Baaghi TV

Category: سیاست

  • نواز شریف کی واپسی

    نواز شریف کی واپسی

    لندن میں چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد نواز شریف کی لاہور واپسی پر جوش و خروش دیکھے میں آیا، نواز شریف کی آمد سے قبل انہیں تین مقدمات میں 24 اکتوبر تک ضمانت دی گئی، زیر بحث پہلا مقدمہ توشہ خانہ کیس تھا، جہاں نواز شریف پر ابھی تک باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی، لیکن قانونی کارروائی جاری تھی۔ دیگر دو مقدمات، یعنی ایون فیلڈ کیس اور العزیزیہ کیس، میں ان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    العزیزیہ کیس میں، نواز شریف نے بیرون ملک علاج کرانے کے لیے ضمانت حاصل کی تھی، لیکن وہ وعدے کے مطابق واپس نہ آئے، ایسی صورتحال جس کے نتیجے میں عام طور پر ایک عام شہری کی فوری گرفتاری ہوتی ہے، جس کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے۔ تاہم نواز شریف کے کیس میں یہ اصول لاگو نہیں کئے گئے،

    اگرچہ نواز شریف کی واپسی جمہوری عمل کے لیے اہمیت کی حامل ہے، لیکن یہ جس انداز میں ہوا اس کے بارے میں اہم خدشات پیدا کرتا ہے، جس سے قانون کی حکمرانی کی ممکنہ بے توقیری کا اشارہ ملتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال عوام میں پولرائیزیشن کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ عوام کا ایک اہم حصہ اب بھی پاکستان تحریک انصاف حکومت کا حامی ہے.

    نواز شریف کی پاکستان واپسی ، پی ٹی آئی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی، پی ٹی آئی کی محاذ آرائی، فوج پر مسلسل تنقید، 9 مئی کا واقعہ اور سائفر کیس جیسے کیسز میں ملوث ہونے کی وجہ سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان دراڑ مزید بڑھ گئی،جس نے ملک کی سفارتی کوششوں پر نقصان دہ اثر ڈالا، یہ جزوی طور پر، پی ٹی آئی کی اپنی غلطی تھی جس نے نواز شریف کے لیے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ داخل ہونے کا راستہ پیدا کیا.

    احتساب کی بجائے معاشی بحالی کو ترجیح، نواز شریف کا بیانیہ تجزیہ کاروں کو یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہاہے کہ کیا وہ انتخابات میں تاخیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عوامی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ یہ اقدام ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور پاکستانی سیاست میں مختلف اداکاروں کی جانب سے استعمال کی جانے والی حکمت عملیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • نواز شریف کا نئے سیاسی سفر کا آغاز ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    نواز شریف کا نئے سیاسی سفر کا آغاز ، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے ملکی سیاست سے ذاتی انتقام، ذاتی چپقلش اور ہنگامہ آرائی کو دفن کر کے ایک نئے سیاسی اور جمہوری اور معاشی سفر کی طرف ملک کو گامزن کرنے اور مستحکم پاکستان کی منزل کے حصول کو اپنا ہدف قرار دیا ہے۔ دہائیوں سے ڈگمگاتی جمہوریت، ہچکولے کھاتی معیشت عوام میں بے یقینی کی کیفیت اور مہنگائی کا طوفان بلاشبہ سیاسی انتقام اور ذاتی پسند اور ناپسند کے تجربات ہی کے ثمرات ہیں جن کا خمیازہ نہ صرف عوام پاکستان اور سیاستدان بھگت رہے ہیں قوم کو ایک نئے آغاز کی ضرورت تھی ایک نئے عزم حوصلے کی ضرورت تھی نوازشریف نے وطن واپسی پر لاہور میں اپنے خطاب میں قوم کو ایک نئی منزل دکھائی۔ نوازشریف نے ملک کی سیاسی تاریخ میں اپنے ادوار میں موٹرویز ، میٹرو بس سروس، سی پیک اور دیگر ایسے میگا پراجیکٹ متعارف کروائے جن سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑے اور ملکی معیشت اس وقت دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت گردانی جاتی تھی۔ ایشین ٹائیگر بننے کا خواب اپنی تعبیر کے قریب تھا نوازشریف نے اپنے خطاب میں عوام کی ضروریات اور قومی ترقی کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت اور تدبیر کے ساتھ بھانپتے ہوئے جس پاکستان کا خواب دیکھا ہے اس میں ملک کے ہر فرد پر نوجوان مرد و زن کو اس کی تکمیل کے لئے حصہ ڈالنا ہوگا وقت آ پہنچا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ سے باز رہنا چاہئے۔ سب سے پہلے پاکستان اور اپنا پاکستان مضبوط کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ بلاشبہ نوازشریف نے قید و بند کی اذیتیں اپنے اور خاندان اپنے عزیز ترین رشتوں کی جدائی کے کے غم اور ستم سہے اس کے باوجود نوازشریف اپنے خطاب میں قوم کو برداشت ، تحمل، بردباری ، صبر اور شکر کی تلقین کر گئے۔ جو قابل تعریف ہے۔

  • نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد آج پاکستان پہنچ گئے ہیں، جیل میں بیمار ہونے والے نواز شریف لندن گئے توپھر چار سال تک پاکستان نہ آئے، بھائی شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیڑھ برس حکومت کی، نواز شریف واپس نہ آئے، عمران خان جیل گئے اور نگران حکومت بنی تو نواز شریف کا واپسی کی تاریخ کا اعلان ہوا، غیر یقینی کیفیت تھی ، عدالت میں حفاظتی ضمانت کی درخواستیں دائر ہوئیں تو عدالت نے مجرم کو ضمانتیں دے دیں،اسکے بعد نواز شریف آج پہلے اسلام آباد پہنچے وہاں سے لاہور آئے اور مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کیا

    نواز شریف سٹیج پر پہنچے تو مریم نواز آبدیدہ ہوئیں، نواز شریف بھی رو پڑے،شہباز شریف نے مختصر خطاب کیا اسکے بعد نواز شریف نے 58 منٹ خطاب کر کے ن لیگ کا نیا بیانیہ قوم کے سامنے رکھا، مینار پاکستان گراؤنڈ میں آج سٹیج سیکرٹری کے فرائض مریم نواز نے سنبھالے رکھے نواز شریف ایئر پورٹ آئے، شاہی قلعہ میں ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ ہوئی مگر مریم اپنے والد نواز شریف کو ملنے نہ گئی بلکہ سٹیج پر ہی انتظار کیا، مریم نواز شرکا کے جذبات کو گرماتی رہیں، لال سوٹ پہنے مریم کے آنکھوں سے آنسو آئے تو ساتھ کھڑی مریم اورنگزیب بھی اپنے آنسو نہ روک سکیں،نواز شریف نے اپنے خطاب میں قوم کو جو بیانیہ دیا اس میں بھارت سے دوستی، انتقام کے راستے بند، ملکی ترقی، آئین پر عملداری، اور متحد ہو کر چلنے کا ہے، نواز شریف آج اپنی تقریر کے آخر میں مولانا بن کر کارکنان کو نصیحتیں بھی کرتے رہے کہ درود شریف پڑھیں، تہجد پڑھیں اور رب سے مانگیں، نواز شریف نے اپنے خطاب میں عمران خان کا نام نہیں لیا لیکن عمران خان پر تنقید کرتے رہے، نواز شریف نے ایک بار اپنے خطاب میں خؤاتین کے بارے پوچھا کہ جلسہ گاہ میں کہاں ہیں، جب نواز شریف کو بتایا گیاکہ خواتین کا پنڈال اس طرف ہیں تو نواز شریف نے کہا کہ ہمارے جلسے میں خواتین آرام سے جلسہ سن رہی ہیں،کوئی ڈھول،ناچ گانا نہیں ہو رہا،

    نواز شریف جب اقتدار سے نکالے گئے تھے تو اس وقت نواز شریف نے نعرہ لگایا تھا کہ مجھے کیوں نکالا؟ وہ نعرہ آج بھی نواز شریف لگاتے نظر آئے، نواز شریف نے شرکاء سے روٹی، پٹرول،ڈالر کی قیمت پوچھی اور اپنے دور کی قیمتیں بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے اس لئے نکالا گیا کہ میرے دور میں روٹی سستی تھی، پٹرول سستا تھا، بجلی سستی تھی، لوڈشیڈنگ نہیں تھی،نواز شریف عوامی ہمدردی ھاصل کرنے کے لئے بجلی کا بل بھی ساتھ لائے اور اپنے دور کے بلوں کے ساتھ موازنہ کیا ،نواز شریف نے اپنے دور کی کارکردگی بتائی موٹرویز گنوائیں، تو وہیں شہباز شریف دور کی صفائیاں پیش کرتے رہے کہ جب وہ وزیراعظم تھے قیمتیں اس سے پہلے کی بڑھنا شروع ہو گئی تھیں،

    نواز شریف نے گرفتاری کے دنوں میں ہونے والے واقعات کا بھی تذکرہ کیا ،اہلیہ کی موت کی خبر کیسے ملی، مریم نواز کو کیسے بتایا، جیل سے نواز شریف کی آنکھوں کے سامنے سے مریم نواز کو کیسے گرفتار کیا، سب بتایا اور ساتھ اللہ سے دعا مانگی کہ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا،نواز شریف نے عمران خان کے دور حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کوئی منصوبہ، کوئی کارنامہ انکا ہے تو سامنے لاؤ، نواز شریف نےاپنے کارکنان کو یہ بھی نصیحت کی گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، نواز شریف نے آج جلسے کے شرکا سے عہد لیا کہ ملک کی تعمیر نو کریں گے اور پاکستان کو ایک بار پھر جنت بنائیں گے،

    نواز شریف نے اپنے خطاب میں الیکشن کا ذکر نہیں کیا نہ ہی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں الیکشن کروائے جائیں، پاکستان میں نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ جنوری کے آخر میں الیکشن کروائیں گے تا ہم ابھی تک واضح نہیں کہ الیکشن کب ہوں گے، نواز شریف اپنے 58 منٹ کے خطاب میں انتخابات کے حوالہ سے بالکل خاموش رہے،

