Baaghi TV

Category: سیاست

  • قومی شناخت  پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    قومی شناخت پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    19 مئی 2013 کو شہباز شریف صاحب کے دیے گئے بیان پر نظر ڈالیں جب مسلم لیگ ن اپوزیشن میں ہوا کرتی تھی۔
    ” V will unveil a plan to steer national institutions ( PIA , Pakistan Railways and Pakistan steel Mills etc ) out of crisis soon ”
    آج پاکستان کے موجودہ وزیراعظم کی حیثیت سے پی آئی اے فروخت کرنے کے بعد کا بیان: "قوم سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا قوم کو مبارکباد ہو” واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ نہ صرف قوم کے ساتھ وعدہ خلافی ہے بلکہ دھوکہ دہی ہے۔ پی آئی اےسمیت ریلوے اور اسٹیل ملزکو بحران سے نکالنے کا دعوی کرنے والے شہباز شریف صاحب نے آج پی آئی اے کے 30 جہاز 64 بین الاقوامی روٹس 8 بلڈنگز 10 ارب کے سپیئر پارٹس 20 ارب کا فنڈ محض 10 ارب روپے میں پیج ڈالے ۔

    135 ارب کا شور کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو صرف 10 ارب موصول ہوئے 125 ارب خریدنے والی کمپنی کے مرضی ہے کہ وہ پی آئی اے کی بحالی پر اسے استعمال کریں یا نہ کریں اور بات یہیں پر ختم نہیں ہے بلکہ پونے 700 ارب روپے کا قرضہ بھی حکومت ادا کرے گی جو کہ عوام کی رگوں سے خون نچوڑ کر ادا کیا جائے گا ،پی آئی اے بیچ کر قوم کو مبارک ہو! مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ قومی شناخت بیچنے پر کون سی مبارکباد بنتی ہے؟
    جس ادارے نے کبھی دنیا میں پاکستان کا نام روشَن کیا، آج اسے یوں بیچ دیا گیا جیسے کوئی بھٹکا ہوا شخص اپنی باپ دادا کی نشانی کو چند ٹکوں کے لیے گروی رکھ دے۔

    یہ وہی پاکستان ہے جسے بنانے میں لاکھوں لوگوں نے جانیں دی تھیں… مگر چلانے والوں نے اسے بازار کی دکان بنا دیا۔ کبھی اسٹیل مل بکتی ہے، کبھی ایئرپورٹ، اب قومی ایئرلائن بھی۔ کل کو شاید ہم بھی بیچ دیے جائیں ۔کیونکہ جو قوم اپنی پہچان بیچنے پر خاموش رہتی ہے، اس کے شہریوں کی کوئی قیمت نہیں بچتی۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ سودا صرف پی آئی اے کا نہیں، قوم کے اعتماد، ٹیکس، خون پسینے اور مستقبل کا سودا ہے۔ جب عوام بھوکی ہو، مہنگائی گلے تک پہنچ جائے، ٹیکس جیب کا آخری سکہ بھی نگل جائے اور حکمران جشن منائیں تو یہ خوشخبری نہیں، قوم سے دشمنی ہے۔

    آپ بتائیں: پی آئی اے کی فروخت قوم کی جیت ہے یا حکمرانوں کی بے ایمانی؟
    اپنی شناخت اپنی پہچان کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ خاموشی بھی ایک جرم ہے۔

  • عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی حکمرانی اور عوامی توقعات پنجاب اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکمرانی کے دعوے اب محض تقاریر سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی کے متقاضی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے جس طرزِ حکمرانی کا آغاز کیا ہے، اس کے خدوخال واضح ہیں اور ترجیحات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کتنا کیا جا رہا ہے اور کتنا مستقل ہوگا۔ امن و امان کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت شہری تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے، تاہم اس نظام کی شفافیت اور پرائیویسی کے تقاضوں کو نظرانداز کرنا مستقبل میں نئے سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ نگرانی کے ساتھ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط کرے۔ صحت کے شعبے میں مفت ادویات، جدید تشخیصی سہولیات اور بنیادی صحت مراکز کی بحالی خوش آئند اقدامات ہیں، مگر سرکاری اسپتالوں میں انتظامی کمزوریاں اور عملے کی قلت تاحال ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگر اصلاحات کا دائرہ محض انفراسٹرکچر تک محدود رہا اور انسانی وسائل کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی توقعات کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکولوں کی بہتری اور ڈیجیٹل سہولیات مستقبل کی طرف ایک درست قدم ہیں۔ تاہم معیارِ تعلیم صرف عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے بہتر نہیں ہوتا، اس کے لیے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور یکساں تعلیمی پالیسی ناگزیر ہے۔ بچیوں کی تعلیم پر زور قابلِ تحسین ہے، مگر اس کے نتائج تب ہی سامنے آئیں گے جب یہ پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہے۔

    نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار سے متعلق پروگرام ایک ضرورت تھے، جنہیں تاخیر سے ہی سہی، تسلیم کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبے وقتی اشتہارات تک محدود رہیں گے یا واقعی نوجوانوں کو باعزت روزگار کی طرف لے جائیں گے؟ اس کا فیصلہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق ہی کریں گے۔ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں اور سماجی تحفظ کے منصوبوں نے عوامی سطح پر امید ضرور پیدا کی ہے، مگر پاکستان جیسے معاشرے میں اصل امتحان طاقتور طبقات کے خلاف بلاامتیاز عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر قانون کمزور اور طاقتور کے لیے مختلف رہا تو اصلاحات محض فائلوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گی۔ مریم نواز حکومت نے درست سمت کا تعین کیا ہے، مگر یہ سمت نتائج سے مشروط ہے۔ عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں۔ پنجاب کو ایک جدید، محفوظ اور فلاحی صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گورننس کو شخصیت نہیں بلکہ ادارے کے گرد منظم کیا جائے۔ اگر حکومت اس اصول پر کاربند رہی تو 2025 محض ایک عددی سال نہیں بلکہ پنجاب کی حکمرانی میں ایک حقیقی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے

  • ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ترقی کا راستہ مشکل ضرور ، مگر ناممکن نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نیا سال مناتے ہوئے آگے کی سمت دیکھ رہی ہے اور ہم اب بھی ماضی کے ملبے میں کھڑے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے نئے سال کو ہمیشہ ایک نئے ہدف، نئی رفتار اور واضح ترجیحات کے ساتھ خوش آمدید کہا، جبکہ پاکستان ہر سال یہی سوال دہراتا ہے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں جواب معلوم ہے، مگر ماننے کی ہمت نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد قانون کی بالادستی پر کھڑی ہے، انصاف سالوں نہیں، مہینوں میں ملتا ہے، ہمارے یہاں صدیوں انصاف کی تلاش میں لوگ مارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔ علم وہ ہتھیار ہے جس سے قومیں دنیا فتح کرتی ہیں، مگر ہم نے تعلیم کو محض تقریروں اور اشتہارات تک محدود کر دیا ہے۔ جن قوموں نے لیبارٹریوں کو عبادت گاہ اور جامعات کو معیشت کا انجن بنایا، وہ آج دنیا کی سمت متعین کر رہی ہیں۔ ہم اب بھی اس بحث میں الجھے ہیں کہ نصاب کس کا ہو، جبکہ دنیا نصاب سے آگے نکل چکی ہے۔ معاشی میدان میں ہماری سوچ اب بھی ادھار، امداد اور وقتی سہارا کے گرد گھومتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک مصنوعات بیچتے ہیں، ٹیکنالوجی بیچتے ہیں، علم بیچتے ہیں اور ہم فخر سے قرض کے نئے پیکج کا اعلان کرتے ہیں۔ جب تک ہم پیدا نہیں کریں گے، بیچ نہیں سکیں گے، اور خود کو خود نہیں سنبھالیں گے، ترقی ایک نعرہ ہی رہے گی۔

    سب سے خطرناک زہر انتشار کی سیاست ہے۔ سیاست اگر قومی سمت طے کرنے کے بجائے ریاست سے ٹکراؤ بن جائے تو اس کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ ترقی وہاں ہوتی ہے جہاں حکومتیں بدلتی ہیں مگر پالیسیاں نہیں، جہاں اختلاف میز پر ہوتا ہے، سڑکوں پر نہیں۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا دیا اور دشمنی کو سیاست۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور عمل یہ وہ اقدار ہیں جن پر قومیں کھڑی ہوتی ہیں۔ ہم تقریریں بروقت کر لیتے ہیں، مگر فیصلے بروقت نہیں کرتے۔ منصوبے شاندار ہوتے ہیں، مگر عمل غائب ہوتا ہے۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں اور وقت ہاتھ سے نکلتا رہتا ہے۔ اب فیصلہ واضح ہے۔ یا تو پاکستان نئے سال میں خود کو بدلے گا، یا دنیا اسے مزید پیچھے چھوڑ دے گی۔ ترقی کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف ایک ہے خود فریبی چھوڑ دی جائے قانون، علم، عمل، نظم، برداشت اور قومی مقصد،یہ سب ایک ساتھ چلیں گے تو بات بنے گی، ورنہ ہر نیا سال پچھلے سال سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ وقت سوال پوچھنے کا نہیں، جواب ماننے کا ہے۔ اور سب سے پہلا جواب ہمیں خود دینا ہوگا۔

  • نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    نمود و نمائش کی شکست پنجاب میں گڈ گورننس کا نیا باب،تحریر:قمرشہزاد مغل

    وہ جو مردوں کے بھی بس کا کام نہ تھا
    وہ معجزہ ایک بیٹی نے کر دکھایا ہے

    پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو کام دہائیوں کی حکمرانی میں نہ ہو سکے وہ ایک بیٹی نے بطور پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محض قلیل وقت میں کر دکھائے۔ مریم نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ حکمرانی کے لیے صرف اختیار نہیں، بلکہ عوامی دکھوں کو محسوس کرنے والا حساس دل اور فولادی عزم درکار ہوتا ہے۔ پاکستان کی معاشرتی تاریخ میں کچھ فیصلے محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک پورے عہد کی اصلاح کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی حکمران عوام کے دلوں میں گھر کرتے ہیں جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہوں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش قانون کا غیر متزلزل نفاذ محض ایک انتظامی حکم نامہ نہیں، بلکہ ایک عہد ساز اصلاح ہے جس نے پنجاب میں نمود و نمائش کے فرسودہ بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ قدم گڈ گورننس کی ایک ایسی روشن مثال ہے جس نے عام آدمی کو اسراف اور نمود و نمائش کی اَن دیکھی زنجیروں سے آزاد کیا ہے جسے برسوں یاد رکھا جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں شادیوں کی متعدد تقاریب کے مشاہدات ہوئے جہاں پہلے دسترخوانوں پر اسراف کی دوڑ اور دکھاوے کا مقابلہ نظر آتا تھا، وہاں اب ایک خوشگوار نظم و ضبط اور سادگی کا راج ہے۔ میزبانوں کے چہروں پر وہ مالی بوجھ اور ذہنی دباؤ مفقود تھا جو عام طور پر لوگ کیا کہیں گے کے خوف سے پیدا ہوتا ہے۔ مریم نواز کی حکومت نے اس قانون پر سختی سے عمل کرا کے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں ریاست کی نیت صاف ہو، وہاں معاشرتی تبدیلی محض خواب نہیں رہتی بلکہ حقیقت بن کر ابھرتی ہے۔

