Baaghi TV

Category: سیاست

  • بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بطور قوم یکجہتی، دیانت اور فکری تسلسل اصل طاقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوموں کے عروج و زوال کا تعلق صرف معیشیت سیاست یا دفاعی طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ ان کے اجتماعی رویوں اور سوچ کے تسلسل سے ہوتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے فیصلوں، موقف اور ترجیحات میں یک رنگی اختیار کرتی ہے تو دنیا اسے ایک سنجیدہ معتبر اور باوقار قوم کے طور پر پہچانتی ہے۔ لیکن جب یہی قوم حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے خیالات، رائے اور رویے بدلنے لگے تو اس کا تاثر متزلزل ہو جاتا ہے اور بدقسمتی سے آج ہمیں اپنے معاشرے میں دکھائی دیتی ہے۔ ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو جب پاک بھارت جنگ ہوئی اس وقت پوری قوم نے اپنی فوج اور عسکری قیادت پر فخر کیا۔ پوری قوم نے آرمی چیف کو ہیرو قرار دیا فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا اور ان کی قیادت کو قومی اتحاد کی علامت قرار دیا۔ مگر وقت گزر گیا اور حالات بدلنے پر وہی قوم اسی شخصیت کے بارے میں مختلف آراء اختیار کرنے لگی۔ سوال یہ نہیں کہ اختلاف کیوں کیا جا رہا ہے اختلاف رائے تو ہر جمہوری معاشرے کی خوبصورتی ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے موقف میں اصولی تسلسل برقرار رکھتے ہیں؟ کیا ہم حالات کے مطابق رائے بدلتے ہیں یا اصول کے مطابق؟ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے رویے وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اصولی بنیادوں پر استوار ہوں۔ یہ تضاد یا دورنگی رویہ ہمیں دنیا کے سامنے کمزور ظاہر کرتا ہے دنیا یہ دیکھتی ہے کہ پاکستانی قوم کبھی اپنے ہی فیصلوں پر فخر کرتی ہے اور پھر انہی فیصلوں پر نقطہ چینی شروع کر دیتی ہے۔ یہی رویہ قومی اداروں کے احترام اور اجتماعی اعتبار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اقبال نے اسی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا
    یک رنگ ہو جا اے میرے دل کے درد کی دعا
    دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
    یہ شعر محض تصوف یا اخلاقیات کا درس نہیں دیتا بلکہ یہ قومی تعمیر کی بنیاد بھی ہے جب تک ہم اپنی سوچ اپنی زبان اور اپنے فیصلوں میں استقامت پیدا نہیں کریں گے تب تک ہماری اجتماعی ساکھ مضبوط نہیں ہو سکتی قوموں کی پختگی کا پیمانہ ان کی یکجہتی دیانت فکر اور تسلسل رائے میں ہوتا ہے نہ کہ وقتی تعریفوں اور موسمی تنقیدوں میں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آراء کو وقتی جذبات سے ازاد کریں اصولوں کے تابع بنائیں اور بطور قوم ایک رنگ اختیار کریں کیونکہ قوموں کا معیار دو رنگی نہیں بلکہ یک رنگ میں پوشیدہ ہے۔

  • ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان

    ُپیرا (PERA) گالی کیوں بنتی جارہی ہے؟تحریر:ملک سلمان

    سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی، وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔
    لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔ سابق دور حکومت میں اینٹی کرپشن کو آنٹی کرپشن کہا جا تا تھا بالکل اسی طرح آج کل PERA یعنی اینٹی انکروچمنٹ فورس آنٹی انکروچمنٹ فورس بنتی جارہی ہے۔ انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے چند پولیس افسران ملنے آئے تو کہنے لگے کہ جن اہلکاروں کو پولیس یونیفارم میں ریڑی والے بھی مفت پھل نہیں دیتے تھے جب سے انہوں نے PERA یونیفارم پہنی ہے ان سے قسم لے لو کہ انہوں نے اس دن سے گھر کا راشن، پھل اور سبزیاں تک خریدی ہوں سب کچھ مفت باری پر چل رہاہے۔

    چند دن قبل گارڈن ٹاؤن لاہور میں عجیب منظر دیکھنے کو ملا، پھل خریدنے کیلئے گاڑی روکی تو دکاندار روتے ہوئے بولا جی سر میں نے اظہار ہمدردی پوچھا کہ خیریت رو کیوں رہے ہو کہنے لگا کہ ہر ہفتے PERA , ایل ڈی اے اور ایم سی ایل والے آجاتے ہیں، آج صبح PERA والے پیسے لیکر گئے ہیں تھوڑی دیر پہلے PERA کی ایک اور گاڑی والے آئے تو انکو کہا کہ صاحب جی صبح آپکی ٹیم سے ملاقات ہوگئی تھی تو وہ گالیاں دینے لگے کہ ہم تو ابھی آئے ہیں، ہماری خدمت کرو نہیں تو سارا کچھ گاڑی میں رکھو اور سٹیشن چلو۔۔۔۔۔۔نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دکاندار بتانے سے بھی قاصر تھا کہ پہلے کونسی گاڑی ”بھتہ“ لے کر جا چکی۔پیرا PERA کی گاڑیوں پر نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے دوسری تحصیل سے بھتہ خوری کی جاسکتی ہے یا پھر ہوسکتا ہے کہ طریقہ واردات ہوکہ پہلے ایک گاڑی جائے پھر دوسری بھی چلی جائے۔

    اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا گیا ہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہے۔ بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں میں ڈالہ گردی اور غندہ ازم کرتی پھر رہی ہے۔
    ایک دوست نے لاہور کی اہم ترین تحصیل کے ایس ڈی ای او پیرا کا وائس نوٹ سنایا جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ آپ کی بار بار شکایات سے تنگ آکر میں نے انکروچمنٹ کی ٹیم بھیج کر آپ کو ابلائج کیا ورنہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ گلیوں میں تجاوزات دیکھیں، جوابی وائس نوٹ میں مذکورہ ایس ڈی ای او کو غیرت دلائی کہ بھائی تم نے ٹیم بھیج کر جو ابلائج کیا ہے بتا دو کہ کیا تمہاری ٹیم نے ایک پتھر بھی ہٹایا؟
    ایس ڈی ای او ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ اس نے ابلائج کیا کیونکہ رہائشوں علاقوں میں کونسا کسی نے پیسے دینے ہیں یا اسے ”پروٹیکشن منی“ مل جائے گی جو وہ تجاوزات ہٹائے جبکہ بازار میں تو ہر چکر پر مال ہی مال اکٹھا کیا جاتا ہے۔
    مجھے حیرانگی ہوئی کہ نئے افسران اس قدر ذہنی مریض اور بے حیا ہوچکے ہیں کہ جس کام کیلئے انہیں پوسٹنگ دی گئی اس لیگل کام کو کرنا احسان جتلانا اور ابلائجمنٹ سمجھتے ہیں جبکہ حرام اکٹھا کرنا استحقاق۔

    حاکمیت اور بدمعاشی والی اسی غلیظ سوچ کے ساتھ سرکاری افسران اغوا برائے تاوان جیسی وارداتیں ڈال رہے ہیں۔
    مجھے امید ہے یہ بچہ عنقریت رہائشی ایریاز والے معزز شہریوں کو کہے گا آپ سے بھتہ نہ لیکر آپ کو ابلائج کر رہا ہوں کیونکہ ہر کاروباری سے تو لیتے ہی ہیں ایسے میں رہائشیوں سے نہ لینا یقینی طور پر ابلائجمنٹ ہی ہے ، مذکورہ نوجوان افسر کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ تمہاری تحصیل میں سرکاری دفاتر تک کے دائیں بائیں بھی دس دس فٹ کی تجاوزات ہیں۔
    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ تجاوزات کی صورت انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر ”وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔لاء انفورسمنٹ ایجنسیز، اینٹی کرپشن اور سی سی ڈی کو چاہئے کہ سرکاری بھتہ خوری اور بنا نمبر پلیٹ سرکاری ڈالہ گردی کو بھی لگام ڈالیں۔چیف سیکرٹری کو چاہئے کہ تجاوزات کی سرپرستی کرنے والے افسران کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ جیل بھیجا جائے۔

  • دہشت گردی کے خلاف قومی عزم،خلا کہاں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دہشت گردی کے خلاف قومی عزم،خلا کہاں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز ایک بار پھر لہو میں نہا گیا ۔ اسلام آباد کی عدالت کے باہر ہونے والا خودکش دھماکہ جس میں درجن سے زائد قیمتی جانیں اور زخمی ہونے والوں شہریوں اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں کالج پر دہشت گردوں کا حملہ اس تلخ حقیقت کی تصدیق ہے کہ دہشت گردی کا جن ابھی پوری طرح بوتل میں بند نہیں ہو سکا۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں کبھی آپریشن راہ نجا ت، ضرب عضب اور ردالفساد کے نعرے گونجتے تھے۔جہاں قوم نے قربانیاں دیں ،پاک فوج جملہ اداروں پولیس نے قربانیاں دیں اور جہاں یہ اُمید بندھی تھی کہ اب امن مستقل ٹھکانہ بنے گا۔ مگر حالیہ حملے یہ بتا رہے ہیں کہ دہشت گردی کی جڑیں صرف پہاڑوں یا سرحدی علاقوں میں نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے میں کہیں نہ کہیںدوبارہ پنپ رہی ہیں۔ اسلام آباد جیسے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں خودکش دھماکہ ایک علامتی پیغام ہے۔دوسری جانب وانا میں کیڈٹ کالج پر حملہ اس بات کا عندیہ ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک دوبارہ منظم ہو رہے ہیں ۔یہ صورت حال اس سوال کو جنم دیتی ہے آخر ریاست کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی میں کہاں خلاء باقی ہے ؟ کیا سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کے خلاف قومی یکجہتی کو کمزور کردیا ہے ؟ بلاشبہ ان حملوں کی جڑیں بھارت اور افغانستان کی سرزمین پر موجود گروپوں سے جڑی ہیں۔ اگرسرحد پار عناصر سرگرم ہیں تودیکھنا ہوگا اندرون ملک ان کے سہولت کار کون ہیں؟ دہشت گردی کو روکنے کے لیے سرحدوں پر ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی ، اور معلوماتی اشتراک ناگزیر ہے ۔ پسماندہ علاقوں میں روزگار، تعلیم اور انصاف کی فراہمی انتہا پسندی کا سب سے موثر توڑ ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی جنگ اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی جب سیاستدان آپس میں برسرپیکار ہوں۔ شدت پسندی کے خلاف فکری اور دینی سطح پر بیانیہ تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے۔ وطن عزیز نے دہشت گردی کے حوالے سے بہت قربانیاں دی ہیں۔ فوجی جوانوں سے لے کر معصوم بچوں تک ہر طبقہ نشانہ بنا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوم نے ہر بار اٹھ کھڑا ہونا سیکھا ہے۔ آج بھی اگر سیاسی ،عسکری اور سماجی قوتیں ایک صف میں کھڑی ہو جائیں تو دہشت گردی کے خلاف اس اندھیرے کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں قوم اپنی سوچ بدلنے پر آمادہ ہو تو کوئی اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

  • معیشت کا جنازہ ہے ذرہ دھوم سے نکلے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    معیشت کا جنازہ ہے ذرہ دھوم سے نکلے،تحریر: علی ابن ِسلامت

