Baaghi TV

Category: سیاست

  • گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرزسٹنس !!!! بلال شوکت آزاد

    گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرزسٹنس !!!! بلال شوکت آزاد

    دنیا اس وقت بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور جتنی تیزی سے دنیا بدل رہی ہے اتنی ہی رفتار سے انسان تبدیلیوں کو قبول کرنے کے عمل سے گزر رہا ہے۔

    آپ ہوسکتا ہے رائٹ یا لیفٹ ونگ سے تعلق رکھتے ہوں یا پھر ایک نئی اور مضحکہ خیز جہت سینٹرک سے آپ خود کو جوڑتے ہوں پر آپ احباب کی نذر یہ بات پورے وثوق سے کرتا چلوں کہ تمام مذاہب بلخصوص اسلام کی رو سے جس زمانے کو پر فتن اور پر شر قرار دیکر پیش گوئیاں کی گئیں اور آگاہ کیا گیا کہ اس دور میں کیسے جینا اور کس طرح مرنا ہے وہ تمام نشانیوں اور اشارات کی رو سے یہی دور ہے جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں, مطلب اس وقت دنیا میں کہیں بھی کسی بھی جگہ اعلانیہ اور پرشدید حق و باطل کا معرکہ بپا نہیں بلکہ آپ اور ہم جو کچھ بھی دیکھتے, سنتے, پڑھتے اور سمجھتے ہیں وہ سب دراصل اور درحقیقت گیمز آف ایگزسٹنس, ایکسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) کا ادنی سا نمونہ ہے۔

    یہ وہ نادیدہ اور پراسرار جنگی کھیل ہے جو دنیا کے ہر ملک, مذہب, مسلک, معاشرے اور شعبہ زندگی میں اس وقت پوری شدومد سے جاری ہے جس پر کثیر جہتی محاذ کھلے ہوئے ہیں۔

    اس جنگی کھیل میں کوئی اخلاقی اور آفاقی اصول اور پیمانہ رائج نہیں بلکہ بلا مبالغہ یہ سروائیول آف فٹسٹ کی دوڑ ہے۔

    گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) سے مراد ہے کہ فریقین موجودگی یا وجود کو برقرار رکھنے, تسلیم کروانے اور مستقل بنیادوں پر اولین دونوں مقاصد کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کریں تاکہ سروائیول آف فٹسٹ کی دوڑ جیت کر طاقتور, بدستور موجود اور تسلیم شدہ فریق دنیا کی باگ دوڑ سنبھال کر نیو ورلڈ آرڈر رائج کرسکے۔

    آپ حیران اور پریشان ہورہے ہونگے اب یہ کیا نئی تھیوری مارکیٹ میں لانچ کی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل ہی ہم ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار جیسی اصطلاحات سن سن کر پک چکے ہیں؟

    تو میں آپ کی حیرانی اور پریشانی دور کردوں کہ دراصل ففتھ جنریشن وار فیئر اور ہائبرڈ وار فیئر جس کتاب کے ضخیم باب ہیں وہ درحقیقت گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) ہے جس میں کیا سپر پاورز, کیا سیکرٹ سوسائٹیز, کیا بزنس ٹائیکونز, کیا شوبز آئیکونز, کیا مافیا ورلڈ اور کیا تھرڈ ورلڈ سبھی کے سبھی شامل اور متحرک ہیں۔
    آپ کو نہایت سادہ مثال سے سمجھاتا ہوں۔
    آپ کو کبھی کبھی یہ خیال تو ستاتا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ پاک بھارت جنگوں کا نتیجہ کبھی بھی کسی ایک کی ہار یا جیت پر منتج نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ دونوں ملکوں کی عوام کے پاس اپنی جیت اور دوسرے کی ہار کے مضبوط ثبوت اور دلائل کے انبار ہوتے ہے لیکن چونکہ آپس میں مدلل مکالمے کی فضاء قائم نہیں تو دونوں ملکوں کی عوام اپنی اپنی ڈومین میں اپنی جیت اور دوسرے کی ہار کا جشن منا کر خوش ہولیتی ہے؟
    یا
    کبھی آپ کو یہ خیال ستایا ہو کہ روس اور امریکہ کو آخر کیا چیز افغانستان میں کھینچ لاتی ہے؟ کیا تیل یا گرم پانیوں تک رسائی موجودہ دور میں ایسا چمکتا ہوا ہدف ہے کہ جس کی خاطر ملکی معشیت اور عوام کی جان و مال کو داؤ پر لگایا جائے جبکہ دنیا خود کو گلوبل ویلیج کہتی ہو اور ملٹائی نیشن اقتصادی انجمنوں کی بھرمار ہو؟
    یا
    اکھنڈ بھارت, تکمیل پاکستان, گریٹر اسرائیل, یونائیٹڈ سٹیٹس آف مسلم امہ, یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ, یورپی یونین اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف رشیا وغیرہ ایسی تھیوریز اور پریکٹیکلز ہیں جن کو ہم حق اور باطل کی جنگ یا مقابلہ کہہ کر کسی کے فریق بن سکیں؟ کیا یہ یونیٹی یا گریٹنس صرف اور صرف اپنی موجودگی یا وجود کی بقاء, تسلیمات اور دائمیت کی جنگ کا شاخسانہ تو نہیں؟

    غرض آپ زندگی کے جس بھی شعبے اور جہت کو کنگھال لیں آپ کو ہر بندہ اور گروہ یہی کہتا ہوا ملے گا کہ وہی ٹھیک اور حق پر ہے لہذا اس کو جگہ دی جائے, تسلیم کیا جائے اور اس کے وجود کو مستقلاً برداشت کیا جائے وہ بھی راضی خوشی۔

    کہیں ہمارے اردگرد قائم مقابلے کی فضاء کا مطلب یہی تو نہیں کہ کون دی بیسٹ ہے, کون نمبرون ہے, کون ناقابل تسخیر ہے اور کون مستقل ہے۔

    تاکہ جو ان پیرامیٹرز سے میچ نہیں کرتا اس کو وننگ پارٹی قصہ پارینہ بنا دے اور پھر ریس وہیں سے کسی اور فریق کے ساتھ شروع کردے جہاں تک وہ جیت چکا اور سابقہ فریق کو ہڑپ کرچکا؟

    ملکوں کی اندرون و بیرون سیاست و سفارت سے لیکر عسکری و اقتصادی اداروں تک یہ گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) جاری ہے تاکہ سروائیول آف فٹسٹ کا معرکہ جیت کر آخری بڑی جنگ کی تیاری ہوسکے جو واقعی معرکہ حق و باطل ہوگا اور جس میں ایک اور تین کا مقابلہ ہوگا وہ بھی آمنے سامنے پورے حق سے کہ ایک کو پتہ چل جائے گا تین حق پر ہیں اور وہ ایک باطل ہے۔

    قصہ مختصر یہ کہ یہ گیمز آف ایگزسٹنس, ایسیپٹنس اینڈ پرسسٹنس فار وِن دا ورلڈ!!! (Games of Existance, Acceptance and Persistence for win the World) اس وقت پاکستان میں بھی ہر گراؤنڈ پر جاری ہے خواہ وہ کارپوریٹ سیکٹر ہو, شوبز کی دنیا ہو, ایجوکیشن ورلڈ ہو, پولیٹکس ہو, ڈیفنس ہو, کامرس ہو, ذراعت ہو, میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ہو غرض ہر بندہ دی بیسٹ اور نمبرون بننے کی چاہ لیے وجود کی بقاء, تسلیمات اور دائمیت کی جنگ لڑرہا ہے۔

    اس جنگی کھیل کا گورکھ دھندہ اسقدر پیچیدہ ہے کہ صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ ہر انسان اس پرفتن دور میں شدید ترین اور ہلاکت خیز فتنوں میں جکڑا اور پھنسا ہوا ہے۔

  • حکومت جائے گی یا وزیراعظم؟—از–راوفیصل

    حکومت جائے گی یا وزیراعظم؟—از–راوفیصل

    نومبر کے آغاز میں مولانا فضل الرحمان اپنا لشکر لیکر شہر اقتدار میں پہنچے اور اعلان کیا کہ وزیراعظم کو گریبان سے پکڑ کر ایوان سے گھسیٹ کر باہر نکالیں گے ان کا غصہ ولولہ اور حوصلہ دیکھ کر پورے ملک میں ہلچل ہوئی ٹی وی پروگرامز میں ایک ہی موضوع پر بحث تھی کہ مولانا آگیا ہے اور اب یا تو حکومت جائے گی یا پھر وزیراعظم جائیں گے

    یہ تماشہ دو ہفتے تک جاری رہا مولانا کے حمایتی اور حزب اختلاف کے سب سے بڑے دھڑے بھٹو زرداری اور شریف خاندان پیچھے ہٹ گئے انہوں نے موقع غنیمت جانا اور اپنے مفادات پر سودے بازی کر کے حکومت کے خلاف اٹھنے والے اس طوفان سے کنارہ کشی اختیار کرلی جس کے بعد مولانا کا بنا بنایاکھیل بگڑگیا وہ پلان اے کے بعد بی اور پھر پلان سی کا اعلان کرنے پر مجبور ہو گئے

    سیاسی بساط پر چودھریوں نے اپنی چال خوب چلی بظاہر یوں دکھائی دیا کہ وہ اس پوزیشن میں تھے کہ شہہ کو مات دینے کی پوزیشن میں ہیں لیکن وہ ریاستی اداروں کے ارادوں سے واقف تھے اسی لئے انہوں نے اپنی سیاست کو سیدھا کیا حکومت کی نظر میں اپنی قدر بڑھائی اور آنیوالے وقت میں اپنے مطالبات حکومت سے تسلیم کروائے
    دسمبر انتہائی سرد رہا اور ہواؤں کے رخ کی تبدیلی کے اشارے بھی دئیے گئے

    بلاول نے یکم جنوری سے پہلے نئے وزیراعظم کی نوید بھی سنائی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اپوزیشن گھٹنوں کے بل آ گری نون لیگی بیانیے کے غبارے سے ہوا نکل گئی ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ برباد ہوا اور لیگی قیادت لندن کھسک گئی

    جنوری میں ایک بار پھر حکومت کے گھر جانے کی باتیں بڑھ گئیں اکثر اہم ترین محفلوں میں بڑی بڑی شخصیات کو کہتے سنا کہ مئی تک حکومت چلی جائے گی اتحادیوں کی ناراضگی اور بڑھتے مطالبات اور پھر مہنگائی کے زلزلے سے حکومت لڑکھڑاتی بھی دکھائی دی لیکن آٹے اور چینی کے بحران سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم نے جارحانہ فیصلہ کیا اور پہلی بار اس مافیا کو للکارا جو ان کی پانی صفوں میں موجود ہے

