میں بر سر پیکار ہیں۔ ان کے کیا خدشات ہیں اور وہ انہیں کیسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان آج خانہ جنگی کا شکار ہے۔
    اگر اآپ نے ابھی تک اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا ہے تو کر لیں اور بیل آئی کون کو پریس کر دیں۔
    طالب حکومت پر امریکہ کے حملہ کرنے سے پہلے افغانستان میں چیچن مجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، سنکیانک صوبے کی علیحدگی پسند تنظیم، القاہدہ سمیت دیگر تنظیموں کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ جبکہ بھارت مولانا مسعود اظہر کی رہائی کے لیے جہاز کے ہائی جیک ہونے اور افغانستان میں قندھار ائیر پورٹ پر اترنے کے بعددنیا بھر میں یہ ڈھنڈورا پیٹ رہا تھا کہ بھارت میں بد امنی پھیلانے والی تنظیموں کی پرورش افغانستان میں ہو رہی ہے ۔
    جسے امریکہ کے افغانسان میں آنے کے بعد بھارت نے اپنے حق میں کر لیا۔ لیکن اب جہاں بھارت کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں وہیں روس چین، ایران، سینٹرل ایشین ممالک سمیت پاکستان بھی پریشان ہے۔ اسے پتا ہے کہ اب پاکستان میں طالبانائزیشن زور پکڑے گی۔ ۔ چین الگ سے سنکیانک کے لیے پریشان ہے تو روس اپنے سینٹرل ایشین اتحادیوں کے لئے پریشان ہے جبکہ ایران بھی طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت سے الجھن کا شکار ہے اور اس نے پاکستان کی طرح ایران بارڈر پر فوج تعینات کر دی ہے۔
    چاہے پاکستان ہو یا ایران روس اور چین۔۔ طالبان کسی کی بھی من و عن بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں اور اگر اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ ہو اور جس میں انہیں اپنا مفاد نظر نہ آئے تو وہ نہیں مانتے ۔ کہنے کو تو امریکہ افغانستان سے زلت آمیز شکست کھا کر جا رہا ہے یہاں ڈھائی ہزار فوجی مروانے اور ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود انہیں طالبان سے معاہدہ کرنا پڑا ۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جا رہے ہیں لیکن امریکہ افغانستان میں موجود ہے۔ امریکی پیسے سے ہی افغانستان چلے گا اور افغانستان کو چلانے کے لیے طالبان کو بھی پیسے کی ضرورت ہے۔ اس کے افغانستان کے اردگرد
    دو درجن فوجی اڈے ہیں اور ان کی کٹ پتلی حکومت ابھی تک کابل میں براجماں ہے تو ایسی صورتحال میں پریشان دوسری پارٹیوں کو ہونے کی ضرورت ہے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔
    روس کی پریشانی کا یہ عالم ہے کہ پیوٹن جنیوا میں بائیڈن سے ملاقات میں امریکہ کو یہ آفر کر چکا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تاجکستان اور کرغستان میں اس کے فوجی اڈوں کو امریکہ ڈرون سے جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے روس کی اس پیشکش کا جواب دینا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
    امریکہ نے افغانستان کی حکومت اور طالبان کے مزاکرات کروانے کی بجائے خود مذاکرات کیے۔ جس کے بعد طالبان غیر ملکی فوج کو نکالنے کا کریڈٹ لینے کے قابل ہو گئے۔ امریکہ کے طالبان سے مذاکرات میں طالبان کے وقار میں اضافہ ہوا۔
    افغان حکومت کا سب سے بڑا دشمن اس وقت طالبان ہیں جن سے ان کی جنگ جاری ہیں اور طالبان سے شکست کے بعد افغان ھکومت نے اپنی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا ہے۔ اس وقت افغان حکومت پر قوم پرست لیڈروں کا قبضہ ہے اور ان سے پاکستان کی کم ہی بنتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس بات سے پریشان ہے کہ کہیں افغانستان دنیا بھر کے دہشت گردوں کا ہیڈ کوارٹر نہ بن جائے۔ اس لیے پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ وہ افغانستان میں صرف ایسی حکومت کو تسلیم کرے گی جو افغانستان کی تمام عوام کی ترجمانی کرتی ہو صورف ایک یا دو طبقوں کو طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
    پاکستان پر طالبان کی سپورٹ کا الزام کیوں لگتا ہے پاکستان افغانستان میں گریٹ گیم کا حصہ کیوں بنا۔ افغانستان میں اثرورسوخ پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ کیوں ہے۔ یہ انتہائی اہم سوالات ہیں۔
    افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو آج تک افغانستان کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ جب طالبان کی کابل پر حکومت تھی تو انہوں نے بھی پاکستان سے ڈیورنڈ لائن کے پرماننٹ معاہدے سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ معاملہ افغانستان میں بڑا ا حساس ہے۔
    افغانستان پاکستان کی پوری پشتون بیلٹ کو اپنا حصہ کلیم کرتا ہے جو May 1879 میںTreaty of Gandamak کے زریعےافغان بادشاہ یعقوب خان نے انگریزوں کو لکھ کر دے دی تھی۔ اس کے بعد نئے بادشاہ عبدالرحمان خان نے اس معاہدےکی تصدیق بھی کی۔افغانستان کے قوم پرست لیڈروں نے پاکستان کے قیام سے لے کرستر کی دہائی تک اس کے خلاف ہر سازش کی اور اس کے دشمنوں کی مدد سے ان علاقوں میں شورش پیدا کر نے کی کوشش کی۔ پاکستان کے قوم پرست لیڈروں کو بھڑکایا گیا اور پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں، پھر بھٹو کے دور میں افغانستان میں مذہبی طاقتوں کو سپورٹ کر کےپاکستان نے وہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ اور اس کے بعد طالبان کے دور میں پاکستان کو کافی سکون رہا۔ پاکستان نے امریکہ کے پریشر میں افغانستان پر حملے کا ساتھ تو دے دیا لیکن پھر بعد میں پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی ہے اس نے طالبان کو بچنے میں مدد دی اور انہیں پناہ بھی دی گئی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے اور پاکستان کے ساتھ کھل کر ہاتھ صاف کرنے اور یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے اور علیحدگی پسندوں کو پیسہ دے کر پاکستان میں بد امنی کروانے کی کھلی چھٹی دے دی جس کی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی جو آپ سب کے سامنے ہے۔اب بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی لاٹری نکل آئی ہے پاکستان طالبان کی صورت میں افغانستان میں کھوئی ہوئی طاقت حاصل کر رہا ہے۔ اوربھارت اپنے دشمن کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے خواہ اس کے لیئے اسے افغان حکومت پر قابض دھڑوں کو فنڈنگ کرنا ہو یا اسلحہ سمیت کوئی بھی چیز دینا ہو وہ انہیں دے رہا ہے۔ساتھ میں پاکستان کے امیج کو تناہ کرنے کے لیے مکروہ کھیل بھی کھیل جا رہے ہیں۔ لیکن طالبان اپنی منزل کی جانب گامزن ہیں۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے غلبے سے نہ صرف افغان لبرلز کو ڈرایا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان آگئے تو ان کے ساتھ دنیا کا چلنا ممکن نہیں اور افغانستان کی تباہی کا سفر یہاں سے شروع ہو جائے گا اور یہ وہی لوگ کر رہے ہیں جو طالبان کو کسی صورت افغانستان پر قابض نہیں دیکھنا چاہتے۔انڈیا 2002 سے اب تک افغانستان میں تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اس کے مفادات سلامتی اور معیشت دونوں سے وابستہ ہیں۔

