Baaghi TV

Category: سیاست

  • تبدیلی کا کیک اور آدھی روٹی ۔۔ ایاز خان

    ایک ملک میں انہتائی کرپٹ حکمرانوں کی حکومت تھی ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت کا بازار گرم تھا ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہوتے جاتے تھے ۔ لوگ روکھی سوکھی روٹی پر گزارہ کرتے تھے ۔۔ عوام جتنا کماتے سب خرچ ہوجاتا۔بلکہ مقروض رہتے ۔
    وہاں ایک شخص جس نے ساری عمر کھیل کود میں گزاری تھی اور اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا۔۔لوگوں کی حالت اور حکمرانوں کی بے حسی پر کُڑھتا رہتا تھا۔۔پھر اس نے سوچا کیوں نہ خود بادشاہ بن کر لوگوں کو غربت سے نکالا جائے اور اور کرپٹ اور ظالم حکمرانوں سے جان چھڑائی جائے ۔ ۔اورپھر اُس نے لوگوں کو قائل کرنا شروع کردیاکہ وہ انہیں ظالم حکمرانوں سے نجات دلائے گا۔۔جو دولت ان حکمرانون نے لوٹی ہے وہ واپس لا ئے گا ۔۔اور لوگوں اور غذائیت کی کمی کے شکاربچوں کو روٹی کی جگہ کیک کھانے کو دے گا ۔پھر کیا تھا کہ لوگوں نے اس شخص کی بات پر یقین کرلیا۔اور کرپٹ حکمرانوں کو ہٹا کر اُسے حکمرانی دے دی گئی جب وہ شخص حکمران بنا تو کیادیکھتاہے کہ خزانہ تو خالی ہے بلکہ ملک کا دیوالیہ نکلا ہواہے۔
    پھر کیا تھا کہ سابقہ کرپٹ حکمرانوں پر مقدمات بنے اور انہیں جیل میں ڈالا گیاکہ لوٹی دولت واپس دو۔۔مگر نہ دولت واپس آئی اور نہ ہی خزانہ بھرا۔۔ نئے حکمران نے اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ سر جوڑ لیا۔کچھ نے مشورہ دیا کہ دوست ملکوں سے قرض لیا جائے ۔او ر خزانہ بھر ا جائے تاکہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک مل سکیں ۔۔نیا حکمران کبھی اس ملک بھاگا کبھی اُس ملک بھاگا۔۔کچھ ادھر سے لیا کچھ اُدھر سے لیا ۔۔مگر خزانہ بھر نا تو دور کی بات ۔کاروبار حکومت چلانا مشکل ہوگیا۔۔پھر کیا تھا کہ فیصلہ کیاگیاکہ اُس آدمی کو لایا جائے جو پہلے حکمرانوں کو بھاری سود پر ر قم کا بندوبست کر کہ دیتاتھا۔اگرچہ نئے حکمران نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ ۔وہ خود کُشی کرلے گا لیکن ایسے کام کبھی نہیں کرے گا جو پہلے والے حکمران کرتے آئے ہیں ۔۔مگر اُس نے تو عوام کو روٹی کی جگہ کیک کھلانے تھے ۔اس عظیم مقصد کے لےے اُس نے بھاری سود اور شرطوں سے بھرپور قرض بھی لے لیا۔۔لیکن حالات پھر بھی قابو میں نہیں آرہے تھے ۔۔کیونکہ خزانہ تھا کہ جتنا مرضی ڈالے جاﺅ بھر تاہی نہیں تھا ۔اور قرض تھا کہ آسمانوں کو چھونے لگا۔۔نئے حکمران نے بڑے بڑے معاشی پنڈت بلا لیے ۔۔اور اُن کے سامنے اپنا مدعا رکھا کہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک کیسے کھلایا جائے ۔کیونکہ ان حالات میں تو ممکن نہیں ۔

    فیصلہ کیا گیا کہ لگان اتنا بڑھا دیاجائے کہ خزانہ بڑھ جائے اور کیک کی فیکٹریاں لگ سکیں ۔اور پھر فیصلے پر عملدرآمد شروع ہوا۔۔ پھر کیا تھا کہ ہر کمانے والے پر جو پہلے ہی طرح طرح کے تاوان دیتاتھا۔نئے نئے لگان لگادیے گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جو چار روٹیاں کھاتا تھا ۔مہنگائی بڑھنے اور تاوان کٹنے سے دو روٹیوں پر آگیا۔۔جو دو روٹیاں کھاتا تھاایک ۔۔اور جو ایک روٹی کھاتا تھا ۔اسے مجبور کردیاگیاکہ وہ آدھی روٹی کھائے ۔۔۔رہی بات آدھی اور چوتھائی کھانے والوں کی تو انہیں بھی دو دو تین تین نوالے لگان میں دینے کا کہہ دیا گیا۔۔تاکہ ۔ اُن کے لیے کیک کا بندوبست ہوسکے ۔۔ اُن میں سے ایک مشیر ایسا بھی تھا جو سامنے تو نہیں آتا تھا لیکن فیصلے وہی کرتا تھا کہ کس وزیر کو لگانا ہے اور کسے ہٹانا ہے ۔اس مشیر کا چینی کا دھندہ تھااور چونکہ کیک بغیر چینی کے مکمل نہیں ہوسکتا تو مشیر نے کہا کہ اتنے کیک بنانے کے لیے بہت زیادہ چینی درکار ہوگی ۔اور لوگ سستے داموں چینی لے کر کھا جاتے ہیں ۔۔اس لیے اگر چینی پر بھی تاوان لگا دیا جائے تو اتنے پیسے اکٹھے ہوجائیں گے کہ مستقبل میں کیک بنانے کے لےے چینی وافر مقدار میں موجود ہوگی اور ضرورت پڑنے پر ان پیسوں سے درآمد بھی کی جاسکے گی ۔۔پھر کیا ہوا کہ چینی پر بھی لگان لگا دیاگیااور عوام کے بچوں کو جو پانی میں قطرہ بھر دودھ ڈال کر چینی ملا کر پلا یا جاتا تھا ۔۔وہ بھی ممکن نہ رہا۔۔۔حالات زرہ خراب ہوئے تو صنعتکاروں اور کاروباری حضرات جن کے منافعے زرہ کم ہوئے تو ۔انہوں نے مزدور نکالنے شروع کردےے ۔بچ جانے والوں کو کہا جانے لگا کہ دو دو تین تین لوگوں کا کام ایک کو کرنا پڑے گا اور وہ بھی آدھی تنخواہ پرجب عوام میں بے روزگاری اور بے چینی بڑھی تو ملک کا حکمران آئے روز مجمع لگاتا ۔اور لوگوں کو کہتا کہ وہ ےہ سب اس لےے کررہا ہے تاکہ عوام روٹی کی بجائے ”کیک “ کھاسکیں اور بچوں کی نشو و نما اچھی ہوسکے ۔۔انہیں ےہ کچھ عرصہ برداشت کرنا پڑے گا۔۔اور کہتا کہ میں نے خود بھی محل میں رہنا چھوڑ دیاہے ۔۔اور اپنے خرچے پر ایک چھوٹے سے گھر میں رہتاہوں ۔اس لےے صبر کریں ۔اور لگان دیں ۔
    مگر ےہ جھوٹے دلاسوں سے عوام کے پیٹ کہاں بھرتے ہیں اور ۔اور پھر کیا ”کیک “ کے انتظار میں لوگ کب تک آدھی روٹی پر گزارہ کریں ؟۔۔پھر کیا تھا کہ وہی کرپٹ حکمران جنہوں نے عوام کو بس روٹی تک محدود کر رکھا تھا اور عوام میں اُنکی جگہ نیا حکمران لابٹھایا ، نئے حکمران کے خلاف اکٹھے ہو نا شروع ہوگئے ۔اور عوام کو کہنے لگے ۔۔”دیکھا ہم تمھیں روٹی تو دیتے تھے ۔۔۔اس نئے حکمران نے تو تمھاری روٹی بھی آدھی کردی “۔۔۔اور پھر وہ سارے کرپٹ ملکر نئے حکمران کو ہٹانے کی کوشش میں لگ گئے ۔۔اور ساتھ ہی حکومت کو معیشت کو ٹھیک کرنے کے لےے معاہدوں کی پیشکش بھی کرنے لگے ۔۔۔۔
    کہانی ابھی جاری ہے !

