Baaghi TV

Category: سیاست

  • ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    ستھرا پنجاب کی کامیابی ویلڈن وزیراعلی پنجاب لیکن..تحریر:ملک سلمان

    پنجاب میں عید کے تینوں دن ناصرف الائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگایا گیا بلکہ پنجاب کی گلیاں بازار اور وہ جگہیں بھی صاف سھتری اور اجلی نظر آئیں جہاں اس سے قبل میونسپل کارپوریشن والے کبھی پہنچے ہی نہیں تھے، عید کے تینوں دن”ستھرا پنجاب“ اور ”شکریہ مریم نواز شریف“ ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ صفائی کے بہترین انتظامات پر پنجاب کا ہرشہری تعریف کیے بن نہ رہ سکا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس دفعہ جب عید پر پنجاب کی گلی کوچوں کی مکمل صفائی کا اعلان کیا اور انتظامی افسران نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پنجاب کا تاریخی گرینڈ صفائی آپریشن شروع ہونے لگا ہے تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ مشن اتنی جلدی اور واقعی کامیاب ہوجائے گا لیکن حکومت پنجاب نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔ ستھرا پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا فلیگ شپ پروگرام ہے جس پر ماضی میں بہت تنقید ہوتی رہی کہ اتنے زیادہ وسائل کے باوجود صفائی والا عملہ کام نہیں کر رہا لیکن اس ایک ہفتے میں ایسا انقلاب کیسے آگیا کہ کام چوری کی وجہ سے گالی بنے ویسٹ مینجمنٹ والے ہر طرف ایکٹو اور کام کرتے نظر آئے جبکہ پنجاب کی عوام تعریف کرنے پر مجبور ہوگئی۔ فرق صرف فیصلہ سازی، فوکس، چیک اینڈ بیلنس اور عوامی فیڈ بیک کیلئے وزیراعلیٰ شکایات سیل فعال کرنے کا تھا۔ وزیراعلیٰ نے صفائی مہم کی کامیابی کیلئے ستھرا پنجاب، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھی اس مہم کو کامیاب بنانے کا واضح ٹاسک دیا تھا۔ صفائی اور الائشوں کو ٹھکانے لگانے میں کوتاہی کی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا کہ جسے بھی شکایات ہو وزیراعلیٰ شکایات سیل پر واٹس ایپ کردے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے دوٹوک الفاظ اور زیرو ٹالرینس کے تحت صفائی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کرنے کا حکم اور عوامی شکایات کیلئے واٹس ایپ نمبر جاری کرنے سے سب کو احتساب کا ڈر تھا اس لیے مشن امپاسیل پاسیبل ہوگیا۔

    تاریخی اور کامیاب ترین صفائی مہم اور حقیقی ستھرا پنجاب کیلئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ناصرف مبارکباد بلکہ دل سے شکریہ بھی لیکن گزارش ہے کہ جس طرح آپ نے ستھرا پنجاب کو کامیاب کروایا اسے صرف پانچ دن کی مہم تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ باقاعدگی سے فالواپ لیتی رہیں اور اسی طرح عوامی شکایات اور فیڈبیک کیلئے وزیراعلیٰ سیل فعال رہنا چاہئے تاکہ محکمہ صفائی اور انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر موجود رہے۔
    میڈم وزیراعلیٰ تجاوزات کے خاتمے کیلئے بھی پنجاب کی عوام نے آپ کو بہت زیادہ شاباش اور دعائیں دی تھیں لیکن ستمبر 2024سے شروع ہونے والا آپریشن ابھی تک نامکمل ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کے اعلان کو انتظامی افسران نے سابقہ حکومت کی طرح محض اعلان سمجھا اور فارگرانٹڈ لیتے ہوئے رسمی کاروائی کا جعلی فوٹو شوٹ کیا۔

    رواں سال جنوری میں مریم نواز شریف نے تجاوزات مافیا کے خلاف زیروٹالرینس کا حکم دیا تو یہ آپریشن بڑی کامیابی سے شروع ہوا، ہر کوئی تعریف کرنے پر مجبور ہوا کہ یہ پہلی وزیراعلیٰ ہیں جو قبضہ مافیہ کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ اشرافیہ کی سرپرستی میں بدمعاشیہ کے زیراثر چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمین کی واپسی اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے اقدامات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نوجوانوں کی مقبول ترین لیڈر بن کر ابھریں۔ انتظامی افسران کے تاخیری حربوں کی وجہ سے کئی مہینوں سے جاری آپریشن کے باوجود بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ہوسکا وجہ وہی کہ انتظامی افسران تجاوزات لگوا کر ملنی والی ریگولر کمائی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ رسمی آپریشن کے بعد تجاوزات وہیں واپس آجاتی ہیں۔ میڈم وزیراعلیٰ ستھرا پنجاب ایک ہفتے میں اس لیے کامیات ہوا کہ عوامی فیڈ بیک کیلئے واٹس ایپ نمبر دیا گیا تھا جس سے انتظامی افسران کو احتساب کا ڈر تھا۔ یہاں چالیس ہزار ارب کی سرکاری زمینوں کی واگزاری کا مشن ہے اس مشن کی کامیابی کیلئے وزیراعلیٰ انکروچمنٹ مانیٹرنگ سیل قائم کرنا چاہئے پھر اثر دیکھیے گا کہ تجاوزات دنوں میں ختم ہوں گی کیونکہ عوام بتائے گی کہ کس کس جگہ پر کس کا قبضہ ہے اور کون سے سیاسی اور انتظامی افراد یہاں سے بھتہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک سال سے مسلسل کوششوں کے باوجود پنجاب کی ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ، بلانمبر پلیٹ رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کاروائی نہیں کرتی کہ یہ بنا نمبر پلیٹ پبلک ٹرانسپورٹرز اور پارکنگ مافیا پنجاب کی ٹریفک پولیس، پنجاب ہائی ویز پولیس اور چیف ٹریفک آفیسرز کو مجموعی طور پر سو ارب سے زائد کی رقم ماہانہ دیتے ہیں۔
    پاکستان میں سب سے زیادہ جعلی اور کیمیکل ملادودھ پنجاب میں فروخت ہوتا ہے، گدھوں اور مردہ گوشت کی کہانیاں اس قدر عام ہیں کہ دوسرے صوبوں والے ہم پر میمز بناتے ہیں لاہور اور پنجاب والوں کو بکرے کا گوشت صرف عید پر ہی نصیب ہوتا ہے۔ غیر معیاری فوڈ آئٹمز کی وجہ سے ہسپتال بھرے پڑے ہیں لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی والے سارا دن ریسٹورنٹس سے خصوصی ڈسکاؤنٹ کیلئے مارے مارے پھر ہوتے ہیں اور بعد میں انکی چاکری کرتے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی میلوں ٹھیلوں کیلئے سپانسرشپ لیکر انھی فوڈ پراڈکٹس مالکان کے بینیفشری ہوکر ان کے خلاف کاروائی کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ میڈم وزیراعلیٰ، صحت مند پنجاب، ٹریفک مینجمنٹ اور تجاوزات فری پنجاب بھی آپ کے فلیگ شپ پروگرامات ہیں ان کیلئے بھی وزیراعلیٰ مانیٹرنگ سیل قائم کریں جہاں عوام واٹس ایپ کے زریعے فوری فیڈ بیک اور شکایات درج کروا سکیں۔ شکایات سیل اور خصوصی مانیٹرنگ سیل کی کامیابی کیلئے اس سیل کی سربراہی کسی ریٹائرڈ آرمی آفیسر کو دی جائے تاکہ زیروٹالرینس کے ساتھ جدید، صاف ستھرے، صحت مند، ماحول دوست اور تجاوزات فری پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
    maliksalman2008@gmail.com

  • شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی

    شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی

    شیرِ دریا، رضا علی عابدی اور پتھر حلوائی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    یہ1992 کی بات ہے جب راقم الحروف میٹرک کا طالب علم تھاتو اس وقت ذرائع ابلاغ نہایت محدود تھے۔ ٹیلی ویژن چند گھرانوں تک محدود تھا، لیکن ریڈیو ہر گھر کی چوپال کا لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ رات آٹھ بجے بی بی سی اردو پر خبریں اور مشہور زمانہ پروگرام سیربین نشر ہواکرتاتھا جس میں رضاعلی عابدی کا پروگرام شیر دریا ایک منفرد اور دلکش اضافہ تھا۔ اس پروگرام نے نہ صرف دریائے سندھ کے کناروں کی کہانیاں سنائیں بلکہ ان سے جڑی تہذیبوں، تمدنوں اور ان میں سانس لیتی زندگیوں کو بھی بیمثال انداز میں اجاگر کیاتھا۔

