Baaghi TV

Category: سیاست

  • سپاہی،   صحافی اور جاسوس، تحریر:  آغا نیاز مگسی

    سپاہی، صحافی اور جاسوس، تحریر: آغا نیاز مگسی

    دنیا میں جتنی بھی مخلوقات کرہء ارض پر موجود ہیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا ایک مخصوص وقت مقرر ہوتا ہے لیکن ان میں سے سپاہی، صحافی اور جاسوس وہ مخلوق ہیں جو ہمہ وقت یعنی 24 گھنٹے آن ڈیوٹی یا آن کال رہتے ہیں رات کو جب ہر کوئی آرام میں ہوتا ہے لیکن یہ تینوں آپ کو کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئیں گے یہ زیادہ تر اپنے گھر سے باہر رہتے ہیں یعنی گھر کے ہوتے ہوئے بھی بے گھر لگتے ہیں البتہ ان تینوں کی وفاداری ہمیشہ مشکوک رہتی ہے یہ خود بھی مشکوک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان میں سے زیادہ تر سپاہی اور صحافی ”سخاوت“ میں ایسے کہ کسی کو دعا تک بھی نہیں دیتے لیکن خود بہت کچھ کے علاوہ دعا کے بھی ہمیشہ طلبگار رہتے ہیں۔

    کتے کو جہاں وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے وہاں نفرت کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے کسی انسان کو کتا کہنا بہت بڑی گالی مانا جاتا ہے 1976 میں بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پریس پر سخت پابندی عائد کی تو سارے صحافی خوفزدہ ہوکر خاموش ہوگئے تو اندرا گاندھی نے کہا کہ کوئی ایک کتا تک نہیں بھونکا لیکن اس برعکس پاکستان کے صحافی بہت بہادری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں انہوں نے مارشل لاؤں میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بیروزگار بھی ہوئے اور اب بھی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے ہر محاذ پر لڑ رہے ہوتے ہیں سپاہی بھی ایسی ہی مشکلات اور خطرات کا شکار رہتے ہیں اس لیئے یہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کی دعاؤں میں رہتے ہیں جبکہ سپاہی اور صحافی دونوں کی صفوں میں کالی بھیڑیں بھی موجود ہوتی ہیں اصل سپاہی اور صحافی کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے اس لیئے لوگ سپاہی اور صحافی سے کم کم ہی پیار کرتے ہیں بلکہ ان کے حصے میں نفرت اور بد دعائیں زیادہ آتی ہیں تاہم پولیس فورس میں ذوالفقار چیمہ عابد نوتکانی اے ڈی خواجہ خادم رند اور خیر محمد جمالی جیسے کئی بہادر اور مخلص سپاہی اور افسران بھی موجود رہے ہیں جبکہ صحافت میں بھی میر خلیل الرحمان حمید نظامی عنایت اللہ ضمیر نیازی الطاف قریشی منو بھائی ، وارث میر اور ہارون الرشید جیسے صحافی بھی موجود ہوتے ہیں اس کے باوجود بھی اگر لوگ سپاہی اور صحافی سے پیار نہیں کرتے اعتبار نہیں کرتے اور ان کو دعا نہیں دیتے تو اس لیے ایسے عناصر سے ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

    ہر دور میں تین قسم کی جنگیں لڑی جاتی ہیں پہلی جنگ سپاہی اسلحہ کے بل بوتے پر لڑتے ہیں دوسری جنگ ملکوں اور اقوام کے درمیان جاسوسی کے ذریعے لڑی جاتی ہے جسے جاسوسی جنگ کے علاوہ ملکوں کے درمیان سرد جنگ Cold War بھی کہا جاتا ہے اور یہ ایک خطرناک جنگ ہے جاسوسی کی جنگ میں خوبرو خواتین اور خوبصورت دوشیزاؤں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے وہ فرائض کے دوران اپنی عصمت کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار رہتی ہیں ۔ دنیا میں بہت سی جاسوس خواتین موت کے گھاٹ اتاری گئی ہیں لیکن خواتین نے اپنے فرائض میں بہادری کی مثالیں قائم کی ہیں ۔

