Baaghi TV

Category: تعلیم

  • بحریہ یونیورسٹی: علم، خواب، کامیابی اور امکانات کا روشن جہاں،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    بحریہ یونیورسٹی: علم، خواب، کامیابی اور امکانات کا روشن جہاں،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    کچھ ادارے صرف عمارتوں، کلاس رومز اور ڈگریوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان سے وابستہ یادیں وقت گزرنے کے باوجود دل کے کسی روشن گوشے میں محفوظ رہتی ہیں۔ میرے لیے بحریہ یونیورسٹی بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس سے میری بے شمار کھٹی میٹھی یادیں وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جامعہ کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک پورا سفر، ایک عہد اور ایک خوبصورت داستان تازہ ہو جاتی ہے۔

    بحریہ یونیورسٹی کا قیام سن 2000ء میں پاکستان نیوی کے زیر انتظام عمل میں آیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چارٹر ملنے کے بعد اس جامعہ نے مختصر عرصے میں پاکستان کی ممتاز جامعات میں اپنا مقام بنا لیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر E-8 میں واقع اس کا مرکزی کیمپس آج علم، تحقیق اور کردار سازی کا ایک اہم مرکز ہے، جبکہ ایچ الیون ۔نیول اینکریچ، کراچی اور لاہور کے کیمپس بھی ہزاروں طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
    جب میں اس جامعہ کی ترقی پر نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی ایک بیج سے تناور درخت بننے کی داستان ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ ادارہ اپنے محدود وسائل اور ایک عمارت کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر رہا تھا، مگر آج یہ ایک وسیع، متحرک اور ہمہ جہت تعلیمی دنیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ قائد بلاک، سر سید بلاک، اقبال بلاک، فاطمہ گرلز ہاسٹل، بزنس اسکول، بحریہ انوویشن سینٹر، سِک بے، اسٹوڈنٹس اسپورٹس سینٹر اور جہانگیر خان جمنازیم اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ ادارہ مسلسل ترقی اور بہتری کی راہ پر گامزن رہا ہے۔

    اس جامعہ کی نمایاں خصوصیت صرف اس کی جدید عمارتیں یا تعلیمی پروگرام نہیں بلکہ وہ نصابی اور ہم نصابی ماحول ہے جو طلبہ کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنسز، مینجمنٹ سائنسز، قانون، سماجی علوم اور دیگر شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ یہاں سے صرف ڈگری لے کر نہیں نکلتے بلکہ عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

    بحریہ یونیورسٹی کی ایک اور اہم خصوصیت اس کا بین الاقوامی معیار اور متنوع تعلیمی ماحول ہے۔ یہاں پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی زیرِ تعلیم ہیں، جو اس جامعہ کے عالمی معیار اور وسیع تعلیمی افق کی عکاسی کرتے ہیں۔ طلبہ کی علمی و پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مختلف اسکالرشپس، لیپ ٹاپ اسکیم، تحقیقی سرگرمیاں، تعلیمی مقابلے اور اسٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ مواقع نوجوانوں کو عالمی سطح پر سیکھنے، سوچنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
    بحریہ یونیورسٹی کا ایک نمایاں طرۂ امتیاز مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے افکار کے فروغ کے لیے اس کی مسلسل کاوشیں ہیں۔ جامعہ میں ہر سال قومی اور بین الاقوامی سطح کی اقبال کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں ملک و بیرونِ ملک سے ممتاز محققین، دانشور اور ماہرینِ اقبالیات شرکت کرتے ہیں۔ یہ علمی روایت نہ صرف اقبال کے پیغام کو نئی نسل تک منتقل کرتی ہے بلکہ تحقیق، مکالمے اور فکری بیداری کو بھی فروغ دیتی ہے۔اور اس سلسلے میں،اقبال چئیر کے نام سے ایک پورا ڈیپارٹمنٹ کام کر رہا ہے

    میری اس جامعہ سے وابستگی صرف ایک مشاہدے تک محدود نہیں۔ میرے اپنے گھر کی ایک کامیاب داستان بھی اس ادارے سے جڑی ہوئی ہے۔ میرا ایک بیٹا اسی جامعہ سے تعلیم حاصل کرکے ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوا اور آج ماشاءاللہ National University of Sciences and Technology (NUST) میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ اس کامیابی میں بحریہ یونیورسٹی کی تعلیم، تربیت اور رہنمائی کا نمایاں کردار شامل ہے۔ میرا دوسرا بیٹا بھی اسی ادارے میں زیرِ تعلیم ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ جامعہ اس کے خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

    آج جب میں بحریہ یونیورسٹی کے پھیلتے ہوئے تعلیمی افق کو دیکھتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ننھا سا پودا وقت کے ساتھ ایک گھنے اور سرسبز باغ میں تبدیل ہو گیا ہو۔ اس باغ کی شاخوں پر علم، تحقیق، کردار، قیادت اور کامیابی کے بے شمار پھول کھلے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے مختلف کیمپس دن رات ایک بہتر تعلیمی معاشرہ تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔ یہ جامعہ محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ ایک ایسا روشن تعلیمی جہان ہے جہاں صلاحیتوں کو سمت ملتی ہے، خوابوں کو پرواز ملتی ہے اور امکانات کامیابیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ اس عظیم ادارے کو مزید ترقی، عزت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ اس کے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ کے علم و عمل میں برکت دے۔ بحریہ یونیورسٹی ہمیشہ علم کے چراغ روشن کرتی رہے، نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر دیتی رہے اور وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور فکری بالیدگی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔
    آمین۔
    بحریہ یونیورسٹی — جہاں خواب حقیقت بنتے

  • میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟تحریر: بینا علی

    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟تحریر: بینا علی

    ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسکول میں چھت گرنے سے چار معصوم بچے شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ بعض زخمی بچوں کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہر حساس دل کو لہولہان کر دیا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے دعاؤں کے حصار میں اسکول روانہ کرتی ہیں مگر جب واپسی کفن میں لپٹے چہروں کے ساتھ ہو تو یہ صرف ایک خبر نہیں رہتی بلکہ قیامت بن جاتی ہے۔ یہ اس ماں کا نوحہ ہے جس کی گود دس برس بعد ہری ہوئی تھی مگر چند لمحوں کی غفلت نے اس کی دنیا اجاڑ دی۔ کسی گھر میں معمولی سا پلستر بھی اکھڑ جائے تو اہلِ خانہ فوراً متوجہ ہو جاتے ہیں پھر ایک ایسی عمارت، جہاں روزانہ سینکڑوں بچے موجود ہوں، اس کی خستہ حالی اسکول انتظامیہ کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی؟ کیا فیسیں صرف عمارتوں کی زیبائش، اشتہارات اور نام نہاد معیار کے لیے وصول کی جاتی ہیں؟ کیا بچوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ مجھے یاد ہے کہ حال ہی میں میرے شوہرِ محترم کا ڈرائیونگ لائسنس بننا تھا۔ ان سے مختلف ٹیسٹ لیے گئے تاکہ یہ یقین کیا جا سکے کہ وہ گاڑی چلانے کے اہل ہیں تب جا کر لائسنس جاری کیا گیا افسوس کہ سینکڑوں بچوں کے مستقبل اور جانیں جن اداروں کے حوالے کی جاتی ہیں، ان کے لیے نہ کوئی مؤثر جانچ کا نظام ہے نہ حفاظتی معائنوں کی پابندی، اور نہ ہی کسی غفلت پر فوری احتساب اربابِ اختیار کو اب بیانات سے آگے بڑھنا ہو گا۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر سروے کیا جائے۔ ایسی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو اسکولوں کی عمارتوں، چھتوں، بجلی کے نظام، ہنگامی راستوں اور حفاظتی انتظامات کا باقاعدہ معائنہ کریں۔ ہر اسکول کے لیے “سیفٹی سرٹیفکیٹ” لازم قرار دیا جائے، اور جو ادارے حفاظتی اصول پورے نہ کریں، انہیں فوری طور پر بند کر دیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی حق دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول کی عمارت اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں سال میں کم از کم دو مرتبہ حفاظتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بچوں اور اساتذہ کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔ یہ وقت صرف افسوس کرنے کا نہیں، بلکہ جاگنے کا ہے۔ اگر آج بھی غفلت کے ذمہ داروں کا احتساب نہ ہوا تو کل کسی اور ماں کی گود اجڑے گی کسی اور باپ کا سہارا چھن جائے گا اور پھر یہی سوال فضا میں گونجے گا:
    “میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”

  • چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    چولستان یونیورسٹی، ڈاکٹر طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر ذمہ داریوں کا آغاز ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وقت کے وسیع دامن میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوشگوار لمحہ اُس وقت سامنے آیا جب چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی قیادت ایک ایسے صاحبِ علم، صاحبِ کردار اور صاحبِ بصیرت انسان کے سپرد کی گئی، جنہیں میں نہ صرف ایک وائس چانسلر کے طور پر بلکہ ایک دیرینہ رفیق، ہم خیال ساتھی اور مخلص دوست کے طور پر جانتا ہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم۔ طارق جاوید کی بطور وائس چانسلر تقرری بلاشبہ ایک ادارہ جاتی فیصلے سے کہیں بڑھ کر ایک فکری، علمی اور اخلاقی سمت کا تعین ہے—ایک ایسا فیصلہ جو آنے والے برسوں میں اس جامعہ کی شناخت کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرے گا۔

    زندگی کے سفر میں بہت سے لوگ ملتے ہیں، کچھ محض راہگزر کے ساتھی ہوتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی انسان کی سوچ، فکر اور طرزِ عمل پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید اُنہی شخصیات میں سے ہیں جن کے ساتھ گزرا ہوا وقت آج بھی ذہن کے دریچوں میں تازہ ہے۔جامع زرعیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر طارق جاوید ،ڈاکٹرمحسن رضا اور راقم شاہد نسیم یک جان تین قالب تھے۔چار دہائیوں سے ذیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اور خود غرض زمانے کے نشیب وفراز نے ہماری دوستی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ ہم آج بھی ایک دوسرے کے لئے ویسے ہی ہیں ۔ڈاکٹر طارق جاوید کی شخصیت میں جو سادگی ہے، وہ بناوٹ سے پاک ہے؛ جو محنت ہے، وہ دکھاوے سے عاری ہے؛ اور جو قابلیت ہے، وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہی اوصاف انہیں ایک عام استاد سے ایک غیر معمولی قائد میں ڈھالتے ہیں۔

    تعلیم کے میدان میں اصل کامیابی صرف ڈگریوں کے حصول یا عہدوں کے ارتقاء سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ انسان اپنے علم کو کس حد تک دوسروں کے لیے روشنی بنا پاتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی زندگی اسی اصول کی عملی تصویر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ علم کو بانٹنے، طلبہ کو آگے بڑھانے اور تحقیق کے نئے دروازے کھولنے کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ اس عظیم ذمہ داری پر فائز ہوئے ہیں تو دل یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منصب ان کے لیے نہیں بلکہ وہ اس منصب کے لیے بنے ہیں۔

    چولستان یونیورسٹی، جو پہلے ہی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے، اب ایک ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو نہ صرف ادارے کی علمی ضروریات کو سمجھتا ہے بلکہ دورِ حاضر کے تقاضوں سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ آج کا زمانہ صرف روایتی تعلیم کا نہیں بلکہ تحقیق، جدت اور عملی مہارت کا زمانہ ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی سوچ میں یہی ہم آہنگی موجود ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک یونیورسٹی کی ترقی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اسے معاشرے، صنعت اور معیشت کے ساتھ جڑنا ہوگا۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً تحقیق کو تجارتی مواقع میں بدلنے، طلبہ کو عملی میدان کے لیے تیار کرنے اور قومی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوگی۔

