Baaghi TV

Category: تعلیم

  • آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

    آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

    اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کے طلبہ و طالبات بےادب ہو گئے ہیں
    مگر حقیقت یہ ہے کہ طالبِ علم نہیں بدلے، ہمارا رویہ اور طریقۂ تربیت بدل گیا ہے۔
    میں نے اپنے 16 سالہ تعلیمی سفر میں اور تین سالہ تجربے میں وہ وقت بھی دیکھا ہے
    جب طلبہ و طالبات اساتذہ کے سامنے ادب سے پیش آتے تھے
    اور استاد کو والدین، بڑی بہن، بڑے بھائی اور رہنما کا درجہ حاصل تھا۔وہ ادب خوف سے نہیں بلکہ استاد کے کردار، وقار اور انصاف کا نتیجہ تھا۔
    تعلیم میں یا تو صرف پیسہ کمایا جاتا ہے یا عزت اور جو استاد عزت کماتا ہے وقت اس کے لیے راستے خود بنا دیتا ہے۔
    طلبہ و طالبات کو صرف فیس یا رول نمبر نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور امانت جانیں۔ان کی بات سنیں نہیں سمجھیں۔ انہیں ڈرا کر نہیں، سمجھا کر سکھائیں۔نصاب کے ساتھ نصیحت بھی دیں،اور انہیں عزت دیں تاکہ وہ اعتماد سیکھیں۔

    یاد رکھیں، جو عزت پاتا ہے، وہی عزت کرنا سیکھتا ہے۔آج کے طلبہ و طالبات بگڑے ہوئے نہیں وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ناکامی کا خوف، غلط راستے کا ڈر، نفسیاتی دباؤ، مالی عدم تحفظ اور احساسِ کمتری۔
    ایک استاد کا اصل امتحان،ان خوفوں کو بڑھانا نہیں، کم کرنا ہے۔انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ادارہ اور استاد ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔طالبِ علم کو ڈانٹ کر نہیں،سمجھا کر سنوارا جاتا ہے۔حکم دے کر نہیں رہنمائی دے کر مضبوط بنایا جاتا ہے۔ایک استاد صرف مضمون نہیں پڑھاتا وہ کردار بناتا اور مستقبل سنوارتا ہے۔
    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ و طالبات باادب، بااعتماد اور باکردار ہوں ۔ تو ہمیں پہلےباوقار استاد اور ذمہ دار رہنما بننا ہوگا۔

  • بچوں کی تربیت اورتعلیمی نظام کا کردار،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    بچوں کی تربیت اورتعلیمی نظام کا کردار،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    ہر ترقی یافتہ ملک کے پیچھے عمدہ نظام تعلیم ہوتا ہے جو تربیت کے زریعے اپنی قومی زبان میں ترقی سے منفرد مقام حاصل کرتے ہیں آج دنیا میں سچائی اور امانت داری میں پہلے نمبر پر آنے والے ملک جاپان کے نظام تعلیم پر غور کریں تو علم ہوتا ہے کہ جاپانی تعلیمی ٹائم ٹیبل پانچ سے چھ گھنٹے کے اوقات کار میں محدود ہے۔طالب علموں پر ہوم ورک گھرلے جانے پرپابندی ہے یعنی سکول کا کام سکول میں ہی مکمل کروایا جاتا ہے۔یعنی وہ تعلیمی چورجو اپنی نالائقی زدہ کمزوریاں ہوم ورک دے کر والدین پر ڈال دیتے ہیں اس کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ ٹیچر کی قابلیت کا پہلا امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ تعلیم دینے سے پہلے تعلیم کا تعارف اور محبت طالب علم کے دل و دماغ میں اُتارتا ہے اگر طالب علم تعلیم سے بھاگ رہا ہے تو سمجھیں اسے حقیقی استاد نہیں ملا۔جاپانی تعلیمی نظام میں بیشتر سالانہ اوقات کار میں کوئی نصاب ہے ہی نہیں۔بچوں میں تخلیقی اصلا حتیں سوالات اور جوابات کے زریعے پیدا کی جاتیں ہیں۔اس کے علاو ہ والدین پر لازم ہے کہ بچوں کو عام پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سکول لایا جائے گا اس اصول کی وجہ سے تمام طالب علم اپنے آپ کو سب کے برابر سمجھتے ہیں تاکہ کسی امیر میں تکبر نہ پیدا ہو اور کسی غریب میں احساس کمتری نہ پیدا ہو۔سب اچھا انسان ہونے کو فخرکی بات سمجھیں۔اگر کوئی بچہ ذاتی گاڑی پر سکول آتا ہے تو پرنسپل اسے گیٹ سے ہی واپس بھیج دیتے ہیں۔ ملکی وقومی نظم و ضبط کی پاسداری کرنا سب پر فرض ہے۔یہ اصول وضوابط بچے کی ابتدائی عمر میں ہی تعلیمی نظام کے ذریعے شخصیت سازی میں کردار اداکرتے ہیں اس کے علاوہ بچے پر لازم ہے کہ وہ فنون لطیفہ میں سے ادب، پینٹنگ، آرٹ، مصوری، میوزک، و دیگر مشغلوں میں سے اپنی پسند کی وابستگی رکھتے ہوئے لازمی مہارت حاصل کریں جو شخصیت سازی کی وجہ بنتا ہے۔ جاپانی تعلیمی اداروں میں ہر چالیس منٹ کے بعد بریک لی جاتی ہے جیسے ریسرچ سے منسلک کیا جاتا ہے۔تاکہ طالب علم ایجادات کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی قابلیت سے نئی ایجادات پر کام کریں جس کی وجہ سے جدت کا عمل جاری رہتا ہے۔