    دنیا بھر میں تیسری جنگ صحافی قلم کے ذریعے لڑتے رہے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ غزہ فلسطین کی حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی بمباری سے اب تک 60 سے زائد صحافی شہید ہو چکے ہیں جن میں کچھ خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ یونیسکو کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2023 تک دنیا بھر میں 1500 کے لگ بھگ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں ۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں صحافیوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں یہاں حق اور سچ کی صحافت کرنے والے مرد و خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی رہتی ہیں اور یہ لوگ دباؤ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے حقیقی صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے اور یہ لوگ جیسے صحافت کے پل صراط پر چل رہے ہوتے ہیں وہ خود بھی غیر محفوظ رہتے ہیں اور ان کے خاندان کے افراد بھی غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں چنانچہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں کو احتیاط اور دعاؤں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے ۔

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • اسحاق ڈار نائب وزیراعظم بن گئے،اک تجزیہ

    اسحاق ڈار نائب وزیراعظم بن گئے،اک تجزیہ

    اسحاق ڈار نائب وزیراعظم بن گئے،اک تجزیہ

    ایک تزویراتی سیاسی اقدام کے طور پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم کا باوقار عہدہ عطا کیا ہے، جس سے انتظامیہ کے اندر ایک قابل اعتماد شخص کے طور پر ان کے کردار کو تقویت ملی ہے۔ یہ اہم تقرری پارٹی کے صدر کے طور پر نواز شریف کے دوبارہ متحرک ہونے کی عکاسی کرتی ہے، جو پارٹی کے اندرونی حلقے میں مضبوط ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔

    سعودی عرب میں ورلڈ اکنامک فورم کے خصوصی اجتماع میں شرکت کے دوران اسحاق ڈار کا اپنے نئے کردار میں ابتدائی قدم انہیں عالمی سطح پر لے جاتا ہے۔ یہ تبدیلی ان کے گزشتہ دور میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے شاندار کارکردگی کے بعد آئی ، موجودہ حکومت میں اسحاق ڈار کو وزارت خارجہ دی گئی تھی، اسحاق ڈار کی اب بطور نائب وزیراعظم تقرری کے بارے میں قیاس آرائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی طے ہو چکا تھا

    تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ آئین واضح طور پر نائب وزیر اعظم کے عہدے کی وضاحت نہیں کرتا ۔ 2012 میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور موجودہ پی ٹی آئی کے رہنما پرویز الٰہی 2012 میں نائب وزیراعظم کے عہدے پر رہ چکے ہیں،سیاسی مصلحت کے لیے یا پسندیدہ افراد کو نوازنے کے لیے ایسے کرداروں کی تشکیل قانونی اصولوں اور آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔

    نائب وزیر اعظم کے کردار کو جلد متعارف کرانے کا فیصلہ شہباز شریف حکومت پر بری طرح جھلکتا ہے،جو ممکنہ طور پر ان کے اختیارات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ آیا شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے درمیان تناؤ پیدا ہوگا یا نہیں کیونکہ مؤخر الذکر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے

    روایتی طور پر وزیر خزانہ کے دائرہ اختیار میں، مالیاتی معاملات کے حوالے سے ممکنہ تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے اسحا ق ڈار کی جگہ پر محمد اورنگزیب کو وزارت خزانہ میں تعینات کرنے کے باوجود، اورنگزیب کی قبولیت کی شرائط خود مختاری کی خواہش کا اشارہ دیتی ہیں۔ مالی معاملات پر اسحاق ڈار کی مداخلت کے بارے میں وہ کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں اس سے انتظامیہ کے اندر کی حرکیات کا تعین ہو سکتا ہے۔

    ان پیش رفتوں کے بارے میں عوامی تاثر سازگار سے کم ہے، بہت سے لوگ انہیں اقربا پروری اور پاکستان کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے میں سنجیدگی کی کمی کے طور پر دیکھتے ہیں،اور سیاسی چالبازی کے بجائے بنیادی تبدیلی کی خواہش کی نشاندہی کرتے ہیں۔

  • ساتواں بڑا زرعی ملک اور   ذخیرہ اندوز بھی

    ساتواں بڑا زرعی ملک اور ذخیرہ اندوز بھی

    ساتواں بڑا زرعی ملک اور ذخیرہ اندوز بھی
    از قلم غنی محمود قصوری

    ارض پاک پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور گندم پیدا کرنے والا دنیا کا ساتواں بڑا ملک بھی جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی غذائی فصل گندم ہے اس کے علاوہ اور بھی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں

    پاکستان کل رقبہ تقریباً 19 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار 290 ایکڑ ہے جس میں سے 5 کروڑ 60 لاکھ 43 ہزار 414 ایکڑ زرعی رقبہ ہے جبکہ 1 کروڑ 12 لاکھ 43 ہزار 277 ایکڑ رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے ، زیر کاشت رقبہ تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ایکڑ ہے ،ہمارے ہاں گندم زیر کاشت رقبہ کے 80 فیصد پر کاشت کی جاتی ہے

