Baaghi TV

Category: سیاست

  • کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے ،میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے ،میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    حکومتوں کا آنا جانا مکافات عمل نہیں ،ہردور میں پہلا گیا اور نیا آیا
    نواز شریف دور میں ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے پابندیاں لگیں ،دوست ممالک نے بھرپور ساتھ دیا
    چین کی مدد سے جے ایف تھنڈر طیارہ بنانا بھی نواز شریف کا کارنامہ،مضبوط خارجہ پالیسی طرہ امتیاز رہا
    موجودہ حکومت میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی بہترین خارجہ پالیسی سے کامیابیاں ملنے لگیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    سابق وزیر اعظم عمران خان پر مقدمات حقیقت ہیں یا افسانہ، اس کو مکافات عمل قرار دیا جارہا ہے، تاریخ کا مطالعہ کریں اچھے سے اچھے تاجدار بھی ایک وقت میں اپنے اقتدار سے الگ ہوئے مثلا اورنگزیب عالمگیر اور عمر بن عبدالعزیز تو کیا ان کے لئے تخت شاہی سے علیٰحدہ ہو جانا کسی مکافات عمل کا نتیجہ تھا ،ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک پراسس ہے کہ اس دنیا فانی سے ہر ایک کو رخصت ہونا ہے اور اسکی جگہ دوسرے نے لینی ہے لہٰذا اس پراسس کو مکافات عمل قرار دینا ہرگز مناسب نہیں ،بھٹو سے قبل اور بھٹو کے بعد نواز شریف سے لیکر محترمہ بینظیر بھٹو شہید تک جتنے بھی وزارت عظمی کے عہدوں پر فائز رہے جو کچھ ان پر گزری اسکی بڑی وجہ سیاسی جماعتوں میں نہ سیاست نہ جمہوریت ہے، ہماری سیاست اور جمہوریت انتقام سے شروع ہو کر انتقام ہی پر ختم ہوتی ہے، آج بھی سیاسی گلیاروں میں جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے موجود ہیں مگر ان کی آوازیں دب چکی ہیں ،سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری اور مفاد پرست اور مسخرے پن کی حدوں کو کراس کرنے والے سیاست دانوں کی اکثریت ہے کسی زمانے میں سیاست نظریہ کے گرد گھومتی تھی آج کی سیاست اور جمہوریت صرف اور صرف اقتدار اور اقتدار کے گرد گھومتی ہے، مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے کاروباری سیاست اور مفاداتی سیاست کو مدفن کرنا ہو گا، بقول شاعر ،،
    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے
    میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے

    پاکستان کے عالمی دنیا کے کئی ممالک کیساتھ تعلقات ہیں اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کہتے ہیں کسی بھی ملک کا داخلی اور خارجی استحکام ہے خارجہ پالیسی بناتے وقت سول حکومت اور ذمہ داران ریاست شامل ہوتے ہیں عمران حکومت کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان خارجہ محاذ پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا کہا جا رہا تھا شاہ محمود قریشی کی خارجہ امور پر گرفت بہت مضبوط ہے مگر نتیجہ صفر رہا، نواز شریف کے دور حکومت میں خارجہ پالیسی میں نمایاں کامیابی نظر آئی ہے، بینظیر بھٹو شہید کے دور حکومت میں امریکہ نے ایف 16 طیاروں کی قیمت وصول کرنے کے بعد پاکستان کو طیارے نہیں دئیے نواز شریف کے دورے حکومت میں جب ایٹمی دھماکوں کی پاداش میں پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگیں نواز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب چین اور دیگر ممالک نے پاکستان کی مدد کی اور چین کی مدد سے جے ایف تھنڈر طیارہ بنا لیا گیا، نواز شریف کے دور حکومت میں سعودی عرب نے چونتیس ممالک کا فوجی اتحاد بنایا جس کی سربراہی پاکستان کے حصے میں آئی، نواز شریف کے دورے حکومت میں چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا معاہدہ ہوا چین کے تعاون سے متعدد منصوبے شروع کئے گئے نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے مزید قریب ہوئے موجودہ حکومت نواز شریف کی ہی خارجہ پالیسی پر عمل کر رہی ہے ،سینیٹر اسحاق ڈار کو داد دینا ہو گی انھوں نے پاک بھارت ، اسرائیل ایران جنگ میں روایتی خارجہ پالیسی کے مقابلے میں ایسے اقدامات کئے پاکستان اور قوم پر مستقبل میں اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے بلاشبہ اسحاق ڈار کی کامیاب خارجہ پالیسی سے مستقبل میں نئے معاشی امکانات سمیت خارجہ پالیسی میں پاکستان کو کامیابیاں حاصل ہوں گی

  • بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی

    بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی

    بجلی کا بل، سولی کا پھندہ اور حافظ نعیم الرحمان کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان میں بجلی کے بل اب صرف ایک گھریلو خرچ نہیں رہے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہ بل کسی بھی وقت کسی کا چولہا بجھا سکتے ہیں، کسی بچے کے سکول کی فیس روک سکتے ہیں یا کسی بوڑھے ماں باپ کی دوا چھین سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ "سلیب سسٹم” کا ہے جو عوام کو ایک ایسے شکنجے میں کس چکا ہے جہاں ایک یونٹ کا فرق زندگی اور موت کی لکیر بن چکا ہے۔

    حکومتی پالیسی کے مطابق اگر کوئی صارف 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتا ہے تو اسے سبسڈی دی جاتی ہے اور قیمت فی یونٹ 10.54 روپے سے 13.01 روپے تک ہوتی ہے۔ مگر جیسے ہی یہ تعداد 201 یونٹ ہو جائے تو وہ صارف نان پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہو جاتا ہے جہاں فی یونٹ قیمت 33.10 روپے ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کے بل میں کئی اقسام کے ٹیکس اور سرچارجز شامل ہو کر بل کو ناقابل برداشت بنا دیتے ہیں۔ ایک عام صارف کا 200 یونٹ کا بل تقریباً 3,083 روپے بنتا ہے، لیکن صرف ایک یونٹ اضافے پر یعنی 201 یونٹ پر بل 8,154 روپے ہو جاتا ہے۔ صرف ایک یونٹ کا فرق اور بل میں 5,071 روپے کا اضافہ؟ یہ مذاق نہیں، معاشی ظلم ہے۔

    ایکس(ٹویٹر) پر لوگ اپنے بل شیئر کر رہے ہیں۔ کہیں 199 یونٹس کا بل 2,000 روپے ہے اور وہی صارف اگر 201 یونٹس استعمال کر لے تو بل 9,000 روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اس پر اگر کوئی اضافی سرچارج بھی لگ جائے تو غریب کے لیے بجلی جلانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بے بسی، غصہ اور دکھ مل کر انسان کو یا تو خودکشی پر مجبور کرتے ہیں یا احتجاج پر۔

    یہ کوئی مفروضہ باتیں نہیں ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ کے انور کا بل صرف 3,800 روپے تھا لیکن عدم ادائیگی پر اس کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ اس نے ہمسائے سے بجلی لی تو گیپکو نے بجلی چوری کا مقدمہ درج کر دیا۔ یہ صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے انور کا بیٹا فراز تیزاب پی کر مر گیا۔ اس کی ماں کی چیخ، "میرا بیٹا بلوں کے چکر میں مر گیا” ایک ایسا جملہ ہے جو ہر قانون ساز کے کان میں گونجنا چاہیے۔ لاہور کا ریڑھی بان فیصل ہو یا ڈسکہ کی نسرین بی بی، سب کی کہانیاں ایک جیسی ہیں۔ کسی نے بل کی زیادتی سے تنگ آ کر خودکشی کی تو کسی نے اپنے خاندان کو کھو دیا۔