    علم جاننے تک ہی محدود نہیں رہتا وہ کرنے کے مقصد کو عملی صورت میں پیش کرنے کا نام ہے۔ترقی یافتہ ممالک کے پیچھے تعلیم کا ہی ہاتھ ہے اور تعلیم بھی وہ جو خود ترقی کے تقاضوں سے وابستہ رہتی ہے تبھی دیگر شعبہ جات میں انقلابی تبدیلیاں رونماہوتی ہیں یہ لوگ دنیا کومنفرد معیار ی سہلوتیں دیتے ہوئے معاشی طاقت میں جینے کے مزے لیتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کو مفت یا انتہائی سستا و آسان رکھا جاتا ہے ٹیچرز اور تعلیمی اداروں کے اخراجات حکومتیں مہیا کرتی ہیں پھر یہاں سے کامیاب ہونے والے بچے اپنے ملک کو ترقی کا نتیجہ دیتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں انتظامی امور پر فائز لوگوں کو ان کی قابلیت کی بجائے سیاسی خدمات دیکھ کر عہدوں پر بیٹھا دیا جاتا ہے۔ جبکہ شعبہ تعلیم میں ماہر تعلیم لوگوں کوہی وزارت سے لیکر تمام اصلاحی زمہ داریوں پر اختیارات دئیے جانے چاہیں۔ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے ملک بھر میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کاروبارکی شکل اختیار کر چکے ہیں اچھی تعلیم مہنگی تعلیم بن چکی ہے جس کی منزل نوکر بننے والی نوکری سے جڑی ہوئی ہے۔ہر صاحب اولاد والدین حصول تعلیم کے لیے مشکل ترین مسائل میں مبتلا ہیں بچوں کی داخلہ فیس ماہانہ فیس پیپر منی کتابوں کاپیوں پنسل یونیفارم ٹرانسپورٹ بچوں کی پوکٹ منی لنچ ہوم ورک ٹیوشن فیس سکول ٹور ایکٹیوٹی جیسے اخراجات کے بھاری بوجھ کے ساتھ روزانہ ماں کا باپ کی سکول چھوڑنے لانے کی ڈیوٹی بھی شامل حال ہے سارے اخراجات کو جمع کیا جائے تووالدین کی زندگی اور زندگی کا سرمایہ داو پہ لگا رہتا ہے اس کے باوجود جب بچہ کسی ڈگری تک پہنچتا ہے تو اس کی نوکری کے لیے بھاری رشوت و شفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔

    پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اتنی بڑی قربانیاں دینے کے باوجود جب صوبے بھر میں کوئی بچہ اول پوزیشن پر آتا ہے تو وہ کسی سرکاری سکول میں پڑھنے والے کسی غریب مزدور کا بچہ ہوتا ہے کیونکہ اسے فیل ہونا سکول سے نہیں زندگی سے فیل ہونے کے احساس میں مبتلا کرکے محنت کرواتا ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں بچے فیل نہیں ہوتے ساری کلاس پوزیشن لیکراگلی کلاس میں منتقل ہو جاتی ہے۔اس کے باوجود ہمارا ملک و معاشرہ اگر چہ کم سہی مگر جتنی بھی اچھی اور درست سمت پر چل رہا ہے اس کی وجہ اچھے استاد ہی ہیں جو اپنی اعلیٰ ظرفی سے شاگرد کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہتے ہیں دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا۔آج بھی ایسے استاد ہیں جو اپنے تنخواہ سے کمزور بچوں کے خالی زہن کو چراغ سمجھ کراپنی قربانی کا تیل بھرکے معاشرے کے اندھیروں میں انسانیت کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ان کی تربیت اپنے طالب علموں کوانسانیت کا درس سیکھاتی ہے۔احساس کی دولت سے دل کی جیب بھرنے والے استاد بناتے ہیں کہ بریک کے وقت کسی کے ٹفن سے سوکھی روٹی نکلے تو اس کو کمتر سمجھنے کی بجائے اپنی گھی والی روٹی پر یوں شکرادا کرنا ہے کہ اس کو بانٹ لیا جائے۔
    کسی غریب دوست کے پھٹے کپڑے دیکھ کر اپنے کپڑے دے کر بھرم رکھنے والے کوخدا عزت کا لباس پہناتا ہے۔ کسی افسردہ چہرے کو اپنی مسکراہٹ دینے کے لیے کہنا پڑتا ہے کہ تم نہ ہنسے تو میں رو پڑوں گا۔تربیت سیکھاتی ہے کہ میں نے اپنے جیب خرچ سے اپنے دوست کی چھوٹی سی ضرورت پوری کرکے بڑی نیکی کما نی ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ دوسروں کی دل آزاری سے بچنے کے لیے مزاق کرنے اور مزاق اُڑانے میں فرق کیسے رکھا جاتا ہے۔ تربیت سیکھاتی ہے کہ آپ کے لیے دعا کرنے والے ہاتھوں کا بوسہ لینا قبولیت کو جلدی پورا کروا لیتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اپنی ضرورت کا نوالہ کسی بھوکے کے منہ میں ڈالنے سے رزق خودآپ کے حق میں برکت کی دعائیں کرنے لگتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اپنے جوتے کسی کے ننگے پاؤں میں پہنانے سے آپ کی ضرورتیں آپ کی جانب چلنے لگتی ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ نیک اعمال لکھنے والے قلم سے بھی زیادہ قیمتی وہ قلم ہے جوکسی کے علم سیکھنے میں آپ بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کسی محروم بچے کو اپنے کھلونے دینے سے اُسے خوشی اور آپ کو سکون ملتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرکے اُسے چوری کرنے سے بچانا بھی کردار سازی کا طریقہ ہوتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کیڑوں مکوڑوں پرندوں کو کھانا ڈالنا تمہارے لیے خدا کے دئیے ہوئے رزق کی شکرگزاری ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اچھی نیت اور سوچ رکھنے والے کی زبان سے ادا ہونے والے لفظ زخمی دلوں پر مرہم کاکام کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ انسان وہ ہیں جو دوسروں کا درد اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ جس طرح خدا کو کسی نے نہیں دیکھاوہ اپنی رحمت اورقدرت سے پہچانا جاتا ہے ایسے ہی انسان بھی اپنی زبان اور کردار سے پہچانا جاتا ہے۔تعلیم و تربیت اکیلے آگے نکلنے کی بجائے دوسروں کو ساتھ لیکر چلنے کا نام ہے۔