    جہانگیر ترین جو ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں اور حکومت بنانے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے انہیں چینی اور آٹے کے بحران سے جوڑا جانے لگا تو وزیراعظم نے فوری طور پر جہانگیر ترین کو اتحادیوں سے دور کیا اور ساتھ ہی اعلان کردیا کہ وہ کسی مافیا کو اب نہیں چھوڑیں گے جلد ہی اس انکوائری کا بھی نتیجہ سامنے آجائے گا اگر اس بار وزیراعظم مہنگائی کے ذمہ داروں کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہو گئے تو یقینی طور پر نہ تو حکومت کہیں جائے گی اور نہ ہی وزیراعظم ۔

    حکومت جائے گی یا وزیراعظم؟—از–راوفیصل

  • اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔۔۔از—اسدعباس خان

    اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔۔۔از—اسدعباس خان

    ٹھیک 21 برس پہلے کی بات ہے، فروری 1999ء میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کا ٹیسٹ میچ فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ دہلی میں کھیلا جا رہا تھا۔ جہاں کرکٹ کی تاریخ کا منفرد واقعہ پیش آیا جب ہندوستانی لیگ اسپنر باؤلر انیل کمبلے تن تنہا ایک ہی اننگز میں دس وکٹ لے اڑے اور اکیلے ہی ساری پاکستانی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔ دراصل اس میچ میں ‘جے پرکاش’ نامی ہندوستانی ایمپائر نہ جانے کیا ٹھان کر آیا تھا کہ بس کب ‘گیند’ کسی بیٹسمین کے ‘پیڈ’ پر لگے اور ‘انیل کمبلے’ آؤٹ کی درخواست کرے۔ آوٹ دینے کو وہ ایمپائر پہلے سے ہی تیار کھڑا ہوتا۔ محض پاکستان دشمنی اور ایمپائر کے بغض بھرے فیصلوں سے یہ ٹیسٹ میچ کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک مثال کے طور پر محفوظ ہو گیا۔

    لیکن اس وقت کے کھیل میں تھرڈ ایمپائر اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں تھا لہذا گراؤنڈ کے بیچ کھڑا فرد واحد ہی تمام اختیارات کا مالک ہوتا تھا خواہ وہ کسی بھی کھلاڑی یا ٹیم کو اپنی پسند یا نا پسند کی بھینٹ چڑھا دے۔ اب دو دہائیوں بعد سب کچھ بدل چکا ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام اور کھلاڑی کو اپیل کا حق حاصل ہے۔

    اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں، 1999ء میں ہی نواز حکومت نے حاضر سروس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کا طیارہ سری لنکا کے آفیش ٹور سے واپسی پر پاکستان میں نہ اتارنے کے احکامات جاری کیے طیارہ تو پاکستان لینڈ کر گیا البتہ اس سازش میں ملوث موصوف وزیراعظم کو نہ صرف حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ طیارہ اغواء کیس میں سزائے موت کی تلوار سر پر لٹک رہی تھی جو بعد از کچھ دوست ممالک کی مداخلت کے ایک معاہدے کے تحت جدہ پدھار گئے اور جنرل مشرف اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہوئے۔

    2007ء میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجہ میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو اسی فیصلہ سے وکلاء تحریک کی چنگاری سلگی جس نے بالآخر مشرف عہد کا خاتمہ کر دیا۔ اور انتخابات سے قبل بینظیر کے قتل سے پیپلزپارٹی کو ہمدردی کا ووٹ پڑا۔ نواز زرداری کی نورا کشتی میں ہی زرداری حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر باری کے انتظار میں نواز شریف تیار بیٹھے تھے۔ ملکی تاریخ میں تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کے بعد انتقام کی آگ میں لپٹے نواز شریف نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر آئین معطل کرنے کی پاداش میں سنگین غداری کا مقدمہ قائم کر دیا۔ محبان وطن اس وقت سکتے میں آۓ جب عدلیہ میں پہلے سے تیار بیٹھے ایمپائر نما جج صرف درخواست کے منتظر پاۓ گئے،

    وہی بغض و عناد بھرا رویہ۔ بیرون ملک بستر مرگ پر پڑے مشرف کو پاکستان میں آ کر عدالت کے روبرو بیان ریکارڈ کروانے پر اصرار رہا۔ بیماری میں مبتلا مشرف بار بار جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ویڈیو بیان ریکارڈ کروانے کی اپیل کرتے رہے لیکن عدلیہ میں بیٹھے ‘جے پرکاش’ اس حق کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریزاں رہے۔ چند ہفتے پہلے عدالتی دنیا کی تاریخ کا سیاہ کارنامہ اس وقت انجام دیا جب ملکی دفاع کے لیے تین جنگیں لڑنے والے کمانڈو کو غدار قرار دیتے ہوئے پھانسی کا حکم صادر فرمایا۔ عداوت کی انتہا کہ حکم نامے میں لکھا گیا اگر سزا سے قبل مجرم کی موت واقع ہو جائے تو لاش کو تین روز تک ڈی چوک میں پھانسی پر لٹکا کر رکھا جائے۔ اس جنرل نے اپنی زندگی کے چالیس سال اس ملک کی خدمت میں گزارے دوران جنگ بطور چیف آف آرمی اسٹاف دشمن کی سرزمین پر اپنے جوانوں کے ساتھ رات گزارنے پر دشمن بھی ان کی بہادری پر داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔

    جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیس میں جس خصوصی عدالت نے 1999ء پاک بھارت کرکٹ ٹیسٹ میچ کی تاریخ دہرائی آج لاہور ہائی کورٹ نے اس عدالت کو ہی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ دیر آید درست آید کے مترادف انصاف کی امید تو پیدا ہوئی البتہ بدقسمتی سے وطن عزیز میں ‘جے پرکاش’ ہر جگہ موجود ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے اب وقت بدل چکا ہے۔ سوشل میڈیا سے ملکی اسکرین پر عوام کی گہری نگاہ ہے، اپیل کا حق اور جدید ٹیکنالوجی کے سہارے، اب کے ‘جے پرکاش’ کا فیصلہ حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تھرڈ ایمپائر ضرور دیکھے گا اگر باؤلر کا پاؤں کریز سے باہر ہوا تو قانونی طور پر نو بال قرار دی جائے گی جس کے ساتھ ناٹ آؤٹ کی اسکرین روشن ہو گی اور ہاں جدید کرکٹ میں فری ہٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔۔۔!!!!!!

    اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا
    #صدائے_اسد
    #اسدعباس خان

  • غدارکون  ؟—–از…منہال زاہد سخی

    غدارکون ؟—–از…منہال زاہد سخی

    ابھی کچھ دیر پہلے میں نے محب الوطن جرنل حمید گل کی صاحبزادی عظمیٰ گل کے زور قلم سے ایک تحریر آنکھوں سے ملائی تو یہ تحریر لکھنے کے قابل ہوا ہوں مجھے عظمیٰ گل سے کوئی دشمنی نہیں ہے نہ ہی ان سے نفرت ہے اور نہ مجھے ان سے کوئی بدلہ اور انتقام لینا ہے بلکہ مجھے ان سے محبت ہے با وجہ انہیں اسلام اور پاکستان سے محبت ہے ۔

    انہوں نے اپنے زور قلم سے موجودہ صورتحال اور جرنل پرویز مشرف کا کردار رکھا ہے۔

    کچھ لکھنے سے پہلے کہ ایک بات عرض کی جاتی ہے ہر شخص کا الگ نظریہ ہوتا اور ہر کوئی ایک طرح اور ایک رخ سے نہیں سوچتا ۔ تو کسی کو بات بے مزاج اور بے مزہ لگے تو معذرت۔

    اتنی زیادہ باتیں مشرف صاحب کے بارے میں سن رہے ہیں تو آج انہی باتوں کا جواب دینے کیلئے حاضر ہوں۔

    جرنل پرویز مشرف نے 40 سال پاکستان کی خدمت کی 3 جنگیں لڑی اور یہ وہ واحد جرنل ہیں جو جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف اور ایس ایس جی گروپ کے بھی جرنل رہے ہیں اور چیف آف آرمی اسٹاف بھی رہیں ہے انہوں نے مکہ کو خوارج سے آزاد کروایا ۔ کارگل کی جنگ دشمن کی سرحد میں تین راتیں گزاری ۔ فوج کیخلاف اٹھنے والے نواب اکبر بگٹی کو موت کے گھاٹ اتارا۔امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کھیل کر امریکہ کو مارا اور یہ پینٹا گون نے بھی اعتراف کیا ہے ۔

    ایک تو پرویز مشرف صاحب شدید علیل ہیں اور سونے پہ سہاگا یہ کہ انہیں پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔

    ان کی وجوہات بعد میں رکھیں گے پہلے مجھے کوئی اس بات کا ثبوت دے کہ بڑے بڑے غداروں کو کیوں چھوڑا گیا ۔ جن میں نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسے غدار شامل ہے ۔ جنہوں نے میثاق جمہوریت مری میں کرکے پاکستان کو 30000 ارب ڈالر سے لوٹا ۔ انہیں ضمانتوں پہ رہا کردیا گیا ۔

    یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے اپنی نواسی مہر النساء کی شادی پر مودی جیسے انتہا پسند اور شدت پسند اور سب زیادہ مسلمانوں سے نفرت کرنا والا موذی ہے ۔اسے دعوت دی اور فوج کو اطلاع بھی نہ دی ۔
    فوج تو ملک کے ساتھ مخلص تھی اس لئے کوئی فیصلہ نہیں لیا کہ ملک افراتفری کا شکار ہو سکتا تھا ۔
    یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس کے چینی کے کارخانے انڈیا میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں ۔یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے پرویز مشرف صاحب کا جہاز اترنے نہ دیا اور مارنے کی ناکام کوشش کی ۔
    یہ وہ ہی جو ملک بدر ہوا اور جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہوا یہ وہ ہی ہے جسے جسٹس ثاقب نثار نے ناہل کیا تھا ۔
    ہاں یہ وہ ہی جو غدار شہباز شریف کا بھائی ہے ۔شہباز شریف بھی وہ جو لیپ ٹاپ کیس اور کئی کیسز میں ملوث اور شہباز شریف بھی وہ جس کی ایک بیوی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سگی بہن ہے ۔

    آصف سعید کھوسہ بھی وہ جس سے کچھ دن پہلے عہدہ واپس لیا گیا ۔اور یہ وہ آصف سعید کھوسہ ہے جس نے جرنل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کی عہدے کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھر پور مذمت کی۔ہاں یہ وہ ہی آصف سعید کھوسہ ہے جسے اوکس فورڈ اور ہارورڈ جیسی بڑی یونیورسٹیوں سے بلاوا آیا اور وہ جانے کے لئے راضی ہو گئے۔

