Baaghi TV

Category: تعلیم

  • قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

    قصہ درد:حکومت پاکستان، چیف منسٹر اور وزیر تعلیم کے نام
    تحریر:مبشرحسن شاہ
    ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
    قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    جب سے ہوش سنبھالا ہے، شعبۂ تعلیم کے بیڑے کو طلاطم خیز موجوں سے نبرد آزما پایا۔ بہرحال، چلتے، گرتے، لڑکھڑاتے 2011 میں سولہ سالہ تعلیم مکمل کر لی اور بزعم خود نکلے تیری تلاش میں (سفرنامہ مستنصر حسین تارڑ، "سفر یورپ”) کے مصداق کام کاج یعنی نوکری کی تلاش میں نکلے تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ حقیقی معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔ ویسے تو یہ محاورہ ہے، لیکن عملی زندگی کی پہلی 10 ہزار ماہانہ تنخواہ کے عوض نوائے وقت کے ہاتھ لگے تو پہلی ہی اسائنمنٹ بازار سے اشیائے خور و نوش کے دام معلوم کرنا تھی اور پھر اس پر خبر نگاری کہ مہنگائی کے مارے عوام کی حالت کیسی ہے۔

    خیر وقت کی ایک خوبی ہے کہ وہ رکتا نہیں۔ 2017 میں ایک پروانۂ تقرری گھر پر بذریعہ ڈاک موصول ہوا، جب کہ ہم تو "چڑی بیچاری کی کرے، ٹھنڈا پانی پی مرے” پر عمل کرتے ہوئے ایمان لا چکے تھے کہ سرکاری ملازمت کا صرف ٹیسٹ ہوتا ہے، بھرتی نہیں۔ خیر طوالت سے اختصار کی جانب چلتے ہیں۔ یکم اگست 2017 کو 22 ہزار 380 روپے کے عوض سرکار نے ہماری خدمات بسلسلۂ تدریس حاصل کر لیں۔ تقرری کا پروانہ تھما کر 35 کلومیٹر کے فاصلے کی مدد سے ہماری خطیر تنخواہ کو مینج کیا گیا چونکہ تنخواہ کی زیادتی سے افراطِ زر کا خدشہ تھا۔

    بھنور میں گھری ناؤ کے پتوار تھامنے کا موقع 2019 میں ملا جب پرائمری اسکول کی ہیڈ شپ کے نام پر دو کنال رقبے پر ہمارے نام کا سکہ چلنے لگا۔ نوکری کبھی بھی ہمارے لیے باعثِ آمدن نہ رہی لیکن اب وجۂ عزت بھی نہ رہی کیونکہ ہیڈ ماسٹری میں عزتِ سادات بھی گئی۔

    حکم ہوا مچھروں کا قلع قمع کرو، ارشاد پر کورنش بجا لا کر تلاشِ دشمنِ نمرود شروع کی۔ شام کو ایک عدد مچھر گرفتار ہوا۔ "مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی” لہٰذا مچھر کو قتل کیا، ہتھیلی پر لیے پھرتے، جو جان وہ بچانے کے لیے مقتول کی لاش کا فوٹو بھیجا اور لگے متوقع توصیف پر اظہارِ عاجزی کی مشق کرنے کہ اتنے میں تختِ لاہور سے بگڑے تیور تختِ بابری سے ہوتے دو سے ضرب کھاتے ہم پر ایسے تقسیم ہوئے کہ سب خساروں کو جمع کر کے یہ حاصل نکلا کہ دلِ نادان کی کوئی بات نہ مانی جائے۔

    پھر تو ایک طوفان تھا جس کی زد میں آئے۔ نوکری کے دیے کو جلانے کے لیے سانسوں کی مالا پر "جی سر” کہتے 7 سال ایسے گزرے جیسے کسی شہرِ ویران پر وقت گزرے۔

    2024 میں بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا کہ "میاں! تیرے آن تے کھڑاک بڑے ہون گے” (لاہور انارکلی 2024 میں لگا بینر)۔ دل نے تسلی دی کہ معاملات بہتر ہوں گے۔ تختِ لاہور پر بنتِ خاتونِ اول براجمان ہوئیں تو مراد راس کے محاذ پر رانا سکندر حیات کو تعینات کیا گیا۔ اب سمجھ آئی کہ سکندر نوجوانی میں کیوں قتل ہوا تھا۔

    علم ہوا کہ وزیرِ اعلیٰ و ادنیٰ دونوں تعلیمی میدان میں کودے ہیں، لیکن یہ کودنا وہ کودنا نہیں جو عشق آتشِ نمرود میں کودا تھا، بلکہ یہ تو "کھیل سکتے نہیں، اب ہمیں بھی نہیں کھیلنے دیں گے” والا کودنا ہے۔ ایس ایس ایز، اے ای اوز دو کیس، جو انتہائی آسانی سے ایک پُرسکون ماحول میں ایڈریس کیے جا سکتے تھے، ان کو ہر حکومت نے ایسے خراب طریقے سے ڈیل کیا گویا یہ لوگ انسان نہ ہوں۔

    سال کا کنٹریکٹ، ہر 365 دن کے بعد کیا ہوگا کی غیر یقینی، کسی بھی سرکاری ملازمت میں پہلے سے سرکاری ملازم ہونے کا فائدہ صفر، حکومتی پروگرامز (نظامت حج ایک مثال) کے لیے اہل نہیں کہ کنٹریکٹ پر ہیں۔ اے ای اوز کو 2017 میں بھرتی کیا تو یہ شق احکاماتِ تقرری میں شامل تھی کہ اے ای اوز اسکولوں میں بطور ٹیچر ٹرانسفر نہیں ہوں گے، یہ انتظامی عہدہ ہے، اس پر ہی رہیں گے۔ پھر کسی نے صلاح دی کہ ان کا سروس اسٹرکچر تو بنا لیتے، یہ ساری زندگی اے ای او ہی رہیں گے؟ اس کا سکہ شاہی حل یہ نکلا کہ کچھ کو سکولوں میں بطور ٹیچر بھیجا، کوئی مرضی سے گیا، کوئی سکول سے نکال کر نواز دیا گیا۔

    ایم ای ایز کو مسلط کرنے والے گجرات سے کبھی رائے ونڈ تو کبھی بنی گالا، اور ان کی نازل شدہ مخلوق کے ستائے اساتذہ کبھی معطل تو کبھی پیڈا۔ حد یہ ہے کہ ایم ای ایز کے حوصلے اتنے بڑھے کہ خواتین اساتذہ محکمۂ تعلیم کے مجاز افسران سے چھٹی مانگیں تو جواب ملا: "ایم ای اے صاحب سے خود پوچھو پہلے”۔

    بندہ پوچھے، یہ سکیل و تعلیم میں کم (محکمہ زراعت) کے نیم خواندہ، "یس سر، آرڈر از آرڈر” کے پروردہ اپنی ذات میں ہیرو کس اتھارٹی کے تحت چھٹیاں منظور کر رہے؟

    اوپر سے کبھی ایک لایعنی بات بصورتِ حکم، کبھی دوسری۔ اب ملکۂ معظمہ نے کہا پودے لگانے، "کلین اینڈ گرین ایپ” اساتذہ کے سر میں دے ماری۔ سڑکوں پر زیبرا کراسنگ، اساتذہ رنگ لے کر ہر اس رنگ میں ڈوبیں، جس نے جس رنگ میں چاہا انہیں رسوا کرنا…

    گندم خریداری، ووٹر لسٹس، کورونا ڈیوٹیز، پولیو مہم۔ یو پی ای ٹارگٹ (یونیورسل پرائمری ایجوکیشن ) اس کی مزید شاخیں، انرولمنٹ ڈرائیو، اینرجنسی انرولمنٹ کمپین،وژن 2025 ( پاکستان برینڈ اشتہاروں والا) ہر سکول ہر روز داخلہ فروری و مارچ، مردم شماری،پوسٹ اینموریشن سروے، آؤٹ آف سکول چلڈرن۔ زراعت شماری ۔ سٹوڈنٹ ہیلتھ پروفائل(بچوں کو ہسپتال لے کر جانا واپس آنا ) فروری یوم یکجہتی کشمیر پر اساتذہ انگیج، 15 فروری جشن بہاراں و شجر کاری ہر بچہ ہر استاد ایک پودا، مارچ کلچر ڈے، افسران بالا کے مزید بالا افسران کو خوش کرنے کے لیے فرمائشی پروگرامز، اب ڈے ٹائم Meal اساتذہ کے ذمے وصولی و تقسیم( پائلٹ پراجیکٹ ابھی چند اضلاع تک محدود) یوم مزدور، یوم آزادی ( کون سی؟)
    یومِ قائد، یومِ اقبال، یومِ پاکستان دیگر اہم ایام، سب پر اساتذہ کو پابند کیا جاتا کہ تصویر بھیجیں مکمل انتظامات کے ساتھ فنکشن کر کے۔

    ادھر 2018 کے بعد سے اب تک ٹیچر جابز نہ دے کر پہلے موجود اساتذہ سے کام لیا جاتا ہے ،آدھے ریٹائر، کچھ فوت، کچھ مستعفی ،کچھ معطل، کچھ کو ریموول فرام سروس کا تمغہ۔ ابھی چند یوم قبل ایک انوکھا حکم نامہ بھی جاری ہوا قحط سالی حالیہ خشک موسم میں مسائل پر میٹنگ، اساتذہ و بچوں سے نماز استسقاء پڑھوائی گئی ، ایک ایپ ہے ایس آئی ایس اس سے اساتذہ واقف ہوں گے اس ہربچہ داخل کرتے وقت آن لائن کوائف میں غیر ضروری طوالت، PMIU, PITB کے درمیان مالی تنازعات ،اساتذہ کی اے سی آر چھٹیاں وغیرہ اکثر زیر التوا،کارپورل پنیشمنٹ کے جھوٹے کیس، پاکستانی پرچم کے ساتھ کشمیر کا پرچم ( اب لگتا آیا فلسطین کا بھی) سکول میں کریکٹر بلڈنگ کونسل، واش کلب، ڈے ماسٹر، ( اساتذہ الگ بچے الگ) اس سب میں آپ سوچ رہے ہوں گے پڑھائی کدھر ہے؟؟؟؟؟؟ جی میں بھی یہی رونا رو رہا ہوں کہ ہڑھانے دیں۔