    دوسری طرف وہ اشرافیہ ہے جسے بجلی یا تو مفت فراہم کی جا رہی ہے یا انتہائی رعایتی نرخوں پر۔ سینئر صحافی حامد میر نے ایکس (ٹویٹر)پر ایک بل کی تصویر شیئر کی جس میں واپڈا کے ایک ملازم نے 1,200 یونٹس بجلی استعمال کی اور صرف 716 روپے ادا کیے۔ ملتان میں ایک افسر کے 895 یونٹس کے بل کی رقم صرف 1,201 روپے تھی۔ یعنی یہ لوگ 1.5 روپے فی یونٹ سے بھی کم میں بجلی حاصل کر رہے ہیں جبکہ عام صارف 201 یونٹ پر 8,000 سے 11,000 روپے ادا کر رہا ہے۔ یہ دہرا معیار معاشرے میں غصہ، محرومی اور بغاوت کو جنم دے رہا ہے۔

    یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موجودہ حکومت، خاص طور پر وزیر توانائی اویس لغاری بجلی کے مسائل کا کوئی عملی حل دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ عوام کو اس نظام میں پھنسا دیا گیا ہے جہاں لائن لاسز، بجلی چوری، مفت بجلی کی سہولیات اور مہنگے نجی پاور پلانٹس کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ ان صارفین پر ڈالا جا رہا ہے جو نہ چوری کرتے ہیں، نہ مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایماندار صارف ہی اس پورے کرپٹ نظام کا اصل شکار بن چکا ہے۔

    یہی وہ لمحہ ہے جب عوام نے توقع کی تھی کہ کوئی ان کا مقدمہ لڑے گا اور یہ توقع حافظ نعیم الرحمان سے تھی۔ وہی حافظ نعیم جو ماضی میں کے الیکٹرک کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے تھے، عوامی مظاہروں کی قیادت کرتے تھے اور بجلی کے ہر بحران پر سڑکوں پر احتجاج کرتے تھے۔ لیکن آج جب ظلم پورے ملک میں سلیب سسٹم کی صورت میں نافذ ہے، عوام خودکشیاں کر رہے ہیں تو حافظ نعیم کی خاموشی حیران کن اور تکلیف دہ ہے۔

    کیا جماعت اسلامی نے اپنی سیاسی حکمت عملی بدل لی ہے؟ کیا حالیہ انتخابی نتائج نے ان کے احتجاجی جذبے کو ماند کر دیا ہے؟ یا وہ کسی مفاہمتی پالیسی کے تحت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں؟ ان سوالات کا جواب خود حافظ نعیم الرحمن کو دینا ہوگا۔ کیونکہ عوام اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں جذباتی تقاریر نہیں، عملی مزاحمت چاہیے۔ ان کی خاموشی اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ جماعت اسلامی اب حکومتی دباؤ یا مصلحت کے تابع ہو چکی ہے۔

    عوام نے 201 یونٹ کی سلیب گردی کو مسترد کر دیا ہے۔اس سسٹم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ سوشل میڈیا پر "NoMoreSlabLooting” جیسے ٹرینڈز روزانہ کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ صارفین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سلیب سسٹم کو ختم کیا جائے،اداکار نعمان اعجاز نے ایکس(ٹویٹر) پر لکھا، "200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں۔” عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ سلیب سسٹم اصلاح کیا جائے، اشرافیہ کی مفت بجلی ختم ہو، پن بجلی اور قابل تجدید توانائی سے سستی بجلی بنائی جائے اور ٹیکسز و سرچارجز ہٹا کر شفاف نظام لایا جائے۔ یہ ظلم کب تک جاری رہے گا؟ جب تک اشرافیہ کو مراعات ملتی رہیں گی اور عام صارف پر بوجھ ڈالا جاتا رہے گا، عوامی غصہ بڑھتا رہے گا۔

    جناب وزیراعظم میاں شہباز شریف، عوام کا غیض و غضب نوشتہ دیوار ہے۔ 201 یونٹ کی سلیب گردی اور اشرافیہ کی مفت بجلی سولی کا پھندہ ہے جو غریب پاکستانیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ آپ ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہیں گے۔ جب آپ عوام کے سامنے جائیں گے، تو اشرافیہ کے سہارے آپ کو عوام کے غیض و غضب سے نہیں بچا سکیں گے۔ یہ غصہ، جو سڑکوں پر، سوشل میڈیا پر اور ہر گھر میں پھیل چکا ہے، آپ کی حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ فوری طور پر سلیب سسٹم کی اصلاح کریں، مفت بجلی کی مراعات ختم کریں اور غریب کو سستی بجلی دیں۔ ورنہ، تاریخ آپ کو اس حکمران کے طور پر یاد رکھے گی جس نے عوام کو معاشی عذاب میں جکڑ زندہ درگور کردیا۔

  • مجروح قافلے  کی  مرے  داستاں  یہ  ہے ،رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ  ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مجروح قافلے کی مرے داستاں یہ ہے ،رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہور جمہور کرنے والی پارٹیاں پہلے اپنے اندر جمہوریت لائیں
    ماتمی سیاست چھوڑ کر ملک وقوم کےمستقبل کیلئے سوچنا ہوگا،کوئی تو پہل کرے
    نواز شریف کو تین بار گھر بھیجنے والوں نے کیا کمایا،ملک کو کہاں پہنچایا ،قوم کا سوال تو بنتا ہے؟
    بھٹو کوبار بار مٹانے والے آج کہاں ہیں ؟بلاول بھٹو نے پارٹی میں نئی روح پھونک دی
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بلاول بھٹو نے 5 جولائی کے پیغام میں کہا ہے کہ عوامی حکومت پر شب خون مارا گیا پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل کر نفرت کے بیج بوئے گئے،انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر آمریت کے پھیلائے ہوئے اُن اندھیروں کا خاتمہ کریں، جمہوری پاکستان کی طرف قدم بڑھائیں، پیپلزپارٹی اس دن کویوم سیاہ کے طور پر مناتی ہے، بلاشبہ بھٹو شہید کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل برداشت ہی نہیں قابل نفرت ہے، جمہوریت اور آمریت کے درمیان پاکستان اورعوام جھولتے رہے ، افسوس سیاسی جماعتوں نے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا، نواز شریف کو تین بار عوام نے منتخب کیا اور تین بار اُن سے اقتدار چھین لیا گیا، نام نہاد پانامہ کو لے کر عدالت کے ذریعے اُن کو اقتدار سے الگ کردیا گیا، ملک کی سیاسی جماعتیں ان تین جمہوری حکومتوں کے خاتمے کو کون سا نام دیں گی ؟ کیا یہ عوامی رائے اور جمہوریت کا قتل نہیں تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی حکومتوں کی تاریخ بڑی درد ناک ہے ،سیاسی جماعتیں جمہوریت اور آئین کی صدائیں تو بلند کرتی ہیں مگر جمہوریت کے قتل میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے
    بقول شاعر،
    مجروح قافلے کی مرے داستاں یہ ہے ،
    رہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ،

