Baaghi TV

Category: سیاست

  • عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    سردار عثمان بزدار نے پولیٹیکل سائنس مں ایم اے کا ہوا ہے۔عثمان بزدار 2002 سے 2008 تک مسلم لگ۔ ق۔ مشرف دور مں تونسہ کے تحصل ناظم ۔ دوہزار ترہ میں مسلم لگا ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا . مگرپیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہار گئے۔پھر 2018 میں عثمان بزدار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا حصہ بن گئے۔گزشتہ جنرل الیکشن میں عثمان بزدارتونسہ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پہلی ہی باری میں صوبے کے سب سے بڑے عہدے کے لیے نامزد ہو گئے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کیا تھے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ انھں عمران خان نے وزیراعلیٰ کیوں بنایا یہ بات اور بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بننا جہانگیر ترین نے تھا وہ نااہل ہوئے تو انھوں نے اپنا بندہ بنوا لیا۔ کوئی کہتا ہے کہ پرچی نکالی گئی ہے۔کسی کا اندازہ ہے کہ کسی دعا یا استخارے کے نتیجے میں یہ وزیر اعلی بنے۔ مگراس بات کو تو عقل ماننے کو تیار نہیں کہ عثمان بزدار کو پسماندہ علاقے سے تعلق ہونے کی بنا پر وزیر اعلی بنایا گیا۔چلیں وجہ جو بھی ہو۔اگر ان کے9 سے 10 ماہ کی کارکردگی کا موزانہ سابق وزراء اعلی سے کیا جائے تو بزدارکا دور شایدپنجاب کی تاریخ کا سب سے خراب اوربدترین دور ہے۔اس میں کسی کوکوئی شک و شبہ نہیں کہ عثمان بزدار نالائق اور نااہل ہیں ۔ بظاہر تو عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے کے سربراہ ہیں ۔مگر ایسی طاقت کا کیا فائدہ جب آپکو استعمال کرنی ہی نہ آتی ہو۔شاید اگلے چا ر سالوں تک عثمان بزدار اپنے اختیارات کو استعمال کر نا سیکھ جائیں مگر تب تک پنجاب کا بٹھہ ضرور بیٹھا جائیں گے۔کیونکہ کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں جووہ اپنے حلقے کے عوام کے لیے اب تک کر سکے ہوں تو پورے پنجاب کے لیے انھوں نے کیا کرنا ہے۔پنجاب کے سیاسی کلچر میں کمزور اور مسکین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لوگ طاقتور اور مضبوط حکمران چاہتے ہیں۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    سونے پر سہاگہ کہ عثمان بزدار نے اپنے دفاع کے لیے ترجمانوں کا پورا دستہ تیار کر لیا ہے . یعنی 38 ترجمان مقرر کر لے ہیں. اتنے پنجاب میں ڈسٹرکٹ نہیں ہیں۔ان ترجمانوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔وہ اس لیے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی ہی صفر بٹاصفر ہے۔ صاف بات ہے پنجاب کو ایسے نہیں چلایا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے خود بھی شعوری طور پر انکو قبول نہیں کیا ہے ایک جانب تو ان کو وزیر اعلی پنجاب لگا دیا دوسری جانب پارٹی کے ورکر اور لیڈر خود ان کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔پنجاب کوئی بلوچستان نہیں، پنجاب کوئی کے پی نہیں۔ یہ کوئی چھوٹا صوبہ نہں بلکہ ساٹھ فیصد پاکستان ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے موثر اور بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کمزور وزیر اعلیٰ کیسے کامیا ب ہو سکتاہے۔

    عثمان بزدار کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ جتنا باہر کاٹتا ہے اتنا ہی اندر کاٹتا ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مخالفین کو جائز و ناجائز گندا کرنے کے لیے میڈیا کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ان کی باری ہے۔
    ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ ہو۔ سانحہ ساہوہال ہو۔ ہیلی کوپٹر کا استعمال ہو۔ وزیر اعلی پنجاب کے پروٹوکول کا معاملہ ہو۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلیاں ہوں۔ شہروں مں کوڑاکرکٹ کے ڈھیر ہوں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ہو۔ ساہیوال ہسپتال مں اے سی نہ چلنے سے بچوں کی اموات ہوں۔ اربوں کی سبسڈی کے باوجودرمضان بازار فلاپ ہوں۔اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو۔ بیوروکریسی میں تقرر وتبادلے ہوں۔مارکیٹ پرائس کمیٹیاں ہوں۔عثمان بزدار کے اپنے حلقے تونسہ میں بغرر بورڈ اور متعلقہ افراد کی منظوری کے 102 افراد میں 1 کروڑ 6 لاکھ روپوں کی تقسیم ہو۔لیہ گرلز کالجز کی طالبات کو دوردراز علاقوں سے لانے والی بسوں کو ڈی جی خان شفٹ کرنے کا معاملہ ہو۔ ہر امتحان مں پنجاب حکومت فیل ہی ہوئی ہے اور اس سب کی ذمہ داری صرف اور صرف عثمان بزدارکی ہے۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    عثمان بزدار کا موازنہ اچھا یا برا شہباز شریف سے ہی کیا جائے گا۔ اوراب تک کارکردگی میں شہباز شریف عثمان بزدار سے لاکھ درجے بہتر ہی تھے۔پنجاب میں اگر کوئی تحریک انصاف کو کمزور کر رہا ہے تو وہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہی ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد عثمان بزدار عمران خان کے نمبر ٹو ہیں۔وہ عمران خان کے بعد سب سے اہم ہیں۔ شاہ محمود، جہانگیر ترین، علیم خان، اسد عمر اب اتنے اہم نہیں جتنے سردار عثمان بزدار اہم ہیں۔وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ بزدار کے بارے میں بار بار فرماتے ہیں. وہ شہباز شریف کی طرح لوٹ مار نہیں کرے گا۔یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مگر ممکن ہے عثمان بزدار کی نااہلی سے پنجاب کو مالی طورپر نقصان شہباز شریف کی لوٹ مار سے زیادہ ہو جائے۔

    مزید پڑھئے: رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    عوام کو عثمان بزدار نے دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔کوئی اصلاحات نہیں ہوئیں . نہ ہی کوئی کا م ہوا ہے پہلے کی طرح بدحالی عوام کا مقدر دیکھائی دے رہی ہے۔ ویسے ہی لوگ سٹرکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ بے روزگاری۔مہنگائی اور فاقوں مں اضافہ ہورہا ہے۔ ویسے ہی جاگر داری اور طاقت کا نظام قائم ودائم ہے۔پہلے سے بھی زیادہ صرف میڈیا اور ٹویٹر پر جعلی کارکردگی جاری وساری ہے۔ عملی کام صفر ہیں۔پہلے کی طرح ہی ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ پہلے ہی کی طرح صرف سب اچھا ہے کی رپورٹ ہے۔ یہ ہے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی.

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    میسور کی سلطنت انگریزوں سے محو جنگ ہے۔ سلطان ٹیپو سرنگا پٹم میں موجود ہیں۔ بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔انگریز فوج سرنگا پٹم کے راستے میں آنے والے دریا کے دوسرے پار موجود ہے.

    سلطان ٹیپو اپنے محل میں موجود ہیں اور سرنگا پٹم یا یوں کہیے ہند کے مسلمانوں کے اوپر منڈلاتے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سلطان معظم کا ہر سپاہی ایمان کے جذبے سے سرشار ہے۔ سلطان کے سامنے صرف ایک قوت ہی نہیں ہے بلکہ ان کا سامنا دو قوتوں سے ہے۔ ایک قوت وہ جو مغرب سے مشرق میں لوٹ مار کرنے کے لیے آئی ہے اور دوسری وہ جو صرف اپنے مفاد کو مدنظر رکھ رہی ہے۔ جو ہندوستان کے مسلمانوں کے مستقبل کو تو پہلے ہی بیچ چکی تھی اب اہنے دین و ایمان کو بیچ رہی ہے۔ وقت کی اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہوگی کہ یہ قوت بھی مسلمانوں کی قوت ہے۔

    ذرا تصور کیجیے کہ چشم ِفلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف لڑ رہا ہو اور جس کی خوشنودی کیلیے لڑ رہا ہے وہ کافر ہے…. !
    سلطان معظم بذات خود ایک نڈر حکمران تھے۔ وہ صرف ایک ذات سے ڈرتے تھے…. اللہ کی ذات سے۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کے لیے تیاریاں شروع کیں۔ سلطان معظم کی ریاست کے سپاہی بھی ہمت، غیرت اور جرات کی اعلیٰ مثال تھے۔ سلطان ٹیپو کے سپاہیوں میں محمد بن قاسم کے لشکر کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ یہ وہ سپاہی تھے جو کئی محاذوں پر کفر کو شکست دے چکے تھے۔ یہ اپنے لیے شہادت اور اسلام کے لیے فتح سے بڑھ کر کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے. لیکن اس بار محمد بن قاسم کا یہ لشکر جنگ میں تنہا نہیں بلکہ سرنگا پٹم کے عوام بھی اپنے جان و مال ہتھیلی پر رکھ کر ان کے ساتھ اور انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔

    انگریز یہ امر بخوبی جانتے تھے کہ سلطان معظم کو شکست دینا آسان نہیں۔ چنانچہ انہوں نے سرنگا پٹم میں ملت فروشوں کو تلاشنا شروع کیا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ میر معین الدین، میر قمر الدین میر صادق اور پورنیا کی صورت انہیں ابن الوقت مل چکے تھے۔

    انہوں نے چال ایسی چلی کہ سلطان معظم کے شیر دل کمانڈر غازی خان کو شہید کروا دیا۔ اب سلطان کے پاس ایک ہی محبِ وطن اور وفادار سالار رہ گیا جس کا نام سید غفار تھا۔

    ۴ مئی کے طلوع آفتاب کے ساتھ سرنگا پٹم کی عزت کا آخری سورج طلوع ہوا۔ غداروں کی غداری کی وجہ سے سرنگا پٹم کی حفاظتی دیوار کے ایک حصے کی طرف انگریزوں نے پیش قدمی شروع کی۔ سید غفار بھی اسی حصے پر انگریزوں کی توپ کے گولے کی زد میں آ کر شہید ہو گئے تھے۔ اب فیصلہ کن جنگ یک طرفہ تھی۔

    چشم فلک نے ایک اور منظر دیکھا جب ایک حکمران اپنے سپاہیوں کے ساتھ لڑ رہا تھا ۔سلطان ٹیپو میدان جنگ میں موجود تھے۔ انہیں ایک گولی لگی مگر وہ لڑتے رہے۔ انہیں دوسری گولی لگی مگر وہ پھر بھی لڑتے رہے جبکہ تیسری مرتبہ جب ان کی کنپٹی پر انگریز نے گولی ماری تو وہ شہادت پا گئے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کی آذادی کا سورج غروب ہوا۔

    یہ وہ مناظر ہیں جو میں کل کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے چشم تصور میں دکھلاتی ہیں۔ میں آج کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے میسور جیسی ایک اور ریاست دکھاتی ہیں…. جسے دنیا پاکستان کہتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتی تھی اسی طرح یہ ریاست انہیں کھٹکتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے لوگ تھے اسی طرح اس ریاست میں محب وطن لوگ ہیں۔ جس طرح میسور کی ریاست ہندوستان کے مسلمانوں کی محافظ تھی اسی طرح یہ ریاست پورے عالم اسلام کی محافظ ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے سپاہی ایمان کی قوت سے مالا مال تھے اسی طرح اس ریاست کے سپاہیوں کے دل بھی ایمان کے نور سے فروزاں ہیں۔
    لیکن کتنے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح میسور کی ریاست کے اندر غدار تھے اسی طرح اس ریاست کے اندر بھی غدار پائے جاتے ہیں۔

    26 مئی 2019 کو ہونے والا واقع اس ریاست کے باسیوں کیلیے ایک سبق ہے۔ پی-ٹی-ایم کے ممبر قومی اسمبلی کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاک فوج کی چوکی پر حملہ ان کی غداری کا منہ بولتا ثبوت ہے.

    یہ اللّٰہ کا اس ریاست کے باسیوں پر احسان ہے کہ اس نے ان پر غدار ظاہر کر دیے۔ ورنہ یہ ریاست اب بھی حالت جنگ میں ہے۔ ریاستی ادارے دہشت گردی اور کرپٹ مافیا کے خلاف محو جنگ ہیں۔ ایسے میں غدار اس ریاست کے لیے سنگین خطرہ ہوسکتے ہیں ۔ افواج پاکستان پر پی ٹی ایم کا یہ پہلا حملہ نہیں، البتہ پی-ٹی-ایم کے رہنماؤں کا از خود فعلی حملہ ہے۔میں ان سب کو میر صادق،میر معین الدین، میر قمر الدین اور پورنیا سے تشبیہ دینا غلط خیال نہیں کرتا۔

    اے اہل پاکستان!

    اپنے وطن کے غداروں کو پہچان! اس سے پہلے کہ یہ اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ ان غداروں کو عبرتناک سزائیں دو تاکہ آئندہ کوئی تمہارے ساتھ غداری کا سوچ نہ سکے۔ یہ وقت سب پشتونوں، پنجابیوں، سندھیوں اور بلوچیوں کے اکٹھا ہونے کا ہے۔ اپنے منہج اور اقبال کے وژن پر واپس آجاؤ۔ پی-ٹی-ایم کو اس ارض پاک سے مٹا دو۔ ان کو آن کے انجام تک پہنچاؤ۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد۔

  • میں کھلاڑی تو اناڑی …. فرحان شبیر

    میں کھلاڑی تو اناڑی …. فرحان شبیر

    آج کل کھلاڑیوں کا مقابلہ اناڑیوں کے ساتھ پڑا ہوا ۔ شور اتنا ہے کہ رگ رگ میں محشر برپا ۔ ارے روکو، پکڑو یہ دیکھو اناڑی اور اسکی اناڑیوں کی ٹیم کیا کر رہی ہے ، ہائے کاروبار کو جان کر رہے ہیں ۔ یہ ملک ڈبو رہے تباہ کررہے ہیں ۔ پیاز کی پرتوں کی طرح کھل رہے ہیں برف کی باٹ کی طرح پگھل رہے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ
    جب تک کھلاڑی حکومت میں تھے سارے دانشوڑ ٹریڈ ڈیفیسٹ کے خطرناک حد تک بڑھنے ، امپورٹ میں پانچ سالوں تک ایک ڈالر تک اضافہ نہ ہونے ، ڈیٹ ٹو جی ڈی ریشو ریڈ لیول کراس کر جانے تک کی خبروں کو ایک آنکھ پر ہاتھ رکھ کر پڑھتے رہے دوسری آنکھ کے سامنے ہمیشہ اشتہارات نظر آتے تھے لہذا معیشت پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہوتا تھا ۔ ہائے یہ اگر اس وقت اپنے کیلکولیٹر نکال لیتے تو شاید اسوقت اتنی بھک منگی صورتحال نہ ہوتی ۔ یہ سیانے گرگئے تھے سجدے میں جب وقت قیام آیا ۔

    کھلاڑی اتنے فنکار تھے کہ آنے والی حکومت کے ہاتھ پاوں باندھنے کے لئیے جاتے جاتے کمال ڈھٹائی کے ساتھ آنے والے سال بجٹ تک خود بناکر گئے ۔ جس میں ریونیو کی قربانی کر کے مختلف طبقات کو ٹیکسز کی چھوٹ دے کر نوازا گیا ۔ تاکہ آنے والی حکومت ریونیو کلیکشن کا ہدف پورا کر ہی نہ پائے ۔ سب کو خوش کرنا تھا لہذا سیلیریڈ پرسن کے ٹیکس کی شرح سے لیکر slabs تک ریلیکس کر کے چلے گئے ۔ بظاہر عوام کو اچھا لگا کہ حکومت نے ریلیف دیا لیکن یہ ریلیف حب علی سے زیادہ بغض معاویہ کا شاخسانہ تھا ۔

    پھر اس ٹیم کے سب سے بڑے کھلاڑی اسحاق ڈار کا کارنامہ غلط اعداد و شمار پیش کرنا تھا ۔ ملکی قرضوں کی تفصیل 2016 میں آن ریکارڈ اسمبلی میں غلط جمع کرائی ، فارن ریزرو کے حوالے سے جھوٹ ، بانڈز کے اجرا اور انکی شرح منافع پر جھوٹ ، پاور کمپنیز کی ادایگیوں کے بارے میں جھوٹ ، حتی کہ ملکی اثاثے کی گروی رکھے جانے کی ڈیٹیل بھی غلط اور جھوٹ کہ آج پتہ چل کر حکومت کے ہوش آڑ رہے ہیں ساورن گارنٹیز کی مد میں ہی ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا قرضہ چڑھا دیا کھلاڑیوں نے ۔ حالانکہ ان کھلاڑیوں نے سب سے پہلا چونا ہی قرض اتارو ملک سنوارو نعرے سے لگایا تھا ۔
    پھر جاتے جاتے اک ہور وڈے کھلاڑی ، پندرہ بیس سالوں میں تیزی سے ترقی کرتی ائیر لائن ائیر بلو کمپنی کے مالک، شاہد خاقان عباسی صاحب، خزانے پر ایسی جھاڑو پھیر کر گئے کہ آنے والوں کے پاس ایک پیسہ نہ رہے ۔ چودہ سو سے سولہ سو ارب روپے تک کی ادئیگیاں کرکے گئے ۔ جن ایکسپورٹرز کو پانچ سال ریبیٹ کے لئیے رلایا انہیں بھی کچھ ادئیگیاں اسی دور میں ہوئیں ۔ پھر ادئیگیاں ہی نہیں عباسی صاحب نے تو ایک ارب روپیہ الیکشن سے پہلے وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈ سے نکال کر اپنے بیٹے کے کے حوالے کر دئے، قوم کے ان پیسوں سے جو صوابدیدی فنڈ میں ضرورت مندوں کی مدد کے لئیے ڈالے جاتے ہیں عباسی صاحب کے حلقے کے لوگوں کو عمرہ پیکج دیا گیا ۔ کیا یہ اندھے تھے جو خزانے کی خانہ خراب حالت نظر نہیں آرہی تھی یا واقعی آنے والی حکومت کو ہر حالت میں کانا کرنا تھا ۔