  • 
جماعت اسلامی کا یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان

    
جماعت اسلامی کا یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان

    جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کے خلاف یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے المناک واقعات کے بعد بھی سندھ حکومت سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ہر بڑے حادثے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان الزام تراشی اور نام نہاد سیاسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے، لیکن اس کا خمیازہ ہمیشہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کراچی کے مسائل کا حل نہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور نہ صوبائی اختیارات میں، بلکہ اس کا واحد حل ایک بااختیار اور خودمختار سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے۔
    ‎امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے باوجود آگ بجھانے کا مؤثر انتظام موجود نہیں تھا، جو انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد متاثرہ افراد اور شہری شدید بے بسی کا شکار ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کر رہا ہے۔
    ‎حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے عوام پر کرپٹ اور نااہل حکمران مسلط کیے گئے ہیں، جو شہر کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ “جینے دو کراچی” مارچ کے ذریعے عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچائی جائے گی اور کراچی کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

  • ایبٹ آباد کردار اکیڈمی ،صرف تعلیم نہیں کردار کی بھی تعمیر ،تحریر:ریحانہ جدون

    ایبٹ آباد کردار اکیڈمی ،صرف تعلیم نہیں کردار کی بھی تعمیر ،تحریر:ریحانہ جدون

    تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے ،یہاں آپ کے بچوں کو علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھایا جاتا ہے ،دین دنیا اور ڈسپلن ایک ہی منزل میں ، آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں بچے پڑھتے بھی ہیں اور حفظ بھی کرتے ہیں اور اچھے انسان بھی بنتے ہیں کردار اکیڈمی میں حفظ قرآن کا بہترین انتظام آپ کو ملے گا یہاں بچوں کی اخلاقی اور اسلامی تربیت بھی ہوتی ہے سپونگ انگلش اور تربیت یافتہ اساتذہ ،نظم و ضبط اور والدین کے تعاون کے ساتھ کردار اکیڈمی بہترین کام کررہا ہے

    یہاں طلباء کے لئے کلاس رومز اور سہولیات مذید محفوظ اور بہتر ہیں تاکہ تعلیم کا ماحول بہترین اور موثر ہو،ایک منظم اور تجربہ کار قیادت میں کردار اکیڈمی ایسا ادارہ ہے جو آپ کے بچوں کو محفوظ دینی ماحول میں تعلیم دیتا ہے،روزانہ درس سے بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ بچوں کے اسلامی علوم میں بھی اضافہ ہوتا ہے ،عملی سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں جس میں بچے مختلف ڈیزائن اور پروجیکٹ بناتے ہیں ،ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ یہاں اساتذہ کے تربیتی سیشن بھی ہوتے ہیں،یہاں پروجیکٹ بیسڈ لرننگ کے ذریعے طلباء میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے سیکھنے کے لئے سازگار ماحول ہے ،ایک اسکول کی نمایاں خصوصیات اور کامیابیوں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک مربوط نظام ، متحرک قیادت ، تربیت یافتہ اساتذہ ، موثر پالیسی ، والدین کی شمولیت اور مسلسل بہتری کا عمل کارفرما ہوتا ہے،یہاں آپ کے بچوں کو علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھایا جاتا ہے

  • یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا بھر میں تعلیمی ادارے علم و تربیت کے مراکز ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کئی ادارے تعلیمی یا علمی مرکز نہیں بلکہ ٹارچر سیل ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے نام پر جسمانی اور ذہنی تشدد جائز سمجھا جاتا ہے۔ سکولوں میں بچوں کو زمانہ جاہلیت کی طرز پر جانوروں کی طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈنڈے اور ہاتھ نہیں اٹھائے جاسکتے، وہاں ذہن کو نشانہ بنا لیا جاتا ہے۔ یہاں تمام اختیارات پروفیسر صاحبان کا حق، جبکہ سوال، طالب علموں کا جرم ہوتا ہے۔

    یونیورسٹی آف لاہور میں آج سے قریبا 15 روز پہلے اویس نامی طالب علم کی خود کشی اور آج ایک اور پھر اسی یونیورسٹی کی چھت سے کود کر ایک طالبہ کی خود کشی کی کوشش افسوسناک تو ہے ہی۔مگر اس سے کہیں زیادہ اس نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ آئے روز نوجوان نسل کے ایسے واقعات میں صرف ایک فرد ہی اپنا قاتل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ معاشرے کا اجتماعی قتل ہوتا ہے۔ قاتل کبھی استاد ہوتا ہے تو کبھی ادارہ،اور کبھی یہ کام والدین کرتے ہیں اور کبھی ہم سب یعنی یہ سماج۔

