Baaghi TV

Category: سیاست

  • ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    وطن سے الفت و محبت اور اس سے متعلق ہر چیزسے حد درجہ قلبی تعلق بلا قید مذہب وملت ہرانسان بلکہ ہر ذی روح کے اندر قدرت کی طرف سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔اس کے لیے آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے ہی آس پاس نظر دوڑائیں توآپ کو بے شمار مخلوق آپ کو زمین وآسمان میں ایسی مل جائیں گی جو صبح اپنے رزق کی تلاش میں نکلتی ہیں اور شام ہوتے ہی اپنے محبوب گھر کی طرف واپس لوٹ جاتی ہیں

    انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جس سر زمین پریہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے،پرورش پاتا ہے،عنفوان شباب کو پہنچتا ہے،شادی بیاہ کرتا ہے،ملازمت وتجارت کرتاہے اور آخر میں اسی کی سرزمین کو اپنی آرام گاہ کے لیے پسند کرتا ہے ،اس کی یادیں اور اس سے متعلق ہر چیز کی محبت اس قداس کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں کہ وہ وطن کی آن بان اور شان کے لیے جان تک کی بازی لگانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا

    کسی بھی ملک میں رہنے والے لوگ اس ملک، ریاست سے محبت کرتے ہیں
    اس ملک کی مٹی کی خوشبو سے پیار کرتے ہیں
    ملک کی مٹی کو دھرتی ماں کہتے ہیں
    ملک کوئی بھی ہو اسلامی ہو یا غیر اسلامی ملک سے محبت وہاں کے شہری کرتے ہیں
    بھلے ملک کی حکمرانی ان کی مرضی کے لوگوں کی ہو یا مخالفین کی ان کی ملک سے محبت کا اپنا انداز ہوتا ہے
    وہ ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں

    ملک کے اندر کے معاملات جیسے بھی ہوں لیکن ملک سے باہر سے اگر کوئی بات کرے تو اس کو سب مل کر جواب دیتے ہیں
    وطن سے محبت ایک فطری امر ہے ، بہت سی احادیث سے وطن کی محبت پر راہنمائی ملتی ہے ، ہجرت کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:مَا أَطْیَبَکِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّکِ إِلَیَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِی أَخْرَجُوْنِی مِنْکِ مَا سَکَنْتُ غَیْرَکِ۔تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے ! اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پر مجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ سے محبت کا ذکر فرمایا ہے

    اسلام بھی ہمیں اپنے ملک، وطن، سرزمین سے محبت کا درس دیتا ہے
    ملک خداداد پاکستان میں کچھ سیاسی جماعتوں کے لوگ، کچھ مفاد پرست نام نہاد عوامی نمائندے ملک دشمنی میں اس قدر گر چکے ہیں جو نا تو شرعی حدود کا خیال کرتے ہیں اور نا ہی ملکی قانون کا وہ ہر موقع ملنے پر ملکی اداروں اور پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بنتے نظر آتے ہیں

    ملک کو اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ساتھ مل کر کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    شرعی اعتبار سے بھی وطن سے محبت کرنا سنت انبیاء ہے

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میںاپنی جان کی محبت کے ساتھ اپنے وطن سے محبت وتعلق کو ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔

              ’’ اور اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرلو اور اپنے گھروں سے نکل جاؤتو وہ ہرگز نہ کرتے سوائے چند افراد کے‘‘۔(سورہ نساء)۔

              اور دوسری جگہ پر وطن کی محبت کو دین و مذہب سے جوڑ کر فرماتا ہے: اللہ نے تم کو ان کے ساتھ نیکی اور انصاف سے منع نہیں کیا،جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ ہی تم کو تمہارے گھروں سے نکالا  ‘‘
    (سورہ ممتحنہ)

              جب نبی رحمتﷺ نے مدینہ منورہ کو وطن بنا لیا تو دعا میں فرما یا کرتے تھے:اے اللہ ہمارے اندر مدینہ کی اتنی محبت پیدا کر دے،جتنی تونے مکہ کی محبت دی ہے،مدینہ کی آب وہوا درست فرمادے اور ہمارے لیے اس شہر کو برکت والا بنادے۔مدینہ جو یثرب ہے اس سے بخار کو دوسری طرف منتقل فرمادے‘‘
    (بخاری)

    سیاسی اختلافات کو بھول کر ایک پیج پے آئیں اور ملک و قوم کی سلامتی و خوشحالی کے لئے ایک ہو کر ملک کے لیے کام کریں

    Talat K Salam
    @alwaystalat

  • اچانک سے سستے دانشور،عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ تحریر:رانا عزیز

    اچانک سے سستے دانشور،عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ تحریر:رانا عزیز

    وزیراعظم عمران خان نے حالیہ ایک انٹرویو دیا جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا اور اس انٹرویو کو توڑ مروڑ کرایسے پیش کیا گیا کہ عمران خان کے کچھ کلپس کو کاٹ دیا جس میں اینکر نے خواتین اور جنسی زیادتی کے حوالے سے سوالات پوچھے اور عمران خان نے پھر ہندتوا اور مغرب کے کلچر کو بوچھاڑ کر رکھ دیا
    وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر انہیں اپوزیشن سمیت کئی خواتین نے بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ بات کہہ کر ہماری دل آزاری کی ہے، انہوں نے جنسی ہوس کو خوتاین کے کپڑوں سے منسوب کر دیا ہے جبکہ ملک میں کم سن بچیوں کے ساتھ بھی جنسی استحصال کے واقعات ہو رہے ہیں، ایسے میں کیا بچیاں بھی مختصر کپڑے پہنتی ہیں؟ تاہم اب وزیراعظم عمران خان کے اس انٹرویو کا وہ حصہ سامنے آ گیا ہے جو غیر ملکی ٹی وی نے نشر ہی نہیں کیا۔
    سیاست ڈاٹ پی کے نامی ویب سائٹ نے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے سیاق و سباق پر مبنی غیر ایڈٹ شدہ ایک ویڈیو کلپ شئیر کیا جس میں اینکر نے وزیراعظم عمران خان سے سوال کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر آپ عریانیت کو فروغ دیں گے تو اس سے اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو گا، آپ نے جو گفتگو کی اس پر بڑا رد عمل آیا، اس کا جواب کیسے دیں گے ؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواباً کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔

    میں جو کہنا چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ یہ جُرم بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب میں وزیراعظم بنا تو میں نے پولیس سربراہوں کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کون سا جُرم سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے ؟انہوں نے مجھے بتایا کہ جنسی تشدد سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جنسی تشدد میں صرف ریپ شامل نہیں ہے۔ اس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔
    بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا سُن کر مجھے بے حد دُکھ ہوا۔ اس میں تکلیف دہ امر یہ تھا کہ صرف ایک فیصد ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔جب کسی بچے کے ساتھ ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے یعنی کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ان کی فیملی شرم کی وجہ سے ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتی۔ لہٰذا میں جو کہہ رہا تھا وہ یہ تھا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف ایک فیصد مجرموں تک پہنچ پاتے ہیں۔

    ایسی صورتحال میں ایسے جرائم کا سامنا پورے معاشرے نے کرنا ہوتا ہے۔ سوسائٹی ایسے جرائم کا مقابلہ آگاہی سے کر سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی حجاب کا نہیں کہا، میں نے پردے کے تصور کی بات کی تھی، میں نے مزید کہا کہ نائٹ کلبز جیسی چیزیں ہمارے ہاں نہیں ہیں،مغربی معاشرے کی طرح ہمارے ہاں ایسے مقامات نہیں ہیں جہاں لڑکے لڑکیاں آپس میں میل جول کر سکیں،اسی لیے ہمارا معاشرہ اور طرز زندگی مغرب سے بالکل مختلف ہے۔
    ایسے معاشرے میں اگر آپ عریانیت کو فروغ دیں گےاور پھر نوجوان لڑکوں کے پاس کوئی ایسی جگہ بھی نہ ہو جہاں جا کر وہ اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ اس سے معاشرے میں جرائم میں اضافہ ہو گا جو ہمارے کرائم چارٹ سے بھی واضح ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنسی تشدد کے واقعات کو روکنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ قانون نافذ کر کے ان کو روکا جائے۔
    لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر واقعات، زیادہ تر سے میری مراد ہے کہ پولیس کے مطابق جنسی تشدد کے 99 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے اسی لیے پورے معاشرے کے یعنی عوام ، اسکولز ، اُساتذہ ، میڈیا وغیرہ سب کو اس میں کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ اسی طرح ہم عوام میں آگاہی پیدا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں نے پردے کے تصور کی بات کی تھی۔

    اور مجھے یاد ہے کہ میں نے کیا کہا تھا۔ میں نے پردے کی تصور کی بات کی تھی،پردے کا مطلب ہے کہ ہوس سے بچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پردہ صرف منہ ڈھانپنا نہیں بلکہ معاشرے میں عریانیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اینکر نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ پاکستان میں آپ کے خیال میں عریانیت کی کون کون سے قسمیں ہیں جو ختم کرنے کی ضرورت ہے؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ اس کا ایک اہم ذریعہ تو موبائل فونز ہیں، آج کل موبائل فونز پر جو مواد دستیاب ہے، نو عمر بچوں یا لڑکیوں کو انسانی تاریخ میں اس قسم کے مواد تک کبھی رسائی حاصل نہیں تھی
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آ خر یہ اچانک سے سستے دانشور، نام نہاد صحافی ، عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ اس کی وجہ کیا ہے ؟ پاکستان کو کیسے اب مزید کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گا ؟ یہ وہ سوال ہیں جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے
    عمران خان سے امریکا نے اڈے مانگے افغانستان میں حملے کرنے کیلے اور اس خطے کی نگرانی کرنے کیلیے عمران خان نے صاف صاف انکار کردیا اور کہا ( absolutely not) تو اس کے بعد اس بیان سے دنیا کی توجہ اٹھانے کے لئے اور پاکستان میں پوری قوم جو عمران خان کی نظریاتی مخالف بھی تو وہ بھی کپتان کے ساتھ کھڑے ہوگیئے، تو امریکا نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہویے عمران خان کے کلپس کو مسخ کر کے اور کلپس کاٹ کر چلا دیا جس سے دنیا میں نئی بحث چڑھ گئی، اسی کو ہماری قوم کو سوچنا ہوگا کہ دشمن ہم پر مسلط ہونے کی کوشش کر رہا ہے. عمران خان نے کہا ہم پہلے ہی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں، اگر امریکا 20 سال بعد بھی تاریخ کی سب سے طاقتور فوجی مشین کے ساتھ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکا تو یہ امریکا ہمارے ملک کے اڈوں سے کیا کرسکے گا؟
    عمران خان نے امریکا کے خلاف بیان دے کر جان خطرے میں ڈال دی ہے. ۔ یا تو ان کی زندگی کو خطرہ ہے یا ان کی حکومت کو. وگ کہہ رہے ہیں کہ امریکا نے تو لیاقت علی خان کو بھی قتل کرا دیا تھا کیونکہ انہوں نے ایران میں مداخلت سے انکار کیا تھا اور اب عمران خان کے خلاف بھی پراپیگنڈہ شروع ہو گیا،این جی اوز نے بھی کام شروع کر دیا ہے،بڑے پیمانے پر فنڈ ملتے ہیں اور حکومت کو اس کی بھی تحقیقات کرنی چاہئیے۔

  • منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان
    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا خلاصہ یہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت وہ ”منّی“ ہے ۔ جو بار بار بدنام ہوتی ہے۔ پھر چاہے الیکشن ہوں ۔ اس کے بعد رزلٹ ہوں ۔ بجٹ ہو ۔ یا پھر کسی بل کو پاس کرنے کا موقع ۔ ہمیشہ اسمبلی سیشن شروع ہوتے ایک نئی طرح کی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ اسمبلی چاہے صوبائی ہو یا وفاقی ۔ گالم گلوچ ، مارکٹائی trade mark بن گیا ہے ۔ یعنی ممبران اسمبلی کا زبان اور کردار ایک ہی رہتا ہے ۔ اب تو اتنی بار ایوان مچھلی منڈی بن گیا کہ مچھلی منڈی والوں کو شرم آنا شروع ہوگئی ہے ۔ مگر ہمارے ممبران اسمبلی کا رویہ نہیں بدلا ۔

    ۔ میرے نزدیک مسلسل ان واقعات سے جمہوریت، پارلیمان، پارلیمانی نظام اور سیاست دان مکمل طور پر ڈس کریڈٹ ہو چکے ہیں ۔ کیونکہ حالیہ دنوں میں قومی اور بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا ہے اُس پر پاکستانی جمہوریت برسوں شرمسار رہے گی۔ ۔ ساتھ ہی جو کچھ ہوا، اُس کا سہرا کسی ایک جماعت کے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ سرکاری اور اپوزیشن بنچ برابر کے شریک سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں تو جو ہوا سو ہوا مگر بلوچستان اسمبلی میں تو یوں لگا جیسے کسی ایکشن فلم کی شوٹنگ چل رہی ہو ۔ وہاں اپوزیشن کا اعلان تھا کہ سرکاری ارکان کو ایوان میں جانے دیں گے نہ بجٹ پیش کرنے دیں گے اس لیے دروازوں کو تالے لگا دیئے ۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا راستہ بھی روکا گیا،لیکن پولیس نے بکتر بند گاڑی کے استعمال سے دروازہ توڑ کر راستہ نکالا۔ جوتے بھی چلے ۔ ممبر اسمبلی زخمی بھی ہوئے ۔ یہ اپنی طرز کا انوکھا احتجاج تھا۔اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہماری پارلیمانی روایات کتنے خطرے میں ہیں۔ مگر اپوزیشن کی منہ زوری یقینا یک طرفہ نہیں ہے، حکومت کی منہ زوری اس کا سبب بنتی ہے۔ اگر مخالفوں کو دیوار سے لگانے کا رویہ اپنایا جائے گا، تو پھر ہنگامے ہوں گے،آگ بھڑکے گی اور اس آگ میں بہت کچھ بھسم بھی ہو گا۔

    ۔ پہلے بھی کئی بارعرض کر چکا ہوں کہ قوم اب ان مہنگی ترین اسمبلیوں اور عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے عوامی نمائندوں کا بوجھ اُٹھاتے اٹھاتے ہلکان ہوچکے ہیں۔ اب تو بے زار بھی دیکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ عالم ہے کہ عوام اس طرزِ حکمرانی کے برے اثراتِ سہتے سہتے حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ لگتا ہے نہ حالات بدلیں گے نہ عوام کی حالتِ زار بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ یہ رونا تو اب عوام کا مقدر بن گیا ہے ۔ کیونکہ ہر نیا دور اور آنے والا حکمران کچھ کرے نہ کرے عوام کی ذلت اور دھوکوں میں ضرور اضافہ کر جاتا ہے۔ جس معاشرے میں عوام زندہ درگور اور اچھی خبر کو ہی ترس جائیں وہاں کیسی گورننس اور کہاں کا میرٹ؟

    ۔ پی ٹی آئی پر بھی تعجب ہے آدھی مدت گزارنے کے باوجود بھی طرزِ حکمرانی کے لیے کبھی ریاست مدینہ کا ماڈل پیش کیا جاتا ہے
    تو کبھی چین کا ، کبھی ملائیشیا کا ، تو کبھی یورپ کا جبکہ عوام کہتے ہیں کہ ہمیں نہ کوئی بیرونی ماڈل چاہیے اور نہ ہی کوئی نیا پاکستان ہمیں تو بس پرانا پاکستان لوٹا دیں۔ ہم پرانی ذلتوں اور مشکلات پر ہی گزارہ کر لیں گے۔ ہمیں نئے پاکستان کی وہ ذلتِ نہیں چاہیے جس کا کوئی اختتام ہی نہ ہو۔ ساتھ ہی اپوزیشن کو این آر او ملے گا یا نہیں ملے گا اس کا فیصلہ خدا جانے کس نے کرنا ہے؟ مگر جس نے کرنا ہے وقت آنے پر یہ پتہ چل جائے گا۔

    ۔ مگر اس تمام شور شرابے میں عوام کے لیے آٹا ، چینی ، گھی ، دالیں اور پیڑول مہنگا ہوچکا ہے ۔ اصل واردات یہ ہے جو عوام کے ساتھ یہ حکومت ڈال چکی ہے ۔ پتہ نہیں اب وہ فلاسفر کہاں ہیں جو اس بجٹ کے عوامی ہونے اور ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے دار تھے ۔ اب ان کو گزشتہ ایک ہفتے میں آٹا کی قیمت 27 روپے بڑھی ہوئی دیکھائی نہیں دیتی۔ اور تو اور پرندوں کو جو ۔۔۔ باجرہ ۔۔۔ بطور دانہ ڈالا جاتا ہے۔ رمضان سے پہلے یہ 65روپے کلو تھا آج 95 روپے ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس برس قربانی کے جانوروں کی قیمت کیا ہو گی۔ مجھے بتائیے ان حالات میں کیسے یقین کیا جائے کہ ملک کی معیشت سنبھل گئی ہے۔ اور یہ دو تین چیزوں کی مثال میں نے ایسے ہی سمجھنے کے لئے دے دی ہے ۔ وگرنہ زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہیں ہے بلکہ اس نے بڑے بڑے عزت داروں کی چینخیں نکوادی ہیں۔

    ۔ حالت یہ ہوچکی ہے کہ لوگ بچے سکول سے اٹھا رہے ہیں ۔ چند دن پہلے جو تفصیل آئی اس کے مطابق گندم ، چینی ، دودھ ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے ۔ آپ ذرا بازار جا ئیے ہر ضرورت کی چیز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ضرورت کی کوئی چیز ایسی نہیں جو مہنگی نہ ہوئی ہو۔ دراصل معیشت تباہ نہیں ہو رہی ۔ ملک تباہ ہو رہا ہے۔ مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ مہنگائی صرف غربت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی ایک پوری نسل کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیسی قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کیا پناہ گاہوں میں پلنے والے ملک چلا سکیں گے یا ملک چلانا صرف ایک طبقے کا کام رہے گا۔ آج بھی کسی سے پوچھ لیجیے۔ کسی کو حکومت کی کسی بات کا یقین نہیں۔ نہ آنے والے انتخابات سے غرض ہے ۔ صرف پوری قوم عمران خان سے یہ فریاد کرتی دیکھائی دیتی ہے کہ آپ اپوزیشن کو این آر او دیں نہ دیں لیکن ہمیں ضرور این آر او دے دیں۔ ہماری زندگیاں آسان کر دیں۔

    ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنوں کو اپنے سیاسی بیانیے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ یہ بیانیہ پاکستان کے جمہوری اور سیاسی عمل کو نئے خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے ابتدا سے ہی سیاست دانوں کو کرپٹ ، چور اور ڈاکو قرار دینے والا بیانیہ اختیار کیا۔ جس کا فائدہ کم الٹا نقصان زیادہ ہوا ہے ۔ کیونکہ اب تک نہ تو نیب نہ ہی حکومت کسی چور ، ڈاکو یا کرپٹ کو سزا دلوا سکی ہے یا کم ازکم ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کر پائی ہے ۔ تحریک انصاف کے اس سیاسی بیانیہ کے لئےمیں کوئی اور الفاظ استعمال نہیں کروں گا بلکہ صرف اتنا کہوں گا کہ یہ بیانیہ جمہوری اقدار اور رویوں کے منافی ہے۔ اس بیانیے نے سیاست اور سیاست دانوں کو گالی بنا دیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سیاست اور سیاست دانوں پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ نہ صرف سارے سیاست دان ایک جیسے ہوتے ہیں بلکہ ساری سیاسی جماعتیں بھی ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔

    ۔ اس وقت پاکستان سیاسی قیادت کے بحران میں ہے اور قومی اسمبلی کے حالیہ واقعات سے اس بحران کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت حکمران جماعت تحریک انصاف مبینہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈلز کی وجہ سے بحیثیت سیاسی جماعت اندرونی لڑائیوں کا شکار اور کمزور ہو چکی ہے ۔اس کی حکومت کو اپنے اندرونی مسائل اور ناراض دھڑوں سے ہر وقت خطرہ ہے۔ دوسری جانب حکومت آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام یکطرفہ طور پر نافذ کرنے پر بضد ہے لیکن اسے الیکشن کمیشن بھی مسترد کر چکا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان کی اپنی پسند نا پسند قوم پر مسلط کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے اور ظاہر ہے عدلیہ میں بھی یہ معاملات چیلنج ہونگے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کوئی باہمی ڈائیلاگ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ آئینی اداروں کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا۔ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ یا دیگر ادارے انہیں حکومتی حلقے رگڑا لگانے سے باز نہیں آتے۔ یوں لگتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    ۔ بدقسمتی سے پاکستان کی صورتحال کوبعض تجزیہ نگار 1991ء میں سابق سوویت یونین کی صورتحال سے پر تشبیہ دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر سابق سوویت یونین امریکہ کے مقابلے میں فوج، میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ لیس ہونے کے باوجود اپنے اندرونی معاملات کی وجہ سے شکست سے دوچار ہو سکتا ہے تو پاکستان کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے اسے اپنے اندرونی حالات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان بظاہر ایک کامیاب جمہوری لیڈرکے طور پر اپنا نام پیدا کرتے ہیں یا پھر سوویت یونین کے آخری صدورگورباچوف ثابت ہوتے ہیں۔

  • ڈو مور سے نو مور تک کا سفر.تحریر: ملک ضماد

    ڈو مور سے نو مور تک کا سفر.تحریر: ملک ضماد

    پاکستان کو آزاد ہوئے 74 سال ہو گئے لیکن ابھی تک ہم انگریزوں کے غلام بنے ہوئے تھے
    کبھی امریکہ تو کبھی یورپ کے آگے ہم جھکے رہتے تھے
    امریکہ امداد اور فنڈز کے نام پے ہمیں پیشہ تو دیتا رہا لیکن ہم سے اپنی مرضی کے کام بھی لیتا رہا
    کبھی روس کے خلاف جنگ میں مدد تو کبھی افغان جنگ میں پاکستان کی سرزمین استعمال کی جاتی رہی
    کبھی پاکستان کے اندر اسامہ کے لیے آپریشن پاکستان ملٹری اکیڈمی کے ساتھ کر کے چلے جاتے تھے تو کبھی بغیر کسی اجازت یا پیشگی اطلاع کے پاکستان کے جس شہر میں دل کرتا تھا ڈرون اٹیک کر کے پاکستانیوں کو شہید کر کے چلا جاتا تھا اور ہم بات بھی نا کر سکتے تھے کیوں کہ امریکہ ہمیں امداد دے رہا تھا
    ہم بولنے کی ہمت بھی کرتے تو ہمیں مختلف پروگرامز جو آئی ایم ایف یا امریکہ کے تعاون سے چل رہے ہوتے تھے ان کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی تھی یا پھر پاکستان پر پابندیاں لگانے کی دھمکیان دی جاتی
    جس سے پاکستان کے حکمران اپنی غلامی اور خوف کا پورا حق ادا کرتے اور جو جو کچھ امریکہ کہتا پاکستان وہ پورا کرتا بھلے اس مین پاکستان کا نقصان ہی کیوں نا ہو رہا ہوتا

    میرے ملک کے بچے عورتیں ہی کیوں نا ڈرون حملوں میں شہید ہو رہے ہوتے
    ہمیں تو ڈالرز مل رہے تھے نا
    اس طرح پاکستان کا نام پوری دنیا میں ڈرپوک اور غلام کی طرح مشہور ہوا
    پاکستان کے سابقہ کرکٹر، موجودہ وزیراعظم عمران خان جب سے سیاست میں آیا اس کا پہلے دن سے مطالبہ رہا کہ امریکہ کی غلامی چھوڑو اور اپنے پاوں پے کھڑا ہونے کی کوشش کرو لیکن کسی نے اس کی نا سنی الٹا اسی پے باتیں شروع کر دی
    جب پاکستانی حکمرانوں نے نا سنی تو اس نے خود عوام کے ساتھ مل کر امریکہ کو جواب دینے کے لیے وزیرستان کی طرف لانگ مارچ کیا، عوام کے ساتھ مل کر نیٹو کی سپلائی جو پاکستان سے افغانستان جاتی ہے کو روکے رکھا
    اس کے بعد عمران خان کے خلاف بیرونی طاقتیں متحرک ہوئی اس کو چپ کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ پاکستان کا درد رکھنے والا لیڈر تھا وہ نا ڈرا اور نا چپ ہوا اپنی آواز بلند کرتا رہا
    اس نے ایک ہی بات کو ذہن میں بٹھائے رکھا ہر ملک سے دوستی رکھی جائے گی لیکن وہ دوستی برابری کی سطح پر ہو گی نا کہ ابتری کمتری کی سطح پر

    اس طرح جب اس نے اقتدار سنبھالا تو اس نے سب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن وہ تعلقات برابری کی سطح پر
    اس نے اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے اور مغرب اور یورپ کے پریشر سے نکلنے کے لیے کوششیں کی
    اس نے یورپ کے بجائے سعودیہ، ایران، ملیشیاء، ترکی، یو اے ای، قطر اور باقی بھی اسلامی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کیا
    امریکہ کو ہر دفعہ منہ توڑ جواب دیا اور بتایا ہم اتحادی اور دوست تو ہیں لیکن یہ بات کبھی نہیں مانی جائے گی آپ اوپر اور ہم نیچے ہیں
    ہم برابری کی سطح پر کام کریں گے
    اگر امریکہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے تو اس کو میرے برابر کے بندے کو میرے پاس بھیجنا ہو گا
    میں سیکنڈ ٹیئر لیڈر شپ سے بات نہیں کروں گا
    پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا کہ کسی پاکستانی حکمران نے امریکہ کی سی آئی اے کے چیف سے ملنے سے انکار کیا
    اس سے پہلے امریکی چپڑاسی کے آگے ہمارے لیڈرز ایسے سر جھکائے کھڑے ہوتے تھے جیسے وہ ہی سب سے بڑے لیڈر ہیں
    عمران خان نے انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو میں واضح کیا جو چہہ میگوئیاں چل رہی ہیں پاکستان دوبارہ افغانستان آپریشن کے لیے اپنے اڈے امریکہ کو دے رہا ہے وہ سب جھوٹ ہے پاکستان کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کے لیے کسی کو نہیں دے گا
    اس بیان کے بعد پورے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہو گئے کہ کسی نے تو امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا

    "”یہ ہے ڈو مور سے نو مور تک کا سفر””

  • سیاسی آقاء اور ہماری بھولی عوام . تحریر:محمد محسن

    سیاسی آقاء اور ہماری بھولی عوام . تحریر:محمد محسن

    ھم روز اپنے ارد گرد لوگوں کو مختلف سیاسی جماعتوں کے بارے میں بحث کرتے ھوئے دیکھتے ہیں۔ کوئی پاکستان مسلم لیگ ن کا حامی ھے تو کوئی پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا ۔ کسی کے سامنے عمران خان اس ملک کے حالات بدلنے کی آخری امید ہے۔ اور کوئی مزہبی حمایت رکھنے والا جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتا ہے۔ جمہوری سیاسی نظام کی یہی خوبصورتی ھوتی ھے کہ اس میں ہر بندے کو کھل کر اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہی تو جمہوریت کا حسن ھوتا ھے کہ جتنی اپوزیشن مضبوط ھو گی اتنا ہی سیاسی نظام ا چھا چلے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ھمارے جیسے ممالک میں نہ ہی تو اصل جمہوری نظام پایا جاتا ھے اور نہ ہی عوام اس لائق ھوتے ھیں کہ جمھوری نظام کو سمجھ سکیں اور اسکو اپنے معاشرے میں رائج کر سکیں۔ دوسری طرف ھماری عوام مختلف سیاسی جماعتوں کو لیکر اتنی جزباتی ھو جاتی ھے کہ بعض اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک آجاتی ہے۔ ھمارے ملک میں اس وقت تقریباً 22 کروڑ کی آبادی ھے جو الحمدللہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ خیر اس آبادی کا اس وقت زیادہ تر حصہ نوجوان لوگوں پر مشتمل ھے جو کہ اس ملک کی گلی کوچوں میں دھکے کھا رھا ھے۔ یہ عوام جتنے ویلے ہو گے اتنے ہی اک دوسرے کے ساتھ زرا زرا سی بات پر جھگڑتے رہیں گے۔ خیر بات ھو رھی تھی سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی تو جب ملک کی زیادہ تر آبادی ویلی بیٹھی ھو گی تو سیاسی جماعتوں کے نام پر لڑنا جھگڑنا تو ان کے لیے معمولی چیز ھو گی۔ حالانکہ ان معصوم لوگوں کو یہ پتہ نہیں ھو گا کہ یہ جن کے لیے دن رات اک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے ہیں ان کو ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہو گا اور وہ اکثر اک دوسرے سے ملتے جلتے ھوں گے اور خوش گپیاں لگاتے ھوں گے۔ ویسے بھی جیسا ھمارا سیاسی نظام ھو گا عوام بھی ویسے ہی ھوں گے۔