    یہ پنجاب حکومت کا تاریخی احسن اقدام ہے کہ اس نے عام آدمی کو اس معاشرتی کینسر سے نجات دلائی جس میں خوشی کے لمحات قرض اور پچھتاووں میں بدل جاتے تھے۔ قانون کی اس کامیابی نے عوام میں یہ اعتماد بحال کیا ہے کہ مریم نواز کی قیادت میں ریاست اب کمزور اور متوسط طبقے کی ڈھال بن کر کھڑی ہے۔ مگر اس تابناک تصویر کا ایک پہلو تشویشناک بھی ہے۔ پنجاب میں قانون کی گرفت مضبوط ہوئی تو صاحبِ ثروت طبقے نے اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے پوش فارم ہاؤسز کو پناہ گاہ بنا لیا۔ پنجاب کی حدود سے نکلتے ہی سادگی کا وہ سفر تعطل کا شکار ہو جاتا ہے، جو کہ وفاقی انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت مریم نواز کے اس پنجاب ماڈل کو اپنائے اور اسلام آباد میں بھی اسی آہنی عزم کے ساتھ ون ڈش نافذ کرے۔ وقت کی پکار ہے کہ جوابدہی کے اس دائرے کو مزید وسیع اور کڑا کیا جائے۔ قانون کی خلاف ورزی پر صرف ہال مالکان ہی نہیں، بلکہ اس علاقے کی انتظامیہ اور فیلڈ اسٹاف کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ جب تک سہولت کاری کرنے والے سرکاری کارندوں کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جائے گا، تب تک قانون سے فرار کے راستے مکمل بند نہیں ہوں گے۔ ماضی کے حکمرانوں کے پاس وسائل بھی تھے اور وقت بھی، مگر جس ویژن اور سرعت کے ساتھ مریم نواز نے پنجاب کی انتظامی مشینری کو متحرک کیا، اس کی نظیر پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ون ڈش قانون کا بلا امتیاز نفاذ ہو یا عام آدمی کی دہلیز تک ریلیف کی فراہمی، انہوں نے ہر شعبے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ایک خاتون کا وزیر اعلیٰ بننا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ وہ مریم نواز ہی ہیں جنہوں نے روایت شکنی کرتے ہوئے دکھاوے کی سیاست کو دفن کیا اور گڈ گورننس کو ایک ایسا معیار بخشا جس تک پہنچنا اب آنے والے ہر حکمران کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

    بلاشبہ، وہ کام جو مردوں کے بڑے بڑے برج نہ کر سکے، وہ اس باہمت خاتون نے قلیل وقت میں کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ مریم نواز کا یہ سماجی وژن دراصل نئی نسل کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے اور شادی جیسے پاکیزہ بندھن کو آسان بنانے کی ایک مخلصانہ جدوجہد ہے۔ پنجاب نے ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے، اب گیند وفاق کے اسکورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح اس گڈ گورننس کو پورے ملک کا مقدر بناتا ہے۔ بلاشبہ، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس پر پنجاب حکومت اور مریم نواز کی ٹیم ہر سطح پر تحسین کی مستحق ہے۔

    شعر
    مٹ جائے گی اک روز یہ دیوارِ تکبر
    سادگی ہی بنے گی پھر شعارِ زندگی

  • سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    تاریخ کچھ ناموں کو صرف صفحات پر نہیں لکھتی،وہ انہیں قوم کے شعور میں نقش کر دیتی ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر انہی ناموں میں سے ایک ہیں،وہ نام جو خاموشی میں گونجتا ہے،اور وقار میں بولتا ہے،وہ سپہ سالار جن کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں،بلکہ ذمہ داری کا نور جھلکتا ہے۔جن کی نگاہ میں وقتی شہرت نہیں،بلکہ صدیوں پر محیط ریاستی بقا کا خواب ہے۔ جنرل سید عاصم منیر ،ایک ایسا نام جو خاموشی، ضبط اور ریاستی ذمہ داری کے بھاری مفہوم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں وردی صرف طاقت کی علامت نہیں رہی، بلکہ قانون، آئین اور قومی وقار کی پاسدار بن کر ابھری ہے،معرکۂ حق ان کے عہد میں ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے،حق کے بیانیے کا دفاع، ریاست کی رِٹ کی بحالی، اور اس اصول کا اعادہ کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہ معرکہ بندوق کی گھن گرج سے زیادہ عزم کی خاموش گونج میں سنائی دیتا ہے۔

    بھارت کے ساتھ معاملات میں، جذباتیت کے بجائے وقار اور مضبوط مؤقف ان کی شناخت رہا۔ اشتعال کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ دلیل، تیاری اور دفاعی صلاحیت کے واضح پیغام نے یہ باور کرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر کمزور نہیں۔ یہی وہ “منہ توڑ جواب” ہے جو زبان سے نہیں، ریاستی سنجیدگی سے دیا جاتا ہے۔بھارت نےپہلگام ڈرامے کے بعد آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا تو پاکستان نے معرکہ حق میں وہ جواب دیا کہ بھارت ابھی تک عالمی دنیا میں رسوا ہو رہا ہے،اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی کامیابیوں کی گونج ،فتح کے نغمے امریکی صدر ٹرمپ بھی ایک دو نہیں کئی بار گا چکے ہیں،جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ سبق دیا کہاصل جواب نعرے نہیں ہوتے،اصل جواب تیاری، تدبر اور ناقابلِ تسخیر دفاع ہوتا ہے۔دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرامن کی بات کرناصرف طاقتور ہی جانتا ہے،اور یہ ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حکمتِ عملی فولاد کی مانند مضبوط اور نیت آئین کی طرح شفاف رہی،یہی وجہ ہے کہ خاک و خون میں لتھڑی سرزمین دوبارہ امن کی خوشبو سے مہکنے لگی۔یہ کامیابیاں خاموش ہیں،مگر ان کی گونج ہر محفوظ گھر میں سنائی دیتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل،چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کا کردار تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی کا مظہر ہے۔ انٹیلی جنس کی بہتری، سرحدی نظم و نسق، اور ریاستی اداروں کے باہمی ربط نے اس ناسور کے خلاف نمایاں کامیابیاں ممکن بنائیں۔عالمی سطح پر، پاکستان کی آواز ان کے عہد میں متوازن اور باوقار انداز میں سنی گئی۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور عسکری و سفارتی حلقوں سے ملاقاتوں میں پاکستان کے مؤقف کو نہ صرف سنا گیا بلکہ سمجھا بھی گیا چاہے وہ علاقائی سلامتی ہو، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون ہو یا عالمی استحکام کی گفتگو،امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ،تمام کامیابیوں کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے

    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کا خلاصہ ایک جملے میں کیا جا سکتا ہے،طاقت میں تحمل، مؤقف میں وضاحت، اور عمل میں آئینی شعور،یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی سپہ سالار کو تاریخ میں جگہ دلاتے ہیں اور قوم کو اعتماد عطا کرتے ہیں۔جنرل سید عاصم منیر صرف ایک فوجی سربراہ نہیں وہ ایک نظریہ ہیں،ریاست ماں ہوتی ہے،
    اور ماں کی حفاظت عبادت،ان کی قیادت میں وردی خوف کی علامت نہیں،تحفظ کی علامت بنی،طاقت دھمکی نہیں،تحمل بن گئی اور یہی وجہ ہے کہ جب تاریخ پاکستان کے مشکل ادوار کو لکھے گی تو ایک باب خاموش وقار،
    ناقابلِ شکست عزم اور جنرل سید عاصم منیر کے نام ہوگا۔جنرل سید عاصم منیر وہ سپہ سالارجو نہ نعرہ بیچتا ہے،نہ شہرت مانگتا ہے،بس ریاست کا بوجھاپنے کندھوں پر اٹھا کرخاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اور قوم ان کے پیچھے
    سر اٹھا کر کھڑی ہے۔کیونکہ جب وردی میں ایسا عزم ہو،تو پرچم خود بخود بلند ہو جاتا ہے۔

  • مریم نواز کا مُکا اور عمران خان کا زہر،تحریر : علی ابن ِسلامت

    مریم نواز کا مُکا اور عمران خان کا زہر،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ظاہر ہے کہ زبان کی کوئی ہڈی نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔یہ کہاوت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری زبان ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اسے غلط استعمال کرکے ہم کسی کو بہت تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔سیاست میں اس وقت تکلیف نہیں بلکہ مخالفین سیاسی قتل کی سازشوں میں مصروف ہیں، آج 26 دسمبر 2025 ہے جب سہیل آفریدی کی لاہور آمد اور دن ہے ، ایک جانب تحریک انصاف کی سٹریٹ موومنٹ کی تیاری تو دوسری جانب مذاکرات کی خواہش اپنی قیادت کو بھی پریشان کیے ہوئے ہیں۔۔ اطلاعات کے مطابق رات کو لاہور سے پولیس نے پی ٹی آئی کے 600 سے زائد سرگرم کارکنان کو حراست میں لیا ،پولیس نے سٹی کینٹ صدر اور ماڈل ٹاون ڈویژن سے متعدد افراد کو حراست میں لیا، وجہ یہ کہ تحریک انصاف کی ریلی تھی، ۔ آخر سہیل آفریدی کے پنجاب یا لاہور آنے پر پابندی کیوں ، رکاوٹیں کیوں ہیں؟ مستقبل میں یہ معاملہ بہت آگے تک جائے گا۔

    مریم نواز نے 2019 میں ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک یہ اعتراف کر رہے تھے کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا مگر دباؤ میں فیصلہ سنایا گیا، اس ویڈیو کو جاری کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ نواز شریف کا کیس سیاسی بنیادوں پر تھا، حالانکہ اس کی صداقت پر بہت سوال اٹھائے گئے تھے اور جج نے بعد میں اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا، تب مریم نواز نے سب سے بڑی اور اہم پریس کانفرنس کر کے مکا لہرا کر دعوہ کیا تھا کہ اور بھی بہت ساری وڈیوز موجود ہیں اگر کسی نے ہوشیاری کی کوشش کی تو بہت ساری چیزیں سامنے لاؤں گی، اسی طرح مریم نواز پر نیب دفتر پر حملے کا الزام بھی تھا۔نواز شریف پر گوجرانوالہ جلسہ میں آرمی کے خلاف تنقید کا تذکرہ بھی قابل ذکر ہے۔

    یہ سب چیزیں شاید ملکی سیاست یا کسی بھی پارٹی کے سیاسی سٹرکچر کیلئے فائدہ مند نہیں تھیں، پھر ایک معاملہ عسکری اداروں پر سیاسی الزامات کا بھی تھا، ملک میں تین سیاسی جماعتیں سب سے زیادہ وقت مختلف ادوار میں مختلف صوبوں میں رہی، سب ہی ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آئے اور انہی کو بدنام کیا، کبھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو کبھی انصاف کی دعویدار سیاسی جماعت نے ٹویٹر ٹرینڈز چلائے، معاملہ کہیں کا بھی سیاسی لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ دیا، پہلے آرمی کو اپنی ذاتی مفاد کیلئے سیاست میں شامل کیا، سب سیاسی جماعتوں نے مداخلت کی اجازت دی پھر ملکی مفاد تک جانا پڑا تو سیاسی لوگ ذاتی دشمنی میں اداروں کو روندتے چلے گئے۔

    مریم نواز نے اداروں کو دھمکیاں دیں کہ مجھے انصاف چاہیے، پھر انہی نے حکومت میں آ کر قانون میں بھی تبدیلیاں کیں،شہباز شریف کی پہلی حکومت ، پی ڈی ایم دور میں چھبیسویں آئینی ترمیم تو پھر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم، کیا ہوا کیسے ہوا ؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں، عمران خان جنرل باجوہ کی وہ تعریفیں کی کہ لگنے لگا تھا کہ جنرل باجوہ ہی دنیا میں عقل ودانش کے مالک ہیں، پھر وہ وقت بھی آیا کہ جنرل باجوہ جو عمران خان کی نظر میں سب سے بڑا محب وطن تھا کپتان نے اس کو میر جعفر اور میر صادق کی صفوں میں کھڑا کر دیا، آخر وہ زہر جو سوشل میڈیا کے ذریعے سے جینزی یا سوشل میڈیا تک پہنچا وہ ہر طالب علم اور عمران خان کے شیدائی کے ذہن میں زہر بن کر پھیل چکا ہے۔اگر عمران خان کہے کہ مجھے باجوہ کا آئیڈیا نہیں تھا تو نوجوان نسل جو آج باشعور بنی ہوئی ہیں ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ عمران خان جب اقتدار میں آیا تو 26 سال سیاسی تجربہ کا دعوی کرتا تھا، اہم سوال یہ ہے کہ اگر آج نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ اداروں کی مداخلت ہے تو عمران خان جو سیاست میں رِہ چکا تھا، مشرف کے خلاف تحریک چلا چکا تھا، جیل جا چکا تھا، اس کو علم کیوں نہیں تھا، اگر اسکو 26 سال میں پتہ نہیں چلا تھا تو پھر خود جس میں شعور کی کمی تھی وہ کیا شعور دے سکتا تھا، عمران خان کا ساتھ دینے والے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی اصلیت کا ہمیں علم نہیں تھا تو پھر وہ کتنے باخبر ہو سکتے ہیں؟

