Baaghi TV

Category: تعلیم

  • بورڈ امتحانات میں سرکاری سکولوں کے خراب نتائج،تحریر: عابد محمود عابد

    بورڈ امتحانات میں سرکاری سکولوں کے خراب نتائج،تحریر: عابد محمود عابد

    یہ صرف حالیہ نہم کے بورڈ امتحانات کے نتائج کی بات نہیں بلکہ گذشتہ ایک دہائی سے پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج بتدریج خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں ، ہاں یہ ہے کہ یہ جو ابھی جماعت نہم کا رزلٹ آیا ہے اس نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے اور یہ سوال اب ہر جگہ گردش کر رہا ہے کہ یہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں ، ان سوالوں کا ایک جواب تو بچے بچے کی زبان پر ہے کہ جو گذشتہ کچھ سالوں سے ارباب اختیار نے تعلیمی سال کو بہت زیادہ مختصر کر دیا ہے ، یہی خراب نتائج کی اصل وجہ ہے ، یقینی طور یہ بات بھی ٹھیک ہے کیونکہ پچھلے کچھ سالوں میں گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی تعداد بھی کہیں زیادہ بڑھادی گئی ہے اور پھر کبھی سموگ ، کبھی سیلاب اور کبھی جنگ کے نام پر بھی چھٹیوں کی نئی نئی قسمیں متعارف کروائی گئی ہیں ، تعلیمی سال کا مختصر ہونا یقینی طور پر خراب نتائج کی ایک بڑی وجہ تو ہے لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ چھٹیاں تو نجی تعلیمی اداروں میں بھی ہوتی ہیں تو نتائج صرف سرکاری سکولوں کے ہی کیوں خراب آتے ہیں ، نجی تعلیمی اداروں کے نتائج تو ٹھیک ٹھاک آرہے ہیں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھٹیوں کی وجہ کے ساتھ ساتھ خراب نتائج کی کئی اور وجوہات بھی ہیں ، انہی دیگر وجوہات کا احاطہ میں اس تحریر میں کرنے کی کوشش کروں گا ،

    ایک بات ہے کہ جب سے سرکاری سکولوں کے سربراہان کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ آپ نے ہر سال سکول میں اتنے داخلے یقینی بنانے ہیں تو تب سے بغیر کسی قواعد و ضوابط کے داخلے کرنا تو ایک معمول کی بات بن گئی ہے ، کئی سرکاری سکولوں میں اب کسی دوسرے سکول سے جماعت چہارم سے پاس ہوکر آنے والے بچے کو براہ راست جماعت ششم میں داخل کر لیا جاتا ہے ، ظاہر ہے جب ایک بچہ ڈائریکٹ جماعت چہارم سے جماعت ششم میں جائے گا تو اسکی تعلیمی قابلیت پر ایک منفی اثر تو پڑے گا ، پھر دیکھا دیکھی بہت سے والدین اپنے بچوں کو جمپ لگوا کر اگلی سے اگلی کلاس میں بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ، اس طرح پھر بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر براہ راست منفی اثر پڑتا ہے ،

    ایک اور بات یہ بھی کہ کچھ سالوں سے سرکاری سکولوں میں جو سکول کے اندر امتحانات لیے جاتے ہیں ، ان میں پاس اور فیل ہونے کا تصور ختم کردیا گیا ہے اور سالانہ امتحان میں شریک ہونے والے ہر بچے کو اگلی کلاس میں بٹھا دیا جاتا ہے ، جماعت ہشتتم تک یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے اور پھر جب بچہ جماعت نہم میں پہنچتا ہے تو بورڈ کے امتحانات میں اسکو پاس اور فیل ہونے کے نظام کا سامنا ہوتا ہے اور چونکہ جماعت ہشتم تک فیل نہ ہونے کی وجہ سے نالائق بچے بھی جماعت نہم کے بورڈ کے امتحانات دے رہے ہوتے ہیں تو پھر نتیجہ خراب آنے کا چانس بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہی پچھلے سالوں سے لگاتار ہورہا ہے ،
    ایک دور تھا کہ بورڈ کے امتحانات میں بڑی بڑی ساری پوزیشنز گورنمنٹ سکولوں کے کھاتے میں آتی تھیں لیکن اب ایسا کیوں نہیں ہے ؟
    محکمہ تعلیم پنجاب کے ارباب اختیار کو اس بارے میں سوچنا چاہیے ، کیا گورنمنٹ سکولوں میں تعلیم کا معیار گرگیا ہے یا جو اوپر وجوہات بیان کی گئی ہیں ، وہی قابل غور ہیں ؟
    یہ سب سوالات توجہ طلب ہیں اور خامیوں کو دور کرکے دوبارہ پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ،

  • ویلیو ایبل کنٹینٹ کی خصوصیات، ضرورت اور اہمیت،تحریر: عبدالحفیظ شاہد

    ویلیو ایبل کنٹینٹ کی خصوصیات، ضرورت اور اہمیت،تحریر: عبدالحفیظ شاہد

    مثالی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہوتا ہے جہاں بے راہ روی کی آلودگی کا نام و نشان نہ ہو , جہان تعلیم کی روشنی سے آراستہ لوگ روایات کی پاسداری کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کا استعمال سمجھداری سے کیا جاتا ہے، جہاں سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں کو فروغ دیا جاتا ہے، اور منفی اثرات سے بچنے کے لیے احتیاط برتی جاتی ہے۔ اس معاشرے میں ایک دوسرے کی کامیابیوں کو سراہا جاتا ہے، اور ہر فرد کو اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں ذہنی سکون، خوشحالی، اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد رکھی جاتی ہے، جو کہ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ یہ معاشرہ نہ صرف اپنے افراد کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھتا ہے، جہاں سب مل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔

    کسی بھی ذی شعور کے لیے معاشرے کے بدلتے رویوں پر نظر رکھنا اور ان کا تجزیہ کرنا ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ حالیہ دہائیوں میں معاشرتی رویے نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں، جن میں سب سے بڑی تبدیلیاں میڈیا، سوشل نیٹ ورکنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی وجہ سے آئی ہیں۔ اور ان پریشان کن معاشرتی تبدیلیوں کے اس دور میں، ویلیو ایبل کنٹینٹ کی ضرورت اور اس کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

    ویلیو ایبل کنٹینٹ ایسا مواد ہوتا ہے جو معاشرتی ترقی، اخلاقی اقدار اور تعلیم کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے مواد کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ نہ صرف ذہنی نشوونما کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ معاشرتی اصلاحات کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ معاشرے میں میڈیا کے پھیلاؤ اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے بے تحاشا معلومات تک رسائی نے ہمیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں یہ فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ کیا دیکھنا، کیا سننا، اور کیا پڑھنا بہتر ہے۔

    موجودہ دور میں، جہاں سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ویڈیوز، تصاویر اور مضامین آتے ہیں، وہاں ان مواد کا معیاری ہونا بہت ضروری ہے۔ نوجوان نسل جو کہ ان پلیٹ فارمز کا سب سے زیادہ استعمال کرتی ہے، انہیں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایسا کنٹینٹ بنانا ضروری ہے جو ان کی اخلاقی اور تعلیمی نشوونما میں مدد کرے۔

    آج کے جدید دور میں ڈیجیٹل دنیا نے انسانی زندگی کے ہر پہلو پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات اور تفریح کا حصول اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود بے شمار وسائل نے علم، ہنر اور رابطے کی دنیا کو ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا ہے، لیکن اس ترقی کے ساتھ ہی بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد کا ایک سیلاب بھی نمودار ہوا ہے جس نے ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو تباہی کے دہانے کے نزدیک کردیا ہے۔ ٹک ٹاک ، اسنیپ چیٹ، انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، لائیکی، بیگو لائیو، ٹوئٹر، کیک، ریڈٹ، ویمو، ٹمبلر، او میگل، چیٹروولیٹ، ہاؤس پارٹی، میوی، یوبو، کلب ہاؤس، ڈسکارڈ، پیتھ جیسی بے شمار ایپس اخلاقیات کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے سر گرم ِ عمل ہیں۔

    بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد کا پھیلاؤ ڈیجیٹل دنیا میں ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے۔ اب یہ بے حیائی اور فحاشی صرف تفریح تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے نوجوان نسل کے ذہنوں میں غیر حقیقی توقعات، جنسی بے راہ روی اور معاشرتی اقدار کی پامالی کو فروغ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں فیملی سسٹم کمزور ہو رہا ہے، اور باہمی احترام کی کمی کا سامنا ہو رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس مواد کی دستیابی نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر اخلاقی پسماندگی اور گھریلو بے چینی کو فروغ دیا ہے۔

    اس بے چینی کا ایک بہت بڑا سبب وی لاگرز بھی ہیں جو اکثر فیملیوں کی زندگی کو خوشگوار اور مثالی دکھاتے ہیں، جس سے ناظرین میں غیر حقیقی توقعات پیدا ہوتی ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ وی لاگرز کی زندگی ہمیشہ خوشیوں سے بھرپور ہوتی ہے ۔اور وہی سٹیٹس حاصل کرنے کے لیے ڈی ٹریک ہو جاتے ہیں۔بعض فیملی وی لاگرز اپنے ویوز بڑھانے کے لیے غیر مناسب یا غیر اخلاقی مواد پیش کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں اخلاقی زوال کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ مواد بچوں اور نوجوانوں پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔

    اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایک مربوط اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، والدین اور اساتذہ کو بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کے سامنے اخلاقی قدروں کی اہمیت کو واضح کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور سماجی اداروں کو غیر اخلاقی مواد کے خلاف سخت قوانین اور پالیسیز کا نفاذ کرنا چاہیے۔ ہمیں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ایسی ایپس اور پلیٹ فارمز کو فروغ دینا ہوگا جو مثبت، تعلیمی، اور اخلاقی مواد پیش کریں۔اگر ہم اس چیلنج کا مقابلہ صحیح طریقے سے کریں، تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر، محفوظ اور اخلاقی ماحول فراہم کر سکیں گے۔

    ان سب مایوس کن حالات کا سامنا کرنے کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ کا تصور سامنے آتا ہے جس کا مقصد صرف انٹرٹینمنٹ نہیں بلکہ وہ مواد ہوتا ہے جو کسی کو نیا سکھائے، انہیں موٹیویٹ کرے یا ان کی زندگی کے کسی مسئلے کا حل پیش کرے۔

    ویلیو ایبل کنٹینٹ کی خصوصیات
    ویلیو ایبل کنٹینٹ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ناظرین یا قارئین کو کوئی نیا علم فراہم کرے۔ ایسا مواد جس میں صرف تفریح ہو، لیکن کوئی نئی معلومات نہ ہو، اسے قیمتی نہیں کہا جا سکتا۔ مثال کے طور پر، ایک ویڈیو جس میں کسی نئے ٹیکنالوجی کے استعمال کا طریقہ بتایا جائے یا کسی سائنسی تحقیق کا جائزہ لیا جائے، وہ ویلیو ایبل کنٹینٹ کے زمرے میں آئے گا۔یوٹیوب پر بہت سے چینلز ایسے ہیں جو جدید سائنسی موضوعات پر بات کرتے ہیں، جیسے کہ "Kurzgesagt – In a Nutshell”۔ یہ چینل پیچیدہ سائنسی تصورات کو آسان الفاظ میں اور دلچسپ اینیمیشنز کے ذریعے سمجھاتا ہے، جس سے ناظرین کو نہ صرف تفریح ملتی ہے بلکہ وہ نئی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں۔

