Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاک بحریہ دفاع سمندر کی ناقابل تسخیر قوت،تحریر:رقیہ غزل

    پاک بحریہ دفاع سمندر کی ناقابل تسخیر قوت،تحریر:رقیہ غزل

    8ستمبر کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دن ہمیں 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ کی جرات، حوصلے اور بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کی یاد دلاتا ہے۔ جب پاک بحریہ نے دشمن کے دل میں ایسا خوف بٹھایا کہ وہ آج تک سمندر میں مکمل آزادی سے حرکت کرنے کی جرات نہیں کر سکا۔ دوارکا پر کیا گیا دلیرانہ حملہ ہو یا آبدوز ”غازی” کی خاموش مگر ہلاکت خیز موجودگی، ہر لمحہ اس قوم کے بیٹوں کی قربانی، مہارت اور بہادری کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ یہی جذبہ، یہی ولولہ آج بھی پاک بحریہ کے ہر افسر اور جوان کے دل میں زندہ ہے۔ ایک ایسا عزم جو وقت کی کسوٹی پر مزید نکھر چکا ہے اور ایک ایسا وعدہ جو ہر چیلنج کے سامنے سینہ سپر ہے۔ آج پاکستان نیوی محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، خود مختاری اور پیشہ ورانہ برتری سے آراستہ ایک ایسی قابلِ فخر بحری طاقت بن چکی ہے جس کی گونج نہ صرف بحیرہ عرب کی وسعتوں میں بلکہ عالمی بحری افق پر بھی سنائی دیتی ہے۔

    جب 1965ء میں جنگ کا آغاز ہوا تو پاک بحریہ ایک نوآموز قوت تھی مگر اس نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔ آبدوز ”غازی” نے بھارتی نیوی کو بحر ہند میں بند کر دیا، حتیٰ کہ بھارت نے اپنا طیارہ بردار جہاز ”وکرانت” سات سو کلومیٹر دور چھپا دیا۔ 8 ستمبر کو دوارکا پر حملہ ایک ناقابلِ یقین مگر مکمل طور پر کامیاب آپریشن تھا جس نے دشمن کی بحریہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آج بھی یہ آپریشن دنیا کی بہترین بحری کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے یہ معرکہ نہ صرف پاک بحریہ کی مہارت بلکہ دشمن پر اس کے خوف کی بھی علامت بن چکا ہے۔اسی شاندار روایت کو زندہ رکھنے کے لیے پاک بحریہ نے ہر دور میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا بلکہ سمندری دفاع کے نظریے کو وسعت دی۔ جدید جہازوں، آبدوزوں، میزائل سسٹمز، میری ٹائم نگرانی کے آلات اور فضائی صلاحیتوں سے لیس پاک بحریہ نہ صرف پاکستان کے ساحلوں کی محافظ ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اہم میری ٹائم فورس کے طور پر تسلیم کی جا چکی ہے۔حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں بھارتی جارحیت کیخلاف افواج پاکستان کا آپریشن ”بنیان مرصوص” بھی پاک بحریہ کی جنگی تیاریوں اور چابکدستی کا ایک اور شاہکار ہے۔ اس آپریشن کے دوران نہ صرف دشمن کی سمندری جارحیت کو بروقت ناکام بنایا گیا بلکہ اس کے عزائم کو اتنی کاری ضرب لگی کہ وہ کھل کر سامنے آنے کی ہمت ہی نہ کر سکا۔ پاک بحریہ کے جنگی جہازوں اور فضائی یونٹس نے بھارتی بحریہ کی خفیہ نقل و حرکت کو بروقت پہچانا اور اس کے خلاف دفاعی پوزیشن سنبھالی۔ دشمن ہماری مشقوں کی خفیہ نگرانی کرتا رہا، مگر پاک بحریہ کی الرٹنیس نے اس کی ہر چال کو ناکام بنا دیا۔ یہ آپریشن اس امر کی واضح دلیل ہے کہ پاک بحریہ ہر ممکن چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ چاہے وہ روایتی جنگ ہو، ہائبرڈ وار ہو یا میری ٹائم اسٹریٹیجک تھریٹس، پاکستان نیوی ہر محاذ پر اپنی موجودگی اور برتری منوا چکی ہے۔ بلکہ ہر سال بحری امن مشقوں کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو بحری راستوں میں بھی کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

    پاکستان نیوی نہ صرف دشمن پر عسکری میدان میں بھاری ہے بلکہ انسنایت کے محاذ پر بھی سب سے آگے ہے۔ دشمن، جو ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا، وہ بھارت جو سرحدوں پر اشتعال انگیزی، آبی جارحیت، مقبوضہ کشمیر میں ظلم، اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف رہتا ہے — اسی بھارت کے زخمی شہری کو جب سمندر کی بے رحم لہروں میں زندگی اور موت کی کشمکش کا سامنا تھا، تو مدد کے لیے جس ہاتھ نے اسے تھاما، وہ پاک بحریہ کا تھا۔ ایک ایسا لمحہ جہاں دشمنی نہیں، انسانیت جیت گئی۔ لائبیریا کے آئل ٹینکر سے موصول ہونے والی ہنگامی درخواست پر پاک بحریہ نے جس سرعت، مہارت اور خلوص کے ساتھ بھارتی عملے کے زخمی رکن کو ریسکیو کیا اور کراچی منتقل کر کے بروقت طبی امداد فراہم کی، وہ نہ صرف بحری پیشہ ورانہ اخلاقیات کا منہ بولتا ثبوت ہے یقینا یہ وہ برتری ہے جو صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ ظرف، جذبے اور کردار سے حاصل ہوتی ہے۔ بھارت کے بے بنیاد الزامات کے بعد پاکستان نیوی کے اس عمل کو دیکھ کر دنیا کہہ اٹھی کہ پاکستان نیوی نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ دلوں کی فاتح بھی ہے۔اب پاکستان نیوی کی صلاحیتوں کا اعتراف دشمن بھی کر نے پر مجبور ہو چکا ہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کو جب عبرتناک شکست کا سامنا ہوا اور اپنے عوام کے سامنے بری، بحری اور فضائی ہر محاذ پر شرمندگی اٹھانا پڑی تو بھارتی نیول چیف نے پاکستان بحریہ کی ”حیرت انگیز ترقی“ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے جدید جنگی جہازوں، زیرِ تعمیر آبدوزوں اور تیز رفتار دفاعی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا اور برملا اعتراف کیا کہ ہم اپنی پوری حکمت عملی ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔ یہ گھبراہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن جان چکا ہے کہ وہ خود ”کتنے پانی میں ہے”۔یقیناً، پاک بحریہ ایک قابلِ فخر قومی قوت ہے جو نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ دنیا کے دیگر بحری خطوں میں بھی پاکستان کے وقار اور سلامتی کی محافظ بنی ہوئی ہے۔

