Baaghi TV

Category: تعلیم

  • اردوکانفاذ:جناب اظہار الحق کی توجہ  کے لئے!–از–فاطمہ قمر

    اردوکانفاذ:جناب اظہار الحق کی توجہ کے لئے!–از–فاطمہ قمر

    پاکستان کے سینئر کالم نویس ادیب ریٹائرڈ بیوروکریٹ جناب اظہار الحق صاحب نفاذ اردو سے متعلق اپنے کالم ” تلخ نوائی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اردو کا عمل بتدریج کیا جائے.مقابلے کے امتحان میں انگریزی کی طرح اردو کو بھی لازمی کیا جائے. اور تین سال کے بعد طلباء کو اختیار دیا جائے کہ وہ انگریزی یا اردو میِں پرچہ حل کرے لیکن انگریزی کی بطور لازمی مضمون کی حیثیت برقرار رہے.

    سوال یہ ہے کہ جب انگریزوں نے ایک غلام ملک میں اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے اور غلاموں کی کھیپ تیار کرنے کے لئے ایک سمندر پار ملک کی اجنبی زبان کو یہاں اعلی مقابلے کی زبان بنایا تو کیا انہوں نے اس زبان کو مسلط کرتے وقت بھی اس تدریج کا خیال رکھا. بس انہوں نے تو راتوں رات فیصلہ کیا کہ ان کو اپنی حکومت چلانے کےلئے غلام چاہئے تو انہوں نے برصغیر میں مقابلے کا امتحان ایک اجنبی زبان میں متعارف کرایا.. اس امتحان کا بنیادی مقصد آپنے آقاؤں کے لئے غلاموں کی ایسی کھیپ تیار کرنا تھا. جو اپنے دماغ اور عقل کا استعمال کئے بغیر بلاچون چراء ان کے حکم کی بجا آوری کرے.

    اب ہوناتو یہ چاہئے تھا.قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک آزاد مملکت کے تقاضوں اور امنگوں کے مطابق مقابلے کا امتحان فوری طور پر ” لارڈمیکالین "تعلیمی فلسفے کے مطابق راتوں رات اردو میں.لینے کے احکامات اور اقدامات کئے جاتے. مگر افسوس ایسا نہ ھوسکا.پاکستان کے تینوں دستور میں اردو کو قومی زبان قراردیا گیا. مگر افسوس ہمیشہ پاکستان کی اس آئینی شق کی سرکاری طور پر آئین شکنی ھوتی رہی.

    یہ آئین شکنی یہاں تک بڑھی کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومت نے آئین کی خلاف ورزی گرتے ہوئے 2009 میں تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو راتوں رات ایک سرکاری فرمان کے تحت انگریزی میڈیم کردیا. اس انگریزی میڈیم کرنے کے نتیجے میں جب پہلا نتیجہ پانچویں اور آٹھویں کاآیا تو اا میں بیس لاکھ میں سے اٹھارہ لاکھ بچے تعلیم کو خیرباد کہہ گئے.یہ نونہالوں کا وہ قتل عام تھا.جس کا کسی مہزب دنیا میں تصور بھی نہیں کیا کاسکتا. دستور کی اس خلاف ورزی کے ردعمل میں پاکستان قومی زبان تحریک نے جنم لیا. جس نے عدالتوں میں میڈیا پر سڑکوں’ عوام الناس میں ہر جگہ نفاذ اردو کا مقدمہ لڑا.اسے جیتا اب اس کے نفاذ کے لئے بھر پور کوشش کررہے ہیں!

    ہم محترم اظہار الحق صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں ایسے اور کتنے ترقی یافتہ خوشحال ممالک جہاں ایک غیر ملکی زبان اعلی ملازمت میں پہنچنے کا زریعہ ھے؟
    دوسرا سوال ان سے یہ ہے کہ پاکستان کی افسر شاہی کی واحد قابلیت غلط سلط انگریزی کے علاوہ کچھ اور ہو تو بتادیں. آپ ہی کے ساتھی بیوروکریٹ کہتے ہیں کہ ” دنیا پاکستان کی افسر شاہی کی انگریزی پر ہنستی ہے” ایسا ہی کچھ ملتا جلتا بیان قدرت اللہ شہاب کا بھی ہے..جس نے خود یہ تسلیم کیا کہ انگریزی سے میرا تعلق غلامی کا ہے.

    پاکستان کی انگریزی کی غلام بیورو کریسی دنیا کی نمبر ایک کام چور’ حیلہ ساز’ بد عنوان ‘ بد انتظام’ راشی’ اپنی اقدار کو روندلنے والی’ جعلساز بیورو کریسی ھے. اگر ہماری بیورو کریسی بھی دنیا کی ترقی یافتہ ‘ تعلیم یافتہ خوشحال اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مقابلے کا اعلی امتحان دیتی تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتہائ قابل ‘ پاکستانی سوچ کی حامل اور مخلص بھی ھوتی. مگر افسوس اس نے انگریزی غلامی کو اپنے اوپر طاری کر کے لارڈ میکالے کے اس قول کی تصدیق کی ھے ” برصغیر جیسی تہذیب یافتہ زرخیز قوم کو پسماندہ کرنے کا صرف ایک ہی زریعہ ھے کہ ان پر اہک ایسی زبان لاد دی جائے جو رنگ ونسل میں تو ہندوستانی ھو مگر فکر میں برطانوی ھوگی”

    ایک بات ہم اور کالم نویس کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں ھم لوگ محض جذباتی ہی نہیں ہیں ہم لوگ عملی ہیں اور کام کرنے والے لوگ ہیں.. پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی سائنسدان اور ماہر تعلیم ہیں ڈاکٹر شریف نظامی ‘ پروفیسر سلیم ھاشمی ‘ پروفیسر اشتیاق احمد ‘ ڈاکٹر مبین اختر ہیں. پروفیسر اشتیاق اپنے شوق اور جذبے سے بغیر سرکاری اعانت کے گریجویشن کی سطح تک اردو سا-نس لغت آسان فہم الفاظ میں تیار کر چکے ہیں. اگر سرکار ہماری اعانت کرے تو ہم چند ماہ میں انگریزی زریعہ تعلیم کی پیداکردہ ستر سال کی تباہیاں اور خامیاں دور کرسکتےہیں. کیونکہ قوموں کی تعمیر کے لئے وسائل سے زیادہ نیک جذبات اور خلوص کی ضرورت ہے اور اللہ کا شکر ہے پاکستان قومی زبان تحریک ان جذبوں سے سرشار اور مالا مال ھے.

