Baaghi TV

Category: تعلیم

  • جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از   محمد وسیم

    جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از محمد وسیم

    بھارتی جنتا پارٹی جس کے یہاں مسلمانوں، دلتوں اور غریبوں سے تعصّب اور نفرت ہے اُس کے ذریعے بنایا گیا کالا قانون CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے جامعہ کے طلباء دنوں رات احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، طلباء کا ساتھ دینے کے لئے جامعہ کے آس پاس کے علاقے کی عوام ہر روز بڑی تعداد میں شریک ہوتی ہے، CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے پُرامن احتجاج جاری ہے،

    کالا قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کو حکومتی مظالم کے ذریعے ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن حکومت ناکام رہی، بِہار کی حکومت نے وِدھان سبھا میں بیان جاری کیا ہے کہ NPR پُرانے طریقے سے ہوگا اور NRC کا نفاذ ممکن نہیں ہے، تلنگانہ میں بھی NPR پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے، اگر عام آدمی پارٹی عوام کی خیرخواہ ہے تو دہلی حکومت بھی اعلان کرے کہ دہلی میں NPR اور NRC نہیں ہوگا

    دہلی میں CAA کے خلاف احتجاجی مظاہرے پُرامن طریقے سے جاری تھے اُس سے حکومت بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار تھی، دہلی کے جعفرآباد، موج پور میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، دہلی میں بی جے پی کے کپل مشرا نے میڈیا میں بیان دیا کہ اگر جعفرآباد اور موج پور میں احتجاجی مظاہرے ختم نہیں کئے گئے تو تین دنوں کے اندر ہمیں جو کرنا ہوگا وہ ہم کریں گے،

    اُس کے دوسرے دن ہی دہشت گردی شروع ہوگئی، موج پور، کراول نگر، گوکُل پوری میں ہندو دہشت گرد گزشتہ دو دنوں سے گھروں اور دوکانوں کو جلا رہے ہیں، لوگوں سے اُن کی شناخت معلوم کر کے مارا جا رہا ہے، لیکن افسوس ہے کہ دہلی حکومت اور بی جے پی کی حکومت کوئی بھی ٹھوس قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے، دہلی کو جلایا جا رہا ہے اور نشانہ صرف مسلمان ہیں،

    اِس وقت دہلی میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اُس سے دِل بہت بے چین ہے، لیکن ہمّت اور جذبہ میں کمی نہیں آئی، ضرورت ہے کہ ہم کالا قانون کے خلاف احتجاج مظاہرے جاری رکھیں لیکن ہم متّحد اور منظّم ہو کر اپنی حفاظت کے لئے لائحۂ عمل بھی تیار کریں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام–از–فاطمہ قمر

    ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام–از–فاطمہ قمر

    معزز وزیراعظم!
    آپ کی تعلیمی پالیسی وہی ہے جو سابق حکومت کی تھی. سابق حکومت نے سرکاری تعلیمی اداروں میں پرائمری کی سطح پر اردو ذریعہ تعلیم رکھ کر انگریزی کو لازمی حیثیت دی. پرائمری سطح پر انگریزی کو لازمی مضمون کی حیثیت دینا سابق حکومت کا وہ تعلیمی جرم ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی. انگریزی کے لازمی جبر کی وجہ سے لاکھوں نو نہال ابتدائی سطح پر ہی تعلیم کو خیرباد کہہ گئے. اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بارہ سال سے پہلے بچے کوغیر ملکی زبان میں تعلیم دینا بچے کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ افسوس پاکستان میں بنیادی حقوق کی یہ توہین سرکاری سرپرستی میں وقوع پذیر ہوئی/ہو رہی ہے.

    آپ نے بھی اپنی نئی تعلیمی پالیسی میں اسی اصول کو قائم رکھا پھر اپ نے نئی پالیسی میں کیا تبدیلی دی؟ اپ نے تو یکساں نصاب تعلیم اور قومی زبان میں تعلیم کا نعرہ لگایا. آپ کے حزب اختلاف کے دن اپ کے اس موقف کے گواہ ہیں.آپ کو چاہئے کہ آپ فوری طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تعلیم کے ہر شعبے میں ہر سطح پر اردو ذریعہ تعلیم میں دینے کا اعلان کریں. مقابلے کے امتحانات ائین پاکستان کی روشنی میں اردو میں لینے کا حکم صادر فرمائیں. تعلیم کی جو بھی پالیسی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم میں دینے کی اپنائی جائے اس کا اطلاق فی الفور اور بعینہ نجی تعلیمی اداروں پر بھی کیا جائے. تاکہ پوری قوم یکساں نصاب ‘ یکساں زریعہ تعلیم قومی زبان کی وجہ سے قومی دھارے میں آ سکے.

    انگریزی میڈیم نجی تعلیمی اداروں نے جس طرح اساس پاکستان پر حملہ کیا ہے
    پاکستان کی تہذیبی ثقافت کو ملیامیٹ کیا ہے
    اس کے جو ہولناک نتائج سامنے آ رہے ہیں اس کے لئے اب ضروری ہوبگیا ہے کہ نئے اور تبدیل شدہ پاکستان میں ان کو ایک اعلی تعلیمی ضابطہ اخلاق کا پابند کیا جائے
    جس کی اساس قران اور نظریہ پاکستان پر استوار ہو.

    معزز وزیراعظم!
    یاد رہے آپ کو لوگوں نے ووٹ تبدیلی کے نام پر دئیے ہیں یہاں تبدیلی اس وقت ہی آئے گی جب دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرح پاکستانیوں کو ہر طرح کی تعلیم ان کی قومی زبان میں دی جائے آپ بحیثیت ایک عام پاکستانی کے انگریزی غلامی سے بیزاری کا اظہار اپنی خود نوشت میں کر چکے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ پاکستان میں انگریزی ترقی یا تعلیم کے لئے نہیں بلکہ ایک خاص طبقے کی ایک عام طبقے کو غلام بنانے کے لئے مسلط کی گئی ہے. اب اللہ نے اپ کو اختیار دیا ہے کہ اپ اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنا دیجئے.