    معاشرتی مسائل سے آگاہی
    ویلیو ایبل کنٹینٹ وہ ہوتا ہے جو معاشرتی مسائل کو اجاگر کرے اور ان کے حل کی طرف اشارہ کرے۔ دنیا بھر میں مختلف موضوعات جیسے ماحولیاتی تبدیلی، تعلیمی مسائل یا صنفی برابری جیسے مسائل پر ویڈیوز، بلاگز اور دیگر مواد تخلیق کیا جاتا ہے۔ اس طرح کا مواد ناظرین کو نہ صرف آگاہی فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں ان مسائل پر سوچنے اور عمل کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔
    مثال کے طور پر، نیٹ فلیکس پر "Our Planet” نامی ڈاکیومینٹری سیریز نے دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور اجاگر کیا ہے اور لوگوں کو ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ اس سیریز نے نہ صرف لوگوں کو قدرت کی خوبصورتی سے روشناس کروایا بلکہ انہیں یہ بھی بتایا کہ اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو ہماری زمین کو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔

    قابل اطلاق ہونا
    ویلیو ایبل کنٹینٹ وہ ہوتا ہے جس میں دی گئی معلومات کو ناظرین اپنی روزمرہ زندگی میں لاگو کر سکیں۔ ایسا مواد جو محض خیالی یا نظریاتی ہو اور جسے عملی زندگی میں نافذ نہ کیا جا سکے، وہ قیمتی نہیں کہلایا جا سکتا۔ مثال کے طور پر، ایک ویڈیو یا آرٹیکل جو لوگوں کو مالیاتی منصوبہ بندی، بہتر تعلیم، یا صحت مند طرز زندگی کے بارے میں عملی مشورے دے، وہ ویلیو ایبل کنٹینٹ کے زمرے میں آئے گا۔”TED Talks” کا پلیٹ فارم اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہاں مختلف موضوعات پر ماہرین کی تقریریں ہوتی ہیں، جن میں سامعین کو عملی زندگی کے مسائل کا حل بتایا جاتا ہے۔ مثلاً، کاروباری دنیا میں نئے رجحانات، ذاتی ترقی، یا جذباتی ذہانت جیسے موضوعات پر دی گئی تقاریر سامعین کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

    مثبت تبدیلی کا محرک
    ویلیو ایبل کنٹینٹ کا مقصد ناظرین یا قارئین میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوتا ہے۔ ایسا مواد جو لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کا باعث بنے، انہیں موٹیویٹ کرے، یا انہیں مشکل حالات میں صبر و ہمت سے کام لینے کی تعلیم دے، وہ قیمتی مواد ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ مواد جو لوگوں کو ناامید کرے یا ان میں منفی سوچ پیدا کرے، ویلیو ایبل کنٹینٹ نہیں کہلایا جا سکتا۔مثال کے طور پر، "Jay Shetty” نامی موٹیویشنل اسپیکر کے ویڈیوز اور بلاگز لوگوں کو زندگی کے مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے عملی طریقے بتاتے ہیں۔ ان کے ویڈیوز نہ صرف لوگوں کو ہمت اور حوصلہ دیتے ہیں بلکہ ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں بھی لاتے ہیں۔

    معیاری مواد
    ویلیو ایبل کنٹینٹ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اخلاقی اقدار کے مطابق ہو۔ آج کل بہت سا مواد ایسا ہوتا ہے جو اخلاقی حدود سے باہر ہوتا ہے اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ قیمتی مواد ہمیشہ ان اقدار کے دائرے میں تخلیق کیا جاتا ہے جو سماج کے لیے مفید ہوں اور ناظرین کو اخلاقی ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔مثال کے طور پر، بچوں کے لیے بنایا جانے والا تعلیمی مواد جیسے کہ "Sesame Street” ایک عرصے سے بچوں کو نہ صرف تعلیمی مواد فراہم کر رہا ہے بلکہ انہیں اخلاقی اقدار جیسے دوستی، محبت، اور تحمل کی تعلیم بھی دے رہا ہے۔

    ویلیو ایبل کنٹینٹ کی اہمیت اور عملی مثالیں
    ہر عمر کے لوگوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ کی اہمیت مختلف ہوتی ہے کیونکہ ہر طبقہ اپنی زندگی کے مخصوص مرحلے پر مختلف قسم کی معلومات اور مواد کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ بچوں کے لیے تعلیمی اور اخلاقی مواد، خواتین کے لیے صحت، خود مختاری اور آگاہی کا مواد، طلباء کے لیے تعلیمی اور کیریئر کی رہنمائی، نوجوانوں کے لیے ذاتی ترقی اور معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالنے والا مواد، اور بزرگوں کے لیے صحت و سلامتی اور جذباتی استحکام کے مواد کی ضرورت ہوتی ہے۔

    بچوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ
    ویلیو ایبل کنٹینٹ بچوں کی ذہنی نشوونما، اخلاقی تعلیم، اور علمی استعداد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کو ایسے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں نہ صرف تفریح فراہم کرے بلکہ ان کی اخلاقی اور تعلیمی تربیت بھی کرے۔ بچوں کو رنگوں، حروف، اور ریاضی کے بنیادی تصورات سکھانے کے لیے ویڈیوز اور گیمز کے ساتھ ساتھ بچوں کو سچ بولنے، دوسروں کا احترام کرنے، اور مہربانی سکھانے کے لیے کہانیوں اور اینیمیٹڈ ویڈیوز بھی بنائی جاسکتی ہیں۔

    مثال:
    1۔ Madrasah Tv
    بچوں کو اسلامی تعلیمات، اخلاقیات، اور اردو زبان سکھانے کے لیے بہترین مواد فراہم کرتا ہے۔ یہ ویڈیوز سادہ اور رنگین اینیمیشنز پر مبنی ہوتی ہیں جو بچوں کی توجہ کھینچتی ہیں۔
    2۔ Madani Channel
    جو اسلامی تعلیمات، اخلاقی تربیت اور معاشرتی مسائل کے حل پر مشتمل ویڈیوز بناتا ہے، ایک اچھا ذریعہ ہے جس سے ناظرین کو معاشرتی اور مذہبی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے۔
    3۔ PBS Kids
    PBS Kids ایک مشہور تعلیمی پلیٹ فارم ہے جو بچوں کو تعلیمی اور تفریحی ویڈیوز فراہم کرتا ہے، جس میں سائنسی حقائق، زبان کی سیکھ، اور اخلاقی کہانیاں شامل ہوتی ہیں۔
    4۔ National Geographic Kids
    یہ چینل بچوں کو دنیا بھر کے جنگلی حیات، قدرتی ماحول، اور سائنسی ایجادات کے بارے میں دلچسپ ویڈیوز فراہم کرتا ہے۔
    5۔Crash Course Kids
    یہ چینل سائنس، تاریخ اور مختلف مضامین پر مرکوز ہے، جہاں پیچیدہ تصورات کو بچوں کے لیے آسانی سے سمجھنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ اس کی ویڈیوز تعلیمی مواد کو دلچسپ اور تفریحی انداز میں پیش کرتی ہیں، جس سے بچے سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
    6۔Super Simple Songs
    یہ چینل خاص طور پر پری اسکول کے بچوں کے لیے مقبول ہے اور دلچسپ گانوں اور متحرک تصاویر کے ذریعے سیکھنے کی تربیت دیتا ہے۔ یہ بچوں کی زبان اور سیکھنے کی مہارتوں کو ترقی دینے میں مدد کرتا ہے۔
    7۔Storyline Online
    اس چینل پر مشہور اداکار بچوں کی پسندیدہ کہانیاں پڑھتے ہیں، جن کے ساتھ متحرک تصویریں بھی شامل ہوتی ہیں۔ یہ ویڈیوز نہ صرف کہانی سننے کی مہارت کو بڑھاتی ہیں بلکہ بچوں کی تخلیقی سوچ کو بھی پروان چڑھاتی ہیں۔

    خواتین کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ
    خواتین کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ ان کی ذاتی، جسمانی اور پیشہ ورانہ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔ پاکستانی خواتین کو صحت، تعلیم، خود مختاری، اور معاشرتی مسائل پر آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے معاشرتی کردار کو بہتر انداز میں نبھا سکیں۔
    خواتین کو صحت کے مسائل، خاص طور پر حمل اور بچوں کی پیدائش سے متعلق موضوعات پر مواد اور فری لانسنگ، کاروبار، اور دیگر پیشہ ورانہ مواقع کے بارے میں آگاہی دینے والا مواد ان کے معاشی استحکام کے لیے اہم ہے۔مثال: "مشہور پاکستانی یوٹیوب چینل "گھر کا ماہر” خواتین کو گھریلو مسائل، بچوں کی تربیت، اور صحت کے موضوعات پر ویڈیوز فراہم کرتا ہے۔ یہ ویڈیوز خواتین کو ان کی روزمرہ زندگی میں مدد دیتی ہیں اور انہیں مفید معلومات فراہم کرتی ہیں۔
    1۔ Momina’s Mixed Plate
    یہ چینل خواتین کو صحت، خوبصورتی، اور روزمرہ کے مسائل پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں مشہور شخصیات کے انٹرویوز بھی شامل ہوتے ہیں۔
    2۔ Glamour Magazine
    یہ چینل خواتین کو خوبصورتی، فیشن، صحت، اور خود مختاری کے موضوعات پر مشورے فراہم کرتا ہے۔ اس میں مشہور شخصیات کے انٹرویوز بھی شامل ہوتے ہیں۔
    3۔ Women of Impact
    یہ چینل دنیا بھر کی طاقتور اور خود مختار خواتین کی کہانیاں بیان کرتا ہے جو اپنے شعبوں میں نمایاں کام کر رہی ہیں۔ اس چینل کا مقصد خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کرنے کے لیے موٹیویٹ کرنا ہے۔

    طلباء کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ
    طلباء کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ کا مقصد تعلیمی مدد، امتحانات کی تیاری، اور کیریئر کی رہنمائی ہے۔ ایسے مواد کی ضرورت ہے جو طلباء کو ان کے تعلیمی اہداف حاصل کرنے میں مدد دے اور انہیں مختلف فیلڈز میں کیریئر کی آگاہی فراہم کرے۔طلباء کو سائنسی مضامین، ریاضی، اور زبانوں کی تیاری کے لیے ویڈیوز اور آن لائن ٹیوٹوریلز کی ضرورت ہے جو طلباء کو مختلف پیشہ ورانہ شعبوں کی معلومات فراہم کرے اور انہیں مستقبل کے فیصلے کرنے میں مدد دے۔مثال: کچھ پاکستانی یوٹیوب چینل طلباء کے لیے سائنس کے مختلف مضامین جیسے فزکس، کیمسٹری، اور بیالوجی پر لیکچرز فراہم کرتا ہے، جس سے طلباء کو امتحانات کی تیاری میں مدد ملتی ہے۔
    1۔ Noon Academy
    یہ ایک آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم ہے جو پاکستانی طلباء کو مختلف مضامین میں مدد فراہم کرتا ہے۔
    2۔ Khan Academy
    خان اکیڈمی دنیا بھر کے طلباء کے لیے مختلف تعلیمی موضوعات پر ویڈیوز فراہم کرتا ہے، جن میں ریاضی، سائنس، کمپیوٹر سائنس، اور دیگر تعلیمی مضامین شامل ہیں۔
    3۔TED-Ed
    TED-Ed طلباء کے لیے تعلیمی ویڈیوز فراہم کرتا ہے جن میں دلچسپ حقائق، سائنسی موضوعات، اور اہم تعلیمی مسائل پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

    نوجوانوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ
    نوجوانوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ ان کی ذاتی ترقی، جذباتی استحکام، اور سماجی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ نوجوان اپنی زندگی کے اس مرحلے میں مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں اور انہیں ایسے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی رہنمائی کرے اور انہیں معاشرتی مسائل کے بارے میں آگاہ کرے۔نوجوانوں کو موٹیویشنل ویڈیوز اور ذاتی ترقی کے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ترغیب دے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو معاشرتی مسائل جیسے ماحولیاتی تبدیلی، تعلیم کی اہمیت، اور سماجی انصاف کے موضوعات پر آگاہی کی ضرورت ہوتی ہے۔
    1۔ Qasim Ali Shah
    یہ چینل نوجوانوں کو موٹیویشنل لیکچرز اور ذاتی ترقی کے موضوعات پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
    2۔ Impact Theory
    یہ چینل نوجوانوں کو خود ترقی، کامیابی، اور کاروباری صلاحیتوں پر مبنی مواد فراہم کرتا ہے۔ یہاں پر موٹیویشنل لیکچرز اور انٹرویوز بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
    3۔Yes Theory
    یہ چینل نوجوانوں کو اپنی زندگی میں نئے تجربات کرنے، خوف سے نکلنے، اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

