Baaghi TV

Category: سیاست

  • تھانہ کلچر کی تبدیلی اور آئی جی پنجاب کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    تھانہ کلچر کی تبدیلی اور آئی جی پنجاب کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سالوں پہلے ہر ضلع میں ایک ڈی آئی جی ،ایک ایس ایس پی ،ایک ایس پی ہیڈ کوارٹرز ہوا کرتے تھے آبادی کم تھی جرائم کم ہوا کرتے تھے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر ضلع میں پولیس افسران کی تعداد میں اضافہ ہو گیا جرائم بڑھ گئے ۔ منشیات فروش ،جگہ جگہ جوئے کے اڈے ،لینڈ مافیا کی اکثریت اپنے آپ کو مخیر حضرات کہلوانے لگی ۔ منشیات فروش اور جوئے کے اڈوں کی پشت پناہی نام نہاد سیاسی اور بعض پولیس کے افسران کرنے لگے ۔ افغان جہاد کے بدلے پاکستان میں کلاشنکوف بڑے بڑے شہروں میں پھیلائی گئی ہیروئن کا زہر نوجوانوں میں پھیلنے لگا۔دیکھتے ہی د یکھتے کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ مخیر حضرات ، سیاسی رہنمائوں ، دولت مندوں اور دیگر افراد نے اپنے ساتھ بڑی گاڑیاں اور مسلح افراد رکھنا شروع کردئیے ۔ شادی ،جنازوں میں اپنے ساتھ مسلح کلاشنکوف رکھنا ایک کلچر کا روپ اختیار کرگیا ۔حکومتوں کی لاپرواہی اور مہنگائی بے روزگاری نے چوریوں اور ڈکیتیوں میں اضافہ کردیا ۔ پولیس افسران سفارش پر تعینات ہونے لگے ۔ عام آدمی کی شنوائی نہ سرکار میں رہی اور نہ ہی دربار میں رہی ۔

    راولپنڈی سمیت پنجاب میں ایسے ایسے افسران گزرے جنہوں نے عام آدمی کی فریاد سننے کے لئے اپنے دفاتر کھلے رکھے ۔ ایسے بھی گزرے جنہوں نے عام آدمی سے ملنا گوارہ نہیں کیا ۔راولپنڈی میں رائو محمد اقبال ریٹائر ڈی آئی جی ۔ ناصر خان درانی (مرحوم) فخر سلطان راجہ موجودہ ایڈیشنل آئی جی کے پی کے ۔ احسن یونس موجودہ انچارج سیف سٹی پنجاب پولیس لاہور۔ اسرار عباسی موجودہ ڈی آئی جی ایف آئی اے ۔ جو راولپنڈی میں عام آدمی کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں تھے ۔۔ اسی طرح بہت سے دوسرے افسران ایسے ایسے راولپنڈی میں تعینات رہے جو عام آدمی کی فریاد خود سنتے تھے ۔اسی طرح پنجاب میں ایسے ایسے آئی جی تعینات رہے جنہوں نے پولیس ملازمین کے ساتھ ساتھ تھانہ کلچر تبدیل کیا .

    آج موجودہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس شہداء ، غازی اور نچلے درجے کے ملازمین کے ساتھ تھانہ کلچر تبدیل کردیا۔ تھانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آراستہ کیا ۔ آئی جی پنجاب نے ملاقات میں بتایا تھا کہ آج جو کچھ پنجاب پولیس شہداء ، غازیوں ،نچلے درجے کے ملازمین کے جو کچھ کر رہا ہوں اس کے لئے میری ٹیم کا کردار تو ہے ہی لیکن سب سے بڑا کردار احسن یونس ہیں ۔ راولپنڈی میں تعینات موجودہ سی پی او اور آر پی او کو آئی جی پنجاب نے نئے تھانے جدید آلات ، جدید ٹیکنالوجی فراہم کردی ہے۔ عام آدمی کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھیں ۔ سالوں سے تعینات ایسے پولیس افسران جو بار بار راولپنڈی میں ہی سفارشی تعینات ہونے میں اپنی بقا سمجھتے ہیں اُن پر نظر رکھیں ۔ اہل اقتدار سفارشی تعیناتی سے باز رہیں ۔ پولیس افسران سیاسی آقائوں کی خدمت داری حکم بجا آوری میں ہمہ تن مصروف نہ رہیں ۔ عام آدمی کا سٹیٹ پر اعتماد بحال کرنے میں کردار ادا کریں۔ راولپنڈی حساس ترین شہر ہے یہاں ہمارے قومی سلامتی کے ادارے موجود ہیں ۔ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی فریضہ ادا کریں ۔ جہاں عوام الناس کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے وہاں پر جرائم سے پاک معاشرہ قائم رہتا ہے۔