    پاکستان نیوی کا کردار صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں۔ میری ٹائم سیکیورٹی کے میدان میں بھی پاکستان بحریہ نے وہ خدمات انجام دی ہیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ چاہے وہ قزاقی کے خلاف مشن ہوں، اقوامِ متحدہ کے امن مشن ہوں یا خطے میں سمندری تجارت کی حفاظت، پاکستان نیوی نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ پاک بحریہ کی ”امن مشقیں ” دنیا کے مختلف اسٹریٹیجک سوچ رکھنے والے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہیں جوکہ دفاعی لحاظ سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاک بحریہ کی موجودہ قیادت —چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کی سربراہی میں نہ صرف عسکری میدان میں اصلاحات لا رہی ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سائبر ڈیفنس، اور نیول انٹیلیجنس جیسے شعبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے ایئر وار کالج کراچی کے دورے کے دوران نیول چیف نے جدید عسکری تربیت اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کی جنگوں میں کامیابی کی بنیاد قرار دیا اور بتایا کہ سطح آب، زیرِ آب اور فضائی شعبوں میں بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے پاک فضائیہ کی پیش رفت کو بھی سراہا، جس نے خطے میں دفاعی توازن کو نئی جہت دی ہے۔ نیول چیف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان نیوی دشمن کے ہر حملے کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کی قیادت میں ”امن مشقیں ” محض دفاعی تیاریاں نہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام ہیں کہ ہم ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست ہیں، مگر اپنی سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے کہ اگر کوئی جارحیت کا سوچے گا، تو اسے سمندر کی گہرائیوں میں دفن کر دیا جائے گا۔

    آج دنیا تیزی سے بلیو اکانومی کی طرف بڑھ رہی ہے، اور پاکستان جیسے جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک کے لیے سمندر میں استحکام اور تجارت کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاک بحریہ نے نہ صرف عسکری بلکہ معاشی سیکیورٹی کے لیے بھی مربوط اقدامات کیے ہیں۔ قومی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے استعمال، بندرگاہی تحفظ، اور میری ٹائم ٹریڈ روٹس کی سیکیورٹی میں پاکستان نیوی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ اب لمبی مسافتوں کا سفر منٹوں میں طے ہو رہا ہے، اور پانیوں پر قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ پاکستان بحریہ کی کہانی صرف توپوں، جہازوں اور آبدوزوں کی نہیں، بلکہ یہ قربانی، ہمت، جذبے اور غیر متزلزل حب الوطنی کی کہانی ہے۔ یہ وہ فورس ہے جس نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا، سمندر کی گہرائیوں میں مادرِ وطن کے دفاع کی ایسی دیوار کھڑی کی جسے عبور کرنا دشمن کے لیے ایک خواب ہی رہے گا۔ 8 ستمبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر آج ہم پرامن فضا میں سانس لے رہے ہیں تو اس کے پیچھے پاک بحریہ سمیت تمام مسلح افواج کی قربانیاں ہیں۔ پاکستان نیوی آج بھی اپنی شاندار روایات کے ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ دشمن جتنا بھی طاقتور ہو، جب جذبہ ایمانی، حب الوطنی اور پیشہ ورانہ مہارت سے لیس جوان سمندر کی حفاظت پر مامور ہوں تو سمندر بھی ان کے لیے سر نگوں ہو جاتا ہے۔

  • خدارا!معصوم بچوں کی چیخیں سنیں ،عالمی طاقتیں جنگیں بند کرائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا!معصوم بچوں کی چیخیں سنیں ،عالمی طاقتیں جنگیں بند کرائیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    کوئی تو آگے بڑھ کر ظالموں کا ہاتھ روک دے،یہ پھول دنیا کا مستقبل ہیں ،اس طرح روندا نہ جائے
    انسانیت کہاں گئی،غزہ اور یوکرین کسی کو نظر نہیں آرہا،بحران انسانی المیہ بن چکا ،اب تو بول پڑو
    مریم نواز سیلاب متاثرین کی خدمت عبادت سمجھ کر رہی ہیں،پاکستان ایسے حکمرانوں کی ضرورت

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    دنیا کے تمام سربراہانِ حکومت اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان سے اپیل ہے کہ وہ فوراً بلا تاخیر موثر اقدامات کریں تاکہ غزہ، یوکرین اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں لاکھوں انسانوں کی جانیں اور روزگار چھین لیا گیا ،وہاں جنگیں بند کرائی جائیں، انسانی ہمدردی بین الاقوامی قانون اور اخلاقی ذمہ داری کی روشنی میں فوری فائر بندی انسانی رسائی اور متاثرین کی حفاظت پر توجہ دی جائے، موجودہ انسانی المیہ روکا جائے تو آنے والی نسلوں کے لئے امید کی کرن پیدا ہو سکتی ہے، جنگیں صرف موجودہ نسل نہیں ، معیشت، صحت عامہ اور بین الاقوامی تعلقات کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں، اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے ادارے کردار ادا کریں تو وہ اس عالمی بحران کو کم کر سکتے ہیں، غزہ میں شہری ہلاکتیں اور وسیع پیمانے پر بے گھر ہونے کی شدت برقرار ہے،کسی بھی قوم یا دنیا کے طاقتوروں کے پاس سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ بچوں کے آنسو نہ روک سکیں تو ان کی طاقت ادھوری اور بے مقصد ہے،یہ معصوم بچے دنیا کے ہر کونے میں دکھ اور ظلم سہہ رہے ہیں ان کے ننھے ہاتھوں میں خوشیاں دیں ان کی آنکھوں سے آنسو مٹا دیں ان کے دلوں میں خوف کے بجائے سکون اور مسکراہٹیں بھر دیں،عالمی طاقتوروں کی ذمہ داری ہے کہ معصوم روحوں کی حفاظت کریں، کوئی بھی جنگ، اختلاف، طاقت ان بچوں کے دکھ کے برابر نہیں ہو سکتی ان کی معصومیت آج کی دنیا کے طاقتوروں کی انسانیت کا امتحان ہے،خدا کے لئے ان پر رحم کریں آج کے یہ بچے کل کا چراغ ہیں، ان کے آنسو خوشیوں میں بدل دیں، ان کے خوف کو سکون میں بدل دیں، یہ بچے پوری دنیا کا کل ہیں اور یہی پوری دنیا کی امید ہیں،پنجاب میں سیلابی صورتحال اور مریم نواز شریف کے اقدامات ایسے ہیں کہ یہ اقدامات عوام کا اعتماد بڑھاتے ہیں بلکہ قیادت کے عملی اقدامات کو اجاگر کرتے ہیں، سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران شفافیت ،تیز رفتار امداد اور طویل المدتی بحالی منصوبے ہی اصل کامیابی کا پیمانہ ہوتے ہیں۔،دیکھا جائے تو مریم نواز کی حکومت نے یقینًا بڑے پیمانے پر اقدامات کئے ہیں، مریم نواز شریف کا سیاسی مستقبل پاکستان میں کئی عوامل پر منحصر ہے، ان کی موجودہ مقبولیت پارٹی کی پالیسی قومی سیاسی حالات اور ان کے کردار کی شفافیت و قیادت کی صلاحیت اور چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، اگر پنجاب میں عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری نظام کی بہتری جاری رہی تو وہ نہ صرف صوبے بلکہ قومی سطح پر اپنی شخصیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں، اگر حالات یوں ہی رہے جیسے اب ہیں یعنی عوامی توقعات کا خیال رکھا جائے بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش جاری رہے تو مریم نواز شریف کے لیے امکان ہے کہ وہ آئندہ پاکستان کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہیں، اگر عوامی توقعات پر پورا نہ اتریں تو ان کے لئے مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں پھر ان کا سیاسی مستقبل سیاسی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے کامیابی کے لئے محنت حکمت عملی اور سنجیدہ قیادت درکار ہے