    بزرگوں کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ کی اہمیت
    بزرگ افراد کے لیے ویلیو ایبل کنٹینٹ ان کی جسمانی صحت، ذہنی سکون، اور معاشرتی تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بزرگ افراد کو ایسے مواد کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں ان کی صحت کے مسائل کا حل فراہم کرے اور ان کی جذباتی زندگی کو بہتر بنائے۔ بزرگ افراد کو صحت کے مسائل جیسے ذیابیطس، بلڈ پریشر، اور جوڑوں کے درد کے موضوعات پر ویڈیوز اور آرٹیکلز کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بزرگ افراد کو ذاتی تجربات اور روحانی ترقی پر مبنی مواد سے ذہنی سکون ملتا ہے۔مثال: "پاکستانی چینل "صحت اور زندگی” بزرگوں کے لیے صحت کے موضوعات پر ویڈیوز فراہم کرتا ہے۔ یہ چینل بزرگ افراد کو ان کی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مفید معلومات دیتا ہے اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔
    1۔Sehat Online
    یہ چینل صحت کے مسائل پر مبنی مواد فراہم کرتا ہے جو بزرگوں کی صحت کے مسائل سے متعلق ہے، جیسے بلڈ پریشر، ذیابیطس، اور جوڑوں کے درد کے حل۔
    2۔ Sixty and Me
    یہ چینل 60 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کو زندگی کے مختلف موضوعات پر رہنمائی فراہم کرتا ہے، جیسے کہ صحت، مالیاتی مشورے، اور سفر کے مواقع۔ یہ چینل خاص طور پر بزرگوں کے لیے صحت، فٹنس، اور خوشی کے موضوعات پر ویڈیوز فراہم کرتا ہے، جن میں جسمانی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے طریقے اور زندگی کو متحرک اور خوشگوار بنانے کے مشورے شامل ہوتے ہیں۔

    ویلیو ایبل کنٹینٹ آج کے دور میں صرف ضرورت نہیں بلکہ ذمہ داری بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں بے تحاشا مواد کی موجودگی میں وہی کنٹینٹ طویل مدتی اثرات رکھتا ہے جو اخلاقی، تعلیمی اور معاشرتی لحاظ سے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے۔ بچوں کی تربیت ہو، نوجوانوں کی رہنمائی، یا خواتین اور بزرگوں کے لیے معلوماتی مواد، ہر طبقے کو ایسا مواد فراہم کرنا چاہیے جو نہ صرف ان کی شخصیت کو نکھارے بلکہ انہیں بہتر انسان بننے میں بھی مدد دے۔
    ایک مسلمان کا کردار اس میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسلام کی تعلیمات ہر مسلمان کو اخلاقیات، علم، اور دوسروں کی فلاح کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ویلیو ایبل کنٹینٹ کا فروغ ایک مسلمان کے فرائض میں شامل ہے تاکہ وہ معاشرے کی اصلاح میں حصہ ڈال سکے اور امن، انصاف، اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کر سکے۔ یہ مواد صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں اخلاقیات کو فروغ دینے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اس طرح، ویلیو ایبل کنٹینٹ کا فروغ دراصل ایک مثبت، بااخلاق، اور علم دوست معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور یہی ہمارے ڈیجیٹل دور کا حقیقی مقصد ہونا چاہیے۔اللہ کی توفیق عطا فرمائے

  • قائدِاعظم کا ڈھاکہ یونیورسٹی کے  طَلَبَہ سے بصیرت افروز خطاب،تحریر: اظہر سجاد

    قائدِاعظم کا ڈھاکہ یونیورسٹی کے طَلَبَہ سے بصیرت افروز خطاب،تحریر: اظہر سجاد

    ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے جانے کیوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد ہمیں کوئی ایسا لیڈر نہیں ملا جو ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کرتا۔ حکمران اور سیاسی رہنما جو شروع میں یک جہتی اور اتحاد کی بات کرتے رہے ہیں وہ بھی بعد میں کسی نہ کسی طرح عصبیت، تعصب اور ذاتی مفادات کا شکار ہو کر اُسی فرض کو بُھلا بیٹھے جسے ادا کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ہو سکتا ہے یہ خدشہ کسی حد تک درست ہو، مگر قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن ۲۴ مارچ ۱۹۴۸ء کے موقع پر کی گئی تقریر کے اقتباسات غور سے پڑھنے کے بعد میں قائدِاعظم ؒ کی سیاسی بصیرت کا پہلے سے زیادہ قائل ہو گیا۔ اُن کی وہ تقریر یقیناً اِنتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیوں کہ قائدِاعظمؒ کے وہ فرمودات آج بھی اُسی طرح قابلِ غور اور قابلِ تقلید ہیں جس طرح ۷۹ سال پہلے تھے۔

    اُس تقریر میں قائدؒنے ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علموں کو مخاطب کر کے کہ ایک نئی آزاد ہونے والی ریاست کے باشندوں کو اُن پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ قوم کی خدمت اور فرض کی ادائیگی کو اُن کی سب اہم اور بڑی ذمہ داری قرار دیتے ہوے کہا کہ آزادی کا مطلب من مانی یا بے لگام آزادی نہیں،آزادی ایک ذمہ داری بھی ہے ، جِسے نبھانے کے لیے نظم و ضبط اور قانون کی پاسداری بہت ضروری ہے۔ یہ ایسے اہم نکات ہیں جن کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے اور اب تو پہلے سے بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ قائدؒ نے پوری قوم کے لیے متحد اور منظم ہونا ضروری قرار دیا، کیوں کہ اِس کے بغیر پاکستان کی ترقی ناممکن ہے۔ اُنھوں اُن مشکلات کا بھی ذکر کیا جن کاحکومتِ پاکستان کو قیام کے فوراً بعد سامنا کرنا پڑا۔ اُن مسائل میں پنجاب اور دہلی کے فسادات، لُٹے پٹے مسلمانوں کی ہجرت اور معاشی مشکلات شامل تھیں۔ آج بھی ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا اب بھی ہم ویسے ہی ملتے جلتے حالات سے نہیں گزر رہے؟

    قائد ؒنے اُسی تقریر میں ایک اور بڑی اہم بات کی تھی جِس پر آج بھی عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے اور وہ ہے مستعد رہنا۔ آپؒ نے نوجوانوں کو تعلیم پر بھرپور توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ملکی حالات سے ہمہ وقت باخبررہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپؒ نے تعلیم یافتہ نوجوان کو ملکی سرمایہ اور طاقت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اُنھیں خبردار کیا کہ خود غرض ملک دشمن عناصر سے ہوشیار اور چوکس رہیں ۔ قائداعظم ؒ نے فرمایا کہ نوجوانوں کو سچے، ایماندار اور بے غرض لوگوں کو پہچاننا چاہیے جو ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو آج ۲۰۲۶ء میں بھی نوجوانوں کو ملکی اور بین الاقوامی حالات سے باخبر رہنے اوربے لوث خدمت کرنے والے لوگوں کی پہچان کی، اُس سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جو آج سے ۷۹ سال قبل تھی۔

    اس تقریر میں قائد ؒنے ایک اور نکتہ اُٹھایا جو موجودہ حالات میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ ہے جنگی جذبے اور تعمیری جذبے میں امتیاز کرنا۔ قائد ؒنے فرمایا کہ آزادی کے حصول کے لیے جنگی جذبے کی ضرورت ہوتی ہے جو نسبتاً آسان ہے۔ جب کہ حکومت چلانا جنگ لڑنے اور جیل جانے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ذمہ داری ہے۔اب ہمیں جنگی جذبے کے مقابلے میں تعمیری جذبے کی زیادہ ضرورت ہے۔ یہ اتنی اہم بات ہے کہ آج کے نوجوان کو بھی اِسے سمجھنا اور اِس پر عمل کرنا چاہیے۔

    اِس کے علاوہ قائدِاعظمؒ نے محض سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے تعلیم حاصل کرنے کی ذہنیت کو ترک کرنے کی بھی ہدایت کی۔ آپؒ نے واضح کیا کہ برطانوی سامراج نے سول سروس کانظام اِسی ذہنیت، طرزِ فکر اور نفسیات کو پروان چڑھانے کے لیے وضع کیا ، جس سے نوجوانوں نے تعلیم کا سب سے اہم مقصد اور اپنی منزل سرکاری ملازمت کو قرار دیا۔ وہ نظامِ تعلیم صرف ایسے تعلیم یافتہ کلرک بنا رہا تھا جو برطانوی حکومت کے مدد گار ثابت ہو سکیں۔ قائد نے نو آبادیاتی سوچ سے نکل کر تجارت، قانون ، صنعت اور فنی تعلیم کو اپنانے پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور ایم اے پاس نوجوان سے زیادہ کما سکتا ہے۔

    قائدِاعظمؒ کے ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں نوجوانوں سے خطاب میں بامقصد تعلیم اور قوم کی تعمیر و ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ قائدؒنے آزادی کی قدر و قیمت اور باشندوں پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی بات کی۔وہ نظم و ضبط، اتحاد اور محنت پر زور دیتے ہوئے سرکاری ملازمتوں کی نوآبادیاتی سوچ کو چھوڑ کر تجارت، قانون، فنی تعلیم اور صنعت کے شعبوں میں مواقع تلاش کرنے کا درس دیتے ہیں۔ بلا شبہ یہ سب وہ رہنما اصول ہیں جو آج بھی اُتنے ہی قابلِ عمل اور اہم ہیں جتنے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے موقع پر تھے۔ اِس لیے ہر پاکستانی خصوصاً نوجوانوں کو قائد کے فرمودات پڑھ کر اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

  • چیکر خدا نہیں ہوتا،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    چیکر خدا نہیں ہوتا،تحریر: مبراء عبدالقیوم

    ایک بچے کے چند نمبروں کا سوال نہیں، پورے نظامِ امتحانات کے انصاف کا سوال ہے۔ 486 نمبر یقیناً معمولی نہیں۔ یہ ایک بچے کی محنت، اس کے والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی تربیت کا خوب صورت نتیجہ ہیں۔ مگر کبھی کبھی اچھے نمبر بھی ایک سوال اپنے اندر چھپا لیتے ہیں: کیا بچے کو وہی ملا جس کا وہ حق دار تھا؟
    یہ سوال کسی ایک بچے کا نہیں۔

    یہ سوال ہر اس بچے کا ہے جو سال بھر کتابوں میں سر کھپاتا ہے، راتیں جاگتا ہے، امتحان دیتا ہے اور پھر اپنی قسمت ایک چیکر کے قلم کے حوالے کر دیتا ہے۔فرض کیجیے ایک بچے نے 555 میں سے 486 نمبر حاصل کیے۔ بظاہر یہ شاندار کارکردگی ہے۔ مگر اگر اس کی جوابی کاپی دیکھنے پر معلوم ہو کہ بعض جوابات درست ہونے کے باوجود ان پر متضاد نشان لگائے گئے، کہیں نمبر کاٹنے کی وجہ واضح نہیں، یا کسی جواب کی جانچ میں انسانی غلطی کا امکان موجود ہے، تو سوال اٹھتا ہے،کیا صرف اس لیے خاموش ہو جائیں کہ 486 نمبر بھی اچھے ہیں؟
    نہیں!