  • عام انتخابات،موروثی سیاست،اپنے ہی امیدوار

    عام انتخابات،موروثی سیاست،اپنے ہی امیدوار

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا، باپ بیٹا امیدوار،تو کہیں دو دو بھائی امیدوار، کئی پارٹیوں نے کارکنان کی بجائے اپنے ہی خاندان میں ٹکٹ بانٹ دیئے،

    مسلم لیگ ن ہو یا پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف، موروثی سیاست سبھی میں دیکھنے میں آئی ہے، موروثی سیاست یا قیادت پاکستان کے بڑے خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے نچلے طبقوں میں بھی موجود ہے، ایک طرف پارٹی میں موروثی سیاست ، تو وہیں ایوان میں جانے کے لئے بھی پارٹی لیڈروں کو اپنی ہی اولاد اور رشتے دار یاد آتے ہیں،وزارتیں چاہئے ہوں،تو بھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنوں کو ہی نوازیں، مذہبی جماعتیں بھی موروثی سیاست میں کسی سے پیچھے نہیں، حالیہ الیکشن جو 8 فروری کو ہو رہے ہیں اس میں ایسے کئی ٹکٹ تقسیم ہوئے اور امیدوار سامنے آئے جس پر پاکستان میں موروثی سیاست پر مہر ثبت ہو گئی.

    الیکشن میں بڑے سیاسی رہنماؤں نے اپنی اولاد،اور رشتے داروں‌کو میدان میں اتارا ہے، مسلم لیگ ن کی مثال لیں تو نواز شریف الیکشن لڑ رہے ہیں تو وہیں مریم نواز بھی میدان میں ہیں، شہباز شریف الیکشن لڑ رہے ہیں تو حمزہ شہباز بھی امیدوار ہیں، وزیراعظم بنے نواز شریف تو شہباز شریف وزیراعلیٰ بن گئے، شہباز شریف وزیراعظم بنے تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بن گئے، اب الیکشن میں بھی یہی صورتحال ہے، پیپلز پارٹی کو دیکھ لیں، آصف زرداری امیدوار ہیں تو بلاول بھی لاڑکانہ لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں، البتہ آصفہ کو ابھی تک آصف زرداری نےانتخابی سیاست سے دور رکھا ہے،یوسف رضا گیلانی امیدوار ہیں تو انکے بیٹے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں، تحریک انصاف کی مثال لیں تو عمران خان سزا کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑ سکے تاہم شاہ محمود قریشی نے بیٹے اور بیٹی کو امیدوار بنایا، پرویز الہیٰ نے اہلیہ اور بیٹے مونس الہیٰ کو امیدوار بنا دیااگرچہ انکے کاغذات مسترد ہو چکے ہیں،جے یو آئی کو دیکھ لیں، مولانا فضل الرحمان امیدوار ہیں تو وہیں انکے بیٹے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں جو پی ڈی ایم حکومت میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کو لے لیں تو ایک ہی گھر سے تین امیدوار سامنے ہیں، حافظ محمد مسعود قومی اسمبلی سے الیکشن لڑ رہے ہیں تو وہیں حافظ طلحہ سعید بھی امیدوار ہیں، حافظ خالد ولید بھی لاہور سے قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹوں‌پر امیدوار ہیں، پاکستان میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی ایسی جماعتیں ہیں جن میں موروثیت دیکھنے میں نہیں آئی، اسکے علاوہ باقی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں میں یہ اثر دیکھنے میں آیا، تحریک لبیک کو دیکھ لیں علامہ خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد بیٹے حافظ سعد رضوی امیر بن گئے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صحافی ماجد نظامی کہتے ہیں کہ "پنجاب میں مسلم لیگ ن نے عام انتخابات میں جن نوجوانوں کو پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا ہے۔ ان سب کا پرانے سیاسی گھرانوں سے تعلق ہے اور موروثی سیاست کی وجہ سے انہیں ٹکٹس دی گئی ہیں۔ اگر اس قدم کو یوتھ ایمپاورمنٹ کا نام دیا جائے گا تو سخت نا انصافی ہو گی:
    راجہ اسامہ سرور: سابق وزیر راجہ اشفاق سرور کے بیٹے
    رانا احمد عتیق: سابق ایم این اے رانا افضال کے بیٹے
    عمار لغاری: سابق وزیر اویس لغاری کے بیٹے
    عثمان اویسی: سابق ایم این اے نجیب اویسی کے بیٹے
    شہر بانو بخاری: سابق ایم این اے باسط بخاری کی بیٹی