    آج پی ٹی آئی ورکر کو لیگی کارکن قبول نہیں، پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی اور لیگی قیادت ذاتی محفلوں میں بہترین تعلقات رکھتے ہیں وہ زندگی کو لطف اندوز بناتے ہیں مگر عوام کو بیوہ قوف بنایا جاتا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ عمران خان نے جو زہر مقتدر حلقوں کے خلاف عوام تک پہنچایا وہ ایسے سرایت کر چکا ہے کہ اب اس کو توڑ نظر نہیں ا ٓ رہا، ظاہر ہے کہ اس کو خود آج پی ٹی آئی اور عمران خان بھی افورڈ نہیں کر سکتے ، سیاست میں تشدد ا ٓ چکا ہے، وہ زہر جو سب سیاستدانوں نے تقسیم کیا آج اس زہر کا اثر تمام کی جان لے چکا ہے، نظام کو بوسیدہ کرتے کرتے نظام دین نے سب سیاسی جماعتوں کی جمہوری سوچ کا خاتمہ کر دیا ہے، اپنی سیاست کے لیے ملکی معیشت کو تباہ کیا، عمران خان نے وہ وہ زبان استعمال کی کہ آج زبان بندی ہو چکی ہے،عمران خان جانتے تھے کہ کبھی کبھی، سخت الفاظ کسی جسمانی چوٹ سے زیادہ تکلیف پہنچا سکتے ہیں، لیکن مزاہمت سے ہیرو بننے سے قاصر رہے، جھوٹ کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا، کبھی امریکی سازش تو کبھی سائفر کا لہرانا، کبھی جنرل باجوہ پر ایکسٹینشن کا الزام تو کبھی امریکی غلامی نا منظور کا دعوی، قطع نظر کہ باجوہ ایکسٹینشن چاہتا ہو گا، لیکن غلامی خود بھی کرتے رہے ، امریکہ سے امیدیں لگائیں، ٹرینڈز چلائے گئے، اس جھوٹی سیاست نے ملک پر گہڑا اثر ڈالا، ن لیگ میں بھی ذاتی انا اچھے سیاستدان کھا گئی، لہذا جھوٹ بولنے سے ہم نہ صرف دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ ہماری زبان ایک قیمتی تحفہ ہے اور اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ جو زہر عمران خان نے پھیلایا تھا آج اس کی زد میں خود بھی آ چکے ہیں، جو مزاہمت کو سیاست کا اصل چہرہ سمجھ بیٹھے ہیں وہ ملک کو پیچھے لے جا چکے ہیں لیکن آج بھی یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی، سب سیاسی جماعتیں اگر اپنے گریبان میں نظر جھکائیں تو شاید سیاست سے تشدد کا خاتمہ ممکن ہو جائے ، جو زہر پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور چند ڈالر خور یوٹیوبرز نے دوسروں کی جان لینے کیلئے پھیلایا تھا آج وہ ان کو سانسیں بھی بند کر چکا ہے، کہتے ہیں کہ پاپولیرٹی انسان کو پاگل کر دیتی ہے ، کون پاپولیرٹی کے چکر میں پاگل ہوا یہ سب جانتے ہیں۔اب سیاسی ورکرز جان لیں کہ ماضی میں نہ عمران خان کا پھیلایا ہوا زہر کام آیا اور نہ مریم نواز کا لہرایا ہوا مُکا کام آیا۔لہذا ملک میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کو دیکھتے ہوئے مذاہمت نہیں بلکہ مفاہمت کو اپنا شعار بنا لینا چاہیے کیونکہ اب سب لالچی سیاست دان جمہوری روایات، عقل و فہم، فکری سوچ، اخلاقیات، اور نوجوانوں کا مستقبل کھا گئے ہیں ۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان انتہائی اہم،تجزیہ:شہزادقریشی

    متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان انتہائی اہم،تجزیہ:شہزادقریشی

    متحدہ عرب امارات کے صدر کا پاکستان کا دورہ محض رسمی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کا حامل ہوگا، اور اس کے اثرات قلیل المدت کے ساتھ ساتھ طویل المدت بھی نظر آ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات جذبات، تاریخ اور مفادات تینوں کی بنیاد پر استوار ہیں۔ خلیج میں مقیم لاکھوں پاکستانی، ترسیلاتِ زر، دفاعی تعاون اور سرمایہ کاری یہ سب اس رشتے کو غیر معمولی وزن دیتے ہیں۔ امکان یہی ہے کہ اس دورے میں سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر، بندرگاہوں اور زراعت جیسے شعبے زیرِ بحث آئیں گے۔ پاکستان اس وقت معاشی استحکام کی جس جدوجہد سے گزر رہا ہے، اس میں یو اے ای کی براہِ راست سرمایہ کاری اور مالی تعاون نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی اعتماد کی بحالی یہ دورہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا نہیں۔ یو اے ای جیسے مضبوط اور مستحکم ملک کا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا خطے میں پاکستان کے سیاسی وزن کو تقویت دے گا۔

    علاقائی اور عالمی تناظر مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، توانائی کی سیاست اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں ان سب میں پاکستان اور یو اے ای کا قریبی مشاورت میں آنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ دفاعی و سلامتی تعاون اگرچہ یہ پہلو زیادہ نمایاں نہیں کیا جاتا، مگر پسِ پردہ دفاعی تعاون، تربیت اور سلامتی کے امور بھی اس دورے کے ایجنڈے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اگر اس دورے کو محض بیانات اور تصویروں تک محدود نہ رکھا گیا، بلکہ ٹھوس معاہدات اور عملی پیش رفت سامنے آئی، تو یہ پاکستان کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل کامیابی کا پیمانہ یہی ہوگا کہ دورے کے بعد عوام کو معاشی بہتری اور ریاست کو سفارتی مضبوطی کی صورت میں کیا حاصل ہوتا ہے۔یہ دورہ امکانات سے بھرپور ہے اب یہ پاکستانی پالیسی سازوں کی سنجیدگی اور عملدرآمد پر منحصر ہے کہ ان امکانات کو حقیقت میں کیسے بدلا جاتا ہے۔