    نواز شریف کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے مریم نواز نے لندن سے واپس آ‌کر ن لیگ کو متحرک کیا، اجلاس کئے اور ضلعی رہنماؤں کو پابند کیا گیاکہ وہ جلسے میں بندے لائیں گے، ایک فارم جاری کیا گیا جسمیں ہرگاڑی میں سوار افراد کی تعداد لکھنی تھی اور وہ تعداد مانیٹرنگ ٹیم نے چیک کی، ایک ایپ بھی ن لیگ نے بنائی تھی جس کے ذریعے ن لیگ یہ مانیٹر کرتی رہی کہ جلسہ گاہ میں‌جو لوگ آئے ان میں سے باہر کوئی نہ جائے،

    نواز شریف کے جلسے میں لاہوریوں نےکتنی شرکت کی؟ مینار پاکستان گراؤنڈ بھرا ہوا تھا تا ہم اس میں لاہوریوں کی تعدا د نہ ہونےکے برابر تھی، ن لیگ نے لاہور میں محنت کی، تاہم عوام کو نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکی، لاہوری گھروں میں رہے، سارا لاہور کھلا رہا، مارکیٹس بند نہیں ہوئیں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا،لاہور جسے ن لیگ کا گڑھ کہا جاتا تھا اس نے آج کے جلسے سے یہ ثابت کر دیا کہ گڑھ نہیں بلکہ گڑھا ثابت ہوا ہے، جلسہ گاہ میں بیرون لاہور سے آئے افراد تو موجود تھے لیکن لاہوریوں کی تعداد انتہائی کم تھی،اگر لاہوری جلسے میں جاتے تو پھر منظر ہی کچھ اور ہونا تھا تا ہم شہباز شریف دور حکومت کی مہنگائی ،بجلی کے اضافی بل، آٹے کی قیمت میں اضافہ، چینی کے بڑھتے نرخوں نے لاہوریوں کو گھروں پر ہی رہنے کو مجبور کیا.ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد بتائی جا رہی ہے، جس طرح استقبال کی مہم چلائی گئی، وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا، ڈی سی گاڑیاں بک کروا کر دیتے رہے،ہر ضلعے سے باقاعدہ حاضری لگوائی ،ٹکٹ ہولڈر کو پابند کیا گیا کہ بندے نہ آئے تو ٹکٹ نہیں،ایسے میں ڈیڑھ لاکھ شرکاء کی تعداد ن لیگ کی ایک طرف سے کامیابی بھی ہے اور ناکامی بھی کیونکہ یہ وہ بندے تھے جو ازخود نہیں آئے بلکہ زبردستی کہہ کہہ کر لائے گئے،

    نواز شریف کا نیا بیانیہ؟ کیا قوم اس سے متاثر ہو پائے گی؟ کبھی بھی نہیں، نواز شریف نے جلسے میں کوئی نئی بات نہیں کی ،بیانیے میں انتقام نہ لینے کی بات نئی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو گا کیونکہ ن لیگ جتنا انتقام لیتی ہے شاید اس سے زیادہ کوئی اور لیتا ہو، ماضی کھنگال کر دیکھ لیں، بینظیر کے بارے نواز شریف کیا کہتے تھے؟ خواتین کے بارے میں ن لیگی رہنما کیا کہتے رہے؟ کبھی ٹیکسی، تو کبھی ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا رہا،ایسے میں قوم کیسے یقین کرے کہ نواز شریف بدل گئے ہیں؟ نواز شریف متحد ہونے کی بات تو کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار تو ن لیگ بھی متحد نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی جو چند دن قبل لندن میں نواز شریف کو مل کر آئے وہ آج جلسے میں نظر نہ آئے، مفتاح اسماعیل پارٹی چھوڑ چکے، نواز شریف مریم کو آگے لانا چاہتے ہیں لیکن ن لیگ کے متعدد رہنما مریم نواز کو پسند نہیں کرتے ، جب ن لیگ گھر میں متحد نہیں تو وہ سیاسی جماعتوں کو، کیسے متحد کرے گی؟

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے امریکہ خائف کیوں؟ تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    چین کا قومی دن ہر سال یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ طویل خانہ جنگی سے چھٹکارے کے بعد 21ستمبر 1949ءکو چین کے عظیم راہنما ماﺅزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی جبکہ یکم اکتوبر چین کا قومی دن قراردیا گیا ۔ ہر سال یکم اکتوبر سے سنہری ہفتہ کا آغاز ہوتا ہے، جسے پوری قوم کی طرف سے زبردست تیاریوں کے ساتھ مناتی ہے۔ بیجنگ، شن جن، ہاربین، ہانگ جو اور شیامن سمیت وسیع وعریض ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسی طرح پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی اس مناسب سے تقریبات کااہتمام کیا جاتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو چین کی دوستی پر فخر ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان لازوال دوستی کا سلسلہ گزشتہ 74برسوں سے جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ 1951 ءمیں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں سے پاکستان اور چین کے مابین باہمی تعلقات کا آغاز ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ترہوتے چلے گئے د±نیا اور خطے میں سیاسی تغیرو تبدل سے بالا تر دونوں ملکوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی جو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی سطح پر چین کی حمایت کی ہے تائیوان، تبت ودیگر مسائل پر ہمیشہ چین کے اصولی موقف کی تائید کی۔ چین نے بھی پاکستان کی علاقائی سلامتی، آزادی اور حفاظت کے لیے کھلے دل کے ساتھ ہمیشہ مددو حمایت کی ہے ۔