    اور آج ساری کڑیاں مل جانی چاہیئے تاکہ لوگوں کے سامنے تصویر کا اصل رخ بھی آجائے۔

    ہاں یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے اپنی بیٹی کی شادی جعلی کیپٹن سے کروائی ۔ہاں یہ وہ ہی غدار ہے جس نے انڈیا کے سب سے زیادہ دورے کئیے ۔ہاں یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے کارگل کی جنگ بند کروائی اور جس کشمیر کو ہم رو رہے ہیں وہ آج سے 20 سال پہلے آزاد ہو جاتا ۔

    ہاں یہ وہ نواز شریف ہے جس نے مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس نے یوم آزادی منانے سے انکار کیا تھا ۔ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس کے باپ نے کہا تھا شکر ہے میں پاکستان منانے کے گناہ میں شامل نہیں تھا ۔

    ہاں یہ وہ ہی فضل الرحمان جس کی کئی تصاویر منظور پشتین محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی کے ساتھ ہیں۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جو نسلی غدار ہے ۔ ہاں یہ وہ ہی ہے جس نے 13 دن کے دھرنے میں سب غداروں کو جمع کیا اور پروپیگنڈا کیا عمران خان جیسے محب وطن سے استعفیٰ لینے کا دعویٰ کیا کیونکہ اسے اس دور حکومت میں کسی نے نہیں پوچھا ۔

    ہاں یہ وہ فضل الرحمان ہے جس نے محمود اچکزئی کے ساتھ مل کر دھرنا دے کر مسئلہ کشمیر کو میڈیا کی نظروں سے غائب کرکے پس پشت ڈال دیا۔

    اور ہاں یہ وہ محمود اچکزئی ہے جس نے پاکستان میں اپنے والد کی میت دفنانے سے انکار کیا اور اسے افغانستان جیسی نمک حرام سر زمین پر دفنایا ۔

    ہاں یہ وہ نواز شریف ہے جس کی پارٹی اور زرداری کی پارٹی کا میثاق جمہوریت ہوا ۔

    ہاں یہ وہ ہی زرداری جو نافرمان تھا جو اپنے باپ کے بلانے پر باپ کے پاس نہ آیا ۔

    ہاں یہ وہ ہی ہے زرداری ہے جس نے بے نظیر کو بلیک میل کرکے اس سے شادی کی ۔ اور اقتدار کی خاطر اسے مروادیا ۔ یہ وہ ہی جس کا سسر ذوالفقار علی بھٹو غداری کے جرم میں پھانسی چڑھا ۔

    یہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہے جس نے بنگلہ دیش پاکستان سے علیدہ کیا صرف اقتدار کی خاطر۔

    اگر یہ شیخ مجیب الرحمٰن کو وزیراعظم بننے دیتا تو پروپیگنڈا نہ ہوتا اور بنگلہ دیش علیحدہ نہ ہوتا ۔

    ہاں یہ وہ ہی ہے جس کا نواسا بلاول زرداری آئے دن کسی نہ کسی پروپیگنڈے کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔ہاں یہ وہ ہی ذوالفقار علی بھٹو ہے جسے نواب اکبر بگٹی اپنا گہرا دوست مانتا تھا ۔

    ہاں یہ وہ ہی نواب اکبر بگٹی ہے جس نے تکبر میں آکر اور طاقت کے زور پر فوج جیسے عظیم ادارے سے ٹکر لی اور مارا گیا ۔

    ہاں یہ وہ نواب اکبر بگٹی ہے جس کا پوتا برام داغ بگٹی دہشت گردی میں ملوث ہے۔

    ہاں یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جو بم دھماکوں میں ملوث۔ہا یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جو پاکستان سے مفرور تھا ہاں یہ وہ ہی برام داغ بگٹی ہے جسے انڈیا نے ممبئی جیسے بڑے شہر میں ایک عالیشان بنگلہ دیا ۔

    اب اس جج سیٹھ وقار احمد پر آتے ہیں جس نے جرنل پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائی اور غیر آئینی فیصلہ دیا ۔ وہ اس کڑی میں کیسے مل گئے ۔اسفند یار ولی جس کا تعلق مولانا فضل الرحمان سے جوڑا گیا تھا اس کی پارٹی ANP میں اور خوارج کی پارٹی TTPمیں مسیحا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
    اس کی عدالت سے 200 سے زائد PTM منظور پشتین کی پارٹی کے مجرم رہا ہوئے۔ ہاں یہ وہ ہی جج ہے جس کی عدالت کو کوئی دہشت گرد چھو لیتا ہے تو اسے معاف کردیا جاتا ہے ۔ ہاں یہ وہ ہی جس نے PTM اور داعش کے 102 سزا یافتہ مجرم رہا ہوئے۔

    تو ایسا جج پھر جس طرح کا خود ہے غدار ہے تو پھر قوم میں فساد افراتفری اور انتشار والے فیصلے سنائے گا اور اسی طرح کا فیصلہ سنایا اس طرح کے لوگ دشمن ملکوں کے لئے کام کرتے ہیں۔

    تو جج پر اتنے زیادہ جرم ہیں تو یہ بھی غداری کے جرم پھانسی کا مستحق ہے ۔ اور پھانسی کے لائق جج پھانسی کا حکم کیسے دے سکتا ہے۔

    دوسری بات یہ یے کہ پرویز مشرف صاحب کے علاؤہ جو اوپر اتنی بڑی پٹی ہے جس میں

    1نواز شریف

    2 شہباز شریف

    3 جسٹس آصف سعید کھوسہ

    4 آصف علی زرداری

    5 بلاول زرداری

    6 مولانا فضل الرحمان

    7 برام داغ بگٹی

    8 منظور پشتین

    9 محمود اچکزئی

    10 اسفندیار ولی

    11 کیپٹن صفدر

    ان ساروں کو بھی پھانسی کی سزا دینی چاہئیے ۔

    اور بھی لمبی پٹی ہے لیکن وہ ان کی معاون ہے انہیں عمر قید کی سزا دینی چاہئے ۔ تاکہ لوگ عبرت پکڑ سکیں ۔

    پرویز مشرف صاحب اور نواب اکبر بگٹی کی بات کرتے ہیں۔ جب ان دونوں کے آپس میں اختلافات ہوئے تو بات چیلنج تک پہنچ گئی اور نواب اکبر بگٹی نے اپنی ساری فوج لڑائی میں جھونک دی اور باقائدہ مقابلہ کیا اور ملک کا نظم و ضبط خراب کیا ۔ملک کا دفاع کرنے والے ادارے سے ٹکر لی تو مقابلہ میں نواب اکبر بگٹی مارا گیا۔ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ کہ پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو مارا اس بھی آگے سے مقابلہ کیا ۔اور جو یہ کہتا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے فوج کا استعمال کیا تو یہ غلط بات ہے۔ اس وقت جو جرنل ہوتا مقابلہ فوج سمیت کرتا نہ کہ نہتا لڑتا۔ جو بھی پاکستان یاں کسی بھی ادارے کے خلاف لڑے گا اٹھے اسے اسی طرح کرنا پڑے گا ۔اور انشاء اللہ ایسا ہوگا بھی۔

    اس کے بعد آتے ہیں لال مسجد کیس پر کہ ۔ لال مسجد حملہ ہوا تو لوگوں نے میڈیا نے پروپیگنڈا کرنا شروع کردیا کہ اسلام کی بیٹیاں مار دی ہماری ماؤں بہنوں کو مشرف نے مروادیا یہ ہو گیا وہ ہوگیا اور مشرف پر پھر الزام لگایا گیا۔

    پہلی بات تو یہ ہے کہ جس نے خوارج سے مکہ کو پاک کیا اسے کسی بھی مسجد کا خیال ضرور ہوگا اور فوج کے حملے کے جواب میں اسلحہ سے جواب کس نے دیا ان ہی معصوم بچیوں نے ۔ ہر گز نہیں خوارج نے جواب دیا ۔ مشرف نے مکہ جو پاک کرکے مکہ کا حق ادا کیا اور لال مسجد کو پاک کرکے لال مسجد کا حق ادا کر دیا۔

    لال مسجد حملے میں حکمت عملی کے تحت لال مسجد کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا ۔

    لال مسجد حملے میں صرف مولوی عبد العزیز کی ماں کی موت ہوئی اور ایک بچی کے گم شدہ خبر ہے ۔ تو لال مسجد حملہ کار آمد ثابت ہوا۔

    ابھی ہم آخری اور بڑے ہی اہم مسئلہ پر آتے ہیں کہ مشرف نے امریکہ کو پاکستان میں اپنے اڈے دئے ۔

    پہلی بات امریکہ افغانستان پر حملہ کرکے قبضہ کرکے اور پھر پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان پر قبضہ کر لیتا ۔

    جس طرح امریکہ آیا اسی طرح روس آیا تھا اور جرنل حمید گل کی حکمت عملی کے تحت ٹکروں میں بٹ گیا ۔

    لیکن یہ دونوں ملک آئے کیوں؟ دراصل دونوں کا ہدف اور ضرورت گرم سمندر تھے جو پاکستان پر قبضہ کرکے حاصل کئے جاسکتے تھے لیکن روس کو جرنل حمید گل نے اور امریکہ کو جرنل پرویز مشرف نے شکست دی۔

    امریکہ کو اڈے دے کر پاکستان نے بچنے کا سامان کر لیا تھا کیونکہ انڈیا بھی امریکہ کو اڈے دینے پر تیار تھا۔ اور اڈے دے کر اس کی افغانستان حملے میں بھرپور مدد کرتا جس کا نتیجہ سب کو پتا ہے کیا ہوتا ۔

    پاکستان نے امریکہ کو اڈے دےکر اسکا سامان اسلحہ نہ چلنے کے قابل کرتے اور افغانستان کو اطلاع دیتے اس راستے سے ابھی سامان روانہ ہوا وہ بچنے کا انتظام کرتے اور سامان والے راستے پر گھاٹ لگا کر بیٹھ جاتے اور اسے بیکار جر دیتے اور پاکستان نے ان کے اسلحہ سے کافی زیادہ چیزیں تیار کی جو وطن کیلئے کارآمد ثابت ہوئی ۔

    امریکہ کے ساتھ دراصل ایک ڈبل گیم ہوئی انہی کے ہتھیاروں سے ان کو مارا اور پینٹاگون نے یہ اعتراف بھی کیا کہ مشرف نے ہمارے ساتھ ڈبل گیم کی ۔

    آج امریکہ کا سامان اور مہنگی ٹیکنالوجی کوئٹہ اور پشاور کی منڈیوں میں 90 %سے 95 % بچت پر بیچی جاتی ہیں۔ اور الحمدللہ آج افغانستان پر مجاہدین کا قبضہ ہے ۔ اور امریکہ صرف کابل میں محصور ہے ۔