    اب میڈیم چیف منسٹر نے ویژن 2025 میں ارشاد فرمایا ہے’ پڑھتا پنجاب، بڑھتا پنجاب، ادھر وزیر کم گینگسٹر جٹ کو قلم مل گئی اس نے تباہی تو تعلیم کی، کیا تباہ شدہ کو مزید تباہ بچہ بھی کر لیتا ،یہاں منتری صاحب نے نیا کام شروع کیا کہ اساتذہ مفت میں اتنی تنخواہیں لیتے، چور، نکمے جس وقت جو دل کیا کہہ دیا ،اپنی تنخواہ 900 فیصد بڑھا کر بھی کم ہماری ہر طرف سے کاٹ کر بھی زیادہ۔ ساتھ ہی سکولوں کی نجکاری، اساتذہ کو ایسے ڈیل کرنا جیسے یہ اساتذہ نہیں بھارتی جاسوس ہیں ۔

    وزیر تعلیم جناب عزت مآب سر سکندر کی ڈکشنری بھی نئی نکلی۔ سرکاری ٹویوٹا ویگو کو "ڈالا” کہتے ہیں اور ہر روز کسی نہ کسی محکمے کے افسر کو تڑی لگاتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ "میں ریفرنس ٹھوکیا تے پنشن بند۔ بدھ نوں میٹنگ اے ہوم منسٹر نال، جمعرات نوں میں کڑاکا کڈھاں گا۔ سی او صاحب تہانوں سی او میں لایا اے۔” اللہ کرے کہ کہیں بوری بند لاش یا "نامعلوم افراد” والی دھمکی نہ آ جائے۔

    لکھنے کو بہت کچھ ہے، کہنے کو ہزار شکوے، لیکن ہم فقیروں کی طبیعت بھی غنی ہوتی ہے۔ سرکاری سکول نجی نہ کریں، ملازمین کو مستقل کریں اور پنشن قوانین کے حوالے سے کوئی درمیانی راستہ نکال لیں۔ باقی جو جوتے اور پیاز ہم کھا رہے ہیں، کھاتے رہیں گے۔ بلکہ اگر واقعی جوتے مارنے کی نوبت آئی تو دو کا حکم ہوگا، افسران بالا احتیاطاً چار ماریں گے اور ہم عادتاً دو مزید کھا لیں گے تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔

    تعلیم کو سنجیدگی سے نہ لینا آپ کی مرضی، ہم اساتذہ کافی ہیں، کچھ نہ کچھ کر لیں گے۔ بس آپ ذرا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ کیا کسی دن کوئی استاد یا استانی خودکشی کرے گا تو تب آپ کو ہماری بات سمجھ آئے گی؟

    کتنے اساتذہ کو صرف اپنا حق مانگنے پر گرفتار کریں گے؟ کتنوں کو پولیس کے ہاتھوں ذلیل و رسوا کرائیں گے؟ تھانوں میں مار، دھکے، گالیاں… کل رات سے حکومت اساتذہ کے مطالبات کے جواب میں انکار اور احتجاج کے ردعمل میں تادیبی کارروائیاں کر رہی ہے۔ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔

    بہرحال، 21 فروری سے اساتذہ ایک بار پھر سڑکوں پر ہیں۔
    سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے،
    چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے۔

    ہم لوگ تو کچھ گزاری، کچھ گزری، باقی جو قیدِ حیات بچی ہے وہ بھی کاٹ لیں گے۔ لیکن سوچیں! تعلیمی نظام کو برباد اور غیر فعال کر کے آنے والے سالوں میں نقصان کس کا ہوگا؟ ملک کا!

    خدارا، کنٹریکٹ بیسڈ سیاست دانوں! پانچ سالہ مدت کے لیے کسی اور محکمے پر تجربات کر لو۔ یہاں تو جسے نشانہ لگانے کی مشق کرنی ہو، سیب ہمارے ہی سر پر رکھا جاتا ہے۔

    عام پاکستانی جو یہ تحریر پڑھے، وہ اسے سمجھے اور دوسروں کو بھی بتائے، کیونکہ یہ نیرو نما حکمران چند سال بعد بانسری بجاتے بیرونِ ملک ہوں گے، جبکہ یہاں رُل جانا ہم نے ہے۔

    ہم نے کچھ زیادہ نہیں مانگا—بس نوکری کی مستقلی اور پنشن قوانین پر نظرثانی۔ اگر یہ بھی کر دیں تو بھلا، نہ کریں تو بھی خیر! لیکن کم از کم ہمیں پڑھانے تو دیں، سکول تو نہ بیچیں!

    ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے، اللہ مدد کرے گا، ملکی حالات بہتر ہوں گے اور یہی نظام بہتری کی طرف گامزن ہوگا۔ بچوں سے بنیادی، سستی اور معیاری تعلیم نہ چھینیں۔ غریب کا بچہ بمشکل ہی افسر بنتا ہے، لیکن اگر تعلیم چھین لی گئی تو یہ واحد راستہ بھی بند ہو جائے گا۔

    صاحب! آپ کی کرسی سلامت، یہ بیچارے کمپیٹیشن میں نہیں آتے۔ یہ تو زیادہ سے زیادہ 10ویں کے بعد فوج میں، 12ویں کے بعد بیرونِ ملک، یا بی اے/ایم اے کے بعد معمولی نوکری کے خواب دیکھتے ہیں۔ اب ہماری جیب پہلے ہی بہت وزنی ہو چکی ہے، اب بس کر دیں!

    کل آپ ہی کے بچوں نے آپ کی کرسیاں سنبھالنی ہیں، مگر تب تک حکمرانی کے لیے رعایا ہی باقی نہیں رہے گی۔

    جلوسِ اہلِ وفا کس کے در پر پہنچا ہے؟
    (اساتذہ، حکومتی ایوان کے باہر وعدہ وفا ہونے کے منتظر)
    نشانِ طوقِ وفا زینتِ گلو کر کے
    (کنٹریکٹ ختم ہونے کو ہے، مگر پھر بھی فکرِ تعلیم باقی ہے)

    کوئی تو حبسِ ہوا سے یہ پوچھتا، محسنؔ
    ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے؟

  • مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    زمانۂ حال کی سیاست میں خیرات، امداد اور فلاحی سکیمیں عوامی مقبولیت کے حصول کا مجرب نسخہ سمجھی جاتی ہیں۔ انہی سکیموں میں، سوشل میڈیا تشہیر سے بھرپور ایک مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام بھی شامل ہے، جسے بظاہر غریب اور مستحق طلباء کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس پروگرام کی تفصیلات میں جب گہرائی سے جھانکا جاتا ہے تو حقائق کے پردے ہٹتے ہیں اور اس سکیم کے مضمرات ایک عجیب تمسخر کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔

    سکالرشپ کی مد میں یونیورسٹیوں میں طلباء کے لیے قریباً 50 سے 90 لاکھ روپے تک کے وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بظاہر متاثر کن ہیں اور عوامی ذہن میں یہ گمان پیدا کرتے ہیں کہ ان وظائف کی مدد سے مستحق طلباء کے تعلیمی مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر جب اس رقم کو 200 سے 300 طلباء کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے تو ہر طالب علم کو محض 15,000 سے 20,000 روپے ہی میسر آتے ہیں۔یہ رقم جو سننے میں تو کسی "اعزاز” سے کم نہیں لگتی، حقیقتاً ایک مذاق کے مترادف ہے۔ موجودہ تعلیمی حالات میں، جہاں یونیورسٹیوں کی ایک سمسٹر کی فیس 50,000 سے ایک لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، وہاں یہ رقم طالب علم کی ضرورتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی پورا نہیں کرتی۔ نتیجتاً، نہ تو یہ وظائف تعلیمی بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو پاتے ہیں اور نہ ہی مستحقین کو کسی حقیقی ریلیف کی امید دلاتے ہیں۔

    اس سکالرشپ پروگرام کے ساتھ جو ایک اور سنگین مسئلہ جڑا ہوا ہے، وہ مریم نواز کے یونیورسٹیوں کے دوروں کے دوران پیدا ہونے والی صورتِ حال ہے۔ ان کے دوروں کی وجہ سے اکثر یونیورسٹیوں میں کرفیو جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تقریباً 95 فیصد طلباء کو چھٹی دے دی جاتی ہے، اور بعض اوقات تو یونیورسٹیاں اپنے جاری امتحانات تک کو منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔یہ صورت حال ان دوروں کا مقصد تعلیمی مسائل کو حل کرنا نہیں، بلکہ کسی اور طرف کو اشارہ کرتی ہے۔ طلباء کی پڑھائی اور ان کے تعلیمی معمولات کو تہ و بالا کر کے ایسے دورے تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

    طلباء کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اور حوصلہ افزائی ہر معاشرے کی ترجیح ہونی چاہیے۔ مگر اس سکالرشپ پروگرام میں طلباء کو دی جانے والی معمولی رقم اور اس کے ساتھ کی جانے والی تشہیر طلباء کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف سیاسی رہنما عوامی فنڈز سے وظائف دے کر خود کو "عوام کا مسیحا” ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف طلباء کو ان کی بنیادی تعلیمی ضرورتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔بوسیدہ تعلیمی نظام، انفراسٹرکچر اور دیگر کئی مسائل میں ہماری جامعات گھری ہوئی ہیں۔ مگر یہ خان اور شریف ہمیں چند ہزار کے پیچھے لگائے رکھیں گے۔ تاکہ ہم اصل مسائل کو بھولے رہیں۔

    یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ایسے پروگراموں کے حقیقی اثرات کو سمجھیں اور ان میں اصلاحات کے ذریعے تعلیم کے میدان میں حقیقی انقلاب برپا کریں، نہ کہ محض سیاسی فوائد کے حصول کے لیے عوامی وسائل کا استحصال کریں.