  • بھانڈے قلعی کرا لو! … غریدہ فاروقی

    بھانڈے قلعی کرا لو! … غریدہ فاروقی

    بھانڈے قلعی کرالو۔۔۔

    پرانے نوے بنا لو۔۔۔

    آگیا ہاں شیدا قلعی گر۔۔۔

    1977 میں ریلیز ہونے والی رنگین ہٹ فلم ’سسرال‘ کا یہ مشہور گانا مہدی حسن نے گایا، جس کے بول لکھے تھے ریاض الرحمان ساغر نے اور موسیقی ترتیب دی تھی ایم اشرف نے۔ گانا مشہور فلم سٹار شاہد پر فلمایا گیا۔ فلم نے کھڑکی توڑ بزنس کیا اور یہ گانا ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر تھا۔

    لیکن ’بھانڈے قلعی کرا لو‘ کی آواز گلی محلوں کے لیے نئی نہیں تھی۔ پاکستان کا شاہد ہی کوئی شہر، محلہ، گلی یا گھر اس صدا سے ناواقف ہو۔ چھوٹی سی قلعی گری کی مشین اور چند اوزاروں کے ساتھ کوئی نہ کوئی شیدا قلعی گر کسی نہ کسی روز، کہیں نہ کہیں آواز لگاتا تھا ’بھانڈے قلعی کرالو‘ اور گھروں کے کونوں کھدروں میں ڈھکے چھپے، کالے سیاہ، ڈینٹ پڑے، پیتل، تانبے اور لوہے کے ناکارہ برتن آناً فاناً گلی میں جمع ہو جاتے تھے۔

    شیدا قلعی گر چمتکار دکھاتا اور پل بھر میں چند پیسوں کے عوض یہی برتن چمکتے دمکتے، نوے نکور اور کارگر بن کر گھروں میں سج جاتے۔

    ایک مہینہ، دس دن ہوئے خان حکومت نے بھی صدا لگائی ’بھانڈے قلعی کرالو‘۔۔۔ ’سیاہ کاری‘ کے ذریعے کمائے اور بنائے کالے سیاہ اثاثوں کو چمکتا دمکتا، نَوا نکور اور کارگر بنوانے کی آ فر میں تحریکِ انصاف کی حکومت نے اپنے ماضی کے وعدوں اور دعووں کے منہ پر لگی کالک تو جیسے تیسے برداشت کرلی لیکن اصل مسئلہ تو اب آن کھڑا ہوا ہے!

    بار بار کی صدا گیری پر بھی کوئی کان نہیں دھر رہا! کوئی اپنے گھروں کے کونوں کھدروں میں چھپائے گئے کالے سیاہ برتنوں کی قلعی نہیں کروا رہا۔

    صدا لگانے والوں کا گلا دُکھ رہا ہے لیکن گھروں میں دبکے بیٹھے لوگوں کے کانوں پر گہرا پردہ پڑا ہے۔ صدا سُنی اَن سنی کردی ہے۔ اِکّا دُکّا نے آواز پر کان دھرا تو ہے لیکن فکرمند بھی ہیں کہ برتنوں کی قلعی نہ جانے کب تک چلے گی؟

    کیا وجہ ہے؟ آخر شیدے قلعی گر کی آواز کوئی سنتا کیوں نہیں؟ بار بار کی صدا لوگ ٹھکرا کیوں رہے ہیں؟ شیدے قلعی گر کا تو دل صاف ہے، نیت صاف ہے، لوگوں کے گھروں کی صفائی چاہتا ہے، اپنے گھر کی کمائی چاہتا ہے، دام بھی زیادہ نہیں مانگتا۔ پھر آخر وجہ کیا ہے؟

    کیا لوگوں کو کالے برتنوں میں کھانے کی عادت پڑ گئی ہے؟ یا کسی نے دیکھ لیا ہے کہ شیدے قلعی گر کے اپنے گھر میں کئی برتن کالے پڑے ہیں! کوئی چمچہ، کوئی کڑچھا، کوئی گڑوا، کوئی لوٹا۔ شیدے قلعی گر کے اپنے گھر میں، اپنے کچن میں کئی برتنوں کی قلعی ہونا باقی ہے۔ کیا شیدا قلعی گر کالے سیاہ برتنوں کی ٹھوک ٹھاک کا آغاز اپنے گھر سے کرے گا؟

    لیکن آخر شیدا قلعی گر کرے بھی تو کیا کرے؟ پاکستان میں یہی تو چلتا ہے، یوں ہی تو چلتا ہے۔

    کوئی بھی شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں۔ کئی پیتل، تانبے، لوہے کے برتن ملیں گے۔ کچھ خالی، کچھ بھرے ہوئے۔ کئی چمکتے دمکتے، نوے نکور جن کی حال ہی میں قلعی ہوئی ہوگی۔ کچھ پر ابھی تک سیاہی جمی ہوگی۔ پاکستان کی سیاست ہو یا معیشت، کام انہی برتنوں سے نکلوایا جاتا ہے۔