    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے، ماتمی سیاست کو چھوڑیں ملک وقوم کے اچھے مستقبل کے بارے سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہو گا، جمہوریت ایک ذمہ داری کا نام ہے عام لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرنا سب سے معتبر چیز ہے، ذرا سوچئے ہم کن راہوں پر چل نکلے ،بلوچستان میں پاکستان مخالف قوتیں بالخصوص بھارت مکروہ کھیل میں شریک ہے، افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی پاک فوج کے جوان ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں،گزشتہ کئی سالوں سے آخر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ ملکی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کبھی یہ سوچا آخر ہمارے ملک میں دہشت گردی کی آگ کیوں بھڑک اُٹھتی ہے ؟ مشرق وسطیٰ کے حالات ہمارے سامنے ہیں ایک دوسرے کے تنازعات نے ان کو معیشت مستحکم ہونے کے باوجود کمزور بنا رکھا ہے، مشرق وسطٰی کے ممالک اپنا دفاع نہیں کر سکتے اس کی وجہ ایک دوسرے کے ساتھ تنازعات،ملکی سیاسی جماعتیں پہلے جمہوری انداز اپنائیں پھر جمہوریت کی بات کریں

  • کیا کوئی سن رہا ہے؟

    کیا کوئی سن رہا ہے؟

    کیا کوئی سن رہا ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ے جہاں ہر عام شہری نہ صرف زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہا ہے بلکہ خود سے یہ سوال بھی پوچھ رہا ہے کہ "کیا میری آواز کسی تک پہنچ رہی ہے؟” مہنگائی کی چکی میں پسنے والا مزدور، روزگار کی تلاش میں سرگرداں نوجوان، بچوں کی فیس اور دوا کے بیچ جھولتا باپ اور بے یقینی میں ڈوبا ہر دل آج سراپا سوال ہے۔ سوشل میڈیا پر صدائیں بلند ہو رہی ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں یہ صدائیں یا تو دبی جا رہی ہیں یا نظرانداز کی جا رہی ہیں۔
    یہ صرف ایک فرد کی نہیں، پوری قوم کی کیفیت ہے ایک ایسا اجتماعی اضطراب جو ہر گلی کے خاموش کونوں میں، ہر ماں کی دعاؤں میں اور ہر نوجوان کی آنکھوں کے بجھتے خوابوں میں چھپا ہوا ہے۔

    ہر صبح جب ایک عام پاکستانی اپنا بٹوہ کھولتا ہے تو مہنگائی کا ایک نیا جھٹکا اسے سکتے میں ڈال دیتا ہے۔ آٹا، چینی، دودھ، سبزی، بجلی کے ناجائز بل اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 44 فیصد پاکستانی روزانہ 1100 روپے سے کم کماتے ہیں۔ جب ایک کلو آٹاخریدنے کیلئےپیسے نہ ہوں تو ایک غریب آدمی اپنے بچوں کے لیے روٹی کیسے لے کر آئے؟ سوشل میڈیا پر عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب تنخواہ وہی پرانی ہے تو یہ نئے ٹیکس اور بڑھتی قیمتیں کیسے برداشت کریں؟ بینک ٹرانزیکشنز پر نئے ٹیکس کو "معاشی قتل عام” قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھاکہ "ہماری کمائی پہلے ہی ٹیکسوں کی نذر ہو رہی ہے، اب بینک سے پیسے نکلوانے پر بھی ٹیکس؟ یہ کون سی انصاف کی حکومت ہے؟” عوام کا مطالبہ ہے کہ مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصول کیا جائے، دکانداروں اور بڑے کاروباریوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے اور عام آدمی پر بوجھ کم کیا جائے۔

    اس معاشی بحران کے ساتھ بے روزگاری نے بھی پاکستانی نوجوانوں کے خوابوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں نوجوان اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں کہ پڑھائی مکمل کی، ڈگری لی، لیکن نوکری کہیں نہیں۔ سرکاری ملازمتوں پر پابندی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور معاشی بدحالی نے روزگار کے مواقع ختم کر دیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھاکہ "ہمارے والدین نے ہمیں پڑھایا کہ ڈگری ہماری زندگی بدل دے گی، لیکن اب ہم ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔” نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، لیکن جب وہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب رہے ہیں تو ملک کا مستقبل کون سنوارے گا؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، نجکاری کے بجائے سرکاری اداروں کو مضبوط کیا جائے اور ہنر سکھانے کے مؤثرپروگرام شروع کیے جائیں۔

    سیاسی افراتفری نے پاکستانی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ 2024 کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات اور سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اتفاق نے عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب لیڈر ہی ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں تو ہمارے مسائل کون حل کرے گا؟ ایک صارف نے ایکس (ٹویٹر)پرلکھاکہ "ہر سیاسی جماعت دعوے کرتی ہے کہ وہ عوام کی آواز ہے، لیکن اقتدار ملنے پر سب اپنے مفادات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔” سیاسی عدم استحکام نے معاشی اور سماجی اصلاحات کو روک دیا ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ سیاسی استحکام لایا جائے، اداروں کے درمیان تناؤ ختم کیا جائے اور شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کی آواز کو سنا جائے۔

    پانی کی کمی ایک خاموش قاتل بن کر پاکستان کے وجود کو چیلنج کر رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2035 تک پاکستان شدید پانی کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان پانی کے بغیر فصلیں اگاتے ہیں جبکہ شہری علاقوں میں صاف پانی کی عدم دستیابی بیماریوں کو جنم دے رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ "ہماری فصلیں سوکھ رہی ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے نام پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔” عوام کا مطالبہ ہے کہ واٹر مینجمنٹ کے موثر نظام بنائے جائیں، سندھ طاس معاہدے سے متعلق مسائل حل کیے جائیں اور پانی کی تقسیم صوبوں کے درمیان منصفانہ ہو۔

    دہشت گردی اور سیکیورٹی مسائل نے پاکستانی عوام کو خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سرحد پار سے سمگلنگ اور عدالتی نظام کی ناکامی نے عوام کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ "ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، لیکن دل میں خوف رہتا ہے کہ وہ واپس آئیں گے بھی یا نہیں۔” عوام کا مطالبہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مضبوط کیا جائے، عدالتی نظام کو شفاف بنایا جائے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

    قدرتی آفات نے بھی پاکستانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ 2022 کے سیلاب نے سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں تباہی مچائی، جس سے فصلوں، مویشیوں اور انفراسٹرکچر کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب ہر سال سیلاب آتے ہیں تو ہمارے ڈیم اور واٹر مینجمنٹ سسٹم کہاں ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیےمؤثر پالیسیاں بنائی جائیں، ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے اور متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    پاکستان کے عوام مشکلات میں گھرے ہیں، وہ معاشی انصاف، روزگار، سیاسی استحکام، پانی، سیکیورٹی اور قدرتی آفات سے تحفظ مانگ رہے ہیں۔ یہ سوالات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔ کیا ہمارے لیڈر اس آواز کو سننے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم ایک ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں عام آدمی سکون سے سانس لے سکے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ان مسائل کا حل تلاش کریں۔ اگر ہم آج خاموش رہے تو کل ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک ہوگا۔ آئیے، اس چیخ کو ایک تحریک میں بدلیں اور ایک بہتر پاکستان کی بنیاد رکھیں۔