    چین کی عظمت اور ابھرتے ہوئے عالمی کردار کو شاعر مشرق مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے بہت پہلے جان لیا تھا ۔1930ءکی دہائی میں چین میں جب مازﺅتنگ نے اپنی انقلابی تحریک کاآغازکیا اسی وقت شاعرمشرق علامہ محمداقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم ” ساقی نامہ “ لکھی تھی جس کے آخری دوشعریہ ہیں
    گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
    ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
    30ءکی دہائی میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے چینی قوم کے بارے میں جوکچھ کہاتھا آج پوری دنیااسے حرف بحرف درست ثابت ہوتادیکھ رہی ہے۔چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن چکا ہے اوریہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ چند سالوں میں چین امریکہ کے مقابلے کی طاقت بن جائے گا یا پھر امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔اس وقت چین جس جگہ کھڑاہے وہاں جنگ عظیم اول اوردوم کے وقت امریکہ کھڑاتھا۔اس وقت امریکہ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن رہاتھاجبکہ آج چین امریکہ کی جگہ لے رہاہے۔فرق یہ ہے کہ امریکہ کے عالمی طاقت بننے میں جنگ عظیم اول اور دوئم کابنیادی کردار ہے ۔یہ دونوںجنگیں امریکہ کے ساحلوں اورسرحدوں سے دوڑ لڑی گئی تھیں۔تمام متحارب ممالک میدان جنگ بن چکے تھے،ان کی فیکڑیاں اورکارخانے تباہ ہوچکے تھے ایسے وقت میں امریکہ کے ساہوکاروں نے اسلحہ بنابنا کربیچا اوراپنی تجوریاں دولت سے خوب بھریں۔یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگرجنگ عظیم اول اوردوم برپانہ ہوتیں توامریکہ عالمی طاقت کبھی بھی نہ بنتا۔جب امریکہ عالمی طاقت یاسپرطاقت بن گیاتواس کے بعدبھی اب تک اس کا رویہ دنیاکو لڑاﺅ۔۔۔۔اپنااسلحہ بیچو۔۔۔ اوراپنی تجوریاں بھرووالاہے۔امریکہ اس وقت ایسے خونخواردرندے کاروپ دھارچکاہے کہ جس کے منہ کوخون لگ جاتاہے اوروہ خون کی پیاس بجھانے کے لئے ہروقت شکارکی تلاش میں رہتاہے۔امریکہ کے دامن پرلاکھوں کروڑں انسانوں کاخون ہے ، حکومتوں کو گرانے اور بنانے کے گھناﺅنے الزامات ہیں، دنیا کے مختلف ممالک کے حکمرانوں کو قتل کروانے ، پھانسیوں پر لٹکوانے، جلاوطن کروانے کے بدنما داغ ہیں۔الغرض امریکہ کا رویہ خدائی خدمت گار اور تھانیدار والا رہا ہے، ہر ایک کے کام میں ٹانگ اڑانا ، ہر جگہ پنگے لینا ، بدمعاشی کرنا ، قتل وغارت کروانا، ڈاکے ڈالنااور اپنی تجوریاں بھرنا امریکہ کا وطیرہ رہا ہے۔اس کے برعکس چین کارویہ دنیاکے ساتھ مفاہمانہ،دوستانہ ،جیواورجینے دووالا ہے۔ چین دوسرے ملکوں کوروندنے اورپامال کرنے کی بجائے تجارت،معیشت اورصنعت پریقین رکھتاہے۔ چینی قوم ایک طرف صنعت،تجارت،حرفت میں ترقی کررہی ہے تودوسری طرف اپنی زبان کی ترویج کے لئے بھی بھرپورکوشش کررہی ہے اس لئے کہ انسانی تاریخ کی کسی بھی عالمی قوت کی طرح چین کو بھی ا س بات کا ادراک ہے کہ جب تک دنیا چینی زبان نہ سیکھے گی تب تک اس کا امریکہ کے مقابلے میں اپنی جگہ بنانا ناممکن ہے۔ اسی لئے چینی حکومت دنیا کو چینی زبان سکھانے کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک تو اپنی ضرورت کے تحت اب بچوں کو چینی زبان سکھانے کی طرف توجہ دے رہے ہیں لیکن بہت سے ملکوں میںچینی حکومت خوداپنی زبان کی ترویج واشاعت کے لئے کوشاں ہے اس مد میںچین اربوں یوآن سالانہ خرچ رہا ہے۔ بہت سے افریقی ممالک جہاں چین نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے ان میں ہر سال سینکڑوں چینی استاد بھیجے جاتے ہیں جو وہاں جا کر چینی زبان کے مقامی استاد تیار کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ چینی حکومت بہت سے ملکوں کے طلباءکیلئے وظائف مہیا کرتی ہے کہ وہ چین جائیں اور چینی زبان سیکھیں۔ ایسے تمام طلباءجو چین میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے جاتے ہیں انکے لئے سال چھ مہینے کا چینی زبان کا نصاب لازمی ہوتا ہے۔الغرض چین کی طرف سے اس ضمن میں نہایت سنجیدہ اور کامیاب کوششیں جاری ہیں۔