  • عمران خان کی سیاست ختم شدہ،تحریر:یوسف صدیقی

    عمران خان کی سیاست ختم شدہ،تحریر:یوسف صدیقی

    وہ جو اڈیالہ جیل میں بیٹھا ہے، اسے خبر نہیں کہ باہر کی دنیا بدل چکی ہے۔ وہ خود ایک قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ پاکستان نے ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔
    — مریم نواز، وزیراعلیٰ پنجاب

    یہ بیان محض لفظوں کا کھیل نہیں، بلکہ حقیقت کی عکاسی ہے۔ عمران خان، جو کبھی پاکستان کی سیاست میں ایک مقبول اور اثرورسوخ رکھنے والا نام تھے، آج اپنی چرب زبانی، وعدہ خلافیوں اور سیاسی ناکامیوں کی وجہ سے ایک ختم شدہ سیاستدان کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کی حکومت کے دوران بڑے بڑے منصوبے صرف وعدوں تک محدود رہے، معیشت بحران کا شکار رہی، اور عوامی توقعات کے برعکس اداروں کے ساتھ تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار رہے۔ ہر بیان میں شعلہ انگیزی اور جذباتی نعرے تو تھے، مگر عملی میدان میں کچھ نہیں کیا گیا۔ عوامی توقعات کے بجائے محض سیاسی شو چلائے گئے، اور اس دوران حکومت کی بنیادی ذمہ داریاں پس پشت ڈال دی گئیں۔

    عمران خان کی چرب زبانی اور عوامی بیانات اکثر حقیقت سے دور رہے۔ وہ عوام کے جذبات کو بھڑکانے میں ماہر تھے، مگر عملی منصوبے اور نتائج ہمیشہ کمزور ثابت ہوئے۔ ان کے دورِ حکومت میں بڑے اقتصادی منصوبے جیسے ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ، اور معاشی استحکام کے دعوے زیادہ تر جزوی کامیابی تک محدود رہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے بھی بروقت مکمل نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی سیاست پر شک و شبہات نے جنم لیا۔ سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک، جو پہلے ان کی سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے، اب کسی تعاون کے لیے تیار نہیں۔ عالمی رہنما اور ادارے ان کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، اور عمران خان کی چرب زبانی کے باوجود ان کی عالمی کشش کمزور پڑ گئی ہے۔

    انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے بھی عمران خان کے خلاف محاذ قائم کر دیا۔ ہر ٹویٹ، ہر بیان اور ہر پالیسی پر سوشل میڈیا پر بحث اور تنقید جاری رہی۔ بلاگز، نیوز ویب سائٹس اور ٹک ٹاک و یوٹیوب پر ان کے بیانات کا تجزیہ اور تنقید ہوتی رہی۔ اکثر لوگ ان کی چرب زبانی اور وعدہ خلافیوں کو نمایاں کرتے رہے۔ ان کے سوشل میڈیا پیغامات نے کبھی کبھار مثبت اثر پیدا کیا، مگر مجموعی طور پر عوامی تنقید اور مباحثے نے ان کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا۔ میمز، طنز اور طنزیہ ویڈیوز نے ان کی عوامی شبیہ کو متاثر کیا، اور نوجوان طبقے میں ان کے خلاف ردعمل کو مزید بڑھایا۔

    عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی کمزوری ان کے مخالفین، خصوصاً خواتین کے خلاف بیانات ہیں۔ ان کے بعض بیانات نے عوامی رائے اور میڈیا میں شدید تنقید کو جنم دیا۔ خواتین کے خلاف مبینہ بیانات اور جارحانہ زبان نے انہیں عوامی سطح پر تنقید اور قانونی خطرات سے دوچار کیا۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی رہنماؤں اور مخالفین کے بارے میں ان کے جارحانہ بیانات نے نہ صرف سیاسی تنازعہ بڑھایا بلکہ ان کی عالمی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ یہ بیانات اب سوشل میڈیا اور خبروں میں مسلسل ان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، جو ان کے سیاسی مستقبل کو مزید محدود کر رہے ہیں۔

    ان کے قانونی مسائل نے بھی ان کی سیاسی کشش کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف کرپشن، بدعنوانی اور دیگر الزامات کے مقدمات چل رہے ہیں، جنہوں نے ان کی ساکھ کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔ ہر قانونی کیس نے عمران خان کی حکومت اور ان کے سیاسی دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا، اور عوامی اعتماد میں کمی پیدا کی۔ عدالتوں میں سماعتیں، میڈیا میں رپورٹنگ، وکلاء کے بیانات اور عوامی ردعمل نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے ان کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر دیا۔

    حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کا سیاسی عروج جنرل قمر باجوہ کی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ ان کا سیاسی سفر دراصل "باجوا پراجیکٹ” تھا، جو اب ختم ہو چکا ہے۔ جب باجوہ نہیں رہے تو عمران خان بھی سیاسی میدان سے باہر ہو چکے ہیں۔ ان کی چرب زبانی، جذباتی بیانات اور وعدے اب نہ عوام کو متاثر کر رہے ہیں اور نہ عالمی سطح پر کسی کی توجہ حاصل کر پا رہے ہیں۔ ان کے سیاسی دعوے، جو کبھی بڑے عوامی جلسوں اور میڈیا میں چرچے کا مرکز بنتے تھے، اب محض ماضی کی ایک یاد بن گئے ہیں۔