    اگر آپ پاکستان کے سیاسی نظام کی تاریخ میں جائیں تو ایسے ھی لگتا ہے جیسے آپ کسی اکھاڑے کی کشتی کے بارے میں پڑھ رھے ھیں جو کہ کبھی کبھی تو بھت جلد پچھاڑے جاتے ہیں تو بعض اوقات دوسروں کو ٹف ٹائم دیتے ہیں۔ اور کبھی کبھار ریفری خود یونیفارم پہنے ہوئے میدان میں کود پڑتے ہیں اور اس سیاسی اکھاڑے کا خود بیڑا اٹھا لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد اس ملک کا سب سے بڑا نقصان یہ ھوا کہ ھمارے قائد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ بعض اوقات تو دل و دماغ میں یہی بات اٹک کر رہ جاتی ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے انکو اک فریضہ سونپا ھوا تھا جنکو پورا کرتے ھی اسکو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا۔ پہلے پانچ سات سال میں کئی وزیراعظم تبدیل ھونے کے اسکندر مرزا نے ملکی تاریخ میں پہلی بار مارشل لاء لگا کر آرمی کو اس ملک کے سیاسی نظام میں داخل کر دیا۔ اسکندر مرزا نے ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا تو بعد میں ایوب خان نے اسکندر مرزا کو چلتا کیا۔ ایوب خان نے ملکی تاریخ کا پہلا آئین ختم کر کے پانچ سال بعد 1962 میں دوسرا آئین متعارف کروایا۔ خیر عروج کو آخر زوال تو آنا ھی ھوتا ھے۔ تقریباً 10 سال اقتدار کے مزے لینے کے بعد بجائے جمھوری نظام کی راہ ہموار کرنے کے ایوب خان نے آگے پھر اقتدار اک اور ملٹری ڈکٹیٹر کو ٹرانسفر کر دیا جسکے ساتھ ہی یحییٰ خان نے ملکی تاریخ میں دوسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ یہ مارشل لاء سب سے سنگین ثابت ھوا کیونکہ اس کے دوران ملک دولخت ہوگیا۔ اس طرف بھٹو کی حکومت آگئی اور دوسری طرف مجیب الرحمٰن کی۔ بیچ میں یحییٰ خان جو کہ صدارتی سیٹ پر براجمان رہنا چاھتا تھا اس نے ملک کا بیڑا غرق کیا نہ اس طرف کا رھا نہ اس طرف کا۔ اس کے بعد پاکستان کی باغ دوڑ بھٹو کے ھاتھوں میں آگئی اور ملک اپنی ڈگر پر چلنے لگا لیکن آخر کب تک چلتا۔۔۔۔۔بھٹو کے خلاف بھی پاکستان نیشنل الائنس بنا اور اک بار پھر سے ملک میں وھی شروع والی حالت آگئی۔ آخر نتیجہ جو بھی نکلا وہ آپ کے سامنے ہے کہ اسی جمھوری نظام کی ہی وجہ سے ملک اک بار پھر مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس کے بعد ضیاء الحق نے 3 ماہ میں الیکشن کروانے کا وعدہ کر کے تقریباً 11 سال اس ملک کی صدارتی کرسی پر گزارے۔ بعد میں جمھوریت کا اک ایسا دور شروع ہوا کہ ملک دن بدن اکانومی اور ڈیولپمنٹ کے لحاظ سے پیچھے ہی گیا جسکی بنیادی وجہ طاقت کی بھوک تھی۔ اس کے بعد اک بار پھر ملٹری ڈکٹیٹر نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھال لی اور تمام جمھوری سیاسی پارٹیوں کو چلتا کیا وہ الگ بات بعد میں کچھ مخصوص سیاسی جماعتیں اس کے ساتھ مل گئی جیسا کہ پہلے ھوتا آیا ھے۔ خیر اکیسویں صدی جمھوریت کے لحاظ سے پاکستان کے لیے سود مند ثابت ھوئی۔ پچھلے تقریباً 12 سال سے ملک میں جمہوریت کی فضا قائم ھو گئی ھے۔ اس پوری پاکستانی سیاسی تاریخ میں اک بات سامنے واضع ھوتی ھے کہ ھمارا سیاسی نظام اک اکھاڑے کی مانند ہے جسکا یہاں زور چلتا ہے وہ خوب چلاتا ہے۔ جس نے بھی اپنے مفاد کے لیے دوسرے کی راہ ہموار کی وہ اسی کا شکار بنا۔ اسکندر مرزا ایوب خان کو لے کر آیا تو ایوب خاں نے اسے چلتا کیا۔ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستانی سیاست میں متعارف کروایا تو بھٹو نے ایوب اعلیٰ عہدوں کے مزے لینے کے بعد ایوب خان کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی کھڑی کر دی اور اسکو چلتا کیا۔ اسی طرح یحییٰ خان، بھٹو اور مجیب الرحمٰن نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس ملک کو ہی دولخت کر دیا۔ اسی طرح بعد میں جنرل ضیاء الحق نے اپنی حکومت کی طاقت بڑھانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ جیسی پارٹیوں کے لیے راہ ہموار کی تو اس کے جانے کے فوراً بعد انہوں نے ملٹری سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور آج تک کر رہی ہیں۔

    اس سارے سیاسی منظر نامے کو بیان کرنے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ یہ پہلی پاکستانی عوام نہیں جو اپنے اپنے سیاسی لیڈروں کی خاطر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ یقین جانو آپ سے پہلے بھی یہاں کئی نسلیں گزر چکی ہیں جن میں سیاسی انتہا پسندی آپ سے کہیں زیادہ تھی اور یقین جانو ان بے چاروں کو بھی یہاں کچھ حاصل نہ ہوا۔ ان سیاسی آقاؤں کے سامنے آپکی اوقات اک کیڑے مکوڑے کی سی ہے جسکو جب چاھے استعمال کیا جاتا ہے اور جب چاہے تو مسل کر رکھ دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ہر گفتگو کا شرف حاصل کرنے والے عزیر بلوچ کی ہی مثال لے لو کہ جب اک خاص جماعت کو اسکی ضرورت تھی تو اسکو کس کس چیز سے نوازا نہیں گیا۔ اس کو استعمال کر کے کتنے ھی جائز ناجائز لوگوں کو قتل کروایا گیا۔ یہاں تک کہ اسکی مزید ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اسکو امن کا انعام بھی دیا گیا تو دیکھ لو آج اسکا کیا حال ہے۔ وہ جو دن رات پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کرتا تھا آج اس سے کوئی ملاقات کرنے والا نہیں۔ وہ جسکا اک دن لیاری میں ڈنکا بجتا تھا آج اس کے گھر میں فاقے ہیں۔ لیکن جن سیاسی آقاؤں کے لیے اس نے اتنے خون کیے آج وہ اس کو پہچاننے سے بھی انکاری ہیں۔ دوسری طرف انہی سیاسی آقاؤں کی خاطر جیلیں کاٹنے کے لیے جاوید ہاشمی جیسے باغی ھوتے ہیں اور یہ خود مشکل وقت بھانپتے ہی فوراً ملک سے رفو چکر ہو جاتے ہیں لیکن جب اقتدار کی باری آتی ہے تو وزارتیں ان کے گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی۔ اب جتنی سیاسی محنتیں چودھری نثار خاں، جاوید ہاشمی، قمر الزماں کائرہ اور امین فہیم جیسے لوگوں نے کی کیا ان لوگوں کو ان کے مطابق نوازا گیا؟ کیا قمر الزماں کائرہ اور امین فہیم کا حق نہیں بنتا کہ انہیں وزیراعظم بنایا جاتا؟ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت اور چیرمین اعتزاز احسن سے زیادہ زہین ہے؟ کیا جاوید ہاشمی اور چودھری نثار خاں جتنے منجے ھوئے سیاستدان اس شریف خاندان میں ہیں؟ لیکن جب بھی یہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں تو وزیراعظم نواز شریف ھی بنا۔ وزیراعلی کی کرسی شہباز شریف ہی کے حصے میں آئی۔ ادھر بھی وزیراعظم اور صدارت کی کرسی بھٹو، اور زرداری خاندان میں رہتی ہے اور اگر کسی اور بنایا جاتا ہے تو وہ کٹھ پُتلی ہی ھوتا ھے بیچارہ۔ آئندہ بھی بلاول بھٹو، مریم نواز، حمزہ شہباز، سلمان شھباز اور یہاں تک کہ جنید صفدر ان سیاسی پارٹیوں کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اور قربان جائیں اس عام اور بھولی بھالی عوام کی معصومیت پر کہ انہوں نے ابھی سے ہی بلاول، مریم اور جنید وغیرہ کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ خدارا ان سیاسی آقاؤں کی خاطر اپنے پیاروں سے لڑائی جھگڑے میں مت پڑیں انکو پتا بھی نہیں کہ آپ کون ہیں۔ آپ کے ھونے نہ ھونے سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنے پیاروں سے پیار کریں انکی اصلاح کریں اور مل جل کر ہنسی خوشی سے رہیں۔ جہاں قمر الزماں کائرہ، اعتزاز احسن، نثار خاں، اور جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کی کوئی وقت نہیں وہاں آپ اور میں کیا چیز ۔۔۔ ؟؟؟

  • بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    بجٹ میں سے کیا اچھا نکلا؟ِ تحریر: نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ غلط دعووں پر اور غلط اعدادوشمار پر مبنی ہے۔ البتہ اس میں عوام کے لیے کچھ ریلیف ہے۔ خامیوں کی تو ایک لمبی فہرست ہے اسکی مکمل تفصیل بھی بتاوں مگر کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں وہ بتانا بھی ضروری ہے ۔

    ۔ سب سے پہلے آبی تحفظ کو بجٹ میں اہمیت دیتے ہوئے حکومت نے 91 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ جو گزشتہ سال کی نسبت 20 ارب زیادہ ہیں۔ اس سلسلے میں تین بڑے ڈیم داسو، دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ ایسے پروجیکٹس ہیں جو جب مکمل ہوگے تو یقیقناً اس کے ثمرات ملیں گے۔ ۔ متوقع امپورٹس 55 ارب ڈالرہیں جو پچھلی سال سے 6
    سے 7ارب ڈالرزیادہ ہیں۔ بینکوں پر کیش ود ہولڈنگ ختم کرنا بھی صحیح قدم ہے۔

    ۔ موجودہ بجٹ میں چار سے چھ ملین گھرانوں کو نچلے طبقے سے اٹھایا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہر شہری گھرانے کو پانچ لاکھ تک بغیر سود کے قرض دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کاشت کار گھرانے کو ہر فصل پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا بغیر سود قرض فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹریکٹر اور مشینری کے لیے بھی دو لاکھ کا بلا سود قرض دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے ان سب گھرانوں کو اپنا گھر بنانے کیلئے بیس لاکھ روپے تک کے سستے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ ہاؤسنگ شعبے کیلئے حکومت کم آمدنی والے گھروں کو اپنا گھر خریدنے یا بنانے کیلئے 3 لاکھ سبسڈی ادا کرنا جاری رکھے گی۔ اس مد میں حکومت نے 33 ارب روپے سبسڈی کی مد میں رکھے ہیں۔اسی طرح سبسڈیز کا تخمینہ430 ارب روپے سے بڑھا کر682
    ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

    ۔ یہ بھی اچھی چیز ہے کہ کل سے کافی تنقید کے بعد حکومت نے فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پر ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کر دیا ہے ۔۔ کم از کم اجرت بیس ہزار تک بڑھانے کا اقدام خوش آئند ہے حالانکہ مہنگائی کے حساب سے اس کو تقریباً ڈبل ہونا چاہیے تھا ۔ تاہم اس بیس ہزار اجرت پرعمل درآمد کس حد تک ہوتا ہے اسے دیکھنا پڑے گا۔۔ ابھی بھی بہت سارے غیر رسمی شعبے ہیں جو ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں اور شاید حکومت انہیں ٹیکس نیٹ میں لا کر اپنا ٹیکس زیادہ کرنا چاہتی ہے مگر ایسے اقدامات اس بجٹ میں دیکھائی نہیں دیے جس کے ذریعے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے۔ مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو جس قدر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہے اس سے زیادہ عوام کی جیب سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد ریویو ہوا کریں گی اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگا جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ہے جسے ہم بھتہ کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا تو اس کا نام تبدیل کردیا گیا ہے ۔

