Baaghi TV

Category: سیاست

  • شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    انڈیا کو بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں آگے بڑھ کر قیادت کیوں کر رہا ہے۔ انڈیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک نیو کلیئر طاقت ہے، جس کے پاس دنیا کی سب سے مضبوط بری، بحری اور فضائی قوت، یعنی پاک افواج، موجود ہے۔ پاکستان کی فوج ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی خطرے کے خلاف پہرے پر ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ اور اعتماد کا لازمی حصہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مستحکم ملک کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

    اسی پس منظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ قطر دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ نہ صرف قطر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تھا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے اصولی موقف اور عرب دنیا میں اس کے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر دوحہ کا دورہ کیا اور قطری قیادت کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کا یہ اقدام عالمی سطح پر پاکستان کے مؤثر کردار اور عرب دنیا میں اہم مقام کا عملی ثبوت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی دور اندیش قیادت نے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف قطر کے ساتھ تعلقات مستحکم کیے بلکہ خطے میں امن و استحکام اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہی ہے، اور شہباز شریف کی قیادت میں یہ اصول اور بھی واضح انداز میں عالمی منظرنامے پر سامنے آئے ہیں۔

    پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی ہے اور عرب دنیا کے مسائل میں ثالثی اور قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔ شہباز شریف کا قطر دورہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف عرب دنیا میں معتبر اور مؤثر حیثیت رکھتا ہے بلکہ ہر وقت امن، انصاف اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی کی کامیابی بھی واضح طور پر نظر آئی ہے۔ عرب دنیا میں ان کا ذاتی قیادت کا مظاہرہ نہ صرف پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج بھی قائم کرتا ہے۔ ان کی دور اندیش قیادت نے پاکستان کو ایک فعال اور دلیرانہ کھلاڑی کے طور پر پیش کیا، جو خطے میں امن اور تعاون کے فروغ کے لیے مصمم ارادے والا ہے۔ شہباز شریف کی دوحہ میں دی گئی تقریر نے عالمی دنیا کو بالعموم اور انڈیا کو بالخصوص ہلا کر رکھ دیا، جبکہ اسرائیل میں بھی پاکستان کے حوالے سے ہلچل پیدا ہو گئی کہ پاکستان عرب ممالک کی سرپرستی اور رہنمائی کے لیے مشرق وسطیٰ میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کامیابی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان نہ صرف نیو کلیئر اور دفاعی طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے، بلکہ عالمی سیاسی و سفارتی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔

    یہ دورہ اور پاکستان کا ردعمل عالمی سطح پر اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ ہمارا ملک اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی کے ساتھ عرب دنیا میں اتحاد اور رہنمائی کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف دفاع اور نیو کلیئر طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے بلکہ عالمی سیاسی، سفارتی اور اقتصادی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

    مزید برآں، اس دورے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی اور عالمی سیاست میں اس کی فعال شرکت کو نمایاں کیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان صرف علاقائی محاذ پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اصولی، مستحکم اور قابل اعتماد شریک ہے، جو امن، ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے مستقل کوشاں ہے۔

  • سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں جب مفادات کی سیاست اپنے عروج پر ہے، ایسے وقت میں کچھ رشتے خالص جذبوں اور بے لوث قربانیوں کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ انہی پاکیزہ رشتوں میں پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کا تعلق سب سے نمایاں ہے۔ یہ تعلق محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ دو دلوں کا ہے جو ایمان، اخوت، قربانی اور بھائی چارے کے رشتے سے جُڑے ہوئے ہیں۔تاہم افسوس کا مقام ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ شرپسند عناصر نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا آغاز کیا ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ یہ محض ایک جھوٹی مہم نہیں بلکہ ایک عالمی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلم دنیا کو باہمی اتحاد اور اعتماد سے محروم کرنا ہے۔
    اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی حمایت کی بلکہ مالی اور سفارتی سطح پر بھی بے مثال تعاون فراہم کیا۔ 2005ء کے قیامت خیز زلزلے میں سعودی عرب نے سب سے پہلے ریلیف طیارے پاکستان بھیجے۔ لاکھوں خیمے، ٹنوں ادویات، خوراک اور اربوں روپے کی مالی امداد سعودی عرب کی طرف سے فوری طور پر پہنچائی گئی۔اسی طرح 2010ء کے سیلاب میں جب پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا، سعودی عرب نے کھلے دل کے ساتھ امداد فراہم کی۔ سعودی عوام نے اپنے بھائیوں کے لیے زیورات تک عطیہ کیے۔ یہ وہ اخوت ہے جسے کوئی منصف مزاج شخص جھٹلا نہیں سکتا۔

    پاکستان کی معیشت کئی بار شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ ایسے مواقع پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کو سہارا دیا۔ کبھی اربوں ڈالر کے قرضے دیے گئے، کبھی تیل مؤخر ادائیگی پر فراہم کیا گیا، اور کبھی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گئے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے ذریعے اپنے گھروں اور ملکی معیشت کا سہارا ہیں۔یہ تعلق محض سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ روحانی بنیادوں پر قائم ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے پاکستانی عوام کا والہانہ تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حج و عمرہ کے دوران سعودی حکومت کی جانب سے مہمانوں کو جو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں وہ لائقِ تحسین ہیں۔ یہ وہ تعلق ہے جسے کوئی سازش یا پروپیگنڈا کمزور نہیں کر سکتا۔ تاہم اس کے باوجود بدقسمتی سے بعض عناصر سعودی عرب کی نیک نیتی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہیں جو دراصل بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ کبھی فلسطین کے مسئلے پر اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے، کبھی ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اب پاکستان و سعودی عرب کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کے عالمی منصوبے کا حصہ ہے۔

    پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ سعودی عرب ان کا مخلص بھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر سعودی عرب کے لیے محبت اور عقیدت ہمیشہ قائم رہی ہے۔ یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستانی میڈیا، اہلِ قلم اور دانشور آگے بڑھیں اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں۔ سعودی عرب کی خدمات اور قربانیوں کو فراموش کرنا محسن کُشی کے مترادف ہے اور یہ رویہ دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔
    آج امتِ مسلمہ فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق اور شام جیسے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کا اتحاد پوری امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگر یہ رشتہ مضبوط رہا تو دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

    آئیے ہم سب اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ دلوں کی دھڑکنوں سے جڑا ہے۔ جب پاکستان مصیبت میں گھرتا ہے تو سعودی عرب کا ہاتھ ہمیشہ بڑھتا ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں گے اور اپنے محسن کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔اے اللہ! پاکستان اور سعودی عرب کے تعلق کو ترقی اور استحکام عطا فرما۔ دونوں ممالک کو ہر سازش اور ہر فتنے سے محفوظ رکھ۔ امتِ مسلمہ کو اتحاد کی لڑی میں پرو دے تاکہ تیرے دین کا پرچم بلند ہو۔ آمین ثم آمین ۔

  • بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں وقتا فوقتا ریاستی سلامتی کے اداروں اور تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں اور عسکریت پسند گروہ ریاستی اداروں کو ٹارگٹ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی نظریاتی یا ریاستی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ حملے زیادہ تر ایسے گروہوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو پاکستان کے آئینی اور ریاستی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور خطے میں اس کے کردار کی وجہ سے بعض بیرونی قوتیں جس میں بھارت بھی شامل ہے ایسی سرگرمیوں کو ہوا دیتی ہیں تا کے ملک میں عدم استحکام رہے۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کی صورتحال بھی اس میں اثر انداز ہوتی ہے۔ معاشی بحران سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی شدت پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔ جب ریاست کے اندرونی مسائل بڑھتے ہیں تو دہشت گرد گروہوں کو اپنے نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ماحول سازگار مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتا بلکہ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا مہم اور اداروں پر حملے کروا کے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر عوام کے ذہن میں ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تو پورے نظام پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔

    حال ہی میں ریاستی فورسز نے افغان سرحد کے نزدیک چند خفیہ ٹھکانوں پر کاروائیاں کیں خصوصا باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور دیگر اضلاع میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال بلوچستان میں دیکھی جا رہی ہے۔ جعفر ایکسپریس واقعہ بھی ہوا جہاں شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بھی بنایا اور شہید بھی کیا۔ فوجی اور سلامتی اداروں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر یہاں سرحدی قربت، پہاڑی جغرافیہ، افغان طالبان کی حمایت اور مقامی نیٹ ورکس کی موجودگی سہولت دیتی ہے۔ بلوچستان علیحدگی پسند گروہ مکران، پنجگور، کیچ، اور کوئٹہ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ سرحد پر حملے صرف افغانستان سے داخل ہو کر خودکش بم دھماکے، چوکیاں، قافلے، بکتر بند گاڑیاں ٹارگیٹڈ حملے کرتے ہیں۔ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا وار، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے سرحدی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی بیس، انٹیلیجنس مانیٹر کا بہتر استعمال کرنا ہوگا۔ فوج، پولیس اور سول انٹیلیجنس اداروں کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی شمولیت قبائلی اضلاع میں عوامی نمائندگی بڑھانا ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں خصوصی اکنامک، تعلیم، روزگار، اور صحت پر توجہ دینا ہوگی۔ جو عسکریت پسند ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوں ان کی معافی اور بھاری پروگرام جیسا کہ سری لنکا نے تامل باغیوں کے بعد کیا کرنا ہوگا۔ علماء اور سول سوسائٹی کو شامل کر کے شدت پسندانہ بیانیے کا علمی و مذہبی توڑ کرنا ہوگا۔ دشمن کے پروپیگنڈا مہم کا جواب موثر اور عوامی رابطہ مہم سے دینا ہوگا۔ سیاسی قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر متفق کرنا ہوگا تاکہ شدت پسند درمیان کی خالی جگہ استعمال نہ کر سکیں۔ سفارتی ذرائع سے طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور حتی کہ امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے سلامتی اداروں پر حملے زیادہ تر کے پی کے (قبائلی اضلاع) اور بلوچستان میں ہوتے ہیں جہاں جغرافیائی سیاسی اور سماجی محرکات شدت پسندوں کو سہولت دیتے ہیں اس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ جبکہ اس میں مضبوط سفارتی پالیسی شامل ہونی چاہیے۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب کی تباہ کاریاں، 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں 2023 کی ڈچ رپورٹ پر عملدرآمد نہیں ہونا بہت بڑا المیہ ہے جس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے

    پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے

    آخر کیا وجہ بنی کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس رپورٹ پر نہ خود عمل کیا اور نہ ہی عملدرآمد کروایا اور نہ ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیا؟

    وزراء اعلٰی پنجاب سندھ، بلوچستان، کے پی کے، گلگت بلتستان ڈچ رپورٹ منگوا کر اس پر ورک کریں اور ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچائیں

    قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو اپنی سوچ کو بدل لیں۔نیدر لینڈ نے بدلا اور بچ گیا۔ ہم کب بدلیں گے؟ یا ہر سال اگلے سیلاب تک پھر صرف رونا اور انتظار کریں گے؟

    نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ نے 2022 کے سیلاب کے فورا بعد 16 مئی 2023 میں سیلاب سے متاثرہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے وزٹ کے بعد نیدرلینڈز کے سفارت خانے کی جانب سے پاکستان میں سیلاب پر قابو پانے اور پانی سے متعلقہ آفات کے خطرے کو کم کرنے کے حوالے سے وزارتِ آبی وسائل اور وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے اشتراک سے ورکشاپ منقعد کی تھی جس میں بین الاقوامی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، غیر ملکی مشنز اور پاکستانی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی تھی جس میں پانی کی بہتر نظم و نسق پر زور دیا گیا تھا۔ ورکشاپ ڈچ رسک ریڈکشن (DRR) ٹیم کے نتائج پر مبنی تھی۔ 2022 کے سیلاب کے بعد، پاکستان نے نیدرلینڈ سے کہا کہ وہ سیلاب اور پانی کے انتظام کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرے۔ اس موقع پر ڈچ ماہرین کے تعاون کو سراہتے ہوئے فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین مسٹر احمد کمال نے وزارت آبی وسائل کے ذریعے پاکستان اور ہالینڈ کے درمیان آبی وسائل اور سیلاب کے انتظام پر طویل المدتی تعاون کی تجویز پیش کی تھی۔ ہالینڈ کی سفیر مسز ہینی ڈی وریس نے کہا تھا کہ سیلاب انہیں نیدرلینڈز میں 1953 کے سیلاب کی یاد دلاتا ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام نے ڈچ آبادی کی حمایت کی تھی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے آبی آفات اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ہالینڈ کی جانب سے جاری تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ساتواں سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے، اور حکومت پاکستان عالمی برادری کے ساتھ شراکت داری کے لیے پرعزم ہے تاکہ ان کے علم اور مہارت سے استفادہ کیا جا سکے، اور مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کے لیے لچکدار اور موافقت پذیر انفراسٹرکچر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں ہر سال بارش اور سیلاب آتے ہیں ، دیہات ڈوب جاتے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ میڈیا چند دن شور مچاتا ہے، حکومت امداد مانگتی ہے، بیرونی ایجنسیاں تھوڑا سا فنڈ دیتی ہیں اور پھر سب کچھ بھول کر ہم اگلے سیلاب کا انتظار کرتے ہیں۔ نہ ڈیم بنائے جاتے ہیں۔ نہ دریاؤں کی صفائی ہوتی ہے۔ نہ حفاظتی بند مضبوط کیے جاتے ہیں۔ نہ کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ بنی ہم نے نیدرلینڈز ماڈل کو کیوں نہیں اپنایا اور نیدر لینڈز کے ماہرین واٹر مینجمنٹ سے استفادہ حاصل کیوں نہیں کیا؟ کیا ہم اپنے ملک کے عوام کو ہر بار کی طرح ایسے ہی سیلابی ریلوں کے رحم و کرم پر چھوڑیں دیں گے؟ ہر سال اربوں کے نقصانات کرتے رہیں گے۔ مگر کوئی پالیسی نہیں اپنائیں گے ماہرین سے استفادہ حاصل نہیں کریں گے؟ نیدرلینڈ نے سیلاب کو شکست دی، پاکستان کب جاگے گا؟ فرق صرف سوچ کا ہے۔ نیدرلینڈ کا تقریباً 26 فیصد رقبہ سطح سمندر سے نیچے ہے۔ تاریخ میں کئی بار یہ ملک تباہ کن سیلابوں سے متاثر ہوا، مگر وہاں کے لوگوں نے اپنی تقدیر کو بدلا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سب کچھ اللہ کے حوالے ہے اور بس انتظار کیا جائے۔ بلکہ انہوں نے محنت، منصوبہ بندی اور سائنس کا سہارا لیا۔ انہوں نے ڈیم اور بیریئرز بنائے جو سمندر کے پانی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ ڈیلٹا ورکس جیسا منصوبہ بنایا جو دنیا کا انجینئرنگ کا عجوبہ مانا جاتا ہے۔سٹروم سرج بیریئرز تیار کیے جو طوفانی پانی کو روک لیتے ہیں۔ پولڈرز سسٹم بنایا جس سے نیچے زمین کو خشک کر کے زراعت کے قابل بنایا۔ اور پھر ڈیجیٹل سسٹمز لگائے جو ہر وقت پانی کی سطح کو مانیٹر کرتے ہیں۔ نیدر لینڈ دنیا کا وہ ملک جس کا ایک تہائی حصہ سمندر کے نیچے ہے، آج سیلاب پر قابو پا کر دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ اور ہم، جنہیں اللہ نے بڑے بڑے دریا، زرخیز زمین اور قدرتی وسائل دیے ہیں، آج بھی ہر چند سال بعد پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور بس یہی کہتے ہیں: “یہ اللہ کا عذاب ہے، آزمائش ہے۔ ہم نیدرلینڈ سے چند ایک چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ جیسے ہمیں سمندروں کے بجائے دریاوں کے اوورفلو پر نظر رکھنا ہوگی، اس کے لیے زیادہ محفوظ اور تگڑے بند بنائے جائیں، بیراج اپ گریڈ ہوں، نہروں کے پشتے مضبوط کیے جائیں۔نیدر لینڈز ماڈل کا فلسفہ (پانی کو جگہ دو اور انفراسٹرکچر اور کمیونٹی ساتھ لے کر چلو) پاکستان میں فائدہ دے سکتا ہے، مگر پاکستان کو اپنی مقامی حقیقت (مون سون، بڑے دریا، زیادہ گاد، کمزور ادارے) کو دیکھتے ہوئے مقامی ایڈاپٹیڈ ماڈل بنانا ہوگا۔ جبکہ نیدرلینڈ ماڈل کے تین پہلو قابلِ عمل پہلو ہیں جیسے کہ دریاوں کے ساتھ فلڈ بفر زون بنانا۔ نشیبی علاقوں میں خاص طور سے ایسا کیا جائے کہ شہروں میں بارش کے پانی کی سمارٹ مینجمنٹ۔ برساتی نالوں کی صفائی اور ان کی وسعت بڑھانا، سیوریج کی بہتری، نشیبی جگہوں پر پانی چوس کنوئیں کھودنا تاکہ پانی زیرزمین چلا جائے وغیرہ۔ جبکہ مقامی سطح پر واٹر بورڈ اور واٹر مینجمنٹ کےمضبوط، مستحکم ادارے، ویسے تو پاکستان میں یہ خواب ہی ہے، حب کہ نیدر لینڈ ماڈل کا ایک حصہ اندرون سندھ میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے، تاکہ سمندری پانی کے کٹاؤ میں کمی ہو اور ڈیلٹا بڑھ سکے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر نیدر لینڈ جیسے چھوٹے ملک نے پانی کو دشمن کے بجائے ایک منصوبے کے ذریعے دوست بنا لیا تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ہمیں نئے ڈیمز اور ریزروائرز بنانے چاہییں۔ دریاؤں کے کناروں پر مضبوط حفاظتی بند اور بیریئرز بنانے ہوں گے۔ آبی وسائل کی وزارت میں سیاستدان نہیں بلکہ ماہرین کو شامل کرنا ہوگا۔ دریاؤں کے قریب بے ہنگم آبادی روکنی ہوگی۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ سیلاب صرف قدرتی آفت نہیں، یہ انسانی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعلٰی سندھ، وزیر اعلٰی بلوچستان، وزیر اعلٰی خیبر پختون خواہ، وزیر اعلٰی گلگت بلتستان ڈچ ماہرین کی 2023 والی رپورٹ منگوائیں اور اس پر ورک کریں اور ملک کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب نیدرلینڈز کے واٹر مینجمنٹ کے ماہرین کی ٹیم آئی اور انھوں نے رپورٹ تیار کی مگر واٹر مینجمنٹ پاکستان نے اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا اور نہ ہی اس پر کوئی پیش رفت ہوئی، اگر اس وقت اس رپورٹ کی روشنی میں عملدرآمد کیا جاتا تو آج جس طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے وہ ہمیں نہیں کرنا پڑتا۔

  • مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار ،تحریر:یوسف صدیقی

    مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار ،تحریر:یوسف صدیقی

    مریم نواز کا بڑھتا ہوا سیاسی کردار اس حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان میں سیاست کا ایک نیا باب کھل رہا ہے۔ اگر ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو آواز دی اور بے نظیر بھٹو نے خواتین کو سیاست میں مقام دیا تو آج مریم نواز اسی سلسلے کی اگلی کڑی بن کر سامنے آئی ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھر رہی ہیں جس نے مشکلات کا سامنا کیا، زمانے کی سختیاں جھیلیں اور اپنی ثابت قدمی کے ذریعے خود کو اس سطح پر لے آئیں جہاں انہیں ملک کی آئندہ قیادت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ مریم نواز کی سیاست کا آغاز آسان نہیں تھا۔ پانامہ کیس کے دنوں میں وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنی ذات کو بھی کڑی تنقید اور الزامات کی زد میں پاتی رہیں۔ عدالتوں کے چکر، میڈیا ٹرائل اور مخالفین کے طعنے، یہ سب کسی عام شخص کو توڑ دینے کے لیے کافی تھے، لیکن مریم نواز نے ان حالات میں ہمت نہیں ہاری۔ عمران خان نے بارہا ان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کیے جو کسی خاتون کے لیے انتہائی نامناسب تھے۔ جلسوں میں ان کے لیے مغلظ جملے بولے گئے، انہیں کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، مگر مریم نواز نے جواب میں سیاست کے وقار کو گرنے نہیں دیا۔ انہوں نے صبر اور متانت کے ساتھ یہ طوفان جھیلا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ قیادت محض طاقت کا کھیل نہیں بلکہ برداشت اور وقار کا نام بھی ہے۔