    پاکستان آج ترقی، استحکام اور مضبوط اداروں کی طرف گامزن ہے۔ عمران خان کی کہانی اب ایک ایسا باب ہے، جو شعلہ بیانی، چرب زبانی اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں رہا۔ اب ملک کی ترقی، عوام کی بھلائی اور جمہوریت مضبوط کرنے کا وقت ہے۔ جذباتی نعرے اور کھوکھلے وعدے اب پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتے۔

    یہ حقیقت ہر پاکستانی کے لیے واضح ہے کہ اگر سیاسی بیانات اور نعرے عملی اقدامات اور نتائج سے ہم آہنگ نہ ہوں تو وہ محض عوامی جذبات کو بھڑکانے تک محدود رہ جاتے ہیں۔ عمران خان کا کیس اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اب وہ ایک ختم شدہ سیاستدان کے طور پر عوام کی یادوں میں موجود ہیں، جبکہ پاکستان نے ایک نئے ترقیاتی اور استحکام کے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

    اور حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی سیاست میں واپسی کے امکانات بھی محدود ہیں۔ قانونی مسائل، عوامی ردعمل اور سیاسی تنقید کے درمیان، ان کے لیے دوبارہ مؤثر کردار ادا کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بیانات، عالمی سطح پر عدم دلچسپی، اور قانونی دباؤ انہیں ایک محدود اور ختم شدہ سیاسی شخصیت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی ترقی، عوام کی بھلائی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے پر توجہ دے۔ جذباتی نعرے اور کھوکھلے وعدے اب ملک کے روشن مستقبل کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ عمران خان کی سیاست اب ماضی کی بات ہے، اور پاکستان ایک نئے، روشن اور مستحکم عہد کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں عملی اقدامات اور نتائج کی اہمیت جذباتی بیانات سے کہیں زیادہ ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

    مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

    پاکستان میں جب بھی قدرتی آفات آتی ہیں تو عوام کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی ادارے اپنی استطاعت کے مطابق کام کرتے ہیں مگر اکثر متاثرین تک بروقت اور مکمل امداد نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے میں سیاسی و سماجی جماعتوں کی کارکردگی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ انہی جماعتوں میں مرکزی مسلم لیگ بھی ہے جس نے حالیہ تباہ کن سیلاب میں متاثرین کی جس طرح مدد کی، وہ اس کے خدمتِ خلق کے تسلسل کا عملی ثبوت ہے۔

    سیلاب کے دوران مرکزی مسلم لیگ کے کارکن سب سے پہلے میدان عمل میں اُترے۔ متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جہاں روزانہ ہزاروں متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، کپڑے اور خیمے فراہم کیے گئے۔ کراچی سے کپڑوں اور خوراک کی بڑی کھیپ روانہ ہوئی، راولپنڈی سے سامان سوات، بونیر اور گلگت بلتستان پہنچایا گیا۔ کراچی کی ٹیمیں پہلے دن ہی متاثرہ خاندانوں کے درمیان پہنچ گئیں، جہاں نہ صرف صاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لگائے گئے بلکہ ملبہ ہٹانے کے لیے مزدور اور آلات بھی فراہم کیے گئے۔ یہ سب کچھ بروقت اور منظم انداز میں کیا گیا تاکہ متاثرین کو فوری سہارا مل سکے۔

    مرکزی مسلم لیگ کی میڈیکل ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں سرگرم رہیں۔ درجنوں دیہات میں علاج کی سہولت فراہم کی گئی، مفت ادویات تقسیم ہوئیں اور وبائی امراض کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائی گئیں۔ ان سرگرمیوں نے ہزاروں خاندانوں کو سہارا دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومتی ادارے کمزور پڑ گئے تھے اور متاثرہ لوگ بے یار و مددگار تھے۔

    یہ جماعت ماضی میں بھی مختلف آفات اور سانحات میں عوام کے شانہ بشانہ رہی ہے۔ زلزلے ہوں یا طوفانی بارشیں، مرکزی مسلم لیگ کے کارکنوں نے ہمیشہ میدانِ خدمت میں اپنی موجودگی کو یقینی بنایا۔ یتیم بچوں اور بیواؤں کی کفالت ہو یا قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد، اس جماعت نے خدمتِ خلق کو اپنی سیاست کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ یہی تسلسل حالیہ سیلاب میں بھی نظر آیا جس نے اسے عوام کے دلوں میں مزید جگہ دی۔

    افسوس یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے مرکزی مسلم لیگ کے کردار پر وہ روشنی نہیں ڈالی جس کی یہ مستحق تھی۔ بڑی سیاسی جماعتیں زیادہ تر بیانات تک محدود رہیں مگر عملی میدان میں مرکزی مسلم لیگ کی سرگرمیاں عوام کے لیے حقیقی سہارا ثابت ہوئیں۔ شاید سیاسی پس منظر اور جماعت کے بارے میں کچھ تحفظات کے باعث میڈیا کی توجہ کم رہی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ متاثرین نے اس جماعت کو خالص خدمت کے جذبے کے ساتھ یاد کیا۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں آفات کے دوران سرکاری مشینری اکثر متاثرین تک بروقت نہیں پہنچ پاتی، وہاں رضاکارانہ نیٹ ورک اور خدمت پر یقین رکھنے والی جماعتیں خلا کو پُر کرتی ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کی سرگرمیوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سیاست صرف نعروں کا نام نہیں بلکہ عوامی خدمت سے جڑی ہوئی عملی جدوجہد ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مرکزی مسلم لیگ نے ثابت کیا ہے کہ خدمتِ خلق ہی سیاست کی اصل پہچان ہے، اور یہی پہچان عوامی اعتماد اور مستقبل کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت بن سکتی ہے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کا مقدس اتحاد،تحریر: واجد علی تونسوی

    پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کا مقدس اتحاد،تحریر: واجد علی تونسوی