  • پاکستان میں تعلیمی نظام منافع بخش کاروبار کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان میں تعلیمی نظام منافع بخش کاروبار کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی یونیورٹیوں کی اکیڈمک ریکنگ 2024 میں یورپی اور امریکی یونیورسٹیوں کا غلبہ رہا۔U) (ARW کے مطابق 2024 امریکہ کی کیمبرج میں واقعہ ہارورڈ یونیورسٹی نے مسلسل 22 سال سہر فہرست مقام حاصل کیا۔ دو اور امریکی ادارے سیٹنورڈ یونیورسٹی اور میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی یونیورسٹیوں کا غلبہ رہا۔ غلبے کی وجہ ان ممالک نے اقراء پر عمل کیا۔ ان اداروں میں پڑھانے والے پروفیسرز اپنی بھرپور توجہ اپنے اداروں پر اور پڑھنے والے بچے اور بچیوں پر دیتے ہیں۔ مسلم دنیا سمیت پاکستان کے پروفیسرز اور سکولوں کے اساتذہ کی بھرپور توجہ پرائیویٹ سکول او رکالجز پر ہوتی ہے جہاں آمدن کے ذرائع زیادہ ہوتے ہیں۔ ملک کے گلی کوچو ں میں پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کی بھرمار ہے جو منافع بخش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں پڑھانے والوں کی سرپرستی میں یہ کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ جس ملک میں تعلیمی اداروں کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کردیا جائے اس کی عالمی ریکنگ کیا ہوگی ؟ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران بھی اس منافع بخش کاروبار میں ملوث ہیں۔

    امریکہ اور یورپی ممالک کے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد خدمت کے جذبے سے جبکہ ہمارے ہاں اپنے مفادات دیکھے جاتے ہیں پاکستان اور ریاست کے نشیمن پر بجلیاں گرانے والے صرف تعلیمی اداروں میں بیٹھے اعلی افسران ہی نہیں سیاسی گلیاروں میں بیورو کریٹس میں ،سول انتظامیہ میں ، پولیس کے اعلی افسران میں۔ محکمہ مال میں،صحت کے اداروں میں۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ عوام کی اکثریت ملاوٹ میں ملوث ہے ۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ ، ادویات میں ملاوٹ ، سرکار دو عالمۖ کا حکم ہے کہ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ کیا علماء ،مشائخ نے کبھی اس طرف توجہ دی ؟ انسانی زندگیوں سے کھلواڑ ہو رہاہے ۔ کھانے پینے اور ادویات میں ملاوٹ کا سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ زندگیوں کا جھلسا رہا ہے ۔ علما، مشائخ ، عدلیہ ،بیورو کریسی ، سول انتظامیہ یا خود عوام نے غور کیا کہ ہم مخلوق خدا کے ساتھ یہ ظلم ہوتا کیو ں دیکھ رہے ہیں۔ گذشتہ 77 سالوں سے ہم انتشار اور خلفشار کا شکار ہیں آخر کیوں غور و فکر کیں ۔ ہم خدا اور اس کے رسولۖ کے نافرمان تو نہیں ؟ تعلیمی حوالے سے ایک مغربی دانشور نے کیا خوب کہا تھا:
    تعلیم و تدریس ایک بہترین پیشہ اور بدترین تجارت ہے۔

  • اساتذہ  سائنس کے مضمون کو کیسے پڑھائیں  ؟تحریر:ابوبکر ہشام

    اساتذہ سائنس کے مضمون کو کیسے پڑھائیں ؟تحریر:ابوبکر ہشام

    دور جدید میں سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے اور انسان کو یہ دنیا اور اس کی چیزوں کو سمجھنے میں بہت مدد دی ہے-سائنس کی اہمیت کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سائنس کی ہی مدد سے ہم کائنات کے بے شمار راز جاننے کے قابل ہوئے ہیں جو کہ اس سے پہلے ناممکن تھے – اس کے علم کی مدد سے ہی ہم زمین سے دوسرے سیاروں تک پہنچ پائیں ہیں -سائنس ایک بہت ہی دلچسپ مضمون ہے جو کہ طلباء کے اندر تجسس کو ابھارتا ہے اور نت نئے خیالات کو جنم دیتا ہے- لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سائنس کو ایک خشک مضمون تصور کیا جاتا ہے اور طلباء کی عدم دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اسے ایک بوریت سے بھر پور مضمون سمجھتے ہیں – اس سلسلے میں استاد کا کرادر بہت اہم ہے – ایک قابل استاد کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کون سے ایسے طریقے ہیں کہ جن سے طلباء میں سائنس کو پڑھنے، سیکھنے ، اور سمجھنے میں دلچسپی پیدا ہو- وہ اسے شوق ، ذوق اور توجہ سے پڑھیں تاکہ یہی طلباء کل کو مستقبل کے معمار بن سکیں -وہ سائنس کے تصورات اور قوانین کو سمجھ کر مستقبل قریب میں نت نئی ایجادات کر سکیں –

    طلباء کے اندر سائنس کے مضمون میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے اساتذہ کے لئے چند تجاویز درج ذیل ہیں :
    سائنس کے مضمون پر عبور حاصل کریں
    سب سے پہلے سائنس کے مضمون کو پڑھانے کے حوالے سے یہ انتہائی ضروری ہے کہ سائنس کے استاد کو اپنے مضمون پر عبور ہو – اور وہ ایک قابل اور تجربے کار استاد ہو جو کہ طلباء کو اچھے طریقے سے سائنس پڑھا نے اور سمجھانے کا فن جانتا ہو- وہ کوئی بھی سائنسی موضوع کو پڑھانے سے پہلے اس کی تیاری کرے، اس کے اوپر سوچ و بچار کرے اور بچوں کو پڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل بنائے – اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک اس مضمون کو پڑھانے والا ہی ماہر مضمون نہیں ہو گا تو وہ طلباء کو سائنس کے مختلف تصورات کیسے سمجھا پائے گا؟ اور ان میں مختلف سائنسی موضوعات بارے دلچسپی کیسے پیدا کر سکے گا؟

    کلاس کے ماحول کو دلچسپ بنائیں
    کسی بھی استاد کی سب بڑی خاصیت اس کا کلاس کے ماحول کو دلچسپ بنا نا ہے – اس حوالے سے ایک استاد یہ کر سکتا ہے کہ جب بھی وہ کلاس میں داخل ہو تو بجائے اس کے کہ وہ آتے ہی اپنا لیکچر شروع کر دے اسے چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے طلباء کو سلام کرے ، مسکراتے ہوئے ان سے ہلکی پھلکی گپ شپ کرے جیسا کہ ان سے پوچھا جائے کہ کل آپ کا دن کیسا رہا ؟ آپ نے کل کیا کیا ؟ اس سے بچے آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے ، ان پر استاد کا ایک قسم کا خوف ختم ہو جائے گا اور انکی بوریت ختم ہو جائے گی – وہ آپ کو اپنا دوست سمجھیں گے اور جہاں مشکل پریشانی آئے گی وہ آپ سے بات کرنا پسند کریں گے –

    سبق پڑھانے سے پہلے بچوں سے مباحثہ کریں
    استاد کو چاہیئے کہ وہ کوئی بھی سبق پڑھانے سے پہلے اس کے بارے میں بچوں سے پوچھے اور انکی رائے لے کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ، ان کا اس موضوع کے حوالے سے خیال ہے؟ جیسا کہ استاد سائنس کے ایک موضوع ” جاندار اور بے جان چیزوں میں فرق” کو کلاس میں پڑھانے سے پہلے اس کے بارے طلباء سے پوچھیں کہ کیا آپ کھانا کھاتے ہیں ، سوتے ہیں ، بھاگتے ہیں ، چلتے پھرتے ہیں ، سانس لیتے ہیں ؟ یقینا سب طلباء کا جواب ہاں میں ہو گا – انہیں بتائیں کہ اگر آپ یہ کر سکتے ہیں تو آپ جاندار ہیں -اسی طرح ایک کرسی کے بارے میں پوچھا جائے جو کہ کلاس میں پڑی ہو کہ کیا یہ کھانا کھاتی ہے، بھاگتی ہے، سوتی ہے ، چلتی پھرتی ہے سانس لیتی ہے ؟ یقینا سب بچوں کا جواب ناں میں ہو گا – پھر انہیں بتایا جائے کہ یہ بے جان ہے – اس دوران کوشش کی جائے کہ دورانِ ڈسکشن بچوں کی طرف اشارہ کر کے ان کا نام لے کر ان سے اس بارے میں پوچھا جائے – اس سے تمام طلباء ہوشیار اور چست ہو جائیں گے اور آپ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے – پھر آپ انہیں بتائیں گے کہ کونسی چیز جاندار ہے اور کونسی بے جان ہے ؟ اس کے بعد سبق پڑھانا شروع کریں – آپ دیکھیں گے کہ بچے نہ صرف اس سے سبق میں دلچسپی لیں گے بلکہ ان کے اندر سائنس کے تصورات کو سمجھنے کے لئے ایک لگن اور تجسس پیدا ہو گا –

    اپنے اردگرد موجود چیزوں سے بچوں کو سائنس سیکھائیں
    بچوں کو کتابوں کی دنیا سے نکال کر اپنے آس پاس میں موجود چیزوں کی مدد سے بھی سائنس سیکھائیں -اس مقصد کے لئے انہیں کسی باغ ، ندی، پہاڑ یا جنگل کی سیر کروائی جائے – تاکہ وہ اپنے ارد گرد قدرتی ماحول میں موجود نباتات ، حیوانات، چرند، پرند، اور فطرت کے اصولوں کا بغور مشاہدہ کر سکیں اور ان کو سمجھ سکیں – یہ سب وہ چیزیں ہیں جو بچوں کے تصورات اور خیالات کو ایک نئی جہت دیں گی جس سے انہیں سائنس کے مختلف پہلوؤں پر سوچ و بچار کا موقعہ ملے گا –
    ” بچہ سماجی ماحول میں پنپتا ہے اس پر سماجی ماحول کا اثر لازمی ہے ”