    مجھے بخوبی یاد ہے کہ بطور ساتھی انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں اعتماد اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ وہ مسائل کو رکاوٹ نہیں بلکہ مواقع سمجھتے ہیں۔ یہی رویہ آج ایک وائس چانسلر کے طور پر ان کی سب سے بڑی طاقت بنے گا۔ کیونکہ اداروں کی ترقی صرف وسائل سے نہیں بلکہ وژن، عزم اور قیادت کی مضبوطی سے ہوتی ہے—اور یہ تینوں خوبیاں ان کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

    ایک سچا معلم ہمیشہ اپنے شاگردوں کے مستقبل کو اپنے حال پر ترجیح دیتا ہے۔ ڈاکٹر طارق جاوید بھی اُن اساتذہ میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی توانائیاں صرف اپنی ذات کی ترقی پر صرف نہیں کیں بلکہ اپنے طلبہ کو بھی کامیابی کی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے شاگرد آج مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، اور یہ ان کی تربیت کا عملی ثبوت ہے۔ ایسے میں جب وہ ایک بڑے ادارے کی قیادت سنبھالتے ہیں تو یہ توقع بجا ہے کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو روشن کریں گے۔

    چولستان کے وسیع میدان، جو کبھی صرف ریگستان کی پہچان تھے، آج علم و تحقیق کے نئے افق بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس خطے میں تعلیم کا فروغ نہ صرف مقامی سطح پر ترقی لائے گا بلکہ قومی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی تقرری اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ان کی قیادت میں یہ جامعہ نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ادارہ بن سکتی ہے۔

    یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے—وسائل کی کمی، معیارِ تعلیم کا دباؤ، اور عالمی سطح پر مقابلہ۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب قیادت مضبوط ہو تو مشکلات راستہ نہیں روکتی بلکہ راستے بناتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق جاوید کی پیشہ ورانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیتیں ان چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد ہیں بلکہ ایک مدبر منتظم بھی ہیں، اور یہی امتزاج کسی بھی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

    بطور دوست، ان کی کامیابی میرے لیے ذاتی خوشی کا باعث ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ ایک اجتماعی مسرت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسے رہنما کے سپرد ہوا ہے جو دیانت، محنت اور قابلیت کا پیکر ہے۔ میں اور ڈاکٹر محسن رضا دل کی گہرائیوں سے انہیں اس عظیم منصب پر فائز ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، ہمت اور حکمت عطا فرمائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھا سکیں۔
    مجھے پورا یقین ہے کہ ان کی قیادت میں چولستان یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی میدان میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گی بلکہ تحقیق، جدت اور معاشی ترقی کے نئے باب بھی رقم کرے گی۔ ان کا وژن، ان کی محنت اور ان کی قیادت اس ادارے کو ایک نئی شناخت دے گی—ایک ایسی شناخت جو قومی اور عالمی سطح پر باعثِ فخر ہوگی۔

    آخر میں، میں اپنے اس عزیز دوست، قابل ساتھی نو منتخب وائس چانسلر کو یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ کی یہ کامیابی،تعیناتی آپ کی محنت کا ثمر توہے ہی۔۔۔لیکن آج خوشی کے اس موقع پرمجھے آپ کے شریف النفس والد محترم یاد آرہے ہیں جو جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ایڈمن آفس کے قابل رشک ملازم تھے ،جنہوں نے کبھی اپنی خدمات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔۔۔۔۔ میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ ان ہی کی دعاؤں کی بدولت یہ ممکن ہوا ہے اور آپ کا مستقبل اس سے بھی زیادہ روشن ہے۔ آپ کی قیادت میں یہ جامعہ یقیناً ترقی کی نئی منازل طے کرے گی، اور آپ کا نام ان رہنماؤں میں شامل ہوگا جنہوں نے نہ صرف اداروں کو سنوارا بلکہ قوموں کے مستقبل کو بھی روشن کیا۔

    اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور آپ کے علم، بصیرت اور قیادت کو اس ملک و قوم کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔

  • آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

    آج کے طلبہ و طالبات: باادب یا بےادب؟تحریر:کامران ہاشمی، کرک

    اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کے طلبہ و طالبات بےادب ہو گئے ہیں
    مگر حقیقت یہ ہے کہ طالبِ علم نہیں بدلے، ہمارا رویہ اور طریقۂ تربیت بدل گیا ہے۔
    میں نے اپنے 16 سالہ تعلیمی سفر میں اور تین سالہ تجربے میں وہ وقت بھی دیکھا ہے
    جب طلبہ و طالبات اساتذہ کے سامنے ادب سے پیش آتے تھے
    اور استاد کو والدین، بڑی بہن، بڑے بھائی اور رہنما کا درجہ حاصل تھا۔وہ ادب خوف سے نہیں بلکہ استاد کے کردار، وقار اور انصاف کا نتیجہ تھا۔
    تعلیم میں یا تو صرف پیسہ کمایا جاتا ہے یا عزت اور جو استاد عزت کماتا ہے وقت اس کے لیے راستے خود بنا دیتا ہے۔
    طلبہ و طالبات کو صرف فیس یا رول نمبر نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور امانت جانیں۔ان کی بات سنیں نہیں سمجھیں۔ انہیں ڈرا کر نہیں، سمجھا کر سکھائیں۔نصاب کے ساتھ نصیحت بھی دیں،اور انہیں عزت دیں تاکہ وہ اعتماد سیکھیں۔