    نواز شریف کی بہت بات کی گئی اب نواز اور مشرف پر آتے ہیں ۔

    جرنل پرویز مشرف باہر کسی ملک سے پرواز کے ذریعے پاکستان واپس آرہے تھے تو نواز شریف نے ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترنے نہ دیا ۔ پر اللّٰہ کی مدد آگئی اور ۔شرف صاحب بچ گئے۔

    کسی نہ کسی طرح پرویز مشرف صاحب اتر گئے ۔ اور نواز شریف کو جیل کے سپرد کیا ۔ اور پھر انہی کو ملک بدر بھی کیا جس کے یہ لائق تھے ۔ بلکہ یہ لوگ پھانسی کے لائق تھے اور ہیں ۔ اور مشرف نے کہا تھا میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ ان جو پھانسی نہ دی۔ اور ان کے بارے میں عوام کا فیصلہ بھی سوشل میڈیا پر مشرف کی غلطی کا اعتراف کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ان کی پھانسی کا مطالبہ حق بڑی زور و شور سے اور بھر پور کر رہے ہیں۔

    بڑے بڑے الزامات کا رد سامنے ہے ماننے اور نہ ماننے کی مرضی ۔

    مشرف محب وطن اور نڈر ہیں بڑے ہی با حکمت اور عمدہ سوچ کے مالک ہیں پاکستان کی خاطر جنگیں لڑنے والے ہیں اور اسلام سے محبت کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔

    اللّٰہ ہمیں قیامت کے روز حق کے ساتھ اور حق پر رہنے والوں کے ساتھ اٹھائے ۔ تاکہ کسی بھی شرمندگی کا اس روز سامنا نہ کرنا پڑے (آمین) ۔

    غدارکون؟..

    تحریر:منہال زاہد سخی

  • قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟–از–عبدالحمیدصادق

    قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟–از–عبدالحمیدصادق

    اگر پاکستان میں اسلامی نظام کی بات کی جائے تو یورپ سے پڑھے ہوئے اور نظام یورپ سے متاثرہ افراد کا یہ رونا پیٹنا ہوتا ہے کہ پاکستان اسلامی نہیں بلکہ ایک سیکولر ریاست ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے نہیں بنایا تھا۔

    ان لوگوں کی اس سوچ کو میں کم علمی ، کم عقلی یا کم فہمی کہوں۔۔۔۔۔ یا اہل یورپ کی سوچی سمجھی سازش۔۔۔۔؟
    سب سے پہلی بات تو یہ کہ جب قائداعظم محمد علی جناح سے پوچھا گیا کہ پاکستان بنانے کا کیا مقصد ہے تو انہوں نے واضح الفاظ میں یہ بیان کیا تھا کہ ہم ایک ایسی اسلامی اور فلاحی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس میں مسلمانوں کو اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی کھلی آزادی ہوں اور تحریک پاکستان میں ایک ہی نعرہ تھا جو ہر چوک چراہے، گلی بازار اور آج جلسے میں جابجا گونجتا تھا کہ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ” یہی وہ نظریہ تھا کہ اس نظریہ کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔

    12 جون 1945 کو مسلم فیڈریشن پشاور کے نام اپنے پیغام میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ "پاکستان کا مطلب صرف آزادی ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب اسلامی نظریہ بھی ہے”۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی اسلام، قرآن اور آقائے نامدارصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے والہانہ محبت کے اس بحر بے کنار کو سمیٹنا ناچیز کے بس میں تو نہیں مگر ان کے چند ایک بیانات آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں اسلامی مملکت پاکستان اور قائداعظم محمدعلی جناح کے بارے میں جو اشکالات موجود ہیں وہ دور ہو سکیں۔

    آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے ایک اجلاس میں قائداعظم نے مخالفین کی بہتان طرازیوں کے سلسلے میں فرمایا!
    "مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا. دولت ،شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے ، اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں ، میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا اللہ گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کر دیا میں آپ سے زوردار شہادت کا طلبگار نہیں ہوں۔

    میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا ایمان، میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح! تم نے نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا جناح! تم مسلمانوں کی تنظیم، اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا اللہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں عَلمِ اسلام کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے (روزنامہ "انقلاب” لاہور ٫ 22 اکتوبر 1939)

    اسٹریچی ہال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائداعظم نے ایک معرکۃالارا تقریر کے دوران فرمایا "مجھے بحیثیت مسلمان دوسری اقوام کے تمدن ، معاشرت اور تہذیب کا پورا احترام ہے لیکن مجھے اپنے اسلامی کلچر اور تہذیب سے بہت زیادہ محبت ہے ، میں ہرگز نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسلیں اسلامی تمدن اور فلسفہ سے بالکل بے بہرہ ہوں”.

    لاہور میں مسام طلباء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا: "کمیونسٹ ہمیں بیوقوف خیال کرتے ہیں، ان کے پاس اس سوچ کا کچھ جواز ہو سکتا ہے لیکن اب وہ غلطی پر ہیں کیونکہ پانچ یا دس سال قبل کے مسلمان اب خود کو بدل چکے ہیں۔ کمیونسٹ ہمیں بے وقوف نہیں بنا سکتے، مت چھیڑو ، مت چھیڑو کمیونسٹو! ہمیں مت چھیڑو، اگر تم نے ہمیں چھیڑنے کی کوشش کی تو تم خود اپنے داؤ کی زد میں آ جاؤ گے۔

    ہمیں مسلم لیگ کے چاند ستارے والے جھنڈے کے سوا کسی دوسرے جھنڈے کی ضرورت نہیں، اسلام ہمارا رہبر و رہنما ہے، وہی ہمارا ضابطہ حیات ہے، ہمیں کسی سرخ یا زرد جھنڈے کی ضرورت نہیں، ہمیں کسی ازم۔۔۔۔سوشلزم، کمیونزم یا نیشنل سوشلزم کی ضرورت نہیں”

    اسی طرح 12جون 1938کو میمن چیمبر آف کامرس کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا: مسلمانوں کو کسی پروگرام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ان کے پاس ایک پروگرام گزشتہ 13 سو سال سے موجود ہے اور وہ "قرآن کریم” ہے۔ قرآن کریم میں ہمارے معاشی، ثقافتی اور تہذیبی مسائل کا حل موجود ہے۔

    اس کے علاوہ اس میں ہماری سیاسی رہنمائی کے لئے بھی ایک پروگرام ہے اور میرا اس "خدائی فقہ” میں مکمل یقین ہے اور وہ آزادی جس کے لئے میں جنگ لڑ رہا ہوں دراصل اس "خدائی قانون” کی تعمیل ہے۔ ازادی،مساوات اور اخوت اور بحثیت ایک مسلمان میرا بنیادی فرض ہے کہ انہیں حاصل کروں۔ ہماری نجات قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے اور انہی پر کاربند ہو کر ہم آزادی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں”۔

    ایک بار قائد اعظم ممدوٹ ولا لاہور میں تشریف فرما تھے کہ رانا نصراللہ صاحب سے باتوں باتوں میں فرمایا!
    "میں نے قرآن حکیم کا ایک انگریزی ترجمہ کئی بار پڑھا ہے مجھے اس کی بعض صورتوں سے بڑی تقویت ملی ہے۔
    رانا نصراللہ نے پوچھا: مثلاً؟ محمد علی جناح نے جواب دیا: وہ چھوٹی سی سورت ہے جس میں ابابیلوں کا ذکر ہے۔

    نصراللہ خان نے کہا: آپ کی مراد اس آیت سے ہے جو یوں شروع ہوتی ہے "الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل” اس پر آپ نے فرمایا: "جی ہاں، جی ہاں، اللہ نے جس طرح کفار کے بڑے لشکر کو ابابیلوں کے ذریعے شکست دی اسی طرح ہم لوگوں کے ذریعے اللہ تعالی ان شاءاللہ کفار کی قوتوں کو شکست دے گا”(محمد علی جناح، منصور احمد بٹ ،صفحہ نمبر 173-174)

    جولائی 1947 کا واقعہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح دہلی میں دس اورنگ زیب روڈ پر قیام پذیر تھے اور قیام پاکستان سے متعلق معاملات کو سلجھا رہے تھے کہ علامہ شبیراحمدعثمانی اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ ملاقات کے لیے تشریف لائے، علامہ صاحب سلام دعا کے بعد گویا ہوئے کہ "آپ کو قیام پاکستان مبارک ہو” تو قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا "مبارکباد کے مستحق تو آپ لوگ ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کو کامیاب کرنے کی بھرپور جدوجہد کی” ، علامہ عثمانی صاحب نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اب جبکہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان بن گیا ہے آپ یہ فرمائیں کہ پاکستان میں آئین کونسا ہوگا؟

    اس پر قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا "پاکستان میں قرآنی آئین ہوگا، میں نے قرآن پاک مع ترجمہ پڑھا ہے اور میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ قرآنی آئین سے بڑھ کر کوئی آئین نہیں ہوسکتا، میں نے مسلمانوں کا سپاہی بن کر پاکستان کی جنگ جیتی ہے، قرآنی آیات کا ماہر میں نہیں آپ اور آپ جیسے علماء ہیں، میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ دوسرے علماء کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے نئے ملک پاکستان کے لیے قرآنی آئین کا مسودہ تیار کریں”۔
    14 اگست 1947 کو شاہی دربار سبی سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی اسلام پسندی کا ثبوت ان الفاظ میں دیا کہ: "میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر اسلامﷺ نے دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادی صحیح معنوں میں اسلامی تصورات و اصولوں پر رکھیں”۔

    یہیں بس نہیں بلکہ 14 فروری 1948 کو سبی میں فرمایا:
    "It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by our great lawgiver, the prophet of Islam. Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic riddles and principles. Our Almighty has taught us that "our decisions in the affairs of the State Shall be guided by discussions and consultations”.
    (Quaid-e-Azam,page 78,79)

    "یہ میرا یقین ہے کہ ہماری نجات کردار کے ان سنہری اصولوں کی اتباع میں ہے جنہیں ہمارے لئے ہمارے مقنن اعظم پیغمبراسلامﷺ نے مقرر فرمایا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریہ کی بنیاد اسلامی تصورات اور اصولوں کی سچی اور حقیقی بنیادوں پر رکھنی چاہیے۔ اللہ نے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ ہمیں اپنے ریاستی معاملات میں کئے جانے والے فیصلوں میں مکالمہ اور مشاورت سے رہنمائی لینی چاہیے”۔

    محمد علی جناح کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان میں اسلامی نظام وجود میں لایا جائے اور پاکستان میں موجود تمام طبقات کے لوگوں کو ان کے تمام بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں، آپ تمام معاملات میں پاکستان کے دستور کو تیرہ سو سال قبل سے موجود شریعت محمدیﷺ کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے، تبھی تو 25 جنوری 1948 کو اپنے اعزاز میں کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ سے بطور گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگوں کا ایک طبقہ جو دانستہ طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے ،یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔

    محمد علی جناح نے فرمایا: "آج بھی اسلامی اصولوں کا زندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس پیشتر ہوتا ہے”
    1971ء میں قائداعظم کے بھانجے نے محترمہ فاطمہ جناح کی جائیداد کا نظم ونسق چلانے کے لئے عدالت عالیہ ہائیکورٹ کراچی میں درخواست دائر کی۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سید شریف الدین پیرزادہ نے اپنی شہادت میں کہا کہ قائداعظم نہ شیعہ نہ سنی تھے بلکہ وہ ایک مسلمان تھے۔ پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ میرٹھ میں مسلم لیگ کے کارکنوں نے جب قائداعظم سے سوال کیا کہ وہ شیعہ ہیں یا سنی؟ تو قائداعظم نے فوراً دریافت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا تھے؟ اس موقع پر قائداعظم نے تفصیل سے کہا کہ وہ حضرت محمدﷺ کے پیروکار ہیں شیعہ یا سنی نہیں ہیں.