    آپ اور آپ کی کابینہ کے اراکین کی اکثریت بیرون ملک تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہے۔ ذرا دنیا بھر کے نظام ہائے تعلیم کا جائزہ لے کر بتائیے کہ کتنے ممالک کا کاروبار مملکت اور نظام تعلیم غلامی کی زبان میں چل رہا ھے؟ تخلیق پاکستان کی بہت سی وجوہات میں سے سب سے بنیادی وجہ اردو کا بحثیت قومی زبان نفاذ تھا. قومی زبان کے نفاذ کےبغیر تحریک پاکستان نامکمل ھے.آپ نئے پاکستان کی تعمیر میں تحریک پاکستان کے اس بنیادی لازمی عنصر کی تکمیل کردیجئے..یہ بانئ پاکستان کا فرمان بھی ھے:
    ” اردو کا دشمن پاکستان کا دشمن ھے”

    سب سے بڑی بات جس کا آپ کی جماعت نعرہ لگا کر برسراقتدار آٰئی ہے کہ تعلیم سب کے لئے یکساں۔ نفاذ قومی زبان کے لئے جو جو بھی آپ حکمت عملی اپنائیں اس کا اظلاق نجی تعلیمی اداروں پر بھی کریں تو تبھی اپ کی تعلیمی حکمت عملی کامیاب ھوگی اور ملک سے تعلیمی نظام میں یہ رنگا رنگی ختم ھو کر ہم آہنگی آئے گی.

    سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2019 سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق مقابلے کے امتحانات اردو میں لینے کے احکمات صادر فرمائیں..یہ آپ کا وہ تاریخی کارنامہ ہوگا جو آپ کو محسن پاکستان چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی طرح تاریخ میں دوام بخشے گا.
    کرسی رہے نا رہے مگر آپ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے!

    آپ کی یاد دہانی کے لئے کہ دوسری عالمی جنگ سے تباہ اور خستہ حال جاپان کے بادشاہ نے جب کہ اس کے دوشہر ایٹمی حملے میں جل کر خاکستر ہو چکے تھے اس بے بسی اور بے چارگی کے عالم میں بھی امریکہ سے دست بستہ عرض کی کہ ” آپ ہم پر جتنی چاہے پابندیاں لگا دیں مگر ہماری زبان اور تعلیمی نظام کونہ چھیڑنا”

    یہی وجہ ھے کہ وہ بم زدہ قوم اپنی قومی زبان کے ذریعہ تعلیم ہونے کی وجہ سے چندسالوں میں ہی دنیا کی مضبوط معاشی طاقت بن گئی. ہم اپنی قومی زبان میں تعلیم سے دوری کے باعث ایک جوہری قوت ہونے کےباوجود ایک ہجوم زدہ گونگی’ بہری رٹےباز’ بدعنوان’ بوٹی مافیا’ تخلیقیت سے عاری’ نقال ‘ جعلساز دھوکے باز قوم کے طور پر اقوام عالم میں شہرت پا چکے ہیں. ہماری آپ سے وہی توقعات ہیں جو برصغیر میں انگریز کا راج ختم کرنے والے سے اس اس کی قوم نے وابستہ کی تھیں.

    انگریزی کے تسلط کی وجہ سے اس ملک و قوم پر چھائی جہالت، بد عنوانی اور ذلت کی تاریکی کو دور کرنے کاواحد ذریعہ صرف اور صرف قومی زبان کے احیاء اور اس کے اس ملک پر نفاذ سے وابستہ ھے. ہم اس بارے میں آپ سے بہت زیادہ توقعات ہیں

    ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت اور پاکستان کا تعلیمی نظام

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک

  • ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    لاہور: ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ، اطلاعات کےمطابق ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی‘وزارت امور نوجوانان و کھیل اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ طے پا گیا۔

    تقریب میں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی راجہ یاسر ہمایوں سرفراز‘وزیر امور نوجوانان و کھیل محمد تیمور خان‘چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ اظفر منظور‘سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘سیکرٹری یوتھ افیئرزاحسان اللہ بھٹہ‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ‘ڈی جی ای گورننس ساجد لطیف و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے کہا کہ پنجاب میں 33ای روزگار سنٹرز فعال ہیں جبکہ 40مزید ای روزگار سنٹرز کالجوں میں کھلنے سے ای روزگار سنٹرز کی تعداد 73ہو جائے گی۔

    انہوں نے کہا اس اقدام سے چھوٹے اضلاع میں نوجوانوں کو مواقع ملیں گے اور وہ ہنر سیکھ کر گھر بیٹھے آمدن کما سکیں گے۔ صوبائی وزیر محمدتیمور خان نے کہا کہ ایسے اضلاع جہاں یونیورسٹیاں موجود نہیں‘ کالج کی سطح پر ای روزگار سنٹر کھلنے سے وہاں کے مقامی نوجوان بھی مستفید ہو سکیں گے۔

    چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور نے کہا ای روزگار مراکز کالج کی سطح پر کھلنے سے سالانہ پچیس سے تیس ہزار نوجوان تربیت لے سکیں گے۔ معاہدے پر چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ اورسیکرٹری یوتھ افیئرز احسان اللہ بھٹہ نے دستخط کئے۔

  • اردوکانفاذ:جناب اظہار الحق کی توجہ  کے لئے!–از–فاطمہ قمر

    اردوکانفاذ:جناب اظہار الحق کی توجہ کے لئے!–از–فاطمہ قمر

    پاکستان کے سینئر کالم نویس ادیب ریٹائرڈ بیوروکریٹ جناب اظہار الحق صاحب نفاذ اردو سے متعلق اپنے کالم ” تلخ نوائی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اردو کا عمل بتدریج کیا جائے.مقابلے کے امتحان میں انگریزی کی طرح اردو کو بھی لازمی کیا جائے. اور تین سال کے بعد طلباء کو اختیار دیا جائے کہ وہ انگریزی یا اردو میِں پرچہ حل کرے لیکن انگریزی کی بطور لازمی مضمون کی حیثیت برقرار رہے.