    جب رضا علی عابدی نے بی بی سی اردو سروس کے لیے ایک دستاویزی پروگرام ترتیب دیا تو اس کا مقصد دریائے سندھ کے منبع سے لے کر بحیرہ عرب تک اس کے سفر کو ایک زندہ جاوید داستان میں ڈھالنا تھا۔ یہ عظیم دریا ہمالیہ کی بلند گھاٹیوں اور تنگ گزرگاہوں سے ہوتا ہوا پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں اترتا ہے۔ اس کے کناروں پر آباد لوگوں کی معاشرت، سماجی تغیرات اور تہذیبی رنگوں کو رضا علی عابدی نے اپنی مسحور کن آواز اور بے مثال اسلوب میں نہایت مہارت سے پیش کیا۔

    انہوں نے اس پروگرام کا نام دریائے سندھ کے قدیم تبتی نام سنگھے کھا بب سے مستعار لیتے ہوئے شیر دریا رکھا۔ یہ دریا واقعی شیر کی مانند ہے، جو صدیوں سے ہمالیہ کی برفانی بلندیوں سے جھاگ اُڑاتا، غُراتا اور گرجتا ہوا میدانی علاقوں کی طرف بہتا چلا آتا ہے۔ انڈس ویلی سویلائزیشن ہو یا اپر انڈس ویلی، اس دریا کے کناروں پر پروان چڑھنے والی تہذیبوں کا رنگ جداگانہ ضرور ہے مگر ان کی باہمی ہم آہنگی قابل دید ہے۔

    اس پروگرام میں رضا علی عابدی نے لداخ کے بالائی گاؤں اپشی میں پشمینہ بکریوں کے چرواہے محمد علی خان سے لے کر بحیرہ عرب کے قریب شاہ بندر گاؤں کے گل محمد تک 1500 میل کے سفر کو عام انسانوں کے مکالموں، روزمرہ تجربات اور ذاتی کہانیوں کے ذریعے پیش کیا۔ یہ سفرنامہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اس ڈیلٹا تک پہنچتا ہے جہاں یہ دریا سمندر سے بغلگیر ہوتا ہے۔ اس سفر کے دوران سندھ کے کناروں پر آباد نئی اور پرانی بستیوں کی سیاحت ہوتی ہے اور قدیم و جدید تمدن کے کئی راز وا ہوتے ہیں۔

    اردو ریڈیائی سفرناموں کا سہرا بلاشبہ رضا علی عابدی کے سر جاتا ہے۔ بی بی سی اردو سروس میں ان کی مسحور کن اور پراثر آواز نے برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں سامعین کو اپنا گرویدہ بنایا۔ شہروں سے لے کر دور دراز دیہاتوں اور پہاڑی علاقوں تک ان کی آواز گونجتی تھی اور سامعین ان کے لفظوں سے بندھی تصویروں میں کھو جایا کرتے تھے۔

    رضا علی عابدی نے اپنے اسی پروگرام میں پاکستان کے سرائیکی خطہ کے اہم شہر ڈیرہ غازی خان کی ایک منفرد روایت ہماچا کو متعارف کرایا، جو ایک ایسی بڑی چارپائی ہے جس پر ایک وقت میں دو سو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اسے ہماچا اسمبلی کا نام دیا گیا۔ پاکستانی چوک کے قریب ایک رہائشی بلاک میں رکھی یہ چارپائی محلے داروں کے لیے ایک سماجی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی، جہاں روزانہ رات کو چھوٹے بڑے، بوڑھے اور نوجوان جمع ہوتے۔ مذہب، سیاست، محلے کے دکھ سکھ، شادی بیاہ، خوشی و غم کی خبریں سب یہیں شیئر ہوتیں۔ یہ ہماچا نہ صرف ایک چارپائی تھی بلکہ ایک مضبوط سماجی بندھن کی علامت تھی جو لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنی ہوئی تھی۔

    اسی پروگرام کے ذریعے رضا علی عابدی نے ڈیرہ غازی خان کی ایک عظیم شخصیت حاجی غلام حیدر عرف پتھر حلوائی کو بھی متعارف کرایا۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ انہیں پتھر کیوں کہا جاتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ قیام پاکستان سے قبل جب تحریک آزادی زوروں پر تھی، وہ اس تحریک کا ایک سرگرم کارکن تھے۔ پاکستانی چوک پر جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے۔ ایک دن ایک جلوس کے دوران ہندوؤں نے حملہ کیا، ان پر تشدد کیا، ان کی چادر اتر گئی، قمیض پھٹ گئی لیکن انہوں نے پاکستان کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا۔ وہ بے ہوش ہوگئے مگر پرچم زمین پر نہ گرنے دیا۔ اس بے مثال جرات اور استقامت پر انہیں پتھر کا لقب ملا۔

    پاکستان بننے کے بعدغلام حیدرپتھر ایک عام حلوائی بن کر رہ گئے، مگر ان کا جذبہ غیر معمولی تھا۔ جنرل محمد ضیا الحق کے دور میں ان کی تحریکِ پاکستان میں خدمات کو باقاعدہ تسلیم کیا گیا۔بقول ان کے ایک دن اچانک پولیس نے ان کی دکان کو گھیر لیا اور انہیں گرفتار کرکے اسلام آباد کے صدر ہاؤس لے جایا گیا، جہاں صدر جنرل ضیا الحق نے ان سے خصوصی ملاقات کی، ان کی خدمات کو سراہا اور بطور اعزاز انہیں حج پر سعودی عرب بھیجا۔ واپسی پر انہوں نے اہلِ محلہ کو بتایا کہ صدر پاکستان نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا ہے۔

    شیر دریا جیسے پروگراموں نے نہ صرف دریائے سندھ کے کناروں کی داستانیں عام کیں بلکہ ایسے گمنام ہیروز کو بھی منظرِ عام پر لایا جنہیں تاریخ نے نظر انداز کیا تھا۔ اگر رضا علی عابدی ڈیرہ غازی خان نہ آتے اور بی بی سی پر یہ پروگرام نشر نہ ہوتا تو شاید ہم پتھر حلوائی جیسے مجاہدوں سے ناواقف ہی رہتے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ہر ضلع اور تحصیل میں تحریک پاکستان کے ان گمنام ہیروز کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ آگاہی پروگرام شروع کرے تاکہ ہماری نئی نسل اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے آگاہ ہو سکے اور ان کی جدوجہد سے سبق لے کر اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنا سکے۔

  • ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان

    ظلم رہے اور امن بھی ہو، سلیب گردی کی داستان
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستانی سنیما کی تاریخ میں "یہ امن” (1971) ایک ایسی فلم ہے جو نہ صرف فنکارانہ بصیرت کی حامل تھی بلکہ سماجی اور سیاسی شعور کی بھی عکاس تھی۔ ہدایت کار ریاض شاہد نے اس فلم کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بے نقاب کیا۔ ابتدا میں اس فلم کا نام "امن” تھا لیکن سنسر بورڈ کی سخت پابندیوں نے اسے "یہ امن” میں تبدیل کر دیا۔ فلم میں کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کو جرات مندانہ انداز میں پیش کیا گیا، لیکن سنسر بورڈ کی مداخلت نے اس کی اصل روح کو مسخ کر دیا۔ اس صدمے کا اثر ہدایت کار ریاض شاہد پر اتنا گہرا پڑا کہ وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ فلم کے نغموں کی شاعری معروف انقلابی شاعر حبیب جالب نے لکھی، جن کے اشعار ظلم کے خلاف ایک توانا آواز تھے۔ ان میں سے گیت "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو” جو میڈم نور جہاں کی سحر انگیز آواز میں گایا گیا اور اداکارہ سنگیتا پر فلمایا گیا، نہ صرف فلم کا مرکزی خیال تھا بلکہ آج بھی اس کی معنویت قائم ہے۔ یہ گیت ظلم کے مقابلے میں امن کی خواہش اور اس کی ناممکنات کو بیان کرتا ہے جو نہ صرف کشمیر بلکہ فلسطین، غزہ اور پاکستان کے اپنے اندرونی مسائل کے تناظر میں ایک عالمگیر پیغام رکھتا ہے۔