    ہمارے کل جی ڈی پی میں سے زراعت 22 فیصد ہے اور مجموعی افرادی قوت 44 فیصد شعبہ زراعت سے منسلک ہے جبکہ ہماری کل آبادی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ زراعت کیساتھ منسلک ہے،اسی لئے زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے

    اس وقت ارض پاک میں گندم کی کٹائی کا سیزن چل رہا ہے،کچھ علاقوں میں گندم کی مکمل کٹائی ہو چکی ہے

    گذشتہ سال گندم کی پیدوار 2 کروڑ 68 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی تھی جس میں اس سال مزید اضافے کا امکان ہے،مگر اس ساری صورتحال کے پیش نظر نا تو کسان خوش ہے نا ہی گندم خریدنے والے عام شہری جس کی ساری وجہ مس مینجمنٹ اور ذخیرہ اندوزی ہے

    ذخیرہ اندوزی تو وہی کرے گا جس کے پاس سال بھر کا گھریلوں خرچ موجود ہوتا ہے جس بیچارے غریب کسان کے پاس ایک مہینہ خرچ کے پیسے موجود نہیں وہ کیا ذخیرہ اندوزی کرے گاذخیرہ اندوزی نے ہمارے ملک کا برا حال کرکے رکھ دیا ہے،ضرورتِ زندگی کی کوئی بھی چیز ہو بلیک مارکیٹنگ مافیا متحرک ہو جاتا ہے اور مارکیٹ سے چیز غائب کرکے اپنی من مانی قیمتوں پہ فروخت کرتا ہے

    یہی صورتحال گندم کیساتھ ہے،غریب کسان بیچارے تو باہر کھیتوں سے ہی فصل بیچ دیتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چل سکے جب بڑے بڑے کسان گندم اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں اور اس وقت بیچتے ہیں جب لوگ گندم نا ملنے کے باعث مہنگے داموں خریدنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں
    حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ذخیرہ اندوزی کو رکوے اور ایسے لوگوں کو سخت سزا دے ،کیونکہ ذخیرہ اندوزی قانون پاکستان کی رو سے بھی جرم ہے اور اسلام کی رو سے بھی قابل تعزیر جرم ہے

    اسلام میں ذخیرہ اندوزی کی سخت ممانعت کا اندازہ ہم اس حدیث رسول سے لگاتے ہیں،جس نے چالیس دن تک ذخیرہ اندوزی کی وہ اللہ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور کسی حویلی میں اگر ایک شخص بھوکے رات گزارے تو ان تمام (حویلی والوں) سے اللہ کا ذمہ بری ہو گیا اور وہ اللہ سے بری ہو گئے، (یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق ختم کر بیٹھے)المستدرک 2165

    جبکہ ایک اور حدیث میں ہے کہ

    جو شخص مسلمانوں میں گراں فروشی کے لیے ، ان کے نرخوں میں اضافہ کی کوشش کرے تو یہ اللہ پر یہ حق ہے کہ اس کو جہنم کے بڑے گڑھے میں اوندھے منہ پھینک دے ،المستدرک 2168
    درج بالا دونوں حدیثوں سے ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کی ممانعت کا اندازہ ہوتا ہے

    حکومت وقت پرفرض ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دے تاکہ غریب دیہاڑی مزدور اورعام لوگ سکون کی روٹی کھا سکیں، بصورت دیگر جب باوجود محنت کے انسان سکون کی روٹی نہیں کھا سکتا تو وہ جرائم کا ارتکاب کرتا ہے

    اگر پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تو دیگر جرائم پر قابو پانے کے ساتھ ذخیرہ اندوزی پر زیادہ طاقت اور سختی سےقابو پانے کی ضرروت ہے.