    عمران خان بھی ان برتنوں سے پیچھا نہ چھڑوا سکے۔ کئی چمچے،کئی کڑچھے، کئی گڑوے، کئی لوٹے ان کے اردگرد اکھٹے ہو گئے۔ دعویٰ تو کیا تھا خان صاحب نے ’نیا پاکستان‘ بنانے کا، لیکن فی الحال پرانے، ناکارہ، کالے برتنوں کو ہی قلعی کرا کے، نوا نکور بنا کے کام چلا لیا گیا۔

    سیاست کا ’نیا پاکستان‘ تو گزشتہ سال 25 جولائی کو ڈاؤن لوڈ کرلیا گیا تھا لیکن معاشی طور پر ’نیا پاکستان‘ تقربیاً ایک سال ہونے کو ہے، ابھی تک نہ بن سکا۔ جب کچھ کارگر نہ ہوا تو پرانے اور منجھے ہوئے قلعی گرنے پرانا گُر ہی آزمایا۔

    پرانے برتنوں کو قلعی کرا کے نیا رنگ روپ تو دلوا دیا لیکن برتن چونکہ بے پیندے ہیں، سو فی الحال تو لڑھک رہے ہیں اور ساتھ ہی معیشت کو بھی لڑھکا رہے ہیں۔

    شیدے قلعی گر کو اب کچھ اور کرنا ہو گا۔ کچھ اور سوچنا ہوگا۔ گھروں کی صفائی کرنی ہے اور اپنی کمائی کرنی ہے تو نئے اوزار اپنانے ہوں گے! اپنے ساتھ کے دیگر ماہر کاریگروں کے ساتھ بیٹھنا ہو گا یا انہیں اپنے ساتھ بٹھانا ہوگا۔ مشورہ کرنا ہوگا۔ نئی تکنیک اختیار کرنی ہوگی۔ آزمودہ طریقے اپنانے ہوں گے۔

    اس سے پہلے کہ پرائے محلے کا کوئی اور قلعی گر اپنی دکان چمکانے ہماری گلی میں آکر صدا لگائے: ’بھانڈے قلعی کرالو۔۔۔‘
    بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو


    Gharidah Farooqi
    Senior Anchor Person / Executive Producer
    AAJ TV
    Islamabad

  • انتظامی نا اہلی اور علاقائی تعصب ۔۔۔ زین خٹک

    انتظامی نا اہلی اور علاقائی تعصب ۔۔۔ زین خٹک

    ضلع کرک خٹک قوم کا مسکن ہے۔ جہاں پر اکثریت خٹک قوم کی ہے۔ 1982 میں جب کرک کو علیحدہ ضلع بنا یا جارہا تھا۔ تو اس کی پشت پر یہ سوچ حاوی تھی کہ یہ خٹک اکثریت ضلع ہوگا جہاں پر مساوات اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی۔ لیکن یہاں کی نااہل سیاسی قیادت نےذاتی مفادات کےلئے خٹک قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ نتیجتاً یہاں کی عوام آج خٹک کی شناخت سے زیادہ نصرتی، لنڈ، عیسک، ماشی خیل، وژدے، بانڈہ وال کی شناخت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔لیڈر کا کام عوام کو لیڈ کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر لیڈر نہیں بلکہ ذاتی مفادات پرست، لالچی، خودغرض،تنگ نظر، معتصب اور بیو پار قابض ہیں۔ جن کو یہاں کی عوام سے کچھ غرض نہیں صرف انتخابات میں علاقہ پرستی، تنگ نظری اور تعصب پھیلاتے ہیں۔ یہ اب ہمارا پیدائشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 90 کی دہائی میں لتمبر میں ڈگری کالج قائم ہوا تو ان سیاسی پنڈتوں نے کالج لتمبر کی بجائے ایک اور علاقے میں منتقل کر دیا۔ کالج کے لیے شاندار بلڈنگ تعمیر ہوئی۔ 1996 میں ہائی سکول لتمبر کو کالج بلڈنگ میں منتقلی کا حکم نامہ جاری ہوا۔ لیکن اہلیان لتمبر ڈھٹ گے بالآخر 2001 میں مشرف دورہ حکومت میں لتمبر کو جائز حق مل گیا۔ یہ ایک واحد مثال نہیں بلکہ ان سیاسی پنڈتوں کی تنگ نظری اور متعصبانہ رویہ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ طبقہ عوام مفادات اور اجتماعی کاموں کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ کرک کی مثال ماں ہے اور ہر باسی بیٹا ہے۔ ہر بیٹے کی ضروریات کو پورا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج تحصیل بانڈہ داؤد شاہ اور لتمبر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ گڈی خیل میں کینسر کی وباء ہے۔ تھل اور بہادر خیل میں پانی کی قلت ہے۔ کرک شہر میں اعلی یونیورسٹی اور ہسپتال کی ضرورت ہے۔ چونترہ میں تعلیمی اداروں اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ آج ان سطور کی وساطت سے کرک کے تعلیم یافتہ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان پنڈتوں کی متعصبانہ، تنگ نظری اور خود غرضانہ سوچ کو شکست دے کر کرک کے تمام باسیوں کو اپنائیت کا پیغام دیں۔ ہم ان پنڈتوں کی تقسیم کو نہیں مانتے ہماری پہچان کرک ہے۔ آئیں ملکر کرک کو عظیم ضلع بنائیں۔ ہر باسی اپنے حصہ کا کردار ادا کریں۔

  • بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.


    لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.

    عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ

    ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

    تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
    جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.

    پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
    ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.

    ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
    اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.