    انڈیا کویہ بھی خدشہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ بڑھتا ہے تو کشمیر کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ بھارت نے ایران کے راستے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشین ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی بہت سرمایہ کاری کی ہے۔7200 کلومیٹر شمال جنوبی راہداری میں سرمایہ کاری کی ہے جو ایران سے روس تک چلے گی۔ مگر یہ سب امریکی سپاہیوں اور افغانستان میں جمہوری حکومت کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ طالبان سے بھارت کی محبت سب کے سامنے ہے۔ایسی صورتحال میں طالبان کی افغانستان میں آمد انڈیا کے لیے دھچکے سے کم نہیں ہے۔ انڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف سٹریٹیجگ سبقت کھو دے گا۔ پاکستان پر نفسیاتی اور سٹریٹیجنگ دباؤ ہے کہ افغانستان میں انڈیا مضبوط ہو رہا ہے۔ انڈیا کے کمزور ہونے سے پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔جبکہچین کا وسائل سے مالا مال صوبہ سنکیانگ اور افغانستان کے بیچ آٹھ کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ افغان صورتحال کے پیش نظر چین کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں آئے تو اس سے سنکیانگ میں علیحدگی پسند ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک کو پناہ اور مدد مل سکتی ہے۔
    یہ ایک چھوٹا علیحدگی پسند گروہ ہے جو مغربی چین کے سنکیانگ صوبے میں متحرک ہے۔ یہ ایک آزاد مشرقی ترکستان قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سنکیانگ صوبے میں چین کی ایک نسلی مسلم اقلیت اویغور آباد ہے۔کچھ عرصے سے چین افغانستان کے صوبے بدخشاں میں اپنے تاجکستان کے ملٹری بیس سے ایکٹیو ہوا ہوا ہے۔چین افغانستان کو بھی اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل کرنا چاہتا ہے اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔طالبان نے چین کویقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ سنکیانگ سے علیحدگی پسند اویغور جنجگوؤں کو افغانستان داخل نہیں ہونے دیں گے۔
    روس کو خدشہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سخت گیر اسلام کا گڑھ نہ بن جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں اسلام کی بنیاد پر انتہا پسندی بڑھتی ہے تو اس سے پورے وسطی ایشیا کو خطرہ ہو گا۔ یعنی اگر خون بہے گا تو اس کے قطرے ماسکو پر بھی پڑیں گے۔روسی اثر و رسوخ میں رہنے والے ملک جیسے تاجکستان اور ازبکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ہیں۔ روس کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں افغان سرحدوں پر انسانی اور سکیورٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔Islamic Movement of Uzbekistanاور and Eastern Turkistan Islamic Movement سے ان ممالک کو خطرہ ہے ان دونوں تحریکوں کے طالبان،القائدہ اور داعش سے تعلقات ہیں اسی لیے افغانستان کی سرحد پر سینٹرل ایشن ممالک اور روس نے پچاس ہزار فوجی اور سات سو ٹینک تعینات کر رکھے ہیں۔طالبان کے ایک وفد نے روس کے دورے پر یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان میں کسی پیشرفت سے وسطی ایشیا کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔اورافغان سرزمین کو کسی ہمسایے ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ترکمانستان کو بھی اسی طرح کے خدشات ہیں جہاں یہ افغانستان کے ساتھ 804 کلو میٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔

    چین اور روس کی طرح قازقستان اور کرغزستان کو بھی افغانستان میں سخت گیر اسلام کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ان کی سرحدیں افغانستان سے نہیں ملتیں مگر انھوں نے اپنے ملکوں میں ایسے حملے دیکھے ہیں جن کا تعلق افغانستان سے قائم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی کے علاوہ افغانستان میں امن قائم کرنے سے وسطی ایشیا کے ملک تیل، گیس یا کوئلے جیسے قدرتی وسائل انڈیا اور پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بھیج سکیں گے۔ اس لیے بھی ان ممالک کی نظریں افغان صورتحال پر جمی ہوئی ہیں۔