  • نواز شریف دوبارہ ن لیگ کے صدر ؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    نواز شریف دوبارہ ن لیگ کے صدر ؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    اسلام آباد (تجزیہ شہزاد قریشی) سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے قرارداد میں پارٹی کی صدارت سنبھالنے کی دعوت ایک راست اقدام ہے۔ میاں نوازشریف نے پنجاب کی دومرتبہ وزارت اعلیٰ اور وطن عزیز کی تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے دوران ثابت کر دکھایا کہ انہیں اپنے وطن کے عوام، غریب، کسانوں، تاجروں ، صنعتکاروں، محنت کشوں ، طالب علموں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں سے ایک عشق ہے انہیں پاکستان کے عوام اور پاکستان کے قریہ قریہ کو ترقی کے ثمرات سے چمکانے کی لگن تھی اور لگن ہے۔ پاکستان بھر میں موٹرویز کا جال بچھا کر نوازشریف پاکستان کی ٹرانسپورٹ اور مواصلات کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔

    نوازشریف نے تعلیم کے میدان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں میرٹ پر ملازمتیں دیں اور سکولوں میں بھی ایم فل،پی ایچ ڈی اساتذہ فراہم کئے اس سے قبل میں نوازشریف نے بیروزگار نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے جاری کر کے اور پیلی ٹیکسی اور صنعتی و کاروباری قرضے دے کر مائیکرو اکنامک ترقی کو گراس روٹ سطح پر متحرک کیا جس کے ثمرات میں غربت اور بیروزگاری میں کمی ہوئی تھی اور پاکستان کی جی ڈی پی اور شرح نمومیں اضافہ ہوا تھا سی پیک اور گوادر پورٹ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا ایک عملی قدم تھا۔

    سی پیک منصوبے پاکستان کی عوام میں ایک امید پیدا کی تھی اور پاکستان کو بیرونی قرضوں کی چنگل سے نجات اور بیرونی امداد کے کشکول کو توڑنے کا ایک عملی ثبوت تھا اور پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت بن کر سامنے آرہا تھا اور چین ،یورپ اور مڈل ایسٹ سمیت ایشیائی و افریقی ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے لپک رہے تھے آج بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے پاکستان کی ترقی اور پاکستان کو درپیش چیلنج کے تناظر میں ایک احسن قدم اٹھایا ہے اور میاں نوازشریف کو پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت سنبھالنے کی دعوت دی ہے اور میاں نوازشریف کو چھ سال قبل ایک منصوبے کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا اور حتیٰ کہ پارٹی قیادت سے بھی محروم کر دیا گیا تھا۔

    اب میں نوازشریف کو پارٹی قیادت اور صدارت سنبھالنے سے مسلم لیگ ن پر عوام کے اعتماد، محرومیوں کے شکار صوبوں میں امید کی کرن اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے وقار میں اضافے کا رجحان پیدا ہوگا۔ بیشک میاں نوازشریف عوام اور پاکستان کی فلاح و ترقی کی نبض پر دست شفا رکھ سکتے ہیں اور عوام میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافے اور فعال کردار سے جمہوری استحکام پیدا ہوگا۔

  • سیلفی سیاست سے نکل کر عملی اقدامات  کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیلفی سیاست سے نکل کر عملی اقدامات کی ضرورت،تجزیہ: شہزاد قریشی

    عمران خان کو کون سمجھائے اُن کو بین الاقوامی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیئے جن راستوں کا انہوں نے انتخاب کیا یا کروایا جا رہاہے اور پھر اُن کی جماعت، کیا سوشل میڈیا کے ذریعے اُن کو جیل سے رہائی دلوا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں، جیل سے رہائی پانے کا واحد راستہ قانونی ہے۔ رہا سوال ملک کی سیاسی تاریخ تو اُن کو بھٹو خاندان کی تاریخ اور بھٹو پر کیا گزری ان کی اپنی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔ بڑے بڑے سیاسی قد آور سیاسی شخصیات نے بھٹو کا ساتھ چھوڑد یا تھا۔ نیلسن منڈیالا تقریبا 27 سال پابند سلاسل رہے جب وہ رہا ہوئے تو انہوں نے پُر تشدد تحریک خیر آباد کہہ کر مذاکرات کار استہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سید علی گیلانی کشمیر کی آزادی کا خواب لئے ا س جہاں سے چل بسے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں مفاد پرست ٹولہ ہوتا ہے یہ وہ ٹولہ ہوتا ہے جو اپنے ہی جماعت کے قائدین کا مخبربھی ہوتا ہے ہو سکتاہے کہ پی ٹی آئی میں بعض مفاد پرست اور مخبروں کا ٹولہ موجود ہو اگر یقین نہیں تو میاں محمد نواز شریف اس کی زندہ مثال ہیں۔