    مطلب کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے آپ کو کسی مسلک کی کڑی میں نہیں پرویا کیونکہ آپ کی ایک ہی خواہش تھی اور ساری زندگی اسی جدوجہد میں گزار دی کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں،صوبائیت کی تقسیم کو رد کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ "یہ ایک بیماری ہے اور لعنت ہے ، میں چاہتا ہوں کہ مسلمان صوبائی عصبیت کی بیماری سے چھٹکارا پالیں۔

    ایک قوم جب تک کہ وہ ایک صف میں نہ چلے کبھی ترقی نہیں کرسکتی، ہم سب پاکستانی اور اس مملکت کے شہری ہیں اور ہمیں مملکت کے لیے خدمات ایثار اور زندگی کا نذرانہ پیش کرنا چاہیے کہ ہم اسے دنیا کی عالیشان اور خود مختار مملکت بنا سکیں”

    اس موقع پر آپ نے مزید فرمایا کہ "رسول اکرمﷺ ایک عظیم رہبر تھے، آپ ایک عظیم قانون عطا کرنے والے تھے، آپ ایک عظیم مدبر تھے، آپ ایک عظیم فرمانروا تھے جنہوں نے حکمرانی کی ، جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو بلاشبہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس بات کو بالکل نہیں سراہتے”

    پاکستان میں موجود ایسی لابی جو سندھی، بلوچی ،پنجابی،پشتون اور کشمیری تقسیم کیے بیٹھے ہیں ان کو چاہیے کہ قائد اعظم کے اس فرمان کو سامنے رکھیں جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ "ہم پہلے پاکستانی ہیں اور اس کے بعد پنجابی ،سندھی ،بلوچی یا پٹھان۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عدالتیں اور حکومت مل کر اس نظام پر عمل درآمد کی کوشش کریں کہ جس کی خاطر مسلمانان ہند نے لاکھوں قربانیاں دیں اور آج یہ ملک دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔

    موجودہ حکومت ، افواج اور عدلیہ سمیت تمام عہدیداران پر یہ واجب ہے کہ سب مل کر ایک اسلامی فلاحی ریاست کو فروغ دیں۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناح کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین

    قائد اعظم ،نظریاتی مسلم یا سیکولر شخصیت۔۔۔؟

    عبدالحمیدصادق

  • آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    آرمی پبلک سکول میں فرعون کی سنت کا دن

    اسکول کی گھنٹی جیسے ہی بجی، تمام بچے اسمبلی ہال میں آکر کھڑے ہوگئے۔ دعا کے بعد تمام بچوں نے بہ آوازِ بلند قومی ترانہ پڑھا اور پھر اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے۔ ابھی کلاسز میں پڑھائی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ اچانک پورا اسکول فائرنگ سے گونج اٹھا،

    16 دسمبر 2014 کا دن پوری قوم کےلیے تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جسے قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے اسکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور بچوں کو چن چن کر قتل کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے اسکول پہنچنے تک دہشت گرد خون کی ہولی کھیلتے رہے اور کچھ ہی دیر میں ان ظالموں نے 132 معصوم جانوں سمیت 141 افراد کو شہید کردیا۔

    واقعے کے بعد ہر طرف خون اور معصوم بچوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور اگر پیچھے کچھ بچا تھا تو صرف شہید بچوں کے والدین کی آہیں اور سسکیاں تھیں۔ اسکول کے در و دیوار دہشت اور ہولناکی کی دردناک کہانی بیان کررہے تھے، دہشت گردوں نے اسکول میں درندگی کی ایسی مثال قائم کی کہ انسانیت بھی شرما جائے۔

    سلام ان معصوم شہدا کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان شہدا کے لواحقین کو جن کے بچے صبح اسکول تو گئے لیکن واپس گھروں کو نہ آئے۔ سلام ان بہادر اساتذہ کو جنہوں نے بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان قربان کردی، بالخصوص پرنسپل آرمی پبلک اسکول طاہرہ قاضی کو جنہوں نے فرض شناسی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان قربان کردی لیکن دہشت گردوں اور بچوں کے بیچ میں دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ہر آنکھ اشک بار تھی۔ پاکستان سمیت پوری دنیا اس ساںحے کی بربریت کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھی۔ واقعے میں شہید بچوں اور افراد کے لواحقین کے صبر اور عظمت کو سلام۔ لیکن جو اس حملے زخمی ہوئے تھے، ان کے ذہنوں پر اس دردناک سانحے کے انمٹ نقوش آج تک موجود ہیں۔

    اے پی ایس سکول کے ننھے طالبعلموں کوجس طرح چن چن کرشہید کیا گیا یہی توانداز فرعون کا تھا وہ بھی بچوں کادشمن تھا ، انسانیت کے ان ننھے ،پیارے اور والدین کی آنکھوں کے تاروں کو اس طرح مسل دیتاتھا جس طرح آرمی پبلک سکول میں ننھے منھے بچوں‌ کو چن چن کرماراگیا،فرعون بچوں کوتیل کے کڑاہے میں پھینک بھون دیتا تھا وہ اے پی ایس میں گھسنے والے فرعون کے وارث بھی تو ویسے ہی بھون رہے تھے

    اے پی ایس میں بچ جانے والے بچوں میں‌ سے کچھ کا یہ کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد ساتھی طلباکوکھینچ کے سامنے لاتے اورفرعون کی طرح بھون دیتے وہ تیل کے کڑاہے میں بھونتا تھا یہ گولیوں سے بھون رہے تھے

    ویسے بھی افغانیوں کے بارےمیں مورخین کاکہنا ہےکہ اسی اسرائیلی نسل سے چلے آرہے ہیں‌،مورخین کے مطابق فرعون نسلاُ اسرائیلی تھا مگرمگربعد میں مختلف قبائل میں‌ بٹ جانے کی وجہ سے قبیلے کے نام سے مشہورہوگیا

    مورخین لکھتے ہیں‌ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو روکنے کے لیے ہزار ہا بچوں کا قتل عام بھی ان کی بدنامی کا اہم محرک تھا۔ قدرت نے موسیٰ کو فرعون کے گھر میں پروان چڑھا کراس کی تمام آہنی تدبیریں الٹ دیں۔بالکل ویسے ہی اللہ کے فضل سے پاک فوج نے دشمن کی تمام سازشوں کو بری طرح نہ صرف ناکام بنایا بلکہ دشمنان پاکستان کی تمام تدبیریں الٹ گئیں‌ ،

    جس طرح فرعون کوبچوں‌کے قتل کے بعد شکست ہوئی اوروہ آج تک دنیا اس کی شکل دیکھ کراس کے مظالم کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں‌ آج بھی ویسے ہی بنی اسرائیل کی نسل سے تعلق رکھنے والے ان افغانی دہشت گردوں کے انجام کو دیکھ کراس قوم کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ، اب میں بتاتا ہوں کہ جوفرعون کی سنت اے پی ایس میں دہرائی گئی اس سے پہلے یہ سنت کس کس دور میں دہرائی گئی

    ہزاروں سال کے بعد آج کا انسان فرعون کے غیرانسانی طرزعمل اور بچہ کشی کی پالیسی پر دہنگ رہ جاتا ہے۔ مگرمعصوم بچوں کے قتل عام میں فرعون تنہا نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر فرعون، ان سے قبل اور آج تک دنیا ایسے فرعونوں سے بھری پڑی ہے جو طاقت کے نشے میں اقتدارکے دوام کے لیے موسیٰ کی پیدائش کو روکنے کی خاطرغلطاں و پیچاں رہے ہیں۔

    فرعون مصر کی راہ پر چلتے ہوئے بچوں کو قتل کرنے والے بادشاہوں میں یوگنڈا کے فوجی ڈکٹیٹر ‘اِدی امین دادا’ نے سنہ 1971ء تا 1979ء میں اپنے ہی عوام کو اس بے رحمی سے قتل کرایا کہ محض نو سال کے عرصے میں 80 ہزار بچوں سمیت پانچ لاکھ افراد کو تہہ تیغ کردیا گیا۔ یوگنڈا کا کوئی محلہ، قصبہ اور شہرایسا نہیں بچا جہاں پر امین دادا کے اجرتی قاتلوں نے کم سن بچوں کو سنگینوں میں نہ پرویا ہو۔ خواتین کی کھلے عام عصمت ریزی کے واقعات سن کر انسانی تہذیب کا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔

    بچوں کے قتل عام میں بدنام زمانہ بادشاہوں میں "Attila the Hun” کا نام بھی سر فہرست ہے۔ آٹیلا ‘ہیونک ایمپائر'[موجودہ یورپی ممالک پر مشتمل تھی] کا 19 سال تک بادشاہ مطلق بنا رہا۔ اس نے یہ طے کر رکھا تھا کہ اس کی سلطنت میں اولاد نرینہ کم سے کم ہو تاکہ اس کی حکومت کو اندر سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔ پڑوسیوں کو زیر کرنے کے عادی اس بادشاہ نے اپنے فوجیوں کو آس پاس کی ریاستوں میں بھی بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ دریائے دینوب کے آر پار اس کے فوجی اچانک حملے کرتے اور پوری پوری بستیوں کو نیست ونابود کر دیتے۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کو انعام اکرام سے نوازا جاتا۔

    منگول سلطنت کے بانی چنگیز خان کی انسانیت دشمنی ایک ضرب المثل تھی۔ فتوحات کے شوق میں اس کی فوج جہاں جہاں سے گذرتی انسان، حیوان حتیٰ کہ درختوں اور فصلوں کو بھی تہس نہس کرتی چلی جاتی۔ تاتاریوں کی وحشت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ہم مذہبوں کو بھی معاف نہیں کرتے تھے۔ چنگیز خان کے دور حکومت میں لاکھوں بچوں کو قتل کیا گیا۔