  • پاکستان کی سیاسی جماعیتں اور جمہوریت تحریر: ثاقب نوید

    پاکستان کی سیاسی جماعیتں اور جمہوریت تحریر: ثاقب نوید

    پاکستان کی کسی سیاسی جماعت میں جمہوریت نہیں ہے
    پاکستان کا آج تک ایک جمہوری ملک نہ بننے کی سب سے بڑی وجہ پالستان کی سیاسی جماعیتں ہیں، ہر جماعت یا تو کسی خاندان کی جماعت ہے یا ایک شخص کی جماعت ہے ۔
    پی پی پی آج تک بھٹو خاندان کی غلامی میں مبتلا ہے ، کبھی بھٹو پھر اُسکی بیٹی پھر اسکا شوہر زرداری اور اب زرداری کے بچے بھٹو بن کر اب پی پی پی کے غلاموں کے سردار ہیں، پی پی پی کی لیڈرشپ اور نہ کسی کارکن نے کبھی پارٹی میں جمہوریت کی بات کی اور اس پارٹی میں تو دیکھا ہے کہ پڑھے لکھے بڑے قد کاٹھ والے لوگ ایک نابالغ لڑکے کو لیڈر اور سر کہ کر پکارتے رہے۔
    مُسلم لیگ ن کا بھی یہی حال ہے شریف خاندان کے علاوہ کوئی اس جماعت میں سربراہ نہیں بن سکتا اور باقی لوگوں کو نوکر اور غلام اور قصیدہ پڑھنے والے بننے کی اجازت ہے ، اگر کبھی کوئی اس پارٹی میں جمہوریت کی بات کر دے اس کا سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے ، شریف خاندان نے سندھ کے بھٹو خاندان کے مقابلہ میں پنجاب کا سلطانی خاندان بن گیا اور پنجابی کارڈ کھیل کر اپنے لیے اسٹلیشمنٹ کی مدد بھی حاصل کی ۔اس جماعت میں سربراہی صرف یا نواز شریف یا شہباز شریف کی یامریم یا حمزہ کی پاس ہو گی باقی جو ان کی چاپلوسی اور خوشامد کرے گا وہ قریب اور عہدے کا حقدار بنے گا
    ن لیگ میں جمہوریت کا نام و نشان بھی نہیں لیکن سب سے زیادہ آج کل جمہوریت کا نعرہ یہ جماعت لگاتی ہے بے شرمی اور منافقت سے بھرپور سیاست رہی ہے اس پارٹی کی ۔
    پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی جماعت تھی جس سے ایک اُمید لگی تھی کہ وہ ایک جمہوری جماعت میں بنے گی اور اس جماعت نے ایک کوشش بھی کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی اور اس کے بعد نہ کوشش کی نہ کوئی اس جماعت کا کوئی ارادہ ہے اب اس طرح تحریک انصاف بس ایک فرد واحد کی جماعت بن کر رہ گئی
    پاکستان کی باقی چھوٹی پارٹیوں کا بھی یہی معاملہ ہے ۔
    جب یہ جماعتیں اپنی جماعت میں جمہوریت نہیں لا سکتے نہ بات کر سکتے ہیں لیکن بے شرمی اور ڈھٹائی سے پاکستان میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں کوئی ووٹ کو عزت کی بات کرتا ہے کوئی پارلیمان کی عزت اور سپرمیسی کی بات کرتا ہے
    لیکن اپنی جماعت میں جمہوریت کا نام لینا ممنوع ہے ۔
    پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں آگے بڑھنے کا طریقہ صرف ایک ہی ہے” شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار” ہماری سیاسی جماعیتں ایسے وفاداروں سے بھری پڑی ہیں جو خوشامد اور چاپلوسی اور غلامی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کردار ادا کرتے ہیں۔ ابن الوقت مطلبی، مصنوعی اور ضمیر فروش سیاستدان اس معاملہ میں سب سے آگے نظر آئیں گے۔ پارٹی لیڈر کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے ہر ادارے پر تنقید اور کہیں خوشامد کرنی ہو تو اپنی اس وفاداری کے بھرم میں وہ وہ چیزیں بھی بیان کر جاتے ہیں جو سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی، سیاستدان ہی کیا اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو بہت سارے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار اچھلتے کودتے شور مچاتے اور اپنے بے سرے راگ الاپتے دکھائی دیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ لگاتے ہیں کون زیادہ اپنے لیڈر کو خوش کرنے کے لیے دوسری پارٹی کے لیڈر کے گالیاں اور بُرا بھلا کہتا ہے کیونکہ یہی ایک معیار ہے ان کو اوپر اور عہدہ ملنے کا۔
    جتنا جو زیادہ زبان دراز ہو گا اتنا ہی اسکو پارٹی کے اندر پارٹی لیڈر سراہے گا اور وفادار کا خطاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد سب بڑی خصوصیت کا ذکر کرتے ہیں وہ ہے بلا جھجھک جھوٹ بولنا اور اس بے شرمی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا کہ سچ بھی شرما جائے ۔
    مقولہ ہی “ اتنی سچائی سے جھوٹ بولو کہ جھوٹ بھی سچ لگنے لگے”
    یہ جمہوریت،جمہوری نظام، ایوان کا تقدس اور ووٹ کی عزت کے نعرے صرف اپنی چودھراہٹ کو واپس لانے کے لیے ہے اور عوام کو بار بار بیوقوف بنانے کے لیے ۔
    @saqibnaveed21

  • جمہورکاپیغام تحریر ۔ ڈاکٹر راہی

    جمہوری پارٹیاں اگر خود کو جمہوری سمجھتی ہیں اور واقعئی اس ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے مخلص ہیں تو سب سے پہلے ہر پارٹی اپنے اندر جمہوریت پیدا کرے اپناجمہوری ڈھانچہ ترتیب دیں
    موروثیت کا خاتمہ کریں
    میرٹ کو سامنے رکھیں
    اک دوسرے پر گند بازی کے بجائے، اپنی خدمات کی بنا پر سیاسی جدو جہد کریں
    بلاول عہد کرے کہ میں وزیراعظم نہیں بنوں گا اور مستقبل کے لیے پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے غریب کارکنوں کےچند پڑھے لکھے نوجوان تیار کرے ان کی میڈیا مہم چلائے ان کے علاقوں میں ان کا ورک کرے
    انہیں لوگوں سے میل جول رابطے میں سرگرم رکھے فلاحی کاموں میں ان کی مدد کرے

    مولانا فضل الرحمان اپنے بیٹے بھائیوں کو بھلے سیاست میں لائے مگر اعلیٰ عہدوں پر کارکنوں کو آگے لائے ان کی تربیت کرے اور اپنی پارٹی سے موروثیت ختم کرے

