Baaghi TV

Category: سیاست

  • چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    چورچور کہنے والا خود چور نکلا،عمران نے جو بویا وہی کاٹ رہا

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست میں بلند و بانگ دعووں، تند و تیز زبان، اور خود کو ہر چیز سے برتر سمجھنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا پہلو تھا جس پر نہ صرف ان کے حامی بلکہ ان کے مخالفین بھی اکثر بات کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ اپنی شخصیت کو اس قدر اہم اور منفرد سمجھا کہ سیاست میں دوسرے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اور بات چیت کرنے کی ضرورت کو کم ہی محسوس کیا۔عمران خان اکثر اپنے حریفوں کو کمتر سمجھتے ہوئے ان سے بات کرنے کی بجائے ان کے خلاف تنقید کرنے میں مگن رہتے تھے۔ ان کی زبان میں وہ تکبر کی ایسی جھلکیاں نظر آتی ہیں جو کبھی کبھار حد سے تجاوز کر جاتی تھیں۔

    عمران خان نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ کبھی بھی نواز شریف، شہباز شریف، اور ان کے حامیوں سے بات نہیں کریں گے۔ وہ ہمیشہ اپنی پوزیشن کو مستحکم اور بہتر سمجھتے تھے اور اپنے مخالفین کو ’’چور‘‘ اور ’’ڈاکو‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ ان کے مطابق، یہ سب لوگ صرف اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کرنا وقت کا ضیاع ہوگا۔عمران خان کا انداز اس قدر سخت تھا کہ وہ عام طور پر دوسرے سیاسی رہنماؤں کے لیے نہ صرف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے، بلکہ ان کے کردار کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے۔ ایک موقع پر، عمران خان نے کہا تھا کہ "میں اور بات کروں گا، میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گا، میں ان چوروں سے بات کیوں کروں؟” ان کا یہ تبصرہ نواز شریف اور ان کی جماعت کے خلاف تھا۔

    اسی طرح، انہوں نے شہباز شریف کو بھی اکثر نشانہ بنایا اور کہا کہ "شہباز شریف میرے ہوتے ہوئے کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتا”۔ ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر سب سے طاقتور شخصیت ہیں، اور ان کے مقابلے میں کسی کو جگہ نہیں مل سکتی۔عمران خان کی زبان کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو ’’ڈیزل‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اس پر جنرل باجوہ نے انہیں مشورہ دیا کہ سیاست میں احترام باقی رہنا چاہیے، لیکن عمران خان نے اس مشورے کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ "اگر ڈیزل کو ڈیزل نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟” ان کی یہ بات ایک طرف تو ان کے تکبر کی نشاندہی کرتی تھی، دوسری طرف ان کے اندر اپنے مخالفین کے لیے عدم احترام اور نفرت کا اظہار بھی کرتی تھی۔

    عمران خان نے نواز شریف کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ "نواز شریف کا کھانا بند کر دوں گا، کمرے کا اے سی بند کر دوں گا، اور ان کی جیلیں عام قیدیوں جیسی بنا دوں گا۔” ان کا یہ انداز سیاست میں ایک نئی سطح پر تکبر اور غصے کی عکاسی کرتا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے مخالفین کو سیاسی طور پر شکست دینا چاہتے تھے، بلکہ ان کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔

    عمران خان کے یہ تمام دعوے اور سخت بیانات آج اللہ کی قدرت کے سامنے جھک چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وہ خود کو غیر متزلزل اور ناقابل شکست سمجھتے تھے، لیکن آج ان کے سامنے حقیقت کچھ اور ہے۔ آج جب وہ خود سیاست کے میدان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تو وہ وہی باتیں اور بیانات واپس یاد کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے مخالفین کے بارے میں کہے تھے۔عمران خان آج اڈیالہ جیل میں ہیں اور اسی شہباز شریف سے جن سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے، عمران خان اب خود چور بھی ثابت ہو چکا ہے اور بات بھی کرنے کو تیار ہے، لیکن آگے سے عمران خان کی سننے کو کوئی تیار نہیں۔ عمران خان کی ساری تکبر اور رعونیت کا جواب اللہ کی طرف سے ایک قدرتی ردعمل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ان کے خلاف جو الزامات اور کرپشن کے کیسز بنے، وہ آج ان کے پیچھے ہیں۔ ان کی سیاسی طاقت جو کبھی بے پناہ تھی، اب کمزوری میں تبدیل ہو چکی ہے۔

    عمران خان کا تکبر اور رعونیت ایک ایسا باب ہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور ان کے رویے نے نہ صرف ان کے حامیوں بلکہ مخالفین کو بھی حیران کن طور پر متاثر کیا ہے۔ آج ان کے سامنے ایک نئی حقیقت ہے جس کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص اپنی تکبر اور غرور کے ساتھ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا، اور اللہ کی قدرت ہر شخص کو اس کی حقیقت دکھا دیتی ہے۔

  • خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان  پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدارا.. سیاسی قائدین پاکستان پر رحم کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہماری قوم ہر دو چار سال بعد تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہے یعنی انتخابات قوم اور سیاسی جماعتوں کے اتحاد ماضی میں دیکھے۔ تحریکیوں کا بھی دور دیکھا۔ پی این اے ، یو ڈی ایف ، ایم آرڈی ،ملی یکجہتی کونسل ،اسلامک فرنٹ ، اسلامی جمہوری اتحاد ، متحدہ شریعت محاذ ، تحریک نظام مصطفی ، تحریک تحفظ نبوت ، تحریک ناموس رسالتۖ ، تحریک ناموس صحابہ۔ قومی ہیروز کے کئی روپ دیکھے ، مارشل لاء دیکھے ،جمہوری حکومتیں دیکھیں۔ آمریت اور جمہوریت کو ساتھ ساتھ چلتے دیکھا۔ مگر ا فسوس نہ معیشت مستحکم ہو سکی اور نہ ہی علماء کرام آپ ۖ کی ایک حدیث مبارک پرعمل کروا سکے۔ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ملک کے تمام صوبے ملاوٹ کی زد میں ،کھانے پینے سے لے کر ادویات تک سرے عام ملاوٹ ہو رہی ہے ۔ معیشت کا یہ عالم ہے کہ کاسہ گدائی ہاتھ میں لے کر دنیا میں گھوم رہے ہیں۔ ریاست سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسائل میں گری قوم کو بنگلہ دیش اور اب شام کی مثالیں دے کر خوف زدہ کیا جا رہاہ ے ۔غیر ملکی سرمایہ کاروں پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے ، کیا کبھی کسی نے سوچا؟ ان افواہوں کا اثر ملک وقوم پر کیا پڑتا ہے ؟

    جہاں تک عرب ممالک کاتعلق ہے ، کشمیری مائوں ، بہنوں ،بچوں ،نوجوانوں اور بوڑھوں کا بھارتی افواج نے قتل عام کیا۔ عرب ممالک بھارت میں سرمایہ کاری بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔ فلسطین میں کیا ہوا اور کیا ہو رہاہ ے۔ عرب ریاستیں جو اپنے پیسے کی بناء پر اُچھلتی ہیں۔وہ بھی غزہ کی صورت حال کو سامنے رکھاجائے تو ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہیں۔ امریکہ اورمغربی ممالک کی ترقی کا راز علم اور عمل ہے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ ان مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاتھ میں کیسے چڑھ گئے جو سیاستدان کو جانتے تک نہیں یہ اپنے عزیزوں کے ساتھ بھی دست و گریبان ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہتان تراشیوں کے نشتر چلائے جا رہے ہیں ،جمہوریت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھوڑے بے لگام ہو جائیں۔ سیاسی بداخلاقیاں ، بہتان تراشی،افوا سازی ، کیا عالمی دنیا میں پاکستان کے وقار کو نقصان نہیں پہنچا رہی ؟ سیاسی قائدین اس ملک پر رحم کریں ۔ اس ملک کے وقار میں اضافہ کریں۔ اپنے ذاتی مفادات ، اختیارات اور پروٹوکول کی خاطر ملکی وقار کو دائو پر لگانے سے گریز کریں

  • ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    پاکستان کی سیاست میں اکثر نئے بیانیے اور تبدیلی کی باتیں کی جاتی ہیں، لیکن جب حقیقت کی گہرائی میں جایا جاتا ہے تو سامنے ایک تلخ اور بدبودار سچائی آتی ہے۔ "امریکی غلامی نا منظور” کا نعرہ لگانے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج کس قدر بدلے ہوئے حالات میں ہے، یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ پی ٹی آئی، جو کبھی خودمختاری اور غیرت کی باتیں کرتی تھی، آج اس حد تک گر چکی ہے کہ وہ اپنے ہی نعروں کا مذاق اُڑا کر انہیں دھوکہ دینے والے عناصر کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

    آج سے چند سال قبل، جب پی ٹی آئی نے "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کیے تھے، تو اُس وقت جماعت نے خود کو قوم کی آواز اور آزادی کا علمبردار تصور کیا تھا۔ لیکن اب یہ جماعت اپنے سابقہ دعووں اور نعروں سے مخلص نہیں رہی۔ اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آج پی ٹی آئی کی قیادت ایسی شخصیات کے دربار میں جا کر مدد کی بھیک مانگ رہی ہے، جو کبھی خود اس کے مذموم بیانیے کا حصہ تھے۔رچرڈ گرینل ایک ایسا نام ہے جو سیاست، سفارتکاری، اور متنازعہ بیانات کے لحاظ سے خاصا معروف ہے۔ وہ ایک امریکی سفارتکار ہیں، جن کا ماضی کئی سیاسی و اخلاقی معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ گرینل کا تعلق ایک ایسے شخص سے ہے جو اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی متنازعہ رہا ہے، اور اس کے جنسی رجحانات بھی اس کی سیاست میں ایک اہم عنصر بن چکے ہیں۔یہ وہی رچرڈ گرینل ہیں جنہوں نے ہم جنس پرستی کے عالمی پرچار میں نمایاں کردار ادا کیا اور خود کو سرٹیفائیڈ ہم جنس پرست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گرینل نے جرمنی میں اپنی تعیناتی کے دوران نہ صرف سفارتی اصولوں کی پامالی کی بلکہ اپنی غیر اخلاقی حرکات سے بھی کئی بار شہرت پائی۔ ایسے شخص کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کرنا پی ٹی آئی کے لیے نہ صرف ایک اخلاقی دھچکا ہے، بلکہ اس سے اس جماعت کی خودمختاری اور آزادی کے دعووں کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔

    جو جماعت کبھی خودمختاری اور غیرت کی دعویدار تھی، وہ آج اس قدر گر چکی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے سامنے جھک رہی ہے جو نہ صرف ان کے نعروں کا مذاق اُڑاتا ہے، بلکہ ان کے سیاسی و اخلاقی نظریات کے بھی مخالف ہے۔ یہ حقیقت ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی، جو کبھی "امریکی غلامی نہیں منظور” کے نعرے بلند کرتی تھی، آج اپنے ہی نعرے کو نظرانداز کر کے امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار سے مدد کی درخواست کر رہی ہے۔اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ اس نے اپنے نظریات، بیانیے، اور عوامی حمایت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ آج پی ٹی آئی کا دعویٰ "نیا پاکستان” بنانا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک "سیاسی منافقت کا شاہکار” بن چکا ہے۔پاکستان کی سیاست میں ایک نیا بیانیہ اور تبدیلی کی بات کی جاتی ہے، لیکن جب ہم پی ٹی آئی کی موجودہ پوزیشن کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جماعت نے اپنے اصولوں اور مفادات کی خاطر اپنے عوامی نعرے کو قربان کر دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی کا نیا پاکستان "سیاسی منافقت” کا نمونہ بن چکا ہے، جہاں پر کسی بھی اصول یا نظریے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    اگر پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے پچھلے بیانیے کو نظرانداز کر کے رچرڈ گرینل جیسے متنازعہ شخص کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کی فکر کر رہی ہے۔ یہ سیاسی منافقت ہی ہے جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے اور وہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ آخرکار پی ٹی آئی کے نظریات کہاں گئے؟آج پی ٹی آئی نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ صرف اس کے سیاسی مفادات کو بڑھا رہا ہے لیکن اس سے اس جماعت کی اخلاقی اور نظریاتی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں۔ "امریکی غلامی نہیں منظور” کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی آج امریکہ کے ایک متنازعہ سفارتکار کے سامنے جھک کر اپنی بے عزتی کروا رہی ہے۔اس صورتحال نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ سیاست میں اصول اور نظریات کی حقیقت محض ایک دکھاوا ہوتی ہے، جب تک کہ وہ شخص اپنے مفاد میں نہ ہوں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو جماعت عوامی حمایت اور آزادی کے نعرے لگاتی ہے، وہ بھی وقت کے ساتھ اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لیتی ہے، جب وہ اقتدار کے حصول کے قریب پہنچتی ہے۔

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    پنجاب کو دنیابھرکےلیےتجارت اورسرمایہ کاری کا مرکز بنائیں گے،مریم نواز

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

  • پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار

    پاکستانی عوام سیاسی جادو گری کا شکار
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

    پاکستان کی سیاسی فضاء ایک بار پھر ہلچل کا شکار ہے۔ تحریک انصاف اور حکومتی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور الزامات کی کشمکش جاری ہے، جس سے نہ صرف سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاست کے اصل کردار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    اڈیالہ جیل میں عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ ڈی چوک کے معاملے کو پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اپنی جماعت کی فعالیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ عمران خان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ پارٹی کے اندرونی مسائل اور قیادت کی حکمت عملی سے مطمئن نہیں ہیں۔

    دوسری طرف سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرفان صدیقی نے سوال اٹھایا کہ کیا پرامن احتجاج الجہاد اور مارو کے نعروں کے ساتھ ہو سکتا ہے؟ انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے سول نافرمانی کی دھمکیوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ طلال چوہدری نے تحریک انصاف کے رویے پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کے اقدامات نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے۔ شیری رحمان نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال میں ایسی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔

    تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما شیر افضل مروت نے حالیہ سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان رابطے موجود ہیں، لیکن عوامی مسائل کے حل کی بجائے یہ رابطے ذاتی مفادات کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے کردار کو بلاوجہ متنازعہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ تحریک انصاف کو ان سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کو کسی ایک فرد کی ذمہ داری قرار دینا غیر منصفانہ ہوگا۔