    بلاشبہ عمران خان ملک کے ہیرو قرار پائے، کرکٹ کا ورلڈکپ سب پاکستانیوں کو یاد ہے تاہم یہ بھی پاکستانیوں کو یاد ہے کہ آپ وزارت عظمٰی تک کیسے پہنچے، وہ ملاح بھی سب کو یاد نہیں جو آپ کی کشتی کے ملاح تھے۔ نیلسن منڈیلا جب کیپ ٹائون میں وکٹر ورسٹر جیل سے رہا ہو کر باہر نکلے تو ایک بڑے جلسے سے عاجزی سے خطاب کیا انہوں نے ایک پُرتشدد تحریک کو ختم کیا اور نئی زندگی کا آغاز کیا۔

    اہل موبائل اور سوشل میڈیا کے دیوانوں نے ملکی سلامتی کو پس پست ڈال دیا ہے، اصل الفاظ کی چاشنی گم ہو چکی ہے کوئی مر رہا ہے تو ویڈیو ۔کوئی مار رہا ہے تو ویڈیو ۔ کیا کھایا کیا پہنا کہاں گھومیں۔ کس سے ملے ۔ ہر لمحہ سیلفی کی فکر میں، پھر کتنے لائق کتنے کمنٹس کتنے شیئر ، ایک محتاط انداز ے کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ 93 بلین سلفیاں لی جاتی ہیں۔ اب تو بھارت کی بھی سوشل میڈیا پر تشہیر ہوتی ہے ۔اب تو مرنے والوں کے ساتھ سیلفی ،جنازوں کی سیلفی ،بیماریوں کی سیلفی ،کسی کو خوراک دیتے وقت سیلفی ، زکوة دیتے وقت سیلفی ، ملکی سیاسی جماعتوں اور ان کے ہمنوائوں کو سیلفی سیاست سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ ایسے راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس سے ملکی ترقی اورخوشحالی کے سفر میں شامل ہو کر ضرور سیلفی بنائیں تاکہ دنیا اور قوم آپ پر فخرکریں۔

  • سعودی عرب کی پاکستان میں  مجوزہ سرمایہ کاری

    سعودی عرب کی پاکستان میں مجوزہ سرمایہ کاری

    پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں، بیرک گولڈ کارپویشن کے زیر کنٹرول ریکوڈک پراجیکٹ میں اہم حصہ حاصل کرنے میں سعودی عرب کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ اس حوالہ سے باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ منارا منرلز انویسٹمنٹ کمپنی، جسے سعودی خودمختار دولت فنڈ کی حمایت حاصل ہے، ریکوڈک تانبے اور سونے کی کان کنی کی کوشش میں کم از کم 1 بلین ڈالر کی رقم لگانے کے لیے تیار ہے۔

    اس ضمن میں ممکنہ ڈیل چل رہی ہے، توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں لین دین کی شرائط پر ایک ابتدائی معاہدہ ہو جائے گا، پاکستان کے وسائل سے مالا مال زمین کی تزئین میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری ایک اہم سنگ میل ہوگا۔یہ اقدام سٹریٹجک سرمایہ کاری پر توجہ دینے کے ساتھ ،پاکستان کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی سعودی عرب کی وسیع حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ ے اس اقدام کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو پاکستان کی مارکیٹ میں نسبتاً زیادہ خطرے اور زیادہ مستعدی کی حد کے ساتھ مواقع تلاش کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔جو چیز اس امکان کو سعودی عرب کے لیے خاص طور پر پرکشش بناتی ہے وہ پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی سازگار شرائط ہیں، جس نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں ایک عملی نقطہ نظر کا مظاہرہ کیا ہے،سعودی عرب کے 25 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے کے مکمل ہونے کا امکان غیر یقینی ہے، معدنیات کے شعبے میں منافع بخش سودوں کی رغبت آنے والے مہینوں میں ٹھوس سرمایہ کاری میں معاون ثابت ہو گی تاہم، ان ممکنہ معاہدوں کے پیچھے محرک قوت پاکستان کی فوری ضرورت ہے کہ معاہدوں کے عمل کو تیز ،فوری کی جائے اور ملک کی معیشت کو بحال کیا جائے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی رغبت اور باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کے وعدے نے پاکستان کو سعودی عرب جیسے سرمایہ کاروں کو فعال طور سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کیا ، جو بے حد مطالبات کے بغیر قابل اعتماد تجارتی مواقع تلاش کرتے ہیں۔