    یاد رکھیں، جو عزت پاتا ہے، وہی عزت کرنا سیکھتا ہے۔آج کے طلبہ و طالبات بگڑے ہوئے نہیں وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ناکامی کا خوف، غلط راستے کا ڈر، نفسیاتی دباؤ، مالی عدم تحفظ اور احساسِ کمتری۔
    ایک استاد کا اصل امتحان،ان خوفوں کو بڑھانا نہیں، کم کرنا ہے۔انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ادارہ اور استاد ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔طالبِ علم کو ڈانٹ کر نہیں،سمجھا کر سنوارا جاتا ہے۔حکم دے کر نہیں رہنمائی دے کر مضبوط بنایا جاتا ہے۔ایک استاد صرف مضمون نہیں پڑھاتا وہ کردار بناتا اور مستقبل سنوارتا ہے۔
    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے طلبہ و طالبات باادب، بااعتماد اور باکردار ہوں ۔ تو ہمیں پہلےباوقار استاد اور ذمہ دار رہنما بننا ہوگا۔

  • بچوں کی تربیت اورتعلیمی نظام کا کردار،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    بچوں کی تربیت اورتعلیمی نظام کا کردار،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    ہر ترقی یافتہ ملک کے پیچھے عمدہ نظام تعلیم ہوتا ہے جو تربیت کے زریعے اپنی قومی زبان میں ترقی سے منفرد مقام حاصل کرتے ہیں آج دنیا میں سچائی اور امانت داری میں پہلے نمبر پر آنے والے ملک جاپان کے نظام تعلیم پر غور کریں تو علم ہوتا ہے کہ جاپانی تعلیمی ٹائم ٹیبل پانچ سے چھ گھنٹے کے اوقات کار میں محدود ہے۔طالب علموں پر ہوم ورک گھرلے جانے پرپابندی ہے یعنی سکول کا کام سکول میں ہی مکمل کروایا جاتا ہے۔یعنی وہ تعلیمی چورجو اپنی نالائقی زدہ کمزوریاں ہوم ورک دے کر والدین پر ڈال دیتے ہیں اس کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ ٹیچر کی قابلیت کا پہلا امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ تعلیم دینے سے پہلے تعلیم کا تعارف اور محبت طالب علم کے دل و دماغ میں اُتارتا ہے اگر طالب علم تعلیم سے بھاگ رہا ہے تو سمجھیں اسے حقیقی استاد نہیں ملا۔جاپانی تعلیمی نظام میں بیشتر سالانہ اوقات کار میں کوئی نصاب ہے ہی نہیں۔بچوں میں تخلیقی اصلا حتیں سوالات اور جوابات کے زریعے پیدا کی جاتیں ہیں۔اس کے علاو ہ والدین پر لازم ہے کہ بچوں کو عام پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سکول لایا جائے گا اس اصول کی وجہ سے تمام طالب علم اپنے آپ کو سب کے برابر سمجھتے ہیں تاکہ کسی امیر میں تکبر نہ پیدا ہو اور کسی غریب میں احساس کمتری نہ پیدا ہو۔سب اچھا انسان ہونے کو فخرکی بات سمجھیں۔اگر کوئی بچہ ذاتی گاڑی پر سکول آتا ہے تو پرنسپل اسے گیٹ سے ہی واپس بھیج دیتے ہیں۔ ملکی وقومی نظم و ضبط کی پاسداری کرنا سب پر فرض ہے۔یہ اصول وضوابط بچے کی ابتدائی عمر میں ہی تعلیمی نظام کے ذریعے شخصیت سازی میں کردار اداکرتے ہیں اس کے علاوہ بچے پر لازم ہے کہ وہ فنون لطیفہ میں سے ادب، پینٹنگ، آرٹ، مصوری، میوزک، و دیگر مشغلوں میں سے اپنی پسند کی وابستگی رکھتے ہوئے لازمی مہارت حاصل کریں جو شخصیت سازی کی وجہ بنتا ہے۔ جاپانی تعلیمی اداروں میں ہر چالیس منٹ کے بعد بریک لی جاتی ہے جیسے ریسرچ سے منسلک کیا جاتا ہے۔تاکہ طالب علم ایجادات کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی قابلیت سے نئی ایجادات پر کام کریں جس کی وجہ سے جدت کا عمل جاری رہتا ہے۔

    علم جاننے تک ہی محدود نہیں رہتا وہ کرنے کے مقصد کو عملی صورت میں پیش کرنے کا نام ہے۔ترقی یافتہ ممالک کے پیچھے تعلیم کا ہی ہاتھ ہے اور تعلیم بھی وہ جو خود ترقی کے تقاضوں سے وابستہ رہتی ہے تبھی دیگر شعبہ جات میں انقلابی تبدیلیاں رونماہوتی ہیں یہ لوگ دنیا کومنفرد معیار ی سہلوتیں دیتے ہوئے معاشی طاقت میں جینے کے مزے لیتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کو مفت یا انتہائی سستا و آسان رکھا جاتا ہے ٹیچرز اور تعلیمی اداروں کے اخراجات حکومتیں مہیا کرتی ہیں پھر یہاں سے کامیاب ہونے والے بچے اپنے ملک کو ترقی کا نتیجہ دیتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں انتظامی امور پر فائز لوگوں کو ان کی قابلیت کی بجائے سیاسی خدمات دیکھ کر عہدوں پر بیٹھا دیا جاتا ہے۔ جبکہ شعبہ تعلیم میں ماہر تعلیم لوگوں کوہی وزارت سے لیکر تمام اصلاحی زمہ داریوں پر اختیارات دئیے جانے چاہیں۔ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے ملک بھر میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کاروبارکی شکل اختیار کر چکے ہیں اچھی تعلیم مہنگی تعلیم بن چکی ہے جس کی منزل نوکر بننے والی نوکری سے جڑی ہوئی ہے۔ہر صاحب اولاد والدین حصول تعلیم کے لیے مشکل ترین مسائل میں مبتلا ہیں بچوں کی داخلہ فیس ماہانہ فیس پیپر منی کتابوں کاپیوں پنسل یونیفارم ٹرانسپورٹ بچوں کی پوکٹ منی لنچ ہوم ورک ٹیوشن فیس سکول ٹور ایکٹیوٹی جیسے اخراجات کے بھاری بوجھ کے ساتھ روزانہ ماں کا باپ کی سکول چھوڑنے لانے کی ڈیوٹی بھی شامل حال ہے سارے اخراجات کو جمع کیا جائے تووالدین کی زندگی اور زندگی کا سرمایہ داو پہ لگا رہتا ہے اس کے باوجود جب بچہ کسی ڈگری تک پہنچتا ہے تو اس کی نوکری کے لیے بھاری رشوت و شفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔

    پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اتنی بڑی قربانیاں دینے کے باوجود جب صوبے بھر میں کوئی بچہ اول پوزیشن پر آتا ہے تو وہ کسی سرکاری سکول میں پڑھنے والے کسی غریب مزدور کا بچہ ہوتا ہے کیونکہ اسے فیل ہونا سکول سے نہیں زندگی سے فیل ہونے کے احساس میں مبتلا کرکے محنت کرواتا ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں بچے فیل نہیں ہوتے ساری کلاس پوزیشن لیکراگلی کلاس میں منتقل ہو جاتی ہے۔اس کے باوجود ہمارا ملک و معاشرہ اگر چہ کم سہی مگر جتنی بھی اچھی اور درست سمت پر چل رہا ہے اس کی وجہ اچھے استاد ہی ہیں جو اپنی اعلیٰ ظرفی سے شاگرد کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہتے ہیں دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا۔آج بھی ایسے استاد ہیں جو اپنے تنخواہ سے کمزور بچوں کے خالی زہن کو چراغ سمجھ کراپنی قربانی کا تیل بھرکے معاشرے کے اندھیروں میں انسانیت کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ان کی تربیت اپنے طالب علموں کوانسانیت کا درس سیکھاتی ہے۔احساس کی دولت سے دل کی جیب بھرنے والے استاد بناتے ہیں کہ بریک کے وقت کسی کے ٹفن سے سوکھی روٹی نکلے تو اس کو کمتر سمجھنے کی بجائے اپنی گھی والی روٹی پر یوں شکرادا کرنا ہے کہ اس کو بانٹ لیا جائے۔
    کسی غریب دوست کے پھٹے کپڑے دیکھ کر اپنے کپڑے دے کر بھرم رکھنے والے کوخدا عزت کا لباس پہناتا ہے۔ کسی افسردہ چہرے کو اپنی مسکراہٹ دینے کے لیے کہنا پڑتا ہے کہ تم نہ ہنسے تو میں رو پڑوں گا۔تربیت سیکھاتی ہے کہ میں نے اپنے جیب خرچ سے اپنے دوست کی چھوٹی سی ضرورت پوری کرکے بڑی نیکی کما نی ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ دوسروں کی دل آزاری سے بچنے کے لیے مزاق کرنے اور مزاق اُڑانے میں فرق کیسے رکھا جاتا ہے۔ تربیت سیکھاتی ہے کہ آپ کے لیے دعا کرنے والے ہاتھوں کا بوسہ لینا قبولیت کو جلدی پورا کروا لیتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اپنی ضرورت کا نوالہ کسی بھوکے کے منہ میں ڈالنے سے رزق خودآپ کے حق میں برکت کی دعائیں کرنے لگتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اپنے جوتے کسی کے ننگے پاؤں میں پہنانے سے آپ کی ضرورتیں آپ کی جانب چلنے لگتی ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ نیک اعمال لکھنے والے قلم سے بھی زیادہ قیمتی وہ قلم ہے جوکسی کے علم سیکھنے میں آپ بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کسی محروم بچے کو اپنے کھلونے دینے سے اُسے خوشی اور آپ کو سکون ملتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرکے اُسے چوری کرنے سے بچانا بھی کردار سازی کا طریقہ ہوتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کیڑوں مکوڑوں پرندوں کو کھانا ڈالنا تمہارے لیے خدا کے دئیے ہوئے رزق کی شکرگزاری ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اچھی نیت اور سوچ رکھنے والے کی زبان سے ادا ہونے والے لفظ زخمی دلوں پر مرہم کاکام کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ انسان وہ ہیں جو دوسروں کا درد اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ جس طرح خدا کو کسی نے نہیں دیکھاوہ اپنی رحمت اورقدرت سے پہچانا جاتا ہے ایسے ہی انسان بھی اپنی زبان اور کردار سے پہچانا جاتا ہے۔تعلیم و تربیت اکیلے آگے نکلنے کی بجائے دوسروں کو ساتھ لیکر چلنے کا نام ہے۔

  • 
جماعت اسلامی کا یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان

    
جماعت اسلامی کا یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان

    جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کے خلاف یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے المناک واقعات کے بعد بھی سندھ حکومت سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ہر بڑے حادثے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان الزام تراشی اور نام نہاد سیاسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے، لیکن اس کا خمیازہ ہمیشہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کراچی کے مسائل کا حل نہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور نہ صوبائی اختیارات میں، بلکہ اس کا واحد حل ایک بااختیار اور خودمختار سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے۔
    ‎امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے باوجود آگ بجھانے کا مؤثر انتظام موجود نہیں تھا، جو انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد متاثرہ افراد اور شہری شدید بے بسی کا شکار ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کر رہا ہے۔
    ‎حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے عوام پر کرپٹ اور نااہل حکمران مسلط کیے گئے ہیں، جو شہر کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ “جینے دو کراچی” مارچ کے ذریعے عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچائی جائے گی اور کراچی کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