    چھ اگست 2025 کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک کی بیورو کریسی کے متعلق انکشاف کیا تھا کہ آدھی سے زائد بیورو کریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے، دوسری جانب پاکستان کی وفاقی حکومت میں اس وقت اٹھاون وزارتیں اور لا تعداد مشیر کام کر رہے ہیں، یہ تعداد وقتاً فوقتاً کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں کبھی وزارتوں کو ضم بھی کر دیا جاتا ہے تو کبھی ناراض اراکین کو نکال دیا جاتا ہے، ان وزارتوں کے انڈر میں تقریباً چالیس سے زائد بڑے محکمے کام کرتے ہیں، بہت سے محکمے اور وزارتیں ایسی ہیں جو ہونی ہی نہیں چاہیے۔صرف لاہور شہر میں چھ جی او آر ہیں، جہاں مختلف سرکاری افسران کو رہائش فراہم کی جاتی ہے، بیوروکریسی کو ہر طرح کی سہولیات فراہم ہیں، ڈرائیور، کک، آفس بوائے، سب کچھ میسر لیکن کام زیرونظر آتا ہےیہ صرف پنجاب یا لاہور کا مسئلہ نہیں بلکہ سندھ ، کے پی، بلوچستان ، ہر جگہ مافیہ نے اداروں کو عیاشی کا اڈا بنایا ہوا ہے۔

    واسا ایک وسیع بجٹ لینے کے باوجود برسات میں پانی کی نکاسی کا انتظام نہیں کر سکتا، بیوروکریٹس جو سب کچھ اس ملک کا کھاتےجا رہے ہیں ، غریب عوام کے احساس تک نگل جاتےہیں، سہولیات ان کو نمبر ون چاہیے ہوتی ہیں ورنہ پریس کلب، سیکرٹریٹ یا مال روڈ پر احتجاج کروا دیا جاتا ہے، آئے دن پورا لاہور شہر بند کر دیا جاتا ۔ میں اگر چھوٹی سہولیات کی بھی بات کروں تو یہ اخراجات ملک کو کھا رہے ہیں، اگست دو ہزار چوبیس میں پنجاب حکومت کے صوبائی خزانے سے اسپیکر کیلئے اٹھارہ کروڑ کی پانچ گاڑیاں خریدی گئیں تھیں۔ جنوری دو ہزار پچیس میں صرف ایف بی آر نے حکومت کی گردن پر پاؤں رکھ کر چھ ارب روپے مالیت کی ایک ہزار دس گاڑیاں حاصل کیں، جن میں سے کچھ مل چکیں اور کچھ باقی ہیں، یہ وہی ادارہ ہے جو اپنا ٹیکس ہدف بھی پورا نہیں کر سکا، جس دن گاڑیاں خریدی گئیں اسی ادارے کو تین سو پچاسی ارب ٹیکس شارٹ فال کا سامنا تھا۔

    عمران خان کی حکومت کے بعد صرف ویگو ڈالے کی تین سو گاڑیاں روزانہ بک رہیں تھیں اگست دو ہزار چوبیس تک تین سال میں چار سو پچاس ارب روپے کی پینتیس ہزار گاڑیاں بک چکی تھیں، اگست دو ہزار چوبیس میں پتہ چلا کہ سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے ایک سو اڑتیس لگژری گاڑیاں خریدنے کیلئے دو ارب روپے مانگے جبکہ اگلے مہینے یعنی ستمبر میں پتہ چلا کہ سندھ حکومت کے پاس اربوں روپےکی دو سو سے زائد فالتو گاڑیاں پہلے سے موجود ہیں جو بغیر مناسب دیکھ بھال یا استعمال کے کباڑ بن رہی تھیں ان میں سے آگ لگنے سے تیس سے زائد گاڑیاں جل گئیں تھیں۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں وفاقی وزراء کیلئے پچیس لگژری گاڑیاں خریدی گئیں حالانکہ پابندی لگی تھی،اس تمام عیاشی کے باوجود بیوروکریٹس حکومت اور عوام سے ناراض رہتےہیں ۔
    برطانیہ میں حکومت کے پاس جو سرکاری گاڑیاں ہیں ان کی کل تعداد پینتالیس ہے ،یعنی پینتالیس گاڑیوں کا ایک پول ہے جو تمام وزارتوں اور سرکاری دفاتر میں استعمال کیا جاتا ہے اور کوئی گاڑی کسی کے نام پر نہیں ہے ، دوسری طرف صرف صوبہ سندھ میں سرکاری گاڑیوں کی تعداداٹھارہ ہزار ہے اور پنجاب حکومت پچیس ہزار گاڑیوں کی مالک ہے۔ خیبرپختونخوا کی افسرشاہی سرکاری گاڑیوں پر سالانہ تقریباً سات ارب روپے کے تیل کی مفت سہولت لے رہی ہے ، پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے دو ہزار اکیس سے بائیس میں نئی گاڑیوں کی خریداری پر تین اعشاریہ دوارب روپے خرچ کئے۔سال دو ہزار بائیس سے تیئس کے میڈیا اعدادوشمار کیمطابق خیبرپختونخوا میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں سولہ ہزار ایک سو ایک سرکاری گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور دو ہزار سترہ کے بعد کے ماڈل کی چار ہزار نوسو دس نئی گاڑیاں رجسٹر ہوئیں،کے پی حکومت نے صرف سال دو ہزار اکیس سے بائیس کے دوران تقریباً چار ارب روپے ادا کیے ، یوں ایک سال کے دوران گاڑیوں کی مرمت پر ایک ارب بیس کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