    شریف برادران اگر ملک میں حقیقی جمہوریت کے لیے سنجیدہ ہیں تو الیکشن کمیشن کے ادارے کو بہتر بنوانے میں اپنا کردار ادا کریں
    ایسی قانون سازی کریں کہ ملکی ادارے مل مالکان کے حق میں غلط استعمال نہ ہوں

    شریف برادران بھی اپنی بیٹی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کی پڑھی لکھی بیٹیوں کی الیکشن مہم چلائیں انہیں اپنے علاقوں اور عوام میں متعارف کروائیں

    قانون سازی کے لیے حکومت پردباو ڈالیں کہ الیکشن کمشن قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے کورس متعارف کروائے جسے پاس کر نے کے بعد ہی کوئی میمبر کسی حلقے سے الیکشن لڑنے کا اھل ہو

    اگر انہوں نے یہی گھوڑے گدھے خرید کر سیاست کرنا ہے تو ایسی جمہوریت سے یہ قوم لنڈوری بھلی

    چند خاندانوں کو مضبوط کرکے آپ نے قوم کو ان کا غلام بنا دیا
    آپ اگر قومی خدمت میں واقعی سنجیدہ ہیں اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرنے کے لیے کوئی پروگرام تشکیل دیں
    جھوٹ اور بہتان بازی سے آپ نے اپنا وقار کھودیا
    اقتدار کی خاطر آپ نے اک دوسرے کے خلاف جو جھوٹ گھڑے یا تو ان کے سچ ہونے کا یقین دلائیں یا پھر اگر وہ جھوٹ تھے تو قوم سے معافی مانگیں

    ہر شخص تو فریب نہیں دیتا
    مگر اب اعتبار زیب نہیں دیتا

    قوم سے اس بات پر معافی مانگیں کہ ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دے کر آپ نے مافیاز جنم دیے، جنہوں نے ہر حکومت سے اپنا لاڈ منوایا ہے
    ہردور میں سارے عوام خصوصاً کسانوں نے مافیاز کے ہاتھوں ذلالت اٹھائی
    کسانوں نے ریٹ نہ ملنے پر اپنی کپاس جلائی، کبھی گنے کے کھیت جلائے
    جمہوری حکومتوں کی عین ناک تلےگندم کا باردانہ گم ہوتا رہا، کسان دربدر رہا
    چاول کا ریٹ تب اچھا بنا جب کسان کے ہاتھ سے نکل گیا
    ہر دور میں لیبر کے ساتھ نا انصافی
    جمہوری حکومتوں میں جمہور بھوک سے مرتی رہی
    مگر
    بڑے بڑے تاجروں کےکروڑوں کے قرضے معاف کردیے جاتے رہے
    آپ نے ہر ادارہ جاگیردار سیاست دانوں کے ہاتھ میں دے دیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ؟
    انہوں نےہر ادارے ہر شہر میں اپنے بندے بھرتی کرادیے
    یوں غریب لوگ قطاروں میں دھکے کھاتے رہے
    مگر؟
    سیاسی خط یاچٹھی والے لوگوں کو خصوصی پروٹوکول ملنے لگا
    کسی بھی ادارے کی سیاست میں مداخلت جائز نہیں
    اگر
    اس جواز کو غلط بنانا ہےتو؟
    آپ کو تاجر کے بجائے لیڈر بننا پڑےگا

    تو؟؟؟
    گھرسے قربانیوں کا سلسلہ شروع کریں
    یہ قوم بڑی سخی ہے یہ آپ کو معاف کردے گی
    آپ کے اخلاص پرپھرسے مر مٹے گی
    اس قوم نے آپ کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں بہت مرلیا
    اب کوئی تو ہو جو اس کی خاطر مرے

    ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
    وہ اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے

    Doctor Rahii

  • مسلم لیگ کے وارث بیشمار: قائداعظمؒ کی نظریاتی میراث کا وارث کون؟  ‏تحریر: محمد اکرم

    مسلم لیگ کے وارث بیشمار: قائداعظمؒ کی نظریاتی میراث کا وارث کون؟ ‏تحریر: محمد اکرم

    ‏ ⁦

    ‏پاکستان ایک ایسی نظریاتی مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کی اساس پر معرض وجود میں آئی ورنہ 14 اگست 1947ء سے پہلے دنیا کے نقشے پر پاکستان نامی کسی ملک کا کوئی وجود نہ تھا۔

    ‏دو قومی نظریہ کی بنیاد کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ہے جو مسلم قوم کو دیگر اقوام سے الگ تشخص عطا کرتا ہے۔ حبشہ کے بلال حبشیؓ اور روم کے صہیب رومی کو محمد ﷺ کی قوم میں شامل قرار دیتا ہے۔ محمد ﷺ کے سگے چچا عرب سردار ابولہب کو محمد ﷺ کی قوم سے خارج قرار دیتا ہے کیونکہ وہ کلمہ گو نہیں تھا۔

    ‏عربی زبان کا معروف قول ہے تعرف الاشیاء باضدادھا ترجمہ: چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ پس دو قومی نظریہ کو سمجھنے کے لیے متحدہ قومیت کے نظریہ کو جاننا ازبس ضروری ہے۔ ہندوستان کبھی بھی یکجا حالت میں موجود نہ تھا۔ یہ مسلم حکمران تھے جنہوں نے مختلف اکائیوں میں تقسیم راجواڑوں کو فتح کرنے کے بعد ہندوستان کو ایک اکائی اور وحدت کی شکل دی تھی۔