  • ایبٹ آباد کردار اکیڈمی ،صرف تعلیم نہیں کردار کی بھی تعمیر ،تحریر:ریحانہ جدون

    ایبٹ آباد کردار اکیڈمی ،صرف تعلیم نہیں کردار کی بھی تعمیر ،تحریر:ریحانہ جدون

    تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے ،یہاں آپ کے بچوں کو علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھایا جاتا ہے ،دین دنیا اور ڈسپلن ایک ہی منزل میں ، آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں بچے پڑھتے بھی ہیں اور حفظ بھی کرتے ہیں اور اچھے انسان بھی بنتے ہیں کردار اکیڈمی میں حفظ قرآن کا بہترین انتظام آپ کو ملے گا یہاں بچوں کی اخلاقی اور اسلامی تربیت بھی ہوتی ہے سپونگ انگلش اور تربیت یافتہ اساتذہ ،نظم و ضبط اور والدین کے تعاون کے ساتھ کردار اکیڈمی بہترین کام کررہا ہے

    یہاں طلباء کے لئے کلاس رومز اور سہولیات مذید محفوظ اور بہتر ہیں تاکہ تعلیم کا ماحول بہترین اور موثر ہو،ایک منظم اور تجربہ کار قیادت میں کردار اکیڈمی ایسا ادارہ ہے جو آپ کے بچوں کو محفوظ دینی ماحول میں تعلیم دیتا ہے،روزانہ درس سے بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ بچوں کے اسلامی علوم میں بھی اضافہ ہوتا ہے ،عملی سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں جس میں بچے مختلف ڈیزائن اور پروجیکٹ بناتے ہیں ،ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ یہاں اساتذہ کے تربیتی سیشن بھی ہوتے ہیں،یہاں پروجیکٹ بیسڈ لرننگ کے ذریعے طلباء میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے سیکھنے کے لئے سازگار ماحول ہے ،ایک اسکول کی نمایاں خصوصیات اور کامیابیوں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک مربوط نظام ، متحرک قیادت ، تربیت یافتہ اساتذہ ، موثر پالیسی ، والدین کی شمولیت اور مسلسل بہتری کا عمل کارفرما ہوتا ہے،یہاں آپ کے بچوں کو علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھایا جاتا ہے

  • یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    یونیورسٹیاں یا ٹارچر سیل؟تحریر:اعجازالحق عثمانی

    دنیا بھر میں تعلیمی ادارے علم و تربیت کے مراکز ہوتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں کئی ادارے تعلیمی یا علمی مرکز نہیں بلکہ ٹارچر سیل ہیں جہاں تعلیم و تربیت کے نام پر جسمانی اور ذہنی تشدد جائز سمجھا جاتا ہے۔ سکولوں میں بچوں کو زمانہ جاہلیت کی طرز پر جانوروں کی طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈنڈے اور ہاتھ نہیں اٹھائے جاسکتے، وہاں ذہن کو نشانہ بنا لیا جاتا ہے۔ یہاں تمام اختیارات پروفیسر صاحبان کا حق، جبکہ سوال، طالب علموں کا جرم ہوتا ہے۔

    یونیورسٹی آف لاہور میں آج سے قریبا 15 روز پہلے اویس نامی طالب علم کی خود کشی اور آج ایک اور پھر اسی یونیورسٹی کی چھت سے کود کر ایک طالبہ کی خود کشی کی کوشش افسوسناک تو ہے ہی۔مگر اس سے کہیں زیادہ اس نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ آئے روز نوجوان نسل کے ایسے واقعات میں صرف ایک فرد ہی اپنا قاتل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ معاشرے کا اجتماعی قتل ہوتا ہے۔ قاتل کبھی استاد ہوتا ہے تو کبھی ادارہ،اور کبھی یہ کام والدین کرتے ہیں اور کبھی ہم سب یعنی یہ سماج۔

    یونیورسٹی پروفیسرز کے پاس آپ کی ڈگری کی تکمیل تک تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں پر نام کا احتساب تو ہوتا ہے۔مگر پروفیسرز کے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سوال تک نہیں کیا جاسکتا۔ فیل کر دیا جائے،اسائنمنٹ میں گریڈز برباد کر دیے جائیں مگر آپ بول نہیں سکتے۔ بولیں گے تو سمجھو کہ ڈگری اب آسانی سے اور وقت پر تو مکمل نہیں ہونے والی۔ نفسیات میں اسے پاور ابیوز کہا جاتا ہے۔یونیورسٹی آف لاہور کا طالبعلم اویس بھی نفسیاتی دباؤ کا شکار رہا۔ اور پھر حالات اسے اس نہج پر لے گئے کہ جہاں اسے زندگی سے زیادہ موت کا رستہ آسان لگا۔ اور آج کے دن یونیورسٹی آف لاہور ہی کی فاطمہ نامی طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں۔ خودکشی کا خیال یونہی ایک دن میں ہی پیدا نہیں ہوجاتا۔ کبھی مہینوں تو کبھی سالوں کی ذہنی اذیت ہوتی ہے جو ایسے اقدامات پر انسان کو مجبور کر دیتی ہے۔ یہ اب پرانی نسل نہیں رہی صاحب!جسے آپ جیسے مرضی جس لاٹھی سے ہانپتے رہیں۔ یہ نئی نسل ہے، نئے ذہن ہیں، منفرد سوچتے ہیں۔ اور سمجھنے، سمجھانے کا طریقہ بھی الگ ہے انکا۔ اب وہ دور جاہلیت نہیں کہ باپ اور استاد کے ہر غلط صحیح کو یہ اخلاقی جواز حاصل ہو کہ چپ رہنا ہے، سہنا ہے۔