    ن لیگ کے رہنما، سابق وفاقی وزیر جاوید لطیف بھی موروثی سیاست کو فروغ دینے لگے،لگے ہاتھوں صوبائی اسمبلی کے لیے اپنا بھائی امیدوار بنا لیا، امجد لطیف کو ن لیگ نے ٹکٹ جاری کر دیا،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

  • آٹھ فروری،فیصلہ کرے گی عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آٹھ فروری،فیصلہ کرے گی عوام،تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    آیئے آپ کا انتظار تھا۔ 8 فروری بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بنیادی ضروریات زندگی سے کوسوں دور عوام کے پاس سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ امیدوار دوبارہ ووٹ لینے کی غرض سے حاضر ہوں گے۔ کون کرے گا وزیراعظم ہائوس پر قبضہ، کون سی سیاسی جماعت عام آدمی کے مسائل اور ریاستی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی؟ یہ بات تو طے ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی ۔ موجودہ 8 فروری کے الیکشن صرف الیکشن نہیں ہیں ملکی اور قوم کے لاتعداد مسائل کے ساتھ جمہوری نظام کی بقا کے ساتھ ساتھ عالمی معاملات میں ملکی قیادت کا بھی معاملہ ہے کون کرے گا قیادت؟ یہ فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔ ملکی معیشت کا جو حال ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ملک کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ کس سیاسی جماعت پر بھروسہ کیا جائے جو مسائل میں ڈوبی ریاست کو اندھیروں میں ڈوبی عوام کو روشنیوں کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ملک کی تمام سیاسی جماعتیں 8 فروری کا انتظار کر رہی ہیں اور عوام بھی۔ امید ہے عوام لینڈ مافیا، کرپٹ، جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرنے والے تکبر اور غرور کی حدوں کو کراس کرنے والوں، سیاسی جماعتوں کے فنانسروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ قومی قیادت کس کے سپرد کرنی ہے ایسی قیادت کا فیصلہ نہ کرنا جو دیوان خانوں تک محدود ہو یا اقتدار کی چوکھٹ پر بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹے اور عوام اندھیروں میں ہی ڈوبے رہیں۔ قیادت کے ذریعے ہی تبدیلی ممکن ہوا کرتی ہے اعلیٰ قیادت کا انتخاب ہی تبدیلی لاسکتا ہے باقی سب فریب ہے۔

  • بنگلہ دیش میں انتخابات اور کشیدگی

    بنگلہ دیش میں انتخابات اور کشیدگی

    بنگلہ دیش میں 2024 کے انتخابات کے دوران، دارالحکومت ڈھاکہ سمیت دیگر مقامات پر 14 پولنگ سٹیشن کو آگ لگائی گئی ،جس سے انتخابی عمل بارے خدشات بڑھ گئے ہیں، ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے صرف ایک دن قبل بنگلہ دیش میں ہنگامے پھوٹ پڑے،جس سے کشیدگی اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہوئی،”بی بی سی”

    مقامی میڈیا کی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوب مشرقی شہر چٹاگانگ میں بدھ مت کے ایک مندر کو جان بوجھ کر نذر آتش کیا گیا ،الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں حکمران جماعت عوامی لیگ سے وابستہ ایک مقامی پارٹی کے دفتر پر حملے کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان واقعات کے ردعمل میں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔ عوامی لیگ نے فوری طور پر بی این پی پر انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا.