    ‏پھر انگریز نے ہندوستان پر قبضہ جما لیا۔ جب یہ قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہ رہا تو ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں سوچ بچار شروع ہوئی۔ کانگرس اس نظریہ کی پرچارک تھی کہ قومیت کی بنیاد وطن ہے، مذہب نہیں لہذا ہندوستان کو اسی حالت میں آزادی دے دی جائے۔ آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانوں کو ایک جدا قوم تصور کرتی تھی جس کی تہذیب تمدن روایات تاریخ ہندوؤں سے بالکل مختلف ہے۔ کانگرس اور اس کی ہمنوا جمیعت علماء ہند، مجلس احرار، سرخپوش تحریک نے وطنی قومیت کے نظریہ کا شد و مد سے پرچار شروع کر دیا۔ علامہ اقبالؒ وفات سے پہلے شدید علالت کے دور سے گزر رہے تھے جب انہوں نے قومیت پر فکری مباحث کے دوران مولانا حسین احمد مدنی کے جواب میں ایک معرکۃ الآراء مقالہ بعنوان ‘جغرافیائی حدود اور مسلمان’ تحریر کیا جو اخبار احسان میں مؤرخہ 9 مارچ 1938ء کو شائع ہوا جس میں دریا کو کوزے میں سموتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے یہ ناقابل فراموش تاریخی الفاظ رقم کیے تھے:۔

    ‏[حضور رسالت مآب ﷺ کے لیے یہ راہ بہت آسان تھی کہ آپؐ ابولہب یا ابوجہل یا کفار مکہ سے یہ فرماتے کہ “تم اپنی بت پرستی پر قائم رہو مگر اس نسلی اور وطنی اشتراک کی بناء پر جو ہمارے اور تمھارے درمیان موجود ہے، ایک وحدت عربیہ قائم کی جا سکتی ہے۔ اگر حضور ﷺ نعوذ باللہ یہ راہ اختیار کرتے تو اس میں شک نہیں کہ یہ ایک وطن دوست کی راہ ہوتی لیکن نبئ آخر الزمان ﷺ کی راہ نہ ہوتی۔”]

    ‏اس مقالے نے وطنی قومیت کے نظریہ کی بنیاد پر برسر عمل جمیعت علماء ہند، مجلس احرار اور سرخپوش تحریک کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ کانگرس کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ 1946ء کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی اور وہ مسلمان قوم کی بلاشرکت غیرے واحد نمائندہ جماعت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی۔ کانگرس کو تقسیم ہند نوشتۂ دیوار نظر آئی۔ قیام پاکستان کی منزل قریب تر آ گئی۔ بالآخر قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔ قائداعظمؒ نے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا۔ لیاقت علی خان وزیراعظم مقرر ہوئے۔ المیہ یہ ہوا کہ قائداعظمؒ کی وفات اور لیاقت علی خان کی ایک افغان کے ہاتھوں پراسرار شہادت کے بعد مسلم لیگ کا نظریاتی تشخص بیحد مجروح ہوا۔ وطنی قومیت کے پرچارک باچا خان، عبدالصمد اچکزئی، کانگرسی مولوی حسب سابق سرگرم رہے۔ اکھنڈ بھارت کی علمبردار جمیعت علماء ہند کی باقیات نے قیام پاکستان کی حامی جمیعت علماء اسلام کو ہائی جیک کر لیا۔ یہ سب لوگ قیام پاکستان کی مخالفت کے سابقہ مؤقف پر قائم رہے۔ دو قومی نظریہ کے منکر رہے۔ قیام پاکستان کو غلط قرار دیتے رہے۔ اسی فکر و سوچ کو اپنے کارکنان کے ذریعے آگے بڑھاتے رہے۔ ان کے نظریاتی لٹریچر اور سٹڈی سرکلز میں قیام پاکستان کو انگریز کی سازش قرار دیا جاتا رہا۔ بدقسمتی کی انتہا دیکھیے کہ مسلم لیگ قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ کے افکار کو اسی شد و مد سے اپنے کارکنان اور عوام تک پہنچانے میں ناکام رہی۔ جن جماعتوں کو تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ نے کارنر کر دیا تھا، وہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھتے رہیں۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ ہر دور میں قائداعظمؒ کی جماعت مسلم لیگ کے نام پر مختلف دھڑے برسر عمل ضرور رہے مگر قائداعظمؒ کی فکری وراثت کو لے کر چلنے والا کوئی دھڑا موجود نہ رہا۔ تاریخ کا عظیم ترین المیہ ہے کہ قائداعظمؒ مزارقائدؒ میں دفن ہیں مگر ان دھڑوں نے ان کی فکری وراثت کے لاشے کو بے گور وکفن پھینک دیا ہے۔ اپنے باباؒ جان کی فکری وراثت کو لاوارث بے گور و کفن دیکھ قائداعظمؒ کے بیٹے بیٹیاں خون کے آنسو روتے ہیں۔ وہ شدید کرب سے دوچار ہیں۔ بابائے قوم کی روح بھی شدید ذیت میں مبتلا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی روح بھی مزار اقبالؒ میں بےچین و بیقرار ہیں۔ اگر کوئی سکون چین قرار کی زندگی بسر کر رہا ہے تو وہ بابائے قوم کی نشانی مسلم لیگ کے نام پر قائم مختلف دھڑوں کی قیادتیں ہیں جنہوں نے قائداعظمؒ کی فکری وراثت کے لاشے کو لاوارث کی طرح بےگور و کفن چھوڑ دیا ہے جسے ان کے نظریاتی مخالفین گدھ کی طرح بیدردی سے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ یہ نظریاتی مخالفین قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ کی فکری وراثت کے لاشے کی روز بیحرمتی کرتے ہیں مگر بابائے قوم کی فکری بیحرمتی پر بےحمیتی بےشرمی کی چادر اوڑھے خوابِ غفلت کی گہری نیند سونے والی مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کی قیادتوں کی سوئی ہوئی غیرت جاگ ہی نہیں رہی۔ کیا ان قیادتوں کو صورِ اسرافیل کے علاوہ کوئی چیز جگا سکتی ہے؟