    1990 کا سال خلیجی خطے کی سیاست میں ایک ہنگامہ خیز موڑ لے کر آیا۔ جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو پورے عرب خطے میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سعودی عرب، جس کی سرحدیں جنگ کے قریب آ چکی تھیں، نے فوری طور پر امریکہ سے فوجی مدد طلب کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے، امریکی فوجی طیارے سعودی عرب کے فضائی اڈوں پر اُترنے لگے۔ اُس وقت یہ قدم ایک حفاظتی تدبیر سمجھا گیا، لیکن یہی فیصلہ آگے چل کر مسلم دنیا میں ایک نئے انحصار کا آغاز بن گیا۔ ایسا انحصار جس نے مسلم ممالک کی عسکری خودمختاری کو مغرب کے مفادات سے جوڑ دیا۔ امریکہ خلیجی خطے میں چوکیدار بن کر اُبھرا۔ مسلم ریاستیں اس کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھنے لگیں، لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ یہ چوکیدار اصل میں ایک سوداگر ہے۔ وہ حفاظت کے وعدے ضرور کرتا ہے، مگر صرف اُس وقت تک جب تک اس کے مفادات وابستہ ہوں۔ جہاں فائدہ ختم ہوا، وہاں ذمہ داری کا بوجھ اُتار دیا گیا۔

    یہ حقیقت وقت کے ساتھ اور بھی واضح ہوتی گئی۔ جب ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے، امریکہ نے کوئی سخت ردعمل نہ دیا۔ جب اسرائیل نے قطر میں حماس کے رہنماؤں پر حملے کیے، جہاں امریکی فوجی بھی موجود تھے، تب بھی امریکہ خاموش رہا۔ اس خاموشی کی سب سے سنگین مثال فلسطین کے معاملے میں دیکھی گئی، جہاں سالہا سال سے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بمباری، بچوں کی شہادتیں، مساجد کی تباہی اور عام شہریوں کی نسل کشی پر امریکہ کی پالیسی صرف اظہارِ تشویش تک محدود رہی۔

    یہی وہ مقام تھا جہاں مسلم دنیا نے آنکھیں کھولیں۔ آہستہ آہستہ روایتی اتحادیوں پر انحصار کم ہونے لگا۔ عالمی توازن میں تبدیلی آ رہی تھی۔ چین ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آیا۔ روس نے مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط کی اور پھر ایک نیا رجحان سامنے آیا۔ مسلم ممالک نے مغرب پر انحصار کے بجائے، آپس میں عسکری، اقتصادی اور سفارتی اتحاد کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب بھارت نے پاکستان کو ایک بار پھر للکارا۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لا سکتا ہے، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اب وہ پاکستان نہیں، جو صرف دفاع تک محدود رہتا تھا۔ پاکستان نے دشمن کے رافیل طیارے مار گرائے، اس کے ارادے فضاؤں میں بکھیر دیے اور دنیا کو باور کرا دیا کہ یہ نیا پاکستان ہے، مضبوط، خوددار اور چپ نہ رہنے والا۔

    پاکستان کے اسی مضبوط کردار نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ سعودی عرب، جو طویل عرصے سے امریکہ پر انحصار کرتا رہا، اب ایک نئے اتحادی کی تلاش میں تھا۔ ایسا ساتھی جو صرف وعدے نہ کرے، بلکہ وقت آنے پر کھڑا ہو سکے۔ اس بار اُس کی نظر اسلام آباد پر پڑی اور یوں تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی نوعیت محض رسمی یا علامتی نہیں، بلکہ حقیقی ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک عسکری تعاون کو نئی سطح پر لے جائیں گے۔ مشترکہ جنگی مشقیں کی جائیں گی، انٹیلیجنس شیئرنگ ہوگی اور سب سے اہم بات، پاکستان حرمین شریفین کے دفاع میں براہِ راست شریک ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس سے دفاعی کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون میں بھی گہری مضبوطی آئے گی۔

    یہ صرف ایک معاہدہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک نئی سمت کا تعین ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ مسلم دنیا اب دوسروں کی محتاج نہیں رہے گی، بلکہ خود اپنے تحفظ، اپنے مفادات اور اپنے مستقبل کی ضامن بنے گی۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے ایک نئے اسلامی عسکری بلاک کی بنیاد کہا جا سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ترکی اور ایران بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں پر غور کر رہے ہیں۔ اگر یہ تعاون حقیقت بن گیا، تو یہ اتحاد نہ صرف خطے کے لیے، بلکہ دنیا بھر میں مظلوموں کے لیے ایک طاقتور پیغام بن جائے گا۔ اس بدلتے منظرنامے میں ایک شخصیت کا کردار سب سے نمایاں ہے، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب۔ وہ صرف آرمی چیف نہیں، بلکہ ایک وژنری رہنما ہیں جنہوں نے پاکستان کی عسکری، سفارتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو ازسرنو متعین کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے داخلی استحکام حاصل کیا، خارجی سطح پر اپنی خودداری کا پرچم بلند کیا اور عالمی برادری کو دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان اب برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے۔

    دنیا انہیں خطرناک ترین آرمی چیف کہتی ہے، کیونکہ وہ امریکی مفادات کے لیے لچکدار نہیں، بلکہ اصولوں پر ڈٹ جانے والے سپہ سالار ہیں، لیکن پاکستان کے عوام کے لیے وہ امید، طاقت اور غیرت کا استعارہ ہیں۔ ان کی موجودگی نے پاکستانی عوام کو اعتماد دیا ہے کہ وہ صرف ایٹمی ہتھیار نہیں، بلکہ ایک باشعور اور بہادر فوج کی پشت پر کھڑے ہیں۔ ان کی حکمت عملی نے دنیا کو بتایا ہے کہ پاکستان صرف دفاعی طاقت نہیں، بلکہ قیادت، قربانی، نظم اور غیرت کا مجموعہ ہے۔ اب اگر کوئی پاکستان پر حملے کی سوچتا ہے، تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اس کے خلاف جواب صرف پاکستان سے نہیں آئے گا، بلکہ مکہ اور مدینہ سے بھی دیا جائے گا۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اب پاکستانی فوج ایک دیوار بن چکی ہے۔

    طاقت کا توازن اب مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ مسلم دنیا غلامی کے نفسیاتی خول سے باہر نکل رہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر مسلم ریاستوں کے درمیان بنتے ہوئے تعلقات ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔ ایسا باب جہاں عزت کے ساتھ جینا اولین ترجیح ہے۔ یہ اتحاد صرف کسی ایک دشمن کے خلاف نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے وقار، بقاء اور آزادی کی علامت بننے جا رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اب پاکستان اکیلا نہیں۔ اب ہر وار کا جواب ہے۔ اب ہر سازش کا توڑ ہے۔ اب امتِ مسلمہ ایک نئی طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے آ رہی ہے، ایک ایسا اتحاد جو غلامی کو جرم اور خودداری کو فخر سمجھتا ہے۔

  • پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ جتنی پرانی ہے، اتنی ہی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف مذہبی و تہذیبی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک پہلوؤں سے بھی ایک دوسرے کے قریبی حلیف ہیں۔ یہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ کئی نشیب و فراز سے گزرے مگر ان کی اساس ہمیشہ قائم رہی۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم پاکستان کے دورۂ سعودی عرب اور سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں نے اس رشتے کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں مستقبل کے امکانات مزید وسعت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔مذہبی و روحانی رشتہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سب سے گہرا رشتہ روحانی ہے۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی فریضۂ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کی محبت پاکستانی عوام کے دلوں میں رچی بسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان میں ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ یہ دینی رشتہ دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات کو بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    پاکستان کے قیام کے فوراً بعد سعودی عرب نے اسے تسلیم کیا اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
    1965 اور 1971 کی جنگوں میں سعودی عرب نے پاکستان کی سفارتی و مالی مدد کی۔ افغانستان میں سوویت مداخلت کے دور میں بھی دونوں ممالک نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان کے حایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے سفارتی سطح پر حمایت فراہم کی۔حالیہ دورۂ وزیر اعظم اور نئے امکانات ، وزیر اعظم پاکستان کا حالیہ دورۂ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ سعودی قیادت نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے بڑے مواقع فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ خاص طور پر گوادر اور سی پیک منصوبوں میں سعودی شمولیت نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ خطے میں سعودی اثر و رسوخ کو بھی بڑھائے گی۔
    وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ "پاک سعودی سرمایہ کاری تجارتی تعلقات مزید مستحکم کریں گے۔” یہ بیان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں ممالک محض جذباتی یا مذہبی رشتے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ عملی اور معاشی بنیادوں پر تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔معاشی و تجارتی تعاون ۔سعودی عرب پاکستان کو تیل اور توانائی کے شعبے میں بڑے پراجیکٹس کی پیشکش کر رہا ہے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کے توانائی بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں بھی سعودی سرمایہ کار دلچسپی رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اپنی فوڈ سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی زرخیز زمینوں اور افرادی قوت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔پاکستانی محنت کش سعودی عرب کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کر کے ہر سال اربوں ڈالر زرمبادلہ اپنے وطن بھیجتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان محنت کشوں کو بہتر سہولیات اور حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ دونوں ممالک کا رشتہ مزید مضبوط ہو۔دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقاتکے حوالے سے پاک فوج اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ سعودی افواج کی تربیت، مشترکہ مشقیں، اور سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون ہمیشہ جاری رہا ہے۔ خطے کے بدلتے حالات میں یہ تعاون مزید اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ یمن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر تنازعات میں پاکستان نے ہمیشہ محتاط لیکن برادرانہ کردار ادا کیا ہے تاکہ سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔عوامی وابستگی اور ثقافتی رشتہ ،پاکستانی عوام سعودی عرب کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک روحانی مرکز سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی سیاسی قیادت بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو عوامی خواہشات کے عین مطابق ترجیح دیتی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک "پل” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں لیکن چند چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی اکثر پاکستان کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کر دیتی ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ محتاط رہنا پڑتا ہے کہ وہ کسی ایک جانب زیادہ نہ جھکے۔ اسی طرح پاکستان کی معاشی کمزوری اور بار بار کے سیاسی بحران بھی سعودی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو ایک پائیدار معاشی شراکت داری میں تبدیل کریں۔ محض بیانات یا جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔سی پیک میں سعودی شمولیت پاکستان کی اقتصادی راہداری کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔توانائی منصوبے سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کا توانائی بحران کم ہو سکتا ہے۔زرعی شعبے میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں تعاون نئی نسل کو مواقع فراہم کرے گا۔

    سفارتی سطح پر اشتراک اسلامی دنیا کے مسائل کے حل میں دونوں ممالک کو قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔پاک سعودی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ محض ایک ریاستی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی جڑیں عوامی دلوں میں پیوست ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلقات کو معاشی اور تجارتی بنیادوں پر مزید وسعت دی جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں۔ وزیر اعظم کا حالیہ بیان اور سعودی قیادت کی دلچسپی امید دلاتی ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف ایک دوسرے کے قریب آئیں گے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں گے

  • پاکستان،سعودی عرب دفاعی معاہدہ: اتحاد کی ایک نئی مثال،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان،سعودی عرب دفاعی معاہدہ: اتحاد کی ایک نئی مثال،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ اخلاص، بھائی چارے اور مشترکہ مذہبی اقدار پر استوار رہے ہیں۔ یہ رشتہ محض جذباتی یا مذہبی وابستگی نہیں بلکہ سیاست، معیشت اور دفاع کے میدانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ سعودی عرب نے ہر نازک موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا، جبکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش سعودی عرب میں روزگار حاصل کر کے اپنی محنت سے دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہی دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر حال ہی میں ریاض میں ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے، جسے "اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کہا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم قطر کے تاریخی دورے کے بعد سعودی عرب پہنچے۔ اس تناظر میں یہ معاہدہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ خطے کی نئی سفارتی صف بندی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

    معاہدے کے مطابق اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ دراصل اس اعلان کے مترادف ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی اعتبار سے ایک دوسرے کے ضامن ہیں۔ مزید یہ کہ معاہدے میں "تمام فوجی ذرائع” کے استعمال کی شق موجود ہے، جس میں مشترکہ مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی صنعت میں شراکت داری شامل ہیں۔ یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ دونوں ممالک اپنے دفاع کو کسی بھی سطح پر کمزور نہیں دیکھنا چاہتے۔

    پاکستان کے لیے یہ معاہدہ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے قریبی دوستوں میں رہا ہے اور اب یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب میں 25 لاکھ سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد ان کے مستقبل کو بھی مزید تحفظ حاصل ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو نئی ساکھ مل رہی ہے، کیونکہ ایک بڑی علاقائی طاقت نے اپنی سلامتی کے لیے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔

    سعودی عرب کے لیے بھی یہ شراکت داری بے حد قیمتی ہے۔ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور یہ حقیقت سعودی عرب کے لیے ایک مضبوط دفاعی سہارا ہے۔ خطے میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ اور اسرائیل–قطر تنازعے جیسے حالات میں سعودی عرب کے لیے پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ اعتماد اور تحفظ کا ذریعہ بنے گا۔ اسی کے ساتھ اسلامی دنیا کی قیادت کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف بھی مزید مستحکم ہوگا، کیونکہ پاکستان جیسے بڑے ملک کی شمولیت اس کی پوزیشن کو اور واضح کرتی ہے۔