    آخر میں محسن اردو :’ نفاذ اردو کیس کا تاریخ ساز فیصلہ سنانے والے درویش
    صفت ایچی سونین
    چیف جسٹس جواد ایس اعلی عدلیہ کے منصفین کی انگریز دانی کا پول کچھ ان الفاظ میں کھول رہے ہیں:
    ” میں دعوی سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے وکلاء اور جج دونوں ہی کو انگریزی نہیں آتی. پاکستان میں انگریزی کا ڈھونگ صرف اپنی نالائقی کو چھپانے کےلئے رچاہا جاتا ھے”
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل—از—محمد نعیم شہزاد

    بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل—از—محمد نعیم شہزاد

    تعلیم انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس کے سبب حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ۔ اور انسان نے اس کائنات کو مسخر کیا۔ زمانہ قدیم سے انسان تعلیم کی جستجو میں رہا، دور دراز کے سفر اختیار کیے اور اپنا وقت اور مال علم کی دولت حاصل کرنے کے لیے صرف کیا۔

    زمانہ جديد میں تعلیم ایک نیرنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کے فسوں کو عجائبات زمانہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ تعلیم کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ان گنت پیچیدگیوں اور انسانی نفسیات کو مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔ جس پر ماہرین تعلیم اپنے علم اور تجربہ کی روشنی میں طریقہ کار وضع کرتے ہیں اور اپنی سفارشات پیش کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ نصاب تعلیم انہی ماہرانہ آراء کی روشنی میں دور جدید کی ضروریات سے مکمل ہم آہنگ ہے اور تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل پانے والے طلباء عملی زندگی میں قدم رکھنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔

    ایک اہم پہلو جو توجہ طلب ہے وہ نظام ہائے تعلیم میں تنوع ہے جو معاشرے میں طبقاتی تقسیم کا بھی سبب بنتا ہے اور تعلیمی اداروں اور نصاب کو درست انداز میں سمجھنے میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ تاہم اس امر کو نظرانداز بھی کیا جا سکتا ہے۔ قومی سطح پر ہر درجے اور تعلیمی سال کے لیے ایک خاص کریکولم مہیا کیا جاتا ہے جس کے مطابق مختلف طباعتی (Publishing) ادارے کتب تیار کرتے ہیں جن میں کافی ورائٹی دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ مجموعی طور پر ایک خاص تعلیمی سال کی تکمیل کے بعد طلباء کی تعلیمی اہلیت اور استعداد متساوی (equivalent) ہوتی ہے جو فرق ہم محسوس کرتے ہیں وہ محض ایک احساس کے سبب ہے یا طریقہ تدريس کے مختلف ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔

    اس مضمون میں ہم طلباء اور والدین کے ذہن میں پائے جانے والے عمومی اشکالات اور پریشانیوں کا جائزہ لیں گے۔ ان گزارشات کو پڑھ لینے کے بعد یقیناً یہ اشکالات دور ہو جائیں گے اور تعلیمی نظام و نصاب پر اعتماد بڑھے گا۔

    سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تعلیم انسانی رویوں کی تبدیلی اور ذہنی تربیت کا نام ہے۔ یہ عمل وقت طلب ہے مگر والدین بچے میں فوری تبدیلی چاہتے ہیں اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ جو علم و تجربہ انھوں نے اتنی عمر گزر جانے کے بعد حاصل کیا ہے کیونکر کمسن بچوں کو حاصل ہو سکتا ہے۔

    دوسری غلطی بچوں میں موازنہ کرنا ہے۔ اکثر اوقات والدین اپنے بچوں کا ان کے دوستوں یا ان کے ہم عمر دیگر بچوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں سے کہتے ہیں کہ تمہاری عمر میں میں یوں کر لیا کرتا تھا اور فلاں کام میں ماہر تھا ایک تم ہو کہ ایسا کوئی کمال تم میں نہیں۔ اس پر ایک لطیفہ پڑھیں یقیناً آپ محظوظ بھی ہوں گے اور بات سمجھنے میں آسانی بھی ہو گی۔

    ایک والد جو بچے کی تعلیمی صورتحال سے خاصے فکرمند تھے بچے سے گویا ہوئے :
    ” قائد اعظم محمد علی جناح جب تمہاری عمر میں تھے تو میٹرک کر چکے تھے۔”
    بچے نے برجستہ جواب دیا :
    "جب قائد اعظم آپ کی عمر میں تھے تو انھوں نے ایک قوم کو آزادی دلا دی تھی۔ آپ نے کیا کیا ہے؟ ”

    تیسری اہم بات والدین کی طرف سے بچوں کی حد سے زیادہ معاونت ہے۔ جب والدین بچے کو کوئی بھی کام کرنے کو دیتے ہیں تو پہلے خوب تسلی سے لیکچر دیتے ہیں اور پھر بچے کو اپنی مرضی سے کام نہیں کرنے دیتے بلکہ بار بار مداخلت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بچے کو ان کی معاونت سے زیادہ بہتر سمجھ رہا ہے۔ جان لیں کہ اس طرح سے آپ بچے کی صلاحیتوں کو کچل رہے ہیں،