    یونیورسٹی پروفیسرز کے پاس آپ کی ڈگری کی تکمیل تک تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں پر نام کا احتساب تو ہوتا ہے۔مگر پروفیسرز کے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سوال تک نہیں کیا جاسکتا۔ فیل کر دیا جائے،اسائنمنٹ میں گریڈز برباد کر دیے جائیں مگر آپ بول نہیں سکتے۔ بولیں گے تو سمجھو کہ ڈگری اب آسانی سے اور وقت پر تو مکمل نہیں ہونے والی۔ نفسیات میں اسے پاور ابیوز کہا جاتا ہے۔یونیورسٹی آف لاہور کا طالبعلم اویس بھی نفسیاتی دباؤ کا شکار رہا۔ اور پھر حالات اسے اس نہج پر لے گئے کہ جہاں اسے زندگی سے زیادہ موت کا رستہ آسان لگا۔ اور آج کے دن یونیورسٹی آف لاہور ہی کی فاطمہ نامی طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں۔ خودکشی کا خیال یونہی ایک دن میں ہی پیدا نہیں ہوجاتا۔ کبھی مہینوں تو کبھی سالوں کی ذہنی اذیت ہوتی ہے جو ایسے اقدامات پر انسان کو مجبور کر دیتی ہے۔ یہ اب پرانی نسل نہیں رہی صاحب!جسے آپ جیسے مرضی جس لاٹھی سے ہانپتے رہیں۔ یہ نئی نسل ہے، نئے ذہن ہیں، منفرد سوچتے ہیں۔ اور سمجھنے، سمجھانے کا طریقہ بھی الگ ہے انکا۔ اب وہ دور جاہلیت نہیں کہ باپ اور استاد کے ہر غلط صحیح کو یہ اخلاقی جواز حاصل ہو کہ چپ رہنا ہے، سہنا ہے۔

    کہنے والے تو یہ اس لیے بھی کہیں گے کیونکہ یہ آسان مگر جھوٹا بیانہ ہے کہ یہ دونوں کمزور اور بزدل تھے کہ مشکلات سب پر آتی ہیں۔اصل کمزور تو یہ نظام ہے، جو اختیار اور طاقت تو دیتا ہے مگر ساتھ ضمیر نہیں دیتا۔اگر آج بھی آپ اور میں نے اسے صرف دو طالب علموں یا ایک یونیورسٹی کا معاملہ سمجھ کر چھوڑ دیا تو کل اویس اور فاطمہ کی جگہ کوئی اور نام ہوگا، اور تب بھی ہم صرف یہ پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر یہ بزدل جنریشن خودکشیاں کیوں کر رہی ہے۔

  • جرمِ ضِعفی کی سزا، مرگِ مفادات،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    جرمِ ضِعفی کی سزا، مرگِ مفادات،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    تعلیم کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ملکی افرادی قوت کو ان کی صلاحیت و قابلیت کے مطابق روزگار کے امواقع پیدا کرنا بھی ریاست کے اہم فرائض میں شامل ہے۔ مگر یہاں نظام تعلیم اور تعلیمی معیار کی حالتِ زار جہاں تنزل کا شکار ہے۔ وہاں پڑھے لکھے بیروزگار کو زندہ درگور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہہں رکھی گئی۔ اول تو اداروں کی ضرورت کے مطابق گورنمنٹ بھرتیاں کی ہی نہیں جا رہیں۔ اور جن بھرتیوں کے لیئے اشتہار جاری کیا جاتا ہے۔ ان پر عقل سے بالاتر عجیب و غریب قسم کے قوائد و ضوابط لاگو کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ المیہ بلخصوص پنجاب میں زیادہ مسلط ہے۔

    عام سرکاری بھرتیوں کے لئیے بھی تجربہ رکھا جا رہا ہے۔ ایک بیروزگار جس کے لئیے اپنی تعلیم کے مطابق نوکری حاصل کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے۔ وہ نوکری کے حصول کے لئیے تجربی کہاں سے لائے۔؟ صورتحال یہ ہے ۔ کہ ماسوائے پنجاب کے باقی تمام صوبوں میں نوکری کے لئیے عمر کی حد 38 تا 40 سال ہے۔ مگر پنجاب میں عمر کی رعایت وہی پرانی لاگو ہے۔ جبکہ سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئیے بھرتیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پڑھے لکھے بیروزگار ان بھرتیوں کے لئیے اپلائی کے انتظار میں اوور ایج ہو کر سرکاری نوکری کی دوڑ سے ہی باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس سے کیا جائے۔ کہ سال 2019ء کے بعد سے تاحال ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جنرل ایجوکیٹرز کی اسامیوں پہ بھرتی نہیں کی گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب کے سرکاری سکولوں میں مستقل اساتذہ جن میں سینئر اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز وغیرہ کی قریبا 65٪ آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ یعنی قریبا 100،000 سیٹیں بھرتی کی منتظر ہیں۔ ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی تقریباً 79٪ یعنی 4,404 سیٹیں خالی ہیں۔ جبکہ پنجاب کے پبلک کالجوں میں مختلف گریڈ کے اساتذہ کی 6،876 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 825 پبلک کالجوں میں صرف لیکچروں کی ہی تقریباً 1993 آسامیاں مطلوب ہیں۔
    ایک طرف بیروزگاری حد سے تجاویز کر رہی ہے۔ اور دوسری صرف ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جو کسی بھی قوم کا بنیادی تربیتی شعبہ ہے۔ اسے "ڈھنگ ٹپاؤ” سیکم کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔ اعلی ڈگری کی حامل افرادی قوت دستیاب ہونے کے باوجود ان خالی آسامیوں میں سے کچھ پہ کبھی CTI’s اور کبھی STI’s کے نام پہ پڑھے لکھے بیروزگاروں کے ہاتھ میں دیہاڑی دار بننے کا کشکول تھما دیا گیا ہے۔

    نظامِ ٹھیکیداری کے تحت دیئے جانے سے تعلیمی ادارے مزید بدحالی کا شکار ہیں۔ جہاں پڑھے لکھے بیروزگاروں کا صرف استحصال کیا جا رہا ہے۔ STI’s اور CTI’s کی تقرری کے لئیے میرٹ کے نام پہ اکیڈمک مارکس کا عقل سے بالاتر قانون نافذ ہے۔ انٹرویو کے محض پانچ نمبر رکھے گئے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کہ امیدوار کے علم و قابلیت کو چیک نہیں کیا جاتا۔ صرف ڈگری کے نمبر دے کر میرٹ بنا دیا جاتا ہے۔ اب جبکہ PPSC نے بھی اکیڈمک مارکس کا اصول ختم کر دیا ہے۔ تو STI’s اور CTI’s کی تقرری میں اس غیر منصفانہ اصول کو کیوں مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