    Muhammad Abdullah
  • سیالکوٹ کو ڈویژن کی ضرورت کیوں ؟؟ عبدالحنان

    سیالکوٹ کو ڈویژن کی ضرورت کیوں ؟؟ عبدالحنان

    سیالکوٹ کے معروف سیاستدان خواجہ آصف صاحب کے والد محترم خواجہ صفدر صاحب کے دور میں ضلع گوجرانوالہ کو ڈویژن بنایا گیا تو پہلے سیالکوٹ کا نام تجویز کیا گیا تھا لیکن اس وقت سیالکوٹ کے ایم این ایز, اور ایم اپی ایز میں کوئی اتنا دم یا لائحہ عمل مرتب کرنے کا تجربہ نہیں تھا جس وجہ سے پیپر ورک کرنے اور سیالکوٹ کی معاشی اور اقتصادی صورتحال پر وزیراعلیٰ کو کیسے بریف کرنا ہے اس پر ناکامی کی وجہ سے سیالکوٹ کی بجائے گوجرانوالہ کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا تھا خیرجیسے تیسے یہ وقت گزر گیا اور ڈویژن کا تاج گوجرانوالہ کے سر پر پہنا دیا گیا لہذا پھر ایک خبر کی وجہ سے سیالکوٹ کی عوام شدید غم و غصہ کی لہر دیکھی گئی ہے گزشتہ روز خبر شائع ہوئی کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری صاحبان کی انتھک کوششوں اور محنتوں سے گجرات کو ڈویژن بنانے کے لیے پیپرورک تیار کرلیاگیا جلد ہی وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے اس پر عملدرآمد کروانے کے لیے بریفنگ دی جائے گی جس میں گجرات, سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین کو ملا کر ڈویژن کی شکل دی جائے گی
    اور بعدازاں جہلم کو بھی اس میں شامل کرنے کے لیے سوچ بیچار کیا جارہا ہے. پیپرورک سے لیکر منظوری تک کے لئے تمام لائحہ عمل مرتب دیا جاچکا ہے لیکن سیالکوٹ سے کسی بھی سیاستدان حکمران جماعت کے رہنما ڈار صاحبان کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ سیالکوٹ کے معروف سیاستدان خواجہ آصف صاحب کی طرف سے اس پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے ماسوائے سوشل میڈیا پر عوام میں شدید غم وغصہ اظہار دیکھنے میں آیا ہے جس میں سیالکوٹ کی عوام نے گجرات کو ڈویژن بنانے کی شدید مذمت کی ہے سیالکوٹ کی عوام کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کب تک کھیلا جائے گا اور سیالکوٹ کی عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی روایت کو برقرار رکھنا ہمارے سیاستدانوں کی فطرت میں شامل ہوچکا ہے
    سیالکوٹ پاکستان کا بارہواں بڑا گنجان آباد شہر ہے جس کی تاریخی ثقافتی اور تہذیبی حیثیت منفرد مقام رکھتی ہے ۔جبکہ زرمبادلہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو سیالکوٹ سالانہ 2 بلین ڈالرز سے زیادہ کی ایکسپورٹ کرنے والا شہر ہے۔ سیالکوٹ میں صنعتی یونٹس کی بہت زیادہ تعداد ہے جس کی وجہ اس شہر کا بین الاقوامی طور پر رابطے میں رہنا انتہائی ضروری ہے ۔سیالکوٹ کو دنیا بھر میں اعلٰی ترین سپورٹس اور سرجیکل سامان بنانے میں امتیاز حاصل ہے۔دنیا کی کل پیداوار کا ستر فیصد فٹ بال سیالکوٹ میں بنتا ہے جبکہ لیدر اور سرجیکل سامان کی اپنی ڈیمانڈ ہے۔پاکستان کی برآمدات میں چند ہی مصنوعات ایسی ہیں جو عالمی معیار پر پوری اترتی ہیں اور ان میں زیادہ تر سیالکوٹ میں بنتی ہیں۔ سیالکوٹ میں ہر طرح کا کھیلوں کا سامان، کھلاڑیوں کے ملبوسات، چمڑے کی مصنوعات، آلات جراحی اور دیگرعالمی معیار کی مصنوعات بنائی جاتی ہیں۔ گزشتہ سال اس شہر نے 2ارب ڈالر (تقریباً2کھرب روپے)کی برآمدات کیں جو پورے ملک کی برآمدات کا 9فیصد ہیں۔ سیالکوٹ جب سے اچھے اور مخلص سیاستدانوں سے محروم ہوا اس نے اپنا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کی کوشش کی ہے اگر سیالکوٹ کو ایئرپورٹ کی ضرورت محسوس ہوئی تو سیالکوٹ کے صنعتکاروں کی مدد سے اس کو پایا تکمیل تک پہنچایا گیا اور اپنی ائیر لائن کو بھی یہاں سے شروع کیا ہے جو ائیر سیال کے نام جانی اور پہچانی جاتی ہے اس وقت سیالکوٹ میں 6 ہزار سے زائد انڈسٹری ہے جو بیرون ملک میں اپنی پراڈکٹ سیل کررہی ہیں میڈیکل کالجز ویمن یونیورسٹی اور اس کے علاوہ موٹر وے جو ن لیگ کی حکومت نے پروجیکٹ شروع کئے تو وہ پایاتکمیل کے آخری مراحل میں ہیں سیالکوٹ میں سیاستدانوں کے فقدان کے سبب اس کا حق سیالکوٹ سے 2 حصے چھوٹے ضلع کو سونپا جارہا ہے جو سراسر زیادتی ہے کسی بھی صورت میں گجرات کو ڈویژن کا درجہ دینا مناسب نہیں ہے سیالکوٹ کو ہر لحاظ سے ڈویژن کی شکل دی جاسکتی ہے سیالکوٹ ,گجرات, اور نارووال کو ڈویژن بنا کر تینوں اضلاع کے مسائل کو دور کیا جاسکتا ہے سیالکوٹ سے دونوں اضلاع ایک ہی مسافت پر واقع ہیں لہذا دونوں اضلاع میں کسی بھی مسئلے پر بروقت پیش رفت آسان ہوگی

  • ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم

    ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم

    پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی جو خواب وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے قوم کو دکھایا یقیناً ہر محب وطن پاکستانی کی دیرینہ خواہش ہے۔ اسی کو خان صاحب نئے پاکستان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس مستقل مزاجی سے اس نئے پاکستان کی طرف سفر جاری ہے یقیناً عنقریب ہم اپنی منزل کو پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کے بہت سے اچھے اقدامات میں سے ایک عوامی رائے کو سننا اور قابل عمل بات کو اختیار کرنا بھی ہے اور یہ ان کی عوامی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بھی ہے اور ان کے
    مزاج میں رعونت و تکبر کے نہ ہونے کی علامت بھی۔
    گزشتہ دنوں پی ٹی آئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ اور اس کے بعد نشر کیے جانے والے وزیراعظم کے خطاب پر بہت سے ناقدین اور مبصرین نے تبصرہ کیا۔ مگر اکثر لوگ اس میں منفی نکات ہی ڈھونڈتے رہے۔ تنقید بذات خود بری نہیں ہے کیونکہ اس سے اصلاح کا موقع ملتا ہے مگر تنقید برائے تنقید اور ذاتی ناپسند پر مبنی تنقید سے سوائے وقت اور توانائی کے ضیاع کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی لیے ہم اس فضول بحث میں پڑ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
    قریباً پون صدی سے اہلیان پاکستان ایسی قیادت کی تلاش میں تھے جو ملک خداداد میں بلاتفریق احتساب اور قانون کی بالادستی قائم کر سکے۔ اور اس عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری بھی رکھ سکے۔ یقینی طور پر جب بات ہو احتساب اور قانونی بالادستی کی تو بہت سے افراد مخالفت پر اتر آتے ہیں اور ان کی مخالفت کو پس انداز کرتے ہوئے اپنے مقصد پر چلتے رہنے سے ہی کامیابی ممکن ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت وہ واحد جمہوری حکومت ہے جس نے اس اہم ترین امر کو یقینی بنایا۔ ملک کی کئی طاقتور اور با اثر شخصیات جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھ کر مطلق العنانی کے گھمنڈ میں مبتلا تھیں آج احتساب کے شکنجے اور قانون کے کٹہرے میں ہیں۔ ملکی صورتحال روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ اور حکومت کی ملک دوست پالیسیوں کے سبب فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں دونوں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے پر عزم ہیں۔ افواج پاکستان نے شبانہ روز اپنی جان پر کھیل کر اور رگ جاں اس دھرتی پر قربان کرتے ہوئے اس وطن کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنا رکھا ہے اور حاکم وقت بھی اپنے عزائم میں مخلص اور ثابت قدم ہے۔ قوم پرامید رہے کہ جلد پاکستان ریاست مدینہ کا عملی نمونہ ہو گا۔ وہ ریاست مدینہ جس کی داغ بیل نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اسے دنیا کی طاقتور ترین ریاست بنایا۔

  • تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    یہ بات ہی غلط ہے کہ عمران حکومت نے یہ اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ دو اضافی منی بجٹوں سے تحریک انصاف اس قوم کو پہلے ہی نواز چکی ہے۔جن کے ثمرات سے ہم رمضان اور عید پر استفادہ حاصل کرچکے ہیں. اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے جو صرف اردو زبان میں پیش کیا گیا ہے۔

    سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آئیں ہیں انھوں نے کیا تیرچلائے ہیں اور کتنے پیسے اکٹھے کر لیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ حکومت اقتصادی سروے کے تقریباً تمام اہداف حاصل کرنے میں مکمل فیل ہو گئی ہے۔ یہ وہ کارکردگی ہے جس کے بلند وبانگ دعوے کیے جاتے تھے ۔ اور اب بھی کیے جارہے ہیں۔ اس نئے بجٹ میں ہر چیز پر نئے ٹیکس لاگوکر دیے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی چیز بچی ہو جو ٹیکسوں سے مستثنی ہو۔ چلیں سگریٹ، مشروبات، سی این جی، ایل این جی، سیمنٹ اور گاڑیوں پر عائد ٹیکسز کی شرح میں اضافہ توشاید یہ سوچ کر کیا گیا ہو کہ یہ سب عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور اس ملک میں عیاشی صرف حکومت اور وزیروں کا ہی حق ہے ۔ مگرتبدیلی کے دعوے داروں نے کوکنگ آئل، گھی، چینی پر ٹیکسوں میں اضافہ کرکے ثابت کردیا۔ کہ تبدیلی سرکار بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ہی عوام دشمن اور غریب دشمن ہے ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

     

    عمران خان کی نظر میں چینی اتنی بڑی عیاشی ہے کہ اس پرعائد 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصدکردیا گیا ہے۔ جس سے چینی کی فی کلو گرام قیمت میں ساڑھے 3 روپے سے زائد کا اضافہ ہونے کی نوید ہے۔ ایسا ہوناہی تھا۔اس عوام کا مقدر ہی ایسا ہے جب حکومت بنی ہی شوگرمافیا کی مدد سے ہو ۔ جب شوگرمافیانااہلی کے باوجود کابینہ اجلاسوں میں ڈھٹائی سے بیٹھتی ہو۔ تو عوامی استعمال کی اشیاء پر ہی ٹیکس لگائے جاتے ہیں مافیاز پر نہیں ۔ چکن، مٹن اور مچھلی کی سیمی پروسسڈ اور ککڈ اشیاء پر 17 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ کیونکہ غریب تو کھاتا ہی دال سبزی ہے ۔ گو شت تو امیروں کے چونچنلے ہیں۔ سو اچھا ہی ہوا اس پر ٹیکس لگا دیا گیا ۔ حکومت نے دودھ، بالائی، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر بھی 10 فیصد ٹیکس تجویز کیا ہے۔ یہ بھی لگثرری ایٹمز ہیں ۔غریبوں کی پہنچ سے تو یہ پہلے ہی بہت دورہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

     

    حکومت نے ہزار سی سی اور اس سے چھوٹی گاڑیو ں پر 2.5فیصد ٹیکس عائد کرکے بھی احسن اقدام کیا ہے۔ کیونکہ گاڑی تو صرف امیر بندہ ہی رکھ سکتا ہے۔مگر متوسط طبقہ پتہ نہیں کیوں اس فیصلے پر تڑپ اُٹھا ہے۔ عام آدمی پیدل چلے ، سائیکل رکھے ، موٹرسائیکل چلائے گاڑی سے اس کا کیا لینا دینا۔ حکومت کا یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ۔ اس ملک میں تمام حقوق صرف امیروں کے لیے ہیں ۔ اسی لیے تو مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کر کے امیر افراد کو مزید فائدہ پہنچایاگیا ہے۔ کیونکہ امیروں کے پیسوں سے ہی تو کپتان حکومت میں آئے ہیں ۔ غریبوں اور متوسط طبقے کے ووٹ تو ہر کوئی لے لیتا ہے۔شاید نوجوانوں کے لیڈر کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کم پاور اور نسبتاً کم قیمت گاڑیاں متوسط طبقہ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جنہیں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ ٹیکسی کے طور پر چلا کر سفید پوشی برقرار رکھنے کی جدو جہد میں استعمال کرتے تھے جن پر اب ٹیکس لگا کر حکومت نے صرف ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی متاثر کر لیا ہے۔

    اعلی تعلیم بھی صرف امیروں کے بچوں کا حق ہے اس لیے اس بجٹ میں اعلی تعلیم کا بجٹ 57 ارب سے کم کرکے 43 ارب کردیاگیاہے۔کیونکہ تمام جاگیردار اور وڈیرے خود اسمبلیوں میں موجود ہیں اس لیے زراعت پر ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا ۔ اس اسمبلی میں جتنے بیٹھے ہیں۔ یہ خود تو دور کی بات شاید ان کے ملازم بھی17500 روپوں میں اپنے گھر کا خرچہ نہ چلا سکیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار اور اتنی مہنگائی کے بعد سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کرنا حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