    آپ کی معاونت سے تو بچہ فوراً بہترین کام کر سکے گا مگر خود سے کچھ بھی کرنا اس کے بس میں نہیں ہو گا۔ لہذا بچے سے معلوم کریں کہ وہ کیا جانتا ہے اور چیزوں کو کس انداز سے سمجھتا ہے۔ اور اسے آزادانہ کام کرنے دیں اور مداخلت سے اجتناب کریں۔ جب بچہ بے بس نظر آئے تو اس کا حوصلہ بڑھائیں کہ تم کر سکتے ہو، کوشش کرو، مجھے تم پر اعتماد ہے۔ بچے کو آزادی کا احساس دیں اور جو وہ کر سکتا ہے اسے کرنے دیں اس سے اس میں اعتماد (confidence) آئے گا اور ذہنی استعداد میں اضافہ ہو گا۔

    ایک اور سبب بچوں پر حد سے زیادہ کام کا بوجھ اور طویل تدریسی اوقات بھی ہیں۔ دور حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر بہت سے والدین خیال کرتے ہیں کہ بچے کو دن بھر پڑھتے رہنا چاہیے تب ہی وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے قابل ہو سکے گا۔ یاد رکھیں کہ تعلیم کا مقصد محض کتابی کیڑے پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ انسانیت کی تعمیر ہے۔ بچے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب جسمانی ورزش اور کھیل کود بھی اہم ہیں۔ کھیل کود نہ صرف بچے کو چاک و چوبند بناتے ہیں اور جسمانی قوت کا باعث ہیں بلکہ ذہن کو بھی صحت دیتے ہیں اور صلاحیتوں کو دوچند کرتے ہیں۔

    بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کے لیے فکرمند ضرور ہوں مگر افراط و تفریط سے بچنا بھی ضروری اور اہم ہے۔ حد سے زیادہ فکر بچے کی ذہنی صلاحیتوں اور شخصیت کے لیے زہر قاتل ہے جس سے یہ یکسر ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ بچوں کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہ کریں بلکہ مناسب ہدایات دینے کے بعد آزادانہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع دیں اور فطری طور پر ایک نئی شخصیت کی تعمیر میں معاونت کریں ۔

    بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل
    محمد نعیم شہزاد

  • والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام  کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ کا درجہ رکهتی ہے –

    بچے ، جن سے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کا مستقبل جڑا ہوتا ہے ان کی تربیت اس انداز سے کرنا پڑتی ہے کہ وہ اچهے شہری کہلایئں -ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ ماں کی تربیت نے ان کو ایسا انسان بنایا جنہوں نے ملک اور اپنے خاندان کا نام روشن کیا ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بڑے بڑے سرجن ، سائنسدان ، قانون دان اور انجنیئر ہیں -ان کی کامیابی کے پیچھے ان کی ماں کی تربیت ہے مگر میں سمجهتا ہوں کہ وہ بچے، جن کو سائنسدان، انجنیئر یا ڈاکٹر بننا تها وہ ڈاکو بن گئے -عورتوں کے پرس چهیننے لگے، اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں، بے دریغ قتل و غارت میں ملوث ہیں. پڑے لکهے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کے علاوہ اچهی فیملی کے بچے یہ سب کام کر رہے ہیں –

    ایسا کیوں ہو رہا ہے، کیا ان کی تربیت میں کمی رہ گئی ہے ؟
    کیا اب والدین کے پاس اپنے بچوں کی تربیت کے لئے وقت نہیں رہا؟ کیا یہ میڈیا کے برے اثرات ہیں؟
    یہ حقیقت ہے کہ وقت کی تیز رفتاری نے انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے روزمرہ کی ضرورت زندگی کی چیزیں فیملی کو مہیا کرنا اب فرد واحد کے بس کی بات نہیں –

    آج کے والدین بچوں کی تربیت کرنے میں اس لیئے بهی ناکام ہیں کہ آج گهر گهر کیبل اور انٹرنیٹ ہے اور آج کے بچے ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے کمپیوٹر اور ریموٹ کنٹرول بچے ہیں کیونکہ پلک جهپکتے ہی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے ان بچوں کی تربیت کے لئے آج کی ماں کو ان سے کہیں زیادہ علم و شعور ہونا چاہئے ان پڑھ ماں کبهی بهی آج کے بچے کے مسائل نہیں سمجھ سکتی -آج کا بچہ گهریلو ، سیدھا سادہ اور معصوم بچہ نہیں ہے بلکہ وہ شعور اور آگہی سے مکمل ہے -پرانی چیزوں کی طرف دیکهنا بهی پسند نہیں کرتا بلکہ نت نئی اچهی سے اچهی ایجادات اور حیران کر دینے والی چیزوں کو پسند کرتا ہے آج کے بچے کے معیارات بدل چکے ہیں اس کے مطالبات پہلے زمانے کے بچوں سے کہیں مختلف ہیں -ایسے میں اس کی تربیت کے لئے سکول اور گهر کا ماحول ایک جیسا ہونا ضروری ہے –

    ہمارے آج کے والدین اس لیئے بهی شاید ناکام ہیں کہ وہ اپنے گهروں میں بچوں کو کچھ سکهاتے ہیں جبکہ سکولوں میں جا کر بچے کو سیکهنے کو کچھ اور ملتا ہے یہ شاید ہمارے دوہرے معیار کا ہی قصور ہے –

    آج کی ماں کو خود بهی سمجھ نہیں آرہی کہ اسے بچے کو کیسے ایک سمت پر لانا ہے آج کے والدین اگر بچوں کی اچهی تربیت چاہ رہے ہیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچے کے لئے تعین کیئے گئے دوہرے معیار کو ختم کر دیں –

    بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک سے پرہیز کریں کیونکہ بلا وجہ کی ڈانٹ ڈپٹ بهی رویوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس سے بچہ متاثر ہوتا ہے اور پهر وہ اپنے والدین کو اچ کرنے کے لئے بهی وہ کام جان بوجھ کر کرتا ہے جس سے اسے منع کیا جاتا ہے –