    کیونکہ بچے کے لیے یہ صرف چند نمبروں کا معاملہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ چند نمبر کبھی پوزیشن بناتے یا توڑتے ہیں۔ یہ میرٹ لسٹ میں جگہ بدل سکتے ہیں۔ یہ کسی اسکالرشپ، کسی داخلے یا کسی اگلے موقع پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
    اور کبھی کبھی یہ بچے کے دل میں یہ سوال بھی پیدا کر دیتے ہیں کہ: "میں نے اتنی محنت کی، پھر میرے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟”
    اور یہاں اصل سوال چیکر سے نہیں، نظام سے ہے۔
    ہم مانتے ہیں کہ چیکر بھی انسان ہے۔ اس سے غلطی ہو سکتی ہے۔ مسلسل سینکڑوں پرچے چیک کرتے ہوئے انسانی غلطی کا امکان بہرحال موجود رہتا ہے۔

    مگر اگر چیکر سے غلطی ہو سکتی ہے تو نظام کو غلطی کی اصلاح کا راستہ بھی دینا چاہیے۔ چیکر خدا نہیں ہوتا کہ اس کے قلم سے نکلا ہوا ہر فیصلہ آخری فیصلہ بن جائے۔ وہ ایک ذمہ دار انسان ہے، اور اس کی ذمہ داری بہت بڑی ہے کیونکہ اس کے سامنے صرف ایک کاغذ نہیں ہوتا؛ اس کاغذ کے پیچھے ایک بچے کی محنت، اس کے والدین کی امیدیں اور اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر بچہ صرف دعویٰ کرے اور اس کے نمبر بڑھا دیے جائیں۔

    ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ:
    اگر کسی بچے کو اپنی جوابی کاپی میں واضح بے ضابطگی یا چیکنگ کی غلطی نظر آتی ہے تو اسے مؤثر طریقے سے سوال اٹھانے اور آزادانہ طور پر دوبارہ جانچ کروانے کا حق کیوں نہ ہو؟
    اگر پہلی نظر ہی آخری نظر ہے، اگر پہلے چیکر کا فیصلہ ہی حتمی ہے، اگر بچے کے پاس سوال کرنے کا حق نہیں، تو پھر ہم شفافیت کی بات کیسے کریں گے؟
    ذرا ان بچوں کے بارے میں بھی سوچیں جن کے نمبر 300 یا 400 ہیں۔
    ہم ایک ایسے بچے کی بات کر رہے ہیں جس کے 486 نمبر ہیں اور جس کے چند اضافی نمبر بھی اس کی پوزیشن پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
    مگر اس سے کہیں بڑا سوال ان بچوں کا ہے جن کے 300، 350 یا 400 نمبر آئے ہیں۔
    کیا معلوم ان میں سے کتنے بچے ایسے ہوں جن کے پانچ، دس، پندرہ یا اس سے زیادہ نمبر چیکنگ کی غلطیوں کی نذر ہو گئے ہوں؟
    ہم کیسے جانیں گے؟
    اگر بچے کو اپنی کاپی پر سوال کرنے کا مناسب حق ہی نہیں دیا جائے گا تو ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ اس کے اصل نمبر کیا تھے؟
    ایک بچے کے لیے دس نمبر معمولی لگ سکتے ہیں، مگر اس بچے کے لیے وہ دس نمبر اس کی پوری سال بھر کی محنت کا حصہ ہیں۔

    بچے مشینیں نہیں، انسان ہیں۔ وہ صرف مارکس شیٹ پر لکھے ہندسوں کا مجموعہ نہیں ہوتے ہیں۔ ایک بچہ جب امتحان دیتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے والدین کی امیدیں، اساتذہ کی محنت، اس کی اپنی راتوں کی جاگ، اس کے خواب اور مستقبل کے ارمان بھی امتحانی کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ اس لیے امتحانی نظام کا مقصد صرف پرچے چیک کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر بچے کو اس کی حقیقی کارکردگی کے مطابق انصاف ملے۔ اور اگر کہیں غلطی ہو جائے تو اسے چھپانے یا نظر انداز کرنے کے بجائے درست کرنے کا راستہ موجود ہو۔
    ہمیں کیا چاہیے؟
    ہم کسی فرد کو نشانہ نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ایک بہتر نظام چاہتے ہیں۔
    ایسا نظام جہاں: بچے کو اپنی جوابی کاپی کی جانچ پر اعتراض کا باقاعدہ حق ہو۔ اعتراض کی صورت میں آزاد اور غیر جانب دارانہ دوبارہ جانچ ممکن ہو۔
    واضح غلطی سامنے آنے پر اسے درست کیا جائے۔
    چیکنگ میں انسانی غلطی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین ہو۔
    پوزیشن اور میرٹ جیسے حساس معاملات میں اضافی شفافیت رکھی جائے۔
    اور سب سے بڑھ کر، بچے کی آواز کو محض اس لیے خاموش نہ کیا جائے کہ وہ ایک طالب علم ہے۔
    کیونکہ طالب علم ہونا بے اختیار ہونا نہیں۔
    یہ میری بیٹی کا مسئلہ نہیں!

    آج اگر ایک بچی کی جوابی کاپی میں کوئی سوال اٹھتا ہے تو بات صرف اس بچی تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔
    کل یہی سوال کسی دوسرے بچے کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔ آج کسی کی پوزیشن چند نمبروں سے رہ سکتی ہے،
    کل کسی کا میرٹ متاثر ہو سکتا ہے، پرسوں کسی کا داخلہ یا اسکالرشپ۔
    اس لیے آواز ایک بچے کے لیے نہیں، ہر بچے کے لیے اٹھنی چاہیے۔ ہمیں بچوں کو یہ نہیں سکھانا کہ”جو فیصلہ ہو گیا، بس خاموشی سے قبول کرلو۔”
    ہمیں انہیں یہ سکھانا ہے کہ:
    انصاف مانگنا بدتمیزی نہیں، اپنے حق کے لیے سوال اٹھانا بغاوت نہیں، اور غلطی کی اصلاح چاہنا کسی پر الزام لگانا نہیں۔
    آخر میں بس اتنا:
    چیکر خدا نہیں ہوتا، وہ انسان ہے۔ اس سے غلطی ہو سکتی ہے مگر ایک مہذب اور منصفانہ نظام وہ ہوتا ہے جو انسان کی غلطی کو بھی تسلیم کرے اور اسے درست کرنے کا راستہ بھی دے۔ کیونکہ ایک بچے کا مستقبل کسی ایک قلم کی غلطی کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔
    اور اگر ہم آج اپنے بچوں کے حقِ انصاف کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے، تو کل شاید ہمارے پاس صرف یہ کہنے کے لیے رہ جائے گا:
    "بچہ قابل تو تھا… مگر چیکنگ کچھ اور کہہ گئی!”

  • پاکستان میں تعلیمی پسماندگی ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    پاکستان میں تعلیمی پسماندگی ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    پاکستان میں تعلیم کی زبوں حالی اور پسماندگی ایک ایسا دُکھتا ہوا ناسور ہے جس پر ہر کچھ عرصے بعد تشویش کے اظہار اور دعوؤں کے غبارے تو چھوڑے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق کا تلخ سچ آج بھی وہی ہے جو دہائیوں پہلے تھا۔ جب ہم ملک میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کی بات کرتے ہیں تو اکثر توجہ صرف اسکولوں کی عمارات یا اساتذہ کی حاضری تک محدود کر دی جاتی ہے، جبکہ اصل المیہ اس بنیاد اور عمارت کا ہے جو پرائمری سے شروع ہو کر مڈل، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری کی سطح تک مکمل طور پر برباد ہو چکی ہے۔ اگر پرائمری تعلیم اس عمارت کی بنیاد ہے، تو مڈل و ہائر سیکنڈری اس کا وہ ڈھانچہ ہے جس پر قوم کے روشن مستقبل کی چھت قائم ہونی ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے یہ دونوں سطحیں بے حسی، فنڈز کی عدم دستیابی اور غلط پالیسیوں کے بوجھ تلے سسک رہی ہیں۔

    پرائمری اسکولوں کی زبوں حالی ہماری تعلیمی تباہی کا پہلا اور بنیادی زینہ ہے۔ ملک بھر کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں قائم پرائمری اسکولوں کی عمارتوں کی حالتِ زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کہیں چاردیواری غائب ہے تو کہیں پینے کا صاف پانی اور واش رومز جیسی بنیادی انسانی ضروریات تک میسر نہیں۔ ایک ہی کمرے میں پانچ مختلف جماعتوں کے بچوں کو بٹھا کر پڑھانا ہمارے تعلیمی نظام کا ایک عام منظر نامہ بن چکا ہے۔ جہاں اسکول کی عمارت موجود ہے، وہاں ‘سنگل ٹیچر اسکول’ کا المیہ دامن گیر ہے؛ یعنی ایک ہی استاد پرائمری کی تمام کلاسوں اور مضامین کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بچے سے کچھ سیکھنے کی امید رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ پرائمری کی سطح پر بنیاد ہی اتنی کمزور اور کھوکھلی رکھی جاتی ہے کہ بچہ لفظوں کی شناخت اور بنیادی حساب کتاب تک سے ناآشنا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب یہ بچہ مڈل اسکول میں قدم رکھتا ہے تو اس کی تعلیمی صلاحیت پہلے ہی دم توڑ چکی ہوتی ہے۔

    پرائمری کی اس زبوں حالی کا براہِ راست اثر مڈل اور سیکنڈری اسکولوں پر پڑتا ہے، جہاں تعلیمی پسماندگی کی ایک اور دردناک داستان رقم ہوتی ہے۔ مڈل اور ہائر سیکنڈری کی سطح پر سب سے بڑا مسئلہ اسکولوں کا انتہائی غیر متوازن تناسب ہے۔ ملک میں ہزاروں پرائمری اسکولوں کے مقابلے میں مڈل اور ہائی اسکولوں کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ ہر چھ سے آٹھ پرائمری اسکولوں کے بعد بمشکل ایک مڈل یا ہائی اسکول میسر آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پرائمری پاس کرنے کے بعد بچوں کی ایک بڑی تعداد، بالخصوص دیہی علاقوں میں، آگے اسکول نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ لڑکیوں کے معاملے میں یہ صورتِ حال مزید ہولناک ہو جاتی ہے، کیونکہ دور دراز کے علاقوں میں ہائی اسکولوں اور محفوظ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث والدین اپنی بچیوں کو تعلیم سے اٹھا لیتے ہیں؛ یوں کروڑوں بچوں کے تعلیمی سفر پر پرائمری یا مڈل کے بعد ہی ہمیشہ کے لیے سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔

    جو بچے کسی نہ کسی طرح مڈل اور سیکنڈری اسکول تک پہنچنے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں، انہیں ایک ایسے نظام کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کی ذہنی و معاشی ضروریات سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے۔ چودہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے ان نوجوانوں پر ایک طرف غریب خاندانوں کا معاشی دباؤ ہوتا ہے کہ وہ گھر کا چولہا جلانے میں اپنا حصہ ڈالیں، اور دوسری طرف اسکول کا غیر عملی اور خشک نصاب انہیں مستقبل کے لیے کوئی امید نہیں دیتا۔ ہمارے ہائی اسکولوں میں نصاب کا مقصد نوجوانوں کو تکنیکی یا عملی ہنر سکھانا بالکل نہیں ہے، بلکہ انہیں صرف اور صرف امتحانی بورڈز کے طے شدہ سلیبس کا پابند بنانا ہے۔ سائنس اور کمپیوٹر کی تجربہ گاہیں یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں یا پھر ان پر تالے پڑے زنگ آلود ہو رہے ہیں۔ نظریاتی طور پر فزکس، کیمسٹری اور ریاضی پڑھا کر ہم ان نوجوانوں کو جدید معیشت اور مارکیٹ کی ضروریات کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں بنا سکتے۔
    اس سطح پر امتحانی نظام اور اکیڈمی کلچر نے تعلیمی پسماندگی کے اس زخم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نویں سے بارہویں جماعت کا امتحانی نظام صرف بچے کی یادداشت اور رٹا لگانے کی صلاحیت کا امتحان لیتا ہے۔ اساتذہ اور اسکول کا پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ بچہ بورڈ کے امتحان میں کس طرح زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرے، چاہے اس کے پاس متعلقہ مضمون کی بنیادی سمجھ ہی کیوں نہ ہو۔ اس مصنوعی نظام نے اسکولوں کی وقعت ختم کر دی ہے اور ان کی جگہ ایک متوازی اور مہنگے اکیڈمی و ٹیوشن کلچر نے لے لی ہے۔ جو والدین اکیڈمیز کی بھاری فیسیں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کے بچے اچھے نمبروں سے محروم رہ کر اعلیٰ تعلیم کی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یوں ہمارا ہائر سیکنڈری نظام طبقاتی خلیج کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید وسیع کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