    پاکستان اورچین کے تعلقات بہت گہرے اورمضبوط ہیں وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط ترہوتے چلے جارہے ہیں خاص کرسی پیک کے بعدتعلقات کی مضبوطی اورگرم جوشی میں کئی گنااضافہ ہوچکا ہے۔سی پیک کے منصوبوں کے اجرا کے بعد پاکستان میں چینی زبان سیکھنے کا وفاق سمیت چاروں صوبوں میںرجحان بہت بڑھ چکا ہے ۔ چین کی مادی ترقی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے لیکن دنیا میں شائد چینی ہی ہیں جن کی انگریزی سب سے کمزور ہوگی۔ انگریزی زبان میں سب سے زیادہ مہارت رکھنے پر فخر کرنے والے بھارت کی ترقی چین کے مقابلے میں ناقابلِ یقین حد تک کم ہے۔ وجہ سیدھی سی ہے چین نے اپنی زبان پر فخر کرنا سیکھا اور اس کو فروغ دیا۔ کئی عشروں تک فروغ کا عمل اندرونی حد تک محدود رہا۔ شائد ہی دنیا کی کسی زبان کی کوئی قابلِ ذکر کتاب ہو جو چینی زبان میں ترجمہ ہو کر ایک عام چینی کی دسترس میں نہ لائی گئی ہو۔ انٹر نیٹ کا زمانہ آیا تو ہر طرح کی ویب سائٹس کو چینی زبان میں متعارف کروایا گیا اور آج گوگل جیسی تحقیقی ویب سائٹ سے لیکروکی پیڈیا جیسی معلوماتی ویب سائٹ تک اور فیس بک جیسی سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے لیکر یاہو اور جی میل جیسی ذاتی رابطے کی ویب سائٹ تک ، ہر طرح کی انٹر نیٹ کی سہولتیں ایک عام چینی کو اپنی زبان میں میسر کی گئی ہیں اور پھر یہ تمام سہولتیں چین کے اپنے دائرہ اختیار میں ہیں ، کوئی دوسرا ملک جب چاہے اس سے یہ سہولتیں واپس نہیں لے سکتا یا ان ویب سائٹس میں موجود معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا(جیسا کہ ہمارے معاملے میں ہے)عرض صرف اتنی ہے کہ ہمیں چینی زبان سیکھنے کے معاملے میں وہ غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں جو ہم نے انگریزی کے معاملے میں کی ہیں اور کرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں چینی زبان کے ساتھ ساتھ فرانسیسی، جرمن، روسی، جاپانی اور دوسری اہم زبانیں بھی اپنے بچوں کو سکھانی چاہئیں لیکن ایک بامقصد اور وضع شدہ پروگرام کے ساتھ اور صر ف اپنے قومی مفاد میں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی قومی زبان اردو کو بھی اس کااصل مقام دیں ۔آخری بات یہ ہے کہ ہم اپنے ہمسائے اور قابل فخردوست چین سے سیکھیں کہ کیسے انھوں نے معاشی ترقی کی اور اپنے ملک کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جو کامیابی اور عزت کا راستہ ہے ۔ چین کی لیڈر شپ نے اپنے ملک کو جس راستے پر ڈالا اسے دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ۔۔۔۔اب چین ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بننے جارہا ہے ۔ اس کامیابی پر ہم چین کی لیڈر شپ اور چینی عوام کو خراج تحسین اور مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔

  • عمران خان میرے بغیر حکومت نہیں بناسکتے تھے. پرویزخٹک

    عمران خان میرے بغیر حکومت نہیں بناسکتے تھے. پرویزخٹک

    عمران خان کا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی حکومت نہیں بناسکتے تھے، پرویزخٹک

    سربراہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عمران خان کا ساتھ نہ دیتا تو وہ کبھی حکومت نہیں بناسکتے تھے، پی ڈی ایم پر لوگ مزید اعتبار نہیں کرسکتے جبکہ سوات میں کارکنوں سے خطاب میں پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت میں آکر چیئرمین تحریک انصاف کا رویہ بدل گیا، سابق وزیر اعظم کی حکومت ترقی لاتی تو آج پنجاب کی یہ حالت نہ ہوتی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹیاں عوام سے وعدے کرتی ہیں اور پھر ہمیشہ منشور پر سمجھوتا کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک پارٹی بنائی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین حقیقی جمہوری، عوامی پارٹی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روپرٹ مرڈوک: کیا فاکس نیوز اور ڈومینین کیس سے انہیں نقصان پہنچے گا؟
    امریکی ڈالر مزید نیچے آگیا
    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست
    پاکستان اورایتھوپیا کے درمیان پروازوں کی ازسر نوبحالی خوش آئند ہے،چیئرمین سینیٹ
    جبکہ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے آزمائی ہوئی پارٹی میں جانے کے بجائے اپنی پارٹی بنائی، جلد پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو صوبے کی بڑی پارٹی بنا کردم لیں گے، واضح رہے کہ پرویز خٹک کے کارکنوں سے خطاب سے قبل رہنما ن لیگ حبیب علی شاہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین میں شامل ہوئے۔