    فلم "یہ امن” نے کشمیر کے مظلوم عوام کی داستان کو اجاگر کیا تھا جو آج بھی جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالی، غیر قانونی گرفتاریاں، تشدد اور پرامن مظاہرین پر گولیاں چلانا معمول بن چکا ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے، جہاں کرفیو، انٹرنیٹ کی بندش اور فوجی چھاؤنیوں نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ اسی طرح فلسطین اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ غزہ پر ناکہ بندی نے 20 لاکھ سے زائد افراد کو بنیادی اشیاء جیسے خوراک، ادویات اور ایندھن سے محروم کر رکھا ہے۔ اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں میں ہزاروں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ دونوں خطے ظلم کی ایسی داستانیں ہیں جو عالمی برادری کی خاموشی کی وجہ سے مزید گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ حبیب جالب کا شعر "اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے، میری زبان کو مت روکو” آج بھی ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    پاکستان میں آج کے دور میں ظلم کی ایک نئی شکل عوام کو ناجائز بجلی کے بلز، غیر منصفانہ سلیب سسٹم اور بے لگام مہنگائی کی صورت میں جھیلنی پڑ رہی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی سربراہی میں وزارت توانائی پر الزام ہے کہ وہ بجلی چوری اور لائن لاسز کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے بجائے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جن سے ایماندار صارفین کو بھی غیر منصفانہ ڈیٹیکشن بلز اور طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سلیب سسٹم جو بظاہر صارفین کو ریلیف دینے کے لیے بنایا گیا تھا عملاً ایک غیر منصفانہ نظام بن چکا ہے۔ اس کے تحت بجلی کے بلز میں اضافہ اور ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ خاندان اپنی بچیوں کا جہیز بیچ کر، اپنی جمع پونجی خرچ کر کے اور حتیٰ کہ قرض لے کر یہ بلز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی کے اس طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے اور کئی افراد اس معاشی بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہے ہیں۔

    عوام پر ہونے والا یہ وحشیانہ ظلم کیا وزیراعظم میاں شہباز شریف کو دکھائی نہیں دیتا؟ کیا اویس لغاری اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ وہ وزیراعظم کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عوام پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے؟ جہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج گولیوں اور تشدد سے معصوم کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے اور غزہ میں اسرائیلی بربریت بمباری سے ہزاروں جانیں لے رہی ہے، وہیں پاکستان میں اویس لغاری کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی پالیسیوں نے عوام کو معاشی موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں ظلم کی شکل گولی اور بمباری ہے لیکن پاکستان میں یہ ظلم ناجائز بلز، غیر منصفانہ سلیب سسٹم اور معاشی دباؤ کی صورت میں ہے۔ عوام اپنے پیاروں کو داغ مفارقت دے رہے ہیں کیونکہ وہ اس معاشی بربریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ اویس لغاری کی اس بربریت کا حساب کون لے گا؟ کیا وزیراعظم میاں شہباز شریف اس قابل ہیں کہ وہ عوام پر مسلط کردہ اس واپڈا گردی کے خلاف ایکشن لیں؟ کیا وہ ایک عوامی لیڈر ہونے کا حق ادا کر پائیں گے؟

    حبیب جالب کا شعر "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے تم ہی کہو” آج بھی ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا ہم اس ظلم کے خلاف خاموش رہیں گے؟ کیا ہم میاں شہباز شریف اور اویس لغاری کی پالیسیوں کو چپ چاپ سہتے رہیں گے؟ کیا ہم یہ مان لیں کہ ظلم صرف دوسرے ممالک میں ہوتا ہے اور پاکستان میں یہ سلیب گردی اور واپڈا گردی محض ایک "نارمل” عمل ہے؟ فلم "یہ امن” ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کو بے نقاب کرنا اور اس کے خلاف جدوجہد کرنا ایک فنکار، شاعر اور شہری کا فرض ہے۔ اگر میاں شہباز شریف عوام کو اویس لغاری کی معاشی بربریت سے بچا سکتے ہیں تو یہ ان کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں کامیاب نہ ہوئے تو عوام کو خود اپنی آواز بلند کرنا ہوگی۔

    جب تک غیر منصفانہ پالیسیاں، ناجائز بلز اور معاشی دباؤ عوام پر مسلط رہیں گے، امن ایک سراب ہی رہے گا۔ کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کی طرح پاکستان کا عام شہری بھی ظلم کا شکار ہے۔ فلم "یہ امن” کا پیغام آج بھی زندہ ہے کہ ظلم کے خلاف جدوجہد ہی امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ حبیب جالب کا شعر "اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے، میری زبان کو مت روکو” ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہمارا حق ہے۔ یہ صرف ایک گیت نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی چیلنج ہے جو ہمیں عمل کی دعوت دیتا ہے۔ پاکستانی عوام کو اس معاشی ظلم اور سلیب گردی کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھانی ہوگی کیونکہ خاموشی ظلم کو تقویت دیتی ہے۔ آئیے، ہم حبیب جالب کے پیغام کو اپنائیں اور اس معاشی بربریت کے خلاف جدوجہد کریں۔ ظلم رہے اور امن بھی ہو، یہ ممکن نہیں،یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم خاموش رہیں یا اپنی زبان کو آزاد کریں۔

  • اویس لغاری  ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ

    اویس لغاری ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ

    اویس لغاری ہٹاؤ، حکومت اور عوام بچاؤ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں کے محنت کش کسان نے محدود وسائل کے باوجود اپنے چھوٹے سے گھر میں دو بجلی کے میٹر نصب کیے، تو یہ کوئی چالاکی نہ تھی بلکہ مہنگائی کے عذاب میں کچھ سانس لینے کی آخری کوشش تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر "پروٹیکٹڈ سلیب” میں رہے تو شاید چولہا جلتا رہے اور بچوں کی فیس ادا ہو جائے۔ مگر اویس لغاری کی وزارت توانائی نے ایسا حکم صادر کیا جس نے لاکھوں غریب گھرانوں کی آخری امید روند ڈالی۔ دو میٹروں پر پابندی لگا کر صارفین کو ظالمانہ "نان پروٹیکٹڈ” سلیب میں دھکیل دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب قوم کی کمر واقعی ٹوٹ گئی۔

    اویس لغاری کی وزارت توانائی عوامی اذیت کا استعارہ بن چکی ہے۔ ان کے متضاد بیانات، گمراہ کن اعلانات اور فیصلوں نے عام شہری کو نہ صرف مالی نقصان دیا بلکہ عزت نفس کو بھی مجروح کیا۔ آج غریب کے بجلی کے بل مڈل کلاس کے بنک اکاؤنٹ سے زیادہ وزنی ہو چکے ہیں۔ اویس لغاری نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب وزیر اعظم کو کسی دشمن یا سازش کی ضرورت نہیں رہی بلکہ اویس لغاری کی وجہ سے عوامی غیظ و غضب خود دہکتا لاوا بن چکا ہے۔

    پاک بھارت جنگ کے بعد حکومت کی عالمی سطح پر سفارتی کامیابیاں بھی اس لاوے کو روکنے میں ناکام ہیں کیونکہ جب گھر کا بلب بجھ جائے، چولہا ٹھنڈا ہو اور بل ہزاروں میں ہوں تو قوم کے لیے حکومتی کامیابیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اویس لغاری کے اقدامات نہ صرف عوام پر معاشی بمباری ہیں بلکہ وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے بھی سیاسی بارودی سرنگ ہیں۔

    اویس لغاری کی وزارت کا آغاز ہی جھوٹے وعدوں سے ہوا۔ عام انتخابات سے قبل بلاول بھٹو نے 300 یونٹ مفت بجلی کا اعلان کیا جو غریب عوام کے لیے امید کی کرن تھا۔ لیکن جب اویس لغاری نے وزارت سنبھالی تو نہ صرف یہ وعدہ پورا نہ ہوا بلکہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور دیگر سرچارجز کے ذریعے بل کئی گنا بڑھا دیے گئے۔ ایک عام گھرانے کا بل جو پہلے چند ہزار کا تھا، اب لاکھوں تک جا پہنچا۔ اویس لغاری کے دعوے، جیسے "ہم نے قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کیے ہیں” یا "بلنگ کا نظام شفاف بنایا ہے”، عملاً بے معنی ثابت ہوئے۔ پروٹیکٹڈ سے نان پروٹیکٹڈ سلیب کی منتقلی، ناجائز ڈیٹیکشن بلز اور دو میٹروں پر پابندی نے ان کے تمام دعوؤں کو جھوٹا کر دیا۔

    بلنگ سسٹم میں سلیب کی تبدیلی خاص طور پر ظالمانہ تھی۔ 200 یونٹ سے ایک یونٹ زیادہ پر صارف "نان پروٹیکٹڈ” کیٹگری میں آ جاتا، جس سے بل کئی گنا بڑھ جاتا۔ وزیر اعظم نے اوور بلنگ پر برہمی کا اظہار کیا لیکن اویس لغاری نے معاملہ نیپرا کو سونپ کر جان چھڑا لی۔ سوشل میڈیا پر شکایات عام ہو گئیں کہ بل 8 ہزار سے 25 ہزار تک پہنچ گیا حالانکہ بجلی کا استعمال وہی تھا۔