    سوال یہ ہے کہ جب انگریزوں نے ایک غلام ملک میں اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنے اور غلاموں کی کھیپ تیار کرنے کے لئے ایک سمندر پار ملک کی اجنبی زبان کو یہاں اعلی مقابلے کی زبان بنایا تو کیا انہوں نے اس زبان کو مسلط کرتے وقت بھی اس تدریج کا خیال رکھا. بس انہوں نے تو راتوں رات فیصلہ کیا کہ ان کو اپنی حکومت چلانے کےلئے غلام چاہئے تو انہوں نے برصغیر میں مقابلے کا امتحان ایک اجنبی زبان میں متعارف کرایا.. اس امتحان کا بنیادی مقصد آپنے آقاؤں کے لئے غلاموں کی ایسی کھیپ تیار کرنا تھا. جو اپنے دماغ اور عقل کا استعمال کئے بغیر بلاچون چراء ان کے حکم کی بجا آوری کرے.

    اب ہوناتو یہ چاہئے تھا.قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک آزاد مملکت کے تقاضوں اور امنگوں کے مطابق مقابلے کا امتحان فوری طور پر ” لارڈمیکالین "تعلیمی فلسفے کے مطابق راتوں رات اردو میں.لینے کے احکامات اور اقدامات کئے جاتے. مگر افسوس ایسا نہ ھوسکا.پاکستان کے تینوں دستور میں اردو کو قومی زبان قراردیا گیا. مگر افسوس ہمیشہ پاکستان کی اس آئینی شق کی سرکاری طور پر آئین شکنی ھوتی رہی.

    یہ آئین شکنی یہاں تک بڑھی کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومت نے آئین کی خلاف ورزی گرتے ہوئے 2009 میں تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو راتوں رات ایک سرکاری فرمان کے تحت انگریزی میڈیم کردیا. اس انگریزی میڈیم کرنے کے نتیجے میں جب پہلا نتیجہ پانچویں اور آٹھویں کاآیا تو اا میں بیس لاکھ میں سے اٹھارہ لاکھ بچے تعلیم کو خیرباد کہہ گئے.یہ نونہالوں کا وہ قتل عام تھا.جس کا کسی مہزب دنیا میں تصور بھی نہیں کیا کاسکتا. دستور کی اس خلاف ورزی کے ردعمل میں پاکستان قومی زبان تحریک نے جنم لیا. جس نے عدالتوں میں میڈیا پر سڑکوں’ عوام الناس میں ہر جگہ نفاذ اردو کا مقدمہ لڑا.اسے جیتا اب اس کے نفاذ کے لئے بھر پور کوشش کررہے ہیں!

    ہم محترم اظہار الحق صاحب سے سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں ایسے اور کتنے ترقی یافتہ خوشحال ممالک جہاں ایک غیر ملکی زبان اعلی ملازمت میں پہنچنے کا زریعہ ھے؟
    دوسرا سوال ان سے یہ ہے کہ پاکستان کی افسر شاہی کی واحد قابلیت غلط سلط انگریزی کے علاوہ کچھ اور ہو تو بتادیں. آپ ہی کے ساتھی بیوروکریٹ کہتے ہیں کہ ” دنیا پاکستان کی افسر شاہی کی انگریزی پر ہنستی ہے” ایسا ہی کچھ ملتا جلتا بیان قدرت اللہ شہاب کا بھی ہے..جس نے خود یہ تسلیم کیا کہ انگریزی سے میرا تعلق غلامی کا ہے.

    پاکستان کی انگریزی کی غلام بیورو کریسی دنیا کی نمبر ایک کام چور’ حیلہ ساز’ بد عنوان ‘ بد انتظام’ راشی’ اپنی اقدار کو روندلنے والی’ جعلساز بیورو کریسی ھے. اگر ہماری بیورو کریسی بھی دنیا کی ترقی یافتہ ‘ تعلیم یافتہ خوشحال اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مقابلے کا اعلی امتحان دیتی تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتہائ قابل ‘ پاکستانی سوچ کی حامل اور مخلص بھی ھوتی. مگر افسوس اس نے انگریزی غلامی کو اپنے اوپر طاری کر کے لارڈ میکالے کے اس قول کی تصدیق کی ھے ” برصغیر جیسی تہذیب یافتہ زرخیز قوم کو پسماندہ کرنے کا صرف ایک ہی زریعہ ھے کہ ان پر اہک ایسی زبان لاد دی جائے جو رنگ ونسل میں تو ہندوستانی ھو مگر فکر میں برطانوی ھوگی”

    ایک بات ہم اور کالم نویس کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں ھم لوگ محض جذباتی ہی نہیں ہیں ہم لوگ عملی ہیں اور کام کرنے والے لوگ ہیں.. پاکستان قومی زبان تحریک کے بانی سائنسدان اور ماہر تعلیم ہیں ڈاکٹر شریف نظامی ‘ پروفیسر سلیم ھاشمی ‘ پروفیسر اشتیاق احمد ‘ ڈاکٹر مبین اختر ہیں. پروفیسر اشتیاق اپنے شوق اور جذبے سے بغیر سرکاری اعانت کے گریجویشن کی سطح تک اردو سا-نس لغت آسان فہم الفاظ میں تیار کر چکے ہیں. اگر سرکار ہماری اعانت کرے تو ہم چند ماہ میں انگریزی زریعہ تعلیم کی پیداکردہ ستر سال کی تباہیاں اور خامیاں دور کرسکتےہیں. کیونکہ قوموں کی تعمیر کے لئے وسائل سے زیادہ نیک جذبات اور خلوص کی ضرورت ہے اور اللہ کا شکر ہے پاکستان قومی زبان تحریک ان جذبوں سے سرشار اور مالا مال ھے.