    بنگلہ دیش میں انتخابات کی وجہ سے تمام نظریں شیخ حسینہ پر ہیں جو پانچویں بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنےکے لئے تیار ہیں،بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کے لیے بھارت کی حمایت کو تسلیم کیا اور اظہار تشکر کیا، خاص طور پر 1971 میں "لبریشن وار” کے دوران بھارت کی مدد کا حوالہ دیا۔تاہم انتخابی عمل کے منصفانہ ہونے کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ بی این پی کو اپنے ارکان کی گرفتاری کی وجہ سے اہم چیلنجز کا سامنا ہے، اور عوامی لیگ نے حکمت عملی کے ساتھ بعض حلقوں میں امیدوار کھڑے نہ کئے، بظاہر ایک ایسا اقدام جس کا مقصد ایک جماعتی پارلیمنٹ کی تشکیل سے بچنا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے کمزور ہونے کی وجہ سے شیخ حسینہ کے پاس فتح کا راستہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔

    بنگلہ دیش کے انتخابات میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اہم سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ایسے انتخابات کو منصفانہ قرار دیاجا سکتا ہے جن میں برابری کا میدان نہ ہو؟ یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں حکومت کو بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اپوزیشن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے الزامات کا سامنا ہے۔ جیسے جیسے قوم انتخابات کے قریب آتی ہے، انتخابی عمل کی سالمیت کے حوالہ سے خدشات برقرار رہتے ہیں، جو آنے والے انتخابات کی حقیقی جمہوری نوعیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں۔

  • انتخابات اور عالمی منظر نامہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتخابات اور عالمی منظر نامہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ نزدیک آرہی ہے دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔ پوری دنیا کا ووٹر انتخابات کا منتظر ہے جبکہ پوری دنیا کی معیشت پر گزشتہ سال جو اثرات پڑے ہیں ایک کرونا دوسرا روس ہیو کرائن جنگ جبکہ تیسرا اسرائیل غزہ جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ دنیا کا ووٹرز منتظر ہے کہ شاید موجودہ سال کے انتخابات میں کامیاب ہونے والے سیاستدان معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ دنیا بھر کا ووٹر مہنگائی کی زد میں ہے ۔ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا انتخاب امریکہ کا ہوگا 81 سالہ بائیڈن دوبارہ صدارتی انتخابات کا امیدوار ہے جبکہ روس صدر پوتن بھی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں پوتن مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ ، میکسیکو ، انڈونیشیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس طرح 2024 کو انتخابات کا سال قرار دیا جا سکتا ہے اور سیاست کے ساتھ معیشت مستحکم کرنے کا سال بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے موجودہ انتخابات نہ صرف سیاست بلکہ بین الاقوامی تعلقات عالمی اقتصادی اور مالیاتی منظر نامے کو بھی تبدیل کریں گے۔

    پاکستان کی وزارت عظمی حاصل کرنے کے لئے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی دونوں شامل ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی اور مذہبی جماعتیں بھی اس دوڑ میں شامل تو ہیں مگر 8 فروری کے انتخابات میں عوام جو مہنگائی اور دیگر مسائل میں مبتلا ہیں کس جماعت کو اکثریت میں کامیاب کریں گے۔آصف علی زرداری سیاسی شطرنج کھیلنے کے لئے تو ماہر ہیں مگر پنجاب میں شاید وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ پنجاب میں اب (ن) لیگ ہی نہیں پی ٹی آئی کا ووٹر بھی موجود ہے ۔ بظاہر کوئی بھی سیاسی جماعت ملک بھرمیں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی ۔ مذہبی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔

    تادم تحریر ملک مالیاتی بحران کا شکار ہے دوسرے کئی مسائل کے گرداب میں پھنسا ہے۔کیا بلاول بھٹو یا نواز شریف ان مشکل ترین حالات جن میں پاکستان او رعوام پھنسے ہیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ مسلم لیگ(ن) کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کے انتخابات جیتنے اور وزیراعظم بننے کے امکانات قوی ہیں۔ کیا نواز شریف اندھیروں میں ڈوبے پاکستان اور عوام کو روشنیوں کی جانب لے جانے میں ایک بار پھر کامیاب ہو جائیں گے اگر ایسا ہے توپھر ویلکم ٹو نواز شریف2024