    پانامہ کے دنوں میں ان کا عزم ان کے کارکنوں کے لیے حوصلہ تھا۔ وہ عدالتی کارروائیوں میں اپنے والد کے ساتھ پیش ہوتی رہیں، میڈیا کے کیمروں کے سامنے سر بلند رکھتیں، اور اس سب کے باوجود اپنی پارٹی کے بیانیے کو مضبوط کرتی رہیں۔ یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ محض ایک وراثتی سیاست دان نہیں بلکہ ایک حقیقی لیڈر ہیں جو ہر مشکل کے سامنے ڈٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    وقت گزرا، سیاسی حالات بدلے، اور پھر وہ لمحہ آیا جب مریم نواز کو پنجاب کی ذمہ داری ملی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر انہوں نے اپنی پالیسیوں اور فیصلوں سے یہ واضح کر دیا کہ وہ صرف نعرے لگانے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے صوبے کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ دی۔ صحت اور تعلیم کے میدان میں اصلاحات متعارف کرائیں، ہسپتالوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، اور اسکولوں میں سہولتوں کو بڑھایا۔ ان کی پالیسیوں میں یہ واضح جھلک ملتی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو سمجھتی ہیں اور انہیں حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

    مریم نواز نے خواتین کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر معاشرے کی نصف آبادی کو ترقی کے عمل میں شامل نہ کیا جائے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس لیے انہوں نے خواتین کے روزگار کے منصوبے، ہنر سکھانے کے ادارے، اور مالی مدد کے پروگرام متعارف کرائے تاکہ خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی اور ہنر کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے گئے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور بیرون ملک جانے کے بجائے اپنے ہی ملک میں ترقی کریں۔

    ان کے اقدامات میں عوام کو ریلیف دینا بھی شامل رہا۔ مہنگائی کے ستائے لوگوں کے لیے سبسڈی پروگرام متعارف کرائے گئے، سستا آٹا، مفت ادویات اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے مالی امداد جیسے اقدامات سے عوام کو سہولت دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ وہ حکومت کو محض طاقت کا کھیل نہیں سمجھتیں بلکہ اسے عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔

    مریم نواز کی شخصیت کی ایک خاص بات ان کا اعتماد ہے۔ وہ کسی بھی فورم پر جب گفتگو کرتی ہیں تو ان کے الفاظ میں اثر ہوتا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ کس طرح عوام کے دلوں کو اپنی بات سے چھوا جائے۔ ان کی تقریریں محض سیاسی جملے نہیں بلکہ عوامی جذبات کی ترجمان ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ ان کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔

    پاکستانی سیاست میں یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ مستقبل میں ملک کی قیادت کون کرے گا۔ اس سوال کا جواب اگر آج ڈھونڈا جائے تو مریم نواز ایک نمایاں نام کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کے اندر وہ تمام اوصاف پائے جاتے ہیں جو ایک وزیراعظم میں ہونے چاہئیں۔ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ملکی و عالمی سیاست کا گہرا ادراک بھی رکھتی ہیں۔ ان کے پاس وہ تجربہ ہے جو انہیں اپنے والد کے ساتھ سیاست میں شامل رہ کر حاصل ہوا، اور ساتھ ہی وہ اپنی آزاد سوچ بھی رکھتی ہیں جس نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر بڑے لیڈر نے اپنے حصے کی مشکلات جھیلی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا سامنا کرنا پڑا، بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی اور پھر شہادت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، نواز شریف کو جیل اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح مریم نواز نے بھی مشکلات دیکھیں اور ان پر قابو پایا۔ یہی مشکلات ایک لیڈر کو مضبوط بناتی ہیں اور یہی مشکلات مریم نواز کو بھی ایک مضبوط لیڈر میں ڈھال چکی ہیں۔

    مریم نواز کو مستقبل کی وزیراعظم کے طور پر دیکھنا اب محض ایک خواب نہیں رہا بلکہ ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ ان کی عوامی مقبولیت، ان کا وژن، اور ان کے اقدامات اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ وقت آنے پر ملک کی قیادت سنبھال سکتی ہیں۔ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ایک ایسی قیادت فراہم کر سکتی ہیں جو عوامی خدمت، شفافیت اور ترقی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔

    پاکستان کو اس وقت ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی قیادت جو نہ صرف عوام کے دکھ درد کو سمجھے بلکہ انہیں حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ مریم نواز میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکیں۔ ان کا عزم، ان کی دانش فہم اور ان کا عوامی رابطہ انہیں دوسرے سیاستدانوں سے ممتاز بناتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام، خاص طور پر نوجوان اور خواتین، مریم نواز کو اپنے مستقبل کی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسی لیڈر ہیں جو نہ صرف ان کے خوابوں کو سمجھتی ہیں بلکہ انہیں حقیقت بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

    پاکستان کی سیاست میں مریم نواز کا بڑھتا ہوا کردار ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ وہ ایک ایسی خاتون کے طور پر سامنے آئی ہیں جنہوں نے ہر مشکل کا سامنا کیا، ہر طعنہ سہا، اور پھر بھی اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ یہی وہ صفات ہیں جو انہیں مستقبل میں وزیراعظم کے طور پر دیکھنے کے امکانات کو تقویت دیتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امکانات حقیقت میں بدل سکتے ہیں، اور پاکستان ایک ایسی وزیراعظم دیکھ سکتا ہے جو اپنی بصیرت اور فہم سے قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتی ہیں۔

  • قطر پر اسرائیلی حملہ،سفارتی تعلقات کے لیے نیا امتحان،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر پر اسرائیلی حملہ،سفارتی تعلقات کے لیے نیا امتحان،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر ہمیشہ سے ثالثی اور مذاکرات میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چاہے وہ فلسطینیوں اور اسرائیل یا دیگر گروپس کے بیچ ہو۔ موجودہ حملے نے قطر کو یہ محسوس کروایا ہو گا کہ چاہے وہ مذاکرات میں مصروف ہو اس کی سرزمین محفوظ نہیں ہے۔ اسرائیل نے قطر میں ایک ہوائی حملہ کیا جس کا ہدف حماس کے رہنماء تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک امریکہ کی ثالثی کے تحت معاہدہ برائے جنگ بندی پر مذاکرات کر رہے تھے۔ امریکہ نے بھی اس حملے کو ناپسندیدہ قرار دیا۔ اس حملے سے جیسا کہ خلیجی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تھی اس واقعہ نے اعتماد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ڈالی ہے۔ اس کے اثرات بہت وسیع اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطی اور عالمی سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات مرتب ہوں گے۔ دیگر خلیجی ریاستیں قطر کے موقف کے ساتھ کھڑی ہوں گی عوامی سطح پر غم و غصہ زیادہ ہو جائے گا۔ قطر سمیت عرب ممالک میں یہ واقعہ اسرائیل اور اس کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی لہر کو مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ دونوں اعتراف میں خلا پیدا کر سکتا ہے۔