    آخر میں محسن اردو :’ نفاذ اردو کیس کا تاریخ ساز فیصلہ سنانے والے درویش
    صفت ایچی سونین
    چیف جسٹس جواد ایس اعلی عدلیہ کے منصفین کی انگریز دانی کا پول کچھ ان الفاظ میں کھول رہے ہیں:
    ” میں دعوی سے کہتا ہوں کہ پاکستان کے وکلاء اور جج دونوں ہی کو انگریزی نہیں آتی. پاکستان میں انگریزی کا ڈھونگ صرف اپنی نالائقی کو چھپانے کےلئے رچاہا جاتا ھے”
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل—از—محمد نعیم شہزاد

    بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل—از—محمد نعیم شہزاد

    تعلیم انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس کے سبب حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ۔ اور انسان نے اس کائنات کو مسخر کیا۔ زمانہ قدیم سے انسان تعلیم کی جستجو میں رہا، دور دراز کے سفر اختیار کیے اور اپنا وقت اور مال علم کی دولت حاصل کرنے کے لیے صرف کیا۔

    زمانہ جديد میں تعلیم ایک نیرنگ کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کے فسوں کو عجائبات زمانہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ تعلیم کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ان گنت پیچیدگیوں اور انسانی نفسیات کو مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔ جس پر ماہرین تعلیم اپنے علم اور تجربہ کی روشنی میں طریقہ کار وضع کرتے ہیں اور اپنی سفارشات پیش کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ نصاب تعلیم انہی ماہرانہ آراء کی روشنی میں دور جدید کی ضروریات سے مکمل ہم آہنگ ہے اور تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل پانے والے طلباء عملی زندگی میں قدم رکھنے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔

    ایک اہم پہلو جو توجہ طلب ہے وہ نظام ہائے تعلیم میں تنوع ہے جو معاشرے میں طبقاتی تقسیم کا بھی سبب بنتا ہے اور تعلیمی اداروں اور نصاب کو درست انداز میں سمجھنے میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ تاہم اس امر کو نظرانداز بھی کیا جا سکتا ہے۔ قومی سطح پر ہر درجے اور تعلیمی سال کے لیے ایک خاص کریکولم مہیا کیا جاتا ہے جس کے مطابق مختلف طباعتی (Publishing) ادارے کتب تیار کرتے ہیں جن میں کافی ورائٹی دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ مجموعی طور پر ایک خاص تعلیمی سال کی تکمیل کے بعد طلباء کی تعلیمی اہلیت اور استعداد متساوی (equivalent) ہوتی ہے جو فرق ہم محسوس کرتے ہیں وہ محض ایک احساس کے سبب ہے یا طریقہ تدريس کے مختلف ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔

    اس مضمون میں ہم طلباء اور والدین کے ذہن میں پائے جانے والے عمومی اشکالات اور پریشانیوں کا جائزہ لیں گے۔ ان گزارشات کو پڑھ لینے کے بعد یقیناً یہ اشکالات دور ہو جائیں گے اور تعلیمی نظام و نصاب پر اعتماد بڑھے گا۔

    سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تعلیم انسانی رویوں کی تبدیلی اور ذہنی تربیت کا نام ہے۔ یہ عمل وقت طلب ہے مگر والدین بچے میں فوری تبدیلی چاہتے ہیں اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ جو علم و تجربہ انھوں نے اتنی عمر گزر جانے کے بعد حاصل کیا ہے کیونکر کمسن بچوں کو حاصل ہو سکتا ہے۔

    دوسری غلطی بچوں میں موازنہ کرنا ہے۔ اکثر اوقات والدین اپنے بچوں کا ان کے دوستوں یا ان کے ہم عمر دیگر بچوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں سے کہتے ہیں کہ تمہاری عمر میں میں یوں کر لیا کرتا تھا اور فلاں کام میں ماہر تھا ایک تم ہو کہ ایسا کوئی کمال تم میں نہیں۔ اس پر ایک لطیفہ پڑھیں یقیناً آپ محظوظ بھی ہوں گے اور بات سمجھنے میں آسانی بھی ہو گی۔

    ایک والد جو بچے کی تعلیمی صورتحال سے خاصے فکرمند تھے بچے سے گویا ہوئے :
    ” قائد اعظم محمد علی جناح جب تمہاری عمر میں تھے تو میٹرک کر چکے تھے۔”
    بچے نے برجستہ جواب دیا :
    "جب قائد اعظم آپ کی عمر میں تھے تو انھوں نے ایک قوم کو آزادی دلا دی تھی۔ آپ نے کیا کیا ہے؟ ”

    تیسری اہم بات والدین کی طرف سے بچوں کی حد سے زیادہ معاونت ہے۔ جب والدین بچے کو کوئی بھی کام کرنے کو دیتے ہیں تو پہلے خوب تسلی سے لیکچر دیتے ہیں اور پھر بچے کو اپنی مرضی سے کام نہیں کرنے دیتے بلکہ بار بار مداخلت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بچے کو ان کی معاونت سے زیادہ بہتر سمجھ رہا ہے۔ جان لیں کہ اس طرح سے آپ بچے کی صلاحیتوں کو کچل رہے ہیں،

    آپ کی معاونت سے تو بچہ فوراً بہترین کام کر سکے گا مگر خود سے کچھ بھی کرنا اس کے بس میں نہیں ہو گا۔ لہذا بچے سے معلوم کریں کہ وہ کیا جانتا ہے اور چیزوں کو کس انداز سے سمجھتا ہے۔ اور اسے آزادانہ کام کرنے دیں اور مداخلت سے اجتناب کریں۔ جب بچہ بے بس نظر آئے تو اس کا حوصلہ بڑھائیں کہ تم کر سکتے ہو، کوشش کرو، مجھے تم پر اعتماد ہے۔ بچے کو آزادی کا احساس دیں اور جو وہ کر سکتا ہے اسے کرنے دیں اس سے اس میں اعتماد (confidence) آئے گا اور ذہنی استعداد میں اضافہ ہو گا۔

    ایک اور سبب بچوں پر حد سے زیادہ کام کا بوجھ اور طویل تدریسی اوقات بھی ہیں۔ دور حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر بہت سے والدین خیال کرتے ہیں کہ بچے کو دن بھر پڑھتے رہنا چاہیے تب ہی وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے قابل ہو سکے گا۔ یاد رکھیں کہ تعلیم کا مقصد محض کتابی کیڑے پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ انسانیت کی تعمیر ہے۔ بچے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب جسمانی ورزش اور کھیل کود بھی اہم ہیں۔ کھیل کود نہ صرف بچے کو چاک و چوبند بناتے ہیں اور جسمانی قوت کا باعث ہیں بلکہ ذہن کو بھی صحت دیتے ہیں اور صلاحیتوں کو دوچند کرتے ہیں۔

    بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کے لیے فکرمند ضرور ہوں مگر افراط و تفریط سے بچنا بھی ضروری اور اہم ہے۔ حد سے زیادہ فکر بچے کی ذہنی صلاحیتوں اور شخصیت کے لیے زہر قاتل ہے جس سے یہ یکسر ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ بچوں کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہ کریں بلکہ مناسب ہدایات دینے کے بعد آزادانہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع دیں اور فطری طور پر ایک نئی شخصیت کی تعمیر میں معاونت کریں ۔

    بچوں کے تعلیمی مسائل، والدین کی پریشانیاں اور ان کا حل
    محمد نعیم شہزاد

  • والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام  کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟ –از– سدیس آفریدی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ کا درجہ رکهتی ہے –

    بچے ، جن سے ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کا مستقبل جڑا ہوتا ہے ان کی تربیت اس انداز سے کرنا پڑتی ہے کہ وہ اچهے شہری کہلایئں -ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ ماں کی تربیت نے ان کو ایسا انسان بنایا جنہوں نے ملک اور اپنے خاندان کا نام روشن کیا ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بڑے بڑے سرجن ، سائنسدان ، قانون دان اور انجنیئر ہیں -ان کی کامیابی کے پیچھے ان کی ماں کی تربیت ہے مگر میں سمجهتا ہوں کہ وہ بچے، جن کو سائنسدان، انجنیئر یا ڈاکٹر بننا تها وہ ڈاکو بن گئے -عورتوں کے پرس چهیننے لگے، اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں، بے دریغ قتل و غارت میں ملوث ہیں. پڑے لکهے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کے علاوہ اچهی فیملی کے بچے یہ سب کام کر رہے ہیں –

    ایسا کیوں ہو رہا ہے، کیا ان کی تربیت میں کمی رہ گئی ہے ؟
    کیا اب والدین کے پاس اپنے بچوں کی تربیت کے لئے وقت نہیں رہا؟ کیا یہ میڈیا کے برے اثرات ہیں؟
    یہ حقیقت ہے کہ وقت کی تیز رفتاری نے انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے روزمرہ کی ضرورت زندگی کی چیزیں فیملی کو مہیا کرنا اب فرد واحد کے بس کی بات نہیں –

    آج کے والدین بچوں کی تربیت کرنے میں اس لیئے بهی ناکام ہیں کہ آج گهر گهر کیبل اور انٹرنیٹ ہے اور آج کے بچے ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے کمپیوٹر اور ریموٹ کنٹرول بچے ہیں کیونکہ پلک جهپکتے ہی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے ان بچوں کی تربیت کے لئے آج کی ماں کو ان سے کہیں زیادہ علم و شعور ہونا چاہئے ان پڑھ ماں کبهی بهی آج کے بچے کے مسائل نہیں سمجھ سکتی -آج کا بچہ گهریلو ، سیدھا سادہ اور معصوم بچہ نہیں ہے بلکہ وہ شعور اور آگہی سے مکمل ہے -پرانی چیزوں کی طرف دیکهنا بهی پسند نہیں کرتا بلکہ نت نئی اچهی سے اچهی ایجادات اور حیران کر دینے والی چیزوں کو پسند کرتا ہے آج کے بچے کے معیارات بدل چکے ہیں اس کے مطالبات پہلے زمانے کے بچوں سے کہیں مختلف ہیں -ایسے میں اس کی تربیت کے لئے سکول اور گهر کا ماحول ایک جیسا ہونا ضروری ہے –

    ہمارے آج کے والدین اس لیئے بهی شاید ناکام ہیں کہ وہ اپنے گهروں میں بچوں کو کچھ سکهاتے ہیں جبکہ سکولوں میں جا کر بچے کو سیکهنے کو کچھ اور ملتا ہے یہ شاید ہمارے دوہرے معیار کا ہی قصور ہے –

    آج کی ماں کو خود بهی سمجھ نہیں آرہی کہ اسے بچے کو کیسے ایک سمت پر لانا ہے آج کے والدین اگر بچوں کی اچهی تربیت چاہ رہے ہیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے بچے کے لئے تعین کیئے گئے دوہرے معیار کو ختم کر دیں –

    بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک سے پرہیز کریں کیونکہ بلا وجہ کی ڈانٹ ڈپٹ بهی رویوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس سے بچہ متاثر ہوتا ہے اور پهر وہ اپنے والدین کو اچ کرنے کے لئے بهی وہ کام جان بوجھ کر کرتا ہے جس سے اسے منع کیا جاتا ہے –

    ہمارے ہاں ویسے بھی دو قسم کے والدین موجود ہیں ایک والدین وہ جو بچوں سے حد سے زیادہ پیار کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو بہت ذیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں ایسے والدین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جن کے بچوں کے رویوں میں توازن موجود ہے -آج کے والدین کو چاہیئے کہ وہ اچهی طرح سوچیں کہ بچے کیسے اور کس طرح تربیت کرنی چاہیے پهر ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات کو سمجهتے ہوئے بہترین تربیت کر سکیں –

    کہا جاتا ہے کہ آپ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور ادا کیا ہوا ہر عمل آپ کی تربیت کی عکاسی کرتا ہے -صرف تعلیم حاصل کر کے ہی کوئی ذی روح باشعور نہیں بن سکتا بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بهی اتنی ہی اہم ہے یعنی تعلیم و تربیت لازم و ملزوم ہے. جب تک علم و آگاہی کے ساتھ آپ کے پاس زندگی گزارنے کے اصول ، ضابطے اور آداب نہیں ہونگے ، صرف آگاہی کچھ نہیں کر سکتی بلکہ اس آگاہی اور علم کا زندگی پر اطلاق ہی اصل تربیت ہے اور یہ ماں کا کام ہے کہ بچپن سے ہی بچوں میں ایسے اطوار پیدا کرے کہ عملی زندگی میں ان کے کردار کی پختگی معاشرے میں ان کا وقار قائم کر سکے –