    بیسویں صدی کے سفاک بادشاہوں اور انسانوں کا خون پینے والوں میں ایک نام کمبوڈیا کے وزیراعظم پول پاٹ کا ہے۔ پول پاٹ شکل و صورت کے اعتبار سے گلہری نما انسان تھا مگر معصوم لوگوں کے خون کا اس قدر پیاسا کہ اس کے حکم پر لاکھوں لوگ نہایت بے رحمی سے قتل کیے گیے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کی مائوں سے چھین کر آگ کے الائو میں پھینک دیا جاتا۔ کئی کئی بچوں کو اوپر تلے رکھ کر رسیوں سے باندھنے کے بعد پہاڑوں سے گہری کھائیوں میں پھینک دیا جاتا۔ بچوں کو بھوکا رکھ کرانہیں سسک سسک مرنے پرمجبور کیا جاتا۔ ان سے جبری مشقت کی لی جاتی ۔ بھوکے پیاسے بچے جب نڈھال ہو کر گر پڑتے تو اُنہیں اٹھا کر بادشاہ کے کتوں کے آگے ڈالا جاتا۔ یہ کتےان معصوموں کو بھنببوڑ کر انسانیت کا ماتم کرتے۔

    بچوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے والوں میں روس کے ‘آئیون چہارم’، جرمنی کے اڈولف ایکمن، ایڈوولف ہٹلر، بیلجیم کے لیوپول دوم اور سوویت یونین کے جوزف اسٹالن کے نام بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں فراعنہ کی کوئی کمی نہیں۔ ایک فرعون وقت منظم ریاست کی شکل میں دنیا کے نقشے پرموجود ہے۔ اس فرعون کے ہاتھوں سنہ 1948ء سے آج تک فلسطینی قوم کی کئی نسلیں تہہ تیغ کی جا چکی ہیں۔ فلسطین میں قیام اسرائیل کے بعد سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں کسی فلسطینی بچے کوشہید، زخمی یا گرفتار نہ کیا گیا ہو۔ فلسطین میں باربار مسلط کی گئی جنگوں میں بچوں کو آسان شکار کے طورپر نشانہ بنایا جاتا۔

    2014ء کے وسط میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ میں شہید ہونے والے 22 سو شہریوں میں سے 560 بچے تھے۔ سنہ 1967ء کے بعد 80 ہزار فلسطینی بچوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک 12 ہزار فلسطینی نونہال گرفتار کیے گئے اور 4000 ہزار سے زائد شہید کیے جا چکے ہیں۔ فلسطین میں اکتوبر کے اوائل سے جاری تحریک کے دوران صہیونی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے بیشتر فلسطینیوں کی عمریں 18 سال یا اس سے بھی کم ہیں۔

    بچوں کے قتل عام میں فرعون بدنام ہوا مگر وہ قصہ پارینہ ہوگیا۔ انسانی شعور کی پختگی کے اس دور میں بھی فلسطین میں صہیونیوں کےہاتھوں ‘اندھیر نگری چوپٹ راج’ ہے۔ جیلوں میں ڈالے گئے بچوں پرڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم فرعونی مظالم سے کسی بھی شکل میں کم نہیں ہیں۔ بچوں کو گولیاں مارنے اور انہیں زخمی کرنے کے بعد سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ کسی امدادی کارکن کو مرغ بسمل بنے زخمی کی مدد کی اجازت نہیں دی جاتی۔ صہیونی درندے تڑپتے فلسطینیوں کو جام شہادت نوش کرنے کے عمل سے محظوظ ہوتے ہیں۔

    دنیا پھر بھی فلسطینیوں کو ہی دہشت گرد قرار دیتی اور صہیونی گماشتوں کو دنیا کے امن پسند، جمہوریت کے علمبردار اور مظلوم قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ فرعون کے ایجنٹ بنی اسرائیل کے ہاں کسی بھی بچے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر ڈالتے تھے مگر فرعون وقت کا طریقہ واردات کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ آٹھ سے دس سال کے بچوں کو پکڑنے کے بعد کال کوٹھڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اعتراف جرم کرانے کے لیے ان کے ہاتھوں کے ناخن کھینچے جاتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ الٹا لٹکا کر کوڑوں سے مارا جاتا ہے۔ تشدد کے آحری حربے استعمال کرکے بچوں کو شہید یا تاحیات اپاہج اور معذور کر دیا جاتا ہے۔ مظالم کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ فرعونیت بھی ان کے سامنے بے معنی ہو جاتی ہے۔

  • وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی…از..انشال راؤ

    وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی…از..انشال راؤ

    دنیا کے نامور دانشوروں نے کہا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست Failed State ہے مگر ریاست اس موقف پہ ڈٹی رہی کہ یہ متعصبانہ رائے ہے اور میں آپ ہاں میں ہاں ملاتے رہے، دنیا کے بڑے بڑے اخبارات میں آرٹیکلز شایع ہوے کہ ریاست پاکستان ایک ناکام ریاست ہے لیکن جواباً کہا گیا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں،

    الطاف حسین سے BLA اور منظور پشتین گروہ نے بیانیہ چلایا کہ پاکستان اب ناکام ملک بن کر رہ گیا ہے تو جذبہ حب الوطنی سے سرشار عوام نے انہیں غدار گردانا، لیکن آج لاہور کی صورتحال پر ریاست و ریاست چلانے والوں کے کردار، قانون و قانون نافذ کرنے والوں کے کردار سے یہ بات کھٹک نہیں رہی بلکہ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی پاکستان ایک ناکام ریاست ہے،

    آج لاہور میں نام نہاد وکلاء نے دہشتگردی و غنڈہ گردی کی ساری حدیں پار کرلیں، دنیا کی تاریخ میں کبھی جنگوں کے ماحول میں بھی اسپتالوں پر یلغار نہیں کی، شام سے لیبیا اور یمن سے عراق و افغانستان تک خواہ کتنی ہی خانہ جنگی رہی مگر کسی جنگجو گروپ نے کبھی ہسپتال پہ چڑھائی نہ کی لیکن LLB کی ڈگری لے کر وکیل بن جانے والوں نے آج دنیا کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کردیا اور یہ باب بھی پاکستان ہی کے کھاتے میں آیا کہ پہلی بار ہسپتال پر اتنی شدید قسم کا بیرونی حملہ ہوا جوکہ وکلاء کی جانب سے کیا گیا، توڑ پھوڑ اور عملے و مریضوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں متعدد مریض جاں بحق ہوگئے،

    وکلاء دہشتگردوں نے حساس وارڈوں کو بھی نہ بخشا، جسکے نتیجے میں درجن سے زائد مریض موقع پر جاں بحق ہوگئے مصدقہ اطلاعات کے مطابق آئی سی یو وارڈ میں موجود تمام مریض جاں بحق ہوگئے اس کے علاوہ آپریشن تھیٹر میں موجود مریض و دیگر بہت سے اللہ کو پیارے ہوے لیکن وکلاء دہشتگردوں کی صحت و سوچ پہ کوئی فرق نہ پڑا، وکلاء گردی کی ہی نہیں بلکہ دہشتگردی کی یہ دنیائے تاریخ کی سب سے بڑی دہشتگردی ہے لیکن نااہلیت، نااہلیت، نااہلیت کا بھی یہ دنیا کا سب سے بڑا واقعہ ہے تاریخ عالم میں اس سے پہلے نااہلیت کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی کہ پوری قوم وکلاء گردی پر غم و غصے کے عالم میں تھی،

    وکلا دہشتگردی کرتے رہے لیکن حکومت اپنی نااہلی کی روایت پہ قائم رہی، یقین جانئے جب یہ سب ہورہا تھا تو میرے زہن میں صرف ایک ہی بات آرہی تھی کہ بہت سے لوگ بےموت مارے گئے ہونگے، سینکڑوں بےقصور زخمی ہوے ہونگے، بہت سارے لوگوں کا نقصان بھی ہوگا، لاکھوں لوگ تکلیف کا سامنا کرینگے، میڈیا پر یہ سب دیکھ کر کروڑوں افراد ذہنی اذیت و مایوسی کا شکار بھی ہونگے،

    اس پر میرے زہن میں جو تھا بالکل وہی ہوا کہ اتنا سب کچھ ہوگا مگر وہی روایتی طور پر بیان آئیگا کہ وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، وزیراعلیٰ کے حکم پر فلاں فلاں پہ مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی، وزیراعظم و وزیراعلیٰ نے رپورٹ طلب کرلی، بہت سے لوگ مذمت کرینگے، مختلف قسم کے القابات سے نوازا جائیگا، بیانات آئینگے کہ سخت ایکشن لیا جائیگا وغیرہ وغیرہ، بالکل ایسا ہی ہوا وزیراعظم نے نوٹس لیکر رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلیٰ نے کمیٹی بنادی،

    بہت سے مذمتی و ایکشن لینے کے بیانات بھی آتے رہے لیکن ایکشن نظر نہ آیا لاقانونیت، نااہلی، غنڈہ گردی اپنی جگہ قائم رہی، وکلا دہشتگرد وہاں سے منتشر ہوے تو سول سیکریٹریٹ کے سامنے جاکر سڑک بلاک کردی اور یوں پورا شہر جام ہوگیا، پولیس افسران نے اجلاس بلالیا اور معاملے کے حل کے لیے غور ہونے لگا، ڈھٹائی اور بےغیرتی خود حیران ہوکر رہ گئ جب دوسرے شہروں میں وکلاء سڑکوں پہ آکر دہشتگردی کی حمایت میں احتجاج کرنے لگے،

    حکومتی افراد روایت کے مطابق رپورٹ کمیٹی اور بیانات و پریس کانفرنس کے دائرے تک محدود رہے اور نااہلی کی انتہا تو یہ ہے کہ وزیر قانون راجہ بشارت صاحب نے فرمایا کہ دونوں گروپوں میں صلح کروائی جائیگی جوکہ شرم کی بات ہے کہ یہ ریاست چلانے والوں کا حال ہے کہ داداگیری دندناتے پھر رہی ہے مگر حکومت چپ سادھے دیکھ رہی ہے، اگر پنجاب پولیس و حکومت سے وکلا کی غنڈہ گردی کنٹرول نہیں ہوتی تو میرا مشورہ ہے کہ سندھ رینجرز سے خدمات لے لیں اور قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ڈی جی رینجرز سندھ کو سونپ دیں تو گھنٹوں کے اندر اندر سب کچھ سامنے آجائیگا،