    قطری حکام اور دیگر خلیجی ملکوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ امریکہ کس حد تک اپنے حفاظتی وعدوں اور اتحادی تعلقات کا تحفظ کرتا ہے خاص طور پر جب اس کا علاقائی مفاد ہو۔ امریکہ کی عالمی ساکھ اور خلیجی ریاستوں میں اس کے اثر کو کم کر سکتا ہے۔ قانونی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اقوام متحدہ۔ یورپی یونین اور دیگر ممالک اسرائیل کی اس کاروائی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ قطر اور دیگر ممالک بین الاقوامی عدالتوں اقوام متحدہ اور علاقائی فورمز میں اسرائیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی تلاش کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ عوامی مظاہرے ہوں یا قطر میں شہری سطح پر رد عمل بڑھ جائے۔ شاید ایران اور اس کے حامی گروپوں کی اس واقعہ کے بعد سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں۔ یمن، لبنان، ایران، شام وغیرہ میں جاری بحران اس واقعے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اسرائیل کی کاروائیاں بین الاقوامی حدود کو عبور کرتی نظر آرہی ہیں۔ اس واقعے نے خلیجی اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے ہو سکتا ہے کہ قطر بین الاقوامی سطح پر شرکاء جمع کرے اور ممکنہ طور پر قانونی سفارتی چینلز اقوام متحدہ وغیرہ سے اقدام کی کوشش کرے۔ قطر اب خلیجی شراکت داروں سعودیہ، امارات، مصر وغیرہ کے ساتھ زیادہ قریب تعاون اور حملے کے اوپر مشترکہ پوزیشن بنائے۔ وائٹ ہاؤس نے حملے پر ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ امریکہ فورم قطر کو تسلی دینے رابطہ اور سفارتی چینل کھولنے کی کوشش کرے تاکہ خلیجی تعلقات کمزور نہ ہوں۔ ایران اس واقعہ کی سخت مذمت کر رہا ہے وہ اس واقعہ کے بعد خود کو عرب دنیا میں زیادہ قابل اعتماد مخالف اسرائیل قوت ظاہر کر رہا ہے ایران قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی یا عوامی سطح پر حمایت میں فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کے اس واقعے کے بعد اپنے دفاعی معاہدوں ہوائی حدود کی حفاظت اور حملوں کی روک تھام کے طریقہ کار پر دوبارہ توجہ دیں۔ ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ مزید واضح اعتماد کی شرائط مانگ سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ کسی بڑے قدم کا امکان کمزور کر سکتا ہے امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ مزید ایسے اقدامات سے گریز کرے۔ خلیجی ممالک کی تسلی کے لیے سفارتی مصالحت کی کوشش کرے گا تا ہم خطے میں سیاسی محاذ بندی سخت ہو سکتی ہے۔ کمزور ممالک ثالثی کے لیے متبادل ضمانتیں مانگیں گے مثلا بین الاقوامی یا قانونی گارنٹی۔ ABRAHAM STYLE پیش رفتوں کو دھچکا اور سعودی خلیجی جانب سے اسرائیل کے ساتھ بڑے سیاسی قدم اٹھانے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن کو اپنے عسکری سیاسی اتحاد اور خطے کے مفادات کے درمیان مزید توازن قائم رکھنا ہوگا اس کا اثر طویل مدتی شراکتوں اور اعتماد سازی پر پڑے گا۔ بین الاقوامی خرابی کو کم کرنے کے لیے اسرائیل کو زیادہ احتیاطی رویہ اپنانا چاہیے شفافیت اور تلافی کے ذریعے سفارتی قیمت ادا کی جائے ورنہ امن کے راستے متاثر رہیں گے۔ نیتن یاہو کو ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • وزیراعلی مریم نواز   کی بے مثال کارگردگی کو رائیگاں کرتے سرکاری افسران ،تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلی مریم نواز کی بے مثال کارگردگی کو رائیگاں کرتے سرکاری افسران ،تحریر:ملک سلمان

    دنیا بھر میں اچھے کام اور پراجیکٹس دکھانے کا طریقہ ہوتا ہے کہ منتخب عوامی نمائندے وزیراعلیٰ کی تصاویر کے ساتھ کسی آرٹسٹ کی بیک گراؤنڈ آواز کے ساتھ ڈاکومنٹری چلائیں۔ ڈاکومنٹری ویڈیوز میں افسران کو دکھانا یا انکا نام لینا بھی غیر قانونی ہے۔ پولیس اور دیگر افسران کو چاہئے کہ اپنی فوٹو کو آفیشل پیجز اور ڈاکومنٹری میں زبردستی لانا بند کریں۔انتظامی افسران کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ وہ پالیسی میکرز نہیں ہیں انکا کام پالیسی کا نفاذ ہے۔ اس لیے پریس ریلیز میں سوائے وزیراعلیٰ کے کسی کی بھی پالیسی، ہدایات یا احکامات کے الفاظ لکھنا بھی غیرقانونی ہے۔سیلابی صورت حال میں اے سی، ڈی سی، ڈی پی او سمیت سرکاری افسران کی فنکاریوں اور ماڈلنگ کی لاتعداد ویڈیوز پر شدید عوامی ردعمل اور غصہ ہے۔ سب سے زیادہ لعن تعن ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ، آر پی او ملتان اور ڈی پی او چکوال کی "اوورایکٹنگ” پر کی جارہی ہے۔سرکاری افسران کی جعلی ویڈیوز اور ایکٹنگ کی وجہ سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا حقیقی اور بے مثال کام بھی متاثر ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جس طرح سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے دورے کر رہی ہیں اور تمام محکموں کو ون یونٹ بنا کر ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن کی سپرویژن کر رہی ہیں ایسی ایکٹو قیادت کو سلام۔