    پنجاب میں مستقل بھرتی تو ویسے ہی ختم کر دی گئی ہے۔ اور اب محدود مدت کے لئیے دیہاڑی دار بننے کے لئیے بھی رجسٹریشن فیس بھرنے کا نیا قانون جاری کر دیا گیا ہے۔ حالیہ سکول ٹیچر انٹرنیز کے لئیے جیسے ہی آن لائن اپلائی کی تاریخ قریب آئی۔ امیدواران کو ایک سکول میں ایک سیٹ پہ اپلائی کے لئیے ایک ہزار روپے رجسٹریشن فیس کی ادائیگی واجب قرار دے دی گئی۔ چونکہ STI’s کی بھرتی امیدوار کی اپنی یونین کونسل کی حد تک ہے۔ اس طرح اگر ایک امیدوار اپنی یونین کونسل میں موجود دو سکولوں میں دو آسامیوں کے لئیے درخواست دیتا ہے۔ تو اسے دو ہزار روپے اور اگر چار آسامیوں کے لئیے درخواست دے۔ تو چار ہزار روپے رجسٹریشن فیس کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ اور پنجاب کے وزیر ء تعلیم رانا سکندر حیات نے اس کی وجہ یہ بتائی۔ کہ دیہاڑی در درخواست گزر پچھلی بار بھی زیادہ تھے ۔ اس لئیے یہ فیس رکھی گئی ہے۔

    یہ کیسا ظلم ہے۔ کہ پی۔پی۔ایس۔سی اور ایف۔ پی۔ ایس۔سی میں مستقل نوکریوں کے لئیے بھی رجسٹریشن فیس چھ سو روپے ہے۔ جبکہ یہاں صرف ایک یونین کونسل کے چند سکولوں میں محدود مدت کے لئیے دیہاڑی دار کا محض امیدوار بننے کے لئیے بھی ایک ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔ کیا اربابِ اختیار کو اس چیز کا علم ہے۔ کہ اس جان لیوا منہگائی کے دور میں ایک بیروزگار عارضی تقرری کی صرف امید کے لئیے اتنے پیسے کہاں سے ادا کرے گا!! وزیر تعلیم کو چھ لاکھ درخواستیں تو معلوم ہیں۔ مگر ان درخواستوں کے پیچھے موجود ان بیروزگاروں کی ضرورت و بے بسی نہیں جان سکے۔ اگر بیروزگاری حد سے تجاویز کر رہی ہے۔ تو ریاست کو روزگار کے امواقع پیدا کرنے چاہئیں، نہ کہ بیروزگاروں کو ہی ختم کر دیا جائے۔
    کئی سالوں کی محنت کے بعد ڈگریاں ہاتھوں میں لئیے نوکری کی تلاش میں بھٹکتے نوجوانوں کی حالتِ زار قابل رحم ہے۔ اس طرح کے غیر منطقی و غیر منصفانہ اصول و ضوابط بنا کر ان کی محنت اور امیدوں کو برباد نہ کیا جائے۔ بلکہ روزگار کی فراہمی کو آسان بنایا جائے۔
    ؂
    نہ آئے موت خدایا تباہ حالی میں
    یہ نام ہو گا غمِ روزگار سہہ نہ سکا

  • تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور

    تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور

    تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور
    تحریر: ملک ظفر اقبال
    تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھا اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ دنیا میں معاشی، سائنسی اور معاشرتی میدانوں میں آگے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا حق بس ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ کتابوں اور تقاریر میں تو کہا جاتا ہے کہ "تعلیم سب کے لیے”، مگر حقیقت میں یہ سہولت غریب کے لیے دن بدن دور ہوتی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں تعلیم ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور کاروباری لوگ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے بزنس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگی پرائیویٹ تعلیم عام والدین کی پہنچ سے باہر ہے۔ شہروں میں اچھے معیار کے اسکول اور کالجز زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں جہاں فیسیں ہزاروں اور لاکھوں میں ہیں۔ ایک مزدور یا کم آمدنی والا والد اپنے بچوں کو ان اداروں میں پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

    اگر ہم سرکاری اداروں کی کارکردگی کی بات کریں تو فائلوں کی حد تک تو کامیابی حاصل ہے، مگر فیلڈ رپورٹ کے مطابق اس میں بہت کچھ جھوٹ لکھا ہوتا ہے۔ سرکاری اداروں کی زبوں حالی خود وزیرِ تعلیم بیان کر چکے ہیں کہ کس طرح سرکاری استاد سرکار کو چونا لگاتے ہیں۔ جہاں غریب کے بچے پڑھتے ہیں وہاں تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ اکثر اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کی نایابی اور دیگر مسائل طلبہ کی تعلیم میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کئی اسکولوں میں بجلی، پانی اور بیت الخلاء تک موجود نہیں۔

    کتابوں اور اسٹیشنری کا بوجھ بھی غریب والدین کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ سرکاری اداروں میں بچوں کو بروقت کتب میسر نہیں آتیں جبکہ مہنگائی کے اس دور میں کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ مزید بوجھ ڈال دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غریب بچے اکثر تعلیم کی بجائے مزدوری پر لگ جاتے ہیں تاکہ گھر کے اخراجات پورے کر سکیں۔ یوں تعلیم ان کے لیے خواب اور مشقت حقیقت بن جاتی ہے۔

    ہمارے نظامِ تعلیم نے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے جس سے امیر کے بچے مہنگے سکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم پاتے ہیں اور آگے جا کر اعلیٰ عہدوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب غریب کے بچے یا تو سرکاری سکولوں کی کمزور تعلیم تک محدود رہتے ہیں یا غربت کی وجہ سے پڑھائی ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی طبقاتی فرق معاشرے میں ناانصافی، احساسِ محرومی اور جرائم کو جنم دیتا ہے۔

    پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم دے۔ لیکن افسوس کہ یہ شق آج تک مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی۔ اگر حکومت واقعی تعلیم کو سب کے لیے ممکن بنانا چاہتی ہے تو اسے:

    * سرکاری اسکولوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا ہوگا،
    * پرائیویٹ اداروں کی فیسوں پر کنٹرول رکھنا ہوگا،
    * کتابیں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ مفت فراہم کرنا ہوں گے،
    * اور سب سے بڑھ کر والدین کو معاشی سہارا دینا ہوگا تاکہ بچے مزدوری کے بجائے اسکول جا سکیں۔

    مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے والدین مجبوراً بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجتے ہیں۔ *تعلیم سب کے لیے* کا نعرہ اُس وقت حقیقت بن سکتا ہے جب غریب اور امیر کے بچوں کے درمیان تفریق ختم ہو۔ اگر غریب کا بچہ تعلیم سے دور رہے گا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ تعلیم کو طبقاتی نہیں بلکہ قومی بنیادوں پر عام کرنا ہوگا، ورنہ یہ نعرہ صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود رہے گا۔

    آخر کب تک؟

  • کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کاش دل روشن ہوتے،تحریر: گل شیر ملک

    کبھی ہمارے بچے ٹاٹ پر بیٹھ کر علم کے دریا پار کرتے تھے۔ نہ اُن کے گرد چمکتے کمروں کی دیواریں تھیں، نہ اُن کے سروں پر اے سی کی ٹھنڈی ہوا، لیکن ان کے دل قرآن و سنت کی روشنی سے منور تھے۔ وہ کچی زمین پر بیٹھ کر بھی کردار کی پختگی میں پہاڑوں جیسے مضبوط تھے۔ ان کے چہروں پر سادگی تھی، آنکھوں میں شرم و حیا، اور ذہن میں علم حاصل کرنے کا خالص جذبہ۔ استاد کا ایک اشارہ ان کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا، اور ماں باپ کی دعائیں ان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی تھیں۔ آج ہم ترقی کی اس دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں تعلیم جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔ لیپ ٹاپ، پروجیکٹر، وائی فائی، سمارٹ کلاس رومز، اور انگلی کی ایک جنبش پر کھلتی دنیا۔ آج کا بچہ کتاب سے زیادہ سکرین سے جڑا ہے۔ اس کی جیب میں فلیش ڈرائیو ہے، لیکن کردار میں کمزور ہے۔ اس کے پاس معلومات کا انبار ہے، مگر شعور کی روشنی عنقا ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب گوگل سے ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن دل کے سوالوں کا کوئی جواب اس کے پاس نہیں۔ زبان میں چالاکی ہے، لیکن لہجے میں عاجزی نہیں۔ لباس مہنگا ہے، لیکن نگاہوں میں حیاء نہیں۔ چہرہ تو روشن ہے، لیکن دل ویران ہو چکا ہے۔

    ایبٹ آباد… وہ شہر جسے ایک زمانے میں علم و تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا تھا، آج بے حیائی، کنسرٹس اور اخلاقی بگاڑ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ان اداروں سے جہاں کبھی علم کی روشنی پھوٹتی تھی، آج سگریٹ، نسوار اور زہریلے خیالات کا ماحول دکھائی دیتا ہے ۔ تعلیمی ادارے جو کبھی کردار سازی کے مراکز ہوا کرتے تھے، اب محض کاروباری دکانیں بن چکے ہیں، جہاں فیسیں تو لی جاتی ہیں، لیکن تربیت نہیں دی جاتی۔ اساتذہ جو کبھی قوم کے معمار کہلاتے تھے، آج صرف تنخواہ کے محتاج بن چکے ہیں۔ انہیں نصاب ختم کرنے کی فکر ہے، لیکن نسل بچانے کی کوئی پریشانی نہیں۔

    المیہ یہ ہے کہ ہم نے صرف بچوں کو قصوروار ٹھہرا دیا، حالانکہ اس بگاڑ کے مجرم ہم سب ہیں۔ والدین جو بچے کو مہنگا فون تو دے دیتے ہیں، لیکن اس کی نظروں کی سمت نہیں جانتے۔ جو موبائل کا لاک تو کھول لیتے ہیں، لیکن دل کا حال نہیں پڑھتے۔ اساتذہ جو کبھی دلوں پر نقش چھوڑا کرتے تھے، اب صرف بورڈ پر الفاظ لکھنے تک محدود ہو گئے ہیں۔ ادارے جو تعلیم کے نام پر چل رہے ہیں، درحقیقت کاروبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اور ہم، وہ معاشرہ، جو ہر برائی کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ نہ کسی کو روکتے ہیں، نہ کسی کو سمجھاتے ہیں۔ بس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی محض لاپروائی نہیں، بلکہ شراکتِ جرم ہے۔ جب والدین غافل ہوں، اساتذہ بے حس، ادارے بے مقصد، اور معاشرہ بے سمت، تو نسلیں بھٹک جایا کرتی ہیں۔ یہی ہو رہا ہے۔ آج ہمارے بچے فیشن میں آگے، مگر فہم میں پیچھے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سرگرم، مگر زندگی کے حقائق سے نابلد۔ جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے، تب تک نسلوں کا یہ بگاڑ بڑھتا جائے گا۔ آج اگر ہم نے اصلاح کی راہ اختیار نہ کی، تو کل یہی بچے بے راہ روی، نشے اور بے دینی کے پرچارک بن جائیں گے۔ اور جب یہ وقت آئے گا، تو شکوہ کرنے کا بھی کوئی حق باقی نہیں رہے گا۔ کاش! والدین وقت نکال کر بچوں کی آنکھوں میں جھانکیں، ان کی الجھنیں سمجھیں، ان کے سوالوں کا جواب بنیں۔ کاش! اساتذہ نصاب شروع کرنے سے پہلے دل میں کردار کا سبق اتاریں۔ اور کاش! ہم سب اتنی جرات پیدا کریں کہ برائی کو برائی کہہ سکیں، چاہے وہ ہمارے اپنے ہی گھر کے آنگن میں کیوں نہ ہو۔ اصلاح کا وقت ابھی باقی ہے۔ دیے بجھنے سے پہلے اگر ایک چراغ جلایا جائے، تو اندھیرا ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل یہ تاریکی نسل کو نہیں،معاشرے کو بھی تباہ کردے گی۔