    وکلاء تو ایسے سیدھے ہونگے کہ رینجرز کو دیکھتے ہی مارے خوف کے اپنا کالا کوٹ اتار دیا کرینگے اور اگر اسکے پیچھے کسی کا ہاتھ یا سازش ہوگی تو وہ بھی سامنے آجائیگی، بات درحقیقت نیتوں کی ہوتی ہے اگر حکومت رٹ قائم کرنا چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا، بائیس اگست 2016 کا دن سب کے سامنے ہے MQM کے ورکرز نے مشتعل ہوکر ایک نجی چینل کی بلڈنگ میں توڑ پھوڑ کی تو ریاست حرکت میں آگئی کہ ایک ہی دن میں کئی سو چھاپے مارے گئے کئی سو متحدہ کارکنان گرفتار کرلیے گئے خواتین تک کو نہ بخشا گیا پھر کیا تھا کہ خوف کی فضا قائم ہوگئی وہی کراچی جو بدامنی و غنڈہ گردی کے طور پر صرف قومی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی شہرت رکھتا تھا دیکھتے ہی دیکھتے سارا شہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں آگیا،

    بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ریاست کے لیے MQM کو گھنٹوں میں زیر کرلینا کوئی بڑی بات ثابت نہیں ہوا جس کے پاس ہزاروں نہیں لاکھوں کارکنان بھی تھے لیکن یہ جو چند وکلا دہشتگرد ہیں کنٹرول نہیں ہوسکتے، بات وہی ہے کہ جب نیت کرنے کی نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا، آج وکلاء نے قانون کو ہاتھ میں لیا دہشتگردی کی وہ دراصل اس ملک میں رائج نظام کا حصہ بن چکا ہے معاشرتی جُز ہے کہ طاقتور کمزور کے لیے فرعون بنا ہوا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہ طاقت کے نشے میں غرق ہوکر کچھ بھی کرڈالتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہونا تو کچھ ہے ہی نہیں کیونکہ قانون یہاں مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے اور قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے ہی سارے مسائل پاکستان میں موجود ہیں،

    کسی بھی ریاست کی ناکامی صرف قانون کی کمزوری سے ہی مراد لی جاتی ہے، ریاست چلانے والے اگر چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی و خوشحالی کے ٹریک پہ رہے تو قانون کی بلاتفریق عملداری یقینی بنانا ہوگی، حکومت و اس کے ہمدرد اگر چاہتے ہیں کہ لوگ ان پہ نااہلی کا ٹھپہ نہ لگائیں تو یہ ایک سنہرا موقع ہے دہشتگرد وکلا کے خلاف صرف ایکشن نہ لیا جائے بلکہ فوری ایکشن لیکر اس معاملے کو دو چار دن میں ہی منطقی انجام تک پہچائے دہشتگرد وکلا کو ایسی سزا دی جائے کہ وہ عبرت بن جائے تب ہی قانون کی بحالی بھی ممکن ہے اور حکومت سے نااہلی کا ٹھپہ بھی ہٹ جائیگا ورنہ ابتک کی صورتحال سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی تو نہیں آئی کپتان صاحب خود تبدیل ہوکر روایت میں ضم ہوگئے ہیں۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی

  • ولائتی انڈے۔۔۔۔۔غلام زادہ نعمان صابری

    اندرون شہر لاہور کی کچھ گلیاں اور محلے دن کو سوتے اور رات کو جاگتے ہیں۔ایسے ہی ایک محلے کی گلی کا موڑ مڑتے ہوئے اس نے دیکھا کہ چند بابے تھڑے پر بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔

    اس نے موڑ مڑتے ہی با آواز بلند گرم انڈوں کا نعرہ لگایا جو سیدھا ان کے کانوں سے جا ٹکرایا۔سردیوں کی رات کی ٹھنڈ،تاش کا چسکا اور گرم انڈوں کی پراسرارلذت نے ان کے دل ودماغ کو یکجان ہو کر سوچنے پر مجبور کر دیا کہ گرم انڈوں کی آواز لگانے والے کو فی الفور شرف ملاقات عطا فرمائی جائے اور گرم گرم انڈوں سے لطف اندوز ہوا جائے۔

    باباشیدا ٹانگے والا اور بابا بوٹا تمباکو والا مسلسل تیسری بازی ہار چکے تھے،جیتنے والوں نے گرم چائے کے ساتھ گرم انڈوں کی بھی فرمائش کا اضافہ کر دیاتھا ۔ہارنے والے بھی "تھوہڑ دلئے "نہیں تھے بلکہ جی دار قسم کے بابوں کی فہرست میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔

    بابے بوٹے نے نورے انڈوں والے کو آواز دی اور اپنے پاس بلایا۔نورا انڈوں والا بھی اسی علاقے کا رہائشی اور ان کے قریبی محلے کا باسی تھا اور انڈوں کا تھوک کا کاروبار کرتا تھا،اندرون شہر ولائتی انڈوں کا سب سے پہلے اسی نے کاروبار شروع کیا تھا اور پورے شہر میں اسی کی سپلائی جاتی تھی۔نور محمد سے بالآخربابا نورا انڈوں والا کے نام سے مشہور ہو گیا۔دورونزدیک سے آنے والا کوئی بھی بندہ اگر کسی بچے سے بھی بابا نورے کے بارے میں پوچھتا تو وہ اس کی انگلی پکڑ اسے بابا نورا کی دکان پر پہنچا دیتاتھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور انڈوں کی ڈیمانڈ بھی بڑھنے لگی،مٹھائی سے لے کر بیکری تک اور ہوٹلوں سے لےکر گھروں تک تو انڈوں کی مانگ تھی،انڈہ اچھا ہو تو چلتا ہے گندہ انڈہ کس کام کا۔

    گندے انڈے بھی ہر جگہ پائے جاتے ہیں لیکن سیاست میں گندے انڈوں کی ورائٹی گننا بہت مشکل کام ہے۔
    کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ انڈہ صرف مرغی کا ہی ہوتا ہے?

    سیاست کے گندے انڈوں نے وہ غلیظ بچے نکالے ہیں جنہوں نے پورا ملک تعفن زدہ کر دیا ہے۔ان پر شمامۃ العنبر کی لاکھ بوتلیں چھڑک ڈالیں لیکن خوشبو کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آتا۔

    ہمارا ملک گندے انڈوں کے سبب ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر سکا جو اس کا حق تھا۔آج پاکستان جس چوراہے پر کھڑا ہے اس کے ذمہ دار صرف یہی گندے انڈے ہیں جنہوں نے گندہ ہونے کے باوجود کرشماتی طور پر کچھ نہ کچھ ضرور جنم دیا ہے۔

    بابا بوٹا انڈوں والا جانتا تھا کہ یہ” پتہ کھلاڑی”اپنے پتے کو گرم کرنے کے لئے ٹھنڈی رات کے اس پچھلے پہر گرم انڈے ضرور کھائیں گے۔

    وہ ان کے پاس گیا اور گرم انڈوں والی ٹوکری رکھ کر بیٹھ گیا۔بابابوٹا تمباکو والا نورے کو بہت اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ بابا بوٹا تمباکو والا انڈوں کا حلوہ بہت اچھا بناتا تھا اور وہ انڈے اسی سے خریدتا تھا۔

    بابا بوٹا نے نورے سے پوچھا کہ یار سچ سچ بتانا تو اس مقام تک کیسے پہنچا جبکہ اس علاقے میں تجھ سے بڑا انڈوں کا کوئی سوداگر نہیں تھا اور لوگ قطار میں کھڑے ہو کر انڈے خریدتے تھے۔

    بابا نورا نے دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھے اور ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔
    بوٹے”رج پچانا بڑا اوکھا کم اے”

    میرا انڈوں کا کاروبار اس قدر عروج پر تھا اگر مجھ میں انسانیت ہوتی تو آج میں اس علاقے کا سب سے زیادہ امیر شخص ہوتا۔

    بوٹے تمہیں تو معلوم ہے کہ دیسی انڈے ولائتی انڈوں سے زیادہ مہنگے بکتے ہیں،مجھے ایک دن شیطان نے بہکایا اور میرے کان میں آ کر کہنے لگا کہ نورے ساری زندگی ولائتی انڈے ہی بیچتا رہے گا،کچھ ترقی کرنے کا بھی سوچ میرے کان کھڑے ہوئے میں نے مشورہ مانگا تو کہنے لگا کہ آسان طریقہ ہے ولائتی کو دیسی بنانے کا۔

    بس پھر کیا،پوچھو مت۔۔۔۔۔میں نے شیطان کے بتائے ہوئے فارمولے پر دل و جان سے عمل کیا اور ولائتی انڈوں کو دیسی انڈے بنا کر بیچنا شروع کر دیا،منافع تو بے حد ہوا مگر حرام کی حد ختم ہو گئی۔

    شروع شروع میں تو شیطان نے میرا بہت ساتھ دیا اور میری راہنمائی میں پیش پیش رہا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ وہ مجھے بیچ منجدھار میں ہچکولے کھاتا چھوڑ کر مفرور ہوگیا اس کے جانے کی دیر تھی لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے اور کہنے لگے ۔۔۔۔۔بوٹیا! انڈوں میں دیسی والا سواد نہیں آ رہا۔

    بس پھر کیا !لوگ آہستہ آہستہ دکان کا راستہ بھولنے لگے دیسی اور ولائتی انڈے خراب ہونا شروع ہو گئے،دیسی انڈے بیچتے بیچتے ولائتی انڈے بیچنے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔

    لالچ نے اندھا کردیا تھا اور ہاں بابا بوٹے تجھے یہ بھی بتاتا چلوں کہ وہ شیطان یہ شیدا ٹانگے والا تھا جو تیرے سامنے بیٹھا ہوا شیطانی ہنسی ہنس رہا ہے،یہ خود بھی ڈوبا ہے اور ساتھ مجھے بھی ڈبو دیا۔

    بابا بوٹے نے شیدے کی طرف غراتی نظروں سے دیکھا تو شیدے نے تاش کے پتے جنہیں وہ ہاتھ میں پھینٹ رہا تھا زور سے زمین پر پھینکے اور کہنے لگا،بوٹے ایک بات تو بتا!