    بچوں کو سائنسی تجربات کی مدد سے عملی طور پر سمجھائیں
    سائنسی علوم اور تجربات کا چولی دامن کا ساتھ ہے – سائنس ایک ایسا مضمون ہے کہ جس کی بنیاد ہی پریکٹیکل پر ہے – استاد کو چاہیئے کہ وہ جو بھی سائنس کا موضوع پڑھائے اسے عملی طور پر تجر بات کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کرے – تجربات کی مدد سے سائنسی علوم کو پڑھانے سے بچوں کے اندر سائنس کو سیکھنے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے – ان کے اندر سائنسی موضوعات کو سمجھنے کا شوق پیدا ہوتا ہے – وہ سائنس اور اس کے تصورات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں – ضروری نہیں کہ اس مقصد کے لئے معلم کو بہت مہنگے اور وسیع تر آلات چاہیئے بلکہ آسان اور کم قیمت آلات کی مدد سے بھی وہ بچوں کو سائنسی تصورات اور ان کے حقائق سمجھا سکتا ہے – اس کے لئے استاد کو پتہ ہونا چاہیئے کہ وہ کونسے ایسے تجربات ہیں جن کو آسانی سے کم وسائل میں سر انجام دیا جا سکتا ہے تاکہ اسے وسائل کی دستیابی میں کوئی مسئلہ نا ہو – اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کم لاگت اور محدود ذرائع سے ہی بچوں کو مختلف سائنسی موضوعات سمجھائے جا سکتے ہیں –
    امریکی ماہر معاشیات رچرڈ گریگسن لکھتے ہیں کہ :
    ” سائنس کی عظیم شخصیات نے اپنا کام انتہائی آسان آلات کے ساتھ کیا ہے لہذٰا ان کے نقش قدم پر چلنا اور بغیر کسی مہنگے اور وسیع تر آلات کے سائنسی سمجھ بنانا عین ممکن ہے آخر کار طالب علم کا ذہن مطلوبہ آلات میں سب سے مہنگا اوزار ہے”
    مثال کے طور پر ایک سائنسی موضوع ” آکسڈیشن کا عمل ” کو بچوں کو عملی طور پر سمجھنے کے لئے استاد کلاس میں ایک چھوٹی سی سرگرمی کر سکتا ہے – جس کے لئے وہ ایک عدد لیموں اور ایک عدد آلو لے -اب لیموں اور آلو دونوں کو دو حصوں میں کاٹ دے اور لیموں کے ایک حصے کو آلو کے ایک حصے پر لگائیں جبکہ آلو کا دوسرا حصہ ایسے ہی رہنے دے – اب آلو کے دونوں حصوں کو باہر ہوا میں کھلا رکھ دے-ایسا کرنے سے آلو کا وہ حصہ جس پر لیموں لگایا گیا تھا وہ بلکل ویسا ہی رہے گا جبکہ دوسرا حصہ بھورے رنگ کا ہو جائے گا – پھر طلباء کو بتائے کہ آلو کے ایک حصے کے بھورے ہونے کی وجہ اس کا ہوا کے ساتھ کیمیائی تعامل ہونا ہے جو کہ آکسیڈیشن کے عمل کو ظاہر کرتا ہے- جبکہ دوسرے حصے پر لیموں لگ جانے کی وجہ سے اس کا رنگ بھورا نہیں ہو گا کیوں کہ لیموں میں سٹرک ایسڈ ہوتا ہے جو کہ ہوا اور آلو کے درمیان رکاوٹ بن جانے کی وجہ سے آکسیڈیشن کے عمل کو سست کر دیتا ہے – اس تجربے کی مدد سے بچے عملی طور پر اس عمل کو سیکھ سکیں گے –

    بچوں کو خود سے سائنسی تجربات کرنے کا کہیں
    کسی بھی سائنسی موضوع کے حوالے سے تجربہ کرواتے ہوئے استاد اس بات کا خیال رکھیں کہ اس میں طلبہ دلچسپی بھی لیں – اس کے لئے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کو خود عملی طور پر ان تجربات کو کرنے کا کہا جائے – مثلا ً اگر کلاس میں تیس بچے ہیں تو استاد پانچ سے چھ بچوں پر مشتمل کچھ گروپس بنا دے اور پھر انہیں خود سے تجربہ کرنے کو کہے – اس کے علاؤہ بچوں کو مختلف سائنسی ماڈلز بنانے کا کہا جائے اور اس سلسلے میں ان کی راہنمائی بھی کی جائے تاکہ وہ ان سائنسی ماڈلز کے ذریعے سے مختلف سائنسی موضوعات کو سمجھ سکیں اور ان کو رٹہ بازی سے نجات ملے گی – اسی طرح طلباء کو خوردبین (مائیکروسکوپ) کے ذریعے سے عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جانداروں کو دیکھنے کا موقع دیا جائے تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ یہ جاندار کیسے ہیں ؟ انکی ساخت کیسی ہے ؟ انکی کیا خصوصیات ہیں ؟ جب بچے اپنے ہاتھوں سے تجربے کریں گے تو اس سے ان میں سائنسی تصورات کو سمجھنے کے لئے ایک شوق اور لگن پیدا ہو گی – اور اس سے بھی بڑھ کر جب بچے اپنے ہاتھوں سے کئے گئے تجربات کو کامیاب ہوتا دیکھیں گے تو اس ان کے اعتماد میں مزید اِضافہ ہو گا اور وہ ہر روز کچھ نیا سیکھیں گے – روزمرہ پڑھائے جانے والے سائنسی اسباق کو جب بچے تجربات کیساتھ سمجھیں گے تو یہی بچے نہ صرف ہمہ وقت نت نئے سائنسی تصورات کو سمجھنے میں پیش پیش ہوں گے بلکہ یہ بچے کل کو سائنسدان بنیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کر یں گے –

    طلباء کی رائے معلوم کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں
    جب استاد سبق پڑھانے کے بعد اس کے متعلق کوئی تجربہ کروائے تو اس کے بعد بچوں سے انکی رائے دریافت کرے کہ انہیں یہ سبق پڑھنے کے بعد اس کے متعلقہ تجربہ کو عملی طور پر کرنے سے کیسا لگا ؟ انہوں نے اس سے کیا سیکھا ؟ کوئی ایسی بات جو آپ کو پہلے پتہ نہ تھی ؟ کوئی نئی اور دلچسپ بات جو آپ اس کے متعلق بتا نا چاہیں ؟ اس کے بعد طلبہ کے جوابات پر ان کی حوصلہ افزائی کرے -یقیناً اس سے بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اِضافہ ہو گا اور وہ سائنس کے مظمون کو دلچسپی اور شوق سے پڑھیں گے-

    بچوں کو اچھی سائنسی ویب سائٹس بارے آگاہی دیں
    جہاں سکول و کالجز میں تجربات کی مدد سے بچوں کو سائنس سکھائی جائے وہی جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک استاد طلباء کو مختلف سائنسی موضوعات و تجربات بارے اچھی سائنسی ویب سائٹس کا لنکس مہیا کرے تاکہ بچے انٹرنیٹ کی دنیا کا استعمال کر کے اپنے علم و سوچ میں اِضافہ کر کے ان سے استفادہ حاصل کر سکیں –
    ان تمام تجاویز پر عمل کر کے استاتذہ بچوں میں سائنس جیسے مضمون میں دلچسپی پیدا کر سکیں گے- طلباء سائنس اور اس کے تصورات کو شوق ، ذوق، لگن اور جذبہ کیساتھ پڑھیں گے – اور یہی طلباء مسقبل کے عظیم سائنسدان ثابت ہوں گے –

  • میرپورخاص:آؤٹ آف پروسیجر تعینات ہونے والی ہیڈمسٹریس کے خلاف تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج

    میرپورخاص:آؤٹ آف پروسیجر تعینات ہونے والی ہیڈمسٹریس کے خلاف تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج

    میرپورخاص،باغی ٹی وی (نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ ) گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کا اسٹاف بشمول تمام خواتین اساتذہ اور طالبات سراپا احتجاج ، اساتذہ اور طالبات کا کہنا ہے کہ اس اسکول کی سابقہ "رضیہ قیصر” نامی ہیڈمسٹریس نے اسکول کا ڈسپلن انتہائی خراب کردیا تھا ان کے دور میں مسلسل چوریاں ہو رہی تھیں ،وہ نہ تواسکول ٹائم پہ آتی تھی اور نہ ہی انھیں اسکول کا کچھ خیال تھا ، خدا خدا کرکے انکی پروموشن ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ انکا ٹرانسفر بھی کردیا گیا اور پھر یہاں گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کے لئے نئی ہیڈمسٹریس محترمہ تسلیم منظور کو اسکول کا چارج دیا گیا ۔

    نئی ہیڈ مسٹریس نے آتے ہی اسکول میں اساتذہ پر اور تمام طالبات اور دیگر اسٹاف پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ڈھائی سے تین ماہ میں اسکول کی حالت بدل ڈالی اور تمام اسٹاف بشمول طالبات ان سے خوش نظر آنے لگیں، مگر اچانک سابقہ ہیڈ مسٹریس رضیہ قمر نے آؤٹ آف پروسیجر بالا افسران سے ساز باز کرکے دوبارہ اپنا تبادلہ گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول دوبارہ کرالیا ، اس تبادلے کے بارے میں میرپورخاص محکمہ تعلیم کے اعلی افسران بھی لاعلم تھے ۔

    اس موقع پر طالبات سراپا احتجاج تھیں اور "میڈم رضیہ قمر نامنظور” "ہماری میڈم کیسی ہو ” تسلیم منظور جیسی ہو” جیسے فلک شگاف نعرے لگا کر احتجاج کر رہی تھیں ، اسٹاف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا اس دوران ایک بار میڈم رضیہ قمر آئیں اور رجسٹر میں سائن کرکے چلی گئیں اسٹاف نے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں ایک حادثے میں میڈم تسلیم منظور کے جواں سال بیٹے کا نتقال ہوگیا مگر طالبات کے مستقبل اور اسکول ڈسپلن کی خاطر مسلسل اسکول میں حاضر رہیں ۔