    ادھر پنجاب گورنمنٹ کے کھلاڑیوں نے اپنی تصویروں اور شہزادے شہزادیوں کی پروجیکشن پر میڈیا بھر میں 430 ارب روپے کے ادھار اشتہار چلا دئیے کہ دیتے رہینگے آنے والے ۔ ورنہ تو میڈیا جانے اور نئی حکومت ۔ میڈیا خود ہی قدموں پر جھکا کر اپنے پیسے نکال لے گا ۔ ۔ واہ یہی تو کھلاڑی پن ہوتا ہے ۔ اپنی ہینگ لگے نہ پھٹکری عوام کے پیسوں سے پبلسٹی کا ڈھول بجاو اور سیاست میں رنگ بھی چوکھا لاو ۔ اب یہی 430 ارب روپیہ اس نئی پنجاب گورنمنٹ کے گلے پڑ گیا ۔ انہی پیسوں کا نہ دینا ہی تو ہے جو میڈیا پر ہر صافی و ناصافی اناڑی اناڑی کی گردان لگائے ہوئے ہے ۔ کسی کو چائے کے نہ پوچھے جانے کا غم ہے تو کسی کو اپنی بے قدری کا ۔ یہ کھلاڑیوں کی عنایت خسروانہ کا فیضان ہے جو آج بڑے بڑے دانشوڑ عمران خان کو ناکام ٹہرانے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔

    مسلہ یہ ہے یا تو یہ بے چارے معیشت جانتے نہیں اور اگر جانتے تو کھلاڑیوں سے دو چار Basic سے سوال کبھی نہ کبھار تو ضرور پوچھتے ۔ کیونکہ سوال تو یہ بنتا ہے کہ دو ارب ڈالر کے ٹریڈ ڈیفیسیٹ کو بیس ارب ڈالرز تک پہنچانے پر اسحاق ڈار کو اچھا تو کیا صرف معیشت دان بھی کیسے گردانا جاسکتا ہے اتنا تو ایک منشی بھی سمجھتا ہے آمدنی اٹھنی اور خرچہ ایک روپئیا اور جو گدھے اس ٹریڈ ڈیفیسٹ میں نو ماہ میں ہی 30 فید کمی لے آئے وہ آپکی نظر میں کیسے اور بھلا کس طرح اناڑی ہیں ۔

    اناڑیوں نے PIA کا loss روک دیا واہ بھئی واہ بڑے زبردست اناڑی ہیں ۔ کھلاڑیوں کو تو شرم آنی چاہئیے کہ پی آئی اے کے نام پر دس سالوں سے ری ویمپنگ ری ویمپنگ کا شور مچانے کے باوجود بھی خسارہ 400 ارب پر پہنچا دیا ۔ جو کہ جمہوریت کے بہترین انتقام کے سب سے بڑے کھلاڑی زرداری کے دور میں شاید 200 ارب تھا ۔ دماغ گھوم کر رہ جاتا ہے کہ آج کے اس دور میں بھی پی آئی اے پر حاضری یا attendance ہاتھ سے رجسٹر میں لکھی جاتی تھی ان بچوں نے اٹیینڈنس کا سسٹم Thumb والا کیا جو آج کے چورن چٹنی بیچنے والوں نے بھی کرالیا ہے ۔ کیا عباسی صاحب کی اپنی ائر لائن ائیر بلو میں بھی اٹینڈینس کا یہی نظام ہوگا اسکا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔

    اور کیا گنوائیں کھلاڑیوں کی فنخاریاں ؟ چلو یہ ہر وقت کھلاڑی اناڑی کا شوڑ مچانے والے دانشوڑ ہی کسی ایک ادارے کا ، بس صرف کسی ایک ادارے کا نام بتا دیں جسے ان مہان کھلاڑیوں نے خسارے سے نکال کر منافع میں لایا ہو ۔ کوئی ایک ادارہ ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ دنیا کے ملکوں کے ادارے نہیں کما رہے تھے ۔ Emirates ائیر لائن ہماری PIA کو منہ چڑاتی چڑاتی دنیا کے آسمانوں پر چھا گئی ۔ اور اسکی انگلی پکڑ کر اڑانے والی پی آئی اے اپنے بال و پر نچتے دیکھتی رہی ۔

    اسٹیل مل تباہ حال ، جالے پڑھ گئے ۔ وہ اسٹیل مل جو ہماری آج کی امپورٹ بل کی کئی ادائگئیوں سے نجات دلا جو آج ہم اسٹیل کی امپورٹ کی صورت میں لاد رہے ہیں ، ایک بوچھ بن گئی ہے ۔ اسکے ایمپلائز کی تنخواہیں بھی یہ اناڑی کلئیر کر رہے ہیں کہ وہ چلے تو آنے والے دنوں میں چار پیسے بھی کمائے ۔ کوئی سوچ سکتا یے کہ جس ملک میں CPEC سے لیکر دیگر بڑے بڑے پراجیکٹس میں اسٹیل کی بے تحاشہ کھپت ہو، چائنا سے لیکر ملک کی دیگر اسٹیل ملز سے حکومت کو اسٹیل کی Buying کرنا پڑھ رہی ہو اسکی اپنی خود کی سمندری جیٹی رکھنے والی اسٹیل مل سسک سسک کر گھٹ گھٹ کر دم توڑ رہی ہو مسلسل خسارے میں چلانی پڑھ رہی ہو لیکن ریاض لال جی سے لیکر شریفوں کی اپنی اسٹیل فیکٹریاں فولاد پہ فولاد ڈھالے جارہی ہوں ۔ ہذا من فضل ربی ۔ اپنی فیکٹری میں ایک مزدور اضافی نہ رکھو ۔ PIA، اسٹیل مل ، OGDCL , PPL ,M اور ان جیسے سارے کماو پوت اداروں کو بھر دو سیاسی کارکنوں سے ، مس مینیجمنٹ کے ذریعے ڈس انٹیگریٹ کرا دو تباہ کرا دو ۔ اور بعد میں اسکریپ بھی نہ چھوڑو ۔

    اسی پاکستان میں ہم دیکھ رہے تھے کہ کورئیر سروسز کے میدان روز روز نئی کمپنیاں نمودار ہورہی تھیں ۔ چیتا ، لیپرڈ، ٹی سی ایس ، DHL ، پھر ڈائیئوو والوں کی بھی کارگو ہینڈلنگ ، پھر ٹرک ٹرالر سے کارگو ہینڈلنگ الگ بزنس ۔ 2۔2 بلین ڈالرز کی کارگو ہینڈلنگ مارکیٹ سے ساری یہ پرائویٹ کمپنیاں اپنا اپنا حصہ وصول کر رہی تھیں وہیں ہمارا اپنا Pakistan post ” ڈاکیا ڈاک لایا ڈاکیا ڈاک لایا والے” سسٹم میں پھنسا ہوا تھا ۔ کسی کھلاڑی کو کبھی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ پاکستان پوسٹ کے گاوں گاوں دوردراز کے علاقوں تک بنے بنائے اس سسٹم کو ذرا سا اپ گریڈ کر کے، ڈیجیٹلائز کرکے اور موبائل ایپس پر لاکر کچھ کما کر ملک کے خزانے میں تھوڑا کچھ پیسہ ڈال بھی دیں ۔ اب یہی ” اناڑی” اسی پاکستان پوسٹ کو ڈیجیٹل مارکیٹ میں لے آئے ۔ منی ٹرانفسر کی سہولیات سے موبائل بینکنگ انڈسٹری میں سے بھی اپنا شئیر لیا اور ساتھ میں سامان کی زیادہ ترسیل سے کام بھی زیادہ ہوا ۔6 ارب کا منافع ہوگیا پاکستان پوسٹ کو ۔ یہ آگے اور زیادہ ہونا ہے کیونکہ Cpec کی صورت میں اس پورے خطے میں ٹرانسپوٹیشن سیکٹر میں بیس فیصد کا اضافہ ہوگا ۔ تبھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ روٹھی ہوئی ائیر لائینز پھر سے پاکستان واپسی کے روٹس کھول رہی ہیں ۔