    میں نے موٹا موٹا حساب نکالا وہ تقریباً چوبیس ارب اسی کروڑ سات لاکھ سے زائد رقم بنتی ہے، یعنی صرف ایک کے پی حکومت نے سال دو ہزار سترہ سے دو ہزار بائیس تک اربوں روپے عیاشی میں اڑا دئیے جو صرف گاڑیوں کی مد میں چلے گئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے جن کا ریکارڈ محکمہ ایکسائیز کے پاس موجود ہی نہیں یا پھر وہ اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہیں ۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق پنجاب کے حکومتی محکموں میں پچیس ہزار سے زائد گاڑیاں ایسی ہیں جو ٹوکن ٹیکس کے زمرے میں آتی ہیں۔ جن میں سے سترہ ہزار دو سو تہتر گاڑیاں اس وقت محکمہ ایکسائز کی ڈیفالٹر لسٹ میں شامل ہیں۔یعنی پنجاب حکومت کے پاس پچیس ہزار سرکاری گاڑیاں موجودہیں اور ستر فیصد سے زائد گاڑیوں کا ٹیکس ہی نہیں ادا ہوا، اور یہ پچھلے سال کی بات ہے جس پر پنجاب حکومت نے اب جا کر ایکشن لینا شروع کیا تھا۔

    ملک میں تین کروڑ سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، اور صرف پنجاب میں پچاس فیصد سے زائد گاڑیاں ٹیکس ڈیفالٹر ہیں، نا جانے یہ کون لوگ استعمال کرتے ہیں، ستمبر دو ہزار چوبیس میں حکومت کا وی آئی پیز کیلئے اناسی گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ سامنے آیا تھا جن کی قیمت اکسٹھ کروڑ سے زائد تھی، اور بارہ بلٹ پروف گاڑیاں وزیراعظم کیلئے تھیں، پھر یہ خریدی بھی گئیں، وفاقی وزیر قانون کیمطابق ایک وزیر کو تنخواہ کہ علاوہ سہولیات میں پندرہ سو سی سی گاڑی اور چار سو لیٹر پیٹرول ملتا ہے، پچھلے مہینے وزراء کی تنخواہیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔

    حیران کن طور پر اس وقت اراکینِ پارلیمان کی صرف تنخواہوں کا مجموعی حجم پینتیس ارب چون کروڑ ستر لاکھ روپے ماہانہ ہے ۔ ہاؤس رینٹ، گاڑی، گھر کے بل، ٹکٹ، بیرون ملک دورے اور رہائش اس میں اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر، وزرا، وزرائے اعلیٰ، گورنرز، وزیر اعظم، صدر کی تنخواہیں شامل نہیں ہیں۔مختلف اجلاسوں کے اخراجات اور بونس ملا کرسالانہ خرچ پچاسی ارب روپے کے قریب پہنچ جاتا ہے اور اکثر یہ لوگ خود ٹیکس نہیں دیتے۔ ریٹائرڈ افسرجوغیر ممالک میں اپنی مرضی سے مقیم ہیں انھیں ڈالر اور یورو میں پنشن ادا کی جارہی ہے۔ وزارت خارجہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایسے پنشنرز کی تعداد ایک سو چونسٹھ کے قریب ہے جنھیں غیر ملکی کرنسی میں ہر ماہ پنشن ادا کی جاتی ہے، جس کی مالیت دو سو ملین روپے کے قریب ہے۔

    در اصل یہ حقائق کبھی سامنے نہیں آتے مگر آئین میں کی گئی اٹھارویں ویں ترمیم کی شق نائینٹین ۔اےکے عوام کو یہ حقائق جاننے کا موقع مل گیا تھا، افسوس یہ ہے کہ معیشت کا جنازہ یہ اشرافیہ دھوم سے نکالنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ جہاں عوام روٹی، پانی سے محروم ہے وہاں اپنے حقوق جاننے کا حق کون دے گا؟

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • آئینی ترامیم اور اختیارات کی کشمکش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترامیم اور اختیارات کی کشمکش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کے چند ممالک ایسے ہیں جن کے جمہوری ڈھانچے آئینی تحفظات اور سول آزادیوں کی روشنی میں انہیں بہترین جمہوری ممالک کے طور پر اکثر سراہا جاتا ہے۔ ناروے، سویڈن، ڈنمارک، یورپی ممالک سمیت امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، فرانس، سوئٹزرلینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے 1947 کے بعد انڈیا ایکٹ 1935 عارضی آئین کے طور پر اپنایا۔ 1956 میں پہلا تحریری آئین آیا لیکن 1958 میں مارشل لگا اور آئین منسوخ کر دیا گیا۔ 1962 میں جنرل ایوب خان نے نیا آئین دیا جو صدارتی نظام پر مبنی تھا۔ پھر ممتاز عوامی لیڈر مسٹر بھٹو نے پارلیمانی جمہوری آئین بنایا جس کو 73 کا آئین کہا جاتا ہے۔ یہ آئین ایک پارٹی کا نہیں بلکہ تمام جماعتوں کا مشترکہ معاہدہ تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، جمعیت علمائے پاکستان، جے یو پی، ان سب نے مل کر 1973 کے آئین پر دستخط کیے۔ پھر 1977 اور 1988 ضیاء الحق مرحوم کے دور میں 1985 کو آٹھویں ترمیم کی گئی صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا آرٹیکل 58 ٹو بی پھر آئین کا توازن بگڑ گیا۔ پھر محترمہ بینطیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے ادوار 1988 ،تا 1999 میں سیاسی کشمکش کے باعث پارلیمانی نظام کمزور رہا صدر کا استعمال بار بار ہوا۔ پھر جنرل مشرف مرحوم کے دور 1999 میں 2008 ، 17ویں ترمیم 2003 صدارتی اختیارات بحال کیے گئے۔ پھر جمہوریت کی بحالی کے بعد اٹھارویں ترمیم 2010 صوبائی خود مختاری بحال کی گئی۔ صدر کے اختیارات کم اور پارلیمنٹ کے زیادہ، جنرل ضیاء الحق مرحوم اور مشرف مرحوم کے ادوار میں کی گئی تبدیلیوں کا توازن درست کیا گیا۔