    خلاصہ یہ کہ ریکوڈک پروجیکٹ اور دیگر ممکنہ منصوبوں میں سعودی عرب کی دلچسپی ایک علامتی تعلقات کی نمائندگی کرتی ہے جہاں دونوں فریق اسٹریٹجک تعاون سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک ہو چکے ہیں، سعودی عرب اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کو متنوع بنانے اور قیمتی معدنی وسائل تک محفوظ رسائی کی کوشش کرتا ہے، پاکستان کا مقصد اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بیرونی سرمائے سے فائدہ اٹھانا ہے۔جیسے جیسے مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے اور معاہدوں کی شکل اختیار کر لی جاتی ہے، کان کنی کی سرمایہ کاری کے دائرے میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ابھرتی ہوئی شراکت داری دونوں ممالک کے لیے باہمی خوشحالی اور اقتصادی ترقی کا باعث بنے گی۔تاہم سودے پاکستان پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں کہ وہ سودے کے خاتمے پر کسی بھی طرح سے ڈیفالٹ سے بچنے کی حمایت نہیں کرتا جو کہ ایک اور مسئلہ ہے!

  • معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    معیشت تجربوں سے مستحکم نہیں ہو گی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بقول شاعر:
    ریت پر تھک کے گرا ہوںتوہوا پوچھتی ہے
    آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
    معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نئے وزیر خزانہ کے لئے یہ شعر ہے لیکن کیا کہا جائے ڈاکٹر کو چھوڑ کر نرس سے آپریشن کروایا جائے گاتو مریض صحت یاب نہیں ہوگا۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے تجربہ کار اسحاق ڈار کو چھوڑ کر ،ایک بینکر کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ یہ معیشت کو مستحکم کریںگے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ پاکستان کوئی تجربہ گاہ نہیں ایک 25 کروڑ عوام کا ملک ہے ،یہ کوئی میونسپل کمیٹی نہیں۔

    اسرائیل اور ایران کو لے کر دنیا میں جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ چین اور تائیوان ، روس ، امریکہ کے بعد مڈل ایسٹ والے ممالک بلاک بنانا چاہتے ہیں بلاشبہ پاکستان اس وقت مڈل ایسٹ اور امریکہ کے لئے بہت اہم ہے اس پورے خطے میں مگر قرض کا بوجھ اتنا ہے کہ ایک بینکر کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان کو معیشت مستحکم کرنے کے لئے سرمایہ کاروں کو پُرامن ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اپنے وسائل پر توجہ د ینے کی ضرورت ہے ۔ آخر میں ہم کب تک فقیروں کی طرح مانگ کر شہنشائیوں کی طرح اُڑاتے رہیں گے۔ معیشت کی مکمل بہتری کے لئے لازمی اقدامات انتہائی ناگزیر ہیں۔ رہا سوال فلسطین ،اسرائیل جنگ اور اب ایران اسرائیل بڑھتے ہوئے جنگی ماحول اورکشمیر ،جو عالمی ادارے بنا ئے گئے تھے۔ اُن کا کردار نہ ہونے کے برار ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر ،انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اقوا م متحدہ کا نسل کشی کنونشن اور جنیوا کنونشن جنگ ان کے لکھے جانے کی ان دستاویزات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن نے روانڈا میں نسل کشی کو نہیں روکا ۔ جنیوا کنونشن ویت نامیوں کو امریکی جنگی قیدیوں کو اذیت د ینے سے نہیں روکا۔ روس ا ور یو کرائن کی جنگ کو نہیں روکا۔ جن ممالک نے ان دستاویزات پر دستخط کئے انہوں نے خود پاسداری نہیں کی۔ ان عالمی اداروںں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے آج کے دور میں اسرائیل ،فلسطین ، کشمیر، مسلمانوں کا خون سڑکوں پر بہہ رہاہے تمام اسلامی ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ تاہم پاکستان کو اپنی سرحدوں پرمزیداورشہر میں سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔

  • پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ؟

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ؟

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے لیے کیوں ضروری ؟

    ایران اور پاکستان کو ملانے والا گیس پائپ لائن منصوبہ، جسے عام طور پر پیس پائپ لائن یا آئی پی گیس کہا جاتا ہے، ایک کثیر جہتی کوشش ہے جو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اقتصادی حرکیات اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے متاثرہوا ہے، یہ منصوبہ ایران سے پاکستان تک قدرتی گیس کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے بنایا گیا تھا، اس اہم منصوبےکوابتدا سے لے کر اب تک متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    مارچ 2013 میں،پاکستانی اور ایرانی صدر آصف زرداری اور احمدی نژاد نے رسمی طور پر ایران کی چابہار بندرگاہ کے قریب اس منصوبے کا آغاز کیا، تاہم، ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس منصوبے پیش رفت رک گئی، باوجود اس کے کہ ایران نے پائپ لائن کے اپنے حصے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔

    پاکستان نے ممکنہ سزاؤں کو کم کرنے کے لیے مختلف قانونی اور سفارتی راستے اختیار کیے ہیں اور اس منصوبے سے متعلق امریکا سے رعایت مانگی۔ پائپ لائن منصوبے کی تکمیل پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت کے لیے اہمیت رکھتی ہے، اس طرح دونوں ممالک پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا۔ اس پائپ لائن کا مقصد ایران سے پاکستان تک قدرتی گیس کی نقل و حمل کو آسان بنانا ہے، دو طرفہ تجارتی خواہشات کے مطابق جو اگست 2023 میں دستخط کیے گئے پانچ سالہ منصوبے میں بیان کی گئی تھی، جس کا ہدف 5 بلین ڈالر کا تجارتی حجم ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ درآمدات اور برآمدات کا فائدہ اٹھانا اکثر زیادہ سرمایہ کاری کا مؤثر حل ہے،

    مارچ 2024 میں رائٹرز کی حالیہ رپورٹوں میں تہران کے ساتھ کاروبار کرنے سے متعلق خطرات کے بارے میں خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے جاری رہنے کی امریکہ کی مخالفت کا اشارہ دیا گیا تھا۔ یہ موقف 2019 میں اسی طرح کے پروجیکٹ کے لیے پڑوسی ملک کو دی گئی چھوٹ سے متصادم ہے۔ایران کے توانائی کے مسائل کے حل اور بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے تک اس منصوبے کا نقطہ نظر غیر یقینی ہے۔ گھریلو قلت اور بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود ایران کا گیس کی برآمدات پر انحصار اقتصادی چیلنجز اور اندرونی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ ایران کے توانائی کے بحران سے نمٹنا اور پابندیوں میں نرمی پائپ لائن کی عملداری اور تکمیل کے لیے اہم شرائط ہیں۔

    پراجیکٹ مینجمنٹ اور سفارتی ذرائع سے مسلسل کوششوں کے باوجود اس منصوبے کی تکمیل کےلئے رکاوٹیں برقرار ہیں۔ اگرچہ پائپ لائن کی تکمیل پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنا کر دونوں ممالک کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس کی پیشرفت کا انحصار ایران کی توانائی کی صورتحال کے حل اور پابندیوں کے خاتمے پر ہے۔
    یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے 18 بلین ڈالر کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ ایران نے پائپ لائن کا اپنا حصہ مکمل کر لیا ہے، پاکستان نے ابھی تک طے شدہ وقت کے اندر اپنا حصہ مکمل کرنا ہے۔

    متضاد مفادات کے درمیان سفر کرتے ہوئے پاکستان ایک چیلنجنگ پوزیشن میں ہے۔ کیا پاکستان امریکہ کو معافی دینے پر آمادہ کر سکتا ہے؟ اس طرح کے مذاکرات میں عام طور پر دونوں طرف سے رعایتیں حاصل ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو امریکی مفادات کے مطابق رعایتیں دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
    پاکستان امریکہ کے ساتھ سیکورٹی تعاون، بشمول انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی تعاون، یا علاقائی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد بڑھانے کی پیشکش کر سکتا ہے،اس ضمن میں دوسرے راستے بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

  • محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس معاشرے کا ایک بنیادی جزو ہے یہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی نشانی بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں سیاسی مداخلت نے پولیس نظام کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ پولیس نے پاک فوج کے ساتھ مل کر اس ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کردارا دا کیا ،ان گنت قربانیاں بھی دیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکا ۔ کیا وجہ ہے کہ ہم آج کے جدید دور میں پولیس اصلاحات پر وہ کچھ نہیں کر سکے جو قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔ ملکی تاریخ گواہ ہے۔ نواب آف کالا باغ کے دور سے پولیس میں سیاسی مداخلت کا آغاز ہوا اوریہ مداخلت بڑھتی گئی، سیاستدانوں نے پولیس کے نظام کو اپنے اقتدار کے کھیل کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ جبکہ بہت سے پولیس افسران اور اُن کے ماتحت افسران نے اس سیاسی مداخلت سے فائدہ اٹھایا اچھی جگہ تبادلے کے لئے حکمرانوں کی اور مقامی سیاستدانوں کی غلامی کا طوق گلے میں ڈال کر اپنے ہی محکمے کو برباد کرنے میں بھی کردارادا کیا۔ سیاسی حکومتوں اور فوجی حکمرانی کے دور میں بھی اس محکمے کو استعمال کیا ۔