    مجھے یہ بھی حیرانی ہوتی ہے کہ مُحَمَّد بن سلمان بھی بے وقوف تھا کہ اس نے کہا کہ وہ عمران خان وزیراعظم بننے کا انتظار کرہے تھے ۔ زمانے کے سرد و گرم دیکھے ہوئے ملائیشیا کے قابل احترام وزیراعظم مہاتیر مُحَمَّد بھی غالبا عقل سے پیدل ہوگئے ہیں بقول نارووال کے ارسطو ” اناڑی کے ہاتھ استرا دیکھ کر بھی سنبھل نہیں رہے جو بھاگ بھاگ کر دامے درمے سخنے پاکستان میں انویسٹمینٹ کے پلان لیکر آرہے ہیں ابھی کل ہی کویت نے 22 ارب ڈالرز کی انویسٹمینٹ کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ 2 لاکھ 20 ہزار فی یونٹ کے لحاظ سے آسانی سے بنائے والے گھروں کی اسکیم تک لانچ کرنے کا ارادہ ظاہر کرہے ہیں ۔
    پھر سب بڑھ کر کیا یہ چین کو بھی سمجھ نہیں آرہا کہ” او تیری تو۔۔۔ لٹ گئے۔۔ برباد ہوگئے۔۔۔ یہ پاکستان میں کون اناڑی آگئے۔۔۔ یہ کس کے ہاتھوں میں استرا آگیا ۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ یہاں تو چین کا عالم یہ ہے انہی اناڑیوں کے وزیراعظم کو دورے پر بلا کر پاکستان کو آسیان ممالک ( ملائشیا ، ویٹ نام وغیرہ ) کی طرح کا ڈیوٹی فری معاہدہ کرلیتا ہے کہ ” چل جانی 313 پراڈکٹس ڈیوٹی فری لے آو ” ۔ اس میں پاکستان اگر صرف گارمنٹس میں ہی فوکس کر لے تو وہ ہی اپنے کو کافی ہے بھائی ۔ ایک تو پاکستان کی بہترین کپاس ، ہمارا پہلے سے ٹیکسٹائل میں برسوں کا تجربہ اور ابھی بھی انسٹالڈ اینڈ ان پلیس انڈسٹری اور تیسری اور سب سے بڑی بات چین کی کپڑے کی پوری مارکیٹ ۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ چین سالانہ 625 ارب ڈالرز کے کپڑے ، گارمنٹس اور اس سے متعلقہ آرٹیکلز import کرتا ہے یعنی دنیا سے خریدتا ہے تو اب ہمارے پاکستانی گارمنٹس ایکسپورٹرز کے لئیے سوا ارب لوگوں کی ایک بہت بڑی مارکیٹ کھل گئی ہے ۔ جوکہ بہت بڑی اپرچونٹی ہے پاکستان کے لئیے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے لئیے ۔ کیونکہ ٹیکسٹائل فارن ایکسچینج کے ساتھ لیبر فورس کو کھپانے میں بھی نمبر ون سیکٹر رہا ہے پاکستان کا ۔

    میں حیران ہوں کہ یہ اچھے اناڑی ہیں جو ٹیکس کی دنیا کا معتبر ترین نام شبر زیدی کو لے آتے ہیں ایف بی آر کو سنبھالنے کے لئیے ۔ جس نے آتے آہی پاکستان کی معیشت کی خرابی کی روٹ کاز کو ختم کرنے کے لئیے کام شروع کردیا ۔ یعنی معیشت کی ڈاکومینٹیشن ۔ بلیک اکانومی جب سامنے ائیگی تب ہی پاکستان کی معیشت بھی سدھرے گی ۔ ہاں جہاں تک بات آئی ایم ایف کے معاہدے کی ہے تو اس منزل تک نوبت نہ پہنچنے کی ہم نے بھی بہت دعا کی تھی لیکن” بیگرز آر نوٹ چوزرز” والی بات کہ اگر پچھلوں نے اس حال میں چھوڑا ہوتا تو کچھ اکڑ بھی دکھاتے ۔ وہ تو ابتدائی بھاگ دوڑ رنگ لائی دوست ممالک بروقت آگے بڑھے اور یوں پچھلے ایک سال میں پندرہ سولہ ارب روپیہ اسی پاکستان بچاو مد میں آگیا ۔ یہ تھوڑی بہت اکڑ اور بھاگ دوڑ ہی کام آگئی کہ آئی ایم ایف کا شکنجہ اتنا سخت نہیں جتنا پہلے لگنے کا امکان اور رویوں کا پلان تھا ۔ تھوڑا اطمینان یہ تسلی دیکر بھی ہوا کہ امریکہ ہی کے نہیں روس اور چین کے بھی آئی ایم ایف میں شئیرز ہیں ۔ لہذا وہ بھی اب آئی ایم ایف کو اپنا گندہ کھیل کھل کر نہیں کھیلنے دینگے ۔
    اپنا کہنا تو یہ ہے اناڑی ٹن کے لگے رہیں دو چار اناڑیوں نے بھی کام دکھا دیا تو قوم کی ان کھلاڑیوں سے جان چھوٹ جائیگی جو ملک کے لئیے نہیں اپنی سینچریاں بنانے کے لئیے کھیلتے رہے اور قوم کی جان بھی ایسے کمنٹریٹروں سے چھوٹ جائے جنہوں نے مداریوں کو کھلاڑی بتا بتا کر قوم کو چونا لگائے رکھا ۔

  • تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے ۔
    پاکستان اور بھارت ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے اور ایک ساتھ ہی دنیا کے نقشوں پر نمودار ہوئے ۔ پاکستان بنانے والوں پر مذہب کا استعمال کرنے کا طعنہ کسا جاتا رہا جبکہ بھارت والوں کے سیکولرازم اور ہندو نہیں بلکہ انڈین نیشنلزم کی مثالیں دیں جاتی رہیں کہ ہندوستان میں سارے انڈین ہیں نو مسلم ، نو عیسائی ، نو ہندو وغیرہ وغیرہ ۔
    چلو اب مودی کی فتح نے کچھ باتیں تو کلئیر کردیں کہ مسلمان چاہے ادھر کا یا ادھر کا یا مشرق وسطی کا ، بھلے کتنا ہی چول بنا رہے کتنا ہی اپنے دین سے لاتعلق رہے اسکا وجود ہی دل دشمناں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہیگا ۔ دو قومی نظریہ کل بھی درست تھا آج بھی تر و تازہ ہے ۔ بانیان پاکستان نے اسے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور ہندو کے دانتوں سے چھین کر مسلمانوں کو ایک ملک لیکر دیا ۔ بہت کہا جارہا تھا کہ ہندوستانیوں کو لگ پتہ گیا ہے لہذا اب وہ مودی کی مذہب کی سیاست کا چورن نہیں پھانکیں گے لیکن چشم فلک کی آنکھ نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ خود کو سیکولر کہلانے والے ملک میں ہندو دھرم کا علم لہرائے نریندر مودی اور امیت شاہ جیسے کٹر مسلم دشمن رہنما اپنی قوم سے پہلے سے زیادہ اکثریت لینے میں کامیاب ہوگئے ۔

    یہ تو ہمارے ہاں کا اندھیرا ہے جس میں ادھر والوں کو پتہ ہی نہیں کہ آس پاس میں ہو کیا رہا ہے ۔ کس طرح پورے کا پورے بھارت ہندو انتہا پسندی کے نرغے میں آکر ہندوستان بنتا جارہا ہے یا بنگلہ دیش میں پاکستان کا نام لینے والوں پر کس طرح زمین تنگ کی جارہی ہے ۔ یا اسرائیل کے حالیہ الیکشن میں ایک طرف جیتنے والا کٹر یہودی نیتھن یاہو اور دوسری جانب ہارنے والا اس سے بھی کٹر یہودی انکا سابق آرمی چیف تھا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں بھی یہاں زیادہ سے زیادہ وائٹ ریسسزم کو ہی دیکھا گیا حالانکہ اس کی بھی فتح میں ایک بہت بڑا کردار ایونجیلیکلز کرسچین اور امریکی زائینوسٹ نظریات کے حامی jews کا ہے ۔
    میرے ہاں تمہارے چاہنے والے ، بھارت نواز حلقے قوم کو ہمیشہ تمہارا ایک نقلی چہرہ ہی دکھاتے رہے ۔ اور جس کسی نے بھارتی لابی ، Raw کی کاروائیوں ، بنگلہ دیش بنانے کی سازشوں ، بلوچستان میں را کے کلبھوشن نیٹ ورک کے عزائم ، کے پی کے میں پہلے ٹی ٹی پی اور اب پی ٹی ایم کر بات کی اسے اسٹیبلشمنٹ کا حواری، بوٹ پالیشیا ، غیرت بریگیڈ ، انڈین فوبیا کا شکار اور آسان الفاظ میں جمہوریت کا دشمن قرار دے کر نکو بنا دیا ۔ حالانکہ سری لنکا، بنگلہ دیش ، افغانستان اور بشمول میرے (پاکستان تک میں ) ہندوستان کی خفیہ اور اعلانیہ سامراجی کاروائیوں کی ایک تاریخ گواہ ہے ۔ خدا کا شکر ہے آج انٹرنیٹ کی وجہ سے دوسرے ممالک کے رائٹرز اور صحافیوں کے مضامین اور کتابیں بآسانی مل جاتے ہیں اور میرے لوگوں کو بھی حال سے لیکر ماضی کو سمجنے میں مدد مل جاتی یے ۔