    اس موقع پہ کئی خواتین اساتذہ اور طالبات نے اپنے ویڈیو پیغام میں صوبائی وزیر تعلیم سیکریٹری محکمہ تعلیم اور تمام محکمہ تعلیم کے اعلی افسران و ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کیا کہ برائے مہربانی اسکول کی طالبات کے مستقبل کو داؤ پہ نہ لگایا جائے اور گورنمنٹ خورشید بیگم میموریل گرلز ہائی اسکول کی ہیڈمسٹریس کو اپنی جگہ پہ فعال اور مثبت کردار ادا کرنے دیاجائے

    اس موقع پر سینئر ٹیچر سلمی خاصخیلی ، رضوانہ ، حمیدہ ، شیباناز ، شبانہ کوثر ، رخسانہ ، نغمہ اور تمام ٹیچرز مکمل اسکول اسٹاف سینئر صحافی ڈیلی ڈان(انگریزی) صدر نیشنل پریس کلب قمرالدین شیخ،ممتاز صحافی حیات قریشی ،سید شاہزیب شاہ نامہ نگارباغی ٹی وی کے علاوہ دیگر لوگ بھی موجود تھے

  • ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    میرے لیئے ضیاء الدین یوسفزئی کا تعارف ذرا مختلف ہے ان لوگوں سے جنہوں نے افسانوی، پراسرار، متنازع یا غیر فطری قصے سن رکھے ہیں کیونکہ جہانزیب کالج میں ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی مجھ سے سینئر تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تمام ہمدردیوں کے باوجود ایک غیر تحریری نسل پرستانہ قوم پرستی کے غالب جزبات پر میرے شدید تحفظات تھے. کیونکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ رہا ہے کہ بہترین جزباتی تقریر اور بہترین شاعری کا بہاؤ ہر رہنما میں مشترک رہا مگر ساتھ ہی مجالس و مکالمے میں دلیل کی جگہ زور اور "پرتشدد” الفاظ کی ادائیگی تقریر و شاعری کو محض طاقت کا اظہار بنا دیتی تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی نے طلبہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تو ایک فرق نے مجھے فورا متوجہ کیا کیونکہ میری نظر میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں فٹ نہیں تھے اس لیئے کہ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور عدم تشدد کے قائل تھے جبکہ یہ اے این پی کے آئین کے عین مطابق اور عمل کے برعکس تھا. دوسرا ضیاء الدین کی ادائیگی میں لکنت تھی ہکاہٹ تھی مگر جب شعر ادا کرتے تھے تو اس روانی سے کہ پن ڈراپ خاموشی ہوتی اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ غیر سیاسی اساتذہ کرام دروازوں ، برآمدوں میں کھڑے ہوکے مدلل مقرر اور برجستہ شاعری سنانے والے کو سنتے تھے اور میری عقیدت ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ ان کی شخصیت کی عجیب پراسراریت کی وجہ سے تھی جس کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ انتہائی انکساری اور تہذیب سے رہتے جس کو میں ان کی عظمت یا احساس کمتری میں کوئی ایک سمجھنے سے قاصر رہا.

    وہ اساتذہ میں غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی رکھتے تھے جو کسی طالب علم رہنما کے لیے میں نے نہیں دیکھی تھی
    وہ بہت ترقی پسند اور لبرل تھے جبکہ تھیوکریسی کے مخالف تھے مگر روحانیت پسند ضرور سے تھے۔ وہ مذہب پر بات نہیں کرتے تھے مذہب پر تنقید نہیں کرتے تھے مگر تنقید کے بارے میں ہمیشہ غیر جانبدار رہتے چونکہ بائیں بازو کی سیاست زندہ اور سر گرم تھی اور ریاست کی طرف سے مذہبی استعمال اور اس استعمال میں استحصال غالب تھا اس لیے بائیں بازو کے نظریات کے عامل افراد کا استعمار کے ساتھ مذہبی تنقید فیشن کے اندر تھا. ضیاء الدین یوسفزئی ایک روایت پسند مذہبی شخص اور ایک حق تنقید کے حامی دوہری شخصیت کی طرح نظر آتے اور وہ مذہبی انتہا پسندی اور لا دینی انتہا پسندی کے دور میں اعتدال پر تھے جو اس کی جیسی شخصیت سے امید نہیں کی جا رہی تھی اور وہ خود شاعر اور لطیف احساسات کے مالک تھے .

    انگریزی ادب اور پشتو ادب پر ایک قابل ذکر عبور رکھتے تھے علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے سامع تھے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور پھر وہ ہمارے محلے میں بھی آکر رہنے لگے تھے جہاں کسی عام محلے دار کی طرح اسی لہجے میں گفتگو کرتے وہ نوجوانوں اور عام محلے داروں میں بہت مقبول تھے لہذا میں نے ایک چھٹی والے دن ضیاء الدین کو دیکھا جن کے ہاتھ میں چھوٹی سی سیڑھی ایک بورڈ تھا میں دور سے دیکھ رہا تھا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ضیاء الدین ہی ہے میرے ساتھ جو لڑکے تھے وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جو جانتے تھے شانگلے والا نیا کرایے دار اچھا لڑکا سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے تھے لہذا ہم خوڑ پار کرکے ان کے پاس پہنچے وہ کچھ شرمائے کچھ خوش ہوئے میں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں ؟

    بورڈ دیکھاتے ہوئے کہنے لگے ساجد ایک کوشش سی ہے "خوشحال پبلک سکول لنڈیکس” میں نے پوچھا کیا آپ واقعی انگلش میڈیم سکول کھولنے میں سنجیدہ ہو جس کا کوئی اچھا سٹینڈرڈ بھی ہوگا ؟ انہوں نے اعتماد سے جواب دیا یقیناً
    میں نے کہا نام کا انتخاب قطعی غلط ہے بورڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں ؟ میں کہا اگر انگلش میڈیم سکول کھولنے کا اردہ ہے تو خوشحال خان ، رحمان بابا قسم کا نام رکھنے کی جگہ شیکسپیئر ، سینٹ، لارنس ، کوین یا جان ، مارٹن ٹائپ نام رکھیں اور میں واقعی سنجیدہ تھا . وہ کھل کر ہنسے اور گلے لگے جس کا مطلب تھا وہ قطعی طور پر متفق نہیں ہے. وہ بورڈ ہم نے ملکر نصب کیا یہ تشہیری مہم تھی سکول کی جس کو ایک لمبے عرصے تک وہاں سے گزرتے ہوئے ہمدردی سے دیکھتا .

    انعام ہمارا دوست تھا اور اس نے نشاط چوک میں ایک کتابوں کی دوکان کھول لی۔ جس میں روایتی کتابوں کے علاوہ ترقی پسند ادب پر کتابیں اور رسائل بھی موجود ہوتے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی لوگوں کے لیے ایک جائے اطمینان اور پاک ٹی ہاؤس جیسی اہمیت حاصل کر گیا ۔ ضیاء الدین یوسفزئی بھی گاہے بگاہے وہاں آتے جہاں میں ، عثمان اولس یار اور دیگر نظام سے مایوس موجود ہوتے جزباتیت تو تھی ان دنوں میں چودہ اگست کی کاروباری سطح پر منانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ میری یاد میں پنجاب بیکری والے اپنی بیکری سجا کر کچھ اظہار کرتے ورنہ سکولوں میں ہی چودہ اگست کے نغمے سن کر چھٹی اور نہ چھٹی کا سا ماحول ہوتا ایک چودہ اگست کو بغیر کسی پیشگی مشورے کے ہم نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی۔ ضیاء الدین آیا تو ان کے بازو پر باندھ دیا اور ہم خود غیر اہم تھے ہمارے احتجاج کی اہمیت ہمارے علاؤہ کسی نے محسوس نہیں کی اور ہم خود نہیں جانتے تھے ہمارا کیا مقصد ہے ہاں نظام پر عدم اعتماد ایک وجہ ضرور تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی کے خلاف پچھلے سالوں میں چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا الزام لگا پڑھا تو بے اختیار ہنس دیا، ضیاء الدین یوسفزئی کی نظریات سے زیادہ ان کی شرافت اور دوستی کا احترام سیاہ پٹی کو ان کے بازو پر لے آیا تھا جو دہائی سے اوپر گزرنے کے بعد ان کے لیے طعنہ بن گیا جبکہ انعام اور ہم کئی پشتوں سے پڑوسی تھے عثمان اولس یار رشتہ دار ، کلاس فیلو ، دوست اور ہم نظریہ اور باقی دو تین دوست بھی ایسے ہی تھے عبداللہ یوسف زئی ، واجد علی خان کا بھی گزر ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتے. ضیاء الدین یوسفزئی نے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا تھا اور روخان صاحب و فضل ربی راہی صاحب کی قربت مل گئی تھی جس کی مجھے توقع بھی تھی اور ان کے اندر اہلیت تو تھی ہی کہ اس محفل تک پہنچتے۔

    ضیاء الدین یوسفزئی ایک با اعتماد ماہر تعلیم کی صورت میں ابھرنا شروع ہوئے ساتھ ہی ادبی سرگرمیوں کے سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے جبکہ انکی خواہش تھی کہ تعلیم سائنسی بنیادوں پر آسان ،سستی اور پر کشش ہو دوئم کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مالی مدد کا مستقل کوئی سلسلہ بھی بنائے اسی میں ہی سرگرم رہے اور میں بھی عملی زندگی میں آ کر سوات چھوڑ چکا تھا مگر ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطہ تھا جسکی وجہ ایک پچھلا تعلق دوسرا میرے بہنوئی احمد شاہ کے ساتھ ان کی دوستی ، میرے والد صاحب کے ساتھ ان کا تعارف اور اچھے الفاظ میں ذکر سمیت متعدد ۔۔

    دو ہزار آٹھ یا نو میں ضیاء الدین یوسفزئی کا ایک میسج آیا کہ وہ بیرونی ملک کسی ادبی سلسلے میں جا رہا ہے اور کچھ
    میں نے اس کا میسج ویسے ہی فیس بک پر لگا دیا میرے ایک فیس بک دوست اور سوات کے ایک رہائشی نے تبصرہ لکھا کہ وہ بہت خوش ہوگا اگر ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کروں اور اگر میں ان کا نمبر فراہم کر سکوں میں نے یوسفزئی سے پوچھا انہوں نے ہنس کر کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر ضیاء الدین نے واپسی پر میرا بڑا شکریہ ادا کیا کہ میری وساطت سے جو میزبانی ملی اس نے کافی مدد کی اور بہت کچھ دیکھنے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا چونکہ ضیاء الدین کو میں ایک خوددار ، شکر گزار اور قناعت پسند شخص کے طور پر بھی جانتا تھا مجھے بہت اچھا لگا۔ مذید باہر سے دوست کی جانب سے ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کا موقع فراہم کرنے اور تنگی وقت ملاقات کے ذکر نے اور بھی خوشی فراہم کی جو دراصل میزبان کی مہمان کے لیے خراج تحسین تھا.

