Baaghi TV

Category: سیاست

  • جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا سیاستدانوں سے شکوہ ،تجزیہ،شہزاد قریشی

    جمہوریت کی پری کا ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے شکوہ
    وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے
    اقربا میرے کریں قاتل کا دعویٰ کس پر

    قومی انتخابات کو لے کر پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پیپلزپارٹی روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیتی ہیں کہ الیکشن وقت پر اور آئین کے مطابق کروائے جائیں ان کے بیانات سن کر اور پڑھ کر جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے اس کی بنیادی وجہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے جاتے جاتے مشترکہ مفادا ت کونسل کے ذریعے مردم شماری کا شوشہ چھوڑ کر بروقت الیکشن کے انعقاد کو ٹالنے کی ایسی راہ ہموار کر دی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن ضابطہ کی روشنی میں مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پابند ہے۔

    ویسے بھی پنجاب میں نگران حکومت اور کے پی کے میں نگران حکومت آئین کی حدوں کو کراس کر چکی ہیں دونوں صوبوں میں مقررہ وقت پر الیکشن نہیں کروائے گئے اس طرح الیکشن مقررہ وقت کے بیانات پچیس کروڑ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس کے ذمہ دار خود سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں۔ ملک میں پہلے ہی جمہوریت غیر مستحکم ہے پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اس غیر مستحکم جمہوریت کو مستحکم کرنے کے بجائے مزید لاغر کردیا ہے۔ قومی انتخابات جس کو جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے پی ڈی ایم نے خود اس کی روح نکال دی ہے اور دفن کر دیا ہے۔ قانون کی حکمرانی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بیانات میں حقیقت نہیں صرف افسانے ہیں۔ افسانے افسانے ہی ہوتے ہیں حقیقت نہیں عوام کی اکثریت باشعور ہیں بے وقوف نہیں۔

  • ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بعض بیرونی ممالک بالخصوص بھارت بلوچستان کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا دہشت گردوں کو باقاعدہ وسائل فراہم کرتا رہا۔وسائل سے مالا مال یہ خط پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ اس صوبے کو نظر بد سے بچانے کے لئے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 1997 میں اپنی جماعت کی مدد سے اختر مینگل کو مخلوط حکومت کا وزیراعلیٰ بنایا ۔ 2013 میں ڈاکٹر عبدالمالک کو بھی(ن) لیگ کی حمایت رہی۔ اختر مینگل کا تعلق اور ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق دو مختلف جماعتوں سے تھا دونوں سیاسی پارٹیوں کی مدد سے بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے کے قریب لایا گیا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قومی پرچم لہرانے لگا۔آج ایک بار پھر نگران حکومت کی تشکیل میں پاکستان مخالف ممالک اور بالخصوص بھارت کو جواب دیا گیاہے۔ جو بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرتا رہا۔

    ملکی سلامتی کے پیش نظر فیصلوں کی حمایت ہی نہیں بھرپور حمائت کرنا چاہیئے ۔ سالوں کے بعد یعنی 75 سال کے بعد بحیثیت قوم ایک نہ ختم ہونے والی ہیجانی کیفیت سے گزر رہے ہیں ہم حقائق جانے بغیر اپنی رائے قائم کردیتے ہیں ہم اندر ونی خلفشار کا شکار ہیں ۔یہ اندرونی خلفشار نظام کو لپیٹنے کا آغاز ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کے طے شدہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں۔ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا ۔ اس ملکی سلامتی اور عام آدمی کے مفادات کے لیے اپنے مفادات کو پس پشت ڈالنا ہو گا ۔ معاشی بحران بھی ایسا نہیں جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ اس وقت ملک کے حالات کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جائیں ۔ پاکستان کو باکردار لوگوں کی ضرورت ہے۔

  • نگران حکومت سے عوام کی توقعات  ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    عام انتخابات سے قبل نگران حکومت کا قیام ایک قانونی تقاضا ہوتا ہے جس کا اہم مقصد ملک میں انتخابی عمل کو صاف اور شفاف انداز میں یقینی بنانا ہوتا ہے اس لیے اس کا باقاعدہ حلف اٹھایا جاتا ہے۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے یہ آٹھویں نگران حکومت ہے ۔نگران حکومت کاایک مقصد شفاف شفاف انتخابات کا انعقاد کروانا ہوتا ہے تاہم بدقسمتی کی بات ہے کہ جب بھی نگران حکومت کی نگرانی میں انتخابات ہوئے اپوزیشن نے کبھی بھی ان کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دھاندلی کا شور ہی مچا ہے ۔ نگران حکومت کی دیگر ذمہ داریاں منتخب حکومت کے قیام تک آئین اور قانون کے تحت مملکت کا انتظام چلانا ہوتا ہے تاکہ نہ صرف یہ کہ جاری ترقیاتی منصوبے وقت مقررہ پر پایا تکمیل تک پہنچ جائیں بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