    پولیس کے افسران کو زیادہ سے زیادہ دولتمند بننے کے نشے نے اس قدر مدہوش کیا کہ وہ ملک میں لینڈ مافیا ،ڈرگز مافیا ، قبضے گروپوں کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ بن گئے جبکہ بڑھتی آبادی کے ساتھ جرائم میں اضافہ ہوتا گیا اور پولیس افسران اور اُن کے ماتحت غفلت اور لاپرواہی کی حدوں کو کراس کر گئے۔ جرائم کو کٹرول کرنے اور تجربہ کار پولیس افسران کو کھڈے لائن جبکہ سیاسی غلامی برداشت کرنے والے اور ناتجربے کار افسران کو فیلڈ میں لگا دیا گیاجس کا خمیازہ ملک اور عوام دونوں بھگت رہے ہیں۔

    حیرانگی کی حد تک آج پنجاب کے بہت سے افسران اپنی من پسند تعیناتی کے پیچھے پاک فوج کے اعلیٰ افسران کا نام لے کر اس ادارے جو سرحدوں کا محافظ ادارہ ہے ملکی سلامتی کے ادارے کو بدنام کررہے ہیں۔جسے کسی بھی زوائیے سے درست قرار نہیں د یا جا سکتا ۔ یہ پولیس افسران عوام کو گمراہ کررہے ہیں ذمہ داران ریاست کو پنجاب کے ان پولیس افسران سے باز پرس کرنا ہوگی جو اس عظیم ادارے کو بدنام کررہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب جو ایک بڑے صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں انہیں پولیس نظام میں تبدیلی لانی ہوگی آئی جی پنجاب کو فری ہینڈ دے کر سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرنا ہوگا جب آئی جی پنجاب اپنی مرضی سے صوبے میں پولیس افسران تعینات کریں گے تو پھر حکومت اور عوام کو جوابدہ بھی ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کو سیاسی مصلحتوں سے باہرنکل کر بڑا فیصلہ کرنا ہوگا اگر ایسانہیں تو پھر سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

  • مسئلہ فلسطین،کشمیر کا حل امریکاکے پاس، تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین،کشمیر کا حل امریکاکے پاس، تجزیہ: شہزاد قریشی

    راکٹوں اور ڈورنز کی رات، امریکہ نے اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ امریکہ غزہ میں نیتن یاہو کے طرز عمل پر تنقید کر سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اسرائیل کو اکیلا چھوڑ دیگا یا جو بھی اسرائیل کی سلامتی کو نشانہ بنائے گا اسکے ساتھ نرمی برتی جائے گی ،امریکہ واحد طاقت نہیں تھی جس نے ایرانی راکٹوں اور ڈورنز کو گرایا اس میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل تھے، راکٹوں اور ڈورنز کی رات نے ایک پیغام بھی دیا جس نے ایران کی فوجی ٹیکنالوجی پر مغربی اور اسرائیل کی تکنیکی برتری کو واضح کیا ، سیاسی اورسفارتی سطح پر ظاہر کیا کہ اسرائیل کو ان چیلنجز کے ساتھ مضبوط مغربی تحفظ حاصل ہے جو اُسے نشانہ بنا سکتے ہیں، بلاشبہ امریکہ نے ایرانی حملے کے تناظر میں نتین یاہو کی حمایت کی لیکن اس نے فوری طور پر یہ واضع کیا کہ وہ اسرائیلی ردعمل کی حمایت نہیں کرتا اور اگر ایسا ہوا تو وہ اس میں حصہ نہیں لے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نتین یاہو امریکی مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ایرانی حملے کا جواب نہیں دیں گے؟ تاہم ایران نے اسرائیل اور دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر براہ راست حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،

    مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹوں اور ڈورنز کی رات اسرائیل کو ایک بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے تاہم مشرق وسطیٰ میں راکٹوں اور ڈرونز کی رات کے بعد بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں، امریکہ اور مغربی ممالک کو اسرائیل اور فلسطین کے معاملے کو حل کرنا چاہیے،صدیوں سے جاری اس مسئلے کا واحد حل امریکہ کے پاس ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی امریکہ کے پاس ہے وہ ان مسائل کو حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے ، فلسطین اورکشمیر میں خون کی ندیاں بہہ چکی ہیں بے گناہ انسانوں سے قبرستان بھرچکے ہیں،تنازعات کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا جائے۔