    بغیر تربیت کے علم کی مثال ایسی ہے جیسے کسی جسم سے روح نکال لی جائے تو پیچھے ڈهانچہ رہ جاتا ہے -ہم کسی بهی دور کی عظیم شخصیات مثلاً محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی اور مولانا محمد علی جوہر وغیرہ وغیرہ پر نظر ڈالیں تو ان کے پیچھے ان کی والدہ کی تربیت کا ہاتھ نظر آئے گا –

    تاریخ واضح کرتی ہے کہ جب محمد بن قاسم ہندوستان کے علاقے فتح کرنے کے لیے نکلا تو اس کی ماں کے الفاظ تهے ” میں نے تجهے پیدا ہی اس لئے کیا تها کہ تو اسلام کی راہ میں جہاد کرے اور ان علاقوں کو فتح کرے "- بلا شبہ اتنی کم عمری میں اس کی بلند پایہ فتوحات میں ماں کی تربیت کا بہت بڑا ہاتھ تها -لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کی ماں بچوں کی ویسی ہی تربیت کر رہی ہے اگر نہیں تو اس ناکامی کی کیا وجوہات ہیں ؟

    یہ درست ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانے کی اقدار بدل گئی ہیں لیکن انسان تو وہی ہے زمانہ بہت تیز ہو گیا ہے وقت کی کمی کے باعث زندگی مصروف ترین ہو گئی ہے ماووں کی تربیت میں بنیادی وجہ جاب کرنے والی والی ماوں کے پاس وقت کی کمی ہے. نٹ کلچر نے بچوں کو ماوں سے دور کر دیا ہے اب بچہ جو سیکهتا ہے ٹی وی اور میڈیا سے ہی سیکهتا ہے بچوں کے پروگرام کارٹون نیٹ ورک پر چلنے والی کہانیوں نے بچوں کو بہت ایڈوانس کر دیا ہے اب بچوں کو داستان الف لیلیٰ کے زمانے گزر گئے ہیں اور اگر کہا جائے کہ سمجهداری کے معاملے میں بچے پری میچور ہو گئے ہیں تو غلط نہ ہوگا کیونکہ بچے کیبل پروف کارٹون نیٹ ورک ہی نہیں دیکهتے بلکہ انگلش اور انڈین موویز دیکهنے کی بهی کمی نہیں -بہت کم ہیں جو اسلامک چینل ، قرآن پاک اور معلوماتی چینلز دیکهتے ہیں ان الیکٹرانک چینلز سے ہر قسم کی معلومات اور تفریح پیش کی جاتی ہے وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ بچوں نے دیکهنا ہے اور یہ بڑوں نے، بلکہ یہ ماووں کا کام ہے کہ وہ بچوں کے لیئے اچهے برے کی تمیز پیدا کریں لیکن ماووں کے پاس تو وقت ہی نہیں !

    جب ماں کی گود کی جگہ ٹی وی چینلز لے لیں تو ماں کا تربیت میں کیا کردار

    والدین بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام کیوں۔۔۔؟
    تحریر: سدیس آفریدی

  • تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    تربیت اولاد کے دو اصول..از..خواجہ مظہر صدیقی

    چند روز پہلے فیصل آباد کے ایک نجی سکول کی سالانہ پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ میں میرا تربیت اولاد کے عنوان پر سیشن تھا. اس تقریب میں کچھ بچوں اور والدین کو ایوارڈز بھی دیے گئے تھے. ایک دراز قد، بہ ظاہر ان پڑھ خاتون کو "سال کی بہترین ماں” کا ایوارڈ دیا گیا.

    سیشن کے اختتام پر میں نے ایوارڈ حاصل کرنے والی ماں کو ڈھونڈنا شروع کیا. لیکن وہ سکول میں پڑھنے والے تینوں بچوں کو لے کر اپنے گھر واپس جلی گئی تھیں. میں نے پرنسپل صاحب سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر آپ کو اس خاتون کا گھر معلوم ہو تو میں آپ کے ساتھ جا کر کچھ دیر کے لیے اس ماں سے ملنا چاہتا ہوں.

    پرنسپل صاحب مجھے سکول سے بہت دور محلہ غلام آباد لے گئے. وہاں ایک معمولی سا گھر تھا. جو ایک کمرے پر ہی مشتمل تھا. چھوٹا سا برآمدہ اور اتنا ہی صحن تھا. بچے اور ان کی ماں گھر میں موجود تھے . وہاں جا کر معلوم ہوا کہ بچوں کا والد ایک فیکٹری میں مزدوری کرتا ہے. ان کے تین بیٹے ہیں اور بیٹی کوئی نہیں. ماں گھر میں رہ کر سلائی مشین پر لوگوں کے کپڑے سیتی ہے. اپنی محنت کی کمائی سے وہ بچوں کی سکول فیس ادا کرتی ہے. یہ صرف ماں کا ہی شوق تھا کہ بچے شہر کے اچھے سکول میں پڑھ رہے تھے. سکول انتظامیہ نے بچوں کے شوق اور تعلیمی رجحان کو دیکھ کر کچھ فیس کم بھی کر دی تھی.

    میری کھوجی طبیعت کو ایک دل چسپ سٹوری ملنے والی تھی. میں ہمیشہ اپنے ارد گرد بکھری کہانیوں کو ہی فوکس کرتا ہوں. ہمارے ارد گرد ایسے ہزاروں کردار موجود ہیں جنہیں رول ماڈل بنا کر آگے بڑھا جا سکتا ہے. زندگی ساز اور کردار ساز واقعات کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں، بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والے دل کی کمی ہے.