    پاکستان کے ہر گوشے سے اُٹھنے والی یہ صدائیں محض سوشل میڈیا کی پوسٹس نہیں بلکہ یہ مسائل کے زخموں سے چور قوم کی پکار ہیں۔ یہ آوازیں نہ سیاسی نعروں کا حصہ ہیں، نہ ہی کسی ایجنڈے کی گونج بلکہ یہ ان ماں باپ کی آہیں ہیں جن کے بچے بے روزگار ہیں، وہ کسان کی فریاد ہے جو پانی کو ترس رہا ہے، وہ طالبعلم کی مایوسی ہے جو ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھا رہاہے اور اس مزدور کی چیخ ہے جو بجلی کے بل کے نیچے دب چکا ہے۔ کیا ایوانوں کی بلند دیواروں سے باہر یہ آواز پہنچ رہی ہے؟ کیا وزیروں، مشیروں اور اشرافیہ کے قہقہوں کے بیچ میں ان آہوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایک دن ایسا آئے گا جب صرف عوام نہیں بلکہ خود اقتدار کے ایوان بھی ان خاموش چیخوں کی لپیٹ میں آئیں گے۔ وقت گزرنے سے صرف تاریخ بنتی ہے، قومیں نہیں۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے رہنما عوام کی تکلیف کو اپنا درد سمجھیں، ان کی چیخ کو اپنا فرض اور ان کی امید کو اپنی ذمہ داری۔

    اب وقت آ چکا ہے کہ "کیا کوئی سن رہا ہے؟” کو ایک فریاد سے نکال کر، ایک نعرہ، ایک تحریک، ایک انقلاب میں بدلا جائے۔ ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ اس آواز کا حصہ بنے کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو صرف ہمارا حال نہیں، ہمارا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن جائے گا۔ آئیے! سوال کرنے سے نہ ڈریں۔ آئیے! اپنی آواز کو ایک سمت دیں۔ آئیے! اپنے پاکستان کو بچا لیں… اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ "کیا کوئی سن رہا ہے؟” … ہاں، اب سننا پڑے گا!

  • 5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے

    5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے

    5 جولائی: جب بھٹو اور جمہوریت زنجیروں میں جکڑ دیے گئے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    5 جولائی 1977 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا دن ہے جو جمہوری نظام کے لیے بدترین مثال بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ دن تھا جب پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمریت کا اندھیرا ہر طرف چھا گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر کے نہ صرف ایک سیاسی نظام کو معطل کیا بلکہ ایک پوری نسل کے خواب، امیدیں اور سیاسی تربیت کو مسخ کر دیا۔ یہ واقعہ پاکستان کے جمہوری سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، جس کے اثرات آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود سیاست، معاشرت، عدلیہ، معیشت اور صحافت میں موجود ہیں۔

    مارشل لا سے پہلے کا سیاسی منظرنامہ بھی کشیدہ تھا۔ مارچ 1977 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، مگر حزبِ اختلاف نے نتائج کو تسلیم نہ کیا اور دھاندلی کے الزامات کے تحت ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا۔ ملک میں احتجاجی مظاہرے، ہنگامے اور سیاسی کشمکش اس نہج پر پہنچ گئی کہ جنرل ضیاء الحق نے ‘ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی’ کو جواز بنا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ جواز کتنا مصنوعی اور سیاسی تھا، اس کا اندازہ وقت نے خود کروا دیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان پر ایک سیاسی قتل کا مقدمہ بنایا گیا، جس کی نوعیت نہ صرف مشکوک تھی بلکہ عدالتی کارروائی بھی ضیاء کے زیراثر تھی۔ چیف جسٹس انوارالحق کی سربراہی میں وہ عدالتی نظام جو بھٹو کو انصاف فراہم کرنے کا پابند تھا، درحقیقت آمریت کے ہاتھوں یرغمال بن چکا تھا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کا بعد ازاں یہ اعتراف تاریخ کے سیاہ اوراق میں محفوظ ہے کہ عدالتی دباؤ کے باعث بھٹو کو سزائے موت دی گئی۔ اس فیصلے نے نہ صرف عدالت کی غیر جانبداری کو مشکوک بنا دیا بلکہ جمہوری عمل کے خلاف بھی ایک عدالتی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے کا آغاز کیا۔

    ضیاء الحق کی آمریت نے مذہب کو ریاستی ایجنڈے میں شامل کیا، اور اسے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ حدود آرڈیننس، زنا قوانین، کوڑوں کی سزائیں، سرِعام پھانسیاں اور میڈیا پر سنسرشپ ضیاء کی پالیسیوں کا حصہ بن گئیں۔ خواتین، اقلیتیں اور ترقی پسند عناصر ریاستی جبر کا نشانہ بنے۔ تعلیمی نصاب میں نظریاتی زہر بھر دیا گیا۔ آزادی اظہار رائے جرم قرار پائی اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ شاعر حبیب جالب کی نظم "ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا” اس دور کی آئینہ دار ہے۔

    5 جولائی کو ضیاء نے اعلان کیا کہ نوّے دن کے اندر انتخابات ہوں گے لیکن یہ وعدہ 11 سال پر محیط آمریت میں تبدیل ہوا۔ انتخابات بار بار ملتوی کیے جاتے رہے۔ 1985 میں بالآخر غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے گئے، جس میں منتخب نمائندے ضیاء کے تابع رہے۔ سیاستدانوں کی نئی نسل فوجی نرسریوں سے تیار کی گئی، جن میں آج کے کئی سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔ آمریت کے اسی دور میں جہادی کلچر کو فروغ ملا، جس کا نقطہ آغاز افغان جہاد اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد تھا۔ اس کا نتیجہ شدت پسندی، کلاشنکوف کلچر، فرقہ واریت اور انتہاپسندی کی صورت میں نکلا، جو آج بھی پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

    ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد ملک میں نظریاتی تقسیم نے جنم لیا۔ بائیں بازو کی سیاست کو ریاستی بیانیے سے باہر نکال دیا گیا۔ طلبا یونینز پر پابندی عائد کی گئی، جو آج تک بحال نہ ہو سکی۔ اس مارشل لا نے نہ صرف سیاسی اداروں کو کمزور کیا بلکہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا مستقل حق بھی دے دیا۔ یہ روایت آج بھی بدستور قائم ہے۔ آج بھی جب کبھی جمہوریت کمزور ہوتی ہے تو 5 جولائی کی پرچھائیاں محسوس ہوتی ہیں۔

    اخبارات کے صفحات، ادیبوں کی تحریریں اور عوام کی زبانیں ضیاء کے دور میں بند کر دی گئیں۔ نصاب کو اس حد تک مسخ کیا گیا کہ آنے والی نسلوں کے اذہان میں آمریت اور اسلام کا ایک غیر فطری ملاپ پیوست ہو گیا۔ جمہوریت کو مغربی سازش قرار دے کر عوام کو آمریت سے محبت سکھائی گئی۔ اس پر فخر کیا گیا کہ جنرل ضیاء نے ملک کو "اسلامی ریاست” میں تبدیل کر دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس دور نے پاکستانی ریاست کی روح، فکر اور سچائی کو مسخ کیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر آمریت کو دوام دینے کی کوشش کی گئی، مگر تاریخ نے اسے کبھی معاف نہیں کیا۔ بھٹو کو ختم کر کے جو خلا پیدا کیا گیا، وہ آج بھی پر نہیں ہو سکا۔ ان کا قتل ایک سیاسی قتل سے زیادہ قومی ضمیر کا قتل تھا۔ بھٹو نے کہا تھاکہ "تاریخ مجھے بری کردے گی” اور آج وہ تاریخ واقعی ضیاء کو آمریت کی علامت اور بھٹو کو جمہوریت کا استعارہ قرار دیتی ہے۔