    دو میٹروں پر پابندی نے دیہی علاقوں کے صارفین کی مشکلات دوچند کر دیں۔ کئی گھرانوں میں بجلی کا بوجھ تقسیم کرنے کے لیے دو میٹر استعمال ہوتے تھے، جس سے نہ صرف نظام بہتر چلتا بلکہ صارفین پروٹیکٹڈ سلیب سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اب یا تو وہ استعمال کم کریں یا مہنگے سلیب پر بل ادا کریں۔ ایک دیہاتی صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ دو میٹروں سے فائدہ ہو رہا تھا، لیکن ایک میٹر ہٹانے سے بل دوگنا ہو گیا۔

    ناجائز ڈیٹیکشن بلز نے بھی عوام کو نچوڑ کر رکھ دیا۔ بجلی چوری کے الزامات لگا کر بھاری جرمانے عائد کیے گئے، اکثر بغیر ثبوت۔ اویس لغاری نے خود تسلیم کیا کہ اوور بلنگ ہو رہی ہےلیکن ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ان پر رشوت خوری اور جاگیردارانہ ذہنیت کے الزامات لگے۔ ان کے فورٹ منرو کے گھر کا بل محض 124 روپے بتایا گیا جبکہ عوام ہزاروں روپے کے بل ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ وضاحت دی گئی کہ میٹر بند تھا، لیکن معاملہ عوامی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔

    بیوروکریسی اور اشرافیہ کو دی گئی مفت بجلی کی سہولت ختم نہ کی جا سکی۔ نگران حکومت نے اسے ختم کرنے کا عندیہ دیاتھا مگر اویس لغاری نے اسے جاری رکھا۔ سالانہ 500 ارب روپے سے زائد مفت بجلی اشرافیہ کھا جاتی ہے اور بوجھ عوام اٹھاتے ہیں۔ 2024 کے دوران بجلی کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس نے عوام کو بدترین معاشی بحران میں جھونک دیا۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو دی گئی یہ سہولت عوامی اشتعال کا باعث بنی۔

    اویس لغاری کے فیصلوں نے وزیر اعظم کی حکومت کو آتش فشاں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عوام کا غصہ اب قابو سے باہر ہو رہا ہے، جو کسی بھی وقت سڑکوں پر ابل سکتا ہے۔ دشمنوں کے خلاف سفارتی کامیابیاں بھی اب عوامی بھوک، پیاس اور اندھیرے کے سامنے غیر متعلق ہو چکی ہیں۔ جب عزت نفس اور بنیادی ضروریات چھن جائیں تو صرف اشتعال باقی رہ جاتا ہے.

    اویس لغاری کی پالیسیاں قوم کی اجتماعی خود کشی کامکمل سامان پیدا کر چکی ہیں۔ عوام کے پاس دینے کو کچھ نہیں بچا، لیکن قربانی کے لیے اویس لغاری جیسے وزراء کی فہرست طویل ہے۔ ان کا سیاسی ماضی بھی غیر مستقل مزاجی کی گواہی دیتا ہے ، مسلم لیگ (ق) سے مسلم لیگ (ن)، پھر تحریک انصاف کی چوکھٹ تک۔ ایسے افراد سے اصول اور وفاداری کی توقع عبث ہے۔ اگر حکومت عوامی غیض و غضب کی لپیٹ میں آئی تو اویس لغاری سب سے پہلے کشتی چھوڑ دیں گے۔

    لیکن میاں صاحب! اس عوامی طوفان کا سامنا آپ کو کرنا ہو گا۔ اگر اب بھی فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف آپ کی حکومت بلکہ مریم نواز شریف کی ابھرتی ہوئی قیادت کو بھی لے ڈوبے گا۔ اویس لغاری کو برطرف کرنا، بجلی کے نرخ کم کرنا، سلیب سسٹم کی اصلاح، ناجائز ڈیٹیکشن بلز کا خاتمہ اور دو میٹروں پر سے پابندی اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ورنہ تاریخ آپ کو عوام دشمن وزیر کا محافظ لکھے گی۔

    وزیر اعظم صاحب! اب فیصلہ کن اقدام کا وقت ہے۔ یہ محض ایک وزارت کی کارکردگی نہیں بلکہ آپ کی حکومت کے وجود اور سیاسی وراثت کی بقا کا سوال ہے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب یا آپ عمل کریں گے یا پھر عوام کا طوفان سب کچھ بہا لے جائے گا۔

  • پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    پیٹس لورز کلب کی ضرورت،تحریر:ملک سلمان

    گلی میں شدید دھوپ اور گرمی میں قربانی کے بکرے اور گائے بندھی ہوئی نظر آئیں۔ گرمی کی شدت سے بیچارے بکروں کی زبان حلق سے باہر آ رہی تھی۔ گاڑی روک کر پانی کی بوتل جو اپنے لیے رکھی تھی باہر بندھے بکرے کے برتن میں ڈال دی اس نے فور۱” سے پہلے ٹھنڈا پانی پیا اور مشکور نظروں سے آسمان کی طرف دیکھا جیسے اس وقتی ریلیف کیلئے اللہ کا شکر ادا کر رہا ہو۔ پاس بیٹھے چوکیدار سے کہا کہ ان کے مالکان کو سمجھاؤ اتنی گرمی ہے گھر میں کسی پنکھے کے نیچے ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔ چوکیدار نے بتایا کہ صاحب جی میری ڈیوٹی ان کا باہر خیال رکھنا ہے کہ کوئی چور ی نہ کر کے لے جائے، باقی ساری گلی والوں نے بکرے اور گائے اس لیے باہر باندھے ہوئے ہیں کہ ہر آتے جاتے کو دکھا سکیں کہ وہ قربانی کررہے ہیں۔ مجھے ہماری اجتماعی گھٹیا سوچ پر شدید دکھ ہوا کہ قربانی کا مقصد دکھاوا ہی رہ چکا ہے جبکہ قربانی فرض کرنے کا حقیقی سبق تو یہ تھا کہ آپ اپنی عزیز چیز اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ جس بکرے کو ہم نے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے اس کو شدید دھوپ اور گرمی میں اذیت دیکر ہماری قربانیاں کیسے قبول ہوسکتی ہیں۔؟

    خدارا نمود و نمائش میں پاگل ہوکر ان معصوم اور بے زبان جانوروں پر ظلم نہ کریں ورنہ اللہ کی قسم تمہاری قربانی قبول ہونا تو دور یہ جانور اللہ کے ہاں تمہاری شکایت کریں گے۔ اس اذیت کے بدلے تمہارا گریبان پکڑیں گے۔ بکرا منڈی کے انتظامی افسران سے بھی گزارش ہے جہاں اتنے اللے تللوں کے جعلی بل تیار کرتے ہیں وہیں ان بے زبان جانوروں کیلئے پنکھے، ائیر کولر اور سایہ فراہم کرکے دعائیں لیں۔

    اگر آپ کا بکرا بھی باہر گلی میں بندھا ہے یا کہیں گرم جگہ تو اسی فوری سایہ دار جگہ اور ٹھنڈی ہوا فراہم کریں۔
    ہمارے گھر میں عید سے چند دن پہلے بکرا آجاتا ہے اگر گرمی ہوتو مناست ٹھنڈی جگہ اور پنکھے کا انتظام کیا جاتا ہے جبکہ مجھے یاد ہے کہ جب سردیوں کی عید ہوتی تھی تو امی بکرے کو جرسیاں اور کمبل پہنا کر خیال رکھتی تھیں۔ بکرے کو چیف گیسٹ کا سٹیٹس دیا جا تھا، دالیں، پھل سبزیاں اور تازہ چارہ کھلایا جاتا تھا۔ امی نے سختی سے تلقین کرنی کہ یہ اللہ کا مہمان ہے اس کی خدمت کرو گے تو اللہ قربانی قبول کرے گا۔ ہمارے گھر میں بولنے والا راء طوطا ہے جسے گرمیوں میں اے سی کمرے میں اور سردیوں میں ہیٹر والے کمرے میں شفٹ کردیا جاتا ہے۔ گھر میں آنے والے ہر پھل پر پہلا حق طوطے کا ہوتا ہے۔ گھر کی چھت پر دو درجن سے زائد مٹی کے کونڈے ہیں جن میں باجرہ، گندم اور پانی رکھا جاتا ہے تاکہ پرندے کھانا کھا سکیں اور پانی پی سکیں۔

    لکھاری کا کام حکومت،افراد اور اداروں کی تعریف یا تنقید کرنا نہیں ہوتا۔ لکھاری کا اصل کام یہی ہے کہ معاشرتی برائیوں اور مسائل کا ذکر کیا جائے۔اس لیے میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ منافقانہ شرم و ہچکچاہٹ کی بجائے معاشرتی برائیوں کا تذکرہ کرتا رہوں۔