    موجودہ سیلابی صورت حال میں سب سے زیادہ امدادی کاروائیاں آرمی کی طرف سے کی گئیں جن کی میڈیکل کور، فوری طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے، انجنئرنگ والے بلا تعطل ریلیف اینڈ ریسکیو کیلئے پل اور راستے تعمیر کررہے ہیں جبکہ ایوی ایشن والے کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے زریعے دور دراز علاقوں سے افراد کو ریسکیو کر رہے ہیں اور خوراک و ضروری سامان کی فراہمی کو ممکن بنارہے ہیں۔ پولیس اور سول انتظامی افسران کی جعلی ویڈیوز اور ایکٹنگ سے وزیراعلیٰ پنجاب کا تاریخی سیلاب پیکج اور افواج پاکستان کی قربانیاں سوشل میڈیا سے اوجھل ہوکر رہ گئیں ہیں۔ عوام سیلاب سے مر رہے ہیں اور سرکاری افسران بے شرمی اور دھٹائی کی ساری حدیں پار کرکے سارا دن فوٹو شوٹ کرتے پھر رہے ہیں۔ سیلف پروجیکشن کیلئے پاگل افسران کی ہڈ حرامی کی قیمت، گالیاں تو حکومت کو ہی پڑتی ہیں۔سرکاری ملازمین کی ایکٹنگ اور سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن پر شدید عوامی تنقید پر آئی جی پنجاب عثمان انور نے پہل کرتے ہوئے گذشتہ روز سوشل میڈیا کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔ ایک طرف سوشل میڈیا ویڈیو پر چھوٹے ملازمین کو معطل اور نوکریوں سے برخاست کیا جارہا ہے تو دوسری طرف پی ایس پی افسران چلتے پھرتے ماڈلنگ کر رہے ہیں، معزز شہریوں کی پرائیویسی خراب کرکے انکی ویڈیوز بناکر بھی لائک اور ویوز بٹورے جارہے ہیں۔ آئی جی پنجاب کا نوٹیفیکیشن نہ صرف ادھورا ہے بلکہ ”وہی قاتل وہی منصف“ کے مصداق جن ٹک ٹاک سٹارز کے کرتوتوں سے پولیس ڈیپارٹمنٹ مذاق بن کر رہ گیا ان کو ہی مجاز اتھارٹی بنا دیا گیا۔ پولیس کا اصل کام چھوڑ کر سنگم اور چلپل پانڈے بنے پی ایس پی افسران کو ہی اختیار دے دیا کہ جو بھی ویڈیو بننی ہے تم سے اجازت لیکر بنے گی۔

    بطور پولیس سربراہ آئی جی ادارے کا Face ہوتا ہے۔اس لیے صوبائی سربراہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر اپنی بات کہہ سکیں اور انکو کرنی بھی چاہئے ناکہ ہر کوئی اپنی دکان کھول لے۔ ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی او، ایس پی اور اسسٹنٹ کمشنر لیول کے جونیئر افسران کو چاہئے کہ بوقت ضرورت پریس بریفنگ کریں نا کہ سرکاری گاڑی اور دفاتر کو ذاتی تشہیر کا زریعہ بنا لیں۔میری ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران سے کوئی ملاقات نہیں ہے لیکن انکے اس عمل کی تعریف ضرور کروں گا گہ وہ روزانہ کھلی کچہری کرتے ہیں لیکن کبھی بھی شکایت یا انصاف کے حصول کیلئے دفتر اور کھلی کچہری آنے والے معزز شہریوں کی طرف کیمرہ نہیں کرتے۔ جبکہ دیگر آر پی او، سی پی او، ڈی پی او سمیت اے ایس پی کی اکثریت دفاتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں جو سراسر خلاف قانون اور قابل گرفت جرم ہے۔

    شہری کی پرائیویسی خراب کرنے پر شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض افسران کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج کرکے جیل بھیجا جائے۔سرکاری افسران کی طرف سے معزز شہریوں کی ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے جیسی گھٹیا حرکات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں۔ سرکاری افسران میں سوشل میڈیا پر ایکٹنگ کا مقابلہ ہے، ہر طرف ایکٹنگ ماڈلنگ اور کیمرے ہی کیمرے کوئی کارگردگی نہیں رہی۔ عوامی فلاح و بہبود کے کام ٹھپ ہوگئے ہیں اور ہر کوئی کیمرہ اٹھائے یہ بتانے اور جتلانے میں لگا ہے کہ اس نے سرکاری کام کرکے بہت بڑا کارنامہ کردیا ہے، خود کو لارڈ اور عوام کو حقیر بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کے سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چیف سیکرٹری کی طرف سے صوبے بھر کے ملازمین کیلئے مجموعی واضح حکم نامہ جاری ہونا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میڈم عالیہ نیلم اور چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ لاقانونیت اور اختیارات سے تجاوز کے اس دھندے کو فوری بند کرنے کی احکامات صادر فرمائے جائیں۔اپنی شہرت کی بھوک مٹانے اور چند ویوز کیلئے معزز شہریوں کی پرائیویسی کو داؤ پر لگانے والے قطعی معافی کے حقدار نہیں۔

  • اقوام متحدہ کا  اجلاس، عالمی قیادت کے لئے امتحان، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کا اجلاس، عالمی قیادت کے لئے امتحان، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کے جاری اجلاس کو عالمی سیاست کے لئے ایک نہایت اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے رہنما اس پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایسے با ت کریں گے جو صرف کسی ایک خطے نہیں بلکہ پوری انسانیت پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ دنیا بھر کی نظریں اس اجلاس پر ہوں گی۔ اس وقت دنیا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جیسے موسمیاتی تبدیلی، عالمی معیشت کی غیر یقینی کیفیت، امن و سلامتی کے چیلنجز کو دنیا کا سامنا ہے۔ موجودہ اجلاس کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ گئی ہے کہ عالمی طاقتوں کے سربراہان بشمول امریکی صدر براہ راست خطاب کریں گے۔ امریکی صدر کی تقریر پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی۔ امریکی صدر کے خطاب میں عالمی تجارتی پالیسیوں ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بین الاقوامی سلامتی پر ان کی تقریر ہو سکتی ہے۔

    ہو سکتا ہے کہ بعض دنیا کے بڑے مسائل پر کوئی مشترکہ حکمت عملی سامنے آئے۔ تاہم بڑی طاقتوں کے باہمی اختلافات مشترکہ حکمت عملی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کسی مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہو سکتی ہیں۔ موجودہ اجلاس عالمی تعاون اور یکجہتی کے جذبے کا ایک امتحان ہے ۔ جس کے نتائج آنے والے برسوں میں عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا موجودہ اجلاس جہاں عالمی قیادت کے لئے ایک امتحان ہے وہاں صدر ٹرمپ کا خطاب مستقبل کی عالمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں کی راکھ سے پیدا ہونے والی اقوام متحدہ اپنی بقا کی جدوجہد میں 80 سال مکمل ہو گئے۔ اس دوران اس اقوام متحدہ کے کئی فیصلے ایسے ہیں جن پر عملدرآمد آج تک نہیں ہوا۔ فلسطین، کشمیر سمیت کئی عالمی فیصلے ہوئے مگر دنیا کے کئی ممالک جس میں بھارت بھی شامل ہے۔ کشمیریوں پر آج تک ظلم کرتا چلا آرہا ہے۔ اقوام متحدہ کو دنیا کی اقوام کے مسائل اور جنگی ماحول پیدا کرنے والے ممالک کے لئے کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔

  • کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟

    کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟

    کیا پاکستانی بھی انڈونیشیا کے راستے پر چلیں گے؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق "انڈونیشیا میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے نزدیک جمع ہو کر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا، پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی آگ لگا دی۔ آگ لگنے کے باعث عمارت میں پھنسے کئی مظاہرین نے کود کر جان بچائی جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہڈیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسائے، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ حکام نے کشیدگی والے علاقوں میں فوج طلب کر لی۔”

    ان دنوں جب عالمی سطح پر اقتصادی عدم مساوات اور سیاسی اشرافیہ کی خود غرضی زیر بحث ہے، انڈونیشیا اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ایک حساس موضوع بن چکا ہے۔ انڈونیشیا میں ارکان پارلیمنٹ کے ہاؤسنگ الاؤنس عوام کو سڑکوں پر لے آیا، جس کے نتیجے میں پرتشدد احتجاج ہوئے اور پارلیمنٹ کی عمارتیں نذر آتش ہوئیں۔ دوسری طرف پاکستان میں پارلیمنٹیرینز، وزراء، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز کی تنخواہوں میں اضافے پر تنقید تو ہوئی، لیکن ابھی تک کوئی بڑا عوامی احتجاج نہیں دیکھا گیا۔ یہ اضافے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہے اور سیلاب کی لپیٹ میں ہے، جہاں شہر اور دیہات تباہ ہو چکے، لاکھوں لوگوں کا سب کچھ دریاؤں کی نذر ہو گیا اور قومی ہنگامی حالت ہے۔آئیےانڈونیشیا اور پاکستان کی مراعات کا تقابلی جائزہ پیش لینے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستانی اشرافیہ نے یہ ناجائز اضافے رضاکارانہ طور پر واپس کیے، اور کیا وہ عوام کو انڈونیشیا کی طرح خطرناک احتجاج کی طرف نہیں دھکیل رہے ہیں۔

    انڈونیشیا میں 2024 میں ارکان پارلیمنٹ (ڈی پی آر) کے لیے ہاؤسنگ الاؤنس متعارف کرایا گیا جو ماہانہ 50 ملین روپیہ (تقریباً 3,057 امریکی ڈالر یا 8.5 لاکھ پاکستانی روپے) تھا۔ یہ الاؤنس جکارتہ کی کم سے کم اجرت (5.4 ملین روپیہ) سے دس گنا زیادہ تھا اور ارکان کی مجموعی آمدنی 100 ملین روپیہ سے تجاوز کر گئی۔ یہ اضافہ پارلیمنٹ کی رہائشی کمپلیکس بند ہونے کی وجہ سے کیا گیا لیکن اس کا اعلان اگست 2025 میں ایک حساس وقت پر ہوا، جب ملک اقتصادی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری سے نبردآزما ہورہا تھا۔ صدر پرابوو سبیانٹو کی نئی حکومت کفایت شعاری کی پالیسیوں پر زور دے رہی تھی، لیکن یہ الاؤنس عوام کو اشرافیہ کی خود غرضی کا ثبوت لگا۔ اس اعلان نے عوامی غم و غصے کو بھڑکا دیا۔ 25 اگست 2025 کو جکارتہ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر طلبہ، مزدوروں اور ایکٹوسٹس نے احتجاج شروع کیا، جو جلد ہی ملک گیر تحریک "انڈونیشیا گیلیپ” کا حصہ بن گیا۔ 28 اگست کو پولیس کی گاڑی نے ایک موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیور افان کرنیاوان کو کچل دیا، جس کی ہلاکت نے احتجاج کو پرتشدد بنا دیا۔ مظاہرین نے مکاسر، سورابایا، بینڈنگ اور دیگر شہروں میں علاقائی پارلیمنٹ کی عمارتوں کو آگ لگائی، جس میں 6 ہلاکتیں اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، لیکن عوامی دباؤ نے بالآخر 31 اگست کو صدر پرابوو کو مجبور کیا کہ وہ الاؤنس واپس لیں اور غیر ملکی دوروں پر پابندی لگائیں۔ یہ واقعات انڈونیشیا میں عوامی طاقت اور سیاسی جوابدہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان کی صورتحال زیادہ پیچیدہ اور افسوسناک ہے۔ 2024 اور 2025 میں پارلیمنٹیرینز (ایم این اے اور سینیٹرز)، وزراء، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہ 218,000 روپے سے بڑھ کر 519,000 روپے (138 فیصد اضافہ) ہو گئی، جو "ممبرز آف پارلیمنٹ سیلریز اینڈ الاؤنسز (ترمیمی) بل 2025” کے ذریعے جنوری 2025 سے نافذ ہوا۔ وفاقی وزراء کی تنخواہ میں 159 فیصد اور وزراء مملکت کی 188 فیصد اضافہ ہوا، جو سب 519,000 روپے پر آ گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی تنخواہ 205,000 سے 1.3 ملین روپے (535 فیصد اضافہ) ہو گئی، جو مئی 2025 کے نوٹیفکیشن سے ہوا۔ ججز کے الاؤنسز بھی بڑھائے گئے، ہائی کورٹ ججز کا ہاؤس رینٹ الاؤنس 65,000 سے 350,000 روپے اور سپریئر جوڈیشل الاؤنس 342,431 سے 1,090,000 روپے، جبکہ سپریم کورٹ ججز کے الاؤنسز میں بھی اسی طرح اضافہ نومبر 2024 میں ہوا۔ یہ اضافے وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشنز اور صدر کی منظوری سے کیے گئے۔

    یہ اضافے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں مہنگائی 20 فیصد سے زیادہ ہے اور غربت بڑھ رہی ہے۔ مزید برآں گذشتہ ماہ یعنی اگست 2025 سے پاکستان بدترین سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ کے پی کے میں بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ پلک جھپکتے ہی سب کچھ تباہ کردیا،پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں میں ستلج، چناب اور راوی دریاؤں کی بلند سطح نے تباہی مچائی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 2 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے، 1400 دیہات زیر آب آئے، 849 ہلاکتیں اور 1130 زخمی ہوئےجبکہ 1 ملین سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ شہر جیسے لاہور ،سیالکوٹ برباد ہو چکے، زرعی اراضی تباہ اور لوگوں کے گھر، مویشی اور فصلیں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ یہ مون سون سے شروع ہونے والا سیلاب ستمبر 10 تک جاری رہ سکتا ہے، جو پاکستان کی آب و ہوا کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