    1973 کا عظیم آئین درجنوں ترامیم کی وجہ سے اس کا اصل ڈھانچہ پیچیدہ ہو گیا۔ تاہم اس آئین کے بنیادی اصول اسلام، وفاق، جمہوریت، آزادی، مساوات، سماجی انصاف اب بھی وہی ہیں جو 1973 کے آئین میں طے ہوئے تھے۔ 1973 کا آئین دراصل پاکستان کی قوم، سیاست اور مذہب کے درمیان ایک تاریخی مفاہمت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آئیں مگر اس آئین کی روح اب بھی اتحاد اور جمہوریت کی علامت ہے۔ اب ایک بار پھر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد 27ویں آئینی ترمیم پر بحث جاری ہے۔ پیپلزپارٹی نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ صوبائی خود مختاری پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔ اس شق کے حق میں ووٹ نہیں دیا جائے گا دوسری کئی شقوں کے علاوہ مجسٹریٹی نظام کو بھی ووٹ نہیں دیا جائے گا۔ مجسٹریٹی نظام دراصل نوآبادیاتی دور کی ایک انتظامی وراثت ہے۔ جب انتظامیہ ہی عدلیہ کا کردار ادا کرے تو انصاف غیر جانبدار نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر ایک ہی انتظامی افسر پولیس کی تفتیش کی نگرانی بھی کرے اور سزا بھی دے تو انصاف کیسے غیر جانبدار ہوگا؟ آئینی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 175 عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرتا ہے۔ مجسٹریٹی نظام میں عوامی نمائندے کمزور اور بیوروکریسی طاقتور ہو جاتی ہے بہتر راستہ یہ ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کی مکمل علیحدگی برقرار رکھی جائے۔ جوڈیشل نظام کو مضبوط کیا جائے نہ کہ انتظامیہ کو عدالتی کردار دیا جائے۔ پیپلز پارٹی آرٹیکل 243 کی حمایت کرے گی۔ پارلیمنٹ میں جو موجود ارکان اسمبلی یاد رکھیں جمہوریت کی بنیاد صرف پارلیمنٹ، قانون یا اقتدار نہیں بلکہ وہ اعتماد اور خدمت ہے جو عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان قائم ہو۔ عوام کے بنیادی مسائل روزگار، تعلیم، صحت، انصاف پر توجہ دے۔ اگر پارلیمنٹ صرف اقتدار کی سیاست میں مصروف رہے اور عوامی مشکلات نظر انداز ہوں تو جمہوریت ایک نظام نہیں بلکہ ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

  • قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران متعدد مواقع پر یہ دعوی کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کروانے یا جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے۔ ایسے بیانات سے وقتی طور پر عالمی توجہ ضرور حاصل ہو جاتی ہے مگر خطے کے دیرینہ اور اصل مسلے یعنی کشمیر پر امریکی پالیسی ہمیشہ خاموش اور مبہم رہی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تر تناؤ، سرحدی جھڑپوں اور بداعتمادی کی جڑ مسلہ کشمیر ہے۔ جب تک اس تنازع کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں واضح طور پر تسلیم شدہ ہے۔ امریکہ اگر واقعی خطے میں امن کا خواہاں ہے تو اسے محض جنگ بندی کروانے یا کشیدگی کم کروانے کے بیانات سے آگے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے عملی اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

    طاقتور ممالک کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ وقتی بحرانوں کو سنبھالیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی پالیسی اختیار کریں تاکہ تنازعات کی جڑیں ختم ہو سکیں۔ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور امن کی بات کرتا رہا ہے مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی برادری کی سرد مہری کے باعث یہ مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ نتیجتا لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے کشیدگی بڑھ جاتی ہے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں اور خطے کا امن داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ امن صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ انصاف سے آتا ہے اور انصاف تب ہی ممکن ہے جب کشمیر کے عوام کو وہ حق دیا جائے جس کا وعدہ ان سے برسوں پہلے کیا گیا تھا۔

  • ووٹ وعدے اور فاصلے،تحریر: شاہد یوسف

    ووٹ وعدے اور فاصلے،تحریر: شاہد یوسف

    ہمارے معاشرے میں سیاست کا موسم جب آتا ہے تو منظر ہی بدل جاتا ہے گلیوں میں رونقیں بڑھ جاتی ہیں وعدوں کی بارش ہونے لگتی ہے اور عوام کے دروازے اس طرح بجتے ہیں جیسے برسوں کی رفاقت ہو امیدوار جھک کر سلام کرتے ہیں چائے پیتے ہیں تصویریں بنواتے ہیں اور دلوں میں امیدیں جگاتے ہیں کہ اب شاید تبدیلی آئے گی اب شاید عام آدمی کی عزت بحال ہوگی مگر الیکشن جیتنے کے بعد جیسے منظر پہاڑی راستے کی طرح اچانک موڑ بدل لیتا ہے وہی لوگ جو کل تک عوام کے قدموں میں بیٹھتے تھے آج ہجوم سے دور پروٹوکول کے حصار میں نظر آتے ہیں فون کا جواب تک ملنا مشکل ہو جاتا ہے اور عوام کی آوازیں اقتدار کے بند دروازوں میں گم ہو جاتی ہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ عام آدمی کے دکھ سکھ میں شریک ہونا بھی ان کے لیے غیر ضروری مشقت سمجھا جاتا ہے غریب کے گھر فوتگی ہو جائے تو وہاں ان کے قدم نہیں پہنچتے عام آدمی کا غم شاید ان کے مصروف شیڈول میں جگہ نہیں پاتا خوشیوں میں بھی ان کی آمد صرف ان گھروں تک محدود رہتی ہے جہاں طاقت پیسہ اور اثر و رسوخ ہو جیسے دعوت اور تعزیت بھی اب طبقاتی نظام کے تابع ہو گئی ہو اور یہاں ایک سوال شدت سے جنم لیتا ہے آخر یہ کن کے نمائندے ہیں کیا وہ چند خاندانوں کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے کیا وہ صرف ان ہاتھوں کے مرہون منت ہیں جن کے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر سیاست کی بریفنگ لی جاتی ہے اگر نہیں تو کیا انہیں احساس ہے کہ تخت تک پہنچانے والے ہاتھ ان خاص محفلوں میں نہیں بلکہ عام گھروں چھوٹے ووٹروں کچی گلیوں اور سادہ لوگوں کی انگلیوں میں ہوتے ہیں اقتدار کا راستہ عوام کے دلوں اور ووٹوں سے ہو کر جاتا ہے نہ کہ دوچار خوشامدی مشیروں اور چند بااثر خاندانوں کی چوکھٹوں سے پھر کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل طاقت وہی عام آدمی ہے جسے وہ بعد میں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے فراموش کر دیتے ہیں –