    اسی دوران قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ایاز صادق نے تجویز پیش کی کہ جماعتیں اپنے اندرونی مسائل حل کریں تاکہ مذاکرات شفاف انداز میں آگے بڑھ سکیں۔ اسد قیصر نے اس تجویز کو اپنی جماعت میں زیر غور لانے کا وعدہ کیا۔

    تحریک انصاف کی طرف سے سول نافرمانی کی کال اور حکومتی رہنماؤں کی سخت تنقید یہ ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات کا عمل شفاف ہونے کے بجائے سیاسی بیان بازی کا شکار ہو رہا ہے۔ حالیہ بیانات میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا نام باربار لیاجارہاہے جس پر حکومتی رہنماؤں کا الزام ہے کہ وہ تحریک انصاف کے سیاسی مفادات کو آگے بڑھاتے رہے۔ تحریک انصاف نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

    پاکستان میں سیاسی کشمکش نے عوام کو ایک عجیب و غریب سیاسی جادو گری کا شکار بنا دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ملک کی معیشت بے حد نازک حالت میں ہے وہیں دوسری طرف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے عوامی مسائل پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے اور سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    اگر سیاسی قیادت نے اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ نہ لیا تو یہ سیاسی سازشیں عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے مزید پیچیدہ اور سنگین ہو جائیں گی۔ اس وقت ملک کو صرف سیاسی افہام و تفہیم کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل کو ترجیح دی جا سکے۔ مذاکرات تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق اپنے سخت موقف میں نرمی لائیں اور عوام کی تکالیف کو سامنے رکھیں۔ بصورت دیگر یہ سیاسی کھیل ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

  • مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر
    شاہد نسیم چوہدری ٹارگٹ
    عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد اور انقلابی منصوبہ "مریم کی دستک” متعارف کرایا ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر ان شہریوں کے لیے نہایت مفید ہے جو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے سے قاصر ہیں یا جنہیں وہاں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ "مریم کی دستک” کے ذریعے حکومت نے نہ صرف اپنی خدمات کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچایا ہے بلکہ شہریوں کی زندگیوں کو سہولت بخش بھی بنایا ہے۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا منصوبہ ہے جو 65 سے زیادہ سرکاری خدمات کو موبائل ایپ اور ویب پورٹل کے ذریعے شہریوں کی دہلیز پر فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد لوگوں کو سرکاری دفاتر میں وقت اور وسائل ضائع کرنے سے بچانا اور تمام ضروری خدمات کو ان کے گھر تک پہنچانا ہے۔یہ منصوبہ درج ذیل اہم خدمات فراہم کرتا ہے:
    1. ڈومیسائل سرٹیفکیٹ2. ایف آئی آر کی کاپیاں
    3. پیدائش کے سرٹیفکیٹس4. لرنرز ڈرائیونگ لائسنس
    5. ای-اسٹیمپنگ
    یہ خدمات عوام کے لیے نہایت کارآمد ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو اپنے کام کے دوران وقت نہیں نکال سکتے یا جنہیں نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔یہ منصوبہ خواتین اور بزرگوں کے لیے ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ خواتین جو گھریلو کاموں یا بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتی ہیں، اکثر سرکاری دفاتر جانے کے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ بزرگ افراد، جن کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا یا دفتر پہنچنا مشکل ہوتا ہے، بھی اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

    کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے مددگار,وہ افراد جو نوکریوں یا کاروبار کے سلسلے میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں، اکثر سرکاری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ "مریم کی دستک” نے ان کے لیے خدمات کا حصول آسان بنا دیا ہے۔ اب وہ موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں اور تمام خدمات ان کے گھر تک پہنچائی جاتی ہیں۔

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا انقلابی استعمال
    "مریم کی دستک” ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمت کا ایک مثالی نمونہ ہے۔ موبائل ایپ اور ویب پورٹل کا استعمال حکومت کی جانب سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ نہ صرف عوام کے لیے وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں رش کو بھی کم کرتا ہے۔

    سرکاری دفاتر کی مشکلات کا خاتمہ
    ماضی میں، سرکاری دفاتر میں طویل قطاروں، وقت کی بربادی، اور عملے کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی شکایات عام تھیں۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے "مریم کی دستک” متعارف کرائی گئی ہے، جو ان تمام مشکلات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔

    بدعنوانی کا خاتمہ
    اس منصوبے کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے سرکاری خدمات میں بدعنوانی کے امکانات کو ختم کیا ہے۔ اب عوام براہ راست خدمات حاصل کرتے ہیں، جس سے درمیانی افراد کی ضرورت ختم ہو گئی ہے اور بدعنوانی کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔

    معاشی فوائد
    "مریم کی دستک” نہ صرف عوام کے وقت کی بچت کرتی ہے بلکہ ان کے مالی وسائل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے، لوگ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے تمام ضروری خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔

    چیلنجز اور ان کا حل
    ہر نئے منصوبے کی طرح "مریم کی دستک” کو بھی چند چیلنجز کا سامنا ہے، جنہیں حل کرنا ضروری ہے:
    1. ڈیجیٹل خواندگی
    دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ اکثر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہوتے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
    2. انٹرنیٹ کی دستیابی
    دیہی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ناکافی ہے، جو اس منصوبے کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حکومت کو انٹرنیٹ کی رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔
    3. سائبر سیکیورٹی
    ڈیجیٹل سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ حکومت کو شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
    "مریم کی دستک” بلاشبہ ایک انقلابی اقدام ہے جو حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف عوام کی زندگیوں کو آسان بنایا ہے بلکہ سرکاری دفاتر میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو بھی بحال کیا ہے۔

    حکومت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو مزید وسعت دے اور دیگر خدمات کو بھی اس نظام کا حصہ بنائے۔ مزید برآں شہریوں کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مناسب مہمات چلائی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    "مریم کی دستک” ایک ایسا ماڈل ہے جسے دوسرے صوبے اور ادارے بھی اپناتے ہوئے اپنی خدمات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ اقدام عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کی فضا کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مثالی ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کی تعبیر کی جانب اہم قدم ہے۔

  • پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے امیدیں ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

    پی ٹی آئی کی ٹرمپ سے امیدیں ،اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ اس کا عمران خان کی سیاسی راہ پر کیا اثر پڑے گا۔ اگرچہ یہ عمران خان کے حامیوں میں کچھ امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن ٹرمپ کی صدارت کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی جغرافیائی سیاست کی پیچیدگیاں کسی بھی پیش گوئی کو مشکوک بناتی ہیں۔ حکمت عملی کے مفادات، سفارتی چالاکیاں، اور ذاتی اتحاد غیر متوقع طور پر حالات کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

    جب دنیا اس بدلتے ہوئے ڈرامے کا مشاہدہ کر رہی ہے، تو امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اور عمران خان کی سیاسی تقدیر کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ یہ کہانی اتنی ہی متحرک اور غیر متوقع ہو سکتی ہے جتنی وہ واقعات جو اب تک اس کی تشکیل کا سبب بنے ہیں۔آنے والی انتظامیہ کے لیے پاکستان کو ترجیحات میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم،عمران خان کی جماعت، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، اس امید میں ہے کہ ٹرمپ کی فتح سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کو کم کر سکتی ہے۔ یہ امید اس کے باوجود ہے کہ عمران خان نے 2022 میں یہ الزامات لگائے تھے کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کی داخلی سیاست میں مداخلت کی تاکہ انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرف کیا جا سکے،یہ ایک دعویٰ جسے واشنگٹن اور اسلام آباد دونوں نے مسترد کر دیا تھا۔

    عمران خان کی برطرفی کے بعد اور پی ٹی آئی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن، جس میں عمران خان کی گرفتاری اگست 2023 سے ہو چکی ہے، کے دوران امریکہ نے زیادہ تر خاموشی اختیار رکھی ہے، اور اس معاملے کو پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

    ٹرمپ کی پچھلی مدت میں پاکستان نے امریکہ سے بنیادی طور پر افغانستان کے تنازعے کی وجہ سے تعلقات استوار کیے تھے۔ تاہم، ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں، تو پاکستان کو نظرانداز کرنے کا امکان ہے کیونکہ انتظامیہ عالمی سطح پر درپیش زیادہ اہم مسائل جیسے غزہ، یوکرین اور امریکہ،چین کی کشیدگی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ پاکستان کی داخلی سیاسی صورت حال آئندہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکمت عملی کے مفادات سے ہم آہنگ ہونے کا امکان نہیں رکھتی۔

    ٹرمپ عمران خان کے لیے چمکتے ہوئے زرہ پوش سپہ سالار بننے کے امکانات بہت کم ہیں

  • ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہم ترقی پذیر کیوں؟سیاستدان جوابدہ ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی قوم کی اکثریت اپنی فوج اور جملہ اداروں سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہے فوج کے خلاف غلیظ زبان کا استعمال اور پروپیگنڈہ کوئی نہیں بات نہیں، پہلے بھی پاک فوج کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈہ کئے گئے عوام کی اکثریت نے کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا۔ یہ وہی فوج ہے جس نے ضرب عضب اور ردالفساد میں خودشہید ہو کر ملک میں انتہا پسندی کا اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا، ضرب عضب نواز شریف کے دور حکومت میں شروع ہوا فوج کے ساتھ پولیس نے بھی بھاری قربانیاں دیں جبکہ عام شہری بھی دہشت گردی کی زد میں آئے۔ یاد رکھیئے پاکستان دشمن قوتوں اور بالخصوص بھارت سے ایک فو ج ہی ہے جو پاکستان اور عوام کو بچا سکتی ہے ۔ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعدو ضو ابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے ۔