    اس تمام تباہی کی تہہ میں اساتذہ کی ناقص تربیت اور اس شعبے میں کی جانے والی سیاسی مداخلت کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ دہائیوں سے اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ کے بجائے سیاسی بنیادوں اور سفارش پر کی جاتی رہیں، جس کا خمیازہ آج ہماری نسلیں بھگت رہی ہیں۔ ایک ایسا استاد جو خود بنیادی مفاہیم سے ناواقف ہو، وہ سیکنڈری سطح کے طلبہ کو کیا پڑھائے گا؟ اوپر سے ہائی اسکولوں میں تدریسی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا کوئی مؤثر اور مستقل بندوبست موجود نہیں ہے۔
    جب تک ہم پرائمری اسکول کی عمارتوں، سہولیات اور بنیادی تدریس کو سنبھالا نہیں دیں گے اور مڈل و ہائی اسکولوں کی تعداد بڑھا کر ان میں فنی و عملی تعلیم کو شامل نہیں کریں گے، تعلیمی پسماندگی کا یہ المیہ ختم نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے ہائی اسکولوں کو محض ڈگری بانٹنے کی فیکٹریاں بنانے کے بجائے ایسے مراکز میں ڈھالنا ہوگا جہاں سے نکلنے والا نوجوان نہ صرف تعلیم یافتہ ہو بلکہ کسی نہ کسی ہنر سے آراستہ ہو کر معاشرے کا ایک باصلاحیت اور فعال رکن بن سکے۔ اگر اب بھی اس بحران کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا گیا تو یہ پسماندگی ہماری قومی معیشت اور معاشرتی تانے بانے کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دے گی۔

  • تعلیمی ادارے میں نئی قیادت، ترقی کی نئی امیدیں،تحریر:حفصہ اقبال

    تعلیمی ادارے میں نئی قیادت، ترقی کی نئی امیدیں،تحریر:حفصہ اقبال

    زَسٹ ماڈرن اسکول اینڈ گرلز کالج لاوا میں تعاون، ٹیم ورک اور تعلیمی ترقی کا سفر

    تعلیم میرے نزدیک صرف کتابوں اور نمبروں کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی شخصیت، کردار اور مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ جب مجھے زَسٹ ماڈرن اسکول اینڈ گرلز کالج لاوا میں بطور وائس پرنسپل اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع ملا تو میرے لیے یہ محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک اہم ذمہ داری اور خوبصورت تعلیمی سفر کا آغاز تھا۔

    میں حُفصہ اقبال، لاوا سے تعلق رکھتی ہوں اور اپنے علاقے کے ایک اہم تعلیمی ادارے میں کام کرنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتی ہوں۔ میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ جہاں بھی کام کروں، اپنی ذمہ داری کو صرف ایک ملازمت سمجھنے کے بجائے خلوص، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کروں۔ بطور وائس پرنسپل میری کوشش ہے کہ ادارے کے تعلیمی و انتظامی نظام کو مزید بہتر بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کروں۔

    زَسٹ ماڈرن اسکول اینڈ گرلز کالج لاوا میں کام کرنے کے دوران جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہاں کا ٹیم ورک، باہمی تعاون اور مثبت ماحول ہے۔ بالخصوص ادارے کے پرنسپل سر ظفر علی خان کا تعاون اور رہنمائی میرے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔ ایک سربراہ کا اپنی ٹیم پر اعتماد کرنا، ان کی بات سننا، نئی تجاویز کو اہمیت دینا اور ضرورت کے وقت بھرپور معاونت فراہم کرنا کسی بھی ادارے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔

    بطور وائس پرنسپل کام کرتے ہوئے مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہاں ذمہ داریوں کو صرف عہدوں کی بنیاد پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ ہر فرد کو ادارے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ سر ظفر علی خان کا cooperative اور supportive انداز ٹیم کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے اور ہر فرد کو بہتر کارکردگی دکھانے کی ترغیب دیتا ہے۔

    میری نظر میں ایک کامیاب تعلیمی ادارہ وہی ہوتا ہے جہاں پرنسپل، وائس پرنسپل، اساتذہ اور انتظامیہ ایک ٹیم کی طرح کام کریں۔ اگر ادارے کے تمام افراد ایک دوسرے کی عزت، اعتماد اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف تعلیمی نتائج بہتر ہوتے ہیں بلکہ ادارے کا ماحول بھی مثبت اور پُرسکون رہتا ہے۔

    بطور وائس پرنسپل میری ذمہ داریوں میں صرف انتظامی معاملات دیکھنا شامل نہیں بلکہ اساتذہ کے ساتھ مؤثر رابطہ، طلبہ و طالبات کے نظم و ضبط، تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی اور ادارے کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔ میری کوشش ہے کہ ہر معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جائے اور مسائل کو تنقید کے بجائے مشاورت اور تعاون سے حل کیا جائے۔

    مجھے یقین ہے کہ ایک استاد یا انتظامی عہدے پر موجود فرد کا اصل کام صرف اپنی ذمہ داری پوری کرنا نہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے۔ اگر ہم اپنے ساتھی کی حوصلہ افزائی کریں، اس کی صلاحیت کو تسلیم کریں اور اس کے ساتھ تعاون کریں تو پوری ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔

    اسی لیے میں اپنی ٹیم کے تمام اساتذہ اور انتظامی عملے کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں۔ ہر استاد اپنی جگہ ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی کسی ایک فرد کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ پوری ٹیم کی مشترکہ محنت، خلوص اور لگن سے حاصل ہوتی ہے۔

    تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے

    موجودہ دور میں صرف اچھے نمبرز حاصل کرنا ہی کامیابی نہیں۔ ایک بہترین تعلیمی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ و طالبات کو علم کے ساتھ اخلاق، خود اعتمادی، نظم و ضبط، ذمہ داری اور معاشرتی شعور بھی فراہم کرے۔

    زَسٹ ماڈرن اسکول اینڈ گرلز کالج لاوا میں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کی شخصیت سازی، ہم نصابی سرگرمیوں اور مثبت تربیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ طلبہ مستقبل میں صرف اچھے نمبر حاصل کرنے والے افراد نہ بنیں بلکہ اچھے کردار، مثبت سوچ اور مضبوط صلاحیتوں کے حامل انسان بھی بنیں۔

    پرنسپل کی معاونت، ٹیم کا اعتماد

    میرے لیے یہ بات خاص طور پر قابلِ قدر ہے کہ پرنسپل سر ظفر علی خان نئی تجاویز اور مثبت سوچ کو سراہتے ہیں۔ ان کی رہنمائی اور تعاون سے بطور وائس پرنسپل اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ اعتماد کے ساتھ ادا کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔

    ایک اچھا سربراہ اپنی ٹیم کو صرف ہدایات نہیں دیتا بلکہ ضرورت کے وقت ان کے ساتھ کھڑا بھی ہوتا ہے۔ یہی احساس کسی بھی ٹیم کو مضبوط بناتا ہے۔ زَسٹ ماڈرن اسکول اینڈ گرلز کالج لاوا میں کام کرتے ہوئے مجھے خوشی ہے کہ یہاں باہمی احترام، تعاون اور ٹیم ورک کو اہمیت دی جاتی ہے۔

    لاوا کے تعلیمی مستقبل کے لیے عزم

    لاوا جیسے علاقے میں معیاری تعلیم کا فروغ ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور اگر انہیں بہترین تعلیمی ماحول، مناسب رہنمائی اور اعتماد فراہم کیا جائے تو وہ مستقبل میں معاشرے اور ملک کے لیے بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    بطور وائس پرنسپل میری خواہش ہے کہ میں اپنی ذمہ داری کو خلوص اور محنت کے ساتھ نبھاتے ہوئے ادارے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالوں۔ میری کوشش ہوگی کہ اساتذہ کے ساتھ مل کر ایسا تعلیمی ماحول قائم کیا جائے جہاں ہر طالب علم اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکے، سیکھنے میں دلچسپی لے اور اپنے مستقبل کے لیے پُراعتماد ہو۔

    میرا یقین ہے کہ اچھی قیادت وہ نہیں جو صرف راستہ دکھائے بلکہ وہ ہے جو اپنی ٹیم کے ساتھ چل کر منزل تک پہنچے۔ اسی حوالے سے سر ظفر علی خان کی قیادت اور پوری ٹیم کا تعاون میرے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا تجربہ ہے۔

    آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گی کہ کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اس کی عمارت یا وسائل نہیں بلکہ اس کے لوگ، ان کا خلوص اور ایک دوسرے پر اعتماد ہوتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ زَسٹ ماڈرن اسکول اینڈ گرلز کالج لاوا میں مجھے ایک ایسی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے جو محنت، تعاون اور مثبت سوچ پر یقین رکھتی ہے۔

    ہم مل کر صرف ایک ادارہ نہیں بنا رہے بلکہ ایک بہتر، باصلاحیت اور باکردار نسل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہی ہمارا اصل مقصد اور ہماری سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

  • دور کے ڈھول سہانے ،تحریر: حفیظ المہندس

    دور کے ڈھول سہانے ،تحریر: حفیظ المہندس

    دور کے ڈھول واقعی سہانے اور دل موہ لینے والے ہوتے ہیں ۔ لیکن نزدیک سے سنیں تو اسی ڈھول کی آواز بے سری لگتی ہے۔ ہماری حکومتیں بھی ہمیں دور کے ڈھول سنا کر اپنی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹتی ہیں۔ ایسے دور ازکار منصوبے بنائے جاتے ہیں جن کی چمک دمک نظر کو خیرہ کرتی ہے۔ لیکن ان میں دور اندیشی اور مستقبل بینی کا فقدان ہوتا ہے ۔ حال ہی میں حکومت پنجاب نے طلباء کی تعلیمی بڑھوتری کے لیے انہیں ای۔ بائکس دینے کا اعلان کیا ہے ۔ چنانچہ "سی ایم مریم نواز الیکٹرک بائیک سکیم” کے تحت پنجاب کے طلباء کو سوا لاکھ سے زائد ای بائکس ملیں گی۔ اب نظر بظاہر یہ سکیم بڑی شاندار ہے جس کا مقصد طلباء کی تعلیمی کارکردگی کو دو چند کرنا ہے۔ لیکن اگر اس سکیم کا بغور جائزہ لیں تو یہ طلباء کے لئے افیون سے کم نہیں ۔ ہمارے تعلیمی نظام کی حالت پہلے ہی خاصی دگر گوں ہے۔ موبائل کی یلغار نے طلباء کا کتاب و قلم سے رشتہ انتہائی کمزور کر رکھا ہے ۔ اب جب انہیں ای بائکس ملیں گی تو وہ سکول سے واپسی پر گروہ در گروہ آوارہ گردی کرتے پھریں گے ۔ بائکس کے لیے پٹرول تو چاہیے گا نہیں لہذا ان کی مٹر گشت پر کوئی قدغن نہیں ہو گی۔ پڑھائی کی بجائے وہ ای بائکس پر قلانچیں بھرتے پھریں گے۔ والدین کے لیے یہ ای بائکس خواہ مخواہ پریشانی کا باعث بنیں گی جن کی وجہ سے ان کے نور نظر گھروں سے دور بلا وجہ پھرتے رہیں گے۔