    کہنے والے تو یہ اس لیے بھی کہیں گے کیونکہ یہ آسان مگر جھوٹا بیانہ ہے کہ یہ دونوں کمزور اور بزدل تھے کہ مشکلات سب پر آتی ہیں۔اصل کمزور تو یہ نظام ہے، جو اختیار اور طاقت تو دیتا ہے مگر ساتھ ضمیر نہیں دیتا۔اگر آج بھی آپ اور میں نے اسے صرف دو طالب علموں یا ایک یونیورسٹی کا معاملہ سمجھ کر چھوڑ دیا تو کل اویس اور فاطمہ کی جگہ کوئی اور نام ہوگا، اور تب بھی ہم صرف یہ پوچھ رہے ہوں گے کہ آخر یہ بزدل جنریشن خودکشیاں کیوں کر رہی ہے۔

  • جرمِ ضِعفی کی سزا، مرگِ مفادات،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    جرمِ ضِعفی کی سزا، مرگِ مفادات،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    تعلیم کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ملکی افرادی قوت کو ان کی صلاحیت و قابلیت کے مطابق روزگار کے امواقع پیدا کرنا بھی ریاست کے اہم فرائض میں شامل ہے۔ مگر یہاں نظام تعلیم اور تعلیمی معیار کی حالتِ زار جہاں تنزل کا شکار ہے۔ وہاں پڑھے لکھے بیروزگار کو زندہ درگور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہہں رکھی گئی۔ اول تو اداروں کی ضرورت کے مطابق گورنمنٹ بھرتیاں کی ہی نہیں جا رہیں۔ اور جن بھرتیوں کے لیئے اشتہار جاری کیا جاتا ہے۔ ان پر عقل سے بالاتر عجیب و غریب قسم کے قوائد و ضوابط لاگو کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ المیہ بلخصوص پنجاب میں زیادہ مسلط ہے۔

    عام سرکاری بھرتیوں کے لئیے بھی تجربہ رکھا جا رہا ہے۔ ایک بیروزگار جس کے لئیے اپنی تعلیم کے مطابق نوکری حاصل کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے۔ وہ نوکری کے حصول کے لئیے تجربی کہاں سے لائے۔؟ صورتحال یہ ہے ۔ کہ ماسوائے پنجاب کے باقی تمام صوبوں میں نوکری کے لئیے عمر کی حد 38 تا 40 سال ہے۔ مگر پنجاب میں عمر کی رعایت وہی پرانی لاگو ہے۔ جبکہ سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئیے بھرتیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پڑھے لکھے بیروزگار ان بھرتیوں کے لئیے اپلائی کے انتظار میں اوور ایج ہو کر سرکاری نوکری کی دوڑ سے ہی باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس سے کیا جائے۔ کہ سال 2019ء کے بعد سے تاحال ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جنرل ایجوکیٹرز کی اسامیوں پہ بھرتی نہیں کی گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب کے سرکاری سکولوں میں مستقل اساتذہ جن میں سینئر اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز وغیرہ کی قریبا 65٪ آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ یعنی قریبا 100،000 سیٹیں بھرتی کی منتظر ہیں۔ ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی تقریباً 79٪ یعنی 4,404 سیٹیں خالی ہیں۔ جبکہ پنجاب کے پبلک کالجوں میں مختلف گریڈ کے اساتذہ کی 6،876 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے 825 پبلک کالجوں میں صرف لیکچروں کی ہی تقریباً 1993 آسامیاں مطلوب ہیں۔
    ایک طرف بیروزگاری حد سے تجاویز کر رہی ہے۔ اور دوسری صرف ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جو کسی بھی قوم کا بنیادی تربیتی شعبہ ہے۔ اسے "ڈھنگ ٹپاؤ” سیکم کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔ اعلی ڈگری کی حامل افرادی قوت دستیاب ہونے کے باوجود ان خالی آسامیوں میں سے کچھ پہ کبھی CTI’s اور کبھی STI’s کے نام پہ پڑھے لکھے بیروزگاروں کے ہاتھ میں دیہاڑی دار بننے کا کشکول تھما دیا گیا ہے۔

    نظامِ ٹھیکیداری کے تحت دیئے جانے سے تعلیمی ادارے مزید بدحالی کا شکار ہیں۔ جہاں پڑھے لکھے بیروزگاروں کا صرف استحصال کیا جا رہا ہے۔ STI’s اور CTI’s کی تقرری کے لئیے میرٹ کے نام پہ اکیڈمک مارکس کا عقل سے بالاتر قانون نافذ ہے۔ انٹرویو کے محض پانچ نمبر رکھے گئے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کہ امیدوار کے علم و قابلیت کو چیک نہیں کیا جاتا۔ صرف ڈگری کے نمبر دے کر میرٹ بنا دیا جاتا ہے۔ اب جبکہ PPSC نے بھی اکیڈمک مارکس کا اصول ختم کر دیا ہے۔ تو STI’s اور CTI’s کی تقرری میں اس غیر منصفانہ اصول کو کیوں مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

    پنجاب میں مستقل بھرتی تو ویسے ہی ختم کر دی گئی ہے۔ اور اب محدود مدت کے لئیے دیہاڑی دار بننے کے لئیے بھی رجسٹریشن فیس بھرنے کا نیا قانون جاری کر دیا گیا ہے۔ حالیہ سکول ٹیچر انٹرنیز کے لئیے جیسے ہی آن لائن اپلائی کی تاریخ قریب آئی۔ امیدواران کو ایک سکول میں ایک سیٹ پہ اپلائی کے لئیے ایک ہزار روپے رجسٹریشن فیس کی ادائیگی واجب قرار دے دی گئی۔ چونکہ STI’s کی بھرتی امیدوار کی اپنی یونین کونسل کی حد تک ہے۔ اس طرح اگر ایک امیدوار اپنی یونین کونسل میں موجود دو سکولوں میں دو آسامیوں کے لئیے درخواست دیتا ہے۔ تو اسے دو ہزار روپے اور اگر چار آسامیوں کے لئیے درخواست دے۔ تو چار ہزار روپے رجسٹریشن فیس کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ اور پنجاب کے وزیر ء تعلیم رانا سکندر حیات نے اس کی وجہ یہ بتائی۔ کہ دیہاڑی در درخواست گزر پچھلی بار بھی زیادہ تھے ۔ اس لئیے یہ فیس رکھی گئی ہے۔