    جہاں تک نگران حکومت کو درپیش اجتماعی مسائل کا تعلق ہے ان میں امن و امان ، مہنگائی اور بے روزگاری ایسے مسائل سر فہرست ہیں ان مسائل سے نمٹنا بے حد توجہ طلب ہے۔ انتخابات وقت پر کروانے کے بعد دوسری اہم ذمہ داری عوام پر سے مہنگائی کا بوجھ کم کرنا بے حد ضروری ہے۔ اس لیے کہ عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے بلکہ اب تو صورت حال یہ ہے کہ عوام کے لیے جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا ہے ۔ اس تناظر میں نگران حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو نہ صرف عوام کے مفاد میں ہوں بلکہ آنے والے حکومت کے لیے بھی قابل تقلید ہوں ۔

    اس بات میں کوئی دو آرا ء نہیں کہ اس وقت قوم کا بچہ بچہ اندرونی اور بیرونی سودی قرضوں کے لیے جال میں بری طرح جکڑا ہوا ہے سودی معیشت جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ اور بغاوت کے مترادف ہے اس جنگ اور بغاوت نے ہمارا معاشی ، معاشرتی اور قومی حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔حالانکہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا ضروری تھا کہ پاکستان میں سودی نظام کا خاتمہ کرکے اسلامی طرز معاشرت قائم کیا جاتا لیکن یہاں دن بہ دن سودی نظام مضبوط ہورہا ہے ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت عالمی مالیاتی اداروں کے شکجنے اور پنجے میں بری طرح جکڑی جاچکی ہے ۔ ہماری حکمرانوں کی بے حسی کی یہ حالت ہے کہ آئی ایم ایف سے جب بھی بھیک ملتی ہے تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے بھنگڑے ڈالتے اور خوشیاں مناتے ہیں مگر یہ کسی کو بھی احساس نہیں کہ عوام کا دیوالیہ ہو چکا ہے اور مہنگائی کی شرح تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 60ہزار روپے تنخواہ لینے والا شخص خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ حکمران ان حالات پہ اس لیے توجہ نہیں دیتے کہ انہیں معاشی مسائل درپیش نہیں ہیں انہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو تو پتہ چلے کہ عوام مالی طور پر حالات کے پل صراط سے کس طرح گزر رہے ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے گھرانے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے قابل ہیں نہ صحت کی سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں۔ نگران ارباب اختیار کو چاہیے کہ وقت ضائع کیے بغیر ان گھمبیر اور سنگین مسائل پر توجہ دیں تاکہ ملک میں بھوک اور افلاس کے باعث خودکشیوں کا رجحان دم توڑ سکے۔اس وقت یہ بات زبان زد عام ہے کہ لوگ مالی مشکلات کے باعث عفت و عصمت ایسے گوہر کو لٹانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے ہماری درج ذیل گزارشات ہیں کہ وہ :
    اپنی کابینہ مختصر رکھیں ، اپنا اور اپنے وزرا کا شاہانہ پروٹوکول ختم کریں ، کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کریں، وفاق اور صوبوں میں ایسی تبدیلیاں لائیں جن سے اشرافیہ کو حاصل مراعات میں کمی ہو، لاکھوں سرکاری گاڑیوں کو روزانہ ہزاروں لیٹر ملنے والا مہنگا پٹرول بند کیا جائے ، خاص طور پر ججوں جرنیلوں اور بیوروکریٹ کو حاصل لامحدود مراعات واپس لی جائیں۔

    دکھ کی بات ہے کہ ایک اسلامی نظریاتی ریاست میں دولت کی تقسیم کا کوئی قابل قبول فارمولا ہی نافذ نہیں تمام مراعات کا رخ طبقہ اشرافیہ اور ان کے اللوں تللوں کی طرف ہے اور غریب لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دوسری طرف نگران وزیر اعظم نے سابق حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے حالانکہ سابق حکومت نے ملک کا اور غریب آدمی کا معاشی طور پر تیاپانچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ سابق حکمرانوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا کہ چار پانچ افراد پر مشتمل گھرانوں کے وہ کفیل جن کی ماہانہ آمدنی 25 سے 30 ہزار روپے تک ہے وہ کن بدترین حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ بجلی کے بلوں نے عام آدمی کو خون کے آنسو رولا دیا ہے۔ کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرتاتھا کہ جب بجلی کے نرخوں میں نت نئے ٹیکس کا اضافہ نہ کیا جاتا ہویا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا ہو ۔اب نگران حکومت نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ غریب آدمی کو کچلنے اور مہنگائی کرنے میں سابقہ حکومت کے راستے پر ہی چل رہی ہے ۔حکومت بجلی چوری پر ہی قابو پا لیتی تو بجلی کے بل کم ہو سکتے تھے بجلی کے بلوں میں اضافہ ایسا مسئلہ ہے جو ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہیے یہ بات ارباب اختیار کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ ظلم کی بھی ایک حد ہوتی ہے بجلی ، سوئی گیس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر ضروریات زندگی کے نرخوں میں ناقابل برداشت اضافوں کے باعث اگر عوام سڑکوں پر آگئی تو حالات کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا قبل اس کے کہ ایسا وقت آئے عوام کی مشکلات کا مداوا ہونا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یا تو مہنگائی پہ کنٹرول کیا جائے یا آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جائے۔نگران حکومت کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ ایک تو سرکاری اور پرائیویٹ محکموں میں روزانہ اجرت یا کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو 32 ہزار روپے کی ادائیگی ہو یا دوسرا یہ کہ جس طرح مستقل ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اسی طرح غیر مستقل ملازمین کو بھی آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے معقول تنخواہ دی جائے ۔ معاشی ماہرین کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ارباب اختیار کو مشورہ دیں تاکہ وہ غیر مستقل ملازمین کا بھی خیال رکھیں کیونکہ ضرورتیں تو سبھی لوگوں کی ایک جیسی ہوتی ہیں کسی کی آمدنی کم ہو یا زیادہ مہنگائی کا بوجھ سب پر ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ خوشحال لوگ تو آج بھی مہنگائی کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے مگر غریب آدمی تو ذہنی توازن تک کھوتاجا رہا ہے کہ وہ خود کیا کھائے اور بچوں کو کیا کھلائے۔ ان مسائل پر خلوص نیت سے توجہ نہ دی گئی تو مستقبل قریب میں حالات پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا ۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے نام خط

    محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب

    آپ چیف جسٹس پاکستان آ رہے ہیں، میں ایک انتہائی اہمیت کے حامل معاملے پر آپکی توجہ چاہتی ہوں،یہ مسئلہ عدالتی حد سے تجاوز کے حوالہ سے ہے جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہوا تھا، "ڈیم فنڈ” کے فصٰلہ بارے نہ صرف فکر مند ہوں بلکہ پاکستان کو اس وقت جو سنگین معاشی مسائل ، چیلنج درپیش ہیں انکے حوالے سے توجہ چاہتی ہوں،

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جولائی 2018 میں ڈیم فنڈ کی تشکیل کی گئی، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، یہ فیصلہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن سمیت چار رکنی بینچ نے سنایا۔ میڈیا میں رپورٹ کئے گئے، عدالتی فیصلہ کے مطابق ، اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی اتھارٹی یا محکمہ ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والی رقم کے ذرائع کی جانچ پڑتال نہ کرے۔ مزید برآں، اس میں یہ بھی کہا گیا کہ فنڈ کا استعمال سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ آڈٹ پر منحصر ہوگا۔

    21 اپریل 2023 کو دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تقریب کے دوران سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بتایا کہ کس طرح ان کا شروع کیا ڈیم فنڈ 10 ارب روپے سے بڑھ کر 17 ارب روپے تک پہنچ گیا ۔ اس اضافے کی وجہ سرکاری ٹی بلز میں سرمایہ کاری تھی۔ غور طلب ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما بھی ڈیم کے لیے فنڈ ریزنگ مہم میں شامل ہوئے۔ بہت سے لوگ ثاقب نثار کے بیرون ملک فنڈ ریزنگ کے دوروں میں ساتھ گئے۔ مبینہ طور پر مختلف ذرائع سے فنڈز اکٹھے کیے گئے جن میں سرکاری ملازمین اور سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کیے گئے جرمانے بھی شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے 9 جنوری 2019 کو اطلاع دی کہ ڈیم فنڈ کے لیے 50 سے زائد ممالک سے 9.1 بلین روپے جمع کیے گئے ہیں۔

    اگرچہ ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالنے میں لوگوں کی فراخدلی کو کم نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس میں بہت سے خدشات ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جمع شدہ فنڈز، جن کی رقم 17 ارب روپے ہے، فی الحال ایک اکاؤنٹ میں رکھی گئی ہے۔ تاہم، یہ فنڈز بنیادی طور پر ایگزیکٹو کے وسائل کا حصہ ہیں، اور ان کے مقصد اور استعمال پر پوری طرح غور کیا جا سکتا ہے، پاکستان معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے، جیسا کہ اس کے قرضوں پر انحصار سے ظاہر ہوتا ہے، بشمول آئی ایم ایف کے ذریعے حاصل کردہ قرضوں، اور صرف مالی سال 2023-24 میں 19 بلین ڈالر کے بیرونی ذخائر۔ ان معاشی دباؤ کی روشنی میں، اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا غیر فعال اکاؤنٹ میں 17 ارب روپے رکھنا ملک کے بہترین مفادات میں ہے یا نہیں ؟

    پاکستان کے آنے والے چیف جسٹس کی حیثیت سے، مجھے انصاف کے لیے آپ کے عزم پر پورا بھروسہ ہے۔ ایک ٹیکس دہندہ اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے، میں آپ سے پر خلوص التجا کرتی ہوں کہ ملک کی اہم ضروریات کے لیے حکومت کو یہ فنڈز جاری کرنے پر غور کریں۔ مجھے پوری امید ہے کہ آپ کا انصاف کا احساس، شفافیت، مالیاتی ذمہ داری اور قومی بہبود کے اصولوں سے رہنمائی لیتے ہوئے، اس معاملے کے مناسب حل کا باعث بنیں گے،

  • بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان اسمبلی کل ٹوٹ جائے گی

    بلوچستان میں نگراں حکومت کے قیام کا معاملہ التوا کا شکار ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات آئندہ چوبیس گھنٹے میں متوقع کی جارہی ہے اور بلوچستان میں نگراں سیٹ اپ کے قیام پر اپوزیشن کی دونوں جماعتیں اپنے اپنے امیدوار کے نام پر ڈٹ گئی ہیں جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔

    علاوہ ازیں نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لئے بی این پی کی جانب سے میر حمل کلمتی اور جے یو آئی کی جانب سے عثمان بادینی اور شبیر مینگل کے نام ظاہر کیئے گئے ہیں تاہم بی اے پی کی جانب سے تین نام سامنے آئے ہیں جن میں کہدہ بابر، اعجاز سنجرانی اور نصیر بزنجو شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ اس حوالے سے فیصلہ کل شام تک متوقع ہے۔ وزیر اعلی کوئٹہ پہنچنے کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرکے نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر حتمی مشاورت کریں گے۔ جبکہ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو اسمبلی تحلیل کی سمری کل ( ہفتے کو) رات تک گورنر کو بھیج دیں گے۔ جس کے بعد گورنر کے سائن/دستخط ہوتے یہ اسمبلی ٹوٹ جائے گی۔

  • آنے والی نگراں انتظامیہ کو درپیش کٹھن چیلنجز

    آنے والی نگراں انتظامیہ کو درپیش کٹھن چیلنجز

    قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی، نیا نگران سیٹ اپ آنیوالا ہے، نگران وزیراعظم کو عہدہ سنبھالنے کے بعد کافی چیلنجز انکے انتظار میں ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کرانے کی اہمیت پر زور دیا ہے، یہ عمل طویل ہونے کا امکان ہے۔ اس کام کی پیچیدگی کے پیش نظر، اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ انتخابات 2023 میں نہیں ہو سکتے۔ تاہم،پاکستان کے جو مسائل ہیں انکو حل کرنے کی ضرورت ہے، اور حل کرنا چاہئے، الیکشن کے انعقاد کا انتظار نہیں کرنا چاہئے،

    سیکشن 230(2) میں منظور شدہ ترمیم کے ذریعے کچھ معاملات کی عجلت کو تسلیم کیا گیا ہے: "سب سیکشنز (1) اور (2) کے باوجود، یہ دفعات ان صورتوں میں لاگو نہیں ہوں گی، جہاں نگران حکومت کی ضرورت ہے۔ موجودہ دوطرفہ یا کثیرالطرفہ معاہدوں، یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ایکٹ، 2017 (VIII of 2017)، انٹر گورنمنٹل کمرشل ٹرانزیکشنز ایکٹ، 2022 (XXX of 2022) کے تحت پہلے ہی شروع کیے گئے منصوبوں کے بارے میں اقدامات یا فیصلے کرنا۔ نجکاری کمیشن آرڈیننس، 2000 (LII of 2000)۔” نیز "فوری” معاملات سے نمٹنا۔

    مزید برآں، افغانستان سے بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات نے مشکلات کو مزید بڑھادیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں،حالیہ واقعات حالات کی نزاکت کو اجاگر کرتے ہیں۔ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی پر حملے میں چار فوجیوں کے شہادت اور تین حملہ آوروں کی ہلاکت سرحد پار سے آنے والے مسلسل سیکورٹی خطرات کی ایک واضح یاد دہانی کے طور پر کام دیتی ہے۔

    نگران حکومت کو سیلاب کا چیلنج بھی درپیش ہو سکتا ہے،روزانہ کی رپورٹیں سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح پر زور دیتی ہیں، پچھلے سال بھی پاکستان میں سیلاب آیا تا، جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تھا، گزشتہ برس کا سیلاب ابھی تک بہت سے لوگوں کے ذہوں میں تازہ ہے اور ابھی تک متاثرین مشکلات سے دوچار ہیں ،سیلاب کی سالانہ متواتر آمد ملک بھر کی کمیونٹیز کو درپیش مشکلات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

    تیسرا اہم مسئلہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کے انعقاد میں لاجسٹک پیچیدگی ہے۔ یہ پیچیدہ عمل انتخابی نظام کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے وقت، درستگی اور محتاط منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کام کی پیچیدہ نوعیت کے لیے ایک ایسے نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو جامع اور تفصیلی ہو۔

    ان مشکلات کے درمیان، نگراں انتظامیہ کو آئی ایم ایف پروگرام کی نگرانی کی اہم ذمہ داری بھی اٹھانی ہوگی۔ مالی استحکام اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے سخت معیار کی پابندی ضروری ہے۔ خالی بیٹھنے اور الیکشن کا انتظار کرنے کی بجائے،نگران حکومت کو کچھ کرنا ہو گا، آنے والے نگران وزیر اعظم کو چیلنجوں کے ایک پیچیدہ جال کا سامنا ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے، پرعزم اقدامات کے ذریعے ہی ان مشکلات سے نمٹا جا سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک مستحکم اور ترقی پسند مستقبل کو یقینی بناتا ہے۔

  • پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    ہمارے پیارے ملک کانام ’’ پاکستان ‘‘ ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور غیر دانشمدانہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ’’ مسائلستان ‘‘ بن چکا ہے ۔اس وقت ہمارے ملک کو بیشمار اور لاتعداد مسائل درپیش ہیں جن میں سے اہم ترین مسئلہ پانی کی قلت اور کثرت کا ہے ۔ موسم گرما میں جب ہمیں پانی کی شدید ضرورت ہوتی ہے بھارت ہمارے دریائوں کا پانی روک لیتا ہے اور موسم برسات میں جب بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں پاکستان کی ندیاں نالے اور دریا پانی سے بھر جاتے ہیں تو بھارت اپنی طرف کا پانی ہماری طرف چھوڑ دیتا ہے جس سے پاکستان میں شدید سیلاب آجاتا ہے اور ہرسال لاکھوں ایکڑزرعی اراضی بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہوجاتی ہے ۔اس وقت بھی یہی صورت حال درپیش ہے جس وجہ سے بے پناہ جانی مالی نقصان ہورہا ہے اس پر مستزاد یہ کہ بھارت نے اپنی طرف کا پانی ہماری طرف آنے والے دریائوں چھوڑ دیا ہے ۔

    اس کے علاوہ کئی سالوں سے ہمارا ملک لوڈشیڈنگ کے شدید بحران کا شکار ہے۔ روزانہ کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے دوسری جانب ہماری حکومتیں لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہیں ۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے صنعتی پہیہ تیز تر گھمانے کے لیے سستی بجلی کی پیدوار کا بڑھایا جانا از حد ضروری ہے۔

    سستی بجلی بنانے کا اہم ترین ذریعہ پانی ہے ۔ پانی نعمت خداوندی ہے ۔ پانی سے زندگی ہے ، جہاں پانی ہے وہاں زندگی ہے جہاں پانی نہیں وہاں موت ہے ۔ ماضی میں پانی کی خاطر خون ریز جنگیں ہوئیں۔ مستقبل میں عالمی افق پرجنگوں کے خطرات کے جواسباب منڈلا رہے ہیں، ان میں ایک بڑاسبب پانی ہوگا۔ جنوبی ایشیا۔۔۔ جہاں دنیا کی نصف آباد رہائش پذیر ہے اور پاکستان بھی اسی جنوبی ایشیا میں واقع ہے، یہاں موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں تیزی سے اضافے کے سبب پانی کے ذخائر خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں جتنے بھی ممالک واقع ہیں ان میں سے سب سے سنگین صورت حال پاکستان کو درپیش ہے اس کی بنیادی وجہ بھارت کی پاکستان سے ابدی دشمنی ہے۔ بھارتی نیتاؤں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ پاکستان کو صومالیہ کی طرح بنجر بنا دیں گے۔ بھارت نے اس مقصد کے لئے 50ملین ڈالر Rotating fund مختص کر رکھا ہے۔ اس سے مراد ایسا فنڈ ہے کہ مجموعی رقم سے اگر دس پندرہ ارب ڈالر نکال بھی لئے جائیں تو اسی وقت حکومت کی طرف سے اس میں اتنے ڈالر جمع کروا دیئے جا تے ہیں۔ بھارت یہ رقم عرصہ دراز سے خرچ کر رہا ہے، مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑے آبی ذخائر نہ بن سکیں ۔

    سندھ طاس معاہدہ ایوب خان کے دورمیں ہوا تھا اس معاہدے کی شقیں طے کر نے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستان سے جس بیوروکریٹ کو ذمہ داری سونپی گئی ا س کا نام جی معین الدین تھا چونکہ ورلڈ بینک اس معاہدے کا ضامن تھا، لہٰذا جی معین الدین دو اڑھائی سال امریکہ میں رہے۔ اسی دوران بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کی ملی بھگت سے ایک خوبرو امریکی دوشیزہ کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ان کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔جی معین الدین امریکی دوشیزہ کی زلف گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ بڑھاپے میں اس سے بیاہ رچا لیاا س طرح جی معین الدین کے تمام کام کی دیکھ بھال اس خاتون نے سنبھال لی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف اپنی مرضی کی شقیں داخل کروالیںبلکہ ان شقوں پرجی معین الدین سے دستخط بھی کروالئے جن میں ایک شق یہ بھی تھی کہ بھارت سندھ، جہلم اور چناب میں سے پینے کا پانی، آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے بدلے میں چاہئے تو یہ تھا کہ جی معین الدین بھارت سے یہ شقیں بھی منواتے کہ پاکستان کو بھی ستلج، بیاس اور راوی سے پینے کے لئے ،آبی حیات اور ماحولیات کے لئے پانی ملے گالیکن امریکن خاتون کاسحر اور Rotating Fundاپنا کام کرگیا۔ آج بھارت انہی شقوں کی بنا پر آبی دہشت گردی کرتے ہوئے ہمارا پانی روک رہا ہے اور ہمارے حصے کے دریاوں پر ڈیم بنارہا ہے۔اس معاہدے سے قبل پانی کی صورت حال کچھ اس طرح سے تھی کہ راوی میں سارا سال پانی بہتا تھااس کی وجہ سے لاہور میں زیر زمین پانی دس فٹ پر دستیاب ہو جاتا تھا، اب راوی میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح انتہائی تشویشناک گر چکی ہے۔ لاہور میں واسا کے جتنے بھی ٹیوب ویل لگے ہیں وہ کم وبیش 800فٹ گہرائی سے پانی کھینچ رہے ہیں۔