    اس کی بجائے کیا ہی بہتر ہوتا کی پنجاب کے سرکاری سکولوں کو الیکٹرک بسیں فراہم کی جاتیں جو طلباء کو گھروں سے سکول تک سفری سہولت مہیا کرتیں۔ والدین بھی مطمئن رہتے اور طلباء کا وقت بھی بچتا۔ لیکن کیا کیا جائے ہمارے حکمران وقتی اور سستی شہرت کو دور اندیشی اور مستقبل کی سوچ پر ترجیح دیتے ہیں ۔

  • پرائیویٹ سکولز  ایسوسی ایشنز ناکام اور غیر مؤثر کیوں ؟تحریر : عابد محمود عابد

    پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز ناکام اور غیر مؤثر کیوں ؟تحریر : عابد محمود عابد

    حال ہی میں سیالکوٹ کی ایک پراِئیویٹ سکولوں کی تنظیم کے سربراہ کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا کہ جس میں انہوں نے کہا پاکستان اور خصوصی طور پر پنجاب میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز اس لیے ناکامی کا شکار ہیں کہ ہر شہر میں پرائیویٹ سکولوں کی کئی کئی تنظیمیں بن چکی ہیں اور انکے عہدیدار بھی بے شمار ہیں ،

    پہلے تو یہ جن صاحب کا ویڈیو بیان ہے، انکی تعریف بنتی ہے کہ ایک تنظیم کا عہدیدار ہونے کے باوجود انہوں نے ناکامی کو تسلیم کیا ، ورنہ یہاں تو نہ کوئی سچ بولنے اور نہ سچ سننے کے لیے تیار ہوتا ہے ، ہاں البتہ انہوں نے ناکامی کی صرف ایک وجہ بیان کی ہے ، اسکی اور بھی بہت ساری وجوہات ہیں جن کی نشاندہی میں اس تحریر میں کرنے کی کوشش کروں گا ، میں بھی پرائیویٹ سکولوں کی تنظیموں کے ساتھ کام کرچکا ہوں اور تنظیموں میں موجود ہوتے ہوئے میں اس حوالے سے پہلے بھی کئی تحریریں رقم کر چکا ہوں ، ناکامی کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ تنظیموں کے کرتا دھرتا افراد ان تحریروں اور ان میں پیش کردہ تجاویز کو مثبت لینے کی بجائے ناراض ہوتے ہیں ، ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ ایک تنظیم کے صدر نے مجھے ایک تحریر سوشل میڈیا سے ڈیلیٹ کرنے کو کہا لیکن میں نے ایسا کرنے کی بجائے تنظیم کو چھوڑنا بہتر سمجھا ،

    بہرحال موضوع کی جانب واپس آتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کی ناکامی کی کون کون سی دیگر بڑی بڑی وجویات ہیں ،
    میرے خیال میں تو سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کے بیشتر عہدیدار اپنے عہدوں کو پرائیویٹ سکولوں کے مفادات کے تحفظ کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ، وہ اپنے عہدوں کو سرکاری افسران سے تعلقات بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، وہ محکمہ تعلیم کے کسی بڑے افسر کے ساتھ ایک فوٹو سیشن کو ہی ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہیں ،
    بات صرف محکمہ تعلیم تک محدود نہیں رہتی بلکہ دوسرے محکموں کے افسران سے روابط قائم کرتے ہیں تاکہ ذاتی فوائد حاصل کیے جا سکیں ، اسکی ایک مثال میں یہاں پیش کروں گا کہ میرے شہر ڈسکہ کے سول ہسپتال کے نئے ایم ایس نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تو پرائیویٹ سکولوں کی ایک تنظیم کا ایک وفد گلدستے لے کر انکو مبارکباد دینے پہنچ گیا ، فوٹو سیشن ہوا اور اسکی چرچا سوشل میڈیا پر کی گئی ، اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے عمل کا پرائیویٹ سکولوں کو کیا فائدہ ہوا ؟ کیا تنظیم کے عہدیداروں نے ایم ایس سول ہسپتال سے کوئی یقین دہانی لی کہ پرائیویٹ سکولز والوں کو ترجیحی بنیادوں ہر علاج معالجے کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی؟ ظاہری سی بات ہے کہ اس سارے عمل کا تعلق پرائیویٹ سکولوں کے مفادات سے ہرگز نہیں تھا اور مقصد ذاتی تعلقات بنانا تھا ، حالانکہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کا اصل مقصد تو یہی ہونا چاہیے کہ پرائیویٹ سکولوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور کسی مشکل وقت میں انکی مدد کی جائے لیکن حقیقت میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ پرائیویٹ سکولز والوں کو ان تنظیموں سے کچھ فوائد حاصل ہوئے ہوں ،

    ان تنظیموں کی ناکامی کی ایک اور وجہ ہے جس کی نشادہی میں یہاں کرنا چاہوں گا کہ بیشتر تنظیموں کے جو بڑے بڑے عہدیدار ہوتے ہیں ، وہ مقامی سطح پر اپنی تنظیم کی ترقی کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اس کی بجائے انکی نظر اپنی ذاتی ترقی پر ہوتی ہے وہ تحصیل کے بعد ضلعی ، ڈویژنل ، صوبائی اور مرکزی لیول پر کوئی عہدہ حاصل کرنے کے چکر میں لگے رہتے ہیں اور اسی چکر میں مقامی تنظیم کو کمزور حالت میں چھوڑ دیتے ہیں ، یہ بھی کہ زیادہ تر عہدیدار بڑے سکولوں سے متعلقہ ہوتے ہیں اور وہ کم فیسوں والے چھوٹے سکولوں کے مسائل کا ادراک نہیں کر پاتے اور نہ ہی انکے مسائل حل کرنے میں ، انکی مدد کرنے میں کوئی بھی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں ،

    بہرحال پرائیویٹ سکولوں سے متعلقہ سب مسائل کا حل اسی صورت میں ممکن ہے کہ لوگ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجد تعمیر کرنے بجاِئے متحد ہوکر نجی تعلیمی اداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مؤثر آواز بلند کریں ، اسی صورت میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کے اوپر سے ناکام اور غیر مؤثر ہونے کا لیبل ہٹ سکے گا ،

  • استاد پانچ ہزار کا، تعلیم لاکھوں کی،تحریر: رشنا اختر

    استاد پانچ ہزار کا، تعلیم لاکھوں کی،تحریر: رشنا اختر

    ایک قوم کے مستقبل کی قیمت کیا ہوتی ہے؟
    کسی معیشت دان سے پوچھیں تو شاید وہ اعداد و شمار میں جواب دے گا کسی سیاست دان سے پوچھیں تو وہ بجٹ اور پالیسیوں کی بات کرے گا لیکن اگر یہ سوال کسی ایسے شخص سے پوچھا جائے جو واقعی قوموں کی تعمیر کا راز جانتا ہو تو شاید اس کا جواب صرف ایک لفظ ہو۔
    "استاد”.
    استاد وہ شخص ہے جو بچے کے ہاتھ میں کتاب دیتا ہے لفظوں کو معنی دیتا ہے سوال پوچھنے کا حوصلہ دیتا ہے اور ایک ایسے انسان کی بنیاد رکھتا ہے جو کل ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، افسر، وکیل، صحافی یا خود استاد بن سکتا ہےلیکن پاکستان میں آج اسی استاد کی اپنی زندگی کا سوال ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔جو شخص دوسروں کے بچوں کا مستقبل بناتا ہے اس کا اپنا مستقبل کون بنائے گا؟یہ سوال آج خاص طور پر ان لاکھوں اساتذہ کے حوالے سے اہم ہے جو سرکاری اسکولوں کے بجائے PEF، پارٹنرشپ اسکولوں، مختلف فاؤنڈیشنز اور نجی تعلیمی اداروں میں انتہائی کم معاوضے پر کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں سرکاری سطح پر مفت تعلیم کی بات بہت خوبصورت لگتی ہے۔

    بچے کو مفت کتاب ملتی ہے۔اسکول میں داخلہ ملتا ہے۔کئی پروگراموں کے ذریعے تعلیم کا خرچ حکومت یا متعلقہ ادارہ برداشت کرتا ہے لیکن ایک سوال کہیں درمیان میں دب جاتا ہے اس بچے کو پڑھانے والے استاد کا حق کیا ہے؟

    پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اپنے ریکارڈ کے مطابق PEF براہِ راست پارٹنر اسکول کے اساتذہ کو تنخواہ نہیں دیتا ۔ پارٹنر اسکول خود اساتذہ بھرتی کرتا ہے اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اس کی ذمہ داری ہے۔ PEF اسکول کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے جو اسکول کے مجموعی اخراجات میں استعمال ہوتی ہے۔ یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے۔اگر حکومت یا ایک سرکاری فاؤنڈیشن ایک بچے کی تعلیم کے لیے کسی پارٹنر ادارے کو رقم فراہم کر رہی ہے تو پھر یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہاس رقم میں استاد کا حصہ کتنا ہے؟اس استاد کو ماہانہ کتنی تنخواہ دی جا رہی ہے؟اس کی سروس کتنے گھنٹوں پر مشتمل ہے؟کیا اسے سالانہ اضافہ ملتا ہے؟
    کیا اسے چھٹی ملتی ہے؟
    کیا اسے میٹرنٹی/میڈیکل سہولت ملتی ہے؟کیا اس کا سروس ریکارڈ ہے؟
    کیا اسے پنشن یا کسی سوشل سکیورٹی نظام کا تحفظ حاصل ہے؟اور سب سے اہم کیا اس کی تنخواہ قانون کے مطابق ہے ۔یہاں وہ حقیقت آتی ہے جو کسی بھی حساس انسان کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔اگر واقعی کسی اسکول میں ایک ڈگری ہولڈر استاد کو پانچ ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تو یہ صرف کم تنخواہ نہیں۔ یہ سوال ہے۔کیا ہم ایک انسان کی محنت کی قیمت اس سے بھی کم کر چکے ہیں جو ایک گھر کا معمولی ماہانہ خرچ بھی پورا نہیں کر سکتی؟ایک نوجوان چار سالہ ڈگری حاصل کرتا ہے۔فیسیں دیتا ہے۔کتابیں خریدتا ہے۔امتحانات دیتا ہے پھر تدریس کو اپنا پیشہ بناتا ہے۔وہ صبح اسکول جاتا ہے۔کلاس لیتا ہے۔سبق تیار کرتا ہے۔کاپیاں چیک کرتا ہے۔
    امتحانی ڈیوٹیاں دیتا ہے۔
    والدین کے سوالات سنتا ہے۔اسکول انتظامیہ کے احکامات پورے کرتا ہےاور پھر مہینے کے آخر میں اسے ایسی رقم ملتی ہے جس سے شاید ایک متوسط گھر کا بجلی کا بل بھی پورا نہ ہو۔یہ تعلیم کا نظام ہے یا تعلیم یافتہ غربت پیدا کرنے کا نظام؟PEF کے اپنے ریکارڈ میں نگرانی موجود ہے پھر استاد کیوں بے آسرا ہے؟یہ بھی ایک دلچسپ تضاد ہے۔PEF کے مطابق پارٹنر اسکولوں کی نگرانی ہوتی ہے۔ اسکولوں کا معیار جانچنے کے لیے Quality Assurance Test، مانیٹرنگ اور دیگر طریقۂ کار موجود ہیں۔ PEF یہ بھی بتاتا ہے کہ SIS کے ذریعے طلبہ کے ساتھ اساتذہ کا ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے۔ یعنی نظام کے پاس یہ جاننے کا راستہ موجود ہے کہ کتنے بچے ہیں؟کتنے استاد ہیں؟اسکول کہاں ہے؟
    کتنے طلبہ پڑھ رہے ہیں؟
    اسکول کا معیار کیا ہے؟
    پھر سوال یہ ہے۔کیا مانیٹرنگ کے دوران یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ استاد کو کتنی تنخواہ دی جا رہی ہے؟اگر دیکھا جاتا ہے تو پھر کم تنخواہ کی شکایات کیسے باقی رہتی ہیں؟اور اگر نہیں دیکھا جاتا تو پھر استاد کے حق کو نگرانی کے دائرے میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟

    استاد صرف SIS میں ایک نام نہیں ایک بہت بنیادی مسئلہ شاید یہاں سے پیدا ہوتا ہے۔جب نظام استاد کو صرف ایک ڈیٹا انٹری سمجھنے لگے تو انسان غائب ہو جاتا ہے۔SIS میں استاد کا نام موجود ہے۔حاضری موجود ہے۔کلاس موجود ہے۔طلبہ موجود ہیں۔نتائج موجود ہیں لیکن اس استاد کے گھر کا چولہا اس کے بچوں کی فیس؟
    اس کا کرایہ؟اس کا بجلی کا بل؟اس کی بیماری؟اس کا مستقبل؟یہ سب کہاں ہے؟تعلیم کا نظام بچے کے مستقبل کی فکر کرتا ہے مگر استاد کے مستقبل سے لاتعلق ہو جائے تو یہ ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ کچھ پیف پارٹنرز اور فاؤنڈیشن کے سکولز نے باقاعدہ معاہدہ نامہ بنایا ہوا ہے جو کہ انگریزی میں ہوتا ہے اور تقرری یا دوران تقرری نفسیاتی ہتھکنڈے کے ذریعے سائن کروایا جاتا ہے ۔ جس میں استاد کے حقوق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں ۔
    معاہدہ اگر رضامندی کے نام پر مجبوری بن جائے.