    مجھے فخر ہوا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے ان کو گرویدہ کر لیا تھا 2009 میں جب حالات بہت خراب ہونے لگے تو مجھے ضیاء الدین کی بڑی فکر ہوتی تھی اور رابطہ بھی بہت رکھتا تھا ان کا احتجاج اور رد عمل میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ تھا شعوری آگاہی کی ان کی تمام کاوشیں بہت ہی خطرناک ہو سکتیں تھیں جس سے وہ متفق نہیں تھا یا آنے والے واقعات کا سب لوگوں کی طرح ان کو بھی صحیح ادراک نہیں تھا جبکہ ایک وقت آیا جب مجھے لگا کہ شاید میں ان کو زندہ پھر کھبی نہیں دیکھ پاونگا اور سوات سے ابادی کے انخلاء سے کچھ پہلے وقت پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوات چھوڑ رہے ہیں مگر دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میں نے فون پر رابطہ کیا تو سفر میں تھے دل برداشتہ تھے دو ہزار نو میں ہی نشاط چوک میں سیدوشریف کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے وہ سٹرک کنارے چلتے ہوئے نظر آیا ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا گاڑی پارک کرکے میں ان کو گلے ملا اور کہا کہ مجھے یقین تھا ہم کھبی دوبارہ زندہ نہیں مل پائیں گے سوات کا تاریخی ہجرت کا دور ختم ہو چکا تھا۔
    وہ مگر پر عزم تھا اور سوات کے حالات کو خراب کرنے کو منظم کوشش اور مجرمانہ فعل برملا کہہ رہا تھا اور ان کے عزم میں اور پختگی تھی شاید ہی کچھ لوگ اس طرح اظہار کرتے ہونگے جیسے وہ کر رہا تھا انخلا سے پہلے اور اب بعد میں وہ سوات قومی جدوجہد اور قومی بیداری پر زور دے رہا تھا جبکہ بعد میں سوات قومی جرگے کا اہم رکن بھی بن گیا.

    دہشت گردی ، کرفیو کی طوالت اور ریاستی ردعمل کی مایوس اظہار کا بہت بڑا ناقد تھا
    2009 کے واقعات اور ناخوشگوار تجربات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اعتدال پسند اور استقامت پسند ضیاء الدین کے اندر یہ دونوں صفات کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ دہشت گردوں کے خلاف شدید مزاحمت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے دوسری طرف ریاستی اداروں اور ریاست کی لاپرواہی اور غیر ضروری تاخیر کو بھی حدف تنقید بنا رہے تھے ساتھ ہی ان کے امدادی کاموں میں بھی باقاعدگی اور تیزی آ رہی تھی ایک طوفان تھا جو ان کے اندر ابل رہا تھا
    2010 کے سیلاب میں انہوں نے رابطہ کیا اور مجھے ایک بڑی رقم عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا. میں چونکہ ہمیشہ مالی غیر ہمواری اور معاشی بے ترتیبی کا شکار رہا ہوں مالی امداد سے معزرت کی۔ جس پر انہوں نے متاثرین کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں مدد کی درخواست کی اور پھر انکے امداد دینے کا طریقہ بہت ہی عجیب تھا ۔ میڈیا اور شہرت سے پردہ کرکے گھر گھر جاکر امداد پہنچائی وہ گراؤنڈ پر موجود رہا 2011 میں موثر طور پر وہ سوات کا کیس پیش کر رہا تھا ۔ مذاکرے ، سیمینار اور پریس کالموں کے ذریعے سوات میں استحصال کے خلاف ایک موثر آواز بنے رہے مسلسل دھمکیوں اور سیکورٹی رسک کے باوجود وہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھے اور واقعی ان کی فکر بہت بڑھ گئی تھی۔

    اکتوبر 2012:میں کم سن ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت سب نے ملالہ کے احتجاج اور ڈائری کو وجہ قرار دیا مگر نجانے کیوں مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ ضیاء الدین کو چھپ کرانے کے لیے سافٹ ٹارگٹ چنا گیا. بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں نے یہ موقف دیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘ اس وقت سوات قومی جرگہ پوری طرح سرگرم تھا اور تمام سربراہ ٹارگٹ کیے جا رہے تھے۔ اور اس ٹارگیٹنگ پر کھل کر جرگے کا موقف آ رہا تھا

    اس دن میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں میٹنگ میں تھا چائے کے وقفے میں ٹی وی آن کیا تھا تو ملالہ یوسفزئی پر حملے کی خبریں چل رہی تھیں میں نے انتہائی پریشانی میں اپنے بہنوئی احمد شاہ کو فون کیا انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا میں ساتھ ہوں وہ ہسپتال میں ہے اور ضیاء الدین پہنچ رہا ہے بعد میں ملالہ یوسفزئی کو شفٹ کرنا پڑا خیبرپختونخواہ کے ماہر نیورو سرجنوں کی ٹیم کی مدد کے لیے ملٹری ہسپتال کے نیورو سرجن پہنچے مگر زندگی اور موت کی جنگ جاری رہی اور ملالہ یوسفزئی کے لیے جدید علاج فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا. پہلے سے سوات بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے شکار کے طور پر نمایاں تھا سکول کے بچیوں پر حملے نے مغربی سول سوسائٹی کو کھل کر طالبان کی مذمت اور ملالہ کو فوری طور پر صحت کے بہترین مواقع دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ ہوگیا۔

    اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کو دہشت گردی کا بزدلانہ فعل قرار دیا اور ملالہ کو بہترین طبعی امداد دینے کا وعدہ اور اپیل کی اور ایک آئر ایمبولینس میں ملالہ کو انگلستان منتقل کیا گیا اور دنیا بھر سے لاکھوں بچوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ضیاء الدین یوسفزئی پاکستان میں رہ گیا وہ ، اس کے جزبات اور حثیت ثانوی ہوگیے
    مالی طور پر وہ اتنا مستحکم نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کا سفر اور وہاں رہائش کا بندوست کر سکے ساتھ ہی دیگر قانونی لوازمات کی تیاری میں موت سے لڑنے والی ایک بچی کے بے بس باپ کا درد روح پرور تھا ملالہ کے ایک سے اوپر ایک آپریشن کیے جا رہے تھے متفرق خبریں مل رہی تھی زندگی کے مطالق شہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں مستقل معزوری کی نوید دی جا رہی تھی.

    اور پھر وہ دن آیا کہ ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ ایک مہذب ملک پہنچ گیا جہاں اظہار تحریر و تقریر کی آذادی کے ساتھ بہترین طبی سہولیات حاصل تھے ملالہ رو بہ صحت ہوتی گئی مگر وہ چہرے کے ایک سائڈ کے اعصابی نظام کی مفلوجی کا شکار بحرحال ہوگئی۔ سپیچ تھراپسٹ اور فزیوتھراپسٹ نے ملکر نیورولوجی کے شعبے کے ساتھ ملکر طبی کرشمہ انجام دیا. ملالہ بولنے کی لائق ہوئی تکلیف سے ہی سہی مگر اس کی آواز نے ضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس نے اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور دہشت گردی کی مخالفت اور سختی سے کرنے کا اعلان کیا۔
    آصف علی زرداری صاحب نے دورہ انگلستان کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی ملکیتی ایک مکان بھی رہنے کو دیا.

    ضیاء الدین نے حکومت پاکستان کو درخواست دی کہ یہ مکان ان کی ضرورت سے کہیں بڑا ہے اور ویسے ہی دہشت گردی زدہ ملک پر بوجھ ہے اس لیے ان کو انکی چھوٹی فیملی کے حساب سے مکان دیا جائے 2014 تک ملالہ کی آواز دنیا کے ساتھ ارب سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال ان کو امن کے لیے عالمی ایوارڈ اور اگلے سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے تعلیم کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا واحد موثر ہتھیار قرار دیا کروڑوں لوگوں نے براہ راست انکی تقریر سنی اقوام متحدہ نے اپنے ایک فنڈ جو دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم اور بہتر صحت کے لیے سرگرم تھا کا نام تبدیل کرکے ملالہ فنڈ رکھ دیا برطانیہ میں ہی ضیاء الدین یوسفزئی کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے میں ملازمت مل گئی مگر وہ ایک طویل عرصے مالی دشواری کا شکار رہے.