    عوام اور سیاسی حلقوں میں اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ لوگ اسے اسلامی دنیا کے اتحاد کی عملی شکل سمجھ رہے ہیں، جبکہ حکومت کے لیے یہ خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔ میڈیا بھی اس پیش رفت کو پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مؤثر بنانے کی علامت قرار دے رہا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب ماضی میں بھی عسکری تعاون کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی ماہرین سعودی افواج کی تربیت میں شامل رہے، اور 1991 کی خلیجی جنگ میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے براہِ راست کردار ادا کیا۔ اب یہ معاہدہ پرانی شراکت داری کو ایک باضابطہ اور جامع شکل دے رہا ہے۔

    پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان تعاون نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک پیغام ہے: جب مسلم ممالک ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں تو کوئی چیلنج انہیں کمزور نہیں کر سکتا۔ آج یہ معاہدہ اسی اتحاد کی علامت ہے—یہی اتحاد طاقت ہے اور یہی طاقت امن و استحکام کی ضمانت۔

  • سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے  بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک فوج اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی کامیاب حکمت عملی ،سید عاصم منیر پھر ہیرو ٹھہرے
    معرکہ حق میں شاہینوں کی فتح سے پاکستان کی طاقت کو دنیا نے مان لیا،بیرونی توازن قائم
    ملک کے داخلی مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت،کرپشن کے خلاف جہاد کرنا ہوگا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ سفارتی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان نے بعض امور میں واضح اور اصولی موقف اپنایا ہے مثلاً فلسطین کے مسئلے، بین الاقوامی تنازعات میں بیرونی طاقتوں کے مابین توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کسی ایک بلاک کی زبان نہ بولنا پڑے،اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے، مہنگائی اور مالیاتی خسارے سمیت بہت سے داخلی مسائل درپیش ہیں، بیرونی طاقتیں زیادہ تر معاشی استحکام دیکھ کر اعتماد کرتی ہیں،بدعنوانی، معاشرتی و سیاسی عدم استحکام اور داخلی سیکورٹی کے مسائل سفارتی موقف کو متاثر کرتے ہیں، پاکستان کو اکثر انسانی حقوق، سیاسی آزادی وغیرہ کے معاملات میں عالمی تنقید کا سامنا رہتا ہے، بعض اوقات حکومتی تبدیلیاں یا سیاسی کشمکش کے باعث سفارتی پالیسیاں مستقل نہیں رہتیں ،جس سے بیرونی پارٹنرز میں اعتماد کم ہو جاتا ہے، پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی بنیادی طور پر فعال متوازن اور اصولی ہے، عالمی سطح پر ایک ایسا کھلا اور بات کرنے والا ملک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صرف ردعمل نہیں دیتا بلکہ معاملات کو حتمی شکل دیتا ہے، اس حکمت عملی نے اسے کچھ معاشی فوائد، علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعلقات اور عالمی فورمز میں زیادہ سنی جانے والی آواز دی ہے، یاد رہے کامیابی کا دارومدار صرف سفارتی باتوں پر نہیں داخلی استحکام معاشی، سیاسی، سکیورٹی، شفافیت اور حکومت کی صلاحیت، پالیسیوں کا تسلسل، مواصلاتی حکمت عملی، ڈپلومیسی کے ذریعے تاثر کو منظم کرنا شامل ہے،داخلی صورت حال میں ملک کے تمام اداروں کو جن میں سول بیوروکریسی، بیوروکریٹ، اعلیٰ پولیس افسران، اقرباءپروری کرنے والے وفاقی اور صوبائی وزراء کرپشن میں ملوث مختلف سول ادارے لینڈ مافیا کے پشت پناہ، سول انتظامیہ اور دیگر اپنا قبلہ درست کریں اور سفارتی حکمت عملی پر عمل کریں، اپنے ذاتی مفادات کو ملک پر قربان کریں، عوام بھی بھرپور ساتھ دیں تو وطن عزیز کا دنیا میں اہم کردار مزید مستحکم ہو سکتا ہے، علم اور عمل کے سفر پر گامزن ہو جائیں، موجودہ سفارتی حکمت عملی نے پاکستان کو طاقتور اور ایک ذمہ دار ملک بنا دیا ہے،بلاشبہ پاکستان کی موجودہ بین الاقوامی سفارتی حکمت عملی میں پاک فوج جملہ اداروں اور وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا کردار انتہائی اہم رہا ہے

  • اسلامی اتحادعوامی  خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلامی اتحادعوامی خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے موجودہ عالمی دنیا کو دیکھا جائے تو مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم بنیادی طور پر اپنی بقاء، طاقت اور معاشی مفادات کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں۔اسلام بطور دین ہمیں حق اور انصاف، مظلوم کی حمایت اور باہمی اتحاد کا درس دیتا ہے۔ لیکن مسلم ممالک کی حکومتیں ہمیشہ ان اصولوں پر نہیں چلتیں ان کی سیاست اکثر بین الاقوامی تعلقات، طاقت کے توازن معیشت اور اپنی کرسی بچانے پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے جب اسلامی جنگ یا اسلامی اتحاد کی بات کی جاتی ہے تو عملی طور پر وہ زیادہ نعرہ ہی رہتا ہے تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ عرب اسرائیل جنگوں میں بھی عرب ممالک متحد ہو کر نہیں لڑ سکے کشمیر یا فلسطین جیسے مسائل پر بھی مسلم دنیا کا موقف تو ہے لیکن عملی اتحاد اور حقیقی قربانی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کئی بار مسلم ممالک آپس میں ہی جنگوں میں الجھے ہیں جس کی مثالیں موجود ہیں۔