    ۔ بنیادی طور پر یہ ٹیکس چوری کے حوالے سے لگایا جاتا ہے اور صوبوں کو اس میں حصہ نہیں ملتا۔ 2018میں یہ 150ارب روپے تھا جبکہ اس بجٹ میں آئندہ سال کے لیے 610ارب روپے کا پیٹرولیم لیوی کا ہدف رکھا گیا ہے جو عوام کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی ہے اور جس سے واضح ہے کہ پیٹرول کے نرخ بڑھائے جائیں گے اور اس کے بعد اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ بجٹ بنیادی طور پر عمران خان صاحب کے دس نکاتی ایجنڈے کے بھی یکسر متضاد ہے۔ انھوں نے دعوی کیا تھا کہ سو دنوں میں عدل و انصاف پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کردیں گے۔ پیٹرولیم لیویز صفر اور جی ایس ٹی 17سے 7فیصد پر لے آئیں گے۔ آج کے بجٹ میں ان نکات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومتی پالیسی کو دیکھا جائے تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔ اس بجٹ میں 383 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں جن میں سے 70 فیصد ایسے ٹیکسز شامل ہیں جن کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھنے کے خدشات بھی ہیں۔ حالانکہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس بل پیش کرنے سے ایک روز قبل ہی کہہ دیا تھا کہ ٹیکس لگیں گے نہ بجلی مہنگی ہو گی ۔ قوم کو بتانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ کہ آئی ایم ایف کی بات نہیں مانی۔

    پر آپ دیکھیں ادارہ شماریات کے مطابق ہمارے ملک میں ”گدھوں“ کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود ”گدھے“ اور بھی ہیں۔ لیکن ابھی بہت لوگ بچ گئے اور وہ اب مزید گدھا بننے کو تیار نہیں ہیں ۔ اس لیے جو شروع میں کہا تھا کہ یہ سب اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ ہے ۔ شوکت ترین صاحب بھی یہی کام کررہے ہیں ۔ اس وقت تقریبا تمام اشیائے پر نئے ٹیکسز عائد کیے گئے ہیں یعنی چینی پر اب ریٹیل سطح پر نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں چینی کی قیمت میں فی کلو7 روپے اضافہ ہوگا جبکہ صنعت کاروں اور اسٹاک مارکیٹ سے وابستہ افراد پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اب جب سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ممبر اسمبلی اور سینیٹرز اپنے لیے کچھ نہ کرتے تو بڑی کفایت شعاری سے اس حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ میں 100کروڑ سے زائد اضافہ کردیا گیا ہے ۔ اب پارلیمنٹ ہاؤس کے لئے مجموعی طور پر9 ارب سے زائد کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ کاش جیسے ان کو اپنے مسائل کا ادراک ہے ایسے ہی عوام کے مسائل کا ادراک ہوتا تو چیزیں مختلف ہوتیں ۔ ہرحکومت یہی کہتی ہے کہ ہمیں تباہ شدہ معیشت ملی ۔ پھر آئی ایم ایف سے قرض لیتی ہے اور گروتھ ظاہر کرنا شروع کرتی ہے۔ مگر جب اگلی حکومت آتی ہے تو وہ پھر یہی راگ الاپتی ہے۔ یہ ساتویں حکومت ہے جو ایسا کررہی ہے۔ پاکستان کا المیہ ہے کہ حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس مہنگائی میں اضافہ اور افراط زر بھی بڑھا ہے ۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی تر قی کے اعداد وشمار اور جی ڈی پی کی گروتھ بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی تھی ۔

    ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری value added اور high techانڈسٹری میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لے دے کر real state اور construction انڈسٹری پر زور ہے جس کی مدد سے چالیس انڈسٹریز میں انقلاب کا گمان ہے۔ دنیا بہت تیزی سے بدل گئی ہے اور بدل رہی ہے۔ ہم اپنی معیشت کو اگر دنیا کے value added اور high techتقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کریں گے۔ خود پسندی کے خول سے نہیں نکلیں گے تو ہمیں ہر سال آئی ایم ایف کی ضرورت پڑتی رہے گی اور ہم ہر بجٹ پر یہی سنتے رہیں گے کہ غریب اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور یہ کہ متبادل پلان دے دیا ہے۔ میرے حساب سے مسلم لیگ (ن) کے دور میں پیش ہونے والے بجٹ اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ بجٹ بھی سیٹھوں کے لیے ہے اور غر یب آدمی مسلسل پٹے گا ۔ اس بجٹ میں بھی وہی مجبوریاں اور وعدے شامل ہیں جو سالہا سال سے پیش ہونے والے budgets کا حصہ رہے ہیں۔ ۔ عجیب قحط کا دور ہے، قحط محض یہ نہیں ہوتا کہ اناج نہ ہو،فصل نہ ہو ۔ دراصل قحط وہ ہے کہ اللہ کی تمام نعمتوں کی فراوانی ہو مگر انسانوں کی پہنچ میں نہ ہوں۔ آج ہرکھانے، پینے ، اوڑھنے والی چیزوں کے انبار لگے ہیں مگر لوگوں کی پہنچ سے دور ہی نہیں ناممکن ہیں۔ بجٹ دنیا بھر کے ملکوں میں سال میں ایک بار آتا ہے۔ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کے بعد ماہانہ اور پھر روزانہ بجٹ آتا ہے۔ جتنے معاشی تجزیہ کار ہیں سب کے سب حقیقت کے برعکس تجزیے کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ تندرست ہی کیا جو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے۔ وہ معاشی تیزی ہی کیا جس میں زندگی تو زندگی موت بھی مہنگی ہو جائے۔ دراصل پاکستان کے عوام ، وسائل اور اکثریت کو انتہائی اقلیت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ بس آزادی ہے تو قانون شکنوں اور بدعنوانوں کو ورنہ ہر طرف قحط کا راج ہے۔ قانون کی حکمرانی کا، اخلاقیات کا قحط ، انسانی اقدار کا قحط ، مثبت سوچ کا قحط حتیٰ کہ انسانیت کا قحط اور آزادی کا قحط ہے۔ جب پولیس کسی شخص سے پرسنل ہو، حکمران پرسنل ہوں جہاں انصاف کرتے ہوئے عدالت اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے وہاں معاشرت کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

  • بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ ..قوم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    بجٹ پاکستان تحریک انصاف کا تو امتحان ہے ہی ۔ مگر اس قوم کے لیے بھی ایک امتحان ہے ۔

    ۔ یہ تو کل قومی اسمبلی کے ایوان سے معلوم ہوجائے گا کہ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں مزید کتنا اضافہ ہوگا ۔ کل 22کروڑ پاکستانیوں کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ اس
    8000ارب روپے کے بجٹ میں امراء کی ناز برداری کے لئے مزید کیا کیا کچھ ہے۔کیونکہ عوام تو پہلے سے ہی مشکل حالات کا شکار تھے آئندہ بھی اچھے کی کوئی امید نہیں ہے۔۔ کیونکہ جب وزیر خزانہ شوکت ترین یہ کہتے ہیں کہ چینی کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 58 فیصد بڑھی اور پاکستان میں 20 فیصد قیمت میں اضافہ ہوا، تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ وہ شوگر مافیا کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں نہ کہ عوام کا ۔

    ۔ شوکت ترین نے توآج یہ بڑھک مار دی ہے کہ آئی ایم ایف کو کہہ دیا ہے کہ ہم تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ ہم اور ذرائع سے ریونیو بڑھائیں گے۔ پر میں آپکو بڑی تسلی سے اور تصدیق سے بتا رہا ہوں یہ بیان دل کو بہلانے کے لیے تو بہت اچھا ہے ۔ مگر اصل حقیقت یہ نہیں ہے ۔ ۔ کیسا عجیب نظام ہے کہ حکومت نئی آٹو پالیسی متعارف کرنے سے پہلے تو آٹو انڈسٹری کے تمام مافیاز سے مشاورت کرتی ہے ۔ ایسا ہی شوگر مافیا کے ساتھ کرتی ہے ۔ آٹا مافیا ، ادویات مافیا ۔ جس بھی مافیا کا نام لیں اس کی مرضی کے بغیر نہ تو کوئی پالیسی آتی ہے نہ ہی کوئی قانون بنتا ہے ۔ مگر جن کے ووٹ لے کر یہ آج پروٹوکرل والی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے اور اتراتے پھرتے ہیں ۔ ان ووٹروں کے مفادات کا بالکل خیال نہیں رکھتے ۔ نہ ہی ان کے مستقبل کے فیصلے کرتے ہوئے ان سے مشاورت کرتے ہیں ۔ ۔ اربوں روپے مالیت کا بلاواسطہ ٹیکس ایک بار پھر غریب عوام پر عائد کیا جائے گا۔ تباہی سرکار مہنگائی، بےروزگاری، غربت کاذمہ دار آئی ایم ایف کو ٹھہرا رہی ہے۔ پر یہ سب کچھ بدترین گورننس کو چھپانے کا ڈرامہ ہے ۔ 90 دن میں نیا پاکستان بنانے والوں کو 1000 دن ہو گئے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان۔۔ سرکار اب بجٹ اجلاس میں مشکوک اعداد و شمار پیش کرےگی۔۔ کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی منتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بجٹ ہم اپنی مرضی سے پیش کریں گے۔ دراصل وزیر خزانہ شوکت ترین اور آئی ایم ایف کے نمائندوں کے مابین مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ تقریباً مسترد کر دیا گیا ہے۔ اب وزیراعظم صاحب اگلے ہفتے آئی ایم ایف کے صدر سے میٹنگ کریں گے۔