    ملالہ ملنے والی انعامی رقم ملالہ نے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ سوات اور شانگلہ میں کئی پبلک و پرائیویٹ سکولوں کو فنڈز کی فراہمی شروع کر دی بے شمار طلباء تعلیمی وظائف حاصل کرنے لگے تور پکئ ایک گھریلو ناخواندہ خاتون نے پڑھنا شروع کیا اور ان کی شاعری وطن سے محبت ، یاد اور امن کے پیغام پر مبنی میڈیا پر سامنے آنے لگی عملی طور پر ایک وطن پرست اور محب وطن ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ وطن بدر ہوگیا ہے
    پچھلے سال ان کے لنڈیکس والے گھر پر کام کرنی والی خاتون کے لیے انہوں نے میرے نام پر کچھ امدادی رقم بجھوائی جو بینک کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے نکالے گیے اور پھر مجھے ایف آئی اے سے انکوائری کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

    مجھے کہا گیا کہ میرا نام کا اضافہ پہلے سے موجود مالی امداد لینے والوں کی فہرست میں ہوگیا ہے اور کہ میرا ضیاء الدین کے ساتھ کیا رشتہ ہے میں نے بتایا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ امداد میرے توسط سے ایک پرانی جاننے والی بزرگ خاتون کو بھجوائی ہے جو میں نے اسی دن ادا کر دی تھی اور بینک سے کئی مہینے بعد وصول کی ۔ بڑی مشکل سے ثبوتوں اور گواہیوں کے بعد یقین دلایا ہم نے ضیاء الدین یوسفزئی کو تسلیم نہیں کیا ان معنوں میں ہرگز نہیں جس کا وہ حق رکھتا تھا ۔

    ہم نے باچا خان کو تسلیم نہیں کیا، ہم نے بھگت سنگھ کی آذادی کی تحریک کا مذہب جائزہ لیکر مسترد کیا۔ ہم زمینی حقائق کے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ نیا کچھ نہیں کیا ۔۔
    دنیا بھر کے آذاد و مہذب ممالک نے ان کے سامنے سر نگوں کیے ۔ ضیاء الدین یوسفزئی آج بھی طالبان حاکمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی کے دن گن رہا ہے وہ شاید واحد موثر آواز ہے جو بلند ہے
    بے انصافی ، دہشت گردی ، لاقانونیت اور ریاستی عدم تعاون کے خلاف ، ریاستی نظر اندازی اور سرد مہری کے خلاف، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مجھے یقین ہے ضیاء الدین یوسفزئی تاریخ میں صحیح سمت کھڑا ہے وہ مختلف قسم کی جدوجہد میں ہے جس میں باچا خان، بھگت سنگھ ، رابندرناتھ ٹیگور ، مولانا عبیداللہ سندھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی مشترکہ جھلک نظر آتی ہے ۔

  • وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے!!! — محمود فیاض

    وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے!!! — محمود فیاض

    میری بیٹی کتابی ہے، یعنی bookish knowledge پر انحصار کرتی ہے، ریڈنگ سے رغبت ہے، دو تین روز میں کتاب ختم کر دیتی ہے۔ جبکہ بیٹا visual اور auditory ہے، یعنی سمعی اور بصری آلات پر انحصار کرتا ہے، مشاہدہ بہت تیز ہے۔ کتاب سے اُسے چڑ ہے۔ وہ یوٹیوب چینل Zem TV کی ویڈیوز دیکھتا رہتا ہے، نیز فیصل وڑائچ کے تینوں یوٹیوب چینلز اور جانے کیا سے کیا۔

    اگر زیادہ آگاہی اور زیادہ علم کی بات کروں تو بیٹا سبقت لے جاتا ہے۔ تاہم، بیٹی کی اپنی سی دنیا ہے جہاں معتبر اور زیادہ لطف آگیں ذریعہِ علم بہرحال ریڈنگ ہے۔

    اگر آپ ایک کمرہِ جماعت میں موجود 30 عدد بچوں کو بہ نظرِ غائر دیکھیں، اُن کا مزاج جاننا چاہیں تو بمشکل چھ سات بچے کتابی مزاج کے حامل ہوں گے۔دیگر بچے auditory learners اور visual learners ہوں گے، بعض kinesthetic learners ہوں گے جو متحرّک رہ کر عملاً کچھ پرفارم کرتے ہوئے سیکھتے ہیں۔

    بعض بچے ان تینوں اقسام کا مرکّب ہوں گے تو بعض سمعی و بصری یعنی دو قسموں کا مرکّب۔

    یہ تجزیہ کیا جانا بہت ضروری ہے کہ کس بچے کا لرننگ سٹائل کیا ہے۔

    لیکن مروّجہ نظامِ تعلیم اس بات کا اسکوپ نہیں رکھتا کہ ایک استاد ایسی تحقیق میں عملاً دلچسپی لے، اور بچوں کو اُن کے مزاج کے باوصف متعلقہ ذرائع علم تک رسائی کا موقع اور ایکسپوژر دے۔ اس موضوع پر تربیتی ورکشاپس میں بات تو کی جاتی ہے، مگر عملاً اس کا اسکوپ تقریباً ناپید ہے۔

    دیکھا جائے تو وقت پوری طرح سے بدل گیا ہے۔ نئی نسل کا مزاج مختلف ہے، یہ پردہِ سکرین اور کِی بورڈ سے جڑا ہے۔ سکرین اور کِی بورڈ کا استعمال آکسیجن یا ہوا کی طرح ہر سُو محیط ہو چکا۔

    اِس تناظر میں نہ صرف یہ کہ علم کی ڈیجی ٹائیزیشن کا عمل بہت ضروری ہے، بلکہ تحریری امتحان والے ٹرینڈ کو کم کر دینا بھی ضروری ہے۔

    یعنی ایک طرف بیشتر نصابی مواد کوکتاب کے دامن سے کھینچ کر اُسے ویڈیوز شکل میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ کمرہِ جماعت میں ویڈیوز چلا کر وقفے وقفے سے بات چیت کرنے اور سوالات پوچھنے والا فارمیٹ اپنا جائے۔ دوسری طرف، بچے کے ہاں مقدارِ علم و ہنر کی جانچ کے پیمانے بھی اب بدل دئیے جائیں۔

    ایک اور اہم مسئلہ سائنسز اور میتھ سے متعلق غیرضروری مواد کی کانٹ چھانٹ کا ہے۔ سیکنڈری سکول سطح پر فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، اور میتھ کی کتابوں میں غیرضروری مواد بھرا ہے۔ بہت بورنگ ہے یہ!

    اس سطح پر ایک تو یہ مواد کم کیا جائے۔ دوسرے، بیشتر مواد کو ویڈیوز اور کوئزز کی شکل میں پیش کرتے ہوئے سیکھنے کے عمل کو دلچسپ اور آسان بنایا جائے۔

    تیسرے، اس میں سے نصف مواد کو تجربہ کے عمل سے جوڑ دیا جائے۔ بچے نویں اور دسویں جماعت میں ہر سال ایک سو چھوٹے بڑے تجربات کریں۔ اور آٹھ دس عدد پراجیکٹس بھی۔ پراجیکٹس میں بچوں کا تحرّک دیدنی ہوتا ہے۔ اُن کی ذہانت و صلاحیت کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اُن کی کارکردگی حیران کن ہوا کرتی ہے۔

    مگر بات یہ ہے کہ بات کس سے کی جائے؟

    کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

  • کب تک؟ — خطیب احمد

    کب تک؟ — خطیب احمد

    ایک اندازے کے مطابق صرف پنجاب کے دیہاتوں شہروں، گلی محلوں میں موجود چھوٹے بڑے پرائیویٹ سکولز کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔

    کسی بھی نوعیت کی معمولی معذوری کے حامل صرف 2 بچوں کو اگر ایک پرائیویٹ سکول داخلہ دے تو اس نئے سال میں 1 لاکھ آوٹ آف سکول سپیشل بچے تعلیمی دھارے میں آسکتے ہیں۔ ایسا ہی اگر پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں ہو تو لاکھوں بچے سکول جا سکتے ہیں۔

    محکمہ سپیشل ایجوکیشن پنجاب کے زیر انتظام چلنے والے 300 اداروں میں اس وقت لگ بھگ 35 ہزار سپیشل بچے زیر تعلیم ہیں۔ ہمارے سکول پنجاب کے ہر ضلع، تحصیل، ٹاؤن اور چند بڑے قصبات میں موجود ہیں۔ آپ کسی بچے کے داخلے کے لیے اپنے قریبی سپیشل ایجوکیشن سنٹر کے متعلق مجھ سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔

    آپ کا کوئی پرائیویٹ سکول ہے تو آپ نیکی کا ارادہ کیجئے۔ سکول کے بچوں سے ہی پوچھیے کہ انکا کوئی بہن بھائی یا گلی محلے میں کوئی سپیشل بچہ ہے تو آپ کو بتائیں۔ میں اس پر آج کل ہی میں ان شاءاللہ تفصیلی مضمون لکھتا ہوں کہ کن بچوں کو آپ آسانی سے انرول کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بس دل میں خود سے یہ بات آنے کی دیر ہے۔

    آپ سپیشل بچوں کے والدین ہیں تو آپ سے میری گزارش ہے۔ بچے کے علاج کے ساتھ اسکا تعلیمی سفر بھی شروع کیجیے۔ اسے ایک وہیل چیئر لے کر دیجئے اور قریبی کسی سکول اسے پڑھنے بھیجئے۔ سکول انتظامیہ کے خدشات ہم انکو گائیڈ کرکے دور کردیں گے ان شاءاللہ۔ وہ یہی اعتراض کرتے کہ وہ بچہ دوسرے بچوں کو تنگ کرے گا اور دیگر بچوں کے والدین کمپلین کریں گے۔

    پاکستان میں ہوئی بے شمار تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نارمل بچوں کے والدین اپنے بچوں کو سپیشل بچوں کے ساتھ ایک کلاس یا سکول میں نہیں پڑھانا چاہتے۔ تو پی ٹی ایم پر والدین کو اچھے طریقے سے گائیڈ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کا محض ایک وہم ہے۔ نہ تو کسی کی معذوری ساتھ پڑھنے سے کسی کو لگ سکتی ہے۔ نہ ہی آپکے بچے کی تعلیم کا ان شاءاللہ کوئی حرج ہوگا۔

    کب تک اپنے سپیشل بچے کو چارپائی پر پڑا یا وہیل چیئر پر بیٹھا دیکھ کر روتے رہیں گے؟ کب تک اسے شہر شہر ایک سے دوسرے تیسرے چوتھے ہسپتالوں میں لیجاتے رہیں گے؟ اسے پلیز اب سکول کا رستہ دکھائیے۔ اسے اسکی زندگی اسکے مخصوص مدار میں ہم سے مختلف رہ کر جینے دیجئے۔

    چند ایسی معذوریاں ہوتی ہیں جن میں ایک استاد کے ساتھ ایک ہی بچہ پڑھنے پڑھانے یا سیکھنے سکھانے کے کام میں موجود ہوتے ہیں۔ جیسے آٹزم ، ADHD شدید دانشورانہ پسماندگی، یا سماعت و بصارت سے ایک ساتھ محروم ہونا جیسے ہیلن کیلر تھی۔