    اصل مسئلہ سیاست دانوں کا نہیں ہماری خاموشی کا ہے ہم ہر بار جذبات میں بہہ جاتے ہیں اور اگلے الیکشن تک اپنی ناراضگی کو سلا دیتے ہیں جب تک عوام سوال نہیں اٹھائیں گے جواب بھی نہیں ملے گا جب تک ہم یاد نہیں دلائیں گے کہ ووٹ عبادت بھی ہے اور ذمہ داری بھی تب تک ہمارے دروازے صرف انتخابی موسم میں ہی بجتے رہیں گے وقت ہے سوچنے کا ووٹ کے روز ہماری دہلیز پر جھکنے والے کل بھی اسی طرح جھکتے رہیں یہی اصل جمہوریت ہے ورنہ پھر یہی ہوگا وعدوں کے موسم اور پھر طویل فاصلوں کی سرد ہوا-

  • آئینی ترمیم ،پارلیمانی اختلافات، پیپلز پارٹی کے مؤقف پر سب کی نظریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترمیم ،پارلیمانی اختلافات، پیپلز پارٹی کے مؤقف پر سب کی نظریں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں میں دن بدن دھند میں اضافہ ہو رہا ہے عوام حیران و پریشان ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس اور سینٹ میں بیٹھے اپنے نمائندوں کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں اپنی حکومتوں، اپنے اقتدار کی تو فکر ہے ملک اور عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کو فکر نظر نہیں آرہی۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں بیٹھے ارکان اسمبلی ملک اور قوم کے دعویداروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام ان سے مایوس ہو رہی ہے۔ آئین بنانے والوں نے تو بڑا خوبصورت آئین بنا کر دیا تھا آئین کی کتاب میں سب کچھ درج ہے مگر ہمارے ارکان پارلیمنٹ کا حساب کتاب آئین کو دیکھ کر کمزور نظر آتا ہے۔ آئینی سوال دو اور دو چار کی طرح بالکل آسان ہے مگر پھر بھی ان سے حل نہیں ہو رہا اگر یہ حل نہیں ہو رہا تو عوام سمجھنے پر مجبور ہے کہ ہم انہیں کیوں ووٹ دیتے رہے۔ آج کل نئی آئینی ترمیم کا بڑا شور ہے کہ نئی آئینی ترمیم کی جا رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے نواسے بلاول بھٹو نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے نئی آئینی ترمیم میں شامل شقوں کے حوالے سے قوم کو بتا دیا ہے۔ اب پیپلز پارٹی اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے گی یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اس موجودہ آئینی ترمیم میں جو کی جا رہی ہے اس میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن کے کچھ مرکزی لیڈروں کو خبروں کے مطابق اعتراض بھی ہے۔ اس نئی آئینی ترمیم میں مجسٹریٹی نظام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    پاکستان میں 2001 تک مجسٹریٹی نظام ایک ضلع انتظامیہ پر مبنی عدالتی و انتظامی ڈھانچہ تھا۔ ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ایگزیکٹو مجسٹریٹ، جوڈیشل مجسٹریٹ ہوا کرتے تھے۔ ایگزیکٹو مجسٹریٹ امن و امان، عوامی شکایات، جرائم کی ابتدائی سماعت اور چھوٹے تنازعات حل کرتے تھے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ فوجداری مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ 2001 میں پرویز مشرف مرحوم کے دور میں لوکل گورنمنٹ آرڈر کے ذریعے ایگزیکٹو اور جوڈیشل اختیارات الگ کر دیے گئے یعنی انتظامیہ اور عدلیہ تقسیم کر دی گئی۔ ایگزیکٹو اور عدلیہ کے اختیارات ایک ہی ہاتھ میں ہونے سے قانونی ماہرین کے مطابق درست نہیں ڈپٹی کمشنر یا مجسٹریٹ اکثر حکومتِ وقت کے دباؤ میں فیصلے کرتے تھے ماضی میں بہت سے کیسز میں مجسٹریٹ نظام عوامی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بنے۔ آج بھی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کے مترادف ہے۔ آزاد کشمیر میں مجسٹریٹی نظام جزوی طور پر اب بھی موجود ہے جبکہ اسلام اباد میں بھی مجسٹریٹی نظام موجود ہے۔

    آزاد کشمیر میں پچھلے دنوں امن و امان کے مسائل اور احتجاجی واقعات دیکھے گئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صرف مجسٹریٹی نظام ہونا کافی نہیں۔ یہ نظام عمل درامد، شفافیت اور قانون کی غیر جانبداری کے بغیر موثر نہیں ہو سکتا۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے وطن عزیز میں جہاں پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی کمزور ہے ایک متوازن ہائبرڈ ماڈل زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ مثلا چھوٹے جرائم یا امن و امان کے معاملات میں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے محدود اختیارات جبکہ عدالتی فیصلے مکمل طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس ہوں۔ اصل مسئلہ نظام کی بحالی نہیں بلکہ اس کی دیانت دارانہ عملداری ہے۔