    بھارت کا آرمی چیف بپن راوت آج بھی دھڑلے سے کہتا ہے کہ ” پاکستان سیکیولر شناخت اپنا لے تو سب ٹھیک ہو جائگا” جبکہ میرے ہاں آج بھی احباب بھارت کا ذکر کرتے ہوئے پردہ دار بیبیوں کی طرح شرما کر رہ جاتے ہیں ۔ ہندوستان میں مودی کی جیت یا اسرائیل میں نیتھن یاہو کو پھر سے اقتدار مل جانا ، کبھی انکی نظروں سے نہیں گذرتا کبھی انکے کان کھڑے نہیں کرتا ۔ پی ٹی ایم کے مسائل کا رونا رونے والے کسی لبڑل کو کشمیر کا دکھ نظر نہیں آئیگا اور کشمیر و فلسطین کو گھر کے باہر کا مسلہ قرار دینے والا وہی لبڑل پیرس کے سانحے پر ڈی پیاں رنگین کرتا نظر آئیگا ۔ انکی نظر میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اخبار کا جمال خاشگجی شہید صحافت اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے والا جولین اسانج NOBODY ہوتا ہے ۔

    ان دانشوڑوں نے کبھی بھارتی لیڈروں کے اندر برسوں سے بلبلاتے پاکستان دشمنی کے ازلی کیڑے کو نمایاں کیا نہ اسکی خفیہ ایجنسی Raw کے کردار کو موضوع بحث بنایا ۔ سارک کا پورا خطہ بھارت کے مذہبی انتہا پسند لیڈروں کے اکھنڈ بھارت کے جنون میں تباہ ہورہا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ سے را کی دی امن کی آشا کی بانسری بجاتا آرہا ہے ۔ نریندر مودی کی دوبارہ کامیابی سے جتنی جلدی ہو سکے میرے پاکستانیوں کو کچھ سبق سیکھ لینا چاہئیے ۔

    ایک تو یہ مذہب کی بنیاد پر سیاست آج بھی ہورہی ہے سو سال پہلے بھی ہورہی تھی اور سو سال بعد بھی ہوتی رہیگی ۔ یہ غلط ہے یا صحیح اس میں آرا ہو سکتی ہیں لیکن دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے لیکر مڈل ایسٹ میں نیتھن یاہو کی جیت تک اور ادھر برازیل میں بولسینیرو کی جیت سے لیکر بھارت میں نریندر مودی تک مذہب کی بنیاد پر ہی سیاست ہورہی ہے ۔ آپ جتنا اپنے ملک میں اسلام کو سائڈ لائن کرا لیں لیکن آج بھی اسرائیل ہو یا بھارت مسلم دشمنی کا نعرہ بکتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کا جھنڈا لیکر ساری غیر مسلم دنیا کو اپنا دشمن گردان کر نفرت کرنا شروع کردی جائے ۔ یہ ایک مسلمان کے شایان شان ہی نہیں ہے ۔ لیکن دشمن کی سازشوں سے غافل رہ کر اپنا سروائول بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی متحد اور متفق ہونا پڑیگا ۔ ورنہ جو حال پچھلے بیس سالوں میں افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ میں ہوچکا ہے وہی ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔

    بھارت جو نہرو کے دور میں غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا رکن اور سیکولر مزاج رکھتا تھا آج مودی کے رنگ میں گیروا ہوچکا ہے اور ہندووانہ تعصب میں پاکستان دشمنی کی نفرت کی آگ میں جل رہا ہے ۔ اور جب نہرو جیسے سیکولر کہلوانے لیڈر کی بیٹی بنگلہ دیش بنانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دو قومی نظریے کی ناکامی کا اعلان کرتی ہے تو پھر مودی جیسی کٹر ہندوانہ ذہنیت رکھنے والے لیڈر سے کیا توقع نہ رکھی جائے ۔ بھارت پہلے بھی پاکستان کے دو ٹکڑے کر چکا ہے اور آج بھی مذید ٹکڑے کرنا چاہتا ہے ۔ پہلے را نے مشرقی پاکستان میں اپنا کھیل کھیلا اور میرا ایک بازو کٹ کر جاگرا ۔ جرنیل اور سیاستدان دونوں اس کھیل میں شامل رہے اور قوم 65 کی کامیابی کے خمار میں سوئی پڑی رہی ۔

    اب ایک دفعہ پھر وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جب سے چین گوادر میں انٹرسٹد ہوا ہے تب سے بلوچستان توڑ کر فری بلوچستان اور کے پی کو توڑ کر افغانستان میں شامل کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں ۔ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ کی طرح پاکستان کی کانٹ چھانٹ بھی pantagon سے لیکر اسرائیلی اور بھارتی ملٹری آفیسز کی ٹیبلوں پر نہ جانے کب سے دھرا ہے ۔ اور اس میں امریکہ اسرائیل اور بھارت تینوں کا انٹرسٹ ہے ۔ کیونکہ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ سے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل بننے کے خواب کے راستے میں بھی پاکستان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاکستانی اسلام سے کتنا ہی دور ہوجائے ، کٹ مر جائگا لیکن مکہ یا مدینہ پر کسی کا آنکھ اٹھانا بھی برداشت نہیں کریگا کیونکہ وہ عربوں کے نہیں اسکے خدا اور رسول کے گھر ہیں اور کچھ بھی ہو پاکستان بحرحال ایک ایٹمی اور بہترین لڑاکا قوت تو ہے۔ لہذا پہلے تو پاکستانی کے بدن سے روح مُحَمَّد کو نکالا جائے پھر اسکے ڈیفنس کو ختم کیا جائے ۔

    اسی طرح دنیا میں خود کو ایک کھلاڑی منوانے سے پہلے بھارت کو ساوتھ ایشیا میں اپنے آپکو کھلاڑی منوانا ہے اور پاکستان گرتے پڑتے بھی بھارت کا یہ خواب پورا ہونے نہیں دے رہا ۔ لہذا بھارت کے خواب کی تکمیل کے لئیے پڑوسی ریاستوں اور بالخصوص مسلم پاکستان اور بنگلہ دیش کا کمزور اور لاچار ہونا لازمی ہے تو پھر بھلا نیوکلئیر طاقت بننا کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ جسے اب بھی شک ہے وہ ایران کے خلاف امریکی چارج شیٹ ملاحظہ کر سکتا ہے ۔ پاکستان کا چین کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی معاشی اور دفاعی خودمختاری کی طرف قدم بڑھانا امریکہ اور بھارت کو شدید اضطراب میں ڈالے ہوئے ہے جتنا تیزی پاکستان سی پیک پر دکھا رہا ہے اتنا ہی زور بھارت پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں پر لگا رہا ہے ۔

    جیسے Raw نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی بنائی شیخ مجیب الرحمان پر ہاتھ رکھا ویسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم کے الطاف حسین سے لیکر بلوچ لیڈروں اور طالبان کے مذہبی شدت پسندوں سے لیکر سیکیولر پی ٹی ایم تک سب کو دامے درمے سخنے سپورٹ کیا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس جس لیڈر نے پاکستان کے خلاف ذہر اگلا اس اس لیڈر کو ہمارے لبڑلز، ہمارے دانشوڑ حضرات نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ بلکہ ایک طرح سے انہیں لیڈر بننے میں مدد دی ۔ ناراض بلوچ سے لیکر ناراض بچے کہہ کہہ کر کبھی بھی انکے پروپیگنڈے کے نقائص سامنے نہیں لائے ۔ فوج سے ازلی دشمنی میں جس نے پاکستان کو گالی دی احباب نے اسے گلے لگا کر لیڈر بنا دیا ۔ پتہ نہیں حب علی ہے یا بغض معاویہ ۔

    ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی پہلے سے پایا جانے والا احساس محرومی کیش کرایا جارہا ہے ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ احساس محرومی تو پاکستان کے ہر شہر میں ہے لیکن بلوچستان اور کے پی اور اسکے قبائلی علاقے اسکا بہت بری طرح کا شکار ہیں ۔ احساس محرومی کا شکار نہ ہوں تو کبھی کسی کو علیحدگی پسندانہ نظریات پھیلانے کا موقع ہی نہ ملے ۔ لیکن یہ کونسا اصول ہے کہ احساس محرومی کا ذمہ دار خالی فوج کو ٹہرا کر سیاستدانوں کو کلین چٹ دے دی جائے ۔ منظور پشتین ، محسن داوڑ ایک طرف تو نقیب محسود کی لاش پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں تو دوسری طرف راو انوار جن زرداری صاحب کا اپنا بچہ تھا انہی زرداری صاحب کی افطار میں شرکتیں کرتے ہیں ادھر محسن داوڑ اور علی وزیر فوجی چوکی پر حملہ کر کے بدامنی پھیلاتے ہیں وہیں بلاول بھٹو انہیں کلین چٹ دے دیتا ہے ۔ اسی پی ٹی ایم کی قیادت کو ناراض بچے ناراض بچے کہہ کہہ کر لاہور سے لیکر اسلام آباد تک میں جلسے جلوس کرانے کے لئیے فیسیسلیٹیٹ کیا گیا ۔ لاہور کے منظور پشتین کے جلسے کو پوری لبڑل لابی نے بڑی دلجمعی کے ساتھ گلوریفائی کیا اور پختون قوم کے درد مند بتایا ۔ حالانکہ ان سوالوں کا جواب کوئی نہیں دیتا تھا کہ جب تک فاٹا طالبان کے ہاتھوں تباہ ہورہا تھا اس وقت تو منظور پشتین کہیں کھڑا نہیں تھا اور جب قبائلی علاقوں کو مرجر کے بعد مرکزی دھارے میں لایا جارہا ہے تو یہ لر و بر افغان کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ اور اسی طرح بلوچستان کو بھی ترقی کے راستے پر آنے سے روکنے کے لئیے کوئیٹہ سے لیکر گوادر تک پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
    ان نازک لمحات میں قوم کا ڈیوائڈ ہونا دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس وقت حال یہی ہے کہ نہ ہمیں دشمنوں کا احساس ہے اور نہ انکے عزائم کا ضرورت اس بات کی ہے پاکستانی بھی اب بھارت اسرائیل اور امریکہ کے عزائم کو سمجھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئیے جت جائیں کیونکہ ملک کی مضبوطی قوم کے اتحاد کا تقاضہ کرتی ہے اور اگر قوم ہی ڈیوائڈ ہو تو اسلحے کے انبار بھی کام نہیں آتے ۔

  • بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    دشمن نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی تک کبھی فضل اللہ، حکیم اللہ اور بیت اللہ کے ناموں کے ساتھ TTP بن کر منبر و محراب اور مساجد و مدارس کی حرمت کو پامال کیا بازاروں میں بم چلاۓ عام مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے اور پھر ان کا قتل عام کیا۔
    بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کلمہ طیبہ کی بنیاد اور اسلام کی اساس پر قائم مملکت خداداد پر مسلسل آتش و آہن کا بازار گرم کیے رکھا۔ جب افواج پاکستان نے لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ان سانپوں کو کچلنا شروع کیا تو کچھ مردار اور باقی فرار ہونا شروع ہوۓ۔ اس وقت کے نامور سورمے مارے گئے یا انہوں نے افغانستان کا رخ کیا جبکہ اس سے نچلے درجے کے دہشتگردوں کو ان کے اسپانسرز نے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے شہروں میں روپوش کروایا۔ اور مناسب موقع کی تلاش میں لگے رہے۔
    کراچی میں ایک پشتون نوجوانوں نقیب اللہ کا مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے سے وہ موقع بھی آ ملا۔ اس کے بعد ان چھپے ہوئے چوہوں نے اپنے بِلوں سے باہر نکلنا شروع کیا اور پہلے پہل حکومت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج پھر دنوں ہفتوں میں انتہائی منظم ہو کر ایک نئے نام PTM سے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ اب تنظیمی نام کی طرح قیادتی نام بھی قوم پرستی میں تبدیل ہو کر "پشتین، داوڑ، وزیر” ہو چکے تھے۔ ہر گزرتے دن ان کی دشنام طرازی میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر کھلے عام ہندوستان اور اسرائیل کی افواج سے مدد مانگنے لگے۔ افواج پاکستان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ سلام ہے وطن کے محافظوں پر جنہوں نے یہ سب کچھ صبر سے برداشت کیا۔
    لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے آج جس طرح ان PTM کے مسلح دہشتگردوں نے آرمی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں پانچ جوان زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ان دہشتگردوں کو مزید مہلت دینا اپنے سر پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ اب مصلحتوں سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔
    خدارا ان آستین کے سانپوں کو کچل ڈالیں اس سے پہلے کہ یہ ناسور بن جائیں۔ ریاست ایسے غداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے جو ہمارے شہداء کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جنہوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور جیسے زخم دیے ہمارے مستقبل، پھولوں جیسے بچوں کو اپنے ناجائز آقاؤں کے اشاروں پر مَسل دیا۔ اللہ کے لیے وطن عزیز کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ اور اس ظلم کا سدباب کریں۔

  • یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد

    یہ جو وردی ہے، اس کے پیچھے پیچھے دہشت گردی ہے ۔۔۔ بلال شوکت آزاد

    مجھے اس خبر پر نہ حیرت ہوئی اور نہ کسی طرح کا اچنبھا البتہ اس بات پر میں حیران ہوں کہ پی ٹی ایم اب تک اس عمل کی طرف راغب کیوں نہیں ہوئی کہ بر وقت عوام کو ان کی اصلیت پتہ چلتی اور بات کسی ایک نکتے پر ختم ہو جاتی۔

    خیر یہ حملہ بظاہر آرمی چیک پوسٹ پر ہے لیکن دراصل اس حملے سے پی ٹی ایم بہت سے شکار بیک وقت کرنے کے فراق میں ہے پر شاید دیر ہو چکی کہ میں پہلے کہہ چکا کہ اس عمل کی جانب راغب ہونے میں پی ٹی ایم کی دیر نے ان کے اس وقت کیے اس جارحانہ عمل کو رائیگاں کردیا ہے۔

    بھارتی قونصلیٹ متحرک ہوچکے پی ٹی ایم کی مکمل سپورٹ کے لیے افغانستان سے لیکر یورپ و امریکہ تک اور افغان و مغربی میڈیا جو مہینوں سے پی ٹی ایم کو آؤٹ آف دا وے کوریج دیکر تشہیر کا موقع دے رہا تھا اب کھل کر پاک فوج کے خلاف شدید اور سخت پراپیگنڈا چلانے جارہا ہے جس میں دوبارہ انھی لوگوں کو بولنے کا موقعہ دیا جائے گا جنہیں بیرون ملک بار بار آزمانے کے باوجود وہ کوئی خاص تیر نہیں مار سکے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے افغانستان, بھارت, امریکہ اور اسرائیل کے لیے۔

    مجھے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور صاحب کی آخری پریس کانفرنس کے بعد یقین اور انتظار تھا کہ کب پی ٹی ایم ایسا قدم اٹھاتی ہے جس میں عام پختون اور فوج آمنے سامنے آجائے لیکن شاید کچھ دیر ہوگئی, جس میں ایک وجہ اسلام آباد میں زیادتی کے بعد قتل ہوئی بچی فرشتہ کا کیس سامنے آنا تھا۔

    کہ پی ٹی ایم کو لگا کہ ہمیں ایک معصوم افغان لاش مل گئی ہے وہ بھی دارلحکومت اسلام آباد سے تو ہم جتنا پریشر ڈویلپ کرسکتے ہیں کرلیں اور عوام کو ایک داخلی قانونی واقعہ کی آڑ میں گھیر کر فوج کے مد مقابل لے آئیں اور اس خانہ جنگی کی بنیاد ڈال دیں جس میں ان سے پہلے ٹی ٹی پی والے ناکام ہو گئے اور بری طرح پٹ کر واپس مالکان کی گود میں جا بیٹھے۔

    گلا لئی اسمعیل اور محسن داوڑ کا فرشتہ قتل کیس کی آڑ میں فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا نئی بات نہیں تھی پر اس دفعہ ان کی حرکت میں شدت کے ساتھ یہ عنصر غالب نظر آیا کہ "آر یا پار”, مطلب اب عوام بالخصوص ان کی حامی پختون عوام کو جتنا مینیوپلوٹ کیا جاسکتا ہے فوج کے خلاف کیا جائے اور حالات اس نہج پر لائے جائیں کہ ان کے حامیان بندوق اٹھا کر فوج کی تنصیبات کا رخ کریں اور وہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں جو ٹی ٹی پی کی سرکوبی کے بعد تھم گیا تھا۔