    سیاستدانوں اپنی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں پر توجہ دیں۔ جس ملک میں سیاستدان گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کچھ نہ کر سکے جس ملک کے سیاستدانوں کے ہی ہاتھوں تین بار نواز شریف کی حکومت کو چلتا کیا گیا وہاں کیسی سیاست اور کیسی جمہوریت ؟حقیقی آزادی اورتبدیلی کا نعرہ لگانے والے بتا سکتے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے خاتمے میں اُن کا کیا کردار تھا؟ کیا وہ کردار جمہوری تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ سیاست کے کنگ کانگ تادم تحریر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ عالمی دنیا میں پاکستان کی سیاست اورجمہوریت اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ آج ملکی معیشت کہاں کھڑی ہے ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ عام آدمی بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟

    پنجاب میں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے اپنی حکومت اگر عوامی خدمت پر رُخ موڑ دیاہے تو کیا آج بھی اُن کے خلاف سازشیں نہیں ہو رہی؟ سیاستدان بتائیں ہم اگر غربت کی لکیر سے اگر نیچے گر رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یاد رکھیئے موجودہ صدی میں وہ ملک ترقی کریں گے جن کی آبادی تعلیم یافتہ ہوگی اور وہ جدید ٹیکنالوجی ضروریات کو سمجھ سکتی ہوگی۔وطن عزیز کے نوجوان اپنی بھرپور توجہ تعلیم پر دیں وطن عزیز کا مستقبل میں آپ دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کریں۔ اپنے اپنے حلقے کے نام نہاد سیاستدانوں سے سوال کریں۔ مصنوعی نعرہ لگانے والے سیاستدانوں سے سوال کریں ہم ترقی پذیر کیوں ہیں، ترقی یافتہ کیوں نہیں؟ سمجھ نہیں آتا روز محشر ہمارے سیاسی ٹائیکون کس کس چیز کا حساب دیں گے

  • شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شہباز گل کی کارِ سرکار میں مداخلت ، قومی وحدت کے لیے خطرہ؟ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اداروں کے کردار پر تنقید یا ان کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن حالیہ واقعات میں شہباز گل جیسے سیاسی رہنما کی جانب سے ایسے بیانات اور حرکات سامنے آئی ہیں جنہوں نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ قومی وحدت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اسلام آباد میں ایک حالیہ ناکام احتجاج کے دوران پنجاب پولیس کے 128 اہلکار مختلف وجوہات کی بنا پر ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو سکے۔ اس واقعے کے بعد افسران نے ان اہلکاروں کی لسٹیں تیار کیں اور ان سے جواب طلبی کا عمل شروع کیا۔ ڈیوٹی سے غیر حاضری ایک سنگین معاملہ ہے، خاص طور پر جب یہ معاملہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط سے جڑا ہو۔ لیکن اس پر شہباز گل کا ردعمل ایک غیر متوقع اور متنازعہ تھا۔

    شہباز گل نے اپنی ٹویٹ میں غیر حاضر اہلکاروں کو "ہیرو” قرار دیا اور انہیں یقین دلایا کہ اگر موجودہ حکومت انہیں نکال بھی دیتی ہے تو ان کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں بحال کیا جائے گا اور انعامات سے نوازا جائے گا۔ یہ بیان نہ صرف کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایک عوامی رہنما کی جانب سے ایک حساس معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا عکاس بھی ہے۔شہباز گل کی یہ سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ اداروں کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔شہباز گل کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک عوامی شخصیت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانا ایک سنگین حرکت ہے۔ یہ عمل اداروں میں نظم و ضبط کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔قومی سلامتی کے ادارے اور قانون نافذ کرنے والی فورسز ملک کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان اداروں میں بے چینی یا تقسیم پیدا کی جائے تو اس کا نتیجہ نہ صرف حکومتی رٹ کی کمزوری بلکہ عوامی اعتماد کے فقدان کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔شہباز گل کا ماضی متنازع کردار کا حامل رہا ہے

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شہباز گل نے قومی اداروں کے خلاف اس قسم کے بیانات دیے ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان آرمی کے خلاف متنازعہ بیانات دے چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں بغاوت کے مقدمے گرفتار کیا گیا، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی۔ اس وقت انہوں نے بیماری کا بہانہ بنایا اور عدالتوں میں اپنی حالت پر آنسو بہائے۔ وھیل چیئر پر بیٹھ کر آکسیجن ماسک لگانے کا ڈرامہ کیا۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک جانب سخت بیانات دے کر اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری جانب قانونی گرفت سے بچنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔

    قانونی اور اخلاقی پہلو کے لحاظ سےقانون کے مطابق، سرکاری اہلکاروں کی ڈیوٹی سے غیر حاضری یا ان کی جانب سے احکامات کی تعمیل نہ کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس پر سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دیگری اہلکاروں کے لیے ایک مثال قائم ہو۔ دوسری طرف، کسی بھی سیاسی رہنما کو یہ حق نہیں کہ وہ عوامی فورم پر ایسے بیانات دے جو قانون کی حکمرانی یا اداروں کے نظم و ضبط کو متاثر کریں۔شہباز گل کے حالیہ بیانات صریحا کارِ سرکار میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں، جو ایک قابل سزا جرم ہے۔ ان کے بیانات کا مقصد بظاہر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، لیکن اس کے نتائج زیادہ سنگین اور خوفنا ک ہو سکتے ہیں۔ ایسے بیانات عوام میں اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان اہلکاروں کو بھی غلط پیغام دیتے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو اہمیت دیتے ہیں۔اداروں اور سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری بہت اہمیت رکھتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں قومی اداروں کی مضبوطی اور یکجہتی انتہائی اہم ہے۔ سیاست دانوں اور رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ عوام اور اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں، نہ کہ تنازعات کو ہوا دیں۔ شہباز گل جیسے رہنماؤں کو اپنی بیان بازی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔یہ حقیقت ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، لیکن یہ اختلافات ایسے بیانات کی شکل میں نہیں ہونے چاہییں جو قومی سلامتی یا اداروں کی یکجہتی کو نقصان پہنچائیں۔ شہباز گل جیسے رہنما اگر واقعی عوامی خدمت کے جذبے سے سیاست میں ہیں، تو انہیں قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دینی ہوگی۔شہباز گل جیسے افراد اگر امریکہ میں بیٹھ کر امریکی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کریں تو انہیں سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی قوانین، خاص طور پر "Sedition Act” اور دیگر قومی سلامتی کے قوانین، کسی بھی فرد کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیتے۔ امریکی حکومت ایسے بیانات یا اقدامات کو ریاست کے خلاف جرم سمجھتی ہے، اور ایسے افراد پر فوری طور پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے، چاہے وہ امریکی شہری ہوں یا غیر ملکی۔ شہباز گل جیسے بیانات کی مثال امریکہ میں ممکن نہیں کیونکہ وہاں اداروں کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔پاکستان میں بھی ان جیسے افراد کے لئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔شہباز گل کے بیانات ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی قیادت کے لیے اخلاقی تربیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مزید یہ کہ ایسے رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے جو عوامی بیانات کے ذریعے قومی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہباز گل کو یاد رکھنا چاہیے کہ قومی ادارے کسی بھی جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست کے ہیں، اور ان کی حفاظت اور عزت ہر پاکستانی کا فرض ہے۔پاکستان کو ایک مضبوط اور متحد قوم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری اور رہنما اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور اپنے الفاظ و افعال کے ذریعے قومی وحدت کو مضبوط کرے، نہ کہ اسے نقصان پہنچائے۔شہباز گل کے اس طرز کے بیانات ۔ سیکورٹی اداروں کے لئے بھی ایک چیلنج ہے

  • ہر جماعت میں مسخروں اور مخبروں کی بھرمار،جمہوریت کیسے مستحکم ہو؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر جماعت میں مسخروں اور مخبروں کی بھرمار،جمہوریت کیسے مستحکم ہو؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں مریم نواز نے حقیقی تبدیلی کا رخ موڑ دیا،صوبے کی قسمت بدلنے کیلئے کوشاں
    بھارت میں مودی اور حواریوں نے مسلمانوں پر زمین تنگ کردی،مسجدوں سے مند رنکل رہے

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    ملکی سیاسی گلیاروں میں مخبروں کے مزے ہیں، سیاسی جماعتوں میں مسخرے پن کی حدوں کو کراس کرنے والے اور مخبروں کی تعدا د میں اضافہ ہو چکا ہے، ان حالات میں جمہوریت کیسے مستحکم ہو سکتی ہے، بھارت کو ہی لیجئے وہاں کوئی بھارتی مسلمان جو کہیں بھی کسی شعبے میں مامور ہے، اس کی زندگی کے درپے ہیں آج کل ایک کے بعد ایک مسجد اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے نیچے بھگوان کی مورتی نکل رہی ہے ،ہندوئوں نے اب اجمیر شریف کا رخ کر لیا ہے ،بھارتی عدالتیں قانون و آئین کا مذاق بنا رہی ہیں بھارت میں خانہ جنگی کا ماحول ہے ،ہندو بھارت میں موجود مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ،بھارت میں مسلمان محفوظ نہ عیسائی م، مودی حکومت پشت پناہی کر رہی ہے ،بھارتی فوج انتظامیہ ، ہندوئوں کے ہم رکاب ہے، بھارتی عدالتیں ان کی ہم خیال ہیں،

    ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور ان کی ہم رکاب چھوٹی سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں نے رونقیں لگارکھی ہیں ،بدتمیزی اور بداخلاقی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،پاکستان اس وقت بدتمیزی، بداخلاقی، جھوٹ، فریب، جعلی ویڈیو، جعلی آڈیو کی زد میں ہے، ایک ہمارے سابق وزیراعظم اڈیالہ جیل میں شطرنج کھیل رہے ہیں کوئی نہ کوئی ایسی چال چلتے ہیں ،امریکہ سے مغربی ممالک کے میڈیا کا رخ پاکستان کی طرف ہو جاتا ہے تاہم ان کی جماعت میں مخبروں کا اضافہ ہو رہا ہے،یہ جماعت بھی مستقبل میں کے پی کے تک محدود ہوتی نظر آتی ہے، پنجاب میں مریم نواز اور نوازشریف خود اور ان کے چند ساتھیوں کی توجہ کام پر ہے ،ایک کے بعد ایک مریم نواز کے ترقیاتی منصوبے، میرٹ نے صوبہ پنجاب میں تبدیلی کا رخ موڑ دیا ہے، بے گھر لوگوں کو گھر، زراعت، صفائی کے منصوبوں نے مسلم لیگ ن پنجاب کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے ،مریم نواز کی توجہ عوام کے مصائب پر کم کرنے پر ہے ،پنجاب میں تبدیلی کا نعرہ اور حقیقی آزادی کے دونوں نعروں کو مریم نواز نے بے معنی نعرہ بنا دیا ہے،مسائل میں گھرے ہوئےعوام کی توجہ دھرنوں سے ہٹ کر مریم نواز کے ترقیاتی منصوبوں کی طرف ہو چکی ہے، کے پی کے حکومت، سندھ حکومت اور باقی صوبوں کو بھی چاہیے،عوامی مسائل پر توجہ دیں، افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے جو مخصوص قواعد و ضوابط کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہے اور دے رہا ہے، سیاسی جماعتیں اپنی سیاست پر توجہ دیں یاد رکھیئے عوام کی اکثریت سیاستدانوں کی بداعمالیوں اور بدانتظامیوں کا حل فوج کے پاس ہی دیکھتے ہیں۔

  • پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان کو داخلی انتشار سے نکل کر عالمی دنیا کی بدلتی صورت حال پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کوایسی قیادت کی ضرورت ہے جوپاکستان کو داخلی انتشار سے نکال کر قوم کو متحد کرسکے ۔ دنیا میں تبدیلیاں ہونے والی ہیں خاص کر امریکی نو منتخب صدرٹرمپ نے برکس کے رکن ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ ڈالر کے متبادل کرنسی کے مقابلے میں وہ خاموش رہنا پسند نہیں کریں گے امریکہ مستقبل میں برکس ممالک کے ساتھ اگر برقرار رکھے گا تو ٹیکس کے معاملے میں ان ممالک کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔ ٹرمپ برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ تلخی سے اظہار کررہے ہیں ابھی تک برکس کے رکن ممالک نے ڈالر کے متبادل کے طور پر دوسری کرنسی کو متعارف کرانے کے کسی بھی فیصلے پر ابھی تک مُر نہیں لگائی۔ برکس رکن ممالک کے لئے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ مستقبل کی پیش بندیوں کا اظہار کرتے ہوئے ڈالر کے خلاف ترچھی نگاہ بھی نہ ڈالیں۔ برکس کے رکن ممالک میں چین ، روس ، برازیل ، جنوبی افریقہ ، مصر ، ایران ،ہندوستان اور متحدہ عرف امارات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی مودی حکومت کے لئے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ مستقبل قریب میں امریکہ بھارت اور مودی کی خود ساختہ دوستی کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہیں ہوگے یا تو بھارت کو برکس کے رکن ممالک سے باہر آنا ہوگا یا پھر امریکہ سے اس سلسلے میں بات کرنا ہوگی جو ناممکن ہے کہ امریکہ چپ چاپ برکس کو ڈالر سے دور ہوتے برداشت کر سکے گا۔

    ۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی توجہ کا مرکز پانچ وسطی ایشیائی قازستان ، کرغزستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان پر بھی ہو سکتی ہے وسطی ایسیاء امریکہ کے لئے جغرافیائی طور پر اہم ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے پاس وسطٰی ایشیا میں امریکی مصروفیات کو نئی شکل دینے اور اس اہم خطے میں مضبوط امریکی موجودگی کو محفوط بنانے کا منفرد موقع ہے۔ یاد رکھیے پاکستان اس خطے کا ایک اہم ملک ہے پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کو صدق دل سے قومی فریضہ ادا کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے داخلی انتشار سے نکل کر ایک مضبوط معاشی اور پھر مستحکم پاکستان کی جانب سفر کرنا ہوگا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ دنیا بھرمیں سفارتخانوں کے سفیروں کو دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق اپنی خدمات سرانجام دینی ہوگی بالخصوص وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھیں بین الاقوامی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی پر توجہ دیں۔