    میں نے پرنسپل صاحب کی اجازت سے اس خاتون سے پوچھا کہ آپ کو سال کی بہترین ماں کا ایوارڈ ملا ہے. اس ایوارڈ ملنے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ؟ وہ خاتون پر جوش اور پر اعتماد انداز میں بولیں، مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے. پچھلے سال بھی مجھے ہی یہ ایوارڈ ملا تھا. کیوں کہ میرے بچے سکول سے ناغہ نہیں کرتے، صاف ستھرے یونیفارم میں سکول جاتے ہیں. ان کی لکھائی بہت خوب صورت ہے. ان کا ہوم ورک مکمل ہوتا ہے. یاد کرنے کا سبق بھی ٹھیک طرح سے یاد کر کے جاتے ہیں. تینوں بچے ہر سال امتحانات میں فرسٹ پوزیشن بھی لیتے ہیں. خاتون کے بچے بلترتیب چھٹی، پانچویں اور چوتھی جماعتوں میں زیر تعلیم تھے.

    میں نے پوچھا، کیا بچے سکول کے بعد اکیڈمی پڑھنے جاتے ہیں؟، وہ خاتون جھٹ سے بولی. نہیں، میں نے انہیں کبھی بھی کسی اکیڈمی میں نہیں بھیجا. میں ان پڑھ ہوں لیکن میں نے دو اصولوں کو اپنی زندگی کا لازمہ بنا لیا ہے.

    پہلا اصول یہ ہے کہ میں گھر کے تمام ضروری اور بنیادی کام کپڑے دھونا، صفائی وغیرہ، کھانا پکانا، سلائی مشین پر کپڑے سینا اس وقت کرتی ہوں جب بچے سو رہے ہوں یا سکول گئے ہوں یا عصر کے بعد گراؤنڈ میں کھیلنے کے لیے گئے ہوں. میں اس دوران میں ہی سارے کام نمٹا لیتی ہوں . جب میرے بچے گھر آتے ہیں تو میں اپنی پوری توجہ ان کو دیتی ہوں. اس وقت گھر کا کوئی کام نہیں کرتی. میرے بچے ہوتے ہیں یا میں ان کا سایہ بن کر ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہوں.

    میں بڑی توجہ سے سادہ پنجابی لہجے کی اردو میں اس خاتون کی باتیں سن رہا تھا، جب وہ لمحے بھر کو رکیں تو میں نے پوچھا دوسرا اصول بھی بتا دیں . وہ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجاتے ہوئے بولیں، میرا دوسرا اصول یہ جیسے ہی میرے بچے مغرب کی نماز سے فارغ ہوتے ہیں. میں فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتی ہوں اور انہیں کہتی ہوں کہ اپنے اپنے سکول کے بستے لے آؤ. پھر میں ان میں سے ہر ایک سے اس کا سکول میں پڑھا جانے والا سبق سنتی ہوں.

    بچوں کی ماں کہتی ہے کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی. لیکن میرے بچے سمجھتے ہیں کہ میں پڑھی لکھی ہوں اور سب کچھ سمجھ رہی ہوں. میں ہر مضمون کا سبق تین بار پڑھنے کا کہتی ہوں. بچے سناتے ہوئے یاد کر لیتے ہیں. روز کا سبق روز یاد کرنے سے بچے امتحانات کے دنوں میں پریشان بھی نہیں ہوتے. انہیں پوری کتاب یاد ہو چکی ہوتی ہے. مغرب سے عشاء تک بچے بلا ناغہ میرے پاس بیٹھ کر پڑھتے ہیں. میں بھی روز کچھ نیا سیکھتی ہوں. اور میرے دل کو تسلی بھی ہو جاتی ہے کہ میرے تینوں بیٹوں نے اپنا سبق دہرا کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا ہے.

    بات ختم ہو چکی تھی. میں وہاں سے واپس آتے ہوئے رستے میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک ان پڑھ ماں اپنے بچوں کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے کس انداز میں تیار کر رہی تھی. وہ قابل تعریف ماں ہے. یقیناً یہی بچے ہمارے مستقبل کے معمار بنیں گے.

    ایک قابل رشک کہانی… تربیت اولاد کے دو اصول
    (خواجہ مظہر صدیقی)

  • اردوکے شہر میں انگریزی کا راج—از…..فا طمہ قمر

    منہاج یو نیورسٹی میں science’ reason and religion کے عنوان پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہ دو روزہ کانفرنس تھی۔ہم نے کانفرنس کی آخری نشست میں شرکت کی۔اس کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ ‘ کینیڈا اور امریکہ کے ماہر تعلیم نے اظہار خیال کیا۔ پاکستان سے اس میں سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ یونیورسٹی اف ساؤتھ ایشیا کے وائس چانسلر ڈآکٹر میاں عمران مسعود ‘ منہاج یونیورسٹی کے بورڈ اف گورنر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسین محی الدین نے خطاب کیا۔

    وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    کانفرنس اپنے موضوع کے لحاظ سے بہت فکر انگیز تھی فی الوقت ایسے موضوعات پر مذاکرے کرنے کی بہت ضرورت تھی۔ لیکن اس کانفرنس کی سب سے بڑی خامی اس کی کارروائی سے لے کر اس کے مقررین کا انگریزی میں خطاب تھا۔ اور کانفرنس کے دعوت نامے سےلے کر پس منظر نامہ سب کچھ انگریزی میں رقم تھا۔ اپنی ظاہری شناخت سے یہ امریکہ یا برطانیہ کی تقریب دکھائی دے رہی تھی۔ ہم نے وقفہ سوالات میں غیر ملکی مندوبین سے سوال کیا کہ "آپ تین ملکوں کے نمائندے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔کیا آپ اپنے ملک کی تقریب میں اپنے ہی ہم وطنوں سے غیر ملکی زبان میں بات کر سکتے ہیں؟کیا آپ کے ملک میں بین الاقوامی کانفرنس کا علم بذریعہ ترجمہ نہیں دیا جاتا ؟ اگر ایسا ہے تو اہل پاکستان کو بھی بتائیں کہ دنیا کی چھ ایٹمی طاقتیں پوری دنیا سے اپنی زبان میں مخاطب ہوتی ہیں۔ پاکستان گونگا نہیں ہے یہ بھی دنیا کی باوقار آزاد’ خود مختار اقوام کی طرح اپنی قومی زبان میں مخاطب ہو”