    ایسے معاہدے جن میں استاد کو بعض شرائط تسلیم کرنا پڑتی ہیں حتیٰ کہ کم معاوضے یا دیگر شرائط پر اعتراض نہ
    کرنے کی شقیں بھی شامل ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔یہاں قانون اور اخلاق دونوں کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
    کاغذ پر دستخط ہمیشہ حقیقی رضامندی نہیں ہوتے۔ایک نوجوان جس کے ہاتھ میں ڈگری ہو اور سامنے روزگار کے دروازے بند ہوں، اگر اسے کہا جائے۔
    ’’یہ شرائط ہیں منظور ہیں تو کام کرو، ورنہ اگلا امیدوار موجود ہے‘‘
    تو اس دستخط کو محض قانونی رضامندی سمجھ لینا کافی نہیں۔
    کیونکہ بے روزگاری بھی ایک دباؤ ہے۔غربت بھی ایک دباؤ ہے۔گھر کے اخراجات بھی ایک دباؤ ہیں اور جب ایک طرف طاقتور ادارہ ہو اور دوسری طرف ایک بے روزگار ڈگری ہولڈر تو دونوں کی bargaining power برابر نہیں ہوتی۔اسی لیے حکومت کو ایسے معاہدوں کی آزادانہ قانونی اور لیبر آڈٹ کرانی چاہیے۔اس مسئلے کا شاید سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض اساتذہ برسوں نہیں بلکہ دہائیوں سے ایسے اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    بیس سال۔پچیس سال۔
    ایک پوری جوانی۔ایک پوری زندگی۔

    انسان ایک ادارے کو اپنی زندگی کے بہترین سال دے دیتا ہے لیکن اگر دو دہائیوں بعد بھی وہ بنیادی مالی تحفظ سے محروم ہو تو سوال صرف اسکول انتظامیہ سے نہیں بنتا۔ریاست سے بھی بنتا ہے۔کیونکہ تعلیم کو اگر حکومت نے نجی پارٹنرشپ کے ذریعے فراہم کرنے کا ماڈل اختیار کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو گئی۔ریاست کا کام صرف بچوں کو اسکول پہنچانا نہیں۔
    استاد کو استحصال سے بچانا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔جب استاد کو نفسیاتی دباؤ میں رکھا جائے ۔ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جہاں کام کرنے والے انسان کی ذہنی کیفیت براہِ راست بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
    ایک پریشان استاد۔ایک خوف زدہ استاد۔ایک ایسا استاد جسے ہر وقت ملازمت ختم ہونے کا خطرہ ہو۔ایک ایسا استاد جسے تنخواہ کم ملتی ہو۔
    ایک ایسا استاد جسے انتظامیہ کی طرف سے مسلسل دباؤ کا سامنا ہو۔
    کیا وہ بچے کو ذہنی سکون، اعتماد اور تخلیقی آزادی دے سکتا ہے؟ادارہ استاد سے کہتا ہے ۔بچے کو محبت سے پڑھاؤ لیکن استاد خود خوف میں ہو تو؟ ادارہ کہتا ہے بچے کی شخصیت بناؤ لیکن استاد کی اپنی شخصیت مسلسل دباؤ میں ہو تو؟ادارہ کہتا ہے بچے کو خود اعتمادی دو لیکن استاد خود اپنی ملازمت کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو تو؟یہ تضاد ہماری تعلیمی پالیسی کے چہرے پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔افسر آتا ہے۔ وزٹ ہوتا ہے، رپورٹ بنتی ہے۔۔۔ پھر؟

    پاکستانی نظام کا ایک عجیب المیہ ہے۔معائنہ ہوتا ہے۔افسر آتا ہےرجسٹر دیکھے جاتے ہیں۔بچے گنے جاتے ہیں۔عمارت دیکھی جاتی ہے۔کلاس روم دیکھے جاتے ہیں۔تصاویر بن جاتی ہیں۔رپورٹ تیار ہو جاتی ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے۔
    کیا افسر نے کبھی اکیلے میں استاد سے پوچھا کہ ’’آپ کو کتنی تنخواہ ملتی ہے؟‘‘کیا کبھی بینک اسٹیٹمنٹ دیکھی گئی؟
    کیا کبھی تنخواہ کی رسید اور اصل ادائیگی کا موازنہ کیا گیا؟کیا کبھی استاد سے انتظامیہ کی موجودگی کے بغیر بات کی گئی؟کیا کبھی یہ پوچھا گیا کہ
    ’’اگر آپ کو اپنے حقوق کے خلاف کوئی شکایت ہو تو آپ کس کے پاس جائیں گے؟‘‘
    اگر جواب نہیں ہے تو پھر یہ مانیٹرنگ صرف عمارت کی مانیٹرنگ ہے تعلیم کی نہیں۔
    اگر استاد یہ سب بتا بھی دے اور افسر کو معلوم بھی ہو تو کیا ہوسکتا ہے؟ سکول مالکان و انتظامیہ اور افسر اس بات پر معاہدہ کر لیتے ہیں کہ آپ کی بھی روزی روٹی ہے اور ہماری بھی آپ استاد کو ایسا سبق سکھائیں کہ باقی سٹاف آئندہ یہ جرات نہ کرے ۔

    جنوبی پنجاب میں تعلیم، روزگار اور معاشی پسماندگی کے مسائل پہلے ہی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ایسے علاقے میں اگر ایک نوجوان کو تعلیم حاصل کرنے کے بعد استاد کی نوکری ملتی ہے تو وہ اسے صرف ملازمت نہیں سمجھتا۔وہ اسے عزت سمجھتا ہے۔وہ اسے معاشرے کی خدمت سمجھتا ہے۔وہ اسے اپنے مستقبل کا راستہ سمجھتا ہے لیکن اگر اسی استاد کو معمولی معاوضہ، کوئی واضح سروس اسٹرکچر نہیں، کوئی مراعات نہیں، مستقل مزاجی کا تحفظ نہیں اور شکایت کرنے کا مؤثر نظام بھی نہیں ملتا تو پھر ریاست کو یہ سوچنا ہوگا۔
    ہم جنوبی پنجاب کے نوجوان کو تعلیم کی طرف راغب کر رہے ہیں یا اسے تعلیم سے بدظن کر رہے ہیں؟اگر تعلیم کاروبار بن گئی تو استاد مزدور کیوں نہیں؟یہ سوال بہت سخت ہے مگر ضروری ہے۔

    اگر کوئی ادارہ تعلیم کے ذریعے مالی سرگرمی کر رہا ہے تو اسے کاروباری نظم و نسق کے اصول حاصل ہو سکتے ہیں لیکن جس شخص کے ذریعے وہ تعلیم دے رہا ہے، وہ انسان ہے۔اس کی محنت کی قیمت ہے۔اس کے وقت کی قیمت ہے۔اس کی قابلیت کی قیمت ہےاور سب سے بڑھ کر اس کی عزتِ نفس ہے۔
    تعلیم کو اگر کاروباری ماڈل کے تحت چلایا جا رہا ہے تو کم از کم یہ اصول تو ہونا چاہیے کہ
    بچت استاد کی تنخواہ سے نہ کی جائے۔
    ایک ہی علاقے میں کئی ادارے اجرت کی ایک غیر اعلانیہ حد مقرر کر لیں۔
    استاد کو ملازمت بچانے کے لیے کم تنخواہ قبول کرنا پڑے ۔ شکایت کرنے پر ملازمت ختم ہونے کا خوف ہو۔ نگرانی کا نظام صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو۔سرکاری فنڈنگ کے باوجود استاد کے مالی حقوق واضح نہ ہوں اور برسوں کام کرنے والے استاد کے لیے کوئی ترقی یا سروس اسٹرکچر نہ ہو وہاں استحصالی نظام کے پیدا ہونے کا خطرہ ضرور موجود ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کو آنکھیں کھولنی چاہییں۔

    حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟اگر حکومت واقعی تعلیم کو ترجیح سمجھتی ہے تو صرف نئے اسکول کھولنا کافی نہیں۔اسے Teacher Protection Policy بنانی ہوگی۔
    ہر پارٹنرشپ اسکول میں کم از کم تنخواہ مقرر کرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔
    تنخواہ نقد نہیں، براہِ راست بینک اکاؤنٹ میں جائے لیکن اکاؤنٹ سے وہی کم تنخواہ ٹرانسفر کرکے استاد کا حق غصب کیا جارہا ہے ۔PEF خود 2026 میں پارٹنر/لائسنس یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کی ڈیجیٹل تنخواہ ادائیگی کے نظام کے لیے سروس حاصل کرنے کی طرف گیا ہے جو اس سمت میں ایک قابلِ ذکر قدم ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ اصل ادا شدہ رقم اور ریکارڈ شدہ رقم میں فرق کی گنجائش ختم کی جائے۔ ہر استاد کو Appointment Letter دیا جائے اس اصول پر کوئی بھی سکول عمل درآمد نہیں کرتا اس میں واضح ہو۔بنیادی تنخواہ ڈیوٹی اوقات،چھٹیاں ،اضافی کام،سالانہ اضافہ،ملازمت ختم کرنے کا طریقہ،شکایت کا طریقہ
    انتظامیہ کے سامنے شکایت کرنے والا استاد اکثر اپنی ملازمت خطرے میں ڈال دیتا ہے۔اس لیے شکایت کا confidential mechanism ہونا چاہیے۔
    سالانہ Teacher Audit ہونا چاہیے۔Teacher Welfar Audit بھی ہونا چاہیے۔ دس، پندرہ، بیس سال سے کام کرنے والوں کے لیے سروس اسٹرکچر بنایا جائے۔کسی شخص کو دو دہائیاں کام کروا کر بھی ابتدائی سطح کی تنخواہ پر رکھنا انسانی اور انتظامی دونوں اعتبار سے ناقابلِ قبول ہونا چاہیے۔ہراسمنٹ کے خلاف آزادانہ نظام۔PEF کے اپنے FAQ میں بھی درج ہے کہ پارٹنر اسکول میں جنسی ہراسمنٹ کی شکایت ثابت ہونے کی صورت میں شراکت داری منسوخ ہونے تک کی کارروائی ہو سکتی ہے