  • انتخابات ،کیا عوام کو ریلیف مل پائے گا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    انتخابات ،کیا عوام کو ریلیف مل پائے گا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    الیکشن 8 فروری کو ہی ہونگے ۔ الیکشن نہ ہونے کی افو اہیں ،سیاسی جماعتیں اور وہ سیاستدان کرر ہے ہیں جو اس کارکردگی سے مایوس ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کے بعد ملک کی موجودہ شکل صورت تبدیل ہوگی ؟کیا معیشت مستحکم ہوگی ؟ کیا روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ کیا زراعت پربھرپور توجہ د ی جائے گی؟ کیا ملکی وسائل پر توجہ دی جائے گی ؟

    عوام کو بڑی اٰمیدیں ہیں کہ موجودہ الیکشن صحیح معنوں میں اس ملک اور عوام کو درپیش مسائل سے نجات دیگا۔ کیا بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات ملے گی ’ تاہم وہ ساری قیاس آرائیاں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔جن میں کہا جا رہا تھا کہ الیکشن ملتوی ہو جائیں گے۔مسلم لیگ (ن) ،پیپلزپارٹی، سمیت مذہبی جماعتوں نے الیکشن مہم کا آغاز بھی کردیا ہے بلکہ زوروشور سے جاری ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ملکی معیشت کو پروان چڑھانے کے لئے ٹاسک دے دیا ہے ۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد عام آدمی کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے منصوبے پر غورو فکر کیا جا رہا ہے ۔ پیپلزپارٹی نے بھی اپنا منشور جاری کردیا ہے جبکہ پی ٹی آئی بھی میدان میں ہے ۔ مذہبی جماعتیں بھی اپنا اپنا منشور مل کر عوام میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    آج کے دور میں نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ نظریاتی سیاست کا جنازہ کب کا اُٹھ چکا ہے ۔ اس کا ادراک سیاسی جماعتوں اور عوام کی اکثریت کو بھی ہے ۔ اس وقت عوام کی اکثریت کی نگاہیں اپنے بنیادی مسائل اور8 فروری کے انتخابات پر ہیں ۔ گزشتہ کئی سالوں سے عوام کا سیاست کی سموگ سے دم گھٹ رہا تھا اب انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی سے پنجاب کے بڑے اور چھوٹے شہر گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سموگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لاہور سمیت زہر آلود اشیاء جلانے والی فیکٹریوں کے مالکان ، عالمی مرتبت ،عزت دار ، پرہیز گار اور مخیر حضرات کو اپنی تجوریوں کی تو فکر ہے مگر مخلوق خدا کس کرب میں مبتلا ہے ۔ اس کی فکر نہیں۔ مضر صحت اشیاء کی فروخت ، جعلی ادویات ،جعلی مشرویات ،جعلی دودھ ، یہ وہ کاروبار ہیں جو مخیر حضرات کے حصے میں ہیں جنہیں انسانی جانوں کی پروا نہیں عوام آلودگی اور سموگ کو اپنے پھیپھڑوں کے ذریعے اپنے اندر سمونے پر مجبور ہیں۔زہریلے دھوئیں چھوڑنے والی گاڑیاں سڑکوں پر ٹریفک کے اعلیٰ حکام کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ سیاست اور صحافت کے موضوعات عوام نہیں سیاسی لڑائیاں ہیں۔

  • 2024  اور پاکستان کا معاشی بحران

    2024 اور پاکستان کا معاشی بحران

    2024 اور پاکستان کا معاشی بحران

    نئے سال 2024 کا آغاز ہو گیا،پاکستان کو 2024 میں ایک زبردست چیلنج کا سامنا ہے – ایک وجودی معاشی بحران کا خطرہ، پاکستان کی معیشت بے شمار مسائل سے دوچار ہے، برآمدات میں کمی سے لے کر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قرضوں کے کمزور بوجھ تک، رجعت پسند مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتا ہوا یہ معاشی بحران پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔

    معاشی بدحالی
    پاکستان کی معاشی بحران کی جڑ اس کی مناسب پیداوار پیدا کرنے میں ناکامی ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط، سبسڈی کا خاتمہ، معاشی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتا ہے، بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ کر دیا، صارفین کی قوت خرید میں کمی ہو چکی ہے،متعدد پیداواری ادارے بند ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہو رہی ہے