  • جیسی قوم ویسے حکمران  تحریر: سیدہ بنت زینب

    جیسی قوم ویسے حکمران تحریر: سیدہ بنت زینب

    کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے لوگوں پر ہوتا ہے. ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے لوگ اپنے اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری سے، پوری لگن سے کریں تو اس ملک کا دنیا میں بول بالا ہو گا. لیکن اگر اسی ملک کے لوگ اپنی جگہ بے ایمانی، کرپشن، زخیرہ اندوزی کرنے لگیں گے تو یقیناً اس ملک کو ترقی پذیر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    بدقسمتی سے پاکستان وہ ملک بن چکا ہے جہاں ہر شخص اپنی جگہ کرپٹ ہے، جسے جتنا موقع ملے وہ اتنی ہی ڈھٹائی سے کرپشن کرتا ہے. فریج والے سے لے کر موٹر والے تک، میکینک سے لے کر دکاندار تک، ایک چھوٹے بچے سے لے کر بوڑھے شخص تک ہر کوئی کرپشن جیسی بیماری میں مبتلا ہے. یہ بات اس بات سے بھی ثابت کی جا سکتی ہے کہ "اسکول میں پرنسپل نے ٹیچر کو کہا کہ بچوں سے دس روپے فارم کے لینے ہیں، ٹیچر نے کلاس میں آ کر بچوں کو کہا کہ صبح بیس روپے اسکول فارم کے لیے لے آنا، بچے نے گھر جا کر اپنی والدہ کو یہی رقم بیس کی بجائے پچاس بتائی اور اسکی والدہ نے یہی رقم بچے کے والد کو آگے سو بتا کر لی.” افسوس بحیثت قوم ہم سب کرپٹ ہو چکے ہیں.
    عوام ہمیشہ حکمرانوں پر ہی الزام لگاتی ہے کہ حکومت نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا اب ذرا عوام کی بات کریں تو کیا عوام بھی اسی تھالی سے نہیں کھا رہی جس میں سے سیاستدان کھا رہے ہیں؟
    جب بھی پاکستان کی ترقی پذیر ممالک میں ہونے کی بات آتی ہے تو ہر شخص اپنی جگہ بیٹھ کر سارا ملبہ ملک کے سیاستدانوں پر ڈال دیتا ہے کہ انہوں نے ہمارے ٹیکس کے پیسے کھائے ہیں، کروڑوں کی کرپشن کی ہے مگر دوسروں پر بات کرنے سے پہلے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ خود اپنی جگہ کتنے کرپٹ ہو چکے ہیں…!
    تو پھر ہم کس منہ سے حکمرانوں کو کچھ کہہ سکتے ہیں جب ہم خود ہی کرپٹ ہوں؟
    اپنے وزیروں، اداروں اور افسروں کو گالی دینے سے پہلے ایک بار ذرا خود سے پوچھیں کہ آپ نے کتنی ایمانداری سے اپنے حصے کا کام کیا ہے؟ آپ نے اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کچھ کیا ہے؟
    حکمرانوں کے دل اللّٰہ کے قبضہ میں ہوتے ہیں، جیسے لوگوں کے اعمال ہوتے ہیں اللّٰہ تعالی ان کے مطابق حکمرانوں کے دل کردیتا ہے، یعنی اگر عوام کے اعمال اچھے ہوں گے تو حکمران ان کے لیۓ اچھے ثابت ہوں گے اور اگر ان کے اعمال اچھے نہیں ہوں گے تو حکمران عوام کے لۓ برے ثابت ہوں گے.
    یہ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ "جیسی قوم ویسے حکمران”. اگر حکمران ایمانداری ہو اور عوام بے ایمان، تب بھی کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ ایک اکیلا شخص سارے معاشرے کی برائی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کچھ اچھا کام کرے بھی تو لوگوں سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی اور وہ اس اچھے انسان کے پاؤں کھینچ کر اسے اپنے سے پیچھے دھکیل دیتے ہیں. ہمیں ہر چیز سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہو گا. جیسا کہ قرآن پاک میں سورۃ الرعد میں فرمایا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللّٰہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی.”
    ‏‎بس ہم سب سے ہمارے حصے کا ہی سوال پوچھا جائے گا. ہم دوسروں کی فکر کرنے سے سے پہلے اپنے حصے کا دیا جلانے کی فکر کر لیں تو پاکستان روشن تر ہو جائے گا.
    اگر ہم سب سید اقرار الحسن کی طرح اپنے حصے کا کام پوری لگن، پوری ایمانداری سے کریں تو مجھے پورا یقین ہے کہ ایک دن پاکستان کا پرچم دنیا کے ہر میدان میں سب سے بلند ہو گا.
    جیسا کہ سید اقرار الحسن کہتے ہیں کہ "آپ سب پاکستان کے ذمہ دار محب وطن شہری کی طرح اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری اور لگن سے کرتے رہیں. بغیر کسی مفاد کے، بغیر کسی لالچ کے، لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں لاتے رہیں.مجھے یقین ہے کہ پھر وہ وقت دور نہیں ہو گا جب پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے گا انشاء اللہ”
    پاکستان زندہ باد!

    @BinteZainab33

  • پروپیگنڈہ اور معصوم عوام تحریر : راجہ حشام صادق

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکومت کے خلاف اپوزیشن اور میڈیا جس میں پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا ہاؤسز بھی شامل ہیں۔

    مسلسل پروپیگنڈہ کررہے ہیں.
    اس پروپیگنڈہ کا مقصد ہماری معصوم عوام کے ذہنوں میں حکومت سے متعلق ابہام پیدا کرنا ہے۔اور کچھ نہیں

    ایک چھوٹی سے مثال بی بی سی نیوز ہے جو ایک طرف پی ٹی ایم کو پروموٹ کررہا ہے اور دوسری جانب وہ کپتان حکومت کے برعکس محاذ کھولے ہوئے ہے۔

    کپتان نے حکومت سنبھالتے ہی بین الاقوامی سطح پر چند غیر معمولی اقدامات کئے جس سے امریکہ اور اس کے تمام اتحادیوں ممالک کے مفادات کو کاری ضرب لگی ۔

    اب ان کی پوری کوشش ہے کسی بھی طریقے سے پاکستانیوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے کہ عمران حکومت ناکام ہوچکی ہے اور ان کے ہوتے پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔

    کوئی شک نہیں وطن عزیز اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور اسے معاشی چیلنج کا سامنا ہے لیکن کپتان حکومت نے معیشت کو بہتر کرنے کیلئے چند قابل ذکر اقدامات کیئے جو اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا ہاوسز کو ہضم نہیں ہوئے۔