    انڈونیشیا اور پاکستان کی مراعات کی کہانیوں میں کئی باتیں مشترک ہیں۔ دونوں ممالک نے اقتصادی بحران کے دوران مراعات بڑھائیں، انڈونیشیا میں ہاؤسنگ الاؤنس (50 ملین روپیہ، کم سے کم اجرت کا 10 گنا) اور پاکستان میں تنخواہ/الاؤنس (519,000 روپے تک، کم سے کم اجرت کا 20 گنا اور اسپیکر کی 1.3 ملین روپے)۔ دونوں میں اضافے عوامی تنقید کا باعث بنے، لیکن ردعمل میں فرق واضح ہے۔ انڈونیشیا میں عوام نے فوری اور پرتشدد احتجاج کیا، جس نے حکومت کو الاؤنس واپس لینے پر مجبور کیا۔ پاکستان میں اگرچہ سیاسی حلقوں (جیسے پی ایم ایل-این کے اندر) سے تنقید ہوئی، لیکن عوامی احتجاج ابھی تک محدود ہے۔ اہم بات یہ کہ پاکستانی اشرافیہ نے اضافے رضاکارانہ طور پر واپس نہیں کیے، نہ ہی مفت بجلی، گیس اور دیگر مراعات ترک کیں، جو غریب کے ٹیکس سے آتی ہیں۔

    پاکستان کی موجودہ صورتحال خطرناک ہے۔ سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا، جبکہ اشرافیہ کی مراعات عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہیں۔ انڈونیشیا میں ایک ڈرائیور کی ہلاکت نے احتجاج کو بھڑکایااور پاکستان میں 849 ہلاکتیں اور لاکھوں افراد کی بے گھری اس سے بڑی وجہ فراہم کر سکتی ہے۔ اگر پارلیمنٹیرینز، اسپیکر، چیئرمین سینٹ اور ججز نے اضافے واپس نہ کیے تو عوام انڈونیشیا کی طرح سڑکوں پر آ سکتا ہے۔ مفت مراعات جیسے بجلی، گیس اور ٹریول، جو غریب کے خون پسینے سے ادا ہوتے ہیں، اشرافیہ کی بے ضمیری کو ظاہر کرتی ہیں۔

    انڈونیشیا سے سبق سیکھتے ہوئے، پاکستانی اشرافیہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تنخواہوں اور الاؤنسز کا اضافہ واپس لے اور مفت مراعات ترک کر کے یہ وسائل سیلاب زدگان کی بحالی پر خرچ کرے۔ انڈونیشیا نے عوامی دباؤ سے اصلاحات کیں اور پاکستان کو بھی اسی راستے پر چلنا ہو گا، ورنہ عوامی غم و غصہ پرتشدد احتجاج کی شکل لے سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ سیاسی کلاس عوام کی تکلیف کو سمجھے، ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ خاموشی ہمیشہ نہیں رہتی۔

  • سیلاب،ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈوبیں، ذمہ دار کون، تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب،ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈوبیں، ذمہ دار کون، تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں لینڈ مافیا کا طاقتور ہونا ایک پیچیدہ مسلہ ہے جس کے پیچھے کئی تاریخی سماجی معاشی اور سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔ اس کے زمین کا ریکارڈ (پٹواری سسٹم) پرانا ناقص اور آسانی سے چھیڑ چھاڑ کے قابل ہے۔ عدالتوں میں زمین کے مقدمات دہائیوں تک چلتے ہیں جس کا فائدہ لینڈ مافیا کو ہوتا ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی اکثر سیاسی دباؤ یا مالی فائدے کے تحت ان مافیاز کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ بہت سے لینڈ مافیا گروہ سیاسی جماعتوں اور بااثر لوگوں کے ساتھ براہ راست جڑے ہوتے ہیں سیاستدان ان کو تحفظ دیتے ہیں اور بدلے میں لینڈ مافیا انتخابی سپورٹ یا پیسہ فراہم کرتا ہے۔ شہروں میں رہائشی زمین کی مانگ بہت زیادہ ہے لینڈ مافیا خالی زمینوں پر قبضہ کر کے یا جعلی ہاوسنگ سکیمیں بنا کر کروڑوں روپے کماتا ہے۔ حکومت کی طرف سے سستی رہائش کے منصوبے نہ ہونے کے باعث لوگ ان مافیاز کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ رجسٹریشن۔ ریونیو۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی منظوری وغیرہ میں کرپشن عام جعلی کاغذات ڈبل فروخت اور جعلی سوسائٹیز بنا کر عام لوگوں کو لوٹنا آسان ہو گیا ہے۔ لینڈ مافیا کے پاس اپنے گن مین اور غنڈے ہوتے ہیں جو زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ عام ادمی ان کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا اور اکثر انصاف کے حصول کے بجائے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے سب سے بڑے ذرائع میں جائیداد اور زمین آتی ہے سٹے بازی اور بلیک منی زمین میں لگائی جاتی ہے اس سے مافیا کو مزید طاقت ملتی ہے۔ لینڈ مافیا ملک میں اس قدر پاور فل ہوا ہے کیونکہ ریاستی ادارے کمزور ہیں سیاسی پشت پناہی موجود ہے۔ عوام کے لیے ہاوسنگ کے متبادل محدود ہیں اور کرپشن نے ان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ حالیہ لاہور کی راوی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک میں ایک ملک ریاض نہیں کتنے ہی ملک ریاض پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں پائے جاتے ہیں۔ ان لینڈ مافیا نے بڑے بڑے سیاست دانوں بیوروکریٹس اعلی پولیس افسران اور دیگر کو نہ صرف قیمتی ترین پلاٹوں سے نوازا بلکہ ان میں کئی ایسے ہیں جن کو بڑے بڑے فارم ہاؤس تیار کر کے دیے ہیں۔ اس کے پیچھے لینڈ مافیا کا مقصد صرف ان لوگوں کی زبان بندی ہے تاکہ وہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر سکیں۔ ذمہ داران ریاست کو چاہیے کہ اب اس لینڈ مافیا کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ایسا ادارہ قائم کرے جسے ریاست کیساتھ محبت ہو نہ کہ ان مافیا کے ساتھ۔جو حالیہ ایشو راوی ہاؤسنگ سوسائٹی والا سیلاب کی وجہ سے سامنے آیا جس کے باعث راوی کے اندر اور باہر کی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں اس کے مین کردار 2019 اور 2020 میں عمران خان کی حکومت تھی اور سابق وزیراعلی پرویز الہی اور ان کا بیٹا مونس الہی ان کرداروں نے ان کو اجازت دی تھی بعد ازاں جب حکومت چینج ہوئی تو حمزہ شہباز نے آ کر اس پروجیکٹ کو روکا اور غلط قرار دیا اب سوال یہ ہے کہ جن کرداروں نے کروڑوں اربوں روپے کھائے اور مفادات اٹھائے ان کو نظر انداز کر دیا گیا اور سی ایم مریم نواز جن کی حکومت کو ابھی ایک سال ہوا ہے ان کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس تمام معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں اور جنہوں نے مفادات اٹھائے کروڑوں اربوں روپے اس ہاوسنگ سکیم کی مد میں لیے ان کو قوم کے سامنے لایا جائے