  • ریاست کی بقا کی اصل قیمت، پاک فوج کی قربانیاں اور شہداء کا قرض،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ریاست کی بقا کی اصل قیمت، پاک فوج کی قربانیاں اور شہداء کا قرض،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں آئین بننے اور ٹوٹنے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود ریاست، عوام نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کبھی آئین معطل ہوا، کبھی توڑا گیا اور کبھی آئین کو محض ایک تقریری کتاب بنا کر الماریوں میں بند کر دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ آئین کتنی بار بنا اصل سوال یہ ہے کہ آئین پر کب اور کس نے عمل کیا؟ جمہوریت کے نام پر جلسے ہوئے نعروں کی گونج رہی مگر جمہوریت کے ثمرات کبھی گلی، محلے، کھیت اور کارخانے تک نہ پہنچ سکے۔ ووٹ مانگا گیا، اقتدار ملا مگر عام آدمی کے مسائل ہر دور میں پس منظر میں دھکیل دئیے گے۔ ریاست ہو گی ماں جیسے نعرے لگائے گے۔ قانون کی حکمرانی محض تقاریر اور قراردادوں تک محدود رہی، قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ثابت ہوا۔ توانائی کے بحران دہائیوں تک قومی و مباحث کا حصہ رہے مگر بجلی اور گیس کے بحران کا مستقل حل کسی حکومت کی ترجیح نہ بن سکا، وقتی اقدامات سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور الزام تراشی کے سوا عوام کو کچھ نہ ملا، ہر آنے والا حکمران ماضی کو کوستا رہا، اور مستقبل کو وعدوں کے رحم و کرم پر چھوڑتا رہا۔ سچ یہ ہے کہ وطن عزیز میں اقتدار کی سیاست زیادہ تر عوامی خدمت نہیں بلکہ ذاتی و گروہی مفادات کی جنگ رہی ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی کو نعرہ ضرور بنایا گیا مگر اسے قومی عہد کبھی بھی بنایا نہ جا سکا عام آدمی آج بھی اسی سوال کیساتھ کھڑا ہے کیا یہ خوبصورت وسائل سے مالا مال ملک کبھی اسکے لیے بھی بنے گا؟ قصہ مختصر آئین، جمہوریت، قانون یہ سب الفاظ پاکستان میں بہت استعمال ہوئے مگر کم برتے گے۔ پاکستان میں آئین محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد تھا مگر افسوس کہ یہ عہد ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہا۔

    جمہوریت کے نعرے یہاں سب سے زیادہ لگے مگر جمہوریت سب سے زیادہ مظلوم رہی پارلیمان کے تقدس کے قصیدے پڑھے گے مگر عام آدمی کو کچھ نہ ملا۔ جمہوریت اگر عوام کی فلاح کا نام ہے تو پھر یہ کیسی جمہوریت ہے جس کے ثمرات صرف ایوانوں تک محدود رہے؟ قانون کی حکمرانی کے نعرے لگاتے رہے مگر قانون کمزور کے لیے زنجیر اور صاحب اقتدار کے لیے سہارا بن گیا۔ توانائی بحران دہائیوں تک قومی المیہ بنا رہا مگر کسی حکومت نے اسے قومی، ہنگامی حالت سمجھنے کی زحمت نہ کی، بجلی اور گیس کے بحران کو وقتی نعروں سبسٹڈیوں اور بیانات سے ٹالا جاتا رہا یہ بحران نہیں طرزِ حکمرانی کی نااہلی کا مسلسل ثبوت تھا۔ سیاست خدمت نہیں اقتدار کی کشمکش رہی ملک کی تعمیر و ترقی کو قومی فریضہ نہیں بلکہ انتخابی نعرہ بنا دیا گیا۔ ناکامیوں، آئینی انحرافات اور سیاسی مفادات کی جنگ کے تمام تر حقائق کے باوجود ایک سچ ایسا ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

    پاکستان اگر آج بطور ریاست قائم ہے اگر اسکے شہر، گاؤں اور سرحدیں دشمن کی یلغار سے محفوظ ہیں تو اسکے پیچھے وہ خون ہے جو پاک فوج کے جوانوں نے اس مٹی کے لیے بہایا یہ کوئی جذباتی دعوی نہیں یہ زمینی حقیقت ہے۔ ملک کے ہر حصے میں، ہر ضلعے، ہر قصبے کے قبرستان گواہ ہیں کہ اس دھرتی کی حفاظت صرف بیانات سے نہیں لاشوں، قبروں اور پرچم میں لپٹی میتیوں سے ہوئی ہے۔ جوانوں نے نہ حکومت دیکھی، نہ اقتدار، نہ مفاد انھوں نے صرف وردی دیکھی حلف دیکھا اور وطن کی مٹی کو اپنی جان سے زیادہ عزیز جانا، انکی قربانیوں کی بدولت آج سیاست دان سیاست کر رہے ہیں۔ ادارے تنقید برداشت کر رہے ہیں اور عوام بھی سوال اٹھانے کے قابل ہے۔ آج ہم اگر قلم اٹھا سکتے ہیں، اختلاف کر سکتے ہیں، سوال پوچھ سکتے ہیں تو یہ آزادی ہمیں انہی قبروں سے ملتی ہے جن پر سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے۔ یہ بھی تاریخ کا کڑوا سچ ہے کہ ریاستی غلطیوں کی قیمت اکثر وردی نے ادا کی ہے جب پالیسی ناکام ہوئی تو بندوق تھامنے والا جوان آگے تھا، جب دشمن نے وار کیا تو سینہ تان کر کھڑا ہونے والا سپاہی تھا۔ شہادت اپنی جگہ مگر وطن کی حفاظت کا آخری مورچہ ہمیشہ پاک فوج ہی بنی۔ یہ ملک کسی تقریر سے نہیں، کسی نعرے سے نہیں بلکہ شہداء کے خون سے کھڑا ہے۔ اگر آج پاکستان محفوظ ہے تو یہ کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک دور کا کارنامہ نہیں بلکہ ان ماؤں کی قربانی ہے جہنوں نے بیٹے دئیے، ان بیویوں کی خاموشی ہے جہنوں نے سہاگ قربان کیا۔ اور ان بچوں کی آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے وہ خواب ہیں جو وطن پر نثار ہو گے۔ یہ قرض شاید کبھی ادا نہ ہو سکے مگر یاد رکھنا، ماننا اور سرجھکانا کم از کم ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔

  • پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور کیوں؟تحریر:  تابندہ طارق عکس

    پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور کیوں؟تحریر: تابندہ طارق عکس

    پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور اس لیے ہیں کہ”اس کی اولین وجہ غربت بھی ہے،شعور کی کمی بھی،ہر پاکستانی ہنرمند،لاتعداد صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔”لیکن اس کے باوجود اپنے ملک کی ترقی و بقاء کے لیے کچھ کرنے کی چاہ ہونے کے بجائے، دوسرے ملک رہائش پذیر ہونا اولین ترجیحات میں شامل کر لیتا ہے۔ہر پاکستانی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوراً دوسرے ملک جا کر اپنے ہنر کے جوہر دکھانا چاہتے ہیں۔”مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بھی اعلی تعلیم یافتہ تھے۔لیکن انھوں نے قلم کے ذریعے کروڑوں دل میں روشنی کے دیپ جلائے،آزادی کی شمع،قید سوچوں کے محور کو نئی امنگوں میں ابھارا تھا۔”اپنی شاعری سے مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کر سکتے ہیں۔”تو کیا آج کی نوجوان نسل اپنے ہنر سے اپنے ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے کچھ کرنےکی ہمت کیوں نہیں کرتےہیں۔اپنے ہنر کا استعمال اپنے ملک کی ترقی، کی بجائے دوسرے ملک جانے کو درجی دینا ضروری سمجھتے ہیں۔”اور اس کا الزام بھی ملک کے حکمرانوں کو دیتے ہیں۔”اگر حکمران کچھ نہیں کر رہے،تو مطلب عوام دوسرے ملک بھاگ جائے۔یہ تو کوئی مشکلات کا حل نہیں ہے۔

    ہمارے ملک میں ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان موجود ہیں۔لیکن کہتے ہیں ملک میں بیروزگاری عام ہے۔ملک میں روزگار کے مواقع فراہم نہیں کئے جا رہے۔”اس لیے لاکھوں روپے کا قرض اٹھا کر دوسرے ملک روزگار کی تلاش و معاش کے لیے اپنے پیاروں سے دور جانے کو تو تیار ہو جاتے ہیں۔لیکن وہی لاکھوں روپے پاکستان میں لگانے کو تیار نہیں،حالانکہ وہی پیسے پہاں لگا کر نہ صرف اپنے لیے کاروبار کی صنعت لگا کر اپنے ساتھ ساتھ بہت سے اور بے روزگاروں کو بھی روزگار فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔”پاکستان میں زیادہ تر غریب طبقہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ نہ تو ان کے پاس اچھی تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت ہوتی ہے، اور نہ ہی بنا تعلیم کے انھیں نوکریاں کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔اس لیے وہ پاکستان کو چھوڑ کر دوسرے ملک ہجرت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کئی پاکستانی بیرون ممالک ویزہ لے کر چلے جاتے ہیں اور کئی بیچارے مجبور ہو کر تو غیر قانونی راستے اختیار کر لیتے ہیں۔”جس کی وجہ سے بہت بار کئی پاکستانیوں کو اپنی مال اور جان دونوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔کئی ماؤں کے لخت جگر موت کی لپیٹ میں گہری نیند کی آغوش میں سو جاتے ہیں۔”جن میں سے کچھ کی تو لاشیں بھی روپوش ہو جاتی ہیں،اور کچھ والدین ہی اپنے پیاروں کا آخری دیدار نصیب ہوتاہے۔”جو پاکستانی غیر قانونی طریقے سے خیر و عافیت سے دوسرے ملک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ان میں سے بھی کچھ وہاں کی ایمبیسی کے ہاتھ لگ جانے پر ساری زندگی تاریک قید خانوں میں گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔جو روزگار تلاش و معاش میں تھوڑے بہت کامیاب ہو جاتے ہیں،تو وہ ساری زندگی چھپ چھپ کر اور ڈر ڈر کر کے ہر لمحہ گزارتے رہتے ہیں۔ہر لمحہ پکڑے جانے کی تلوار ان کے سر پر لٹکتی رہتی ہے،اور گھر والے پرسکون ہو جاتے ہیں،کہ ان کے لخت جگر ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے دوسرے ملک پیسے کما رہا ہے،لیکن وہ اس بات سے بالکل بھی واقف نہیں ہوتے ،کہ ان کا لخت جگر وہاں کن مشکلات کا سامنا کر کے،اپنی زندگی داؤ پر لگا کر، ان کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی زندگی کو کن خطرات میں ڈال رہا ہے۔

    "پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے کو آسان سمجھتے ہیں،جبکہ اپنے ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں افسران کی غلامی کرنے س،انھیں فخر محسوس ہوتا ہے۔حالانکہ ہمارے ملک میں جتنی زیادہ قابلیت موجود ہے اتنی قابلیت کسی بھی ملک کے نوجوان نسل میں موجود نہیں ہے۔ہمارے ملک کے ہنر سے دوسرے ممالک کے حکمران اور عوام مستفیض ہو رہے ہیں۔لیکن وہی ہنرمندی،صلاحیت،قابلیت اور ذہانت کا مظاہرہ پاکستانی دوسرے ممالک میں اپنی جیب سے اخراجات کر کے انھیں تو ترقی یافتہ بنانے میں دن رات مشقت کر رہے ہیں۔”اپنا سکون،اپنی آزادی،اپنے پیاروں سے دور رہنا اور کتنی ہی مشکلات اس بیرون ملک کی ہجرت میں وہ برداشت کرنا گوارا کر لیتے ہیں۔پر اپنے ملک میں بہتری کی ایک لوع جلانا انھیں مشکل لگتا ہے۔