  • نوجوانوں کے لیے مالیاتی تعلیم کی عملی راہیں: خوشحالی کا سفر،تحریر :عمر افضل

    نوجوانوں کے لیے مالیاتی تعلیم کی عملی راہیں: خوشحالی کا سفر،تحریر :عمر افضل

    آج کا نوجوان ڈگریوں کا بوجھ اٹھائے نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، دوسری طرف بے روزگاری کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے۔ والدین قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور نوجوان محفوظ مستقبل کے خواب دیکھتے دیکھتے مایوس ہو رہے ہیں،کیونکہ یہ سوچ کہ اچھی ڈگری اور اچھی نوکری ہی کامیابی کی ضمانت ہے، اب اپنا اثر کھو چکی ہے۔ بدلتے حالات بتا رہے ہیں کہ نوجوانوں کو صرف کمانا ہی نہیں بلکہ کمائی کو محفوظ اور بڑھانا بھی سیکھنا ہوگا۔ یہی مالیاتی تعلیم ہے، جو خوشحالی کا اصل دروازہ کھولتی ہے۔
    مالیاتی تعلیم کا آغاز بچپن سے ہی ہونا چاہیے تاکہ ہمارے نوجوان مستقبل میں خود مختار بنیں۔ اس مقصد کے لیے والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ انہیں بچوں کو پیسوں کی قدر سکھانی چاہیے۔ انہیں سودا سلف خریدنے کے لیے ساتھ لے جائیں، جیب خرچ کے علاوہ اضافی پیسے دیں اور یہ ہدایت دیں کہ گھر کی ضرورت کی چیزیں خریدنے میں مدد کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں بچوں میں خود اعتمادی اور عملی لین دین کا شعور پیدا کریں گی۔ اسی طرح، اسکول کے بعد کا ایک گھنٹہ ہنر سیکھنے کے لیے مختص کرنا چاہیے۔ سلائی، پلمبرنگ، الیکٹریشن، گاڑیوں کی مرمت یا فاسٹ فوڈ جیسے کاموں میں انہیں دلچسپی دلانا چاہیے۔ یہ ہنر انہیں مستقبل میں مالی طور پر مضبوط بنائیں گے۔ تعلیمی اداروں کو بھی جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح مالیاتی تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ مضمون صرف حساب کتاب نہیں بلکہ زندگی کی عملی بصیرت بھی دیتا ہے۔
    اسلام نے بھی مالی نظم و ضبط اور خودکفالت پر زور دیا ہے۔ یہ رہنمائی ہمیں نہ صرف کمانا سکھاتی ہے بلکہ اسے حکمت اور اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے: "اور ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی بالکل کھول دو کہ ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھے رہو۔” (الاسراء: 29) یہ آیت ہمیں نہ کنجوسی اور نہ ہی فضول خرچی کی تعلیم دیتی ہے۔ اسی طرح، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔” (بخاری) یہ تعلیم خود انحصاری اور دوسروں پر بوجھ نہ بننے کی ہے۔
    حقیقی مالیاتی بصیرت یہ ہے کہ اثاثہ (Asset) اور ذمہ داری (Liability) میں فرق کو سمجھا جائے۔ رابرٹ کیوساکی اپنی کتاب "Rich Dad Poor Dad” میں بتاتے ہیں کہ امیر اور غریب کی سوچ میں سب سے بڑا فرق یہی ہے۔ اثاثہ وہ ہے جو آپ کی جیب میں پیسہ ڈالے، جیسے کرائے پر دی گئی پراپرٹی یا کوئی کامیاب کاروبار، جبکہ ذمہ داری وہ ہے جو آپ کی جیب سے پیسہ نکالے، جیسے قسطوں پر لی گئی مہنگی گاڑی۔ مالی آزادی کا پہلا قدم یہی ہے کہ آپ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ اثاثے بنانے پر لگائیں اور اپنے پیسے کو اپنے لیے کام کرنے دیں۔ یہ کوئی بڑا یا مشکل کام نہیں، آپ چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاریوں سے بھی آغاز کر سکتے ہیں۔
    آج کے ڈیجیٹل دور میں صرف ایک تنخواہ پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ کثیر آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا مالیاتی آزادی کا دوسرا اہم قدم ہے۔ کالج، یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم یا ملازمت پیشہ نوجوان اپنے فارغ اوقات کو اضافی آمدنی کے ذرائع میں بدل سکتے ہیں۔ بائیکیا اور ان ڈرائیو جیسی سروسز، لوگوں کے گھروں میں سولر پینل کی وائرنگ، پلمبنگ یا الیکٹریشن کا کام، یا چھوٹے پیمانے پر آن لائن بزنس شروع کرنا بہترین مواقع ہیں۔ ایلون مسک کہتے ہیں، "اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہفتے میں 80 سے 100 گھنٹے کام کرنا ہوگا۔” یہ اضافی گھنٹے ہمیں اضافی آمدنی کے ذرائع بنانے کا موقع دیتے ہیں۔
    آمدنی کے ذرائع بڑھانے کے ساتھ ساتھ اخراجات کو منظم کرنا بھی ضروری ہے۔ وارن بفٹ کا اصول نوجوانوں کے لیے بہترین ہے: "پہلے بچت کریں اور پھر باقی اخراجات کریں۔” یعنی اپنی آمدنی کا ایک حصہ سب سے پہلے بچت اور سرمایہ کاری کے لیے الگ کریں اور پھر باقی میں سے اپنے اخراجات پورے کریں۔ یہ سادہ سا اصول آپ کو مالیاتی نظم و ضبط سکھاتا ہے۔