    آج کی جنگیں مفادات کی جنگیں ہیں مسلم ممالک کی عوام میں درد، محبت اور دینی غیرت اب بھی زندہ ہے لیکن حکومتوں کی سطح پر زیادہ تر فیصلے سیاسی و معاشی مصلحتوں کے تابع ہیں۔ زیادہ تر مسلم ممالک میں حکمران اپنی کرسی اور اقتدار بچانے کو اولین ترجیح دیتے ہیں قومی مفادات کو اسلامی اتحاد پر فوقیت دیتے ہیں۔ بہت سے ممالک عالمی طاقتوں مثلاً امریکہ، روس، چین وغیرہ پر انحصار کرتے ہیں جس کی وجہ سے آزاد فیصلے نہیں کر پاتے۔ شیعہ، سنی صوفی، وہابی وغیرہ تقسیمیں اکثر سیاسی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ بڑے ممالک جیسے ایران اور سعودیہ عرب اپنے اپنے بلاکس بنانے میں لگے رہتے ہیں جس کا نتیجہ دشمنی اسلامی بھائی چارے پر غالب آ جاتی ہے۔ ترکی، ایران، عرب ممالک اور برصغیر کے اپنے اپنے قومی ایجنڈے ہیں ہر ملک اپنی زبان نسل اور جغرافیے کو ترجیح دیتا ہے جس کی وجہ سے (اُمتِ واحدہ) کا تصور عملی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ مسلم دنیا میں بے شمار وسائل ہیں تیل، گیس، مدنیات، افرادی قوت مگر ان کا استعمال بکھرا ہوا ہے۔ امیر مسلم ممالک غریب مسلم ممالک کی سنجیدگی سے مدد نہیں کرتے مسلم دنیا میں سوچنے اور سوال کرنے کی روایت کمزور ہو چکی ہے۔ زیادہ تر زور جذباتی نعروں پر ہے عملی منصوبہ بندی اور سائنسی ترقی پر نہیں۔ نتیجہ یہ کہ عالمی سطح پر فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ اکثر مسلم ممالک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسلامی اتحاد اسلامی ممالک کی عوام کی خواہش تو ہے لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا نہیں۔ جب تک قیادتیں اپنے ذاتی مفادات کو اُمت کے مفاد پر قربان نہیں کریں گی اتحاد محض تقریروں اور قراردادوں تک محدود رہے گا۔

  • زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    عمران خان کا حالیہ بیان ملاحظہ کیجیے:
    "سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا۔ اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ ‘دہشت گرد آ گئے ہیں’ قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دیے گئے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔

    افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی 9/11 کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسايا جا رہا ہے تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالفت الی کو خوش کیا جا سکے اور مغرب کے سامنے ایک ‘نجات دہندہ’ بننے کی کوشش کی جائے۔”

    یہ الفاظ پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ
    عمران خان کی زبان ایک سنجیدہ قومی رہنما کی بجائے ایک مایوس سیاستدان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ریاستی اداروں پر ڈالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رویہ قوم میں جھگڑا اور بے اعتمادی بڑھانے والا ہے، جبکہ مسئلے کے حل کی طرف توجہ کم ہے۔

    افغان مہاجرین کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی؛ یہ خاندان یہاں بس گئے، یہاں کے معاشرے کا حصہ بنے۔ مگر اسی عرصے میں کچھ کیمپوں اور بستیوں میں منشیات، اسمگلنگ اور چھوٹے جرائم کے نیٹ ورک بھی ابھرے۔ سرکاری رپورٹس اور بعض عدالتی فیصلوں نے یہ بات اجاگر کی کہ شناختی دستاویزات کے معاملے میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یہ حقائق عوام کے تحفظ کے سوالات کو جُھٹلا نہیں سکتے۔

    سوال بنیادی ہے: جب کسی ملک کے شہریوں کی جان و مال خطرے میں ہو تو ریاست کی ذمہ داری کیا ہو گی؟ کیا حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت ترک کر کے غیر محدود پالیسی اختیار کرے؟ یہ اخلاقی اور سیاسی بحث جذباتی ہمدردی سے علیحدہ ہو کر ترتیب سے ہونی چاہیے۔ جب کوئی سابق وزیراعظم مہاجرین کے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے تو اسے ریاست کی بنیادی ذمہ داری — عوام کی حفاظت — کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

    "فالس فلیگ” کا الزام سنگین ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔ پاکستان کی فوج اور پولیس نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف سخت قربانیاں دیں۔ سوات، وزیرستان، بلوچستان اور کراچی کے محاذوں پر سینکڑوں جوان اور افسران نے جانیں دیں۔ یہ سب قربانیاں محض کوئی ڈرامہ نہیں ہو سکتیں۔ ایسے الزامات شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور قومی جذبہ متاثر ہوتا ہے۔

    قابلِ توجہ یہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں میں آپریشنز کے دوران جانی نقصان ہوا۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر دہشت گرد دوبارہ آزادانہ انداز میں قدم جما لیں تو ریاست کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ ماضی میں بعض مذاکراتی تجربات نے یہ دکھایا کہ عبوری مفاہمت کے بعد کچھ گروہیں دوبارہ طاقت پکڑ گئیں۔ اسکول، پولیس چوکیوں اور عام شہریوں پر حملوں کی قیمت ہمیشہ عام آدمی نے ادا کی ہے۔ کیا ہم وہی خطرہ دہرانا چاہتے ہیں؟

    جنرل عاصم منیر کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ ایک اور حساس موضوع ہیں۔ پالیسی پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر فوج کی نیت پر براہِ راست شبہات اٹھانا انتہائی نازک امر ہے۔ ناقدین کے نزدیک اس قسم کے الزامات اداروں اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کر سکتے ہیں۔ پالیسیوں کی شفافیت پر سوال اٹھائیں، شواہد مانگیں، مگر ایسے بیانات جو اداروں کی نیت کو مشکوک کریں، ان کے نتائج سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔

    ایک بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان اکثر اپنی سیاسی ناکامیوں کا ملبہ فوج یا اداروں پر ڈالتے آئے ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور گورننس کے مسائل واضح رہے۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو کئی چیلنجز کا حل فراہم کرنے میں ناکام رہے؛ اب جب وہ جیل میں ہیں تو ہر مسئلے کا ذمہ دار ادارہ قرار دینا آسانی بن گیا ہے۔ یہ بیانیہ کسی قومی رہنما کے بجائے ذاتی انا کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے منفی نتائج طویل المدت ہوتے ہیں۔

    بار بار یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پالیسیاں "مغرب کو خوش کرنے” کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ دشمن ممالک اسی طرزِ بیان کے ذریعے پاکستان کو کمزور یا کنٹرولڈ دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کسی معتبر سیاستدان کے منہ سے اس بیانیے کی تکرار، ناقدین کے نزدیک، ملکی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر غلط تاثر پیدا کرتی ہے۔قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے کس سیاسی قیادت پر اعتماد کرنا چاہیے۔ کیا وہ ایسے لیڈر کو برداشت کرے گی جو ہر مسئلے کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھہراتا ہے؟ کیا وہ ایسے بیانات قبول کرے گی جو اداروں اور عوام کے درمیان شکوک و شبہات کو ہوا دیں؟ پاکستان کی سلامتی کسی فرد یا سیاسی جماعت سے بڑی ہے۔ ادارے مضبوط رہیں تو ریاست مضبوط رہے گی؛ اور مضبوط ریاستی ادارے ہی ملک کو درپیش خطرات سے نبردآزما رہ سکتے ہیں۔