    ہمارے حکمران عوام کی معاشی بحران بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اور عوام ان کی ہاں میں ہاں ملانے میں،خامشی سے سب قبول کر رہی ہے۔اگر حکمرانوں کے ناجائز ٹیکس لینے پر عوام یک آواز ہو کر نہ دینے کا احتجاج کر دے تو کوئی حکمران ناجائز طریقے سے عوام کو لوٹنے کی کوشش نہیں کر سکتا ہے۔اور انہی معاشی مسائل نے پاکستانیوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔لیکن یہاں صرف حکمران ہی ذمہ دار نہیں ہیں،بلکہ عوام بھی برابر کی شریک ہے،ہر آنے والے دنوں میں ٹیکسوں کی لاگت میں اضافے ہو رہے ہیں۔لیکن عوام ٹیکس ادا کرنے کو تیار ہیں،آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔جب ملک میں پہلی بار ٹیکس نافذ کیا گیا،اگر تب عوام اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی تو آج یقیناً عوام کے ساتھ اتنی نا انصافی نہ برتی جاتیں،ان ٹیکسوں سے ملک کی بھلائی اور بہتری کے لیے کچھ کرنے کے بجائے، حکمران اپنی تجوریاں بھرنے میں گامزن ہیں۔
    "حالات حاضرہ میں ان حکمرانوں کے خلاف کوئی کارروائی ہو ایسا عوام چاہتی ہی نہیں،بلکہ حکمرانوں کے ہر ناجائز طریقے کار پر مجبور اور زبان جیسی نعمت ہوتے ہوئےبھی،گونگے بن کر ہر اشارے پر عمل درآمد ہو جانے کو تیار رہتے ہیں۔”کیا ایسے ہی حالات کے لیے مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنے الفاظ کو قلم بند کیا تھا،اقبال کا خواب روشن پاکستان کا تھا۔جس کے لیے ہمارے قائد نے ہماری افواج اور بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں پیش کی تھیں۔

  • منی مارشل لاء کا گمراہ کن بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    منی مارشل لاء کا گمراہ کن بیانیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز میں آجکل ایک مخصوص طبقہ بار بار یہ دعوی کرتا نظر آتا ہے کہ ملک میں منی مارشل لاء نافذ ہے اگر اس دعوے کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ بیانیہ ناصرف کمزور بلکہ گمراہ کن محسوس ہوتا ہے۔ مارشل لاء کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، آئین کی معطلی، اسمبلیوں کی تحلیل، سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اور براہ راست فوجی حکمرانی۔ سوال یہ ہے کیا آج پاکستان میں ان میں سے کوئی ایک عنصر بھی موجود ہے؟ جواب صاف اور واضح ہے (نہیں)، آج پاکستان میں آئین موجود ہے، پارلیمنٹ فعال ہے اور سب سے بڑھ کر ملک میں منتخب جمہوری حکومتیں برسراقتدار ہیں۔ مرکز میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کام کر رہی ہے، مسلم لیگ ن بڑی پارلیمانی جماعت ہے، پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے، سندھ میں پیپلزپارٹی کی منتخب حکومت موجود ہے، کے پی کے میں پی ٹی آئی کی جمہوری حکومت ہے، بلوچستان اور پنجاب میں بھی آئینی سیٹ اپ کے تحت حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ اگر یہ سب جمہوریت نہیں تو پھر جمہوریت کسے کہتے ہیں؟

    منی مارشل لاء کا شور دراصل سیاسی ناکامیوں اور عوامی حمایت میں کمی پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے۔ جب دلیل کمزور پڑ جائے تو اداروں پر الزام تراشی آسان راستہ بن جاتی ہے یہ طرزِ عمل نہ صرف سیاسی بلوغت کے منافی ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ریاستی ادارے خصوصا قومی سلامتی کے ادارے کسی ایک جماعت یا فرد کے نہیں بلکہ پوری قوم کے ہوتے ہیں۔ ان پر بے بنیاد حملے دراصل ریاست کی جڑوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر اختلاف اور تخریب میں فرق ہونا چاہیے اگر واقعی کوئی غیر آئینی اقدام ہو تو اسکی نشاندہی آئینی فورمز، پارلیمنٹ اور عدالتوں کے ذریعے کی جائے نہ کہ سوشل میڈیا کے نعروں اور اشتعال انگیز بیانات سے۔

    منی مارشل لاء کا بیانیہ پھیلانا دراصل عوام کو کنفیوژن میں ڈالنے اور ریاستی اداروں اور جمہوری نظام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے بیانیوں کی جو مایوسی اور بداعتمادی کو فروغ دیں۔ جمہوریت کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مضبوط کرنا ہی تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ آخرکار نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ منی مارشل لاء نافذ ہے کا شور جو سنائی دے رہا ہے یہ دعوی سننے میں جتنا سنسنی خیز لگتا ہے اتنا ہی بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ یہ بیانیہ نہ صرف آئینی حقائق کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی ایک خطرناک کوشش بھی ہے۔ اصل مسئلہ جمہوریت نہیں بلکہ کچھ سیاسی عناصر کی اپنی ناکامیاں ہیں جنہیں چھپانے کے لیے ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب سیاست خدمت کے بجائے الزام تراشی بن جائے تو ایسے ہی بے سروپا نعرے جنم لیتے ہیں۔ ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو بھڑکانا کسی بھی طور سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف اقدام ہے۔ یہ طرز سیاست ایک خطرناک بلکہ ناقابل قبول بھی ہے۔ اداروں کو کمزور کرنے کا نقصان کسی حکومت یا جماعت کو نہیں بلکہ پوری ریاست کو ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے اسی آگ سے کھیل رہے ہیں۔ جمہوریت کو کمزور کرنے والے دانستہ یا نادانستہ پاکستان کے مفادات سے کھیل رہے ہیں۔ قوم کو ایسے بیانیوں سے ہوشیار رہنا ہو گا اور سیاسی قوتوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ سیاست اقتدار کے لیے نہیں ریاست کے استحکام کے لیے ہوتی ہے۔