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    ہمارا سوال انگریزی میں کارروائی کرنے والی میزبان کی غلامی پر کاری وار کر گیا۔ ان محترمہ نے سوال یہ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی کہ یہ سوال نہیں ” تبصرہ ہے” لیکن یہ بہت خوش آئند امر ہے کہ یونیورسٹی اف ساؤتھ ایشیاء کے وائس چانسلر جو کہ صدارت بھی کررہےتھے انہوں نے ہمیں کہا کہ "آپ کا سوال بالکل درست اور برحق ہے ہم نے اسے نوٹ کرلیا ہے” اور سامعین کی ایک خاموش بھاری اکثریت نے ہمارے سوال کی تالیاں بجا بجا کر بے حد داد دی۔ وہ سامعین جو انگریزی کی تقریر سن کر گونگے بہرے بنے’ تقریب کی کا رروائی سے لاتعلق بنے ہوئے تھے ہمارے اردو میں کئے گئے سوال پر ایک دم سے جاگ اٹھے۔

    کسی بھی ملک کی جامعات اس ملک کی روایات ‘ ثقافت اور زبان کی نمائندہ ہوتی ہے پاکستان کی ہر جامعہ کے پاس مترجم کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے کم اذکم جامعات کو اپنی ہر کانفرنس میں اپنی قومی زبان کو عالمی شناخت ہر صورت میں دینی چاہئے۔

    دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

    معزز اہل وطن! ہم نے نفاذ اردو کی عملی صدا بلند کی ہے’ کرتے رہتے ہیں آپ بھی انگریزی کے غیر فطری اور ناجائز تسلط کے خاتمے کے لئے ہمارے عملی ہم آواز بن جائیں۔ ہر جگہ انگریزی کے غیر فطری تسلط کے خلاف آواز بلند کریں یقین کیجئے کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

    اردوکے شہر میں انگریزی کا راج

    تحریر:فا طمہ قمر

    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • عالمی رینکنگ کا بہتر حصول کیسے ہو؟ چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن نے بتادیا.

    عالمی رینکنگ کا بہتر حصول کیسے ہو؟ چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن نے بتادیا.

    عالمی رینکنگ حاصل کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز بنانے ہوں گے ،چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد فضل نے بتا دیا.

    چیئرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد فضل نے کہا ہے کہ عالمی رینکنگ حاصل کرنے کے لیے کچھ پیرامیٹرز بنانے ہوں گے جن پر عملد آمد سے پنجاب بھر کی جامعات اپنا معیار تعلیم بہتر بنا سکیں ۔ یہ حقائق تعلیم معیار کو جانچنے کے لیے کافی ہیں کہ دنیا کی 1000بہترین یونیورسٹیز میں سے پاکستان کی 14یونیورسٹیز شامل ہیں ۔ ان میں سے 9پنجاب جبکہ 5یونیورسٹیز کا تعلق لاہور سے ہے ۔ فیڈرل ہائر ایجو کیشن کمیشن ہمیں بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے جسکی مدد سے پنجاب ہائرایجو کیشن کمیشن مختلف جامعات کو سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔کوالٹی ایجو کیشن پر ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گااور یونیورسٹیز کو بہتری پیدا کرنے کے مزید مواقع فراہم کرے گا۔یونیورسٹیز نئے پروگرام ،ڈویلپمنٹ ،ریسرچ ،کوالٹی انشورنس پر خصوصی توجہ دیں ۔وزیر اعظم نے نالج ٹیکنالوجی کے نام پر ٹاسک فورس قائم کی ہے جو ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حوالے سے بہتری کی گنجائش پیدا کرنے میں کردار ادا کرے گی ۔اس سلسلہ میں ہائر ایجو کیشن کمیشن پنجاب ٹاسک فورس کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا تاکہ ٹیکنیکل ایجو کیشن میں بھی بہتری آسکے ۔

    مریم نواز والد سے مل کر رو پڑیں،نواز شریف نے کیا کہا؟

  • پنجاب حکومت کی بے بسی، پانچ سو سکول بھی ہاتھ سے گئے۔

    پنجاب حکومت کی بے بسی، پانچ سو سکول بھی ہاتھ سے گئے۔

    شہباز اکمل جندران۔۔۔
    باغی انویسٹی گیشن سیل۔۔۔۔

    پنجاب حکومت کی بے بسی، پانچ سو سکول بھی ہاتھ سے گئے۔


    قبضہ مافیا نے صوبے میں 5سو سے زائد چھوٹے بڑے سرکاری سکولوں میں قبضہ مافیا نے اربوں روپے مالیت کی اراضی پر پنجے گاڑھ لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم خاموش تماشائی بن گئے۔

    پنجاب بھر کے5سو سے زائد چھوٹے بڑے سرکاری سکولوں کی اربوں روپے مالیت کی اراضی پر غیر قانونی قابضیننے جزوی طورپر پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ لاہور میں 50سے زائد پرائمری ، مڈل اور ھائی سکولوں پر مکمل اور جزوی طورپر۔

    گوجرانوالہ میں 65سے زائد چھوٹے بڑے سکولوں پر مکمل اور جزوی طورپر، بھکر میں 30، بہاولپور میں 20، وھاڑی میں 15، خانیوال میں 12،ملتان میں 20، لودھراں میں8، سرگودھا میں 14، میانوالی میں 13،خوشاب میں 10، بہاولنگر میں 7،

    رحیم یارخان میں 20،راولپنڈی میں 40، اٹک میں 30، شیخوپوری میں 29، قصور میں 20، ننکانہ صاحب میں 10، جہلم میں 10، چکوال میں 35، ڈی جی خان میں 8، لیہ میں 10، راجن پور میں 3، اوکاڑہ میں 14، ساہیوال میں 4، پاکپتن میں 3، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں12،

    فیصل آباد میں 25،منڈی بہاوالدین میں 8، نارووال میں 5اور سیالکوٹ میں 8پرائمری ، مڈل اور ھائی سکولوں پر قبضہ مافیا نے مکمل یا جزوی طورپر قبضہ کررکھا ہے۔قبضہ مافیا متاثرہ سکولوں میں آزادانہ آمدورفت رکھتے ہیں۔ اور ان پر کسی قسم کی پابندی اوررکاوٹ نہیں ہے