    جب جب پاکستان میں جمہوریت کی بات ہوتی ہے تو 5 جولائی یاد آتا ہے۔ جب جب کوئی آئین کی بالادستی کی بات کرتا ہے تووہ ذوالفقار علی بھٹو کے انجام سے عبرت سیکھتا ہے۔ آج بھی ضیاء الحق کے نظریاتی وارث مختلف شکلوں میں موجود ہیں جو کبھی مذہب کے نام پر، کبھی حب الوطنی کے پردے میں تو کبھی احتساب کے نعرے میں جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔

    یہ دن ایک یاددہانی ہے کہ پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور جب تک عوام اپنے ووٹ، اپنی آواز اور اپنے اداروں کا دفاع نہیں کریں گے، مارشل لا جیسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہو گا کہ جو قومیں آمریت کو قبول کرتی ہیں، ان کے مستقبل اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔ 5 جولائی کا مارشل لا صرف ایک رات کا حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا زلزلہ تھا جس کی آفٹر شاکس آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • عوام کی جھولی اور حکمران

    عوام کی جھولی اور حکمران

    عوام کی جھولی اور حکمران
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی

    حکومت نے ایک بار پھر عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے سے بڑھ کر 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد یہ 262 روپے 59 پیسے سے بڑھ کر 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی اور پاکستانی عوام کی جھولی میں ایک نیا معاشی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

    یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبایا گیا ہو۔ 2023 میں پٹرول کی قیمت 331.38 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھی جو صرف 15 دنوں میں 41 روپے کا اضافہ تھا۔ اس بار کا اضافہ بھی عام پاکستانی اور خاص طور پر مزدور طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور کم آمدنی سے پریشان ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پمپ پر پٹرول اور ڈیزل کے نرخ تک محدود نہیں بلکہ یہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نجی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10-20% اضافہ ہوچکا ہے۔ مزدور طبقہ جو اپنی آمدنی کا 20-30% آمدورفت پر خرچ کرتا ہے، اس اضافے کی وجہ سے خوراک اور تعلیم جیسے بنیادی اخراجات پر کٹوتی کرنے پر مجبور ہے۔ ایک مزدور جس کی ماہانہ تنخواہ 20,000 سے 30,000 روپے کے درمیان ہے، اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف ٹرانسپورٹ کرایوں پر خرچ کرنا پڑرہا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل کے اخراجات 15-25% بڑھ چکے ہیں جو زرعی اجناس، سبزیوں اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ آٹا، چینی، اور سبزیوں کی قیمتوں میں 10-15% اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بنیادی ضروریات کو پورا کرنا مشکل بنا دیاہے۔ مزدور طبقہ جو اپنی آمدنی کا 50-60% خوراک پر خرچ کرتا ہے، غذائی قلت اور قرض کے دلدل میں دھنس چکا ہے۔

    اس کے علاوہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے زرعی مشینری اور صنعتی پیداوار کے اخراجات بڑھ چکے ہیں، جس سے زرعی اور صنعتی شعبوں کے اخراجات میں 5-10% اضافہ ہونالازم ہے۔ جس کا نتیجہ صنعتی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور کسانوں کی آمدنی میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ صنعتیں اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمین کی تعداد کم کر رہی ہیں، جس سے مزدور طبقے کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ مجموعی مہنگائی کی شرح کو بڑھاچکا ہے، جیسا کہ 2010 میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا تھا اور 2025 تک یہ رجحان جاری ہے۔ اس سے عام پاکستانی کی قوت خرید کم ہوچکی ہے اور وہ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

    بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز (FCA) نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ 2024 میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.31 روپے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا جو صارفین کے بلوں میں غیر متوقع اضافے کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پر 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارف کا بل 3,000-3,500 روپے سے بڑھ کر 8,500-9,000 روپے تک جا سکتا ہے اگر وہ ایک یونٹ بھی زیادہ استعمال کر لے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی زیر نگرانی بنائی گئی سلیب پالیسی، جسے عوام "سلیب گردی” کہتے ہیں، غریب صارفین کو سبسڈی سے محروم کر دیتی ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین (200 یونٹ تک) کو 260 ارب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے لیکن 201 یونٹ پر بل 5,000 روپے تک بڑھ جاتا ہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2,400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور اس کا بوجھ فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور ٹیکسوں کی صورت میں عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ اویس لغاری نے بجلی چوری اور اوور بلنگ کے خلاف اقدامات کا دعویٰ کیا لیکن میپکو میں 152 ملازمین اوور بلنگ میں ملوث پائے گئے اور انہیں صرف وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔

    غریب طبقہ جو پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متاثر ہے، اب بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہے۔ 2023 میں بجلی کی قیمتوں میں 14 بار اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی برداشت کو پار کر دیا۔ ملک بھر میں احتجاج ہوئے، جہاں لوگوں نے بجلی کے بل جلائے اور سڑکیں بلاک کیں۔ سوشل میڈیا پر عوام نے اسے "ظلم” قرار دیا، جیسا کہ ایک صارف نے لکھا کہ "ایک یونٹ اضافے سے بل دگنا ہو جاتا ہے۔” غریب خاندان خوراک، تعلیم اور صحت پر خرچ کم کر رہے ہیں، جس سے غذائی قلت اور غربت بڑھ رہی ہے۔ مزدور طبقہ جو پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے، اس اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ان کی آمدنی کا 60-70% خوراک، ٹرانسپورٹ اور رہائش پر خرچ ہوتا ہے اور اضافی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً وہ قرضوں اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔

    حکومت کی پالیسیاں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی مشکلات بڑھا رہی ہیں۔ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کو جواز بنا کر یہ بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ اویس لغاری کی قیادت میں پاور سیکٹر کی اصلاحات کے دعوؤں کے باوجود بجلی چوری، اوور بلنگ اور گردشی قرضے کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ حکومت کو فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پٹرولیم لیوی کو کم کر کے یا سبسڈی دے کر عوام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کے حسابات کو شفاف بنایا جائے اور اسے پچھلے مہینوں کے بجائے موجودہ بل میں شامل کیا جائے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سلیب کی حد کو 200 سے بڑھا کر300 یونٹ تک کیا جائے۔ 250 ارب روپے کی بجلی چوری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ پن بجلی، سولر اور ونڈ پاور جیسے سستے ذرائع پر انحصار بڑھایا جائے تاکہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت کم ہو۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کے بھاری بلوں نے پاکستانی عوام کی جھولی کو مہنگائی اور معاشی دباؤ سے بھر دیا ہے۔ غریب اور مزدور طبقہ جو پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اس "ظلم” کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سوشل میڈیا پر عوام کا غم و غصہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ اضافہ ناقابل برداشت ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر ریلیف نہ دیا تو عومی بے چینی بہت بڑے احتجاج کا باعث بن سکتی ۔ حکمرانوں کوعوام کی جھولی کو خالی کرنے کے بجائے اسے سہارا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ معاشی بدحالی سے نکل سکیں اور ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔

  • پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ کی بالا دستی نہ آئین کی حکمرانی،ملک میں جمہوریت طوائف بن گئی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بیانات ایسے ،سب شعلہ بیاں،عملی اقدامات صفر،عوام کوکب تک بے وقوف بنایا جائےگا
    دنیا ٹیکنالوجی میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ،ہماری ’’کل‘‘ بھی سیدھی نہ ہو سکی ،صرف نعرے رہ گئے
    بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی نہ عوام کو ترقی ملی ، ن لیگ کے سوا ہر جماعت صرف کاغذی منصوبے بناتی رہی
    تجزیہ، شہز ادقریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں سیاستدانوں کے بیانات آ رہے ہیں، جمہوریت کو مستحکم کیا جائے گا، پارلیمنٹ کی بالادستی ، قانون کی حکمرانی ، اور آئین کو لے لر بیانات سامنے آرہے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت اورجمہوری روایات فروغ نہ پانے کی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول رہا ہے اور پھر اقتدار کے جام کو تھام کر عقل و شعور کی جگہ جاہ وجلال نے لے لی،سیاسی جماعتوں کو جمہوریت ،پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون کی حکمرانی اور آئین کے بارے بیانات دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں نے جمور کے لئے کیا کارنامے سرانجام دئیے، جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں تاہم جمہوریت کے دعویداروں سے خطرات لاحق ہیں، ہماری سیاسی جماعتوں کا جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کو خیرآباد کہنے والوں کو دوبارہ کسی دوسری جماعت میں شمولیت کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے، ملکی جمہوریت کو کون سا نام دیا جائے، جمہوریت کی منڈی یا کاغذی جمہوریت ، مذہبی جماعتوں کی حالت بھی نازک ہے، سیاسی جماعتوں میں نظریات ، ضمیر ،اصول وغیرہ بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں، ایسی باتیں کرنے والوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے ، اب بھی وقت ہے سیاسی جماعتیں اپنا رُخ عوام کی طرف موڑ دیں ایمانداری اور دیانتداری سے عوام کی خدمت کریں، ذرا غور کریں ہم آج کی جدید ٹیکنالوجی کے زمانے میں بجلی اورگیس کے بحران سے گزر رہے ہیں،حالیہ برسوں میں عوام جن سنگین مسائل کا نشانہ بنے اُن میں سرفہرست دہشت گردی اور بجلی گیس کا بحران ،دہشت گردی کا مقابلہ پاک فوج ،جملہ اداروں اور پولیس نے کیا ، ہمارے افسران اور جوان شہید ہوئے، ملک وقوم کا دفاع کرتے ہوئے کئی سہاگنوں کے ساگ اُجڑ گئے،بچے یتیم ہو گئے، عوام 90 ء کی دہائی سے پہلے لوڈشیڈنگ سے آشنا نہیں تھے ایک ادارہ واپڈا بُرا بھلا جیسا بھی تھا پانی اوربجلی کے نظام کو بہتر انداز میں چلا رہا تھا ، واپڈا کے تربیت یافتہ انجنیئروں نے خلیجی ممالک بجلی کے نظام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، 1994 ء میں پیپلزپارٹی کی دوسری ٹرم کے دوران نئی توانائی پالیسی لائی گئی ۔ واپڈا کے ٹکڑے کرکے کمپنیاں تشکیل دی گئیں ، پیپلزپارٹی کی اس پالیسی کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج تک اس پالیسی کا خمیازہ ملک وقوم بھگت رہے ہیں، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے جات اُس صور ت مل سکتی ہے جب ان پالیسیوں کو دفن کیا جائے گا ورنہ عوام کی نجات مشکل ہے

  • افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

    افسران کو نفسیاتی مریض بننے سے بچایا جائے.تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ دنوں پنجاب میں اپنے ہی بیج میٹس کو جس طرح Disgrace کیا گیا یہ نہ تو پہلا واقع تھا اور نہ ہی آخری۔ اپنی سیٹ پکی کرنے کیلئے بیج میٹ اور سنئیرز کو فکس کروانا روٹین میٹر بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی دور میں رقم دو سیٹ لو کے تحت ہونے والی ٹرانسفر پوسٹنگ کے بعد بیوروکریسی میں شروع ہونی والی لوٹ مار اور عیاشی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ پیسوں کی عوض ہونے والی خلاف میرٹ ٹرانسفر پوسٹنگ اور تعیناتیوں نے افسران کے درمیان نفرت کی ایسی لکیر کھینچی کہ بیج میٹ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔

    بزدار کا سیاہ ترین اور شرمناک دور ختم ہوا تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کے مشن امپاسبل کو پاسیبل کر دکھایا۔ میڈم وزیراعلیٰ آپ کے جذبے اور ایمانداری کو سلوٹ لیکن چیف سیکرٹری اور آئی جی میرٹ کے”سپنوں“ کی دنیا دکھا کر ”پک اینڈ چوز“ کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔اس وقت پنجاب میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ 18سے گریڈ 22تک کے 59افسران OSD ہیں۔درجنوں افسران تعیناتی کی منتظر ہیں اور لاڈلوں کو پرموشن ٹریننگ کے باوجود بھی غیر قانونی طور پر سیٹوں پر رکھا ہوا ہے۔

    لاقانونیت اور فرعونیت کی انتہا دیکھیے کہ کچھ افسران 2022 اور 2023 سے اب تک OSD ہیں۔ جبکہ سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران تعینات ہیں۔ اپنے جونئیر کے ماتحت پوسٹنگ ملنے کی وجہ سے افسران کی اکثریت لاوارثوں والی زندگی گزار کر شدید پریشان ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہر وقت key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

    بیج میٹ، بیج میٹ کا دشمن بنا ہوا ہے جبکہ key posting والے جونئیرافسران سنئیرز کا احترام بھول چکے۔
    سرکاری ملازمین کی دنیا بہت چھوٹی ہے انڈرٹریننگ کے دور میں انکی غربت اور لاچاری کی کہانیاں ساتھی بیج میٹ بہت مزے سے سناتے ہیں کہ یہ جب ہمارے ساتھ ٹریننگ کیلئے آیا تو غربت کے کن حالات میں تھا۔ پھر کس پوسٹنگ میں کیا اندھیر نگری مچائی، کس شہر پوسٹنگ میں لوٹ مار کی وجہ سے عوام کے ہاتھوں گالیاں اور چپیڑیں تک پڑیں۔ ساتھی افسران سے ہر روز انکی نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ چند افسران کے بارے مشہور ہے کہ اگر ایک وقت میں انکا سگا باپ کال کرے اور دوسری طرف سے رشوت کے پیسوں کی ڈیل کروانے والا ٹاؤٹ تو وہ ٹاؤٹ کی کال پہلے اٹھائیں گے۔ عوامی اعتماد اور کرپشن کے خاتمے کیلئے چند افسران کو پنجاب سے نکالنے اور بیوروکریسی کی ری شفلنگ ناگزیر ہے۔ماضی میں کمشنر کی مشاورت سے ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی رائے سے اسسٹنٹ کمشنر لگائے جاتے تھے جس سے ایک بہترین ٹیم اور کوارڈینیشن سے سسٹم چلتا تھا۔ ابھی مبینہ طور پر پنجاب میں چیف سیکرٹری کی صورت ون مین شو چل رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سارے اضلاع کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنر ایک دوسرے کے احکامات کے برخلاف گئے ہیں۔ کسی بھی صوبائی محکمے کی کامیابی کا دارومدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ وزیر اور سیکرٹری اپنی مرضی کی ٹیم بنا کر کام کریں۔�

    نگران حکومت سے شروع ہونے والے ”گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ ابھی بھی مذکورہ ”گینگ آف سیون“ درجنوں سنئیر سیٹوں پر جونئیر افسران لگا کر حصے وصول کر رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پک اینڈ چوز کی وجہ سے پولیس سروس آف پاکستان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ دی وے جا کر نواز ا گیا۔

    وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ تمام ٹرانسفر پوسٹنگ کا ازسرنو جائزہ لیں۔ خاص طور پر بیرونی فنڈنگ والی تمام پوسٹوں پر افسران کی تبدیلی کی جائے بلکہ انکا آڈٹ بھی کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔ ان پوسٹوں پر تعینات سفارشی جونئیر افسران نے اربوں روپے کی کرپشن کرکے بیرونی فنڈنگ والے اداروں کے سامنے پنجاب اور پاکستان کا ایمج خراب کیا ہے اس لیے یہ کسی صورت رعایت کے مستحق نہیں۔
    صوبائی سیکرٹری، ڈی جی، ایم ڈی، پراجیکٹ ڈائریکٹر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسی طرح ایڈیشنل آئی جی، آر پی او، سی پی او اور ڈی پی او کی تقری کیلئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی صورت فرد واحد کی حکمرانی ختم کرکے کم از کم چھے رکنی سلیکشن ٹیم بنائی جائے جس میں متناسب تعداد میں پارلیمینٹیرین اور افسران شامل کیے جائیں جو میرٹ پر افسران کی تقرری کیلئے سفارشات مرتب کر سکیں۔سندھ میں پیپلز پارٹی کے لگاتار کلین سویپ اور کامیابی کا ایک ہی راز ہے کہ وہاں بیوروکریسی نہیں پارلیمنٹ سپریم ہے۔ "کے پی آئی” کی وجہ سے افسران میں زیادہ سے زیادہ سروس ڈلیوری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ "کے پی آئی” میں عوامی فیڈ بیک کو شامل کیے بن یہ کارگردگی رپورٹ ادھوری ہے کیونکہ "کے پی آئی” اسی صورت حقیقی اور میرٹ رپورٹ سمجھی جاسکتی ہے جب اس میں عوامی فیڈ بیک کے نمبر بھی شامل کیے جائیں۔ سٹیٹ لینڈ کی حفاظت اور تجاوزات کے خاتمے میں ناکام ہونے والوں کو آئندہ ہرگز فیلڈ پوسٹنگ نہ دی جائے۔ کے پی آئی کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ تین ماہ کی رپورٹ کے بعد ٹاپ فائیو کو انعام اور لاسٹ فائیو کو سزا دی جائے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    نیتن یاہو غزہ کے بچوں ، مودی کشمیریوں کا قاتل ،دنیا خاموش کیوں؟
    چین، روس، امریکہ اورعربوں سمیت دوسری عالمی قوتوں نے کیا کردار ادا کیا؟
    امریکہ یورپ میں مساجد موجود ،نمازیں ہوتی ہیں ،آج تک کسی حکومت نے پابندی نہیں لگائی
    دنیا بھر میں جھوٹ کے سہارے صرف عام آدمی کو گمراہ کیا جاتا ہے،سیاسی دکانیں چل رہی ہیں
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    چین کو مستقبل میں سپر پاور کہا جارہا ہے دنیا کے ترقی پذیر ممالک سے یہ سننے کو ملتا ہے سپر پاور وہ ہوتی ہے جو دنیا کے انتظام میں بڑا کردار ادا کرتی ہے جیسے امریکہ آج عالمی امور میں دخل دیتا ہے لوگوں کو پسند نہیں آتی امریکہ سے پہلے برطانیہ اس سے پہلے سلطنت عثمانیہ ماضی قدیم میں چنگیز خان اور سکندر اعظم جیسے فاتح رہے، آج سب کو ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے ایٹم بم یاد ہیں اس سے پہلے جاپانی کتنے ظالم تھے انہوں نے محکوم عوام پر کتنے ظلم کئے اپنی طاقت کے زعم میں کہاں کہاں حملے کئے وہ بھلایا جا چکا ہے، تاریخ کا مطالعہ کرنے پر انسان جس میں انسانیت ہو کانپ جاتا ہے، دوسری جنگ عظیم میں امریکہ ابتدا میں غیر جانبدار تھا جاپانیوں نے اس کی بندرگاہ پر حملہ کر کے ڈھائی ہزار امریکوں کو مار ڈالا امریکہ کو جنگ میں کودنا پڑا، آج امریکہ میں حقیقی جمہوریت ہے عوام احتجاج کر سکتے ہیں یہ ملک غلطیوں سے سیکھتا ہے ، آج امریکی قوانین اور امریکی معاشرہ ماضی کی بہت سی خامیوں سے پاک ہے ہر چار سال بعد الیکشن ہوتے ہیں بہت سے صدر آئے ہر صدر نے پہلے کی غلطیوں کو درست کیا آج بھی اگر امریکہ غلطی کرتا ہے تو فوراً اس کو احساس ہوتا ہے وہ دنیا سے معذرت کرتا ہے سپر پاور امریکہ ہو یا چین ورلڈ آرڈر برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہوتی ہے، مسلمانوں کی اکثریت کو کہا جاتا ہے کہ امریکہ مسلمانوں کے خلاف ہے اگر ایسا ہوتا تو امریکہ اپنے ملک میں مسلمانوں پر پابندیاں لگاتا ،امریکہ میں ہزاروں مساجد ہیں امام بارگاہیں ہیں جمعہ کے اجتماعات محرم کی مجالس نہ ہوتیں مغربی ممالک میں اسی طرح کے منظر دیکھے جا سکتے ہیں برطانیہ سمیت مغربی ممالک میں مساجد اور امام بارگاہ موجود ہیں، اسرائیل کو بھی امریکہ سے ویسی شکایات ہیں جیسی مسلمانوں کو وہ امریکہ کو دوست مانتے ہیں لیکن شکوہ بھی کرتے ہیں ، یاد رکھیئے عالمی دنیا کے ممالک میں سیاسی گلیاروں میں سیاستدان ہی تو ہیں جو عام آدمی کو گمراہ کرتے ہیں جھوٹ کا سہارا لے کر اپنی سیاسی دکان چلاتے ہیں آج دنیا بھر میں جھوٹ اور افواہ سازی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے، دنیا میں کہیں جمہوریت کے نام پر جھوٹ کہیں مذہبی لبادہ اوڑھ کر جھوٹ بولا جاتا ہے، امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین یا روس سے فوجی تعاون حاصل کرتے ہیں اس کی چار گنا قیمت ادا کرتے ہیں، نیتن یاہو غزہ کے بچوں کا قاتل ہے مودی کشمیروں کا قاتل ہے، چین، روس، امریکہ اور دوسری عالمی قوتوں نے کیا کردار ادا کیا؟ عرب ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ چین اور اسرائیل کے تعلقات کیسے ہیں ان دونوں کی تجارت کا حجم کتناہے؟ ترکی کی اسرائیل تجارت کا حجم کرتا ہے؟ سچ تو یہ ہے دنیا بھر میں جھوٹ کے سہارے عام آدمی کو گمراہ کیا جاتا ہے

  • قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    قانون سے کھلواڑ کرتے بیوروکریسی کے سپر ہیروز.تحریر:ملک سلمان