    بڑھتا ہوا قرض
    دسمبر 2022 تک، پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات حیرت انگیز طور پر 126.3 بلین ڈالر پر کھڑے ہیں۔ اس قرض کا ایک اہم حصہ، تقریباً 97.5 بلین ڈالر، براہ راست حکومت کے ہیں، ایک اضافی $7.9 بلین حکومت کے زیر کنٹرول پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی طرف سے کثیر الجہتی قرض دہندگان کو واجب الادا ہے، جس سے مالیاتی ذمہ داریوں کا ایک پیچیدہ جال بنتا ہے

    قرض دہندگان کی درجہ بندی
    پاکستان کے قرض دہندگان چار اہم زمروں میں آتے ہیں، کثیر جہتی قرض، پیرس کلب قرض، نجی اور تجارتی قرضے، اور چینی قرض، جیسا کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے 6 اپریل 2023 کو رپورٹ کیا

    ادائیگی میں چیلنجز
    خود مختار ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے، پاکستان برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، اور غیر ملکی کارکنوں سے ترسیلات زر پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ تاہم، تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رقوم درآمدی بل اور بڑھتے ہوئے قرض کی ادائیگی کے دباؤ سے مماثل نہیں ہوں گی۔

    محدود مالیاتی اختیارات
    پاکستان کے اقتصادی منتظمین کے پاس بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے محدود اختیارات ہیں۔ پہلا آپشن تازہ قرضوں کے رول اوور کی تلاش ہے۔ تاہم، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے کمی کی وجہ سے، ملک کی خودمختار مالیاتی مارکیٹ تک رسائی محدود ہے۔ نتیجتاً، پاکستان کو نہ صرف قرضوں کی ادائیگی بلکہ ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے نئے قرضے حاصل کرنے کے لیے بھی مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں اور چین پر انحصار کرنا چاہیے،

    قرض کی مسلسل ادائیگی کے نتائج
    قرضوں کی ادائیگی پر مسلسل توجہ ملکی ترقی کے منصوبوں کے لیے ایک اہم خطرہ ہے، جس سے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کی بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔ یہ منظر نامہ جدوجہد کرنے والی صنعتوں کے لیے کوئی مراعات پیش نہیں کرتا، جس کے نتیجے میں مزید پیداواری یونٹس بند ہو جاتے ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔

    نتیجہ
    پاکستان 2024 میں ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، ایک وجودی معاشی بحران کا سامنا ہے ، قوم کو قرضوں کے پیچیدہ جال سے نکلنے کے لئے فنانسنگ کے متبادل ذرائع کو تلاش کرنا چاہیے، ممکنہ معاشی تباہی سے بچنے کے لیے جامع اقتصادی اصلاحات کو نافذ کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون، خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور چین ، اقتصادی چیلنجوں کو کم کرنے اور آگے بڑھنے کے پائیدار راستے کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • فوج، عدلیہ ریاست کے حتمی ستون،تنقید کیونکر؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج، عدلیہ ریاست کے حتمی ستون،تنقید کیونکر؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    فوج اور عدلیہ ریاست کے حتمی ستون ہوتے ہیں۔ پاکستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان دونوں اداروں کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا ،ٹاک شوز ،سیاسی پریس کانفرنسوں، سیاسی جلسے جلوسوں، میں ان دو اہم ریاستی اداروں کو موضوع بحث بنا لیا گیا ہے۔ ملکی سلامتی و بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان دو اداروں کو ہر معاملے میں گھسیٹنا کیا سیاسی جماعتوں کی مجبوری بن چکا ہے؟ یہ عمل ملک و قوم کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے ملک کی جمہوریت ایک لاغر کا درجہ رکھتی ہے سیاستدان بھی جسمانی ، دماغی اور دیگر معاملات میں لاغر ہی ہو چکے ہیں۔ کوئی ہوشمند اپنے ان دو ادارں پر اس طرح کھلے عام تنقید نہیں کرتا۔ ان دو اہم ریاستی اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر موضوع بحث بنا کر ہم دنیا کو اپنے ملک کا کیسا نقشہ پیش کر رہےہیں۔ اپنی ریٹنگ کے چکر میں سنسنی پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔

    یاد رکھئے اداروں کو بقا اور شخصیات کو فنا ہے۔ اقتدار، اختیارات، پروٹوکول، ہوس زر نے کیا ہمارا ذہنی توازن اس قدر کر دیا ہے کہ ہم ایسی چنگاریاں پھیلا رہے ہیں جس سے شعلے بھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہے۔ جو شعلے بھڑکا رہے ہیں وہ پورے نظام کو راکھ دیں گے۔ پاکستان کی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے پاک فوج اور جملہ ادارے اس ملک کی سلامتی و بقا کی خاطر سرحدوں کی حفاظت پر مامور بھی ہیں اور اپنی جانیں بھی قربان کر رہے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی جو سر اٹھا رہی ہے اس سازش کو بھی بے نقاب کرنے کے ساتھ دہشت گردوں کا صفایا بھی کر رہے ہیں۔ حیرت ہے ایسے دانشوروں پر جو ہماری سیدھی سادہ عوام کو بنگلہ دیش کیوں علیحدہ ہوا کی مثالیں دے کر ڈرا رہے ہیں۔ بھارت بلوچستان میں اور بلوچستان کے ذریعے دہشت گردی کا ذمہ دار ہے جس کی مثال کلبھوشن ہے افسوس، اقتدار، حوس زر، اختیارات ، لالچ کی ایک اندھی دوڑ لگی ہوئی ہے ہر کوئی دوسرے کو روند کر زچ کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہے بلاوجہ ایک کہرام مچا ہے ایک ایسا کہرام جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔

  • سردار غلام عباس کیوں قبول نہیں۔۔۔!

    سردار غلام عباس کیوں قبول نہیں۔۔۔!

    سردار غلام عباس کیوں قبول نہیں۔۔۔!!!

    تحریر :شوکت علی ملک
    اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سردار غلام عباس خان چکوال کی سیاست میں ایک بڑا نام ہے اور ان کا چکوال کی سیاست میں ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے، مگر آمدہ عام انتخابات میں ن لیگ کی جانب سے سردار غلام عباس خان کو این اے 59 سے ٹکٹ جاری کرنے کا متوقع فیصلہ این اے 59 کی عوام قبول کرنے کو تیار نہیں، اس کی کئی ایک وجوہات میں سے سب سے اہم وجہ سردار غلام عباس خان کا مختلف مواقع پر ضلع تلہ گنگ کی مخالفت کرنا ہے، جس کا کئی ایک پلیٹ فارم پر سردار غلام عباس خان برملا اظہار بھی کرچکے ہیں، اسی طرح ایک موقع پر مقامی صحافی کی جانب سے ضلع تلہ گنگ کی بحالی بارے سوال کو بھی سردار صاحب نے غیر ضروری قرار دے کر جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا جوکہ تلہ گنگ کی ضلعی حیثیت بارے ان کی ناپسندیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے،

    یہی وجہ ہے کہ این اے 59 اور خصوصاً تلہ گنگ اور لاوہ کی عوام کو سردار غلام عباس خان کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں، اس کی ایک اور وجہ گزشتہ کئی ادوار میں موصوف کی جانب سے ترقیاتی کاموں اور دیگر حوالوں سے تلہ گنگ و لاوہ کو نظر انداز کرکے چکوال کو ترجیح دینا بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ تلہ گنگ و لاوہ کی باشعور عوام اب کسی بھی متعصبانہ سوچ کے حامل امیدوار کو ہرگز قبول کرنے کےلیے تیار نہیں ہے، جس کا بعض عوامی حلقوں کی جانب سے برملا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

    تاہم دوسری جانب تلہ گنگ و لاوہ کے کئی ایک مقامی لیگی رہنما اور کئی ایک اہم ترین ن لیگی دھڑے بھی سردار غلام عباس خان کو این اے 59 سے بطور امیدوار نامزد کرنے کے پارٹی فیصلے کو قبول کرنے کےلیے تیار نہیں، جس سے ن لیگ کا ووٹ بینک بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے،