    ۔ حقیقت میں حکومت نے عوام کو دکھ کے علاوہ کچھ نہیں دیا ہے ۔ ملک میں بجلی ہے نہیں ہے ۔ ریٹ بڑھا دیئے گئے ہیں ۔ فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس ڈیزل پر چلائے جا رہے ہیں۔
    سعودی عرب اور کویت بھی ڈیزل کے پلانٹ نہیں چلاتے لیکن پاکستان میں چل رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں اتنی مہنگی بجلی بنائی جا رہی ہے ۔ گردشی قرضہ 150 فیصد بڑھ گیا ہے ۔ عوام آج بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہیں۔ سکولوں میں بچے بے ہوش ہو رہے ہیں۔ وزارت توانائی میں ساتویں وزیر مقرر کئے جاچکے ہیں۔ اب اس حکومت کو نااہل نہ کہیں تو کیا کہیں ۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر پیش کر کے عوام کی نظروں میں ہیرو بننے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یاد رہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کی اقساط کے حصول کے لیے پاکستان کو منی بجٹ پیش کرنا پڑسکتا ہے۔ پھر عوام کو بتایا جائے گا کہ ہم تو آپ کی بہتری چاہتے ہیں، سارا قصور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا ہے۔ وہی ملک میں مہنگائی کا ذمہ دار ہے۔۔ اس وقت فرٹیلائزر پر سیلز ٹیکس دو فیصد ہے۔ اسے بڑھا کر دس فیصد کر دیا جائے جس سے 32 ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا ہو گا لیکن اس سے عام آدمی کے لیے خوراک مزید مہنگی ہو جائے گی یعنی حکومت جو اگلے سال مہنگائی کی شرح آٹھ فیصد تک لانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ سب ڈھکوسلا ہے ۔اس کے علاوہ rude oil کی در آمد پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔ جس سے ایک اندازے کے مطابق 85 بلین روپے ٹیکس اکٹھا ہو سکے گا۔ اس سے ہوگا کیا تیل مہنگا ہوگا ۔ اور تیل مہنگا ہونے سے سب کو پتہ ہے کہ مہنگائی مزید بڑھے گی ۔

    ۔ ایک اور غریبوں کے لیے جو فیصلہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے تجویز دی ہے کہ بینکوں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی جائے جس سے تقریباً دو ارب روپے اضافی ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے گا۔ اس سے ہوگا یہ کہ جو غریب ، بزرگ ، بیوائیں ۔ قومی بچت کے بینکوں سے کچھ منافع کما کر گزر بسر کر رہے ہیں۔ ان کے حالات مزید تنگ ہوجائیں گے ۔

    ۔ پھر ایک نیپرا آرڈیننس ہے جس کو پارلیمنٹ سے پاس کرانے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے زور دیا جا رہا ہے ۔ اس آرڈیننس کے تحت اپریل 2021ء سے جون 2023ء تک پانچ اعشاریہ پینسٹھ روپے فی یونٹ ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا جس سے 884 بلین روپے صارفین کی جیبوں سے نکالنے کا پلان ہے ۔ ۔ حکومت کا اس سلسلے میں موقف ہے کہ یہ اضافہ اس صورت میں کیا جائے گا جب حکومت سستی بجلی پیدا کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام ہو جائے گی۔ پر یہاں پر ایک سوال ہے کہ جب یہ حکومت کسی بھی سیکٹر میں کوئی کارکردگی نہیں دیکھا پائی تو یہاں کیا تیر مار لینا ہے ۔ تو سمجھیں یہ آپکو دینا ہی ہوگا ۔ ۔ وزارتِ خزانہ اور آئی ایم ایف کی چھٹی رِیویو میٹنگ ہونی ہے جس میں پاکستان کو مزید ایک بلین ڈالر قسط دینے پر غور کیا جائے گا۔ تو یاد رہے کہ نیپرا آرڈیننس کی منظوری، قرضوں کے حجم میں کمی اور ٹیکسز میں اضافے کے وعدوں کی تکمیل کے بغیر ایک ارب ڈالر قسط ملنا ناممکن ہے۔

    ۔ حکومت 4000 ارب روپے ٹیکس وصول کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دینے کا اعلان تو کرچکی ہے۔ جب کہ ٹیکس کا 80 فیصد indirect taxation سے وصول کیا جاتا ہے اور direct taxation 20 فیصد سے بھی کم وصول ہوتی ہے۔ جاگیرداروں، بڑے سرمایہ داروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں سے دولت ٹیکس اور ان کے منافع پر ٹیکس نہیں وصولا جاتا۔ بلکہ عوام کی ہر ضرورت اور خورونوش کی اشیا پر ٹیکس عائد کردیا جاتا ہے۔۔ جب اشیا ضرورت کی فیکٹریوں کی پیداوار پر ٹیکس لگے گا تو فیکٹری مالکان اشیا کی قیمت بڑھا دیں گے۔ پھر ہول سیلرز بھی اس کی قیمت بڑھائے گا اور پرچون فروش بھی قیمت میں اضافہ کرے گا۔ آخر کار ان ٹیکسوں کا تمام تر بوجھ عوام کے کاندھوں پر آئے گا۔ اس طرح سے حکومت کا یہ کہنا کہ عوام کے استعمال کی اشیا پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔ سب جھوٹ ، سب دھوکہ ، سب ایک فراڈ ہے ۔۔ اب سب پی ٹی آئی والے مجھے طعنے دیں گے ۔ ٹویٹر ، فیس بک ، یوٹیوب پر برا بھلا کہیں گے ۔ مگر میں بتاؤں کہ دور چاہے پیپلز پارٹی کا ہو یا ن لیگ یا پی ٹی آئی کا میرا کام ہے اپنےviewers کو حق وسچ بتانا ۔ ہاں جب جب یہ حکومت اچھا کام کرے گی وہ بھی بتاؤں گا مگر جب یہ کام ٹھیک نہیں کریں گے تو میں ان کو بھی exposeکروں گا کیونکہ مجھے ہے ۔۔۔ حکم اذان ۔۔۔

  • مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    مر جائیں ..پر گھبرانا نہیں، تحریر: نوید شیخ

    ثابت ہوچکا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کو کسی طرح بھی عوامی اور انقلابی نہیں کہا جاسکتا ۔

    ۔ خان صاحب اقتدار میں آنے سے پہلے ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ right person for the right job مگر اب ہر جگہ صرف ایک مافیا ہی کو مواقعدیا جا رہا ہے ۔ ایک مافیا کو ہٹا کر دوبارہ پھر موقع ہی مافیا کو ملتا ہے ۔ ۔ دراصل اس ملک میں اشرافیہ کا ایک چھوٹا سا طبقہ سیاست اور حکومت میں آتا ہے اور اربوں روپوں کی لوٹ مار کرتا رہتا ہے۔۔ سب جانتے ہیں ۔ کہ اس حکومت میں سب اچھا نہیں ہے اور عوام سے کرپشن کے خاتمے کے جووعدے کیے تھے ابھی تک یہ حکومت ان پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو وزیر اعظم پہلے بھی کہا کرتے تھے اب بھی روزانہ کسی نہ کسی انداز میں کہتے ہیں کہ حکمران کرپٹ ہوں تو ملک دیوالیہ ہوجاتے ہیں۔ سربراہان ریاست اور ان کے وزراء بدعنوان ہوتے ہیں تو ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ جب نچلی سطح کے حکام رشوت لیتے ہیں تو اس سے عام شہریوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ عمران خان تو اس سلسلے میں امریکی صدر کے ایک اقتباس کا حوالہ بھی دے چکے ہیں کہ اسلوب حکمرانی میں اور کرپشن کے تدارک کے لیے بد عنوان عناصر کو کٹہرے میں لانا پڑتا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ ان تین سالوں میں اس معاملے میں بہتری نہیں ہوئی پر اس سلسلے میں مزید ابتری جاری ہے ۔

    ۔ دیکھا جائے تو موجودہ حکومتی سیٹ اپ کا تعلق بھی اشرافیہ سے ہے اور ایک مافیا لوٹ مار کر رہا ہے۔ کبھی چینی مافیا ، آٹا مافیا اور کبھی پلاٹوں کی خرید و فروخت کی آڑ میں عوام کا پیسہ ہڑپ کرنے والا مافیا عوام پر مسلط ہو چکا ہے۔ راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل سب کے سامنے ہے اور ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ دیکھا جائے تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ سرکاری محکموں میں کرپشن اور رشوت میں اضافہ ہوا ہے۔

    ۔ اب وزیراعظم کے لاشعور میں یہ بات چپک گئی ہے کہ حکمرانوں کی کرپشن ملک کی بدحالی کا اصل سبب بنتی ہے۔ مگر جب بھی کبھی ان کے کسی وزیر یا مشیر پر الزام لگتا ہے تو بس دیکھاوا کے لیے ان کی وزارت بدل دیتے ہیں ۔

    ۔ مولانا مودودی کا مشہور جملہ ہے ۔ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں۔ درست بات ہے ۔ کیونکہ ایک غلطی دوسری کو جنم دیتی ہے اور اس سے تیسری غلطی پھوٹتی ہے۔ اسی لئے سیانوں نے یہ جملہ تخلیق کیا کہ غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔ پر آپ دیکھیں عمران خان ایک کے بعد ایک موقع دے دیتے ہیں اپنی ٹیم کو ۔ اب اگر ایک وزیر ایک وزارت میں پرفارم نہیں کرسکا تو کیسے ممکن ہے دوسری میں پرفارمنس دے ۔

    ۔ اس وقت عوامی میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور پڑھے لکھے لوگ موجودہ سیٹ اپ کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کہ نہ ان کے پاس نوکری ہے نہ ہی ان کو اپنا مستقبل تابناک دیکھائی دیتا ہے ۔

    ۔ پر وزیر اعظم تواپنی موجودہ طرز حکمرانی کے باوجود اس قدر پر امید ہیں کہ اگلی حکومت بنا کر پاکستان کو تیزی سے اوپر لے جانے کی بات کر رہے ہیں ۔

    ۔ عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ یہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ ۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ کبھی چین یا امریکہ کی۔ کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی scandinavian ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔

    ۔ ریاستِ مدینہ کی بات کی جائے تو اس میں امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے اپنے کندھے پر اناج کی بوری رکھ کر اُس بیوہ کے گھر پہنچائی جس کے بچے بھوکے تھے لیکن پاکستانی ریاستِ مدینہ کے سربراہ کے پاس اناج کی بجائے صرف ایک جملہ ہے ۔
    ’’گھبرانا نہیں‘‘