    غنڈوں بدمعاشوں کو عام طور پر ”زندہ فرعون“ کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن بیوروکرویسی میں حکمرانوں کی جی حضوری اور اٹھائی گیری میں زمین و آسمان ایک کرکے خود کو قانون سے بالا تر اور ماورائی مخلوق بن کر کرپشن، قانون شکنی اور فاشزم کی انتہا کرنے والے یہ تگڑے افسر جو اپنے قبیل کے سنئیر افسران کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ان کیلئے "سرکاری فرعون” اور "آن ڈیوٹی ڈریکولا” کی ٹرمز استعمال کی جاتی ہیں۔ ان زندہ و حاضر سروس فرعونوں کے سامنے کوئی نہیں بولتا لیکن جب یہ زمینی خدا ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو پھر ساتھی افسران ان کی ریکارڈ توڑ کرپشن، لاقانونیت اورفرعونیت کی داستانیں زبان زدعام کرتے ہیں اور کچھ کتابیں لکھ دیتے ہیں لیکن دوران سروس ان کی شر سے بچنے کیلئے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں کرتے۔ دیر آید درست آید کے مترادف یہ سارے کردار تاریخ میں ایک بدنما داغ اور گالی بن کر رہ جاتے ہیں۔

    اگر میرٹ کی بات کی جائے تو سرکاری ملازم کسی سیاسی جماعت کا ورکر نہیں ہوتا جس کی مرضی حکومت آئے انہوں نے اپناکام کرنا ہے لیکن حقیقت اس کے متصادم ہے یہاں وہی افسر کامیاب ہے جو عوامی فلاح و بہبود کی بجائے سیاسی اور حکومتی نوکری کیلئے خود کو وقف کر دے۔
    سابق حکومت کے ساتھ کام کرنے والوں میں سے کچھ کو بزدار اور پی ٹی آئی سے نتھی کرکے کے کھدے لائن لگا دیا گیا ہے تو کچھ کو پرموشن سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ موجودہ سیٹ اپ میں اہم سیٹوں پر بیٹھے سارے بزداریے ہیں جو بزدار کے پی ایس او، سی ایس او، اسکے ہوم ٹاؤن کے مجاور خاص بن کرگئے تھے وہی افسران آج نئے دربار کی مجاوری کر رہے ہیں۔ ان کی واحد قابلیت اٹھائی گیری میں چیمپئن ہونا ہے، آٹھ سنئیر افسران کے سامنے ٹشو سے بزدار کے جوتے صاف کرنے والا بھی موجودہ حکومت میں فٹ ہوگیا تھا۔

    آج تک ہم سپر ہیروز کی کہانیاں سنتے تھے یا فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھتے تھے کیونکہ ان کرداروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بیوروکریسی کے کماؤ پتر اور لاڈلے افسران کو بھی سپر ہیروز بنا کر پیش کیا جاتا ہے کسی کو جونئیر گریڈ میں ڈی جی، ایم ڈی، سی ای او، پی ڈی اور سیکرٹری لگا دیا جاتا ہے تو کسی کو دو سے تین اضافی چارج دے کر سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا جاتا ہے۔
    گذشتہ دنوں حکومت پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں مینشن تھا کہ صوبائی سروس کے دو افسران کو اس لیے عہدوں سے ہٹایا جارہا ہے کہ یہ این ایم سی کیلئے اہل ہوجائیں۔ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی باقی سارے افسران اہم ترین سیٹوں پر موجود ہیں اور این ایم سی کیلئے اہل بھی ہوگئے سارے قانون صرف صوبائی سروس کے افسران کیلئے؟

    گریڈ بیس سے گریڈ اکیس میں ترقی کیلئے ناگزیر کورس این ایم سی کرنے والے ہر افسر کیلئے بائیس لاکھ روپے کی خطیر رقم حکومتی خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔
    گریڈ بیس سے گریڈ اکیس کیلئے نیشنل مینجمنٹ کورس، گریڈ انیس سے گریڈ بیس کیلئے سنئیر مینجمنٹ کورس اور گریڈ 18سے گریڈ 19 کیلئے مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس تقریباً چار ماہ پر مشتمل ٹریننگ کورسز ہیں۔
    اچھی پوسٹنگ حاصل کرنے والے افسران ٹریننگ کیلئے ہرگز راضی نہیں ہوتے۔ اچھی سیٹ پر موجود افسران ٹریننگ سے بچنے کیلئے زور لگا رہے ہوتے ہیں۔ شیر جنگل کا بادشاہ ہے انڈے دے یا بچے کے مترادف تین دفعہ ٹریننگ کورسز چھوڑنے کی گنجائش موجود ہے سونے پر سہاگہ کہ کمپیٹنٹ اٹھارٹی کی درخواست پر ٹریننگ سے جتنی دفعہ مرضی نام نکلواتے رہیں وہ چانس ضائع کرنا کنسڈر ہی نہیں ہوگا۔ ٹریننگ پر صرف وہی جانا چاہتا ہے جو ”اوایس ڈی” ہو یا پھر کسی کھڈے لائن پوسٹنگ تو وہ سوچتا ہے ویلا بیٹھا ٹریننگ ہی کر لوں۔

    لاقانونیت اور لاڈلے پن کی انتہا کا یہ لیول ہے کہ سفارشی اور تگڑے افسران صرف اس شرط پر ٹریننگ کرتے ہیں کہ انکی پوسٹنگ ساتھ رہے گی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بغیر ٹریننگ کہ تم سے کام ہو نہیں رہا ہوتا اور اتنے تیس مار خان رہے کہ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ پوسٹنگ بھی چاہئے۔ قابلیت کے دعویداروں کا حقیقی حال یہ ہے کہ بہت سارے افسران دوران ٹریننگ رپورٹس اور اسائمنمٹ تک بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، رپورٹس، اسائمنٹس اور ریسرچ پیپر پیسے دے کر ایکسپرٹس سے بنوائے جاتے ہیں۔

    دوران ٹریننگ پوسٹنگ ہولڈ کرنے والے لاڈلے تو خوش ہوجاتے ہیں لیکن عوامی فلاح و بہبود کے کام ٹھپ ہوجاتے ہیں۔ سینکڑوں افسران او ایس ڈی ذلیل ہو رہے ہیں لیکن یہ سفارشی افسران اتنے ناگزیر ہیں کہ ٹریننگ اور پوسٹنگ ایک ساتھ چاہئے نوابوں کو۔ دوران ٹریننگ سارے افسران وفاقی اسٹیبشمنٹ ڈویژن کی ڈسپوزل پر ہوتے ہیں اور ان چار ماہ کی اے سی آر بھی وہی لکھتے ہیں ایسے میں ان افسران کی کسی بھی صوبائی یا وفاقی عہدے پر موجودگی غیر قانونی اقدام ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہوں نے صرف افسران کے ناز نخرے، غیر قانونی اقدامات اور ناجائز خواہشات پوری کرنی ہیں یا عوام کو بھی ڈلیور کرنا ہے۔

    آرمی میں بہت اچھا سسٹم ہے کہ آپ ڈائریکٹ ٹریننگ پر نہیں چلے جاتے بلکہ ٹریننگ سے پہلے انٹرنس ایگزام لیا جاتا ہے اس امتحان میں پاس ہونے والے ہی ٹریننگ کیلئے شارٹ لسٹ ہوتے ہیں۔ آرمی، نیوی اور ائیرفورس سمیت افواج پاکستان میں پرموشن کورسز کے دوران پوسٹنگ کا تصور بھی نہیں۔
    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واضح پالیسی دینا ہوگی کہ دوران ٹریننگ کسی کو پوسٹنگ نہیں دی جائے گی۔ پرموشن کورس میں شرکت کیلئے پوسٹنگ پر نہ ہونا لازم کیا جائے۔ کیا پرموشن کے لیے ڈیزائن کیے گئے کورسز اتنے بیکار اور ناکارہ ہیں کہ افسران پوسٹنگ انجوائے کرتے ہوئے انہیں اوور ٹائم کی وقت گزاری سمجھتے ہیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com