    پی پی پی یا ن لیگ کے دور میں پاکستان کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر آگئے تھےکوئی بھی ملک پاکستان کی مدد کرنے کو تیار نہیں تھا۔

    مگر کپتان کے آنے کے بعد اب دنیا کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ پاکستانی عوام واقعی تبدیلی چاہتی ہے اور بحیثیت قوم اپنی حالت بدلنا چاہتی ہے.
    امید ہے بہت جلد کڑا احتساب بھی شروع ہو گا ظالموں اور جابر حکمرانوں کا پاکستان میں صرف ایک بار نظام کو ٹھیک ہو لینے دیں تو انشاءاللہ ہمیں ہمارا کھویا ہوا مقام بھی واپس ملے گا۔

    اور ان شاءاللہ پاکستان دنیا کے پراثر ترین ممالک کی صف میں آپ کو کھڑا نظر آئے گا.

    آخر میں بس درخواست ہے اپنے ہم وطنوں سے کہ خدارا کسی بھی پروپیگنڈہ پر ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے اسکی تصدیق کرلیا کریں۔

    تحریک انصاف کے تمام ممبرز جو سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں آپ کا یہ فرض ہے کہ نہ خود کسی پروپیگنڈہ کا شکار ہوں بلکہ جیسے ہی انہیں کسی پروپیگنڈہ کے بارے میں پتہ چلے اس کے خلاف محاذ بنالیں۔

    یاد رکھیں پروپیگنڈا کی بنیاد پر جنگوں میں بہت سے ممالک کو جیت اور شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے.اسی کا نام ہے فیتھ جرنشن وار

    آپ یقین ہونا چاہیئے کہ پاکستان کلمہ کے نام پر پہلا اسلامی ملک ہے اور اسکی حفاظت اللہ تعالی خود کررہے ہیں ان شاء اللہ

    پاک افواج نے حالیہ جن گوریلا جنگوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں دنیا کی تاریخ میں اسکی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پاک فوج اور کپتان حکومت اپنا اپنا کردار ادا کررہے ہیں

    اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس ملک کے تحفظ اور ترقی کیلئے اپوزیشن جماعتوں اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کے پروپیگنڈا کا بھرپور مقابلہ کریں۔
    ایک سوال اپنی قوم سےکیا آپ سب تیار ہیں پاکستان کے خلاف ہر قسم کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے؟

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دیں۔آمین

    @No1Hasham

  • پاکستان کا مطلب کیا . تحریر :  توقیر عالم

    پاکستان کا مطلب کیا . تحریر : توقیر عالم

    پاکستان اس وقت شاید اپنی تاریخ کے سب سے نازک موڑ پر ہے جہاں اک طرف بیرونی طاقتیں پورے زور و شور سے پاکستان میں حالات خراب کرنے کے در پہ ہیں وہیں سیاسی افراتفری اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے ناانصافی کرپشن اقرباء پروری اور رشوت کا بازار گرم ہے ہمارے نوجوانوں میں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ جیسی بے حیائی عام ھو چکی ھے تعلیمی اداروں میں لڑکے لڑکیاں ناچتے نظر آتے ہیں اور تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ھو چکا ہے.

    تعلیمی ادارے تربیت گاہ کی بجائے ایک کاروبار بن چکے ہیں نوجوانوں کو مذہب بیزار بنانے کی مہم اپنے عروج پر ہے حقوق نسواں کے نام پر ہم جنس پرستی جیسی بے حیائی کے فروغ اور اس کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے.
    پاکستان کے قیام کا واحد مقصد ایک فلاحی اسلامی ریاست تھا جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دین کی پیروی کر سکیں اسی خواب کی تعبیر کے لیے قائد اعظم علامہ اقبال اور دوسرے بانیان پاکستان نے ہندوستان میں مسلمانوں کو الگ ریاست کے قیام کے لیے قائل کیا اور ایک بھرپور تحریک چلائی تحریک پاکستان میں مسلمان جو نعرہ لگایا کرتے تھے وہ تھا ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ” یعنی پاکستان کا مطلب شرک کا رد اور خدا کی واحدانیت کا اعلان تھا حالات اور واقعات نے ثابت کیا کہ پاکستان کا قیام مسلمانان ہند کے لیے ناگزیر تھا
    تقسیم ہند کے وقت لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھر بار جائداد کاروبار چھوڑ کر پاکستان چلے آئے ہجرت کے وقت جو واقعات رونما ہوئے اس خون آلود داستان کے دلخراش واقعات سن کر انسان کانپ جاتا ہے مگر سلام ہے ان مسلمانوں کو جو ایسے مظالم سہنے کے بعد پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی خدا کے حضور سجدہ ریزہ ھو کر اس کا شکر ادا کرتے رہے اس ہجرت میں لاکھوں بچے جوان اور بزرگ شہید ہوئے ہزاروں بیٹیوں کی عصمتیں لٹیں سینکڑوں نے عزت بچانے کی خاطر خود کو موت کی نیند سلا دیا
    میں اپنے بزرگوں سے اکثر سنا کرتا تھا اللہ کی رحمت کا نام پاکستان ہے یہ ملک اللہ کا تحفہ ہے مسلمانوں کے لیے مگر افسوس ہم نے اس ملک کی حفاظت نہیں کی آپسی لڑائی میں ہم نے اس ملک کا ایک حصہ گنوا دیا اور اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا ہمارے حکمران پاکستان کی بہتری کی کوشش کرنے کی بجائے اپنا پیٹ بھرنے میں لگے رہے جس کا بس چلا اس نے اس ملک کو جتنا نوچ سکتا تھا اتنا نوچا جس مذہب کے نام پر ملک حاصل کیا ہم اسی مذہب سے دور ھوتے جا رہےہیں مذہب کو بیسیوں فرقوں میں بانٹ دیا گیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرعام ہمارے مذہبی عقائد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں مذہب پسندوں کو شدت پسند کہنا شروع کر دیا گیا مغرب نے اسلاموفوبیا کی ترویج کی تو ہمیں لبرل بنانے کی مہم شروع کر دی گئی کبھی آزاد خیالی کے نام پر تو کبھی فنونِ لطیفہ کی آڑ میں بے حیائی کو فروغ دیا گیا ہماری روایات ہماری ثقافت اور اقدار کو قدامت پسندی اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ بنا کر پیش کیا گیا ہمارے معاشرتی نظام کو برباد کرنے کے لیے مغربی طرز معاشرت کو فروغ دیا گیا اور ہمارے احساس کمتری کا شکار لوگ خود کو مہذب اور پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لیے مغربی اطوار اپنانے لگے.