    اسلام آباد کی شاہراہوں پر ناکامی اور عوام کے اشتعال کو دیکھ کر محسن داوڑ نے آج ریڈ لائن کی بھی بارڈر لائن کراس کرنے کی ٹھانی کہ اس کے بیرونی آقا مسلسل اس کی ناکامیوں کے بعد اس کو ری پلیس کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں کہ اسی ہفتے میں وزارت داخلہ سے پی ٹی ایم کو سیکیورٹی اپڈیٹ دیا گیا تھا ایجنسیوں کی رپورٹ کے تناظر میں کہ این ڈی ایس اور را جلد ہی پی ٹی ایم کی کور کمیٹی اور رہنماؤں کو نشانہ بنا سکتے ہیں لہذا اپنی سیکیورٹی کا بندوبست کرلیں, اسی تھریٹ الرٹ کی وجہ سے محسن داوڑ, گلالئی اسمعیل, علی وزیر اور منظور پشتین کو یہ سوجھ رہا ہے جو وہ کرتے پھر رہے ہیں کہ جتنا ہوسکے یہ سب مین سٹریم نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کی زینت بنے رہیں اور ان کی پراپیگنڈا مشینریاں چلتی رہیں۔

    اس وقت دشمن کا وار بلکل سیدھا اور براہ راست ہے کہ وہ پاکستان کو ففتھ جنریشن, ہائبرڈ وار اور انفارمیشن وار فیئر میں بلکل وقفہ اور گنجائش دینے کو تیار نہیں بالخصوص ایکٹو لسانی جماعتوں اور مسلکی گروہوں کی آڑ میں مہرے ہلا کر۔

    اس وقت محب وطن ایکٹوسٹس ہونے کے ناطے ہمیں ارد گرد پوری نظر رکھنی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے سلیپر سیلز یکدم ایکٹو ہونگے اور پاک فوج کے خلاف من گھڑت کہانیاں اور پراپیگنڈے آن کی آن میں پھیلائے جائیں گے تاکہ عالمی رائے عامہ پاکستان کے خلاف تیار ہو سکے۔

    محسن داوڑ اور علی وزیر نے یہ داؤ بہت سوچ سمجھ کر اور مکمل پلاننگ کے ساتھ کھیلا ہے تاکہ ایک افراتفری مچ جائے اور یہ لوگ فرشتہ مرڈر کیس کے بعد اصلی نسلی پختونوں کے جس عتاب کا شکار ہونے جا رہے تھے اور جس طرح انھوں نے ریاست کو للکار کر اپنی شامت بلائی تھی, اس سے فی الوقت کسی اور طرف موڑ کر اپنی جان خلاصی بھی کروا لیں, بیرونی آقاؤں کو بھی راضی کر لیں اور حامیان سمیت ناراض پختونوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ

    "یہ جو دشتگردی ہے, اس کے پیچھے وردی ہے”۔

    لیکن میں پورے وثوق سے بتاتا چلوں کہ دراصل

    "یہ جو وردی ہے, اس کے پیچھے پیچھے دہشتگردی ہے”۔

    مطلب اس وقت دوبارہ پھر سے "وردی” کو "دہشتگردی” کا شکار بنانے کی کوشش ہے تاکہ جس طرح ٹی ٹی پی کے دور میں "وردی” پہننا جرم بنا تھا اور "وردی والوں” کو "دہشتگردی” کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا بالکل اسی طرح دوبارہ "وردی” کے پیچھے ہاتھ دھو کر لسانی دہشتگرد پڑ گئے ہیں تاکہ "وردی” پہننا ایک بار پھر جرم بن جائے۔

    لیکن بس, اب کی بار ان شاء ﷲ ہم ان اندرورن و بیرون اور دیدہ و نادیدہ دشمنوں کا یہ وار کامیاب نہیں ہونے دیں گے جس کو بڑی محنت سے ہم ایک بار ٹکر دے چکے اور اب دوبارہ یہ یہی حرکت کریں گے تو پھر جواب ہم بھی شدید اور سخت دیں گے۔

  • ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    ارض پاک میں تیل کے ذخائر ۔۔۔ محمد فہیم شاکر

    خبرہےکہ سمندرسےتیل،گیس نہیں نکلا
    دوسری خبرہےکہ پاک فضائیہ اور نیوی نےآفشور ڈرلنگ پوائنٹ کی سکیورٹی سنبھال لی ہے۔ ماجراکیاہے؟
    یہ تو طے ہے کہ اندر کھاتے وہ ہو چکا جو دنیا کے چودہ طبق روشن کر دینے کو کافی ہے
    ہاں البتہ حکومت کی طرف سے حکمت کے تحت دانستہ منفی خبریں دی جا رہی ہیں
    اگر آپ غور کریں تو صاف سمجھ آجاتی ہے کہ جیسے ہی پاکستان نے ڈرلنگ کا عمل شروع کیا اور کچھ حوصلہ افزاء خبریں ملنا شروع ہوئیں تو امریکہ نے ایران کے ساتھ پھڈا ڈال کر اس قدر سرعت کے ساتھ فوج اور بحری بیڑے حرکت میں لائے کہ مورخ حیران و پریشاں رہ گیا، مورخ کا کہنا ہے کہ ٹائمنگ بہت عجیب ہے ایک بار پھر سے ہمیں مرحوم جنرل حمید گل کے الفاظ پر غور کرنا ہوگا کہ افغانستان بہانہ ہے پاکستان نشانہ ہے، بس اب افغانستان کی بجائے ایران لکھ لیں، اب کی بار ایران بہانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے اور امریکی افواج کا حرکت میں آنا دراصل پاکستان کو تیل و گیس کے ذخائر کی دریافت یا دریافت کے اعلان سے روکنے کی خاطر ہے جبھی تو پاکستان نے دانستہ 14 ارب ڈالر کے ضیاع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ
    *تیل کوئی نئی جے نکلیا*
    ایسا کہہ کر دراصل پاکستان نے ایک نیو کلیئر جنگ کو ٹالا ہے
    جبکہ لنڈے کے دانشوروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے کہ قوم کا پیسہ ضائع کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ
    ایسے لوگوں کو پاکستانی کہلانے کا کوئی حق نہیں دیا جا سکتا کیونکہ دراصل ہائبرڈ وار کے یہی وہ ہراول ہیں جو کسی بھی ملک میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کر کے دشمن کو دعوت طعام دیتے ہیں تاکہ وہ خانہ جنگی کے شکار ملک میں آکر ہر قسم کے وسائل پر قابض ہو سکے
    یقین نہ آئے تو عراق، شام، مصر، لیبیا کی مثالوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جہاں عوام ہی کے ہاتھوں وہاں کی حکومتوں کو گرا دیا گیا
    اور پاکستان میں عوام کو مشتعل کرنے کا فریضہ یہی لنڈے کے دانشور انجام دے رہے ہیں
    بھائی اگر تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہویے تو کیا ہوا
    دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ تیل دریافت کرنے والے ممالک نے 17 سے زائد بار کوششیں کیں تب جا کر یہ ذخائر دریافت ہویے اور پاکستان میں پہلی ناکام کوشش کو لے کر طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا ہے
    لیکن حقیقت تو عیاں ہو چکی ہے کہ امریکی افواج کیوں موو کر رہی ہیں؟ اگر تیل و گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت نہ ہوئے ہوتے تو امریکی افواج بھلا کیوں موو کرتیں، اور پردہ داری کی خاطر سعودی تیل کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران اور سعودیہ کو آپس میں الجھا کر کسی ایک کی مدد کی خاطر خطے میں آمد کو جواز فراہم کیا جا سکے
    اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا کہ قوم زیادہ سے زیادہ دعا کریں اور نوافل ادا کریں اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ کس طرف اشارہ ہے؟ یقینا آسمانی مدد کی طلب کی خاطر، کیونکہ پاکستان سے جو خزانہ نکلا ہے وہ دنیا کو ہضم نہیں ہو پا رہا جبھی تو اس قدر شور برپا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، اب پاکستان حقیقتا ڈبل گیم کر رہا ہے پہلے امریکہ کو مارتا تھا مانتا نہیں تھا اب ذخائر دریافت کر چکا ہے اور مان نہیں رہا
    یاد رکھیے گا کہ پاکستان نے دنیا کی دم پر پاوں رکھ دیا ہے جس کی سب سے زیادہ تکلیف امریکہ بہادر کو ہے کیونکہ پاکستان نے دنیا کایا پلٹ کر رکھ دینی ہے اور جب دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہونے کے ناطے تیل و گیس پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تو سب سے پہلے امریکی معیشت دھڑام سے گرے گی کیونکہ جس پاکستان کو امریکہ نے پتھر کے دور میں دھکیلنے کی دھمکی دی تھی وہی پاکستان اب گن گن کر بدلہ لینے کی پوزیشن میں آرہا ہے اور جب امریکہ بہادر کا ناطقہ بند کرے گا تو سوچیں کہ امریکہ کتنی جلدی پتھر کے دور میں پہنچے گا
    *لو وائی ہتھ ہو گیا جے*
    امریکی معیشت کیسے گرے گی اس بات کو یوں سمجھئیے کہ سی پیک دنیا کے 70 کے قریب ممالک کو جوڑنے جا رہا ہے جن میں اکثریت یورپی ممالک کی ہے اور امریکی معیشت یورپی منڈیوں کے بل بوتے پر ہی تو کھڑی ہے اور جب یورپی منڈیاں سی پیک سے منسلک ہو جائیں گے تو امریکہ کو کون منہ لگایے گا تو آپ کیا سمجھے کہ امریکہ کیسے دھڑام گرے گا
    لہذا امریکہ بار بار بہانے بہانے سے سی پیک کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان کے اندرونی حالات کبھی ایم کیو ایم سے کبھی پی ٹی ایم سے اور کبھی کسی دوسرے تیسرے گروہ سے خراب کرواتا رہا ہے تاکہ پاکستان کو داخلی محاذ پر غیر یقینی صورتحال کا شکار کر دیا جائے لیکن پاکستان نے جس احسن طریقے سے ان سب کو کاونٹر کیا ہے دنیا اس پر انگشت بدنداں ہے
    انڈیا کی طرف سے جس جنگ کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان نے ابھی نندن کو واپس کر کے جس جنگ کو ٹالا ہے اس کے رازوں سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی پردہ اٹھے گا
    تو صبر رکھئیے اور مورخ کی بات لکھ لیجیے کہ وہ سب ہو چکا جس پر ایک دنیا سانس روکے کھڑی ہے
    جس پاکستان سے لوگ بھاگتے تھے کہ یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے اب وہی ملک دنیا کو لیڈ کرنے جا رہا ہے
    بس اک زرا صبر۔

  • عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    عمران خان کو حکومت میں آئے 9 ماہ گزر چکے ہیں۔ ان 9 ماہ میں جہاں بیورو کریسی میں خوب اکھاڑ پچھاڑ کی گئی وہاں وفاقی اور صوبائی وزیر بھی نہیں بچے۔ تبدیلی ہر جگہ عملی طور پر نظر آئی۔ ویسے تو حکومت لیموں سے لے کر ڈالر تک کی قیمتیں کنڑول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مگر گراؤنڈ پر حالات اس سے بھی برے ہیں۔

    سیاست میں نعرے لگانا ، دعوے کرنے ، باتیں بنانا بھی ضروری ہے مگر کام کرنا ایک فن ہے ۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے تحریک انصاف میں باتیں کرنے والے زیادہ ہیں اور کام کرنے والے کم ۔ شاید اسی لیے ہر جگہ ٹیکنو کریٹس سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ بیورو کریسی، وزراء تو دور کی بات وزیر اعلی پنجاب کی بات نہیں سنتی ۔عثمان بزدار کی نااہلی کے چرچے تو زبان زد عام ہیں مگر پھر بھی وہ کپتان کے وسیم اکرم پلس ہیں ۔

    ڈالر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ قیمت اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ مشرف ، زرداری اور نواز شریف دور میں منصوعی طور پر ڈالر کی قیمت کو روکے رکھا گیا تھا ۔ جبکہ حقائق یہ ہیں کہ پیپلز پارٹی دور میں ڈالر 32 روپے، نواز شریف کے دور میں ڈالر 26 روپے اور تحریک انصاف کے ان 9 مہینوں میں ڈالر 19روپے مہنگا ہوا ہے ۔ عوام کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا ابھی چار سال اور تین ماہ کا دور حکومت باقی ہے ۔

    کاروبار ختم ہو چکا ہے ۔ مارکیٹیں سنسان ہیں ۔ گاہک غائب ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند پڑا ہے ۔پرچیوں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ لوگ پیسہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کسی کو حکومتی پالیسوں پر اعتماد نہیں ۔ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات 30 فیصد بے روز گاری میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ پیٹرول کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ گزشتہ دور کی حکومتیں منصوعی ٹیکس لگا کر زائد قیمتیں وصول کرتی ہیں ۔ اب شاید نئے پاکستان میں پیٹرول پر صرف ٹیکس ہی وصول کیا جا تا ہے ۔گزشتہ ادوار میں سٹاک مارکیٹ کو بھی منصوعی طور 50 ہزار سے زائد پوائنٹس پر رکھا گیا تھا جو نیا پاکستان بنتے ساتھ ہی اپنی اصل حالت میں واپس آچکی ہے ۔بجلی کے بھی منصوعی کارخانے اور منصوبے لگائے جاتے تھے ۔اسی لیے اب لوڈ شیڈنگ بالکل ختم ہو چکی ہے ۔

    موٹرویز ، میٹرو بسیں ، اورنج لائن اور سٹرکوں کے جال بھی جعلی تھے۔ مگر پشاور میں اصلی بی آر ٹی منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ اس لیے روز اس کا ڈیزائن تبدیل ہوتا ہے ۔ لاگت ڈبل ہو چکی ہے ۔ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہو گا ۔ مگر عمران خان کو یہ یقین ہے کہ اس منصوبے میں کرپشن نہیں ہو ئی اس لیے یہاں نہ کسی سے حساب مانگا جا ئے گا نہ کسی کا احتساب کیا جائے گا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن ہوئی ۔ نواز شریف سے زرداری تک ، اسفند یار ولی سے محمود اچکزئی تک ، فضل الرحمان سے شیر پاؤ تک ، سب پر کرپشن کے سینکڑوں الزامات ہیں ۔ کئی تو عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں ۔ اکثر پر نیب میں کیسسز چل رہے ہیں ۔ ان 9 ماہ میں تحریک انصاف نے شاید کرپشن نہ کی ہو ۔ مگر نا اہلی کی ایسی مثالیں قائم کیں ہیں کہ عوام کی بس ہو چکی ہے ۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے وہ ووٹر اور سپورٹر جو ان کی خاطر مرنے کو تیار رہتے تھے ۔ وہ بھی اب حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ کیوں چوروں ، ڈاکوؤں، لٹیروں کا پرانا پاکستان اس 9 ماہ کے نئے پاکستان سے بہتر تھا۔

    کپتان کا اصل امتحان عید کے بعد شروع ہو گا جب ایک جانب اپوزیشن اکٹھی ہو کر لڑنے کے لیے تیار ہو گی تو دوسری طرف بجٹ پیش کرنا ہو گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتانوں کے کپتان عمران خان اس بجٹ میں ریلیف اپنے ووٹر اور سپورٹر کو دیتے ہیں یا پھر پرانے پاکستان کے چوروں اور لیٹروں کی طرح صرف ایک خاص طبقے کو ۔

    تحریک انصاف کے لیے پیغام ہے کہ ہنی مون گزر چکا عمران خان کو اب جلد کچھ عملی طور پر کر کے دکھانا ہو گا ۔ ان دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے مزید کام نہیں چلنا ۔اب عمران خان سے حساب بھی مانگا جائے گا اور حکومت کی کارکردگی کا احتساب بھی کیا جائے گا ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • دریائے چناب اور دریائے سندھ پر 10ارب کی لاگت سے نئے پل بنانے کی منظوری

    وزیراعظم عمران خان نے تحصیل جتوئی کو ملتان اور راجن پور کو ملانے کیلئے پل بنانے کی منظوری دیدی ۔ممبر قومی اسمبلی سید باسط سلطان کی کاوشوں کے نتیجہ میں وزیر اعظم نے 10 ارب روپے کی لاگت سے دریائے چناب اور سندھ پر پل بنانے کی منظوری دی۔پل کے ذریعےجلالپور کو شہرسلطان اور جتوئی کو جام پور سے ملایا جائیگا اس سے ان تینوں شہروں کے درمیان مسافت انتہائی کم ہوجائے گی۔ممبر قومی اسمبلی سید باسط سلطان بخاری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ 2019 میں دونوں پل بنانے کیلئے فنڈز بھی مختص کیئے جا رہے ہیں اس اہم منصوبے سے تحصیل جتوئی کی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل جتوئی کی عوام وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی مشکور ہے ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے قاتل روڈ مظفر گڑھ تا علی پور کو دورویہ کرنے کے لیے بھی فنڈز مختص کردیے ہیں۔

  • جمشید دستی بھی پنجاب کے بلدیاتی نمائندے فارغ کرنے کے مخالف نکلے

    پاکستان عوامی راج پارٹی کے چیئرمین جمشید احمد دستی کی جانب سے بلدیاتی نظام کی بحالی کے لئے لاہور ہائی کورٹ لاہور میں پرنسپل سیٹ پر پٹیشن دائر کر دی گئی ہے جسکی سماعت اگلے ہفتے ہوگی جمشید دستی نے صحافیوں سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ بلدیاتی نظام کسی بھی معاشرے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے پنجاب حکومت نے ہزاروں بلدیاتی نمائندوں کو جنبش قلم سے فارغ کر دیا جو کہ سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کے پی کے کی طرح پنجاب میں بھی بلدیاتی اداروں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیئے۔