    آئے دن کسی نہ کسی معصوم جانور اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کی خبریں دیکھ کر دل شدید رنجیدہ ہوتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ پیٹس لورز کلب (pets Lovers Club) بنایا جائے جہاں خاص طور پر معاشرتی ناانصافی اور انسانوں کے جانوروں کے ساتھ غیرانسانی رویوں اور ظلم و ستم کا شکار سٹریٹ ڈاگ، بلیوں سے لیکر ہر طرح کے جانوروں کیلئے کئیر سینٹر ہو۔ زخمی جانوروں اور پرندوں کیلئے ہسپتال اور ریہبلیٹیشن سینٹر ہو۔ جو احباب بھی Pets Lovers Club(پیٹس لورز کلب) کا حصہ بننا چاہتے ہوں ضرور انباکس کریں ہم اجتماعی کاوش سے انسانیت دوستی کی اچھی مثال قائم کرسکتے ہیں۔

    حکومت کو چاہئے کہ گھریلو جانوروں کیلئے انسپیکشن کا سسٹم ہو اگر کسی کو گھر میں PET رکھنے کا شوق ہو تو مناسب سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ جانوروں اور پرندوں پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور سخت سزائیں دی جائیں۔

    میں نے عید الفطر پر بھی لکھا تھا کہ اگر عید کی حقیقی خوشی حاصل کرنی ہے تو ذاتی ملازمین کے ساتھ ساتھ گلی، محلے، بینکوں اور پبلک مقامات کی سکیورٹی اور دیگر ڈیوٹی پر مامور ایسے افراد کو عیدی ضرور دیں جو اپنی عید قربان کر کے بھی ہماری حفاظت کا فریضہ ادا کرتے ہیں اور عید جیسے اہم تہوار پر بھی حصول رزق حلال کیلئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • 28مئی کے بعد پاکستان کی ایک اور برتری،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    28مئی کے بعد پاکستان کی ایک اور برتری،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے اہل پاکستان کو ،اسلامیان پاکستان کو پاکستان اور اسلام کے ازلی دشمن بھارت کے خلاف ایک بار پھر تاریخی فتح سے ہم کنار کیا۔۔۔28مئی کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اللہ نے پاکستان کو ایک اور برتری عطا کی۔۔۔ یہ سب یقینا اللہ کی خصوصی مدد سے ہی ممکن ھوا ھے۔۔۔اس موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اسوہ منقول ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی فخر کے اظہار کی بجائے اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و خشیت سے جھک جاتے۔۔۔اور سجدہ شکر بجا لاتے۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ھوئے تو اس وقت آپ کی عاجزی کی یہ انتہا تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک اونٹنی پر اتنا جھکا ھوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک لکڑی کے کجاوے سے لگ رہی تھی(المعجم الاوسط للطبرانی:۶/۸۵، رقم الحدیث: ۵۸۷۱)
    اللہ نے بھی ایسے موقع پر اپنے نبی کو یہی تلقین کی
    فسبح بحمد ربک واستغفرہ
    پس اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم،اس فتح عظیم کے موقع پر اپنے رب کا شکر ادا کرو اور اس سے استغفار کرو۔۔
    غرض جب فتح کے موقع پر اللہ اپنے نبی جیسی معصوم عن الخطاء ہستی سے بھی یہ توقع رکھتا ھے کہ وہ اسے اپنی کسی قابلیت،کسی بہادری و ذہانت یا اپنی کسی زبردست جنگی سٹریٹجی کا نتیجہ نہ سمجھیں یا اپنے جدید اسلحہ و تعداد کا کوئی کرشمہ بھی نہ سمجھیں بلکہ اس فتح اور کامیابی کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص غیبی مدد ہی سمجھیں تاکہ اپنی صلاحیتوں کو ہی اصل سمجھ کر کسی غرور و گھمنڈ کا شکار نہ ھو جائیں۔۔ایک نبی کی ہستی سے ایسا گمان بھی معاذاللہ اگرچہ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس طرح نبی کو مخاطب کر کے مسلمانوں کی مستقل تربیت کی گئی کہ وہ ایسے کسی بھی موقع پر کسی بھی قسم کی جاہلانہ نخوت کا شکار نہ ھوں۔۔۔
    ایک مسلمان کا یہی انداز ھوتا ھے۔۔جب وہ اپنی ہر کامیابی پر اللہ کے حضور اور زیادہ جھکتا،اسلام پر اور زیادہ کاربند ھوتا اور استغفار کرتا ھے تو اللہ بھی اسے پہلے سے زیادہ کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازتا ھے۔۔اس کی توبہ قبول کرتا ھے،اس کے گناھوں کو مٹاتا بلکہ ان گناھوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ھے اور اگر وہ یہ کام نہ کریں تو اللہ جیتی ھوئی جنگ شکست میں تبدیل کرتے بھی دیر نہیں لگاتے۔۔۔ایسی کئی جیتی ھوئی جنگوں کو شکست میں تبدیل ھونے کی کافی مثالیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔۔سب سے بڑی مثال جنگ احد کی ھے جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین جنگ جیت چکے تھے۔۔۔جنگ کے آخر میں جب بعض صحابہ کرام سے صرف اتنی غلطی ھوئی اور وہ بھی ایک اجتہادی غلطی۔۔انہیں سالار جنگ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہدایت تھی کہ ایک درہ کو تاحکم ثانی کسی صورت خالی نہیں کرنا۔۔۔جنگ کے اختتام پر جب لشکر کفار شکست کھا کر پسپا ھو گیا اور فتح پوری طرح واضح ھو گئی تو ان صحابہ کرام نے سمجھا کہ جب فتح ھو گئی اور جنگ بھی ختم ھو گئی،کفار سب پسپا ھو گئے تو اب یہاں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔چنانچہ انہوں نے وہ جگہ چھوڑ دی۔۔اس معمولی اجتہادی غلطی اور اپنے سالار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نادانستہ نافرمانی کا بھی یہ نتیجہ نکلا کہ پسپا ھوتا شکست خوردہ لشکر کفار درہ خالی دیکھ کے وہیں سے اچانک واپس پلٹا اور مسلمانوں پر پھر سے دھاوا بول دیا جس سے مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ھوا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید زخمی ھوئے۔۔
    دور نہ جائیں تو پاکستان کی ابتدائی دو جنگوں کا حال ہی سامنے رکھ لیں ۔۔65ء کی جنگ میں پاکستان نے الحمدللہ اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت کو شکست فاش دی ۔۔۔بھارت کے اندر گھس کر بھارت کے کئی علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا ۔۔اس وقت بھی پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے گرانے کے عالمی ریکارڈ قائم کیے ۔۔۔حالانکہ اس وقت ہمارے پاس نہ ایٹمی صلاحیت تھی نہ کوئی جدید چینی ہتھیار،میزائل اور طیارے تھے۔۔بس صرف اور صرف خالص اللہ کی مدد کے سہارے یہ جنگ نہ صرف لڑی گئی بلکہ زبردست کامیابی بھی حاصل کی گئی۔۔۔۔۔ہمارے ہیرو ایم ایم عالم نے تین منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ بھارتی طیارے گرائے۔۔۔ایک ایک دن میں بائیس بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔۔ سیالکوٹ چونڈہ کے محاذ پر دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ پاکستان نے کامیابی سے لڑی اور دشمن کے بے شمار ٹینکوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔۔۔اتنی بڑی کامیابی اور فتح کے صرف چھ سال بعد کیا ھوا۔۔۔ھم اپنے جشن اور مستیوں میں غرق ھوئے اور بھارت بدلے کے لیے ایک دن بھی آرام سے نہ ںیٹھا۔۔۔71ء میں اس نے واپس پلٹ کر حملہ کیا اور ہمارا آدھا ملک ھم سے الگ کر لیا۔۔۔یہ کامیابی مکار بنیے نے جنگ کے ذریعے کم اور پاکستانی مسلمانوں کو باھم ایک دوسرے سے لڑا کر زیادہ حاصل کی۔۔۔اس نے مغربی پاکستان،پنجاب اور پاک فوج کے خلاف جاہلانہ لسانی عصبیت کے نام پہ اس قدر شدید نفرت پھیلائی کہ مشرقی پاکستان کی عوام اپنی ہی فوج کے خون کی پیاسی ھو گئی۔۔۔جب عوام کو ہی فوج کے خلاف کر دیا جائے تو دنیا کی پھر طاقتور سے طاقتور فوج بھی ناکام ھو جاتی ھے۔۔اسی نکتے کو بھارت نے استعمال کیا اور اس نے اپنی چانکیائی سیاست کے ذریعے پاکستان کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کر لی۔۔۔
    آج بھی بھارت وہی کھیل دوبارہ بچے کھچے پاکستان میں کھیل رہا ھے۔۔۔پھر وہی اسی طرح کا ڈیزائن اور ماحول کہ فوج اور پنجاب کے خلاف نفرت پھیلا دو اور پھر دیکھو کہ پاکستان ٹوٹتا ھے یا نہیں۔۔۔تاھم اللہ کا شکر ھوا کہ پاکستان اس بار بھارت اور ہمارے کچھ نادان سیاستدانوں کی طرف سے ایسے تمام زرخیز ماحول پیدا کرنے کے باوجود جنگ میں بری طرح شکست سے دو چار ھوا ھے۔۔۔لیکن دشمن سے ھمیں ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔۔۔ہمارا دشمن انتہائی کمینہ دشمن ھے۔۔۔یہ صرف پاکستان کا دشمن نہیں،یہ اصلا اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن ھے۔۔اسی لیے تو آج غزہ کا قصائی اسرائیل ہی جنگ میں اس کا واحد سب سے بڑا دوست بن کے کھڑا تھا۔۔ایسا دشمن زخم کھا کے آرام سے بیٹھنے والا نہیں۔۔۔یہ بدلے کی آگ میں سانپ کی طرح مسلسل پھنکار رہا ھے۔۔مودی ہر الیکشن کے قریب کبھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف
    محاذ کھول دیتا ھے تاکہ ہندؤوں کا ووٹ بینک پکا رکھا جا سکے اور کبھی وہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ھے۔۔۔لیکن اس بار پاکستان کے خلاف اس کی مہم جوئی اسے بری طرح الٹ پڑ گئی۔۔اس نے بڑی منصوبہ بندی سے پہلگام میں کچھ سیاحوں کو خود قتل کرانے کا فالس فلیگ ڈرامہ کیا اور پھر اس کی آڑ میں 6ـ7مئی کی درمیانی شب رات کے اندھیرے میں پاکستان پہ حملہ آور ھو گیا۔۔۔ وہ اپنے تئیں بڑے طمطراق اور جدید ترین ہتھیاروں میزائلوں طیاروں کے ساتھ پورے کر و فر کے ساتھ پاکستان پہ حملہ آور ھوا اور اس یقین کے ساتھ کہ جیسے پاکستان بس چند منٹوں گھنٹوں کی مار ھے لیکن الحمدللہ پاک فوج نے اسے ایسا کرارا جواب دیا کہ وہ الٹا اپنے دو جدید ترین رافیل جہاز سمیت 6طیارے،48ڈرون اور اربوں ڈالر کا جدید ترین دفاعی اینٹی میزائل سسٹم SU 100 بھی تباہ کروا بیٹھا اور وہ پاکستان سے پانچ گنا بڑی طاقت ھونے کے باوجود صرف تین گھنٹے چالیس منٹ کی مار ثابت ھوا جس کی وجہ سے پورے عالم میں اس کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔۔۔جواب میں بھارت پاکستان کا ایک بھی طیارہ نہ گرا سکا نہ دکھا سکا۔۔۔ یوں مودی کا پاکستان کو نقصان پہنچا کر الیکشن جیتنے کا اس کا خواب چکنا چور ھو گیا۔۔ اس کی ہنڈیا بیچ چوراہے ہی پھوٹ گئی۔۔۔اس کے الیکشن جیتنے کے سارے تخریبی پلان دھرے رہ گئے چنانچہ الیکشن جیتنے اور اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے وہ اب کچھ بھی اڈونچر کر سکتا ھے۔۔اس کے مکروہ عزائم سے کون واقف نہیں۔۔لہذا اس وقت ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم دشمن سے کسی بھی محاذ پہ غفلت کا شکار نہ ھوں۔۔۔ھم نے دشمن پہ فتح عظیم ضرور حاصل کی ھے لیکن یہ اتنی بڑی فتح نہیں کہ جس کے بعد دشمن ھم پہ دوبارہ حملہ کرنے کی ہمت اور طاقت بھی نہ رکھتا ھو۔۔اور ھم خواہ مخواہ کسی فخر و تکبر کا شکار ھو جائیں۔۔ھم نے دشمن کو پسپا ھونے پہ ضرور مجبور کیا ھے لیکن اس کو ھم نے مٹا نہیں دیا۔۔۔یا اس کی طاقت بالکل ختم نہیں کر ڈالی۔۔۔سانپ زخمی ضرور ھوا ھے لیکن اس کا سر ابھی پوری طرح کچلا نہیں گیا۔۔سانپ بھی ابھی موجود ھے اور وہ پھنکار بھی رہا ھے۔۔۔
    اس موقع پہ قوم میں باہمی یک جہتی سب سے زیادہ برقرار رکھنے کی ضرورت ھے۔عسکری محاذ پہ دشمن ہمیں بارہا آزما چکا ھے اور ہر جنگ میں اسے بری طرح منہ کی کھانا پڑی ھے۔۔اسے کامیابی ہمیشہ پاکستانی قوم اور اداروں کو باھم لڑانے سے ملی ھے۔۔۔ دشمن کی یہ سازش اگر ھم کامیاب نہ ھونے دیں اور قومی یکجہتی کو زیادہ سے زیادہ برقرار رکھیں،باہمی سیاسی اختلاف کو اس حد تک نہ بڑھائیں کہ ھم دشمن کے خواب کی تکمیل کا باعث بن جائیں۔۔اور آپس میں ہی لڑ کے تباہ ھو جائیں جبکہ دشمن بغیر جنگ کے ہی ھم پہ فتح حاصل کر لے۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں،سیاستدانوں اور پوری قوم کو یہ تدبر اور تفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔اگر اس تدبر اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھتے ھوئے ھم ایمان،اتحاد اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے سے سرشار ھو کر آگے بڑھتے رھیں تو ان شاءاللہ دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ھو سکے گا۔۔
    بس اب صرف دو باتیں ہمیں پیش نظر رکھنی چایئیں۔۔۔پہلی بات یہ کہ صرف دفاع کافی نہیں۔۔ بھارت کی آئے دن کی جارحیت اور سندھ طاس
    عقیدہ معطل کرنے کی دھمکیوں کا علاج صرف دفاع کی بجائے جارحانہ حکمت عملی سے ممکن ھے۔۔اس لیے کہ
    offence is the best defence
    ہندو بنیے کا تو علاج ہی یہی ھے۔۔مسلمان فاتحین نے اسی اصول پر ہی انتہائی کم تعداد ھو کر بھی پورے برصغیر پر ایک ہزار سال تک حکومت کی۔۔اج بھی ہندو بنیے کا یہی علاج ھے
    دوسری بات یہ کہ بھارت اگر صرف دہشت گردی پہ مذکرات کرے تو پاکستان بھی سوائے مسئلہ کشمیر کے اور کسی آیشو پر بات کرنے سے انکار کر دے کیونکہ دنیا جانتی ھے کہ تمام مسائل کی وجہ صرف یہی مسئلہ ھے۔۔اب پاکستان کے ڈٹ کے کھڑے ھونے کا وقت ھے۔۔اب کسی قسم کی پرانی مصلحت آمیزانہ اور ضرورت سے زیادہ شریف بننے کی پالیسی ترک کی جائے ۔۔
    10مئی کے جواب کے بعد اب پاکستان دنیا میں الحمدللہ بھارت سے زیادہ طاقتور ملک بن کے ابھرا ھے ۔۔ اپنی اس حیثیت کا بھرپور فایدہ اٹھایا جائے تو ائندہ بھی کامیابیاں اور کامرانیاں ہمارا مقدر ھوں گی۔۔ان شاءاللہ
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستانی عوام زندہ باد

  • درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    درباریوں سے جان چھڑائے بغیر عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے
    ہربااختیار کے گرد درباری جمع،عوام کی کون سنے،وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقلید کرناہوگی
    مریم نوازشریف نے پنجاب کا نقشہ بدل دیا،نوجوانوں کی مقبول لیڈر،سب کے دل جیت لئے
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیرمعرکہ حق میں کامیابی پر دنیا کی طاقتور شخصیات کی فہرست میں شامل
    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر پاکستان میں نہیں عالمی دنیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے بعد مضبوط شخسیت بن کر ابھرےہیں،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ تصادم جیت لیا، اس تصادم میں بری فضائی،بحری اور جملہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،قوم کو پتہ چل گیا کہ ملکی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے،مسجد اقصیٰ کا مستقبل امریکہ نہ اسرائیل اور نہ ہی دیگر دنیا کے ہاتھ میں ہے، مسجد اقصیٰ کا مستقبل وہی ہے جو اللہ تعالی نے طے کر رکھا ہے،مسجد اقصیٰ کی وہ ہی حفاظت کرے گا جس پروردگار نے ابابیلوں کو بھیج کر ہاتھی والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا تھا، آج کا انسان موجودہ قیامت خیز ماحول میں بھی عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس پر بحث کرنے سے کیا حاصل،ملکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں،جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے دعویداروں سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جمہور کے مسائل کی طرف توجہ دیں اگر ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ میرٹ گڈ گورنس چٹ سسٹم کا خاتمہ کر سکتی ہے،تو باقی کیوں نہیں، ایک خاتون وزیر اعلیٰ نے پنجاب کا نقشہ بدل کر رکھ دیا،نوجوان بچوں اور بچیوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے غریب لوگوں کی مالی امداد سے لیکر دیگر بنیادی مسائل حل کر سکتی ہے تو دیگر صوبوں کی حکومتیں کس مرض میں مبتلا ہیں،پاکستان نے اگر دنیا کیساتھ ترقی کرنی ہے تو تباہ کن سیاسی انداز اور ذاتی مفادات کی پالیسی کو بدلنا ہو گا،بہت ہو چکا اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے کردار ادا کریں مشرق وسطیٰ امریکی بدلتی پالیسی اور دیگر ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی کو مدنظر رکھیں اور پاکستان کی ترقی اور عوامی کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں، استحکام پاکستان کا خواب مکمل جب ہو گا جب رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل ہو گا،نااہل کرپٹ بد دیانت ذاتی مفادات اقرباء پروری متکبر اور چاپلوس خوشامدی ٹولے سے جان چھڑانی ہو گی جب تک ملک کی سیاسی جماعتوں کی بلند دیواروں اور دروازوں پر درباریوں کا قبضہ رہے گا عوامی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے

  • ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان

    ای چالان سسٹم میں اصلاح کی ضرورت، تحریر:ملک سلمان

    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کہ بھائی ناشتہ کرلیا میں نے کہا کہ نہیں موسٹ ویلکم تشریف لائیں اکٹھے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک میوچل دوست لاہور آئے ہوئے ہیں ہم دھرم پورہ پائے کھانے جارہے تھے آپ کو بھی پک کرلیتے ہیں۔ ہم گارڈن ٹاؤن سے نکلے تو سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد کے گھر سے نہر کی طرف جانے والے ڈبل روڈ پر رکشہ و ریڑی والوں نے ہاف سڑک پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ کینال روڈ سے دھرم پورہ کیلئے یوٹرن لینے لگے تو سامنے سے بنا نمبر پلیٹ رکشوں کا قافلہ بلا خوف و خطر رانگ وے استعمال کرتا ہوا آرہا تھا۔ دھرم پورہ دونوں اطراف بیچ سڑک ناجائز پارکنگ اور تجاوزات ہی تجاوزات۔ مشہور اقبال ٹی سٹال کا رخ کیا تو وہاں بھی منٹگمری روڈ، ایبٹ روڈ، لکشمی چوک اور ہال روڈ سے گاڑی گزارنا مشکل تھا۔ جس سڑک سے بھی گزرتے بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دیکھ کر ہمارے ساتھ موجود وزارت داخلہ میں تعینات سنئیر افیسر نے بتایا کہ گذشتہ چھے ماہ میں متعدد دفعہ مختلف ایجنسیز کی طرف سے ایس آئی آر(سپیشل انفارمیشن رپورٹ) آئی ہیں کہ مبہم اور بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں سیکیورٹی رسک ہیں اس کے باوجود مبہم، بنا نمبر پلیٹ اور نمبر پلیٹ کے آگے اضافی راڈ لگاکر نمبر پلیٹ کو چھپانے والی ٹریفک پولیس سمیت دیگرسرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟ تیسرے افیسر کا کہنا تھا کہ اغوا، چوری، ڈکیتی، قتل اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والی بنا نمبر پلیٹ گاڑی کا پرچہ متعلقہ سی ٹی او پر ہونا چاہئے۔
    ٹریفک کی روانی میں ناکامی، نااہلی اور جعل سازیوں کی پردہ پوشی کیلئے پولیس ٹاؤٹ قسم کے صحافیوں اور یوٹیوبرز کی مدد سے ہر وقت خبروں میں رہ کر جھوٹے دعووں سے ارباب حکومت اور اداروں کو مس گائیڈ کرنے کی بجائے غیر قانونی پارکنگ، گارگو اڈوں، پبلک ٹرانسپورٹر کی ریگولر کمائی چھوڑ دیں ٹریفک مسائل ختم ہوجائیں گے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹریفک مسائل ہی ٹریفک پولیس کے وسائل ہیں۔
    پولیس سروس کے دوست نے کہا کہ بزدار دور میں انہیں سی ٹی او لاہور کی آفر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ سی ٹی او نہیں کہیں ڈی پی او کی آپشن ہو تو ٹھیک ورنہ سی پی او پنجاب آفس ہی ٹھیک ہے۔ پی ایس پی دوست نے کہا کہ آفر کرنے والے نے کہا کہ سی ٹی او کے بعد آپ ساری ڈی پی او شپ بھول جائیں گے۔ یہ بات سچ ثابت ہورہی ہے کہ واقعی سی ٹی اوکے بعد کسی ڈی پی او شپ کی ضروت نہیں۔
    تینوں افسران کا کہنا تھا کہ سی ٹی او، ای چالان ڈیفالٹر سرکاری گاڑیوں کے خلاف ان بڑھکوں سے کس کو اور کتنا بیوقوف بنائے گا؟
    تم ایک ایک ای چالان ڈیفالٹر گاڑی کی نشان دہی بھی کرلو گے اور انکو پکڑ بھی لو گے کیونکہ وہ ان قانون پسند شہریوں کی ہیں جو دونمبر نہیں ہیں جو اوریجنل نمبر پلیٹ لگاتے ہیں لیکن اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوسکتی ہے کہ بنا نمبر پلیٹ والوں کو نہیں پکڑو گے۔
    ای چالان سسٹم میں بھی بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے ایک تہائی چالان ایسے ہوتے ہیں جو جسٹیفائیڈ نہیں ہیں کیونکہ اگر اچانک آگے والا بریک لگا دے یا سپیڈ سلو کردے تو "مڈ وے” میں آپکا چالان۔ لائن کی خلاف ورزی بھی بائیک اور رکشہ والوں کی تیز رفتار کٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
    گاڑی میں موبائل استعمال کرتا، بنا سیٹ بیلٹ والا نظر آجاتا ہے تمہیں اگر نظر نہیں آتا تو کروڑوں روپے ماہانہ کی اکانمی والے مبہم اور بنا نمبر پلیٹ رکشے، ٹرک ٹویٹا اور بسیں نظر نہیں آتیں۔ عام شہری سڑک پر گاڑی کھڑی کرتے نظر آجاتا ہے لیکن پرائیویٹ دفاتر اور کار شوروم کی بیچ سڑک ریگولر غیر قانونی پارکنگ نظر نہیں آتی۔
    سارا لاہور اور پنجاب ٹریفک جام میں پھنسا ہوتا ہے لیکن تم روڈ سائڈ تجاوزات اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتے؟
    کوئی سڑک بتا دو جہاں بیچ روڈ ریڑیاں اور رکشے راستہ روک کر دکانداری نہیں کر رہے؟
    لفٹر کے زریعے اکٹھے ہونے والے رقم پنجاب حکومت کی بجائے سی ٹی او ویلفئیر اکاؤنٹ میں کس قانون کے تحت جاتی اور کہاں خرچ ہوتی ہے؟
    یہ لاقانونیت، زورزبردستی اور فاشزم کی انتہا نہیں کہ نشئی پبلک ٹرانسپورٹررز کو کھلی چھٹی کیونکہ وہ ریگولر روزانہ اور ماہانہ دیتے ہیں جبکہ معزز شہری جو ٹریفک پولیس کی بجائے سرکار کو جائز ٹیکس دیتے ہیں ان کے ساتھ بدمعاشیاں کرکے نمبر گیم پوری کرو۔
    تم جن اسٹوڈنٹس کا ریکارڈ خراب کرنا چاہتے ہو ضروری نہیں کہ وہ سارے بڑے ہوکر کرپٹ اور قانون شکن سرکاری ملازم ہی بنیں گے ان میں سے بہت سارے ایماندار لوگ بھی آئیں گے جو اس بدبودار کرپٹ اور قانون شکن سرکاری کلچر کو ختم کریں گے۔
    پورے پنجاب کی پولیس کا ریکارڈ دیکھ لیں پولیس کی مدعیت میں مقدمات کی تعداد بامشکل ایک فیصد ہوگی جبکہ ٹریفک پولیس کی مدعیت میں ہر روز درجنوں ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں۔ معزز شہریوں پر بدتمیزی کا الزام لگاکر ٹریفک پولیس کا استغاثہ دینا اختیارات سے تجاوز اور فسطائیت ہے۔
    تم سڑکوں پر ٹریفک کی روانی اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کیلئے مامور ہو یا اپنی فرسٹیشن نکالتے ہوئے شہریوں سے دست و گریبان ہونے کیلئے۔ نمبر گیم کے لیے معزز شہریوں پر ایف آئی آرز کرانا فاشزم کی انتہا ہے۔ ٹریفک پولیس معزز شہریوں کیلئے خوف کی علامت اور غنڈہ فورس بنتی جارہی ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹر اور غیر قانونی پارکنگ والوں کیلئے تمام تر قانون شکن اقدامات کیلئے معاون فورس۔ تیز فلیش لائٹ کے خلاف کاروائی کی بجائے دن بہ دن فلیشر لائٹ استعمال کرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • سحر کامران، پاکستان کی ممتاز خاتون سیاستدان