    نوجوانوں کے پاس سب سے بڑا سرمایہ وقت ہے، اور وقت ہی "کمپاؤنڈ انٹرسٹ” کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ اگر آج چھوٹی سرمایہ کاری شروع کی جائے تو وقت کے ساتھ یہ بڑی دولت میں بدل جاتی ہے۔ آج کل "مائیکرو انویسٹنگ ایپس” کی مدد سے چند سو روپے سے بھی سرمایہ کاری ممکن ہے۔یہاں یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مالیاتی تعلیم محض ایک مضمون نہیں، بلکہ زندگی کا ہنر ہے۔ یہ نوجوان کو بااعتماد، خود مختار اور کامیاب بناتی ہے۔ اگر آج کے نوجوان مالی نظم و ضبط کو اپنا لیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں، بلکہ پاکستان کو بھی خوشحال اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مالیاتی تعلیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔کیا آپ آج سے اپنی مالیاتی آزادی کی طرف پہلا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

  • مالیاتی تعلیم: خوشحال معاشرے کی بنیاد،تحریر:عمر افضل

    مالیاتی تعلیم: خوشحال معاشرے کی بنیاد،تحریر:عمر افضل

    "کیا واقعی اچھی ڈگری اور اچھی نوکری ہی کامیابی کی ضمانت ہیں؟”
    ہمارے معاشرے میں بچپن سے یہی سوچ ذہنوں میں بٹھا دی جاتی ہے کہ امتحان میں اچھے نمبر لاؤ، ڈگری حاصل کرو اور پھر ایک اچھی نوکری کے ذریعے "بڑے آدمی” بن جاؤ۔ لیکن حقیقت اس سوچ سے کہیں مختلف ہے۔ آج بہترین ڈگری رکھنے والے نوجوان بھی بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور نوکری مل بھی جائے تو وہ مالی آزادی دینے سے قاصر ہے۔
    "معروف کتاب Rich Dad Poor Dad کے مصنف رابرٹ کیوساکی کے مطابق: ‘غریب اور متوسط طبقہ پیسے کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ امیر طبقہ پیسے کو اپنے لیے کام پر لگاتا ہے’۔” یہی بنیادی فرق ہمارے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارا تعلیمی نظام، جو نوآبادیاتی دور کی باقیات میں سے ہے، طلبہ کو صرف ملازمت کا غلام بناتا ہے، مگر یہ نہیں سکھاتا کہ پیسے کو کس طرح اپنے لیے کام پر لگایا جائے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں رٹنے کا رجحان عام ہے، طلبہ کو صرف وہ معلومات یاد کرائی جاتی ہیں جن کی بدولت وہ امتحان میں کامیاب ہوسکیں، مگر عملی زندگی کے مسائل حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہتے ہیں۔ یونیورسٹیاں ڈگریاں تو بانٹ رہی ہیں، لیکن وہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمند نوجوان پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔ اکنامک سروے 2024 کے مطابق، ملک کی 26 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے درمیان ہے، لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد کے پاس ایسے عملی ہنر موجود نہیں جو مارکیٹ کی ضرورت ہیں۔ اگر یہ نوجوان مالیاتی شعور اور ہنر سے لیس ہوں، تو ملکی معیشت کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اگر ہم عملی تربیت کی مثال دیکھنا چاہیں تو پشتون معاشرے کو دیکھ سکتے ہیں، جہاں بچے صرف اسکول نہیں جاتے بلکہ بچپن ہی سے اپنے والد کے ساتھ دکان یا کاروبار میں ہاتھ بٹاتے ہیں، اور یہی تربیت انہیں محنت کی عادت، مالی نظم و ضبط اور کاروباری ہنر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے خود بھی روزگار کماتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرزِ فکر کو ہم سنگاپور اور جرمنی جیسے ممالک کے تعلیمی ماڈلز میں بھی دیکھتے ہیں، جہاں نوجوانوں کو شروع ہی سے عملی ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ دنیا کی بڑی معیشتیں اسی سوچ کے تحت آگے بڑھی ہیں کہ نوجوان صرف نوکری کے خواہاں نہ ہوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی نوکریاں پیدا کرنے والے ہوں۔

    ہمارے تعلیمی اداروں کو نوکری کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے ذہن تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات اہم ہیں
    بچوں کو بچت، بجٹ سازی اور سرمایہ کاری کے بنیادی اصول سکھائے جائیں۔
    رٹے کے بجائے پروجیکٹ بیسڈ لرننگ متعارف کرائی جائے، مثلاً چھوٹے کاروباری منصوبے شروع کروائے جائیں۔
    اساتذہ کو مالیاتی اور کاروباری تعلیم سکھانے کی خصوصی تربیت دی جائے۔
    ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کو چاہیے کہ مالیاتی تعلیم کو پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے نصاب میں لازمی شامل کرے۔

    بحیثیت والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ بچوں کو صرف ڈگری کے پیچھے دوڑانے کے بجائے انہیں اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور خطرہ مول لینے کا حوصلہ دینا ہوگا۔ نوکری ایک ذریعہ ہے، حتمی مقصد نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ممکن ہے جب نوجوان روزگار پیدا کرنے والے اور مالی طور پر آزاد ہوں۔
    یہی وہ راستہ ہے ،جو پورے معاشرے کو خوشحالی اور معاشی آزادی کی جانب لے جا سکتا ہے۔اگر آج ہم نے اپنی سوچ اور نصاب کو نہ بدلا، تو آنے والی نسلیں بھی اسی گرداب میں پھنستی جائیں گی۔