     

    حکومت خود تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مکمل ناکام رہی ہے مگر جو پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہر چیز پر ہر کسی نے ہر حال میں ٹیکس دینا ہے ۔ پہلے صرف ان ڈائریکٹ ٹیکس دیتے تھے ۔ اب ان ڈائریکٹ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ ٹیکس بھی دینا ہوگا۔ جس طرح اس حکومت نےٹیکسوں کی بھرمار کی ہے۔ اب ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھی ہر کسی کو ایک نئی نوکری کرنی پڑے گی ۔

    ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کرتحریک انصاف نے اس قوم کے ساتھ وہ کیا ہے کہ شاید یہ قوم آئندہ کبھی کسی کا اعتبار نہ کرے۔ اس بجٹ سے اندازہ ہواہے کہ اصل نیا پاکستان اب بنا ہے ۔
    شکریہ تحریک انصاف
    شکریہ عمران خان
    اگر اجازت ہو تو اب تھوڑا سا گھبرا لیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • بلا عنوان ۔۔۔ محمد ساجد

    بلا عنوان ۔۔۔ محمد ساجد

    کچھ دنوں سے مختلف ممالک( امریکہ، جرمنی، آسٹریلیا) میں احتجاج ہو رہا ہے۔ جن میں خڑ کمر، وزیرستان میں فوج اور پی ٹی ایم کے جوانوں کے درمیان جھڑپ میں جاں بحق ہونے والے ‘معصوم افراد’ کیلئے انصاف کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو اسلحہ تک اٹھانے کی طیش دی جا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ ‘لر او بر یو افغان’ کے نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان احتجاجوں میں کثیر تعداد افغانستان کے پشتونوں کی ہوتی ہیں۔ جو کہ ان کہ بولنے کے انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ جبکہ کچھ فوجی جوان بھی اس واقعے میں رحلت کر گئے ہیں وہ کسی کے دم کرنے سے، کوئی جادوئی کلمات پڑھنے سے یا صرف ‘معصوم افراد’ کی لعن طعن والی احتجاج سے اپنی سانسوں پر قابو نہ رکھ پائے۔ کیا مومن، شہریت اور انسانی حقوق کے اعلی درجوں پر صرف ‘معصوم لوگ’ ہی فائز تھےکہ صرف ان کے لیے احتجاج جائز ہے؟ کیا اس دوران ‘معصوم افراد’ کی معصومانہ ذہنیت کو تشدد کی ترغیب کی بجائے کتاب یا سپارہ کی تلقین نہیں کی جاسکتی تھی؟
    سچائی کے حوالے سے لفظ ‘معصوم’ کی تعریف ‘مخلص’ بنتی ہیں کہ جس نے اپنے اندر کے ڈوئلٹی کو روک رکھا ہو، اسے ختم کر دیا ہو، اندر کے ہر باطل کو مٹا دیا ہو، اندر کا ہر پوشیدہ منکشف کر دیا ہو، ہر باطن ظاہر کر دیا ہو اور اپنے اندر کے ہر پر تشدد اجتماع کو روک رکھا ہو۔
    اج کل پشتون پیشہ ور سیاسی لیڈران نوجوان نسل کو تاریخ دیکھنے کی تلقین کرتے کرتے نہیں تھکتے اور بیانیہ ہوتا ہے کہ پشتون کو فلاں جگہ استعمال کیا گیا، فلاں جگہ پشتون کے حقوق چھینے گئے۔ فلاں سن میں پشتونوں کو مذہب اور بہادری کے نام پر استعمال کیا گیا۔ پھر جب نوجوان پشتون نسل نے تاریخ دیکھنا شروع کی تو ان کو پتہ چلا 1979 سے آگے کی بھی تاریخ خصوصا پاکستان اور افغانستان کی۔ پاکستان میں "پختونستان” کے علمبرداروں میں ایک ریڈیکل نیشنلسٹ محمود خان اچکزئی آج تک "پختونستان” کے خدوحال اور مستقبل بیان نہیں کر سکا کہ پختونستان کا تصور ایک الگ صوبہ کا ہے یا ایک الگ خودمختار ریاست کا۔ محمود خان خود پانچ ہزار سال سے پشتون ہیں انہوں نے ان پشتونوں کیلئے جو بھارت اور بخارا سمرقند میں رہائش پزیر ہیں، کیا اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں پشتون جو محنت مزدوری اور تعلیم کی غرض سے دنیا میں پھیلے ہیں ان کے حقوق کیلئے اب تک کیا کامیابیاں حاصل کیں ہیں؟
    افغانستان، پاکستان تعلقات پر از سر نو نظر ثانی کی جائے تو علاوہ طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت کے، باوجود دو مسلمان پڑوسی ہونے کے، دونوں ریاستوں کے معاملات کھبی صحیح موڑ پر نہیں آئے ہیں۔ بنیادی طور پر ستر سال سے افغانستان حکمران کے ذہنیت پر اہمیت کے حامل دو وہم سوار ہو چکے ہیں۔
    پہلا یہ کہ پاکستان ایک کمزور ریاست ہیں، جو کھبی مستحکم نہیں ہو سکتی، آج یا کل ٹوٹنے والی ہیں۔ افغان حکمران اس وہم کو سچ سمجھتے آرہے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کے ٹوٹنے سے پہلے افغانستان کو کچھ متعین کردہ علاقوں پر دھاوا بول کر اس پر ایک عوامی رائے ہموار کرنی چاہیے۔ تاکہ بوقت توڑ پھوڑ ان علاقوں پر قابض ہوا جاسکے۔ اسی وہمی سوچ کے تحت ایک تصوراتی نام "پختونستان” تشکیل دیا گیا۔ اس پلان کی تشکیل کے لئے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ثبوت 1947 سے 1979 کی تاریخ کے اوراق پر نمایاں طور پر موجود ہیں۔ کنگ محمد ظاہر شاہ سے لے کر خفیط اللہ آمین تک سب پختونستان کی سیاست کرکے افغانستان پر حکمران رہے ہیں اور ایک دوسرے کا تختہ الٹنے کی بھی یہی وجہ بتاتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کسی فورم پر افغانستان حکمرانوں کو اس مسئلے پر مدعو کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو افغان حکومت نے ٹال مٹول کا مظاہرہ کیا ہے۔
    دوسرا یہ کہ برصغیر کی تقیسیم کے دوران جو دو ریاستیں واقع پزیر ہوئیں دونوں کے سیاسی نظام کی بنیاد عوامی جمہوریت کو رکھا گیا۔ افغانستان کے سیاسی خدوخال اس کے بالکل برعکس تھے۔ اس وقت افغانستان میں آٹوکریسی(autocracy) تھی۔افغانستان کے ہر اس دور کے آٹوکریٹ کی ذاتی فوج ہوتی تھی ۔وار لاڈزم کا بول بالا ہوتا تھا۔ مرکزی حکومت کمزور چلی آ رہی تھی۔ ان خاندانوں کی اکثریت پشتون نسل میں ہی رہی ہے۔ لہذا افغانستان نے، جو کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہی برطانوی ایمپائر کی امداد پر چل رہا تھا، پاکستان کے قیام کو اپنے لیے مسائل میں اضافہ تصور کیا۔ کیونکہ افغانستان میں پشتون حکمران کے لیے جمہوری نظام کسی خطرے سے کم نہیں تھا۔
    عین اس وقت جب مسائل اپنی شدت کے باوجود ایک موڑ لے رہے تھے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن کے ساتھ ساتھ بنیادی ضروریات تعلیم، صحت اور رہائش کی بحالی کا کام جاری تھا ایک علاقائی لسانی گروپ نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا اور بنا کسی معاش کے، بنا کسی سوچ و بچار کے معجزاتی طور پر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر مفلوج کر کے رکھ دیا۔ جی ہاں انہوں نے اپنا نام پشتون تحفظ تحریک رکھ دیا، اور کہا گیا کہ یہ پشتونوں کے حقوق کا تخفظ کریں گے۔
    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پشتون استعمال ہوئے یہ ان کا حق ریاست سے مانگتے ہیں لیکن ریاست کے ساتھ بات چیت کے میز پر آنے کے لیے اپنا اصولی موقف واضح نہیں اور جبر یہ کہ نعرے بازی فوج، اس کے ‘موجودہ’ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے خلاف کرتے ہیں۔ خود کو غیر سیاسی تنظیم بتایا کرتے ہیں لیکن کثیر اوقات کی ملاقاتیں، تعلقات اور لوبنگ بہادر راؤ انوار کے ابو کے اصلی بیٹے، ‘جاگ پنجابی جاگ’ کی چہیتی اور ‘لر و بر’ کے ہیروز کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کیا وجہ ہیں کہ افغانستان کے تعلیم یافتہ پشتون بیرون ممالک میں اس تحریک کے حق میں پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوگئے جبکہ اپنے اصل قابض دشمنوں کے سامنے چپ سادھ لی۔ ایسا کیوں ہوتا ہیں کہ اگر کوئی پشتون فوجی افغان بارڈر پر مارا جاتا ہیں تو ان کے حق کے لیے افغانستان ریاست یا ان کی فوج کے خلاف کسی بھی ملک میں کوئی پشتون ان کے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کرتا۔ افغان حکومت نے آج تک کتنے پشتونوں کو قتل کیا ہے، اغواء کیا ہیں کوئی پشتون تحریک کا راہنما یا خود افغانستان کے پشتون اپنی حکومت وقت سے سوال کرکے ان کے خلاف کیوں نہیں اٹھتے؟
    ان سوالوں کے جوابات انتہائی سادہ اور آسان ہیں جوکہ اس تحریک کے ‘پاکستانی رہنماؤں’ کو اس وطن کے باقی پشتونوں کو دینے میں دیر ہو رہی ہے۔

  • احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان

    احتساب ۔۔۔ اسد عباس خان

    وہ ایک جاگیردار اور جاگیردار کا بیٹا تھا۔ شنید ہے بچپن میں کبھی کسی فلم یا ڈرامے کا کردار بھی بنا اور لڑکپن میں سینما ہال کے باہر ٹکٹیں بھی بلیک میں فروخت کیں۔ جوانی میں قدم رکھا تو اس وقت کے سب سے بڑے پاکستانی سیاستدان (ذوالفقار علی بھٹو) کی بیٹی (محترمہ بینظیر بھٹو) کو اُچک لیا۔ کچھ لوگ اسے ڈاکو بھی کہتے ہیں اس بات میں تو سچائی کا علم نہیں البتہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی ہی اہلیہ کے دور حکومت میں ایام زندگی جیل کی کال کوٹھری میں گزارے۔ جس کا دو مرتبہ کی منتخب وزیراعظم (بینظیر بھٹو) اور ملک کی اہم سیاسی جماعت کی سربراہ کا شوہر ہونے کے باوجود کوئی سیاسی کردار نہیں تھا۔ مرحومہ جب جلاوطنی کی زندگی گزار کر واپس آ رہی تھی اور کراچی میں آمد کے ساتھ ہی محترمہ پر خود کش حملہ ہوا جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں گئیں۔ اور پھر خطرے کو دیکھنے کے باوجود مرحومہ نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھی یہاں تک کہ راولپنڈی میں ایک اور مہلک حملہ ہوا اور محترمہ اس حملہ میں جاں بحق ہو گئیں تو یہ شخص باہر بیٹھ کر سب کچھ (پلاننگ) دیکھ رہا تھا۔ لوگ جس شخص کو قاتل سمجھ رہے تھے وہ شخص محترمہ بینظیر بھٹو کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ ہی ٹسوے بہاتے ہوئے وطن واپس آ پہنچا اور ساتھ ہی ایک خفیہ خط نکال لایا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ میرے بعد آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ 2007 کے عام انتخابات میں بینظیر بھٹو کے نام پر پڑنے والے ووٹ کا خوب فائدہ اٹھایا گیا ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد محترمہ کے قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے کمال چالاکی سے محترمہ کے معتمد ساتھیوں کو بطور خاص ٹھکانے لگا دیا گیا۔ شدید مخالف حزب اختلاف کو بھی خوب مہارت سے ڈیل کیا۔ جو جس پر خوش ہوا اسے اس ضمانت پر دے دیا گیا کہ میری کرسی کو کوئی گرزند نہ پہنچ پاۓ۔ اس تمام عرصہ میں کرپشن اور بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، ملکی شرح نمو زوال پذیر ہوئی، برآمدات و درآمدات میں وسیع خلیج پیدا ہونے کے باعث ڈالر کو پر لگ گئے، قومی اداروں کو خوب نقصان پہنچایا گیا ریلوے، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل مل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں، عدلیہ سے پنگے بازی اور فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے، حسین حقانی جیسے غدار کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا اور میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا، سیاست پوری طرح کاروبار کی شکل اختیار کر گئی مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بچہ بچہ واقف ہوا اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی اور زرداری صاحب کا مشہور زمانہ قول "جمہوریت بہترین انتقام ہے” واقعی ریاست اور عوام سے انتقام لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگلی حکومت "ن” لیگ کی آئی تو مسٹر ٹین پرسنٹ نے بظاہر اپنے حریف کے ہر مشکل وقت میں (اندر خانے) خوب یاری نبھائی۔ ہر بار میثاق جمہوریت کا راگ الاپا، وقتاً فوقتاً سندھ کارڈ بھی کھیلا۔ ایان علی، منی لانڈرنگ، فالودے اور سبزی والوں کے ناموں پر کروڑوں اربوں روپوں کی ٹرانزکشن سمیت سینکڑوں بے نامی اور فیک بینک اکاؤنٹ ظاہر ہونے کے بعد جب متعلقہ حکام نے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا تو یہی صاحب دھمکیاں دینے پر آ گئے۔ کبھی فوج اور عدالتوں کو بڑھکیں لگائی کہ "وہ تین سال کے لیے آتے ہیں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے” اور کبھی "میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا” جیسے جملے کسے۔ وفاقی احتساب کے ادارے نیب کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا! "چیرمین نیب کی کیا حیثیت ہے اسکی کیا مجال ہے جو میرے اوپر کیسس بنواۓ”
    پھر یوں گویا ہوئے کہ نیب کو میں تھکا دوں گا۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
    بار بار ضمانتیں ہوتی رہی اور آج جب ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تو پھر پوری دنیا نے زرداری کو بھیگی بلی بنا دیکھا۔ گرفتاری کی ویڈیو دیکھ کر بلاول کی ہنسی بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے۔ شائد اپنی والدہ کے قاتل پکڑے جانے کی خوشی ہو واللہ اعلم
    نواز شریف اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے اب زرداری صاحب بھی جیل روانہ ہو چکے ہیں جو شاید میاں صاحب کی تنہائی کے ساتھی بنیں گے۔ بار بار کمینی مسکراہٹ کے ساتھ گیارہ سال جیل میں گزارنے کو بطور فخریہ بتانے اور پھر اس بات پر اترانے والوں کے جیالوں کو سوچنا چاہئے کہ جیلوں سے عزت دار لوگ ڈرتے ہیں چوروں ڈاکوؤں کو اس کی عادت ہوتی ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اصل امتحان اب عوام کا بھی ہے کہ وہ ان چوروں ڈاکوؤں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہ بنیں۔ احتسابی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بلا تفریق احتساب کا عمل اب رکنا نہیں چاہیے۔