    جبکہ ادھر سردار غلام عباس خان کو این اے 59 سے پارٹی ٹکٹ جاری ہونے پر سابق ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن گروپ جن کا حلقے میں بھاری ووٹ بینک ہونے کیساتھ ساتھ ایک تگڑا دھڑا موجود ہے، وہ بھی پارٹی فیصلے سے دلبرداشتہ ہوکر آزاد حیثیت میں انتخابی میدان میں اتر سکتا ہے جس کے قوی امکانات پائے جارہے ہیں اور سلسلے میں متبادل حکمت عملی اپنانے کےلیے سردار ممتاز گروپ کی جانب سے اندرون خانہ مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت گراؤنڈ ریئیلٹیز کو پرکھے بغیر اور حلقے کی عوام کی سوچ اور نظریے کے عین برعکس این اے 59 سے سردار غلام عباس خان کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے پر تلی ہوئی ہے، جس کا خمیازہ پارٹی کو آنے والے انتخابات میں سیٹ گنوانے کی صورت میں بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

  • پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کو کیسا وزیراعظم چاہئے؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)
    ملک کی سیاسی جماعتوں کے ووٹرز پرامید ہیں کہ ان کی جماعتوں کے قائد وزیراعظم بنیں گے۔ انتخابات سے قبل بے لگام قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو صرف وزیراعظم نہیں بلکہ ایسا وزیراعظم اور اس کے ساتھ ایسی ٹیم چاہئے جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اس کی عوام کی نمائندگی کر سکے۔ جو ملک کو درپیش مسائل کا خاتمہ کر سکے بالخصوص ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کا کردار ادا کر سکے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت تادم تحریر بتانے سے قاصر ہے کہ وہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف سے کیسے نجات دلائے گی۔

    پاکستان بطور ریاست اور عوام معیشت کی وجہ سے مشکلات میں گھری ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے اندھا دھند بیانات سامنے آرہے ہیں۔ بہت ہو چکا ماضی کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم دنیا میں مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کا مقابلہ کرنے کےلئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اسکولوں میں پانچویں جماعت سے ہی طلبا کو کمپیوٹر پر تعلیم دی جائے بچوں کو اسلام کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے زراعت پر بھرپور توجہ دی جائے۔ ملکی وسائل پر صدق دل سے توجہ دی جائے۔ حدیث نبوی ؐ ہے لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ ہم من حیث القوم اپنے لوگوں کے ساتھ دو نمبری کرتے ہیں دنیا کو کیا فائدہ پہنچائیں گے؟ انسانوں کی جان بچانے والی ادویات میں ملاوٹ، خوراک میں ملاوٹ، جعلی ڈاکٹرز، جعلی حکیم، ملک کے مستقبل بچوں کو جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ، غیب کا علم صرف خدا پاک کو ہے ہمارے معاشرے میں غیب کا علم گلی محلوں اور گلیوں میں بتانے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سامری جادوگر کا قصہ قرآن پاک میں موجود ہے ہمارے ہاں کئی سامری جادوگر پائے جاتے ہیں۔ جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    دنیا میں رہ کر اگر ترقی کرنی ہے تو یہ فطرت کا قانون ہے کوئی بھی فرد، قوم یا ملک جو قانون کی پابندی نہیں کرتا وہ زندگی میں کبھی ترقی نہیں کر سکتا جن کو ہم صبح و شام گالیاں اور بددعائیں دیتے ہیں انہوں نے رب زدنی علما پر عمل کر کے ہمیں موبائل فون، کمپیوٹر، کیمرا، ایٹمی ہتھیار، ادویات، گوگل، فیس بک اور نہ جانے کیا کیا دیا ۔ سوچئے ہم نے رب زدنی علما پر عمل کیا؟ تعلیمی نظام میں انقلاب لانے کے لئے ماہرین تعلیم کو سیکرٹری اور وزیرتعلیم لگانا ہوگا محکمہ صحت کو جدید اور عوام کے درد شناس بنانے کے لئے اعلیٰ کارکردگی کے حامل ماہرین صحت کو وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی ذمہ داریاں دینا ہوں گی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ اقوام کی روش پر چلنے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی ہی کے ماہرین پر محکمانہ قیادت قائم کرنا ہوگی ورنہ ہم ترقی کے سفر میں پے در پے پستی کا شکار ہوتے رہیں گے۔