    اس کے علاوہ Rare سنڈروم یا معذوریاں ہوتی ہیں جو لاکھوں کی آبادی میں ایک دو ہی کیس ہوتے۔ یا ایک ساتھ دو یا دو سے زائد معذوریاں ہونا۔ جیسے سی پی کے ساتھ ہی اس بچے میں سماعت کا کم ہونا یا نہ ہونا۔ سی پی کے ساتھ انٹلیکچوئل ڈس ابیلٹی ہونا وغیرہ۔

    ان کے علاوہ تقریباً تقریباً تمام ہی اقسام کے سپیشل بچوں کو کسی بھی گلی محلے کے سکول میں بھیجا جا سکتا ہے۔ ہاں اس سکول کے ساتھ قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول یا کوئی سپیشل ایجوکیشن کی تعلیمی بیک گراؤنڈ رکھنے والا ٹیچر مسلسل رابطے میں ہو یا معذوری کی نوعیت دیکھتے ہوئے وہاں مستقل ڈپیوٹ کیا جائے۔

    اشاروں کی زبان یا بریل سیکھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ چند ماہ میں ہی ایک ٹیچر یہ چیزیں سیکھ جاتا ہے۔ اور سکول میں آکر کتابیں پڑھنا ہی پڑھائی نہیں ہوتی۔ ٹائم مینجمنٹ ، سیلف کئیر ، اخلاقیات، سوشلائزیشن، فرینڈ شپس، گیمز میں حصہ، اسمبلی میں جانا، صفائی ستھرائی سیکھنا، تنہائی کی قید سے باہر نکلنا کیا تعلیم کا حصہ نہیں ہے؟

    کیوں کاپی کتاب اور کلاسز پاس کرنے کو ہی تعلیم سمجھ لیا گیا ہوا ہے؟ ایک سپیشل بچہ اپنی ذہنی اور جسمانی استعداد کے مطابق لکھنا پڑھنا سیکھ کر پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہے۔ اور کئی سالوں کی محنت کے بعد صرف لکھنا پڑھنا ہی سیکھ پاتے۔ بنیادی حساب اور خدا رسول یا مذہب کو جان پاتے، یا دیگر کچھ معلومات عامہ انکی یاداشت کا حصہ بن جاتیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ سپیشل بچوں کے والدین کا ایک گروپ تو بچوں کو کسی قابل ہی نہیں سمجھتا کہ یہ کیا کر سکتے ہیں۔۔اور دوسرے ان کو انکی قابلیت سے بہت آگے سمجھ لیتے اور سکول پر سکول بدل رہے ہوتے کہ ہمارے بچے کے ساتھ ٹھیک سے کام ہی نہیں ہورہا۔ تیسرا گروپ ان والدین کا ہوتا جو تھوڑا نہیں ٹھیک ٹھاک پڑھے ہوتے ہیں انکا مطالعہ بڑا وسیع ہوتا اور اپنے بچے کی ڈس ابیلٹی کو ٹھیک سے جان کر قبول کر چکے ہوتے۔ اور بچے کو اپنی کپیسٹی اور مخصوص سپیڈ میں آگے بڑھنے کا موقع دیتے۔

    بات کو آسان کرکے کہوں تو تمام سپیشل بچوں کو کسی نہ کسی طرح سکول بھیجنے کا انتظام کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ بچے میں کتنی مثبت تبدیلیاں چند ماہ میں ہی نظر آنا شروع ہونگی۔ اچھا ایک اور غلط فہمی کہ ہمارا سپیشل بچہ سپیشل بچوں کے یا دوسرے بچوں کے سکول جائے گا تو اسے دوسرے بچے ماریں گے یا اسکا برا نام رکھیں گے تو ہم بھیجتے ہی نہیں ہیں۔ یہ بلکل غلط سوچ ہے۔ اس سوچ کو بھی بدلیے اور باقاعدہ فالو اپ رکھئیے۔

  • دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ!!! — ضیغم قدیر

    دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں!

    اچھی زندگی گزارنے والے
    اچھی زندگی گزارنے والوں سے جلنے والے

    حماد صافی نامی پبلک فگر پر اس لئے تنقید ہو رہی ہے کہ وہ مغرب کیخلاف بات کرکے وہیں جوانی کو انجوائے کرنے چلا گیا ہے۔ مگر وہ بچہ بالکل درست کر رہا ہے۔ اس کے پیرنٹس کو پتا ہے کہ یہاں ہمارے ملک میں مغرب دشمنی کا چورن بیچ کر وہ پیسہ تو کما سکتے ہیں مگر لائف انجوائے نہیں کر سکتے، اس لئے انہوں نے اپنے بچے کو باہر بھیجنا مناسب سمجھا۔ اب میرے یا آپکے جلنے سے نا اسکی زندگی کا مزہ کم ہوگا نا ہی سکون، ہاں مگر کچھ دن تک حماد صافی پہ ہر جگہ ہوتی تنقید سے یہی نظر آ رہا ہے کہ بہت سے لوگ بس اس کنویں سے فرار چاہتے ہیں اور ان کو مسئلہ کسی کے فرار سے نہیں اپنے پیچھے رہ جانے سے ہے کہ وہ آگے کیوں نہیں بڑھ پا رہے۔

    وہ بچہ سچ بول کر گیا ہو یا جھوٹ بول کر، ایٹ لیسٹ وہ اپنی ٹین ایج سے لیکر تھرٹیز تک ایک بہترین زندگی جئیے گا۔ یہی ہر خود غرض انسان کا مقصد ہوتا ہے دوسرے کو کنویں میں دھکا دیکر اس کے کندھوں پہ پاؤں رکھ کر خود کو اس کنویں سے نکالو اور پھر کنارے پر کھڑے ہو کر کنویں کے کیچڑ میں جینے کی فضیلت بیان کرو۔

    اگر نہیں یقین تو ٹاپ لیڈرشپ کو دیکھ لیں 99% بیسویں سکیل کے افسر سے لیکر تمام سابق آرمی چیفس، وزرائے اعظم اور صدور تک سب کی اولاد پاکستان سے باہر ہے۔ خود یہ بھی چھ سات مہینے باہر گزارتے ہیں۔

    وہیں

    عام شخص کو بس بتایا جاتا ہے کہ کنویں میں جینا بہترین ہے اور اس کو بدلنا ناممکن ہے۔

    وہ دو بکریوں والی کہانی سنی ہوگی، جس میں سے ایک بکری دوسری کو کنویں میں بلاتی ہے کہ بہت مزے کی زندگی ہے اور وہ پھر اسی بھولی بکری کے کندھوں پہ چڑھ کر باہر نکلتی ہے۔

    بس وہی کہانی یہاں چل رہی ہے۔

    ضیغم قدیر

  • استاد شاگرد کا رشتہ!!! — سیدرا صدف

    استاد شاگرد کا رشتہ!!! — سیدرا صدف

    کل والدہ کے لیے خشک میوہ جات لینے بازار گئے۔۔۔ہول سیل ایک دو دکانوں سے معیار اور قمیتیں چیک کرتے تیسری دکان پر جا پہنچے۔۔۔معیار اور قمیت دونوں مناسب لگے اور واضح طور پر پہلی دو دکانوں سے بہتر تھے۔۔۔لہذا درکار میوہ جات کا آرڈر دے دیا۔۔۔

    اچانک کاؤنٹر پر موجود صاحب نے مخاطب ہوئے۔۔آپ میڈم (والدہ کا نام) کی بیٹی ہیں نا۔۔۔میں نے جواب دیا جی بالکل۔۔۔کہتے میں پہچان رہا تھا۔۔ میڈم سے شکل ملتی ہے۔۔آپکو ایک بار میڈم کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔۔میں انکا شاگرد رہا ہوں۔۔۔۔میڈم کیسی ہیں۔۔۔بہت پہلے ملاقات ہوئی تھی۔۔ میں نے بتایا ہارٹ پیشنٹ ہے۔۔۔کافی کمزور ہو گئی ہیں۔۔

    میں نے کہا آپ اپنا نام بتا دیجیے میں والدہ کو بتاؤں گی۔۔ نام بتایا پھر کہا آپ تشریف رکھیں۔۔۔میڈم سے ہم پانچوں بہن بھائیوں نے گورنمنٹ اسکول سے پڑھا ہے۔۔۔ہم بہن بھائی جو کچھ بھی ہیں انکی وجہ سے ہیں۔۔۔ میں نے چھوٹے بھائی کے ساتھ پڑھنے کے بعد آبائی کاروبار سنبھالا۔۔باقی بھی سیٹل ہیں۔۔۔میڈم ہمیں اسکول کی پڑھائی کے ساتھ درس بھی دیتی تھیں۔۔میں زیادہ کمزور تھا پڑھائی میں شام کو آپکے گھر بھی آتا تھا میڈم مفت ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔۔

    خیر سامان پیک ہونے کے بعد لڑکے نے بل اور سامان پکڑا دیا۔۔میں نے پیسے نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آواز آئی۔۔رک جائیں پلیز۔۔۔یہ میری طرف سے میڈم کے "قدموں میں رکھ دیجیے گا” اور کہیے گا میرے اور میرے بچوں کے لیے دعا کر دیں بس۔۔۔یہ پیسے میں نہیں لے سکتا ہوں۔۔اور آئیندہ سے میڈم نے کچھ لینا ہو مجھے بس فون کر دیں۔۔

    اگر استاد نے محنت اور کسی غرض کے بنا شاگرد کو پڑھایا ہو اور شاگرد بھی اس محنت اور خلوص کو یاد رکھے تو استاد شاگرد ایک مضبوط ترین رشتہ ہے۔۔۔رشتہ ہمیشہ عزت کے دم پر قائم ہوتا ہے اور مجھے فخر ہے میری والدہ نے یہ عزت کمائی ہے کیونکہ ہمیں والدہ کے حوالے سے پہچان کر احترام پہلی بار نہیں ملا ہے۔۔۔