  • سیاسی سرکس لگنے کو ہے ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    سیاسی سرکس لگنے کو ہے ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    مورخ کی پیشین گوئی ہے کہ ملک میں سیاسی ٹمپریچر بڑھنے والا اور سیاسی سرکس لگنے والا ہے۔
    لیکن کیا میری قوم کسی نئی مشکل کی متحمل ہو سکتی ہے؟
    اگر سیاہ ست دان ملک سے اتنے ہی مخلص ہیں تو مشکل کی اس گھڑی میں وطن کے حال پر رحم کیوں نہیں کھاتے؟
    ایک طرف جبکہ دنیا کی مشہور ٹرائی اینگل میرے ملک کو توڑنے پر کمربستہ ہے وہیں میرے سیاہ ست دان بھی کسی نادان سے کم نہیں جو غداری کی آخری حدوں کو چھونے کی کوشش میں ہیں۔
    یاد رکھیے گا کہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کو اپنی قیادت پر اعتماد نہیں ہے چند ایک ضرور نکلیں گے لیکن احتجاج میں وہ دم نہیں ہوگا جو ہوا کرتا تھا۔
    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل میڈیا اس وقت تیاری کر کے بیٹھا ہوا ہے کہ پاکستان مخالف چھوٹی سے چھوٹی سرگرمی کو بھی انتہائی بڑا کر کے دنیا کو دکھانا ہے تاکہ پاکستان کی خون بدنامی ہو سکے۔
    جیسا کہ منظور پشتین علی وزیر اور محسن داوڑ کے معاملے پر وائس آف امریکہ اردو سروس نے الگ الگ پولز کروائے اور پاکستانی حکومت کے پی ٹی ایم مخالف ہر اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دنیا کو دکھانا چاہا کہ ریاست جابرانہ رویہ رکھتی ہے، اور ظاہری سی بات ہے کہ اس سب کا مطلب یہی ہے کہ ریاست کو اس سب سے روکنے کے لیے دنیا آگے بڑھے، اور دنیا کے آگے بڑھنے کا مطلب پاکستان کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔
    اسی طرح بی بی سی اردو سروس نے پاک فوج کو پشتونوں کا قاتل قرار دیتے ہوئے آرٹیکلز لکھے تاکہ پاک فوج کو دنیا میں نفرت کا نشانہ بنوایا جا سکے اور تاکہ ملک کے اندر اس کا اعتماد مجروح ہو اور دنیا کے سامنے یہ فوج قاتل اور مجرم بنا کر پیش کی جا سکے تاکہ دنیا پاکستان سے پہلے پاکستان کی فوج کو توڑے اور ختم کرے اور اس سب کا مطلب یہی ہے کہ اگر فوج نہ رہی تو ملک کیسے رہے گا؟
    اب زرا غور کیجیے کہ ہمارے سیاہ ست دان آج تک کیوں فوج پر بھونکتے آئے ہیں؟
    یقینا آپ کو ساری بات سمجھ آرہی ہوگی
    منظور پشتین حالات خراب کرنے کے در پے ہے اور فوج پر حالیہ حملوں کے بعد افغانستان سے جو کالز انہیں موصول ہوئی ہیں جن میں فوج کے نقصان پر مبارکباد دی گئی اور واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا کہا تھا تاکہ حالات کو غلط رنگ دیا جا سکے۔
    دوسری طرف پیپلز پارٹی نے زرداری کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی مکمل تیاری کر رکھی ہے ان حالات میں جبکہ ملک پہلے ہی سے مشکل کا شکار ہے یہ لوگ مزید مشکل کھڑی کرنے چلے ہیں یہی وہ ایام ہیں جب انڈیا بھی حالات سے فائدہ اٹھا سکتا اور پاکستان پر کسی بھی قسم کی جارحیت کر سکتا ہے لہذا عوام الناس کے لیے ضروری ہے کہ آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور کسی بھی ایسی سیاہ سی پارٹی کی قیادت کے نعروں میں مت آئیں جو پاکستان سے مخلص نہیں ہے۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