    ہمارے حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے کہ بھارت نے کشن گنگا کا کیس جیتا اور وہاں ڈیم بنا لیا۔ بھارت نے عالمی عدالت میں ہمارے دریاؤں پر حق جتانے کے لئے یہ جواز پیش کیا ہے کہ پاکستان تو ڈیم بنانا ہی نہیں چاہتااور پاکستان کی ڈیموں کی تعمیر میں عدم دلچسپی کی وجہ سے لاکھوں بلین گیلن پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ دوسری طرف یہ صورت حال ہے کہ پاکستان میں جو ڈیم موجود ہیںا ن میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے، یعنی ان ڈیموں میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ بھارت کے پاس 120 دن تک کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ پاکستان کی نسبت جاپان کا رقبہ پاکستان کے مجموعی رقبے سے آدھا ہے اور آبادی بھی بارہ کروڑ ہے۔ جاپان میں ایک اندازے کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے۔ ان ڈیموں کے ذریعے نہ صرف سیلابی پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے بلکہ سستی بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ جاپان اس وقت ہائیڈرو پاور سے بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پانی سے پیدا کی جارہی ہے۔ ہم اپنے حکمرانوں سے کہنا چاہئیں گے کہ خدارا اب تو بیدار ہو جاؤ مجرمانہ غفلت اور منافقت ترک کرکے اس ملک کی بقا کا سوچو۔ ڈیموں پر سیاست کی بجائے کچھ عملی اقدامات کرو سب سے اہم ترین کالاباغ ڈیم ہے۔ اس ڈیم میں 6.1 ملین فٹ پانی سٹور کیا جاسکے گا اور یہ پورے ملک کے 50 لاکھ ایکڑ بنجر رقبے کو سیراب کرے گا۔ 5000 میگاواٹ تک بجلی حاصل کی جاسکے گی۔ جب ضیاء الحق کے دور میں ڈیم کی مشینری کالا باغ پہنچا دی گئی تو پھر بھارت کا Rotating Fundحرکت میں آگیا۔ چند لوگوں نے واویلا شروع کر دیا کہ کالا باغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا، چنانچہ ڈیزائن میں تبدیلی کرکے ڈیم کی اونچائی 925 سے 915 فٹ کر دی گئی۔ میانوالی جہاں یہ ڈیم بننا ہے، سطح سمندر سے 668 فٹ بلند ہے اور نوشہرہ کی سطح سمندر سے بلندی 889 فٹ ہے۔کچھ قوم پرستوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ پنجاب سندھ کا پانی ڈکار جائے گا اور سندھ بوند بوند کو ترسے گا۔ کاش انہیں یہ بات اب بھی سمجھ آ جائے کہ اگر بھارت نے سندھو دریا کا رخ بھی موڑ دیا تو پھر سندھ کہاں سے پانی لے گا، اس تباہ کن صورت حال سے بچنے کا حل کالا باغ ڈیم، بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم سمیت سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر ہے۔ بدقسمتی سے کالا باغ ڈیم کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اب کوئی بڑاڈیم تعمیرنہ ہوسکے۔ اس طرح دشمن بغیرجنگ کے پاکستان کو ناکام ریاست بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ہمارے ملک کا مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے نئے ڈیموں کی تعمیر ۔۔۔۔پاکستان کی قومی سلامتی اور سالمیت کا مسئلہ ہے ضروری ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر کیلئے ہمارے تمام سیاستدان اور سٹیک ہولڈر یک دل ویک جان ہوجائیں اور کالاباغ ڈیم سمیت جہاں جہاں بھی ڈیم بنائے جاسکتے ہیں بنائے جائیں ۔

  • سیاسی میدان سکڑ رہا ہے

    سیاسی میدان سکڑ رہا ہے

    سیاسی میدان سکڑ رہا ہے
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم کا بل کامیابی سے منظور کر لیا گیا ہے۔ تاہم، مجوزہ ترمیم جو ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ کے افراد کو گرفتار کرنے یا احاطے کی تلاشی لینے کی اجازت دیتی تھی اسے بل سے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا ہے، کیونکہ اس طرح کے نکات ممکنہ طور پر ریاست پاکستان کو پولیس ریاست میں تبدیل کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہوتی، جو شخصی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، ماسواے قانونی کاروائی کے ذریعہ۔

    یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ترمیم شروع میں کیوں تجویز کی گئی تھی۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام عمران خان کی محاذ آرائی والی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر بڑے ہجوم کو جمع کرنے کی اجازت۔ اس کا مقصد ظاہر ہے کہ پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنا تھا،

    بڑھتی ہوئی محاذ آرائی 9 مئی کے المناک واقعات پر اپنے انجام کو پہنچی، اس دن ریاست پر حملہ بلاشبہ جنگی کارروائی تھی۔ یہاں تک کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے معاملے میں، انہیں انتخابی سرٹیفیکیشن میں تاخیر کے لیے قانون سازوں کو متاثر کر کے کیپیٹل تشدد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی تناظر میں، واقعات میں سرکاری املاک کو خاصا نقصان پہنچا، بشمول جناح ہاوس کے، جو ایک کھنڈر بن کر رہ گیا ہے۔ وہ لاہور میں کور کمانڈر کی سرکاری رہائش گاہ تھی۔ فوجی تنصیبات اور یادگاروں، بشمول جی ایچ کیو پر بھی حملے کئے گئے،

    اس دن کے واقعات نے واضح طور پر ایک سرخ لکیر کو عبور کیا۔ یہ واضح ہے کہ جمہوریت کو آزادی اظہار کے غلط استعمال کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول پوری دنیا میں درست ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کے ان اقدامات کے طویل مدتی نتائج انتہائی نقصان دہ رہے ہیں۔ اس نے سیاسی میدان کو نمایاں طور پر سکیڑ دیا ہے،سیاستدانوں، عام شہریوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھروسہ اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کئی دہائیوں میں محنت سے کمائی گئی ترقی کو ایک فرد کے اقدامات نے نقصان پہنچایا اور وہ ہے عمران خان

  • باجوڑ واقعہ،دشمن کی سازش، تجزیہ: شہزاد قریشی

    باجوڑ واقعہ،دشمن کی سازش، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک میں ویسے تو ضرب عضب سے لے کر ردالفساد تک اور دہشت گردی اور انتہا پسندی تک پاک فوج اور اس کے جملہ اداروں نے اور پولیس نے جس طرح قربانیاں دی ہیں اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا ہے اس کی مثال نہیں ،امریکہ سمیت عالمی دنیا بھی اس کی تعریف کرتی ہے۔ حال ہی میں محرم کے دوران پاک فوج، پولیس نے قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا عاشورہ بخیر و عافیت سے گزرا۔ لیکن باجوڑ کے دلخراش واقعہ نے ہلاکر رکھ دیا ہے ملک میں حالیہ دہشت گردی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو کبھی ڈوبتا ہے اور کبھی ابھرتا ہے۔ چینی نائب صدر کے دورہ پاکستان کے عین وقت پر باجوڑ میں دہشت گردی کا واقعہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دشمن نے کروایا ہے۔ اسلام آباد کو افغانستان کی حکومت سے احتجاج کرنے کے بجائے امریکہ کی توجہ اس جانب مبذول کرانی چاہئے دو برس قبل دوجہ معاہدے میں طالبان نے ضمانت دی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد امریکہ کی ذمہ داری ہے۔

    پاکستان نے افغانستان کے قیام امن کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں ایک عالم گواہ ہے کہ پاکستان نے جانی اور مالی قربانیاں دے کر اس خطے میں قیام امن کے لئے کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈر شپ کا چونکہ فقدان ہے اس سلسلے میں وہی پاک فوج اور جملہ ادارے اپنا کردار ادا کریں جنہوں نے لازوال قربانیاں دے کر ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کیا، ملک کی موجودہ سیاسی جماعتوں میں لیڈر شپ نہیں ہے پیپلزپارٹی میں نہ بھٹو ہے اور نہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید۔ مسلم لیگ (ن) میں نوازشریف نہیں اسی طرح باقی سیاسی جماعتوں کا بھی یہی حال ہے ملک کی سیاسی فضا الیکشن کو لے کر شکوک و شبہات کے غبار سے آلودہ ہیں۔ الیکشن ہوں گے وقت مقررہ پر ہوں گے یا نہیں ہوں گے کی بحث میں لگے ہیں جن سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات کو آئین میں لکھا صاف نظر نہیں آتا انہیں بین الاقوامی سیاسی اتار چڑھائو کیسے نظر آئیں گے ملک میں الیکشن 2023ء میں ہوں یا 2024ء میں امریکہ میں سابق صدر ٹرمپ، پاکستان میں عمران خان اور بھارت میں راہول گاندھی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ عوام کریں ٹرمپ ،راہول گاندھی اور عمران خان کی مشکلا ت میں اضافہ ہو گا یا کم یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ تاہم امریکہ بھارتی وزیراعظم مودی کو پہچان گیا ہے مودی چین کی دشمنی میں کبھی امریکہ اور کبھی روس دوڑتے ہیں مودی دوست نہیں دوست نمادشمن ہے۔

  • آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔قوم کے دل کی آواز  ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔قوم کے دل کی آواز ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اتحادی حکومت نے بوقت رخصت بہت سے ترمیمی بل منظور کئے ہیں ۔ ان ترامیم میں کچھ کے ساتھ یقینا اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے لیکن آرمی ایکٹ ترمیمی بل ۔۔۔۔ایک ایسا بل ہے جو پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے ۔اس بل کے ذریعے صرف فوج کے ڈسپلن کو ہی بہتر نہیں بنایا گیا بلکہ پاک فوج کے وقار اور احترام کو بھی تحفظ دیا گیا ہے۔اس بل کی چند اہم ترامیم یہ ہیں :
    کسی بھی دوہری شہریت والے کو فوج میں کمیشن نہیں ملے گا۔ پاکستان اور افواج کی سیکیورٹی اور مفاد سے متعلق معلومات افشا کرنے پر 5 سال قید ہوگی۔راز افشا کرنے والے شخص سے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ، برطرفی یا استعفے پر فوجی افسر 2 سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔حساس اداروں سے ریٹائرڈ افسران 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی شق کی خلاف ورزی پر 2 سال تک قید کی سزا ہوگی۔ترمیمی بل کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی افسر بغیر اجازت پاک فوج کے مفادات سے ٹکراﺅ کرنے والے ادارے میں ملازمت نہیں کرسکے گا ۔ کوئی حاضر سروس یا سابق فوجی الیکڑانک، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا پر پاک فوج کو اسکینڈلائز نہیں کرے گا،اسکینڈلائز کرنے پرآرمی ایکٹ کے تحت کارروائی اور پیکا قوانین کے تحت سزا ہوگی۔پاک فوج کو بدنام کرنے، نفرت ابھارنے یا نیچا دکھانے پر 2 سال تک سزا، جرمانہ یا دونوں ہو سکیں گے۔

    امر واقعی یہ ہے کہ یہ تمام ترامیم بے حد اہمیت کی حامل ہیں اور ہر محب وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہیں ۔ خاص کر موجودہ حالات میں جبکہ کچھ عناصر ایک منظم طریقے سے پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ۔۔۔۔لہذا ایسے ملک دشمن افراد کے خلاف قانون کا شکنجہ کسنا بے حد ضروری تھا ۔ اسلئے کہ پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ۔ جب بھی بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا پاکستان کی بہادر افواج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کیا ہے۔ 6ستمبر 1965ءکی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضاﺅں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کو دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ اسے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔

    الغرض 1965ءکی جنگ میں بھارتی افواج نے جس طرف سے بھی پیش قدمی کی اسے منہ کی کھانی پڑی اس سلسلہ میں بیشمار واقعات تاریخ کاحصہ بن چکے ہیں تاہم میں یہاں ایک واقعہ بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا جو مجھے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ برگیڈیئرنے سنایا وہ کہتے ہیں ہم لاہور کے محاذ پر تھے ہمارا توپ خانہ بھارتی توپوں کو دندان شکن جواب دے رہا تھا اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ جب بھی بھارت فوج کی طرف سے کوئی گولہ آتا تو ہمارے توپ خانے کا ایک فوجی فوراََ اپنی توپ کے ساتھ چمٹ جاتا میں نے اس سے پوچھا آپ ایسا کیوں کررہے ہو۔وہ کہنے لگا ” سر آپ جانتے ہیں کہ ہمیں ایک بہت بڑے دشمن کاسامنا ہے جس کی افرادی قوت بھی ہم زیادہ ہے اور اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہے ۔ اس محاذ پر ہمارے پاس بہت کم توپیں ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک توپ بھی ناکارہ ہوگئی تو ہمیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ جب بھارتی توپ کا کوئی گولہ ہماری طرف آتا ہے تو میں اپنی توپ کے ساتھ اسلئے چمٹ جاتا ہوں کہ توپ کو نقصان نہ پہنچے چاہے میرا جسم ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے ۔یہ اور اس طرح کے بیشمار واقعات ہماری بہادر افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دفاع ان کی اوّلین ذمے داری ہے اور وہ اِس مقدس فریضے کی ادائیگی میں ہر وقت مستعد اور چوکس رہتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت ان کا جذبہ شہادت ہے اور ”جہاد فی سبیل اللہ“کا ماٹو ہے۔ شہادت کا شوق اور جہاد فی سبیل ۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں ۔اس وقت بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد پھر سراٹھا رہے ہیں ۔ بہادر افواج کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کررہے ہیں ۔ جب ہم رات کے وقت اپنے گھروں میں اور اپنے بستروں آرام کی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے وطن کے جیالے پاسبان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ۔

    9مئی کے دن جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے ہوئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام واقعات 1970ءمیں ملک کے خلاف کی جانے والی دشمنی کا ہی تسلسل ہے ۔ضروری ہے کہ ان ملک دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ یہ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ ان کے ساتھ رعایت ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کا مطالبہ ہے کہ 9مئی کے سانحہ کے ذمہ دار وں، ان کے ماسٹر مائنڈاور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کےلئے کسی کو ملک کی سلامتی اور سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی جرات نہ ہو ۔