    بوٹے نے کہا پوچھ!
    شیدا کہنے لگا اگر میں تمہیں کہوں کہ کنویں میں چھلانگ لگاؤ تو کیا تم کنویں میں چھلانگ لگا دو گے!
    بوٹے نے کہا کہ کیا میں پاگل ہوں

    بس اپنی سوچ اور نورے کی سوچ کا تو خود ہی موازنہ کر لے،شیدے نے بوٹے سے کہا۔
    گرما گرم ولائتی انڈوں کی ٹوکری اتنی دیر میں خالی اور چائے کی پیالیوں پر ملائی کی پرت جم چکی تھی اور مرغوں نے اذانیں دینا شروع کر دی تھیں۔

    ولائتی انڈے۔۔۔۔۔غلام زادہ نعمان صابری

  • نواز شریف سے سوشل تعلق ،چوہدری نثار بیان سے منحرف۔ ۔۔از۔ ۔آصف شاہ

    جھوٹ اور ہماری سیاست کاشائید آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے بڑے سے بڑے پارسائی کے دعویدارسیاست دان بھی بسا اوقات ایساکام کر گزرتے ہیں جن کی ان سے امید نہیں کی جا سکتی قدرت کا اصول شائید اس سے مختلف ہوتاہے بہت کہا سنا اور پڑھا ہے کہ زندگی موت رزق اور عزت زلت رب نے اپنے ہاتھ شائید اس لیے اس دنیاءکا نظام بخوبی چل رہا ہے اور تاقیامت چلتا رہے گاایک سیاسی کارکن اور لیڈر میں کیا فرق ہوتا ہے اس کا اندازہ چند دن قبل ہوا اور ایسا ہوا کہ حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ایک تعزیت کے دوران سابق وفاقی وزیرداخلہ بھی آپہنچے جہاں پر دعا کے بعد ملک میں سیاسی سسٹم کی بات چیت چھیڑ دی گئی،جس پر چوہدری نثار علی خان نے حسب روایات مذہبی حوالوں سمیت اپنے آپ کو پوتر ثابت کرتے ہوئے اس تمام نظام کی تباہ کاری کا زمہ تمام سیاسی پارٹیوں اور لیڈران کو زمہ دار قرار دیا،سیاسی طور پر ماحول گرم ہواور صحافی بھی موجود ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سوال سامنے نہ آئے چوہدری نثار پورے جوش کے ساتھ بات کر رہے تھے کہ اسی دوران سینئر صحافی کالم نگار محترم طارق بٹ نے سوال داغ دیاکہ ماہ ریبع الاول کا بابرکت مہنہ ہے اور آپ کی میاں نواز شریف سے 40 سالہ رفاقت ہے کیا ا ن کی عیادت کے لیے جائیں گے تو عظیم سیاسی لیڈر نے لال سرخ ہو کر جو جواب دیا وہ انتہائی حیران کن تھا کہ میں کیوں جاوں عیادت کو نوازشریف سے میرا کوئی کوئی سوشل تعلق نہیں جس پر دوبارہ سوال ہوا کہ کوئی سوشل تعلق نہ سہی لیکن سیاسی تعلق توہے لیکن چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کوئی تعلق نہیں ہے ایسا سوال تو بنتا ہی نہیں ہے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی بات کرنے کے دعوے کرنے والے اور حلقہ میں کروڑوں کے کام کروانے کے دعوے کرنے والے چوہدری نثار علی خان کیا بتانا پسند کرینگے کہ ان کی کروفر کس کی وجہ سے تھی اور ہے وہ تھی ن لیگ جس کی قیادت نے ہمیشہ چوہدری نثار علی خان کو اپنے سے آگے رکھا اور ان کے منہ سے نکلا ہو ایک ایک لفظ کو وہ اہمیت دیتے رہے لیکن جب ن لیگ کی کشتی میں سوراخ کی ابتداءکی گئی تو اس میں پہلا قطرہ بھی چوہدری نثار علی خان بنے اور انہوں نے بڑے زعم سے کہا کہ مجھے کسی کی کوئی ضرورت نہیں بات اگر سوشل تعلق ہونے یا نہ ہونے کی ہے تو کیا میاں نواز شریف اور ن لیگ کی اتنی بھی حثیت نہ رہی ہے کہ کارکنان کے پاس جانے والے چوہدری نثار نے میاں نواز شریف کی تیماردار ی تک کرنا گوارا نہیں کیا،اس سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب اس خبر کی تردید سامنے آئی کہ چوہدری نثار علی خان نے ایسی کوئی بات کی ہی نہیں ہے راقم عین چوہدری نثار علی خان کے سامنے موجود تھا وہاں پر موجود بیشتر مقامی سیاسی رہنماوںجن کا نام لکھنا مناسب نہیں ہے سے ایک مودبانہ سا سوال ہے کہ کیا وہ اس بات کا حلف دے کر کہ سکتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے طارق بٹ کے سوال پر یہ جواب نہیں دیا تھا ،یہ ایک اس لیڈر کی کوالٹی تھی کہ جس نے چار دہائیوں سے جس پارٹی کی اینیٹں لگانے کے دعوے کے اس کی اور اگر میاں نواز شریف کی کوئی کوالٹی اور سوشل تعلق نہیں تھا تو عام ورکروووٹرز اور جیپ کے سامنے ناچنے والوں کو اپنی حثیت کا بخوبی اندازہ ہوناچاہیے،اب ایک رخ یوسی کے ایک کارکن اورمقامی لیڈر کاجس نے پارٹی سے وابستگی کو ثابت کیا یوسی غزن آباد سے تعلق رکھنے والے وائس چیئرمین ظفر مغل کاجس نے گزشتہ الیکشنوں میں جب ن لیگ کی سیاسی کشتی وقتی طور پر ڈوب رہی تھی تو اس کے ساتھ موجود چیئرمین نے جیپ کی سواری کو ترجیح دی اور پارٹیاں بدلنے والوں نے اپنی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے صداقت عباسی کو پھولوں کے گلدستے پیش کر کے اپنی وقتی سیاسی رقابت داری کا یقین دلایاکیونکہ اس کی سیاسی شہرت اسی چیز کی حامل ہے کہ وہ وقت بدلنے پر پارٹیاں بھی بدلی کرتے ہیں لیکن اس کڑے وقت میں مرد آہن نے نہ صرف یوسی کی سطح پر ڈٹ کر کھڑا ہوا بلکہ اس نے تمام سیاسی جماعتوں کی سیاست کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنی یوسی میں شاہد خاقان عباسی کی لیڈ کو پونے چار سو میں بدلا یوسی سے جتوایا بلکہ انہوں نے صوبائی سطح پر انہوں اس وقت نیب کے سکنجے میں کسے ہوئے قمراسلام کی بھر پور حمائیت کی اور اوپر اور نیچے کی سیاست کو دفن کر دیا اب بھی اگر ان کی سیاسی بصیرت پر نظر ڈالیں تو وہ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی دھڑوں کو سیاسی طور پر مکمل زیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وقت پڑنے پر کسی بھی سیاسی جماعت پر سیاسی بصیرت سے پچھاڑ سکتے ہیں اب میرا اپنے جیسی مسائل کی چکی میں پسی ہوئی عوام سے ایک سوال ہے کہ کون سیاسی حوالہ سے بہتر ہے ایک یوسی کا وہ سیاسی لیڈر جو ہر مشکل میں اپنے لیڈران اور کارکنان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے یا چوہدری نثار علی خان جن کے سامنے چالیس سالہ سیاسی رفاقت کی کوئی حثیت نہ ہے اس کا جواب عام عوام ہی بہتر دے سکتی ہے ہمارا سیاسی نظام اور ہم اتنے ڈوب چکے ہیں اس کا اندازہ تھا لیکن اتنا زیادہ ڈوب چکے اس کا ادراک ااب ہوا ہے

  • مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری

    مولانا فضل الرحمن بھی خارجیانہ روش پر!!! تحریر غنی محمود قصوری

    ارض پاک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی اداروں سے ٹکراءو ہے جس سے پاکستانی گورنمنٹ کے علاوہ عام پاکستانی عوام کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوتا ہے یوں تو قیام پاکستان کے بعد سے ہی ایسے شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ابھرنے لگے تھے مگر پچھلی تین دہائیوں سے ایسے شر پسند عناصر اور تنظمیوں میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے پیچھے خالصتا پاکستان مخالف بیرونی ہاتھ ہیں جیسا کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی تانیں اسرائیلی موساد اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی را سے ملتی ہیں
    حالانکہ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 256 کے تحت کوئی بھی سیاسی و مذہبی جماعت، تنظیم یاں فرد ایسی کوئی بھی ٹیم تیار نہیں کر سکتا جو فوج جیسی صلاحیت رکھتی ہو یعنی کہ ایسا دستہ جو مسلح ہو یاں غیر مسلح ہو کر فوج جیسی کاروائیاں کر سکے، مار کٹائی وگوریلا جنگ اور روایتی جنگ جیسی صلاحیتیں رکھتا ہو آئین میں اس آرٹیکل کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی شخص یاں گروہ اپنی فوج بنا کر ارض پاک کو نقصان نا پہنچا سکے کیونکہ ماضی میں اسی بدولت مکتی باہنی بنا کر چند بے ضمیروں نے 1971 میں ارض پاک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا
    آئین پاکستان کے علاوہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اپنے مسلمان ملک کے اداروں سے مسلح ٹکراؤ کی بڑی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور ایسا کرنے والوں کو خارجی یعنی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور خارجیوں کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ جہنم کے کتے ہیں
    آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی فرد ،گروہ یاں جماعت کسی بھی حکومتی ادارے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر سکتا ہے
    پاکستان میں ایسی کئی سیاسی و مذہبی جماعتیں ہیں جو آئین پاکستان اور احادیث نبوی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی اداروں پر یلغار کر چکی ہیں جن میں حالیہ دہائی میں سر فہرست تحریک طالبان پاکستان، ایم کیو ایم بی ایل اے ،بی ایل ایف اور پی ٹی ایم یعنی پشتون تحفظ موومنٹ ہیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی کرتی رہی ہیں بلکہ کئی بار مسلح ریاستی اداروں پر یلغار بھی کر چکی ہیں جیسا کہ رواں سال 26 مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں آرمی چیک پوسٹ پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے حملہ کیا اور 5 فوجی شہید اور درجن کے قریب زخمی ہوئے مگر افسوس تو مولانا فضل الرحمن کی سیاسی جماعت کی ذیلی عسکری ونگ انصار الاسلام پر ہے کہ جس نے کل بروز پیر بلوچستان کے علاقے برکھان میں لیویز فورس کی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس پر لیویز فورس نے اپنے دفاع میں ہوائی فائرنگ کی جس سے انصار الاسلام کے بدمعاش بھاگ گئے مولانا صاحب آپ تو ایک عالم دین اور بزرگ سیاستدان ہیں کیا آپ نے احادیث نبوی اور آئین پاکستان کا مطالعہ نہیں کیا؟ اگر آپ واقعی اسلام آباد کی بجائے اسلام کے ،مجاہد ہیں تو اپنی اس جماعت انصارالاسلام سے برات کا اعلان کیجئے تاکہ واضع ہو سکے کہ آپ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور آپ کا مقصد اسلام ہے ناکہ کرسی وزارت اسلام آباد یقینا مولانا صاحب آپ کو اپنی جماعت کی کرتوت کی خبر تو مل ہی گئی ہوگی تو پھر دیر نا کیجئے وضع کیجئے کہ کرسی وزارت اسلام آباد یاں صرف اسلام
    #قصوریات