    سحر کامران، پاکستان کی ممتاز خاتون سیاستدان

    پاکستان کی سیاست میں چند ہی شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو نہ صرف داخلی امور میں مہارت رکھتی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا وقار بلند کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ سحر کامران انہی گنے چنے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے بطور رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کی متحرک رہنما کے طور پر نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر اپنی بھرپور موجودگی دکھائی، بلکہ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے پیش کیا،پارٹی کی بھی ترجمانی کا حق ادا کیا،قومی اسمبلی میں کبھی وہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ نظر آئیں تو کبھی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقاتیں کرتے نظر آئیں،

    سحر کامران کا شمار پیپلز پارٹی کی ان پرعزم خواتین رہنماؤں میں ہوتا ہے جو نظریاتی وابستگی، ذہانت، تدبر اور بین الاقوامی فہم و فراست کی حامل ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایک مؤثر اور مربوط آواز بن کر ابھریں۔بطور رکن قومی اسمبلی، سحر کامران نے مختلف پارلیمانی کمیٹیوں میں بھرپور کردار ادا کیا، سندھ میں پانی کا مسئلہ ہو یا پی آئی اے کی نجکاری، سحر کامران نے ہمیشہ عوامی جذبات کی ترجمانی کی، پاکستان کی عوام کا مقدمہ پارلیمنٹ میں لڑا، وہ نہ صرف قانون سازی میں سرگرم رہتی ہیں بلکہ انسانی حقوق، تعلیم، خواتین کے مسائل اور نوجوانوں کے لیے عملی اقدامات کے حق میں مضبوط آواز بھی بنی رہتی ہیں،

    سحر کامران کا بین الاقوامی سطح پر کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کی اور وہاں اپنے مدلل مؤقف اور متوازن طرز گفتگو کے ذریعے ملک کے وقار میں اضافہ کیا۔ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنا ان کی ایک اہم سفارتی کاوش ہے، جس پر انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا بھی گیا،پاک روس تعلقات بارے بھی انکا کردار قابل تعریف ہے،سحر کامران نے خواتین کو سیاست میں بااختیار بنانے کے لیے بھی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کی شرکت کے بغیر کوئی بھی جمہوری عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی تقریریں، تحریریں اور عملی اقدامات خواتین کو سیاسی، سماجی اور اقتصادی طور پر مضبوط بنانے کے عزم کا آئینہ دار ہیں۔

    سحر کامران صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک وژنری رہنما بھی ہیں۔ ان کی گفتگو میں تدبر، لب و لہجے میں وقار اور رویے میں شائستگی نمایاں ہوتی ہے، ان کے کام کا انداز جدید سفارتی اصولوں سے ہم آہنگ اور قومی مفاد پر مرکوز ہوتا ہے، وہ نئی نسل کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں، خصوصاً ان خواتین کے لیے جو سیاست اور سفارت جیسے شعبوں میں اپنا نام روشن کرنا چاہتی ہیں،سحر کامران پاکستان کی سیاسی و سفارتی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی انتھک محنت، حب الوطنی، اور پیپلز پارٹی کے منشور سے والہانہ وابستگی انہیں دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ آج بھی سیاسی و سفارتی حلقوں میں ایک فعال، باشعور اور بااثر شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ پاکستان کو ایسے ہی باوقار اور نظریاتی سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔

  • تم جنگ ہی نہیں دل بھی جیت چکے .تحریر:ملک سلمان

    تم جنگ ہی نہیں دل بھی جیت چکے .تحریر:ملک سلمان

    حالیہ پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنے سے دس گنا بڑی فوج، دفائی بجٹ اور جدید جنگی سازوسامان والے بھارت کو شکست دے کر دنیا بھر میں بہادری کی انمٹ تاریخ رقم کردی۔

    پاکستانی عوام نے بھی اپنے محسنوں اور محافظوں کو سراہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ گلیوں، بازاروں، مسجدوں، مدرسوں، امام بارگاہوں، تعلیمی اداروں سے لیکر ہر مکتبہ فکر کے افراد نے افواج پاکستان زندہ باد، شکریہ پاک فوج کی ریلیاں اور جلسے کیے، یوم تشکر اور جشن فتح کی کیک کاٹے جا رہے ہیں۔ کراچی سے خیبر، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہر جگہ سارا پاکستان اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتا نظر آرہا ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں موجود اوورسیز پاکستانی بہت عرصے بعد ناصرف متحد نظر آئے بلکہ انتہائی فخر سے دنیا کو بتاتے نظر آئے کہ ہم پاکستانی ہیں وہ بہادر پاکستانی جنہوں نے دشمن کے مزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ و ناکام کر دیا۔

    ناقابل تسخیر افواج پاکستان کی بدولت پاکستان صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں دنیا کی سب سے مضبوط طاقت بن کر ابھرا ہے۔
    جس ریسٹورنٹ، کیفے، شاپ پر دیکھیں افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں کیلئے 30سے 50فیصد ڈسکاؤنٹ کے ویلکم بینر لگے ہوئے ہوئے ہیں، پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے فوجیوں کے بچوں کیلئے فری ایجوکیشن کے بورڈ لگادیے۔ معمولی ٹھیلے، کھوکھے سے لیکر مارٹ اور میگامالز ہر جگہ افواج پاکستان کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹس کا اعلان کردیا گیا ہے۔ تاجروں اور عوام کا کہنا تھا کہ آج ہم جس فخر اور تحفظ کے ساتھ زندگی انجوائے کررہے ہیں اس کا تمام تر کریڈٹ افواج پاکستان کو جاتا ہے جنہوں نے ہرمشکل گھڑی میں ہمارا تحفظ کیا۔ اس لیے ہم عوام اپنی خوشی اور یکجہتی کے اظہار کے طور پر افواج پاکستان کیلئے خصوصی ڈسکاؤنٹ آفر کر رہے ہیں۔

    دنیا میں چوتھے نمبر پر ملٹری فورسز اور دفاع کیلئے سب سے زیادہ 88ارب ڈالر سالانہ بجٹ استعمال کرنے والے ملک بھارت کو صرف ساڑھے سات ارب ڈالر بجٹ کے ساتھ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والے پاکستان نے ایسی عبرت ناک شکست دی کی دنیا بھر کے تمام جنگی ماہرین تعریف کیے بن نہ رہ سکے۔
    بھارت نے اسرائیل کے سب سے طاقتور اور جدید ترین جنگی ڈرونز کا استعمال کیا جسے افواج پاکستان نے فضاء میں ہی تباہ و برباد کردیا جبکہ کچھ ڈرونز کو حفاظت کے ساتھ فوجی تحویل میں لے لیا۔ جنگی جہازوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل فرانس کے تیارکردہ دنیا کے مہنگے ترین اور سب سے خطرناک جنگی طیارے رافیل کو فضاء میں مار گرانے کے کارنامے نے دنیا بھر کو حیران و پریشان کردیا کیونکہ یہ تاریخ کا پہلا واقع ہے کہ جنگی جہاز رافیل کو مار گرایا۔ افواج پاکستان کے ہاتھوں رافیل کی تباہی سے بین الاقوامی مارکیٹ میں فرانس کی اسلحہ ساز کمپنی کے شئیر گرچکے ہیں۔
    دنیا میں جنگی سازو سامان کیلئے بڑی انڈسٹری کے طور پر جانے والے روس کے سب سے پاورفل ائیر ڈیفینس سسٹم S-400کو چند منٹوں میں راخ کے ڈھیر میں بدل کر پاکستان نے نہ صرف دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ بھارت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، بھارت نے امریکہ کے زریعے رحم اورجنگ بندی کے ترلے کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کی۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہرمشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