  • چار سال میں چوتھا وزیراعظم ،تحریر: علی ابن ِسلامت

    چار سال میں چوتھا وزیراعظم ،تحریر: علی ابن ِسلامت

    پاکستان کی تاریخ میں دو بار تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانےکی کوشش کی گئی ، یکم نومبر 1989 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد 12 ووٹوں سے ناکام ہوئی، اگست 2006 میں شوکت عزیز کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد ناکام رہی، نواز شریف کے بعد عمران خان دوسرے وزیر اعظم تھے جنہوں نے رضا کارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لیا تھا،تیسری بار آخر کار عمران خان کے خلاف 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرار داد میں ووٹ دے کر 9 اپریل 2022 کی رات فارغ کر دیا، یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانےوالے پہلے وزیر اعظم بن گئے

    تحریک عدم اعتماد کا اصول یہ ہوتا ہے کہ آئین کے مطابق اگر صدر مملکت کو لگے کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد کھو چکا ہے تو وہ اجلاس طلب کر کے وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہتا ہے، ہم اس بات یہ ناواقف ہوتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد سے جمہوریت کو سیاسی عدم استحکام ، حکومتی کاموں میں رکاوٹ اور آئینی بحران جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس بات سے آج پاکستانی قوم خوب واقف ہو چکی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد ایک ایسا آئینی بحران پیدا ہوا جس سے نکلنے کیلئے آج کی مقتدرہ اور سیاسی مشینری کو امریکہ اور دوسرے ممالک جیسی طاقتوں کی ضرورت پڑ رہی ہے ، اب پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد کیلئے متحرک ایک نئے تجربے کی اُڑان میں مصروف ہے، یعنی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں سیاسی انتشار جاری ہے، پاکستان مسلم لیگ نواز کے مقرر کردہ وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد پیش کی جائے گی، جس پر وفاق میں اتحادی حکومت ن لیگ کو ئی اعتراض نہیں، یہاں سوال یہ ہے کہ تجربہ کار نواز لیگ کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ کشمیر میں جمہوریت کا نعرہ ذاتی مفادات تک محدود ہو چکا ہے،سال 2021 میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی ،اس کے بعد آج 2 نومبر 2025 تک تین وزیر اعظم آ چکے ہیں جبکہ چوتھے وزیر اعظم کو لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں،پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور کشمیر کی ذاتی جماعت کشمیر کی تباہی کی ذمہ دار ہیں لیکن کوئی بھی یہ بات ماننے سے انکاری ہے، 1975 سے لیکر اب تک تمام سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت کر چکی ہیں

    آج صدر زرداری صاحب نے گلگت بلتستان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت ہے، پہلے پیپلز پارٹی چار بار آزاد کشمیر میں حکومت کر چکی،وزیراعظم راجہ ممتاز حسین راؤ 1990، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 1996، سردار محمد یعقوب خان2009، چوہدری عبدالمجید 2011 سے 2016 تک اقتدار میں رہے، یہ سب پیپلز پارٹی کے تھے، آج کشمیر میں الیکشن میں صرف 8 ماہ ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ اگر چار بار اقتدار میں رِہ کر پیپلز پارٹی کشمیر کی آزادی میں ناکام رہی تو ان 8 ماہ میں تحریک عدم اعتماد سے کشمیر کو آزادی دلا سکتے ہیں؟ سب کا جواب ہو گا نہیں، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آٹھ ماہ کا اقتدار میں بھی ہماری سیاسی جماعتیں چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں ، در اصل ہماری جماعتیں جمہوریت، عوام اور آئین کیلئے نہیں بلکہ اقتدار، وسائل اور مفاد کیلئے ذاتی سودے کرتی ہیں جس کا عوام چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ڈائرکٹلی اور اِن ڈائریکٹلی عوام اداروں اور جمہوریت کو ہوتا ہے
    قطع تعلق اس کہ کشمیری عوام ہی ان کے خاتمے کیلئے کچھ کرے مگر نہیں ، جب کسی غیر سیاسی طاقت کی سپورٹ حاصل ہو کشمیر میں تاریخی احتجاج ضرور ہوتے ہیں ، اور پھر جب سیاسی طاقتیں آئین کی بالا دستی کیلئے قانون نافذ کرتی ہیں تو ان کو نان سٹیٹ ایکٹرز کا نام دے کر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، 2006 کے بعد بننے والی اسمبلی میں بھی 5 سال کے دوران 4 وزیراعظم آئے تھے اس لیے میں کہتا ہوں کہ سازشوں کے الزام لگانے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ محلاتی سازشوں میں آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا کوئی ثانی نہیں ، یہ ایسی سر زمین ہے جہاں 1975 سے لیکر آج تک ہر وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے خفیہ میٹنگز ہمیشہ جاری رہتی ہیں ، لہذا آج بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے

    آزاد کشمیر میں چار سال کے دوران چوتھا وزیراعظم ، سوال پھر وہی کہ ضرورت کیا ہے، اگر یہ دلیل ہے کہ اگلا وزیر اعظم سب بدل دے گا تو یہ سب پہلے کیوں نہیں ہوا؟ یہ عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے، 2021 میں مینڈیٹ تو تحریک انصاف کو ملا تھا لیکن 11 اپریل 2023 کو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے نااہل کردیا تھا، جبکہ اس سے پہلے 4 اپریل 2022 کو سردار قیوم نیازی کو اپنی پارٹی پی ٹی آئی ہی نے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا تھا، چوہدری انورالحق نے 21 اپریل 2023 کو آزاد جموں اور کشمیر کے پندرھویں وزیراعظم کا حلف اٹھا یا تھا، اب اگر پیپلز پارٹی ضمیر کے سودے کرنے میں کامیاب ہو گئی اور کشمیریوں نے اس کام کیلئے خوش آمدید کہا تو چار سال میں چوتھا وزیر اعظم آئے گا، آخر کار آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو قُل کائنات کا مالک حشر میں ضرور پوچھے گا کہ ضمیروں کے سودے کر کے انسانی حقوق کے دعوؤں کے باوجود حلف کی خلاف ورزی کیوں کی؟