    ہمارے ہاں ویسے بھی دو قسم کے والدین موجود ہیں ایک والدین وہ جو بچوں سے حد سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو بہت ذیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں ایسے والدین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جن کے بچوں کے رویوں میں توازن موجود ہے -آج کے والدین کو چاہیئے کہ وہ اچهی طرح سوچیں کہ بچے کیسے اور کس طرح تربیت کرنی چاہیے پهر ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجهتے ہوئے بہترین تربیت کر سکیں –

    کہا جاتا ہے کہ آپ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور ادا کیا ہوا ہر عمل آپ کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے -صرف تعلیم حاصل کر کے ہی کوئی ذی روح باشعور نہیں بن سکتا بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بهی اتنی ہی اہم ہے یعنی تعلیم و تربیت لازم و ملزوم ہے. جب تک علم و آگاہی کے ساتھ آپ کے پاس زندگی گزارنے کے اصول ، ضابطے اور آداب نہیں ہونگے ، صرف آگاہی کچھ نہیں کر سکتی بلکہ اس آگاہی اور علم کا زندگی پر اطلاق ہی اصل تربیت ہے اور یہ ماں کا کام ہے کہ بچپن سے ہی بچوں میں ایسے اطوار پیدا کرے کہ عملی زندگی میں ان کے کردار کی پختگی معاشرے میں ان کا وقار قائم کر سکے –

    بغیر تربیت کے علم کی مثال ایسی ہے جیسے کسی جسم سے روح نکال لی جائے تو پیچھے ڈهانچہ رہ جاتا ہے -ہم کسی بهی دور کی عظیم شخصیات مثلاً محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی اور مولانا محمد علی جوہر وغیرہ وغیرہ پر نظر ڈالیں تو ان کے پیچھے ان کی والدہ کی تربیت کا ہاتھ نظر آئے گا –

    تاریخ واضح کرتی ہے کہ جب محمد بن قاسم ہندوستان کے علاقے فتح کرنے کے لیے نکلا تو اس کی ماں کے الفاظ تهے ” میں نے تجهے پیدا ہی اس لئے کیا تها کہ تو اسلام کی راہ میں جہاد کرے اور ان علاقوں کو فتح کرے "- بلا شبہ اتنی کم عمری میں اس کی بلند پایہ فتوحات میں ماں کی تربیت کا بہت بڑا ہاتھ تها -لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کی ماں بچوں کی ویسی ہی تربیت کر رہی ہے اگر نہیں تو اس ناکامی کی کیا وجوہات ہیں ؟

    یہ درست ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانے کی اقدار بدل گئی ہیں لیکن انسان تو وہی ہے زمانہ بہت تیز ہو گیا ہے وقت کی کمی کے باعث زندگی مصروف ترین ہو گئی ہے ماووں کی تربیت میں بنیادی وجہ جاب کرنے والی والی ماوں کے پاس وقت کی کمی ہے. نٹ کلچر نے بچوں کو ماوں سے دور کر دیا ہے اب بچہ جو سیکهتا ہے ٹی وی اور میڈیا سے ہی سیکهتا ہے بچوں کے پروگرام کارٹون نیٹ ورک پر چلنے والی کہانیوں نے بچوں کو بہت ایڈوانس کر دیا ہے اب بچوں کو داستان الف لیلیٰ کے زمانے گزر گئے ہیں اور اگر کہا جائے کہ سمجهداری کے معاملے میں بچے پری میچور ہو گئے ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ بچے کیبل پروف کارٹون نیٹ ورک ہی نہیں دیکهتے بلکہ انگلش اور انڈین موویز دیکهنے کی بهی کمی نہیں -بہت کم ہیں جو اسلامک چینل ، قرآن پاک اور معلوماتی چینلز دیکهتے ہیں ان الیکٹرانک چینلز سے ہر قسم کی معلومات اور تفریح پیش کی جاتی ہے وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ بچوں نے دیکهنا ہے اور یہ بڑوں نے، بلکہ یہ ماووں کا کام ہے کہ وہ بچوں کے لیئے اچهے برے کی تمیز پیدا کریں لیکن ماووں کے پاس تو وقت ہی نہیں !

    جب ماں کی گود کی جگہ ٹی وی چینلز لے لیں تو ماں کا تربیت میں کیا کردار

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟
    تحریر: سدیس آفریدی

  • تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    چند روز پہلے فیصل آباد کے ایک نجی سکول کی سالانہ پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ میں میرا تربیت اولاد کے عنوان پر سیشن تھا. اس تقریب میں کچھ بچوں اور والدین کو ایوارڈز بھی دیے گئے تھے. ایک دراز قد، بہ ظاہر ان پڑھ خاتون کو "سال کی بہترین ماں” کا ایوارڈ دیا گیا.

    سیشن کے اختتام پر میں نے ایوارڈ حاصل کرنے والی ماں کو ڈھونڈنا شروع کیا. لیکن وہ سکول میں پڑھنے والے تینوں بچوں کو لے کر اپنے گھر واپس جلی گئی تھیں. میں نے پرنسپل صاحب سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر آپ کو اس خاتون کا گھر معلوم ہو تو میں آپ کے ساتھ جا کر کچھ دیر کے لیے اس ماں سے ملنا چاہتا ہوں.

    پرنسپل صاحب مجھے سکول سے بہت دور محلہ غلام آباد لے گئے. وہاں ایک معمولی سا گھر تھا. جو ایک کمرے پر ہی مشتمل تھا. چھوٹا سا برآمدہ اور اتنا ہی صحن تھا. بچے اور ان کی ماں گھر میں موجود تھے . وہاں جا کر معلوم ہوا کہ بچوں کا والد ایک فیکٹری میں مزدوری کرتا ہے. ان کے تین بیٹے ہیں اور بیٹی کوئی نہیں. ماں گھر میں رہ کر سلائی مشین پر لوگوں کے کپڑے سیتی ہے. اپنی محنت کی کمائی سے وہ بچوں کی سکول فیس ادا کرتی ہے. یہ صرف ماں کا ہی شوق تھا کہ بچے شہر کے اچھے سکول میں پڑھ رہے تھے. سکول انتظامیہ نے بچوں کے شوق اور تعلیمی رجحان کو دیکھ کر کچھ فیس کم بھی کر دی تھی.