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دوبارہ سے جنگی بنیادوں پر اپنی نئی نسل کو حصول پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا جائے تاکہ بچوں کو سمجھ آئے.
    پاکستان کا مقصد کیا لا الہ الا اللہ
    اللہ ہمارا اوراس پاک سرزمین کا حامی و ناصرہو.

    @Lovepakistan000

  • عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے نام کامیابیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ان کے سپورٹرز کو یقین دلاتی ہے کہ جس کام کا بیڑہ کپتان اٹھاتا ہے وہ کر کے رہتا ہے جلد یا بدیرکرکٹ کھیلنے سے لے کے ٹیم کا کپتان بننے تک اور پھر ورلڈکپ جیتنا , یہ سب سمجھتے تھے کہ یہ خان کی کامیابیوں کا اختتام ہے لیکن خان نے کامیابیوں کا سفر جاری رکھا اور شوکت خانم , نمل یونیورسٹی بنانے کے علاوہ سیاست میں قدم رکھ دیا جو کہ اس وقت بہت سے لوگوں کی نظر میں ایک رسک اور غلط فیصلہ تھا خان کو پتا تھا کہ یہ جدوجہد لمبی اور مشکل ہے لیکن خان نے ٹھان لی اور ایک سیٹ والی پارٹی سے پاکستان کی نمبرون پارٹی بناڈالی باٸیس سالہ جدوجہد رنگ لاٸی اور کپتان نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا کپتان اور ان کے سپورٹرز کامیاب ہوۓ.

    جب اسمبلی میں سپیکر نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کا اعلان کیا تو خان کی آنکھوں میں چمکتے موتی صاف دیکھے جاسکتے تھے کیونکہ اس لمحے کا کپتان نے باٸیس سال تک انتظار کیا تھا اب کپتان کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں انہیں باٸیس سالوں کے کۓ وعدے اور عوام کو دلاٸی گٸ امیدیں پوری کرنی ہیں اور احتساب کے وعدے کو بھی پورا کرنا ہے
    تین سالوں میں لۓ گۓ مشکل فیصلے , مہنگاٸی کی عالمی لہر اور مافیاز کی سازشیں , ان سب مشکلات پہ خان صاحب عوام کو یقین دلاتے رہے کہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا گھبرانا نہیں ہے کچھ سپورٹرز گھبراۓ جبکہ اکثریت خان کے ساتھ کھڑی نظر آٸی اور اب ان کی طرف سے بہت یقین سے کہا جا رہا ہے کہ اگلی حکومت بھی عمران خان کی ہے اور ساتھ میں اس بات کا یقین بھی ہے کہ اگلی حکومت بغیر بیساکھیوں کے ہو گی اور عمران خان تن تنہا حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاٸیں گے.

    عمران خان کے سپورٹرز کا جوش و خروش دیکھ کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں سب بہتر ہوتا نظر آ رہا ہے خان جس کام کی ٹھان لیتا ہے وہ کر کے چھوڑتا ہے ماضی کا کامیاب ریکارڈ ہے جو خان کے سپورٹرز کے یقین کی وجہ ہے ان تین سالوں کے اقدامات اور بہتر ہوتی معیشت پہ اگلے کالم میں تفصیل سے لکھوں گا.

    @ch_danishh

  • جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    دوستو! میرا تعلق صوبہ پنجاب ضلع راجن پورتحصیل روجھان یونین کونسل کچہ راضی سے ہے اور یہ کچے کا علاقہ (No go area) ہے۔اس علاقے میں تعلیم کا ریشو نہ ہونے کے برابر ہے۔یہاں 3,4 پرائمری سکول کے علاوہ نہ مڈل سکول ہے نہ ہی ہائی سکول۔تعلیمی فقدان کی وجہ سے اس علاقے میں‏ امن بالکل بھی نہیں ہے۔لوگ معمولی رنجش کو بنیاد بنا کر کئ کئ عرصے تک لڑائی جھگڑے میں مصروف رہتے ہیں۔نوجوان نسل اکثریت بے روزگار ہے کیونکہ ادھر فنی تعلیم کا بھی خاطر خواہ کوئی انتظام نہیں۔ چوری و ڈکیٹی یہاں کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔ ‏Ngo’s جو کہ پسماندہ عاقے میں کام کرتے ہیں وہ بھی یہاں أنے سے کتراتے ہیں۔ صحت کے لیے کوئی ہسپتال نہیں اگر کوئی بیمار ہو تو اسے ضلع رحیم یارخان کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔‏ نادرہ کا کوئی نظام نہیں لوگ نادرہ ضلع رحیم یارخان کے تحصیل صادق اباد کا رخ کرتے ہیں۔یہاں کے لوگ زراعت سے منسلک ہیں اور مال مویشی کا کام کرتے ہیں۔دریاۓ سندھ پاس ہے لیکن یہاں کے کسان نہری نظام سے محروم ہیں۔ اکثریت کے پاس مال مویشی ہے ادھر لیکن ویٹرنری کا کوئی نظام نہیں۔ اگر کوئی‏ جانور بیمارہوجائے تو وہ مرجاۓ گا کیونکہ ویٹرنری سسٹم نہیں علاج کون کرے۔ ‏وفاقی حکومت اورپنجاب حکومت سے درخواست ہے اس پسماندہ علاقے پرتوجہ دیں کیونکہ ہم بھی صوبہ پنجاب کا حصہ ہیں۔

    @GN_bloch