    رہنما صدر پیپلز پارٹی آزادکشمیر آج کے دن تک چوہدری یاسین ہیں،موصوف کا حلقہ آزاد کشمیر کا سب سے پسماندہ حلقہ ہے ایک بھی سڑک درست حالت میں نہیں جنگلات پر قبضے اور خود مافیا کا سرغنہ ہے، پیپلز پارٹی آزا د کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کا حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 تھا،الیکشن 2021 میں ایل اے 10 کوٹلی 3 میں دو بڑی سیاسی شخصیات سابق وزیر سردارفاروق سکندر خان مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر اور پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر چودھری محمد یاسین ایک دوسرے کے مد مقابل تھے ۔ یاد رہے سردار فاروق سکندر الیکشن 2016 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر 26 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور وزیر بنے تھے، کوٹلی ضلع کشمیر کا ایک اہم ضلع ہے لیکن یہاں سہولیات عوام کو نہیں دی جاتی ہیں اور سیاحت کو بھی محدود کر دیا گیا ہے، سردار فاروق سکندر سابق وزیر اعظم اور سابق صدر سردار سکندر حیات کے بیٹے ہیں

    آزاد کشمیر میں 23 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور مسلم کانفرنس میں جھگڑے کے بعد احتجاج ہوا تھا جس میں فورسز کا نقصان بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ جس کا ایک نقطہ یہ تھا کہ کابینہ کا حجم 20 وزراء اور مشیران تک محدود ہو گا جبکہ سیکرٹریز کی تعداد بھی بیس سے زائد نہیں ہو گی مگر آج طاقتوروں نے سوچ لیا ہے کہ بیس وزراء اور مشیر تو کیا ہم تختہ ہی الٹ دیتے ہیں لہذا وہ سب کچھ انہوں نے کر دکھایا، اب سوال یہ کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ وہی ہو گا جو آج وفاق اور صوبوں میں ہو رہا ہے، یعنی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، آئین کی خلاف ورزی اور طاقت کا زور۔افتخار نسیم کی ایک غزل کا شعر ہے کہ۔۔
    ہر طرف عام ہے بدنام سیاست کا چلن
    صبر سے کام لو جذبات پہ قابو رکھو
    اور میں کشمیری قوم سے کہوں گا کہ ۔۔
    زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے
    آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ،ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی بساط،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ،ایشیا میں طاقت کے توازن کی نئی بساط،تجزیہ :شہزاد قریشی

    امریکہ اور بھارت کا دفاعی معاہدہ اس معاہدے کا مقصد بھارت کو چین کے خلاف ایک علاقائی توازن قوت کے طو رپر مستحکم کرنا ہے۔ واشنگٹن کے لئے بھارت ایک ڈیمو کریٹک پارٹنر اور ایشیا میں ایک انسدار چین محور کا حصہ ہے ۔ چونکہ پاکستان چین اسٹریٹیجک اتحادی ہے(سی پی ای سی ) اور دفاعی تعاون کی بنیاد پر لہذا پر لہذا یہ معاہدہ پاکستان کو بالواسطہ طور پر ہدف بناتا ہے۔ پاکستان کو چین کے ساتھ دفاعی اور تیکنیکی شراکت کو تیز کرنا ہوگا پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانا مشکل ہوگا امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے اور چین سے قربت برقرار رکھنا ایک نازک توازن بن جائے گا ۔ ایسے دفاعی معاہدے اکثر اندرونی سیاست میں ایک جذباتی قوم پرستانہ ردعمل پیدا کرتے ہیں اپوزیشن اور میڈیا اسے خطرے کی گھنٹی کے طور پر پیش کریں گے کہ بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی حکومت کو تازہ ترین حالات کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اپوزیشن جماعتیں اور مذہبی جماعتیں امریکہ بھارت دفاعی معاہدے کو لے کر ناکام خارجہ پالیسی کے طور پر استعمال کریں گی ۔ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کرنے کے لئے سفارتی مہم شروع کرنی پڑ سکتی ہے ۔ پاکستان کو اب احساس خطرہ کی بجائے احساس توازن سے کام لینا ہوگا۔ یہ وقت ردعمل دینے کا نہیں بلکہ ایک واضح دیر پا دفاعی اور سفارتی پالیسی اپنانے کا ہے ۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور پاکستان کو اپنے فیصلے جذبات سے نہیں حکمت اور حقیقت کی بنیاد پر کرنے ہوں گے ۔ یہ معاہدہ صرف اس لئے نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کا ہے ۔ سی پیک اور امریکی تعلقات کا توازن یہی پاکستان کا اصل امتحان ہے ۔ بین الاقوامی اتحاد نئی شکلیں لے رہے ہیں یہ معاہدہ ہمارے لئے خطرہ نہیں دانشمندی سے سفارتی راستہ اپنانا ہوگا۔ سوال یہ نہیں امریکہ بھارت کا معاہدہ کیا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ پاکستان اب اس نئے عالمی منظرنامے میں اپنا مقام کہاں بناتا ہے ؟ ملکی سیاسی و مذہبی جماعتیں اقتدار کی جنگ سے باہرنکل کر وطن عزیز کے مسائل پر توجہ دیں ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