    یہ کیسا ظلم ہے۔ کہ پی۔پی۔ایس۔سی اور ایف۔ پی۔ ایس۔سی میں مستقل نوکریوں کے لئیے بھی رجسٹریشن فیس چھ سو روپے ہے۔ جبکہ یہاں صرف ایک یونین کونسل کے چند سکولوں میں محدود مدت کے لئیے دیہاڑی دار کا محض امیدوار بننے کے لئیے بھی ایک ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔ کیا اربابِ اختیار کو اس چیز کا علم ہے۔ کہ اس جان لیوا منہگائی کے دور میں ایک بیروزگار عارضی تقرری کی صرف امید کے لئیے اتنے پیسے کہاں سے ادا کرے گا!! وزیر تعلیم کو چھ لاکھ درخواستیں تو معلوم ہیں۔ مگر ان درخواستوں کے پیچھے موجود ان بیروزگاروں کی ضرورت و بے بسی نہیں جان سکے۔ اگر بیروزگاری حد سے تجاویز کر رہی ہے۔ تو ریاست کو روزگار کے امواقع پیدا کرنے چاہئیں، نہ کہ بیروزگاروں کو ہی ختم کر دیا جائے۔
    کئی سالوں کی محنت کے بعد ڈگریاں ہاتھوں میں لئیے نوکری کی تلاش میں بھٹکتے نوجوانوں کی حالتِ زار قابل رحم ہے۔ اس طرح کے غیر منطقی و غیر منصفانہ اصول و ضوابط بنا کر ان کی محنت اور امیدوں کو برباد نہ کیا جائے۔ بلکہ روزگار کی فراہمی کو آسان بنایا جائے۔
    ؂
    نہ آئے موت خدایا تباہ حالی میں
    یہ نام ہو گا غمِ روزگار سہہ نہ سکا

  • تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور

    تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور

    تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور
    تحریر: ملک ظفر اقبال
    تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھا اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ دنیا میں معاشی، سائنسی اور معاشرتی میدانوں میں آگے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا حق بس ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ کتابوں اور تقاریر میں تو کہا جاتا ہے کہ "تعلیم سب کے لیے”، مگر حقیقت میں یہ سہولت غریب کے لیے دن بدن دور ہوتی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں تعلیم ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور کاروباری لوگ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے بزنس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگی پرائیویٹ تعلیم عام والدین کی پہنچ سے باہر ہے۔ شہروں میں اچھے معیار کے اسکول اور کالجز زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں جہاں فیسیں ہزاروں اور لاکھوں میں ہیں۔ ایک مزدور یا کم آمدنی والا والد اپنے بچوں کو ان اداروں میں پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

    اگر ہم سرکاری اداروں کی کارکردگی کی بات کریں تو فائلوں کی حد تک تو کامیابی حاصل ہے، مگر فیلڈ رپورٹ کے مطابق اس میں بہت کچھ جھوٹ لکھا ہوتا ہے۔ سرکاری اداروں کی زبوں حالی خود وزیرِ تعلیم بیان کر چکے ہیں کہ کس طرح سرکاری استاد سرکار کو چونا لگاتے ہیں۔ جہاں غریب کے بچے پڑھتے ہیں وہاں تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ اکثر اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کی نایابی اور دیگر مسائل طلبہ کی تعلیم میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کئی اسکولوں میں بجلی، پانی اور بیت الخلاء تک موجود نہیں۔

    کتابوں اور اسٹیشنری کا بوجھ بھی غریب والدین کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ سرکاری اداروں میں بچوں کو بروقت کتب میسر نہیں آتیں جبکہ مہنگائی کے اس دور میں کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ مزید بوجھ ڈال دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غریب بچے اکثر تعلیم کی بجائے مزدوری پر لگ جاتے ہیں تاکہ گھر کے اخراجات پورے کر سکیں۔ یوں تعلیم ان کے لیے خواب اور مشقت حقیقت بن جاتی ہے۔

    ہمارے نظامِ تعلیم نے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے جس سے امیر کے بچے مہنگے سکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم پاتے ہیں اور آگے جا کر اعلیٰ عہدوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب غریب کے بچے یا تو سرکاری سکولوں کی کمزور تعلیم تک محدود رہتے ہیں یا غربت کی وجہ سے پڑھائی ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی طبقاتی فرق معاشرے میں ناانصافی، احساسِ محرومی اور جرائم کو جنم دیتا ہے۔

    پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم دے۔ لیکن افسوس کہ یہ شق آج تک مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی۔ اگر حکومت واقعی تعلیم کو سب کے لیے ممکن بنانا چاہتی ہے تو اسے:

    * سرکاری اسکولوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا ہوگا،
    * پرائیویٹ اداروں کی فیسوں پر کنٹرول رکھنا ہوگا،
    * کتابیں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ مفت فراہم کرنا ہوں گے،
    * اور سب سے بڑھ کر والدین کو معاشی سہارا دینا ہوگا تاکہ بچے مزدوری کے بجائے اسکول جا سکیں۔

    مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے والدین مجبوراً بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجتے ہیں۔ *تعلیم سب کے لیے* کا نعرہ اُس وقت حقیقت بن سکتا ہے جب غریب اور امیر کے بچوں کے درمیان تفریق ختم ہو۔ اگر غریب کا بچہ تعلیم سے دور رہے گا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ تعلیم کو طبقاتی نہیں بلکہ قومی بنیادوں پر عام کرنا ہوگا، ورنہ یہ نعرہ صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود رہے گا۔

    آخر کب تک؟