    میری کھوجی طبیعت کو ایک دل چسپ سٹوری ملنے والی تھی. میں ہمیشہ اپنے ارد گرد بکھری کہانیوں کو ہی فوکس کرتا ہوں. ہمارے ارد گرد ایسے ہزاروں کردار موجود ہیں جنہیں رول ماڈل بنا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے. زندگی ساز اور کردار ساز واقعات کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں، بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والے دل کی کمی ہے.

    میں نے پرنسپل صاحب کی اجازت سے اس خاتون سے پوچھا کہ آپ کو سال کی بہترین ماں کا ایوارڈ ملا ہے. اس ایوارڈ ملنے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ؟ وہ خاتون پر جوش اور پر اعتماد انداز میں بولیں، مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے. پچھلے سال بھی مجھے ہی یہ ایوارڈ ملا تھا. کیوں کہ میرے بچے سکول سے ناغہ نہیں کرتے، صاف ستھرے یونیفارم میں سکول جاتے ہیں. ان کی لکھائی بہت خوب صورت ہے. ان کا ہوم ورک مکمل ہوتا ہے. یاد کرنے کا سبق بھی ٹھیک طرح سے یاد کر کے جاتے ہیں. تینوں بچے ہر سال امتحانات میں فرسٹ پوزیشن بھی لیتے ہیں. خاتون کے بچے بلترتیب چھٹی، پانچویں اور چوتھی جماعتوں میں زیر تعلیم تھے.

    میں نے پوچھا، کیا بچے سکول کے بعد اکیڈمی پڑھنے جاتے ہیں؟، وہ خاتون جھٹ سے بولی. نہیں، میں نے انہیں کبھی بھی کسی اکیڈمی میں نہیں بھیجا. میں ان پڑھ ہوں لیکن میں نے دو اصولوں کو اپنی زندگی کا لازمہ بنا لیا ہے.

    پہلا اصول یہ ہے کہ میں گھر کے تمام ضروری اور بنیادی کام کپڑے دھونا، صفائی وغیرہ، کھانا پکانا، سلائی مشین پر کپڑے سینا اس وقت کرتی ہوں جب بچے سو رہے ہوں یا سکول گئے ہوں یا عصر کے بعد گراؤنڈ میں کھیلنے کے لیے گئے ہوں. میں اس دوران میں ہی سارے کام نمٹا لیتی ہوں . جب میرے بچے گھر آتے ہیں تو میں اپنی پوری توجہ ان کو دیتی ہوں. اس وقت گھر کا کوئی کام نہیں کرتی. میرے بچے ہوتے ہیں یا میں ان کا سایہ بن کر ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہوں.

    میں بڑی توجہ سے سادہ پنجابی لہجے کی اردو میں اس خاتون کی باتیں سن رہا تھا، جب وہ لمحے بھر کو رکیں تو میں نے پوچھا دوسرا اصول بھی بتا دیں . وہ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجاتے ہوئے بولیں، میرا دوسرا اصول یہ جیسے ہی میرے بچے مغرب کی نماز سے فارغ ہوتے ہیں. میں فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتی ہوں اور انہیں کہتی ہوں کہ اپنے اپنے سکول کے بستے لے آؤ. پھر میں ان میں سے ہر ایک سے اس کا سکول میں پڑھا جانے والا سبق سنتی ہوں.

    بچوں کی ماں کہتی ہے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی. لیکن میرے بچے سمجھتے ہیں کہ میں پڑھی لکھی ہوں اور سب کچھ سمجھ رہی ہوں. میں ہر مضمون کا سبق تین بار پڑھنے کا کہتی ہوں. بچے سناتے ہوئے یاد کر لیتے ہیں. روز کا سبق روز یاد کرنے سے بچے امتحانات کے دنوں میں پریشان بھی نہیں ہوتے. انہیں پوری کتاب یاد ہو چکی ہوتی ہے. مغرب سے عشاء تک بچے بلا ناغہ میرے پاس بیٹھ کر پڑھتے ہیں. میں بھی روز کچھ نیا سیکھتی ہوں. اور میرے دل کو تسلی بھی ہو جاتی ہے کہ میرے تینوں بیٹوں نے اپنا سبق دہرا کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا ہے.

    بات ختم ہو چکی تھی. میں وہاں سے واپس آتے ہوئے رستے میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک ان پڑھ ماں اپنے بچوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے کس انداز میں تیار کر رہی تھی. وہ قابل تعریف ماں ہے. یقیناً یہی بچے ہمارے مستقبل کے معمار بنیں گے.

    ایک قابل رشک کہانی… تربیت اولاد کے دو اصول
    (خواجہ مظہر صدیقی)

  • اردوکے شہر میں انگریزی کا راج—از…..فا طمہ قمر

    منہاج یو نیورسٹی میں science’ reason and religion کے عنوان پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہ دو روزہ کانفرنس تھی۔ہم نے کانفرنس کی آخری نشست میں شرکت کی۔اس کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ ‘ کینیڈا اور امریکہ کے ماہر تعلیم نے اظہار خیال کیا۔ پاکستان سے اس میں سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ یونیورسٹی اف ساؤتھ ایشیا کے وائس چانسلر ڈآکٹر میاں عمران مسعود ‘ منہاج یونیورسٹی کے بورڈ اف گورنر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسین محی الدین نے خطاب کیا۔

    وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    کانفرنس اپنے موضوع کے لحاظ سے بہت فکر انگیز تھی فی الوقت ایسے موضوعات پر مذاکرے کرنے کی بہت ضرورت تھی۔ لیکن اس کانفرنس کی سب سے بڑی خامی اس کی کارروائی سے لے کر اس کے مقررین کا انگریزی میں خطاب تھا۔ اور کانفرنس کے دعوت نامے سےلے کر پس منظر نامہ سب کچھ انگریزی میں رقم تھا۔ اپنی ظاہری شناخت سے یہ امریکہ یا برطانیہ کی تقریب دکھائی دے رہی تھی۔ ہم نے وقفہ سوالات میں غیر ملکی مندوبین سے سوال کیا کہ "آپ تین ملکوں کے نمائندے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔کیا آپ اپنے ملک کی تقریب میں اپنے ہی ہم وطنوں سے غیر ملکی زبان میں بات کر سکتے ہیں؟کیا آپ کے ملک میں بین الاقوامی کانفرنس کا علم بذریعہ ترجمہ نہیں دیا جاتا ؟ اگر ایسا ہے تو اہل پاکستان کو بھی بتائیں کہ دنیا کی چھ ایٹمی طاقتیں پوری دنیا سے اپنی زبان میں مخاطب ہوتی ہیں۔ پاکستان گونگا نہیں ہے یہ بھی دنیا کی باوقار آزاد’ خود مختار اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مخاطب ہو”

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    ہمارا سوال انگریزی میں کارروائی کرنے والی میزبان کی غلامی پر کاری وار کر گیا۔ ان محترمہ نے سوال یہ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی کہ یہ سوال نہیں ” تبصرہ ہے” لیکن یہ بہت خوش آئند امر ہے کہ یونیورسٹی اف ساؤتھ ایشیاء کے وائس چانسلر جو کہ صدارت بھی کررہےتھے انہوں نے ہمیں کہا کہ "آپ کا سوال بالکل درست اور برحق ہے ہم نے اسے نوٹ کرلیا ہے” اور سامعین کی ایک خاموش بھاری اکثریت نے ہمارے سوال کی تالیاں بجا بجا کر بے حد داد دی۔ وہ سامعین جو انگریزی کی تقریر سن کر گونگے بہرے بنے’ تقریب کی کا رروائی سے لاتعلق بنے ہوئے تھے ہمارے اردو میں کئے گئے سوال پر ایک دم سے جاگ اٹھے۔

    کسی بھی ملک کی جامعات اس ملک کی روایات ‘ ثقافت اور زبان کی نمائندہ ہوتی ہے پاکستان کی ہر جامعہ کے پاس مترجم کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے کم اذکم جامعات کو اپنی ہر کانفرنس میں اپنی قومی زبان کو عالمی شناخت ہر صورت میں دینی چاہئے۔

    دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

    معزز اہل وطن! ہم نے نفاذ اردو کی عملی صدا بلند کی ہے’ کرتے رہتے ہیں آپ بھی انگریزی کے غیر فطری اور ناجائز تسلط کے خاتمے کے لئے ہمارے عملی ہم آواز بن جائیں۔ ہر جگہ انگریزی کے غیر فطری تسلط کے خلاف آواز بلند کریں یقین کیجئے کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

    اردوکے شہر میں انگریزی کا راج

    تحریر:فا طمہ قمر

    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • عالمی رینکنگ کا بہتر حصول کیسے ہو؟ چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن نے بتادیا.

    عالمی رینکنگ کا بہتر حصول کیسے ہو؟ چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن نے بتادیا.

    عالمی رینکنگ حاصل کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز بنانے ہوں گے ،چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد فضل نے بتا دیا.

    چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد فضل نے کہا ہے کہ عالمی رینکنگ حاصل کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز بنانے ہوں گے جن پر عملد آمد سے پنجاب بھر کی جامعات اپنا معیار تعلیم بہتر بنا سکیں ۔ یہ حقائق تعلیم معیار کو جانچنے کے لیے کافی ہیں کہ دنیا کی 1000بہترین یونیورسٹیز میں سے پاکستان کی 14یونیورسٹیز شامل ہیں ۔ ان میں سے 9پنجاب جبکہ 5یونیورسٹیز کا تعلق لاہور سے ہے ۔ فیڈرل ہائر ایجو کیشن کمیشن ہمیں بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے جسکی مدد سے پنجاب ہائرایجو کیشن کمیشن مختلف جامعات کو سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔کوالٹی ایجو کیشن پر ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گااور یونیورسٹیز کو بہتری پیدا کرنے کے مزید مواقع فراہم کرے گا۔یونیورسٹیز نئے پروگرام ،ڈویلپمنٹ ،ریسرچ ،کوالٹی انشورنس پر خصوصی توجہ دیں ۔وزیر اعظم نے نالج ٹیکنالوجی کے نام پر ٹاسک فورس قائم کی ہے جو ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حوالے سے بہتری کی گنجائش پیدا کرنے میں کردار ادا کرے گی ۔اس سلسلہ میں ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب ٹاسک فورس کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا تاکہ ٹیکنیکل ایجو کیشن میں بھی بہتری آسکے ۔

    مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

  • پنجاب حکومت کی بے بسی، پانچ سو سکول بھی ہاتھ سے گئے۔

    پنجاب حکومت کی بے بسی، پانچ سو سکول بھی ہاتھ سے گئے۔

    شہباز اکمل جندران۔۔۔
    باغی انویسٹی گیشن سیل۔۔۔۔

    پنجاب حکومت کی بے بسی، پانچ سو سکول بھی ہاتھ سے گئے۔


    قبضہ مافیا نے صوبے میں 5سو سے زائد چھوٹے بڑے سرکاری سکولوں میں قبضہ مافیا نے اربوں روپے مالیت کی اراضی پر پنجے گاڑھ لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم خاموش تماشائی بن گئے۔