    ۔ 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرنے والوں نے ہزار دِن گزار دیئے لیکن سبق پھر وہی ہے ’’گھبرانا نہیں‘‘۔ مفلسوں کی معیشت پیٹ سے شروع ہو کر پیٹ پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ اُنہیں growth rate جیسے چکر دینے کی بجائے روٹی دے دیں وہ آپ کا گُن گانے لگیں گے۔ اِس وقت مزدور سڑکوں پر، کسان سڑکوں پر، کلرک سڑکوں پر، اُستاد سڑکوں پر،
    پینشنر سڑکوں پر، ڈاکٹر سڑکوں پر اور آپ اُنہیں growth rate کا سبق رٹانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا آپ کو خود بھی ’’ککھ‘‘ پتہ نہیں۔

    ۔ زمینی سفر پر آگے پیچھے پروٹوکول گاڑیوں کی طویل قطاریں اب بھی نظر آتی ہیں ۔ چاہے وزیر اعظم ہوں ، وزیر ہوں یا مشیر ۔ ابھی تازہ تازہ وزیر مملکت فرخ حبیب کے پروٹوکول کی ٹک ٹاک ویڈیو وائرل ہوئی ہے ۔ یاد کروادوں عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے فرمایا تھا کہ ہالینڈ کا وزیرِاعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے۔ وہ بھی سائیکل پر ہی وزیرِاعظم ہاؤس جایا کریں گے لیکن گزشتہ ہزار دنوں میں اِس کی نوبت نہیں آسکی ہے ۔

    ۔ اب حکومت گیارہ جون کو بجٹ پیش کر رہی ہے۔ اِس بجٹ کے بعد سیاسی جماعتیں 2023ء کے عام انتخابات میں مصروف ہو جائیںگی۔ اگر حکومت نے عوام کی اشک شوئی کے لیے کوئی حربہ استعمال کرنا ہے تو اِسی بجٹ میں کر سکتی ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف کہاں سے اور کیسے دے گی۔ خزانہ خالی ہے ۔ آئی ایم ایف کا دباؤ الگ ہے اور کہیں سے بھی پیسے ملنے کے امکانات معدوم ہیں ۔ ایسے میں اگر تحریکِ انصاف کے چوتھے وزیرِ خزانہ اُلٹے بھی لٹک جائیں تو ’’عوامی بجٹ‘‘ نہیں بنا سکتے۔ اِس لیے اُمید ہے کہ بجٹ کے بعد وزیرِخزانہ شوکت ترین کی بھی چھُٹی ہو جائے گی۔ اور ملبہ ان پر ڈالا جائے گا کہ یہ معیشت کو نہیں چلا سکے ۔ مہنگائی کی وجہ شوکت ترین ہیں ۔۔ تحریک انصاف نے اپنے تین سالہ دَورِحکومت میں اتنے منجن بیچے ہیں کہ اُن کا نام گینیزبُک میں آنا چاہیے۔۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کا منجن، بجلی دو روپے یونٹ اور پٹرول 45
    روپے لٹر کرنے کا منجن، باہر پڑے 200 ارب ڈالر واپس لا کر قرض داروں کے مُنہ پر مارنے اور بھیک نہ مانگنے کا منجن، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر خودکُشی کرنے ، پروٹوکول نہ لینے، چھوٹی کابینہ رکھنے، گورنر ہاؤسز پر بلڈوزر چلانے اور وزیرِاعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا منجن، نئی فیکٹریاں لگانے اور نیا پاکستان بنانے کا منجن، غریب کو روزگار فراہم کرنے اور فری علاج کا منجن۔ سب سے بڑھ کر این آر او نہیں دوںگا اور چوروں کو نہیں چھوڑوں گا کا منجن جس نے قوم کے مُنہ میں ’’چھالے‘‘ ڈال دیئے ہیں۔ کیونکہ اب کرپشن کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔

    ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘
    کے دَورِحکومت میں ہر روز کرپشن کا کوئی نیا سکینڈل۔ مالم جبّہ اور بی آر ٹی سکینڈلز ماضی کے دھندلکوں میں گُم ہو چکے ہیں ۔ ایک ارب درخت لگانے کے دعوے پر چیف جسٹس آف
    پاکستان جسٹس گلزار احمدنے فرمایا تھا کہ اُنہیں تو پشاور میں درخت نہیں صرف گردوغبار نظر آیا۔

    ۔ بات اب اس حکومت کے کَٹوں، وَچھوں، انڈوں اور مُرغیوں جیسے منصوبوں سے کہیں آگے نکل چکی ہے ۔ اب اس حکومت کے گرد گھیرا ڈالے منصوبہ ساز اربوں کھربوں کے ٹیکے لگا رہے ہیں ۔

    ۔ سبھی جانتے ہیں کہ بجٹ کے بعد عام انتخابات کی گہماگہمی شروع ہو جائے گی۔ اگر تحریکِ انصاف کی حکومت عام انتخابات تک قائم بھی رہتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اب عمران خان کون سا
    ’’منجن‘‘بیچیں گے

  • ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    ن لیگ مفاہمت کی طرف جا رہی؟ تحریر، نوید شیخ

    یہ تو سب جانتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ہر حکمت عملی باہمی رضا مندی سے طے ہوتی ہے جب ڈرنے ڈرانے کا وقت آتا ہے تو نواز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ڈیل کرنی ہو، لین دین یعنی آفر آئے تو پھر محمد شہباز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ۔ شہباز شریف کی رہائی کے پیچھے تو سب ہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی پلان ہے جس کی وہ تو رازداری کر ہی رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے کھلم کھلا عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم کے طور ان کا نام لینا شروع کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے اصل کہانی آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔

    ۔ ابھی آپ سیاست کے رنگ دیکھیں کہ جیسے سب جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو گلے لگا لیا ہے جب کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لئے پی ڈی ایم کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔

    ۔ بلاول بھٹو زرداری بھی نواز شریف اور مریم کو طعنے دے رہے ہیں مگر انھوں نے ساتھ ببانگ دہل یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی شہباز شریف کے موقف کو ہی مسلم لیگ (ن) کا
    ’’بیانیہ‘‘ سمجھتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے عبوری مدت کے لئے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ۔ اس لیے یہ قابل غور چیز ہے کہ جب سے شہباز شریف متحرک ہوئے ہیں مسلم لیگ(ن) کے جارحانہ بیانات میں کمی آ گئی ہے۔ ۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اب عمران خان شکستہ حال پی ڈی ایم سے خوفزدہ نہیں بلکہ شہباز شریف کی ’’پھرتیوں‘‘ سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے مسلم لیگ ن سے قابل قبول شخصیت شہباز شریف ہیں۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے اندر بھی طاقت ور عناصر جو خود وزارت عظمی کے منصب پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں شہباز شریف کی راہ میں کانٹے بچھا رہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ اگر شہباز شریف ایک بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے اور قومی حکومت کے اس منصوبے کا چوہدری نثار علی خان بھی حصہ بن گئے تو پھر ان کو ہٹانا ممکن نہیں ہو گا۔

    ۔ اب یہ بات برملا کہی جارہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بننے کی راہ میں حائل نہیں۔ اسی لیے وہ عبوری مدت کے لئے قومی حکومت کے قیام کی تجویز کی منظوری حاصل کرنے کے لئے لندن جانا چاہتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ اشارہ دینے والوں نے نہ صرف اشارہ دے دیا ہے بلکہ دو حرفی بات کہہ دی ہے کہ ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی لیکن اگر تبدیلی کی خواہش ہے تو پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لائیں۔ دوسری طرف سے جواب ملا ہے۔ ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کی جائے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی نہیں لانی بلکہ باہر سڑکوں پر مظاہرے ریلیاں اور مناسب طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے لیکن ابھی الیکشن کرانے ہیں تو کرا لیں ہم تیار ہیں۔

    ۔ مگر شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ اپنی شیڈو کابینہ بنائی جائے۔ سیاسی جلسے جلوسوں، ریلیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

    ۔ جبکہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے پہلے دس وزارء کی شیڈو کابینہ کی فہرست بنا کر ڈیوٹیاں بھی لگادی ہیں کہ دو سال میں ایسی پلاننگ کریں کہ ہم حکومت لیتے ہی ملک میں انقلابی اقدامات کر سکیں۔ ۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ سسٹم میں موجود بیوروکریسی کے لوگ روازنہ کی بنیاد پر رپورٹ اپنے سابق سینئر کو دے رہے ہیں۔
    ۔ ویسے یہ حقیقت تو خود عمران خان کی تسلیم کردہ ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت تو مل گئی لیکن ان کی سرے سے تیاری ہی نہیں تھی۔ لہٰذا یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جس کو حکومت دیں، ساتھ تیاری کا بھی کہیں۔ ۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ وزیراعظم عمران خان کیوں چینخ چلا رہے ہیں۔ وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن فوج سے کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت گرانے میں اُس کی مدد کرے۔ وہ یہ طعنے کیوں دے رہے ہیں کہ ایک طرف یہ لوگ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور دوسری طرف منتخب حکومت کو گرانے کے لئے فوج کی مدد مانگتے ہیں۔ آپکو سمجھ آجانی چاہیئے ۔ جب شہباز شریف کہتے ہیں کہ نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے تو اس کے پیچھے کیا سوچ ہے ۔

    ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات یہ کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ یا عملی اقدامات، یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، کبھی چین یا امریکہ کی، کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی سکنڈے نیوین ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔ آخر وہ کون سا نظام ہے جو عمران خان لانا چاہتے ہیں۔ ان کی تان دو باتوں پر آکر ٹوٹتی ہے، ایک یہ کسی کو NRO نہیں دوں گا اور دوسری کسی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔

    ۔ آئے دن سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں اور ان کے کرداروں کو محفوظ راستہ بھی دیا جاتا ہے۔کچھ ابھی تک ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور کچھ پتلی گلی سے نکل گئے ہیں۔

    ۔ شہباز شریف کے ملک سے باہر جانے کی کوشش تو تحریک انصاف کی حکومت نے بھرپور کوشش کر کے ناکام بنا دی یا کم از کم التوا میں ضرورڈال دی ہے ۔ مگر شہباز شریف کی تھیوری یا ڈاکٹرائن نے بہت سوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    ۔ مسلم لیگ ن کے بیشتر لیڈروں کی طرح شہباز شریف کا بھی یہی خیال لگ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو سپورٹ نہ کرے تو عمران خان الیکشن نہیں جیت سکتے۔ شہباز شریف اور ان کے ہم خیال لیڈروں کے خیال میں اگر ن لیگ کوانتخابی میدان میں کھیلنے کا برابر موقعہ ملا تو وہ تحریک انصاف سے بہت بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

    ۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن ہے ہی یہی کہ مقتدرقوتوں کے ساتھ براہ راست ٹکرائو سے گریز کرتے ہوئے افہام وتفہیم کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے جائیں اور کبھی دو قدم پیچھے ہٹ ، کبھی دائیں بائیں ہو کر ، ضرورت پڑنے پر دو قدم آگے بڑھ کرتخت وتاج حاصل کرنے کی سیاست کی جائے۔ ۔ یہ شہباز شریف کا پرانا نظریہ اور سٹائل ہے۔ مسلم لیگ ن پر سب سے مشکل اور سخت وقت جنرل مشرف کی وجہ سے آیا۔ اس وقت بھی ان کی یہ سیاست کام آئی اور بعد میں جب نواز شریف کی واپسی ہوئی تب بھی یہ سیاست کام آئی ۔

    ۔ مگر گیند پہلے بھی میاں نواز شریف کی کورٹ میں تھی، اب پھر انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کچھ عرصہ کے لئے پیچھے ہٹ کر خاموش رہنا پسند کریں گے؟ ۔ بہرحال نتیجہ جو بھی نکلے، پہلی بار عمران خان کی حکومت پریشان اور خوفزدہ نظر آئی ہے۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن نے خان صاحب کو چکرا دیا ہے ۔ نواز شریف کے بیانات کے برعکس شہباز شریف کی مفاہمت انہیں اپنی حکومت اور سیاسی مستقبل کے لئے زیادہ خطرناک لگ رہی ہے۔ ۔ بہرحال اپوزیشن کے پاس اس وقت سب سے بہترین موقع یہ ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں حکومت کو سخت مقابلے سے دوچار کر دے،اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے،اس سے اپوزیشن کی عوام میں پذیرائی بھی بڑھ جائے گی۔

  • شاباش خان صاحب۔ ترش و شیرین، نثار احمد

    خان صاحب کی شخصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ خان صاحب اپنا مافی الذہن پُراعتماد لہجے میں صاف صاف بیان کرنے میں زرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ جو چیز اُنہیں جیسی سمجھ آتی ہے ویسی ہی کہہ دینے میں باک محسوس نہیں کرتے۔ بڑے منصب پر فائز لوگ اظہارِ ما فی الضمیر سے صرف اس لیے کتراتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس باب میں خان صاحب اپنی ایک نرالی شان اور منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ ناقدین کی ملامت کی رتی برابر پروا کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے "اظہارییے” پر ممکنہ مرتب اثرات و نتائج دیکھ کر مافی الضمیر کا گلا گھونٹ کر اندر ہی اندر کُڑھتے ہیں۔
    یہ خان صاحب کی صاف گوئی اور لہجے میں تاثیر کا ہی کمال ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کے باوصف بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد نہ صرف خان صاحب کے طلسم میں گرفتار ہے بلکہ بہتر معاشی حالات کے لیے خان صاحب سے ہی امید بھی باندھی ہوئی ہے۔ ایک طرف درمیانے طبقے کا چولہا بجھ رہا ہے، اُسے تین وقت کا کھانا برقرار رکھنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں دوسری طرف اسی درمیانےطبقے کے نوجوان اب بھی تبدیلی اور بہتری کی امید میں خان صاحب کے پیچھے کھڑے ہوئے ہیں۔
    پروفیسروں کی خُوبو اور انداز ِ تکلّم رکھنے والے خان صاحب وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس کی گونج عرصے تک سیاسی فضا میں سنائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی سمجھیے کہ چند دن قبل موصوف کے دہن مبارک سے پُھوٹنے والا ارشادِ گرامی میڈیا میں زیر ِ بحث ہی نہیں رہا بلکہ جنسی آزادی پر یقین رکھنے والے ایک چھوٹے طبقے کے لیے سخت باعثِ اذیت بھی بنا ہے۔ خان صاحب کا یہ ارشاد ہمیں بہت پسند آیا۔ وجہ خان صاحب سے بے لوث محبت نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور عالمی میڈیا کا اِسے لے کر سیخ پا ہونا ہے۔ اگر خان صاحب یورپ کے کسی ملک کا وزیر اعظم ہوتے تو اس گفتگو کو بنیاد بنا کر اُن پر تنقید کی گنجائش بنتی تھی لیکن پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کے ناتے اُن کی یہ بات ناقابلِ گرفت ہی نہیں، اکثر پاکستانیوں کے دل کی آواز و ترجمان بھی ہے۔

    خان صاحب نے بالکل درست کہا ہے کہ صرف قوانین کے زریعے جنسی جرائم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی اور پھیلائی گئی فحّاشی کے اثرات ہوتے ہیں۔ خان صاحب کا اس دلیل پر اپنی بات کی تان توڑنا مزید دلچسپ لگا کہ ہمارے دین میں پردے کی تاکید بلا وجہ نہیں آئی ہے۔
    حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ بی بی سی سمیت دیگر عالمی میڈیا نے اس بیان کو مخصوص زوائیے میں رکھ کر نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اشاروں کنایوں میں اِسے ہدفِ تنقید بھی بنایا۔ بلکہ افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ ہمارے اچھے خاصے لوگوں نے بھی اس بیان کو نذرِ سیاست کر ڈالا۔ کم از کم مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر اس بیان کی پرزور تائید کرنی چاہیے تھی۔ میڈیا کے شور شرابے سے ایسا محسوس ہوا کہ خان صاحب کوئی زیادہ ہی غلط بات کہہ گئے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
    ڈیجیٹل ترقی کی بدولت دن بدن سمٹ سمٹ کر دنیا نہ صرف ایک گاؤں کی مانند بن چکی ہے بلکہ یہاں برسوں سے چلی آنے والی مختلف تہذیبیں بھی شکست وریخت سے گذر رہی ہیں۔ اس شکست وریخت کے زریعے وہی تہذیبیں غالب آ رہی ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت و قوت ہے۔ جن کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور پروپگنڈے کے زرائع بھی۔ جن کے پاس دولت بھی ہے اور دیگر وسائل بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج درست و غلط کو جانچنے کے لیے اُن کی تہذیب معیار ٹھہر رہی ہے۔
    ہماری آنکھیں اس حقیقت کو دیکھنے سے قاصر نظر آ رہی ہیں کہ پردے اور بے پردگی کے باب میں اسلام اور مغرب نہ صرف الگ الگ تہذیبی تصورات پر کاربند ہیں، بلکہ جدا گانہ بودو باش بھی رکھتے ہیں۔ اسلام عریان گھومنے سے ہی منع نہیں کرتا بلکہ نامحرموں کے سامنے ہاتھ اور چہرے کے علاوہ جسم کا باقی حصہ حتی الامکان ڈھانپ کر رکھنے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ جب کہ مغربی ممالک میں یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ جنسی آزادی کے تیئں مغربی تہذیب کی اپنی ترجیحات ہیں اور اسلام کی اپنی۔ اسلامی احکام کے دو بڑے مآخذ قرآن وسنت میں پردے کی بابت اجمالی ہی نہیں، تفصیلی باتیں بھی آئی ہیں جب کہ مغربی معاشرہ کب کا آسمانی تعلیمات کو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہہ چکا ہے۔ مغرب میں مذہب الگ کھڑا ہے اور سوسائٹی الگ۔ مغرب میں بہ رضا و رغبت جنسی تعلق ایک نارمل کیس ہے۔ وہاں جنسی خواہش کی تکمیل سرے سے کوئی ایسا سبجیکٹ ہی نہیں ہے جسے کسی قانون کی بنیاد بنا کر کچھ اصولوں کا پابند کیا جا سکے۔ آزادی کا خوشنما عَلم تھامے یہ معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی اب اس کے لیے ممکن نہیں رہی ہے۔

    رہنمایان ِ قوم کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں اصولی، بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں فاصلاتی فرق کم رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا فرق ہی بھلا دیں۔ آپ عمران خان کو بدھو ثابت کرنے اور اُن کی ہر بات میں کیڑے نکالنے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اسلامی اقدار کی تخفیف کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ اس مقصد کے لیے آپ کے پاس ایشوز کی کونسی کمی ہے؟
    اس قضیے میں کچھ لوگ اس نقطہء نظر کے بھی پرچارک ہیں کہ مرد کی نیت ٹھیک ہو تو عورت کی نیم لباسی اور عریانیت کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ سارا مسئلہ بدنیت مرد کا پیدا کردہ ہے۔ ہماری دانست میں یہ بات اس لیے غلط ہے کہ ہمارا مذہب اس کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی ہماری عمومی نفسیات۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں جنہوں نے اپنا مزاج اس حد تک سدھایا ہو کہ اُن کی طبیعت جنس مخالف کی طرف بالکل بھی مائل نہ ہوتی ہو۔ چند مستثنیٰ مثالوں کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے چلا آنے والا اصول قربان نہیں کیا جا سکتا۔
    ویسے اگر اس لوجک میں جان ہوتی تو ازواجِ مطہرات کو پردے کی تلقین کی جاتی اور نہ ہی پاکیزہ کردار صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے ضروری بات چیت کے دوران پردے کے پیچھے رہنے کی تاکید کی جاتی۔
    ہمارے ایک کولیگ تھے۔ وہ اسی صیغے کی گردان پڑھتے رہتے تھے کہ بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے بس۔ پھر کچھ مہینے ساتھ رہ کر انہی آنکھوں نے دیکھ لیا کہ موصوف اس "معاملے” میں نارمل حضرات سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔

    یہ بات درست ہے کہ مَردوں کو بھی اپنی نگاہوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کو پردہ کروانے کا لازمی نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ جو خواتین پردہ کیے بغیر باہر نکلیں۔ آپ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں گھورتے رہیں۔ جس قرآن میں عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے اسی قرآن میں مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم آیا ہے۔
    بہرحال پردہ قرآن وسنت سے مستفاد ایک اٹل حکم ہی نہیں، مسلم تہذیب کا جزوِ لاینفک بھی رہا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم قرآن وسنت کی اہمیت و ماخذیت کا انکار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی اسلامی تہذیبی شناخت کا۔
    شاہ زیب خانزادہ جیسے سینیئر اینکرز کو ان موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی سامنے رکھنا کرنا چاہیے۔۔