    لیکن سوال یہ ہے۔کیا ہر استاد کو معلوم ہے کہ شکایت کہاں کرنی ہے اور کیا اسے شکایت کرنے کے بعد انتقامی کارروائی سے تحفظ حاصل ہے؟ استاد کو خیرات نہیں حق چاہیے۔سب سے اہم بات یہی ہے۔استاد کسی سے خیرات نہیں مانگ رہا۔
    وہ اپنے وقت، علم اور محنت کی قیمت مانگ رہا ہے۔وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھے محل دے دو۔
    وہ صرف یہ کہہ رہا ہے۔
    میرے کام کی اتنی قیمت تو مقرر کرو کہ میں عزت کے ساتھ زندہ رہ سکوں۔
    اگر ایک ڈگری ہولڈر نوجوان آٹھ، دس یا بارہ گھنٹے تعلیمی ادارے کو دیتا ہے اور بدلے میں اتنی رقم حاصل کرتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کر سکے تو مسئلہ صرف اس استاد کا نہیں۔یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ہم استاد سے قوم بنوانا چاہتے ہیں، مگر استاد کا گھر نہیں بنا رہے یہی پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ہم تقریروں میں استاد کو قوم کا معمار کہتے ہیں۔

    ہم اسے پیغمبرانہ پیشہ کہتے ہیں۔ہم اس کے احترام میں الفاظ کے پہاڑ کھڑے کرتے ہیں لیکن جب اسی استاد کی تنخواہ کا وقت آتا ہے تو ہماری تمام تقریریں ختم ہو جاتی ہیں۔ کاغذ پر وہ معمار ہےعملی زندگی میں وہ کم تنخواہ دار ملازم۔
    کاغذ پر وہ قوم کا مستقبل بناتا ہے۔حقیقت میں اپنے مستقبل کے لیے پریشان۔کاغذ پر تعلیم مقدس ہے۔عملی نظام میں استاد کی محنت سب سے سستی۔یہ تضاد کب تک چلے گا؟استاد کو بچائیے، تعلیم خود بچ جائے گی۔پاکستان کا تعلیمی بحران صرف یہ نہیں کہ اسکول کم ہیں کتابیں کم ہیں یا بچے اسکول سے باہر ہیں۔
    ایک اور خاموش بحران بھی ہے۔استاد تعلیم کے شعبے سے مایوس ہو رہا ہے۔جس نوجوان نے ڈگری لے کر تدریس اختیار کی تھی وہ اب سوچ رہا ہے کہ اگر یہی اس پیشے کا صلہ ہے تو وہ کوئی دوسرا کام کیوں نہ کرےاور جب اچھے، قابل اور باصلاحیت نوجوان تدریس چھوڑ دیں گے تو نقصان صرف اس استاد کا نہیں ہوگا۔ایک پوری نسل کا ہوگا۔اس لیے حکومت کو PEF، PSRP، PIMA، CARE اور دیگر پارٹنرشپ و فاؤنڈیشن ماڈلز کا آزاد، شفاف اور جامع Teacher Welfare Audit کرانا چاہیے۔
    یہ دیکھا جائے کہ سرکاری فنڈنگ کہاں جا رہی ہے۔
    اس میں استاد کو کتنا مل رہا ہے۔کتنے گھنٹے کام لیا جا رہا ہے۔کس نوعیت کے معاہدے سائن کروائے جا رہے ہیں۔کیا قانونی کم از کم اجرت پوری ہو رہی ہے۔کیا برسوں سے کام کرنے والوں کے لیے کوئی سروس اسٹرکچر ہے۔کیا ہراسمنٹ کی شکایات کا مؤثر نظام ہے۔اور کیا مانیٹرنگ کرنے والا افسر صرف فائل و دیگر انسپکشن درست طریقے سے انجام دیتا ہے یا اداکاری کر کے اور سائن سٹیمپ لگا کر واپس آجاتا ہے اور اپنے اس ڈرامے کی رپورٹ کے پیسے حکومت سے تنخواہ کی صورت میں لیتا ہے کیونکہ اگر ہم نے اس سوال کا جواب نہ دیا تو کل ہمارے پاس اسکول تو ہوں گے۔ عمارتیں بھی ہوں گی۔ بچے بھی ہوں گے۔ فنڈز بھی ہوں گے۔ رپورٹس بھی ہوں گی۔مگر شاید وہ لوگ نہیں ہوں گے جو دل سے پڑھانا چاہتے تھے اور یاد رکھیے۔تعلیم کی عمارت اینٹوں سے نہیں، استاد سے بنتی ہے۔جس معاشرے میں استاد کی محنت سستی ہو جائے وہاں تعلیم مہنگی ہونے کے باوجود معیار میں غریب ہو جاتی ہے۔استاد کو اس کا حق دے دیجیئے کیونکہ جو ہاتھ قوم کے بچوں کا مستقبل لکھتے ہیں انہیں اپنے بچوں کا مستقبل مٹانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

  • آخر کب تک ؟تحریر: ماہ جبین اظہر

    آخر کب تک ؟تحریر: ماہ جبین اظہر

    اس زندگی میں کبھی کبھی ہمارے سامنے ایسے سوال آ جاتے ہیں جن کا جواب ہم چاہتے ہوئے بھی نہیں دے پاتے۔ ہم سوال کرتے ہیں، سوچتے ہیں، پریشان ہوتے ہیں، مگر جواب کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ شاید اس لیے کہ ہمیں خاموش رہنے، سہنے اور برداشت کرنے کی عادت اس قدر ہو چکی ہے کہ ہمارے سامنے ہونے والی ناانصافی بھی ہمیں کچھ دیر کے افسوس کے بعد معمول کا حصہ محسوس ہونے لگتی ہے۔

    ہم اپنے معاشرے میں ہونے والی بے انصافی اور بے حسی کو دیکھتے ہیں، افسوس کرتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ ہم اکیلے کیا کر سکتے ہیں؟ اس پورے نظام کے سامنے ایک بندہ کیا ہی کر سکتا ہے؟ لیکن جب یہی سوال بار بار ہمارے سامنے آتا ہے تو دل خود سے پوچھتا ہے: آخر کب تک؟

    آخر کب تک ہم اس نظام کا حصہ بن کر خاموش رہیں گے؟ آخر کب تک ناانصافی کو برداشت کرتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والی زیادتیوں پر صرف افسوس کرکے اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہوتے رہیں گے؟

    ہماری سب سے بڑی بے انصافی کا ایک مرکز ہمارا تعلیمی نظام بھی ہے۔ تعلیم وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ایک بچہ اپنے خوابوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اس امید کے ساتھ پڑھاتے ہیں کہ وہ ایک دن تعلیم حاصل کرکے اپنے لیے اور اپنے ملک کے لیے کچھ بہتر کریں گے۔ لیکن جب یہی نظام بچے کی محنت، صلاحیت اور مستقبل کے ساتھ انصاف نہ کرے تو سوال اٹھتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو آخر دے کیا رہے ہیں؟

    میٹرک کے امتحانات ہی کو دیکھ لیجیے۔ فرسٹ ٹائم اور سیکنڈ ٹائم کے پیپرز میں فرق ہو تو کیا ہم دونوں گروہوں کے طلبہ کا یکساں بنیاد پر مقابلہ کر سکتے ہیں؟ اگر امتحان کا معیار اور مشکل مختلف ہو تو صرف نمبروں کی بنیاد پر کسی طالب علم کی قابلیت کا فیصلہ کس حد تک درست ہو سکتا ہے؟ ایک طالب علم کے لیے ایک نمبر بھی اس کے مستقبل کی سمت بدل سکتا ہے، پھر کیا ہمارے امتحانی نظام کو اس ذمہ داری کا احساس نہیں ہونا چاہیے؟
    ہم نے بچوں کو نمبروں کی ایسی دوڑ میں شامل کر دیا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ بچہ یہ نہیں سوچتا کہ مجھے کیا سیکھنا ہے، میری صلاحیت کیا ہے اور میں اپنے علم کو زندگی میں کیسے استعمال کروں گا؛ اس کے ذہن میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے کہ مجھے کتنے نمبر ملیں گے؟

    نمبروں کی یہ دوڑ صرف بچوں کو نہیں تھکاتی بلکہ والدین کو بھی ایک مسلسل دباؤ میں رکھتی ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کے لیے بچپن سے خواب دیکھتی ہے۔ ایک باپ اپنی استطاعت سے بڑھ کر محنت کرتا ہے تاکہ اس کا بچہ اچھی تعلیم حاصل کر سکے۔ والدین اپنی ضروریات کو پیچھے رکھ کر بچوں کی فیس، کتابوں اور تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔ ان کی امید صرف اتنی ہوتی ہے کہ ان کا بچہ محنت کرے گا اور اسے اس محنت کا مناسب صلہ ملے گا۔

    لیکن اگر ایک طالب علم پوری محنت سے امتحان دے اور پھر اسے محسوس ہو کہ اس کی محنت کا درست اندازہ ہی نہیں لگایا گیا تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ پیپر چیک کرنے والے کے لیے شاید وہ صرف ایک جوابی کاپی ہو، لیکن اس کا طالب علم کے لیے وہ مستقبل کا ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے۔ اس ایک کاپی کے اندر کئی مہینوں کی محنت، والدین کی امیدیں اور ایک بچے کے خواب شامل ہوتے ہیں۔

    اسی لیے پیپر چیکنگ کا نظام انتہائی ذمہ داری اور شفافیت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر کسی طالب علم کو اپنے نمبروں پر اعتراض ہو تو ری چیکنگ کا نظام بھی ایسا ہونا چاہیے جس پر اسے مکمل اعتماد ہو۔ کسی استاد یا چیکر کی معمولی سی غفلت بھی طالب علم کے لیے بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امتحانی نظام میں شفافیت صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل کے ساتھ انصاف کا معاملہ ہے۔

    تعلیم میں میرٹ بھی اسی انصاف کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اگر کسی طالب علم کو اس کی قابلیت اور محنت کے بجائے سفارش، رشوت یا تعلقات کی بنیاد پر پیچھے کر دیا جائے تو اس سے صرف ایک بچے کا حق نہیں چھینا جاتا بلکہ پورے معاشرے کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ جو بچہ دن رات محنت کرتا ہے، اس کے اندر یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کی محنت اسے آگے لے جائے گی۔
    ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جب ایک نوجوان بار بار ناانصافی دیکھتا ہے تو اس کے اندر نظام کے لیے اعتماد کیسے قائم رہے گا؟ مایوسی صرف ایک فرد کو نہیں توڑتی، یہ معاشرے کے مستقبل کو بھی کمزور کرتی ہے۔
    ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ محنت کرو؛ ہمیں ایسا نظام بھی دینا ہوگا جہاں محنت کا حق ملے، میرٹ کا احترام ہو اور قابلیت کو پہچانا جائے۔ ہمیں ایسا تعلیمی ماحول چاہیے جہاں استاد صرف نمبر دینے والا نہ ہو بلکہ طالب علم کے مستقبل کا محافظ بھی سمجھا جائے۔

    یہ کالم کسی ایک استاد، ادارے یا فرد کو الزام دینے کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام سے ایک سوال کرنے کے لیے ہے۔ سوال بہت سادہ ہے، مگر اس کا جواب ضروری ہے:
    آخر کب تک؟
    آخر کب تک ہمارے بچے نمبروں کی دوڑ میں اپنی اصل صلاحیت بھولتے رہیں گے؟ آخر کب تک امتحانی نظام میں موجود خامیوں کا بوجھ طالب علم اٹھاتے رہیں گے؟ آخر کب تک میرٹ سوالیہ نشان بنا رہے گا؟ آخر کب تک والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند رہیں گے؟
    اب وقت صرف سوال کرنے کا نہیں، نظام کو بہتر بنانے کا ہے۔ کیونکہ ایک بچے کا مستقبل صرف اس کا اپنا مستقبل نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ ایک خاندان کی امید اور پورے معاشرے کا کل وابستہ ہوتا ہے۔
    اور اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو کل شاید یہی سوال ہمارے سامنے پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ کھڑا ہوگا:
    آخر کب تک؟