    پنجاب بھر کے5سو سے زائد چھوٹے بڑے سرکاری سکولوں کی اربوں روپے مالیت کی اراضی پر غیر قانونی قابضیننے جزوی طورپر پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ لاہور میں 50سے زائد پرائمری ، مڈل اور ھائی سکولوں پر مکمل اور جزوی طورپر۔

    گوجرانوالہ میں 65سے زائد چھوٹے بڑے سکولوں پر مکمل اور جزوی طورپر، بھکر میں 30، بہاولپور میں 20، وھاڑی میں 15، خانیوال میں 12،ملتان میں 20، لودھراں میں8، سرگودھا میں 14، میانوالی میں 13،خوشاب میں 10، بہاولنگر میں 7،

    رحیم یارخان میں 20،راولپنڈی میں 40، اٹک میں 30، شیخوپوری میں 29، قصور میں 20، ننکانہ صاحب میں 10، جہلم میں 10، چکوال میں 35، ڈی جی خان میں 8، لیہ میں 10، راجن پور میں 3، اوکاڑہ میں 14، ساہیوال میں 4، پاکپتن میں 3، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں12،

    فیصل آباد میں 25،منڈی بہاوالدین میں 8، نارووال میں 5اور سیالکوٹ میں 8پرائمری ، مڈل اور ھائی سکولوں پر قبضہ مافیا نے مکمل یا جزوی طورپر قبضہ کررکھا ہے۔قبضہ مافیا متاثرہ سکولوں میں آزادانہ آمدورفت رکھتے ہیں۔ اور ان پر کسی قسم کی پابندی اوررکاوٹ نہیں ہے

  • *مزا تو تب ہے کسی خاک کے ذرے کو منور کر دو—از–ساجدہ بٹ

    *مزا تو تب ہے کسی خاک کے ذرے کو منور کر دو—از–ساجدہ بٹ

    اساتذہ کرام ہمارے عظیم الشان لیڈر ہوتے ہیں اساتذہ کرام کی عزت و آبرو کا خیال رکھنا ہم سب پر فرض ہے۔
    یہ وہ ہستی ہوتے ہیں جو ہماری ذات کو روشن کر دیتے ہیں اپنے شاگردوں کو اپنا رنگ دے کے قوم کے لیے قیمتی سرمایہ بنا دیتے ہیں۔
    ہماری اسلامی تعلیمات میں بھی ہمیں اساتذہ کرام کی عظمت کے متعلق تعلیم دی گئی ہے۔

    سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معلم کا لفظ خود اپنی ذات اقدس کے لیے بھی استعمال کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔۔۔۔۔

    ٫٫بیشک مُجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے؛؛

    اللہ تبارک و تعالیٰ کے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر اپنے لیے یہ لفظ اور اس پیشے سے خود کو متعارف کروا رہے ہیں تو سوچیں کہ کس قدر قابل احترام یہ پیشہ ہو گا اور کس قدر یہ عظیم شخصیات ہوں گی جو آج بھی بہت سے خاک کے پتلے کو چمکا رہے ہیں۔

    مزا تو تب ہے کسی خاک ذرے کو منور کر دو

    صرف اپنی ذات کو روشن کرنا کمال تھوڑی ہے

    اساتذہ کرام کا احترام بہت ضروری ہے یہ جملہ آپ کی سماعتوں سے اکثر اوقات گزرا تو ہو گا۔
    وہ کہتے ہیں نا کہ

    ؛؛با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب؛؛

    ہمارے بزرگوں نے اساتذہ کرام کے ادب و احترام کرنے کے مختلف طریقے بھی سکھائے۔
    مثلاً اُستاد بات کر رہا ہو تو دوران گُفتگو ہمیں خاموشی سے اُن کی بات سُننی چاہیے۔اُن کی بات نا کاٹیں اُن کی دی گئی ہدایات کو حقیر نہ جانیں با ادب ہو کر بات سنیں اُن کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے اور اکڑ کر نا بیٹھیں۔
    آخر جیسے بھی ہیں ۔ہیں تو ہمارے اُستاد اُن کی کوئی بات بری بھی لگے ہم پے غصہ بھی ہوں تو ہمیں برداشت کر لینا چاہیے یہ سب اُن کے آداب میں شامل ہے

    مٹانا پڑتا ہے خود کو قوم کی ترقی کے لیے

    یہ کام اتنا آسان تھوڑی ہے۔

    آج کل کچھ طالب علم بے ادب ہو گئے ہیں اور کُچھ اساتذہ کرام نے اس پیشے کو صرف پیسہ کمانے کی مشین بنا لیا ہے جہاں خود غرضی جنم لے رہی ہے۔
    یقینا سب ایک جیسے نہیں بہت سی عظیم الشان شخصیات آج بھی ہیں جو ہمارا معاشرہ سنوار رہے ہیں ہمارا روشن مستقبل سنوار رہے ہیں
    لیکن جو اس پیشے کو بد نام کر رہے ہیں ایسے واقعات آپ کو یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اکثر و بیشتر ملنے میں آتے ہیں جو میل ٹیچرز طالبہ کا غلط استعمال کرتے ہیں کچھ نمبروں کا لالچ دے کر اور کُچھ ڈرا دھمکا کے۔اکثر بچیاں بد نامی کے خوف سے ٹیچرز کی بات مان بھی لیتی ہیں
    لیکن پھر اس جنگل سے ان کے لیے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے کچھ جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔
    میرا اپنی بہنوں کو پیغام بھی ہے کہ صرف دنیاوی کامیابی کے لیے چند نمبروں کی خاطر اپنی عزتوں کا جنازہ مت نکالیں۔اساتذہ کرام کے عظیم الشان پیشے اور قابل احترام شخصیت کو بد نام مت کریں۔آخرت میں یہاں دنیا میں کتنے نمبر حاصل کیے اس کے بارے میں سوال نہیں ہو گا۔
    وہاں صرف و صرف آپ کے عمال کا حساب ہو گا۔
    لہذا قدر کرنے والوں کی قدر کریں اُستاد کی عزت کریں گے تو اُستاد بن جائیں گے۔