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو درپیش چیلنجز

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس عمر بندیال کے بعد پاکستان کے 29 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ تاہم، انہیں بہت سے اہم مسائل ورثے میں ملے ہیں جو فوری توجہ اور حل کے طالب ہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جن اہم ترین خدشات کو دور کرنے کی ضرورت ہے ان میں سے ایک وہ تاثر ہے جو ان کے پیشرو کے دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بنچ بنیادی طور پر ججوں کے نظریات لے کر تشکیل دیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں متوقع نتائج نکلتے ہیں، خاص طور پر سابق وزیر اعظم خان کے معاملات میں۔ اس طرز عمل نے سپریم کورٹ کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا، اور اس کے فیصلوں کو اکثر عوام کی طرف سے شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تاثر کو تبدیل کرنے کے لیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نہ صرف بینچ کی تشکیل کو متنوع بنانا چاہیے بلکہ مزید جامع نقطہ نظر کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ایک مثالی مثال مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کے اختیارات کو روکنے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق ایک اور قانون سازی کا جائزہ لینے کے لیے فل کورٹ کے قیام کی بار بار درخواستیں ہیں۔ پچھلی انتظامیہ کے دوران ان درخواستوں کو مسلسل مسترد کیا گیا۔

    یہ مسئلہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجرز) ایکٹ 2023 سے براہ راست جڑا ہوا ہے، جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مفاد عامہ کے کسی بھی معاملے کو تین سینئر ججوں پر مشتمل بنچ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ایک قابل ذکر اقدام میں، سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بنچ نے 13 اپریل کو اس قانون کے نفاذ کو معطل کر دیا۔

    ایک اور اہم چیلنج جس کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سامنا ہے وہ ہے 56,000 سے زائد مقدمات کا، کافی پسماندہ افراد جو حل کے منتظر ہیں۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں، یہ مقدمات اکثر سابق وزیر اعظم خان کی طرف سے سیاسی معاملات مسلسل لانے کی وجہ سے رہ گئے اور ان کے فیصلے نہ ہو سکے۔ مسٹر سے خطاب کرنے کے لئے "آدھی رات کی عدالتوں” کے تصور کا تعارف۔ خان کی شکایات نے ایک مخصوص فرد کے ساتھ ترجیحی سلوک کا تاثر پیدا کیا۔ لارڈ چیف جسٹس ہیورٹ کے الفاظ میں، "انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے” (Rex v. Sussex Justices، [1924] 1 KB 256)۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مختلف شہروں میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بند
    حلقہ بندی کمیٹیوں ہر صورت 26 ستمبر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
    سانحہ بلدیہ ٹاؤن:طلبی کے باوجودعدالت سیکرٹری داخلہ اور آئی جی کے پیش نہ ہونے پر برہم
    پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر فنکاروں کا رد عمل
    اسلام آباد پولیس اور غیر ملکی شہریوں کے درمیان جھگڑا؟
    یقینا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بینچ کی تشکیل میں اصلاحات، فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا، اور کیسز کے بھاری بھرکم بوجھ کو تیزی سے حل کرنا شامل ہیں۔ ان کو اپنی مدت کے دوران دیکھتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی سالمیت اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ان چیلنجوں کو کس حد تک مؤثر طریقے سے نمٹتے ہیں۔

  • فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    مولانا فضل الرحمان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی غالب موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔ یہ مسلح گروہ خطے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتا ہے،منصوبوں کی تکمیل کے لئے لاگ کا 10 فیصد حصہ مانگا جاتا ہے اور نہ ملنے کی صورت میں منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، فاٹا کے خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں انضمام کے بعد سے، ٹی ٹی پی نے اس کی علیحدگی، اور اپنی سابقہ خود مختار حیثیت پر واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    15 اگست 2021 کو طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، نہ صرف فاٹا بلکہ صوبہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 21 ماہ کے دوران ایسے واقعات میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سیکورٹی چیلنجز پاکستان کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

    ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک ریسرچ فیلو عبدالباسط کا مشاہدہ ہے، "یہ پورا خطہ غیر مستحکم ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان۔ یہ افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کا ایک اثر ہے۔”

    ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی کوششوں نے بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے اور حملوں کو تیز کرنے کے مواقع فراہم کیے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس صرف دو ہی قابل عمل آپشن رہ جاتے ہیں۔ پہلی بات حقانی کی طرف سے بیان کی گئی ہے، جو دلیل دیتے ہیں، "پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے کہ پرتشدد بنیاد پرست، اسلام پسند صرف ناراض لوگ نہیں ہیں. جنہیں مذاکرات کے ذریعے منایا جا سکتا ہے۔” [The New Humanitarian] اس آپشن میں ان شرپسند عناصر کے خلاف ایک جامع فوجی مہم شروع کرنا شامل ہے۔دوسرے آپشن میں بات چیت کے ذریعے تصفیہ شامل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آپشن پاکستان کے لیے مثالی حل پیش نہیں کرتا۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکراتی تصفیہ کی ماضی کی کوششوں کو جب بھی عسکریت پسندوں کے لیے موزوں تھا نظر انداز کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی مزید رعایتوں کا مطالبہ نہیں کرے گی. ممکنہ طور پر ریاست کو ایک غیر یقینی صورت حال میں ڈالے گی، اور ایک پریشان کن مثال قائم کرے گی۔ ان عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے آپشن کے متعلق، یہ تبھی کارگر ثابت ہو گا جب سرحد پار سے دراندازی کے ہر راستے کو سختی سے سیل کر دیا جائے تاکہ بیرونی حمایت کو ختم کیا جا سکے۔

    ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لئے ، ایک پائیدار حل تلاش کرنا پیچیدہ اورغیریقینی سی صورتحال ہے،ان سیکورٹی خدشات کو حل کرنے کے لئے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے،

  • یوم دفاع ،سوشل میڈیا اور مہنگائی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    یوم دفاع ،سوشل میڈیا اور مہنگائی،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پوری قوم نے یوم دفاع منایا یہ دن شہیدوں کا دن ہے کل بھی یوم دفاع تھا جس کو چھ ستمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور آج بھی یوم دفاع ہے۔ وطن عزیز اور قوم کی سلامتی کے لئے پاک فوج اور جملہ ادارے سرحدوں پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ بھارت آج کے اس ایٹمی طاقت کے حامل ملک اور پاک فوج اور اس کے جملہ اداروں کی بدولت فوجی جارحیت نہیں کرسکتا اس نے دوسرا محاذ کھول دیا ہے جسے سوشل میڈیا کہا جاتا ہے بدقسمتی سے وطن عزیز میں آج بھی میر جعفر اور میر صادق جیسے کردار موجود ہیں تاہم ہمارے قومی ایمان کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک ہمارا دشمن زندہ ہے ہمارا یوم دفاع بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔

    بلاشبہ اس وقت مہنگائی اپنے عروج پر ہے سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ چینی اگر مہنگی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ میں کون ملوث ہے؟ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں عوام کو جوابدہ ہیں اور بیوروکریسی بھی جوابدہ ہے؟ کیا شوگر ملیں عام آدمی کی ہیں؟ کیا ڈالر کی اسمگلنگ میں عام آدمی ملوث ہے؟ ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کا مقروض عوام نے بنایا ہے؟ ہرگز نہیں اس میں بڑے بڑے صنعتکار‘ سرمایہ دار اور ان کے ہم پیالہ بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں اور سیاستدان بھی۔ قارئین کو یاد ہوگا سابق صدر جنرل پرویز مشرف مرحوم کے دور حکومت میں وکلاء کی ایک تحریک شروع ہوئی جس کو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سینئر وکلاء نے قیادت کی تھی اور دلفریب نعرہ تھا ریاست ہوگی ماں جیسی کیا پھر اس دلفریب نعرے پر کسی نے عمل کیا؟ اسی طرح سیاسی جماعتیں الیکشن کرائو کا نعرہ لگاتی رہیں کیا سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے کبھی جمہوریت کو مستحکم کیا؟۔ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی۔ قانون کی حکمرانی کے لئے کوئی عملی اقدامات کئے؟ اقتدار میں آکر ملکی وسائل پر توجہ دی؟ عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دی ریاست کو درپیش مسائل پھر توجہ دی گئی؟ آئین پاکستان گلہ کرے تو کس سے کرے۔ حصول اقتدار اور کون بنے گا وزیراعظم کی جنگ سیاسی جماعتوں کے درمیان دوبارہ شروع ہوچکی ہے۔ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی بدولت آج پاکستان اور عام آدمی بھگت رہا ہے۔ اس میں ہماری سول بیوروکریسی بھی شامل ہے۔ ذمہ داران ریاست نے گزارش ہے کہ بہت ہوچکا۔ بقول ساغر صدیقی
    چراغ طور جلائو بڑا اندھیرا ہے
    ذرا نقاب اٹھائو بڑا اندھیرا ہے
    وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں انہیں کہیں سے بلائو بڑا اندھیرا ہے۔
    فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارا کہیں سے ڈھونڈ کے لائو بڑا اندھیرا ہے۔

  • فرانس کے افریقہ کے ساتھ ناکام تعلقات

    فرانس کے افریقہ کے ساتھ ناکام تعلقات

    فرانس انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دائرے کار میں، برکینا فاسو اور مالی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کو مزید آگے بڑھا رہا ہے، جس کی وجہ سے حال ہی میں دونوں ممالک سے فرانسیسی فوجیوں کا انخلا ہوا۔ بہت سے لوگوں نے فرانس کی جانب سے اپنی سابق کالونیوں پر دباؤ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
    جنوری 2023 میں، برکینا فاسو نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ذریعہ فرانسیسی فوجیوں کو اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کی اجازت دی تھی۔ ویگنر گروپ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے، جو کہ ایک روسی نجی ملٹری کمپنی ہے، جس کے روسی حکومت سے تعلقات ہیں، فرانس کے ساتھ معاہدے کی تحلیل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    مالی میں ویگنر گروپ کی کارروائی، سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں اس کے پہلے کی کارروائیوں کی عکاسی کرتی ہے، جو افریقی ریاستوں کے لیے تیار کردہ اسٹریٹجک منصوبہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ روس، ویگنر گروپ کے ساتھ، پسندیدگی حاصل کر رہا تھا کیونکہ فرانسیسی فوج مطلوبہ رفتار سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد میں ناکام رہی۔ نئے شراکت داروں کی تلاش کی خواہش باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے، اپنی سابقہ کالونیوں کے تئیں فرانس کے سمجھے جانے والے تکبر سے پیدا ہوئی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی مدد حاصل کرنے اور سونے کی کانوں جیسے قیمتی وسائل پر کنٹرول دینے کا عمل منفرد نہیں ہے، کیونکہ یہ فرانس سمیت دیگر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
    آج چین افریقی ممالک کے اقتصادی اور تجارتی منظرنامے میں ایک غالب قوت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ تاہم، چین کی شمولیت کے حوالے سے سوالات باقی ہیں، جن میں "قرضوں میں پھنسی معیشتوں” کی ممکنہ تخلیق کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
    افریقی ریاستیں اپنی مخلوط معیشتوں پر فخر کرتی ہیں، اور انہیں کڑی مشکلات کا سامنا ہے، پھر بھی 2023-24 میں ان کی متوقع ترقی کے بارے میں پرامید ہے، جو دنیا کی دوسری تیز ترین شرح شمار ہوتی ہے۔ ایک امید افزا اشارہ، ملازمت کی تخلیق میں اضافہ، پیداوار میں اضافہ، نئی صنعتوں کا ابھرنا، اور صارفین کی قوت خرید میں اضافہ ہے۔ مثلا، جنوبی افریقہ نے 2023 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 784,000 ملازمتوں (5.0%) میں قابل ذکر اضافہ کیا۔ان پیش رفتوں کی روشنی میں، افریقہ تیزی سے عالمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے

  • شکریہ پی ٹی آئی،امریکہ پاکستان کے فنڈز بند کرے گا؟

    شکریہ پی ٹی آئی،امریکہ پاکستان کے فنڈز بند کرے گا؟

    2023 میں، پاکستان تحریک انصاف نے واشنگٹن میں ایک پی آر فرم کی خدمات حاصل کیں، تحریک انصاف کی جانب سے یہ الزام لگایا کہ امریکی حکومت کی جانب سے سائفر کے ذریعے ان کی حکومت کو گرانے کی ہدایت کی گئی جس کی وجہ سے ان کی حکومت غیر مستحکم ہو گئی ہے ، یہ متنازعہ مسئلہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی دونوں کے لئے قانونی کارروائی کا باعث بنا ہے۔ پی آر فرم Praia Consultants LLC واشنگٹن میں قائم ادارہ ہے،جس نے چھ ماہ کی مدت کے لیے $8,333 ماہانہ کی شرح سے معاہدہ کیا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد رائے عامہ پر اثر و رسوخ حاصل کرنا ہے

    تحریک انصاف کی جانب سے امریکہ میں پی آر فرم ہائر کرنے کے فیصلے کے نتائج اب عوام کے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی کی کوششوں کے ابتدائی نتائج کو ظاہر کیا گیا تھا۔ سجاد برکی نے ایک ٹویٹ میں کانگریس مین گریگ کیسر کی میزبانی کرنے پر طارق مجید کا شکریہ ادا کیا۔ اس ملاقات کے دوران کانگریس مین کیسر نے پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی حمایت کا وعدہ کیا۔ برکی کے ٹویٹ میں یہ بھی روشنی ڈالی گئی کہ بلنکن ایک ایسے بل کی مشترکہ سرپرستی کر رہا ہے جس کا مقصد فوجی امداد کو ملک میں انسانی حقوق کے حالات سے جوڑنا ہے۔

    sajjad bark

    2 ستمبر 2023 کو ڈان اخبار نے رپورٹ کیا کہ ٹینیسی کے ریپبلکن اینڈی اوگلس نے ایوان نمائندگان کی سالانہ تخصیصی قانون سازی میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ مجوزہ ترمیم کسی بھی "سیاسی اختلاف کے خلاف کریک ڈاؤن” کی حوصلہ شکنی کے ارادے سے پاکستان کے فنڈز میں کمی کی کوشش کرتی ہے۔

    کانگریس کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو سراہا نہیں جا سکتا، چاہے بل پاس ہو یا نہ ہو۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نے گرمجوشی اور تناؤ دونوں کے ادوار کا تجربہ کیا ہے، جو کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سے جاری چیلنج میں ختم ہوا۔

    ہلیری کلنٹن پاکستان میں امریکی مداخلت کے حوالے سے اپنے تحفظات کے بارے میں آواز اٹھاتی رہی ہیں، جیسا کہ درج ذیل ویڈیو میں ثبوت ہے:

    آج پاکستان کے قریبی اتحادی امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کی وجہ سے دو طرفہ تعلقات کو مزید پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ مزید برآں، تعلقات کو پاکستان کے موجودہ "پولی کرائسس” کو نیویگیٹ کرنا چاہیے، جس کی خصوصیات اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی چیلنجز ہیں۔ {رائے}

    بہت سے پاکستانیوں میں امریکہ مخالف جذبات بہت گہرے ہیں، اور ان جذبات کا علما کرام نے فائدہ اٹھایا اور حال ہی میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس میں شدت پیدا کی۔ امریکہ کے لیے یہ نازک وقت ہے کہ وہ اس خطے میں اپنے اقدامات اور پالیسیوں پر احتیاط سے غور کرے۔

    جیسا کہ جغرافیائی سیاسی منظر نامے کا ارتقا ہو رہا ہے، دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کثیر الجہت مسائل کو حل کرنے کے لیے امریکی براہ راست مداخلت کے بغیر تعمیری بات چیت اور سفارتی امور میں مشغول ہوں،