    اُستاد ہوں مجھے اس پر ملال تھوڑی ہے

    ملک کا مستقبل سنوارنا آسان تھوڑی ہے۔

    تحریر: ساجدہ بٹ

  • سی ایس ایس امتحانات اور انگریزی کا”جن”—- از — پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

    سی ایس ایس امتحانات اور انگریزی کا”جن”—- از — پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

    سی ایس ایس امتحانات اور انگریزی کا”جن”

    انگریزی کے جن نے ایک بار پھر ہزاروں پاکستانیوں کو شکست دے دی۔ وہ ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اپنے مضمون میں ماسٹر ہیں یا آنرز ڈگری کے حامل ہیں، قابل ہیں، ذہین ہیں، اعزاز و کمالات کے حامل ییں۔ انہیں اس معیار کی انگریزی نہیں آتی جو سی ایس ایس پر مسلط بوڑھے آسیبوں کے معیار پر پورا اترتی ہے تو وہ ناکام ییں۔

    کوئی تماشے سا تماشا ہے، وہ زبان جو اس ملک کے کسی باسی کی زبان نہیں ہے وہ اس ملک کی انتظامیہ کو چلانے والوں کے لئے قابلیت کی شرط ٹھہری ہے۔ میرا سوال یہ کہ 72 سالوں سے یہ تماشا لگا ہوا ہے۔ ہر سال پاکستانی ذہن کے حامل نوجوانوں کو اس ملک کی انتظامیہ میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو انتظامیہ کا حصہ بنایا جاتا ہے جن کی واحد قابلیت ان بوڑھے آسیبوں کی مطلوبہ انگریزی جاننے کی صلاحیت ہے۔

    سوال یہ ہے کہ ان بوڑھے آسیبوں نے اپنی ساری مدت ملازمت میں اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے سوا کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے؟ ان میں کسی قسم کی کوئی قابلیت یا صلاحیت ہوتی تو ملک کا اور اس کے اداروں کا وہ حال ہوتا جو یے۔ اور اب ان بوڑھے آسیبوں نے اپنے ہی جیسے آسیب زدہ لوگوں کو اس ملک کی مزید بربادی کے لئے چن لیا یے۔

    یہ ملک اور اس ہر مسلط یہ بوڑھے اسیب، ان کے فرسودہ اور بے ہودہ خیالات اور ان کی احمقانہ و ظالمانہ سوچ کب تک اس ملک کا بیڑہ غرق کرتے رہیں گے۔ میرا ان نوجوانوں سے جو اس امتحان میں ناکام ہو گئے ہیں اور وہ نوجوان جو اگلے سال اس امتحان میں شامل ہونا چاہتے ہیں کہنا ہے کہ وہ شہر شہر اس ظلم کے خلاف احتجاج کریں، عدالتوں کا رخ کریں اور وہاں پر سی ایس ایس کا امتحان اردو میں لینے کے لئے درخواستیں دائر کریں اور اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے ڈٹ جائیں۔یہ خیال کہ میں اگلے سال یہ امتحان انگریزی میں دے کر کامیاب ہو جاؤں گا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔

    ارباب حکومت

    حضور انگریزی کی بربادی کا مظاہرہ ہم پرسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک بل (قادیانی ترمیم 2017) کو پیش کرنے پر اس زبان نے ساری قوم کو جس طرح تگنی کا ناچ نچایا وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ ناچ ساری قوم ہر شعبے میں ناچ رہی ہے، برباد ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا واحد علاج اس زبان کی اس ملک سے مکمل بے دخلی ہے، جی ہاں مکمل بے دخلی ہر شعبے سے مکمل بے دخلی۔ اس کے علاوہ آپ یا کوئی اور جو مرضی کہتا رہے، کرتا رہے وہ ہماری بربادی کے عمل کو آگے تو بڑھا سکتا ہے کم یا ختم نہیں کر سکتا۔ اگلے سال سے سی ایس ایس کا امتحان مکمل طور پر اردو میں لینے کا فیصلہ الفور اعلان کیا جائے, ہمارا مطالبہ ہے واضح اور دو ٹوک مطالبہ
    پاکستان میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر اردو کے مکمل نفاذ اور انگریزی کی کلی طور پر بے دخلی تک ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔
    پاکستان کی حیات انگریزی سے نجات
    اس ملک کی خوشحالی اردو کی بحالی

    از تحریر:

    پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

  • اردو زبان ہماری پہچان اور تہزیب و تمدن کی علامت ہے ، زید حامد

    اردو زبان ہماری پہچان اور تہزیب و تمدن کی علامت ہے ، زید حامد

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سید زید زمان حامد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ زبانیں پودوں کی طرح ہوتی ہیں ان کی دیکھ بھال قومیں اپنی پہچان، تہذیب و تمدن کی حفاطت کیلئے کرتیں ہیں، اردو پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کی پہچان کا زریعہ ہے اور ہماری 1300 سال پرانی تہذیب ، ادب اور اقبال اسی زبان میں ہے اور اگر اس کی خفاظت نہ کی گئی تو اردو ادب کے گم ہو جانے اور ہماری پرانی پہچان کے حتم ہو جانے ککا اندیشہ ہے،
    زید حامد کا مزید کہنا تھا کہ قومیں صرف انگریزی و سائنس کی بنا پر ترقی نہیں کرتیں، نظریات ، روحانیت و ںشناحت بھی اہمیت کے حامل عناصر ہوتے ہیں، اور انگریزی سیکھنے کا کیا یہ مطلب ہے کہ اردو کو بھلا دیا جائے ، اردو دنیا کی گیارھویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے اور اس کے باوجود ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جو اردو زبان بولنا اپنی تحقیرسمجھتے ہیں، اور یہ ہماری بد قسمتی ہے ،
    یہ بھی پڑھیں
    انڈیا پاکستان جنگ، کتنے ارب لوگ متاثر ہوںگے